2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعارف القرآن

Ayah 2:215

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ Open ayah 2:215 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کس طرح کا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ (جو چاہو خرچ کرو لیکن) جو مال خرچ کرنا چاہو وہ (درجہ بدرجہ اہل استحقاق یعنی) ماں باپ کو اور قریب کے رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو (سب کو دو ) اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے

حکم سیزدھم متعلق بمصارف انفاق۔ قال تعالی، یسئلونک ماذا ینفقون۔۔ الی۔۔۔ علیم۔ شروع سے احکام عملیہ کا بیان چلا آرہا ہے درمیان میں ضمنا ایمان اور اخلاص کی ترغیب اور دنیا کی محبت کی مذمت کا ذکر آیا اب آگے پھر احکام عملیہ کی طرف رجوع فرماتے ہیں کہ اے مسلمانو اگر تم اپنی جانوں کو خدا تعالیٰ کے ہاتھ فروخت کرنا چاہتے ہو تو خدا تعالیٰ کی راہ میں اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جان ومال سے کسی قسم کا دریغ نہ کرو اور اس کی راہ میں جو تکلیف پیش آئے اس کا تحمل کرو اب اس کلمہ طیبہ کے تحت کچھ مصارف انفاق اور جہاد اور نکاح اور طلاق اور خلع اور ایلاء کے احکام بیان فرماتے ہیں جو باہمی معاشرت سے متعلق ہیں چناچہ فرماتے ہیں اے نبی یہ لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ خدا کی خوشنودی اور ثواب کے لیے کیا خرچ کریں آپ فرمادیجئے کہ یہ سوال مت کرو کہ کیا خرچ کریں یہ چیز تو بالکل واضح ہے کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے کوئی خاص شے اور خاص مقدار معین نہیں جو میسر ہو وہ خرچ کرو ہاں یہ سوال کرو کہ کہاں خرچ کریں سو آپ فرمادیجئے کہ جو مال بھی خرچ کرنا چاہو تو سب سے پہلے ماں باپ کی خدمت میں صرف کرو جو تمہارے وجود ظاہری کا سبب بنے اور جس شفقت اور محبت سے تم کو پالا ہے تم اس کا عشر عشیر بھی پیش نہیں کرسکتے اولاد اگرچہ والدین کی مالی اور بدنی خدمت میں کوئی دقیقہ نہ اٹھارکھے لیکن والدین کی شفقت اور عنایت اور نظر محبت کی زکوٰۃ بھی ادا نہیں کرسکتی اور والدین کے قرابت داروں میں خرچ کرو تاکہ صدقہ اور صلہ رحمی دونوں جمع ہوجائیں اور رشتہ داروں کے بعد یتیموں پر خرچ کرو کہ باپ نہ ہونے کی وجہ سے خود کمانے کے قابل نہیں اور ان کے بعد عام محتاجوں پر خرچ کرو اور عام محتاجوں کے بعد مسافروں پر خرچ کرو جو وطن اور عزیز اوراقارب سے دور ہونے کی وجہ سے بمنزلہ محتاج اور فقیر کے ہوگئے اور اس کے علاوہ جو بھی تم خیر اور نیکی کا کام کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتے ہیں تمہارے خرچ کی مقدار اور کمیت اور تمہاری نیت کو خوب جانتا ہے۔ فائدہ) ۔ یہ آیت نفل صدقات اور خیرات کے بارے میں ہے زکوٰۃ اور صدقات واجبہ، مثل صدقہ فطر کے بارے میں نہیں اس لیے کہ والدین کو زکوٰۃ دینا درست نہیں۔
Ayahs 2:216–218

كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:216 in the Quran reader

(مسلمانو ! ) تم پر (خدا کے راستے میں) لڑنا فرض کردیا گیا ہے وہ تمہیں ناگوار تو ہوگا مگر عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بھلی ہو اور عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ تمہارے لیے مضر ہو اور (ان باتوں کو) خدا ہی بہتر جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْهِ١ؕ قُلْ قِتَالٌ فِیْهِ كَبِیْرٌ١ؕ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ كُفْرٌۢ بِهٖ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۗ وَ اِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ الْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ١ؕ وَ لَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى یَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِیْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا١ؕ وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:217 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ لوگ تم سے عزت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان میں لڑنا بڑا (گناہ) ہے اور خدا کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام (یعنی خانہ کعبہ میں جانے) سے (بند کرنا) اور اہل مسجد کو اس میں سے نکال دینا (جو یہ کفار کرتے ہیں) خدا کے نزدیک اس سے بھی زیادہ (گناہ) ہے اور فتنہ انگیزی خونزیری سے بھی بڑھ کر ہے اور یہ لوگ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ اگر مقدور رکھیں تو تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں اور جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر (کر کافر ہو) جائے گا اور کافر ہی مرے گا تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہوجائیں گے اور یہی لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں جس میں ہمیشہ رہیں گے

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:218 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور خدا کے لئے وطن چھوڑ گئے اور (کفار سے) جنگ کرتے رہے وہی خدا کی رحمت کے امید وار ہیں اور خدا بخشنے والا (اور) رحمت کرنے والا ہے

حکم چہاردھم، متعلق بہ فرضیت جہاد و قتال درشہرحرام۔ قال تعالی، کتب علیکم القتال وھو۔۔۔ الی۔۔۔ رحیم۔ گزشتہ آیات میں حضرات انبیاء کرام کے ابتلاء اور مصائب کا ذکر فرمایا اور یہ بتلایا کہ جنت میں داخل ہونا ابتلاء کے وقت صبر اور تحمل پر موقوف ہے اس سلسلہ میں اولا جہاد مالی یعنی انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر فرمایا اب اس کے بعد جہاد جانی کا ذکر فرماتے ہیں اے مسلمانو تم پر جہاد فرض کیا گیا اور تمہیں طبعا ناگوار ہے کیونکہ اس میں جان پر مشقت اور مال کا خرچ ہے اور شاید کہ کوئی شے تم کو طبعا ناگوا رہے فی الواقع وہ تمہارے حق میں بہتر ہے اور جہاد فی سبیل اللہ بھی اسی قسم میں داخل ہے اس لیے جہاد سے اسلام کو فتح و غلبہ حاصل ہوتا ہے احکام خداوندی کی بجاآوری میں کوئی ہارج اور مزاحم باقی نہیں رہتا اور دنیاوی فائدہ حکومت کا حاصل ہونا اور مال غنیمت کاملنا اور اخروی فائدہ شہادت کی نعمت سے بہر یاب ہونا اور شاید تم کو کوئی چیز طبعا بھلی معلوم ہو اور فی الواقع تمہارے حق میں وہ بری ہو جیسے جہاد میں سستی اور کاہلی جو ظاہر میں راحت معلوم ہوتی ہے مگر ترک کا انجام سوائے ذلت اور مال غنیمت اور ثواب سے محرومی اور کچھ نہیں اور تمہاری بھلائی اور برائی کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور تم اپنی مصلحتوں اور مضرتوں کو نہیں جانتے لہذا تم اپنی طبعی رغبت اور کراہت کا اتباع مت کرو بلکہ احکام خداوندی کا اتباع کرو اسی میں تمہارے لیے خیر اور بہتری ہے احادیث میں جہاد کو افضل الاعمال اور سنام الاسلام یعنی اسلام کا کوہان قرار دیا ہے اس لیے جہاد اسلام کی اشاعت اور خلق اللہ کی ہدایت اور دین کی عزت اور رفعت کا سبب ہے اور مجاہد کی کوشش سے جو لوگ اسلام میں داخل ہوں گے ان کی حسنات اس کے نامہ اعمال میں لکھی جائیں گی۔ شان نزول۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے عرب میں یہ دستور چلاآرہا تھا کہ چار مہینوں یعنی ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم، اور رجب میں باہمی قتل و قتال اور جنگ وجدا کو جائز نہیں سمجھتے تھے اور ان مہینوں میں کسی پر چڑھائی کرنے کو معیوب جانتے تھے نبی ﷺ نے جنگ بدر سے دو ماہ پیشتر ماہ جمادی الاخری میں اپنے پھوپھی زاد بھائی حضرت عبداللہ بن جحش کی سر کردگی میں آٹھ یا بارہ مہاجرین کی ایک جماعت کو جس میں سوائے مہاجرین کے اور کوئی نہ تھا کافروں کے مقابلہ میں جانے کا حکم دیا اور عبداللہ بن جحش کو ایک والانامہ لکھ کردیا اور یہ فرمایا کہ جب دو دن کا سفر طے کرلو یہ اس وقت خط کو کھولنا اور اپنے ساتھیوں کو سنا دینا اور کسی پر زبردستی نہ کرنا عبداللہ بن جحش نے عرض کیا یارسول اللہ کس طرف جاؤں آپ نے فرمایا کہ نجد کی طرف جاؤ عبداللہ بن جحش وہاں سے روانہ ہوئے اور دو دن کا سفر طے کرنے کے بعد ایک منزل پر پڑاؤ کیا اور آپ کا والانام کھولا تو اس میں یہ مضمون تھا، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ترجمہ۔ اما بعد اللہ کی برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ اپنے رفقاء کو لے کر چلے جاؤ یہاں تک کہ جب مقام نخلہ پر پہنچو تو قریش کے تجارتی قافلہ کا انتظار کرو امید ہے کہ اللہ ان کا مال تم کو عطا کرے اور پھر وہ مال تم ہمارے پاس لے آؤ۔ عبداللہ بن حجش نے اس حکم نامہ کو پڑھتے ہی سمعا وطاعۃ کہا اور اپنے ساتھیوں کو سنای اور یہ بھی کہہ دیا کہ آپ نے مجھے یہ فرمایا تھا کہ کسی پر زبردستی نہ کروں اب جس کو شہادت کا شوق اور رغبت ہو وہ میرے ساتھ چلے اور جس کا جی چاہے وہ لوٹ جائے یہ سن کر سب دل وجان سے تعمیل ارشاد پر راضی ہوگئے اور ایک شخص بھی واپس ہونے کے لیے راضی نہ ہوا مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان جب مقام نخلہ پر پہنچے تو ابھی ٹھہرنے بھی نہ پائے تھے کہ اتنے میں قریش کا قافلہ دکھائی دیا اور جو طائف کی تجارت کا مال زیتون اور کشمش اور چمڑے وغیرہ لے کر آرہے تھے مسلمانوں نے ان پر حملہ کیا اور عمرو بن الحضرمی کو قتل کیا اور حکم بن کیسان اور عثمان بن عبداللہ کو گرفتار کیا باقی لوگ بھاگ گئے صحابہ کرام قیدیوں اور سامان کے اونٹوں کو لے کر حضور پرنور کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یہ تاریخ یکم رجب الحرام تھی اور صحابہ کرام اس کو جمادی الثانیہ کی تیسویں تاریخ سمجھے ہوئے تھے مگر چاند انتیس کا ہوچکا تھا جس کا صحابہ کو علم نہ تھا اس لیے کفار نے مسلمانوں پر یہ اعتراض کیا کہ یہ لوگ شہر حرام میں بھی لڑتے ہیں اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی (تفسیر ابن کثیر) ۔ لوگ آپ سے شہر حرام کے بارے میں قتال کے متعلق سوال کرتے ہیں آپ ان کے جواب میں کہہ دیجیے کہ بیشک خاص طور پر ماہ حرام کا ارادہ کرکے قتال کرنا بیشک ایک امرعظیم ہے مگر مسلمانوں نے قصدا اور ارادۃ ایسا نہیں کیا بلکہ صحیح تاریخ نہ معلوم ہونے کی وجہ سے یہ لغزش ہوئی مگر مشرکین کو اس اعتراض کا حق نہیں اس لیے کہ شہر حرام میں قتل و قتال بہت سے بہت گناہ کبیرہ ہے اور تم تو کچر اور شرک میں مبتلا ہو جو اس سے بڑھ کر ہے اس لیے کہ لوگوں کو خدا کی راہ سے روکنا یعنی دین حق اور اسلام میں داخل ہونے سے روکنا اور اللہ کے ساتھ کفر اور شرک کرنا اور لوگوں کو مسجد حرام سے روکنا کہ وہاں جاکر کوئی بیت اللہ کا طواف نہ کرسکے اور خدا تعالیٰ کی عبادت اور بندگی نہ کرسکے اور جو لوگ مسجد حرام کے واقعی اور حقیقی اہل اور مستحق تھے یعنی رسول اللہ اور اہل ایمان ان کو حرم اور مسجد حرم سے تنگ کرکے نکالنایہ سو تمام حرکتیں شناعت اور قباحت میں اللہ کے نزدیک شہر حرام میں بلاقصد قتال سرزد ہوجانے سے کہیں بڑھ کر ہیں اور فقط کفر اور شرک کا فتنہ ہی فساد ہی قتل سے بڑھ کر ہے پھر یہ کفار مسلمانوں کی ایک غلطی پر کیوں اعتراض کرتے ہیں غلطی سے درگزر کیا جاسکتا ہے مگر کفر اور شرک کا جرم کسی طرح اور کسی وقت بی قابل معافی نہیں اور یہ لوگ دین حق کی عداوت اور دشمنی میں اس درجہ پختہ ہیں کہ حق کو مٹانے کے لیے ہمیشہ تم سے برسرپیکار ہیں یہاں تک کہ خدانخواستہ تم کو تمہارے اس پاک دین سے پھیر دیں اگر کچھ قابوپائیں اور دین اسلام سے کسی کو مرتد بنا دینا قتل سے بھی زیادہ سخت ہے اس آیت میں دواشارے ہیں ایک تو یہ کفار دین اسلام کے مٹانے میں کوئی دقیقہ اٹھانہ رکھیں گے لہذا مسلمانوں کو متنبہ رہنا چاہیے دوسرا اشارہ یہ ہے کہ مسلمانوں پر ان کا قابو چلے گا نہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مرتد نہیں بناسکیں گے آئندہ آیت میں ارتداد کا انجام بیان فرماتے ہیں۔ انجام ارتداد۔ اور اے مسلمانوں تم پر واضح رہنا چاہیے کہ جو شخص تم میں سے دین اسلام سے پھرجائے گا اور اسی حالت میں کفر میں مرجائے گا تو ایسے لوگوں کے تمام عمل دنیا اور آخرت میں حبط اور ضبط ہوجائیں گے دنیا میں اعمال کے حبط ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اسلام کی وجہ سے جو جان ومال محفوظ تھے وہ محفوظ نہیں رہیں گے اور نہ نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور نہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہوسکیں گے اور آخرت میں حبط ہونے کے معنی یہ ہیں کہ کسی نیک عمل پر کوئی ثواب نہیں ملے گا اور یہ لوگ دوزخی ہوں گے اور ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے کبھی بھی دوزخ سے نہیں نکلیں گے۔ مسئلہ (1) ۔ امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص دین اسلام سے مرتد ہوجائے اور پھر کفر کی حالت میں مرجائے تب تو اس کے اعمال حبط ہوجائیں گے اور اگر مرتد ہونے کے بعد وہ مرنے سے پہلے توبہ کرلے اور پھر مسلمان ہوجائے توا سکے اعمال ضائع نہیں ہوں گے کیونکہ اس آیت میں حبط اعمال کے لیے دو چیزوں کا ذکر ہے ایک ارتداد یعنی ومن یرتدد منکم عن دینہ۔ اور دوسرے موت علی الکفر یعنی فیمت وھو کافر حبط اعمال کے لیے ان دونوں باتوں کا پایاجانا شرط ہے، امام ابوحنیفہ یہ فرماتے ہیں کہ محض ارتداد سے اعمال حبط ہوجاتے ہیں موت علی الکفر شرط نہیں لقولہ تعالی، ومن یکفر بالایمان فقط حبط عملہ، وقولہ تعالی، لئن اشرکت لیحبطن عملک۔ آیت۔ اور اس آیت میں جس طرح شرط کی جانب میں دوچیزوں کا ذکر ہے ایک ارتداد اور دوسرے موت علی الکفر اسی طرح جزا کی جانب میں بھی دوچیزیں مذکور ہیں ایک حبط اعمال، فاو لئک حبطت اعمالھم۔ اور دوسرے دخول نار، او لئک اصحب النار۔ اعمال تو محض مرتد ہونے سے حبط ہوجاتے ہیں اور جہنم میں جانے کے لیے موت علی الکفر شرط ہے جس طرح شرط کے دو جز ہیں اسی طرح جزاء کے دو جز ہیں جزاء کا پہلاجز شرط کے پہلے جز سے متعلق ہے اور جزا کا دوسرا جز شرط کے دوسرے جز سے متعلق ہے۔ صحابہ کو جب یہ اطمینان ہوگیا کہ ہماری اس غلطی پر کوئی مواخذہ نہیں تو یہ عرض کیا کہ یارسول اللہ کیا ہمارا سفر جہاد میں شمار ہوگا اور کیا ہم کو اس پر کچھ ثواب بھی ملے گا ؟ اس پر یہ آئندہ آیت نازل ہوئی، ان الذین امنوا۔ بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے خدا کی راہ میں ہجرت کی اور جہاد کیا ایسے لوگ اللہ کی رحمت اور عنایت کے امیدوار ہوسکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑے بخشنے والے اور مہربان ہیں غلطی سے درگذر فرماتے ہیں اور ایسے مخلصین کو اپنی رحمت سے محروم نہیں رکھتے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد وہ مال غنیمت جو عبداللہ بن حجش لے کر آئے تھے ابھی تک وہ اسی وحی کے انتظار میں رکھا ہوا تھا آیت کے نازل ہونے کے بعد حضور ﷺ نے خمس نکال کر غانمین پر تقسیم کردیا۔ مسئلہ 2) ۔ شہر حرام میں قتال و قتال ابتداء میں ممنوع تھا جمہور علماء کے نزدیک بعد میں وہ ممانعت مسنوخ ہوگئی۔
Ayahs 2:219–220

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ١ؕ قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ١٘ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلِ الْعَفْوَ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ Open ayah 2:219 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ لوگ تم سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہیں اور لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں مگر ان کے نقصان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کونسا مال خرچ کریں کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو، اس طرح خدا تمہارے لئے اپنے احکام کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو

فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰى١ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:220 in the Quran reader

(یعنی دنیا اور آخرت کی باتوں) میں (غور کرو) اور تم سے یتیموں کے بارے میں بھی دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان کی (حالت کی) اصلاح بہت اچھا کام ہے اور اگر تم ان سے مل جل کر رہنا (یعنی خرچ اکٹھا رکھنا) چاہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے کہ خرابی کرنے والا کون ہے اور اصلاح کرنے والا کون اور اگر خدا چاہتا تو تم کو تکلیف میں ڈال دیتا بیشک خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

حکم پانزدھم۔ متعلق بہ شراب وقمار۔ قال تعالی، یسئلونک عن الخمر والمیسر۔۔۔ الی۔۔۔ من نفعھما۔ ربط) ۔ جس طرح خدا کی راہ میں جان ومال کا خرچ کرنا دین اور دنیا کی عزتوں کا سبب ہے (جیسا کہ پہلی آیتوں میں اس کا ذکر ہوا ہے) اسی طرح شراب وکباب اور قمار یعنی جوئے میں مال کا خرچ کرنا دینی اور دنیاوی تباہی کا موجب ہے چناچہ فرماتے ہیں اور یہ لوگ آپ سے شراب اور قمار یعنی جوئے کے متلق دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ ان دونوں چیزوں کے استعمال میں فقط ایک گناہ نہیں بلکہ ان کے اندر بہت سے بڑے بڑے گناہ مضمر اور پوشیدہ ہیں اور لوگوں کے لیے کچھ معمولی فائدے بھی ہیں اس لیے کہ لوگوں کو شبہ پیدا ہوا کہ ان دونوں چیزوں کا استعمال کیا جائے یا نہ کیا جائے فوائد اور منافع کا اقتضاء یہ ہے کہ استعمال جائز ہو اور مفاسد کا اقتضاء یہ ہے کہ استعمال ممنوع ہو آپ ان سے یہ اور فرمادیں کہ شراب اور قمار کا گناہ اور ضرر ان کے نفع اور فائدہ سے کہیں زیادہ ہے شراب اور قمار سے اول تو یہ دنیا ہی میں بہت مضرتیں لاحق ہوتی ہیں شراب پی کر عقل جیسی بےمثال نعمت ہاتھ سے کھو دینا اور مدمستیوں اور گالیوں میں مبتلا ہوجانا اور بغض وعداوت میں پڑجانا ہے غرض یہ کہ شراب عقل کو برباد کردیتی ہے اور قمار مال کو برباد کرتا ہے اور اگر بالفرض ان چیزوں سے دنیا میں کوئی نقصان نہ ہوتا تو گناہ کی مضرت اخروی مضرت اور آخرت کی مضرت کے مقابلہ میں دنیا کے چند روزہ منافع ہیش ہیں اس آیت سے شراب اور قمار کی حرمت بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ ان دونوں چیزوں کے ترک کا مشورہ دینا مقصود ہے کہ بہتر یہ ہے کہ ان دونوں چیزوں کو چھوڑ دو اس لیے کہ ان کا ضرر نفع سے زائد ہے اور عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ دفع ضرر کو حصول نفع سے مقدم سمجھے۔ فائدہ) ۔ شراب کے بارے میں چار آیتیں نازل ہوئیں سب سے پہلی آیت جو مکہ میں نازل ہوئی وہ یہ آیت ہے ومن ثمرات النخیل والاعناب تتخذون منہ سکرا ورزقا حسنا۔ آیت۔ اس آیت میں کھجور اور انگور سے فقط شراب بنانے کا ذکر ہے ممانعت کا ذکر نہیں البتہ شراب کی کراہت اور ناپسندیدگی کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے وہ یہ کہ سکرا کو رزقا حسنا کے مقابلہ میں ذکر فرمایا معلوم ہوا کہ جو چیز منکر ہو وہ رزق حسن نہیں غرض یہ کہ اس آیت کے نازل ہونے کے وقت شراب کی ممانعت نہیں تھی اس لیے مسلمان شراب پیتے رہے بعدازاں حضرت عمر اور معاذ بن جبل نے عرض کیا یارسول اللہ ہمیں شراب اور جوئے کے بارے میں فتوی دیجئے کیونکہ یہ دونوں چیزیں عقل اور مال کو تباہ کرنے والی ہیں اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، یسئلونک عن الخمر والمیسر۔ یہ دوسری آیت ہے جو اس سلسلہ میں نازل ہوئی اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بعض لوگوں نے اثم کبیر کا خیال کرکے چھوڑ دیا اور بعض منافع لناس کی بناء پر پیتے رہے ایک روز عبدالرحمن بن عوف کے ہاں مہمان آگئے انہوں نے ان کو شراب پلائی اور خود بھی پی جس سے نشہ ہوا اور مغرب کی نماز کا وقت آگیا کسی نے اسی حالت میں عبدالرحمن بن عوف کو امامت کے لیے آگے کردیا نماز میں قل یا ایھا الکافرون، شروع کی اور عبد ماتعبدون پڑھا اور اخیر تک اسی طرح بغیر لاپڑھتے چلے گئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی، یا ایھا الذین آمنوا لاتقربوالصلوۃ وانتم سکاری۔ یہ تیسری آیت تھی اس آیت سے فقط نماز کے وقتوں میں نشہ حرام کردیا گیا اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بعض لوگوں نے تو شراب کو بالکل چھوڑ دیا اور یہ کہا کہ ایسی چیز میں کوئی بھلائی اور خیر نہیں جو نماز سے روک دے اور بعض لوگ اوقات صلوۃ کے علاوہ دوسرے وقتوں میں شراب پیتے رہے کوئی عشاء کی نماز کے بعد شراب پی لیتا تو صبح کی نماز تک اس کانشہ اتر جاتا اور کوئی صبح کی نماز کے بعد پی لیتا تو ظہر کی نماز تک اس کانشہ اتر جاتا اس کے بعد یہ واقعہ پیش آیا کہ ایک روز عتبان بن مالک نے بہت سے آدمیوں کی دعوت کی کھانے کے بعد اس قدر شراب پی گئی کہ لوگ مست ہوگئے اور نشہ کی حالت میں ایک دوسرے کو مارنے لگے اور گالیاں دینے لگے اور ایک دوسرے کی مذمت میں اشعار پڑھنے لگے یہاں تک کہ ایک انصاری نے اونٹ کا جبڑا لے کر سعد بن ابی وقاص کے سر پر مارا جس سے سعد کا سرپھٹ گیا اس حال کو دیکھ کر حضرت عمر نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ شراب کے بارے میں کوئی صاف اور واضح حکم نازل فرماا اس پر اللہ نے سورة مائدہ کی یہ آیت نازل فرمائی، انماالخمر والمیسر والانصاب رجس من عمل الشیطان۔ یہ چوتھی آیت تھی جس میں صراحت کے ساتھ شراب کی حرمت بیان کی گئی اس آیت کے نازل ہوتے ہی یک لخت شراب کے تمام مٹکے توڑ دیے گئے اور مدینہ کی گلیوں اور کوچوں میں شراب بہنے لگے اور تمام مسلمان شراب سے فقط تائب ہی نہیں ہوئے بلکہ بےزار ہوگئے حدیث میں ہے کہ شراب تمام بےحیائیوں کی جڑ ہے چوری اور زنا پر آمادہ کرتی ہے سورة مائدہ کی آیت میں جو حکم نازل ہوا وہ آخری حکم تھا اس سے پہلے جس قدر احکام نازل ہوئے وہ سب منسوخ ہوگئے اور ہمیشہ کے لیے شراب حرام کردی گئی۔ حکم شانزدھم۔ متعلق بمقدار انفاق۔ قال تعالی، ویسئلونک ماذا ینفقون۔۔۔ الی۔۔ والاخرہ۔ ربط) ۔ گزشتہ آیت میں خمر اور میسر کی حرمت کا ذکر تھا اب ارشاد فرماتے ہیں کہ عقل کا مقتضی یہ ہے کہ سوچ سمجھ کر خرچ کرے دنیاوی حاجتوں کو پیش نظر رکھے بندہ محتاج ہے بغیر دنیاوی ضرورتوں کے آخرت کا کام بھی نہیں کرسکتا نیز بہت سی دینی حاجتیں یکایک پیش آجاتی ہیں ان کا بھی خیال رکھے چناچہ فرماتے ہیں اور آپ سے یہ بھی دریافت کرتے ہیں کہ خدا کی راہ میں ہم کیا اور کتنا خرچ کریں آپ جواب میں کہہ دیجئے کہ آخرت کی اہمیت اور اس کے لازوال منافع کی عظمت کا اقتضاء تو یہ ہے کہ سب کچھ خدا کی راہ میں خرچ کرڈالو مگر وہ ارحم الراحمین تم کو یہ حکم نہیں دیتا کہ تم سارامال خدا کی راہ میں خرچ کرڈالو۔ بلکہ یہ حکم دیتا ہے کہ اپنی دنیوی ضرورتوں اور حاجتوں سے جس قدر مال زائد اور فاضل ہو اتنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرو تاکہ تم سارامال دے دو پریشانی میں نہ پڑو البتہ جو خدا کے ایسے عاشق ہیں کہ ان کو سارا ہی مال فضول اور زائد نظر آتا ہے بلکہ مال کے خرچ نہ کرنے سے ان کو پریشانی ہوتی ہے جیسے ابوبکرصدیق تو ایسے لوگ اس حکم سے مستثنی ہیں یا یوں کہو کہ ایسے عاشق اس حکم میں داخل ہی نہیں۔ موسیا آداب دانا دیگر اند سوختہ جاناں رواناں دیگر اند ابوامامہ سے مروی ہے کہ اصحاب صفہ میں سے ایک شخص کا انتقال ہوگیا اس کے پاس سے ایک اشرفی نکلی حضور ﷺ نے سن کر یہ فرمایا دوزخ کی آگ کا ایک داغ ہے بعدازاں ایک اور شخص کا انتقال ہوگیا اس کے پاس سے دو اشرفیاں نکلیں حضور ﷺ نے فرمایا یہ دو داغ ہیں (رواہ احمد والبیہقی) ۔ شرعا ایک اشرفی اور دو اشرفی کا جمع کرنا حرام نہیں لیکن یہ دونوں حضرات اصحاب صفہ میں تھے یعنی حضور ﷺ کی خانقاہ کے رہنے والے تھے جنہوں نے یہ عہد کیا تھا کہ ہم نبی اکرم کی طرح زاہدانہ درویشانہ زندگی گزاریں گے اور قوت لایموت سے زائد کچھ نہیں رکھیں گے اس لیے اصحاب صفہ کے لیے اجازت نہ تھی کہ وہ کوئی درہم یا دینار اپنے پاس رکھ سکیں اس بناء پر یہ دونوں معتوب ہوئے مسجد نبوی حضور پرنور کی درس گاہ تھی اور مسجد نبوی کے متصل جو ایک صفہ اصحاب صفہ کے لیے حضور نے بنوایا تھا وہ حضور پرنور کی خانقاہ تھی جس میں ابوہریرہ جسے زاہد اور درویش رہتے تھے جن کی زندگی کا مقصد یہ تھا کہ کتنا ہی فقر وفاقہ گذرے مگر حضور کی صحبت اور مجلس کی حاضری سے محروم نہ رہیں۔ یک لحظہ زکوئے یاردوری درمذہب عاشقاں حرام است اسی طرح اللہ نے تمہارے لیے صاف صاف احکام کو بیان کیا تاکہ تم دنیا کے بارے میں اور آخرت کے بارے میں خوب غور وفکر کرلو دنیوی اور اخروی حقوق اور مصالح کو دیکھ لو اور اپنے احوال کو بھی دیکھ لو اور پھر شریعت جیسا حکم دے اس کے موافق خرچ کرو تاکہ بعد میں پریشان اور پشمان نہ ہو اور یہ امر پیش نظر رکھو کہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی ہے فانی لذتوں کی بناء پر دائمی اور باقی لذتوں اور راحتوں کو نہ چھوڑ دینا۔
Ayah 2:221

وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى یُؤْمِنَّ١ؕ وَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْكُمْ١ۚ وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْا١ؕ وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ١ۚ وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:221 in the Quran reader

اور (مومنو ! ) مشرک عورتوں سے جب تک ایمان نہ لائیں نکاح نہ کرنا کیونکہ مشرک عورت خواہ تم کو کیسی ہی بھلی لگے اس سے مومن لونڈی بہتر ہے اور (اسی طرح) مشرک مرد جب تک ایمان نہ لائیں مومن عورتوں کو ان کی زوجیت میں نہ دینا کیونکہ مشرک (مرد) سے خواہ تم کو کیسا بھلا لگے مومن غلام بہتر ہے یہ (مشرک لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور خدا اپنی مہربانی سے بہشت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اور اپنے حکم لوگوں سے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ نصیحت حاصل کریں

حکم ہشتدھم مناکحت کفار۔ قال تعالی، ولاتنکحوالمشرکات۔۔ الی۔۔ یتذکرون۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں یتیموں کی مخالطت کا حکم بیان فرمایا اس آیت میں مشرکین اور مشرکات کے ازدواجی اختلاط کا حکم بیان فرمایا کہ ازدواجی تعلق کے لیے دینی اخوت ضروری ہے اور وہ ان میں مفقود ہے لہذا اہل شرک سے ازدواجی تعلق جائز نہیں کافروں سے نکاحی اختلاط اور ازدواجی تعلقات خمر اور میسر سے زیادہ مضر اور مہلک ہیں کافروں سے ازدواجی اور معاشرتی تعلق کے بعد نہ تو دین باقی رہتا ہے اور نہ اسلامی تمدن، چند روز کے بعد نہ اسلامی خصلتیں باقی رہتی ہیں اور نہ عادتیں، اپنی قومیت فنا کرکے دوسری قوم کافرد بن جاتا ہے اورا سلامی تمدن کو حقیر سمجھنے لگتا ہے چناچہ فرماتے ہیں اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں اور البتہ ایک مسلمان کنیز یعنی لونڈی اور باندی ایک مشرک عورت سے بدرجہا بہتر ہے اگرچہ وہ مشرک عورت آزاد بھی ہو اور حسین و جمیل بھی ہو اور مال دار بھی ہو اللہ کے نزدیک ایمان کی لازوال دولت کے مقابلہ میں کسی مال اور جمال کی کوئی حقیقت نہیں اگرچہ وہ مشرک عورت اپنے مال یا حسن و جمال یا حسن عادت کی بناء پر تم کو اچھی معلوم ہو اور علی ہذا مسلمان عورتوں کو مشرک مردوں کے نکاح میں نہ دو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں اور البتہ ایک غلام مسلمان ایک آزاد کافر سے کہیں بہتر ہے اگرچہ وہ کافر مال و دولت یا عزت وجاہت کی وجہ سے تم کو اچھا معلوم ہو یہ مشرک لوگ آگ کی طرف بلاتے ہیں یعنی ایسے اقوال وافعال شرکیہ کی طرف بلاتے ہیں جو دوزخ میں لے جا کر ڈال دیں اور زن وشوئی کا تعلق ان کی دعوت کی تاثیر کو قوی کرنے کا بہت بڑا سبب ہے اندیشہ ہے کہ اس تعلق کی بناء پر عقائد شرکیہ تم میں سرایت کرجائیں اور اسلام کی طرف سے تم کو شبہات میں ڈال دیں اور رفتہ رفتہ تم ہدایت اور گمراہی کو برابر سمجھنے لگو اور اللہ جنت اور مغفرت کی دعوت دیتا ہے اپنے حکم سے اور لوگوں کے لیے اپنے احکام کو صاف اور واضح طور پر بیان کرتا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور سمجھ لیں کہ غلام اور باندی کا تعلق جو جنت اور مغفرت کی طرف لے جائے اس آزاد اور معزز کے تعلق سے کہیں بہتر ہے کہ جس کا تعلق جہنم کی طرف لے جائے اس لیے کہ اللہ کی دعوت اور کافروں کی دعوت میں تضاد اور عداوت ہے اللہ سے اگر تعلق مقصود ہے تو اس کے دشمنوں سے ازدواجی تعلق نہ قائم کرو اور اجتماع ضدین عقلابھی محال ہے نیز مناکحت اور زوجیت کے لیے باہمی محبت اور موانست ضروری ہے اور اختلاف دین کی وجہ سے اگر محبت نہ ہوئی تو زوجیت کا کچھ فائدہ نہ ہوا اور اگر محبت ہوئی اور کفر اور کافری اور شرک سے چشم پوشی کی گئی تو آخرت تباہ اور برباد ہوئی اس لیے اللہ نے مشرکین سے مناکحت کی قطعا ممانعت کردی۔ فوائد) ۔ اس آیت میں دو حکم ہیں ایک یہ کہ مسلمان عورت کا کسی کافر مرد سے نکاح نہ کیا جائے یہ حکم اب بھی ہے دوسراحکم یہ کہ مسلمان مرد کو کافر عورت سے نکاح کرنا جائز نہیں سو اس حکم میں ایک تخصیص ہے وہ یہ کہ اہل کتاب یعنی یہود وانصاری کی عورتوں سے مسلمان مرد کا نکاح جائز ہے بشرطیکہ وہ اہل کتاب حقیقت اہل کتاب ہوں ملحدانہ اور دہریانہ عقائد نہ رکھتے ہو اور بشرطیکہ اس یہودی اور نصرانی عورت کے نکاح سے اس مسلمان مرد کے دین میں خلل آنے کا اندیشہ نہ ہو اس حکم کی تفصیل اور دلیل انشاء اللہ تعالیٰ سورة مائدہ میں آئے گی۔
Ayahs 2:222–223

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ١ؕ قُلْ هُوَ اَذًى١ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ١ۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ١ۚ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ Open ayah 2:222 in the Quran reader

اور تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو وہ تو نجاست ہے سو ایام حیض میں عورتوں سے کنا رہ کش رہو اور جب تک پاک نہ ہوجائیں ان سے مقاربت نہ کرو ہاں جب پاک ہوجائیں تو جس طریق سے خدا نے تمہیں ارشاد فرمایا ہے ان کے پاس جاؤ کچھ شک نہیں کہ خدا توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے

نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ١٘ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:223 in the Quran reader

تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ اور اپنے لیے (نیک عمل) آگے بھیجو اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ (ایک دن) تمہیں اس کے رو برو حاضر ہونا ہے اور (اے پیغمبر ﷺ ایمان والوں کو بشارت سنادو

حکم نوزدھم حرمت جماع درحالت حیض۔ قال تعالی، ویسئلونک عن المحیض۔۔ الی۔۔۔ المومنین۔ ربط) ۔ گزشتہ آیت میں نکاح کا حکم مذکو رتھا اس آیت میں حالت حیض میں جماع اور قربان کا حکم بیان کرتے ہیں یہود میں یہ دستور تھا کہ ایام حیض میں عورت سے بالکل علیحدہ رہتے نہ اس کے ساتھ کھاتے اور نہ پیتے بلکہ اس کو علیحدہ مکان میں رکھتے اس کے برعکس نصاری میں ہی دستور تھا کہ ایام حیض میں مخالطت تو درکنار مجامعت سے بھی پرہیز نہ کرتے مدینہ منورہ میں ہر قسم کے لوگ رہتے تھے اس لیے صحابہ کرام کو اس مسئلہ میں خلجان پیش آیا اور حضور پرنور ﷺ سے سوال کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور لوگ آپ سے یہ دریافت کرتے ہیں کہ حالت حیض میں عورت کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہیے اپ کہ دیجئے کہ حیض ایک گندگی اور ناپاکی ہے لہذا تم ان سے اس حالت میں علیحدہ رہو یعنی ان سے صحبت اور مجامعت نہ کرو باقی کھانے اور پینے اور ساتھ بیٹھنے میں کوئی پرہیز نہیں مقصود فقط گندگی سے علیحدہ رہنا ہے اور جب تک وہ حیض سے پاک نہ ہوجائیں اس وقت تک ان سے قربان یعنی صحبت اور مجامعت نہ کرو پس جب وہ عورتیں اچھی طرح پاک ہوجائیں کہ ناپاکی کا شبہ بھی باقی نہ رہے تو پھر ان سے مجامعت کرو مگر اس مقام سے جہاں اللہ نے تم کو صحبت کرنے کی اجازت دی ہے یعنی آگے کی جانب سے پیچھے کی جانب سے نہیں اور اگر غلطی سے ایام حیض میں صحبت کرلی تو توبہ کرلو تحقیق اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو گناہ کر گزرنے کے بعد توبہ کرلیتے ہیں اور جو لوگ سرے ہی سے گندگی سے پاک رہتے ہیں ان سے بھی محبت رکھتے ہیں اور یعنی جو لوگ سرے سے ہی ناپاکیوں سے بچتے ہیں مثلا ایام حیض میں صحبت سے پرہیز کرتے ہیں اور جس جگہ سے صحبت کی ممانعت ہے اس جگہ سے صحبت نہیں کرتے ایسے لوگوں سے بھی اللہ تعالیٰ محبت رکھتا ہے اور آگے کی جانب سے تم کو صحبت کا حکم اس لیے دیا گیا کہ تمہاری عورتیں تمہارے لیے بمنزلہ کھیتیوں کے ہیں ان کے رحم میں جو نطفہ ڈالا جاتا ہے وہ بمنزلہ تخم کے ہے اور بچہ بمنزلہ پیداوار کے ہے سو تم کو اختیار ہے کہ اپنی کھیتی میں جس طرح اور جس طرف سے چاہو آؤ بیٹھ کر یا لیٹ کر مگر شرط یہ ہے کہ کھیتی سے باہر نہ جاؤ فقط حرث اور زرع میں آنے کی تم کو اجازت دی گئ ہے اور جو جگہ حرث (کھیتی) کے قابل نہیں یعنی پیچھے کی جانب اس جگہ میں تم کو جانے کی ہرگز اجازت نہیں پیچھے کی جانب سے آنا یہ قوم لوط کا عمل ہے جس پر قہر خداوندی نازل ہوا حدیث میں ہے، ملعون ہے وہ شخص کہ جو عورت کی دبر میں وطی کرے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ جس نے حالت حیض میں وطی کی یا دبر کی جانب میں صحبت کی یا کسی کاہن اور نجومی کے پاس گیا اور اس کی تصدیق کی تو اس شخص نے محمد رسول اللہ پر نازل شدہ احکام کا کفر کیا (رواہ الترمذی) ۔ شیعوں کے نزدیک بیوی سے اغلام درست ہے جو صریح قرآن کریم کے اس لفظ نسائکم حرث لکم کے خلاف ہے اس آیت کا صاف مطلب یہ ہے کہ نکاح سے مقصود اولاد ہے جیسے کھیت سے مطلوب پیدوار ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ اغلام سے اولاد کا تولد ناممکن ہے چناچہ ترغیب نکاح کے بارے میں جو حدیث نبوی مشہور ہے اس میں یہ جملہ ہے کہ مکاثربکم الامم یعنی میں امت کی کثرت پر فخر کروں گا معلوم ہوا کہ ترغیب نکاح سے اولاد کی کثرت مطلوب ہے جس سے حضور پرنور کو قیامت کے دن سامان افتخار ہاتھ آئے اور یہ یاد رکھو کہ تم کو صحبت کی اجازت محض لذت کے لیے نہیں دی گئی بلکہ مقصود یہ ہے کہ اس لذت کو ذریعہ آخرت بناؤ اور اپنے لیے آگے کی کچھ تدبیر کرو یعنی صحبت کے وقت اللہ کا نام لو تاکہ اولاد شیطان کے اثر سے محفوظ رہے اور نیک اولاد کی نیت کرو تاکہ آخرت کی کھیتی بنے اور تمہارے لیے دعا اور استغفار کرے اور قیامت کے دن تمہارے کام آئے اورا للہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو یعنی حالت حیض یا بےمحل صحبت کرنے سے پرہیزکرو اور یقین رکھو کہ اللہ سے تم کو ملنا ہے ایک دن اس کے سامنے پیش ہونا ہے اور تمام اعمال کا حساب دینا ہے اور یقین رکھو کہ اس روز تخم کے متعلق بھی سوال ہوگا کہ بےوقت اور بےمحل تو اس کو ضائع نہیں کردیا تھا اور اہل ایمان کو خوش خبری سنادیجئے کہ جنہوں نے اپنے تخم کو بروقت اور برمحل استعمال کیا ان کو اس تخم کے ثمرات وہاں مل جائیں گے مطمئن رہیں۔
Ayahs 2:224–225

وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:224 in the Quran reader

اور خدا (کے نام) کو اس بات کا حیلہ نہ بنانا کہ (اس کی) قسمیں کھا کھا کر سلوک کرنے اور پرہیزگاری کرنے اور لوگوں میں صلح و سازگاری کرانے سے رک جاؤ اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 2:225 in the Quran reader

خدا تمہاری لغو قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا لیکن جو قسمیں تم قصد دلی سے کھاؤ گے ان پر مواخذہ کرے گا اور خدا بخشنے والا بردبار ہے

حکم بستم متلق بہ احترام نام پاک خداوند نام۔ قال تعالی، ولاتجعلو اللہ عرضۃ۔۔۔ الی۔۔۔ حلیم۔ ربط) گزشتہ آیت میں تقوی کا حکم مذکور تھا اب اس آیت میں یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ تقوی کا مقتضی یہ ہے کہ اللہ کے نام پاک کا ادب اور احترام ملحوظ رکھو اور بات بات میں اللہ کی قسم نہ کھاؤ اور نہ دنیاوی اغراض اور منافع کے لیے اللہ تعالیٰ کے نام پاک کو استعمال کرویہ سب ادب کے خلاف ہے۔ شان نزول) ۔ عبداللہ بن رواحہ اور ان کے داماد بشیر بن نعمان میں کسی بات پر کچھ تکرار ہواعبداللہ بن رواحہ نے قسم کھائی کہ میں نہ تم سے ملوں گا اور نہ تم سے کلام کروں گا اور نہ تمہاری کسی بھلائی اور برائی میں دخل دوں گا اس کے بعد عبداللہ سے جب کوئی اس بارے میں کوئی بات کرتا اور کچھ کہنا چاہتا تو یہ کہہ دیتے کہ میں نے اللہ کی قسم کھالی ہے اس لیے میں کچھ نہیں کرسکتا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ کے نام کو اپنی قسموں کے لیے آڑ نہ بناؤ یعنی رشتہ داروں میں سلوک اور احسان کرنے کے لیے اور تقوی اور پرہیزگاری کا کام کرنے کے لیے اور لوگوں میں صلح کرانے کے لیے قسم کو بہانہ نہ بناؤ اور یہ نہ کہو کہ میں نے قسم کھالی ہے اس لیے میں یہ کام نہیں کرسکتا۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص نیک عمل کے چھوڑنے اور نہ کرنے پر قس کھالے تو اس پر واجب ہے کہ وہ نیک کام کرے اور اس کا کفارہ دے لوگوں کا گمان یہ ہے کہ جب آدمی کسی چیز پر قسم کھالے خواہ وہ اچھی ہو بری اس پر قائم رہنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا اور بتلادیا کہ قسم کی وجہ سے نیک کام کو نہ چھوڑو اور ایسی حالت میں قسم کو توڑ کر کفارہ دے دو اور نیک کام کرو تاکہ تم کو کار خیرکا اجر حاصل ہو اور ایسی قسم کے توڑنے میں اللہ تعالیٰ تمہارے عذر کو سننے والا ہے اور یہ تمہاری نیتوں کا جاننے والا ہے کہ تمہاری نیت اللہ کے نام کی بےحرمتی نہ تھی محض تعمل حکم اور نیکی کرنے کے لیے قسم کو توڑا ہے اور بصد ہزار ندامت وپشیمانی اس کی تلافی کے لیے کفارہ ادا کیا ہے یا یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہاری قسموں کو سنتا ہے اور تمہاری نیتوں کو جانتا ہے کہ کس نیت سے قسم کھائی ہے تمہارا لفظ اور قصد کوئی بھی اس سے مخفی نہیں لہذا قسم کھاتے وقت لفظوں میں احتیاط رکھو اور نیت اور ارادہ کرنے میں بھی احتیاط رکھو اور قسم کے متعلق ہمارا یہ ضابطہ یاد رکھو کہ اللہ آخرت میں تم سے ان قسموں پر مواخذہ اور گرفت نہ کریں گے جو بلاقصد و ارادہ تمہاری زبان سے نکل گئی ہیں یا قصد اور ارادہ تھا مگر تم اس کو اپنے گمان میں راست اور صحیح سمجھتے تھے ایسی قسم میں نہ کفارہ ہے اور نہ گناہ لیکن اللہ تم سے ان قسموں پر آخرت میں مواخذہ فرمائیں گے جس میں تمہارے دلوں نے جھوٹ بولنے اور معصیت کرنے کا قصد اور ارادہ کیا ہے یا اس قسم کو کسی بر اور تقوی سے علیحدہ رہنے کا ذریعہ بنایا ہے اور اللہ بخشنے والا ہے کہ یمین لغو پر مواخذہ نہیں فرماتا اور بڑا حلیم اور بردبار ہے کہ باوجود بالقصد والارادہ جھوٹی قسم کھانے کے مواخذہ میں جلدی نہیں فرماتا شایدتوبہ کرلے توبہ کے لیے مہلت دیتے ہیں۔ فائدہ 1) ۔ یمین یعنی قسم کی تین قسمیں ہیں ایک قسم یمین لغو ہے اس کی تفسیر میں اختلاف ہے امام شافعی کے نزدیک یمین لغو کے معنی یہ ہیں کہ یہ جو قسم انسان کی زبان سے بلاقصد اور ارادہ نکل جائے جیسے عرب میں لاو اللہ، اور بلی واللہ تکیہ کلام تھا ایسی قسم میں نہ گناہ ہے نہ کفارہ اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک یمین لغو وہ ہے کہ کسی گزشتہ چیز کو سچ سمجھ کر قسم کھائے اور واقع میں اس کے خلاف ہو لین اس نے اپنے گمان میں اس کو سچ سمجھ کر قسم کھالی ہو ایسی قسم میں نہ کفارہ ہے اور نہ کوئی گناہ، امام شافعی فرماتے ہیں کہ جس میں ارادہ ہو اگر وہ نفس الامر کے خلاف ہو تو اس میں کفارہ واجب ہوگا اگرچہ قسم کھانے والے کے گمان میں وہ واقع اور نفس الامر کے مطابق ہو۔ دوسری قسم) ۔ یمین غموس ہے وہ یہ کہ کسی گذری ہوئی بات پر قصدا جھوٹی قسم کھائے امام اعظم کے نزدیک اس قسم کی قسم پر حسب ارشاد باری گعالی، والکن یواخذکم بماکسبت قلوبکم۔ گناہ ہے جس کا علاج توبہ اور استغفار ہے دنیا میں اس پر کوئی کفارہ نہیں اس لیے کہ کسی گذشتہ امر پر دیدہ و دانستہ قسم کھانا جھوٹ ہے اور جھوٹ بولنے پر گناہ ہوتا ہے کفارہ نہیں امام شافعی فرماتے ہیں کہ یمین غموس میں کفارہ واجب ہے کیونکہ سورة مائدہ میں بجائے بماکسبت قلوبکم کے بماعقدتم الایمان کا لفظ آیا ہے معلوم ہوا کہ ماکسبت قلوبکم اور ماعقدتم سے ایک ہی معنی مراد ہیں اور سورة مائدہ میں کفارہ صراحۃ مذکور ہے معلوم ہوا کہ مواخذہ سے مراد کفارہ دینا ہے، امام اعظم کے نزدیک ولکن یواخذکم میں اخروی مواخذہ مراد ہے یعنی دیدہ دانستہ جھوٹ بولنے پر عذاب دینا مراد ہے کفارہ مراد نہیں۔ تیسری قسم) ۔ یمین منعقدہ ہے یعنی آئندہ فعل کے متعلق قصدا قسم کھائے کہ کروں گا یا نہیں کروں گا ایسی قسم کے توڑنے پر بالاتفاق کفارہ واجب ہے اور سورة مائدہ میں والیکن یواخذکم بما عقدتم الایمان فکفارتہ اطعام۔ سے یہی منعقدہ مراد ہے کہ جو آئندہ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے متعلق قسم کھائی جائے اور اس زیرتفسیر آیت یعنی والکن یواخذکم بماکسبت قلوبکم میں اسی قسم یعنی فعل آئندہ پر قسم کھانے کا حکم مذکور ہے اگر تم آئندہ کے متعلق کسی گناہ اور خلاف بر اور خلاف تقوی کام کی قسم کھابیٹھے ہو کہ اللہ اپنے باپ سے یارشتہ دار سے بات نہ کروں گا تو تم کو لازم ہے کہ ایسی قسم کو توڑو اور کفارہ دو جیسا کہ اس آیت کا شان نزول اس معنی کا شاہد عدل ہے لیکن اس آیت میں فقط اخروی مواخذہ کا ذکر ہے دنیاوی مواخذہ (یعنی کفارہ) کا ذکر سورة مائدہ میں آئے گا۔ اور سورة نور کی اس آیت ولاتاتل الوالفضل۔۔۔ الی۔۔۔ فی سبیل اللہ میں بھی اسی قسم کی قسم کا ذکر ہے ابوبکر صدیق نے قسم کھالی تھی کہ میں مسطح کو خرچ نہ دوں گا اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ابوبکر نے مسطح کا وظیفہ دوچند کردیا۔ 2) ۔ اس آیت میں لایواخذکم اللہ۔۔۔ الی۔۔ قلوبکم۔ میں فقط لغو اور یمین منعقدہ کا ذکر ہے یمین غموس کا ذکر نہیں یمین غموس کے بارے میں اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، ان الذین یشترون بعھد اللہ و ایمانھم ثمناقلیلا۔ اس آیت میں یمین غموس پر اخروی مواخذہ کا ذکر ہے دنیوی مواخذہ یعنی کفارہ کا ذکر نہیں اس لیے امام ابوحنیفہ کے نزدیک یمین غموس کی حقیقت جھوٹ اور افتراء ہے جو اعلی درجہ کا گناہ کبیرہ ہے جس میں توبہ اور استغفار واجب ہے مگر کفارہ نہیں، اور علی ہذا فاجنتبوالرجس من الاوثان۔۔۔ الی۔۔ الزور۔ میں بھی یمین غموس کی طرف اشارہ ہے۔ 3۔ ) ۔ اس آیت میں اللہ نے لایواخذکم اللہ۔۔۔ الی۔۔ قلوبکم۔ کے مقابلہ میں ذکر فرمایا ہے اور کسب قلب سے بالاجماع کذب اور معصیت کا ارادہ مراد ہے معلوم ہوا کہ یمین لغو بماکسبت قلوبکم کے مقابلہ میں مذکور ہے اس سے مراد یہ ہے کہ جس یمین میں کذب اور جھوٹ کا ارادہ نہ ہو بلکہ اپنے گمان میں سچ سمجھ کر قسم کھائی ہو وہ یمین لغو ہے جس میں خوئی مواخذہ نہیں نہ گناہ اور نہ کفارہ، اور عبداللہ بن عباس اور مجاہد اور ابراہیم نخعی سے یمین لغو کی یہی تفسیر منقول ہے اور یہی امام اعظم ابوحنیفہ کا قول ہے تفصیل کے لیے احکام القرآن للجصاص ص 355 کی مراجعت کی جائے۔
Ayahs 2:226–227

لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ١ۚ فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:226 in the Quran reader

جو لوگ اپنی عورتوں کے پاس جانے سے قسم کھا لیں ان کو چار مہینے تک انتظار کرنا چاہئے اگر (اس عرصے میں قسم سے) رجوع کرلیں تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:227 in the Quran reader

اور اگر طلاق کا ارادہ کرلیں تو بھی خدا سنتا (اور) جانتا ہے

حکم بست ویکم۔ ایلاء۔ قال تعالی، للذین یولون من نساء ھم۔۔۔ الی۔۔۔ علیم۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں کچھ احکام عورتوں کے متعلق مذکور ہوئے اور کچھ احکام یمین یعنی قسم کے متعلق مذکور ہوئے آئندہ آیت میں ایک خاص قسم کی یمین یعنی خاص قسم کی قسم کا ذکر فرماتے ہیں جو عورتوں سے متعلق ہے یعنی ایلاء، اس میں دونوں باتیں جمع ہیں یا یوں کہو کہ ایلا ایک خاص قسم کی یمین ہے جس کے احکام علیحدہ ہے اس لیے ایلاء کا حکم علیحدہ بیان فرمایا یا یوں کہو کہ گزشتہ آیات میں یہ بیان فرمایا کہ اگر بر اور تقوی اور اصلاح کرنے کے لیے قسم کو توڑا جائے اور کفارہ ادا کردیا جائے تو اس پر اللہ کی طرف سے کوئی مواخذہ نہیں اس آیت میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ اسی طرح ایلاء کو سمجھو کہ اگر کسی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا یعنی یہ قسم کھائی کہ اپنی بیوی کے پاس نہیں جاؤں گا تو اگر اس قسم کو توڑ دے تو اور کفارہ دے دے تو اس کا نکاح باقی رہے گا اور اللہ کی طرف سے اس پر کوئی مواخذہ نہیں چناچہ فرماتے ہیں جو لوگ اپنی بیبیوں کے پاس جانے قسم کھابیٹھے یعنی قسم کھالیتے ہیں کہ ہم ان سے صحبت نہ کریں گے ایسے لوگوں کے لیے چار مہینے کا انتظار لازم ہے بس اگر ان چار مہینے کے اندر اپنی قسم کو توڑ کر یہ لوگ اپنی عورت کی طرف رجوع کریں یعنی ان سے صحبت اور مجامعت اور اس طرح اپنی قسم کو توڑ کر کفارہ دیدیں تو ان کا نکاح باقی رہے گا اور اللہ تعالیٰ قسم کے توڑنے اور عورت کو تکلیف پہنچانے کے قصور کو معاف کردیں گے اور آئندہ کے لیے حقوق زوجیت ادا کرنے کی نیت کرلینے کی وجہ سے اس پر رحمت اور مہربانی فرمائیں گے اور اگر ان لوگوں نے قطع تعلق ہی کی ٹھان لی ہے اس لیے اس نے چار مہینے کے اندر رجوع نہیں کیا اور اسی طرح اپنی قسم پر قائم رہا تو چارماہ گذرتے ہی اس پر طلاق پڑجائے گی اور اللہ اس کی قسم کو سننے والے اور اس کی نیت کو جاننے والے ہیں اور اس لیے اس کے مناسب یہ حکم دیا۔ 1) ۔ عرب کا یہ دستور تھا کہ جب بیوی سے خفا ہوتے تو یہ قسم کھالیتے کہ میں اب تیرے پاس نہ آوں گا جاہلیت میں عورت کے ستانے کا یہ طریقہ بھی تھا اس سے نہ عورت بیوہ ہوتی اور نہ خاوند والی شریعت اسلامیہ نے اس کی ایک حد اور مدت متعین کردی یعنی چار ماہ، اگر اس مدت میں رجوع کرلیا تو نکاح باقی رہے گا اور اگر اس نے اس مدت میں رجوع نہ کیا تو طلاق بائن پڑجائے گی۔ 2) ۔ امام مالک اور امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک اگر ایلاء کرنے والا چار ماہ گذرنے کے بعد فورا رجوع کرے تو وہ رجوع معتبر ہے اور امام ابوحنیفہ یہ فرماتے ہیں کہ اگر چار مہینے کے اندر اندر رجوع کرے تو معتبر ہے چار ماہ گذرنے کے بعد رجوع کا اعتبار نہیں اس لیے کہ عبداللہ بن مسعود کی قرات میں فان فاء وا فیھن آیا ہے یعنی ان چار مہینوں کے اندر رجوع کریں اور یہ قرات اگرچہ متواتر نہیں لیکن امام اعظم کے نزدیک اگر قرات شاذہ قرات متواترہ کے معارض نہ ہو بلکہ اس کی مفسر اور شارح ہو تو وہ بھی حجت اور واجب العمل ہے اور تعارض اس کو کہتے ہیں کہ جہاں دونوں کا جمع ہونا ممکن نہ ہو اور ظاہر ہے کہ فان فاء و فیھن کی قرات فان فاء وا کے منافی نہیں بلکہ اس کی تفسیر اور بیان ہے۔ 3) ۔ امام مالک اور امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک محض چار مہینے گذر جانے سے طلاق نہیں پڑتی چارماہ گذر جانے کے بعد قسم کھانے والا یا توطلاق دے یارجوع کرے طلاق کا پڑنا اس کے طلاق دینے پر موقوف ہے اور اگر نہ طلاق دے اور نہ رجوع کرے بلکہ سکوت کرے توحاکم اس سے زبردستی طلاق دلائے امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اگر چار مہینے بلارجوع گذر گئے تو اس پر طلاق پڑجائے گی۔ 4) ۔ شریعت میں ایلاء اس قسم کو کہتے ہیں کہ جو شخص یہ قسم کھائے کہ چار مہینے یا چار ماہ سے زائد یا بلاتعین مدت اپنی عورتوں کے پاس نہیں جائے گا اگر چار مہینے سے کم کے لیے قسم کھائی تو وہ ایلاء شرعی نہ ہوگا اول کی تین صورتوں کا حکم یہ ہے کہ اگر چار ماہ کے اندر رجوع کرلیا تو نکاح باقی رہے گا اور کفارہ قسم دینا پڑے گا اور اگر چار مہینے بلارجوع کے گذر گئے تو طلاق بائن ہوجائے گی اب رجوع درست نہیں البتہ جدید نکاح بدون حلالہ کے جائز ہے اور ایلاء کی آخری صورت یعنی چار مہینے سے کم کے لیے اگر قسم کھائی ہے مثلا تین مہینہ کے لیے قسم کھائی تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر تین مہینہ کے اندر عورت کے پاس گیا تو کفارہ قسم دینا ہوگا اور نکاح باقی رہے گا اور اگر اپنی قسم کو پورا کیا یعنی تین ماہ کے اندر عورت کے پاس نہیں گیا تو تب بھی نکاح باقی رہے گا اور نہ طلاق واقع ہوگی اور نہ کفارہ لازم ہوگا۔ 5) ۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک رجوع کے لیے فقط اتنا ہی کافی ہے کہ میں نے رجوع کرلیا امام شافعی کے نزدیک بلاوطی کے رجوع نہیں ہوتا۔
Ayah 2:228

وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ یَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِیْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا١ؕ وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:228 in the Quran reader

اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنے تئیں روکے رہیں اور اگر وہ خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کو جائز نہیں کہ خدا نے جو کچھ ان کے شکم میں پیدا کیا ہے اس کو چھپائیں اور ان کے خاوند اگر پھر موافقت چاہیں تو اس (مدت) میں وہ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حقدار ہیں اور عورتوں کو حق (مردوں پر) ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر البتہ مردوں کو عورتوں پر فضلیت ہے اور خدا غالب (اور) صاحب حکمت ہے

حکم بست ودوم وسوم۔ عدت طلاق ومدت رجعت۔ قال تعالی، والمطلقات یتربصن بانفسھن۔۔۔ الی۔۔ حکیم۔ ربط) ۔ ایلاء میں ایک محدود مدت یعنی چار مہینے کے لیے عورت سے علیحدگی ہوتی ہے اور طلق میں غیر محدود مدت کے لیے علیحدگی ہوتی ہے اس لیے محدود اور محصور (یعنی ایلاء) کے بعد غیر محدود اور غیر محصور (یعنی طلاق) کا ذکر مناسب ہوا نیز ایلاء میں بعض مرتبہ عزم یعنی ارادہ رجوع کا ہوتا ہے اس لیے ان آیات میں طلاق کے ساتھ رجعت کے احکام بھی بیان فرمائے چناچہ فرماتے ہیں اور طلاق والی عورتیں جن پر کسی طرح سے طلاق پڑچکی ہے خواہ بذریعہ ایلاء کے یا کسی اور طریقہ سے ان کو چاہیے کہ تین حیض گذرنے کے انتظار کریں یعنی جب تک یہ تین حیض نہ گذریں اس وقت تک کسی دوسرے جگہ نکاح نہ کریں تاکہ اگر حمل ہو تو معلوم ہوجائے اور دوسرے کی اولاد اس کے ساتھ مخلوظ نہ ہوجائے اور یہی وجہ ہے کہ ان طلاق والی عورتوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ اس چیز کو پوشیدہ رکھیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا کیا ہے یعنی عورتوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ اپنے حیض یا حمل کو چھپائیں کہ کسی طرح عدت جلدی پوری ہوجائے یا شوہر کو طلاق رجعی میں رجعت کا حق باقی نہ رہے غرض یہ کہ عورتوں کے لیے اپنے حمل یا حیض کو چھپانا جائز نہیں اگر وہ حقیقۃ اللہ اور یوم آخرت پر یقین رکھتی ہیں تو ایمان خیانت کی اجازت نہیں دیتا اور طلاق رجعی کی صورت میں ان کے شوہر ان کو اپنی زوجیت میں واپس لانے کے پوراحق رکھتے ہیں خواہ یہ عورتیں رضامند ہوں یا ناراض۔ مگر یہ یاد رہے کہ شوہروں کو طلاق دینے کے بعد رجعت کی اجازت اس شرط کے ساتھ دی گئی ہے کہ ان کا مقصود اس رجعت سے اصلاح اور خیر خواہی جاہلیت کی طرح عورتوں کو ستانا اور پریشان کرنا مقصود نہ ہو یا اس طریق سے مہر کا معاف کرانا منظور نہ ہو ستانے کی نیت سے رجعت اگرچہ صحیح ہے لیکن اس نیت سے رجعت کرنا گناہ ہے اور باعث سزا ہے، ان ارادا اصلاحا۔ کی قید اور شرط اجازت خداوندی کی شرط ہے صحت رجعت کی شرط نہیں رجعت ہر حال میں صحیح ہے مگر من جانب اللہ رجعت کی اجازت اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ نیت خیرخواہی اور اصلاح کی ہو اور اصلاح اور خیرخواہی اس وقت مکمل ہوگی کہ جب ہر ایک دوسرے کا حق ادا کرے کیونکہ عورتوں کا بھی مردوں پر حق ہے جیسا کہ ان پر مردوں کا حق ہے دستور کے مطابق لیکن حقوق میں مردوں کا درجہ عورتوں سے بڑھا ہوا ہے اللہ نے مردوں کو عورتوں پر فضیلت دی ہے اس لیے رجعت کا حق اور اختیار مردوں کو عطا کیا ہے عورتوں کو نہیں دیا اور اللہ غالب ہے مظلوم کا ظالم سے بدلہ لینے پر قادر ہے پس اگر کوئی عورت پر ظلم کرے گا تو اس سے بدلہ لے گا اور بڑی حکمتوں والا ہے اس کا کوئی حکم حکمت اور مصلحت سے خالی نہیں حکمت اور مصلحت اسی میں ہے کہ طلاق اور رجعت کا اختیار مردوں ہی کے ہاتھ میں رہے عورتیں کچھ تو کم عقل ہیں اور کچھ جلدباز اور بےصبری ہیں ان کے ہاتھ میں اگر طلاق اور رجعت کا اختیار دے دیا جاتا تو ہر شہر میں روزانہ ہزار طلاقیں پڑا کرتیں اور پھر جب طلاق دینے کے بعد کچھ ہوش میں آتا اور پنا اور اپنے بچوں کا انجام نظروں کے سامنے آتا تو سر پیٹتیں اور روتیں، عورتوں کو اللہ کالاکھ شکر ادا کرنا چا ہے کہ اللہ نے ان کو یہ اختیار نہیں دیا کیونکہ یہ اختیار ان کو تباہی کا باعث ہوتا ہے بچوں اور عورتوں کی خیرخواہی اسی میں ہے کہ ان کو اختیار نہ دیاجائے۔ 1) ۔ آیت میں لفظ مطلقات اگرچہ عام ہے مگر یہاں مطلقات سے وہ خاص عورتیں مراد ہیں جو آزاد ہوں لونڈی اور باندی نہ ہوں اور ان کو حیض بھی آتا ہو نابالغ یا حاملہ نہ ہوں اور ان سے صحبت یا خلوت صحیح بھی ہوچکی ہو جن عورتوں میں یہ صفات پائی جائیں ان کی عدت تین حیض ہے اور اگر آزاد نہ ہوں بلکہ لونڈی اور باندی ہو تو ان کی عدت دوحیض ہے اور انکی طلاقیں بھی دو ہیں اگر مطلقہ صغیر السن ہو یا بہت بوڑھی ہوگئی کہ حیض نہ آتا ہو تو اس کی عدت تین ماہ ہے اور اگر حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے اور اگر صحبت یا خلوت صحیحہ سے پہلے ہی اس کو طلاق دے دی گئی تو اس پر عدت نہیں۔ 2) ۔ لفظ قرء اضداد میں سے ہے باتفاق ائمہ لغت حیض اور طہر دونوں پر بولا جاتا ہے امام شافعی فرماتے ہیں کہ آیت میں قرو سے طہر کے معنی مراد ہیں امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ آیت میں قرو سے حیض کے معنی مراد ہیں خلفاء راشدین اور اکابر صحابہ اور تابعین سے بھی یہی منقول ہے کہ قرو سے حیض کے معنی مراد ہیں (تفسیر ابن کثیر) نیز عدت کی مشروعیت سے غرض یہ کہ رحم کا بچہ سے خالی ہونا معلوم ہوجائے اور یہ بات حیض ہی سے معلوم ہوسکتی ہے طہر سے معلوم نہیں ہوسکتی۔ 3) ۔ وللرجال علیھن درجہ۔ سے صاف ظاہر ہے کہ مردوں کا درجہ عورتوں سے بڑھا ہوا ہے اور جو لوگ مرد اور عورت کی مساوات پر تقریریں کرتے ہیں وہ بےعلم ہیں اور بےعقل بھی، اور جن پر نفسانی شہوتوں کا غلبہ ہے ان کے نزدیک عورت کا درجہ مرد سے بڑھا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ عقل اور ہدایت دے۔ آمین۔
Ayah 2:229

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ١۪ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْئًا اِلَّاۤ اَنْ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:229 in the Quran reader

طلاق (صرف) دو بار ہے (یعنی جب دو دفعہ طلاق دے دی جائے تو) پھر (عورتوں کو) یا تو بطریق شائستہ (نکاح میں) رہنے دینا ہے یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا اور یہ جائز نہیں کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو ہاں اگر زن و شوہر کو خوف ہو کہ وہ خدا کی حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو اگر عورت (خاوند کے ہاتھ سے) رہائی پانے کے بدلے میں کچھ دے ڈالے تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں یہ خدا کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں ان سے باہر نہ نکلنا اور جو لوگ خدا کی حدو سے باہر نکل جائیں گے وہ گنہگار ہوں گے

حکم بست وچہارم، عدد طلاق رجعی۔ قال تعالی، اطلاق مرتن۔۔ الی۔۔ باحسان۔ ربط) ۔ گزشتہ آیت میں مرد کے لیے حق رجعت کا بیان تھا اب اس آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ رجعت کا حق کب تک رہتا ہے چناچہ فرماتے ہیں کہ جس طلاق کے بعد رجعت ہوسکتی ہے وہ دو مرتبہ ہے پھر دو مرتبہ طلاق دینے کے بعد تم کو دو اختیار ہیں یا تو دستور اور حسن اسلوب کے ساتھ روک لو یعنی رجعت کرکے اس کو اپنے نکاح میں رہنے دو اور یا حسن اسلوب کے ساتھ اس کو چھوڑ دو کہ اس کی عدت گذر جائے اور جہاں چاہے وہ نکاح کرلے تو اس میں کوئی رکاوت نہ ڈالو۔ حکم بست وپنجم۔ خلع۔ قال تعالی، ولایحل لکم ان تاخذوا۔۔۔ الی۔۔ ھم الظالمون۔ ربط) ۔ گزشتہ آیت میں طلاق کا ذکر فرمایا اب اس آیت میں خلع کا ذکر فرماتے ہیں جو ایک قسم کی طلاق ہے یا طلاق کی طرح ایک قسم کا فسخ نکاح ہے نیز گزشتہ آیت میں تسریح باحسان کا حکم تھا اب اس آیت میں یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر بیوی سے خلع کی نوبت آئے تو اس کو حسن سلوک اور خوبصورتی کے ساتھ رخصت کرو یعنی مہر وغیرہ جو کچھ اس کو دے چکے ہو وہ اس سے واپس نہ لو دئیے ہوئے کو واپس لینا تسریح باحسان کے خلاف ہے چناچہ فرمات ہیں اور تمہارے لیے ی حلال نہیں کہ بیبیوں سے چھوڑنے کے وقت ان سے اس مال میں سے کوئی شے واپس لو جو تم ان کو نکاح کی حالت میں دے چکے ہو مگر جب کہ میاں بیوی دونوں کو یہ خوف ہوا کہ ہم اللہ کی مقرر کردہ حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے یعنی آپس میں حقوق زوجیت نہ ادا کرسکیں گے تو ایسی صورت میں اگر مرد عورت سے کچھ مال لے کر اس کو چھوڑ دے اور عورت مال دے کر اپنے آپ کو اس کے نکاح سے چھڑا لے تو کوئی گناہ نہیں شریعت کی اصطلاح میں اس کو خلع کہتے ہیں سو اگر تم کو اندیشہ ہو کہ میاں اور بیوی باہمی منافرت اور کدورت کے باعث حقوق زوجیت کے بارے میں اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو دونوں پر اس بارے میں کوئی گناہ نہی کہ عورت کچھ فدیہ دے کر نکاح سے اپنا پیچھا چھڑا سکے تاکہ دونوں گناہ سے بچ جائیں ایسی صورت میں عورت کے لیے مال کادین اور مرد کے لیے مال کالینا جائز ہے بشرطیکہ مہر سے زیادہ نہ ہو یہ اللہ کی قائم کردہ حدود ہیں پس ان سے آگے نہ بڑھنا اور جو لوگ اللہ کی حدود سے تجاوز کرتے ہیں وہ سراسر ظالم ہیں اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں اور اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ ثابت بن قیس کی بیوی نبی ﷺ کے پاس حاضرہوئی اور عرض کیا یارسول اللہ میں ثابت بن قیس کے دین اور اخلاق اور عادات پر کوئی عیب نہیں لگاتی مگر میں اور وہ ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے میں نے برقع اٹھا کر بہت سے لوگوں میں ان کو آتے دیکھا تو سب سے زیادہ سیاہ فام اور پست قد اور بدصورت ثابت ہی نظر آئے حضور ﷺ نے فرمایا کیا تم اس کو وہ باغیچہ واپس دے سکتے ہو جو اس نے تم کو دیا ہے کہا ہاں وہ بھی اور کچھ زیادہ بھی دے سکتی ہوں حضور نے ثابت بن قیس کو بلایا اور فرمایا کہ تم اس سے وہ باغیچہ واپس لے لو اور اس کو طلاق دے دو اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی یہ اسلام میں پہلا خلع تھا۔