2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعارف القرآن

Ayah 2:243

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ١۪ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا١۫ ثُمَّ اَحْیَاهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:243 in the Quran reader

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو (شمار میں) ہزاروں ہی تھے اور موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے تھے تو خدا نے ان کو حکم دیا کہ مرجاؤ پھر ان کو زندہ بھی کردیا کچھ شک نہیں کہ خدا لوگوں پر مہربانی رکھتا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

خاتمہ احکام معاشرت برتذکیر آخرت۔ حکایت قصہ گریز ندگاں از موت دوبابرائے تنبیہ شیفتگان حیات دنیا وتمہید تشجیع برجہاد و قتال وترغیب انفاق مال۔ قال تعالی، الم تر الذین۔۔۔ الی۔۔۔ لایشکرون۔ ربط) ۔ یہاں تک ابواب البر والصلہ کے متعلق الانواع اور مختلف الاقسام احکام مذکور ہوئے مگر ان احکام میں سب سے زیادہ اہم اور مہتم بالشان اور نفس پر شاق اور گراں دو حکم ہیں ایک جہاد و قتال کا اور دوسرا انفاق مال کا چناچہ اصول بر کے بیان میں واتی المال علی حبہ ا لصابرین فی الباساء والضراء وحین الباس، کا خاص طور پر ذکر فرمایا اس لیے کہ انسان کو خداوند ذوالجلال کی اطاعت سے روکنے والی زیادہ تردو ہی چیزیں ہوتی ہیں ایک حب دنیا اور ایک کراہت موت بلکہ یہی دوچیزیں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں مخل اور مزاحم ہوتی ہیں اس لیے اللہ جل شانہ نے اولا بنی اسرائیل کا ایک قصہ ذکر فرمایا جو موت اور وباء کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے اور غضب خداوندی سب ہلاک ہوئے اور پھر حضرت حزقیل (علیہ السلام) کی دعا سے دوبارہ زندہ ہوئے تاکہ اس بلاسبب موت اور بلاسبب حیات کے مشاہدہ سے یہ یقین کرلیں کہ موت اور حیات کسی ظاہری سبب پر موقوف نہیں موت اور حیات کا خالق اور مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے وہ بغیر وباء اور طاعون کے اور بغیر میدان کارزار کے بھی موت دے سکتا ہے لہذا موت کے خوف سے بھاگنا بےسود ہے نیز اس بلاسبب موت اور بلاسبب دوبارہ زندگی کے مشاہدہ سے گویا کہ آخرت اور حشر اور نشر اور قیامت کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیا جس سے آخرت کے بارے میں کسی قسم کے شک اور شبہ کی گنجائش باقی نہ رہی اور اب تک آخرت اور قیامت کے بارے میں جو ایمان استدلالی اور برہانی تھا اب وہ اس دوبارہ زندگی کے مشاہدہ کے بعد بمنزلہ شہودی اور عیانی کے ہوگیا جس میں ارتدادکا احتمال نہیں استدلال میں احتمال کی گنجائش ہے مشاہدہ اور معاینہ میں شبہ کی گنجائش نہیں۔ پائے استدلالیاں چوبیں بود، پائے چوبیں سخت بےتمکین بود۔ پس یہ قصہ ان دو حکموں کی تمہید ہے جو آئندہ آیات میں مذکور ہوں گے ایک جہاد و قتال کا حکم جو اس قصہ کے متصل مذکور ہے یعنی وقاتلوا فی سبیل اللہ واعلموا ان اللہ سمیع علیم، دوسرا حکم انفاق مال کا ہے جس کو من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا۔ سے بیان فرمایا پھر ان دو حکموں کے بعد اولا جہاد و قتال کی ترغیب اور تاکید کے لیے قصہ طالوت وجالوت ذکر فرمایا اور ثانیا خدا کی راہ میں صدقہ اور خیرات کے احکام اور فضائل بیان فرمائے جو دور تک چلے گئے اور پھر احکام صدقات سے فراغت کے بعد ربا اور سود کے احکام بیان فرمائے اور اس لیے کہ ربا اور سود صدقہ اور خیرات کی ضد اور نقیض ہے اور پھر اس سورت کو ایمان اور اطاعت اور دعا رحمت ومغفرت پر ختم فرمایا۔ اس سورت کا آغاز بھی ایمان اور ہدایت اور تقوی اور فلاح سے ہوا تھا ھدی للمتقین الذین یومنون بالغیب۔۔ الی۔۔ ھم المفلحون۔ اور خاتمہ بھی ایمان اور طاعت اور دعا رحمت پر ہوا جو کہ عین فلاح اور عین سعادت ہے۔ بیان ربط بطریق دیگر) ۔ دور سے نکاح اور طلاق کے احکام کا سلسلہ چلا آرہا تھا یہاں آکر احکام معاشرت پورے ہوئے اس لیے اب احکام معاشرت کے بعد ایک قصہ تذکیر آخرت کے لیے ذکر فرمایا جس کو عدت وفات کے احکام سے خاص مناسبت ہے یعنی اگر تم بےکس عورتوں کا عرصہ حیات تنگ کرو گے اور ان کے مہر اور متعہ کے دینے میں کوتاہی کرو گے تو عجب نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس عدول حکمی کی سزا میں تمہارے اموال اور ذخائر کو اور تمہای مستعار حیات کو تم سے واپس لے لو جیسا کہ پہلی امتوں میں اس قسم کے واقعات پیش آچکے ہیں چناچہ فرماتے ہیں کہ کیا اے دیکھنے والے اور اے سننے والے تو نے بہت کچھ دیکھا اور بہت کچھ سنا مگر کیا تو نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جو موت کے ڈر سے ہزاروں کی تعداد میں اپنے گھروں سے نکل گئے تھے پس اللہ نے بطور سزا اور تنبیہ یہ حکم دیا کہ مرجاؤ یہ حکم تکوینی تھا اسی وقت سب مرگئے اور جس موت کے ڈر سے بھاگے تھے اسی میں اچانک پکڑے گئے پھر اللہ نے ان کو ایک نبی کی درخواست اور استدعا پر دوبارہ زندہ کردیا جمہور علماء کا قول یہ ہے کہ یہ لوگ طاعون سے بھاگ کر نکلے تھے ایک بیابان میں جا کر اترے اور یہ گمان کہ اب ہم سلامتی اور تندرستی کی جگہ پہنچ گئے تب بحکم خداوندی سب کے سب وہیں مرگئے اور ایک ہفتہ یا کچھ عرصہ بعد حزقیل (علیہ السلام) جو انبیاء بنی اسرائیل میں سے تھے وہاں سے گذرے اور یہ منظر دیکھا کہ ہزاراں ہزار آدمی مرا پڑا ہے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان سب کو دوبارہ زندہ کردیا عبداللہ بن عباس ؓ سے اسی طرح منقول ہے۔ ضحاک اور مقاتل اور کلبی سے ی منقول ہے کہ یہ لوگ جہاد سے بھاگے تھے کہ غنیم سے لڑنا نہ پڑے موت کے ڈر سے وطن چھوڑ کر نکل گئے بھاگ کر جہاں پہنچے اللہ کے حکم سے موت بھی وہیں پہنچ گئی اور سب کا کام تمام کیا پھر بعد چندے اس زمانہ کے پیغمبر کی دعا سے دوبارہ زندہ ہوئے۔ نکتہ) ۔ قاضی ابوبکر بن العربی فرماتے ہیں کہ یہ موت موت عقوبت تھی یعنی بطور سزا اور تنبیہ تھی موت اجل نہ تھی جو کہ عمر پوری ہونے کے بعد آتی ہے اس لیے سزا اور تنبیہ کے بعد دوبارہ حیات عطا کردی گئی تاکہ اپنے عمروں کو پورا کرلیں اور اگر یہ موت موت اجل ہوتی یعنی عمریں پوری کرچکے ہوتے تو پھر حیات واپس نہ ہوتی اس لیے کہ موت اجل کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کیا جاتا۔ (تفسیر قرطبی ص 331 ج 3) ۔ فائدہ) ۔ اللہ کے یہاں عام قاعدہ تو یہی ہے کہ کوئی مرنے کے بعد قیامت سے پہلے دنیا میں نہیں آتا لیکن بطور خرق عادت کبھی احیانا اللہ تعالیٰ مردہ کو دنیا میں زندہ کرتے، تاکہ اس کی قدرت کا کرشمہ ظاہر ہو اور منکرین قیامت پر حجت تمام ہو۔ اور تحقیق بلاشبہ اللہ لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے کہ اس طرح دوبارہ زندہ کرکے اپنی قدرت کا کرشمہ اور قیامت کانمونہ ایک نبی کی نبوت کی دلیل اور معجزہ لوگوں کو دکھلادیا تاکہ ملاحدہ اور منکرین قیامت اور مکذبین نبوت و رسالت عبرت حاصل کریں اور سمجھ جائیں کہ نہ تو مردوں کو دوبارہ زندہ ہونا محال ہے اور نہ خدا کے کسی برگزیدہ بندے کے ہاتھ پر کسی خارق عادت کرشمہ کا ظاہر ہونا ناممکن ہے اور ایمان کے اصل اصول بھی یہی تین امر ہی یعنی ایمان بااللہ اور ایمان باالرسول اور ایمان بالاخرت جو اس واقعہ سے ثابت ہوئے، اور ان اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرہ۔ میں جو قصہ ذکر کیا ہے وہ بھی اسی طرح ان تین امور کی دلیل کے تھا اور آئندہ پارہ میں حضرت ابراہیم کا جو قصہ آنے والا ہے وہ بھی ان ہی تین باتوں کی دلیل واضح ہے اب دیکھ لو کہ کس طرح سے سورة کا اول اور آخر اور اوسط باہم متناسب اور مرتبط ہیں ملاحدہ کو چاہیے تھا کہ اس واقعہ کو سامان ہدایت سمجھتے اور اس کو خدا کی نعمت جان کر شکر ادا کرتے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے اور ایسے واقعات سے عبرت اور ہدایت حاصل کرنے والے بہت کم ہیں یہ واقعہ کوئی معمولی نعمت نہ تھا کہ ایمان بالغیب کو شہودی اور عیانی بنادیا اور ارتداد کے خطرہ سے نکال دیا اس نعمت پر توا گر لاکھوں اور کروڑوں جانیں بھی قربان ہوجائیں تو بہت کم ہیں اور ان نبی پر بھی اللہ تعالیٰ کی بیشمار رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں جن کی توجہ اور دعا سے یہ نعمت ظہور میں آئی، صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی جمیع الانبیاء والمرسلین وعلی سیدنا مولانا محمد خاتم النبین علی الہ و اصحابہ اجمعین۔ 1) ۔ الم تر کے معنی کیا تو نے نہیں دیکھا مگر محاورہ میں اس کے معنی الم تعلم کے ہیں کیا تم کو معلوم نہیں ظاہرا چونکہ رویت بصری علم کا ذریعہ ہے اس لیے لفظ رویت بول کر علم کے معنی مراد لیے گئے فصحاء اور بلغاء کے نزدیک یہ لفظ تنبیہ اور تشویق کے لے مستعمل ہوتا ہے یعنی متنبہ کرنے اور شوق دلانے کے لیے یہ لفظ بولا جاتا ہے اسی وجہ سے سیبویہ سے منقول ہے کہ الم ترک معنی تنبہ الی امرالذین کے ہیں یعنی یہ واقعہ عجیب و غریب ہے اس قابل ہے کہ اس کو شوق اور رغبت کے ساتھ سنا جائے یہ چیز قابل دیدتھی۔ اور چونکہ یہ واقعہ شہرت اور تواتر کی وجہ سے بمنزلہ محسوس اور مشاہد کے تھا اس لیے بجائے الم تعلم کے لفظ الم تر لایا گیا جیسا کہ حضرات فقہاء اور محدثین نے لکھا ہے کہ خبر متواتر سے جو علم حاصل ہوتا ہے وہ بمنزلہ مشاہدہ اور رویت بصری کے ہوتا ہے اس لیے کہ جو امور خبر متواتر سے ثابت تھے اللہ نے قرآن کریم میں جابجا ان کو الم تر سے تعبیر کیا ہے۔ 2) ۔ ہی بھاگنے والے بنی اسرائیل میں سے ایک قوم تھی جو واسط کے قریب قصبہ داوردان میں رہتی تھی۔ 3) ۔ وھم الوف۔ اور یہ لوگ ہزاروں کی تعداد میں تھے بعض کہتے ہیں کہ چالیس ہزار تھے بعض کہتے ہیں کہ تیس ہزار تھے بعض کہتے ہیں کہ آٹھ ہزار تھے بعض کہتے ہیں کہ چار ہزار اور بعض کہتے ہیں کہ تین ہزار تھے امام قرطبی فرماتے ہیں، ترجمہ۔ صحیح ہے کہ دس ہزار سے زیادہ تھے اس لیے کہ الوف جمع کثرت ہے اس کا اطلاق دس اور دس سے کم پر نہیں آتا (تفسیر قرطبی ص 231 ج 3) ۔ 4) ۔ حدیث میں ہے کہ جب تم یہ سنو کہ فلاں زمین میں وباء اور طاعون ہے تو تم اس زمین میں داخل نہ ہونا اور اگر وباء طاعون اس زمین میں پھیل جائے جس میں تم رہتے ہو تم اس سے بھاگ کر نہ نکلنا۔ (بخاری ومسلم وغیرہ) ۔ حضرت عمر جب ملک شام تشریف لے گئے تو مقام سرغ میں پہنچ کر معلوم ہوا کہ شام میں طاعون اور وبا پھیلی ہوئی ہے اس وقت عبدالرحمن بن عوف نے یہ حدیث سنائی حضرت عمر یہ حدیث سن کر سرغ سے واپس آگئے ابوعبیدہ نے کہا اے امیر المومنین کیا اللہ قضا وقدر سے بھاگتے ہیں، کاش تیرے سوا کوئی یہ شبہ کرتا (عین یہ کلمہ تیری شان کے مناسب نہیں) ہاں ہم اللہ کی قضا وقدر سے خدا کی دوسری قضاء وقدر کی طرف بھاگ رہے ہیں جس طرح بیماری میں علاج کرنا ایک قضا وقدر سے دوسری قضا وقدر کی طرف بھاگنا ہے اس لیے کہ بیماری بھی اللہ کی قضا وقدر سے ہے اور علاج اور دوا بھی اللہ کی قضا وقدر ہے اسی طرح ہمارا وبائی زمین میں داخل ہونا اور وطن کی طرف لوٹ جانا ایک قدر سے دوسری قدر کی طرف جانا ہے۔ 5) ۔ یہ آیت معاد جسمانی کے ثبوت کے لیے قطعی دلیل ہے معاد جسمانی کا اقرار اصول ایمان میں سے ہے اور معاد جسمانی کا منکر باجماع امت بلاشبہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
Ayah 2:244

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:244 in the Quran reader

اور (مسلمانو ! ) خدا کی راہ میں جہاد کرو اور جان رکھو کہ خدا (سب کچھ) سنتا (اور سب کچھ) جانتا ہے

تشجیع شاکرین برجہاد و قتال کافرین۔ قال تعالی، وقاتلو فی سبیل اللہ واعلموا ان اللہ سمیع علیم۔ گزشتہ آیت میں حکم جہاد کی تمہید تھی اس آیت میں اصل مقصود کو بیان کرتے ہیں نیز گزشتہ آیت میں شاکرین اور غیر شاکرین کے بیان پر مشتمل تھی اب اس آیت میں شکر گزراوں کو ناشکروں سے جہاد و قتال کرنے کا حکم دیتے ہیں اور اب تو تم نے دیکھ لیا کہ موت سے بھاگنا کچھ فائدہ نہیں دیتا لہذا خدا کی راہ میں خوب دل کھول کر لڑو، خدا کی راہ میں اگر موت بھی آتی ہے تو حقیقت، اس کی حیات ہوتی ہے اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ سننے والا ہے اور جاننے والا ہے، جہاد میں جانے اور نہ جانے کی بابت جو باتیں کرتے ہو وہ سب سنتا ہے اور جو نیت دل میں چھپائے ہو اس کو جانتا ہے۔
Ayah 2:245

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةً١ؕ وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ١۪ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:245 in the Quran reader

کوئی ہے کہ خدا کو قرض حسنہ دے کہ وہ اس کے بدلے میں اس کو کئی حصے زیادہ دے گا ؟ اور خدا ہی روزی کو تنگ کرتا اور (وہی اسے) کشادہ کرتا ہے اور تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

ترغیب انفاق مال درراہ خداوندذو الجلال۔ قال تعالی، من ذالذی یقرض اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ ترجعون۔ گزشتہ آیت میں خدا کی راہ میں جان دینے کا بیان تھا اب اس آیت میں مال دینے کا بیان ہے کون شخص ہے جو اللہ کو نہایت عمدہ اور اچھا قرض دے یعنی حلال مال سے اخلاص اور خوش دلی کے ساتھ دے پس اللہ تعالیٰ اس کو گوناگوں بڑھادیں گے دنیا کی طرح برابر سرابر نہیں دیا جائے گا خداوندذوالجلال معاذ اللہ حاجت کی بناء پر قرض نہیں مانگتا بلکہ تم سے اس لیے قرض مانگتا ہے کہ تم اسے ایک لے کر بیشمار اس کے عوض عطا کرے باپ کبھی اپنے خورد سال بچے کو ایک پیسہ دیتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ بیٹا یہ پیسہ ہم کو قرض دے دو جب وہ بچہ باپ کے ہاتھ پر وہ رکھ دیتا ہے تو باپ بصد ہزار محبت و پیار اس کے ہاتھ پر ایک دنیارکھ دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ غنی مطلق اور مالک مطلق ہے اس کو کسی کے قرض کی ذرہ برابر حاجت نہیں وہ اپنے خزانہ سے جس کو چاہتا ہے کم دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے وسعت اور کشائش کے ساتھ دیتا ہے اور جس طرح تم دنیا میں خالی ہاتھ آئے تھے اسی طرح تم خالی ہاتھ اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے اس کا مقتضی تو یہ تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے قرض کے نام سے بھی نہ مانگتا اور نہ کسی معاوضہ کا وعدہ فرماتا تب بھی تم کو تمام مال اس کے لیے حاضر کردینا تھا یہ مال اور جان اور یہ وجود سب اسی کا عطیہ ہے۔ 1) ۔ خدا کی راہ میں دینے کو مجازا قرض کہا گیا اس لیے کہ قرض دینے کے معنی یہ ہیں کہ کسی کو اپنا مال اس شرط پردے کہ پھر وہ برابر سرابر اس کے پاس واپس آجائے اور بندہ حقیقۃ کسی چیز کا مالک نہیں سب چیز اللہ کی ہے آقا کو غلام سے قرض مانگنے کی کیا ضررت خود غلام اس کا مملوک ہے۔ محض تلطف اور اظہار عنایت کے لیے اس کا نام قرض رکھ دیا خدا کی راہ میں جو خرچ کرو گے من جانب اللہ اس کا معاوضہ ملے گا جیسا کہ ان اللہ اشتری من المومنین انفسھم واموالھم بان الھم الجنہ۔ میں نفوس اور اموال کے عوض میں جنت دینے کا نام بیع وشراء رکھا حالانکہ جان اور مال اور جنت سب کے وہی مالک ہیں بیع وشراء کے لیے یہ ضروری ہے کہ بائع اور مشتری کی ملک علیحدہ علیحدہ ہو پس جس طرح اس آیت میں درحقیقت وہی بائع اور وہی مشتری ہیں محض ظاہر کے اعتبار سے بندہ کو بائع اور اپنے کو مشتری مجازا قرار دیا اسی طرح اس آیت میں سمجھو کہ لینے والے اور دینے والے سب وہی ہیں مجازا اس کو قرض سے تعبیر کردیا تاکہ اس ظلوم وجہول کا دل خوش ہوجائے اور اگر کچھ عقل ہے تو غیرت سے زمین میں گڑ جائے کہ اللہ اکبر خود اپنے فضل وکرم سے مال و دولت ہم کو دیتے ہیں اور پھر ہمارے ہاتھ میں دے کر یہ فرماتے ہیں کہ لاؤ اس میں سے کچھ ہم کو قرض دے دو اور حکم بھی بصورت امر نہیں بلکہ استفہام کی صورت میں ہے کہ کون ہے جو اللہ کو قرض دے یہود بےبہبود بڑے ہی نادان تھے کہ اس تلطف اور عنایت کو تو نہ سمجھے بلکہ الٹا یہ سمجھے کہ معاذ اللہ خدا حا جنت مند ہے اس لیے ہم سے قرض مانگتا ہے کماقال تعالی، لقد سمع اللہ قول الذین قالوا ان اللہ فقیر ونحن اغنیاء۔ آیت۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ آیت میں مضاف مقدر ہے، ای من ذالذی یقرض عباد اللہ۔ یعنی کون ہے جو اللہ کے بندوں کو قرضہ دے اللہ کو قرض دینے سے اس کے بندوں کو قرض دینا مراد ہے جیسا کہ ایک حدیث قدسی میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے، اے آدم کے بیٹے میں بیمارہوا تو نے میری عیادت نہ کی میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے مجھ کو کھانا نہ دیا میں نے تجھ سے پانی مانگا تو نے مجھ کو پانی نہ دیا بندہ عرض کرے گا کہ اے پروردگار آپ کو کیسے پلاتا آپ تو تمام عالم کے مربی اور کھلانے والے ہیں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میرے فلاں بندہ نے تجھ سے کھانا مانگا تھا تو نے اسے کھانا نہیں دیا اگر تو اس کو کھانا دیتا تو اس کو ضرور میرے پاس پاتا۔ الی آخرالحدیث۔ 2) ۔ حدیث میں ہے کہ جب یہ آیت من ذالذی یقرض۔ نازل ہوئی تو ابوالدحداح ؓ نے (بطور مسرت اور لذت) عرض کیا یارسول اللہ کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض چاہتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اے ابوالدحداح۔ ابوالدحداح نے عرض کیا یارسول اللہ میرے پاس دو باغ ہیں ایک عالیہ میں اور ایک سافلہ میں اور خدا کی قسم ان دو باغوں کے سوا اور کسی چیز کا مالک نہیں دونوں باغوں کو اللہ کے لیے قرض دیتا ہوں حضور نے فرمایا ایک باغ خدا کے لیے دیدے اور ایک باغ اپنے اہل و عیال کے گذران معاش کے لیے رہنے دے ابوالدحداح نے عرض کیا یارسول اللہ میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ ان دو باغوں میں جو سب سے بہتر باغ ہے جس میں چھ سو کھجور کے درخت ہیں وہ اللہ کے لیے دیتا ہوں حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تجھ کو اس کے عوض جنت میں باغ دے گا۔ ابوالدحداح آپ ﷺ کے پاس سے اٹھ کر اپنے اس بڑے عمدہ باغ میں پہنچے جس کو اللہ کی نذر کرکے آئے تھے ابوالدحداح کی بیوی ام دحداح اور بچے اسی باغ میں کھیل تھے اور پھل کھا رہے تھے اور درختوں کے سایہ میں کھیل رہے تھے ابوالدحداح باغ میں داخل ہوئے اور بیوی سامنے آئیں ابولدحداح نے یہ شعر پڑھنے شروع کردیے۔ ترجمہ۔ اللہ تعالیٰ تجھ کو رشد اور ہدایت اور خیر اور صواب کے راستے پر چلائے اس باغ سے فرحت اور مسرت کے ساتھ ابھی علیحدہ ہوجاؤ اور باہر چلی جاؤ یہ باغ اللہ کو قیامت تک کے لیے قرض دیدیا ہے، یہ باغ میں نے اللہ کو نہایت شوق اور رغبت کے ساتھ قرض دیا ہے جس کانہ کوئی احسان ہے اور نہ جس کو واپس لینا ہے صرف اضعافا مضاعفہ اجر اور ثواب کی امید پر قرض دیا ہے لہذا اسی وقت تو خود مع بچوں کے باغ سے باہر نکل جا اب یہ باغ اللہ کا ہوچکا ہے ہمارا نہیں رہا اور آخرت کا بہترین توشہ وہ خدا کی راہ میں نیکی ہے یعنی اپنی محبوب چیز کو خدا کی راہ میں دے دینا ہے کماقال تعالی، لن تنالوالبر حتی تنفقو مماتحبون۔ آیت۔ ام دحداح نے شوہر کا یہ کلام سنتے ہی اول تو مبارک باد دی اور یہ کہا، تیری تجارت نفع مند ہوئی اللہ تعالیٰ برکت دے اس میں جو تو نے خریدا ہے بعدازاں شوہر کی نظم کا جواب نظم میں دیا اور یہ شعر پڑھنے شروع کردیے، تجھ کو خیر اور فرحت کی بشارت ہو تجھ جیسا ہی ایسے حوصلے کے کام کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے میرے بچوں کو قسم قسم کی کھجوریں دی ہیں اگر ایک باغ خدا کو دے دیا تو کیا ہوا، بندہ جو کچھ بھی کرتا ہے وہ اپنی ہی منفعت اور آخرت کی درستی کے لیے کرتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو کوئی حاجت نہیں نیکی سے بندہ کو ثواب ملتا ہے اور گناہ کا وبال اس پر پڑتا ہے، بعدازاں ام دحداح بچوں کی طرف متوجہ ہوئیں بچے جو پھل دامنوں میں لے رہے تھے وہ دامن جھٹک دیے اور جو کھجوریں بچوں کے منہ میں تھیں وہ انگلی ڈال کر نکال دیں اور بچوں سے کہا کہ اس باغ سے نکلو اور اسی وقت دوسرے باغ میں منتقل ہوگئیں۔ نہ معلوم ابوالدحداح کے لیے آخرت میں کتنے بیشمار کھجور کے لمبے لمبے درخت ہیں اور کتنے وسیع اور کشادہ مکان ہیں۔ 3) ۔ قرض دینے میں بڑا اجرعظیم ہے مسلمان کی پریشانی اس سے دور ہوتی ہے سنن ابن ماجہ میں ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ میں نے شب معراج میں جنت کے دروازہ پر لکھا ہوا دیکھا۔ صدقہ کا اجر دس گنا ہے اور قرض کا اٹھارہ گنا۔ میں نے جبریل سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے قرض کو صدقہ سے افضل قرار دیا جبریل نے کہا سائل سوال کرتا ہے اور اس کے پاس کچھ ہوتا ہے اور قرض مانگنے والا بغیر حاجت کے قرض نے نہیں مانگتا (تفسیر قرطبی ص 240 ج 3) ۔
Ayahs 2:246–252

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:246 in the Quran reader

بھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا جس نے موسیٰ کے بعد اپنے پیغمبر سے کہا کہ آپ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردیں تاکہ ہم خدا کی راہ میں جہاد کریں ؟ پیغمبر نے کہا کہ اگر تم کو جہاد کا حکم دیا جائے تو عجب نہیں کہ لڑنے سے پہلو تہی کرو وہ کہنے لگے کہ ہم راہ خدا میں کیوں نہ لڑیں گے جب کہ ہم وطن سے (خارج) اور بال بچوں سے جدا کردیئے گئے لیکن جب ان کو جہاد کا حکم دیا گیا تو چند اشخاص کے سوا سب پھرگئے اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:247 in the Quran reader

اور پیغمبر نے ان سے (یہ بھی) کہا کہ خدا نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے وہ بولے کہ اسے ہم پر بادشاہی کا حق کیونکر ہوسکتا ہے بادشاہی کے مستحق تو ہم ہیں اور اس کے پاس تو بہت سی دولت بھی نہیں پیغمبر نے کہا کہ خدا نے اس کو تم پر (فضیلت دی ہے اور بادشاہی کیلیے) منتخب فرمایا ہے اس نے اسے علم بھی بہت سا بخشا ہے اور تن و توش بھی (بڑا عطا کیا ہے) اور خدا (کو اختیار ہے) جسے چاہے بادشاہی بخشے وہ بڑا کشائش والا اور دانا ہے

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 2:248 in the Quran reader

اور پیغمبر نے ان سے کہا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader

غرض جب طالوت فوجیں لے کر روانہ ہوا تو اس نے (ان سے) کہا کہ خدا ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے جو شخص اس میں سے پانی پی لے گا (اس کی نسبت تصور کیا جائیگا کہ) وہ میرا نہیں اور جو نہ پئے گا وہ (سمجھا جائیگا) میرا ہے ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلّو بھر پانی لے لے (تو خیر جب وہ لوگ نہر پر پہنچے) تو چند شخصوں کے سوا سب نے پانی پی لیا پھر جب طالوت اور مومن لوگ جو اس کے ساتھ تھے نہر کے پار ہوگئے تو کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں جو لوگ یقین رکھتے تھے کہ خدا کے روبرو حاضر ہونا ہے وہ کہنے لگے کہ بسا اوقات تھوڑی سی جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور خدا استقلال رکھنے والوں کے ساتھ ہے

وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader

اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل میں آئے تو (خدا سے) دعا کی کہ اے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں (لڑائی میں) ثابت قدم رکھ اور (لشکر کفار پر فتح یاب کر)

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader

تو طالوت کی فوج نے خدا کے حکم سے ان کو ہزیمت دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کر ڈالا اور خدا نے ان کو بادشاہی اور دانائی بخشی اور جو کچھ چاہا سکھایا اور خدا لوگوں کو ایک دوسرے (پر چڑھائی اور حملہ کرنے) سے نہ ہٹاتا رہتا تو ملک تباہ ہوجاتا لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہربان ہے

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں (اور اے محمد ﷺ تم بلاشبہ پیغمبروں میں سے ہو

قصہ طالوت وجالوت۔ برائے ترغیب جہاد و قتال ورعایت آداب جہاد۔ قال تعالی، الم ترالی الملاء من بنی اسرائیل من بعد موسی۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ المرسلین۔ ربط) ۔ حق جل شانہ ان آیات میں بنی اسرائیل کا دوسرا قصہ بیان فرماتے ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے تخمینا اور اندازا گیارہ سو سال پہلے گذرا ہے اس قصہ سے جہاد و قتال کی ترغیب اور آداب جہاد کی تعلیم اور صبر و تحمل کی تلقین مقصود ہے نیز گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کا قابض اور باسط ہونا مذکور ہوا، واللہ یقبض ویبصط والیہ ترجعون۔ آیت۔ اب ان آیات اور اس قصہ میں جو یہاں مذکور ہو اس کے قبض اور بسط کی دلیل ہے کہ وہ مالک الملک ایساقابض اور باسط ہے کہ جب چاہتا ہے کہ فقیر کو بادشاہ اور بادشاہ کو فقیر بنا دیتا ہے بادشاہت کا دینا اور چھیننا سب اس کے ہاتھ میں ہے چناچہ فرماتے ہیں کیا اے مخاطب تو نے بنی اسرائیل کے سربرآوردہ اور اشراف لوگوں کی جماعت کو نہیں دیکھا جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک زمانہ بعد اپنے زمانہ کے ایک نبی جن کا نام شمویل تھا یہ کہا آپ ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کردیجئے جس کے ساتھ ہو کر ہم راہ خداوندی میں جہاد و قتال کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد ایک مدت تک بنی اسرائیل کا حال درست رہا اور ان کا کام بنارہا رفتہ رفتہ جب وہ احکام تورات سے دور ہوگئے تب اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ان پر مسلط کیا اور عمالقہ ان پر غالب آگئے اور جالوت جو کافر بادشاہ تھا اس نے بنی اسرائیل کے بہت سے شہروں پر قبضہ کرلیا اور سینکڑوں بچوں کو پکڑ کے لے گیا اور ان کو غلام اور لونڈی بنالیا اور بنی اسرائیل سے توریت بھی چھین کرلے گئے جب ذلت اور رسوائی یہاں تک پہنچ گئی تو بنی اسرائیل کے اشراف اور سرداروں کو خیال پیدا ہوا کہ اس ذلت کا کوئی مداوی ہو اس لیے اس اپنے نبی سے جن کا نام شمویل تھا بادشاہ مقرر کرنے کی درخواست کی حضرت شمویل نے ان کو یہ جواب دیا کہ کیا تم سے اس کی توقع ہے کہ اگر تم کو جہاد و قتال کا حکم ہوجائے تو نہ لڑو یعنی تمہاری حالت سے مجھے توقع نہیں کہ اگر تم پر جہاد و قتال فرض ہوجائے تو تم بادشاہ کے ساتھ ہو کر جہاد و قتال کرو بنی اسرائیل نے کہا کہ ہمیں کیا ہوا کہ خدا کی راہ میں جہاد و قتال نہ کریں اور حالانکہ جہاد کے لیے اس وقت ایک خاص داعیہ اور سبب بھی موجود ہے وہ یہ کہ ہم اپنے گھروں سے نکالئے گئے اور اپنے بچوں سے جدا کردیے گئے غرض یہ کہ اس طرح لوگوں نے جہاد پر اپنی پختگی اور آمادگی کو ظاہر کیا پس جب انکے اصرار اور اظہار پختگی کے بعد ان پر جہاد و قتال فرض کیا گیا تو سوائے چند آدمیوں کے سب پھرگئے اور وہ چند آدمی وہ تھے کہ جو نہر سے پار اترے جس کا بیان عنقریب آئے گا اور اللہ تعالیٰ ظالموں اور ستم گاروں کو خوب جانتا ہے ظلم اور معصیت آدمی کو بزدل بنادیتی ہے اور ظلم وستم کی اصل جڑ نبی پر اعتراض کرنا ہے جس نے نبی کی بات کو بےچون وچرا قبول کیا اس نے اپنی جان پر رحم کیا اور جس نے نبی کی بات پر اعتراض کیا اس نے اپنی جان پر ظلم کیا چناچہ جس وقت ان کے نبی نے ان کے جواب میں کہا اول تو یہ ہے کہ تحقیق اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے یعنی تمہاری عزت اور سرداری کے حصول کے لیے طالوت بادشاہ مقرر کیا ہے سنتے ہی نبی پر اعتراضات شروع کردیے اور یہ کہا کہ طالوت کو ہم پر حکومت اور سلطنت کا کیا حق حاصل ہے طالوت ایک فقیر آدمی ہے قوم کا سقاء یارنگریز ہے شاہی خاندان سے نہیں اور ہم سلطنت کے اس سے زیادہ مستحق ہیں کیونکہ ہم شاہی خاندان سے ہیں اس لیے کہ ہم یہود کی اولاد ہیں جس میں بادشاہت چلی آرہی ہے اور علاوہ ازیں طالوت کو مال دولت کی فراخی اور فروانی بھی حاصل نہیں اور ہم دولت مند اور اصحاب ثروت ہیں لہذا ایسے شخص کو کہ جس کو نہ خاندانی وجاہت حاصل ہے اور نہ مالی عزت حاصل ہو بادشاہ بنانا کسی طرح مناسب نہیں اللہ کے نبی نے ان کے اعتراض کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ تمہارے یہ اعتراض سب مہمل اور لایعنی ہیں تحقیق اللہ تعالیٰ نے طالوت کو محض تمہارے نفع اور فائدہ کے لیے پسند فرمایا ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ جس کو سلطنت کے لیے پسند فرمائیں گے اس سے بڑھ کر کوئی شخص سلطنت اور حکمرانی کا اہل نہیں ہوسکتا اور خصوصا جب کہ ارادہ خداوندی تمہارے نفع اور خیر کا ہے جیسا کہ لفظ لکم سے صاف ظاہر ہے کہ تو ایسی صورت میں کسی شر اور فساد کا احتمال ہی نہیں رہتا معلوم ہوا کہ طالوت کی سلطنت تمہارے لیے سراپا خیر و برکت ہوگی اور دینی اور دنیوی ہر اعتبار سے تمہارے لیے باعث عزت ہوگی۔ حق جل شانہ جب کسی قوم کی تباہی اور بربادی کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس پر ظالموں اور ستم گاروں کو حاکم بناتے ہیں اور جب کسی قوم کی فلاح اور بہبودی کا ارادہ فرماتے ہیں تو پاکیزہ اور پسندیدہ حکمراں ان کے لیے مقرر فرماتے ہیں غرض یہ کہ طالوت کو اللہ تعالیٰ نے تمہاری خیر اور نفع اور مصلحت کے لیے پسند فرمایا ہے اور تم اپنی مصلحتوں کو کما حقہ نہیں سمجھ سکتے اس لیے اس انتخاب خداوندی میں تم کو خدشہ اور وسوسہ نہ کرنا چاہیے اور دوسرے یہ کہ سلطنت اور بادشاہت اصل دارمدار عقل سلیم اور جسم سلیم پر ہے اور حسب ونسب اور مال دولت پر نہیں جس شخص کے قوائے عقلیہ ادراکیہ اور قوائے جسمانیہ صحیح اور تندرست ہوں وہی بادشاہ بنائے جانے کا مستحق ہے اور یہ دونوں صفتیں اللہ تعالیٰ نے طالوت کو عطا کی ہیں چناچہ اللہ نے اس کو علم وفہم اور عقل و دانش میں وسعت اور فراخی عطا کی ہے اور قوت جسمانیہ اور بدنیہ میں بھی اس کو زیادتی عطا فرمائی ہے اور بادشاہ ہونے کے لیے انہی دو صفتوں کی ضرورت ہے علم اور فہم سے ملکی انتظام پر قدرت ہوگی اور بدنی قوت اور جسامت شجاعت اور بہادری کی علامت ہے اور ظاہر ہے کہ جب فہم و فراست کے ساتھ شجاعت بھی مل جائے گی تو کارخانہ سلطنت نہایت خیر خوبی کے ساتھ چلے گا اس لیے کہ سلطنت چلانے کے لیے یہ نہات ضروری ہے کہ بادشاہ کی عظمت اور ہیبت لوگوں کے قلوب میں راسخ ہو اگر دلوں میں بادشاہ کی عظمت اور ہیبت نہ ہو تو لوگ اطاعت اور فرمانبرداری نہ کریں گے اور کارخانہ سلطنت نہ چلے گا اور حقیقی عظمت اور ہیبت کا مدار فہم و فراست اور قوت و شجاعت پر ہے اور یہ دونوں باتیں اللہ تعالیٰ نے طالوت کو عطا کی ہیں طالوت علم اور فہم میں بھی سب سے بڑھے ہوئے تھے اور قوت جسمانیہ کا یہ حال تھا کہ طالوت تمام بنی اسرائیل میں سب سے زیادہ خوبصورت اور قد آور اور بہادر تھے اور ان اللہ الصطفہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ طالوت ملھم من اللہ بھی تھے یعنی صاحب الہام بھی تھے اس لیے کہ قرآن کریم میں جس کسی کو شان اصطفاء سے حصہ ملا ہے وہ ضرور صاحب الہام اور صاحب کشف کرامت ہوا ہے اور فی العلم کا لفظ اپنے عموم اور اطلاق کی بناء پر علم ظاہری اور علم باطنی اور علم شریعت اور علم سلطنت اور علم سیاست سب کو شامل ہے کیونکہ ایسی سلطنت جس سے دین اور دنیا دونوں ہی درست ہوں وہ جب ہوسکتی ہے کہ جب بادشاہ اوصاف مذکورہ کا حامل ہوا اور تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ مالک الملک ہیں اس کی عطا اور بخشش کے لیے کسی اہل بیت اور قابلیت کی شرط نہیں بلکہ اہلیت قابلیت کیل یے اس کی عطا شرط ہے کہ کسی کی مجال کیا ہے جو اس خداوندذوالجلال سے سوال کرسکے وہ مالک مطلق ہیں جس کو چاہتے ہیں بادشاہی عطا کرتے ہیں اور اگر وہ شخص بادشاہت کی ذرہ برابر لیاقت بھی نہ رکھتا ہو تو اس کو سلطنت کی لیاقت اور قابلیت عطا فرمادیتے ہیں اور غیب سے اس کی مدد فرماتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت اور کشائش والے ہیں اور اس کے خزائن کی کوئی حد اور نہایت نہیں انہیں کسی فقری کو امیر بنادینا کیا مشکل ہے اور سب کچھ جاننے والے ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ کون بادشاہت کے لائق ہے اور کون اس کے لائقن ہیں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں طالوت کی بادشاہی کے چار سبب بیان کیے اول اس کی خدا داد صلاحیتیں جس کو اصطفاء سے تعبیر کیا دوم وسعت علم جس پر حکمرانی اور تدبیر ملکی کا دارومدار ہے سوم توانائی جسم جو شجاعت اور ہیبت اور قدرت علی المدافعت کا موجب ہے چہارم تائید غیبی جس کو واللہ یوتی ملکہ من یشاء اور ان آیتہ ملکہ۔ سے ظاہر فرمایا چونکہ بنی اسرائیل کے سرداروں نے طالوت کے بادشاہ بننے کو بہت بعید سمجھا اس لیے ان کے رد میں قدرے تفصیل فرمائی جس کا خلاصہ یہ ہے۔ 1۔ کہ بادشاہت کا اصلی اور حقیقی سب اللہ تعالیٰ کی عطاء اور بخشش اور اس کا اصطفاء اور پسندیدگہ ہے اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بادشاہت کے لیے پسند فرماتا ہے وہی بادشاہ ہے اور اللہ جس کو پسند فرمائے وہ کبھی ناپسندیدہ نہیں ہوسکتا۔ 2۔ اور اگر تمہاری نظر ظاہری اسباب پر ہے تو سمجھ لو کہ سلطنت کا مدار حسب ونسب اور مال و دولت پر نہیں اس لیے کہ مال آنے جانے والی چیز ہے صبح آتا ہے اور شام جاتا ہے بلکہ سلطنت کا ظاہری سبب یہ ہے کہ علم اور فہم ہو اور اس کے ساتھ قوت بدنیہ ہو تاکہ اس قوت جسمانیہ سے علم اور فہم کے موافق عمل کرنے کی قدرت حاصل ہوسکے ورنہ علم بغیر قدرت اور قوت کے بےکار ہے خصوصا کارخانہ سلطنت محض علم سے بدون قدرت کے نہیں چلتا اور تیسرے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کے بعد کسی کو مجال دم زندگی نہیں وہ تمام مصلحتوں کو تم سے زیادہ جانتا ہے اور وہ ارحم الراحمین ہے وہ تم پر تم سے زیادہ مہربان ہے اور اس لیے اب تم کو طالوت کی بادشاہت میں کوئی حجت نکالنا روا اور زیبا نہیں دیتا مگر یہ ظالم کب خاموش ہونے والے تھے اللہ کے نبی نے ان ظالموں کے اعتراض کا نہایت شافی اور کافی جواب دیا ہے لیکن یہ لوگ اپنے وسوسوں کی وادی تیہ میں بھٹکتے رہے اور بالاآخر ان لوگوں نے حضرت شمویل سے یہ کہا کہ اچھا ہمیں طالوت کی بادشاہت اور ان کے برگزیدہ ہونے کی کوئی ظاہری نشانی بتلائیے جسے دیکھ کر ہم ان کے بادشاہ ہونے کا بالبداہت یقین آجائے اور قلب مطمئن ہوجائے اس وقت ان کے پیغمبرنے یہ فرمایا کہ تحقیق طالوت کے من جانب اللہ بادشاہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ تمہارے پاس بلاکسی ظاہری سبب کے وہ صندوق آجائیگا جو تم سے چھین گیا تھا اس صندوق کے اس طرح آنے میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری دل جمعی اور سکون قلب اور آرام دل کا سامان ہوگا اور اس صندوق میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے خاندان کے کچھ تبرکات بھی ہوں گے جن کو وہ چھوڑے گئے ہیں ان تبرکات کا تمہیں مل جانا صد ہزار خیرات وبرکات کا موجب ہوگا ابن عباس اور قتادہ اور سدی اور عکرمہ اور ربیع بن انس اور ابوصالح سے مروی ہے کہ اس تابوت میں توریت کی دوتختیاں اور کچھ ان تختیوں کے ٹکڑے تھے جو ٹوٹ گئی تھیں اور حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے عصا اور ان کے عمامے اور جوتے وغیرہ تھے اور اس صندوق کی آمد بھی عجیب شان سے ہوگی اور وہ یہ کہ فرشتے اس تابوت کو اٹھا کرلائیں گے اور طالوت کے سامنے لاکر رکھ دیں گے تحقیق اس صندوق کے اس طرح آنے میں تمہارے لیے ایک نشانی ہوگی جو طالوت کی بادشاہت اور میری نبوت کی صداقت کی دلیل ہوگی اگر تم باور کرو صندوق کا اس خارق عادت طریق پر آنا جس طرح طالوت کی بادشاہت کی دلیل ہوگا اسی طرح حضرت شمویل کی نبوت اور صداقت کی دلیل ہوگا کہ اللہ کے نبی نے جس طرح خبر دی تھی اسی طرح ظہور ہوا اور فرشتوں نے وہ تابوت لاکر طالوت کے سامنے رکھ دیا بنی اسرائیل خوش ہوگئے اور ان کو بادشاہ مان لیا اور سب کے سب جہاد کے لیے فورا تیار ہوگئے پس جب طالوت ان فوجوں کو لے کر شہر سے باہر نکلا تو فوجوں سے یہ کہا کہ اللہ ایک نہر سے تمہارے صبر اور تحمل کی آزمائش فرمائیں گے ان لوگوں نے اللہ کے نبی پر اعتراضات کیے اور طالوت کی بادشاہت کی نشانی طلب کی اللہ نے ان کو ایک آزمائش میں مبتلا کیا بظاہر یہ ابتلاء اور آزمائش کا حکم بذریعہ وحی حضرت شمویل پر نازل ہو اور پھر حضرت شمویل کی ہدایت کے مطابق طالوت نے اس حکم کا اعلان کیا اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت طالوت کو اس کا الہام ہوا ہو اس لیے کہ حضرت طالوت خدا کے پسندیدہ تھے اگرچہ نبی نہ تھے مگر ولی ضرور تھے الہام یا خواب کے ذریعہ سے اس کا القاء ہونا کوئی مستبعد نہیں اور ولی کا الہام اگرچہ فی حد ذاتہ ظنی ہے مگر جب نبی اس کی تصدیق کردے تو وہ قطعی ہوجاتا ہے اور یہ ناممکن ہے کہ ایسے عظیم الشان امر کے متعلق طالوت کوئی الہام ہو اور اپنے اس الہام کا بغیر حضرت شمویل کی تصدیب اور اجازت کے اعلان کریں نبی کی تصدیق اور تصویب تو بہت بڑی چیز ہے کسی چیز کے ہوئے دیکھ کر نبی کا انکار نہ کرنا یہ بھی اس امر کے جائز ہونے کی قطعی دلیل ہے اصطلاح شریعت میں اس کو تقریر نبوی کہتے ہیں یعنی نبی کے سکوت اور عدم انکار نے اس امر کو جائز اور درست قرار دیا جو باجماع امت حجت ہے اب آئندہ آیت میں اس امتحان کی تفصیل ہے پس جو شخص اس نہر سے سیر ہو کر پانی پی لے گا اس کا میرے سے کوئی تعلق نہیں یعنی میرے گروہ سے نہیں رہا اور جس شخص نے اس کا مزہ بھی نہ چکھا یعنی پینا تو درکنار منہ سے بھی نہ لگایا تو وہ بلاشبہ میرے سے وابستہ ہے اور میرے خاص رفقاء اور ساتھیوں میں سے ہے مگر وہ شخص جو اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھرلے سو میرے گروہ سے خارج نہ ہوگا عزیمت اور اصل حکم تو یہی تھا کہ پانی کو بالکل نہ چکھتا بمقدار ایک چلو کے رخصت ہے یعنی جس نے سیر ہو کر پانی نہیں پیا اور صرف جان بچانے کے لیے برائے نام پی لیا تو وہ بھی فی الجملہ مقبول ہے اور غنیمت ہے پس جب اس نہر پر پہنچے تو سب نے بےتحاشا اس نہر سے منہ لگا کر پانی پی لیا مگر تھوڑے آدمیوں نے جن کی تعداد تین سو تیرہ تھی انہوں نے عزیمت اور رخصت پر عمل کیا اور اجازت سے تجاوز نہ کیا جن لوگوں نے چلو سے پانی پیا ان کی پیاس بجھ گئی اور ان کا دل قوی ہوگیا اور جن لوگوں نے زیادہ پیا وہ بزدل اور نامرد ہوگئے اور نہ ان کی پیاس بجھ گئی اور نہ وہ اس قابل رہے کہ نہر سے پار ہوسکیں پس جب طالوت اور ان کے رفقاء مومنین نہر سے پار ہوگئے اور دیکھا کہ ہم ایک مٹھی بھر جماعت ہیں اور جالوت کا لشکر ایک لاکھ سے متجاوز ہے اس لیے بعض ضعیف القلب یہ کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کے مقابلہ کی تاب نہیں دشمن کی طاقت بہت ہے اور ہم بہت تھوڑے ہیں البتہ ان میں جو لوگ اولوالعزم اور اہل ہمت تھے اور یہ یقین رکھتے تھے کہ ایک دن خدا سے ملنا ہے اور اس کو منہ دکھانا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو فتح اور نصرت کا وعدہ کیا ہے وہ بالکل حق ہے اور ان لوگوں نے کمزوروں کو ہمت دلائی اور یہ کہا کہ گھبراؤ نہیں فتح ونصرت کا دارومدار قلت و کثرت پر نہیں بسا اوقات ایسا ہوا ہے کہ بہت تھوڑی اور چھوٹی سی جماعت بڑی سے بڑی جماعت پر اللہ کے حکم سے غالب آئی ہے اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور اللہ جس کے ساتھ ہو وہ کبھی مغلوب نہیں ہوسکتا اور جب جالوت اور اس کی فوجوں کے مقابلے کے لیے میدان میں نکلے تو انی ہمت اور شجاعت پر نظر نہیں بلکہ اللہ ذوالجلال کی طرف متوجہ ہوئے اور یہ دعا مانگنی شروع کی اے ہمارے پروردگار ہم پر صبر کو پانی کی طرح بہادے کہ سر سے پیر تک صبر کے پانی میں نہا جائیں اور صبر کی برودت اور سکینت ہمارے ظاہر اور باطن میں سرایت کرجائے اور کافروں کے مقابلے میں ہم کو ثابت قدم رکھ اور کافر قوم کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما اور ہم فتح دے پس اس صبر اور تحمل اور اللہ پر اعتماد اور توکل کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان تھوڑے آدمیوں نے جالوت کی فوجوں اور لشکروں کو اللہ کی تائید سے شکست دی اور داود (علیہ السلام) نے جو اس وقت اپنے والد اور چھ بھائیوں کے لشکر میں تھے اور ابھی تک ان کو نبوت نہیں ملی تھی جالوت کو قتل کرڈالا اور داود (علیہ السلام) اپنے سب بھائیوں میں چھوٹے تھے جب میدان کارزار سامنے آیا اور جالوت نہایت کروفر کے ساتھ زہ اور خورد پہن کر میدان میں آیا اور بنی اسرائیل سے مبارز اور مقابل طلب کیا حضرت داود (علیہ السلام) بغیر تلوار اور بغیر ہتھیار کے صرف تین پتھر لے کر اس کے مقابلہ کو نکلے جب سامنے آئے تو ان پتھروں کو فلاخن میں رکھ کر جالوت کی پیشانی پر مارا وہ پتھر جالوت کی گدی کی جانب سے نکل گئے اور جالوت منہ کے بل زمین پر گرا فورا اس کی تلوار نکال کر اس کا سر قلم کیا کہا جاتا ہے کہ راستہ میں داود کو ایک پتھر نے آواز دی، اے داؤد مجھ کو اٹھا لو میرے ذریعہ سے تم جالوت کو مارو گے پھر اسی طرح ایک اور پتھر نے آواز دی اور پھر ایک اور پتھر نے آواز دی داؤد (علیہ السلام) نے تینوں پتھروں کو اپنے تھیلے میں ڈال لیا اور روانہ ہوئے جب جالوت گھوڑے پر سوار ہو کر اور زرہ اور تلوار لگا کر میدان میں نکلا تو داود فقط یہ تین پتھر لے کر آگے بڑھے اور یہ کہا کہ اگر اللہ مدد نہ کرے تو تلوار اور گھوڑا اور ہتھیار بھی بےکار ہے جالوت نے داود سے کہا کہ تم تو فقط پتھر لے کر آئے ہو میرے سامنے جیسے کوئی کتے کو مارنے کیلیے نکلتا ہے فرمایا تو کتے سے بھی بدتر ہے اور اللہ کا نام لے کر وہ تینوں پتھر جالوت کے مارے جو ماتھے میں لگے اور گدی کے پیچھے سے نکل گئے (تفسیر قرطبی ص 257 ج 3) ۔ طالوت نے اس خوشی میں اپنی بیٹی حضرت داؤد (علیہ السلام) کے نکاح میں دے دی اور پھر اللہ نے طالوت کے مرنے کے بعد داؤد کو سلطنت عطا کی اور طالوت کے مرنے کے بعد باتفاق بنی اسرائیل داؤد (علیہ السلام) بادشاہ مقرر ہوئے داود (علیہ السلام) سے پہلے بنی اسرائیل کسی کی بادشاہت پر اتنے مجتمع نہیں ہوئے جتنا کہ داود کی بادشاہت پر ہوئے اورا للہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو سلطنت اور بادشاہت کے علم اور حکمت یعنی نبوت عطا کی اور داود (علیہ السلام) سے پہلے کبھی کسی آدمی میں سلطنت اور نبوت جمع نہیں ہوئیں سلطنت شاہی خاندان میں رہتیتھی اور نبوت نبی کے خاندان میں رہتی تھی اور اس کے علاوہ اللہ نے داود کو جو امور چاہے سکھائے جیسے بغیر آلات کے زرہیں بنانا سکھایا اور لوہے کی مثل موم کے ان کے لیے نرم کردیا پس اپنے ہاتھ سے کام کرتے اور اس کی مزدوری کھاتے اور پرندوں اور چیونٹیوں کی بولی ور زبان سکھائی اور خوش آواز عطا کی۔ ف) ۔ نبی اگرچہ نبی ہونے سے پہلے نبی ہوتا مگر ولی ضرور ہوتا ہے اور اولیاء کی کرامتیں حق ہیں جیسا کہ کتاب اللہ اور سنت متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے محض تین پتھروں سے جالوت کو مارنا یہ داود کی کرامت تھی اور آئندہ نبوت کا ارہاص یعنی پیش خیمہ تھی اور حضرت داؤد کی یہ کرامت نبی اکرم کے اس معجزہ کانمونہ تھی جو حضور سے جنگ حنین میں ظاہر ہوا کہ ایک مشت خاک سے ہوازن سراسیمہ ہوگئے (تفسیر قرطبی ص 258 ج 3) ۔ اور اسی صبر و استقلال کی برکت سے اللہ نے صحابہ کرام کو ایک عظیم الشان سلطنت عطا کی جو داود کی سلطنت کانمونہ تھی۔ بیان حکمت مشروعیت جہاد۔ اب اس واقعہ جہاد کے ذکر کے بعد جہاد کی عام حکمت اور مصلحت کو بیان فرماتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں یعنی کافروں کے شر اور فساد کو اپنے بعض خاص بندوں یعنی مومنین کے ذریعہ دفع نہ کرتا تو زمین میں فساد پھیل جائے اور کفر اور شرک غالب آجائے اور مسجدیں ویران ہوجائیں اور کوئی اللہ کا نام لینے والا باقی نہ رہے لیکن اللہ تعالیٰ بڑے فضل والے ہیں تمام لوگوں پر اس لیے کہ اس نے تم پر جہاد فرض کیا تاکہ کفر کا فتنہ اور فساد دفع ہوجائے اس لیے کہ کفر اور شرک کو کافروں سے جہاد کا حکم نہ دیتے تو بڑا فساد پھیل جاتا جہاد اسی فساد کی اصطلاح اور انسداد کے لیے مقرر ہوا ہے اس لیے جہاد کو اللہ کا بڑا فضل سمجھو۔ اثبات رسالت محمدیہ۔ یہ واقعات جن کا ذکر کیا اللہ کی آیتیں ہیں جن کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر ہم آپ کو سناتے ہیں جس میں ذرہ برابر شک نہیں یہ واقعات جس طرح ہم نے بیان کیے اسی طرح حق اور صدق ہیں اہل کتاب جس طرح بیان کرتے ہیں وہ قابل اعتبار نہیں اور یہ تمام واقعات اللہ کی قدرت اور پھر آپ کی نبوت کے دلائل ہیں کیونکہ ایسے قدیم زمانہ کے واقعات کا بغیر کسی سے پڑھے اور بغیر کسی سے سنے صحیح صحیح بیان کرنا بغیر وحی خداوندی کے ممکن نہیں اور آپ بلاشبہ اللہ کے رسولوں میں سے ہیں جن کو اللہ نے اپنے دشمنوں سے جہاد کا حکم دیا اور باوجود بےسروسامانی کے کافروں کے بڑے بڑے لشکروں کو ان کے خدام اور غلاموں کے ہاتھ سے تہ وبالا کر ایاجہاد انبیاء کی سنت ہے اور وہ لوگ نادان ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ جہاد و قتال نبیوں کا کام نہیں جہاد ہمیشہ رہا ہے اگر جہاد نہ ہو تو مفسد لوگ ملک کو ویران کردیں۔ الحمدللہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات، والصلوۃ والسلام علی سید الموجودات وخلاصہ الکائنات وعلی آلہ و اصحابہ وازواجہ الطاھرات المطہرات۔ 3 جمادی الاولی 1374 بعد صلاۃ المغرب، جامعہ اشرفیہ لاہور۔
Ayah 2:253

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader

یہ پیغمبر (جو ہم وقتاً فوقتا) بھیجتے رہے ہیں ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے بعض ایسے ہیں جن سے خدا نے گفتگو فرمائی اور بعض کے (دوسرے امور میں) مرتبے بلند کئے اور عیسیٰ بن مریم کو ہم نے کھلی ہوئی نشانیاں عطا کیں اور روح القدس سے ان کو مدد دی اور اگر خدا چاہتا تو ان سے پچھلے لوگ اپنے پاش کھلی نشانیاں آنے کے بعد آپس میں نہ لڑتے لیکن انہوں نے اختلاف کیا تو ان میں سے بعض ایمان لے آئے اور بعض کافر ہی رہے اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ باہم جنگ و قتال نہ کرتے لیکن خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

تیسرا پارہ ذکرفضائل رسل وبیان حال امم۔ قال تعالی، تلک الرسل فضلنا۔۔۔ الی۔۔۔ مایرید۔ ربط) ۔ گذشتہ آیت میں (وانک لمن المرسلین) میں انبیاء کرام کا اور ان کی امتوں کے معاملات کا ذکر فرمایا اور کافروں سے ان کے جہاد اور قتال کے واقعے اور انکی بےمثال اور خارق عادت فتح ونصرت اور تائید غیبی کا ذکر کیا اسی طرح اب آئندہ آیات میں رسل کے فضائل ودرجات اور ان کے کمالات اور معجزات کے ساتھ ان کی امتوں کے احوال اور انبیاء ورسل کے ساتھ ان کے اختلاف کو بیان فرماتے ہیں کہ باوجود آیات بینات اور دلائل واضحات کے دیکھ لینے کے پھر بھی ایمان نہ لائے اور حق سے اختلاف کیا اور انبیاء ورسل کی مخالفت کی اور حق کی دعوت اور تبلیغ میں مزاحم ہوئے اور اس لیے کہ اللہ نے ان کا شر اور فساد دفع کرنے کے لیے حضرات مرسلین کو جہاد کا حکم دیا اور اہل باطل کی طرف سے حضرات انبیاء کرام کی مخالفت جہاد و قتال کی مشروعت کا سبب بنی حضرات انبیاء اور ان کے اصحاب نے دین حق اور ہدایت کی بقا اور حفاظت کے لیے اور متقی اور پرہیزگاروں اور خدا کے پرستاروں کے تحفظ کے لیے جہاد کیا تاکہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب اور اس کی نازل کردہ ہدی یعنی ہدایت اور اسکی ہدایت پر چلنے والے متقی اور پرہیزگار اور نماز گزار بندے کفار ناہنجار کی مزاحمت سے محفوظ اور مامون ہوجاویں اور کفر کی یہ مجال نہ رہے کہ وہ دین حق کی طرف نظر اٹھا سکے۔ خلاصہ کلام یہ کہ گزشتہ آیات میں کافروں سے جہاد و قتال کا ذکر تھا اب اس آیت میں کافروں سے جہاد و قتال کا سبب بیان کیا گیا وہ یہ کہ انبیاء کرام کی مخالفت اور ان کی بےچون وچرا اطاعت سے سرتابی اور گردن کشی کی وجہ سے کافروں کی سرکوبی اور گردن کشی کا حکم نازل ہوا اس تقریر سے انشاء اللہ ان آتات کا سورة بقرہ کی ابتدائی آیات (ذالک الکتاب لاریب فیہ ھدی۔۔۔ الی۔۔ الصلوۃ) ۔ آیت۔ کے ساتھ بھی ربط ظاہر ہوجائے گا جو مزید غورفکر کا محتاج نہیں اور آئندہ آیات یعنی یا ایھا الذین آمنو انفقوا ممارزقنکم میں چونکہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا ذکر ہے جس میں جہاد میں مالی امدا کرنا بھی داخل ہے اس یے ان آئندہ آیات کو بھی جس طرح گذشتہ آیات جہاد و قتال سے ربط ہے اسی طرح ان آیات کو سورة بقرہ کی ابتدائی آیات وممارزقنھم ینفقون سے بھی ربط ہے۔ اور یا ایھا الذین آمنوا انفقوا ممارزقنکم سے دور تک صدقات اور راہ خداوندی میں خرچ کرنے کی ترغیبات کا سلسلہ چلا گیا ہے اور اسکے بعد اللہ نے رہا سود کے احکام ذکر فرمائے چونکہ سود صدقہ اور خیرات کی ضد ہے اسلیے صدقات اور خیرات کے بعد سود کے احکام بیان فرمائے اور سودی کاروبار کرنے کو خدا اور اس کے رسول سے اعلان جنگ قرار دیا اس لیے عجب نہیں کہ سود خواری کا انجام دلوں پر مہر لگ جانا ہو کہ جس سے حق اور باطل اور حلال اور حرام کا فرق اس کو نظر نہ آئے پس جس طرح آیت یا ایھا الذین امنوا انفقوا ممارزقنکم سورة بقرہ کی اس ابتدائی ایت یعنی وممارزقنھم ینفقون سے مرتبط ہے اسی طرح عجب نہیں کہ احل اللہ البیع و حرام الربوا کی آیتوں کو ختم اللہ علی قلوبھم وعلی سمعھم۔ کے ساتھ کوئی خاص ربط ہو اور تجربہ اور مشاہدہ بھی کچھ اسی کا شاہد ہے اس لیے دیکھا یہ گیا ہے کہ سود خواروں کو کوئی نصیحت کارگر نہیں ہوتی ان کی حالت سواء علیھم انذرتھم ام لم تنذرھم۔ آیت۔ کانمونہ ہوتی ہے۔ نیز اول پارہ میں زیادہ تر یہود بےبہبود کی شناعتوں کا بیان تھا اور قرآن کریم میں ہے کہ یہود کے ملعون اور مغضوب ہونے کے اسباب میں سے ایک سبب ان کی سود خواری بھی ہے کماقال تعالی، واکلھم الربوا اور اکالون للسحت۔ اور حرام مال آدمی کو قسی القلب، سنگ دل نہ ہوجائیں اور اس اعتبار سے آیات ربا کا تعلق ثم قست قلوبکم من بعد ذالک فھی کا الحجارۃ اور اشد قسوۃ (آیت) سے بھی کوئی بعید نہیں الحمدللہ کہ ان آیات کاربط گزشتہ آیات سے بھی ظاہر ہوگیا اور سورة بقرہ کی ابتدائی آیتوں سے بھی مرتبط ہونا معلوم ہوگیا۔ ربط دیگر) ۔ گزشتہ آیت (وانک لمن المرسلین) میں حضور پرنور ﷺ کی رسالت کا بیان تھا کہ آپ اللہ کے بلاشبہ رسول مگر معاندین باوجود دلائل نبوت اور شواہد رسالت کے مشاہدہ کے آپ کی رسالت کو نہیں مانتے ان آیات میں آپ کی تسلی کا مضمون مذکور ہے کہ آپ ان معاندین کی تکذیب سے رنجیدہ نہ ہوں پہلے بھی بہت سے پیغمبروں کو قسم قسم کے دلائل نبوت اور شواہد رسالت دیے گئے مگر پھر بھی سب ایمان نہیں لائے آپ کا انکار کوئی نئی بات اور کوئی قابل تعجب امر نہیں کوئی پیغمبر ایسا نہیں گذرا کہ جس پر سب ایمان لے آئے ہوں لہذا آپ معاندین کی تکذیب اور کفر سے رنجیدہ نہ ہوں یہ آپ کی رسالت کا قصور نہیں یہ تقدیر خداوندی ہے اللہ کی مشیت بھی اسی طرح ہے کہ کوئی ایمان لائے اور کوئی کفر کرے۔ درکار خانہ عشق از کفر ناگزیراست دوزخ کر ابسوزد گربولہب نباشد۔ باقی رہا یہ امر کہ اس میں حکمت اور مصلحت کیا ہے سو وہ اللہ ہی کو معلوم ہے یہ قضاء وقدر کا سربستہ راز جو آج تک کسی پر منکشف نہیں ہوا وہ مالک مطلق ہے جس کو چاہے بینائی (ہدایت) دے اور جس کو چاہے نابینا (گمراہ) بنائے، لایسئل عما یفعل وھم یلبسون۔ آیت۔ کر ازھرہ آں کہ از بیم تو کشاید زبان جزبہ تسلیم تو زبان تازہ کردن باقرار تو نینگیختن علت از کار تو یہ سوال کرنا کہ اس کو مومن اور اس کو کافر کیوں بنایا یہ ایسا ہی سوال ہے کہ اس کو بینا اور اس کو نابینا کیوں بنایا جو جواب اس کا ہے وہی اس کا ہے اب آئندہ آیت میں خبر دیتے ہیں کہ ہم نے بعض رسل کو بعض پر فضیلت دی تاکہ خدا کی قدرت کا کرشمہ اور ہر رسول کی شان اعجاز کا ایک نمونہ دنیا کو نظر آئے۔ ہر گلے رارنگ وبوئے دیگر است۔ یہ پیغمبروں کی جماعت جن کا ہم نے ابھی وانک لمن المرسلین۔ میں ذکر کیا جن میں آپ بھی داخل ہیں اگرچہ وصف نبوت و رسالت میں سب شریک ہیں لیکن ہم نے علاوہ نبوت و رسالت بعض کو بعض پر ایک خاص فضیلت دی ہے یعنی ہر رسول کو کسی خاص خصوصیت اور خاص فضیلت کے ساتھ مخصوص کیا ہے جو دوسرے میں نہ پائی جائے تاکہ ہر ایک کا فضل و کمال الگ الگ نظر آئے کماقال تعالیٰ ولقد فضلنابعض النبین علی بعض واتینا داود زبورا۔ آیت۔ اور جیسا کہ رسول اللہ نے شب معراج میں آسمانوں پر انبیاء کرام کو درجہ بدرجہ دیکھا مطلب یہ ہے کہ انبیاء کرام اگرچہ نفس نبوت کی حیثیت سے برابر ہیں مگر مدارج اور مراتب کے اعتبار سے مختلف ہیں اور ان کے درجات جدا جدا ہیں فضائل و کمالات میں تمام انبیاء برابر نہیں چناچہ بعض ان میں سے ایسے ہیں جن سے اللہ نے بلاواسطہ فرشتہ کے کلام کیا جیسے موسیٰ اور ابتداء میں حضرت آدم سے بلاواسطہ فرشتوں کے کلام فرمایا جیسا کہ یا آدم انبءھم باسماء ھم۔ میں گزارا اور اخیر میں خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ سے شب معراج میں بلاواسطہ کلام فرمایا اور بعضوں کو اپنی ہم کلامی کا شرف تو نہیں عطا کیا لیکن ان کو دوسرا شرف عطا کیا اور طرح طرح سے ان کے درجے بلند کیے جیسے داود (علیہ السلام) کو نبوت و رسالت کے ساتھ بےمثال بادشاہت بھی عطا کی۔ 1) ۔ بعض علماء کا قول ہے کہ رفع بعضھم درجات۔ آیت۔ میں بعض سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مراد ہیں کہ اللہ نے ان کو اپنا خلیل بنایا اور مقام خلت سے ان کو سرفراز فرمایا اور بعض کہتے ہیں کہ ادریس (علیہ السلام) مراد ہیں کماقال تعالی، ورفعناہ مکانا علیا۔ ایت۔ ابن عباس اور شعبی اور مجاہد سے منقول ہے کہ بعضھم سے سرور عالم سیدنا محمد رسول اللہ مراد ہیں اور جن کو اللہ نے تمام انبیاء پر ایک درجہ میں نہیں تمام درجات اور فضائل و کمالات میں بلند اور برتر کیا۔ 1۔ آپ کو تمام انبیاء کا امام اور خطیب اور سردار بنایا۔ 2۔ اور تمام امتوں کاشفاعت کرنے والا۔ 3۔ اور تمام نبیوں کا خاتم اور آخر بنایا۔ 4۔ اور آپ کو سب سے افضل اور اکمل کتاب عطا کی۔ 5۔ اور آپ کی شریعت کو سب شریعتوں سے زیادہ جامع بنایا۔ 6۔ اور تمام انبیاء سے بڑھ کر آپ کو معجزات عطا کیے۔ 7۔ اور آپ کو تمام عالم جن وانس کی طرف رسول بناکر بھیجا۔ 8۔ اور آپ کے پیرو تمام انبیاء کے پیرو وں سے زیادہ ہوں گے (9) اور سب سے پہلے آپ اپنی امت کو لے کر پل صراط سے گزریں گے۔ 10۔ اور سب سے پہلے آپ اپنی امت کو لے کر جنت میں داخل ہوں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو ان کی نبوت اور رسالت کی صریح اور واضح نشانیاں عطا کیں تاکہ ان کی نبوت و رسالت میں کسی کو شبہ نہ رہے اور روح القدس یعنی جبریل امین کو ان کی تائید اور تقویت کے لیے مقرر کیا کہ ہر وقت یہود سے ان کی حفاظت کریں تاکہ مردوں کے زندہ کرنے اور مادرزاد اندھے اور نابینا کو تندرست کرنے سے کسی کو ان کی الوہیت (خدائی کا شبہ نہ ہو) اس لیے کہ اگر حضرت عیسیٰ خدا ہوتے تو اول تو دشمنوں سے کیوں ڈرتے دوم یہ کہ انک وجبریل امین کی حفاظت کی کیا ضرورت ہوتی معاذ اللہ کیا خدا بھی کسی کی حفاظت کا محتاج ہوتا ہے چونکہ یہود حضرت عیسیٰ کی نبوت و رسالت کے قائل نہ تھے اور نصاری ان کی الوہیت کے قائل تھے اس لیے پہلے جملہ واتینا عیسیٰ بن مریم البینت۔ میں یہود کے رد کے لیے حضرت عیسیٰ کی نبوت و رسالت کو بیان کیا اور دوسرے جملہ وایدنہ بروح القدس میں ان کی الوہیت کا رد کیا جس کے نصاری قائل تھے اور اگر اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو دین حق پر متفق کردیتا اور پھر لوگ پیغمبروں کے بعد میں اختلاف نہ کرتے اور نہ آپس میں لڑتے خصوصا دلائل واضحہ کے بعد تو اختلاف کا نام ونشان ہی نہ رہتا اور اسلیے کہ دلائل واضحہ کا اقتضاء یہ تھا کہ سب حق پر متفق ہوجاتے لیکن باوجود دلائل واضحہ کے پھر حق کے قبول کرنے میں اختلاف کیا سو بعض ان میں سے ایمان لائے اور بعضوں نے کفر اختیار کیا اور نوبت قتل و قتال اور جنگ وجدال تک پہنچی اور اگر اللہ چاہتا تو باوجود ایمان اور کفر کے اختلاف کے پھر بھی یہ لوگ آپس میں نہ لڑتے کیونکہ یہ ممکن تھا کہ باوجود اختلاف مذہب کے ایک دوسرے سے تعریض نہ کریں لیکن اللہ کی حکمت اور مصلحت یہ ہے کہ یہ دنیا حق اور باطل کامیدان کارزار بنی رہے وہ حکیم مطلق حاکم مطلق جو چاہتا ہے کرتا ہے کسی کی مجال نہیں کہ کوئی اس پر اعتراض کرسکے یہ کیوں کیا اور یہ کیوں نہ کیا۔ اس تمام کلام سے آپ کو تسلی دینا ہے کہ انبیاء سابقین کی طرح آپ کی نبوت و رسالت بھی دلائل براہین اور آیات بینات سے ثابت ہے اور جس طرح بہت سے لوگ انبیاء سابقین پر باوجود آیات بینات کے ایمان نہیں لائے اسی طرح اگر بہت سے معاندین آپ کی نبوت اور رسالت کی تصدیق نہ کریں تو تعجب نہ کیجئے ایمان عام کسی امت میں نہیں ہوا کسی نے تصدیق کی اور کسی نے تکذیب کی اور اس میں اللہ کی حکمتیں ہیں جس کا علم سوائے اس کے کسی کو نہیں، ولوشاء ربک لامن من فی الارض کلھم جمیعا۔ آیت۔ (تفسیر غرائب البیان للنیسابوری ص 4 ج 3) ۔ 2) ۔ شروع آیت ولوشاء اللہ مااقتتل الذین۔ الخ۔ اور پھر اخیر آیت میں ولوشاء اللہ ماقتتلوا۔ فرمایا مفسرین کی ایک جماعت کے نزدیک یہ آیت تاکید کے لیے مکرر لائی گئی ہے اور شیخ الاسلام ابوالسعود فرماتے ہیں کہ یہ تکرار تاکید کے لیے نہیں بلکہ اس تنبیہ کے لیے ہے اس آیت کو مکرر لایا گیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ لوگوں کا اختلاف اور باہمی قتل و قتال سب اللہ کے ارادہ اور مشیت سے ہے کوئی شی بغیر اللہ کی مشیت کے نہیں ہوسکتی۔ 3) ۔ اور جس حدیث میں یہ آیا ہے کہ پیغمبروں کے درمیان تفصیل اور مفاضلہ نہ کرو اس سے مراد اس تفضیل کی ممانعت ہے جو محض عصبیت اور قومی حمایت کی بناء پر ہو یا ایسی تفضیل کی ممانعت مراد ہے جو دوسرے نبی کی تنقیص اور تحقیر کا سبب بنے اور اسطرح بحمدہ تعالیٰ آیت اور حدیث میں کوئی تعارض نہیں رہے گا۔