2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 2:38–39

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًا١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:38 in the Quran reader

ہم نے فرمایا کہ تم سب یہاں سے اتر جاؤ، جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت پہنچے تو (اس کی پیروی کرنا کہ) جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:39 in the Quran reader

اور جنہوں نے (اس کو) قبول نہ کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ دوزخ میں جانے والے ہیں، اور ہمیشہ اس میں رہیں گے

اعادۂ حکم ہبوط قال تعالیٰ قلنا اھبطوا منہا جمیعا۔۔ الی۔۔۔ ھم فیھا خلدون گزشتہ آیت میں حضرت آدم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی توبہ کا قبول ہونا ذکر فرمایا اب آئندہ آیات میں یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ توبہ قبول ہونے کے بعد بھی آدم (علیہ السلام) کو بہشت میں آنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ اس لیے کہ دنیا میں ہدایت اور حضرات انبیاء ومرسلین کی بعثت کا سلسلہ جاری کرنا ہے تاکہ اطاعت اور نافرمانی کا مادہ ظہور میں آجائے۔ چناچہ ہم نے ان کو حکم دیا کہ تم فی الحال اسی جگہ رہو جہاں تم کو بہشت سے اتارا گیا ہے، یعنی فی الحال دنیا ہی میں رہو۔ سر دست بہشت میں جانے کی اجازت نہیں، تم سب کے سب فی الحال اسی جگہ رہو اس لیے کہ اگر تم کو اسی وقت بہشت میں جانے کی اجازت نہیں، تم سب کے سب فی الحال اسی جگہ رہو اس لیے کہ اگر تم کو اسی وقت بہشت میں جانے کی اجازت دی جائے تو سب کا اجتماع مبدل بہ تفرقہ ہوجائے گا۔ حضرت آدم کی پیروی کرنیوالوں کو بہشت میں پہنچادیا جائیگا اور بدوں اور بدکاروں کو یا تو یہیں چھوڑدیا جائیگا یا پھر دوزخ میں بھیجدیا جائیگا اور یہ تفرقہ مقصود اور غرض کے منافی ہے۔ اتارنے سے مقصود تکلیف احکام اور اطاعت اور فرمانبرداری کا امتحان ہے پس زمین میں اتارنے سے مقصد ہی یہ ہے کہ امر ونہی کے ذریعہ سے تمہارا امتحان کریں۔ پس اے اولاد آدم خوب سمجھ لو اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے، پس جو لوگ میری ہدایت کا اتباع کریں گے ان پر نہ آئندہ کا کوئی ڈر ہوگا کہ مثلاً یہاں سے نکالے جائیں اور نہ گزشتہ پر وہ مغموم ومحزون ہوں گے مثلا یہ حسرت کہ ہم سے فلاں راحت اور لزت فوت ہوگئی وہاں پہنچ کر ایسی لذتیں اور مسرتیں ہیں کہ دنیا کی ساری لذتیں اور مسرتیں ان کے سامنے ہیچ ہوجائیں گی۔ : پہلی بار ہبوط کا حکم جنت سے اترنے کے لیے تھا اور دوسری باری ہبوط کا حکم زمین میں مقیم رہنے کے لیے ہے۔ : خدا کی ہدایت پر چلنے والوں کو اس قسم کا خوف نہ ہوگا جیسا کہ مجرمین اور نافرمانوں کو ہوتا ہے کہ دیکھئے اس جرم کی اب کیا سزا ملتی ہے۔ اس آیت میں اس قسم کے خوف کی نفی مراد ہے۔ باقی حق تعالیٰ شانہ کی عظمت اور جلال کا خوف وہ سب پر طاری ہوگا۔ انبیاء ورمرسلین بھی خدا کی عطمت اور جلال سے کانپتے ہوئے ہوں گے نیز اس آیت میں بالکلیہ خوف کی نفی نہیں کی گئی بلکہ خوف کے احاطہ اور استیلاء کی نفی کی گئی ہے۔ اس لیے کہ کلمہ علی کلام عرب میں استیلاء اور احاطہ کے لیے مستمعل ہوتا ہے۔ پس فلا خوف علیھم کے یہ معنی ہوں گے کہ خوف ان پر غالب اور ان کو محیط نہ ہوگا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر خوف اگرچہ غالب نہ ہو مگر کسی نہ کسی قسم کا خوف ضرور ہوگا۔ وہ خوف خدا کی عظمت اور جلال کا ہے۔ نیز اس میں کافروں کی طرف تعریض بھی ہے کہ قیامت کے دن خوف ان کو محیط ہوگا۔ اور ڈر اور اندیشہ ہر طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہوگا۔ بخلاف اہل ایمان کے کہ ان پر خوف غالب نہ ہوگا۔ اور جو لوگ میری ہدایت سے منکر ہوئے اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا ایسے ہی لوگ جہنم والے ہیں ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ کبھی بھی اس سے نہ نکلیں گے۔ کما قال تعالی۔ وما ھم بخارجین من النار۔ ہبوط آدم (علیہ السلام) کے اسرار وحکم گزشتہ آیت یعنی فتلقی ادم من ربہ کلمات فتاب علیہ انہ ھو التواب الرحیم میں حضرت آدم علیہ الصلوہ والسلام کی توبہ اور اس کی اجابت کا ذکر تھا کہ ہم نے آدم کی توبہ قبول کی تو ممکن ہے اس سے یہ شبہ ہو کہ ہبوط اور زمین پر اترنے کا حکم لغزش کی وجہ سے تھا شاید قبول توبہ کے بعد وحکم باقی نہ رہے۔ اس لیے ہبوط کے حکم کا پھر اعادہ فرمایا۔ اگرچہ توبہ قبول ہوچکی۔ مگر یہ حکم بحالہ باقی ہے تاکہ سب کو معوم ہوجائے کہ ہبوط کا حکم لغزش کی وجہ سے نہیں تاکہ قبول توبہ سے اس کے منسوخ ہونے کا خیال یا شبہ کیا جائے بلکہ وہ حقیقت میں انی جاعل فی الارض خلیفۃ کا وعدہ پورا کرنے کے لیے ہے زمین کی خلافت جس کا حضرت آدم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ وہ خود اس کو مقتضی ہے کہ ان کو زمین پر اتارا جائے حضرت آدم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ وہ خود اس کو مقتضی ہے کہ ان کو زمین پر اتارا جائے حضرت آدم سے جنت کی خلافت کا وعدہ نہ تھا بلکہ زمین کی خلافت کا وعدہ تھا اس لیے ہبوط کا حکم قبول توبہ کے بعد بھی برقرار رہا۔ بعض عارفین سے یہ منقول ہے کہ جب حضرت حق جل شانہ نے حضرت آدم اور حواء کو یہ خطاب فرمایا۔ لا تقربا ھذہ الشجرۃ فتکونا من الظالمین۔ تو اس خطاب میں خود اس طرف اشارہ تھا کہ حضرت آدم اس خطا میں مبتلاء ہو کہ جنت سے علیحدہ ہوں گے۔ اور جنت کی یہ سکونت چند روزہ ہے دائمی نہیں چناچہ ویا ادم اسکن انت وزوجک الجنۃ۔ خود اس پر دلالت کرتا ہے کہ جنت چند روز کے لیے دار سکونت ہے نہ کہ دار اقامات اس لیے کہ ہمیشہ رہنے والے کے لیے امر ونہی حظر وباحت (روک ٹوک) کے احکام نہیں جاری ہوتے اس کے علاوہ حضرت آدم (علیہ الصلوۃ والسلام) کے اتارنے میں اور بھی بہت حکمتیں ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ حق تعالیٰ شانہ کے اسماء حسنی میں سے غفور اور رحیم، عفو اور حلیم، خافض اور رافع، معز اور مذل بھی ہیں۔ اس لیے حق تعالیٰ شانہ کی حکمت بالغہ اس کو مقتضی ہوئی کہ کوئی دار اور محل ایسا ہونا چاہئے جس میں ان اسماء حسنی صفات علی کے آثار ظاہر ہوں جس کے لیے چاہے مغفرت کرے اور جس پر چاہے رحم کرے جس کو چاہے پست کرے اور جس کو چاہے بلند کرے، جس کو چاہے عزت دے جس کو چاہے ذلت دے اس لیے حضرت آدم اور ان کی ذریت کو جنت سے زمین پر اتارا تاکہ ان اسماء حسنی کے آثار ظاہر ہوں جن کے ظہور کے لیے دار دنیا ہی مناسب ہے نہ کہ دار آخرت۔ نیز حضرت آدم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی پشت میں وہ لوگ بھی تھے جو جنت میں رہنے کے اہل نہ تھے۔ حضرت آدم کی پشت بمنزلہ سفینہ کے تھی جس میں نیک وبد ہر قسم کے لوگ سوار تھے۔ اس لیے دنیا میں اترنے کا حکم ہوا تاکہ خبیث کو طیب سے اور شقی کو سعید سے اور مومن کو کافر سے جدا اور الگ کی اجائے اور پھر خبیثین کو دار الخبیثین یعنی جہنم میں اور طبیب کو دار الطیبین یعنی جنت میں بسائے کما قال تعالی۔ لیمیز اللہ الخبیث من الطیب : تاکہ اللہ خبیث کو طیب سے جدا کردے۔ اور تاکہ ان اشقیاء اور خبیثین کے مقابلہ میں انبیاء ومرسلین اور عبادہ صالحین کا سلسلہ جاری ہو۔ دوستوں کا دشمنوں کے ذریعہ امتحان ہو۔ جب اللہ کے مخلص بندے اس کی راہ میں جان ومال کو خرچ کریں اور اس کے دشمنوں سے اس کا کلمہ بلند کرنے کے لیے جہاد قتال کریں۔ جانبازی اور سرفروشی سے کسی قسم کا دریغ نہ کریں خدا کے دوستوں سے دوستی اور اس کے دشمنوں سے دشمنی کریں تو حق تعالیٰ شانہ ان کو درجات عالیہ اور اپنے تقرب اور رضا و خوشنودی سے سرفراز فرمائے۔ نبوت و رسالت، امامت اور خلافت شہادۃ فی سبیل اللہ اور حب فی اللہ اور بغض فی اللہ خدا کے دوستوں سے محبت اور موالات۔ اور اس کے دشمنوں سے نفرت اور بیزاری اور دشمنی اور معادات یہ تمام فضائل کمالات زمین ہی پر اتارے جانے کے نتائم وثمرات ہیں۔ جنت میں رہ کر یہ باتیں کہاں ممکن تھیں ہبوط آدم علیہ السلوۃ والسلام کے اسرار وحکم کی اگر تفصیل درکار ہے تو حافظ شمس الدین ابن قیم قدس اللہ سرہ کی تصنیف لطیف یعنی مفتاح دار السعادۃ کا مطالعہ فرمائیں۔ حافط موصوف مدارج السالکین میں فرماتے ہیں۔ یا ادم انما ابتلیتکم بالذنب لانی احب ان اظھری فضلی وجودی وکرمی علی من عصانی۔ لو لم تزنبوا لذھب اللہ بکم ولجاء بقوم یذنبون فیستغفرون فیغفر لھم یا ادم اذا عصمتک وعصمت بنیک من الذنوبفعلی من اجود بحلمی وعلی من اجود بعفوی ومغفرتی وتوبتی وانا التواب الرحیم یا ادم لا تجزع من قولی لک (اخرج منھا) فلک خلق تھا ولکن اھبط الی دا رالمجاھدۃ وابذر بذر التقوی وامطر علیہ سحائب الجفون فاذا الشتد الحب واستغلظ واستوی علی سوقہ فتعال فاحصدہ یا ادم ما اھبطتک من الجنۃ الا لتوسل الی فی الصعود وما اخرجتک منھا نفیا لک عنھا ما اخرجتک عنھا الا لتعود۔ (شعر) ان جری بیننا وبینک عتب وتناءت منا و منک الدیار فا لو داد الذی عھدت مقیم والعثار الذی اصبت جبار (مدارج السالکین ص 166 ج 1) ترجمہ : اے آدم میں نے تجھ کو گناہ میں مبتلا کیا اس لیے کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ اپنے فضل اور جودو کرم کو گنہ گاروں پر ظاہر کروں حدیث میں ہے کہ اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ تم کو فنا کردیتا اور ایسی قوم کو پیدا کرتا جو گناہ کر کے خدا سے مغفرت طلب کرتے اور خدا ان کی مغفرت فرماتا اے آدم تجھ کو اور تیری ذریت کو اگر معصوم بنا دوں تو اپنا حلم اور عفو وکرم اور مگفرت اور معافی کس پر ظاہر کروں حالانکہ میں تو رحیم ہوں۔ پس ضرور ہے کہ گنہ گار موجود ہوں تاکہ میں ان کی توبہ قبول کروں اور ان پر رحم کروں۔ اے آدم میرے (اخرج منھا) کہنے سے گھبراؤ مت اس لیے کہ جنت کو میں نے تیرے ہی لیے پیدا کیا ہے لیکن اس وقت تم مجاہدہ اور ریاضت کے لیے زمین پر اترو جو تمہارے لیے بمنزلہ خانقاہ یا غار کے ہے اور زمین آسمان کے اعتبار سے بمنزلہ غار ہی کے ہے۔ اور یہاں آکر تقویٰ کے تخم کی کاشت کرو اور چشم گریاں کی بارش سے اس کو سیراب کرو۔ جب یہ دانہ قوی اور مضبوط ہوجائے اور اپنے تنے پر کھڑا ہوجائے تو اس کو کاٹ لو۔ اے آدم تجھ کو اس لیے جنت سے اتارا تاکہ تیرے درجات اور مدارج اور بلند ہوں۔ اور جنت سے چند روز کے لیے اس لیے نکالا تاکہ اس سے بہتر حالت میں جنت کی طرف تو لوٹ کر آے۔ ترجمہ شعر : اگر ہمارے اور تیرے درمیان میں کوئی رنجش پیش آگئی ہے اور اگر ہمارے اور تیرے درمیان میں منزلوں کا فصل ہوگیا ہے تو کوئی پریشانی کی بات نہیں اس لیے کہ محبت ومودت کا تعلق اسی طرح باقی ہے۔ اور جو لغزش تم سے ہوگئی ہے اس کا تدارک ہوسکتا ہے۔ فوائد مستنبطہ از قصۂ آدم صلی اللہ علی نبینا وعیہ وبارک وسلم وشرف وکرم 1: قرآن کریم کے ظاہر سیاق سباق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم اللہ کے نبی اور رسول مکلم ہیں۔ یعنی ایسے رسول ہیں جن سے اللہ نے بالمشافہ کلام فرمایا چناچہ حدیث میں ہے۔ اخرج الطبرانی وابو الشیخ فی العظمت وابن مردویہ عن ابی ذر قال قلت یار سول اللہ اریت ادم انبیا کان قال نعم کان نبیا رسول کلمہ اللہ قبلہ قال یا ادم اسکن انت وزوجک الجنۃ۔ واخرج عبد بن حمید والاجری فی الاربعین عن ابی ذر قال یا رسول اللہ من کان اولھم یعنی الرسل قال ادم قلب یار سول اللہ انبی مرسل قال نعم خلقہ اللہ بیدہ ونفع فیہ من روحہ۔ ترجمہ : طبرانی اور ابو الشیخ نے کتاب العظمۃ میں اور ابن مردویہ نے ابوذر ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا حضرت آدم نبی تھے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہاں نبی بھی تھے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہاں نبی بھی تھے اور رسول بھی جن سے اللہ نے بالمشافہ کلام فرمایا اور یہ کہا کہ یا ادم اسکن انت وزوجک اور عبد بن حمید اور آجری نے اربعین میں ابوذر ؓ سے ؓ سے روایت کیا ہے کہ یارسول اللہ سب سے پہلے رسول کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ آدم میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ حضرت آدم (علیہ السلام) کیا نبی مرسل تھے۔ فرمایا کہ ہاں اللہ نے ان کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی خاص روح ان میں پھونکی اور پھر ان کو ٹھیک بنایا۔ 2: افعال خداوندی کے اسراروحکم سوائے اس علیم و حکیم کے کسی کو معلوم نہیں۔ ملائکہ مقربین کو بھی سوائے سبحنک لا علم لنا الا ما علمتنا انک انت العلیم الحکیم۔ کہنے کے کوئی چارہ نہ ہوا۔ عاقل کا کام یہ ہے کہ افعال خداوندی کے اسرار کے درپے نہ ہو۔ ملائکہ کی طرح سبحنک لا علم لنا۔ کہہ کر بےچون چرا تسلیم کرے۔ کرا زھرۂ آں کہ از بیم تو کشاید زبان جز بہ تسلیم تو زبان تازہ کردن باقرار تو نینگیختن علت از کار تو 3: حضرت آدم کی پیدائش سے پہلے ہی ملائکہ کے سامنے حضرت آدم کی خلافت کا ذکر کچھ تعلیم مشورہ کی جانب مشیر معلوم ہوتا ہے کہ کام کرنے سے پہلے مشورہ کرلینا چاہئے۔ اگرچہ حق تعالیٰ مشورہ سے بےنیاز ہے۔ 4: استحقاق خلافت کے لیے جب ملائکہ نے نحن نسبح بحمدک ونقدس لک۔ کہہ کر تسبیح وتحمید تقدیس وتمجید کو پیش کیا تو حق جل شانہ نے ملائکہ کے تسبیح و تقدیس کے جواب میں حضرت آدم کا علمی کمال ظاہر فرمایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ علم میں مشغول ہونا تسبیح وتہلیل سے افضل اور بہتر ہے مگر شرط یہ ہے کہ وہ علم اللہ کے نزدیک بھی علم ہو۔ اللہ کے نزدیک علم وہ ہے جس سے خدا کی خشیۃ اور اس کی عظمت دل میں راسخ ہوتی ہو کما قال تعالی۔ (انما یخشی اللہ من عبادہ العلموء : جزایں نیست کہ ڈرتے ہیں اللہ سے اس کے بندوں میں سے صرف علماء) معلوم ہوا کہ خدا کے نزدیک عالم وہی ہے جو خدا سے ڈرتا ہو اور جو خدا سے نہیں ڈرتا وہ اللہ کے نزدیک عالم نہیں اگرچہ سارا عالم اس کو عالم کہے۔ علمے کہ راہ حق ننماید جہالتست۔ 5: ملائکہ کو سجدہ کا حکم دینے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کرام ملائکہ سے افضل ہیں۔ اس لیے کہ مسجود ساجد سے افضل ہوتا ہے۔ 6: حدیث میں ہے کہ جب فرشتے صبح اور عصر کی نماز سے یا کسی محفل ذکر سے لوٹ کر جاتے ہیں تو حق تعالیٰ دریافت فرماتے ہیں کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں دیکھا تو عرض کرتے ہیں کہ نماز پڑھتے چھوڑا۔ حکمت اس میں یہ ہے کہ فرشتوں نے ایک بار کہا تھا۔ اتجعل فیھا من یفسد فیھا ویسفک الدماء۔ اور کلمہ مَن عام ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ سب ایسے ہی ہوں گے تو فرشتے موجبہ کلیہ کے مدعی تھے ان کے جواب کے لیے سالبہ جزئیہ کا ذکر کافی ہوگیا۔ یعنی ایک شخص یا ایک جماعت کا پیش کردینا جو اللہ کی مطیع کامل ہو ان کے موجبہ کلیہ توڑنے کے لیے کافی ہے یہ ضروری ہی نہیں کہ سارے ہی مطیع ہوں قیامت تک اسی طرح سوال و جواب ہوتا رہے گا۔ 7: اعجاب اور استکبار اور اللہ جل جلالہ کے حکم پر اعتراض اور خود ستائی نے ابلیس کو ملعون اور مطرود بنایا اور اطاعت اور انقیاد اور رضا و تسلیم اور عجز اور انکساری اور ندامت اور شرمساری اور توبہ اور استغفار نے حضرت آدم کی شان کو بڑھایا۔ 8: نیز اس قصہ سے معلوم ہوا کہ جنت پیدا ہوچکی ہے جیسا کہ اہل سنت والجماعت کا مسلک ہے معتزلہ کہتے ہیں کہ جنت ابھی پیدا نہیں ہوئی۔ 9: کافر ہمیشہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے کبھی نجات نہ پائیں گے۔ 10: غلطی سے خلاف حکم خداوندی کوئی کام کر گزرنا معصیت ہے اور حکم خداوندی کو غیر معقول اور خلاف سمجھنا یہ کفر ہے۔ (11) فائدہ جلیلہ ترک اطاعت اور ارتکاب معصیت میں فرق سہل بن عبداللہ (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے قصہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ترک امر یعنی امر الٰہی کا امتثال نہ کرنا اور حکم خداوندی کو نہ ماننا ارتکاب نہی سے زیادہ سخت ہے ابلیس نے حکم الٰہی اور امر خداوندی یعنی حکم سجود سے انحراف کیا۔ مطرود ومردود ہوا اور آدم (علیہ السلام) نے ایک نہی کا ارتکاب کیا۔ یعنی جس درخت سے کھانے کی انکو ممانعت کی گئی تھی اس کو کھایا، بارگاہ خداوندی سے عتاب ہوا۔ حضرت آدم کو اس عتاب کی کہاں تاب تھی فوراً ہی توبہ اور استغفار کی اور صد ہزار گریہ وزاری کے ساتھ اپنے رب کریم سے عفو اور مغفرت کی درخواست کی اللہ نے اپنی رحمت سے توبہ قبول فرمائی اور حلۂ اجتباء واصطفاء سے سرفراز فرمایا۔ اوّل یہ کہ ترک امر کا جرم ارتکاب نہی کے جرم سے اس لیے زیادہ سخت ہے کہ ارتکاب نہی کا منشاء ہمیشہ غلبہ شہوت ہوتا ہے اور ترک امر کا منشاء ہمیشہ استکبار اور اعجاب (خود پسندی) ہوتا ہے، حدیث میں ہے کہ جس کے قلب میں ذرا برابر بھی کبر یعنی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔ ایک حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں، کبریائی میری رداء ہے اور عظمت میری ازار ہے، جو شخص اس میں میری منازعت کرتا ہے میں اس کو کچل ڈالتا ہوں۔ بخلاف اس شخص کے کہ جو ایمان لانے کے بعدشہوات میں منہمک رہا وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ جس نے لا الہ الا اللہ کہا وہ جنت میں ضرور داخل ہوگا۔ اگرچہ وہ چوری اور زنا کرے۔ دوم یہ کہ : اللہ کے نزدیک امتثال امر اور فعل مامور بہ یعنی حکم الہی کا بجا لانا بہ نسب منہیات سے احتراز اور اجتناب کے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ سب سے زیادہ محبوب عمل اللہ کے نزدیک اپنے وقت پر نماز کا ادا کرنا ہے اور ایک حدیث میں ہے کہ خیر الاعمال یعنی سب سے بہتر عمل ذکر اللہ ہے۔ اسی وجہ سے حق جل شانہ نے جا بجا قرآن کریم میں اپنی محبت کو امتثال احکام اور اوامر کی بجا آوری پر معلق فرمایا ہے۔ کما قال تعالیٰ ۔ ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا۔ وقال تعالیٰ واللہ یحب المحسنین۔ وقال تعالیٰ واقسطوا ان اللہ یحب المقسطین وقال تعالیٰ واللہ یحب الصابرین۔ ان آیتوں میں اللہ نے اپنی محبت کو ان لوگوں کے لیے مخصوص فرمایا ہے جو اس کے ان احکام اور اوامر کو بجا لاتے ہیں۔ یعنی جہاد فی سبیل اللہ احسان، عدل واقساط، صبر و تحمل کو حق جل شانہ نے جب کبھی ذکر فرمایا ہے تو محبت کی نفی کے ساتھ ذکر فرمایا ہے تو محبت کی نفی کے ساتھ ذکر فرمایا ہے کما قال تعالیٰ واللہ لا یحب الفساد وقال تعالیٰ واللہ لا یحب کل مختار فخور۔ وقال تعالیٰ ولا تعتدوا ان اللہ لا یحب المعتدین وقال تعالیٰ لایحب اللہ الجھر بالسوء من القول الا من ظلم۔ وقال تعالیٰ ان اللہ لا یحب من کان مختالا فخورا۔ سوم : یہ کہ اوامرو احکام کی تعمیل مقصود لذاتہ ہے اور مہیات سے بچنا مقصود بالذات نہیں بلکہ فعل مامور بہ کی تکمیل کے لیے ہے اس لیے کہ منہیات اور محظورات کا ارتکاب، عبادت اور بندگی اور احکام کی بجا آوری میں مخل ہے۔ چناچہ حق جل شانہ نے تحریم خمر اور تحریم قمار کی علت یہ ذکر فرمائی ہے۔ یصدکم عن ذکر اللہ عن الصلوۃ فھل انتم منتھون۔ شراب اور قمار اللہ کے ذکر اور نماز سے تم کو روکتے ہیں پس کیا تم ان سے باز نہ آؤ گے۔ چہارم : یہ کہ طاعات اور مامورات کی بجا آوری ہی روح کی غذاء ہے۔ بغیر ایمان و تسلیم اور بغیر اطاعت اور انقیاد کے روح کی حیات ناممکن ہے اور محظورات ومنہیات سے بچنا بمنزلہ پرہیز کے ہے۔ پرہیز اس لیے کرایا جاتا ہے تاکہ حیات اور قوت میں فتور نہ آئے۔ اصل مقصود حیات اور ہیز حیات کی نگہبانی کے لیے ہے۔ پنجم : یہ کہ عبادت جس کے لیے جن وانس کو پیدا کیا گیا۔ وہ امتثال اوامر اور احکام خداوندی کی بجا آوری ہی کا نام ہے جن وانس کو فقط منہیات اور محظورات سے بچنے کے لیے نہیں پیدا کیا گیا (بلکہ عبادت اور بندگی اور احکام خداوندی کی تعمیل کے لیے پیدا کیا گیا ہے) زنا اور سرقہ وغیرہ سے باز رہنے کا نام عبادت نہیں بلکہ جو حکم اس احکم الحاکمین نے دیا اس کو دل وجان سے بجا لانے کا نام عبادت اور بندگی ہے۔ ششم : یہ کہ ایک حکم کی تعمیل سے دس گونہ سے لیکر سات سو گونہ بلکہ لا الی نہایۃ ثواب ملتا ہے اور منہی عنہ کے ارتکاب سے صرف ایک گناہ لکھا جاتا ہے، اس سے بھی صاف ظاہر ہے کہ ترک امر اور عدم تعمیل حکم کا جرم ارتکاب نہی کے جرم سے کس قدر اعظم ہے۔ ہفتم : یہ کہ طاعت اور عبادت اور احکام کی بجا آوری اور ان کا اجر وثواب تمام تر صفت رحمت سے متعلق ہے، اور محظورات وممنوعات کا ارتکاب اور ان پر سزا اور عقاب یہ سب صفت غضب اور انتقام سے متعلق ہے اور صفت رحمت صفت غضب پر سابق ہے۔ غضب، رحمت پر سابق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نزدیک رحمت عذاب سے اور عفو انتقام سے زیادہ محبوب ہے۔ وقال تعالی۔ کتب ربکم علی نفسہ الرحمۃ۔ تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو لکھ لیا ہے یعنی لازم کرلیا ہے۔ مگر اس ارحم الرحمین نے غضب کو اپنے اوپر لازم نہیں فرمایا وقال تعالیٰ وسع کل شئی رحمۃ۔ اللہ ہر چیز کو باعتبار رحمۃ کے محیط ہے۔ مگر غضب اور انتقام کے اعتبار سے محیط نہیں۔ رحمت اس کی دائمی ہے کبھی منفک نہیں ہوتی مگر غضب دائمی نہیں جیسا کہ حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ قیامت کے روز فرمائیں گے۔ ان ربی قد غضب الیوم غضبا لم یغضب قبلہ مثلہ ولن یغضب بعدہ مثلہ۔ میرا پروردگا آج غصہ ہوا ہے ایسا غصہ ہوا کہ نہ اس سے پہلے کبھی ایسا غصہ ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ایسا غصہ ہوگا۔ ہشتم : یہ کہ طاعت و عبادت کے آثار جلد زائل نہیں ہوتے۔ بخلاف منہیات ومحظورات کہ ان کے آثار بہت جلد زائل ہوجاتے ہیں۔ معاصی اور سیئات کے آثار کبھی عفو اور مغفرت سے اور کبھی توبہ اور استغفار سے زائل ہوجاتے ہیں کبھی اعمال صالحہ اور مصائب سے ان کا کفارہ ہوجاتا ہے اور کبھی شفاعت سے اور کبھی اقارب اور احباب کی دعاؤں سے ان معاصی سے درگذر کیا جاتا ہے اور اگر صمیم قلب اور اخلاص کے ساتھ وبہ کرے تو ان سیئات کو حسنات سے بدل دیا جاتا ہے۔ نہم : یہ کہ نجات کا دارومدار احکام کی بجا آوری پر ہے۔ اگر کوئی شخص تمام مناہی اور محظورات سے بچنا ہے مگر احکام خداوندی کو نہیں مانتا تو اس کی نجات ناممکن ہے اور اس کے برعکس اگر کوئی شخص احکام خداوندی کو تسلیم کرتا ہے مگر زنا اور سرقہ اور کسی فحشاء اور منکر سے پرہیز نہیں کرتا تو اس کی نجات ممکن ہے۔ دہم : یہ کہ اوامر اور احکام سے کسی فعل کا وجود مطلوب ہوتا ہے اور نہی سے کسی شئے کا عدم اور ترک مقصود ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ عدم میں کوئی کمال نہیں۔ کمال وجود اور ایجاد ہی میں ہے اور حکم خداوندی سے سرکشی کرنا منہی عنہ کے ارتکاب سے زیادہ جرم ہے۔ تلک عشرۃ کاملۃ۔ کذا فی کتاب الفوائد ص 119 للحافظ ابن القیم قدس اللہ سرہ۔ (حاشیہ : مترجم گوید خدا تعالیٰ بنی اسرائیل را نعمتہائے خود یا داد و معجز ہا کہ دریں قوم ظاہر شدہ بود ذکر فرمود آنگاہ شبہات وہفوات ایشاں را کرد بدلائل وایں قصہ ممتد است تا قولہ تعالیٰ واذ ابتلی ابراھیم ربہ 12 فتح الرحمن)
Ayahs 2:40–41

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ١ۚ وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 2:40 in the Quran reader

اے آل یعقوب ! میرے وہ احسان یاد کرو جو میں نے تم پر کئے تھے اور اس اقرار کو پورا کرو جو تم نے مجھ سے کیا تھا میں اس اقرار کو پورا کروں گا جو میں نے تم سے کیا تھا اور مجھی سے ڈرتے رہو

وَ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَ لَا تَكُوْنُوْۤا اَوَّلَ كَافِرٍۭ بِهٖ١۪ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١٘ وَّ اِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 2:41 in the Quran reader

اور جو کتاب میں نے (اپنے رسول محمد ﷺ پر) نازل کی ہے جو تمہاری کتاب (تورات) کو سچا کہتی ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس سے منکر اول نہ بنو اور میری آیتوں میں (تحریف کر کے) ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منفعت) نہ حاصل کرو اور مجھی سے خوف رکھو

تذکیر اجمالی انعامات خاصہ بر اسلاف یہود و امر ایشاں بایفاء عہود ونہی از دین فروشی وحق پوشی (یعنی) ان نعمتوں کا بیان جو خاص بنی اسرائیل پر مبذول ہوئیں (یعنی در جمیع حاجات و مصائب واللہ اعلم۔ فتح الرحمن) (ربط) شروع سورت میں حق تعالیٰ نے متقین اور کافرین اور منافقین کے اوصاف اور احوال بیان کیے۔ بعد ازاں یا ایہا الناس اعبدوا۔ میں خطاب عام فرمایا اور کسی قوم کے ساتھ مخصوص نہیں کیا پھر توحید اور رسالت اور قیامت کے دلائل بیان کیے تاکہ عبادت کر کے آخرت کی تیاری کرسکیں بعد ازاں اپنے انعامات کو بیان کیا جو تمام بنی آدم کو عام اور شامل ہیں۔ اب عنان خطاب ایک خاص گروہ یعنی بنی اسرائیل کی طرف پھیرتے ہیں اور ان نعم خاصہ کو بیان کرتے ہیں جو خاص بنی اسرائیل پر مبذول ہوئیں اور منجملہ دیگر قبائل عرب۔ گروہ بنی اسرائیل کو اس لیے خطاب کے لیے مخصوص فرمایا کہ یہ سورت پہلی سورت ہے جو مدینہ میں نازل ہوئی اور مدینہ میں یہود ایک کثیر تعداد میں آباد تھے یہود کو اگرچہ اوس اور خزرج اور دیگر قبائل عرب کے مقابلہ میں عددی اکثریت حاصل نہ تھی لیکن یہود کو دیگر قبائل کے مقابلہ میں علمی تفوق اور امتیاز حاصل تھا یہ لوگ اہل کتاب اور اہل علم کہلاتے تھے اور خاندان نبوت سے تھے اور مشرکین عرب امی اور ان پڑھ تھے اور اہل علم اگر حق کو قبول کرلیں تو عوام پر اس کا بہت اثر پڑتا ہے اس لیے اس رکوع میں خاص بنی اسرائیل کو خطاب فرمایا اور اولاً ان نعمتوں کو اجمالا یاد دلایا جو اس خاندان پر مبذول ہوئی تھیں۔ اور دوسرے رکوع سے ان کی تفصیل فرمائی جو دور تک چلی گئی اور مقصود یہ ہے کہ بنی اسرائیل ان نعمتوں کو یاد کر کے اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں اور اپنے رب کریم اور منعم قدیم کے الطاف و عنایات کو یاد کر کے ایفاء عہد کے لیے دل وجان سے تیار ہوجائیں کیونکہ توریت میں نبی آخر الزماں کی بشارتیں اور صفتیں مذکور تھیں اور نبی آخر الزماں پر ایمان لانے کے عہد کا بھی ذکر تھا اور علماء یہود اس سے بخوبی واقف تھے اس لیے مناسب ہوا کہ اولا اہل علم کو اسلام کی طرف متوجہ کیا جائے تاکہ اور لوگ بھی ان کی تقلید سے راہ حق پر آجائیں اور ان کا اتباع اوروں کے لیے حجت بن جائے اور بنی اسرائی کے خطاب سے پہلے حضرت آدم کا قصہ ذکر کیا جس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ ابلیس نے محض حسد اور تکبر کی وجہ سے حضرت آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا۔ اور اس کے بعد بنی اسرائیل کو یعنی یہود کو خطاب کیا تاکہ متنبہ اور خبردار ہوجائیں کہ تم کو تکبر اور حسد کا انجام معلوم لہذ تم کو چاہئے کہ تکبر اور حسد کی وجہ سے محمد رسول اللہ ﷺ کی اتباع سے اعراض نہ کرو۔ چناچہ فرماتے ہیں اے فرزندان یعقوب یاد کرو تم میری ان خاص نعمتوں کو جن کا میں نے خاص تم پر انعام کیا۔ (ہذہ ترجمۃ الاضافۃ التی فی قولہ تعالیٰ نعمتی لان الاضافۃ تفید الاختصاص فافھم 12) اسرائیل یعقوب (علیہ السلام) کا نام ہے جو اسراء اور ایل سے مرکب ہے۔ اسراء کے معنی بندہ یا برگزیدہ کے ہیں اور ایل اللہ کا نام ہے لہذا اسرائیل کے معنی عبداللہ یا صفوۃ اللہ کے ہوں گے۔ اور یہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب تھا۔ بجائے یا بنی یعقوب کے یا بنی اسرائیل فرمانے میں ایک خاص لطافت ہے۔ وہ یہ کہ اس لقب کی طرف مضاف کرنے سیہ معنی ہونگے کہ اے اولاد ہمارے مطیع اور فرمانبردار اور برگزیدہ بندہ کی تم کو تو اتباع حق میں اپنے باپ کا نمونہ ہونا چاہئے۔ جس طرح کہتے ہیں یا ابن الکریم افعل کذا۔ اے کریم کے بیٹے ایسا کر۔ یا ابن الشجاع بارز الابطال۔ اے شجاع کے بیٹے بہادروں کا مقابلہ کر یا ابن العالم اطلب العلم۔ اے عالم کے بیٹے علم حاصل کر۔ پھر اس کے علاوہ تمہارے خاندان میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک چار ہزار نبی آئے۔ اس لیے تم کو پیغمبروں کی علامتیں خوب معلوم ہیں لہذ تم کو نبی اکرم محمد مصطفیٰ ﷺ کے اتباع میں کوئی تامل نہ ہونا چاہئے۔ علاوہ ازیں نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم جب تک مکہ معظمہ میں تشریف فرما رہے اکثر مناظرہ اور مکالمہ قریش کے ساتھ رہتا تھا۔ جب ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہود سے مناظرہ اور مکالمہ شروع ہوا۔ یہود چونکہ اہل کتاب ہونے کی وجہ سے علماء کہلاتے تھے، تمام عرب کی نگاہیں ان پر لگی ہوئی تھیں کہ یہ لوگ اہل علم ہیں ان کے خاندان میں ہزاروں نبی ہوئے، انبیاء کی علامتوں سے خوب واقف ہیں۔ دیکھیں یہ لوگ آنحضرت ﷺ کی تصدیق کرتے ہیں یا تکذیب اس لے حق تعالیٰ شانہ نے اپنے خاص خاص انعامات کو جو وقتاً فوقتاً بنی اسرائیل پر ہوتے رہے۔ یاد دلایا اس لیے کہ عام نعمتوں کا تذکرہ اتنا مفید اور موثر نہیں ہوتا۔ جتنا کہ خاص نتموں کا تذکرہ دل میں اثر رکھتا ہے اس لیے اولا اجمالی طور پر حق جل شانہ نے اس رکوع میں بنی اسرائیل پر اپنے خاص انعامات کا ذکر فرمایا تاکہ شرما کر ایمان لائیں اس کے بعد دوسرے رکوع میں تفصیلی طور پر اپنے انعامات کا اور بنی اسرائیل کی شرارتوں کو ذکر فرمایا تاکہ لوگ ان کی شرارتوں سے واقف ہوجائیں اور سمجھ لیں کہ ان کا قول اور فعل قابل اعتبار نہیں۔ اور پورا کرو تم اس عہد کو جو تم نے مجھ سے کیا تھا میں بھی پورا کرونگا اس عہد کو جو میں نے تم سے کیا ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں اس عہد سے وہ مراد ہے جو سورة مائدہ کی اس آیت میں مذکور ہے۔ ولقد اخذ اللہ میثاق بنی اسرائیل وبعثنامنھم اثنی عشر نقیبا وقال اللہ انی معکم لئن اقمتم الصلوہ واتیتم الزکوۃ وامنتم برسلی وعزرتموھم واقرضتم اللہ قرضا حسنا لاکفرن عنکم سیئاتکم ولادخلنکم جنات تجری من تحتھا الانہر۔ اور بعض کہتے ہیں کہ اس عہد سے وہ عہد مراد ہے جو بنی اسرائیل سے لیا گیا تھا کہ تمہارے بھائیوں میں سے یعنی بنی اسما عیل میں سے ایک نبی برپا کروں گا۔ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کا عہد مراد ہے۔ اور اہل کتاب سے اللہ کا عہد یہ تھا کہ تم میں جو محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائیگا اس کو دو اجر ملیں گے جیسا کہ سورة قصص کی اس آیت میں ہے اولئک یؤتون اجرھم مرتین۔ ایک اجر حضرت موسیٰ یا حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر ایمان لانے کی وجہ سے اور دوسرا اجر محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کی وجہ سے۔ پس اے اہل کتاب تم محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاؤ اور اس سے نہ ڈرو کہ ایمان لانے سے تمہارے ہدیے اور نذرانے بند ہوجائیں گے اور قوم تمہاری مخالف ہوجائے گی اور درپئے ایذاء واضرار ہوجائے گی اور قوم تم کو اپنی جماعت سے نکال باہر کرے گی جس سے طرح طرح کے نقصان اٹھانے پڑیں گے بلکہ خاص مجھ سے ڈرو قوم تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی بھلائی اور برائی سب میرے ہاتھ میں ہے۔ ایمان لانے سے دنیا کی حقیر اور معمولی اور چند روزہ اور فانی ہی منافع فوت ہونگے مگر ایمان نہ لانے سے خدا کی رضا اور خوشنودی اور آخرت کے دائمی بیش بہا منافع فوت ہوجائیں گے۔ لکل شئی اذا فارقتہ عوض ولیس للہ ان فارقت من عوض جس چیز کو بھی چھوڑو اس کا عوض مل سکتا ہے مگر خدا کو چھوڑ کر اس کا عوض پانا ناممکن اور محال ہے اس لیے ارشاد ہوا مجھ سے ہی ڈرو امراء اور رؤساء سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ دنیا اور آخرت کے نفع اور ضرر کا مالک صرف میں ہی ہوں۔ وامنوا بما انزلت مصدقا لما معکم ولا تکونوا اول کافر بہ۔ اور ایمان لاؤ اس کتاب پر جو میں نے محمد ﷺ پر نازل کی در آنحالیکہ وہ کتاب اس توریت کے کتاب الٰہی ہونے کی تصدیق کرنے والی ہے جو تمہارے پاس ہے۔ یعنی اول تو محض اس وجہ سے ایمان لے آنا چاہئے تھا کہ قرآن کو اللہ نے نازل کیا ہے جیسے تم توریت پر اس وجہ سے ایمان لائے کہ اللہ نے اس کو اتارا ہے اسی طرح یہ قرآن بھی اللہ کی اتاری ہوئی کتاب ہے اسی طرح اس پر بھی ایمان لاؤ۔ علاوہ ازیں یہ کتاب اس توریت کی جو موسیٰ (علیہ السلام) پر اتاری گئی۔ اس کے منزل من اللہ اور کتاب الٰہی ہونے کی تصدیق کرتی ہے اس لحاظ سے بھی تم کو اس پر ایمان لانا چاہئے پھر یہ کہ توریت میں نبی آخر الزمان کے مبعوث ہونے کی پیشین گوئی کا تم کو بخوبی علم ہے لہذا تم کو چاہئے کہ سب سے پہلے حضور پر نور پر ایمان لاؤ اور دیدہ دانستہ سب سے پہلے قرآن کے منکر اور مکذب یعنی جھٹلانے والے نہ ہو کہ قیامت تک قرآن کریم کی تکذیب کرنے والوں کا وبال تمہاری گردن پر رہے۔ ( اشارۃ الی ان الضمیر فی قولہ بہ عائد الی القرآن الذی تقدم ذکرہ قولہ بما انزلت واختارہ ابن جریر وقیل الی محمد ﷺ ) اس لیے کہ ہجرت کے بعد پہلا فرقہ یہود کا ہے جو مدینہ اور خیبر میں رہتا تھا اور دوسرا فرقہ نصاری کا ہے جو زیادہ تر شام میں رہتا تھا۔ پس اگر یہود آنحضرت ﷺ کی نبوت کا انکار کریں گے تو نصاری بھی ان کے دیکھا دیکھی انکار کریں گے اس لیے فرمایا کہ اے یہود تم پہلے کافر نہ بنو۔ : مشرکین مکہ اگرچہ اہل کتاب سے پہلے انکار اور تکذیب کرچکے تھے مگر وہ تکذیب جہالت اور نادانی پر مبنی تھی دیدہ و دانستہ حق پوشی نہ تھی۔ اہل کتاب حق سے خوب باخبر تھے۔ دیدہ و دانستہ حق کو چھپاتے تھے۔ اس لیے ارشاد ہوا۔ ولا تکونوا اول کافر بہ۔ یعنی اے اہل کتاب سب سے پہلے تم حق پوشی کرنے والے نہ بنو۔ اس لیے کہ کفر کی حقیقت پوشیدہ ہے۔ ولا تشتروا بایتی ثمنا قلیلا وایای فاتقون۔ اور میری آیتوں کے عوض میں ایک نہایت قلیل اور حقیر معاوضہ لینے پر آمادہ اور راضی نہ ہوجاؤ۔ آخرت کے ضرر کو دنیا کے ضرر سے بڑھ کر جانو اور کثیر اور باقی کے مقابلہ میں قلیل اور فانی کو ہرگز ترجیح نہ دو ۔ حسن بصری ؓ فرماتے ہیں کہ ساری ہی دنیا کا کل ساز و سامان ثمن قلیل ہے۔ قال تعالیٰ ۔ تاع الدنیا قلیل دراہم معدودہ کی طمع میں میری آیتوں میں تحریف اور تبدیلی نہ کرو۔ اور خاص مجھ ہی سے ڈرو۔ عوام الناس سے مرعوب ہو کر حق سے اعراض نہ کرو۔ : ظاہر کا مقتضی یہ تھا کہ اس طرح فرماتے۔ لا تشتروا بایاتی متاعا قلیلا۔ میری آیات کے بدلے میں تھوڑا سامان مت خریدو اس لیے کہ عرف میں سامان خریدا جاتا ہے۔ ثمن اور قیمت نہیں خریدی جاتی لیکن بجائے اس کے ولا تشتروا بایتی ثمنا قلیلا فرمانے سے اس طرف اشارہ ہے کہ تمام دنیا کا سازوسامان بمنزلہ قیمت کے ہے اور اصل مقصود آخرت ہے اور یہ مسلم ہے کہ معاملہ میں مقصود بالذات قیمت نہیں ہوتی۔ اصل مقصود سامان ہوتا ہے اور قیمت اور زر ثمن مقصود کے حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے۔ پس اشارہ اس طرح ہے کہ تم نے اپنی نادانی اور غلط فہمی سے ثمن اور قیمت کو مقصود بالذات سمجھ لیا اور باقی کو دیکر فانی کو خرید لیا۔
Ayahs 2:42–43

وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:42 in the Quran reader

اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور سچی بات کو جان بوجھ کر نہ چھپاؤ

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 2:43 in the Quran reader

اور نماز پڑھا کرو اور زکوٰۃ دیا کرو اور (خدا کے آگے) جھکنے والوں کے ساتھ جھکا کرو

ولا تلبسوا الحق بالباطل وتکموا الحق وانتم تعلمون۔ اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور نہ حق کو چھپاؤ حالانکہ تم جانتے ہو کہ حق کو باطل کے ساتھ ملانا اور حق کو چھپانا کس قدر مذمورم ہے۔ زہر کو زہر جان کر کھانا انتہائی نادانی ہے۔ گزشتہ آیت میں بنی اسرائیل کو یہ حکم تھا کہ تم خود گمراہی سے باز آؤ اور ایمان اور ہدایت کو قبول کرو۔ اس آیت میں یہ حکم ہے کہ دوسروں کو گمراہ نہ کرو۔ جن لوگوں کے کان کچھ حق سے آشنا ہوچکے ہوں اور کلمۂ حق ان کے کان میں پڑچکا ہو ان کو گمراہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ حق اور باطل صدق اور کذب ہدایت اور ضلالت کو ان کے سامنے خلط ملط کردیا جائے تاکہ حق کے قبول کرنے میں متردد ہوجائیں۔ لا تلبسوا الحق بالباطل۔ میں اسی طرف اشارہ ہے اور جس شخص نے کلمۂ حق سنا ہی نہ ہو۔ رشد وہدایت سے بالکل بیخبر ہو۔ اس کے گمراہ کرنے کا طریق یہ ہے کہ حق کو اس کے سامنے ظاہر نہ کیا جائے کہ مبادا وہ حق بات سن کر اس کو قبول نہ کرے۔ اور تکتموا الحق میں اسی طرف اشارہ ہے۔ یہاں تک اہل کتاب کو ایمان کی دعوت دی گئی۔ ایمان کے بعد سب سے زائد محبوب عمل اللہ کے نزدیک نماز ہے اس لیے آئندہ آیت میں نماز کا اور پھر زکوٰۃ کا حکم فرمایا کہ جان اور مال کی اطاعت میں لگے رہو۔ یعنی اے بنی اسرائیل ایمان کے بعد اور نماز کو قائم اور درست رکھو۔ یعنی محض کتمان حق اور تلبیس اور خلط ملط سے باز رہنا نجات کے لیے کافی نہیں جب تک کہ احکام خداوندی پر عمل نہ ہو۔ لہذا ضروری ہوا کہ ایمان کے بعد نماز کو قائم رکھو۔ علامہ زمخشری فرماتے ہیں کہ الصلوۃ میں الف لام عہد کا ہے۔ یعنی ایسی نماز پڑھو کہ جیسی صحابہ کرام پڑھتے ہیں۔ منافقوں کی سی نماز نہ پڑھو۔ جو حقیقت میں نماز نہیں بلکہ فقط صورت اور ہیئت نماز کی ہے اور طیب خاطر اور انشراح صدر کے ساتھ زکوٰۃ دیا کرو۔ جس طرح سے لغت عرب میں اتیان اور سہولت سے آنے کا نام ہے۔ اسی طرح اتیاء سہولت سے دینے کا نام ہے اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ۔ یعنی جماعت کے ساتھ نماز پڑھو جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا شریعت اسلامیہ کے ساتھ مخصوص ہے۔ یہود نماز پڑھتے تھے مگر تنہا۔ اس لیے حکم ہوا کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھو اس لیے کہ نماز بھی ایک قسم کا جہاد ہے جس میں اجتماع ضروری اور لازمی ہے۔ اور محراب مسجد محاربۂ شیطان کا محل ہے اور قتال کے لیے صفوف کا ہونا بھی ضروری ہے اس لیے صفوف جماعت کے سیدھا رکھنے کی حدیثوں میں بہت تاکید آئی ہے۔
Ayah 2:44

اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:44 in the Quran reader

(یہ) کیا (عقل کی بات ہے کہ) تم لوگوں کو نیکی کرنے کو کہتے ہو اور اپنے تئیں فراموش کیے دیتے ہو حالانکہ تم کتاب (خدا) بھی پڑھتے ہو کیا تم سمجھتے نہیں ؟

توبیخ عالم بےعمل اتامرون الناس بالبر وتسون انفسکم وانتم تتلون الکتب۔ افلا تعقلون۔ کیا تم دوسرروں کو نیکی اور بھلائی کا حکم کرتے ہو اور اپنے نفسوں کو بھولتے ہو حالانکہ تم کتاب یعنی توریت کو پڑھتے ہو جس میں عالم بےعمل کی مذمت جا بجا مذکور ہے۔ پس کیا تم سمجھتے نہیں کہ دوروں کو نیکی اور بھلائی کا راستہ بتلانا اور دیدہ دانستہ اپنے کو ہلاک اور برباد کرنا یہ عقل اور فراست نہیں بلکہ عین سفاہت اور عین حماقت ہے۔ تعجب ہے کہ تم دوسروں کے ساتھ تو احسان کرتے ہو مگر اپنے نفس کے ساتھ احسان نہیں کرتے حالانکہ وہ احسان کا زیادہ مستحق ہے اپنی بدخواہی اور دوسروں کی خیر خواہی عقل کا اقتضاء نہیں عقل کو عقل اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ انسان کو بری باتوں سے روکتی ہے اور اس لیے کہ عقل کے معنی لغت میں روکنے کے ہیں۔ پس جب انسان نے اپنے ہی کو گمراہی سے نہ بچایا اور بری باتوں سے نہ روکا تو وہ کس طرح عاقل کہلا سکتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم نے فرمایا کہ عالم بےعمل کی مثال شمع کی سی ہے کہ دوسروں کو روشنی پہنچاتی ہے اور اپنے کو جلاتی ہے۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنے خویش اقارب کو جو ایمان لے آئے تھے ان کو یہ کہا کرتے تھے کہ تم دین اسلام پر قائم رہو۔ محمد ﷺ جو فرماتے ہیں وہ حق ہے دوسروں کو ایمان اور اسلام کی ترغیب دیتے اور خود ایمان اور اسلام کو قبول نہ کرتے۔ مطلب یہ ہوا کہ تم توریت کی تلاوت کرتے ہو اور اس میں نبی آخر الزماں کی بشارتیں پڑھتے ہو باوجود اس علم کے تم خود تو ایمان نہیں لاتے اور تمہارے اقارب اور احباب میں سے جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آتا ہے اس کو ایمان اور اسلام پر قائم رہنے کی تاکید کرتے ہو تمہارا عجب حال ہے کہ باوجود کتاب کے پڑھنے اور اہل علم کہلائے جانیکے کہ دوسروں کو تو نیک باتوں کا حکم کرتے ہو مگر خود ان پر عمل نہیں کرتے۔ تنبیہ : اس آیت میں شریفہ کا یہ مقصد نہیں کہ عالم بےعمل کسی کو امر بالمعرف اور نہی عن المنکر نہ کرے یا کسی کو راہ حق نہ بتلائے بلکہ مقصد یہ ہے کہ خود بھی ضرور عمل کرے عالم ہو کر بےعمل نہ رہے بلکہ عالم با عمل بنے جب وہ دوسروں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہے تو اس کو یہ سوچ لینا چاہئے کہ سب سے پہلے میرا نفس امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا محتاج ہے۔ عالم پر دو چیزیں فرض ہیں۔ ایک ترک معصیت یعنی خود معصیت نہ کرنا۔ دوم یہ کہ دوسروں کو معصیت سے منع کرنا۔ اگر دونوں فرض نہیں بجا لاسکتا تو دونوں چھوڑا بھی نہیں جاسکتا۔ مالایدرک کلہ لا یترک کلہ۔ طبیب اگر کسی مرض میں خود مبتلا ہو تو اسی مرض کے مریض کا معالجہ کرسکتا ہے لیکن خود اس کا مرض جب ہی زائل ہوگا جب وہ خود بھی دوا کا استعمال کرے دوسرے مریض کو دوا کا بتلانا بلابشہ ضروری اور مستحسن ہے اور مریض کے لیے غایب درجہ مفید ہے مگر اس بد پرہیز طبیب کو فائدہ جب ہوگا جب خود بھی دوا کا استعمال کرے محض دوسرے کو دوا بتلا دینا اس کے مرض کے ازالہ کے لیے کافی نہیں اور لم تقولون مالا تفعلون۔ میں ان کا فقط قول حق اور امر بالمعروف کی طرف راجح نہیں بلکہ تقولون کی قید یعنی لا تفعلون کی طرف راجح ہے یعنی حق کہنے کے بعد اس پر عمل کیوں نہیں کرتے بلاغت کا قاعدہ ہے کہ جب کوئی شئی کسی قید کے ساتھ مقید ہو تو نفی اور انکار فقط قید کی جانب متوجہ ہوتا ہے۔ علماء اہل کتاب خوب جانتے تھے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم نبی برحق ہیں مگر حب مال اور حب جاہ آپ کے اتباع سے مانع تھے کہ اگر آپ پر ایمان لے آئیں گے تو ہمارے ہدیے اور نذرانے بھی بند ہوجائیں گے اور رؤسا اور امراء کی نظروں سے ہم گر جائیں گے اور جو عزت اور وجاہت ہم کو حاصل ہے وہ جاتی رہے گی۔ آئندہ آیت میں اس کا علاج ارشاد فرمایا۔
Ayah 2:45

وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ Open ayah 2:45 in the Quran reader

اور (رنج و تکلیف میں) صبر اور نماز سے مدد لیا کرو، اور بیشک نماز گراں ہے مگر ان لوگوں پر (گراں) نہیں جو عجز کرنے والے ہیں

اصلاح نفس کا طریقہ اور حب مال اور جب جاہ کا علاج واستعینوا بالصبر والصلوۃ۔ اور اگر تم حب دنیا اور ہوا ہوس کے مہلک مرض میں مبتلا ہوگئے ہو تو شہوات اور لذات سے پرہیز کرو اور اس کے معالجہ کے لیے یہ دوائیں استعمال کرو یعنی صبر سے مدد طلب کرو یعنی نفس کو صبر اور قناعت کا خوگر اور ترک لذات اور شہوات کا عادی بناؤ تاکہ دنیا کی محبت دل سے زائل ہو۔ اور حق اور باطل میں تمیز کرسکو مرض کا ازالہ جب ہی ممکن ہے کہ اول مضرات سے پورا پورا پرہیز ہو اور پھر دوا کا استعمال ہو۔ اسی طرح باطنی امراض کے ازالہ کے لیے صبر، بمنزلہ پرہیز کے ہے اور شکر بمنزلہ دوا کے ہے چناچہ حدیث میں ہے کہ الایمان نصفان نصف فی الصبر ونسف فی الشکر۔ ایمان کے دو حصے ہیں ایک صبر اور دوسرا شکر۔ یعنی ایمان کی صحت اور سلامتی دو چیزوں پر موقوف ہے ایک صبر پر یعنی مضرات سے پرہیز کرنے اور دوم دواء شکر کے استعمال پر۔ جب تک پرہیز کامل نہ وہو اس وقت تک دوا پورا نفع نہیں کرتی اس لیے اول پرہیز یعنی صبر کا حکم دیا اور پھر دوا کے استعمال کا حکم دیا یعنی نماز کا کہ حمد وثناء تسبیح و تقدیس رکوع و سجود پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اعلی درجہ کا شکر ہے۔ بر مراد نفس تا گردی اسیر صبر بگزین و قناعت پیشہ گیر یعنی اگر تم کو اجر اور معاوضہ ہی مطلوب ہے تو حطام دنیا اور دراہم معدودہ پر کیوں گرے جاتے ہو آؤ صبر کرو تاکہ بارگاہ خداوندی سے تم کو بےحساب اور بیشمار اجر ملے۔ کما قال تعالی۔ انما یوفی الصبروان اجرھم بغیر حساب۔ اور اگر تم عزت اور وجاہت کے طالب ہو تو عزت اور وجاہت کو ان کے پاس کہاں ڈھونڈتے ہو۔ عزت کی اگر تلاش ہے تو اس عزیز مقتدر کے پاس تلاش کرو جس کی شان یہ ہے۔ تعز من تشاء وتذل من تشاء عزیزے کہ از درگہش سر بتافت بہر در کہ شد ہیچ عزت نیافت پس اگر تم عزت کے متلاشی ہو تو آؤ اور اس ذوالجلال والاکرم کی بارگاہ بےنیاز پر جبین نیاز کو خم کرو تاکہ دنیا اور آخرت کی عزتیں تم کو حاصل ہوں۔ یعنی نماز پڑھو۔ نماز کی خاصیت ہی یہ ہے کہ وہ فحشاء اور منکر سے بچاتی ہے حق جل شانہ کی محبت اور عظمت کو اور دنیا کی نفرت اور آخرت کی رغبت کو دل میں راسخ کرتی ہے۔ مخلوق سے تعلق کو قطع کرتی ہے اور خالق ذوالجلال سے تعلق کو مستحکم اور مضبوط کرتی ہے۔ مسند احمد اور سنن ابی داؤد میں حذیفۃ بن الیمان ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کو جب کوئی امر پیش آتا تو فوراً گھبرا کر نماز کے لیے کھڑے ہوجاتے۔ اور مسند احمد اور سنن نسائی میں صہیب رومی ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم نے ارشاد فرمایا کہ حضرات انبیاء کو جب کوئی پریشانی پیش آتی تو نماز کی طرف متوجہ ہوجاتے۔ عبداللہ ابن عباس ؓ ایک مرتبہ سفر میں تھے کہ بیٹے کی وفات کی خبر دی گئی تو سواری سے اترے اور دو رکعت نماز پڑھی اور انا للہ وانا لیہ راجعون پڑھا اور یہ فرمایا کہ ہم نے ویسے ہی کیا جیسا اللہ نے ہم کو حکم کو حکم دیا۔ اور یہ آیت تلاوت فرمائی۔ واستعینوا بالصبر والصلوۃ (اخرجہ سعید ابن منصور وابن المنذر والحاکم وغیرھم) ضرورت اور پریشانی کے وقت جو نماز پڑھی جائے وہ صلوۃ الحاجۃ کہلاتی ہے اس آیت میں اسی صلوۃ الحاجۃ کی طرف اشارہ ہے۔ وانھا لکبیرۃ الا علی الخشعین۔ اور تحقیق وہ یعنی صبر اور صلاۃ سے استعانت اور استمداد البتہ بہت شاق اور گراں ہے مگر انہیں پر جن کے دل خدا کے خوف سے پگھلے جاتے ہیں۔
Ayah 2:46

الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 2:46 in the Quran reader

جو یقین کئے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں اور اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

الذین یظنون انھم ملقوا ربھم وانھم الیہ راجعون۔ جن کو خیال ہے کہ ہم یقینا خدا سے ملنے والے ہیں اور بلاشبہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یعنی صبر اور نماز حقیقت میں دشوار نہیں کہ جس کا بجا لانا ناممکن ہو۔ ہاں ان لوگوں پر جو خدا سے ملنے کی امید نہیں رکھتے نماز ان پر بہت شاق اور گراں ہے وہ اس کو محض مشقت اور محنت خیال کرتے ہیں مگر ان خاشعین پر جو عذاب الیم سے ڈرتے ہیں اور ثواب عظیم اور نعیم مقیم کی امید رکھتے ہیں ان پر نماز شاق اور گراں تو کیا ہوتی ان کے لیے تو آنکھوں کی ٹھنڈک اور دلوں کی فرت اور مسرت ہے۔ : جو علم اور ادراک ان علامات سے حاصل ہو جو نہ حسی ہوں اور نہ بدیہی لغت میں اس کو ظن کہتے ہیں کبھی دلائل اور براہین کے انضمام سے اس میں قوت پیدا ہوجاتی ہے جو جزم اور یقین کی حد تک پہنچ جاتا ہے اور کبھی اس درجہ ضعیف ہوجاتا ہے کہ شک اور وہم کے قریب پہنچ جاتا ہے اس لیے لفظ ظن کبھی یقین کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے اور کبھی شک کے معنی میں اور کبھی گمان غالب کے معنی۔ اس آیت میں اگر ظن سے یقین کے معنی مراد لیے جائیں جیسا کہ مجاہد اور ابو العالیہ اور قتادہ وغیرہم سے منقول ہے تو آیت کے یہ معنی ہونگے کہ نماز ان لوگوں پر شاق اور گراں نہیں جو خدا سے ملنے کا یقین رکھتے ہیں اور ظن کے معنی گمان اور خیال کے لیے جائیں تو یہ معنی ہوں گے کہ جس شخص کو خدا کی ملاقات اور اس کی جزاء اور سزا کا گمان اور خیال بھی ہوجائے تو اگر عقل سلیم رکھتا ہے تو صبر اور نماز اور معاصی سے پرہیز اور طاعات خداوندی کا بجالانا اس کو شاق اور گراں نہیں بلکہ سہل اور آسان ہوگا۔ مریض کو جن لذائذ وطیبات کے استعمال سے ضرر کا گمان اور خیال بھی ہوجاتا ہے ان سے پرہیز کرنا اس کو دشوار نہیں معلوم ہوتا اور تلخ سے تلخ دوا کا استعمال کہ جس سے صحت اور شفا کی امید ہو آسان اور سہل معلوم ہوتا ہے۔ بعض عارفین فرماتے ہیں کہ الذین یظنون انھم ملقوا ربھم کے یہ معنی ہیں کہ وہ خاشعین نماز پڑھتے وقت یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم اپنے پروردگار کو دیکھ رہے ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے ان تعبداللہ کانک تراہ۔ عبادرت کر اللہ کی اس طرح کہ گویا تو اس کو دیکھ رہا ہے۔ خلاصہ یہ کہ اگر تم کو نفس کا تزکیہ اور اس کی اصلاح مقصود ہے تو صبر اور نماز سے اس بارے میں مدد حاصل کرو۔ اور اگر یہ طریق تم کو دشوار معلوم ہوتا ہے تو دوسرا طریق یہ ہے کہ تم نعمائے الٰہیہ کا مراقبہ کیا کرو اور سوچا کرو کہ حق تعالیٰ شانہ نے ہم پر کیا کیا نعمتیں برسائیں اور باوجود ہماری نافرمانیوں کے ہم پر کیا کیا احسانات ہوتے رہے۔ اس تفکر اور مراقبہ کا اثر یہ ہوگا کہ قلب میں حق جل شانہ کی محبت کا ولولہ اور جوش پیدا ہوگا۔ الانسان عبدالاحسان۔ انسان بندہ ہے احسان کا جہاں یہ جوش اور ولولہ پیدا ہو مقصد حاصل ہوگیا۔ ہر آنکہ عشق یکے دردلش گرفت قرار۔ روا بود کہ تحمل کند جفائے ہزار عشق آن شعلست کوچوں برفروخت ہر چہ جز معشوق باقی جملہ سوخت اس لیے آئندہ آیت میں پھر ان نعمتوں کے یاد کرنے کا حکم دیتے ہیں اور جن نعمتوں کو پہلے اجمالاً یاد دلایا تھا اب ان کو تفصیلا بیان فرماتے ہیں۔
Ayahs 2:47–48

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:47 in the Quran reader

اے یعقوب کی اولاد میرے وہ احسان یاد کرو جو میں نے تم پر کئے تھے اور یہ کہ میں نے تم کو جہان کے لوگوں پر فضلیت بخشی تھی

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:48 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرو جب کوئی کسی کے کچھ بھی کام نہ آئے اور نہ کسی کی سفارش منظور کی جائے اور نہ کسی سے کسی طرح کا بدلہ قبول کیا جائے اور نہ لوگ (کسی اور طرح) مدد حاصل کرسکیں

تفصیل انعامات و عنایات خداوند جلیل وشرح جنایات وتقصیرات قوم بنی اسرائیل وحکم مراقبہ عنایات و ملاحظہ جنایات کہ در حیاء حکم اکسیر دارد قال تعالیٰ یبنی اسرائیل اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم۔۔ الی۔۔ ولاتعثوا فی الارض مفسدین۔ (ربط): گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کو اجمالی طور پر اپنی نعمتیں یاد دلائیں اب آئندہ آیات میں ان کی تفصیل ہے جو دور تک چالی گئی اور تفصیل میں سب سے پہلی نعمت تفضیل کو ذکر فرمایا اس لیے کہ تفضیل علی العالمین سب سے افضل نعمت ہے پھر لطف یہ کہ اپنے الطاف و عنایات کے بعد ان کی جنایات اور تقصیرات کو ذکر فرمایا اس لیے کہ جب ایک طرف خداوند کریم کی عنایتوں کو دیکھیں گے اور ددوسری طرف اپنی جنایات اور تقصیرات کو دیکھیں گے تو لامحالہ حق تعالیٰ سے شرمائیں گے اور اس وقت ان کا یہ حال ہوگا اور قال بھی ہوگا۔ شکر نعمتہائے تو چندان کہ نعمتہائے تو عذر تقصیرات ما چندان کہ تقصیرات ما اور حیاء ایمان کا ایک درمیانی اور مرکزی شعبہ ہے جس پر ایمان کے باقی شعبے گھومتے ہیں چناچہ ارشاد فرماتے ہیں۔ یبنی اسرائیل اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم اے ابنی اسرائیل یاد کرو تم میری ان خاص خاص نعمتوں کو جن کا مینے خاص تم پر انعام کیا اور پھرا پنی جنایتوں پر نظر کرو کہ کیا ان نعمتوں کا یہی حق تھا جو تم کر رہے ہو اور ہماری اس تذکیر اور یاد دہانی کی نعمت کو بھی یاد کرو کہ ہم نے تم کو خواب غفلت سے جگایا۔ انعام اول وانی فضلتکم علی العلمین۔ اور سلسلہ انعاما میں سب سے پہلے اس بات کو یا کرو کہ میں نے تم کو اس زمانہ میں جہان والوں پر فضیلت دی کہ دنیا کی بادشاہت کے ساتھ دین کی بادشاہت بھی تم کو دی یعنی تمہارے خاندان میں پیغمبری بھی دی کما قال تعالیٰ جعل فیکم انبیاء وجعلکم ملوکا واتاکم ما لم یؤت احد من العلمین وقال تعالیٰ ولقد اخترناہم علی العلمین حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے لیکر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمہارے ہی خاندان سے انبیاء مبعوث ہوتے رہے اور توریت اور انجیل اور زبور سب تمہارے ہی خاندان میں نازل ہوئی۔ تمہارا ہی خاندان نبوت رسالت اور امامت اور حکمت کا مخزن رہا۔ غرض یہ کہ اس وقت تک تم ہی کو تمام عالم پر بزرگی اور برتی اور فضیلت حاصل رہی اب وقت آیا کہ وہ نبی آخر الزمان ظاہر ہوں جن کی تمام انبیاء ومرسلین حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم الصلاۃ والسلام خبر دیتے چلے آئے لہذا اگر تم کو اپنی فضیلت اور بزرگی کو باقی رکھنا منظور ہے تو فوراً محمد مصطفیٰ ﷺ پر ایمان لاؤ اور دل وجان سے ان کی اعانت اور امداد کرو۔ اور جس طرح قارون اور سامری نے حضرت موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) کی مخالفت کر کے خاندان یعقوبی کے شرف کو ضائع کیا تم بھی قارون اور سامری کی طرح محمد رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کر کے اپنی فضیلت اور بزرگی اور اپنے شرف اور منصب کو ضائع نہ کرو۔ اگر تم محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاتے ہو تو اپنی سابق فضیلت اور گزشتہ منصب پر قائم ہو بلکہ تم سے دو اجر کا وعدہ ہے اور اگر تم ایمان لانے سے انحراف کرتے ہو تو سمجھ لو کہ تم اپنے منصب سے معزول ہو۔ حضرت یعقوب (علیہ الصلوۃ والسلام) کے وقت سے اس وقت تک بنی اسرائیل ہی سب سے افضل اور اشرف تھے۔ یہ وقت خطاب مضمون کلام سے خارج ہے گزشتہ زمانہ سے لیکر اس وقت خطاب تک بنی اسرائیل کا ان فضیلتوں میں کوئی شریک اور سہیم نہیں رہا اور یہ وقت خطاب مضمون کلام سے خارج ہے۔ گزشتہ فضیلت اور گزشتہ شرف کو باقی رکھنا ہے تو اس نبی برحق کی دعوت کو قبول کرو۔ مگر افسوس ان لوگوں نے اس دعوت کو ٹھکرایا اور مغضوب علیہم اور ضالین کے نام سے موسوم ہوئے اور جو لوگ ایمان لائے وہ خیر الامم کے لقب سے سرفراز ہوئے اس تقریر سے یہ شبہ رفع ہوگیا کہ اس آیت سے بنی اسرائیل کا امت محمدیہ سے افضل ہونا لازم آتا ہے جواب یہ ہے کہ آیت میں اس وقت کی تفصیل کا ذکر نہیں گزشتہ زمانہ کی تفصیل کا ذکر ہے وقت خطاب مضمون کلام سے خارج ہے۔ آئندہ ان کے ایک شبہ کا جواب دیتے ہیں کہ اگر تم کو یہ خیال ہے کہ باوجود نہ ایمان لانے کے قیامت کے دن ہم اپنے آباؤ اجداد کی شفاعت سے نجات پاجائیں گے تو سمجھ لو کہ قیامت کے دن نمرود اور فرعون سامری اور قارون کی طرح انبیاء اللہ سے انحراف کرنے والوں کے لیے کوئی شفاعت نہ ہوگی چناچہ ارشاد ہے۔ واتقوا یوما لاتجزی نفس عن نفس شیئا ولا یقبل منہا شفاعۃ ولا یؤخذ منہا عدل ولا ھم ینصرون۔ اور ڈرو تم اس دن سے کہ ایک نفس دوسرے نفس کے کچھ بھی کام نہ آئیگا اور نہ اس کی طرف سے کوئی سفارش اور نہ اس کی طرف سے کوئی فدیہ لیا جائے اور نہ ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔ البتہ اہل ایمان کی مدد کی جائے گی انسان جب کسی بلا میں گرفتار ہوتا ہے تو شفاعت وسفارش فدیہ دیکر رستگار ہونا چاہتا ہے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو اپنے اعوان وانصار کو جمع کر کے آمادۂ پکار ہوتا ہے اور ولا ھم ینصرون سے یہی مراد ہے کہ تماہرا کوئی حامی اور مددگار بھی نہ ہوگا۔ جو تم کو زور قور قوت کے ذریعے سے عذاب سے چھڑائے۔ : جو لوگ مال کی محبت میں زیادہ گرفتار ہوتے ہیں وہ یہ چاہا کرتے ہیں کہ جس طرح ممکن ہو سفارش سے کام چل جائے۔ مال نہ خرچ کرنا پڑے اور بعض عزت اور وجاہت کے دلدادہ ہوتے ہیں ان کو مال خرچ کرنا آسان ہوتا ہے اس لیے حق جل شانہ نے اس مقام پر شفاعت کو فدیہ پر مقدم فرمایا اور اسی پارہ کے اخیر میں فدیہ کو شفاعت پر مقدم فرمایا حیث قال ولا یقبل منہا عدل ولا تنفعہا شفاعۃ تاکہ دونوں قسم کی طرف اشارہ ہوجائے۔ تنبیہ : اس آیت شریفہ میں مطلق شفاعت کی نفی نہیں کی گئی بلکہ فرعون اور ہامان کی طرح انبیاء اللہ سے انحراف کرنے والوں کی شفاعت کی نفی مقصود ہے عصاۃ مومنین یعنی گنہاگار مسلمانوں کی شفاعت جو دیگر آیات اور احادیث متواترہ سے ثابت ہے اس کی نفی مقصود نہیں تفصیل اگر درکار ہے تو تفسیر کبیر کی مراجعت فرمائیں۔ نیز ان آیات کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی مرضی اور منشاء کے خلاف کوئی شخص اپنی وجاہت سے سفارش نہ کرسکے گا اور آیت من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ میں لفظ اذن اس کی دلیل ہے کہ خدا تعالیٰ کی اجازت سے سفارش ہوسکے گی۔
Ayah 2:49

وَ اِذْ نَجَّیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ Open ayah 2:49 in the Quran reader

اور (ہمارے ان احسانات کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو قوم فرعون سے مخلصی بخشی وہ (لوگ) تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو تو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی

انعام دوم : واذ نجینکم من ال فرعون۔۔ الی۔۔ من ربکم عظیم۔ اور یاد کرو اس انعام کو جبکہ ہم نے تم کو قوم فرعون سے نجات دی جو تم کو سخت ترین عذاب کی تکلیف دے رہے تھے تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑتے تھے۔ غیور طبیعتیں سمجھ سکتی ہیں عورتوں کا زندہ چھوڑنا بیٹوں کے ذبح سے سخت ہے۔ اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔ تم نے دیکھ لیا کہ سوائے خدا تعالیٰ کے کسی نے بھی دنیا میں ان سختیوں میں تمہاری کوئی مدد نہ کی پس سمجھ لو کہ آخرت میں جبکہ نفسی نفسی ہوگی کون تمہاری مدد کرسکے گا۔ فرعون نے ایک وحشت ناک خواب دیکھا کہ بیت المقدس سے ایک آگ نکلی ہے جس نے مصر کا احاطہ کرلیا ہے۔ ہر قطبی کے گھر میں داخل ہوتی ہے اور اس کو جلاتی ہے بنی اسرائیل سے کوئی تعرض نہیں کرتی۔ کاہنوں نے اس کی یہ تعبیر دی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیرے اور تیری قوم اور تیری سلطنت کے زوال کا باعث ہوگا اس لیے فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل سے کوئی تعرض نہیں کرتی۔ کاہنوں نے اس کی یہ تعبیر دی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیرے اور تیری قوم اور تیری سلطنت کے زوال کا باعث ہوگا اس لیے فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہو اس کو قتل کردیا جائے اس زمانہ میں نجوم کا بڑا چرچا تھا۔ اور نجومیوں کو خواب کی تعبیر کا بھی ملکہ تھا اسی زمانہ میں موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ خدا کی قدرت کا کرشمہ دیکھو کہ فرعون ہی کے گھر میں موسیٰ (علیہ السلام) کی پر وش ہوئی۔