2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعارف القرآن

Ayah 2:254

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader

اے ایمان والو جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے خرچ کرلو جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہو اور نہ دوستی اور سفارش ہوسکے اور کفر کرنے والے لوگ ظالم ہیں

ترغیبات وترہیبات دربارہ صدقات ونفقات قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا انفقوا۔۔۔ الی۔۔۔ الظالمون۔ ربط) ۔ دورکوع پیشتر اللہ جل شانہ نے دو حکم دیے ایک جہاد اور دوسرا اللہ تعالیٰ کو قرض دینے کا پہلے حکم کی تائید اور تقویت کے لیے طالوت اور جالوت کا قصہ ذکر فرمایا اب دوسرے حکم کی تائید اور تقویت کے لیے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیبات اور ترہیبات کو بیان فرمایا یہ بیان دور تک چلا گیا ہے۔ نیز گزشتہ آیت فمنھم من امن ومنھم من کفر۔ آیت۔ میں مکلفین کو دو قسموں پر منقسم فرمایا مومن اور کافر، اب اس آیت میں اہل ایمان کو اپنے خطاب سے عزت دی اور ان کو اہل ایمان کے لقب سے مخاطب فرمایا اے ایمان والو اس رزق میں سے جو ہم نے تم کو دیا ہے کچھ ہماری راہ میں بھی خرچ کرو قبل اس کے وہ دن آئے جس میں قصور کے تلافی کی کوئی سبیل نہیں یعنی مرنے سے پہلے اس لیے کہ قیامت میں نہ کوئی خرید فروخت ہے اور نہ کوئی ودستی کارآمد ہے اور نہ کوئی سفارش کارگر ہے اور کافر ہی ظالم ہیں کہ جان اور مال سب بےموقع صرف کررہے ہیں پس اے ایمان والو تم ان کافروں کی طرح اپنی جانوں اور مالوں پر ظلم نہ کرنا۔
Ayah 2:255

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 2:255 in the Quran reader

خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں زندہ ہمیشہ رہنے والا اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند جو کچھ آسمانوں اور زمین میں سے سب اسی کا ہے کون ہے کہ اسکی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کرسکے، جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز پر دسترس حاصل نہیں کرسکتے، ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے (اسی قدر معلوم کرا دیتا ہے) اسکی بادشاہی (اور علم) آسمان اور زمین سب پر حاوی ہے اور اسے ان کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں وہ بڑا عالی رتبہ اور جلیل القدر ہے

اثبات توحید ذات و کمال صفات۔ قال تعالی، اللہ لاالہ۔۔۔ الی۔۔ العظیم۔ گزشتہ رکوع کی آیت وانک لمن المرسلین میں اثبات رسالت کا ذکر تھا اور اس آیت میں اثبات توحید کا بیان ہے نیز ولو شاء اللہ مااقتتلوا۔ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت کا ذکر تھا اور اس بیان کا تھا کہ قیامت کے دن کوئی سفارش اور کوئی دوستی کام نہ آئے گی جس سے اللہ کی کبریائی اور عظمت مفہوم ہوتی ہے کہ اس کے سامنے کسی کو مجال دم زدن نہیں اسلیے اس آیت میں اللہ کی توحید ذات اور کمال صفات بیان فرماتے ہیں ہیں نیز گزشتہ آیت والکافرون ھم الظالمون میں کافروں کو ظالم بتلایا تھا اب اس آیت میں ان کے ظلم کی وجہ بیان فرماتے ہیں کہ کافر اور مشرک اس لیے ظالم ہیں کہ اللہ کے ساتھ شریک گردانتے ہیں اور صحیح عقیدہ توحید کو بیان فرماتے ہیں کہ اے مسلمانو تم کافروں کی طرح شرک کرکے ظالم نہ بنو بلکہ عقیدہ توحید کو حرز جان بناؤ چناچہ فرماتے ہیں اللہ وہ ذات ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں صرف وہی عبادت کا مستحق ہے استحقاق عبادت میں کوئی اس کا شریک اور سہیم نہیں اس لیے کہ صرف اللہ اپنی ذات سے خود بخود زندہ اور موجود ہے اس کی حیات اور بقاء ذاتی اور ابدی ہے اس کی حیات کی نہ کوئی ابتداء ہے اور نہ انتہاء اور اس کے سوا ہر چیز اپنی ذات سے مردہ اور معدوم ہے اور اس کی حیات مستعار کی ابتداء بھی ہے اور انتہاء بھی اس لیے کہ کوئی شے اپنی ذات سے قائم نہیں اللہ ہی ہر شے کا قائم رکھنے والا ہے ہر شے اپنی حیات اور بقا میں اور وجود میں اس کی محتاج ہے جیسے سایہ اپنی اصل کا محتاج ہوتا ہے ممکنات اپنے وجود اور بقاء میں اس سے کہیں زائد خدا کے محتاج ہیں ممکنات کی حیات اور وجود اسی واجب الوجود کی حیات کا ایک ادنی سا عکس اور پر تو ہے، کل ما فی الکون وھم اوخیال، او عکوس فی المرایا اوظلال۔ غرض یہ کہ اللہ تعالیٰ تمام عالم کا قائم رکھنے والا اور اس کی تدبیر کرنے والا ہے اور ایک لمحہ بھی تدبیر سے غافل نہیں اس لیے کہ اس کو اونگھ اور نیند نہیں پکڑتی اس لیے کہ نیند ایک قسم کا تغیر ہے جو وجوب کے منافی ہے اور حیات کو ضعیف اور کمزور بناتا ہے پس جس کو اونگھ اور نیند آئے گی اور اس کی حیات بھی ناقص اور کمزور ہوگی اور دوسروں کی تدبیر بی نہیں کرسکے گا کیونکہ نیند موت کی بہن ہے لہذا نیند کی وجہ سے اس کی حیات بھی ناقص ٹھہرے گی اور اس کی شان قیومت میں بھی قصور اور نقصان لازم آئے گا اور چونہ وہی سب کے وجود اور حیات کا قائم رکھنے والا ہے اور اس لیے ثابت ہوا کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ بھی ہے وہ سب اسی کی ملک ہے اوپر سے لے کر نیچے تک اسی کی حکومت اور بادشاہی ہے اس لیے کہ اصل مالک وہ ہے جو وجود اور حیات کا مالک ہو اور اس کی عظمت اور جلال اور شان کبریائی کا یہ عام ہے کہ اس کی بارگاہ عالی میں کسی کی مجال نہیں کہ بغیر اس کی اجازت کے کوئی سفارش کرسکے چہ جائیکہ کوئی اس کے حکم کو ہٹا سکے یا ٹلاسکے یہ تو اس کی عظمت اور جلال کا حال ہوا اور اسکے علم کی یہ شان ہے کہ وہی مخلوقات کے تمام اگلے اور پچھلے احوال کو خوب جانتا ہے تمام عقلاء عالم مل کر بھی معلومات خداوندی میں سے کسی ایک معمولی چیز کی علم اور ادراک کا بھی احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنی مقدار وہ تم کو علم دینا چاہتا ہے فقط اتنی مقدار تم اس چیز کو جان لیتے ہو اصل کنہ اور حقیقت کا علم اور اس کا علمی احاطہ وہ اللہ کے ساتھ مخصوص ہے۔ ومااوتیتم من العلم الاقلیلا۔ آیت۔ اور تم کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ غرض یہ کہ اللہ کا علم ذاتی اور تام ہے اور مخلوق کے تمام احوال کو محیط ہے جو اس کی واحدانیت اور قیومیت اور کمال عظمت پر دال ہے اور بندوں کا علم نہایت قلیل اور ناتمام بلکہ برائے نام ہے بندہ بدون اس کی تعلیم کے ایک ذرہ کو بھی نہیں جان سکتا اور ایک ذرہ کے بھی تمام احوال اور کیفیات اور جہات اور حیثیات کا احاطہ نہیں کرسکتا اگر ایک حال کو جان لیتا ہے تو سو حال سے جاہل اور بیخبر رہتا ہے اور اس علم ناتمام کے ساتھ اس بارگاہ میں شفاعت کرنا جس کا علم ذاتی اور تام ہو اور تمام اشیاء کی حقیقت اور کنہ اور تمام احوال کو محیط ہو بغیر اس کی اجازت کے ممکن نہیں اس لیے کہ شفاعت وہاں ہوتی ہے جہاں شفاعت کرنے ولا بادشاہ کو ایسی چیز سے آگاہ کرے جس کی بادشاہ کو خبر نہ ہو یا اس کو عفو کی مصلحت کی خبر نہ ہو اور بارگاہ خداوندی میں یہ ناممکن ہے کہ اس کو کسی شی کا علم نہ ہو اور اس کی مالکیت تمام کائنات کو محیط ہے اس لیے کہ اس کو کرسی جو اس کے عرش سے کم ہے وہی تمام آسمانوں اور زمینوں کو گھیرے ہوئے اور اپنے اندر سمائے ہوئے ہے جس طرح چاہے زمین اور آسمان میں تصرف کرتا ہے کسی کی مجال کیا ہے کہ بغیر اس کی اجازت کے کوئی سفارش کا کلمہ زبان سے نکال سکے شافع اور مشفوع لہ سب اسی کی ملک ہیں اور اس کی قدرت اور قیومیت کا یہ حال ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کی حفاظت اور نگہبانی اس پر ذرہ برابر شاق اور اگر اں نہیں اور کیسے اس پر گراں ہوسکتی ہے وہ بڑا عالی شان اور بلند مرتبہ ہے ذات اور صفات میں کوئی بھی کسی طرح اس کے برابر نہیں وہ اتنابلند مرتبہ ہے کہ اس کی شان کے مطابق کوئی حمد وثنا بھی نہیں کرسکتا بری عظمت والا ہے کہ ہر چیز اس کے سوا حقیر اور قبیح ہے وہ اپنے افعال میں کسی کا محتاج نہیں عظمت و جلال کی وجہ سے سب سے مستغنی اور بےنیاز ہے پس جس ذات پاک کی یہ صفات ہوں کیا اس کا انکار کرنا یاس کے ساتھ کسی کو شریک کرنا ظلم عظیم نہ ہوگا کماقال تعالیٰ فی الا آیت الاولی۔ والکافرون ھم الظالمون۔ آیت۔ فوائد ولطائف۔ اس آیت کو آیت الکرسی کہتے ہیں کہ جس میں اللہ کی توحید ذاتی اور صفاتی کا ذکر ہے توریت اور انجیل اور کتب سابقہ کے دیکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ اللہ کی کمال ذات اور کمال صفات کے متعلق جیسا اس آیت میں ذکر ہے اس کا شمہ بھی کسی کتاب میں مذکور نہیں۔ اس آیت میں سب سے پہلے اللہ نے اپنی توحید ذاتی کو بیان فرمایا، اللہ لاالہ الاھو۔ بعد ازاں ان صفات کو بیان فرمایا۔ الحی) 1۔ کمالات وجود یہ میں سب سے پہلا حیات ہے، حی، لغت میں اس زندہ شے کو کہتے ہیں کہ جو واقف ہو اور سنتا اور دیکھتا اور قادر ہو پس صفت حیات تمام صفات کمال کا مبدء ہے۔ القیوم 2) ۔ یعنی کائنات کو قائم اور باقی رکھنے والا، حی، سے خدا کا واجب الوجود ہونابیان کیا اور قیوم سے خدا کا واہب الوجود ہونابیان کیا یعنی بذاتہ اور بنفسہ وہ واجب الوجود ہے اور دوسروں کو وجود اور حیات ہبہ اور عطا کرنے والا ہے ممکن میں جو وجود بھی ہے وہ اسی واجب الوجود کا ہبہ اور عطیہ ہے صفت حیات کو ذکر کرکے کمال وجود کو بیان فرمایا اور صفت قیومیت کو ذکر کرکے کمال ایجاد کو بیان فرمایا۔ لاتاخذہ سنۃ ولانوم 3) ۔ اس کو نہ اونگھ پکڑتی ہے اور نہ نیند۔ اس سے اللہ کا تغیرات اور حوادث اور خصائص ممکنات سے پاک اور بری ہونا بیان فرمایا یہ جملہ الحی القیوم کی تاکید ہے کیونکہ اونگھ اور نیند سے حیات میں نقصان آتا ہے اس لیے کہ نیند موت کی بہن ہے اور اللہ موت کے شائبہ سے بھی پاک اور منزہ ہے اور علاوہ ازیں جس کی حیات ناقص ہوگی اس کی قیومیت یعنی حفاظت اور نگرانی بھی ناقص اور کمزور ہوگی لہذا لاتاخذہ کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ایسا قیوم اور مدبر ہے کہ ایک لمحہ بھی تدبیر سے غافل نہیں ہوسکتا وہ اپنی قیومت میں سہو اور نسیان اور غفلت اور سستی سے پاک اور منزہ ہے۔ (لہ مافی السماوات ومافی الارض۔ 4) اس جملہ سے صفت مالکیت کو ثابت کرنا ہے کہ وہ آسمانوں اور زمینوں کا مالک ہے اس لیے کہ مالک حقیقی وہ ہے جو وجود عطا کرے پس جس نے آسمانوں اور زمینوں کو وجود عطا کیا اور جو ان کے وجود کا قائم رکھنے والا اور تھامنے والا ہے وہی ان کا مالک حقیقی ہے۔ من ذالذی یشفع عندہ الاباذنہ۔ 5) ۔ اس جملہ سے اس کی حاکمیت اور جلال اور کبریائی کو بیان کرنا مقصود ہے کہ اس کی بارگاہ میں کسی کی مجال نہیں کہ بغیر اس کی اجازت کے لب کشائی کرسکے۔ یعلم مابین ایدیھم وماخلفھم۔ 6) ۔ اس جملہ میں اس کے علم محیط کو بیان فرمایا کہ اس کا علم مخلوقات کے تمام احوال کو محیط ہے۔ ولایحیطون بشئی من علمہ الا بماشاء۔ 7) ۔ اس جملہ میں یہ بتلایا گیا کہ جس طرح مخلوقات کا وجود عطیہ خداوندی ہے اسی طرح مخلوقات کا علم بھی عطیہ خداوندی سے بندے فقط اتنی مقدار جان سکتے ہیں جتنا وہ چاہے بندوں کو علم اس کی مشیت کے تابع ہے بندہ کا علم نہایت ہی قلیل اور محدود ہے اور اس کا جہل بالفعل غیر محدود اور غیر متناہی ہے۔ وسع کرسیہ السماوات والارض۔ 8) ۔ اس جملہ میں یہ بتلایا گیا کہ اللہ کی حاکمیت اور مالکیت آسمانوں اور زمینوں سے بھی متجاوز ہے جہاں تک بندوں کا وہم و خیال بھی نہیں۔ فائدہ۔ 1) ۔ احادیث نبویہ اوراقوال صحابہ وتابعین سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کرسی ایک جسم ہے جو آسمانوں اور زمین سے برا ہے اور عرش سے چھوٹا ہے حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ساتوں آسمان کرسی کے اندر ایسے ہیں جیسے کسی ڈھال میں سات درہم ڈال دیے جائیں کرسی کی اضافت اور نسبت اللہ کی طرف ایسی ہے جیسے عرش اللہ اور بیت اللہ کی نسبت ہے بظاہر یہ کوئی خاص قسم کی تجلی ہے اور جس طرح تجلیات کی انواع اوراقسام میں ہر شے کی تجلی علیحدہ ہے اسی طرح عجب نہیں کہ کرسی اور عرش کی تجلیات علیحدہ علیحدہ ہوں اور ایک دوسرے سے ممتاز ہوں جمہور سلف کے نزدیک آیت میں کرسی سے ظاہری اور متبادر معنی مراد ہیں اور بعض علماء ادھر گئے ہیں کہ کرسی اس کی عظمت اور سلطنت کی تصویر اور محض ایک مثال ہے ورنہ درحقیقت نہ کوئی کرسی ہے اور نہ وہاں کوئی بیٹھنے والا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ ہر جگہ لفظ سے حقیقی معنی ہی مراد لیے جائیں قرآن کریم میں صدہا جگہ مجازی اور کنائی معنی مراد لیے گئے ہیں۔ ولایؤدہ حفظہما۔ 9) ۔ اور اللہ تعالیٰ کو آسمان اور زمین کی حفاظت ذرہ برابر گراں نہیں اس جملہ سے یہ بتلانا ہے کہ اس کی صنف قدرت اور قیومیت ضعف اور نقصان سے پاک اور منزہ ہے۔ وھوالعلی العظیم۔ 10) ۔ اس جملہ میں اللہ کی صفت علو اور عظمت کو بیان فرمایا۔ 2) ۔ مستدرک حاکم میں ابوہریرہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، سورة بقرہ میں ایک آیت ہے جو تمام آیات قرآنیہ کی سردار ہے وہ آیت الکرسی ہے جس گھر میں وہ پڑھی جاتی ہے شیطان اس سے نکل جاتا ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ میں ابی بن کعب سے مروی ہے کہ نبی کریم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ اے ابوالمنذر قرآن میں سے اعظم یعنی سب سے بڑی آیت کون سی ہے میں نے کہا اللہ لاالہ الاھوالحی القیوم۔ آپ نے یہ سنتے ہی میرے سینہ پر ہاتھ اور مارا اور فرمایا اے ابولمنذر علم تمہیں مبارک ہو۔ اور اسی طرح حضرت عمر، اور حضرت علی، عبداللہ بن مسعود اور عبداللہ بن عباس اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے منقول ہے کہ تمام آیتوں کی سردار اور سب سے بڑی آیت آیت الکرسی ہے (درمنثور ص 325 ج 1) ۔ اسی بناء پر کہا جاتا ہے کہ اسم اعظم اللہ لاالہ الاھوالحی القیوم ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جب مردوں کو زندہ کرنے کا ارادہ فرماتے تو یاحی یاقیوم پڑھ کر دعا فرماتے اور آصف بن برخیا نے جب بلقیس کے عرش کو لانے کا ارادہ کیا تو یاحی یاقیوم پڑھ کر دعا مانگی۔ (تفسیر قرطبی ص 271 ج 3) ۔ 3) ۔ حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی قدس سرہ اللہ فرماتے ہیں کہ آیت الکرسی سورة بقرہ کا قلب ہے اور الحی القیوم بمنزلہ روح اور جان کے ہے اور باقی آیات بمنزلہ اعضاء اور جوارح کے ہیں اور اس سورت کے تمام مطالب اسی آیت کے گرد گھومتے ہیں جس طرح اعضاء اور جوارح جان کے شؤن اور مظاہر ہوتے ہیں اسی طرح اس سورت کی تمام آیتیں الحی القیوم کے شؤن اور مظاہر ہیں سورة بقرہ کے کل چالیس رکوع ہیں کوئی ایسا نہیں کہ جس میں حیات اور قیومیت اور ہمیشہ کی زندگانی کا مضمون مذکور نہ ہو۔ گویا کہ یہ تمام سورت الحی القیوم کی شرح اور بسط اور حیات اور قیومیت ہی کی توضیح اور تلویح ہے ابتداء سورت میں ذالک الکتاب لاریب فیہ سے قرآن کریم کا آب حیات ہونابیان فرمایا اور یہ بتلایا کہ ایمان اور تقوی سے حیات ابدی حاصل ہوتی ہے اور کفر اور نفاق سے دائمی ہلاکت پھر تیسرے رکوع میں افراد انسانی کی فردا فردا حیات کا زکر فرمایا وکنتم امواتا فاحیاکم۔ آیت۔ اور زمین و آسمان کی پیدائش اور دنیا کی نعمتوں کی پیدائش کا ذکر فرمایا جو دنیوی حیات کا ذریعہ ہیں اور پھرا پنی عبادت کا حکم دیا جو انسان کی حیات اخروی اور قیام ابدی کا ذریعہ ہے بعد ازاں ابوالبشر کی حیات اور منصب خلافت اور ملائکہ پر ان کی فضیلت کو ذکر فرمایا واذ قال ربک للملائکۃ انی جاعل فی الارض خلیفہ۔ آیت۔ بعدازاں پانچویں رکوع سے ایک خاص خاندان کی حیات کا ذکر شروع کیا یعنی بنی اسرائیل کی حیات اور ان پر اپنے ظاہری اور باطنی انعامات کا بیان شروع کیا جو تقریبا اخیر پارے تک چلا گیا جس میں ان کو جہانوں پر فضیلت دینا اور من سلوی کا ان کے لیے نازل کرنا اور ان کی ہدایت کے لیے توریت کا عطا کرنا اور اس خاندان میں ہزاروں پیغمبروں کو ہدایت کے لیے مبعوچ کرنا بیان فرمایا چودھویں رکوع تک جب اس خاندان کی حیات کا قصہ تمام ہوا تو پندرھویں رکوع سے ایک دوسرے خاندان کی حیات کا ذکر شروع فرمایا یعنی حضرت اسماعیل کا ان کی اقامت اور تواطن کے لیے خانہ کعبہ کی تعمیر ہوئی یہ جگہ نبی آخرالزمان کی پیدائش کی جگہ اور یہ قبلہ آخری قبلہ ہے دور تک یہ سلسلہ کلام چلا گیا جب ان دونوں خاندانوں کی حیات اور قائمی سے فارغ ہوئے تو پھر اس کے بعد چند اقسام حیات کو ذکر فرمایا کہ جو بظاہر حیات کے خلاف معلوم ہوتے ہیں من جملہ ان کے شہادت فی سبیل اللہ اور مصائب پر صبر کرنا اور قصاص کو جاری کرنا اور وصیت کو بغیر تغیر وتبدل کے جاری کرنا اور روح کو زندہ رکھنے کے لیے روزہ رکھنا اور دین کی بقاء کے لیے جہاد کرنا اور شعائر اسلام کو زندہ اور قائم رکھنے کے لیے حج اور عمرہ کرنا اور مال اور آبرو کی حیات کو قائم رکھنے کے لیے شراب اور جوئے سے پرہیز کرنا اور حقوق نکاح اور زوجیت کے زندہ اور قائم رکھنے کے لیے ایلاء اور خلع اور طلاق اور عدت اور حالت حیض میں مباشرت اور اجرت رضاعت وغیرہ کی حدود کی پوری پوری رعایت رکھنا تاکہ خاندانی اور معاشرتی حیات قائم رہے اور اس کاشیرازہ منتشر نہ ہو۔ پھر جب ان اقسام حیات کے بیان سے فراغت ہوئی تو الم تر الی الذین خرجوا من دیارھم وھم الوف حذرالموت۔ آیت۔ سے چند عجیب و غریب قصے بیان فرمائے جن میں اللہ حی قیوم کی طرف سے بلااسباب ظاہری حیات غیبیہ کا عطا ہونا بیان فرمایا تاکہ خوب واضح ہوجائے کہ اس کے سوا کوئی حی اور قیوم نہیں جو بھی زندہ اور قائم ہے وہ اس کی دی ہوئی حیات سے قائم ہے اللہ نے دو قصے اس کلمہ حی وقیوم سے پہلے ذکر فرمائے اور تین قصے اسی مدعا کے اثبات کے لیے آیت الکرسی کے بعد ذکر فرمائے، پہلا قصہ حیات بنی اسرائیل کی اس جماعت کا ذکر فرمایا کہ جو وبا سے ڈر کر بھاگے اور پھر ایک نبی کی دعا سے زندہ ہوئے، دوسرا قصہ طالوت اور جالوت اور تابوت سکینہ کا نازل فرمائیا جس سے اس خاندان کی گم شدہ حیات پھر واپس آئی۔ اس کے بعد آیت الکرسی کو ذکر فرمایا جس میں اللہ کی حیات اور قیومت اور مالکیت اور عظمت اور ہیبت اور قدرت کاملہ اور علم محیط کا ذکر فرمایا اور یہ بتلا دیا کہ اسلام اور سیدھا راستہ یہ ہے کہ خدا کو وحدہ لاشریک مانا جائے حق واضح ہے جس کا جی چاہے قبول کرے کسی پر زبردستی نہیں۔ اس کے بعد پھر اپنی حیات اور قیومیت کے اثبات کے لیے تین قصے ذکر فرمائے جس سے حیات اخروی کانمونہ معلوم ہوا اور یہ واضح ہوجائے کہ وہ حی وقیوم مردوں کے زندہ کرنے پر قادر ہے تاکہ لوگ قیامت کے بارے میں شک نہ کریں پھر اس کے بعد صدقات اور خیرات کے احکام بیان فرمائے جو انسان کی دینی اور دنیوی زندگی کے قیام کا سبب ہیں اور سود سے ممانعت فرمائی کہ جو انسان کی دینی اور دنیوی حیات کی تباہی اور بربادی کا سبب ہے پھر اس سورت کو للہ مافی السماوات ومافی الارض۔ آیت۔ سے ایمانیات اور اعتقادیات اور دعا اور استغفار کے مضمون پر ختم فرمایا اس لیے کہ ایمان اور توبہ اور استغفار ہی سے مردہ دلوں کو حیات جاودانی حاصل ہوتی ہے خلاصہ کلام یہ کہ تمام سورت حق تعالیٰ کے اسم حی وقیوم کی شرح اور تفصیل ہے اور آیت الکرسی اس سورت کے لیے بمنزلہ دل کے ہے اور یہ اسم حی وقیوم بمنزلہ جان کے ہے باقی آیتیں بمنزلہ اعضاء اور جوارح کے ہیں۔ واللہ اعلم۔ (حق اور باطل نور اور ظلمت کا فرق واضح ہے) ۔
Ayahs 2:256–257

لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:256 in the Quran reader

دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے ہدایت (صاف) طور پر ظاہر اور گمراہی سے الگ ہوچکی ہے تو جو شخص بتوں سے اعتقاد نہ رکھے اور خدا پر ایمان لائے اس نے ایسی مضبوط رسی ہاتھ میں پکڑ لی ہے جو کچھ ٹوٹنے والی نہیں اور خدا (سب کچھ) سنتا اور جانتا ہے

اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُ١ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:257 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست خدا ہے کہ اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں یہی لوگ اہل دوزخ ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

کسی پر کوئی زبردستی نہیں جو چاہے اختیار کرے۔ قال تعالی، لااکراہ فی الدین۔۔۔ الی۔۔۔ خالدون۔ ربط) ۔ گزشتہ آیت وانک لمن المرسلین۔ میں اثبات رسالت کا ذکر تھا اور آیت الکرسی میں اثبات توحید کا ذکر تھا اور یہی دو باتیں دین اسلام کا اصل الاصول ہیں جو دلائل واضحہ سے ثابت ہیں جس سے کافروں کے لیے کوئی عذر اور گنجائش باقی نہیں جس کا جی چاہے حق کو قبول کرے دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں تحقیق ہدایت گمراہی سے بالکل جدا اور ممتاز ہوچکی ہے حق کا حسن و جمال اور باطل کا قبح خوب ظاہر اور نمایاں ہوچکا ہے اور زبردستی اس امر پر ہوتی ہے جو ناپسندیدہ ہوا اور کرنے والے کا دل اس سے خوش نہ ہو اور اسلام کا حسن و جمال ایسا بےمثال ہے کہ عقل سلیم اس پر عاشق اور فریفتہ ہے البتہ نفس پر اسلام کے احکام شاق اور گراں ہیں نفس تو نجاست خور اور شہوت پرست ہے اس کی گردانی اور ناگواری کا اعتبار نہیں کتے کو قے اور گندا پانی ہی لذید معلوم ہوتا ہے مگر سلیم الطبع کو اس تصور سے بھی تکدر اور انقباض ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں اسلام میں اکراہ اور زبردستی ممکن ہی نہیں اس لیے کہ اسلام کے لیے تصدیق قلبی اور دلی ادغان کا اعتبار ہے اور دل پر کسی کی زبردستی چل نہیں سکتی۔ با آیت کے یہ معنی ہیں کہ دین کے بارے میں تم کسی پر زبردستی نہ کرو کیونکہ یہ دنیادار ابتلاء اور دارامتحان ہے مقصود یہ ہے کہ لوگ اپنے اختیار سے ایمان لائیں اس لیے کہ جزا وسزا کا مدار اختیاری افعال پر ہے۔ اس صورت میں یہ جملہ خبریہ انشائیہ کے معنی میں ہوگا یعنی لااکراہ کی نفی میں نہی کے ہوگی اور لااکراہ معنی میں لاتکر ہوا کے ہوگا جیسا کہ آیت کے شان نزول سے معلوم ہوتا ہے حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ آیت حصین انصاری کے بارے میں نازل ہوئی حصین انصاری کے دو بیٹے عیسائی تھے ایک روز حصین نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ مجھ پر ان کا نصرانی ہونا بہت گراں ہے اگر حضور اجازت دیں تو میں ان کو اسلام لانے پر مجبور کروں اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی کسی پر اسلام میں داخل ہونے کے لیے جبر اور زبردستی نہ کرو ہم نے ہدایت اور ضلالت کا فرق واضح کردیا ہے اب لوگوں کو اختیار ہے کہ جس کا جی چاہے ایمان لائے اور جس کا جی چاہے کفر کرے۔ ایک شبہ اور اس کا ازالہ۔ اس قسم کی آیات ان ایات کے معارض نہیں جن میں کافروں سے جہاد و قتال کا حکم آیا ہے اس لیے کہ جہاد شر اور فساد کے رفع اور دفع کرنے کے لیے کفار چونکہ خدا کی زمین میں فساد مچاتے ہیں اور خدا کی نازل فرمودہ ہدایت اور شریعت کے اجراء اور نفاذ میں حارج اور مزاحم ہوتے ہیں اور بندگان خدا کو عبادت سے روکتے ہیں اس لیے کہ جہاد کا حکم نازل ہوا جہاد سے مقصود احکم الحاکمین کے دین متین کی حکومت قائم کرنا ہے بجز کسی کو مسلمان بنانا مقصود نہیں کافر اگر اپنے مذہب پر قائم رہنا چاہے تو جزیہ دے کر بھی اپنے مذہب پر رہ سکتا ہے اور چونکہ جہاد دفع فسا کے لیے ہے اس لیے بچوں اور عورتوں، بوڑھوں اور راہبوں کو قتل کرنے سے آپ ﷺ نے منع فرمایا اس لیے کہ ان لوگوں سے فتنہ فساد کی امید نہیں اور جس طرح موذی جانوروں سانپ اور بچھو کا ایذارسانی کے بعد قتل کرنا جائز ہے اسی طرح سانپ اور بچھو کو ڈنگ مارنے سے قبل ہی ختم کردینا عقل اور دانائی ہے اسی طرح اگر مسلمانوں کو کسی کافر حکومت سے کوئی خطرہ ہو تو تو پہلے ہی سے اس کا خاتمہ کردینا عین تدبر اور عین سیاست ہے اصطلاح شریعت میں اس کا نام جہاد اقدامی ہے۔ علاوہ ازیں جس طرح انسان ایمان اور کفر کے قبول کرنے میں مختار ہے مجبور نہیں اسی طرح تمام اعمال خیر اور اعمال شر کرنے اور نہ کرنے میں بھی مختار ہے مجبور نہیں لیکن اچھے اور برے افعال پر ان کے مناسب جزا اور سزا کا مرتب ہونا جبرواکراہ کو مستلزم نہیں مثلا چور کا ہاتھ کاٹنا اور زانی محصن کا سنگسار کیا جانا اور خون ناحق کا قصاص لیا جانا یہ تمام تر اس کے افعال اختیاریہ کی سزا ہے جبر اور اکراہ نہیں اس شخص نے اپنے اختیار سے چوری اور زناکا ارتکاب کیا اس لیے یہ سزا بھگتنی پڑی پس اسی طرح جو مسلمان مرتد ہوجائے اور سزائے ارتداد میں قتل کردیا جائے تو یہ جبر اور اکراہ نہیں بلکہ اس کے فعل اختیاری (ارتداد) کی سزا ہے اور کافروں سے جہاد و قتال ان کے فعل اختیاری یعنی کفر کی جزاء ہے حیرت کا مقام ہے کہ قانونی سزائیں تو عین مصلحت اور عین تدبر اور عین سیاست بن جائیں اور شرعی حدود، قتل مرتد اور رجم زانی وغیرہ وغیرہ یہ سزائیں جبر اور اکراہ قرار دی جائیں اور وحشیانہ سزائیں کہلائیں قتل مرتد کے مسئلہ میں اشکال ہے اور مارشل لاء میں کوئی اشکال نہیں کیا قانون مارشل لا میں ووٹ کی قائم شدہ حکومت کے مرتدین کا قتل نہیں ؟ کیا افسوس کا مقام نہیں کہ مجازی اور جعلی حاکم کے مرتدین کا قتل تو عین تہذیب اور عین تمدن ہو اور خدائے احکم الحاکمین کے مرتدین کے قتل پر ناک بھوں چرھائیں اور اس کو وحشیانہ فعل قراردیں اس کا صاف مطلب تو یہ ہوا کہ ہماری بغاوت تو جرم ہے اور اللہ کی بغاوت جرم نہیں اللہ ان لوگوں کو عقل دے جو بندوں پر اپنا حق اللہ سے زیادہ سمجھتے ہیں۔ پس حق اور ہدایت کے روز روشن کی طرح واضح ہوجانے کے بعد جو شخص طغیان اور ضلال کی طرف بلانے والی چیزوں سے تعلق قطع کرے اور ایمان لاکر اللہ سے اپنا تعلق قائم کرے تو اس نے نہایت مضبوط حلقہ کو پکڑ لیا اور اپنے آپ کو گمراہی اور ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے بچا لیا اور وہ ایمان بااللہ کا حلقہ ایسا مضبوط ہے جو ٹوٹ نہیں سکتا البتہ غفلت کی وجہ سے ہاتھ سے چھوٹ سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایمان اور کفروالوں کے دعو وں کو سننے والا ہے اور نیتوں کا جاننے والا ہے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا کارساز ہے جو ایمان لائے اور خدا سے وابستہ ہوئے ان کو وہ اپنی خاص ہدایت اور توفیق کے ذریعہ شکوک و شبہات اور وساوس اور خطرات کی تاریکیوں اور اندھیروں سے نکال کر نور ہدایت کی طرف لے جاتا ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ سے تعلق قطع کرلیا ان کے دوست اور رفیق جن اور انس کے شیاطین ہیں جو ان کو نور ہدایت اور نور دلائل سے نکال کر شبہات اور نفسانی خواہشات کی تاریکیوں کی طرف لے جاتے ہیں ایسے ہی لوگ جو انبیاء اور علماء اور صلحاء اور دلائل عقل سے بھاگتے ہیں اور نفسانی خواہشوں کے پیچھے دوڑتے ہیں دوزخ کے باشندے ہیں یہ لوگ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ ف) ۔ اللہ نے کافروں کے حق میں دوزخ کی وعید کو ذکر فرمایا اور اس کے مقابلہ میں اہل ایمان کے لیے کسی خاص وعدہ اور بشارت کا ذکر نہیں فرمایا اس لیے کہ اللہ کی ولایت اور محبت اور کارسازی ہر وعدہ اور بشارت کو متضمن ہے۔ ذکر مبداء ومعاد۔ گزشتہ آیات میں اللہ کی ذات وصفات کو بیان فرمایا اس کے بعد تین قصے اس کے مناسب ذکر فرمائے ہیں اول قصہ وجود باری کے اثبات کے لیے ہے اور دوسرا اور تیسراقصہ اثبات حشرونشر یعنی اثبات قیامت کے لیے تاکہ مبداء اور معاد کی معرفت مکمل ہوجائے اور اللہ کی حیات اور قیومیت خوب واضح ہوجائے اور نور ہدایت اور ظلمت ضلالت کانمونہ نظر آجائے کہ اللہ کس طرح ہدایت دیتا ہے اور کس طرح گمراہ کرتا ہے اور جہاد و قتال کی مشروعیت کی وجہ بھی معلوم ہوجائے کہ یہ کفار ناہنجار خدائے کردگار کی صحیح معرفت کو مٹانا چاہتے ہیں اور لوگوں کو اللہ سے باغی بنانا چاہتے ہیں اس لیے ان سے جہاد و قتال کا حکم دیا گیا اور اگر خود جہاد میں شریک نہ ہو سکیں تو مالی امداد کریں۔
Ayah 2:258

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 2:258 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس (غرور کے) سبب سے کہ خدا اس کو سلطنت بخشی تھی ابراہیم سے پروردگار کے بارے میں جھگڑنے لگا جب ابراہیم نے کہا میرا پروردگار تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے وہ بولا کہ جلا اور مار تو میں بھی سکتا ہوں ابراہیم نے کہا کہ خدا تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے آپ اسے مغرب سے نکال دیجئے۔ یہ سن کر کافر حیران رہ گیا۔ اور خدا بےانصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

قصہ اول، دربارہ اثبات وجود باری عزاسمہ۔ قال تعالی، الم تر الی الذی حاج۔۔۔ الی۔۔۔ الظالمین۔ ان آیات میں ابراہیم (علیہ السلام) کانمرود بن کنعان سے مناظرہ اور مکالمہ بیان کرتے ہیں نمرود دھری تھا یعنی وجود باری تعالیٰ کا منکر تھا اور اپنے آپ کو ملک کا رب اور خدا اور مالک بتاتا تھا اے مخاطب کیا تو نے اس طاغوت کو نہیں دیکھا جس نے خدا کے ولی ابراہیم سے اپنے پروردگار کے وجود کے بارے میں مباحثہ اور مجادلہ کیا یہ جھگڑنے والا شخص نمرود تھا جس نے سب سے پہلے سر پر تاج دکھا اور بادشاہت کے گھمنڈ میں خدائی کا دعوی کیا چناچہ فرماتے ہیں کہ نمرود کا خدا کے بارے میں یہ مجادلہ محض اس وجہ سے تھا کہ اللہ نے اس کو سلطنت اور بادشاہی عطا کی اس نعمت عظیمہ کے شکر کا ادنی درجہ یہ تھا کہ جس خدا نے یہ سلطنت بنخشی تھی اس کے وجود کا تو اقرار کرتا مگر اس نے برعکس اس منعم کے وجود ہی کا انکار کردیا شکر تو درکنار جس وقت کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے نمرود سے کہا کہ خدائے پروردگار پر ایمان لا، نمرود نے کہا وہ کون سا خدا ہے جس کی طرف میں تم ہمیں بلاتے ہو اس کا وصف بیان کرو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا میرا پروردگار جس کی طرف تم کو بلاتا ہوں اس کی شان یہ ہے کہ وہ موت اور حیات کا مالک ہے جس کو چاہتا ہے زندہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے مارتا ہے اور تو زندہ کرنے اور موت دینے سے عاجز ہے لہذا تو مستحق ربوبیت کا نہیں ہوسکتا نمرود نے اسی وقت دو آدمیوں کو بلای اور ایک کو قتل کردیا اور ایک کو چھوڑ دیا اور بولا میں جلاتا اور مارتا ہوں یعنی مارنے اور زندہ کرنے سے عاجز نہیں ابراہیم نے دیکھا کہ یہ تو بڑا ہی کوڑ مغز ہے کہ احیاء اور اماتت کے معنی بھی نہیں سمجھتا احیاء اور ماتت کے معنی جسم میں جان ڈالنے اور جان نکالنے کے ہیں اور یہ سوائے خدا کے کسی کی قدرت میں نہیں اس نادان نے فقط گردن اڑا دینے اور چھوڑ دینے اور حلق پر چھری چلانے اور نہ چلانے کا نام احیاء اور اماتت رکھا۔ ابراہیم نے کہا کہ تو احیاء اور اماتت یعنی جس میں جان ڈالنے اور نکالنے پر تو کیا قادر ہے تو تو احیاء اور اماتت کا مفہوم بھی نہیں سمجھتا اچھا ایک بات اور سن اللہ تو آفتاب کو اپنے ارادہ اور اختیار سے مشرق سے نکالتا ہے حالانکہ وہ اگر چاہے تو مغرب اور شمال سے اور جنوب سے بھی نکال سکتا ہے ہر افق اور ہر نقطہ اس کی قدرت کے اعتبار سے یکساں ہے بس اگر تجھ کو دعوائے ربوبیت ہے تو آفتاب کو مغرب سے نکال کر دکھا تاکہ تیری قوت اور قدرت کا اندازہ ہو تو احیاء اور اماتت مارنے اور جلانے پر تو کیا قادر ہوتا تیرے عجز اور درماندگی کا تو یہ عالم ہے کہ تو ایک جسم کی حرکت کے تغیر پر بھی قادر نہیں حالانکہ حرکت، حیات کا ایک نہایت معمولی سا اثر ہے پس جو شخص ایک جسم کی حرکت میں تغیر کرنے سے عاجز ہوگا وہ احیاء اور اماتت سے بدرجہ اولی عاجز ہوگا پس جو خدا کا منکر اس روشن اور نورانی دلیل کو سن کر حیران اور بھونچکاں رہ گیا اور کسی قسم کی کوئی تاویل اور تلبیس بھی نہ کرسکا اور ایسا مدہوش ہوا کہ کچھ بھی نہ بول سکا مطلب یہ کہ نمرود حضرت ابراہیم کی اس روشن دلیل کو سن کر ہکابکا رہ گیا اور بطور معارضہ یہ نہ کہہ سکا کہ اگر تیرا معبود ایسا زبردست ہے تو اس سے کہو کہ وہ آفتاب کو کسی دن بجائے مشرق کے مغرب سے نکال دے اس لیے کہ اس نے خوب سمجھ لیا کہ اگر ابراہم اپنے خدا سے یہ دعا مانگیں کہ اے خدا اس آفتاب کو بجائے مشرق سے مغرب سے نکال دیجئے تو یقیناً ایسا ہی ہوگا ابراہیم کا خدا جس طرح آگ کو برد اور سلام بناسکتا ہے اسی طرح ابراہیم کا خدا سورج کو بجائے مشرق کے مغرب سے بھی نکال سکتا ہے لیکن نمرود باوجود اس نورانی اور روشن دلیل کے کفر کی ظلمت اور تاریکی سے نہ نکلا اس لیے اپنے عناد پر قائم رہا اور ایمان نہ لایا اور اللہ تعالیٰ بےانصافوں کو گمراہی کی ظلمتوں سے نکال کر نور ہدایت کی طرف نہیں لے جاتے معاند کتنے ہی معجزات اور نشانات دیکھے وہ ظلمت سے نور ہدایت کی طرف نہیں آتا چناچہ نمرود کا جو انجام ہوا وہ سب کو معلوم ہے، پشہ کارش کفایت ساختہ۔ فائدہ) ۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ قصہ ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالنے کے بعد کا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ بتوں کے توڑنے کے بعد کا ہے۔ شاہ عبدالقادر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک بادشاہ تھا وہ اپنے تئیں سجدہ کرواتا تھا سلطنت کے غرور ہے حضرت ابراہیم نے اس کو سجدہ نہ کیا اس نے پوچھا کہ انہوں نے کہا میں اپنے رب ہی کو سجدہ کرتا ہوں اس نے کہا رب تو میں ہوں انہوں نے کہا میں رب حاکم کو نہیں کہتا رب وہ جو جلاتا ہے اور مارتا ہے اس نے دو قیدی بلائے جس کو جلانا پہنچتا تھا مار ڈالا اور جس کو ماڈالنا چاہتا تھا اس کو چھوڑ دیا تب انہوں نے آفتاب کی دلیل سے اس کو لاجواب کردیا۔ اور حضرت ابراہیم کی تقریر سن کر بےاختیار نمرود کے دل میں یہ بات آگئی کہ خدا ضرور ہے اور آفتاب کا مشرق سے نکالنا اس کا فعل ہے اور وہ خدا مغرب سے بھی نکال سکتا ہے اور یہ بھی سجھ گیا کہ یہ شخص اسی خدا کا پیغمبر ہے اور اس کے کہنے سے ضرور ایسا ہی ہوگا اور اگر ایسا ہوگیا تو عالم میں انقلاب برپا ہوجائے گا اور ساری دنیا اسی کی راہ پر ہولے گی اور میرے ہاتھ سے سلطنت جاتی رہے گی۔
Ayah 2:259

اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:259 in the Quran reader

یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جسے ایک گاؤں میں جو اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا اتفاق سے گزر ہو اس نے کہا کہ خدا اس (کے باشندوں) کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا تو خدا نے اسکی روح قبض کرلی (اور) سو برس تک (اس کو مردہ رکھا) پھر اس کو جلا اٹھایا اور پوچھا کہ تم کتنا عرصہ (مرے) رہے ہو ؟ اس نے جواب دیا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم خدا نے فرمایا (نہیں) بلکہ سو برس (مرے) رہو ہو اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ (اتنی مدت میں مطلق) سڑی بسی نہیں اور اپنے گدھے کو دیکھو (جو مرا پڑا ہے) غرض (ان باتوں سے) یہ ہے کہ ہم تم کو لوگوں کے لیے (اپنی قدرت کی) نشانی بنائیں اور (ہاں گدھے کی) ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم ان کو کیونکر جوڑے دیتے اور ان پر (کس طرح) گوشت پوست چڑھا دیتے ہیں جب یہ واقعات اس کے مشاہدے میں آئے تو بول اٹھا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے

قصہ دوم۔ برائے اثبات معاد یعنی برائے اثبات حشر ونشر۔ قال تعالی، او کالذی مرعلی قریۃ۔۔۔ الی۔۔۔ قدیر۔ یا، اے مخاطب کیا تو نے اس جیسے شخص کی طرف نظر نہیں کی کہ جن کا ایک بستی پر گذر ہوا محمد بن اسحاق سے مروی ہے کہ وہ گذرنے والے حضرت ارمیاء نبی تھے اور حضرت علی اور حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ وہ عزیر تھے اور مجاہد سے منقول ہے کہ نمروش کے ساتھ ذکر کرنے سے مفہوم ہوتا ہے کہ وہ گذرنے والا شخص کافر تھا جس کو بعثت میں شک اور تردد تھا لیکن یہ صحیح نہیں اس لیے کہ کافر ایسی عزت اور کرامت کا مستحق نہیں جس کا آیت میں ذکر ہے اور قریہ سے بیت المقدس مراد ہے جس کو بخت نصر نے ویران اور برباد کردیا اور بنی اسرائیل کو قتل کیا اور بہت سوں کو قید کرکے لے گیا ان میں حضرت عزیر بھی تھے حضرت عزیر جب قید سے چھوٹ آئے اور اس ویران بستی پر گذر ہوا جس کے تمام آدمی مرے پڑے ہیں اور عمارت بھی سب گری ہوئی ہے اور اس وقت وہ بستی ایسی حالت میں تھی کہ وہ اپنی چھتوں پر گری ہوئی پڑی تھی یعنی اس کی چھتیں گر کر پھر ان پر دیواریں گر گئی تھیں اس ویرانی کو دیکھ کر بطور حسرت اور تعجب یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ اس بستی کو مرے پیچھے کس طرح زندہ کرے گا مقصود اس کہنے سے بستی کے دوبارہ زندہ اور آباد ہونے کی طلب اور تمنا تھی مگر چونکہ عادۃ ایسا ہونا بعید تھا اس لیے یہ خیال گذرا کہ کیا میری یہ دعا قبول ہوگی معاذ اللہ خدا کی قدرت میں کوئی شبہ اور تردد نہ تھا بعث کا یقین کامل تھا لیکن تمنا یہ تھی کہ کاش میں بھی اس کانمونہ دیکھ لوں پس اللہ نے اسی جگہ ان کی روح قبض کرکے ان کو سو برس تک مردہ رکھا اور اس عرصہ میں بخت نصر بھی مرگیا اور بنی اسرائیل کو اس کے ظلم وستم سے رہائی ملی اور شہر بیت المقدس از سر نوآباد ہوگیا اس کے بعد اللہ نے ان کو زندہ کیا چناچہ فرماتے ہیں اور پھر سو برس کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کرکے اٹھایا تاکہ واضح ہوجائے کہ جو خدا سو برس کے بعد مردہ کو زندہ کرسکتا ہے وہ سو ہزار برس کے مردہ کو بھی زندہ کرسکتا ہے اس کی قدرت کے لیے کوئی خاص مدت شرط نہیں جس وقت اٹھے سورج غروب نہیں ہوا تھا اللہ نے خود یا بذریعہ فرشتہ کے ایک دن سے کم اگر یہاں کل اسی وقت آیا تھا تو ایک دن ہوا اگر آج ہی آیا تھا تو ایک دن سے بھی کم ہوا اللہ تعالیٰ نے فرمایا بلکہ تم اس حالت میں سو سال ٹھہرے ہو یعنی حقیقت میں مرچکے تھے سو سال کی موت کے بعد ہم نے تم کو اپنی قدرت سے زندہ کیا یہ طویل مدت خواب میں نہیں گذری اور تم خواب سے بیدار نہیں ہوئے بلکہ موت سے دوبارہ زندہ ہوئے ہو پس اگر تم کو یہ شبہ ہو کہ باوجود اتنی طویل مدت گزرنے کے میرے جسم میں کوئی تغیر نہیں ہوا تو اپنے کھانے پینے کی چیز کو دیکھ لو کہ باوجود اتنی طویل مدت گذرنے کے اس میں ذرہ برابر بھی تغیر نہیں آیا حالانکہ کھانے پینے کی چیز میں بہت جلد تغیر آجاتا ہے اور موسم گرما میں تو صبح کا کھانا شام ہی تک خراب ہوجاتا ہے پس جو خدا کھانے پینے کی چیز کو اتنی مدت تغیر سے محفوظ رکھ سکتا ہے وہی خدا تمہارے جسم کو بھی اتنی مدت تغیر سے محفوظ رکھ سکتا ہے اور اس کے مقابل اپنی سواری کے گدھے کی طرف نظر کیجیے کہ وہ گل سڑ کر ریزہ ریزہ ہوچکا ہے اور اس کی ہڈیاں اس قدر بوسیدہ ہوچکی ہیں کہ ہاتھ لگانے کی بھی تاب نہیں رکھتیں۔ گدھے کی یہ حالت ایک دن میں نہیں ہوسکتی ہڈیوں کے بوسیدہ ہونے کے لیے ایک مدت مدید چاہیے اور اب ہم عنقریب تمہارے سامنے ہی اس مردہ گدھے کو زندہ کریں گے اور دوبارہ اس کو گوشت اور پوست عطا فرمائیں گے تاکہ تم اپنی آنکھوں سے مردوہ کو زندہ ہوتا ہوا دیکھ لو اور ہم نے تم کو سو برس کی موت کے بعد اس لیے زندہ کیا کہ ہم تم کو تمہارے طعام و شراب میں اور تمہاری سواری میں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھلائیں اور تمہارے تعجب اور استبعاد ظاہری کو دور کریں اور تاکہ ہم تم کو لوگوں کے لیے قیامت کی ایک نشانی بنائیں کے قیامت کے دن بھی اسی طرح اللہ کی قدرت سے مردے قبروں سے زندہ ہو کر اٹھیں گے اور لوگ جب تم کو دیکھیں گے تو قیامت کی ایک مجسم دلیل اور برہان سمجھیں گے اور یقین کریں گے کہ قیامت میں بھی مردے اسی طرح جسم کے ساتھ دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور اگر تم یہ چاہتے ہو کہ اپنی ذات کے علاوہ احیاء موتی کی کیفیت کا مشاہدہ کرو تو اس مرے ہوئے گدھے کی ہڈیوں کی طرف نظر کرو کہ کس طرح ہم ان کو جوڑتے ہیں اور پھر کس طرح ان پر گوشت چڑھاتے ہیں اور پھر کس طرح ان میں جان ڈالتے ہیں اور اسی طرح وہ گدھا زندہ ہو کر ان کے روبرو کھڑا ہوگیا اور گدھوں کی طرح بولنے لگا پس جب مردہ کا زندہ ہونا مشاہدہ سے ظاہر اور واضح ہوگیا تو بےاختیار جوش مسرت میں یہ بولے کہ یقین کے ساتھ جانتا ہوں کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے مردہ کے زندہ ہونے کا علم الیقین تو پہلے بھی تھا لیکن اس مشاہدہ اور معاینہ کے بعد عین الیقین کا درجہ حاصل ہوگیا یعنی مجھ کو پہلے ہی سے یقین تھا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے پس جس چیز کو پہلے سے جانتا تھا اب اس کو اپنی آنکھ سے دیکھ لیا اور جو چیز پہلے سے یقینی تھی اب وہ مشاہدہ عینی بن کر سامنے آگئی اللہ تعالیٰ کالاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے اپنی قدرت کا کرشمہ مجھ کو میری آنکھوں سے دکھلایا۔ ف) ۔ اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر کو چار نشانیاں دکھلائیں دو ان کی ذات میں اور دو خارجی۔ 1۔ سو سال مردہ کو رکھ کر ان کو دوبارہ زندہ کرنا۔ 2۔ سول سال تک ان کے جسم کا صحیح سالم محفوظ رہنا، حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کے بدن کا کھانا حرام کردیا ہے۔ اور خارجی دو نشانیاں یہ تھیں کہ ایک طعام اور شراب کی کہ سو سالہ میں تغیر نہ آیا اور جس طرح حضرت عزیر کے جسم مبارک پر کوئی تغیر نہ آیا اور دوسری نشانی حمار (گدھے) کی کہ مر کر ہڈیوں کا ڈھیر ہوگیا اس کو دوبارہ زندہ کرکے دکھایا تاکہ کیفیت احیاء موتی کی معلوم ہوجائے کہ راکب اور مرکوب دونوں سو سال کے بعد زندہ ہوئے اور حضرت عزیر یہاں سے اٹھ کر اسی حمار پر سوار ہوکربیت المقدس واپس ہوئے اور شہر کو آباد پایا اور اپنے محلہ اور گھر پہنچے تو کسی نے نہ پہچانا اس لیے کہ بچے تو بوڑھے ہوچکے تھے اور حضرت عزیر (علیہ السلام) جوان رہے اور اللہ نے ان کی حیات اور جوانی کو محفوظ رکھا پھر علامتیں دیکھ کر سب نے پہچانا اور یقین کیا کہ یہ عزیر ہمار باپ ہیں تفصیل کے لیے امام قرطبی کی تفسیر ص 294 ج 3 کو دیکھئے۔
Ayah 2:260

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:260 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے (خدا سے) کہا کہ اے پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا خدا نے فرمایا کیا تم نے (اس بات کو) باور نہیں کیا ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں لیکن (میں دیکھنا) اس لیے (چاہتا ہوں) کہ میرا دل اطمینان حاصل کرلے خدا نے کہا کہ چار جانور پکڑو اور اپنے پاس منگا لو (اور ٹکڑے ٹکڑے کرادو) پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر رکھو دو پھر ان کو بلاؤ تو وہ تمہارے پاس دوڑے چلے آئیں گے اور جان رکھو کہ خدا غالب اور صاحب حکمت ہے

قصہ سوم۔ نیز برائے اثبات حشر ونشر۔ قال تعالی، واذ قال ابراہیم رب ارنی۔۔ الی۔۔ حکیم۔ اور اسی گزرنے والے شخص کے قصہ کے مانند حضرت ابراہیم کا قصہ ذکر کیجئے جس وقت کہ ابراہیم نے کہا اے پروردگار آپ مجھ کو یہ دکھلا دیجئے کہ آپ کس طرح مردوں کو زندہ کرتے ہیں تاکہ مجھ کو معلوم ہوجائے کہ آپ قیامت کے دن کس طرح اور کس کیفیت کے ساتھ چاہیں مردوں کو زندہ کرسکتے ہیں آپ کے زندہ کرنے کی عقلا بیشمار کیفیتیں ممکن ہیں معلوم نہیں کہ قیامت کے دن مردوں کے زندہ کرنے کی کیا کیفیت ہوگی اس لیے اس کی تعیین چاہتا ہوں کہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں کہ کس کیفیت کے ساتھ مردے زندہ ہوں گے کیونکہ کیف کے ذریعہ سے جو سوال کیا جاتا ہے۔ اگرچہ اکثر اور بیشتر وہ کیفیت دریافت کرنے کے لیے ہوتا ہے اصل شی تو یقینی ہوتی ہے فقط کیفیت کی تعیین مطلوب ہوتی ہے لیکن بعض مرتبہ کیف کا استعمال انکار اور تعجب کے موقعہ پر بھی ہوتا ہے مثلا کوئی شخص یہ دعوی کرے کہ میں یہ بوجھ اور وزن اٹھا سکتا ہوں اور تمہارا گمان یہ ہو کہ یہ شخص اس وزن کے اٹھانے سے قاصر ہے تو ایسے موقعہ پر اس سے یہ کہتے ہو، مجھ کو بتاؤ کہ تم اس بوجھ کو کس طرح اٹھاؤ گے۔ اور مقصوڈ یہ ہوتا ہے کہ تم نہیں اٹھا سکو گے اور اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا قلب سلیم اس احتمال کے شائبہ سے بھی پاک اور منزہ ہے اس لیے سوال فرمایا اولم تو من، اے ابراہیم کیا تم اس پر یقین نہیں رکھتے تاکہ ابراہیم جب اس سوال کا جواب دیں و ان کی مراد اور ان کا مقام اور مرتبہ معلوم ہوجائے اور کسی کم عقل کو خلیل اللہ کی مراد کے سمجھنے میں کوئی غلطی نہ پیش آئے چناچہ ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب میں عرض کیا کہ اے میرے پروردگار کیوں نہیں مجھے آپ کے کمال قدرت کا یقین کامل ہے آخر مجھ کو بھی تو آپ نے اپنی قدرت سے زندہ کیا ہے و لیکن یہ درخواست یقین حاصل کرنے کے لیے نہیں کی بلکہ اس لیے کی ہے کہ تاکہ میرے قلب کو سکون اور اطمینان ہوجائے اس لیے کہ جب یہ مشاہدہ گزشتہ اذعان اور ایقان کے ساتھ مل جائے گا تو مزید اطمینان کا موجب ہوگا اور مشاہدہ سے احیاء کی کیفیت بھی متعین ہوجائے گی۔ حدیث میں ہے کہ خبر مشاہدہ اور معابنہ کے برابر نہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر خبر دی کہ آپ کی قوم گوسالہ پرستی میں مبتلا ہوگئی تو اس نے اطلاع پانے والے پر الواح تورات یعنی توریت کی تختیوں کو ہاتھ سے نہیں پھینکا جب شہر میں واپس آ کر ان کی گوسالہ پرستی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تو غصہ میں آکر تختیاں ہاتھ سے پھینک دیں کمارواہ احمد والطبرانی بسند صحیح۔ وقال تعالی، والقی الالواح۔ اسی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ سوال شک اور تردد کی بنا پر نہ تھا بلکہ مشاہدہ اور معاینہ کے ساتھ خاص اطمینان اور سکون کا حاصل کرنا مقصود تھا کیونکہ جو سکون اور اطمینان مشاہدہ سے حاصل ہوتا ہے وہ خبر اور استدلال سے نہیں حاصل ہوسکتا شاہ ولی اللہ لکھتے ہیں یعنی عین الیقین میں خواہم اللہ یعنی برای العین مجھ کو احیاء موتی کی کیفیت دکھلادے اور کسی نے کیا خوب کہا ہے ، ولکن للعیان لطیف معنی، لہ سأل المشاھدۃ الخلیل۔ یاد رہے کہ بارگاہ خداوندی میں اس قسم کا سوال وہی کرسکتا ہے جس کو اس بارگاہ میں خاص تقرب حاصل ہو جوش محبت اور مقام انس اور مقام ناز اس کو اس عرض ونیاز پر آمادہ کرے باقی جس شخص کو خدا کی قدرت ہی میں شک اور شبہ ہو اس کا اس بارگاہ عالی میں گزر ہی ممکن نہیں سوال راچہ مجال۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اچھا پس چار پرندے لے لو اور پھر ان کو اپنے نزدیک کرلو یعنی ان کی صورت پہچان کر اپنے پاس کرلو اور اپنے سے ہلالو تاکہ ان کی خوب شناخت ہوجائے اور وہ بھی زندہ ہونے کے بعد تم کو پہچان لیں اور تمہاری آواز پر تمہارے پاس دوڑے چلے آئیں بعدازاں ان کو ذبح کرکے اور ان کے گوشت اور پوست کو خلط ملط کرکے ہر پہاڑ پر ایک ایک ٹکڑا رکھ دو پھر ان کو بلاؤ سب زندہ ہو کر دوڑتے ہوئے تیرے پاس چلے آئیں گے اس طرح سے تم اپنا اطمینان کرلو اور یہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ بڑا غالب اور زبردست ہے کوئی اس کی مشیت اور ارادہ کو روک نہیں سکتا یعنی جس طرح خدا تعالیٰ ان جانوروں کے متفرق اجزاء کو دوبارہ جوڑ کر اور گوشت اور پوست چڑھا کر زندہ کرسکتا ہے اسی طرح قیامت کے دن مردوں کے جسموں کے متفرق ریزوں کو جمع کرکے ان میں روح ڈال سکتا ہے اور بڑی حکمت والا ہے کوئی اس کے افعال کی کنہ کو نہیں پہنچ سکتا اس کی حکمت کہ اس نے چار پرندوں کے ذبح کرکے پہاڑوں پر رکھنے کا کیوں حکم دیا اسی کو معلوم ہے کہ اس میں کیا حکمت ہے۔ فوائد ولطائف۔ 1۔ یہ قصہ اور گزشتہ قصہ قریب قریب ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے اس قصہ میں حضرت ابراہیم کے نام کی تصریح فرمائی اور پہلے قصہ میں گذرنے والے کا نام نہیں ذکر فرمایا بظاہر وجہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم نے سوال میں ادب کو خاص طور پر ملحوظ رکھا اور گزشتہ سوال، انی یحییٰ ھذہ اللہ بعد موتھا میں ایہام اور شبہ انکار اور تعجب کا ہوتا تھا اس لیے ان کا نام نہیں ذکر فرمایا نیز جواب میں امتحان اور تجربہ خود ان پر ہوا اور سول سال مردہ کو رکھنے کے بعد سوال کا جواب دیا گیا اور حضرت ابراہم (علیہ السلام) کو فوری جواب دیا گیا۔ 2۔ یہ دونوں واقعے حضرت عزیر کا واقعہ اور حضرت ابراہیم کا واقعہ اس امر کی واضح دلیل ہیں کہ قیامت کے دن احیاء موتی اس طرح سے ہوگا کہ اجسام کے متفرق اجزاء کو جمع کرکے ان میں ان کی روح ڈال دی جائے گی اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ معاد جسمانی ہوگی نہ کہ فقط روحانی اور جو لوگ معاد جسمانی کے منکر ہیں وہ صریح نصوص قرآنیہ اور احادیث نبویہ کے منکر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں جیسا کہ امام غزالی نے اس کی تصریح کی ہے۔ 3۔ نیز ان دونوں قصوں یہ امر بخوبی ثابت ہوگیا کہ حق تعالیٰ کبھی کبھی بطور خرق عادت اور بطور معجزہ دنیا میں بھی مردوں کو زندہ فرمادیتے ہیں اور اس کے علاوہ قرآن کریم کی متعدد آیات سے صراحتہ دنیا میں مردوں کا زندہ کرنا بیان کیا گیا بنی اسرائیل کو ایک مرتبہ ہلاک کرکے دوبارہ زندہ کرنا، واذا قلتم یا موسیٰ لن نومن۔۔۔ الی۔۔۔ تشکرون۔ میں ذکر فرمایا اور علی ہذا بنی اسرائیل کے ان ہزاروں آدمیوں کو جو موت سے ڈر کر بھاگے تھے مار کر دوبارہ زندہ کرنا الم ترالی الذین خرجوا۔۔۔ الی۔۔۔ احیاھم۔ میں صراحۃ مذکور ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مردوں کو زندہ کرنا واذ تحی الموتی باذن اللہ قرآن کریم میں متعدد جگہ صراحۃ مذکور ہے۔ مرزاقادیانی نے مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا اور دیکھا کہ مسیح بن مریم کی طرح میں تو مردوں کو زندہ کرکے دکھانے سے عاجز ہوں اس لیے اس نے اپنی فرضی نبوت کے قائم رکھنے کے لیے حضرت عیسیٰ اور دیگر انبیاء کرام کے اس قسم کے تمام معجزات کا انکار کردیا اور یہ دعوی کیا کہ یہ ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو ایک دفعہ مار کر دوبارہ دنیا میں بھیجئے اگر یہ اللہ کی عام عادت ہوتی تو لوگ قیامت کے منکر نہ ہوتے بیشک اللہ کا یہ قانون عام ہے مگر ناممکن اور محال نہیں، اللہ تعالیٰ بطور اعجاز اور اکرام کبھی کبھی دنیا میں بھی کسی مردہ کو اپنی کسی برگزیدہ بندہ کی دعا سے دوبارہ زندہ فرمادیتے ہیں تاکہ خدا کی قدرت اور اس نبی کی نبوت اور قیامت کی حقانیت ثابت ہوجائے، ملحد اور بےدین لوگ جو حضرات انبیاء کے معجزات اور خوارق عادات کے منکر ہیں وہ اس قسم کے واقعات میں طرح طرح کی تحریفات کیا کرتے ہیں خوب سمجھ لو۔ 4۔ ان چارپرندوں کے نام اگرچہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں مگر ابن عباس اور علماء تابعین سے منقول ہے کہ ان کے نام یہ تھے، مور اور کبوتر، اور مرغ اور کوا اور بعض نے بجائے کوے کے غرنوق کو ذکر کیا ہے۔ انسان چونکہ عناصر اربعہ سے مرکب ہے اس لیے عجب کہ اس کے مناسب چار پرند مختلف الطباع لینے کا حکم دیا گیا ہو تاکہ معلوم ہوجائے کہ قیامت کے دن بھی اسی طرح اجزاء عنصریہ متفرق اور جدا ہونے کے بعد پھر اپس میں مل جائیں گے اور روح ڈال کر زندہ کردیے جائیں گے۔ واللہ اعلم۔ 5۔ فصرھن الیک کی جو تفسیر ہم نے ذکر کی ہے چار پرندے لے کر ان کو ذبح کرو اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے اور چار مختلف پہاڑوں پر ان کا ایک ایک ٹکڑا رکھو اور پھر ان کو آواز دو بحکم خداوندی سب زندہ ہو کر تمہاری آواز پر تمہارے پاس دوڑے چلے آئیں گے یہی تفسیر علماء صحابہ اور تابعین سے منقول ہے ابن عباس اور سعید بن جبیر اور عکرمہ اور ابومالک اور ابوالاسود دولی اور وہب بن منبہ اور حسن بصری اور سدی وغیرھم سے منقول ہے (تفسیر قرطبی ص 301 ج 3) امام فخر الدین رازی اس تفسیر کو نقل کرکے فرماتے ہیں کہ اسی تفسیر پر تمام مفسرین کا اجماع ہے اور یہی ظاہر قرآن کا مدلول ہے صرف ایک ابومسلم اصبہانی سے منقول ہے کہ وہ اس قصہ کا منکر تھا اور یہ تھا کہ حضرت ابراہیم کا یہ قصہ کوئی حقیقت اور واقعہ نہیں بلکہ محض تشبیہ اور تمثیل ہے اور مراد یہ ہے کہ چار پرندے لے کر پال لو اور ان کو اپنے سے مانوس کرلو اور دانہ ڈال کر ان کو اپنے سے ایسا ہلالو کہ اگر وہ پہاڑ پر بھی بیٹھے ہوں اور تم ان کو آواز دو تو وہ فورا تمہاری آواز پر دوڑے چلے آئیں اسی طرح اے ابراہیم تم لوگوں کو اپنے سے اتنا مانوس بناؤ کہ جب تم ان کو حق کی طرف بلاؤ تو سب دوڑے چلے آئیں امام رازی فرماتے ہیں کہ ابومسلم کا یہ قول، مفسرین کی اجماعی تفسیر کے خلاف ہے اس لیے کہ اس پر سب کا اجماع ہے کہ وہ پرندے ذبح کیے گئے اور ان کے ٹکرے ٹکڑے کیے گئے لہذا زبح اور قطع سے انکار کرنا اجماع سے انکار کرنا ہے علاوہ ازیں اگر آیت کا یہ مطلب ہو جو ابومسلم نے بیان کیا ہے تو پھر احیاء موتی کا کیا معجزہ ظاہر ہوا پرندوں کو دانہ ڈال کر اپنے سے ہلالینا یہ کام تو وہ لوگ بہت زیادہ آسانی سے کرسکتے ہیں جو مرغ اور بٹیر پالتے ہیں اس میں ابراہیم خلیل اللہ کی کیا خصوصیت ہوئی اور حضرت ابراہیم کی کیا کیفیت ظاہر ہوئی چند جانوروں کو پال لینا اور ہلالینا اور ان کو بلالینا اور اس کا نام احیاء موتی کیسے ہوسکتا ہے اور حضرت ابراہیم نے رب ارنی کیف تحی الموتی، درخواست کی تھی کہ مجھ کو یہ امر دکھلادیا جائے کہ مردے کس طرح زندہ ہوتے ہیں ابومسلم کے قول پر وہ درخواست منظور نہیں ہوئی حالانکہ ظاہر آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم کی ہ دعا درجہ اجابت کو پہنچی اور ابومسلم کے قول پر دعا کا اجابت کو پہنچنا نہیں پایا جاتا نیز اس ایت میں، ثم اجعل علی کل جبل منھن جزء۔ کا جو لفط آیا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان پرندوں کے کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑ کردیے گئے تھے زندہ پرندہ کابلالینا مراد نہیں (تفسیر کبیر ص 494 ج 2، تفسیر نیسابوری ص 38 ج 3) ۔ علامہ آلوسی ابومسلم کے اس قول کو نقل کرکے لکھتے ہیں، اہل علم پر پوشیدہ نہیں کہ ابومسلم کا یہ قول اجماع مسلمین کے خلاف ہے اور ایک قسم کا ہذیان اور بکواس ہے جس کی طرف اہل دین کبھی مائل نہ ہوں گے نیز اس معنی پر ایت کے ظاہری مدلول سے بےوجہ عدول اور انحراف کرنا ہے اور اخبار صحیحہ اور آثار معتبرہ اس ظاہر کی موئد ہیں لہذا ایسے ظاہر اور صریح کو چھوڑ کر ایسے معنی کی طرف مائل ہونا جس کے سننے سے بھی کانوں کو گرانی ہوتی ہے کوئی وجہ نہیں کہ بلا کسی وجہ اور بلا کسی داعی کے اس معنی کی طرف رجوع کیا جائے لہذا حق یہ ہے کہ جماعت مفسرین نے آیت کے جو معنی بیان کیے ہیں اسی کا اتباع کیا جائے اور اللہ کا ہاتھ جماعت کے سر پر ہوتا ہے۔ حکایت) ۔ بعض بزرگوں سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قصہ کو واعلم ان اللہ عزیز حکیم۔ پر ختم فرمایا اشارہ اس طرح تھا کہ اے ابراہیم تم نے ہم سے رب ارنی کیف تحی الموتی کی درخواست کی ہم نے اس کو منظور کیا ایک وقت آنے والا ہے کہ ہم تم یہ کہیں گے کہ عبد ارنی کیف تمیت الاحیاء۔ اے میرے بندے تو مجھ کو یہ دکھلا کہ تو میرے لیے زندہ کو کسطرح موت دیتا ہے یعنی زندہ بیتے کو کس طرح میرے لیے قربان کرتا ہے (روح المعانی ص 27 ج 3) ۔ رجوع باحکام صدقات۔ ابتداء پارہ میں اہل ایمان کو حکم دیا تھا کہ وقت کو غنیمت سمجھیں اور موت اور قیامت کے آنے سے بیشتر جو کچھ خدا کی راہ میں خرچ کرسکیں اس سے دریغ نہ کریں بعدازاں اس کے مناسب مبداء اور معاد کے اثبات کے لیے تین قصے ذکر فرمائے اب پھر خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا ذکر فرماتے ہیں کہ اے اہل ایمان جب قیامت کا حق ہونامعلوم ہوگیا تو پھر آخرت کے لیے کوئی توشہ بھی تیار کرو جو قیامت کے دن تمہیں کام آئے نیز نفس پر آخرت کے لیے خرچ کرنا بہت شاق اور گراں ہوتا ہے اور جب قیامت اور آخرت کا یقین ہوجائے تو پھر خرچ کرنا آسان ہوجاتا ہے اس لیے اثبات قیامت اور آخرت کے بعدعالم آخرت کے لیے سازوسامان تیار کرنے کی ترغیب دی جس کا سلسلہ دور تک چلا گیا ہے۔