2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 2:145–150

وَ لَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 2:145 in the Quran reader

اور اگر تم ان اہل کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آؤ تو بھی یہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہ کریں اور تم بھی ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے نہیں ہو اور ان میں سے بھی بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہیں اور اگر تم باوجود اسکے کہ تمہارے پاس دانش (یعنی وحی خدا) آچکی ہے ان کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو ظالموں میں داخل ہوجاؤ گے

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ Open ayah 2:146 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ ان (پیغمبر آخرالزماں ﷺ کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں مگر ایک فریق ان میں سے سچی بات کو جان بوجھ کر چھپا رہا ہے

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۠ Open ayah 2:147 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ یہ نیا قبلہ) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؐؕ اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:148 in the Quran reader

اور ہر ایک (فرقے) کیلئے ایک سمت (مقرر) ہے جدھر وہ (عبادت کے وقت) منہ کیا کرتے ہیں تو تم نیکیوں میں سبقت حاصل کرو تم جہاں ہو گے خدا تم سب کو جمع کرلے گا بیشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:149 in the Quran reader

اور تم جہاں سے نکلو (نماز میں) اپنا منہ مسجد محترم کی طرف کرلیا کرو بےشبہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے اور تم لوگ جو کچھ کرتے ہو خدا اس سے بیخبر نہیں

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌ١ۙۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ١ۗ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْ١ۗ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ Open ayah 2:150 in the Quran reader

اور تم جہاں سے نکلو مسجد محترم کی طرف منہ (کر کے نماز پڑھا کرو) اور (مسلمانو ! ) تم جہاں ہوا کرو اسی (مسجد) کی طرف رخ کیا کرو (یہ تاکید) اس لئے (کی گئی ہے) کہ لوگ تم کو کسی طرح کا الزام نہ دے سکیں مگر ان میں سے جو ظالم ہیں (وہ الزام دیں تو دیں) سو ان سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا اور یہ بھی مقصود ہے کہ میں تم کو اپنی نعمتیں بخشوں اور یہ بھی کہ تم راہ راست پر چلو

عناد اہل کتاب دربارہ قبلہ۔ قال تعالی، ولئن اتیت الذین۔۔۔ الی۔۔۔۔ تھتدون۔ ربط) ۔ گزشتہ آیت میں یہ بیان فرمایا کہ اہل کتاب اس قبلہ کا حق ہونا بخوبی معلوم ہے اور خود ان کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ نبی آخرالزمان کچھ روز بیت المقدس کی طرف نماز پڑھیں گے اور آخر کو کعبہ کی طرف اور یہی ان کا اصل اور دائمی قبلہ ہے جو ملت ابراہیمی کے موافق ہے مگر حسد اور عناد کی وجہ سے چھپاتے ہیں آئندہ آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ ان کا عناد کس درجہ پر پہنچا ہوا ہے چناچہ فرماتے ہیں اور اگر آپ اس قبلہ کی حقیت اور فضیلت پر ہر قسم کے دلائل اور نشانات بھی لے آئیں تب بھی یہ لوگ آپ کے قبلہ کو قبول نہیں کریں گے اور نہ آپ کبھی بھی ان کے قبلہ کا اتباع اور پیروی کریں گے ان کا مقصد تو یہ ہے کہ آپ ان کے تابع بن جائیں اور حقیقت یہ ہے کہ آپ کبھی بھی ان کے قبلہ کا اتباع اور پیروی نہیں کرسکتے اس لیے کہ ان کا قبلہ منسوخ ہوچکا ہے اور جس قبلہ کا آپ کو حکم ہوا ہے وہ آئندہ چل کر کبھی منسوخ نہ ہوگا اور بیت المقدس کے استقبال کا اب کبھی حکم نہ آئے گا اور عقلا بھی اہل کتاب کے قبلہ کا اتباع ممکن نہیں اس لیے کہ وہ خود ہی آپس میں قبلہ کے بارے میں ایسے مختلف ہیں کہ آپس میں ہی ایک دوسرے کے قبلہ کے متبع نہیں ہر ایک نے اپنی نفسانی خواہش سے علیحدہ قبلہ کا اتباع کر رکھا ہے اور اے نبی بالفرض اگر آپ ان کی نفسانی خواہشوں کا اتباع کرنے لگیں بعد اس کے کہ آپ کے پاس قبلہ کے بارے میں علم صحیح اور قطعی آچکا تو یقیناً آپ اس وقت ظالموں میں شمار ہوں گے اس لیے کہ ناسخ کو چھوڑ کر منسوخ اتباع کرنا ہوائے نفس ہے اور ہوائے نفسانی کا اتباع آپ سے بوجہ معصوم ہونے کے محال ہے لہذا آپ سے ان کے قبلہ کا اتباع بھی محال ہوگا۔ عناد اہل کتاب دربارہ صاحب قبلتین و رسول ثقلین ﷺ ، و حکمت اول درتحویل قبلہ۔ گزشتہ آیت میں قبلہ کے بارے میں اہل کتاب کے عناد کا ذکر تھا اب صاحب قبلہ کے بارے میں ان کے عناد کا ذکر ہے کہ اہل کتاب اس نبی موعود کو جانتے اور پہچانتے ہیں مگر مانتے نہیں چناچہ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ آپ کو خوب پہچانتے ہیں کہ یہ وہی نبی ہیں جن کی توریت اور انجیل میں بشارت دی گئی ہے اہل کتاب آپ کی صورت اور شکل کو دیکھ کر اس طرح پہچانتے ہیں کہ جس طرح اپنے بیٹوں کو صورت وشکل اور قدوقامت سے پہچانتے ہیں جیسے بیٹے کی صورت دیکھ کر کبھی شبہ نہیں ہوتا اس طرح نبی کریم کی صورت دیکھ کر ہی پہچان لیتے ہیں کہ یہ وہی نبی برحق ہیں اور یہ چہرہ جھوٹے کا چہرہ نہیں اس لیے کہ توریت اور انجیل میں آپ کا حلیہ اور صورت وشکل اور قدوقامت لون وغیرہ سب مذکور تھا اور تحقیق ان میں ایک فریق حق کو چھپاتا ہے حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ توریت میں آپ کا نبی قبلتین ہونا بھی مذکور ہے پس یہی امر حق ہے جو تیرے رب کے پاس سے آیا ہے پس تو ان کی تلبیس کی وجہ سے ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا خطاب آپ کو ہے مگر سنانا دوسروں کو ہے۔ ایک مرتبہ حضرت عمر نے عبداللہ بن سلام سے دریافت کیا کہ کیا تم رسول اللہ کو بیٹوں کی طرح پہچانتے ہو تو جواب دیا کہ ہاں بیٹوں سے زیادہ پہچانتے ہیں بیٹے میں شک ہوسکتا ہے کہ شاید بیوی نے خیانت کی ہو مگر حضور ﷺ کے بارے میں کوئی شک نہیں ہوسکتا آپ کی صفات اور علامات ہماری کتابوں میں موجود ہیں آپ کو دیکھتے ہی ہم نے پہچان لیا کہ آپ نبی برحق ہیں حضرت عمر نے فرمایا کہ بیشک اللہ نے سچ کہا اور اللہ نے تم کو خیر کی توفیق دی۔ حکمت دوم درتحویل قبلہ) ۔ اور دوسری حکمت تحویل قبلہ میں یہ ہے کہ ہر امت کے لیے ایک جدا گانہ قبلہ ہے جس کی طرف وہ امت متوجہ ہوتی ہے ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت میں نماز کا قبلہ خانہ کعہ تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں نماز کا قبلہ بیت المقدس تھا اسی طرح تمہارے لیے بھی ایک مستقل قبلہ تجویز ہوا جس طرح تمہارا دین مستقل اور جداگانہ ہے اسی طرح تمہارے لیے قبلہ بھی مستقل ہونا چاہیے کوئی جہت اور کوئی سمت اپنی ذات سے قبلہ نہیں اللہ نے جس جہت کو قبلہ بنادیا وہ قبلہ ہوگئی اور اسی طرح اللہ نے تمہارے لیے ایک جہت کو قبلہ مقرر کردیا پس اے مسلمانو تم اس قبلہ کے مسئلہ میں کنج وکاؤ نہ کرو اصل نیکیوں کی طرف دوڑو جو مقصود باالذات ہیں یعنی نماز اور روزہ وغیرہ نہ کہ قبلہ کہ وہ اصل عبادت نہیں بلکہ ذریعہ عبادت ہے اور اصل عبادت تو حکم خداوندی کا امتثال ہے اس کی طرف دوڑو جس وقت وہ خداوند بیت المقدس کے استقبال کا حکم دے بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوجاؤ اور جس وقت خانہ کعبہ اور مسجد حرام کی طرف متوجہ ہونے کا حکم دے اس طرف متوجہ ہوجاؤ کسی سے منازعت کی ضرورت نہیں تمام خیرات اور نیکیوں کی جڑ، امر خداوندی کے امتثال میں مبادرت اور سبقت کرنا ہے اصل بھلائی حکم کی پیروی میں ہے جس وقت جو حکم ہوا اس کی تعمیل کرو اور آخرت کی فکر کرو جہاں سب عبادتوں پر اجر ملے گا اور اصل عبادت تعمیل حکم ہے وہ احکم الحاکمین ہے جو چاہے حکم دے تم مشرق اور مغرب میں جہاں کہیں بھی ہو گے تم سب کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حساب کے لیے حاضر کرے گا اور تمہارے اعمال کے مطابق تم کو جزا دے گا یعنی اختلاف جہات صرف دنیا میں ہے قیامت کے دن اللہ سب کو جہات مختلف سے ایک ہی مکان میں جمع کرے گا اور سب کو بھلائی اور برائی کی جزا دے گا اور سب نمازوں کو بمنزلہ ایک نماز کے بنادے گا بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور اب آپ آئندہ نماز میں بیت المقدس کا استقبال نہ کریں بلکہ جس جگہ سے بھی نکلیں اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور یہی حق ہے کہ ہر حال میں خانہ کعبہ کا استقبال کرو اور تیرے رب کی طرف سے یہ حکم آیا ہے کہ جس سے مقصود تیری ہی تربیت ہے اور تکمیل عبادت ہے اور اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں کہ کون اس کے حکم کے موافق نماز ادا کرتا ہے اور کون اس کے خلاف کرتا ہے۔ حکمت سوم درتحویل قبلہ) ۔ اور تیسری حکمت اتمام ججت اور دفع الزام ہے اولا تحویل قبلہ کے حکم کا اعادہ فرمایا اور ثانیا لئلا یکون للناس علیکم حجہ سے اس حکم کی ایک جدید علت بیان فرمائی چناچہ فرماتے ہیں اور پھر ہم تم کو مکرر کہتے ہیں اے محمد آپ جس جگہ سے بھی باہر نکلیں تو اپنا منہ نماز میں مسجد حرام پھیر لیں اور اے مسلمانوں تم بھی جہاں کہیں ہو اپنا منہ اس کی طرف کرلیا کرو تاکہ لوگوں کا تم پر کوئی الزام نہ رہے کیونکہ اگر تحویل قبلہ کا حکم نہ نازل ہوتا تو یہود تم کو یہ الزام دیتے کہ توریت میں یہ صاف لکھا ہوا ہے کہ نبی آخرالزمان کا قبلہ بالآخر قبلہ ابراہیمی ہی ہوگا اور خانہ کعبہ کی طرف متوجہ ہوجانے کا ان کو حکم آجائے گا پس یہود یہ الزام دیتے کہ توریت میں جو نبی آخرالزمان کی علامت لکھی ہوئی ہے وہ آپ میں موجود نہیں اور مشرکین یہ الزام دیتے کہ محمد دعوی تو ملت ابراہیمی کا کرتے ہیں اور اتباع قبلہ ابراہیمی سے روگردانی کرتے ہیں اب تحویل قبلہ کے حکم نازل ہونے سے یہود اور مشرکین کسی کا کوئی الزام نہیں رہا اور ہر دو فریق کی زبان بند ہوگئی مگر جو ان میں ظالم ہیں وہ اعتراض اور طعن سے باز نہ آئیں گے یہود یہ کہیں گے کہ محض حسد کی وجہ سے ہمارے قبلہ کو چھوڑ اجوانبیاء کا قبلہ تھا اور ظالم بت پرست یہ کہیں گے کہ محمد رفتہ رفتہ اپنے آبائی دین کی طرف آرہے ہیں پس تم ان ظالموں اور ان کے طعن سے نہ ڈرو بلکہ فقط مجھ سے ڈرتے رہو اور ان کے طعن کی وجہ سے میرے حکم کو نہ چھوڑو۔ خالق کے حکم کو مخلوق کے طعن سے چھوڑنا موجب خسران و عذاب ہے اور خالق کی حکم برداری کے لیے مخلوق کے طعن پر صبر کرنا موجب فلاح وثواب ہے مخلوق کا طعن مضر نہیں خالق کی خلاف حکمی مضر ہے۔ حکمت چہارم درتحویل قبلہ) ۔ اور چوتھی حکمت یہ ہے کہ تم پر اپنی نعمت پوری کروں کہ نماز میں (جو کہ سب سے افضل اور اعلی عبادت ہے) تمہاری توجہ سب سے افضل اور اکمل قبلہ اور بہترین جہت کی طرف ہوتا ہے کہ اس جہت کے انوار وبرکات بھی تمہاری نماز کو خوب روشن اور منور بنادیں قبلہ کے باب میں اس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں کہ عبادت میں افضل جہالت کا استقبال کا حکم دیا جائے جیسا کہ دین کے بارے میں اس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں کہ دین کامل عطا کیا جائے کماقال تعالی، الیوم اکملت لکم دینکم۔۔۔ نعتمی۔ آیت۔ حکم پنجم درتحویل قبلہ) ۔ اور پانچویں حکمت یہ ہے کہ تم کو سیدھاراستہ معلوم ہوا اور افضل جہات کے استقبال سے تم کو ہدایت کاملہ حاصل ہوا اور قریب ہی راستہ سے جلد منزل مقصود تک پہنچ جاؤ (جیسا کہ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم۔ آیت۔ کی تفسیر میں گذرا) ۔ تحویل قبلہ کے حکم کو مکرر لانے کی حکمت) ۔ وجہ اول، تحویل قبلہ کے حکم فول وجھک شطر المسجد الحرام۔ کو تین بار اس لیے مکرر لایا گیا کہ اللہ نے تحویل قبلہ کی تین علت غائبہ بیان فرمائیں اول یہ کہ نبی ﷺ کی تمنا اور خواہش یہی تھی۔ وحی کے انتظار میں بار بار آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے تھے آپ کی دل جوئی اور اظہار تکریم کے لیے یہ حکم دیا گیا دوم یہ کہ ہر امت کے لیے مستقل قبلہ ہوتا ہے اور امت محمدیہ بھی ایک مستقل امت ہے لہذا اس کے لیے بھی ایک مستقل قبلہ ہونا چاہیے تاکہ مخالفین کا الزام دفع کرنے کے لیے یہ حکم دیا گیا۔ کمااشار الیہ، لئلا یکون للناس علیکم حجہ۔ اس لیے ہر علت کے ساتھ معلول کی اور ہر دلیل کے ساتھ دعوی کی تجدید کردی گئی کیونکہ کلام کی خوبی یہی ہے کہ علت اور معلول اور دعوی دونوں ساتھ ذکر کیے جائیں۔ وجہ دوم۔ بعض اہل علم نے تکرار کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ پہلی آیت خاص ساکنان حرم کے حق میں ہے اور دوسری آیت ساکنان جزیرۃ العرب کے حق میں ہے اور تیسری آیت تمام روئے زمین کے باشندوں کے حق میں ہے۔ وجہ سوم۔ پہلی آیت عمیم احوال کے لیے ہے اور دوسری آیت تعمیم امکنہ کے لیے ہے اور تیسری آیت تعمیم ازمنہ کے لیے ہے یعنی تمام احوال اور تمام مکانات اور تمام اوقات میں یہی قبلہ ہے اس کا استقبال ضروری ہے۔ وجہ چہارم۔ چونکہ شریعت میں سب سے پہلے یہی حکم منسوخ ہوا اس لیے اس کے بیان میں زیادہ اہتمام کیا گیا اور تاکیدا تین بار اس حکم کا اعادہ کیا گیا۔ وجہ پنجم۔ کسی حکم کامنسوخی ہونا محل فتنہ اور محل شبہ ہے اور احکام خداوندی میں نسخ جاری ہونا بیوقوفوں کی عقل سے باہر ہے اس لیے اس حکم کا تکرار مناسب ہوا۔
Ayah 2:151

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ Open ayah 2:151 in the Quran reader

جس طرح (من جملہ نعمتوں کے) ہم نے تم میں تمہیں میں سے ایک رسول بھیجے ہیں جو تم کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور تمہیں پاک بناتے اور کتاب (یعنی قرآن) اور دانائی سکھاتے ہیں اور ایسی باتیں بتاتے ہیں جو تم پہلے نہیں جانتے تھے

بیان وظائف رسول اعظم کہ از قبلہ ابراہیمی وحرم محترم مبعوث باشد۔ قال تعالی، کماارسلنا فیکم رسولا منکم۔۔۔ الی۔۔ تعلمون۔ ربط) ۔ ابتداء قصہ میں بناء کعبہ کا ذکر تھا اور بعد ازاں حضرت ابراہیم کی دعا ذکر فرمائی ربنا وابعث فیھم رسولا منھم یتلوا علیھم آیاتک۔ آیت۔ کہ اے اللہ اس حرم کعبہ کی سرزمین سے ایسا نبی مبعوث فرمایا کہ جو تیری آیات کی تلاوت کرے اور لوگوں کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اللہ نے حضرت ابراہیم کی دونوں دعائیں قبول فرمائیں خانہ کعبہ کو مرجع خلائق اور قبلہ عالم بنایا اور قبلہ ابراہیمی کے بارے میں جو سفہاء کے شبہات تھے تفصیل کے ساتھ ان کا جواب دیا اور خانہ کعبہ کا افضل قبلہ ہونابیان فرمایا اب آگے اس بحث کو حضرت ابراہیم کی دوسری دعا یعنی افضل الرسل کی بعثت کے ذکر پر ختم فرماتے ہوئے کہ جس طرح ہم نے قبلہ کے بارے میں تم پر اتمام نعمت کیا کہ سب سے افضل قبلہ تمہارے لیے مقرر کیا اور اسی طرح ہم نے نبوت و رسالت اور ہدایت کے بارے میں تم پر اس طرح اتمام نعمت کیا کہ یہ سب سے افضل اور اکمل اور عظیم الشان رسول تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا اور پھر اس پر مزید انعام یہ کیا کہ تمہاری قوم میں سے یا تمہاری جنس میں سے بھیجا جو تمہارے لیے دین ودنیا میں باعث عزت وشرف ہو اور اس طرح تم پر اللہ کی نعمت پوری ہوئی۔ غور تو کرو کہ کس قدر عظیم الشان نعمت ہے اور وہ رسول فقط ہمارے احکام ہی نہیں پہنچائے گا بلکہ تم پر ہماری آیتوں کی تلاوت بھی کرے گا جس سے تم کو کلام الٰہی کے سننے کی نعمت حاصل ہوگی اور اسرار بلاغت اور دلائل اعجازتم پر منکشف ہوں گے اور چونکہ کلام متکلم کے کمالات کا آئینہ اور مظہر ہوتا ہے اس لیے اس نورالسماوات والارض کے انوار و تجلیات بواسطہ اس کلام کے بقدر تمہاری استعداد کے تمہارے قلوب پر منعکس ہوں گے اور جو قلوب اور صدور اپنے رب غفور کے اس کلام سراپا نور کی حفاظت کریں گے وہ کوہ طور کا ایک نمونہ ہوں گے اور پھر تم اس کلام کے ذریعہ سے اپنے رب اکرم سے قبلہ رو ہو کر مناجات کرسکو گے اور اس کی تلاوت اور استماع سے جو اجر اور لذت تم کو حاصل ہوگی وہ حیطہ بیان سے باہر ہے اور علاوہ ازیں وہ رسول تم کو اپنی ایک ہی نظر کیمیا اثر میں گناہوں کے زنگ سے آئینہ کی طرح صاف و شفاف بنادے گا مگر شرطی یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو اس رسول کی نظروں اور قدموں پر تولاکرڈالو اور اگر تم اس کی نظر ہی سے بھاگ جاؤ تو پھر نظر کیا کام کرے آئینہ جب تک آفتاب کے سامنے نہ ہو تو آفتاب کا عکس اس میں کہا آئے ابوبکر ؓ نے آئینہ دل کو آفتاب نبوت کے سامنے کردیا نور ہدایت سے جگمگا اٹھا ابوجہل اور ابولہب نے آفتاب نبوت سے منہ پھیرلیا نور ہدایت سے محروم رہے اور وہ رسول تم کو کتاب الٰہی کے معانی اور اسرار وحکم بھی سکھائے گا اور علاوہ زیں وہ رسول تم کو عجیب و غریب باتوں کی بھی تعلیم دے گا کہ جن کو تم اپنی عقل سے نہیں جان سکتے تھے جیسے نماز کی کیفیت اور زکوٰۃ کی کیمیت اور حج کا طریقہ نماز زکوٰۃ کی کیفیت حضور کے بتلانے سے معلوم ہوئی قرآن میں اجمال تھا حدیث نے اس کی تفصیل کی اور جس عظیم الشان رسول کے مبعوث ہونے کی حضرت ابراہیم نے دعا کی تھی اس کا ظہور ہوگیا اور اس طرح اللہ کی نعمت پوری ہوئی تم پر لہذا تم اس نعمت عظمی کا شکر کرو چناچہ فرماتے ہیں، ترجمہ۔ تو تم یاد رکھو مجھ کو میں یاد رکھوں تم کو اور احسان مانوا میرا اور ناشکری مت کرو۔
Ayah 2:152

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠ Open ayah 2:152 in the Quran reader

سو تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد کیا کرونگا اور میرا احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا

تلقین ذکر وشکر۔ قال تعالی، فاذکرونی اذکرکم۔۔۔ الی۔۔۔ تکفرون۔ پس جب کہ میں نے تم کو ایسی عظیم نعمتوں سے سرفراز فرمایا اور تم میں ایسا عظیم الشان رسول بھیج کر تم کو یاد کیا تو اس کا مقتضی یہ ہے کہ تم بھی مجھ کو ہمیشہ یادر کھو کسی وقت میری یاد سے غافل نہ ہو میں تم کو اپنے لطف و عنایت سے یاد کروں گا اور ملاء اعلی میں تمہارے ذکر کا ذکر کروں گا کہ یہ میرے یاد کرنے والے بندے ہیں جس سے ملاء اعلی اور ملائکہ مقربین کی عنایات تم پر مبذول ہوں گی۔ ف) ۔ قلب سے حجابات غفلت دور کرنے کے لیے ذکر الٰہی سے بہتر کوئی شے نہیں جس طرح قلب سے حرص اور طمع کا فاسد مادہ دور کرنے کے لیے انفاق فی سبیل الہ سے بڑھ کر کوئی نسخہ نہیں اور میرا احسان مانو اور شکر کرو کہ تمہاری ہدایت کے لیے ایسا عظیم الشان رسول بھیجا شکر سے نعمت میں زیادتی ہوتی ہے لئن شکرتم لازیدنکم۔ لہذا اگر تم نے ہماری نعمت کا شکر کیا تو تمہاری ہدایت اور کتاب وسنت کے علم اور معرفت میں زیادتی ہوگی اور جتنا ذکر اور شکر کرو گے اسی قدر تمہارے تزکیہ باطن اور علوم ومعارف میں زیادتی ہوگی اور میری ناشکری مت کرو کہ اس رسول کا انکار کر بیٹھو اور دل وجان سے اس کی اطاعت نہ کرو اور اگر من جانب اللہ علوم ومعارف منکشف ہوں تو دعوے مت کرو دعوی بھی ناشکری میں داخل ہے۔ نکتہ) ۔ دعا ابراہیمی جو پہلے گزر چکی ہے اس میں تعلیم الکتاب والحکمۃ کا ذکر مقدم تھا اور تزکیہ کا ذکر موخر تھا اور اس آیت یعنی، کماارسلنا فیکم رسولا منکم۔ الخ۔ آیت۔ میں تزکیہ کا ذکر مقدم ہے اور تعلیم الکتاب والحکمۃ کا ذکر موخر ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ اصل مقصود تو تزکیہ نفس ہے اور تعلیم الکتاب والحکمہ اس کا وسیلہ ہے اور اگر تعلیم ہو اور تزکیہ حاصل نہ ہو تو تعلیم بےفائدہ ہے اور عموما تزکیہ نفس تعلیم کتاب اور حکمت ہی کے بعد حاصل ہوتا ہے اور تعلیم تزکیہ کے مبادی اور مقدمات میں سے ہے اس لیے دعائے ابراہیمی میں ترتیب وقوعی کے لحاظ سے تزکیہ کے مبادی اور وسائل کو پہلے ذکر کیا اور مقصود کو اخیر میں ذکر فرمایا اور حق جل شانہ نے جب دعا ابراہیمی کی اجابت اور قبولیت کا ذکر فرمایا تو اصل مقصود کو پہلے ذکر فرمایا تاکہ سامعین کو ابتداء ہی سے یہ معلوم ہوجائے کہ اصل مقصود تزکیہ ہے اور وہ بارگاہ خداوندی سے منظور ہوچکا ہے۔
Ayah 2:153

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:153 in the Quran reader

اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو بیشک خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

طریقہ تصیل ذکر وشکر وبیان فضیلت صبر۔ قال تعالی، یا ایھا الذین آمنواستعینوا۔۔۔ الی۔۔۔ الصابرین۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں ذکر وشکر کا حکم تھا اور کفران نعمت کی ممانعت تھی اور ذکر وشکر میں تمام احکام خداوندی کا بجالانا داخل تھا اور کفران نعمت کی ممانعت میں تمام منہیات اور ممنوعات سے بچنا داخل تھا اور تمام احکام کا بجالانا اور تمام ممنوعات سے بچنا بظاہر بہت دشوار ہے اس لیے آئندہ آیت میں مسلمانوں کو ذکر اور شکر کے حاصل کرنے کا طریقہ بتلاتے ہیں چناچہ ارشاد فرماتے ہیں اے ایمان والو اگر ذکر اور شکر اور درجات قرب اور معرفت کے حاصل کرنے میں دشواری معلوم ہو تو صبر اور نماز کی مدد اور سہارے سے اس کو حاصل کرو صبر من جانب اللہ ایک خاص ہتھیار ہے کہ جو خاص انسان کو عطا کیا گیا ہے تاکہ مشکلات میں اس کا معین اور مددگار ہو صبر کی خاصیت یہ ہے کہ رنج وغم کو ہلکا کردیتا ہے حیوانات میں صرف شہوت ہے عقل نہیں ملائکہ میں صرف عقل ہے شہوت نہی انسان میں عقل کے ساتھ شہوت اور غضب بھی ہے اس لیے انسان کو شہوت اور غضب کا وار روکنے کے لیے صبر کا ہتھیار دیا گیا اور فرشتہ اور حیواں کو نہیں دیا گیا عقل اور شہوت میں جب کشمکش ہو تو عقل کے اشارہ پر چلنا اور نفسانی خواہشوں پر نہ چلنا اس کا نام صبر ہے اخلاق جمیلہ میں صبر کا مقام نہایت بلند ہے حق جل شانہ نے قرآن کریم میں صبر ستر یا پچھتر جگہ ذکر فرمایا آیت قرآنیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر عمل صالح کا اجر مقرر ہے مگر صبر کا اجر بےحساب ہے پس اگر نفس پر احکام شرعیہ شاق اور گراں ہوں تو ان کے آسان ہونے کا ایک علاج تو صبر ہے اور دوسرا علاج نماز ہے اس لیے کہ نماز ایک تریاق مجرب ہے جو ذکر اور شکر اور خشوع اور خضوع اور اس قسم کے مختلف اجزاء سے مرکب ہے جو ہر بیماری کی دوا اور ہر مشکل کا علاج ہے جیسے بارش کے لیے صلوۃ استسقاء ہے اور ہر دینی اور دنیوی مطلب کے لیے صلوۃ الحاجت ہے حضرات انبیاء کرام کو جب مشکل پیش آتی تو نماز میں مشغول ہوجاتے۔ ایک حدیث میں ہے کہ جب نبی ﷺ کو کوئی پریشانی آتی تو حضور ﷺ نماز میں مشغول ہوجاتے اور ایک حدیث میں ہے کہ جب ظالم بادشاہ نے حضرت سارہ کو پکڑوایا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نماز میں مشغول ہوگئے اور جریج راہب پر جب لوگوں نے زنا کی تہمت لگائی تو جریج نماز میں مشغول ہوگئے (بخاری ومسلم) ۔ غرض یہ کہ نماز ام العبادات ہے اور دین کو ستون ہے اور مومن کی معراج ہے جس کی کثرت سے مومن کے درجات میں ترقی ہوتی ہے نماز اگرچہ مختلف اجزاء سے ایک معجون مرکب اور تریاق مجرب ہے لیکن اس کی روح دعا ہے جو ہر مرض کی دوا ہے اہل ایمان کو چاہیے کہ صبر اور نماز سے غافل نہ ہوں اس لیے کہ تحقیق اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اس لیے کہ صبور اور حلیم اللہ کی صفات میں سے ہیں اور جو اخلاق خداوندی کا خوگیر اور عادت پذیر ہو اس کو اللہ کی معیت حاصل ہوگی۔ خداوند ذوالجلال کی بےچون وچگون معیت کی حقیقت سوائے اللہ کے کسی کو معلوم نہیں البتہ جن اولیاء اور عارفین کو اللہ نے اپنی معیت اور قرب خاص سے سرفراز فرمایا وہ حضرات کچھ قرب اور معیت کے مزہ سے واقف ہوتے ہیں مگر کسی دوسرے کو سمجھا نہیں سکتے بغیر چکھے کسی شے کا بھی ذائقہ نہیں معلوم ہوسکتا اور جس نے کوئی پھل نہ چکھا ہو اس کو یہ حق نہیں کہ وہ اس پھل کایا اس کے مزہ کا انکار کرسکے۔ غرض یہ کہ معیت صبر کے ذریعہ حاصل ہے اور معیت کی علامت یہ ہے کہ توفیق خداوندی اس کو کارخیر کی طرف لے جاتی ہے رہی نماز سو وہ مومنوں کی معراج ہے اس کے عروج کے کیا پوچھنا اس لیے معیت کے بیان میں صبر کا ذکر کیا اور نماز کے ذکر کی ضرورت نہ تھی۔
Ayah 2:154

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:154 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے جائیں ان کی نسبت یہ نہ کہنا کہ وہ مرے ہوئے ہیں (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں جانتے

بیان حیات شہداء کے از ثمرات صبراست۔ قال تعالی، ولاتقولوا لمن یقتل۔۔۔ الی۔۔ لاتشعرون۔ ربط) ۔ گزشتہ آیت میں صبر کی فضیلت کا بیان تھا کہ صبر کرنے والوں کو اللہ کی معیت حاصل ہوتی ہے اور آگے ارشاد فرمایا کہ جو مقام صبر میں انتہاء کو پہنچ جائے کہ خدا کی راہ میں جان دے دینا بھی اس کو شیریں اور لذیذ معلوم ہو تو اس پر خداوندحی وقیوم کی بےچون وچگون حیات کا ایک عکس اور پر تو پڑتا ہے جس سے اس کو ایک خاص قسم کی حیات حاصل ہوتی ہے چناچہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جن صابرین نے خدا کی راہ میں جان نثاری کی ہو ان کی حیات میں تردد نہ کرو اور جو صابر خدا کی راہ میں مارے گئے اور ان کی اس میں کسی قسم کی دنیوی اور نفسانی غرض نہ تھی ان کو یہ نہ کہو کہ عام مردوں کی طرح وہ مردہ ہیں بلکہ وہ لوگ زندہ ہی لیکن تم جانتے نہیں کہ وہ کسی طرح کی زندگی ہے وہاں کی زندگی تمہاری سمجھ میں نہیں آسکتی اس حیات کے ادراک کے لیے یہ حواس کافی نہیں۔ 1) ۔ شہید اگرچہ ظاہر امر گیا لیکن اس کی موت عام لوگوں کی موت نہیں مرنے کے بعد انسان کی ترقی رک جاتی ہے اس لیے کہ روح کی ترقی کا ذریعہ بدن ہے جب روح کا بدن سے تعلق ختم ہوا تو ترقی مراتب بھی ختم ہوئی مگر شہید کی ترقی برابر جاری رہتی ہے جس عمل میں اس نے جان دی ہے اس کا اجر برابر جاری رہتا ہے گویا کہ اب بھی وہ عمل کررہا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب آدمی مرجاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہوجاتا ہے مگر مجاہد فی سبیل اللہ کا عمل قیامت تک بڑھتا رہتا ہے (بخاری ومسلم) ۔ 2) ۔ احادیث متواترہ سے یہ ثابت ہے کہ شہداء کی ارواح سبز پرندوں کے پیٹ میں رکھ دی جاتی ہیں اور جنت میں اڑتی پھرتی ہیں اور جنت کے میوے کھاتی ہیں اور عرش کی قندیلوں میں آرام کرتی ہیں۔ بظاہر وجہ یہ ہے کہ شہید نے اپنے بدن کو خدا کی راہ میں قربان کیا اللہ نے اس عنصری بدن کے بدلہ میں ایک دوسرا عنصری بدن اس کی روح کی سیرو تفریح کے لیے عطا فرمایا یہ جسم طیوری اس روح کے لیے بمنزلہ ایک طیارہ کے ہے جس کے ذریعہ سے روح جنت میں اڑ کر سیروتفریح کرسکے اور یہ روح اس نئے جسم میں مدبر اور متصرف نہیں تاکہ تناسخ کا شبہ ہو اس لیے کہ تناسخ کی حقیقت یہ ہے کہ روح ایک جسم سے جدا ہونے کے بعد دوسرے جسم سے اس طرح متعلق ہو کہ دوسرے جسم میں کوئی اور روح نہ ہو اور یہی روح اس جسم کی نشوونما کا سبب ہو اور یہی روح اس جسم میں مدبر اور متصرف ہو اور ارواح شہداء میں یہ بات نہیں اس لیے کہ جسم طیوری کے ساتھ شہید کی روح کا تعلق ہوا ہے اس جسم طیوری کی روح علیحدہ نہیں اس کا تعلق پرندہ کے اصل روح سے ہے پرندہ کا جسم اور روح علیحدہ ہے اور شہید کی روح علیحدہ اور وہ اس میں سوار ہے اور وہ سبز پرندہ مع اپنے جسم اور اپنی روح کے شہید کی روح کے لیے سواری ہے خوب سمجھ لو۔ 3) ۔ جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ شہداء کی حیات جسمانی ہے اس لیے کہ موت اور قتل کا تعلق جسم سے ہے اور یہی ظاہر آیت کا مفہوم ہے اس لیے کہ سیاق آیت شہداء کی خصوصیت بیان کرنے کے لیے اور حیات روحانی شہداء کے ساتھ مخصوص نہیں وہ تو عامہ مسلمین بلکہ کفار کو بھی حاصل ہے۔
Ayahs 2:155–157

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ Open ayah 2:155 in the Quran reader

اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور میووں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے تو صبر کرنے والوں کو (خدا کی خوشنودی کی) بشارت سنادو

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ Open ayah 2:156 in the Quran reader

ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم خدا ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:157 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی مہربانی اور رحمت ہے اور یہی سیدھے راستے پر ہیں

بیان امتحان صبر وبشارت صابرین وجزاء صبر۔ قال تعالی، ولنبلونکم بشئی من الخوف۔۔۔ الی۔۔۔ المھتدون۔ ربط) ۔ گزشتہ آیت میں صبر کے ساتھ بڑے امتحان کا ذکر فرمایا یعنی جہاد فی سبیل اللہ کا اب آئندہ آیت میں صبر کے کم درجہ کے امتحان کا ذکر فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں کہ اس امتحان کے علاوہ اور بھی کچھ ہم تمہارے صبر کا امتحان کا سبق لیں گے وج تم پر زائد شاق اور گراں نہ ہوگا اور خدا کی راہ میں جان دینے کی طرح مشکل نہ ہوگا کبھی تمہارا امتھان کسی قدر دشمنوں کے خوف سے لیں گے کہ تم دشمنوں سے خوف زدہ ہو کر پریشانیوں میں مبتلا ہوگے اور کبھی فقروفاقہ کے ذریعہ سے اور کبھی مالوں کے نقصان سے مثلامال ضائع ہوجائے اور کبھی جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، مثلا عزیر و اقارب مرجائیں یا مثلا کھیتی اور باغ کے پھل کسی آفت سے تلف ہوجائیں تو اے مسلمانوں ان مصائب اور آفات میں صبر کرنا اور ذکر کرنا اور شکر سے غافل نہ ہونا اور جو لوگ اس امتحان اور آزمائش میں پورے اتریں تو اے نبی کریم آپ ایسے صابرین کو بشارت سنادیجئے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور کوئی حرف شکایت زبان پر نہیں لاتے بلکہ اپنی اور احباب کی تسلی کے لیے یہ کہتے ہیں کہ ہم سب اللہ کے مملوک اور غلام ہیں ہماری جان اور ہمارا مال سب اسی کی ملک ہے جو چاہے لے اور جو چاہے چھوڑے غلام کو آقا کے سامنے مجال دم زدن نہیں وہ ارحم الراحمین ہم پر ہم سے زیادہ مہربان ہے وہ اگر کسی وقت بھوکا رکھے تو اس کی حکمت اور مصلحت ہے طبیب مشفق ہونے کی دلیل ہے اور ہم سب اللہ ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں وہاں پہنچ کر ہم کو یہ بھی مل جائے گا جو ہم سے لیا گیا ہے اور وہم و گمان سے زائد ہم کو اس کا اجر بھی ملے گا۔ ف) ۔ حدیث میں ہے کہ یہ کلمہ خاص اسی امت کو ملا ہے دوسری امتوں کو عنایت نہیں ہوا چناچہ یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کے غم میں یا اسفی کہا اور اناللہ نہیں کہا ایسے صابرین پر اللہ کی خاص عنایات اور خاص توجہات ہیں جو حضرات انبیاء کی عنایات کے ہم رنگ ہیں جو ان کے پروردگار کے پاس سے اترتی ہیں اور ان پر خدا کی مہربانی بھی ہے کتاب ونست میں صلوۃ کا لفظ انبیاء کرام کے ساتھ مخصوص ہے صابرین کی بشارت میں بھی صلوات کا اس لیے استعمال فرمایا کہ اللہ صبر کرنے والوں کو ان عنایات خاصہ سے سرفراز فرماتے ہیں جو حضرات انبیاء کی صلوات و عنایات کی ہم رنگ ہوتی ہیں اس لیے کہ مصائب اور حوادث میں صبر و تحمل سے کام لینا اور کوئی کلمہ شکایت زبان سے نہ نکالنا اور خداوند ذوالجلال کی طرف رجوع کرنا انبیاء کرام کا طریقہ ہے کماقال تعالی، فاصبر کماصبر اولوالعزم من الرسل۔ آیت۔ سو تو ٹھہرا رہ جیسے ٹھہرے رہے ہیں ہمت والے رسول۔ اس لیے صابرین کو صلوت و عنایات خاصہ سے سرفراز فرمایا اور جان ومال کا جو نقصان ہوا اس کے عوض میں عنایات عامہ یعنی طرح طرح کی رحمتوں اور مہربانیوں سے نوازا۔ ہمارے اس بیان سے صلوۃ اور رحمت میں فرق واضح ہوگیا صلوات سے عنایات خاصہ مراد ہیں جو دینی اور دنیوی اور ظاہری اور باطنی برکات کا موجب ہیں اور رحمت سے عنایات عامہ مراد ہیں جو دنیا فوت شدہ جان ومال کا عوض اور نعم البدل ہیں خوب سمجھ لو اور ایسے لوگ علاوہ اس کے کہ وہ عنایات خاصہ اور عنایات عامہ کے مورد ہیں ہدایت یافتہ بھی ہیں کہ عین مصیبت کے وقت میں جب کہ یہ اندیشہ تھا کہ کوئی کلمہ شکایت کا زبان سے نکل جائے اور خداوندذوالجلال کی ناراضگی اور دوری اور مہجوری کا سبب بن جائے ایسے وقت میں قرب خداوندی اور اس کی خوشنودی کا راستہ نکال لیا کہ اللہ کی طرف متوجہ ہوگئے کمال ہدایت یہی ہے کہ ہر طرف سے اپنے مطلب کا کھوج لگائے۔ مااصاب من مصیبۃ الاباذن اللہ ومن یومن باللہ یھدقلبہ۔ آیت۔ کوئی مصیبت بغیر اللہ کے حکم کے نہیں پہنچتی اور جو بمقتضائے ایمان مصیبت میں ثابت قدم رہتا ہے اللہ اس کے قلب پر ہدایت اور معرفت کی راہ کھول دیتے ہیں۔ فاروق اعظم ؓ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ نعم العدلان ونعم العلاوۃ یعنی اس آیت میں اللہ نے صابرین کے لیے تین چیزوں کا وعدہ فرمایا ایک صلوات اور دوسرے رحمت اور تیسرے ہدایت فاروق اعظم فرماتے ہیں کہ صلوات اور رحمت کا جو ایک دوسرے کے قرین اور عدیل ہیں یہ دونوں کیا اچھے عدیل ہیں اور ہدایت ان عدلین کے علاوہ ہے یعنی ایک زیادتی ہے جو صلوۃ اور رحمت پر زیادہ ہے۔ فائدہ 1) ۔ اس آیت میں اللہ نے مصیبت کے وقت تسلی کے دو طریقے ارشاد فرمائے ایک عقلی اور ایک طبعی عقلی تو یہ ہے اناللہ ہم سب اللہ کی ملک ہیں جس کو چاہے دنیا میں رہنے دے اور جس کو چاہے آخرت میں بلائے عقل سلیم تسلیم کرتی ہے کہ مالک کو اختیار ہے کہ اپنی ملک میں جو چاہے تصرف کرے لہذا کسی عزیز کے مرنے پر شکایت کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی کی ملک میں دوگھوڑے ہوں ایک کو یہاں باندھ دے اور دوسرے کو دوسری جگہ باندھ دے تو کسی کو اعتراض کا حق نہیں یا مالک کسی چیز کو اوپر کی منزل میں رکھ دے اور کسی کو نیچے کی منزل میں رکھ دے اسی طرح اللہ کو اختیار ہے جس کو چاہیں دنیا میں رکھیں اور جس کو چاہیں آخرت میں رکھ لیں۔ اور طبعی یہ ہے کہ وانا الیہ راجعون۔ یعنی ہم سب کو وہیں جانا ہے اور وہی ہمارا وطن اصلی ہے اور یہ دنیا تو ایک جیل خانہ ہے اب اگر کسی کو جیل خانہ اور چاہ زندان سے نکال کر گلستان اور بوستان میں لے جاکرٹھہرا دیں تو حقیقت میں خوشی کا مقام ہے کہ بجائے غم کدہ کے عشرت کدہ مل گیا غرض یہ کہ ایک جملہ یعنی اناللہ میں عقل کی تسلی ہے اور دوسرے جملہ واناالیہ راجعون میں طبیعت کی تسلی ہے یہ تو تسلی ہوئی مگر باایں ہمہ شریعت نے خزن وملال اور رونے اور آنسو بہانے کی ممانعت نہیں کی کہ وہ غیراختیاری امر ہے بلکہ اس میں ایک قسم کی فضیلت بھی رکھ دی اور یہ فرمایا کہ ھو رحمۃ یعنی آنسو بہانا بھی اللہ کی رحمت ہے سبحان اللہ شریعت کی خوبی کو دیکھیے کہ عقل اور طبیعت کی اور جذبات کی سب ہی کی رعایت ہے۔ (ملخص از وعظ الصلوۃ، وعظ دوم از سلسلتہ البشری از مواعظ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ) ۔ فائدہ 2) ۔ اگر کسی آنے والی مصیبت کی پہلے ہی سے خبر دے دی جائے تو صبر آسان ہوجاتا ہے دفعۃ مصیبت آنے سے آدمی گھبرا جاتا ہے اس لیے اللہ نے ان مصائب کی پہلے ہی سے خبر دیدی تاکہ صبر آسان ہوجائے۔ (فائدہ 3) ۔ امام شافعی سے منقول ہے کہ آیت میں خوف سے خوف خداوندی مراد ہے اور بھوک سے رمضان کے روزے اور مالوں کی کمی سے زکوٰۃ اور صدقات مراد ہیں اور انفس یعنی جانوں کے نقصان سے امراض اور بیماریاں مراد ہیں اور ثمرات کے نقصان سے اولاد کا مرنا مراد ہے کیونکہ اولاد انسان کی زندگی کا پھل ہے۔ جامع ترمذی میں ابوموسی اشعری سے مروی ہے کہ نبی کریم نے فرمایا کہ جب فرشتے کسی مرد مومن کے بچہ کی روح قبض کرکے لے جاتے ہیں تو اللہ یہ فرماتے ہیں کیا تم نے میرے بندہ کے بچہ کی روح قبض کرلی کیا تم نے میرے بندہ کے ثمرہ قلب کو لے لیا ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں بتلاؤ میرے بندہ نے اس مصیبت پر کیا کہا ؟ عرض کرتے ہیں کہ آپ کے بندہ نے اناللہ وناالیہ راجعون پڑھی اور آپ کی حمدوثناء کی اللہ فرماتے ہیں کہ میرے اس بندہ کے لیے جنت میں ایک محل تیار کرواؤ اور اس کا نام بیت الحمد رکھو امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے۔
Ayah 2:158

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:158 in the Quran reader

بیشک (کوہ) صفا اور مروہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو شخص خانہ کعبہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے (بلکہ طواف ایک قسم کا نیک کام ہے) اور جو کوئی نیک کام کرے تو خدا قدر شناس اور دانا ہے

استشہاد برفضیلت صبر۔ قال تعالی، ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ علیم۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں صابرین کے لیے اپنی معیت اور صلوات اور رحمت اور ہدایت کا ذکر فرمایا اب آئندہ آیات میں اس کی ایک دلیل اور ایک شاہد ذکر کرتے ہیں یعنی حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کے صبر جمیل کی ایک یادگار ذکر فرماتے ہیں کہ صفا اور مروہ کی سعی اسی صبر کی یادگار ہے جن کو صبر کی برکت سے معیت خاصہ سے سرفراز فرمایا اور اپنی صلوات اور رحمتیں نازل کیں اور اس یادگار صبر کے بیان سے بحث قبلہ اور مناسک حج وعمرہ کی بھی تکمیل ہوجائے گی اور اذا ابتلی ابراہیم ربہ۔ آیت۔ سے بھی سلسلہ کلام مربوط ہوجائے گا ابتلاء اور امتحان ہی سے سلسلہ کلام کا آغاز ہوا اورا بتلاء اور امتحان ہی پر اس کا اختتام ہوا نیز ابتداء قصہ میں امامت کا ذکر تھا۔ انی جاعلک للناس اماما۔ میں تجھ کو کروں گا سب لوگوں کا پیشوا۔ اور منصب امامت کے لیے صبر کامل اور ایقان تام ضروری ہے کما قال تعالی۔ وجعلناھم ائمۃ یھدون بامرنا۔۔۔ الی۔۔۔ یوقنون۔ اور کیے ہم نے ان میں سردار جو راہ چلاتے ہمارے حکم سے جب وہ ٹھہرے رہے اور رہے ہماری باتوں پر یقین کرتے۔ اس لیے سلسلہ کلام کو صبر کے فضائل اور برکات اور اس کے شواہد اور ثمرات پر ختم فرمایا۔ شان نزول) ۔ صفا اور مروہ مکہ میں دوپہاڑیاں ہیں حضرات ابراہیم کے وقت سے لوگ ان دو پہاڑیوں کے درمیان طواف کرتے تھے اور زمانہ جاہلیت میں کافروں نے ان پر دو بت رکھ دیے اور ان کی تعظیم کرتے اور ان کا استلام کرتے اور یہ سمجھتے کہ یہ طواف ان دو بتوں کی تعظیم کے لیے ہے جب زمانہ اسلام آیا اور مسلمانوں کو سعی بین الصفا والمروہ کا حکم ہوا تو مسلمانوں کو یہ خیال ہوا کہ صفا اور مروہ کا طواف ان بتوں کی تعظیم کے لیے ہے اور بتوں کی تعظیم اسلام میں ممنوع ہے اس لیے صفا اور مروہ کا طواف بھی ممنوع ہونا چاہیے اس پر یہ آیت نازل ہوئی چناچہ ارشاد فرماتے ہیں کہ تحقیق کوہ صفا اور کوہ مروہ اور پہاڑوں کی طرح معمولی پہاڑ تھے مگر حضرت ہاجرہ اور اسماعیل (علیہ السلام) کے رضابالقضاء کی برکت سے خدا کی یادگاروں میں سے ہوگئے اور ان کا طواف مناسک حج سے بنایا گیا سو جو شخص حج بیت اللہ یا عمرہ کا ارادہ کرے اور اس پر صفا اور مروہ کی سعی اور طواف میں ذرہ برابر گناہ نہیں تم کافروں کی مشابہت سے شبہ میں مت پڑو صفا اور مروہ دراصل شعائر الٰہیہ میں سے ہیں اور ان کا طواف سراسر خیر اور عبادت ہے اور جو شخص کوئی خیر اور نیکی اور شوق اور رغبت سے کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی قدر دانی فرماتے اور اس کی نیت اور اخلاص کو خوب جانتے ہیں اور بقدر اخلاص کے اس کو ثواب عطا فرمائیں گے۔ 1) ۔ شعائر۔ شعیرہ یا شعارۃ کی جمع ہے جس کے معنی علامت اور نشانی کے ہیں اور اصطلاح شریعت میں شعائر اللہ ان چیزوں کو کہتے ہیں جن سے عام طور پر کفر اور اسلام میں امتیاز پیدا ہو اور ان کو شعائر اسلام بھی کہتے ہیں۔ 2) ۔ آیت شریفہ کا مطلب یہ ہے کہ جب مسلمانوں کو صفا اور مروہ کی سعی کے حکم سے بت پرستوں کی مشابہت کا خیال ہوا تو یہ آیت نازل ہوئی جس کا حاصل یہ ہے کہ صفا اور مروہ اصل میں اللہ کی یادگاریں ہیں اور کافروں کی مشابہت امر عارضی ہے وہ اس میں موثر نہ ہوگی جب کہ نیت خالص اللہ کی ہو جیسے خانہ کعبہ چند روز غلبہ کفار کی وجہ سے بیت الاصنام یعنی بت خانہ بن گیا لیکن اس کا قبلہ اور مطاف ہونا ساقط نہ ہوا اس لیے کہ جو شے بالذات ہوتی ہے وہ عوارض کی وجہ سے زائل اور ساقط نہیں ہوتی اس لیے مسلمانوں کو صفا اور مروہ کی سعی میں کوئی تردد اور تامل نہ ہونا چاہیے مشابہت کفار اس وقت موجب حرمت ہوتی ہے کہ جب کسی شے کا شعائر اللہ میں سے ہونا کسی دلیل سے ثابت نہ ہو جیسے تعظیم نور اور ہولی اور دوالی اور دسہرہ اور نصاری کی کرسمس اور جو افعال اللہ کے نزدیک مشروع اور پسندیدہ ہیں ان میں کفار کی مشابہت موثر نہی جیسے حج اور عمرہ اور ختنہ اور عقیقہ اور قربانی اور کسوف کے وقت صدقہ اور غلاموں کا آزاد کرنا مشرکین عرب میں رائج تھا۔ 3) ۔ سعی بین الصفا اور مروہ امام شافعی کے نزدیک فرض ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک واجب ہے اور امام احمد کے نزدیک مستحب ہے جیسا کہ فلاجناح کے لفظ سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمل ضروری اور واجب نہیں بخاری اور مسلم میں ہے کہ عروہ بن زبیر نے عائشہ صدیقہ سے عرض کیا کہ فلاجناح علیہ ان یطوف بھما۔ کوئی گناہ نہیں کہ صفا اور مروہ کا طواف کرے) ۔ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی واجب نہیں حضرت عائشہ نے فرمایا کہ اے میرے بھانجے آیت کا یہ مطلب نہیں جو تو سمجھا ہے اگر آیت کا وہ مطلب ہوتا جو تو نے بیان کیا تو عبارت قرآنی اس طرح ہوتی فلاجناح علیہ ان لایطوف بھما۔ یعنی اس شخص پر کوئی گناہ نہیں جو صفا اور مروہ کا طواف نہ کرے اور یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی جن کا قصہ یہ ہے کہ انصارقبل اسلام منات کی عبادت کرتے تھے اور جب مسلمان ہوئے اور سعی بین الصفا والمروہ کا حکم ہوا تو کفار کی مشابہت کی وجہ سے دل تنگ ہوئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی (بخاری ومسلم) ۔ چونکہ انصار پر کفار کی مشابہت کی وجہ سے بین الصفا والمروہ کا کرنا گراں گزررہا تھا اس لیے اس گرانی کے رفع کرنے کے لیے فلاجناح علیہ ان یطوف فرمایا اور یہ بتلا دیا کہ کرنے میں کوئی گناہ نہیں جس سے ترک کی اجازت دینا مقصود نہیں ورنہ اگر ترک سعی کی اجازت دینا مقصود ہوتی تو فلاجناح علیہ ان لایطوف۔ فرماتے یعنی کوئی حرج نہیں کہ سعی بین الصفا والمروہ نہ کرے غرض یہ کہ آیت میں لاجناح کا لفظ طواف بین الصفا والمروہ کرنے کے متعلق آیا ہے یعنی کرنے کی اجازت ہے ترک طواف اور ترک سعی کے مطابق لاجناح نہیں فرمایا کہ جس سے ترک سعی کی اجازت مفہوم ہوتی، علاوہ ازیں اگر یہ تسلیم کرلیاجائے کہ لاجناح کا لفظ محض اباحت پر دلالت کرتا ہے تو ہم یہ کہیں گے کہ یہ لفظ محض طواف بین الصفا والمروہ کی ابات اور جواز پر دلالت نہیں کرتا بلکہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اسفا اور نائلہ یعنی بتوں کے ہوتے ہوئے بھی صفاوالمروہ کا طواف جائز ہے مثلا کوئی شخص یہ مسئلہ دریافت کرے کہ جس کپڑے پر قدر درہم سے کم نجاست لگی ہو تو اس کپڑے میں نماز پڑھنا کیسا ہے ؟ تو یہ جواب دیا جائے گا لاجناح علیک ان تصلی فیہ یعنی ایسے کپڑے میں نماز پڑھنا کوئی حرج نہیں اور کوئی گناہ نہیں تو اس عبارت سے نفس نماز کی اباحت اور اجازت نہیں سمجھی جاتی بلکہ قلیل نجاست کی حالت میں نماز پڑھنے کی اجازت مفہوم ہوتی ہے اسی طرح اصل سعی واجب ہے اور بحالت موجودہ جس کی وجہ سے انصار کو گرانی تھی وہ جائز اور مباح ہے۔
Ayahs 2:159–162

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ Open ayah 2:159 in the Quran reader

جو لوگ ہمارے حکموں اور ہدایتوں کو جو ہم نے نازل کی ہیں (کسی غرض فاسد سے) چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم نے ان لوگوں کے (سمجھانے کے) لیے اپنی کتاب میں کھول کھول کر بیان کردیا ہے ایسوں پر خدا اور تمام لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:160 in the Quran reader

ہاں جو توبہ کرتے ہیں اور اپنی حالت درست کرلیتے اور (احکام الٰہی کو) صاف صاف بیان کردیتے ہیں تو میں ان کے قصور معاف کردیتا ہوں اور میں بڑا معاف کرنے والا (اور) رحم والا ہوں

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 2:161 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ایسوں پر خدا کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی لعنت

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 2:162 in the Quran reader

وہ ہمیشہ اسی (لعنت) میں (گرفتار) رہیں گے، ان سے نہ تو عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں (کچھ) مہلت ملے گی

رجوع بخطاب یہود وعید برکتمان حق وحجود۔ قال تعالی، ان الذین یکتمون ماانزلنا۔۔ الی۔۔۔ ینظرون۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں یہ ذکر فرمایا تھا کہ یہود حق کو جانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں مگر باوجود جاننے کے حق کو چھپاتے ہیں کماقال تعالی، الذین آتینھم الکتاب۔۔۔ الی۔۔۔ یعلمون۔ اب اس آیت میں اس کتمان حق پر وعید ذکر فرماتے ہیں اور توبہ کرنے والوں کے لیے عفو اور رحمت کا ذکر فرماتے ہیں چناچہ ارشاد فرماتے ہیں کہ تحقیق جو لوگ خوب جانتے ہیں کہ صفا اور مروہ کی سعی شائر اللہ میں سے ہیں اور حضرت ہاجرہ کے وقت سے برابر چلی آرہی ہیں مگر باوجود اس کے یہ لوگ ان مضامین کو چھپاتے ہیں جن کو ہم نے نازل کیا اور جو اپنی ذات سے واضح اور روشن ہیں اور شعائر اللہ کی ہدایت اور راہنمائی کرتے ہیں بعد اس کے ہم نے اس کو تمام لوگوں کے لیے عام اور خاص سب کے لیے شعائر اسلام اور کفر کے فرق کو خوب واضح کردیا ہے اور خبر واحدہ کی طرف نہیں بنایا کسی کو پہنچے اور کسی کو نہ پہنچے اس کتاب الٰہی میں داخل کردیا ہے تاکہ متواترہ ہوجائے اور اس کا اخفاء اور پوشیدہ رکھنا ناممکن ہوجائے لیکن یہ لوگ کمال عداوت کی وجہ سے اس کے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ایسے لوگوں پر اللہ لعنت کرتا ہے اس لیے کہ یہ لوگ اللہ کا مقابلہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ہدایت اور رفع جہالت چاہتا ہے اور یہ لوگ گمراہی اور جہالت کا بقاء چاہتے ہیں اور نیز لعنت کرتے ہیں ان پر سب لعنت کرنے والے ملائکہ اور ارواح انبیاء وصلحاء تو اس لیے لعنت کرتے ہیں کہ ان کی کوشش تو یہ ہے کہ اللہ کے احکام کو بیان کیا جائے اور ان کی خوب نشرواشاعت کی جائے اور یہ لوگ ان حضرات کی کوشش کو ضائع کرنا چاہتے ہیں اور عوام اور فساق اور فجار اور کفار ناہنجار اس لیے لعنت کرتے ہیں کہ ان لوگوں نے انکو حق معلوم نہ ہونے دیا اور چونکہ کتمان حق کی وجہ سے طرح طرح کی بلائیں اور مصیبتیں اور بلا میں گرفتار ہوئے مجاہد فرماتے ہیں کہ جب قحط پڑتا ہے اور بارش بند ہوجاتی ہے تو جانور گناہ کرنے والوں پر لعنت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کم بختوں کی وجہ سے نحوست آئی مگر جن لوگوں نے اللہ کی ناراضی کے ڈر سے حق پوشی سے توبہ کرلی اور حق پوشی کی وجہ سے جو خرابی آئی تھی اس کی اصلاح کرلی یعنی جو عقائد اور اعمال اور حقوق اور اموال لوگوں کے حق پوشی کی وجہ سے خراب اور برباد ہوئے تھے اور ان کی اصلاح کردی اور گزشتہ غلطیوں کا تدارک کردیا اور جس حق کو چھپایا تھا اور اس کو لوگوں کے سامنے بیان کردیا تو ایسے لوگوں کو معاف کردیتا ہوں اور بجائے لعنت کے ان پر رحمت نازل کرتا ہوں اور میں تو بڑا ہی توبہ کا قبول کرنے والا ہوں اور بڑا ہی مہربان ہوں کہ تو بہ کرنے سے لعنت کو رحمت سے اور سزا کو انعام سے بدل دیتا ہوں تحقیق جو لوگ حق پوشی کی وجہ سے کفر کی حد تک پہنچ گئے اور بدون توبہ کے کفر کی حالت میں مرگئے ایسے لوگوں پر اللہ کی اور تمام فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی مستمر لعنت ہے حتی کہ خود اس کی بھی اس پر لعنت ہے اس لیے کہ یہ کافر خود کہتا ہے کہ جو دیدہ دانستہ حق کو چھپائے اس پر اللہ کی لعنت ہے اور یہ نہیں سمجھتا کہ میں بھی خود اس عموم میں داخل ہوں اور یہ لوگ ہمیشہ اس لعنت میں رہیں گے یہ لعنت کبھی ان سے منقطع نہ ہوگی کیونکہ بغیر توبہ کے مرے ہیں ذرا برابر ان کے عذاب میں تخفیف نہ ہوگی بلکہ دم بدم زیادتی ہوتی رہے گی دنیا میں دن بدن ان کا کفر اور تمرد بڑھتا تھا آخرت میں عذاب بڑھتا رہے گا اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی کہ کچھ دیر آرام کرلیں اور آئندہ کے لیے عذاب سہنے کی کچھ قوت آجائے اس لیے کہ عذاب میں تخفیف اور مہلت یہ بھی ایک قسم کالعنت سے نکالنا جو ان کے حق میں ناممکن اور محال ہے۔
Ayah 2:163

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 2:163 in the Quran reader

اور (لوگو ! ) تمہارا معبود خدائے واحد ہے اس بڑے مہربان (اور) رحم والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں

اعلان توحید۔ والھکم الہ واحد۔۔۔ الی۔۔۔ الرحیم۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں اللہ کے احکام چھپانے والوں پر لعنت اور عذاب کا ذکر فرمایا اور آئندہ آیت میں اللہ کی وحدت اور رحمت کا ذکر فرماتے ہیں کہ وہی ایک معبود ہے اس کے سوا کہیں کوئی پناہ نہیں جو اس کی لعنت سے تم کو چھڑا سکے اور اس کے سوا کوئی رحمان اور رحیم نہیں جو اللہ کی لعنت اور نقمت کو رحمت اور عنایت سے بدل سے چناچہ فرماتے ہیں اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور وہی رحمن اور رحیم ہے رحمت عامہ اور خاصہ سب اسی کے ہاتھ میں ہے اس لیے بدون اس کی رحمت کے لعنت سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں اگر خدا کے سوا کوئی دوسرا معبود ہوتا تو ممکن تھا کہ وہ تم کو اس کی لعنت سے نکال لیتا اور تم پر رحمت کرتا لیکن اس کے سوا کوئی خدا نہیں جو رحمت عامہ اور خاصہ کا مالک ہوا اور عجب نہیں کہ اس خطاب میں اہل کتاب کو تہدید اور عتاب ہو کہ باوجودیکہ توریت اور انجیل میں اللہ کی توحید کی صریح آیتیں مذکور ہیں اور پھر بھی تم حضرت عزیر اور حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا بتلاتے ہو اور اس طرح شرک میں مبتلا ہو اور اس توحید کو جو تم کو معلوم ہے چھپاتے ہو غرض یہ کہ تم نبی ﷺ کی نبوت کو چھپانے کی وجہ سے بھی مستحق لعنت ہوئے اور توحید خداوندی کے اخفاء اور کتمان کی وجہ سے بھی مورد لعنت بنے۔
Ayah 2:164

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 2:164 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اور کشتیوں (اور جہازوں) میں جو دریا میں لوگوں کے فائدے کی چیزیں لیکر رواں ہیں اور مینہ میں جس کو خدا آسمان سے برساتا اور اس سے زمین کو مرنے کے بعد زندہ (یعنی خشک ہوئے پیچھے سرسبز) کردیتا ہے اور زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلانے میں اور ہواؤں کے چلانے میں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان گھرے رہتے ہیں عقلمندوں کے لئے (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں

دلائل توحید۔ ان فی خلق السماوات۔۔۔ الی۔۔۔ یعقلون۔ ربط) ۔ جب آیت والھکم الہ واحد۔ نازل ہوئی تو مشرکین نے تعجب سے کہا کہ کیا سارے جہان کا ایک ہی خدا ہے اگر ایسا ہے تو اس پر کیا دلیل ہے اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں جن میں توحید کے دلائل بیان فرمائے کہ علویات اور سفلیات اور متوسطات اور ان کے احوال وصفات سب دعوائے واحدانیت اور رحمانیت کی دلیل ہیں چناچہ فرماتے ہیں کہ تحقیق، 1۔ آسمانوں، 2۔ اور زمین کی پیدائش میں، 3، اور دن ورات کی آمد ورفت اور انکے مختلف ہونے میں، 4، اور ان جہازوں اور کشتیوں میں کہ جو دریا میں لوگوں کو منافع کی چیزوں کو لے کرچلتی ہیں اور ایک ملک سے دوسرے ملک کو آدمی اور سامان پہنچاتی ہیں جہاں آدمیوں اور جانوروں کا پہنچنا ممکن نہیں، 5، اور اس پانی میں کہ جو اللہ نے آسمان سے نازل کیا اور پھر اس پانی سے زمین کو مردہ ہونے کے بعد دوبارہ زندہ کیا یعنی خشکی اور قحط سالی کے بعد قسم قسم کے پھول اور پھل اس میں اگائے، 6، اور ہر قسم کے جانور اس میں پھیلائے، 7، اور ہواؤں کے پھیرنے میں کبھی مشرق کا چکر لگاتی ہیں اور کبھی مغرب کا اور کبھی شمال کا اور کبھی جنوب کا، 8، اور اس ابر میں کہ جو آسمان اور زمین کے درمیان معلق ہے حالانکہ ہزار من پانی سے بھرا ہوا ہے باوجود اس عظیم ثقل کے زمین پر گر نہیں جاتا ان تمام امور میں اللہ کی وحدت اور رحمت کے عجیب و غریب دلائل اور براہین ہیں ان لوگوں کے لیے جو اپنی عقل کو نظر اور فکر میں استعمال کرتے ہیں اور یہ تمام چیزیں اللہ کے کمال قدرت اور کمال حکمت اور اس کی وحدانیت اور رحمت پر مختلف طرح سے دلالت کرتی ہیں تفصیل حسب ذیل ہے۔ (1) ۔ آسمانوں میں غور کیجئے کہ تمام آسمان حقیقت اور طبیعت جرمیہ کے اعتبار سے ایک ہیں مگر چھوٹا اور کوئی بڑا۔ اور پھر کواکب اور نجوم، ثوابت اور سیارات، شمس اور قمر اور زہرہ اور مریخ اور مشتری میں غور کیجئے ہر ایک کی شان جدا ہر ایک کا رنگ جدا، ہر ایک کی حرکت جدا اور حرکت کی سمت اور جہت جدا ہر ایک کا برج جدا، ہر ایک کا طلوع اور غروب جدا اس عجیب نظام کو دیکھ کر ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ کارخانہ خود بخود تو نہیں چل رہا بلکہ کسی علیم وقدیر اور مدبر حکیم کے ہاتھ میں اس کی باگ ہے کہ وہ محض اپنے ارادہ اور مشیت سے اس کارخانہ کو چلا رہا ہے اور کوئی اس کا شریک نہیں اور فلاک اور شمس وقمر کی حرکات سے منافع عالم کا مربوط ہونا یہ اس کی کمال رحمت کی دلیل ہے۔ (2) ۔ اور علی ہذا زمین کی پیدائش بھی اس کی وحدانیت اور رحمت کی دلیل ہے زمین کے قطعات کا مختلف اللون اور مختلف الخاصیت ہونا کہ کسی زمین سے گھانس پیدا اور کسی سے انناس اور کسی سے بادام پیدا ہو اور کسی سے آم، کسی زمین کے بسنے والے عاقل اور کسی جگہ کے بسنے والے کو دن اور نادان کہ بعض چیزوں میں حیوان بھی ان سے بہتر نکلے یہ اختلافات کہاں سے آئے اور کس طرح آئے زمین کا مادہ اور طبیعت تو ایک ہی ہے وہ کون ذات ہے کہ جس نے زمین کے ٹکڑے کو شورا اور بنجر بنایا اور دوسرے کو سبزہ زار اور مرغزار بنایا یہ سب اسی علیم وقدیر کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ جس کی قدرت اور حکمت کے سمجھنے سے تمام عالم قاصر اور عاجز ہے یہ دلیل تو وحدانیت کی ہوئی اور زمین رحمت خداوندی کی دلیل اس طرح سے ہے کہ تمام عالم کے بسنے والے اسی زمین پر چل کر اپنی حاجتیں پوری کرتے ہیں اسی سے پیدا شدہ غذاؤں اور پھلوں اور چشموں اور نہروں سے نفع اٹھاتے ہیں اور تمام سونا اور چاندی وغیرہ وغیرہ سب اسی زمین میں اللہ کی قدرت سے پیدا ہوتا ہے کانوں کا مختلف ہونا اس کی وحدانیت کی دلیل ہے اور ان کا نافع اور مفید ہونا اس کی رحمت کی دلیل ہے آسمان اور زمین علیحدہ علیحدہ بھی رحمت ہیں اور دونوں مل کر بھی رحمت ہیں اس لیے آسمان اور زمین کے اختلاط اور تقابل سے جو منافع اور فوائد پیدا ہوتے ہیں ان کے ادراک سے عقل قاصر ہے۔ (3) ۔ اور اسی طرح لیل ونہار کا مختلف ہونا کہ کبھی دن ہے کبھی رات، کبھی دن بڑا اور رات چھوٹی اور کھی اس کا برعکس کیا یہ سب کچھ خود بخود ہورہا ہے یہ سب کچھ خود بخود ہورہا ہے یا کسی قادر مطلق کے ہاتھ میں اس کی ڈور ہے اور اگر دن نہ ہوتا اور فقط رات ہوتی تو تمام عالم مستمر اور دائم ظلمت اور تاریکی کی مصیبت میں گرفتار ہوجاتا اور چلتا پھرنا مشکل ہوجاتا اور اگر رات نہ ہوتی تو فقط دن ہی دن ہوتا تو تمام عالم گرمی سے بلبلااٹھتا اور کھیتیاں جل کر خاک ہوجاتیں اور اس راحت اور آرام سے جو رات کو نیند سے اسے حاصل ہوتا ہے تمام جہان یک لخت محروم ہوجاتا معلوم ہوا کہ لیل ونہار کا اختلاف جس طرح اس کی وحدانیت کی دلیل ہے اسی طرح اس کی رحمانیت کی بھی دلیل ہے۔ (4) ۔ اور علی ہذا جہاز اور کشتی بھی اس کی قدرت اور رحمت کی دلیل ہے ایک تولہ لوہا یا تانبہ ایک منٹ کے لیے پانی میں نہیں ٹھہرتا مگر جہاز اور کشتی کی جس میں ہزار من لوہا اور تانبا لدا ہوا ہوتا ہے ایک ملک سے دوسرے ملک تک ہزارہا میل طے کرکے صحیح وسالم پہنچتے ہیں یہ بھی اللہ کی وحدانیت اور رحمانیت کی دلیل ہے۔ (5، 6) ۔ اور علی ہذا آسمان سے باران رحمت کا نازل ہونا اور زمین کا اس سے سرسبز اور شاداب ہونا اور قسم قسم کے اشجار اور نباتات اور فواکہ اور ثمرات کا اس سے پیدا ہونا اور علی ہذا اس سے حیوانات کا ایسا مختلف اللون ہونا کہ ایک شکل اور صورت دوسرے کی شکل اور صورت سے نہ ملے یہ بھی اس کی وحدانیت اور رحمانیت کی دلیل ہے اس لیے کہ یہ اختلاف بیشمار فوائد اور منافع پر مشتمل ہے اللہ نے اپنی قدرت اور حکمت سے حیوانات دو قسم کے بنائے ایک تو وہ جو بطریق تعالد اور تناسل پیدا ہوتے ہیں جیسے انسان اور اونٹ اور بیل بکری اور دوسری قسم وہ ہے جو بطریق تولید پیدا ہوتے ہیں جیسے ہزارہا حشرات الارض مٹی سے پیدا ہوتے ہیں اور ہزارہا مچھر اور جھینگر برسات کے پانی سے پیدا ہوتے ہیں ہر ایک کی صورت اور شکل الگ الگ اور ہرا یک کا رنگ الگ جس سے باہمی فرق اور امتیاز کا نفع اور فائدہ ہوتا ہے اور یہ اللہ کی عظیم رحمت اور مہربانی ہے ورنہ اگر سب کا ایک رنگ اور ایک شکل کے ہوتے تو پہچاننا مشکل ہوجاتا اگر آدمی اور حیوانات باہم ممتاز نہ ہوتے تو کارخانہ معاش معطل اور درہم برہم ہوجاتا ایک انسان کے چہرہ میں غور کرو کہ آنکھ بھی ہے اور کان بھی اور ناک بھی ہے اور زبان بھی، سربھی ہے اور دماغ بھی ایک عجیب و غریب تصویر ہے قوی عقلیہ اور حسیہ کا مجموعہ ہے اور خداونذ ذوالجلال کی قدرت اور کمال کا بےمثال آئینہ ہے اور آنکھ، کان اور زبان کے جو بیشمار فوائد اور منافع ہیں وہ اس رحمن ورحیم کی رحمت کاملہ کے دلائل اور براہین ہیں۔ حکایت) ۔ کسی نے فاروق اعظم سے عرض کیا کہ شطرنج بھی عجیب کھیل ہے کہ باجود مختصر سا طول وعرض ہونے کے ہزار مرتبہ بھی کھیلا جائے توا یک بازی دوسرے بازی کے موافق نہ پڑے گی۔ تو جواب میں فرمایا کہ انسان کا چہرہ اس سے بھی عجیب ہے کہ باوجود آنکھ اور ابرو اور کان اور زبان وغیرہ وغیرہ کبھی اپنی معین جگہ سے سرموتجاوز نہیں کرتے مگر باایں ہمہ ہر فرد بشر ایک دوسرے سے جدا اور ممتاز ہے اللہ کی اس تقدیر اور تدبیر بےنظیر سے کارخانہ عالم چل رہا ہے ورنہ اگر سب ہم شکل ہوتے تو باپ بیٹے کو بھائی بھائی کو نہ پہچانتا۔ (تفسیر کبیر) ۔ (7) ۔ اور علی ہذا ہواؤں کا بدلنا اور گرمی سے سردی کی طرف اور سردی سے گرمی کی طرف ان کا پھیرنا اور کبھی مشرق سے مغرب کی طرف اور کبھی شمال سے جنوب کی طرف انکا چلانا یہ سب اس کی قدرت اور وحدانیت کی دلیل ہے اور ہوا کا وجود عالم کے لیے عجیب رحمت ہے بعض صحابہ سے منقول ہے کہ اگر تین دن تک ہوابند رہے توسارا عالم متعفن اور بدبودار ہوجائے۔ (8) ۔ اور علی ہذا بادل کا آسمان اور زمین کے درمیان معلق رکھنا یہ بھی اس کے کمال قدرت کی دلیل ہے کہ باوجودیکہ بادل ہزارہا ٹن پانی سے بھرا ہوا ہے مگر نیچے نہیں گرتا بادل سر سے گزررہا ہے مگر کسی کی مجال نہیں کہ اس میں سے ایک گلاس پانی ہی نکال لے جہاں حکم ہوگا وہیں جا کر برسے گا، یہ آٹھ دلیلیں ہیں جو حق تعالیٰ کی واحدانیت اور رحمانیت پر دلالت کرتی ہیں۔