2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 2:17–18

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَاحَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 2:17 in the Quran reader

ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے (شب تاریک میں) آگ جلائی، جب آگ نے اس کے اردگرد کی چیزیں روشن کیں تو خدا نے ان لوگوں کی روشنی زائل کردی اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں دیکھتے

صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَۙ Open ayah 2:18 in the Quran reader

(یہ) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں کہ (کسی طرح سیدھے راستے کی طرف) لوٹ ہی نہیں سکتے

قال تعالیٰ مثلھم کمثل الذی استوقد نارا۔۔۔ الی۔۔ فھم لایرجعون (ربط): حق جل شانہ جب منافقین کے قبائح بیان کرچکے تو مزید ایضاح کے لیے دو مثالیں بیان کرتے ہیں تاکہ اچھی طرح ان کی سفاہت اور بےوقوفی واضح ہوجائے۔ جس کا ماقبل میں بیان ہوا۔ حق جل شانہ نے قرآن کریم میں بار بار ایمان اور ہدایت کو نور فرمایا ہے اور مردہ دلوں کے لیے حیات اور زندگی فرمایا ہے اور کفر اور ضلالت کو ظلمت اور تاریکی اور دلوں کی موت اور بربادی بتایا ہے اس لیے حق تعالیٰ نے منافقین کے مناسب جنہوں نے ہدایت کے عوض میں ضلالت اور گمراہی کو اختیار کیا دو مثالیں بیان فرمائیں ایک ناری اور دوسری مائی اس لیے کہ نار مادۂ نور ہے اور ماء یعنی پانی مادۂ حیات ہے۔ کما قال تعالی۔ وجعلنا من الماء کل شیء حیی۔ مثال اول منافقین مثال ان منافقین کی کو تہ نظری اور غلط فہمی اور نور ہدایت کے بدلہ میں ظلمات کو ضلالت کو خرید کر خسارہ اٹھانے میں اس شخص کی سی ہے جس نے آگ روشن کی پس جب آگ نے اس کے آس پاس کو خوب روشن کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روشنی کو سلب فرما لیا اور چھوڑ دیا ان کو ایسی تاریکیوں میں کہ کچھ نہیں دیکھتے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے حکم سے محمد رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی مشعل کو روشن کیا جس کی وجہ سے حق اور باطل اور ہدایت اور ضلالت خوب واضح اور روشن ہوگئے اور تمام مخلوق نے اس میں راہ پائی لیکن منافق اس وقت اندھے ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے نور فطرت اور نور بصیرت کو سلب فرمالیا۔ آفتاب نبوت وہدایت نے اگرچہ تمام عالم کو روشن اور منور کردیا۔ مگر جب تک آنکھ میں نور اور بینائی نہ ہو تو آفتاب کی روشنی کیا کام آوے گی۔ کاش کہ نرے اندھے ہوتے تب بھی غنیمت تھا۔ کیونکہ اندھا کسی کو پکار کر اس کی بات سن سکتا ہے مگر جب بہرا اور گونگا بھی ہو تو پھر راہ پر آنے کی کوئی امید نہیں۔ نابینا ہونے کی وجہ سے دیکھ نہیں سکتا۔ بہرا ہونے کی وجہ سے کسی کی نصیحت بھی نہیں سن سکتا اور گونگا ہونے کی وجہ سے کسی سے کچھ پوچھ بھی نہیں سکتا۔ اسی طرح منافقوں کو نہ عقل کی آنکھ ہے کہ جس سے خود سیدھا اور غلط راستہ پہچانیں اور دیکھ سکیں اور نہ مرشد اور کسی اللہ والے کی طرف رجوع ہے کہ وہ ان کی دستگیری کرے اور ان کا راہنما بن جائے اور نہ خود حق کی طرف کان لگاتے ہیں۔ پھر ایسے شخص کی راستہ پر آنے کی کیونکر امید ہو۔ ھذا توضیح ما قالہ الشاہ عبدالقادر الدھلوی فی موضح القرآن۔ اور حضرت شاہ ولی اللہ قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں۔ مترجم گوید حاصل مثل آنست کہ اعمال منافقان ہمہ حبط شدند چنان کہ روشنی آں جماعۃ دو رشد۔ اتنہی خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ ہدایت کے بعد گمراہی میں چلا جانا ایسا ہے جیسا کہ روشنی کے بعد اندھیرے میں جا پھنسنا۔ عبداللہ بن مسعود اور دیگر حضرات صحابہ ؓ سے اس آیت شریفہ کی تفسیر اس طرح منقول ہے کہ نبی کریم (علیہ الصلوۃ والسلام) جب ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف فرما ہوئے تو کچھ لوگ اسلام میں داخل ہوئے اور چندے منافق بن گئے تو ان کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کوئی شخص ظلمت اور تاریکی میں تھا اس نے آگ سلگائی اس کی روشنی سے آس پاس کی تمام چیزیں نظر آنے لگیں اور جو چیزیں بچنے کے قابل تھیں۔ وہ اس کو معلوم ہوگئیں۔ یکایک وہ آگ بجھ گئی اور راستہ کے کانٹے اس کی نگاہ سے اوجھل ہوگئے۔ اب وہ حیران اور سرگرداں ہے کہ کس چیز سے بچے اور کس چیز سے نہ بچے۔ اسی طرح یہ منافقین پہلے سے کفر اور شرک کی ظلمتوں اور تاریکیوں میں تھے کہ اسلام لے آئے جس کی وجہ سے حلال و حرام خیر اور شر سب معلوم ہوگیا اور یہ سمجھ گئے کہ کس چیز سے بچیں اور کس چیز سے نہ بچیں۔ اسی حالت میں تھا کہ منافق ہوگیا۔ اور مثل سابق پھر ظلمات کفر میں جا پھنسا اب اس کو حلال اور حرام، خیر اور شر کی کوئی تمیز نہیں۔ (ابن کثیر) امام رازی فرماتے ہیں کہ یہ تشبیہ نہایت صحیح اول ایمان لا کر نور حاصل کیا۔ پھر نفاق کر کے اس نور کو ضائع کیا۔ اور ہمیشہ کے لیے حیرت میں پڑگئے۔ راہ دنیا میں جو ظلمت کی وجہ سے پریشانی لاحق ہوتی ہے اس کو اس پریشانی اور حیرت سے کہ جو راہ آخرت میں باطنی ظلمات کی وجہ سے پیش ائے۔ وہ نسبت بھی نہیں جو قطرہ کو دریا کے ساتھ ہے۔ دنیا کی ہر پریشانی محدود اور متناہی ہے اور آخرت کی پریشانی غیر محدود اور غیر متناہی۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ یہ لوگ کسی وقت میں بھی ایمان نہیں لائے۔ ابتداء ہی سے منافق تھے کسی وقت بھی دل سے ایمان نہیں لائے یہ لوگ از اول تا آخر منافق رہے تو اس صورت میں آیت کا مطلب وہ ہوگا جو حضرت ابن عباس ؓ اور ابو العالیہ اور ضحاک اور قتادہ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ منافقین ہے کہ منافقین نے محض زبان سے لا الہ الا اللہ کا اقرار کیا اور محض ظاہراً اسلام لائے تو ان کو یہ نفع ہوا کہ اس کلمۂ طیبہ کی روشنی میں دنیا میں خوب امن سے رہے۔ جان ومال محفوظ رہا۔ مسلمانوں کے ساتھ مال غنیمت میں شریک رہے۔ جب زندہ رہے کلمۂ شہادت کی روشنی سے یہ دنیوی منافع حاصل کرتے رہے۔ مرتے ہی ان کا یہ نور جاتا رہا اور عقاب سرمدی کے ظلمات میں جا پھسنے (ابن کثیر) کلمۂ توحید اور کلمۂ شہادت اگر اخلاص سے کہا جائے تو سبحان اللہ نور علی نور ہے۔ لیکن یہ کلمہ اگر نفاق سے بھی کہا جائے تب بھی اس میں ایک نور ہے اگرچہ وہ اخلاص نہ ہونے کی وجہ سے ناتمام اور ناکافی ہے۔ اس لیے کہ یہ کلمہ سراسر حق ہے اگرچہ منافق اس کو اپنی حماقت سے حق نہ سمجھے۔ اور ہر حق میں نور اور روشنی ہے۔ بہرحال منافق کو اس کلمۂ طیبہ کے اعتراف واقرار کی وجہ سے ایک درجہ کا نور ضرور حاصل ہوجاتا ہے۔ ظلمت اور تاریکی جو کچھ ہے وہ نفاق کی وجہ سے ہے۔ اور اس کلمۂ حق کی روشنی سے دنیاوی فوائد اور منافع حاصل کیے جن کو حق جل شانہ نے ماحولہ سے تعبیر فرمایا۔ ہر منافق اور خود غرض کا طریق یہی ہے کہ ہر وقت اس کی نظر ماحول پر رہتی ہے۔ اسی طرح ان منافقین نے طاہری ماحول کو دیکھ کر فقط زبانی قول پر اکتفا کیا اور بجائے مغز کے خول کو کافی سمجھا اور یہ نہ سوچا کہ ظاہری ماحول کو دیکھنا احول (بھینگا) کا کام ہے۔ چونکہ دنیاوی منافع چند روز ہوتے ہیں اس لیے اس کو تشبیہ اس جلانے والی آگ سے دی گئی جو تھوڑی دیر میں بجھ گئی اور اس کا نفع جاتا رہا اور دائمی حیرت و حسرت نے اس کو آگھیرا۔ ذھب اللہ بنورھم۔ امام غزالی قدس اللہ سرہ مشکوۃ الانوار میں فرماتے ہیں کہ نور اس کو کہتے ہیں جو بذاتہ اور بنفسہ ظاہر ہو اور دوسرے کے لیے مظہر ہو۔ علامہ سہیلی روض الانف ص 126 میں فرماتے ہیں کہ ضیاء اس روشنی کو کہتے ہیں جو نور سے منتشر ہو۔ نور ضیاء کے لیے اصل مبداء اور سرچشمہ ہے یہی وجہ ہے کہ حق تعالیٰ نے جعل الشمس ضیاء والقمرا نورا میں شمس کو ضیاء اور قمر کو نور فرمایا۔ اس لیے قمر کی روشنی میں وہ انتشار اور پھیلاؤ نہیں جو آفتاب کی روشنی میں ہے اور حدیث میں ہے کہ الصلوۃ نور والصبر ضیاء نماز نور ہے اور صبر ضیاء ہے۔ نماز چونکہ عمود اسلام ہے اور فحشاء اور منکر سے بجاتی ہے اس لیے اس کو نور فرمایا کہ یہی نماز اس صبر کی اصل اور جڑ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ضیاء فرمایا ہے۔ فحشاء اور منکر سے بچنا ہی صبر کا سرچشمہ ہے صبر کے معنی یہ ہیں کہ اپنے نفس کو خدا کی اطاعت پر روکنا اور اس کی معصیت سے بچانا۔ اس لیے صبر اسلام اور ایمان کے اکثر شعبوں کو حاوی اور شامل ہے لہذا صبر میں بہ نسبت نماز کے بہت زائد وسعت اور انتشار ہے جو نماز کی محافظت اور پابندی سے پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ نے نماز کو نور اور صبر کو ضیاء فرمایا اور چونکہ نور اصل اور مبداء ہے اور ضیاء اس کے تابع ہے۔ اس لیے حق جل وعلاء پر نور کا اطلاق درست ہے (کما قال اللہ تعالیٰ اللہ نور السموات والارض) اور ضیاء کا اطلاق جائز نہیں۔ اس کہ اس کا نور تمام روشنیوں کی اصل ہے اس کا نور کسی کے تابع نہیں۔ آہ کلامہ۔ حکماء نے نور اور ضیاء میں یہ فرق کیا ہے جس روشنی میں حرارت اور گرمی ہو اس کو ضیاء کہتے ہیں اور جس روشنی میں ٹھنڈک ہو اس کو نور کہتے ہیں۔ اسی وجہ سے حق تعالیٰ نے نبی کریم علیہ الصلوہ والتسلیم کی آسان اور نرم شریعت کو نور فرمایا کما قال اللہ تعالیٰ قد جاء کم من اللہ نور و کتاب مبین (بیشک آیا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک عظیم نور اور ایک روشن کتاب) اور شریعت موسویہ کو احکام شاقہ پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ضیاء فرمایا کما قال تعالیٰ ولقد اتیناموسی وھروان الفرقان وضیاء۔ بیشک دی ہم نے موسیٰ کو حق اور باطل میں فرق کرنے والی کتاب اور تیز روشنی اور اسی وجہ سے کہ نماز میں آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور صبر میں حرارت اور گرمی ہے نماز کو نور اور صبر کو ضیاء فرمایا۔ اور اس مقام پر حق تعالیٰ شانہ نے ذھب اللہ بنورھم نے فرمایا اور ذھب اللہ بضوءھم نہ فرمایا اس لیے کہ مقصد یہ ہے کہ نور ان سے بالکلیہ زائل ہوگیا اور روشنی کا نام ونشان بھی باقی نہ رہا۔ ہر طرف سے ظلمت اور تاریکی نے ان کو آگھیر لہذا اگر اس معام پر بجائے ذھب اللہ بنورھم کے ذھب اللہ بضوءھم کہا جاتا تو یہ معنی ہوتے کہ اللہ نے ان کی ضیاء یعنی نور کی شدت اور اس کے انتشار کو زائل کردیا اور اصل نور باقی رہ گیا۔ اور یہ معنی مقصود کے خلاف ہیں۔ اس لیے کہ مقصود تو یہ ہے کہ نور ان سے بالکلیہ زائل ہوگیا اور یہ مقصد نہیں کہ اصل نور تو باقی رہا محض اس کی شدت اور اس کی تیزی زائل ہوگئی۔ فھم ذلک فانہ دقیق ولطیف ابتداء آیات میں چونکہ تذکرہ نار کا تھا اس لیے بظاہر اس کا اقتضاء یہ تھا کہ ذھب اللہ بنورھم میں بجائے نور کے نار کا ذکر کیا جاتا اور اس طرح کہا جاتا۔ ذھب اللہ بنورھم میں بجائے نور کے نار کا ذکر کیا جاتا اور اس طرح کہا جاتا۔ ذھب اللہ بنارھم (اللہ نے ان کی آگ کو بجھا دیا) لیکن بجائے نار کے نور کو اس لیے ذکر کیا گیا کہ نار میں دو چیزیں ہوتی ہیں۔ ایک نور اور ایک حرارت اور احراق (جلانا) لہذا اشارہ اس طرف ہے کہ اس نار میں سے نور (روشنی) کو تو سلب کرلیا گیا اور حرارت اور احراق کو باقی چھوڑ دیا گیا۔ وترکھم فی ظلمت لا یبصرون۔ اور چھوڑا ان کو ایسی تاریکیوں میں کہ کسی شئے کو بھی نہیں دیکھتے۔ حدیث میں ہے کہ الایمان بضع وبسعون شعبۃ ایمان کے ستر سے زائد شعبے ہیں اور ظاہر ہے کہ ایمان کا ہر شعبہ ایک نور اور مشعل ہے۔ علی ہذا کفر اور نفاق کا ہر شعبہ ظلمت اور تاریکی ہے۔ پس کفر اور نفاق کے شعبوں کے بقدر یہ لوگ ظلمات اور تاریکیوں میں مبتلا ہیں۔ صم بکم عمی فھم لا یرجعون۔ وہ بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں پس یہ لوگ اب کسی صورت حق کی طرف نہیں لوٹیں گے۔ اس لیے کہ جب ان کی روشنی چھین لی گئی اور اندھیروں میں چھوڑ دئیے گئے تو ایسے مدہوش ہوگئے کہ سارے حواس مختل ہوگئے لہذا اب نہ حق کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ سن سکتے ہیں اور نہ زبان سے کسی سے پوچھ سکتے ہیں پس ضائع کردہ نور ہدایت کی طرف کیسے لوٹ سکتے ہیں۔ تنبیہ : یہ مثال ان منافقین کی ہے جن کے دلوں میں نفاق خوب راسخ ہوچکا ہے اب وہ کسی طرح ہدایت کی طرف رجوع کرنے والے نہیں۔ جیسا کہ صم بکم عمع فھم لا یرجعون سے معلوم ہوتا ہے اور دوسری آنے والی مثال ان منافقین ہے جو ابھی متردد اور مذبذب ہیں کبھی اسلام کی طرف مائل ہوتے ہیں اور کبھی کفر کی طرف حیران ہیں کہ کیا کریں۔
Ayahs 2:19–20

اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ١ۚ یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ١ؕ وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:19 in the Quran reader

یا ان کی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان سے (برس رہا ہو اور) اس میں اندھیرے پر اندھیرا (چھا رہا ہو) اور (بادل) گرج (رہا) ہو اور بجلی (کوند رہی) ہو تو یہ کڑک سے (ڈر کر) موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور خدا کافروں کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے

یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ١ؕ كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِ١ۙۗ وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 2:20 in the Quran reader

قریب ہے کہ بجلی (کی چمک) ان کی آنکھوں (کی بصارت) کو اچک لے جائے، جب بجلی (چمکتی اور) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں اور جب اندھیرا ہوجاتا ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر خدا چاہتا تو ان کے کانوں (کی شنوائی) اور آنکھوں (کی بینائی دونوں) کو زائل کردیتا، بلاشبہ خدا ہر چیز پر قادر ہے

منافقین کی دوسری مثال قال تعالیٰ او کصیب من السماء۔۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ علی کل شیئ قدیر یا مثال 1 ان منافقین کی گمراہی کو ہدایت کے بدلہ خرید کر خسارہ اٹھانے میں ایسے ہے جیسے آسان سے زوردار پانی پڑ رہا ہو۔ من السماء کا لفظ بڑھانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ وہ بارش آسمان کے تمام اطراف اور جوانب کو محیط ہے جس طرح پورے آسمان کو سماء کہتے ہیں اس طرح آسمان کی جانب کو بھی سماء کہتے ہیں۔ نیز من السماء کے لفظ میں ایک یہ بھی اشارہ ہے کہ اس بارش کو کوئی روک نہیں سکتا۔ کس کی مجال ہے کہ آسمان سے آنے والی چیز کو روک سکے۔ اس میں ا ندھیرے اور گرج اور بجلی ہے۔ جو لوگ اس بزارش میں چل رہے ہیں۔ خوف کی وجہ سے ان کی یہ حالت ہے کہ انگلیوں کے پورے نہیں بلکیہ پوری انگلیاں اپنے کانوں کے انتہائی سوراخ تک پہنچا دینا چاہتے ہیں۔ ہولناک آواز کی وجہ سے موت کے ڈر سے اور اس خوف کی شدت میں یہ بھی نہیں سمجھتے کہ اللہ تو کافروں کو احاطہ کرنے والا ہے۔ کانوں میں انگلیاں دینا اس کے عذاب سے کسی طرح نہیں بچا سکتا۔ قریب ہے کہ بجلی ان کی آنکھیں اچک لے۔ جب وہ برق ان کے لیے چمکتی ہے تو اس کی روشنی میں وہ چلنے لگتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو حیران کھڑے رہ جاتے ہیں۔ یعنی دین اسلام بمنزلہ باران رحمت کے ہے جو مردہ دلوں کے لیے آب حیات سے کہیں بڑھ کر ہے اور سراسر رحمت ہی رحمت اور نعمت ہی نعمت ہے۔ مگر ابتداء میں کچھ محنت اور سختی ہے جیسے بارش رحمت ہی رحمت ہے اور مردہ زمین کی حیات اور زندگی ہے۔ مگر اول میں کچھ کڑک اور بجلی بھی ہے۔ منافق اول کی سختی سے ڈر گئے اور وہ برائے نام مصائب جو حقیقت میں ان کے تزکیۂ نفس کے لیے تھیں ان سے گھبراگئے۔ اور جس طرح بجلی کی چمک سے روشنی پیدا ہو کر راستہ نظر آجاتا ہے اور بادل کی کڑک سے دل کانپ جاتا ہے۔ ان منافق جب دنیوی منافع (جیسے جان ومال کی حفاظت، مال غنیمت میں سے حصہ ملنا) ان منافع پر نظر کرتا ہے تو اسلام کی طرف جھک جاتا ہے اور مثلاً جب جہاد کی سختی پر نظر کرتا ہے تو پھر اسلام سے بدک جاتا ہے بہرحال جس طرح بجلی میں کبھی روشنی اور اجالا اور کبھی تاریکی اور اندھیرا۔ اسی طرح منافق کے دل میں کبھی اقرار ہے اور کبھی انکار۔ کما قال تعالی۔ ومن الناس من یعبد اللہ علی حرف فان اصابہ خیرن اطمان بہ وان اصابتہ فتنۃ انقلب علی وجہہ۔ (1 حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہ فرماتے ہیں۔ مترجم گوید حاصل مثل آں ست کہ منافقان در ظلمت نفسانی افتادہ اند وچوں مواعظ بلیغہ شنوند فی الجملہ ایشاں را تنبی ہے میشود وآں فائدہ نکند مانند مسافراں کہ در شب تاریک وابر حیران باشند و در برق دو سہ قدم بروند وباز بنشیند۔ واللہ اعلم) الحاصل : ان آیات شریفہ میں دین اسلان کو باران رحمت کے ساتھ تشبیہ دی ہے اور ان کے شبہات اور نفسانی اغراض کو ظلمات کے ساتھ اور عذاب الٰہی سے ڈرانے والی آیات کو رعد کے ساتھ اور فتوحات اسلام اور غلبۂ دین حق کو برق کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ جب عذاب سے ڈرانے والی آیتیں نازل ہوتی ہیں تو یہ منافق ان کو سننا نہیں چاہتے کانوں میں انگلیاں دیتے ہیں اور جب کبھی غلبہ اسلام کی برق کوندنے لگتی اور اسلام کا نور چمکنے لگتا ہے تو اسلام کیطرف چلنے لگتے ہیں اور جب اغراض نفسانی ظلمت اور تاریکی کا غلبہ ہوتا ہے مثلا کافروں سے جہاد اور قتال کا حکم آتا ہے تو پھر اسلام کی طرف چلنے سے رک جاتے ہیں۔ ولو شاء اللہ لذھب بسمعھم وابصارھم ان اللہ علی کل شیئ قدیر۔ اور اگر خدا چاہتا تو بغیر بجلی اور کڑک ہی کے ان کے کان اور آنکھیں سب ہی لے جاتا۔ بیشک اللہ ہی ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ کسی سبب کا محتاج نہیں اور نہ اس کے لیے کوئی مانع ہے۔ اس آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ ابھی اس فریق کو پہلے فریق کی طرح بالکل اندھا اور بہرہ نہیں بنایا۔ اس فریق سے ابھی ایمان کی امید بالکل قطع نہیں ہوئی ہے۔ شاید یہ ایمان لے آئیں۔ بخلاف پہلے فیرق کے کہ جن کی مثال مثلھم کمثل الذی استوقد نارا۔ میں ذکر کی گئی۔ ان کے ہدایت پر آنے کی کوئی امید نہیں اس لیے کہ اللہ نے ان کے نور کو بالکل سلب فرمالیا۔ کما قال تعالیٰ ذھب اللہ بنورھم اور وہ بہرے اور گونگے اور اندھے ہیں فھم لایرجعون وہ گمراہی سے ہدایت کی طرف لوٹنے والے نہیں اسی وجہ سے اس فریق کے لیے ذھب اللہ بنورھم۔ نہیں فرمایا۔ اس لیے کہ اللہ نے ان کے نور فطرت کو ابھی بالکل زائل نہیں فرمایا۔
Ayah 2:21

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:21 in the Quran reader

لوگو ! اپنے پروردگار کی عبادت کرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم (اس کے عذاب سے) بچو

تعلیم توحید قال تعالیٰ یا ایہا الناس اعبدوا ربکم الذی۔۔۔ الی۔۔۔ وانتم تعلمون۔ (ربط): یہاں تک مومنین اور کافرین اور منافقین کے احوال علیحدہ علیحدہ بیان فرمائے اب اس آیت میں علی العموم سب کو خطاب فرماتے ہیں۔ نیز وہ ہدایت جس کے لیے یہ کتاب نازل کی گئی وہ دو اصولوں پر منقسم ہے ایک توحید اور دوسرے رسالت۔ اس لیے اول توحید اور عبادت کا مضمون ارشاد فرماتے ہیں جو تقویٰ اور پرہیزگاری کی جڑ ہے۔ یعنی یہ کتاب متقین کی ہدایت کے لیے نازل کی گئی ہے۔ لیکن تقویٰ کے حاصل کرنیکا طریقہ یہ ہے کہ صرف خدائے وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کرو اسی وجہ سے یا ایہا الناس اعبدوا کے بعد لعلکم تتقون۔ فرمایا خلاصہ یہ کہ شروع سورت میں اس کتاب کا متقین کے لیے موجب ہدایت ہونا بیان فرمایا تھا اب ان آیات میں تحصیل تقویٰ کا طریقہ بتلاتے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اے لوگو اگر واقع میں تم انسان ہو اور اپنی انسانیت کی حفاظت چاہتے ہو تو اپنے پروردگار کی عبادت کرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا یعنی تم کو اور تمہارے اصول (آباء و اجداد) کو پردۂعدم سے نکالا اور وجود کا عجیب و غریب خلعت تم کو پہنایا تاکہ تم اس غیر مترقب نعمت اور عمدہ مرحمت کا شکر کرو اور متقی اور پرہیزگار بن جاؤ۔ متقی بننے کا طریقہ یہی ہے کہ یہ وقت تم اس امر کو پیش نظر رکھو کہ وہ تمہارا روردگار ہے ایک لمحہ اور ایک لحظہ کے لیے تم اس کی تربیت سے مستغنی اور بےنیاز نہیں ہوسکتے اسی نے تم کو اور تمہارے آباؤ اجداد کو جن سے تم پیدا ہوئے محض اپنی قدرت سے کتم عدم سے نکال کر وجود کا خلعت پہنایا ہے۔ اپنے امکان کو سوچو تاکہ اس کا وجوب معلوم ہو۔ اپنی عاجزی اور درماندگی کو سوچو تو اس کا قادر مطلق ہونا معلوم ہو اپنی ذلت اور خواری کو سوچو تو اس کا عزیز مطلق اور ذوالجلال اوالاکرام ہونا معلوم ہو۔ اپنے مملوک ہونے کو سمجھو تاکہ اس کا مالک ہونا سمجھ میں آئے۔ وعلی ہذا القیاس غایت محبت اور نہایت تعظیم واجلال کے ساتھ انتہائی تذلل کا نام عبادت ہے مطلق محبت اور مطلق تعظیم اور مطلق تذلل کا نام عبادت ہے۔ مطلق محبت اور مطلق تعظیم اور مطلق تذلل کا نام عبادت نہیں۔ اسی وجہ سے اولاد کی محبت اور والدین اور اساتذہ کی تعظیم اور ان کی تواضع عبادت نہیں کہلائے گی۔ اسی وجہ سے اولاد کی محتب اور والدین اور اساتذہ کی تعظیم اور ان کی تواضع عبادت نہیں کہلائے گی۔ تمام عالم عبادت ہی کے لیے پیدا کیا گیا اور سب سے پہلے انبیاء علیہم الالسما نے اسی عبادت کی دعوت دی۔ حضرت نوح، ہود، صالح اور شعیب وغیرہم علیہم الصلوۃ والسلام نے یہی فرمایا۔ اعبدواللہ مالکم من الہ غیرہ۔ ایک اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وقال تعالیٰ وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون۔ (آپ سے پہلے ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی بھیجتے تھے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں) پس میری ہی عبادت کرو۔ اس لیے اب آئندہ آیت میں معرفت معبود کا طریقہ بتاتے ہیں کہ معبود وہ ہے جس نے اسمان اور زمین کو بنایا الخ
Ayah 2:22

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً١۪ وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:22 in the Quran reader

جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے مینہ برسا کر تمہارے کھانے کیلئے انواع و اقسام کے میوے پیدا کئے پس کسی کو خدا کا ہمسر نہ بناؤ اور تم جانتے تو ہو

الذی جعل لکم الارض فراشا والسماء بناء وانزل من السماء ماء فاخرج بہ من الثمرات رزقا لکم فلا تجعلوا لللہ اندادا وانتم تعلمون۔ وہ پاک ذات کہ جس نے زمین کو تمہارے لیے فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتارا۔ پھر اس پانی سے تمہارے کھانے کے لیے قسم قسم کے کچھ پھل اور میوے نکالنے پس خدا کے لیے اس کے مقابل اور مماثل ہمتا اور شریک نہ بناؤ اور حالانکہ تم خوب جانتے ہو۔ کہ تمہارا اور ان سب چیزوں کا پیدا کرنے والا صرف ایک وحدہ لا شریک لہ ہے اور ان انعامات اور انتظامات میں کوئی اس کا شریک اور سہیم نہیں پس ان انعامات کے شکر میں خاص اسی کی عبادت کرو اور کسی دوسرے کو شریک نہ کرو یعنی یہ سارا عالم بمنزلہ ایک مکان ہے۔ آسمان اس کی چھت ہے اور زمین اس کا فرش ہے اور شمس وقمر اور نجوم وکواکب اس گھر کے شمع اور چراغ ہیں۔ قسم قسم کے پھل اور الوان نعمت اس کے دسترخوان پر چنے ہوئے ہیں۔ عالم کے تمام شجر وحجر اور تمام چرند پرند انسان کی خدمت کے لیے حاضر اور مسخر ہیں اور یہ مکان اس کے رہنے کے لیے ہے پس جس خدا نے یہ تمام نعمتیں پیدا کیں وہی قابل پرستش ہے جب ان نعمتوں کے پیدا کرنے میں اس کو کوئی شریک اور سہیم نہیں تو اس کی عبادت اور بندگی میں دوسروں کو کیوں شریک کرتے ہو۔ ابر وباد ومہ وخورشید وفلک در کارند تا تو نانے بکف آری و بغفلت نخوری ہمہ از بہر تو سرگشتہ وفرماں بردار شرط انصاف نہ باشد کہ تو فرماں نری خلاصۂ کلام یہ کہ جو باران رحمت آسمان سے برس رہی ہے وہ بندہ کی زندگی اور حیات ہے اور رزق اس کی غذاء ہے عاقل اور دانا کا کام یہ ہے کہ ابران رحمت کو نعمت عظمی سمجھے نہ یہ کہ اس سے بھاگے۔ اسی طرح اہل ایمان اور اہل اخلاص کو چاہئے کہ ہدایت خداوندی کی جو بارش آسمان سے ہو رہی ہے اس کو اپنی روحانی زندگی کا آب حیات سمجھیں۔ منافقوں کی طرح نہ اس سے بھاگیں اور نہ کانوں میں انگلیاں دیں۔ مسند احمد بن حنبل میں باسناد حسن حارث اشعری سے مروی ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ التسلیم نے فرمایا کہ اللہ جل شانہ نے حضرت یحییٰ ٰ (علیہ السلام) کو پانچ چیزوں کے متعلق حکم فرمایا کہ ان پر خود بھی عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم کریں۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے ھ بنی اسرائیل کو حکم کرنے میں کچھ تاخیر ہوئی تو عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے یحییٰ ان احکام کا یا تو خود آپ بنی اسرائیل کو جلد حکم کریں یا مجھ کو اجازت دیں کہ میں بنی اسرائیل کو ان پر عمل کرنے کا حکم کروں یحییٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر آپ نے سبقت کی تو مجھ کو یہ اندیشہ ہے کہ کوئی عذاب نہ آجائے یحییٰ (علیہ السلام) نے فوراً ہی بنی اسرائیل کو مسجد اقصیٰ میں جمع فرمایا اور منبر پر تشریف فرما ہوئے اور یہ کہا کہ اللہ نے مجھ کو پانچ چیزوں کا حکم دیا ہے کہ خود بھی ان پر عمل کروں اور تم کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم کروں پہلی بات یہ ہے کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کسی نے اپنے خالص مال سے بغیر کسی کی شرکت کے ایک غلام خریدا وہ غلام دن میں جو کچھ کماتا ہے وہ بجائے آقا کے کسی اور کو دے دیتا ہے کیا کسی کو یہ بات پسند ہے کہ اس کا غلام ایسا ہو۔ حاشا ہرگز نہیں اسی طرح سمجھ لو کہ حق تعالیٰ ہی تمہارا خالق اور رازق اور مالک ہے پس اسی کی عبادت کرو اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرو (بقیہ حدیث کے لیے تفسیر ابن کثیر کی طرف رجوع کریں) : امام رازی فرماتے ہیں کہ اس آیت شریفہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بندہ اگر ہزار اطاعت اور عبادت بھی کرتے تو ذرہ برابر ثواب کا مستحق نہیں اس لیے کہ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عبادت اس لیے واجب ہے کہ حق تعالیٰ شانہ نے اول تو تم کو پیدا کیا اور پھر بیشمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا۔ لہذا اس منعم حقیقی کا شکر بذریعہ عبادت کے تم پر واجب اور لازم ہے بادشاہ کے انعام واکرام کے بعد اگر کوئی بادشاہ کا شکر کرے تو اس شکر کی وجہ سے وہ شخص اپنے کو کسی انعام کا مستحق نہیں سمجھتا بلکہ محض فریضۂ شکر سے عہدہ بر آ ہوجانے کو غنیمت سمجھتا ہے اور یہ خوب سمجھتا ہے کہ میرا یہ شکر بادشاہ کے انعام و احسان کے مقابلہ میں ہیچ ہے اسی طرح حق تعالیٰ شانہ کے شکر کو سمجھو کہ بندہ کتنی ہی عبادت کرے۔ اس کی ایک نعمت کا بھی شکر نہیں ادا کرسکتا۔ استحقاق تو درکنار۔ مگر اس نے محض اپنی رافت و رحمت اور اپنے فضل عمیم سے ہماری ناقص عبادتوں پر بھی اجر اور ثواب کا وعدہ فرمایا ہے۔ ربنا واتنا ما وعدتنا علی رسلک ولا تخزنا یوم القیامۃ انک لا تخلف المیعاد۔ امین۔ حق جل شانہ نے اس آیت میں عبادت کا حکم دیا اور ساتھ ہی ساتھ معبود کی معرفت کے پانچ طریقے بتلائے یا یوں کہو کہ پانچ قسم کے دلائل بیان کیے دو تو نفس کے متعلقات میں سے ہیں اور تین افاق سے متعلق ہیں اول خلقکم فرمایا کہ تم اپنے نفسوں میں غور کرو کہ تم کو عدم کے بعد وجود کی نعمت عطاء کی دوم یہ کہ تمہارے آباء وجداد کو وجود عطاء کیا۔ اور نیست سے ہست کیا جس کو والذین من قبلکم سے ذکر فرمایا۔ سوم یہ کہ زمین کو تمہارے لیے فرش بنایا چہارم یہ کہ آسمان کو تمہارے لیے چھت بنایا۔ پنجم یہ کہ آسمان اور زمین کی شرکت سے تمہارے رزق کے لیے قسم قسم کے پھل اور میوے پیدا کیے۔ پس جس خداوند ذوالجلال نے یہ عجیب و غریب نعمتیں تم کو عطاء کی ہیں اس سے تم اس کی قدرت و عظمت کا اندازہ لگالو۔ اور ہمہ تن اس کی عبادت میں مشغول ہوجاؤ اور کسی کو اس کی عبادت میں شریک نہ کرو کیونکہ عبادت خالص اسی منعم حقیقی کا حق ہے۔ غرض یہ کہ اعبدوا اس سورت میں پہلا حکم ہے اور ولا تجعلوا للہ اندادا پہلی نہی ہے اور یہی اسلام کی سب سے پہلی تعلیم ہے کہ صرف خدا کی عبادت کرو جس نے تم کو پیدا کیا ہے اور کسی کو اس کا شریک اور مثل نہ جانو حق تعالیٰ نے اس آیت میں عبادت کا حکم دیا اور ساتھ ہی ساتھ استحقاق عبادت کے وجوہ اور دلائل بھی بیان کیے جو سب کے سب فطری اور عقلی ہیں۔
Ayah 2:23

وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ١۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:23 in the Quran reader

اور اگر تم کو اس (کتاب) میں جو ہم نے اپنے بندے (محمد عربی ﷺ پر نازل فرمائی ہے کچھ شک ہو تو اس طرح کی ایک سورت تم بھی بنا لاؤ اور خدا کے سوا جو تمہارے مددگار ہوں ان کو بھی بلالو اگر تم سچے ہو

اثبات رسالت نبی کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم بضمن اثبت حقی قرآن عظیم قال تعالیٰ وان کنتم فی ریب مما نزلنا۔۔۔ الی۔۔۔ اعدت للکافرین (ربط) گزشتہ آیات میں عبادت اور معرفت معبود کے طریقے بتلائے اور محکم دلائل سے وجود صانع اور اس کی توحید کو ثابت کیا اور شرک کو باطل کیا اب ان آیات میں دلائل نبوت بیان کرتے ہیں جس سے آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کی معرفت حاصل ہو۔ اور معرفت نبوت کا طریقہ معجزہ اس لیے ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کی نبوت و رسالت ثابت کرنے کے لیے آپ کے سب سے اعلی اور افضل معجزہ کو ذکر کرتے ہیں۔ تاکہ آپ کی نبوت و رسالت میں منکرین کو کوئی شبہ باقی نہ رہے۔ ربط دیگر : علاوہ ازیں گزشتہ آیات میں عبادت کا حکم فرمایا تھا اور ظاہر ہے کہ اللہ کے ھ نزدیک وہی عبادت مقبول ہے جو اس کی نازل کی ہوئی کتاب سے معلوم ہو لہذا آئندہ آیات میں اس کتاب کے منزل من اللہ ہونے کی دلیل ذکر فرمائی کہ اگر تم اس کتاب کو کتاب اللہ نہیں سمجھتے بلکہ معاذ اللہ اسے محمد ﷺ کی تصنیف اور بنائی ہوئی کتاب سمجھتے ہو تو اس کتاب کی ایک سورت ہی کے مثل ایک سورة بنا کر پیش کرو۔ چناچہ فرماتے ہیں وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورۃ من مثلہ۔ اور اس کتاب کے کتاب الٰہی میں ذرہ برابر کوئی شک اور تردد نہیں جیسا کہ ابتدء سورت میں ارشاد ہوا۔ ذالک الکتاب لاریب فیہ۔ لیکن اگر تم قصور فہم یا عناد کی وجہ سے اس کتاب کے بارے میں جس کو ہم نے اپنے بندہ پر بتدریج نازل کیا۔ تم کسی شک اور خلجان میں مبتلا ہوگئے تو تم بھی اسی طرح ایک چھوٹی سے چھوٹی سورت جو فصاحت وبلاغت اور ہدایت ورشاد اور علوم اور معارف میں اس کتاب کے مماثل اور مشابہ ہولے آؤ۔ قرآن کریم کا وقتاً فوقتاً ضرورت اور واقعات کے لحاظ سے بتدریج نازل ہونا یہی مشرکین کے شک کا زیادہ سبب تھا کہ اگر یہ کلام الٰہی ہے تو تورات وانجیل کی طرح دفعۃ ً کیوں نہیں نازل کیا گیا کما قال تعالیٰ وقال الذین کفروا لولا نزل علیہ القرآن جملۃ واحدۃ تدریج تو بشر کے کلام میں ہوتی ہے جیسا کہ شعراء اور خطباء وقتاً فوقتاً حسبہ موقعہ اور ضرورت اشعار اور خطبات لکھتے ہیں تو حق تعالیٰ شانہ نے صحابہ سے ارشاد فرمایا کہ تم ان کافروں سے یہ کہہ دو ۔ کہ اگر تم اس زعم فاسد اور خیال باطل کی وجہ سے اس کتاب کے کتاب الٰہی ہونے میں متردد ہو تو تم بھی اسی طرح ایک ہی 1 مرتبہ اس جیسی ایک چھوٹی سے چھوٹی سورت بنا لاؤ۔ جو فصاحت وبلاغت اور حسن معانی اور لطائف اور احکام معاش ومعاد میں قرآن کا نمونہ ہو اور یہ قرآن اگرچہ بتدریج نازل ہوا ہے مگر اول تا آخر مربوط اور مسلسل ہے۔ کلام عرب میں تحقیق اور یقین کے لیے کلمہ اذا۔ اور شک اور تردد۔ ظن اور تخمین کے لیے کلمۂ ان مستعمل ہوتا ہے۔ اس مقام پر بجائے اواذا کنتم فی ریب کے وان کنتم فی ریب۔ میں کلمہ ان استعمال کرنے میں بظاہر اس طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم کو ابھی اس میں بھی تردد ہے کہ تم کو اس کتاب کے کتاب الٰہی ہونے میں واقعی شک اور تردد ہے۔ یا دل سے تو تم اس کو کتاب الٰہی سمجھتے ہو اور ظاہر میں محض عناد کی وجہ سے اس کے کتاب الٰہی ہونے میں شک اور تردد ظاہر کرتے ہو۔ اور ریب کی تنوین تحقیر کے لیے ہے جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ ان کا شبہ کوئی قوی نہیں بلکہ ایک نہایت معمول اور مہمل اور حقیر شبہ ہے جو سراسر قصور فہم اور عناد پر مبنی ہے۔ اس عجیب و غریب بےمثل اور بےنظیر کتاب میں بھی اگر تردد اور شک کی گنجائش ہے تو پھر توریت وانجیل کے کتاب الٰہی تسلیم کرنے کا کوئی امکان ہی نظر نہیں آتا۔ جس شپرہ چشم کو عین نصف النہار کے وقت نور آفتاب میں شک اور تردد لاحق ہوتا ہو۔ وہ شب دیجور میں کواکب اور نجوم کا نور کہاں تسلیم کرسکتا ہے۔ رہا وید سو آج تک اس کا بھید معلوم نہیں ہوا کہ اس کی کیا مراد ہے اور اس کے کیا معنی ہیں۔ لہذا جس کتاب کا کوئی مفہوم ہی معلوم اور متعین نہ ہوا اس کے بارے میں شک اور تردد کا سوال ہی عبث ہے علی عبدنا (اپنے خاص بندے پر) اس سے سرور عالم سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ مراد ہیں۔ اس اضافت میں (یعنی ہمارے عبد کہنے میں) ایک تو آں حضرت ﷺ کی تعظیم و تکریم کی طرف اشارہ ہے جیسے کسی شاعر نے کہا ہے۔ لا تدعنی الا بیاعبدھا فانہ اشرف اسمائی مت پکارا کر مجھ کو مگر اس محبوب کا عبد اور غلام کہہ کر میرا یہ نام سب ناموں سے افضل اور بہتر ہے۔ اگر یکبار گوید بندۂ مومن از عرش بگذرد خندۂ من (1 اشارۃ الی ان الامر بالاتیان فی قولہ تعالیٰ فاتوا بسورۃ من مثلہ لا یقضی التکرار 12 عفا عنہ) دوسرے اس اضافت میں آپ کے مطیع ہونے کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ کہ ہمارے نہایت ہی مطیع اور فرمانبردار بندہ ہیں اور علی عبدنا میں کلمۂ علی کے لانے میں جو کہ کلام عرب میں استعلاء غلبہ اور احاطہ کے لیے مستعمل ہوتا ہے۔ اس طرف اشارہ ہے کہ کلام الٰہی کے انوار وبرکات اور وحی ربانی کے تجلیات خدا کے اس خاص بندہ کو ہر طرف اور ہر جانب سے احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ بسورۃ : لفظ سورت قرآن کریم کی ہر سورت کو شامل ہے خواہ وہ طویل ہو یا قصیر جس طرح قرآن کی طویل سورتیں معجز ہیں اسی طرح چھوٹی سورتیں جیسے سورة اخلاص اور سورۂکوثر اور سورة عصر بھی معجز ہیں۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ لوگ اگر فقط سرۂ والعصر میں تدبر اور تامل کریں تو ان کے لیے کافی اور وافی ہے۔ آھ۔ بلکہ قرآن کا جملہ تامہ معجز ہے۔ تمام عالم کے فصحاء اور بلغآء مل کر بھی اگر چاہیں کہ قرآن کریم جیسا ایک جملہ بنا لائیں تو ناممکن اور محال ہے۔ اول حق تعالیٰ شانہ نے یہ ارشاد فرمایا کہ تمام جن اور انس مل کر اس قرآن کے مثل لانا چاہیں تو نہیں لاسکتے جیسا کہ سور اسراء میں ہے کما قال تعالیٰ قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لا یاتون بمثلہ ولا کان بعضھم لبعض ظھیرا۔ 12 ۔ اس کے بعد یہ ارشاد فرمایا کہ تمام قرآن کا مثل اگر نہیں لاسکتے تو دس سورتیں ہی اس جیسی بنا کر پیش کردو جیسا کہ سورة ہود میں ہے۔ کما قال تعالی۔ قل فاتوا بعشر سورة مثلہ مفتریات وادعوا من استطعتم من دون اللہ ان کنتم صادقین۔ اس کے بعد یہ ارشاد فرمایا کہ ایک چھوٹی سے چھوٹی سورت اس سورت کے مماثل بنا لاؤ جیسا کہ سورة یونس میں ہے۔ کما قال تعالیٰ ۔ ام یقولون افتراہ قل فاتوا بسورۃ مثلہ وادعوا من استطعتم من دون اللہ ان کنتم صادقین 12 ۔ اور یہ تمام اعلانات مکہ مکرمہ ہی میں کئے گئے اس لیے کہ یہ تمام سورتیں مکی ہیں یعنی سورة اسراء جس میں تمام قرآن کے مثل لانے کا ذکر ہے اور سورة ہود جس میں دس سورتوں کے لانے کا اور سورة یونس جس میں ایک سورت کے لانے کا ارشاد ہے یہ تمام سورتیں مکہ ہی میں نازل ہوئیں۔ ہجرت کے بعد مدہینہ منورہ میں پہنچ کر پھر ایک سورة کے مثل لانے کا اعلان کیا گیا ہے جیسا کہ اس آیت یعنی وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورۃ من مثلہ۔ میں مذکور ہے اس لیے کہ یہ سورت یعنی بقرہ مدنی ہے۔ اور ہجرت کے بعد سب سے پہلے یہی سورت نازل ہوئی۔ وادعوا شھداء کم من دون اللہ ان کنتم صدقین۔
Ayahs 2:24–25

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ١ۖۚ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:24 in the Quran reader

لیکن اگر (ایسا) نہ کرسکو اور ہرگز نہیں کرسکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہونگے، (اور جو) کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے

وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا١ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١ۙۗ وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:25 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو خوشخبری سنادو کہ ان کے لئے (نعمت کے) باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، جب انہیں ان میں سے کسی قسم کا میوہ کھانے کو دیا جائیگا تو کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ہم کو پہلے دیا گیا تھا اور ان کو ایک دوسرے کے ہمشکل میوے دیئے جائیں گے اور وہاں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور وہ بہشتوں میں ہمیشہ رہیں گے

فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التی وقودھا الناس والحجارۃ اعدت للکفرین۔ اور اگر تم تنہا اس کے مثل لانے پر قادر نہیں تو اس کا علاج یہ ہے کہ تم سوائے خدا تعالیٰ کے اپنے تمام اعوان وانصار کو بلا لو اگر تم اپنے اس اعتقاد میں سچے ہو کہ یہ اللہ کا کلام نہیں تاکہ وہ تمہاری اس کام میں مدد کرسکیں اور اس مشکل کو حل کرسکیں اور سب مل کر قرآن کے ہم پلہ کلام لاسکیں۔ پس اگر تم سب مل کر بھی ایسا نہ کرسکو۔ یعنی اس کے مثل کوئی چھوٹی سے چھوٹی سورت بھی نہ لاسکو اور ہم پیشینگوئی کیے دیتے ہیں کہ تم ہرگز نہ لا سکو گے۔ قرآن کا ایک اعجاز تو یہ تھا کہ کوئی اس کے مثل نہیں لاسکتا۔ دوسرا اعجاز یہ ہے کہ پہلے ہی پیشینگوئی کردی گئی اور غیب کی خبر دے دی گئی کہ قیامت تک کوئی شخص اس کے مثل نہ لاسکے گا۔ بحمد اللہ ساڑھے تیرہ سو برس گزر گئے اور کوئی شخص اس کے مثل نہ لاسکا۔ بالفرض اگر کوئی شخص قرآن کا معارضہ کرتا تو ضرور نقل ہوتا اس لیے کہ ہر زمانہ میں قرآن کے مخالفوں کا عدد ہمیشہ زیادہ رہا ہے۔ اگر کسی نے قرآن کریم کا معارضہ کیا ہوتا تو اس کا مخفی رہنا ناممکن تھا۔ خلاصہ یہ کہ اگر تم اس کا مثل نہ لا سکو اور ہرگز نہ لا سکو گے تو پھر میری نبوت کی تصدیق کرو۔ اور اسکو کلام ربانی اور وحی رحمانی سمجھو۔ تم ذرا تو غور کرو کہ ایک یتیم بیکس اور امی جس کا سارا عرب مخالف اور دشمن ہو وہ ایسا عظیم الشان دعویٰ بغیر تائید الٰہی کیسے کرسکتا ہے کہ تمام جن اور انس بھی اس کا مثل نہیں لاسکتے اور اگر تم اس کی تصدیق نہیں کرتے تو پھر اس آگ سے ڈرو جسکا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔ اس جگہ پتھر سے یا تو عام پتھر مراد ہیں یا گندک کے پتھر مراد ہیں یا وہ بت مراد ہیں جن کو کافر پوجتے تھے۔ کما قال تعالیٰ ۔ انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم " یعنی تم اور وہ بت جن کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو سب جہنم کا ایندھن ہیں " جو دراصل خاص کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ البتہ گناہوں کا میل کچیل صاف کرنے کے لیے گنہگار مسلمانوں کو چند روز کے لیے جہنم میں رکھا جائیگا۔ پھر جو اصل ذات ہی سے نجاست اور گندگی ہیں وہ تو دوزخ میں رہ جائیں گے اور جو اصل سے پاک ہیں یعنی مومن ہیں اور گناہوں کی عارضی نجاست ان پر لگ گئی (کما فی حدیث البخاری ان ال مومن لا ینجسوہ پاک صاف ہونے کے بعد نکال لیے جائیں گے۔ : اس آیت سے اور آئندہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے قصہ سے صاف ظاہر ہے کہ دوزخ ابھی موجود ہے جو لوگ اس کے قائل ہوئے کہ جنت و جہنم ابھی موجود نہیں بلکہ قیامت کے دن موجود ہوگی۔ صریح غلطی پر ہیں اور یہ قول سراسر آیات قرآنیہ اور احادیث متواترہ اور اجماع امت کے خلاف ہے۔ علامہ زبیدی اتحاف شرح احیاء ص 221 ج 2 میں فرماتے ہیں کہ اسی پر تمام صحابہ کرام کا اجماع ہے۔ حافظ ابن قیم (رح) حاوی الارواح الی بلاد الافراح میں فرماتے ہیں۔ جنت تیار کی جا چکی ہے مگر اس میں کچھ خالی میدان ہیں جن میں بندوں کے اعمال صالحہ سے باغات اور محل تیار ہوتے ہیں۔ مثلاً حدیث میں ہے کہ جو شخص اللہ کے لیے مسجد بنا کرے اس کے لیے جنت میں ایک محل تیار ہوجاتا ہے یا جو شخص ایک مرتبہ سبحان اللہ ایک مرتبہ الحمدللہ، ایک مرتبہ اللہ اکبر یا ایک مرتبہ لا الہ الا اللہ کہے اس کے لیے جنت میں ایک درخت لگ جاتا ہے۔ تفصیل کسی اور موقعہ پر کریں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم کو رسول اللہ کی رسالت میں شک ہے اور ہماری وحی کو انسانی کلام جانتے ہو تو اٹھو اور میدان معارضہ میں آجاؤ۔ مگر ہم پہلے ہی پیشینگوئی کیے دیتے ہیں کہ تم سب مل کر بھی اس کا معارضہ نہیں کرسکتے پس اگر تم معارضہ نہ کرسکو اور تم پر اپنا عجز اور قصور واضح ہوجائے تو بہتر یہی ہے کہ ایمان لے آؤ ورنہ سخت عذاب میں گرفتار ہوگے۔ ذکر معاد یعنی قیامت کا بیان بشارت و مومنین صالحین قال تعالیٰ وبشر الذین امنوا۔۔۔ الی۔۔۔ وھم فیھا خلدون ربط : حق تعالیٰ شانہ کی یہ سنت ہے کہ جب کبھی ترغیب اور اوعدہ اور بشارت کا ذکر فرماتے ہیں تو اس کے ساتھ ترہیب اور وعید اور انذار کو بھی ذکر فرماتے ہیں تاکہ خوف اور جاء سے مل کر ایمان میں ایک اعتدالی کیفیت پیدا ہوجائے اسی سنت کے مطابق حق تعالیٰ نے ان آیات میں جب انذار اور کافروں کی وعید کو ذکر فرمایا تو آئندہ آیات یعنی وبشر الذین آمنوا الایۃ میں مومنین صالحین کے لیے بشارت کا ذکر فرمایا۔ نیز وہ انذار اور تہدید اگرچہ دشمنوں کو ان کی تسلی اور دل تھامنے کے لیے بشارت ذکر فرمائی۔ تاکہ بشارت کی مسرت اور مخاطبت کی لذت سے وہ پریشانی، مبدل بہ شادمانی ہوجائے چناچہ فرماتے ہیں اور خوشخبری دیدیجئے آپ ان لوگوں کو جو اس کتاب پر ایمان لائے اور اس کتاب کے منزل من اللہ ہونے کی تصدیق کی اور اس کتاب کی ہدایت کے مطابق نیک عمل کیے کہ ان کے لیے عجیب قسم کے باغات ہیں۔ ہر ایک کا باغ اس کے ایمان اور عمل صالح کے مطابق ہوگا جن کے نیچے نہریں جاری ہونگی عثمان غنی فرماتے ہیں کہ عمل صالح اس عمل کو کہتے ہیں جو خالص اللہ کے لیے ہو اور ریاء سے بالکلیہ پاک ہو کما قال تعالیٰ فلیعمل عملاً صالحا ولا یشرک بعبادۃ ربہ احدا۔ معاذ بن جبل فرماتے ہیں کہ عمل صالح وہ عمل ہے جس میں چار چیزیں جمع ہوں۔ (1) ۔ علم۔ (2) نیت (3) صبر (4) اخلاص (معالم التنزیل) ایمان کے بعد عمل صالح کا ذکر اس لیے فرمایا کہ بشارت کا پورا استحقاق جب ہے کہ جب ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ بھی ہوں۔ اس آیت میں متعلقات ایمان اور اعمال صالحہ کی تفصیل نہیں فرمائی صرف بالاجمال اتنا کہ دیا کہ جو لوگ ایمان دار اور نیک کردار ہوں گے ہم انہیں ان کے وہم و خیال سے بڑھ کر انعام دیں گے۔ جنت لغۃ میں باغ کو کہتے ہیں لیکن اصطلاح شریعت میں ایک خاص مکان کا نام ہے جو نشاۃ آخرت میں ہمیشہ کے لیے ابرار ومتقین کو عنایت ہوگا۔ جیسا کہ جہنم اس مخصوص مکان کا نام ہے جس میں کفار کو ہمیشہ کے لیے اور گنہگار مسلمانوں کو چند روز کے لیے رکھا جائیگا۔ جنت اور جہنم پر ایمان بالغیب رکھتے ہیں اور اس کی حقیقت کی تحقیق کے درپے نہیں۔ آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ نے جس قدر جنت اور جہنم کے احوال واوصاف بیان کیے ہیں ان پر ان سے ایک حرف بھی زیادہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے کہ عالم غیب میں قیاس نہیں چلتا۔ تجری من تحتہا الانہر : جن کے نیچے سے نہریں نہایت تیزی سے بہتی ہیں۔ کلما رزقوا منہا من ثمرۃ رزقا قالوا ھذا الذی رزقنا من قبل واتوا بہ متشابہا جب کبھی دئیے جائیں گے ان باغوں میں سے کوئی پھل کھانے کے لیے تو یہ کہیں گے کہ یہ وہی ہے جو ہم پہلے دئیے گئے اور دئیے جائیں گے وہ ایسا پھل کہ جو محض دیکھنے میں ایک دوسرے کے مشابہ اور ہمرنگ ہوگا۔ مگر ذائقہ میں مختلف ہوگا۔ عبداللہ بن مسعود ؓ اور عبداللہ بن عباس اور دیگر حضرات صحابہ ؓ سے منقول ہے کہ یہ تشابہ اور تماثل محض لون اور صورت کے اعتبار سے ہوگا۔ مزہ اور لذت میں ایک دوسرے سے بالکل جدا ہوگا۔ یہ اس لیے ہوگا کہ ہر مرتبہ جدید مسرت اور نئی خوشی حاصل ہو۔ خلاصہ یہ کہ جنت کے میوے شکل اور صورت میں ایک دوسرے کے مشابہ ہوں گے مگر مزے میں جدا اور مختلف ہونگے۔ اہل جنت جب کسی پھل کو دیکھیں گے تو یہ کہیں گے کہ یہ وہ پہلا ہی پھل ہے۔ مگر جب چکھیں گے تو مزہ اور ہی پائیں گے۔ ولھم فیہا ازواج مطہرہ اور ان کے لیے وہاں ایسی عورتیں ہونگی جو ہر قسم کی ظاہری اور باطنی گندگی سے پاک ہوں گی۔ وھم فیھا خالدون۔ اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یعنی یہ نعمتیں ہمیشہ رہیں گی۔ دنیا کی نعمتوں کی طرح ان کو زوال اور فنا نہیں۔ نعمت کتنی ہی عظیم الشان کیوں نہ ہو مگر زوال اور فنا کا اندیشہ اس کو مکدر کردیتا ہے۔ جیسے کسی نے کہا ہے۔ مرا در منزل جاناں چہ من وعیش چوں ہر دم جرس فریاد می دارد کہ بربندید محملہا اس لیے ارشاد ہوا کہ تم مطمئن رہو۔ ہمشہ تم انہیں نعمتوں میں رہو گے تنعم اور لذائذ کا مدار تین چیزوں پر ہے۔ 1 ۔ عمدہ مکان۔ 2 ۔ لذیذ کھانے۔ 3 ۔ حسین و جمیل عورتیں اس لیے حق تعالیٰ شانہ نے جنات تجری من تحتہا الانہار میں عمدہ مکان کا اور کلما رزقوا الخ میں لذیذ کھانوں کا اور ولھم فیہا ازواج مطہرۃ میں حسین و جمیل ازواج کا ذکر فرمایا۔ : انسان کے لیے تین چیزوں کا جاننا ضروری ہے 1 ۔ کہاں سے آیا ہے۔ 2 ۔ اور کہاں رہتا ہے۔ 3 ۔ اور کہاں جانا ہے۔ الذی خلقکم میں اس طرف اشارہ ہے کہ تم عدم سے آئے ہو اور الذی جعل لکم الارض فراشا الخ۔ سے اس طرف اشارہ ہے کہ چند روز زمین میں قیام ہے اور فاتقوا النار سے اس طرف اشارہ ہے کہ عالم آخرت کو جانا ہے عذاب الٰہی سے بچنے کی کوشش کرو۔