Ayah 2:230حکم بست وششم، حلالہ درطلاق ثالث۔
قال تعالی، فان طلقہا فلاتحل لہ من بعد۔۔۔ الی۔۔۔ یعلمون۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں دو طلاق کا حکم بیان فرمایا یعنی دو طلاق کے بعد تم کو امساک بمعروف اور تسریح باحسان کا اختیار ہے اب اس آیت میں تیسری طلاق کا حکم بیان فرماتے ہیں کہ تیسری طلاق کے بعد تم کو رجعت وغیرہ کا کوئی حق نہیں رہتا بدون حلالہ کے تمہاری طرف واپس نہیں ہوسکتی چناچہ فرماتے ہیں پس اگر دو طلاق دینے کے بعد تیسری طلاق بھی دے دے تو اس عورت کا تعلق اس سے بالکلیہ منقطع ہوجائے گا اس لیے کہ دو طلاق کے بعد تو رجعت کا امکان تھا اور جب تیسری طلاق بھی دے دی تو اب رجعت کا کوئی موقعہ نہیں رہا طلاق کی وضع ہی مفارقت اور انقطاع کے لیے ہے تیسری طلاق سے نکاح کی حلت بالکلیہ ختم ہوگئی اور یہ عورت اس کے لیے بالکل حلال نہیں رہے گی اب اس عورت سے نہ رجعت صحیح ہے اور نہ نکاح جدید یہاں تک کہ یہ عورت عدت کے بعد پہلے شوہر کے علاوہ کسی اور سے نکاح کرے پھر اگر یہ دوسرا شوہر ہم بستری کے بعد اس کو طلاق دے دے اور عدت بھی گزر جائے تو پھر کوئی گناہ نہیں یہ یہ عورت اور پہلا شوہر جدید نکاح کرکے بدستور سابقہ حالت کی طرف لوٹ جائیں اور زن شوئی کے تعلقات قائم کرلیں بشرطیکہ دونوں کو گمان غالب ہو کہ ہم اللہ کی حدود کو قائم رکھ سکیں گے اس لیے کہ آئندہ امور کے متعلق جزم اور یقین کا کا حاصل ہونا نہایت مشکل ہے اس لیے کہ غیب کا علم کسی کو نہیں آئندہ کیا ہوگا اور یہ یعنی تیسری طلاق کے بعد دوسرے شوہر سے نکاح کرنا اور پھر اس کا ہم بستری کے بعد طلاق دینا اور پھر شوہر اول اور عورت کا یہ گمان غالب ہو کہ کہ ہم دوبارہ نکاح کے بعد ایک دوسرے کے حقوق زوجیت میں کمی کرنے کے گناہ میں مبتلانہ ہوں گے غرض یہ کہ امور اللہ کی قائم کردہ حدود ہیں جن سے تجاوز اور انحراف جائز نہیں اللہ ان حدود اور احکام کو ایسے لوگوں کے لیے بیان کرتا ہے جو علم اور فہم رکھتے ہیں اور اس بات کو سمجھتے ہیں کہ تیسری طلاق سے زوجیت اور محبت کا تعلق بالکل منقطع ہوجاتا ہے اور محبت اور موانست مبدل بکراہت ومنافرت ہوجاتی ہے اس لیے کہ اس کراہت ومنافرت کے ازالہ کے لیے یہ ضروری ہے کہ دوسرے شوہر سے نکاح کرے اور اس کی لذت چکھنے کے بعد اگر طلاق ہوجائے تو پھر شوہر اول سے تعلق کی تجدید ہوسکتی ہے۔
فائدہ) ۔ آیت قرآنیہ سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ تین طلاق کے بعد رجعت کا حق باقی نہیں رہتا خواہ وہ تین طلاقیں علیحدہ علیحدہ دی ہوں یا اکٹھی دی ہوں تمام صحابہ اور تابعین اور ائمہ مجتہدین کا اس پر اجماع ہے کہ تین طلاقیں جس طرح بھی دی جائیں خواہ مجتمعا اور خواہ متفرقا وہ واقع ہوجاتی ہیں اور لازم سمجھی جاتی ہیں صرف بعض اہل ظاہر اور بعض حنبلیوں کا قول ہے کہ تین طلاق دینے سے ایک طلاق پڑتی ہے اور شیعوں کے نزدیک تین طلاق دینے سے ایک طلاق بھی نہیں پڑتی اور داود ظاہری سے بھی اسی طرح منقول ہے کہ دفعتہ تین طلاق دینے سے ایک طلاق بھی نہیں پڑتی، اور امام ابوحنیفہ اور امام لک اور امام شافعی اور امام احمد بن حنبل جن کی تقلید اور اتباع پر (سوائے چند ظاہر بین اور خود رائے لوگوں کے) امت محمدیہ کے علماء اور فقہاء اور محدثین اور مفسرین متفق ہیں ان کا متفقہ اور اجماعی فتوی یہ ہے کہ تین طلاق دینے سے تین ہی طلاق واقع ہوجاتی ہیں اور اسی کو امام بخاری علیہ الرحمہ نے اختیار فرمایا جس کے لیے صحیح بخاری میں ایک خاص باب منعقد فرمایا، باب من اجاز الطلاق الثلاث، بقولہ تعالی، اطلاق مرتان۔ بعد ازاں امام قرطبی نے ان تمام شبہات کا جواب دیا کہ جو لوگ تین طلاق کو ایک طلاق بنانے کے لیے پیش کرتے ہیں حضرات اہل علم اصل کی مراجعت فرمائیں۔ حضرت عمر کے عہد خلافت میں تمام فقہاء صحابہ کے مشورہ اور اتفاق سے یہ حکم دیا گیا کہ جو شخص اپنی عورت کو تین طلاق دے گا وہ تین ہی شمار ہوں گی اور جو اس کے خلاف کرے گا اس پر درے پڑیں گ اور سخت سزا کا مستوجب ہوگا اور حضرت عثمان اور حضرت علی اور حضرت ابن عباس کا بھی یہی فتوی ہے تفصیل کے لیے بخاری شرفی اور ہدایہ کی شروع کی مراجعت کی جائے۔
نصیحت) ۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ تین طلاق کے بارے میں کتاب وسنت اور اجماع صحابہ اور اجماع ائمہ اربعہ کا اتباع کریں اس زمانہ کے چند مدعیان عمل بالحدیث کے کہنے سے حرام کے مرتکب نہ ہوں اور اپنے نسب کو خراب نہ کریں جو شخص اجماع صحابہ کو حجت نہ سمجھے وہ اہل سنت والجماعت سے نہیں۔
حدیث ابن عباس ) ۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ کے زمانہ میں اور ابوبکر کے زمانہ میں اور عمر کے زمانہ میں دو سال تک تین طلاقیں ایک ہی شمار کی جاتی تھیں پھر حضرت عمر نے تین طلاقیں جاری کردیں بعض ظاہر پرست اس روایت کو دیکھ کر اس طرف چلے گئے کہ تین طلاق دینے سے ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے اور حضرت عمر نے کسی مصلحت سے تین طلاق کو تین طلاق قرار دیا تھا اور ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد ابن قیم حنبلی اپنے امام احمد بن حنبل کے برخلاف اور تمام صحابہ وتابعین کے اجماع کے برخلاف اور ائمہ مجتہدین کے برخلاف اور تمام اہل سنت والجماعت کے برخلاف شذوذ اور تفرد میں مبتلا ہوئے اور شیعوں کی طرح تین طلاق دینے سے تین طلاقیں واقع ہوتی ہیں اور تین طلاق سے عورت مغلظہ بائنہ ہوجاتی ہے سب سے پہلے شیخ تقی الدین سبکی اور عزبن جماعہ وغیر ہمائے نے ابن تیمیہ کا رد کیا جو ابن تیمیہ کے ہمعصر اور ہم شہر تھے اور یہ واضح کردیا کہ ابن تیمیہ کا مسئلہ طلاق میں تفرد اور شذوذ ابن تیمیہ کے ان مسائل میں سے ہے جن میں ابن تیمیہ نے اجماع اور اجماع ائمہ اربعہ کے خلاف کیا ہے اور مذاہب اربعہ میں سے کوئی اس کا قائل نہیں ہوا اور ہر زمانہ میں علماء نے اس مسلک کی تردید میں کتابیں اور رسالے لکھے اور بخاری مسلم کے شارحین نے خاص طور پر شرح حدیث میں اس مسلک کا بطلان اور ابن تیمیہ کی تردید کی ہے۔
اہل سنت والجماعت کے دلائل۔
(1) ۔ تمام صحابہ وتابعین سے اطلاق مرتان۔ اور فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ۔ کی تفسیر اسی طرح منقول ہے کہ دو طلاق کے بعد خواہ مجتمعا ہوں یا متفرقا زوج کو رجعت کا حق رہتا ہے اور تین طلاق کے بعد خواہ وہ مجتمعا ہوں یا متفرقا رجعت کا حق باقی نہیں رہتا بیشمار روایتوں سے یہ ثابت ہے کہ شروع اسلام میں لوگوں کی یہ حالت تھی کہ بےحد و حساب طلاقیں دے دیتے تھے حتی کہ سو سو اور ہزار ہزار طلاقیں دیدیتے تھے جب عدت گزرنے کے قریب ہوتی تو اس سے رجوع کرلیتے پھر اسی طرح ستانے کے لیے اس کو طلاق دیدی اور پھر رجعت کرلی اس پر یہ حکم نازل ہوا۔ اطلاق مرتان۔ اللہ نے طلاق کی حد مقرر کردی کہ آخری حد تین ہے ایک اور دو طلاق کے بعد تو رجعت کا حق ہے اور تین یعنی تیسری طلاق کے بعد رجوع کا اختیار نہیں رہتا۔ (تفسیر ابن کثیر ص 271 ج 1) ۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم اور دیگر کتب حدیث میں ۃ ے کہ عویمر عجلانی نے نبی صلی اللہ کے سامنے اپنی بیوی کو لفظ واحد میں تین طلاقیں دیں اور نبی صلی اللہ نے اس پر کوئی انکار نہیں فرمایا۔ 3۔ صحیح بخاری میں اور صحیح مسلم اور نسائی میں عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں بعد ازاں اس عورت نے دوسرے شخص سے نکاح کرلیا اور اس دوسرے شوہر نے اس کو مباشرت سے پہلے طلاق دے دی اس پر نبی ﷺ نے دریافت کیا گیا کہ یہ عورت اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کرسکتی ہے آپ نے فرمایا نہیں جب تک دوسرا شوہر پہلے شوہر کی طرح صحبت اور مباشرت نہ کرلے۔ (تفسیر ابن کثیر ص 278 ج 1) ۔ 4۔ حدیث عائشہ صدیقہ درقصہ رفاعہ قرظی جس کا مضمون گزشتہ روایت کے قریب قریب ہے امام بخارینے صحیح بخاری میں آیت مذکورہ کوا اور ان تینوں حدیثوں کو ذکر فرمایا اور ائمہ اربعہ کے مطابق طلاق ثلاث کے جواز کے لیے ایک ترجمہ منعقد فرمایا (باب من اجاز الطلاق الثلاث) دیکھو فتح الباری ص 315 ج 9 بعد ازاں امام بخاری نے ایک اور باب منعقد فرمایا وہ یہ ہے کہ باب اذاطلقہا ثلاثا ثم تزوجب بعد العدۃ زوجا غیرہ فلم یمسھا۔ اور اس باب میں رفاعہ قرظی کی حدیث نقل فرمائی دیکھو فتح الباری صب 408 ج 9) ۔ 5۔ امام بخاری نے صحیح بخاری میں ایک باب قصہ فاطمہ بنت قیس کے عنوان سے منعقد کیا ہے فاطمہ بنت قیس کو اس کے شوہر نے نبی کریم کے زمانہ میں تین طلاقیں دے دی تھیں چونکہ فاطمہ بنت قیس کے مزاج میں کچھ حدت تھی اس لیے نبی کریم نے اس کو دوسرے گھر میں عدت گزارنے کی اجازت دے دی تھی دیکھو فتح الباری ص 423 ج 9۔ 6۔ معجم طبرانی اور سنن بیہقی میں سوید بن غفلہ سے مروی ہے کہ عائشہ خثعمیہ امام حسن بن علی کے زوجیت میں تھیں جب علی کرم اللہ وجہ شہید ہوئے تو خثعمیہ نے امام حسن کو مبارک باد دی اور یہ کہا لتہنک الخلافۃ۔ خلافت آپ کو مبارک ہو امام حسن کو سخت ناگوار گزرا اور کہا کیا تجھ کو علی کے قتل سے خوشی ہوئی، اذھبی فانت طالق ثلاثا۔ جاتجھے تین طلاق۔ اور امام حسن نے بقیہ مہر اس کو بھیج دیا اور مزید براں دس ہزار درہم اور بھیج دیے عائشہ خثعمیہ کو بہت صدمہ ہوا اور اس پر امام حسن نے یہ فرمایا کہ اگر میں اپنے جد امجد یعنی رسول اللہ کا یہ قول نہ سنے ہوتے تو رجوع کرلیتا وہ قول یہ ہے جو شخص اپنی بیوی کو تین طلاق دے حیض کے وقت یا اور کسی طرح تو وہ اس کے لیے حلال نہیں یہاں تک کہ دوسرے شوہر سے نکاح کرے۔ 7۔ مسند امام احمد بن انس بن مالک سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سے یہ دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں پھر اس عورت نے دوسرے شخص سے نکاح کرلیا اور اس نے اس کو طلاق قبل الدخول دے دی تو کیا یہ عورت اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کرسکتی ہے آپ نے فرمایا نہیں جب تک شوہر ثانی شوہر اول کی طرح مبارشرت نہ کرے (تفسیر ابن کثیر ص 277 ج 1) ۔ 8۔ اور اسی طرح کے مضمون کی ایک حدیث ابوہریرہ سے مروی ہے کہ جس کو ابن جریر نے روایت کیا ہے (تفسیر ابن کثیر ص 277 ج 1) ۔
حضرت عمر اور حضرت عثمان وحضرت علی ؓ اجمعین) ۔ محلی بن حزم اور زاد المعاد اور اغاثۃ اللہ فان لابن القیم میں اور سنن بیہقی میں حضرت عمر اور حضرت عثمان اور حضرت علی کا باسانید صحیحہ یہ قول نقل کیا ہے کہ تین طلاق دینے سے عورت مغلظہ بائنہ ہوجاتی ہے اور بدون حلالہ کے اس سے نکاح صحیح نہیں شیخ ابن الہمام فتح القدیر میں لکھتے ہیں کہ خلفاء اور عبادلہ سے صراحۃ یہ ثابت ہے کہ تین طلاق دینے سے تین ہی واقع ہوتی ہیں۔
اجماع صحابہ کرام) ۔ اور اسی پر صحابہ کا اجماع ہے کہ تین طلاق دینے سے تین طلاق واقع ہوجاتی ہیں جیسا کہ علامہ زرقانی نے شرح موطا میں حافظ بن عبدالبر سے اجماع نقل کیا ہے اور قاضی ابوالولید باجی نے منتقی میں اور امام ابوبکر رازی جصاص نے احکام القرآن میں اور امام طحاوی نے شرح معانی الاثار میں اس پر سلف کا اجماع نقل کیا ہے اور حافظ عسقلانی نے فتح الباری میں لکھا ہے، فا الراجع فی الموضعین تحریم المتعۃ وایقاع الثلاث للاجماع الذی انعقد فی عھد عمر علی ذالک، الخ۔ اور حافظ ابن رجب حنبلی جو بچپن سے حافظ ابن تیمیہ اور حافظ ابن قیم کی صحبت میں رہے جب ان پر یہ منکشف ہوا کہ ہمارے استاذ ابن تیمیہ اور ابن قیم بہت سے مسائل میں سلف صالحین کے خلاف ہیں تو اپنی تصانیف میں انکا رد کیا اور اس مسئلہ پر یعنی طلاق ثلاث کے بارے میں ایک خاص کتاب ان کے رد میں لکھی جس کا نام بیان مشکل الاحادیث الورادۃ فی ان الطلاق الثلث واحدۃ رکھا۔ اس کتاب مذکور میں حافظ ابن رجب حنبلی لکھتے ہیں، اعلم انہ لم یثبت عن احدمن الصحابۃ ولا من التابعین ولا من ائمۃ السلف المعد بقولھم فی الفتاوی فی الحلال والحرام شئی صریح فی ان الطلاق الثلاث بعد الدخول یحسب واحدۃ اذا سبق بلفظ واحدا، کذا فی الاشفاق علی احکام الطلاق للعلامۃ کو ثری ص 35۔
حدیث ابن عباس کا جواب۔
حافظ عسقلانی نے فتح الباری ص 317 ج 9 میں جمہور کی طرف سے حدیث ابن عباس کے آٹھ جواب دیے ہیں جن میں سے چند ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔
جواب اول) ۔ ابن عباس کی یہ روایت جس کو طاوس نے روایت کیا ہے شاذ ہے آیت قرآنیہ اور احادیث متواترہ صحیحہ ومشہورہ اور اجماع صحابہ اور خلفاء راشدین کے فیصلہ کے خلاف ہے امام قرطبی فرماتے ہیں کہ سعید بن جبیر اور مجاہد اور عطا اور عمرو بن دینار اور مالک بن حویرث اور محمد بن ایاس اور نعمان بن ابی عیاش یہ تمام اکابر ثقات ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ جو شخص اپنی عورت کو تین طلاق دے دے تو اس کے بارے میں ابن عباس کا فتوی یہ تھا کہ اس شخص نے خدا کی نافرمانی کی کہ یکدم تین طلاق دے دی اس کی بیوی اس سے بائنہ ہوگئی بغیردوسرے شخص سے نکاح کیے اور طلاق حاصل کیے بغیر شوہر سے نکاح نہیں کرسکتی ان ائمہ اکابر نے ابن عباس سے جو کچھ روایت کیا ہے وہ جماعت صحابہ وتابعین کے مطابق ہے اور اس امر کی دلیل ہے کہ طاوس وغیرہ نے ابن عباس سے جو روایت نقل کی ہے (تین طلاق ایک سمجھی جاتی تھی) وہ بالکل ضعیف اور کمزور ہے یہ ممکن نہیں کہ ابن عباس صحابہ کرام کے خلاف کریں حافظ ابن عبدالبر فرماتے ہیں کہ طاؤس کی روایت وہم اور غلط ہے حجاز اور شام اور مصر اور مشرق اور مغرب کے علماء میں سے کوئی بھی اس طرف نہیں گیا کہ تین طلاق ایک قرار دیا جائے (تفسیر قرطبی ص 129 ج 3) ۔ نیز یہ امر تواتر کو پہنچا ہے کہ ابن عباس یہ فتوی دیا کرتے تھے کہ تین طلاق دینے سے تین ہی طلاقیں پڑتی ہیں اور تین طلاق کے بعد عورت مغلظہ بائنہ ہوجاتی ہے امام ابن منذر فرماتے ہیں کہ ابن عباس کے ساتھ یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ نبی کریم کی حدیث ان کے پاس محفوظ ہو اور وہ ہمیشہ اس کے خلاف فتوی دیتے رہیں پس اولی اور مقتضائے احتیاط یہی ہے کہ ایک قول کے مقابلہ میں جماعت کے قول کو ترجیح دی جائے (فتح الباری ص 317 ج 9) ۔ قاضی ابوبکر بن عربی فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو صحت میں اختلاف ہے پس اجماع صحابہ کے مقابلہ میں اس کو کیسے مقدم رکھا جاسکتا ہے (فتح الباری ص 317 ج 9) ۔
جواب دوم) ۔ یہ کہ حدیث ابن عباس منسوخ ہے حضرت عمر کا صحابہ کے مشورہ اور اتفاق سے تین طلاقوں کو جاری کرنا اور صحابہ میں سے کسی کا اختلاف نہ کرنا اس امر کی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک اس حکم کا ناسخ ثابت ہوا ہے جس کی بناء پر یہ حکم جاری کیا امام بیہقی نے امام شافعی سے یہی روایت کیا ہے کہ غالبا یہ حکم پہلے تھا بعد میں منسوخ ہوگیا اور قرینہ اس کا یہ ہے کہ سنن ابی داؤد میں باسناد صحیح ابن عباس سے مروی ہے کہ وہ اپنی اس روایت مذکورہ کے خلاف فتوی دیا کرتے تھے معلوم ہوا کہ ابن عباس کو کسی ذریعہ سے اس روایت کامنسوخ ہونامعلوم ہوا جب ہی تو فتوی اس کے خلاف دیا کرتے تھے (فتح الباری ص 317 ج 9) عقلاء یہ کیسے ممکن ہے کہ فاروق اعظم صحابہ کو حدیث نبوی کے خلاف آمادہ کریں اور صحابہ کرام بالاتفاق بلاچون وچرا حدیث کے حکم کے خلاف ان کے حکم کو قبول کرلیں اور ابن عباس جو تین طلاق کے ایک طلاق ہونے کے راوی ہیں وہ حضرت عمر سے ایک مرتبہ بھی عرض نہ کریں کہ اے امیر المومنین آپ کا تین طلاقوں کو تین بنادینا ارشاد نبوی کے خلاف ہے نبی ﷺ اور ابوبکر کے زمانہ خلافت میں تو تین طلاقیں ایک سمجھی جاتی رہیں آپ نے نبی کریم اور ابوبکر صدیق کے زمانہ خلافت کے خلاف کیسے حکم جاری کیا اور یہ کہنا کہ حضرت عمر نے کسی مصلحت سے یہ حکم جاری کیا تھا یہ کمال ابلہی اور بےباکی ہے یہ ناممکن ہے کہ اور محال ہے کہ فاروق اعظم کسی سیاست اور مصلحت کی بناء پر حکم نبوی کے خلاف کوئی حکم جاری کریں اور صحابہ کرام میں کوئی متنفس زبان نہ ہلائے اور ابن عباس کی حدیث ان کو یاد نہ دلائے۔
جواب سوم) ۔ مان لو کہ حدیث ابن عباس دربارہ وحدت طلاق صحیح ہے لیکن آیت قرآنی الطلاق مرتان، الی۔۔ فان طلقہا۔ غیرہ۔ کے صحیح اور صریح ہونے میں تو کوئی شبہ ہی نہیں ہوسکتا اور علی ہذا دیگر روایات صریحہ میں سے تین طلاق ہونا ثابت ہے ان کے صحیح ہونے میں بھی کوئی شہ نہیں تو حاصل یہ نکلا کہ طلاق ثلاث کے مسئلہ میں ایک مختلف فیہ روایت تو ایک ہونے پر دلالت کرتی ہے اور باقی تمام احادیث صحیحہ وصریحہ اور آیت قرآنیہ میں تین طلاق کے تین ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور حضرت عمر کی مجلس میں یہ مسئلہ پیش ہوا فاروق اعظم نے بمشورہ عثمان وعلی و دیگر اکابر صحابہ ان روایتوں کو ترجیح دی جو تین طلاق کے تین ہونے پر دلالت کرتی تھیں تو امت کا فرض یہ ہے کہ احادیث مختلف فیہ میں جس جانب کو خلفاء راشدین اور تمام صحابہ کرام بلااختلاف اختیار کرلیں اگرچہ وہ حدیث بااعتبار سند کے ضعیف ہو اسی جانب کا اتباع ضروری ہوگا اور جس چیز پر خلفاء راشدین اور صحابہ کرام متفق ہوگئے ہوں اس کی مخالفت ناجائز ہوگی اور یہی ائمہ اربعہ اور تمام محدثین کا مسلک ہے، خلاصہ کلام یہ کہ تین طلاق دینے سے تین طلاق کا واقع ہونا کتاب اللہ، اور سنت رسول اور اجماع صحابہ، اور فاروق اعظم کے حکم اور عثمان وعلی اور فقہاء صحابہ کے اتفاق سے ثابت ہے اور ظاہر ہے کہ فاروق اعظم کے حکم سے آنکھ بند کرلینا اور اجماع صحابہ کی پروا نہ کرنا نزعہ رافضیہ اور شیوہ شیعت ہے اللہ تعالیٰ ہم کو اس سے پناہ میں رکھے آمین ثم آمین۔
حکم بست وہفتم۔ منع از اضرار نساء وزجر از لعب باحکام خداوندی۔
Ayah 2:231قال تعالی، واذا طلقتم النساء فبلغن۔۔ الی۔۔۔ علیم۔
ربط) ۔ گزشتہ آیت میں یعنی الطلاق مرتان، میں یہ بیان فرمایا تھا کہ طلاق رجعی میں تم کو دو اختیار ہیں یا تو حسن اسلوب کے ساتھ اس کو روک لو یا خوبصورتی کے ساتھ اس کو رخصت کردو اب اس آیت میں یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو کچھ بھی کرو تمہیں اختیار ہے لیکن عورتوں کو تکلیف اور ضرر پہنچانے کے ارادہ سے نہ کرو چناچہ فرماتے ہیں اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق رجعی دو اور پھر وہ اپنی عدت پوری کرنے کے قریب ہوجائیں یعنی ان کی عدت اور میعاد قریب الختم ہو مگر ابھی ختم نہ ہوئی ہو پس اگر ان کو اپنے نکاح میں رکھنا منظور ہے تو اچھے طریق سے ان سے رجعت کرکے ان کو اپنے نکاح میں روک لو یا انکو اپنی زوجیت میں رکھنا مقصود نہ ہو تو پھر خوبصورتی کے ساتھ ان کو رخصت کردو کہ وہ اپنی عدت گذار کر جہاں چاہیں نکاح کریں اور ستانے اور ایذاء دینے کے لیے ان کو نہ روکو یعنی ایذاء پہنچانے کی غرض سے ان سے رجعت نہ کرو تاکہ روک کر ان پر کچھ ظلم اور زیادتی کرو جیسا کہ جاہلیت کا طریقہ تھا کہ بیوی کو ستانے کی غرض سے طلاق دیتے اور پھر جب عدت پوری ہونے کے قریب ہوتی تو رجعت کرلیتے اور پھر طلاق دیتے اور پھر اسی طرح کام کرتے رہتے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ایسا مت کرو اور جو شخص ایسا کام کرے گا پس بلاشبہ اس نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اے مسلمانو تم ان جاہلوں کی طرح اللہ کے احکام کو تمسخر اور ٹھٹھا نہ بناؤ۔
ابوالدرداء ؓ سے مروی ہے کہ پہلے لوگوں کی حالت یہ تھی کہ اول طلاق دے دیتے اور پھر یہ کہتے کہ ہم نے تو مذاق کیا تھا اور اسی طرح غلام اور لونڈی کو آزاد کردیتے اور پھر کہتے کہ ہم نے تو مذاق کیا تھا اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، ولاتتخذوا آیت اللہ ھزوا۔ اور حدیث شریف میں ہے تین چیزیں ایسی ہیں جن کا جد یعنی حقیقت تو حقیقت ہی ہے مگر ان کا ہزل یعنی انکا ہنسی اور مذاق کے طور پر کہنا بھی حقیقت کا حکم رکھتا ہے وہ تین چیزیں یہ ہیں، نکاح، طلاق، اور رجعت۔ یعنی ان چیزوں میں تمہارے الفاظ کا اعتبار ہے نیت کا اعتبار نہیں بندہ کے جن اعمال کا تعلق فقط اللہ سے ہو وہاں شریعت نے نیت کا اعتبار کیا ہے اور جو اعمال ایسے ہیں جن کا تعلق حوق العباد سے ہے وہاں الفاظ کی لفظی دلالت کا اعتبار ہے نیت کا اعتبار نہیں طلاق اور رجعت بھی اسی قبیل سے ہے طلاق اور رجعت میں الفاظ کا اعتبار ہوگا نیت کا اعتبار نہ ہوگا اس لیے کہ اگر معاملات اور معاشرات میں ظاہر الفاظ کے خلاف نیت کا اعتبار کیا جائے تو دوسروں کے حقوق پر اس کا اثر پڑتا ہے اور ظاہر ہے کہ معاشرات اور معاملات میں اگر الفآظ کی دلالت کا اعتبارنہ ہو اور لوگوں کی نیت کے مطابق فیصلے ہونے لگیں تو کارخانہ عالم درہم برہم ہوجائے خود غرض لوگ طلاقیں دیں گے اور پھر عورتوں کو کو روکنے کے لیے اپنی نیتوں کا بہانہ بنائیں گے اور اسی طرح عورتوں کو اپنے ظلم وستم کانشانہ بنائیں گ اور اللہ کی نعمت کی یاد کرو کہ اس نے تم پر احسان کیا کہ کہ تم کو عورتوں پر حاکم بنایا اور اگر وہ چاہتا تو تم کو عورتوں کے ہاتھ تلے کردیتا اور پھر وہ بھی اسی طرح تمہارے ستانے پر قادر ہوتیں اس لیے کہ تم کو چاہیے کہ اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو اور اس کی نعمت کو یاد کرو کہ اس نے تم پر کتاب اور حکمت کو اتارا یعنی قرآن کریم اور سنت نبوی تم کو عطا کی تاکہ تم اپنے علم اور عمل کی اصلاح کرو اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ کتاب وسنت کے مقتضی پر چلو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور یقین رکھو کہ اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے طلاق اور رجعت سے جو نیت بھی کرو گے وہ اس سے مخفی نہیں۔
Ayah 2:232حکم بست وہشتم۔ منع از اضرار نساء بعد از عدت۔
قال تعالی، واذا طلقتم النساء فبلغن۔۔۔ الی۔۔ تعلمون۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں اندرون عدت ضرر پہنچانے کی ممانعت کا بیان تھا اس آیت میں عدت گزرنے کے بعد ضرر پہنچانے کی ممانعت کا بیان ہے کہ عدت گزرنے کے بعد عورتوں کو نکاح سے نہ روکو چناچہ فرماتے ہیں کہ اور جب تم یعنی تمہارا کوئی عزیزعورتوں کو طلاق دے دے اور پھر وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں یعنی ان کی عدت پوری ہوجائے اور پھر وہ اپنے سابق شوہر سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنا چاہیں تو اتم ان کو اپنے پہلے شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ رکو جب کہ وہ شریعت اور مروت کے دستور کے مطابق نکاح کرنے پر باہم رضامند ہوجائیں البتہ اگر عورت غیر کفو میں نکاح کرنے لگے یاعدت کے اندر کسی دوسرے سے نکاح کرنے لگے تو پھر خویش اوراقارب کو ایسے نکاح سے روکنے کا حق حاصل ہے۔ یہ آیت معقل بن یسار کے بارے میں نازل ہوئی معقل نے اپنی بہن کا ایک شخص سے نکاح کردیا تھا بعد چندے اس شخص نے ان کی بہن کو طلاق دے دی عدت گزرنے پر پھر اسی شخص نے پیغام دیا معقل نے کہا میں نے پہلے تم سے اپنی بہن کا نکاح کیا اور تمہارا گھر بسایا مگر تم نے اس کو طلاق دے دی اور اب پھر پیغام لے کر آئے ہو خدا کی قسم اب وہ تمہارے گھر ہرگز نہیں رہ سکتی معقل کہتے ہیں کہ وہ آدمی کچھ برا نہ تھا اور میری بہن بھی اس کے یہاں جانا چاہتی تھی اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، فلاتعضلوھن۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نے حضور پرنور سے عرض کیا یارسول اللہ خدا کی قسم میں ضرور اس سے نکاح کروں گا اور پھر میں نے اسی شخص سے اپنی بہن کا نکاح کردیا یہ نصیحت اس شخص کو کی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو نصیحت اسی کو فائدہ دیتی ہے جسے خدا کا خوف ہو اور آخرت کا یقین ہو اور خوب سمجھ لو کہ یہ جو کچھ تم کو نصیحت اور ہدایت کی گئی یہی تمہارے لیے خیر اور برکت اور طہارت اور نزاہت کا ذریعہ ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ عورتوں کو نکاح سے روکنے میں کیا مضرتیں اور کیا خرابیاں ہیں اور تم پیش آنے والے مفاسد کو نہیں جانتے اگر باوجود باہمی رضامندی اور رغبت کے تم نے عورتوں کو نکاح سے روکا تو شیطان طرفین کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسے ڈالے اور اسی طرح سے دلوں کی طہارت اور نزاہت کو مکدر کرے گا اور عجب نہیں کہ نکاح سے روکنا خود اہل خانہ سے ناجائز تعلقات کا ذریعہ نہ بن جائے، ذالکم ازکی لکم کے یہ معنی ہیں خوب سمجھ لو۔
Ayah 2:233حکم بست ونہم۔ متعلق بہ رضاع۔
قال تعالی، والوالدات یرضعن اولادھن۔۔۔ الی۔۔ بصیر۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں عورتوں کے احکام بیان فرمائے تھے اور عدت اور رجعت کے احکام کا ذکر تھا اب ان آیات میں بچوں کے احکام بیان فرماتے ہیں یعنی رضاعت کی مدت اور اس کی اجرت کے احکام بیان فرماتے ہیں کہ بچہ والی عورتوں کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو کامل دو سال تک دودھ پلائیں اگرچہ ان کے شوہروں نے ان کو طلاق دے دی ہو اور یہ مدت اس کے لیے ہے جو شیرخوارگی کو مکمل کرنا چاہے اور جو مدت رضاعت کو پورا کرنا نہ چاہے تو اس کو اختیار ہے کہ دو سال سے پہلے ہی دودھ چھڑا لے اور باپ پر جس کے لیے دراصل یہ بچہ پیدا کیا گیا ہے کیونکہ بچہ باعتبار نسب کے باپ ہی کی طرف منسوب ہوتا ہے ان دودھ پلانے والیوں کو کھانا اور پہنانا دستور کے مطابق واجب ہے اللہ کی طرف سے کسی نفس کو کسی حکم کا مکلف نہیں بنایا جاتا مگر اس کی طاقت اور گنجائش کے موافق لہذا ماں کو بچہ کی وجہ سے کوئی ضرر اور نقصان نہ پہنچایاجائے اور علی ہذا باپ کو لڑکے کی وجہ سے کوئی تکلیف نہ دی جائے یعنی طلاق ہوجانے کے بعد ماں کو یہ نہ چاہیے کہ دودھ پلانے میں نخرے کرے اور شوہر سے نفقہ اور اجرت دستور سے زیادہ مانگے یا بچہ کی خبر گیری میں کمی کرے اور علی ہذا باپ کو یہ نہ چاہیے کہ ضد میں بجائے ماں کے کسی آنا سے دودھ پلوائے اور اس کو تو اجرت دے مگر ماں کو دودھ پلانے کی اجرت نہ دے یا ماں کی اجرت میں کمی کرے۔ غرض یہ کہ دودھ پلانے کی خرچہ باپ کے ذمہ ہے اور اگر اپ زندہ نہ ہوں تو پھر اسی طرح کا خرچ وارث کے ذمہ ہے وارث کی تفسیر میں اختلاف ہے امام ابوحنیفہ کے نزدیک وارث سے ذی رحم محرم مراد ہے اس لیے کہ عبداللہ بن مسعود کی قرات میں وعلی الوارث ذی الرحم والمحرم مثل ذالک۔ ایا ہے اور ایک قرات دوسری قرات کی مفسر ہوتی ہے یعنی وارث سے وہ ذی الرحم محرم مراد ہے کہ اگر بچہ مرجائے تو یہ اس کا وارث بنے بقدر میراث کے سب پر خرچ لازم ہوگا مثلا اگر ذی رحم محرم دوبھائی یا دو بہنیں ہیں تو دونوں سے نصف نصف لیاجائے گا اور اگر ایک بھائی اور ایک بہن ہے تو بھائی سے دو ثلث اور بہن سے ایک ثلت لیاجائے گا اور وارثوں پر خرچہ اس صورت میں ہے کہ خود بچہ کے پاس مال نہ ہو ورنہ اگر بچہ کے پاس مال ہے تو پھر تمام خرچ اسی کے مال سے دیا جائے گا اور امام مالک اور امام شافعی فرماتے ہیں کہ وارث سے خود وہ لڑکا ہی مراد ہے جو اپنے متوفی باپ کا وارث ہے اس کے دودھ پلانے کی اجرت اسی کے مال میں سے لی جائے گی اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو پھر ماں کے ذمہ ہے اور بچہ کے خرچہ کے لیے سوائے والدین کے کسی پر جبر نہیں کیا جاسکتا پس اگر ماں باپ باہمی رضامندی اور مشورہ سے دو برس پہلے ہی دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر اس بارے میں کوئی گناہ نہیں اور گر تم کسی ضرورت یا مصلحت کی وجہ سے یہ ارادہ کرو کہ اپنے بچوں کو بجائے ماں کے کسی دایہ کادودھ پلوانا چاہوبشرطی کہ تم حوالہ اور سپر کر دو جو کچھ تم نے دینا مقرر کیا تھا دستور کے موافق یعنی دودھ پلانے والی کا حق پورا دے دینا اس میں سے کچھ کمی نہ کرنا کسی کا حق مارنا کاٹنا بہت بری بات ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ جو احکام ماؤں اور دودھ پلانے والیوں کے متعلق دیے گئے ہیں اس کی خلاف ورزی نہ ہو اور اس بات کو پیش نظر رکھو کہ تحقیق اللہ تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے کہ طلاق دے دینے کے بعد ماں سے دودھ پلوانے میں یا ماں کے ہوتے ہوئے کسی اناّسے دودھ پلوانے میں کوئی نفسانی غرض تو شامل نہیں کوئی دیکھے یا نہ دیکھے مگر اللہ تعالیٰ تمہارے دل کے خیالات اور نفس کے خطرات کو بھی دیکھتا ہے۔
1) ۔ طلاق کے بعد اکثر وبیشتر میاں اور بیوی کے درمیان ایک قسم کی عداوت اور منافرت پیدا ہوجاتی ہے خاص کر جب کہ طلاق ایسی حالت میں ہو کہ گود میں شیر خوار بچہ بھی ہو تو یہ باہمی منافرت اور کدورت ایک قسم کی مخاصمت اور منازعت کا سبب بن جاتی ہے اور پہلے شوہر کو بچہ کی پرورش میں عجب دشواری پیش آتی ہے کبھی مرد یہ چاہتا ہے کہ بچہ کو ماں سے چھین کر کسی اور عورت سے دودھ پلوائے اور اسی طرح بیچاری ماں کو فراق میں تڑپائے اور کبھی عورت بچہ کو دودھ پلانے سے اس لیے انکار کرتی ہے کہ ظاہر میں کوئی اور دودھ پلانے والی موجود نہیں پہلا شوہر مجبور ہو کر میری خوشامد کرے گا اور جو معاوضہ مانگوں گی وہ مجبورا مجھ کو دے گا اور اللہ نے اس بارے میں فیصلہ فرمادیا کہ مائیں دو برس تک بچہ کو دودھ پلائیں اور باپ کے ذمہ اس کے معاوضہ میں اس کا کھانا اور پہنانا واجب ہوگا ایک دوسرے کو ضرر اور نقصان پہنچانے کا ارادہ نہ کرے اور نہ کسی کا حق کاٹے۔
2) ۔ مدت رضاعت جمہور کے نزدیک دو سال ہیں اور امام اعظم کے نزدیک ڈھائی سال یعنی تیس مہینے ہیں جیسا کہ، حملہ وفصالہ ثلاثون شھرا۔ میں مذکور ہے تفصیل فقہ کی کتابوں میں دیکھی جائے۔
3) ۔ یہ آیت اگرچہ مطلقہ عورتوں کے بارے میں نازل ہوئی مگر بیوی بھی اس حکم میں داخل ہے اور اگر بچہ کو دودھ پلانے کی وجہ سے بیوی کو کچھ دیا جائے تو حق زوجیت اس کے لیے مانع نہیں۔
4) ۔ ماں اگر معذور ہو تو دیانۃ اس کے ذمہ بچہ کو دودھ پلانا واجب ہے اور منکوحہ کے لیے یا اس مطلقہ کے لیے جو ابھی عدت میں ہو اجرت لینا جائز نہیں البتہ عدت گزرنے کے بعد اجرت دینا واجب ہوگی۔
5) ۔ ماں کادودھ اگر بچہ کے لیے مضر ہو تو ایسی صورت میں کسی اور عورت سے دودھ پلوانے میں کوئی حرج نہیں۔
Ayah 2:234حکم سی ام۔ عدت وفات زوج۔
قال تعالی، والذین یتوفون منکم ویذرون۔۔۔ الی۔۔ خبیر۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں عدت حیات یعنی عدت طلاق کو بیان فرمایا اور اسی کے ساتھ اثناء عدت میں مدت رضاعت اور اجرت رضاعت کا حکم بیان فرمایا اب ان آیات میں عدت حیات کے بعد عدت وفات کو بیان فرماتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ عدت وفات اور عدت حیات الگ الگ ہیں اور جو لوگ تم میں سے اپنی عمر کو پوری کرکے دنیا سے چلے جائیں اور بیبیوں کو دنیا میں چھوڑ جائیں تو ان کو چاہیے کہ چار مہینے اور دس دن اپنے آپ کو نکاح سے روکے رکھیں جب تک یہ مدت نہ گزر جائے کہیں نکاح نہ کریں پس جبکہ وہ اپنی مدت اور عدت پوری کرلیں تو اے وارثان میت تم پر اب کوئی گناہ نہیں اس کام میں جو وہ اپنی ذات کے لیے دستور کے مطابق کریں اب ان کو زینت کرنے کی اور نکاح کرنے کی اجازت ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے اگر تم نے کسی امر مشروع پر انکو ملامت کی یا ان کی کسی بات میں ہارج اور مزاحم ہوئے تو اللہ تم کو اسی کی سزا دے گا۔
1) ۔ یہ عدت اس بیوہ کی ہے جو حاملہ نہ ہو اس لیے کہ حاملہ کی عدت وضع حمل یعنی ولادت ہے، کماقال تعالی، واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن۔
2) ۔ آئندہ ایک آیت میں آئے گا کہ عدت وفات ایک سال ہے وہ حکم پہلے تھا جو اس آیت سے منسوخ ہوگیا یہ آیت اگرچہ تلاوت کے اعتبار سے مقدم ہے مگر نزول کے اعتبار سے موخر ہے۔
3) ۔ شریعت نے عدت کا حکم پہلے نکاح کی عزت و حرمت اور نسب اور حمل کی حفاظت کے لیے دیا ہے۔
Ayah 2:235حکم سی ویکم۔ متعلق پیغام نکاح دراثناعدت۔
قال تعالی، ولاجناح علیکم فیما عرضتم بہ۔۔۔ الی۔۔۔ حلیم۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں عدت کے بعد نکاح کی اجازت مذکور تھی اس آیت میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ عدت کے اندر اندر نکاح کا وعدہ اور نکاح کا صریح پیغام تو جائز نہیں البتہ نکاح کا اشارہ اور کنایہ جائز ہے اس لیے کہ کسی کے مرتے ہی اس کی بیوہ سے نکاح کا پیغام دینا بےمروتی ہے گویا کہ پیغام دینے والا اس کی موت کا منتظر ہی تھا خصوصا جب کہ بیوہ صاحب کمال اور صاحب جمال بھی ہو تو پیغام والے اور بھی جلدی کرتے ہیں اور علی ہذا عدت کے اندر عورت کا نکاح کے متعلق گفتگو کرنا بےوفائی پر دلالت کرتا ہے کہ پہلے شوہر کے مرتے ہی اس کے حق رفاقت کو بھول گئی اور سابق نکاح کی عزت اور حرمت کا کوئی لحاظ نہ کیا کہ جس کے گھر میں عدت گذار رہی ہے اور جس کی میراث تقسیم کر ارہی ہے اس کے مرتے ہی نکاح کی بات چیت کررہی ہے گویا کہ یہ بےوفا عورت اپنے شوہر کے مرنے کی ہی منتظر تھی اس لیے ان آیات میں اس کی بابت حکم فرمایا اور جسطرح عدت کے بعد نکاح کرنے میں کوئی گناہ نہیں اسی طرح تم پر اس بارے میں بھی کوئی گناہ نہیں کہ عدت وفات کے اندر عورتوں کے پیغام کے متعلق بطور تعریض اور کنایہ کچھ اشارہ کرو۔ مثلا یہ کہو کہ مجھے ایک نیک عورت کی ضرورت ہے یا نکاح کے خیال کو بالکل دل میں مضمر رکھو اور کسی طرح اس کا ذکر نہ کرو نہ صراحۃ اور نہ تعریضا اور نہ کنایۃ اس کی طرف کوئی اشارہ کرو الہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کہ تم عدت کے بعد ان سے صراحۃ اس کا ذکر کرو گے اور بغیر ذکر کے تم صبر نہ کرسکو گے اس لیے تم کو تعریض اور کنایہ کی اجازت دے دی اشارہ اس طرف ہے کہ اگر یہ بھی بہتر نہ ہو تو بہتر ہے یہ بھی ایک قسم کا عتاب ہے لیکن تم کو چاہیے کہ اجازت سے آگے نہ بڑھو یعنی عدت کے اندر ایک دوسرے سے مخفی طور پر نکاح کا صریح وعدہ نہ کرلو کہ عدت کے بعد ضرور نکاح کرلیں گے مگر اتنی بات کہو کہ جو قانون شرعی کے مطابق ہو یعنی بطور تعریض اور کنایہ کچھ کہہ سکتے ہو صراحۃ کہنے کی اجازت نہیں اور جب تک عدت اپنی پوری مدت تک نہ پہنچ جائے اس وقت تک عقد نکاح کا عزم مصمم بھی نہ کرو یعنی یہ ارادہ اور عزم کہ عدت گزرنے کے بعد ضرور نکاح کریں گے یہ بھی ممنوع ہے بسا اوقات عز کرلینے کے بعد صبر نہیں ہوتا اور عدت کے اندر ہی نکاح کر بیٹھتا ہے اور اسلیے بطور سد ذرائع اس ارادہ کی بھی ممانعت کردی گئی اگرچہ یہ ممانعت تحریم کے درجہ میں نہیں بلکہ تنزیہ کے درجہ میں ہے جیسے ولاتقربوالزنا میں زنا کے قریب جانے کی ممانعت فرمائی اور حدیث میں ہے کہ جو چراگاہ کے گرد گھومتا ہے عجب نہیں کہ وہ کسی وقت چراگاہ کے اندر گھس بھی جائے اور یقین رکھو کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں عدت کے اندر نکاح کا میلان چھپا ہوا ہے بس اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور جانو کہ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا ہے کہ میلان اور رغبت پر مواخذہ نہیں فرماتا اور جو قصدا ارادہ کے بعد اللہ کے خوف کی وجہ سے نہ کرے اس کو معاف کردیتا ہے اور بڑا تحمل والا ہے کہ خلاف حکم کرنے والوں پر مواخذہ میں جلدی نہیں کرتا۔
Ayahs 2:236–237حکم سی ودوم۔ بابت مہر۔
قال تعالی، لاجناح علیکم ان طلقتم النساء مالم تمسوھن۔۔۔ الی۔۔ بصیر۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں عدت کے اعتبار سے مطلقہ کے احکام مذکور ہوئے اب اس آیت میں مطلقہ کے احکام باعتبار لزوم مہر کے ذکر کرتے ہیں اور اس لیے کہ جن عورتوں کو طلاق دی جاتی ہے ان کی چار قسمیں ہیں ایک یہ کہ نکاح کے وقت مہر معین ہوا تھا اور پھر خلوت کے بعد ان کو طلاق دی گئی تو اس صورت میں شوہر کو تمام مہردینا ہوگا جو نکاح کے وقت مقرر ہوا تھا دوم یہ کہ مہر تو معین ہوا تھا مگر خلوت سے پہلے ہی طلاق دے دی تو اس صورت میں شوہر کو آدھا مہر دینا لازم ہوگا سوم یہ کہ نہ مہر معین ہوا اور نہ خلوت کی نوبت آئی تھی خلوت سے پہلے ہی طلاق دے دی تھی اس صورت میں مہر نہیں بلکہ دستور کے مطابق خرچہ اور جوڑا دینا پڑیگا، چہارم، یہ کہ مہر تو مقرر نہ ہوا تھا مگر خلوت یاصحبت کے بعد طلاق دی ایسی صور تمہیں مہر مثل دینا پڑے گا یعنی اس خاندان کی عورتوں کا جو مہر رائج ہے وہ دینا پڑے گا چناچہ فرماتے ہیں تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم عورتوں کو ایسے وقت میں طلاق دے دو کہ ابھی تک تم نے ان کو چھوا اور ہاتھ تک نہیں لگایا اور نہ ان کے لیے تم نے نکاح کے وقت کوئی مہر مقرر کیا ایسی حالت میں اگر تم ان کو طلاق دے دو تو نہ تو کوئی گناہ ہے اور نہ تم سے کوئی مہر کا مطالبہ ہے اور البتہ اس سے جدائی اور مفارقت کے وقت ان کو کچھ نفع اور فائدہ پہنچادو یعنی پہننے کا کوئی جوڑا اور کچھ خرچہ دے دو ، وسعت والے پر اس کی حیثیت کے مطابق ہے اور تنگ دست پر اس کی حالت کے بقدر واجب ہے اور یہ فائدہ پہنچانا خوش خوئی اور خوبصورتی کے ساتھ چاہیے حاکم کی زبردستی سے نہ ہو فائدہ پہنچانا نیکوکاروں پر ھق واجب ہے جن کی نظر اللہ پر رہتی ہے وہ خلق خدا کی نفع پہنچانے میں دریغ نہیں کرتے امام ابوحنیفہ اور امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک یہ جوڑا دینا واجب ہے اور قائم مقام مہر کے ہے جیسا کہ صیغہ امر اور الفظ علی اور حقا سے وجوب ظاہر ہوتا ہے اور امام مالک کے نزدیک یہ امر استحبابی ہے واجب نہیں اور اگر تم عورتوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دو دراں حالیکہ تم ان کے لیے مہر مقرر کرچکے تھے تو ایسی صورت میں تم کو اس مہر کا نصف دینا پڑے گا جو تم نے نکاح کے وقت ٹھہرایا تھا اور نصف تم سے معاف ہوجائے گا مگر دو صورتیں اس حکم سے مستثنی ہیں ایک یہ دورتیں اپنا حق نصف مہر معاف کردیں اور شوہر سے کچھ نہ لیں یا یہ کہ مرد جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے وہ اپنا حق معاف کردے یعنی بجائے نصف مہر دینے کے پورا مہر دے دے اور اگر شوہر پورا مہر دے چکا ہے تو نصف مہر عورت سے واپس نہ لے اور تمہارا اپنے اپنے حق کو معاف کردینا تقوی اور پرہیزگاری کے بہت ہی قریب ہے یہ خطاب مردوں اور عورتوں دونوں کو ہے اور تم باہمی احسان اور نی کوئی کو نہ بھولو، ہر ایک کو چاہیے کہ اس کی کوشش کرے کہ فضل اور احسان میرے ہاتھ سے سرزد ہو دوسرے کے احسان پر نظر کرنا فضل اور فضیلت کے خلاف ہے تحقیق اللہ تمہارے اعمال کو دیکھنے والے ہیں وہ اس کو بھی دیکھتے ہیں کہ کہ کون احسان کی طرف سبقت کرتا ہے اور کون دوسروں کے احسان کی طرف نظر کرتا ہے۔
فائدہ) ۔ چار صورتیں جن کا پہلے ذکر ہوچکا ہے ان آیات میں صرف دو کا حکم مذکور ہے ایک یہ کہ مہر نہیں ٹھہرا تھا اور ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دی اور دوسرے یہ کہ مہر تو ٹھہرا تھا مگر طلاق ہاتھ لگانے سے پہلے ہی دے دی اور دو صورتیں باقی رہ گئیں جن کا حکم ان آیات میں ذکر نہیں کیا گیا ایک یہ کہ مہر مقرر ہوا تھا اور ہاتھ لگانے کے بعد طلاق دی تو پورا مہرلازم ہوگا یہ حکم سورة نساء میں مذکور ہے دوسرے یہ کہ مہر نہیں ٹھہرا تھا اور ہاتھ لگانے کے بعد طلاق دی تو اس صورت میں مہر مثل دینا پڑے گا یعنی اس عورت کے خاندان میں جو رواج ہے اس کے مطابق مہر دینا ہوگا۔
Ayahs 2:238–239حکم سی وسوم۔ محافظت صلوات عموما وصلوۃ وسطی خصوصا۔
قال تعالی، حافظوا علی الصلوات۔۔۔ الی۔۔۔ تعلمون۔
ربط) ۔ دور سے سلسلہ کلام، احکام معاشرت کے بارے میں چل رہا ہے اس کے ضمن میں محافظت صلوۃ کا حکم اس لیے ذکر کیا کہ اکثر وبیشتر اہل و عیال میں مشغولی نماز اور نیاز سے غفلت کا باعث ہوتی ہے کماقال تعالی، یا ایھا الذین امنوا لاتلھکم اموالکم۔۔۔ الی۔۔ الخاسرون۔
اے ایمان والو مال اور اہل و عیال کا تعلق تم کو خدا کی عبادت اور بندگی سے غافل نہ کرے اور جو ایسا کریں گے وہ خاسرین میں سے ہوں گے۔ وقال تعالی، انما اموالکم والادکم فتنہ۔ انما اموالکم را یاد گیر، مال وملک ایں جہاں برباد گیر۔ یا یوں کہو کہ گزشتہ آیات میں حقوق العباد کا ذکر تھا اس آیت میں اللہ کے حق کا ذکر ہے یا یوں کہو کہ گزشتہ آیت میں یعنی لاتنسوالفضل بینکم۔ میں یہ حکم تھا کہ باہمی سلوک اور احسان کو فراموش نہ کرو اور اس آیت میں اشارۃ یہ حکم ہے کہ اپنے نفس کو سلوک اور احسان سے نہ بھولو جس نے نماز ادا کی اس نے اپنے نفس پر احسان کیا اور جس نے نماز سے غفلت برتی اس نے اپنے نفس کو فراموش کیا کہ آخرت کے منافع سے اس کو محروم کیا۔ یا یوں کہو کہ گزشتہ آیات میں طلاق کی اجازت مذکور تھی اور احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ طلاق اگرچہ بوجہ ضرورت شرعا جائز ہے مگر اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ہے اور ایک ناپسندیدہ امر کے ضمن میں کتنے ناپسندیدہ امور کا ارتکاب ہوجاتا ہے وہ اللہ ہی کے علم میں ہے اس لیے آئندہ آیت میں نماز کا حکم نازل کیا تاکہ نماز کی محافظت ناپسندیدہ امور کے ارتکاب کا کفارہ بن سکے کماقال تعالی، ان الحسنات یذھبن السیئات۔ بیشک نیک اعمال مٹا دیتے ہیں برے کاموں کو۔ نماز دین کا ستون ہے گناہوں کو مٹاتی ہے اور دلوں کے زندگ کو کھرچتی ہے اہل و عیال کی ملابست سے جو دلوں پر میل کچیل آجاتا ہے وہ نماز کی محافظت سے صاف ہوجاتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ دن میں پانچ نمازوں کا ادا کرنا ایسا ہے جیسا کہ کسی کے دروازہ کے آگے نہر بہتی ہو اور وہ ہر روز میں پانچ مرتبہ غسل کرے کیا اس کے بدن پر کچھ میل باقی رہے گا یعنی سر اور بدن پر پانی بہالینے سے بھی غسل ہوجاتا ہے لیکن غسل کا اعلی درجہ یہ ہے کہ بجائے اپنے اوپر پانی بہانے کے خود نہر کے اندر گھس جائے کہ جس کا پانی تیزی سے بہہ رہا ہو ایسی نہر میں جس کا پانی نہایت تیزی کے ساتھ چل رہا ہو غسل کرلینے سے میل باقی نہیں رہ سکتا چناچہ فرماتے ہیں اور تمام نمازوں کو اپنے وقتوں پر ادا کرو خصوصا درمیانی نماز یعنی عصر کی نماز اور نماز کے ارکان اور واجبات اور سنن اور آداب کا پورا لحاظ رکھو تم نماز کی حفاظت کرو نماز تمہاری حفاظت کرے گی اسی وجہ سے حافظوا باب مفاعلہ کا صیغہ لایا گیا کہ جو مشارکت پر دلالت کرتا ہے جس درجہ تم نماز کی حفاظت اور خبرگیری کرو گے اسی درجہ نماز تمہاری حفاظت کرے گی اور کھڑے رہو اللہ کے سامنے نہایت ادب اور احترام کے ساتھ نماز میں نہایت خاموشی کھڑے رہو کسی سے کوئی بات نہ کرو نگاہ نیچی رکھو ادھر ادھر نہ دیکھو دنیاوی خیالات سے قلب کو محفوظ رکھو زید بن ارقم ؓ سے مروی ہے کہ ہم ابتداء میں نبی کریم کے پیچھے نماز میں بات چیت بھی کرلیتے تھے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی وقومو اللہ قانتین۔ تو ہم کو خاموش رہنے کا حکم ہوگیا اور نماز میں باتین کرنے سے ہم کو منع کردیا گیا اس لیے کہ نماز کی حقیقت مناجات خداوندی ہے آپس میں باتیں کرنے سے اللہ تعالیٰ سے مناجات باقی نہیں رہ سکتی حدیث شریف میں آتا ہے کہ نبی نے فرمایا جو شخص میری طرح وضو کرے اور پھر دو رکعت نماز اس طرح ادا کرے کہ اس نماز میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کردیے جائیں گے (بخاری شریف) ۔ معلوم ہوا کہ نماز تو وہ ہے کہ جس میں دل سے بھی باتیں نہ ہوں چہ جائیکہ زبان سے باتیں اور آنکھوں سے اشارے ہوں پس اگر تم کو کسی دشمن وغیرہ کا خوف ہو جس کی وجہ سے تم نماز کے آداب اور سنن کی پوری حفاظت نہ کرسکو تو پھر جس طرح بھی ممکن ہو پیادہ یا سوار نماز پڑھ لو اور اس طرح اصل نما کی حفاظت کرلو اگرچہ اس خوف کی حالت میں رکوع اور سجود اور خشوع اور خضوع اور استقبال قبلہ کی پوری رعایت اور حفاظت نہ کرسکو تو پھ رجب تم کو امن اور سکون حاصل ہوجائے تو اللہ کو پورے سکون اور اطمینان اور آداب کے ساتھ یاد کرو جس طرح اس نے تم کو اپنی بندگی اور یاد کے طریقے سکھلائے ہیں جو تم نہیں جانتے تھے خوف کی حالت مجبوری کی حالت ہے اس لیے اللہ نے اس حالت میں بغیر رکوع و سجود کے اشارہ سے نماز کی اجازت دے دی ہے اگرچہ تمہارا منہ بھی قبلہ کی طرف نہ ہو۔
1) ۔ صلوۃ وسطی کی تعین میں اقوال مختلف ہیں بعض کہتے ہیں کہ نماز صبح مراد ہے جو رات کی نماز یعنی عشاء اور دن کی نماز یعنی ظہر کے درمیان ہے ابوقبیصہ بن زویب کہتے ہیں کہ صلوۃ وسطی سے مغرب کی نماز مراد ہے کیونکہ یہ نماز ثلاثی ہے تین رکعت والی ہے ثنائی اور رباعی کے درمیان ہے پانچ نمازوں میں سے ایک نماز بلاتعیین کے صلوۃ وسطی ہے اسم اعظم اور شب قدر اور ساعت جمعہ کی طرح اللہ تعالیٰ نے اس کو پوشیدہ رکھا ہے جمہور علماء کے نزدیک صلوۃ واسطی سے عصر کی نماز مراد ہے اور بہت سی احادیث صحیحہ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے اور یہی امام ابوحنیفہ کے نزدیک مختار ہے۔
2) ۔ عصر کی تخصیص تاکید اور اہتمام کے لیے کی گئی ہے کیونکہ یہ وقت لوگوں کے بازاروں میں مشغول رہنے کا ہے اس لیے اندیشہ ہے کہ یہ نماز فوت نہ ہوجائے یا بغیر جماعت کے ادا کی جائے یا تاخیر سے پڑھی جائے۔
3) ۔ امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک خوف کی حالت میں نماز پیروں پر کھڑے ہو کریاسواری پر جائز ہے مگر چلتے چلتے نماز جائز نہیں اس لیے کہ رجالا راجل کی جمع ہے اور راجل کے معنی لغت میں چلنے والے کے نہیں بلکہ لغت میں راجل پیروں پر کھڑے ہونے والے کو کہتے ہیں اور اس آیت میں راجل کو مقابلہ میں راکب کے ذکر کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ راجل سے مراد وہ شخص ہے کہ جو سوار نہ ہو امام شافعی کے نزدیک اگر دشمن کا خوف شدیدہو تو چلتے چلتے بھی نماز درست ہے جس طرح بن پڑے نماز پڑھ لے امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اگر خوف اتنا شدید ہے کہ ایک جگہ کھڑے ہو کر نماز ادا نہیں کرسکتا تو پھر نماز کو موخر کرے جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے غزوہ خندق میں نماز کو موخر کردیا اور چلتے چلتے نمازیں نہیں پڑھیں۔
Ayahs 2:240–242حکم سی وچہارم۔ وصیت برائے سکونت بیوہ۔
قال تعالی، والذین یتوفون منکم ویذرون۔۔۔ الی۔۔۔ عزیز حکیم۔
ربط) ۔ احکام معاشرت کے ضمن میں محافظت صلوات پر متنبہ فرمایا اب اس تنبیہ کے بعد پھر کچھ احکام بیان فرماتے ہیں گزشتہ آیات میں مطلقات کے متعہ کا ذکر تھا اب اس آیت میں بیوہ کے متعہ کے ذکر ہے اور جو لوگ تم میں سے اپنی عمر پوری کرکے دار دنیا سے دارآخرت کی طرف انتقال کرجائیں اور عورتوں کو دنیا میں چھوڑ جائیں تو ان پر یہ شرعا واجب ہے کہ وہ بیبیوں کے لیے ایک سال تک خرچ دینے کی وصیت کرجائیں اس طرح کہ وہ عورتیں انہیں کے مکان میں رہیں اور ایک سال تک ان کو نان نفقہ ملتا رہے بغیر اس کے کہ ان کو ایک سال کے اندر گھر سے نکال دیا جائے شوہر کو چاہیے کہ وصیت نامہ میں اس کی بھی تصریح کردے کہ ان عورتوں کو ایک سال تک گھر سے نہ نکالاجائے پھر اگر وہ عورتیں ایک سال پورا کیے بغیر ہی چارہ ماہ اور دس دن کے بعد یا وضع حمل کے بعد خود بخود ہی کسی ضرورت کی وجہ سے بغیر وارثوں کے نکالے ہوئے نکل جائیں تو اے وارثو اس چیز پر کہ جو یہ عورتیں شریعت کے دستور کے مطابق اپنے بارے میں کریں مثلا زیب وزینت کریں یا نکاح کریں تو تم کو منع کرنے کا کوئی حق نہیں البتہ ورثہ کو یہ حق ہے کہ گھر سے چلے جانے کے بعد عورت کا خرچ اگر بند کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں اور اللہ غالب ہے خلاف حکم کرنے والوں سے بدلہ لینے پر قادر ہے حکمت والا ہے مروت اور مصلحت کے مطابق حکم دیتا ہے۔
فائدہ) ۔ عورتوں کے لیے ایک سال کی وصیت کا حکم ابتداء اسلام میں تھا کہ جب وارثوں کے حصے مقرر نہ تھے اور آیت میراث ابھی نازل نہ ہوئی تھی بلکہ مردہ کے اختیار پر تھا کہ وہ جس قدر وارثوں کا دلوانا چاہتا اس کے مطابق وصیت کرجائے شروع اسلام میں والدین اوراقارب کا کوئی حصہ مقرر نہ تھا مرنے والے پر وصیت واجب تھی کماقال تعالی، کتب علیکم اذا حضر۔۔۔ الی۔۔ بالمعروف۔ اسی طرح مرنے والوں پر اپنی بیویوں کے لیے وصیت کرنا واجب تھا کہ وہ ایک سال تک ان کے مال میں سے کھانے پہننے کا فائدہ اٹھاتی رہیں اور چونکہ یہ حق عورت کا تھا اس لیے اس کو اختیار تھا کہ چاہے سال بھر شوہر کے گھر میں رہ کر ورثہ سے اپنا حق وصول کرے یا چار مہینہ اور دس دن پورے کرکے چلی جائے اور اپنا حق چھوڑ جائے عورت کے لیے اپنے اختیار سے چلاجانا جائز تھا مگر وارثوں کو گھر سے نکالنا جائز نہ تھا غرض یہ کہ اس آیت کی رو سے مرنے والوں پر اپنی بیویوں کے لیے ایک سال کے نفقہ اور سکنی کی وصیت واجب تھی بعد میں جب آیت میراث نازل ہوئی اور والدین اوراقارب اور بیوی کا حصہ میراث میں مقرر ہوگیا تو بیوی وغیرہ کے لیے وصیت کرنے کا حکم منسوخ ہوگیا اور نبی ﷺ نے اعلان فرمایا، آگاہ ہوجاؤ وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں۔ غرض یہ کہ شروع اسلام میں عورت کی عدت ایک سال تھی اور عورت کے لیے کوئی میراث نہ تھی صرف یہی ایک سال کانان نفقہ تھا آیت میراث کے نازل ہونے کے بعد نان ونفقہ کی وصیت کا حکم منسوخ ہوگیا اور آیت یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھر وعشرا سے جو پہلے گزر چکی ہے ایک سالہ عدت کا حکم منسوخ ہوگیا یہ آیت اگرچہ تلاوت میں مقدم ہے مگر نزول میں موخر ہے جیسا کہ آیت سیقول السفھاء، تلاوت میں مقدم ہے اور آیت قدنری تقلب وجھک فی السماء نزول میں مقدم ہے اور تلاوت موخر ہے۔ مجاہد کہتے ہیں کہ یہ آیت یعنی متاعا الی احول غیر اخراج محکم ہے منسوخ نہیں اصل عدت تو چار مہینے اور دس دین ہے اس عدت کا پورا کرنا واجب ہے اور لازم ہے اور ایک سال کی عدت کا حکم استحبابی اور اختیاری ہے چار ماہ اور دس دن کے بعد عورت کو اختیار ہے کہ چاہے سال بھر پورا کرے یا نہ کرے اس لیے کہ اس آیت سے عورت پر ایک سال کی عدت کا واجب ہونا مفہوم نہیں ہوتا بلکہ شوہرون پر ایک سال کی وصیت کا وجوب مفہوم ہوتا ہے کیونکہ اس آیت میں تربص کا ذکر نہیں کیا گیا جیسا کہ آیت عدت میں ہے اس آیت میں تو صرف وصیت کا ذکر ہے اور شوہروں کو حکم ہے کہ تم مرتے وقت بیویوں کے لیے ایک سال کی وصیت کرجاؤ اب ان کو اختیار ہے کہ چاہے اس وصیت کے موافق ایک سال تک رہیں اور چاہیں تو چار مہینہ اور دس دن پورے کرکے چلی جائیں پس مجاہد کے اس قول پر عدت کی دو میعادیں ہوگئیں ایک ضروری اور حتمی جو اقل میعاد ہے یعنی چار مہینہ اور دس دن اور دوسری اختیاری میعاد جو زائد اور اکثر ہے یعنی ایک سال لہذا اس صورت میں نہ اس آیت کو منسوخ ماننے کی ضرورت ہے اور نہ اس آیت کو اربعۃ اشھر وعشرا والی آیت سے نزول میں مقدم ماننے کی ضرورت ہے اور نہ اس آیت کو اربعۃ اشھر وعشرا والی آیت سے نزول میں مقدم ماننے کی ضرورت ہے اس لیے کہ جب دو آیتوں کو دو حالتوں پر محمول کرلیا تو تعارض ہی نہ رہا تو پھر نسخ کی کیا ضرورت رہی امام قرطبی فرماتے ہیں کہ ابتداء اسلام میں عدت ایک سال تھی جو بعد میں چار مہینہ اور دس دن کی آیت سے منسوخ ہوئی اور احادیث صحیحہ سے بھی یہی ثابت ہے اور اسی پر تمام علماء اسلام کا اجماع ہے اور کسی امام اور فقیہ نے مجاہد کی موافقت نہیں کی اور صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین میں سے کسی سے مجاہد کے موافق منقول نہیں بلکہ ابن جریج نے مجاہد سے جمہور کے مطابق ایک قول نقل کیا ہے پس الحمدللہ کہ اجماع مکمل ہوا اور خلاف مرتفع ہوا (احکام القرآن للامام القرطبی ص 227 ص ج 3) ۔