Ayahs 2:116–117شناعت سی ام ایضا باشتراک نصاریٰ ومشرکین
قال تعالیٰ وقالو اتخذ اللہ ولدا سبحنہ۔۔۔ الی۔۔۔ کن فیکون۔
اللہ کی مسجدوں کو ویران کرنا بلاشبہ ظلم ہے مگر یہ ظالم اس سے بڑھ کر شرک کے ظلم عظیم میں مبتلا ہیں اور وہ ظلم عظیم یہ ہے کہ یہ ظالم کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اپنے لیے اولاد بنائی ہے۔ یہود کہتے ہیں کہ حضرت عزیر خدا کے بیٹے تھے اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ حضرات عیسیٰ خدا کے بیٹے تھے اور مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں بتاتے ہیں۔ سبحان اللہ کیا احمقانہ اور گستاخانہ کلمہ ہے سب کو معلوم ہے کہ اللہ سبحانہ توالد اور تناسل سے پاک اور منزہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد کا ہونا عقلاً ناممکن ہے اس لیے کہ بیٹا باپ کے مماثل اور مشابہ اور ہم جنس ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ بےمثل اور بیچون وچگون ہے ورنہ اگر بیٹا باپ کے ہم جنس نہ ہو تو پھر وہ بیٹا اس باپ کا فرزند نہ ہوگا نیز بیٹے کا باپ کے ہم جنس نہ ہونا ایک عیب ہے اور اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہے۔ نیز باپ اولاد کا محتاج ہوتا ہے اور اولاد سے پہلے بیوی کا محتاج ہوتا ہے کہ اولاد بغیر زوجہ کے ممکن نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ صمد یعنی بےنیاز ہے کسی کا محتاج نہیں۔ نیز ولادت کے لیے تغیر اور تبدل اور تجزی اور انقسام لازمی ہے اور یہ خاصہ ممکن اور حادث کا ہے۔ قدیم میں کوئی تغیر اور تبدل نہیں ہوتا۔ نیز اگر بالفرض خدا تعالیٰ کے لیے فرزند ہو تو دو حال سے خالی نہیں یا وہ فرزند بھی خدا اور واجب لذاتہٖ ہوگا یا نہیں اگر وہ فرزند خدا ہوا تو لا محالہ مستقل ہوگا اور باپ سے مستغنی اور بےنیاز ہوگا اس لیے کہ خدائی کے لیے بےنیازی لازم ہے حالانکہ بیٹے کا باپ سے مستغنی اور بےنیاز ہونا عقلاً محال ہے بیٹے کا وجود ہی باپ سے ہوا ہے اور جب بیٹا خدا ہونے کی وجہ سے باپ سے مستغنی اور بےنیاز ہوگا تو پھر اس کو باپ سے کوئی تعلق بھی نہ ہوگا اور بیٹے کا باپ سے بےتعلق ہونا ناممکن ہے اس لیے کہ فرع کا اصل سے بےتعلق ہونا عقلاً محال ہے علاوہ ازیں جب بیٹا باپ سے مستغنی اور بےنیاز ہوگا تو باپ خدا نہ رہے گا اس لیے کہ خدا سے کوئی مستغنی نہیں ہوسکتا وہ خدا ہی کیا ہوا جس سے کوئی مستغنی اور بےنیاز ہوسکے اور اگر یہ کہو کہ وہ بیٹا خدا اور واجب الوجود نہیں تو لامحالہ وہ خدا کا پیدا کیا ہوا ہوگا اور اس کا عبد اور مملوک ہوگا لہذا فرزند کا عبد اور مملوک ہونا لازم آئیگا اور بیٹا عبد اور مملوک نہیں ہوتا جیسا کہ آئندہ آیت میں ارشاد ہے۔ بل لہ ما فی السموت والارض۔ یعنی اس کے لیے کوئی اولاد نہیں بلکہ آسمان اور زمین کی تمام چیزیں خاص اسی کی مملوک ہیں اور ملکیت اور ابنیت جمع نہیں ہوسکتی اس لیے کہ یہ امر ظاہر ہے کہ مملوک اور مخلوق مالک اور خالق کے ہم جنس نہیں اور فرزند باپ کے ہم جنس ہوتا ہے اسی وجہ سے شریعت میں یہ مسئلہ ہے کہ جو شخص اپنے بیٹے یا کسی قریبی رشتہ دار کا مالک بن جائے تو وہ فوراً آزاد ہوجاتا ہے اس لیے کہ فرزندیت اور عبدیت میں تباین کلی اور منافات تامہ ہے پس جبکہ بندوں میں فرزندیت اور عبدیت جمع نہیں ۃ وسکتی تو بارگاہ الوہیت میں یہ دونوں چیزیں کیسے جمع ہوسکتی ہیں اور علاوہ مملوک ہونے کے آسمان و زمین کے رہنے والے تمام کے تمام جن میں فرشتے اور حضرت عزیر اور حضرت مسیح بھی داخل ہیں۔ سب اللہ کے مطیع اور فرمانبردار ہیں۔ بعضے برضا ورغبت جیسے فرشتے اور انبیاء کرام اور مومنین صالحین اور بعضے جبراً وقہراً جیسے شیاطین اور کفار وفجار۔ یہ کسی کی مجال نہیں کہ اس کے ارادہ اور مشیت کو ٹال سکے اور اس کے حکم سے سرتابی کرسکے اور کافر وفاجر جو ظاہراً اس کی معصیت کرتے ہیں وہ تکوینی اور باطنی طور پر اللہ ہی کے ارادہ اور مشیت سے کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے کسی حکمت اور مصلحت سے ان کو معصیت کرنے کی قدرت دی ہے ورنہ اگر وہ قدرت نہ دیتا تو کوئی معصیت نہ کرسکتا۔ غرض یہ کہ تمام موجودات اسی کے قبضۂ تصرف میں ہیں جس کو چاہے مارے اور جس کو چاہے جلائے کوئی اس کے تصرف سے باہر نہیں نکل سکتا اور جس کی یہ شان ہو اس کا کوئی ہم جن اور مماثل نہیں ہوسکتا۔ اور بیٹے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ باپ کے ہم جنس ہو۔ اور عجب نہیں کہ کل لہ قانتون سے الزام مقصود ہو کہ جن کو تم خدا کا بیٹا اور اولاد کہتے ہو وہ سب اللہ کی عبودیت کے معترف اور مقر ہیں اور ہر وقت اسی کی تسبیح وتنزیہ میں لگے رہتے ہیں۔ پھر تم ان کو خدا کی اولاد کس طرح بتلاتے ہو۔ نیز ولادت کے لیے مادہ اور مدت اور آلات اور اسباب کی ضرورت ہے۔
اور خدا کی شان یہ ہے کہ وہ بدیع السموات والرض یعنی بغیر مادہ کے آسمان اور زمین کا موجد ہے۔ محض اپنی قدرت سے تمام کائنات کو پردۂ عدم سے نکال کر مسند وجود پر لا بٹھلایا ہے۔ پس اگر حضرت عیسیٰ کو بغیر باپ کے پیدا کردے تو اس کے لیے مشکل نہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی ایجاد میں کسی مادہ اور مدت اور کسی آلہ اور سبب کا محتاج نہیں اس لیے کہ وہ جب کسی چیز کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو اس کو کن کا حکم دیتا ہے یعنی موجود ہوجا ! پس وہ شئی فوراً موجود ہوجاتی ہے اور فرشتے اور حضرت عزیر اور حضرت عیسیٰ سب اسی طریقہ سے پیدا ہوئے اور ظاہر ہے کہ اس طریقہ سے پیدا ہونے کا نام کسی کے نزدیک ولادت نہیں ھر کیوں ان کی خدا کی اولاد بتاتے ہو۔ نیز عیسیٰ (علیہ السلام) میں یہ قدرت نہ تھی کہ وہ کلمۂ کن سے کسی کو پیدا کرسکیں اور بقول نصاری وہ تو اپنی جان بھی یہود کے ہاتھ سے نہ بچا سکے اور نہ دشمنوں پر غلبہ پا سکے تو پھر وہ خدا کیسے ہوئے۔
خلاصۂ کلام یہ کہ یہود اور نصاریٰ اور مشرکین خدا تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرتے تھے اول حق تالیٰ نے سبحانہ فرما کر اولاد اپنا پاک ہونا بیان فرمایا اور بعد ازاں چند وجوہ سے انکا رد فرمایا ول یہ کہ جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے وہ سب اس کی ملک ہے اور اولاد ملک نہیں ہوتی۔ دوم یہ کہ تمام کائنات اس کی تابعدار اور اس کے ارادہ اور مشیت کے مسخر ہے کائنات کے ہر ذرہ سے حدوث اور احتیاج کے آثار اور علامات نمایاں ہیں جو سراسر وجوب ذاتی کے منافی ہیں اور حادث اور ممکن واجب ذاتی کا بیٹآ نہیں ہوسکتا لہذا کائنات میں سے کوئی شے بھی خدا کی اولاد نہیں ہوسکتی اس لیے کہ اولاد اگرچہ باپ کے برابر نہ ہو لیکن ہم جن ضرور ہوتی ہے اور کائنات کا کوئی ذرہ وجوب ذاتی میں باری تعالیٰ کا شریک اور سہیم نہیں۔
اور اگر چاہو تو جملۂ کل لہ قانتون کو جملہ لہ ما فی السموات والارض کا تتمہ اور تکملہ بنا دو تو اب دونوں جملے مل کر ایک ہی دلیل بنیں گے۔ علیحدہ علیحدہ دلیل نہ بنیں گے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ وہ بدیع السموات والارض ہے یعنی اللہ تعالیٰ بغیر مادہ کے آسمان و زمین پیدا کرنے والے ہیں اور ولادت کے لیے مادہ اور مدت درکار ہے چوتھے یہ کہ حق تعالیٰ کی ایجاد کا طریقہ یہ ہے کہ جس چیز کو کون فرمادیتے ہیں وہ اسی وقت موجود ہوجاتی ہے اور اس کا نام ولادت نہیں یا یوں کہو کہ یہ تمام صفات کمال خداوند ذوالجلال کے ساتھ مختص ہیں کسی فرشتہ اور نبی میں یہ صفات نہیں پائی جاتیں۔ خدا کے سوا نہ کوئی آسمان اور زمین کے ذرہ کا مالک ہے اور نہ ایک مچھر کے پر کی ایجاد اور تخلیق پر قادر ہے پھر کس طرح خدا کے فرزند ہوئے۔ پانچویں یہ کہ بیٹا ہمیشہ کا باپ جزء ہوتا ہے اور جزء کسی مرکب کا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ترکیب سے پاک ہے۔
فائدہ : نصاری جب ان دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ کے جواب سے لاجواب ہوتے ہیں تو یہ جواب دیتے ہیں کہ ہماری مراد بیٹے سے حقیقی معنی نہیں بلکہ معنی مجازی مراد ہیں جیسے پیار اور محبت میں کسی کو بیٹآ بول دیتے ہیں تو اس سے معنی حقیقی مراد نہیں ہوتے بلکہ محبوب اور برگزیدہ کے معنی مراد ہوتے ہیں اس معنی کر ہم حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں۔
جواب : اگر ابن اللہ سے خدا کے محبوب اور برگزیدہ بندے ہیں۔ ابن اللہ کا اطلاق محبوب اور برگزیدہ کے معنی میں اگرچہ کفر اور شرک نہیں لیکن کفر اور شرک کا ایہام اس میں ضرور ہے جیسے غیر اللہ کو سجدہ بہ نیت تعظیم وتحیت کفر نہیں بلکہ حرام ہے۔ اسی طرح شریعت محمدیہ میں سجدہ تحیت وتعظیم کی طرح اس لفظ کے اطلاق ہی کو ممنوع قرار دیا۔ بارگاہ خداوندی کے کے آداب کے خلاف ہے کہ زبان سے کوئی لفط ایسا نکالاجائے جس میں خدا تعالیٰ کی تنزیہ و تقدیس کے خلاف کا ایہام بھی ہو پادری صاحبان جب بالکل ہی لاچار ہوجاتے ہیں تو یہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ مسئلہ سر الٰہی اور رمز خداوندی ہے ہم اس کے سمجھانے سے قاصر ہیں۔ لیکن اب اس صریح خلاف عقل عقیدہ کے ماننے والے بہت ہی کم رہ گئے ہیں۔ سوائے ان پادریوں کے جن کو مشن سے تنخواہ ملتی ہے وہ حضرت مسیح کو خدا اور خدا کا بیٹا بتلاتے ہیں۔ باقی یورپ اور ایشیا کے اکثر عیسائی حضرت مسیح کو خدا کا بندہ اور رسول سمجھنے لگے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ قرآن کریم کی ساڑھے تیرہ سو برس کی مسلسل پکار کے بعد بنی اسرائیل کی بھیڑوں کی سمجھ میں آیا کہ ابنیت، تثلیث کا عقیدہ عقل اور نقل دونوں کے خلاف ہے۔
عذر لنگ : اور بعض سنجیدہ عیسائی جنہوں نے صفیہ کرام کی کتابوں کا کچھ مطالعہ کیا ہے وہ اپنے اس عقیدہ ابنیت کی اس طرح تاویل کرتے ہیں کہ مسیح (علیہ السلام) کی صفات صفات خداوندی کا عکس اور پرتو تھیں اور چونکہ اس قسم کا انعکاس سوائے حضرت مسیح کے کسی مخلوق میں نہیں ظاہر ہوا اور اس بارے میں حضرت مسیح کا مرتبہ تمام مخلوق سے بالا اور برتر تھا اس لیے ان کو خدا تعالیٰ سے ایسی نسبت ہے جو اور کسی مخلوق کو حاصل نہیں اسی نسبت کو ہم ابو ت اور بنوت سے تعبیر کرتے ہیں اور مسیح کو ابن اللہ کہتے ہیں۔
جواب : یہ محض ایک اصطلاحی تاویل ہے جس کے تسلیم کرلینے کے بعد عیسائیوں کے پاس مسیح کی بالخصوص ابن اللہ ہونے کی کوئی دلیل نہیں رہتی۔ حق تعالیٰ نے اپنے بہت سے برگزیدہ بندوں کو اپنے جلال و جمال کا مظہر بنایا اور ان پر اپنی صفات کمال کا خاص عکس اور پر تو ڈالا جو اور کسی مخلوق پر نہیں ڈالا تو کیا ان حضرات کو بھی ابن اللہ کہنا جائز ہوگا۔
حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ کی ذات با برکات بھی صفات خداوندی کا خاص مظہر اور آئینہ تھی اور سیدنا ومولانا محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات ستودہ صفات تو تمام اولین اور آخرین کے کمال کی جامع تھی۔
نصاری کی اگر یہ تاویل صحیح ہو تو کواکب پرست بھی یہی تاویل کرسکتے ہیں کہ ہم چاند اور سورج وغیرہ کو کامل ترین مخلوق الٰہی یا مظہر جلال خداوندی سمجھ کر ان کی پرستش کرسکتے ہیں۔ صائبین چاند اور سورج کو خدا تعالیٰ کا مظہر اتم سمجھے اور نصاری مسیح بن مریم کو اور دونوں گمراہی میں مبتلا ہوئے۔
شبہ۔ بادی النظر میں یہاں یہ شبہ ہوتا ہے کہ جب کوئی چیز عدم محض ہو تو پھر اس کو وجود کا حکم کیونکر دیا جاسکتا ہے کیونکہ حکم تو موجود کو دیا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ موجود کو وجود کا حکم دینا تحصیل حاصل ہے۔
جواب : یہ ہے کہ یہ امر کن۔ امر تکلیفی نہیں جس کے لیے وجود مخاطب اور فہم خطاب ضروری ہو بلکہ امر تسخیری اور تکوینی ہے جس سے معدوم کو موجود کیا جاتا ہے۔ ذات انسانی میں اصل فاعل مختار اس کا اندرونی نفس ناطقہ ہے اور اعضاء اور جوارح اس کے حکم پر حرکت کرتے ہیں۔ نفس ناطقہ جب زبان کو بولنے کا حکم دیتا ہے تو زبان سے وہ کلمات ظہور اور وجود میں آنے لگتے ہیں کہ پہلے سے جن کا وجود خارجی میں کہیں نام ونشان نہ تھا اور نفس ناطقہ قدم کو چلنے کا حکم دیتا ہے جس سے وہ حرکات ظہور میں آتی ہیں جو پہلے سے معدوم تھیں مگر نفس ناطقہ کے علم اور تصور میں تھیں۔
اسی طرح سمجھو کہ جو ممکنات خارج میں معدوم ہیں وہ سب علم الٰہی میں موجود ہیں جس معدوم کو حق تعالیٰ اپنے خزانۂ علم سے نکال کر خارج میں موجود کرنا چاہتا ہے اس کو کن خطاب فرماتے ہیں اسی طرح وہ معدوم وجود علمی سے نکل کر وجود خارجی میں آجاتا ہے۔ خدا تعالیٰ کو ہر شدنی امر کا اس کے ہونے سے پہلے علم ہوتا ہے اس لیے وہ چیزیں جو ابھی عدم سے وجود میں نہیں آئی ہیں وہ سب اس کے علم میں موجود ہیں اور اس کے نزدیک موجود کا حکم رکھتی ہیں اس لیے جب وہ ان کو عدم سے وجود کی طرف نکلنے کا حکم دیتا ہے اور کن کہتا ہے تو موجود ہوجاتی ہیں۔ مطلب یہ کہ اس معدوم کی صورت علم الٰہی میں پہلے سے موجود ہوتی ہے وہ کن کا مخاطب اور محکوم ہوتی ہے متکلمین کے دو گروہ ہیں ایک اشاعرہ اور ایک ماتریدیہ۔ ماتریدیہ کے نزدیک یہ آیت اپنے ظاہر اور حقیقت پر ہے اور اشاعرہ کے نزدیک یہ آیت مجاز اور تمثیل پر محمول ہے قاضی بیضاوی (رح) نے اسی کو اختیار فرمایا کہ آیت میں حقیقۃً کسی شئے کو کن کا خطاب کرنا مراد نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کسی شئے کو حقیقۃً امر فرمایا ہو اور اس نے امتثال کیا ہو بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال قدرت کسی شئے کو پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ شئی فوراً موجود ہوجاتی ہے۔ ہمارے ارادہ اور پیدائش میں ذرہ برابر فاصلہ نہیں ہوتا۔
Ayah 2:118شناعت سی ویکم (31) ایضاً باشتراک نصاریٰ ومشرکین
قال تعالیٰ ۔ وقال الذین لا یعلمون۔۔۔ الی۔۔ لقوم یوقونون
گزشتہ آیات میں ان کی توحید کا حال بیان فرمایا۔ اب ان آیات میں نبوت کے بارے میں ان کے شبہ کو بیان فرماتے ہیں اور یہ نادان یوں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے بلا واسطہ کلام کیوں نہیں فرماتا کہ یہ خود بالشافہ ہم سے کہہ دے کہ یہ ہمارے نبی اور رسول ہیں تو ہم ان کی رسالت کے قائل ہوجائیں اور ان کی اطاعت کرنے لگیں یا اگر ہم سے کلام نہیں کرتے تو کم از کم من جانب اللہ ہمارے پاس کوئی ایسی نشانی آجائے کہ جسے دیکھ کر ہم کو بداہۃ ً آپ کی نبوت کا یقین آجائے حق تعالیٰ فرماتے ہیں یہ کوئی نیا جاہلانہ سوال نہیں جو جاہل ان سے پہلے گزرے اوہ بھی ایسی باتیں کہتے رہے ہیں اور یہی ان کے جاہل اور نادان ہونے کی دلیل ہے کہ باوجود اپنے کمال نالائقی کے اپنے کو خدا تعالیٰ کی ہم کلامی کا اہل سمجھتے ہیں۔ تم تو دنیاوی بادشاہوں اور امیروں کی ہم کلامی کا بھی رتبہ نہیں رکھتے اگر ہر شخص خدا کی ہم کلامی کا رتبہ رکھتا تو پھر انبیاء اور مرسلین کے بھیجنے کی ضرورت کیا تھی۔ کیا دنیا میں کوئی شخص یہ کہہس کتا ہے کہ میں وزیر کے حکم کو نہیں مانوں گا جب تک کہ بادشاہ خود بالمشافہ مجھ سے آکر یہ نہ کہہ دے کہ یہ میرا وزیر ہے تم اس کی اطاعت کرنا اور چونکہ ان کی یہ بات بالکل مہمل تھی اس لیے حق تعالیٰ نے اس کا کوئی جواب نہیں ارشاد فرمایا۔ ( پس جواب احمقی آمد سکوت)
بلکہ اس جاہلانہ سوال کے منشاء کو بیان فرمایا وہ یہ کہ ان اگلے اور پچھلے کافروں کے دل ایک دوسرے کے مشابہ ہیں اس لیے ان پچھلے نادانوں کے شبہات پہلے نادانوں کے شبہات کے مشابہ ہیں۔ یعنی اس زمانہ کے کافر اگرچہ پہلے زمانہ کے کافروں سے بہت بعد ہیں اور آپس میں کوئی سلسلہ وصیت بھی نہیں مگر قلوب سب کے ہمرنگ ہیں اسی وجہ سے شبہات میں بھی تشابہ اور ہم رنگی ہے اور آیات اور معجزات کے انکار میں ایک دوسرے کے قدم بقدم ہیں اور من مانے معجزات کا مطالبہ کرتے ہیں سو اس کا جواب یہ ہے کہ تم او تاتینا ایۃ کہہ کر ایک نشانی مانگتے ہو۔ ایک نشانی نہیں تحقیق ہم آپ کی نبوت رسالت کے تصدیق کے لیے صدہا بلکہ ہزار واضح اور روشن نشانیاں ظاہر کرچکے ہیں مثلاً شجر اور حجر کا آپ کو سلام کرنا اور جانوروں کا آپ کی نبوت کی شہادت دینا وغیرہ وغیرہ مگر افسوس ان نادانوں کو ان روشن اور واضح معجزات سے کوئی نفع نہ ہوا۔ یہ آیات گبینات ان لوگوں کے لیے نافع ہیں جو یقین اور اطمینان حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ضدی اور معاند نہیں۔
فائدہ : تشبیہ اور تشابہ میں فرق یہ ہے کہ تشبیہ میں مشبہ اور مشبہ مختلف المراتب ہوتے ہیں اور تشابہ میں دونوں متشابہ مساوی اور برابر ہوتے ہیں اسی وجہ سے جہاں مساوات کا بیان مقصود ہوتا ہے وہاں بجائے تشبیہ کے تشابہ لفظ استعمال کرتے ہیں۔ کما قال قائل
رق الزجاج ورقت الخمر فتشابھا وتشاکل الامر
فکانما خمر ولا قدح وکانما قدح ولا خمر
اسی طرح یہاں تشابھت قلوبھم میں تشابہ کا لفظ اختیار فرمایا اس لیے کہ مقصود یہ بتلانا ہے کہ اگلے اور پچھلے کافروں کے دل یکساں میں کوئی فرق نہیں۔
Ayahs 2:119–121خاتمۂ کلام واتمام حجت والزام تسلیۂ سید انام علیہ افضل الصلوۃ والسلام
انا ارسلنک بالحق بشیرا ونذیر ا۔۔ الی۔۔ فاولئک ھم الخاسرون۔
(ربط) یہاں تک بنی اسرائیل کی قباحتوں اور شناعتوں کو تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا شنائع بنی اسرائیل کی تفصیل کی ابتداء کفران نعمت اور دناءت اور خست سے فرمائی۔ کما قال تعالی۔
واذ قلتم یموسی لن نصبری علی طعام واحد۔
اور وہ وقت یاد کرو جب تم نے کہا کہ اے موسیٰ ہم ہرگز ایک کھانے پر صبر نہ کریں گے۔
اور پھر درمیان میں ان کی قساوت قلب کو ذکر فرمایا
ثم قست قلوبکم من بعد ذلک فھی کالحجارۃ او اشد قسوۃ۔
پھر سخت ہوگئے تمہارے دل اس کے بعد پس وہ پتھر کی مانند ہیں یا اس سے بھی زیادہ سخت
اور اس قبائح اور شنائع کے سلسلہ کو ان کے کبرونخوت پر ختم فرمایا کہ اس قدر مغرور اور متکبر ہیں کہ اپنے کو خداوند ذوالجلال کی ہمکلامی کا اہل سمجھتے ہیں اور احکم الحاکمین کے وزراء ونائبین یعنی انبیاء ومرسلین کے اتباع اور اطاعت کو اپنے لیے کسر شان سمجھتے ہیں اور ظاہر ہے کہ تکبر اور نخوت سے بڑھ کر کوئی مرض نہیں تکبر ہی تمام امراض کی جڑ ہے یہی مرض سب سے پہلے دنیا میں آیا اور یہی مرض ابلیس کی لعنت کا سبب بنا۔ اب ان قبائح اور شنائع کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ اے ہمارے نبی آپ مغموم اور رنجیدہ نہ ہوں اور اب ان کے رشد وہدایت کی طمع دل سے نکال دیجئے جن کے دل پتھر سے زیادہ سخت ہوں اور کبر اور نخوت سے لبریز ہوں۔ ان سے اسلام اور ایمان کی توقع نہ رکھیے حق ان پر واضح ہوچکا ہے۔ آپ کی نبوت و رسالت کے اتنے واضح اور روشن دلائل ہم نے واضح کردئیے ہیں کہ جس کے بعد طالب حق کے لیے کسی قسم کے شک اور تردد کی گنجائش نہیں اور علاوہ ازیں ہم نے آپ کو دین حق دیکر بھیجا ہے جو آپ کی نبوت کی مستقل اور روشن دلیل ہے اور ایسا ثابت اور پختہ ہے۔ کہ جو موجب طمانینۃ ویقین ہے اور شکوک اور شبہات سے اس میں تزلزل کا امکان نہیں بالفرض اگر آپ سے کوئی بھی معجزہ ظاہر نہ ہوتا تو فقط آپ کو دین حق اور آپ کی شریعت حقہ ہی آپ کی نبوت کے ثابت کرنے کے لیے کافی اور وافی تھی۔ نی زہم نے آپ کو مخلوق کے لیے بشیر ونذیر بنا کر بھیجا ہے کہ ماننے والوں کو جنت کی بشارت سنائیں اور منکرین کو عذاب سے ڈرائیں اور پھر لوگ اپنے اختیار سے ایمان لائیں اگر ایسے معجزات ظاہر کردئیے جائیں کہ جن سے مجبور اور لاچار ہو کر ایمان لانا پڑے تو وہ ایمان بےسود ہے مکلف بنانے کا جو مقصد ہے وہ جبری ایمان کی صورت میں باقی نہیں رہتا اور اگر یہ بد نصیب اب بھی ایمان نہ لائیں اور آپ کی دعوت حقہ کو قبول نہ کریں تو آپ رنجیدہ نہ ہوں۔ آپ نے اپنا فرض منصبی یعنی دعوت وتبلیغ ادا کردیا۔ آپ سے ان جہنمیوں کے بارے میں کوئی باز پرس نہ ہوگی از خود انہوں نے کفر اور جہنم کی راہ اختیار کی ہے۔ اگر آپ کا اختیار چلتا تو کبھی ان کو جہنم کی راہ نہ چلنے دیتے۔
اور ان لوگوں کا آپ کی پیروی اور اتباع سے اعراض اس لیے نہیں کہ آپ دلائل نبوت میں کسی قسم کا قصور ہے۔ بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ یہود اور نصاری ہرگز آپ سے راضی اور خوش نہ ہونگے تاوقتیکہ آپ ان کی منسوخ ملت کا اتباع اور پیروی نہ کریں وہ اس غرہ میں ہیں کہ ہم کتب الٰہیہ کے علوم کے حامل اور علمبردار ہیں۔ ہم کسی کا کیوں اتباع کریں۔ ہم تو سب کے متبوع اور سردار ہیں لہذا جو شخص اپنے آپ کو متبوع سمجھتا ہو وہ تابع بننے پر کب راضی ہوسکتا ہے۔ آپ ان کے اس خیال خام کے جواب میں یہ کہدیجئے کہ تحقیق اللہ کی ہدایت ہر زمانہ میں وہی ہدایت ہے جو اس زمانہ کا نبی اور رسول لے کر آئے اور گزشتہ ہدایتیں اگرچہ اپنے اپنے وقت پر ہدایتیں تھیں مگر منسوخ ہوجانے کے بعد ہدایت ہدایت نہیں رہتی بلکہ ہوائے نفس بن جاتی ہے اور نفسانی خواہشوں کا اتباع کبھی ہدایت نہیں ہوسکتا۔ وہ تو صریح ضلالت ہے اور اگر بالفرض محال آپ ان ہوا پرستوں کی نفسانی خواہشوں کا اتباع کریں بعد اس کے کہ آپ کے پاس اس بات کا علم قطعی آچکا ہے کہ اب ہدایت اس میں منحصر ہے کہ جو اللہ نے آپ پر نازل فرمایا اور گزشتہ کی تمام ہدایتیں منسوخ ہو کر ہوائے نفس بن چکی ہیں۔ پس اگر آپ آخری حکم اور آخری ہدایت کو چھوڑ کر کسی پہلی ہدایت اور کسی پہلے حکم کا اتباع کریں تو اللہ کے مقابلہ میں کوئی آپ کا حمایتی اور مددگار نہیں جو اللہ کے عذاب سے آپ کو بچائے۔ حتی کہ اگر آپ توریت اور انجیل پر عمل کریں تو موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) بھی آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکتے۔ ان بیچاروں کا تو ذکر ہی کیا۔
: یہ تہدیدی خطاب ظاہراً حضور کو ہے لیکن سنانا معاندین کو ہے۔ عناد کی بناء پر ان کو مخاطب بھی نہیں بنایا اور ان کے خطاب سے اعراض فرمایا۔
یہاں تک ان اہل کتاب کا ذکر تھا کہ جو برائے نام اہل کتاب ہیں اور فی الحقیقت اپنی کتاب پر ایمان نہیں رکھتے اور عناد اور تعصب کی وہج سے حضور کی نبوت کی تصدیق نہیں کرتے آئندہ آیت میں ان اہل کتاب کی مدح ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں
کہ جن لوگوں کو ہمنے کتاب یعنی توریت اور انجیل عطاء کی اور ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اس کتاب کی تلاوت اس طرح کرتے ہیں جو اس کی تلاوت کا حق ہے یعنی نہ اس میں لفظی تحریف کرتے ہیں اور نہ معنوی تحریف اور نبی آخر الزمان کی جو بشارتیں ان کی کتاب میں ہیں ان کو چھپاتے نہیں ایسے ہی لوگ حقیقۃ اپنی کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور اپنی کتاب کی ہدایت اور بشارت کے مطابق نبی آخر الزمان کی تصدیق کرتے ہیں اور جو لوگ نبی آخر الزمان پر ایمان نہیں لاتے وہ درحقیقت اپنی اپنی کتاب پر بھی ایمان نہیں رکھتے۔ اور جائز ہے کہ یؤمنون بہ میں بہ کی ضمیر بجائے کتاب کے ہدی یا قرآن کی طرف راجع کی جائے یعنی جو لوگ توریت اور انجیل کی کماحقہ تلاوت کرتے ہیں وہی اس ہدایت کو قبو کرتے ہیں جو نبی آخر الزمان پر نازل ہوئی اور وہی اس آخری کتاب پر ایمان لاتے ہیں جس کی بشارت اپنی کتابوں میں پاتے ہیں اور فلاح دارین حاصل کرتے ہیں اور جو لوگ اپنی کتاب کا انکار کرواتے ہیں یعنی توریت اور انجیل میں تحریف کرتے ہیں اور حضور کے ظہور کی جو بشارتیں ان کی کتاب میں مذکور ہیں انکا انکار کرتے ہیں۔ پس یہی لوگ خسارہ والے ہیں کہ اپنی کتاب پر جو ایمان رکھتے تھے وہ بھی ہاتھ سے گیا۔ اور جائز ہے کہ ومن یکفر بہ میں بہ کی ضمیر ہدی اور قرآن کی طرف راجع ہو یا حضور کی طرف راجع ہو یعنی جو لوگ حضور کی نبوت یا آپ کی ہدایت یا آپ کے قرآن کے منکر ہیں وہ انتہائی خسارہ میں ہیں اس لیے کہ حضور آخری نبی ہیں اور قرآن آخری کتاب ہے۔ جب اس پر بھی ایمان نہ لائے تو آخرت کی نجات کا ذریعہ آخر کیا ہے۔ ابن عباس سے منقول ہے کہ جب جعفر بن ابی طالب حبشہ سے آئے تو چالیس آدمی ان کے ہمراہ تھے بتیس ان میں حبشہ کے تھے اور آٹھ شام کے تھے اور بحیرا راہبب بھی ان میں تھا ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
اور بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ الذین اتیناھم الکتب سے صحابہ کرام رماد ہیں اور الکتاب سے قرآن مراد ہے اور حق تلاوتہ سے مراد یہ ہے کہ تلاوت کے پورے حقوق ادا ہونے چاہئیں۔ فرض کرو کہ ایک بادشاہ اپنے فرمان کو اپنے سامنے پڑھنے کا حخم دے تو اس وقت یہ حالت ہوگی کہ ہر لفظ کو سنبھل سنبھل کر اور صاف صاف ادا کروگے اور معنی اور مفہوم کی طرف بھی پوری توجہ ہوگی اور دل میں یہ پختہ ارادہ ہوگا کہ اس فرمان میں جس قدر بھی احکام ہیں حرف بحرف ان کی تعمیل کرونگا۔ اور پڑھتے وقت دربار شاہی کے آڈاب سے بھی ذڑہ برابر غفلت نہ ہوگی۔ اسی طرح تلاوت قرآن کو سمجھو کہ ہم اللہ رب العالمین کے سامنے پڑھ رہے ہیں ایک ایک لفظ کو صاف صاف ادا کرو۔ یہ ترتیل اور تجوید ہے اور اس کے اتباع اور تعمیل کے عزم بالجزم کا نام ایمان اور اطاعت ہے اسی وجہ سے اولئک یؤمنون بہ فرمایا اور حضرت عمر سے یتلونہ حق تلاوتہ کی تفسیر میں منقول ہے کہ تلاوت کا حق یہ ہے کہ جب قرآن کی تلاوت کرتے وقت جنت کے ذکر پر گزرے تو اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرے اور جب آگ کے ذکر پر گزرے تو خدا سے پناہ مانگے کہ اے اللہ اس سے محفوظ رکھنا۔ (ابن ابی حاتم)
Ayahs 2:122–123تکریر تذکیر واعادۂ تحذیر
قال تعالی۔ یبنی اسراء یل اذکروا نعمتی۔۔۔ الی۔۔۔ ولا ھم ینصرون
(ربط) ۔ ابتداء سورت میں جب بنی اسرائیل کو خطاب فرمایا تو اسی عنوان اور اسی آیت سے شروع فرمایا اور طویل تفصیل کے بعد پھر اسی عنوان اور اسی آیت پر خطاب کو ختم فرمایا وجہ اس کی یہ ہے کہ اولاً حق تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کو اجمالاً یاد دلایا تاکہ شکر کی راہ اختیار کریں اور کفران نعمت سے احتراز کریں۔ بعد ازاں حق تعالیٰ ن اپنے انعامات اور اپنی عنایات اور ان کی جنایات اور تقصیرات کی تفصیل فرمائی جو یہاں آکر ختم ہوئی اخیر میں حق تعالیٰ نے پھر اسی مضمون کا اعادہ فرمایا جو ابتداء میں اجمالاًً ان سے کہا کہا گیا تھا تاکہ تفصیل کے بعد جب اجمال کا اعادہ کیا جائے تو تمام تفصیل بیک وقت نظروں کے سامنے آجائے اور یہ طریقہ بلگاء کے نزدیک نہایت بلیغ ہے اور تعلیم و تفہیم میں غایت درجہ معین ہے اور ابو حیان فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کو اس سورت میں تین مرتبہ " یا بنی اسرائیل " کے معزز خطاب سے مخاطب فرمایا اور اسرائیل یعنی یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کی حیثیت سے ان کو اپنے خطاب سے مشرف اور سرفراز فرمایا اور اس نسبت کو یاد دلا کر شکر اور اطاعت کی دعوت دی لیکن بنی اسرائیل نے جب اس نداء اور خطاب کے شرف کو ملحوظ نہ رکھا تو حق تعالیٰ نے ان سے اعراض فرمایا اور تین مرتبہ کے بعد ان کو مخاطب نہیں بنایا۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ اے بنی اسرائیل پھر ایک بار تم کو خطاب کرتے ہیں اور یہ تیسری بار ہے اب اس کے بعد ہم تم کو مخاطب نہ بنائیں گے وہ آخری خطاب یہ ہے کہ میری نعمتوں کو اس حیثیت سے یاد کرو کہ وہ میرا عطیہ تھیں۔ میری نسبت کے شرف اور عزت کو دیکھو اور یاد کرو اور پھر اس حیثیت کو دیکھو کہ اس نعمت کا میں نے تم پر محض اپنی مہربانی سے انعام کیا تھا۔ ذرہ برابر تمہارا استحقاق نہ تھا اور یاد کرو اس امر کو کہ میں نے تم کو محض اپنے فضل سے سارے جہانوں پر فضیلت اور بزرگی دی تھی تھی۔ یہ بزرگی میرا عطیہ تھا تمہاری ذاتی شئی نہ تھی کہ تم سے جدا نہ ہو سکے۔ تم اس غرہ میں نہ رہنا اور بزرگی تم سے چھینی نہیں جاسکتی۔ اگر اس فضیلت اور بزرگی کو باقی رکھنا چاہتے ہو تو ہمارے رسول کی اطاعت کرو۔
اور اس دن سے ڈرو کہ جس میں کوئی کسی کی طرف سے کام نہ آئے گا اور ایک نفس کی دوسرے نفس کی طرف نسبت بدون ایمان کے کار آمد نہ ہوگی اور نہ اس کی طرف سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا کہ جو رہائی کا سبب بن سکے اور نہ بدون ایمان کے کوئی شفاعت اور سفارش نفع دے گی البتہ انبیاء اور اولیاء کی شفاعت سے اہل ایمان کو نفع ہوگا اور نہ ان لوگوں کی مدد کی جائے گی اس لیے کہ نصرت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے مرسلین اور اہل ایمان سے کیا ہے۔ کما قال تعالیٰ ۔ انا لننصر رسلنا والذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا ویوم یقوم الاشہاد کافروں سے وعدہ نہیں۔
Ayah 2:124قصۂ کامیابی ابراہیم خلیل (علیہ السلام) در امتحان خداوند جلیل وتحویل کلام از ذکر بنی اسرائیل بسوئے ذکر بنی اسمعیل علیہ السلام۔
قال تعالیٰ واذ ابتلی ابراہیم ربہ بکلمت۔۔۔ الی۔۔۔ قال لا ینال عہدی الظلمین
(ربط): بنی اسرائیل اس بات پر مغرور تھے کہ ہم اہل کتاب اور اہل علم اور اولاد ابراہیم ہیں اس لیے ہم ہی سب کے متبوع اور مقتداء اور پیشوا اور امام ہیں۔ امامت اور سیادت ہمارے ہی گھر میں رہے گی۔ ہمیں کسی کے اتباع کی کیا ضرورت۔ اس کے جواب میں حق تعالیٰ شانہ نے حضرت ابراہیم کا قصہ ذکر فرمایا جس سے چند امور کا بیان کرنا مقصود ہے۔ اول یہ کہ امام اور مقتدا وہی ہوسکتا ہے جو ظالم اور فاسق نہ ہو اور تمہارا کفر اور ظلم خوب واضح ہوچکا ہے۔ ظالم اور فاسق ہو کر امامت اور متبوعیت کا خیال سودائے خام ہے امامت اور متبوعیت کا مرتبہ جب ہی ملتا ہے کہ جب اللہ کے امتحان میں کامیاب اور درست نکلے دوم یہ بتلانا ہے کہ خانہ کعبہ جو مسلمانوں کا قبلہ ہے وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بنایا ہوا ہے اس کی فضیلت اور بزرگی میں کوئی کلام نہیں کیا جاسکتا۔ تاکہ گزشتہ رکوع میں جو یہود کا بعض احکام کے نسخ خصوصاً تحویل قبلہ پر جو اعتراض تھا جس کا ماننسخ من ایۃ میں کافی وشافی جواب گزر چکا۔ اس اعتراض کا قلع قمع ہوجائے چونکہ تحویل قبلہ کے مسئلہ کا اعظم ارکان اسلام سے خاص تعلق ہے اس لیے اس بارے میں ایک خاص ترتیب کے ساتھ مفصل کلام کیا اول بانی کعبہ کی فضیلت اور پھر ان کی امامت اور پھر خانہ کعبہ کی فضیلت اور پھر اس کی تحویل کی حکمتیں بیان کیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ نبی آخر الزمان کی ملت اور قبلہ وہی ہے جو حضرت ابراہیم کا تھا۔ سوم یہ کہ ملت اسلام وہی ملت ابراہیمی ہے۔ چہارم یہ کہ امت مسلمہ اور نبی آخر الزمان کے ظہور اور بعثت کی دعا سب سے پہلے حضرت ابراہیم نے کی تھی۔ لہذا حضرت ابراہیم کے طریقہ پر وہی شخص ہوسکتا ہے جو ملت اسلام کو قبول کرے اور نبی آخر الزمان پر ایمان لائے اور خانہ کعبہ کو اپنا قبلہ سمجھے۔ پنجم یہ کہ یہ خیال کرنا کہ نبی آخر الزمان ہمارے خاندان سے نہیں اس لیے ہم ان پر ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ خیال غلط ہے اس لیے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے دو بیٹے تھے ایک اسحاق (علیہ السلام) جن کے بیٹے اسرائیل یعنی یعقوب (علیہ السلام) ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) کے دوسرے بیٹے اسمعیل (علیہ السلام) ہیں ایک مدت تک نبوت اور فضیلت حضرت اس حق اور اسرائیل کی اولاد میں رہی اب وہ فضیلت حضرت اسمعیل کی اولاد کو پہنچی اور وہ نعمت تفضیل جس سے بنی اسرائیل کو سرفراز فرمایا تھا اب وہ بنی اسرائیل سے بنی اسمعیل کی طرف منتقل ہوئی اس لیے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے دونوں ہی بیٹوں کے لیے برکت کی دعا کی تھی۔ جس طرح اسحاق (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کے لیے برکت کی دعا مانگی تھی اور اسی طرح اسمعیل (علیہ السلام) کے لیے بھی برکت کی دعا مانگی تھی۔ جیسا کے توریت کے سفر پیدائش باب میں ہے۔
" اور اسمعیل کے حق میں میں نے تیری سنی دیکھ میں اسے برکت دوں گا اور اسے برو مند کروں گا اور میں اسے بڑی قوم بناؤں گا "۔ انتہی
پس تم کو چاہئے کہ اب اس نبی آخر الزمان پر ایمان لاؤ جو ابراہیم اور اسمعیل کی اولاد میں سے ہے اور اس کا ظہور اور اس کی بعثت دعاء ابراہیمی کی برکت اور ثمرہ ہے اور اس نبی پر ایمان لا کر امت مسلمہ میں داخل ہوجاؤ اور دل وجان سے اس کی اطاعت کرو تاکہ تم کو بھی بقدر اطاعت اس برکت میں سے کچھ حصہ ملے۔ اور ابراہیم خلیل اللہ کی طرح اسلام اور اطاعت اور وفاداری اور محبت اور جانثاری کا داغ اپنے جسم پر لگاؤ یعنی ختنہ کراؤ جیسے ابراہیم (علیہ السلام) نے ختنہ کرائی تھی۔ توریت میں ہے کہ ختنہ اللہ کا داغ ہے جس طرحشاہی گھوڑوں پر داگ ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل اور اس کی اولاد کے لیے ختنہ کا داغ تجویز فرمایا اور قوت شہویہ اور بہیمیہ کے محل پر ختنہ کے داغ سے اس طرف اشارہ ہے کہ یہ عضو سرکاری داغ سے داغی ہے بغیر سرکاری اجازت کے کسی مصرف میں اس کا استعمال جائز نہیں اور موئے لب کٹوانا اور ناخن کتروانا اور موئے بغل لینا اور مضمضمہ اور استنشاق کرنا وغیر ذلک یہ بھی اسلام یعنی اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے داغ ہیں لہذا اے بنی اسرائیل اگر تم نعمت تفضیل میں سے حصہ لینا چاہتے ہو تو اس نبی آخر الزمان پر ایمان لاؤ کہ جو بنی اسمعیل میں سے دعائے ابراہیمی کے مطابق مبعوث ہوا ہے بنی اسرائیل کی تفضیل کا دور دورہ ختم ہوگیا اب تاقیامت بنی اسمعیل کی تفضیل کا دور دورہ رہے گا چناچہ ارشاد فرماتے ہیں اور یاد کرو اس وقت کو کہ جب ابراہیم کو اس کے پروردگار نے چند باتوں سے آزمایا۔ ابراہیم کی یہ آزمائش بھی رب کریم کی طرف سے تربیت تھی۔ ابراہیم کے پروردگار نے ابتداء ہی سے ابراہیم کی طرح طرح سے تربیت کی۔ طفولیت میں رشد عطاء کیا اور پھر متبہ نبوت خلت تک پہنچایا۔ یہاں تک کہ بطور آزمائش ان کو چند باتوں کا حکم دیا تاکہ ملائکہ علوی اور سفلی کے سامنے ان کا فضل و کمال اور حسن استعداد اور کمال قابلیت اور اہلیت ظاہر ہوجائے اور یہ بات خوب واضح ہوجائے کہ جو مرتبہ ہم ان کو عطاء کرنا چاہتے ہیں یہ اس مرتبہ کے لائق اور اہل ہیں حق تعالیٰ شانہ کی یہ سنت مستمرہ ہے کہ محض اپنے علم کی بناء پر کسی کو منصب اور مرتبہ نہیں عطاء فرماتے جب تک کہ اس کی استعداد اور قابلیت اور اس کا استحقاق علی رءوس الاشہاد ظاہر نہ ہوجائے جیسا کہ آدم (علیہ السلام) کے قصہ میں پیش آیا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے فضل اور کمال اور استعداد قابلیت کے ظاہر کرنے کے لیے چند باتوں سے ان کا امتحان فرمایا۔ پس ابراہیم دل وجان سے کمال مسرت وبشاشت کے ساتھ بلا کمی وبیشی کے ان تمام باتوں بتمام و کمال بجا لائے۔ جس سے ان کی قوت علمیہ اور عملیہ کا کمال اور روح اور فطرت کی صفائی اور نورانیت اور ظاہر و باطن کی طہارت ونظافت خوب واضح ہوگئی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابراہیم میں تجھ کو اس کے صلہ میں تمام لوگوں کا امام اور پیشوا بناؤ گا کہ تمام لوگ تیری پیروی کریں اور تیرا اتباع حقانیت کی دلیل ہو اور تیری مخالفت گمراہی کی دلیل ہو اور تیری ملت تمام عالم کے لیے بمنزلہ دستور اساسی کے ہو۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوا یہود اور نصاری اور مشرکین عرب اور مسلمان سب ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا امام اور پیشوا مانتے ہیں۔ عرض کیا کہ اے پروردگار اور میری اولاد میں سے ہر زمانہ میں کوئی امام رہے زمین کسی وقت بھی میرے سلسلہ امامت سے خالی نہ رہے غرض یہ تھی کہ تو نے مجھ کو تمام لوگوں کا امام بنایا اور قیامت تک میری بقاء عادۃً ممکن نہیں اس لیے بقائے امامت کی صورت یہ ہے کہ یہ منصب عظیم قیامت تک میری نسل میں باقی رہے۔ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ میں تمہاری یہ دعا قبول کی اور تمہاری ہی اولاد میں پیغمبری اور کتاب رہے گی جیسا کہ سورة عنکبوت میں ہے۔ وجعلنا فی ذریتہ النبوۃ والکتاب۔ مگر یہ سنائے دیتا ہوں کہ یہ ہر زمانہ میں ممکن نہ ہوگا۔ بعض زمانوں میں تمہاری تمام نسل اور اولاد ظالم ہوگی اور میرا یہ منصب امامت ظالموں اور فاسقوں کو نہیں دیا جاتا اس لیے کہ اس منصب کے لیے عدالت اور تقوی شرط ہے اور اس وقت کے یہود اور نصاری اشد انواع ظلم کے مرتکب ہیں شرک اور گوسالہ پرستی اور تحریف توریت وانجیل اور قتل انبیاء اللہ وغیرہ وغیرہ میں مبتلا ہیں۔ منصب امامت کی ان میں بالکل اہلیت نہیں اور جو ان کو باجود ظالم ہونے کے اپنا امام بنائے وہ خود ظالم ہے۔ کما قال تعالیٰ ولئن اتبعت اھواءھم من بعد ماجاءک من العلم انک اذا لمن الظالمین۔
فائدہ : جاننا چاہئے کہ ظلم اور فسق کے مقابلہ میں عدالت اور تقوی ہے نہ کہ عصمت بمعنی عدم الخطاء فی الفہم وامتناع صدور معصیت اور امامت کے لیے عدالت اور تقوی شرط ہے نہ کہ عصمت۔ لہذا اس آیت سے فرقہ امامیہ کا عصمت ایمہ پر استدلال کرنا صحیح نہیں اور نہج البلاغت میں حضرت امیر ؓ سے نص صریح موجود ہے۔ لا بد للناس من امیر برا وفاجر یعمل فی امرتہ المومن ولیستمع الکافر ویا من فیہ السبل الخ۔
اقوال مفسرین در تفسیر کلمات ابتلاء
ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جن کلمات سے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آزمایا وہ حسب ذیل ہیں۔
1 ۔ اپنی قوم سے مفارقت کرنا اور برائت یعنی کفر کی وجہ سے ان سے برائت اور بیزار اور قطع تعلق کرنا۔
2 ۔ خدا کے لیے مناظرہ
3 ۔ آگ میں ڈالے جانے پر صبر کرنا۔
4 ۔ وطن سے ہجرت کرنا اور مجمع عشائر و اقارب کو چھوڑ کر نکل جانا
5 ۔ مہمان نوازی
6 ۔ ذبح ولد پر تیار ہوجانا اخرجہ ابن اسحاق وابن ابی حاتم عن ابن عباس (در منثور ص 111 ج 1)
اور ابن عباس ؓ کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ وہ کلمات جن سے اللہ تعالیٰ نے حضرات ابراہیم کو آزمایا وہ دس خصال فطرت ہیں پانچ تو ان میں سے سر میں ہیں اور وہ یہ ہیں۔
1 ۔ موچھیں کتروانا
2 ۔ مضمضہ یعنی کلی کرنا
3 ۔ استنشاق یعنی ناک میں پانی ڈالنا۔
4 ۔ مسواک کرنا
5 ۔ سر میں مانگ نکالنا
اور پانچ خصلتیں باقی بدن کے متعلق ہیں اور وہ یہ ہیں۔
1 ۔ ناخن ترشوانا
2 ۔ بغل کے بال لینا۔
3 ۔ موئے زیر ناف مونڈنا
4 ۔ ختنہ کرنا۔
5 ۔ بول براز کی جگہ کو پانی سے دھونا یعنی پانی سے استنجاء کرنا
اور ایک روایت میں غسل جمعہ اور طواف بیت اللہ اور سعی مابین الصفا والمروہ اور رمی جمار اور طواف افاضہ کا ذکر ہے اور صحیح مسلم میں عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دس چیزیں فطرت سے ہیں۔
1 ۔ مونچھوں کا کتروانا
2 ۔ داڑھی کا بڑھانا
3 ۔ مسواک کرنا
4 ن۔ اک میں پانی ڈالنا
5 ۔ ناخنوں کا کتروانا
6 ۔ براجم یعنی جوڑوں کا دھونا
7 ۔ بغل کے بال لینا
8 ۔ موئے زیر ناف کا حلق کرنا
9 ۔ پانی سے استنجا کرنا
راوی کہتے ہیں کہ دسویں خصلت میں بھول گیا شاید وہ مضمضہ ہو اور ابن عباس ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ کلمات میں سے وہ تیس خصلتیں مراد ہیں کہ جو شرائع اسلام اور سہام اسلام کے نام سے موسوم ہیں دس ان میں سے سورة براءت میں مذکور ہیں۔
توبہ، عبادت، حمد وثناء، سیاحت، روکوع، سجود، امر بالمعروف، ونہی عن المنکر، محافظۃ حدود ایمان اور دس ان میں سے سورة احزاب میں مذکور ہیں۔ اسلام ایمان۔ قنوت۔ صدق صبر۔ خشوع۔ صدقہ ونیاز۔ روزہ رکھنا۔ شرمگاہ کی حفاظت کثرۃ ذکر اللہ۔ اور دس خصلتیں ان میں سے سور مومن ون اور سال سائل میں مذکور ہیں۔ ایمان بیوم الجزاء۔ خوف و خشیت از عذاب خداوندی خشوع نماز، محافظت آداب وسنن نماز۔ لغو بات سے اعراض و احتراز۔ اداء زکوٰۃ بطیب خاطر۔ غیر منکوحۃ اور غیر ممل کہ سے شرمگاہ کی حفاظت ایفاء عہد اداء امانت اور ادائے شہادت۔
کلمات کی تفسیر میں اس کے علاوہ اور بھی کچھ اقوال ہیں۔ جو تفسیر در منثور کی مراجعت سے معلوم ہوسکتے ہیں اور آیت قرآنیہ میں لفظ کلمات سب کو شامل ہے جائز ہے کہ سب مراد ہوں یا بعض مراد ہوں لیکن ایک ابن عباس ؓ ہی سے مختلف روایات کا آنا اس سے عموم ہی معلوم ہوتا ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
(سورۂ براءت کی آیتیں یہ ہیں التائبون العبدون الحامدون السائحون الراکعون الساجدون الامرون بالمعروف والناھون عن المنکر والحفظون لحدود اللہ۔ وبشر ال مومن ین۔
سورة احزاب کی آیت یہ ہے۔ ان المسلمین والمسلمات وال مومنین وال مومن ات والقانتین والقانتات والصادقین والصادقات والصابرین والصابرات والخاشعین والخاشعات والمتصدقین والمتصدقات والصائمین والصائمات والحافظین فروجھم والحافظات والذا کرین اللہ کثیر والذکرات
اور سورة مومنون کی آیت یہ ہے۔ قد افلح ال مومن ون الذین ھم فی صلاتھم خاشعون والذین ھم عن اللغو معرضون والذین ھم للزکوۃ فاعلون والذین ھم لفروجھم حافظون الا علی ازواجھم او ما ملکت ایمانھم فانھم غیر ملومین فمن ابتغی وراء ذلک فاولئک ھم العادون والذین ھم لاماناتھم وعھدھم راعون والذین ھم علی صلوتھم یحافظون۔ الایات۔
اور سال سائل کی آیتیں یہ ہیں۔ الذین ہم علی صلوتھم دائمون والذین فی اموالہم حق معلوم للسائل والمحروم والذین یصدقون بیوم الدین والذین ھم من عذاب ربھم مشفقون ان عذاب ربھم غیر مامون والذین ھم لفروجھم حافظون الا علی ازواجھم او ماملکت ایمانھم فانھم غیر ملومن فمن ابتغی وراء ذلک فاولئک ھم العدون والذین ھم لاماناتھم وعھدہم راعون والذین ھم بشہاداتھم قائمون والذین ھم علی صلاتھم یحافظون۔ )
Ayah 2:125قصہ بنائے خانہ تجلی آشیانہ و فضائل قبلۂ اسلام وتلقین آداب بیت حرام
قال تعالیٰ ۔ واذ جعلنا البیت مثابۃ للناس۔۔۔ الی۔۔۔ والرکع السجود۔
گزشتہ آیات میں ابراہیم (علیہ السلام) کی امامت اور فضیلت کو بیان فرمایا اور ظاہر ہے کہ منصب امامت اور امامت کا لقب۔ صاحب قبلہ ہونے کی طرف مشیر ہے اس لیے آئندہ آیات میں قبلۂ ابراہیمی کا ذکر فرماتے ہیں کہ یہ خانہ تجلی آشیانہ وہی گھر ہے جس کو ابراہیم (علیہ السلام) نے اسمعیل (علیہ السلام) کی شرکت اور معیت میں بنایا تھا اور اسی معبد کے ارد گرد اسمعیل اور اس کی ذریت کو آباد کیا اور طرح طرح کی دعائیں کیں اور مقصود یہ ہے کہ بنی اسرائیل متنبہ ہوجائیں کہ یہ نبی امی خاندان ابراہیم واسمعیل سے ہے اور یہ خانہ کعبہ جو مسلمانوں کا قبلہ ہے یہ وہی معبد معظم اور سجدہ گاہ محترم ہے جس کے بانی اور معمار امام امم اور فخر عالم ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ اور اسمعیل ذبیح اللہ ان کے معین و مددگار اور شریک کار رہے ہیں۔ امید ہے کہ اس علم کے بعد بنی اسرائیل کو بنی اسمعیل کی تفضیل اور قبلۂ اسلام کی فضیلت میں کوئی شبہ نہ رہے گا اور اب آئندہ تحویل قبلہ کے بارے میں زبان طعن نہ کھولیں گے۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ اے بنی اسرائیل یہ تو تم کو معلوم ہوگیا کہ منصب امامت ظالم اور فاسق کو نہیں ملتا۔ دینی منصب اسی کو ملتا ہے جو ابراہیم کے طریقہ پر چلے اور اگر تم کو خانہ کعبہ کی فضیلت اور اس کے حج مقرر کرنے میں شبہ ہے کہ حج بالکل ایک لغوی حرکت ہے جو عرب کے جاہلوں کا طریقہ ہے حضرت ابراہیم کا طریقہ نہیں تو اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے خانہ کعبہ کو مرجع خلائق بنایا کہ لوگ اطراف عالم سے بصد احترام احرام باندھ کر اس گھر کی زیارت اور طواف کے لیے رجوع کریں تاکہ اہل ایمان کے عظیم اجتماع سے ایک خاص نورانیت پیدا ہو جس سے ہر ایک مستفید ہو جس طرح بہت سے چراغوں کے جمع ہوجانے سے بہ ہیئت اجتماعیہ ہر ایک کا نور اضعافا مضاعفہ ہوجاتا ہے جمعہ اور پنجگانہ نماز جماعت میں ایک شہر اور ایک محلہ کے انوار وبرکات کا اجتماع ہوتا ہے اور حج کے اجتماع میں اقطار عالم کے انوار وبرکات کا اجتماع ہوتا ہے۔
: اور جائز ہے کہ مثابۃً کو بجائے ثوب بمعنی رجوع کے ثواب سے مشتق مانیں یعنی لوگوں کے لیے ثواب حاصل کرنے کی جگہ بنائی کہ حج اور عمرہ کر کے ثواب حاصل کریں۔ ایک نماز پڑھیں تو ایک لاکھ نمازوں کا ثواب پائیں اور جماعت سے پڑھیں تو ستائیس لاکھ کا ثواب پائیں اور ہمیشہ کے لیے اس گھر کو خاص طور پر مقام امن بنایا کہ جو وہاں داخل ہو وہ امن سے ہوجائے اور ہم نے یہ حکم دیا کہ ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کی جگہ بناؤ اور اس جگہ کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو تاکہ برکت حاصل ہو۔
: مقام ابراہیم ایک خاص پتھر کا نام ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کو بنایا اس پتھر پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدموں کے نشان تھے لوگوں کے ہاتھ پھیرنے کی وجہ سے وہ نشان اب معلوم نہیں ہوتے اور اسی پتھر پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حج کی اذان دی کما قال تعالیٰ واذن فی الناس بالحج الایۃ۔ اور یہ پتھر عہد نبوی اور آسدیق اکبر ؓ کے زمانہ میں خانہ کعبہ سے متصل تھا حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں جب سیلاب آیا تو یہ پتھر بہ گیا حضرت عمر ؓ نے اس کو وہاں سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھدیا اور اس کے گرد پتھرون کی دیوار چن دی چناچہ وہ پتھر اب تک اسی جگہ میں محفوظ ہے اور اس کے اردگرد جالیاں بنی ہوئیں ہیں اور بنائے کعبہ کے وقت ہم نے ابراہیم اور اس معیل کو حکم دیا جو مشابہ عہد کے تھا کہ میرے اس مبارک گھر کو ہر قسم کی ناپاکیوں سے پاک رکھنا طواف کرنے والوں کے لیے اور اعتکاف کرنے والوں کے لیے اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے۔ یعنی نماز پڑھنے والوں کے لیے اس کو پاک وصاف رکھنا۔
نکتہ : طواف اور اعتکاف چونکہ دو عمل جداگانہ ہیں ایک دوسرے پر موقوف نہیں اس لیے طواف اور اعتکاف کو بذریعہ واؤ عاطفہ ذکر فرمایا اور رکوع اور سجود دونوں مل کر ایک عبادت ہیں الگ الگ عبادت نہیں اس لیے رکوع اور سجود کو بدون عطف ذکر فرمایا۔
Ayah 2:126دعاء ابراہیم برائے حرم وساکنانِ حرَم
قال تعالیٰ واذ قال ابراہیم رب اجعل ھذا بلد۔۔۔ الی۔۔ وبئس المصیر
(ربط) جب خانہ کعبہ کی فضیلت اور اس کا مکان تعظیم اور معبد ابراہیم ہونا بتلا چکے تو آئندہ اس شہر اور اس کے ساکنین کے حق میں حضرت ابراہیم کی دعائیں ذکر فرماتے ہیں اور یاد کرو اس وقت کو کہ جب حضرت ابراہیم نے اللہ کے حکم سے خانہ کعبہ بنانے کا پختہ ارادہ فرمایا تو یہ دعا کی کہ اے پروردگار اس لق ودق صحرا کو آباد شہر اور پر امن بنادے کیونکہ رسم حج کی بقاء بدون شہر کی آبادی کے ممکن نہیں اور شہر کی آبادی بدون امن کے باقی نہیں رہ سکتی۔ بدامنی سے شہر ویران ہوجاتا ہے اور اس شہر کے ساکنین کو قسم قسم کے پھل اور میوے عطا فرما اس لیے کہ ساکنان شہر کی آبادی رزق پر موقوف ہے بغیر رزق کے کوئی باقی اور زندہ نہیں رہ سکتا اور رزق کی درخواست میں ظالموں اور نافرمانوں کے لیے نہیں کرتا بلکہ صرف ان لوگوں کے لیے رزق طلب کرتا ہوں جو اس شہر کے رہنے والوں میں سے اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رزق کو امامت پر قیاس مت کرو۔ امامت ایک دینی منصب ہے ظالم اس کا مستحق اور اہل نہیں اور رزق دنیوی۔ ایسی شئی ہے جو عام ہے میں رب العالمین ہوں سب کا رازق ہوں۔ مومن کو بھی ثمرات سے رزق دوں گا اور کافر کو بھی دنیا میں رزق دوں گا۔ اور چونکہ یہ کافر ہے اس لیے چند روز یعنی زندگی تک اس کو دنیاوی منافع سے خوب متمتع اور بہرہ مند کرتا رہوں گا اور پھر اس کو لاچار اور بےبس بنا کر کشاں کشاں عذاب نار تک پہنچاؤں گا اور بیشک دوزخ بہت ہی بری جگہ ہے دنیا میں کوئی مکان اگر ایک طرف سے برا ہوتا ہے تو دوسری طرف سے اچھا بھی ہوتا ہے لیکن وہ دوزخ ایسا مکان ہے جو کسی اعتبار سے بھی اچھا نہیں ہر طرح سے برا ہی برا ہے۔
Ayah 2:127دعاء ابراہیم (علیہ السلام) واسمعیل (علیہ السلام) برائے قبولیت خدمت تعمیر بیت اللہ
قال تعالیٰ ۔ واذ یرفع ابراھم القواعد۔۔ الی۔۔ انت السمیع العلیم۔
اور اس وقت کو بھی یاد کرو کہ جب ابراہیم خود اپنے ہاتھ سے اس گھر کی بنیادوں کو اٹھا رہے تھے یعنی اس پر تعمیر کرتے تھے اور دیواریں چنتے جاتے تھے اور اسی طرح اسمعیل بھی ان کے ساتھ بلند کرنے میں مشغول تھے اور یہ دونوں بزرگ اس وقت نہایت عجز اور انکساری کے ساتھ یہ کہتے جاتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار اپنے فضل سے ہماری اس محنت اور خدمت کو قبول فرما تحقیقی تو ہی ہماری دعاؤں کو سننے والا ہے اور تو ہی ہماری نیت اور ہمارے ذوق وشوق کو جاننے والا ہے محض اپنے لطف و عنایت سے اپنے عاشقان جان نثار کی اس سعی کو مشکور فرما۔
1 ۔ قبول اور تقبل میں یہ فرق ہے کہ جو چیز لائق پذیرائی ہو۔ وہاں لفظ قبول استعمال کرتے ہیں اور جو چیز ناقص ہو اور قابل پذیرائی نہ ہو وہاں لفظ تقبل استعمال کرتے ہیں اس لیے کہ لفظ تقبل باب تفعل سے ہونے کی وجہ سے تکلف پر دلالت کرتا ہے اور تکلف قبول اس بات کو مقتضی ہے کہ وہ چیز لائق قبول نہ ہو۔ پس اس مقام پر لفظ وتقبل کا استعمال۔ غایت عجز اور کمال تواضع پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی ہمارا عمل اس قابل نہیں کہ مقبول ہو لیکن اگر تیرے لطف و عنایت اور فضل و رحمت سے قبول ہوجائے تو یہ تیرا محض وجود و کرم ہے۔
گرچہ یہ ھدیہ نہ میرا قابل منظور ہے پر جو ہو مقبول کیا رحمت سے تیری دور ہے
اور اگر بالفرض کوئی عمل قابل بقول بھی ہو تب بھی حق تعالیٰ کے ذمہ اس کا قبول کرنا واجب نہیں اس لیے کہ قبولیت کے لیے مستقل درخواست چاہئے۔ اہلسنت والجماعت کا یہی مذہب ہے۔ معتزلہ کے نزدیک ایسے عمل کا قبول کرنا اللہ کے ذمہ واجب ہے معتزلہ نے جب بندہ کے افعال اختیاریہ کو بندۂ کا مخلوق اور مملوک قرار دیا تو خالق کے ذمہ ان کا قبول کرنا اور ان پر ثواب دینا واجب گردانا اور اپنی نادانی سے یہ نہ سمجھنا کہ اس واجب الوجود پر کسی کا وجوب نہیں چلتا اور نہ اس پر کسی کا حق ہے اور خدا تعالیٰ کے سوا کون ہے جو اس پر کوئی شئی لازم اور واجب کرسکے۔
2: جاننا چاہئے کہ بارگاہ خداوندی میں وہی عبادت اور خدمت مقبول ہے کہ جس کرنے والا دل وجان سے قابل قبول نہ سمجھے اور کرنے والے کی نظر اپنے عمل پر نہ ہو بلکہ اس کے لطف اور فضل پر ہو۔