2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 2:26–27

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ۘ یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًا١ۙ وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَۙ Open ayah 2:26 in the Quran reader

خدا اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز (مثلاً مکھی مکڑی وغیرہ) کی مثال بیان فرمائے جو مومن ہیں وہ یقین کرتے ہیں کہ وہ ان کے پروردگار کی طرف سے سچ ہے اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے خدا کی مراد ہی کیا ہے، اس سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا ہے تو نافرمانوں ہی کو

الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ١۪ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 2:27 in the Quran reader

جو خدا کے اقرار کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جس چیز (یعنی رشتہ قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے اس کو قطع کئے ڈالتے ہیں اور زمین میں خرابی کرتے ہیں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے پر کافروں کا ایک شبہ اور اسکا جواب قال تعالیٰ ان اللہ لا یستحیی ان یضرب مثلا۔۔۔ الی۔۔۔ اولئک ھم الخسرون گزشتہ آیات میں اعجاز قرآن کی دلیل مذکور تھی۔ یہاں منکرین کے ایک شبہ کا جواب مذکور ہے۔ شبہ کی تقریریہ ہے کہ حق تعالیٰ شانہ نے قران کریم میں کہیں مکھی اور کہیں مکڑی کی مثال دی ہے اس پر کافروں نے یہ اعتراض کیا کہ یہ قرآن اگر اللہ کا کلام ہے تو اس میں حقیر اور خسیس چیزوں کا ذکر نہ ہونا چاہئے کیونکہ ایسی خسیس اور حقیر چیزوں کا ذکر اس امر کی دلیل ہے کہ یہ اللہ کی کتاب نہیں ہے۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ ان اللہ لا یستحیی ان یضرب مثلاما بعوضۃ فما فوقھا فا ما الذین امنوا فیعلمون انہ الحق من ربھم واما الذین کفروا فیقولون ما ذا اراد اللہ بھذا مثلا۔ بیشک اللہ نہیں شرماتا اس بات سے کہ کوئی مثال بیان کرے کسی مچھر کی یا اس چیز کی جو حقارت میں مچھر سے بھی بڑھ کر ہو پس اہل ایمان خوب جانتے ہیں کہ یہ تمثیل بالکل حق ہے اور درست ہے ان کے رب کی طرف سے اس لیے کہ تمثیل سے ممثل لہ (جس کی مثال دی گئی) کی توضیح اور تفصیل مقصود ہوتی ہے۔ لہذا حقیر اور ذلیل چیزوں کی حقارت اور ذلت کی توضیح اور تشریح کے لیے اس کے مناسب مچھر، مکھی اور مکڑی اسی قسم کی حقیر و ذلیل چیزوں کی مثال ذکر کی جائے گی۔ تاکہ اس شیئ کی حقارت اور ذلت واضح ہوجائے عزیز اور عظیم چیزوں کی مثال سے حقیر اور خسیس چیزوں کی حقارت اور ذلت واضح ہوجائے عزیز اور عظیم چیزوں کی مثال سے حقیر اور خسیس چیزوں کی حقارت اور ذلت کو کس طرح سمجھایاجا سکتا ہے۔ مثال کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ مثال دینے والے مطابق ہو۔ بلکہ ممثل لہ کے مطابق ہونی چاہئے حقیر کی مچال حقیر سے اور عذیز کی مثال عزیز سے دینی چاہئے۔ ورنہ ہر عاقل جانتا ہے کہ حقیر کو عزیز سے مثال دینا احمقوں کا کام ہے۔ توریت اور انجیل اور کلام حکماء میں اس قسم کی مثالیں بکثرت موجود ہیں۔ قال اللہ تعالیٰ ولقد ضربنا للناس فی ھذا القرآن من کل مثل لعلھم یتذکرون اور البتہ تحقیق ہم نے بیان کی ہے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر مثال تاکہ نصیحت پکریں۔ وقال تعالیٰ وتلک الامثال نضربھا للناس لعلھم یتفکرون یہ مثالیں لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ تفکر اور تامل کریں۔ بعض سلف سے منقول ہے کہ جب میں قرآن کی کسی مثل کو سنتا ہوں اور اس کو نہیں سمجھتا تو میں اپنے اوپر روتا ہوں اس لیے کہ حق تعالیٰ شانہ فرماتے ہیں۔ وتلک الامثال نضربھا للناس وما یعقلھا الا العالمون۔ یہ مثالیں لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور نہیں سمجھتے ان کو مگر اہل علم ربیع بن انس فرماتے ہیں کہ مچھر کی مثال اللہ نے دنیا کے لیے بیان فرمائی ہے مچھر جب تک بھوکا رہتا ہے زندہ ہے اور جب کھا کر موٹا ہوجاتا ہے تو مرجاتا ہے اسی طرح اہل دنیا جب دنیا سے خوب سیر اور سیراب ہوجاتے ہیں تو اللہ ان کو پکڑتا ہے پس وہ ہلاک ہوتے ہیں کما قال تعالیٰ ۔ فلما نسوا ما ذکروا بہ فتحنا علیھم ابواب کل شیئ حتی اذا فرھو بما اوتوا اخذناھم بغتۃ فاذاھم مبلسون۔ پس جب بھول گئے وہ اس نصیحت کو جو ان کو کی گئی تھی تو کھول دئیے ہم نے ان پر دروازے ہر چیز کے یہاں تک کہ جب وہ خوش ہوگئے اس سے جو ان کو دیا گیا پس پکڑ لیا ان کو ناگہاں پس وہ ناامید ہو کر رہ گئے۔ (تفسیر ابن کثیر) خلاصہ یہ کہ اہل ایمان مثالوں کو حق سمجھتے ہیں کہ شیاء کی خست اور حقارت بیان کرنے کے لیے یہ مثالیں دی گئی ہیں۔ اور کافر لوگ اپنی حماقت سے یہ کہتے ہیں کہ اللہ کی ان حقیر مثالوں سے کیا غرض ہے اور کیا ارادۂ کداوندی ایسی حقیر چیزوں کے متعلق بھی ہوسکتا ہے۔ آئندہ آیت میں اس کا جواب ارشاد فرماتے ہیں یضل بہ کثیر ویھدی بہ کثیر ا۔ گمراہ کرتا ہے اللہ اس مثال سے بہتوں کو اور ہدایت کرتا ہے اس سے بہتوں کو۔ یعنی مقصد یہ ہے کہ اہل حق اور اہل باطل۔ اہل ہدایت اور اہل ضلالت میں فرق ہوجائے۔ قرآن اور اس کی تمثیلات سب حق اور عین ہدایت ہیں صحیح المزاج اور سلیم الطبع اشخاص (یعنی اہل ایمان) جب ان تمثیلات کو سنتے ہیں اور ان میں تفکر اور تامل کرتے ہیں تو ان کی ہدایت میں اور اضافہ ہوتا ہے اور ان تمثیلات سے ان کو صراط مستقیم اور حق کا راستہ خوب واضح ہوجاتا ہے اور جن کی روح کا مزاج بالکل فاسد اور خراب ہوچکا ہے ان کو ان تمثیلات سے کوئی نفع نہیں ہوتا بلکہ ان کی گمراہی میں، اور زیادتی ہوجاتی ہے۔ فاسد المزاج کو جس قدر بہتر غذا دی جائے گی اسی قدر اس کے فساد اور مرض میں اضافہ ہوگا۔ قرآن عزیز میں جس طرح ہدایت اور اضلال کو حق جل شانہ کی طرف منسوب کیا ہے اسی طرح ہدایت کو انبیاء ومرسلین اور لماء ربانیین اور ائمہ مجتہدین کی جانب اور اضلال کو شیاطین اور اخوان شیاطین کی جانب بھی منسوب کیا گیا۔ اس لیے ضروری ہوا کہ ہدایت اور اضلال کے معانی اور مراتب کو ذکر کیا جائے تاکہ خدا کی ہدایت اور انبیاء ومرسلین کی ہدایت میں فرق معلوم ہو اور جو اضلالحق تعالیٰ جل شانہ کی جانب منسوب ہے اس کی کیا حقیقت ہے اور جو اضلال شیاطین اور اخوان شیاطین کی جانب مسنوب ہے اس کی کیا ماہیت ہے۔ مراتب ہدایت مرتبہ اولی۔ ہدایت بیان۔ یعنی حق کو بیان کرنا اور واضح کرنا اور لوگوں کو حق کی تعلیم اور دعوت دینا۔ اس معنی سے ہدایت اللہ کی طرف اور اس کے انبیاء ومرسلین اور ائمہ مجتہدین کی طرف منسوب ہوسکتی ہے۔ اللہ نے بھی حق کو بیان کیا اور اس کی طرف اپنے بندوں کو دعوت دی اور اس کے حکم سے انبیاء ومرسلین اور علماء نے بھی حق کو بیان کیا اور لوگوں کو اس کی تعلیم دی اور اس کی طرف بلایا۔ قال تعالیٰ انا ھدیناہ السبیل اما شاکرا واما کفورا تحقیق ہم نے انسان کو راستہ بتایا تو شکر کرے یا ناشکری کرے۔ وقال تعالیٰ واما ثمود ھدیناھم فاستحبوا العمی علی الھدی۔ قوم ثمود کو ہم نے سیدھا راستہ بتایا لیکن انہوں نے گمراہی کو ہدایت پر ترجیح دی۔ اور نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کو خطاب فرماتے ہیں : وقال تعالیٰ وجعلنا منھم ائمۃ یھدون بامرنا۔ ہم نے ان میں سے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے۔ ان تمام آیتوں میں ہدایت بمعنی البیان مراد ہے اور یہ ہدایت اللہ رب العزت کے ساتھ مخصوص نہیں۔ انبیاء اور علماء کی طرف بھی اس کی اسناد ہوسکتی ہے۔ نیز یہ ہدایت اہل ایمان کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ مومن اور کافر سب کے لیے ہے۔ مرتبۂ ثانیہ : ہدایت توفیق۔ یعنی خدا کا اپنے فضل وکرم سے بندہ کے لیے اپنی اطاعت اور فرمانبرداری کو اس کی خواہش اور طبعی میلان کے ایسا موافق بنادینا کہ اس کی اطاعت لذیذ اور شیریں معلوم ہو اور اس کی معصیت حنظل سے بھی زیادہ تلخ معلوم ہو۔ خیر کے اسباب اور دواعی کو اس کے یے جمع کردینا اور اس کے تمام عوائق اور موانع کو یکلخت اٹھا دینا۔ یہ ہدایت اللہ جل جلالہ کے ساتھ مخصوص ہے اس ہدایت پر نہ کوئی ملک مقرب قادر ہے نہ کوئی نبی مرسل۔ کما قال تعالیٰ : /انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یدھی من یشاء الایۃ۔ تحقیق آپ جس کو چاہیں راہ پر نہیں چلا سکتے۔ لیکن اللہ ہی جس کو چاہے راہ پر لائے۔ اس آیت میں اللہ کے لیے جس ہدایت کو ثابت کیا گیا اور نبی کریم ﷺ سے جس ہدایت کی نفی کی گئی وہ یہی ہدایت بمعنی التوفیق ہے اور انک لتھدی الی صراط مستقیم میں جس ہدایت کو نبی کریم کی طرف منسوب کیا گیا ہے وہ ہدایت بمعنی البیان ودعوۃ الحق ہے۔ نبی کا کام ہی یہ ہے کہ حق کو بیان کرے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دے اور اس کی طرف بلائے مگر خداوندی اطاعت کا ہوائے نفسانی کے مطابق بنا دینا۔ اور خدا کی عبودیت اور بندگی کی حلاوت اور شیرینی کسی کے دل میں اتار دینا یہ سوائے اسی ملیک مقتدر کے کسی کے قبضہ میں نہیں۔ چناچہ حدیث میں ہے لایتوفق عبد حتی یوفقہ اللہ۔ بندہ خود بخود توفیق نہیں پاتا یہاں تک کہ خدا اس کو توفیق دے۔ نبی کریم ﷺ اور صحابۂ کرام غزوۂ احزاب میں خدنقیں کھودتے وقت یہ پڑھتے تھے۔ اللھم لو لا انت ما اھتدینا ولا تصدقنا ولا صلینا۔ فانزل سکینۃ علینا۔ (اے اللہ اگر تیری توفیق نہ ہوتی تو ہم ہدایت نہ پاتے۔ اور نہ صڈقہ کرتے اور نہ نماز پڑھتے۔ پس تو ہم پر سکینت اور طمانینت نازل فرما) اور یہ ہدایت اہل ایمان کے ساتھ مخصوص ہے۔ حق تعالیٰ اس نعمت کبریٰ اور رحمت عظمی سے ان بندوں کو سرفراز فرماتا ہے جو اس کی رضا اور خوشنودی کے مقابلہ میں ہفت اقلیم کی سلطنت کی جانب گوشۂ چشم سے ایک ادنیٰ التفات کو بھی روانہ رکھتے ہوں۔ کما قال تعالیٰ : یھدی بہ اللہ من اتبع رضوانہ سبل السلام و یخرجھم من الظلمت الی النور باذنہ ویھدیھم الی صراط مستقیم۔ جو اللہ کی رضا مندی کا تابع ہو اس کو اللہ تعالیٰ سلامتی کی راہیں بتلاتے ہیں اور ظلمت سے نکال کر نور کی طرف لاتے ہیں اور سیدھے راستہ پر اس کو چلاتے ہیں۔ مراتب اضلال اضلال ہدایت کا مقابل ہے۔ جس طرح ہدایت کے دو معنی ہیں اسی طرح اضلال کے بھی دو معنی ہیں۔ معنی اول : اضلال کے ایک معنی یہ ہیں کہ خدائے عزوجل کی معصیت کی دعوت دینا اور اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کو قبیح کر کے بتلانا اور اس کی نافرمانی کو مزین اور مستحسن کر کے ظاہر کرنا اور حق کو باطل کے ساتھ ملتبس کرنا۔ حق تعالیٰ نے اسی اضلال کو شیطان کی طرف منسوب فرمایا ہے۔ انہ عدو مضل مبین۔ وقال تعالی۔ زین لھم الشیطان اعمالھم فصدھم عن السبیل : اور شیطان نے ان کے کاموں کو ان کے سامنے خوبصورت بنا کر دکھایا پس اس طرح سے ان کو سیدھا راستہ نہ بتایا۔ اور ایک جگہ سامری کی طرف منسوب کیا واضلھم السامری : سامری نے ان کو گمراہ کیا۔ اس معنی کر اضلال ہمیشہ شیاطین اور اخوان شیاطین اور ائمۃ الکفر کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ حق سبحانہ وتعالیٰ کی جانب کبھی اس اضلال کی اسناد نہیں کی جاسکتی۔ وہ قدوس حکیم اس سے پاک اور منزہ ہے کہ وہ معاذ اللہ اپنے بندوں کو شر، فحشاء اور منکر کی طرف بلائے۔ ان اللہ یامر بالعدل والاحسان وایتاء ذی القربی وینھی عن الفحشاء والمنکر والبغی یعظکم لعلکم تذکرون۔ تحقیق اللہ تعالیٰ تم کو حکم کرتا ہے انصاف کا اور بھلائی کا اور صلہ رحمی کا اور منع کرتا ہے تم کو ہر بےحیائی اور نامعقول بات اور سرکشی سے اللہ تعالیٰ تم کو سمجھاتے ہیں شاید تم یاد رکھو۔ معنی ثانی : اضلال کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ حق تعالیٰ شانہ اپنی توفیق اور لطف و رحمت سے کسی کو محروم فرمادیں۔ توفیق اور لطف سے اس شخص کو محروم فرماتے ہیں جو اللہ کی آیتوں کی تکذیب اور انبیاء ومرسلین کے ساتھ استہزاء اور تمسخر کرے قال تعالیٰ ۔ ان اللہ لا یھدی من ھو مسرف کذاب۔ واللہ لا یھدی القوم الظالمین۔ ویضل اللہ الظالمین۔ اللہ نہیں ہدایت کرتا اس شخص کو جو حد سے تجاوز کرنیوالا اور جھوٹا ہو۔ اللہ نہیں ہدایت کرتا حد سے گزرنے والوں کو اور گمراہ کرتا ہے اللہ ظالموں کو۔ یہ اضلال حقیقت میں ان کے اسراف تکذیب، ظلم اور تعدی کی سزا ہے حق تعالیٰ شانہ کی طرف یہی اضلال منسوب ہوتا ہے اور یہ آیت یعنی یضل بہ کثیرا ویھدی بہ کثیرا۔ جس کی اس وقت تفسیر کی جارہی ہے۔ اس میں ہدایت اور اضلال کے دوسرے معنی مراد ہیں۔ یعنی خدا اپنی خاص ہدایت اور فوفیق اور لطف و رحمت سے بہت سے بندوں کو سرفراز فرماتا ہے جو اس حق جل وعلاء کے کلام کی تصدیق کرتے ہیں اور اس کی تمثیل کو حق اور عین ہدایت جانتے ہیں اور اس کے کلام اور تمثیل کا استہزاء اور تمسخر نہیں کرتے۔ اور بہتوں کو ان تمثیلات سے گمراہ کرتا ہے یعنی اپنے توفیق اور لطف و رحمت سے محروم کرتا ہے۔ محروم ان لوگوں کو کرتا ہے جو اس کی اطعت اور فرمانبرداری کی حدود سے نکل جاتے ہیں اور حدا سے پختہ عہد کر کے توڑ ڈالتے ہیں جیسا کہ آئندہ آیت میں ارشاد فرماتے ہیں۔ وما یضل بہ الا الفسقین الذین ینقضون عہد اللہ من بعد میثاقہ الخ اور نہیں گمراہ کرتا اللہ تعالیٰ ان تمثیلات سے مگر نافرمانوں کو نافرمانی اور سرکشی کی نحوست سے عقل ماری جاتی ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حق کو باطل سمجھنے لگتا ہے اور گمراہ ہوتا ہے۔ اطاعت سے خارج ہونے والوں کو فاسق کہتے ہیں۔ فاسق کا لفظ کافر اور مومن عاصی دونوں کو شامل ہے لیکن کافر کا فسق مومن عآسی کے فسق سے زیادہ سخت ہوتا ہے۔ مگر اس آیت میں فاسق سے کافر ہی مراد ہے۔ قرآن کریم میں فاسق کا لفظ دونوں معنوں میں مستعمل ہوا ہے۔ قال اللہ تعالیٰ ۔ ان المنافقین ھم الفاسقون۔ اس آیت میں منافقین کو فاسقین کہا گیا ہے اور بئس الاسم الفسوق بعد الایمان۔ اور یا ایہا الذین امنوا ان جاء کم فاسق بنبا فتبینوا۔ ان دونوں آیتوں میں فاسق سے مومن عاصی مراد ہے کافر فاسق تو حدود ایمان سے ہی خارج ہوجاتا ہے۔ اور مومن عاصی حدود ایمان سے خارج نہیں ہوتا مگر حدود اطاعت سے خارج ہوجاتا ہے الحاصل حق تعالیٰ شانہ ان اشیاء حقیرہ کی تمثیل سے صرف انہی لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں جو بدکار اور نافرمان ہیں۔ اور ان لوگوں کو جو خدا کے عہد کو پختہ کرنے کے بعد توڑتے ہیں۔ عہد سے اس جگہ وہ وصیت مراد ہے جس کی حق تعالیٰ نے اپنے تمام پیغمبروں کی زبانی تاکید کی کہ خدا کو ایک جانو اور ایک مانو اور اسکے پیغمبروں کی تصدیق کرو۔ اور بعض کا قول یہ ہے کہ عہد سے وہ عہد مراد ہے جو حق تعالیٰ نے توریت میں یہودیوں سے نبی آخر الزمان پر ایمان لانے کا عہد لیا تھا اور بعض کا قول ہے کہ عہد سے عہد الست مراد ہے یا یوں کہو کہ عہد سے عام مراد ہے خواہ وہ عہد الست ہو یا توریت وانجیل میں نبی اکرم ﷺ پر ایمان لانے کا عہد ہو۔ اور توڑتے ہیں اس چیز کو جسکا اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اس آیت کے عموم میں ان تمام علائق کا قطع داخل ہے جن کے وصل کا خدا نے حکم دیا ہے۔ قطع رحمی اور خدا اور اس کے پیغمبروں سے قطع تعلق کرنا یہ بھی اس میں شامل ہے اور فساد کرتے ہیں زمین میں جو قول اور عمل اور جو حرکت اور سکون خدا کی رضامندی کے خلاف ہو وہ سب فساد اور فتنہ ہے۔ یہ لوگ وہی ہیں جو خسارہ اور نقصان اٹھانے والے ہیں۔ دنیا میں آخرت کی تجارت کے لیے آئے تھے نفع تو کیا حاصل کرتے اصل راس المال یعنی عقل اور فطرت سلیمہ کا جو سرمایہ ان کے پاس تھا اس کو بھی ضائع اور برباد کردیا اور صلاح اور رشد اور ہدایت کے بدلہ میں گمراہی کو خرید لیا اور منعم حقیقی کو چھوڑ بیٹھے اور اس سے اپنا تعلق قطع کرلیا۔ اس سے بڑھ کر اور کیا خسارہ اور نقصان ہوگا۔ (نوٹ : اگر ہدایت واضلال کی اور زیادہ تفصیل درکار ہو تو امام رازی قدس اللہ سرہ کی تفسیر کبیر کی طرف مراجعت کریں)
Ayah 2:28

كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْ١ۚ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:28 in the Quran reader

(کافرو ! ) تم خدا سے کیونکر منکر ہوسکتے ہو جس حال میں کہ تم بےجان تھے تو اس نے تم کو جان بخشی پھر وہی تم کو مارتا ہے پھر وہی تم کو زندہ کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

استعجاب بر کفر ونافرمانی وتذکیر انعامات ربانی اور مبداء ومعاد کی یاد دھانی قال تعالیٰ کیف تکفرون باللہ۔۔۔ الی۔۔۔ ثم الیہ ترجعون حق جل شانہ جب دلائل توحید ونبوت و معاد بیان کرچکے اور عبادت کا حکم دے چکے تو اب آئندہ آیات میں اس پر تفریع فرماتے ہیں کہ ایسے قدیر وعظیم اور رحیم وکریم پروردگار سے سرکشی سراسر تعجب خیز ہے ان انعامات و احسانات کا مقتضی تو یہ تھا کہ تم شکر کرتے نہ کہ کفر۔ حیرت ہے کہ ان انعامات اور احسانات کے بعد تم کو کفر پر جرات کیسے ہوئی اور اس توبیخ اور عتاب میں دوسرے عنوان اور دوسرے رنگ میں اس دلیل سابق کا اعادہ فرمایا پھر اس سلسلہ تذکیر میں اولا نعم عامہ کو بیان فرمایا یعنی ان نعمتوں کا ذکر کیا جس کا تعلق عام بنی آدم سے ہے۔ اور ثانیاً نعم خاصہ کو بیان فرمایا یعنی ان نعمتوں کا ذکر کیا جن کا خاص بنی اسرائیل سے تعلق ہے اور دور تک سلسلہ کلام چلا گیا۔ چناچہ ارشاد فرماتے ہیں۔ کس طرح اور کیسے تم اللہ جل شانہ کے ساتھ کفر کرتے ہو حالانکہ تم بےجان تھے۔ پس اس نے تم کو حیات اور زندگی عطاء کی اور پھر تم کو موت دیگا اور پھر قیامت کے وقت تم کو دوبارہ زندہ کرے گا پھر تم سب حساب و کتاب کے لیے اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے تاکہ دنیاوی زندگی میں تم نے جو کچھ کیا ہے تم کو اس کی جزاء اور سزا ملے۔ پہلی آیت (وکنتم امواتا فاحیاکم) میں وجود صانع کو ثابت کیا کہ خدا وہ ہے جس نے تم کو عدم سے نکال کر وجود عطاء کیا اور نیست سے ہست کیا اور دوسری آیت (ثم یحییکم) میں حشر ونشر کو ثابت کیا اور ساتھ ساتھ دلیل عقلی بھی بیان کی کہ جو ذات پاک پہلی مرتبہ تم کو موت کے بعد زندہ کرنے پر قادر ہے وہ دوسری مرتبہ بھی زندہ کرنے پر قادر ہے اور یہ امر بدیہی اور مسلم ہے کہ موت سے کسی کو چارہ نہیں۔ مرنا سب کو ضرور ہے تو سمجھ لو کہ مر کر خدا ہی کے پاس جانا ہے پس ان تمام باتوں کے جاننے کے بعد تم خدا کا کیسے انکار کرتے ہو۔ الحاصل۔ کنتم امواتاً فاحیاکم۔ میں وجود صانع کی دلیل بیان فرمائی کہ تم کو خدا کا انکار نہ کرنا چاہے کیونکہ تم پہلے مردہ اور معدوم تھے اللہ تعالیٰ نے تم کو وجود عطاء کیا اور جو خود بخود موجود ہو اور دوسروں کو وجود عطاء کرے وہی خدا ہے اور ثم یحییکم سے حیات ثانیہ کی حجت اور دلیل کی طرف اشارہ فرمایا کہ جس قادر مطلق نے پہلی مرتبہ تم کو چھوٹے چھوٹے ذروں اور حقیر و ذلیل نطفوں اور خون کے لوتھڑوں اور خون کے ٹکڑوں سے پیدا کیا اور احسن تقویم کا خلعت تم کو پہنایا کیا اس کی نسبت تمہارا یہ گمان باطل ہے کہ وہ دوبارہ بکھرے ہوئے ذرات کو جمع کر کے تم کو حیات عطاء نہیں کرسکتا۔ تعجب اور حیرت کی بات ہے کہ تمہیں خدا کی قدرت کے انکار سے شرم نہیں آتی۔
Ayah 2:29

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۗ ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:29 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے سب چیزیں جو زمین میں ہیں تمہارے لئے پیدا کیں پھر آسمانوں کی طرف متوجہ ہوا تو ان کو ٹھیک سات آسمان بنادیا اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے،

ذکر تخلیق سامان حیات جسمانی قال تعالیٰ ھو الذی خلق لکم ما فی الارض۔۔ الی۔۔ وھو بکل شیئ علیم حق تعالیٰ نے نعمت حیات کا ذکر فرمایا۔ اب ان آیات میں سامان حیات کا ذکر فرماتے ہیں جس پر حیات اور زندگی کا بقاء موقوف ہے اول حیات جسمانی کے سامان کا ذکر فرمایا یعنی تمہاری اس ظاہری اور جسمانی حیات کے بقاء کے لیے زمین اور آسمان کو پیدا کیا اور پھر زمین سے مطعومات ومشروبات اور لذائذ وطیبات اور قسم قسم کے ملبوسات تمہارے لیے پیدا کیے۔ اس کے بعد حیات روحانی کے سامان کا ذکر فرمایا یعنی آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور منصب خلافت پر سرفراز فرمایا اور ہدایت کے علوم عطاء فرمائے اور انبیاء ومرسلین کا سلسلہ جاری فرمایا۔ انبیاء ومرسلین اللہ کی طرف سے جو ہدایت اور رشد کے علوم اور معارف لے کر آتے ہیں وہی لوگوں کی روحانی حیات کا سامان ہوتے ہیں۔ کما قال تعالیٰ ۔ یا ایہا الذین امنوا استجیبوا للہ وللرسول اذا دعا کم لما یحییکم : اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور اس کے رسول کا جبکہ وہ تم کو ایسی شئی کی طرف بلائے کہ جو تم کو روحانی اور معنوی حیات اور زندگی عطاء کرے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ وہی ایک پاک ذات ہے کہ جس نے پیدا کیا تمہارے منافع اور فوائد کے لیے جو کچھ زمین ہے سب کا سب حتی کہ سمیات اور نجاسات بھی نفع سے خالی نہیں جاننا چاہئے کہ کسی چیز سے انتفاع یعنی نفع حاصل کرنا اور چیز ہے اور کھانا اور چیز ہے۔ انتفاع کی اجازت اور اباحت سے کھانے کی اجازت اور اباحت لازم نہیں۔ پھر وہ رب العزت متوجہ ہوا۔ آسمانوں کی تخلیق وتکویت کی طرف پھر ٹھیک ان کو سات آسمان بنائے کہ کہیں ان میں سوراخ اور شگاف اور ٹیڑھا پن نہیں اور وہ پروردگار ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے کہ کیوں اور کس کے لیے پید ا کیا۔ امام جلیل وکبیر حافظ عماد الدین ابن کثیر قدس اللہ سرہ روحہ ونور ضریحہ فرماتے ہیں کہ اس آیت اور حم سجدہ کی آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اول زمین پیدا کی گئی۔ اور پھر آسمان پیدا کیے گئے۔ (سورۂ حم سجدہ کی وہ آیت جس سے زمین کا پہلے پیدا ہونا معلوم ہوتا ہے یہ ہے۔ قل ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین وتجعلون لہ اندادا ذالک رب العالمین وجعل فیھا رواسی من فوقھا وبرک فیھا وقدر فیھا اقواتھا فی اربعۃ ایام سواء للسائیلین ثم استوی الی السماء۔ الایۃ۔ 12) اور تعمیر کا طریقہ بھی یہی ہے کہ نیچے سے بنانا شروع کرتے ہیں جب تحتانی حصہ مکمل ہوجاتا ہے تب چھت ڈاتلے ہیں اور علماء کا اس بارے میں کوئی نزاع اور اختلاف نہیں۔ یعنی سب علماء کی یہی رائے ہے۔ صرف قتادہ سے ابن جریر نے نقل کیا ہے کہ قتادہ کا گمان یہ ہے کہ آسمان پہلے پیدا کیے گئے جیسا کہ بظاہر سورة والنازعات کی اس آیت سے متبادر ہوتا ہے۔ " ءانتم اشد خلقا ام السماء بناھا رفع سمکھا فسواھا واغطش لیلھا واخرج ضحاھا والارض بعد ذلک دحا ھا اخرج منھا ماء ھا ومرعاھا۔ کیا تم بنانے میں مشکل ہو یا آسمان۔ اسے آسمان بنایا اور اس کی بلندی کو بہت اونچا کیا پھر اس کو صاف کیا اور اس کی رات کو تاریک بنایا اور پھر اس میں سے کھول کر دھوپ نکالی اور اس کے بعد زمین کو بچھا یا اور اس سے اس کا پانی اور چارا نکالا۔ اس آیت میں آسمان کی پیدائش کو زمین کی پیدائش سے پہلے ذکر فرمایا ہے جو بظاہر سورة بقرہ اور حم سجدہ کی آیات سے متعارض معلوم ہوتا ہے صحیح بخاری میں ہے کہ ابن عباس ؓ سے اس تعارض کے متعلق دریافت کیا گیا تو یہ جواب ارشاد فرمایا کہ اول زمین پیدا کی گئی۔ اور پھر آسمان (جیسا کہ سورة بقرہ اور حم سجدہ کی آیات سے ظاہر ہے) اور آسمان بنانے کے بعد زمین کو پھیلایا گیا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ زمین کا محض مادہ تو آسمان سے پہلے پیدا کیا گیا۔ مگر زمین حالت موجودہ پر آسمان بنانے کے بعد پھیلائی گئی۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ زمین اسی حالت موجودہ پر آسمان سے پہلے پید ا کی گئی اور پھر آسمان بنائے گئے تاکہ ان کے ذریعہ سے زمین پر بارش ہو اور پھر اس بارش سے وہ اثمار واشجار اور فواکہ و طیبات زمین سے نمودار ہوں جن کا مادہ قدرت ازلیہ نے زمین میں ودیعت رکھا ہے۔ پس زمین کو آسمان کے بعد بچھانے کا یہ مطلب ہے کہ آسمان بنانے کے بعد زمین سے فواکہ اور ثمرات اور قسم قسم کے لذائذ وطیبات کو اگایا۔ خود قرآن نے زمین کو آسمان کے بعد بچھانے کی یہی تفسیر کی ہے کما قال تعالی۔ والارض بعد ذلک دحٰھا اخرج منھا ماء ھا ومرعٰھا اور زمین کو آسمان کے بعد بچھایا یعنی اس میں سے اس کا پانی اور چارا نکالا۔ اور اسی جواب کو علماء سلف اور خلف نے اختیار کیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ زمین کے بچھانے سے ان اشجار ونباتات کا اگانا مراد ہے جو زمین میں بالقوۃ موجود ہیں۔ اسی معنی کر زمین کا بچھانا آسمان بنانے کے بعد ہوا۔ باقی زمین بحالت موجودہ آسمان سے پہلے پیدا کی گئی۔
Ayahs 2:30–33

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَ١ۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:30 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں، انہوں نے کہا کیا تو اس میں ایسے شخص کو بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے، اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح و تقدیس کرتے رہتے ہیں (خدا نے) فرمایا میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓئِكَةِ١ۙ فَقَالَ اَنْۢبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:31 in the Quran reader

اور اس نے آدم کو (سب چیزوں کے) نام سکھائے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا اگر سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 2:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا تو پاک ہے جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں، بیشک تو دانا (اور) حکمت والا ہے

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ Open ayah 2:33 in the Quran reader

(تب) خدا نے (آدم کو) حکم دیا کہ آدم ! تم ان کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے تو (فرشتوں سے) فرمایا کیوں ! میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں جانتا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو (سب) مجھ کو معلوم ہے ؟

ذکر تخلیق سامان حیات روحانی واعطاء خلافت ربانی قال تعالیٰ واذ قال ربک للملئکۃ انی جاعل فی الارض۔۔۔ الی۔۔۔ انہ ھو التواب الرحیم گزشتہ آیات میں زمین و آسمان اور دیگر مخلوقات کی پیدائش کو بیان فرمایا کہ ہم نے ان تمام مخلوقات کو تمہارے نفع کے لیے پیدا کیا ہے۔ آئندہ آیات میں ان مخلوقات سے منتفع ہونے والی مخلوق یعنی انسان کا ذکر فرماتے ہیں۔ انسان سے پہلے دو قسم کی مخلوق موجود تھی۔ ایک فرشتے دوسرے جن اور یہ دونوں قسمیں علوی اور سفلی۔ ارضی اور سماوی اشیاء سے متمتع اور منتفع نہیں ہوسکتیں۔ فرشتوں کا نہ منتفع ہونا تو بالکل ظاہر ہے۔ فرشتوں کو نہ زن اور فرزند کی ضرورت اور نہ طعام و شراب اور نہ طعام و شراب کے لوازم یعنی شہوت اور غضب کی ان کو حاجت۔ جنات اگرچہ بعض چیزوں سے متمتع اور منتفع ہوتے ہیں۔ مگر لطافت بدنی اور غلبۂ ناریت کی وجہ سے بہت سے سامان حفاظت سے مستغنی ہیں۔ نہ ان کو کسی مکان اور عمارت کی ضرورت اور نہ کسی قلعہ اور برج کی حاجت ہے اور نہ وہ اپنی حفاظت میں تیر وتلوار اور کسی قسم کے ہتھیار کے محتاج ہیں۔ پس اگر وہ عالم کی بعض اشیاء سے منتفع بھی ہیں تو وہ انتفاع نا تمام اور ناقص ہے۔ علاوہ ازیں جنات کی قوت خیالیہ ان کی قوت عقلیہ پر اس درجہ غالب ہے کہ جس چیز کا وہ خیال کرلیتے ہیں۔ اس کو واقعی سمجھتے ہیں۔ اس لیے ان کا انتفاع حقیقی اور واقعی نہیں بلکہ خیالی ہے۔ بخلاف انسان کے کہ وہ ان تمام چیزوں سے حقیقۃً اور علی وجہ الکمال منتفع ہوسکتا ہے اس لیے منصب خلافت کے لیے انسان ہی کو خاص کیا گیا۔ جسمانی حیثیت سے تمام عناصر اربعہ اور عالم سفلی کی تمام اشیاء سے نفع اٹھا سکتا ہے اور روحانی حیثیت سے عالم علوی کی تمام چیزوں سے متمتع اور متخلق باخلاق الہیہ اور متصف بصفات ربانیہ ہوسکتا ہے۔ واذ قال ربک للملئکۃ۔ اور اے محمد ﷺ آپ اس وقت کو یاد دلائیے جب تیرے پروردگار نے حضرت آدم کی فضیلت ظاہر کرنے کے لیے ان کی پیدائش سے پہلے ہی فرشتوں سے یہ فرمایا۔ انی جاعل فی الارض خلیفۃ۔ تحقیق میں زمین میں اپنا ایک خلیفہ اور نائب بنانے والال ہوں جو میرا نائب ہو کر زمین پر حکومت کرے گا اور زمین والوں پر میرے حکموں کو جاری اور نافذ کرے گا اور وہ خلیفہ عناصر اربعہ سے مرکب ہونے کی وجہ سے زمین کا انتظام کریگا۔ اور منافع ارضیہ سے منتفع ہوگا اور اس میں ایک روح آسمانی پھونکوں گا جس کی وجہ سے وہ آسمان والوں پر حکم چلائے گا۔ گدائے مصطبہ ام لیک وقت مستی بیں کہ ناز بر فلک وحکم برستارہ کنم حضرت آدم کی خلافت کا تذکرہ ملائکہ سے اس لیے فرمایا کہ کائنات ارضی اور سماوی کے منافع فرشتوں کے ہاتھ میں ہیں۔ آسمان سے پانی کا برسانا۔ زمین سے اشجار ونباتات کا اگانا۔ گرم اور سرد ہواؤں کا چلانا وغیر ذلک۔ من جانب اللہ ان تمام چیزوں پر فرشتوں کا پہرہ ہے۔ اور یہ تمام امور فرشتوں ہی کی محافظت اور نگرانی میں ہیں۔ پس جب تک فرشتے اللہ کے خلیفہ کی اطاعت نہ کریں اس وقت تک خلافت کا کام سرانجام نہیں پاسکتا۔ اسی لیے حق تعالیٰ شانہ نے اول فرشتوں کلے سامنے حضرت آدم کو علمی فضل و کمال ظاہر فرمایا اور پھر ان کو سجدہ کا حکم دیا سلاطین عالم جب کسی کو منصب وزارت پر سرفراز کرتے ہیں تو حکومت کی تمام فوجیں اس کی ماتحتی میں دیدی جاتی ہیں اور وہ آکر سلامی دیتی ہیں۔ اسی طرح حق جل شانہ نے جب حضرت آدم (علیہ السلام) کو منصب خلافت پر سرفراز فرمایا تو اپنے تمام جنود و عساکر (یعنی ملائکہ) سے حضرت آدم (علیہ السلام) کو اطاعت اور فرمانبرداری کا سجدہ کرادیا۔ تاکہ خلافت کے کام میں کسی قسم کا کوئی خلل نہ پیش آئے اور چونکہ یہ تمام عالم بمنزلہ ایک شہر کے ہے اور فرشتے اس کے عامل اور کارکن ہیں اس لیے خلافت کا تذکرہ فرشتوں ہی سے فرمایا۔ کسی اور مخلوق سے ذکر نہیں فرمایا اس لیے کہ اور سب فرشتوں ہی کے ماتحت ہیں۔ حقیقت ملائکہ : اہل اسلام کے منزدیک ملائکہ اللہ کے محترم بندے ہیں جو نور سے پیدا کئے گئے ہیں (اشارۃ الی ما اخرجہ مسلم عن عائشۃ مرفوعا خلقت الملائکۃ من نور 12 فتح الباری ص 216 ج 6) معاصی سے معصوم۔ خطا اور نسیان سے محفوظ ہیں۔ لا یعصون اللہ ما امرھم ویفلعون مایؤمرون۔ کھانے اور پینے سے پاک، تذکیر وتانیث سے منزہ اور مبرا ہیں۔ (قال الحافظ وفی قصۃ الملائکۃ مع ابراھیم وسارۃ مایؤید انھم لا یاکلون 12 فتح الباری ص 217 ج 6) قرآن میں ملائکہ کے حق میں ضمیر مذکر کا استعمال محض تشریف و تکریم کی وجہ سے ہے مذکر ہونے کی وجہ سے نہیں جیسے حق جل وعلاء کے لیے ضمیر مذکر کا استعمال محض عظمت واجلال کی وجہ سے ہے جس طرح بعض انسانوں کو حق تعالیٰ نے اپنی رسالت اور پیمبری کے لیے برگزیدہ فرمایا ہے۔ اسی طرح بعض ملائکہ کو رسالت پیمبری کے لیے برگزیدہ فرمایا ہے کما قال تعالیٰ اللہ یصطفی من الملائکۃ رسلا ومن الناس۔ فرشتوں نے انی جاعل فی الارض خلیفۃ سے یہ سمجھا کہ جب وہ خلیفہ زمین سے پیدا ہوگا تو اس میں لذات سفلیہ سے منتفع ہونے کی خواہش اس کی جبلت میں مرکوز ہوگی۔ جب ان لذتوں کی اس کو ضرورت ہوگی تو قوت شہویہ جوش میں آئے گی اور جو شخص ان لذات اور منافع میں اس کی مزاحمت کرے گا تو قوت غضبیہ جوش میں آئے گی۔ اور مدافعت کے لیے جنت وجدال اور قتل و قتال کی نوبت آئے گی۔ اس لیے فرشتوں کو یہ شبہ ہوا کہ زمین کی عمارت اور اصلاح کے لیے ایسے شخص کو خلیفہ بنانا بظاہر خلاف حکمت معلوم ہوتا ہے۔ قالوا اتجعل فیھا من یفسد فیھا ویسفک الدماء ونحن نسبح بحمدک ونقدس لک۔ فرشتوں نے کسی اعتراض کے طور پر نہیں بلکہ محض حکمت دریافت کرنے کے لیے بارگاہ خداوندی میں یہ عرض کیا کہ زمین میں آپ اس شخص کو خلیفہ بناتے ہیں جو زمین میں فساد اور خنریزی کرے حالانکہ ہم سب ہر لمحہ تیری ذات پاک کی ستائش کے ساتھ مسلسل تسبیح کرتے ہیں تاکہ حق تیری ذات اور صفات کا ادا ہو اور نیز ہم خاص تیرے لیے تقدیس کرتے ہیں۔ یعنی ہم تیرے افعال کو اس بات سے پاک جانتے ہیں کہ تیرا کوئی فعل معاذ اللہ خلاف حکمت ہو یا معاذ اللہ اس میں سفہ اور عبث کا شائبہ ہو۔ بخلاف بنی آدم کے اگر وہ تیری تسبیح اور تقدیس بھی کریں گے تو بسا اوقات ریا اور حرص وہوا کی آمیزش اور شرکت سے پاک نہ ہوں گی۔ رہا یہ سوال کہ ملائکہ کو بنی آدم کا مفسد اور خون ریز ہونا کیسے معلوم ہوا۔ سو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور عبداللہ بن مسعود ؓ اور دیگر حضرات صحابہ سے مروی ہے کہ جب الہ نے یہ فرمایا انی جاعل فی الارض خلیفۃ تو فرشتوں نے یہ عرض کیا کہ وہ خلیفہ کیسا ہوگا۔ تو اللہ رب العزت نے یہ فرمایا کہ اس خلیفہ کے ذریت ہوگی اور زمین میں فساد کرے گی۔ اور ایک دوسرے پر حسد کرے گی۔ اور ایک دوسرے کو قتل کرے گی (تفسیر ابن کثیر) اس پر ملائکہ نے یہ سوال کیا۔ اتجعل فیھا من یفسد فیھا الخ اور ملائکہ کا یہ سوال محض حکمت دریافت کرنے کے لیے تھا کہ فساد اور خون ریزی کرنے والوں کو پیدا کرنے میں کیا حکمت ہے۔ حاشا بطور اعتراض نہ تھا۔ اس لیے ملائکہ کی تو یہ شان ہے۔ کما قال تعالیٰ لا یسبقونہ بالقول۔ یعنی بغیر اذن الٰہی کے کوئی بات بھی نہیں کہہ سکتے۔ وقال تعالیٰ بل عباد مکرمون۔ خدا کے محترم بندے ہیں۔ مقصد فقط یہ تھا کہ اس قسم کی مخلوق پیدا کرنے میں کیا حکمت ہے۔ اگر عبادت اور بندگی مقصود ہے تو ہم اس کے لیے حاضر ہیں۔ ہر وقت تیری اطاعت اور بندگی میں سرشار ہیں اور تیری معصیت اور نافرمانی سے بالکلیہ پاک اور بری ہیں۔ اس لیے حق جل شانہ نے جواب ارشاد فرمایا۔ انی اعلم مالا تعلمون۔ تحقیق میں جانتا ہوں وہ جو تم نہیں جانتے یعنی تم کو معلوم نہیں کہ کہ منصب خلافت کے لیے ایسی ہی حقیقت جامعہ مناسب ہے جو جسمانیت اور روحانیت دونوں کی جامع ہو اور قوت عقلیہ کے ساتھ اس میں قوت شہویہ اور غضبیہ بھی ہو۔ جس نوع کا مزاج ان مختلف قوی سے مرکب ہوگا وہی عالم کے انتظام اور تدبیر و تصرف پر قادر ہوگا۔ کائنات ارضیہ کے حقائق اور منافع کو بخوبی سمجھے گا۔ اور طرح طرح کی صنعتیں ایجاد کرے گا۔ تاکہ منافع ارضیہ قوت سے نکل کر فعلیت میں آجائیں اور ظاہر ہے کہ فرشتوں میں یہ استعداد اور صلاحیت نہیں۔ ہر کسے را بہر کارے ساختند جاننا چاہئے کہ ہر انسان میں دو قوتیں ہیں ایک تو قوت شہویہ۔ جس سے زنا وغیرہ صادر ہوتا ہے جس کو فرشتوں نے من یفسد فیھا سے تعبیر کیا ہے اور دوسری قوت غضبیہ جس سے قتل اور ضرب اور خونریزی ظہور میں آتی ہے۔ جس کو ملائکہ نے ویسفک الدماء سے تعبیر کیا ہے۔ فرشتوں نے انسان کے یہ دو عیب ذکر کرکے اشارۃ ان دونوں عیبوں کی اپنے سے نفی کی اس لیے کہ من یفسد فیھا کے مقابلہ میں ونحن نسبح بحمدک کہا اور یسفک الدماء کے مقابلہ میں وہ نقدس لک کہا۔ اس میں شک نہیں کہ قوت شہویہ اور قوت غضبیہ بہت سے مفاسد کا سرچشمہ ہیں لیکن ان دو قوتوں میں منافع اور مصالح اور فوائد بھی نہایت عجیب و غریب ہیں۔ ملائکہ نے قوت شہویہ اور غضبیہ کے مفاسد کا تو ذکر کیا لیکن ان دونوں قوتوں کے منافع اور فوائد سے ان کو ذہول ہوا۔ فرشتوں کا خیال اس طرف نہ گیا کہ یہی قوت شہویہ جب اس کا رخ خداوند ذوالجلال کی طرف پھیر دیا جاتا ہے تو اس سے وہ ثمرات ونتائج ظہور میں آتے ہیں کہ ان کو دیکھ کر فرشتے بھی عشعش کرنے لگتے ہیں یعنی غلبۂ عشق خداوندی اور اس کی محبت کا جوش اور ولولہ خدا کی محبت اور اس کے عشق میں قلب کا بیچین اور بیتاب رہنا یہ وہ نعمت ہے کہ جس پر ملائک بھی رشک کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ملائک میں قوت شہویہ نہ ہونے کی وجہ سے عشق کا مادہ نہیں اطاعت میں اگر فرشتوں کا پلہ بھاری ہے تو عشق اور محبت میں آدم اور بنی آدم کا پلہ بھاری ہے اور علی ہذا جب قوت غضبیہ کو کارخانۂ خداوندی میں صرف کیا جاتا ہے تو اس سے بھی عجیب و غریب نتائج وثمرات ظاہر ہوتے ہیں یعنی خدا کی راہ میں جانبازی اور سرفروشی اور اس کے دشمنوں سے جہاد و قتال۔ نشود نصیب دشمن کہ شود ہلاک تیغت سر دوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی یہی وجہ ہے کہ صحابۂ بدریین کی طرح وہ ملائکہ جو جنگ بدر میں شریک ہوئے ان ملائکہ سے افضل ہیں جو جنگ بدر میں شریک نہیں ہوئے جیسا کہ بخاری میں مذکور ہے اور خدا کی راہ میں شہید ہوجانا یہ ایسی عظیم نعمت ہے کہ ملائکہ اس سے با لکلیہ محروم ہیں۔ نیز جب تک قوت عقلیہ کے ساتھ قوت شہویہ اور قوت غضبیہ نہ ہو تو تنہا قوت عقلیہ تجارت وزراعت اور سنعت وحرفت اور تمدن و معاشرت کے اصول اور قوانین مرتب نہیں کرسکتی جن پر تمام کارخانۂ عالم کا دارومدار ہے۔ لہذا خلیفہ کے لیے یہ ضروری ہوا کہ قوت عقلیہ کے ساتھ قوت غضبیہ اور قوت شہویہ کا بھی حامل ہو۔ نیز اگر جہاں میں برائیاں اور قباحتیں موجود نہ ہوں تو بعثت رسل اور انزال کتب وشرائع و احکام واوامر ونواھی سب معطل و بیکار ہوجائیں۔ در کار خانۂ عشق از کفر ناگزیر است دوزخ کر ا بسوز دگر بولہب نباشد شیخ اکبر قدس اللہ سرہ فصوص الحکم میں فرماتے ہیں کہ ملائکہ نے علی الاطلاق تسبیح و تقدیس کا دعویٰ کیا حالانکہ ان کی تسبیح و تقدیس کا دعویٰ کیا حالانکہ ان کی تسبیح و تقدیس فقط ان اسماء وصفات کے ساتھ مقید اور مخصوص ہے جن اسماء وصفات کا ان کو علم دیا گیا ہے۔ جیسا کہ قالوا سبحانک لا علم لنا الا ما علمتنا سے معلوم ہوتا ہے مگر ملائکہ کو یہ معلوم نہیں کہ حق تعالیٰ شانہ کے ایسے اسماء بھی ہیں کہ وہاں تک ملائکہ کے علم کی رسائی نہیں اور اللہ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو ان اسماء وصفات کا علم عطاء فرمایا خصوصا ً وہ اسماء وصفات جن کا تعلق عالم اجسام سے ہے اس لیے ملائکہ کی تسبیح و تقدیس بنی آدم کی تسبیح کے لحاظ سے مطلق نہیں بلکہ مقید ہے۔ انتہی کلامہ۔ علاوہ ازیں بنی آدم کی تسبیح و تقدیس، شیطان اور نفس، قوۃ شہویہ اور قوۃ غضبیہ کے معارضہ اور مقابلہ کی وجہ سے زیادہ اکمل اور بہتر ہے۔ بخلاف ملائکہ کے کہ ان کی تسبیح و تقدیس بمنزلہ سانس کے اضطراری ہے اور اختیاری تسبیح وتحمید اضطراری تسبیح وتحمید سے بہتر ہے۔ جواب تفصیلی بعد جواب اجمالی گزشتہ آیات انی اعلم مالا تعلمون۔ میں فرشتوں کے شبہ کا اجمالی جواب تھا۔ اب آئندہ تفصیلی جواب ارشاد فرماتے ہیں جس میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی فضیت اور زیادتی بیان فرمائی تاکہ فرشتوں پر ان کی فوقیت اور افضلیت ثابت ہو اور یہ ظاہر ہوجائے کہ جو شخص علوی اور سفلی کائنات کے اسماء وصفات سے وقف ہو وہی مستحق خلافت ہے یا یوں کہو کہ پہلا جواب حاکمانہ تھا اور یہ جواب حکیمانہ ہے۔ وعلم آدم الاسماء کلھا الخ اور سکھائے اللہ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام مع ان کے خواص اور آثار کے اس لیے کہ جب تک کہ عالم کی تمام چیزوں کے نام اور ان کی حقیقت اور اوصاف اور خواص اور آثار اور طریقۂ استعمال معلوم نہ ہو تو ان کا انتظام اور ان میں تصرف کیسے کرسکتا ہے۔ محض نام جاننے سے نہ تو حضرت آدم کی فوقیت ثابت ہوگی اور نہ محض نام جاننے سے انتظام ہوسکتا ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت انس ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ قیامت کے روز اول اہل ایمان کی شفاعت کے لیے حضرت آدم کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ اور یہ کہیں گے۔ انت ابو الناس خلقک اللہ بیدہ واسجد لک ملائکتہ وعلمک اسماء کل شیئ آپ سب انسانوں کے باپ ہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے آپ کو پیدا کیا اور فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا اور تمام چیزوں کے نام آپ کو سکھائے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے پہلے فرشتوں کو بھی بعض چیزوں کے نام کا علم تھا مگر ان کا علم انہیں چیزوں میں منحصر تھا جن کی خدمت پر وہ مامور تھے دوسری چیزوں سے ان کو کوئی تعلق اور سروکار نہ تھا۔ خلافت کے لیے علم تام اور عام چاہئے۔ بخلاف حضرت آدم کے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو علم تام اور عام عطا فرمایا۔ مفردات اور مرکبات کے اسماء اور خواص اور آثار بتلائے صنعتوں اور حرفتوں کا علم عطا فرمایا۔ حفظان صحت اور معالجۂ امراض کے اصول وقواعد بتلائے۔ اور ظاہر ہے کہ فرشتوں کو ان چیزوں کا علم نہیں دیا گیا۔ لہذا وہ خلافت کا کام کیسے انجام دے سکتے ہیں اس لیے حضرت آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھائے اور اسی آیت میں وعلم ادم الاسماء کے بعد جو لفظ کلھا بڑھایا گیا وہ اسی عموم کی تاکید ہے کیونکہ آدم اور فرشتوں میں یہی مابہ الامتیاز ہے کہ فرشتوں کو تمام اسماء کا علم نہیں اور حضرت آدم کو اسماء کی تعلیم بذریعہ الہام کے تھی کہ ان کے دل میں ڈال دیا کہ فلاں چیز کا فلانا نام ہے اور فلانی چیز کا فلانا نام ہے۔ اور اس تعلیم میں کلمہ اور کلام اور صوت اور حرف درمیان میں نہ تھی بلا واسطہ حرف اور صوت کے اور بغیر کلمہ اور کلام ان کے دل میں ڈالا اور یہ تعیم بواسطہ الفاظ کے نہ تھی بلکہ بطریق القاء فی القب تھی۔ جیسے وعلمناہ صنعۃ لبوس لکم میں تعلیم بواسطہ الفاظ کے نہ تھی۔ بلکہ القاء فی القلب کے ذریعہ سے تھی کہ ان کے دل میں زرہ بنانے کا طریقہ ڈال دیا۔ پھر جن چیزوں کے نام اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو سکھائے ان چیزوں کی تصویروں کو فرشتوں پر پیش کیا پھر فرمایا کہ تم مجھے ان چیزوں کے نام ٹھیک ٹھیک بتاؤ اگر تم اس بارے میں سچے ہو۔ کہ تم میں خلافت کی صلاحیت ہے اور تم خلافت کی خدمت انجام دے سکتے ہو۔ اس لیے کہ جب تک کہ حقائقِ اشیاء اور ان کی صفات اور خواص اور آثار اور طریقۂ استعمال کا علم نہ اس وقت تک ان میں تصرف اور ان کا انتظام ناممکن ہے فرشتوں نے عرض کیا تو پاک اور منزہ ہے ہم کو کسی شئی کا بھی علم نہیں مگر فقط اس چیز کا جس کا تو نے ہم کو جتنا علم عطاء کردیا بیشک حقیقت میں تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے تو اس سے منزہ ہے کہ تیرا کوئی کام عبث اور خلاف حکمت ہو ہمارا علم ہماری استعداد کے مطابق ہے اور آدم کا علم ان کی استعداد کے مطابق ہے اور استعدادوں اور صلاحیتوں کا تفاوت اور اختلاف تیرے علم اور حکمت پر مبنی ہے آپ مالک مطلق ہیں جس میں جو استعداد چاہیں وہ پیدا کردیں فرشتوں پر جب یہ بات واضح ہوگئی کہ آدم (علیہ السلام) خلافت کی استعداد اور صلاحیت میں ہم سے بہتر اور برتر ہیں تو بصد عجز وزاری بارگاہ خداوندی میں یہ بولے۔ سبحنک لا علم لنا الا ماعلمتنا انک انت العلیم الحکیم۔ فائدہ : جاننا چاہئے کہ عرضہم کی ضمیر اسماء کی طرف باعتبار مسمیات کے راجع ہے ظاہر کا مقتضی یہ تھا کہ ضمیر مؤنث کی لاتے اور یوں کہتے ثم عرضھا جیسا کہ ایک قراءت میں ثم عرضھن ضمیر مؤنث کے ساتھ آیا ہے لیکن بجائے ضمیر مؤنث کے ذوی العقول کی ضمیر لائے یعنی ھم کی ضمیر لائے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ عرض باعتبار وجود خارجی اور جسامت ظاہری کے نہ تھا بلکہ باعتبار وجود روحی اور ملکوتی یا بطور وجود مثالی کے تھا اور اس وجود کے اعتبار سے تمام مخلوقات عاقل اور مدرک ہیں اور تذکیر وتانیث سے مبرا ہیں۔ حق جل شانہ نے فرمایا اے آدم تم فرشتوں کو ان تمام چیزوں کے نام مع خواص اور آثار کے بتلا دو کیونکہ اے آدم ! ہم نے تم کو ادیم ارض (یعنی روئے زمین) کی تمام اقسام کے مٹیوں سے ملا کر اور مختلف قسم کے پانیوں میں گوندھ کر بنایا ہے (اور اسی وجہ سے کہ حضرت آدم کو تمام روئے زمین کی مٹیوں سے بنایا گیا ہے ان کی اولاد میں کوئی سرخ رنگ ہے اور کوئی گورا اور کوئی بین بین اور کوئی نرم خو اور کوئی ترشرو اور کوئی نیک طینت اور کوئی بد طینت جیسا کہ مسند احمد اور ابو داود اور ترمذی کی ایک حدیث میں آیا ہے ) اور پھریرا بنا کر تم میں روح پھونکی ہے جو جنس ملائک سے ہے اس لیے تم میں یہ استعداد اور صلاحیت ہے کہ تم ان چیزوں کے نام اور خواص اور آثار بتلا سکو اس لیے کہ ساری استعدادیں اور صلاحیتیں تم میں جمع ہیں۔ جسمانی حیثیت سے تم زمینی ہو اور روحانی حیثیت سے تم علوی اس لیے تم علوی اور سفلی چیزوں کو جس قدر سمجھ سکتے ہو دوسرا ویسا نہیں سمجھ سکتا۔ غرض یہ کہ تمہارے خمیر میں زمینی اور آسمانی دونوں قسم کی استعدادیں اور صلاحیتیں علی وجہ الکمال موجود ہیں۔ پس ان چیزوں کے نام مع خواص اور آثار کے فرشتوں کے سامنے بیان کرو تاکہ تمہارا فضل و کمال ظاہر ہو اور تمہاری فطرت میں جو عجیب و غریب استعدادیں اور صلاحیتیں ہم نے ودیعت کر رکھی ہیں وہ بروئے کار آجایں اور فرشتوں پر یہ امر منکشف ہوجائے کہ یہ استعداد بشر کے ساتھ مخصوص ہے ملائکہ کو میسر نہیں پس جب بتائے آدم نے ان تمام چیزوں کے نام جو بیشمار اور بےانتہا تھیں۔ اور اس بیان میں کوئی غلطی بھی نہیں کی تو فرشتے حضرت آدم کے اس کمال علمی کو دیکھ کر حیران رہ گئے تو اس وقت اللہ جل جلالہ نے فرشتوں سے فرمایا کہ کیا میں نے تم سے پہلے ہی کہا نہ تھا کہ میں تمام آسمانوں اور زمینوں کی پوشیدہ چیزوں کو خوب جانتا ہوں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ انی اعلم مالا تعلمون۔ اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو اس کو بھی خوب جانتا ہوں۔ خلاصہ یہ کہ خلافت کے لیے ایسے حاوی اور کلی علم کی ضرورت ہے بغیر ایسے علم کے خلافت ناممکن ہے۔ فرشتوں کا علم حاوی اور کلی نہیں، جس خدمت پر وہ مامور ہیں فقط اسی کے قواعد اور ضوابط ان کو معلوم ہیں کسی دوسری خدمت اور نظام کا ان کو علم نہیں۔ اور علی ہذا ملائکہ کی قدرت ومشیت ان کے اختیار اور مرضٰ کے تابع نہیں بلکہ حق جل شانہ کی مرضی کے تابع ہے بخلاف انسان کے کہ اس کی قدرت و مشیت خود اس کی مرضی کے تابع ہے انسان ہی کا علم اور قدرت حق تعالیٰ شانہ کے علم اور قدرت کا نمونہ ہے جو ضدین اور نقیضین سے متعلق ہوسکتا ہے۔ نیز بہت سی چیزوں کا علم محض عقل سے نہیں ہوسکتا جب تک قوت شہویہ اور غضبیہ عقل کی معین اور مددگار نہ ہو اس لیے ایسی چیزوں کا نام وہی بتلا سکتا ہے جس میں قوت عقلیہ اور ادراکیہ کے علاوہ قوت شہویہ اور غضبیہ بھی ہو اور علی ہذا جنات کا علم بھی ناقص ہے اور علاوہ ناقص ہونے کے غلبہ ناریت اور قوت خیالیہ کے غلبہ کی وجہ سے ناقابل اعتبار ہے اس لیے یہ خدمت ان کے سپرد نہیں کی جاسکتی۔ خلاصہ کلام یہ کہ جب فرشتوں نے یہ عرض کیا کہ اتجعل فیھا من یفسد فیھا الخ تو حق تعالیٰ شانہ نے دو جواب ارشاد فرمائے ایک حاکمانہ اور ایک حکیمانہ۔ حاکمانہ جواب تو یہ فرمایا کہ انی اعلم مالا تعلمون " رموز مملکت خویش خسرواں دانند " اور حکیمانہ جواب یہ ارشاد فرمایا۔ وعلم ادم الاسماء کہ آدم (علیہ السلام) کو اشیاء کے تمام اوصاف اور خواص اور اسماء کی تعلیم دی تاکہ وہ ان اشیاء میں تصرف کرنے پر قادر ہوں اس سے حضرت آدم کا بمقابلہ ملائک فضل و کمال ظاہر ہوا۔ ایک شبہ اور اس کا ازالہ حضرت حکیم الامت مولانا تھانوی قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں یہاں ایک شبہ ہوسکتا ہے وہ یہ کہ جو چیزیں آدم (علیہ السلام) کو بتلائیں اگر فرشتوں کو بھی بتلا دیتے تو وہ بھی اسی طرح بتلا سکتے یہ تو ایسا ہوا کہ دو طلبہ کو شریک امتحان کریں اور ایک کو خلوت میں جواب سکھلا دیں اور پھر امتحان لیں۔ جواب یہ ہے کہ یہ کہیں ثابت نہیں کہ خدا تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو تنہائی میں اسماء وغیرہ بتلادئیے تھے اور جب یہ ثابت نہیں تو یہ بھی احتمال ہے کہ فرشتوں کے سامنے بھی بتلایا ہو اور یہی احتمال خدا تعالیٰ کے لطف کے اعتبار سے راجح ہے تو اب وہ مثال صحیح نہیں ہوسکتی ہے بلکہ اب اس کی مثال ایسی ہے کہ استاد نے اقلیدس کی کسی شکل کی دونوں طلبہ کے سامنے تقریر کی مگر امتاحان کے وقت ایک تو بوجہ مناسبت کے بتلا سکا اور دوسرا نہ بتلا سکا۔۔ کیونکہ علم کے لیے استعداد کی ضرورت ہے اور یہ استعداد حضرت آدم (علیہ السلام) ہی میں تھی۔ مثلاً بھوک کی حقیقت جبرئیل (علیہ السلام) نہیں سمجھ سکتے تو فرشتے باوجود سننے کے بھی اس لیے نہ بتلا سکے کہ ان میں اس کی استعداد نہ تھی۔ حق تعالیٰ شانہ نے اس امتحان سے یہ بتلا دیا کہ تم میں وہ استعداد نہیں اور وہی شرط تھی خلافت کی رہا یہ شبہ کہ جب آدم (علیہ السلام) نے ان کو بھی بتلا دیا تو وہ ضرور سمجھے ہونگے تو ان میں بھی استعداد ثابت ہوگئی مگر یہ اعتراض لغو ہے کیونکہ بتلانے کے لیے مخاطب کا سمجھنا لازمی نہیں۔ اس لیے انبا فرمایا۔ علم نہیں فرمایا۔ تعلیم کے معنی سمجھا دینے کے ہیں اور انباء کے معنی اخبار یعنی تقریر کردینے کے ہیں گو مخاطب نہ سمجھا ہو اور یہ استعداد خاصہ بشر کا ہے۔ اگر فرشتوں کو یہ استعداد عطاء کردی جائے تو فرشتے فرشتے نہ رہیں جیسے حس و حرکت خاصہ حیوان کا ہے اگر جماد میں یہ صفت پیدا فرمادیں تو جماد۔ جماد نہ رہے گا بلکہ حیوان بن جائیگا۔ لہذا اس سوال کا حاصل یہ ہوگا کہ فرشتوں کو بشر کیوں نہ بنادیا سو ظاہر ہے کہ یہ سوال بےمعنی ہے جواب اس کا ظاہر ہے کہ اس صورت میں فرشتوں کے پیدا کرنے میں جو حکمت ہے وہ معطل ہوجائے گی اور اگر یہ کہا جائے کہ اول ہی فرشتوں کو بشر بنا کر خلیفہ بنادیتے تو یہ مسئلہ تقدیر کا ہے ہم نہیں کہہ سکتے کہ ان کو بشر کیوں نہیں بنایا اس کی نسبت صرف یہی کہا جائیگا۔ حدیث مطرب ومی گو ورا از دھر کمتر جو کہ کس نہ کشود ونکشاید بحکمت ایں معما را (ہذا کلہ ملخص من وعظ نفی الحرج پندرھواں وعظ از سلسلۂ تبلیغ) خلاصۂ کلام یہ کہ جب حضرت آدم کی فضیلت ظاہر ہوگئی تو فرشتوں کو ان کی تعظیم کا حکم ہوا چناچہ فرماتے ہیں۔