2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 2:261–264

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:261 in the Quran reader

جو لوگ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس (کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے، وہ بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:262 in the Quran reader

جو لوگ اپنا مال اللہ کے راستے میں صرف کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ اس خرچ کا (کسی پر) احسان رکھتے ہیں اور نہ (کسی کو) تکلیف دیتے ہیں ان کا صلہ ان کے پروردگار کے پاس تیار ہے اور (قیامت کے روز) نہ انکو کچھ خوف ہوگا اور نہ غمگین ہوں گے

قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًى١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ Open ayah 2:263 in the Quran reader

جس خیرات دینے کے بعد (لینے والے کو) ایذا دی جائے اس سے تو نرم بات کہہ دینی اور (اس کی بےادبی ہے) درگزر کرنا بہتر ہے اور خدا بےپرواہ اور بردبار ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى١ۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:264 in the Quran reader

مومنو ! اپنے صدقات (و خیرات) احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کردینا جو لوگوں کو دکھاوے کیلیے مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا تو اس (کے مال) کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے (اسی طرح) یہ (ریاکار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے اور خدا ایسے ناشکروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

فضیلت انفاق فی سبیل اللہ وزکر بعض شرائط قبول۔ قال تعالی، مثل الذین ینفقون۔۔۔۔ الی۔۔۔ القوم الکافرین۔ ان آیات میں عالم آخرت کے لیے سازوسامان تیار کرنے کی ترغیب کے لیے ایک مثال بیان فرماتے ہیں جو ضمنا اثبات قیامت کی بھی دلیل ہے اس لیے کہ جو ذات پاک زمین ایک دانہ ڈالنے اور سات سودانے اگانے پر قادر ہے وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے چناچہ فرماتے ہیں جو لوگ اپنے مالوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے کہ ایک دانہ زمین میں ڈالاجائے جو کہ سات بالیں اگائے اور ہر بال میں سودانے ہوں اسی طرح صدقہ دینے والا بمنزلہ مزارع کے ہے اور مال بمنزلہ تخم اور دانہ کے ہے اور سبیل اللہ بمنزلہ زراعت کے ہے جو خدا کی راہ میں مال خرچ کریگا اور سات سو گنا کی کوئی تحدید نہیں اللہ تعالیٰ بقدر اخلاص اور بقدر نیت اور مشت کے جس کے لیے جس قدر چاہتا ہے اور بڑھا دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی کشائش والا ہے اس کی عطا اور بخشش کی کوئی حد اور نہایت نہیں دینے سے اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آتی اور اخلاص اور نیت اور اس کی مقدار اور کیفیت کو بھی خوب جانتے ہیں اور اس کے مطابق بڑھاتے ہیں اور جسطرح پیدوار کے لیے یہ شرط ہے کہ تخم اور دانہ خراب نہ ہو اور زمین تخم ریزی کے قابل ہو اور آئندہ چل کر بھی کھیتی آفتوں سے محفوظ رہے تب پیداوار ہوگی اور اسی طرح صدقہ کے لیے یہ شرط ہے کہ مال حلال ہو اور جس راہ میں خرچ کیا جارہا ہے وہ بھی خیر اور نیکی کی راہ ہو یعنی صحیح ہو اور آئندہ چل کر وہ صدقہ احسان جتلانے اور ایذارسانی کی آفت سے بھی محفوظ اور مامون رہے تب اس صدقہ کا سات سو گنا بدلہ ملے گا چناچہ آئندہ آیات میں ارشاد فرماتے ہیں جو لوگ اپنے مالوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر خرچ کرنے کے بعد نہ تو زبان سے احسان جتلاتے ہیں اور نہ کسی اپنے عمل اور برتاؤ سے اس کو ایذا پہنچاتے ہیں تو ایسے ہی لوگوں کو ان کے پروردگار کے یہاں صدقہ کا اجر اضعافا مضاعفہ ملے گا اور نہ انکو آئندہ ڈر ہے کہ ہمارا صدقہ کسی آفت سماویہ سے ہلاک ہوجائے اور نہ قیامت کے دن غمگین ہوں گے کہ ہمارا صدقہ بےکار گیا اس لیے کہ صدقہ کی کھیتی سماوی آفتوں سے تباہ اور برباد نہیں ہوتی بلکہ خرچ کرنے والے کے نفس کی طرف سے جو من اور اذی، اور ریاء، کی آفتیں آتی ہیں ان سے تباہ اور برباد ہوتی ہے اور صدقہ دینے کے بعد من اور اذی یعنی احسان جتلانے اور ستانے سے اس لیے منع فرمایا کہ سائل کو معقول اور مناسب طریقہ سے جواب دے دینا اور نرمی کے ساتھ اپنی ناداری اور نہ دینے کا عذر کردینا اور اگرچہ سائل اصرار کرے اور کچھ سخت اور سست کہے تو اس سے درگذر کرنا اس خیرات سے ہزار درجہ بہتر ہے جسکے بعد ستایاجائے اس لیے کہ صدقہ اور خیرات سے محتاج اور سائل کی تکلیف کو دور کرنا تھا پس جب وہ مقصد حاصل نہ ہواو وہ صدقہ بےکار ہی گیا ایسی سخاوت سے تو بخل بہتر ہے کہ جس کے بعد اس کو ذلیل اور حقیر کیا جائے سائل کی ایک تکلیف دور کی اور پھر دوسری تکلیف اس کو پہنچائی یہ ایسا ہے کہ ایک کانٹا نکالا اور دوسرا کانٹا چبھو دیا اور اللہ تعالیٰ بےنیاز ہیں ان کو کسی کے مال اور خیرات کی ذرہ برابر حاجت نہیں جو خیرات کرتا ہے وہ اپنے لیے کرتا ہے اور بردبار اور تحمل والے ہیں احسان جتلانے والے اور ستانے والے کو جلدی سزا نہیں دیتے ان آیات میں من اور اذی کا بیان تھا اب آئندہ ایات میں ریاء کا بیان فرماتے ہیں کہ صدقہ کی قبولیت کے لیے اخلاص اور نیت شرط ہے اور اگر دکھاوے کی نیت سے خرچ کیا تو بےکار ہے اور اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے اس پتھر پر دانہ ڈالیے جس پر کچھ مٹی نظر آتی ہو اور ظاہر نظر میں یہ گمان ہو کہ یہ جگہ قابل زراعت ہے اور جب اس پر بارش ہو تو سب بہہ گیا اور کوئی چیز بھی اس کے قبضہ میں نہ رہی چناچہ فرماتے ہیں کہ اے ایمان والو اپنی خیرات کو احسان جتلانے اور ایذاء رسانی سے ضائع مت کرو احسان جتلانا احسان کرنے کے منافی ہے اور نیکی کرنا اور تکلیف پہنچانا ایک دوسرے کی ضد ہیں دونوں جمع نہیں ہوسکتی خیرات کرکے احسان جتلانے والا اور ایذار پہنچانے والا اس شخص کے مشابہ ہے جو اپنا مال لوگوں کو دکھلانے کے لیے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور یوم آخرت پر یقین نہیں رکھتا یعنی اللہ کی خوشنودی اور آخرت کے ذخیرہ کے لیے خیرات نہیں کرتا اور نمود کے لیے خرچ کرنے والے کی مثال ایسی ہے کہ صاف پتھرہو جس پر کوئی چیز اگتی نہیں اور اس پر مٹی پڑی ہو اس کو دیکھ کر اس میں دانہ ڈالے اور یہ گمان کرے کہ اس میں سات دانے پیدا ہوں گے پھر اس پر ایک سختب ارش پڑی جس نے اس پتھر کو بالکل صاف کردیا اور مٹی اور دانہ کا نام ونشان نہ چھوڑا ظاہر ہے کہ اب اس میں کیا اگے گا اسی طرح نفاق اور ریاء اور صدقہ اور خیرات کو بہا کرلے جاتا ہے پس قیامت کے دن ریاء اور نفاق سے خرچ کرنے والے اور خرچ کرکے احسان جتلانے والے اور ستانے والے اپنی کمائی میں سے کسی چیز کا ثواب حاصل کرنے پر ذرہ برابر قادر نہ ہوں گے کوئی چیز ان کے ہاتھ نہ لگے گی اس لیے کہ ثواب ملنے کی شرط یہ ہے کہ ایمان اور اخلاص کے ساتھ دیا ہو پس جس نے ریاء اور نفاق سے کچھ خیرات کیا اس کی مثال تو ایسی ہے جس نے پتھر پر دانہ ڈال دیا اور بارش اس کو بہا کرلے گئی اور جس نے اخلاص سے دی اور بعد میں احسان جتلایا اور ایذا پہنچائی اس کی مثال ایسی ہے کہ پودا لگایا اور پھر خود ہی اس کو اپنے ہاتھ سے اکھاڑ کر پھینک دیا اور اللہ تعالیٰ کافروں کو اپنی توفیق اور عنایت سے سرفراز فرمارتے اشارہ اس طرف ہے کہ ریا اور دکھلاوے کے لیے خرچ کرنا اور احسان جتانا اور ستانا یہ کافروں کی صفات ہیں مومن کی شان نہیں کہ ایسا کرے۔ فائدہ) ۔ جس طرح نماز کے لیے دو قسم کی شرائط ہیں ایک شرائط صحت، جیسے وضو اور طہارت اور دوسرے شرائط بقاء جیسے نماز میں کسی سے باتیں نہ کرنا اور کھانے اور پینے سے پرہیز کرنا پس اگر وضو ہی نہ کرے تو سرے ہی سے نماز صحیح نہ ہوگی اور اگر وضو اور طہارت کے بعد نماز شروع کی مگر ایک رکعت یا دو رکعت کے بعد نماز میں کھانا اور پینا اور بولنا شروع کردیا تو اس کی نماز باقی نہ رہی گی۔ اسی طرح صدقات اور خیرات کے لیے بھی دو قسم کی شرطیں ہیں، ایک شرائط صحت، اور دوسری شرائط بقاء، اخلاص شرط صحت ہے بغیر اخلاص کے صدقہ کے صحیح ہی نہیں ہوتا لہذا جو صدقہ ریاء اور نفاق کے ساتھ دیا جائے وہ شریعت میں معبتر نہیں اور من اور اذی سے پرہیز شرط بقاء ہے یعنی صدقہ اور خیرات اس وقت تک محفوظ اور باقی رہیں گے جب تک صدقہ دینے کے بعد نہ تو احسان جتایاجائے اور نہ سائل کو کسی قسم کی ایذاء پہنچائی جائے اگر صدقہ دینے کے بعد احسان جتایا یا ستایا تو وہ صدقہ ضائع اور باطل ہوجاتا ہے اس لیے کہ یہ دونوں چیزیں صدقہ اور خیرات کے مفسدات میں سے ہیں جیسے کھانے اور پینے سے نماز باطل ہوجاتی ہے اس طرح من اور اذی سے صدقہ باطل ہوجاتا ہے اور چونکہ جو صدقہ نفاق اور ریاء سے دیا جائے اس کا باطل ہونا بالکل ظاہر ہے اس لیے کہ صدقہ کو جو من اور اذی کی وجہ سے بطال ہو اس کو اس صدقہ کے ساتھ تشبیہ دی جو کہ ریاء اور نفاق کی وجہ سے باطل ہو اس لیے کہ صدقہ ریاء اور نفاق ابتداء ہی سے باطل ہے کیونکہ شرط صحت مفقود ہے اور صدقہ من اور اذی اصل سے صحیح تھا بعد میں من اور اذی کی وجہ سے باطل ہو اور اس لیے کہ شرط بقاء کی منفی ہوئی اب اس تقریر کے بعد معتزلہ کا یہ شبہ کافور ہوگیا کہ جس طرح کفر اور ارتداد سے تمام اعمال حبط ہوجاتے ہیں اسی طرح ہر سیۂ اور ہر ہر معصیت کے ارتکاب سے گزشتہ تمام طاعات حبط ہوجاتی ہیں اس لیے کہ صدقہ من اور اذی سے اس لیے باطل ہوا کہ صدقہ جو کہ ایک اطاعت تھا اس کی شرط بقاء نہیں پائی گئی اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مطلقا ہر سیۂ کے ارتکاب سے گزشتہ حسنات بھی حبط ہوجائیں اور جن آیات اور احادیث سے بظاہر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ معاصی اور سیئات سے گزشتہ طاعات اور حسنات حبط ہوجاتے ہیں اور ان کا مطلب یہ نہیں کہ معاصی اور سیئات کے ارتکاب سے گزشتہ طاعات باطل ہوجاتی ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان کے انوار وبرکات جاتے رہتے ہیں جیسے حدیث میں ہے اذا زنی العبد خرج منہ الایمان، یعنی جب بندہ زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان کا نور زائل ہوجاتا ہے اور یہ مطلب نہیں کہ زنا کرنے سے کافر ہوجاتا ہے۔
Ayah 2:265

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:265 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کیلیے اور خلوص نیت سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو (جب) اس پر مینہ پڑے تو دگنا پھل لائے اور اگر مینہ نہ بھی پڑے تو خیر پھوار ہی سہی اور خدا تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے

مثال نفقات مقبولہ۔ قال تعالی، ومثل الذین یفقون اموالھم۔۔۔ الی۔۔۔ بصیر۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں صدقات غیر مقبولہ کی مثال بیان فرمائی اب ان آیات میں صدقات مقبولہ کی مثال بیان فرماتے ہیں اور مثال ان لوگوں کی جو اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں محض اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور خوشنودی طلب کرنے کے لیے اور دلی تصدیق اور یقین کی بناء پر یعنی ان کو یقین کامل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صدقات پر جزاء اور ثواب کا وعدہ کیا ہے وہ حق ہے اور ان کے دلوں کو یقین اور اطمینان ہے کہ قیامت کے دن ان کو پورا بدلہ ملے گا جیسے حدیث میں آیا ہے، من صام رمضان ایمانا واحتسابا غفرلہ ماتقدم من ذنبہ۔ پس ان لوگوں کے صدقات اور خیرات کی مثال اس باغ کی مانند ہے جو بلندی پر واقع ہو جو دیکھنے میں نہایت خوبصورت معلوم ہو بلند جگہ پر جو درخت ہوتے ہیں وہ دیکھنے میں نہایت اچھے معلوم ہوتے ہیں اور بلند جگہ کی آب وہوا بھی بہت لطیف ہوتی ہے اور اس پر زور کی بارش پڑی ہو پس لایا ہو وہ باغ اپنا دونا پھل اور اگر اس باغ کو زور کی بارش نہ پہنچے تو شبنم اور اوس ہی اس کو کفایت کرتی ہے کیونکہ زمین عمدہ ہے اور آب وہوا نہایت لطیف ہے اس لیے تھوڑا پانی بھی اس کے لیے کافی ہوتا ہے بہرحال وہ باغ ایسی عمدہ جگہ پر ہے کہ اس کو تھوڑا پانی پہنچے یا زیادہ وہ باغ خراب نہیں ہوسکتا اسی طرح مومن مخلص کی خیرات بمنزلہ باغ کے ہے کہ وہ ضائع اور برباد نہیں ہوتی بقدر اخلاص اور بقدر نیت اور بقدر اس کے خرچ کے اس کو ثواب ملے گا زور کی بارش سے بہت مال خرچ کرنا مراد ہے اور شبنم اور اوس سے تھوڑا مال خرچ کرنا مراد ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھنے والے ہیں کہ کون اخلاص کے ساتھ خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لیے دیتا ہے اور کون ریاء اور نفاق سے دیتا ہے اور کون دینے کے بعد احسان جتلاتا ہے، اور حاصل مثال یہ ہے کہ اہل اخلاص کا عمل ضرور نافع اور مفید ہوتا ہے خواہ اہل اخلاص سابقین اور مقربین میں سے ہوں یا اصحاب یمین میں سے۔ 1) ۔ حضرت ابن عباس اور شعبی اور قتادہ اور ابوصالح اور ابن زید سے منقول ہے کہ تثبیتا من انفسھم کے معنی تصدیق اور یقین کے ہیں حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں یہ مثال ان مومنین کی ہے جو اپنا مال خدا کی راہ میں صرف کرتے ہیں تاکہ ان کو اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل ہو اور تثبیتا من انفسھم کے یہ معنی ہیں کہ ان کے دل سے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس خیرات کی کامل جزاء عطا فرمائے گا جیسا کہ حدیث میں ہے، من صام رمضان ایمانا واحتسابا یعنی جو شخص رمضان کے روزے رکھے اور وہ اس بات پر ایمان رکھے کہ اللہ نے یہ روزے فرض کیے ہیں اور احتسابا کے معنی یہ ہیں کہ اللہ سے ثواب کی توقع اور امید رکھے اور اسی معنی کو امام ابن جریر نے اختیار فرمایا۔ اس تفسیر میں من انفسھم کامن ابتدائیہ ہے ای تثبیتا ناشا من نفوسھم یعنی ایسی تصدیق اور ایسا یقین کہ جو ان کے دلوں سے نکلا ہو اس بناء پر ہم نے اس آیت کی تفسیر اسی طرح کی کہ (ولی تصدیق اور یقین کی بناء پر) شاہ ولی اللہ تثبیتا من انفسھم کے ترجمہ میں لکھتے ہیں۔ وبسبب اعتقاد ناشی از دل خویش۔ 2) ۔ مجاہد اور حسن بصری فرماتے ہیں کہ تثبیت سے احتیاط کے معنی مراد ہیں چناچہ فرماتے ہیں معناہ انھم یثنون این یضعون صدقاتھم۔ یعنی وہ احتیاط کرتے ہیں کہ اپنا صدقہ اور خیرات کس جگہ خرچ کریں (تفسیر قرطبی ص 314 ج 3 و تفسیر ابن کثیر ص 163 ج 2) ۔ 3) ۔ اور بعض ائمہ تفسیر اس طرف گئے ہیں کہ تثبیتا کے معنی نفس کو مقام عبودیت اور منزل ایمان میں ایسا ثابت قدم بنا دینا کہ اس کے پائے استقامت میں کوئی تزلزل نہ آئے اور حرص اور طمع اور مال کی محبت اس کو اپنی جگہ سے نہ ہلاسکے اور من اس تفسیر پر تبعیضیہ ہے اور تثبیتا کا مفعول ہے یعنی تثبیتا بعض انفسھم اور معنی یہ ہیں کہ جس نے اپنا مال خدا کے لیے خرچ کیا اس نے اپنے بعض نفس کو ایمان پر جمالیا اور جس نے جان اور مال دونوں خدا کے لیے خرچ کیے اس نے اپنے سارے نفس کو ایمان پر ثابت اور قائم کردیا اور اس آیت شریفہ یعنی تجاھدون فی سبیل اللہ باموالکم وانفسکم میں یہی مراد ہے یعنی کل نفس کو ایمان پر ثابت اور قائم کردینا مراد ہے امام فخر الدین رازی اس وجہ کو ذکر کرکے فرماتے ہیں اس وجہ کو صاحب کشاف یعنی علامہ زمخشری نے ذکر کیا ہے اور یہ کلام بہت خوب ہے اور نہایت لطیف تفسیر ہے۔
Ayah 2:266

اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ۙ وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ١۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:266 in the Quran reader

بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کو باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لئے ہر قسم کے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آپکڑے اور اس کے ننھے ننھے بچے بھی ہوں تو (ناگہاں) اس باغ پر آگ کا بھرا ہو بگولا چلے اور وہ جل (کر راکھ کا ڈھیر ہو) جائے ؟ اس طرح خدا تم سے اپنی آئتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو

مثال نفقات و طاعات غیرمقبولہ۔ قال تعالی، ایود احدکم ان تکون۔۔۔ الی۔۔ تتفکرون۔ کیا تم میں سے کوئی یہ بات پسند کرتا ہے کہ اس کا ایک باغ ہو کھجوروں کا اور انگوروں کا کہ اس کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں اور اس باغ میں علاوہ کھجوروں اور انگوروں کے اس کے لیے ہر قسم کے پھل اور میوے ہوں اور اس کو بڑھاپا آپہنچا کہ جس وقت میں چل پھر کر کمانے پر قدرت نہیں رہی اور بڑھاپے کی وجہ سے ضرورت اور لاچارگی بڑھ گئی اور اس کی اولاد ہیں ضعیف اور ناتواں جو کمانے پر قادر نہیں اور بجائے اس کے کہ وہ بوڑھے باپ کی خدمت کریں خود محتاج ہیں یہ وقت باپ کے لیے بڑی پریشانی کا ہے کہ خود بھی عاجز اور مجبور اور بچے بھی کمزور اور ناتواں، پس اچانک ایسی حالت میں اس باغ کو ایک بگولہ آگلا جس میں آگ تھی پس وہ باغ جل کر راکھ ہوگیا اسی طرح قیامت کے دن جو انتہائی ضرورت اور پریشانی کا وقت ہوگا صدقات اور خیرات کے وہ تمام باغات جن کو من اور اذی کا بگولہ پہنچا جس میں غضب خداوندی کی آگ پنہاں تھی جل کر خاک ہوجائیں گے اور کف افسوس ملتا رہ جائے گا اور تمام امیدوں پر پانی پھرجائے گا اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیتوں کو واضح فرماتا ہے تاکہ تم فکر کرو اور اس کے مطابق عمل کرو، شاہ ولی اللہ قدس سرہ لکھتے ہیں، حاصل مثالی کا یہ ہے کہ احسان جتلانے والے اور ریاء سے صدقہ دینے والے کے اعمال شدید احتیاج کے وقت حبط ہوجائیں گے جیسے اس شخص کا باغ شدید احتیاج کے وقت جل کر خاک ہوگیا یعنی یہ مثال ہے ان لوگوں کی جو احسان رکھ کر اپنی خیرات کو ضائع کرتے ہیں جیسے کہ کسی نے جوانی کے قت باغ تیار کیا تاکہ ضعیفی اور بڑھاپے میں کام آئے اور اس سے میوہ کھائے پس جب بڑھاپا اور ضرورت کا وقت آیاتوعین ضرورت کے وقت وہ باغ جل گیا اسی طرح صدقہ اور خیرات مثل میوہ دار باغ کے ہیں کہ ان کا میوہ آخرت میں کام آتا ہے جب کسی کی نیت بری ہو یا احسان جتائے یا ستائے تو وہ باغ جل کر خاک ہوجاتا ہے پھر اس کا میوہ جو کہ ثواب ہے وہ کیونکر نصیب ہو ؟۔
Ayahs 2:267–274

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ١۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 2:267 in the Quran reader

مومنو ! جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کماتے ہو اور وہ چیزیں ہم تمہارے لئے زمین سے نکالتے ہیں ان میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرو اور بری اور ناپاک چیزیں دینے کا قصد نہ کرنا کہ (اگر وہ چیزیں تمہیں دی جائیں تو) بجز اس کے کہ (لیتے وقت آنکھیں بند کرلو ان کو کبھی نہ لو اور جان رکھو کہ خدا بےپرواہ (اور) قابل ستائش ہے

اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖۙ Open ayah 2:268 in the Quran reader

(اور دیکھنا) شیطان (کا کہا نہ ماننا وہی) تمہیں تنگدستی کا خوف دلاتا اور بےحیائی کے کام کرنے کو کہتا ہے اور خدا تم سے اپنی بخشش اور رحمت کا وعدہ کرتا ہے اور خدا بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 2:269 in the Quran reader

وہ جس کو چاہتا ہے دانائی بخشتا ہے اور جس کو دانائی ملی بیشک اس کو بڑی نعمت ملی اور نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہیں

وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 2:270 in the Quran reader

اور تم (خدا کی راہ) میں جس طرح کا خرچ کرو یا کوئی نذر مانو خدا اسکو جانتا ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:271 in the Quran reader

اگر تم خیرات ظاہر دو تو وہ بھی خوب ہے اور اگر پوشیدہ دو اور دو بھی اہل حاجت کو تو وہ خوب تر ہے اور (اسطرح) کا دینا) تمہارے گناہوں کو بھی دور کردے گا اور خدا کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے

لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:272 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ تم ان لوگوں کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں ہو بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے اور (مومنو ! ) تم جو مال خرچ کرو گے تو اس کا فائدہ تمہیں کو ہے اور تم تو جو خرچ کرو گے خدا کی خوشنودی کے لے کرو گے اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا کچھ نقصان نہیں کیا جائے گا

لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ١٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:273 in the Quran reader

(اور ہاں تم جو خرچ کرو گے) تو ان حاجتمندوں کے لئے جو خدا کی راہ میں رکے بیٹھے ہیں اور ملک میں کسی طرف جانے کی طاقت نہیں رکھتے (اور مانگنے سے عار رکھتے ہیں) یہاں تک کہ نہ مانگنے کی وجہ سے ناواقف شخص ان کو غنی خیال کرتا ہے اور تم قیافے سے ان کو صاف پہچان لو (کہ حاجتمند ہیں اور شرم کے سبب) لوگوں سے (منہ پھوڑ کر اور) لپٹ کر نہیں مانگ سکتے اور تم جو مال خرچ کرو گے کچھ شک نہیں کہ خدا اس کو جانتا ہے

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ Open ayah 2:274 in the Quran reader

جو لوگ اپنا مال رات اور دن اور پوشیدہ اور ظاہر راہ خدا میں خرچ کرتے رہتے ہیں ان کا صلہ پروردگار کے پاس ہے اور ان کو (قیامت کی دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ غم

بیان بقیہ آداب صدقات وذکر مصارف خیر۔ قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا انفقوا من طیبت ماکسبتم۔۔ الی۔۔ یحزنون۔ ربط) ۔ اب ان آیات میں ان امور کو بیان فرماتے ہیں کہ جن کی صدقہ اور خیرات میں رعایت ضروری ہے اور بعدازاں یہ بیان فرمائیں گے کہ کن لوگوں کو صدقہ دینا جائز ہے اور صدقہ اور خیرات کے اصل مستحق کون لوگ ہیں چناچہ فرماتے ہیں، اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ جو چیز تم نے اپنی تجارت یا صنعت وحرفت سے کمائی ہے اس میں سے پاکیزہ یعنی حلال اور عمدہ چیز خدا کی راہ میں خرچ کرو اور علی ہذا ہم نے جو چیز تمہارے لیے زمین سے نکالی ہے اس میں سے بھی پاکیزہ اور عمدہ ہی چیز خرچ کرو اور خراب اور گندی چیز کا ارادہ بھی نہ کرو کہ اس میں سے کچھ خدا کی راہ میں خرچ کرو، خدا کی راہ میں خبیث اور ناپاک مال خرچ کا ارادہ اور نیت بھی گستاخی ہے البتہ بلاقصد اور بلاارادہ تمہاری خیرات میں کوئی خراب چیزمل جائے تو اس پر مواخذہ نہیں حالانکہ تمہارا حال یہ ہے کہ اگر تمہارا حق کسی کے ذمہ چاہتا ہو اور وہ تم کو کوئی خراب چیز دینے لگے تو اس خراب کو لینے والے نہیں مگر یہ کہ تم اس کے لینے میں چشم پوشی کرو پس جب تم اپنے حقوق میں خراب چیز لینا پسند نہیں کرتے تو اللہ کی راہ میں خراب چیز دینے کو کیسے پسند کرتے ہو اور تم اس بات کو خوب جان لو کہ تمہارا یہ چشم پوشی کرنا حاجت اور ضرورت کی بناء پر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ تو بےنیاز اور بےپروا ہے اسے تو پسندیدہ اور پاکیزہ کی بھی ضرورت نہیں اور اللہ تعالیٰ بڑی خوبیوں والا ہے خوب سے خوب کو پسند کرتا ہے اور پاکیزہ ہی چیز کو قبول کرتا ہے۔ شیطان کبھی تم کو تنگدستی سے ڈراتا ہے کہ اگر تم خدا کی راہ میں خرچ کرو گے یا عمدہ مال خیرات کرو گے تو تنگ دست ہوجاؤ گے اگر دینا ہی ہے تو خراب اور ردی چیزیں خیرات کردو اور کبھی شیطان تم کو بےحیائی کا حکم دیتا ہے کہ ناجائز کاموں میں خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے یاریا اور دکھلاوے کے ساتھ خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ تم سے خرچ کرنے پر اور خصوصا پاکیزہ کمائی سے خرچ کرنے پر اپنی جانب سے بخشش اور فضل اور احسان کا وعدہ کرتا ہے یعنی جو شے ہماری راہ میں خرچ کرو گے اس پر ہم تمہاری مغفرت کریں گے اور دنیا اور آخرت میں اس سے کہیں زائد اضعافا مضاعفہ تم کو عطا کریں گے جو تمہارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کماقال تعالی، وماانفقتم من شئی فھو۔۔ الی۔۔ الرازقین۔ اور اللہ تعالیٰ بڑا کشائش والا ہے اس کے خزانہ میں کوئی کمی اور تنگی نہیں اور بڑا دانا ہے تمہارے اخلاص اور نیت کے بمقدار انعام دے گا اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں اس کو حکمت اور دانائی یعنی صحیح فہم عطا فرماتے ہیں جس سے وہ القاء رحمانی اور خیال شیطانی میں فرق کرنے لگتا ہے مثلا جب اس کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ اگر خیرات کروں گا تو مفلس رہ جاؤں گا تو وہ سمجھ لیتا ہے کہ یہ وسوسہ شیطانی ہے شیطان مجھ کو خیرات سے روکنا چاہتا ہے اور جب یہ خیال آتا ہے کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے گناہوں کی مغفرت ہوگی اور دنیا میں خرچ کیا ہوا آخرت میں کام آئے گا اور اللہ کی راہ میں دینے سے کمی نہیں آتی تو سمجھ لیتا ہے کہ یہ القاء رحمانی ہے باقی ایسا صدقہ اور خیرات کہ جس سے ظاہر اسباب میں یقیناً یا بظن غالب مفلس ہوجانے کا اندیشہ ہو تو شریعت نے خود ایسے صدقات اور تبرعات کو ممنوع قرار دیا ہے البتہ بخیلانہ خیالات اور وسوسوں کے اتباع سے منع کیا ہے آج کل کے متمدن بخیلوں نے اپنے بخل کا نام اقتصاد رکھ لیا ہے تاکہ خدا کی راہ میں نہ دینے کا بہانہ بن جائے اور جس کو من جانب اللہ حکمت اور دانائی عنایت ہوگی بلاشبہ اس کو بڑی خیر اور بھلائی مل گئی اس لیے کہ دنیا اور آخرت کے سب کام حکمت اور دانائی سے درست اور ٹھیک ہوتے ہیں اور نہیں نصیحت قبول کرتے مگر وہی لوگ جو خالص عقل والے ہیں یعنی جن کی عقلیں وہموں اور شیطانی وسوسوں اور نفسانی خطرات سے محفوظ اور مامون ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جو اپنی خواہشوں کو اللہ کی اطاعت اور رضامندی میں فنا کرچکے ہیں اور جو کچھ تم خرچ کرو گے تھوڑا ہو یا بہت پوشیدہ ہو یا ظاہر حق میں یا باطل میں یا کوئی منت اور نذر مانوگے تو اللہ اس کو خوب جانتا ہے اس کے موافق تم کو جزا دے گا اور ظالم اور ستم گاروں کے لیے جو اپنا مال نہ تو راہ مولی میں خرچ کرتے ہیں اور نہ اپنی منتیں پوری کرتے ہیں یا دکھلاوے اور معصیت کے لیے خرچ کرتے ہیں ایسے ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں جو قیامت کے دن ان کو عذاب الٰہی سے بچاسکے۔ ف) ۔ یہاں تک کہ صدقہ کے آداب اور شرائط کا بیان تھا اب آئندہ آیت میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ صدقہ علانیہ بہتر ہے یا پوشیدہ چناچہ فرماتے ہیں اگر تم اپنے صدقات اور خیرات کو ظاہر کرو یعنی سب کے سامنے دو لیکن قصد دکھلانے کانہ ہو تو کیا ہی اچھی بات ہے کہ تمہارا یہ نیک عمل دیکھ کر دورے بھی اتباع کریں گے اور نیک دل لوگ تمہاری اس سخاوت کو دیکھ کر تمہارے لیے دعا کریں گے کہ اے اللہ ایسے سخی کو زندہ رکھ جو تیری راہ میں خرچ کرتا ہے نیز دوسرے مستحقین کو جب تمہاری اعانت اور امداد کا علم ہو تو وہ بھی تمہارے وجود اور جود کو اپنے لیے سہارا سمجھیں گے اور تمہارے لیے دعا کریں گے اور اگر تم اپنے صدقات کو چھپاؤ اور پوشیدہ طور پر فقیروں کودے دو تو وہ تمہارے بہت ہی بہتر ہے تمہارا صدقہ ریا اور نمود سے محفوظ رہا اور فقیر ندامت اور شرمندگی سے محفوظ رہا اور چونکہ تم نے پوشیدہ دے کر فقیر کی پردہ پوشی کی اس لیے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہارے اس پوشیدہ صدقہ کے صلہ میں تمہارے کچھ گناہوں اور برائیوں کی پردہ پوشی کرے گا اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خوب واقف ہیں خلاصہ کلام یہ کہ صدقہ کا اظہار اور اخفاء دونوں ہی بہتر ہیں مگر صدقہ کا اخفاء بہت بہتر ہے البتہ بعض حالات میں صدقہ کا اظہار زیادہ نافع ہوتا ہے یہ عارضی امر ہے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ صحابہ نے اپنے مشرکین رشتہ داروں کے ساتھ سلوک اور احسان کرنے کو مکروہ سمجھ کر آنحضرت ﷺ سے فتوی پوچھا تو آپ نے ان کو اجازت دی اور اس بارے میں یہ آئندہ آیت نازل ہوئی یعنی لیس علیک ھداھم نازل ہوئی (نسائی، طبرانی وبزار وغیرہ) اور مصنف ابن ابی شیبہ کی ایک مرسل روایت میں ہے کہ حضور پرنور ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا تھا کہ تم اپنے ہی دین کے لوگوں کو صدقہ دیا کرو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اے محمد ﷺ ان لوگوں کا راہ راست پر لانا آپ کے ذمہ نہیں جس کے لیے آپ اتنا اہتمام کریں اور یہ خیال کریں کہ شاید اس تدبیر سے یہ لوگ مسلمان ہوجائیں اور لیکن اللہ ہی راہ راست پر لاتا ہے جس کو چاہتا ہے اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو گے تو وہ تمہارے ہی نفع کے لیے ہے تم اس فکر میں نہ پڑو کہ تمہارا صدقہ مسلمان کو ملے یا کافر کو صلہ رحمی اور انسانی ہمدردی کے لیے مسلمان ہونا شرط نہیں۔ اور تم تو خدا کے ایسے مخلص ہو کہ کوئی چیز بھی خرچ نہیں کرتے مگر محض اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور خوشنودی کے لیے اور جو مال بھی تم خدا کی رضامندی کے لیے خرچ کرو گے اس کا پورا پورا اجر تم تک پہنچ جائے گا اور تمہارے اجر میں ذرہ برابر کمی نہ کی جائے گی لہذا اس فکر میں نہ پڑو کہ تمہارا صدقہ اور خیرات مسلمان یہ کو ملے اور کافر کو نہ ملے شیخ سعدی کا ارشاد ہے جو گویا اس آیت کی تفسیر ہے ؂ گرادمی بروبیش آتش سجود تو واپس چرامی کشی دست جود۔ حکایت) ۔ ایک عالم بڑی خیرات کیا کرتے تھے اور کوئی پوچھتا تو قسم کھاتے کہ خدا کی قسم میں نے کسی کے ساتھ کوئی خیر نہیں کی کسی نے اس عالم سے دریافت کیا کہ آپ خیرات کرتے ہیں اور پھر یہ قسم کھاتے ہیں تو یہ فرمایا کہ خدا کی قسم میں کسی کے ساتھ خیر نہیں کرتا جو خیر کرتا ہوں وہ اپنے ہی لیے کرتا ہوں اور اس کے بعد یہ آیت تلاوت کی، وماتنفقوا من خیر فلانفسکم۔ یعنی تم جو بھی خیر کرتے ہو وہ اپنے ہی نفس کے لیے کرتے ہو۔ فائدہ) ۔ ان آیات میں صدقات نافلہ اور عام خیرات کا بیان ہے اور نفلی صدقہ اور خیرات دینا کافر کو بھی جائز ہے البتہ زکوٰۃ سوائے مسلمان کے کسی اور دینا جائز نہیں حضور پرنور ﷺ نے جب معاذ بن جبل کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجاتو یہ فرمایا کہ وہاں لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا اور جب اسلام قبول کرلیں تو ان کو یہ بتلادینا کہ اللہ نے تم پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو انہی مسلمان امیروں سے لے جائے گی اور انہی کے غریبوں کو دی جائے گی پس جس طرح زکوٰۃ مسلمانوں ہی کے امیروں پر فرض ہے اسی طرح ان سے لے کر مسلمان فقیروں ہی پر تقسیم کی جائے گی کافر فقیروں پر اس کا تقسیم کرنا جائز نہ ہوگا۔ ربط) ۔ گزشتہ آیت میں یہ فرمایا کہ صدقہ اور خیرات مومن کے ساتھ مخصوص نہیں کافر کو بھی خیرات دینا جائز ہے اب آئندہ آیت میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ صدقات اور خیرات کے کون لوگ سب سے زیادہ مستحق ہیں چناچہ فرماتے ہیں صدقات کا اصل استحقاق، ان حاجت مندوں کے لیے ہے جو خدا کی راہ میں مقید اور پابند ہیں یعنی دین کی خدمت اور علوم ظاہری اور باطنی دشمنوں کے جہاد میں لگے ہوئے ہیں ظاہری دشمن سے کفار مراد ہیں اور باطنی دشمن سے نفس امارہ مراد ہے جس طرح کافروں کی گردن کشی کے لیے جہاد و قتال بزرگ ترین عبادت ہے اسی طرح نفس کشی کے لیے مجاہدات اور ریاضات بھی عظیم ترین عبادت ہے حدیث میں ہے المجاھد من جاھد نفسہ اور ایک ضعیف روایت میں جہاد نفس کو جہاد اکبر فرمایا ہے جیسے اصحاب صفہ تجارت اور زراعت کو چھوڑ حضور پرنور ﷺ کی مسجد کے قریب جو ایک صفہ (چبوترہ اور سائبان تھا) وہاں لیل ونہار بسر کرتے تھے تاکہ حضور کی صحبت میں علم سیکھیں اور جب جہاد کا موقعہ آئے تو جہاد میں جائیں غرض یہ کہ صدقات کے اصل مستحق وہ فقراء اور حاجت مند لوگ ہیں جو علوم دینیہ کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں اور علم اور جہاد میں مشغول ہونے کی وجہ سے ملک میں تجارت اور مزدوری کے لیے چل پھر نہیں سکتے اس لیے کہ ایک آدمی سے دو کام نہیں ہوسکتے۔ ف) ۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ صدقات اور خیرات میں ان حاجت مندطالب علموں کا خاص طور پر خیال رکھیں جو علم دین کے حاصل کرنے میں مشغول ہیں اگر دنیا میں یہ گروہ نہ رہے تو دنیا سے علم دین اور دین سب رخصت ہوجائے اور لوگ بےدین اور گمراہ ہوجائیں اس لیے کہ کسی چیز کا باقی رہنا اس شے کے علم کے باقی رہنے پر موقوف ہے طب جسمانی کی اگر تعلیم نہ ہو اور نہ اس کی کوئی درس گاہ ہو تو نتیجہ یہ ہوگا کہ دنیا بیماروں سے پر ہوگی اور کوئی طبیب اور معالج نہ ملے گا اسی طرح اگر طب روحانی یعنی علم دین کی کوئی درسگارہ نہ ہو تو دنیا روحانی مریضوں یعنی کفر اور الحاد اور معصیت کے روحانی بیماروں سے بھری ہوگی اور کوئی طبیب اور معالج نہ ہوگا یعنی ایمان اور کفر اور اطاعت اور معصیت کا فرق بتلانے والا کوئی نہ ملے گا باقی جو شخص کفر اور معصیت کو بیماری ہی نہ سمجھتا ہو اس سے ہمارا خطاب نہیں اور انجان آدمی جو ان کے حال سے ناواقف اور بیخبر ہے وہ ان کو نہ مانگنے کی وجہ سے مالدار اور دولت مند سمجھتا ہے قناعت کی وجہ سے یہ لوگ کسی سے سوال نہیں کرتے اس لیے عام طور پر ان کی حاجت مندی کا علم نہیں ہوتا البتہ تم ان کی حاجت اور تنگی کو کسی وقت ان کے چہرے کی حالت اور قیافہ سے پہچان سکتے ہو اس لیے کہ بعض مرتبہ بھوک اور تنگی کے باعث چہرہ پر پزمردگی اور بدن پر لباس شکستی ہوتا ہے اس لیے ان کی تنگی کا علم ہوجاتا ہے قناعت کی وجہ سے اول تو یہ لوگ کسی سے سوال نہیں کرتے اور اگر شاذونادر کبھی مجبور ہوکرسوال کرتے ہیں تو لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے یعنی کسی کے سر نہیں ہوتے اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو گے خواہ وہ لوگ سوالی ہوں یا بےسوالی، ان کی حاجت اور تنگی کم ہو یا زیادہ توا للہ تعالیٰ تم کو بقدر استحقاق کے اس کی جزا دے گا اور اس لیے کہ اس کو تمہاری نیت خوب معلوم ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ اللہ کی راہ میں کرچ کرنے کے لیے کسی زمان اور مکان اور وقت اور حال کی قید نہیں جو لوگ اپنے مالوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں رات کے اندھیروں میں جس مستحق کا پورا پتہ نہیں چل سکتا یا دن میں جس میں ریا کا اندیشہ ہے اور علی ھذا نہ کسی حال کی تخصیص ہے ظاہرا خرچ کریں یا تو پوشیدہ پس ان کے لیے ان کا ثواب ہے ان کے پروردگار کے یہاں جس پروردگار نے ان کے صدقات کی تربیت کی ہے اور ان کو بڑھایا ہے اور نہ ان پر کوئی خوف وخطر ہے اور نہ یہ لوگ رنجیدہ ہوں گے بلکہ صدقات کے انعامات کو دیکھ کر یہ تمنا کریں گے کاش خدا کی راہ میں ساراہی گھر لٹا دیا ہوتا۔