Ayah 2:1[ الٓـمٓ : الف لام میم ]
Ayah 2:2[ ذٰلِکَ الْکِتٰبُ : یہ کتاب ] [ لَا رَیْبَ فِیْہِ : کوئی شک نہیں ہے اس میں ] [ ھُدًی : ہدایت ہے ] [ لِّلْمُتَّقِیْنَ : تقویٰ کرنے کے والوں کے لیے ]
ر ی ب
رَابَ یَرِیْبُ (ض) رَیْـبًا : کسی کا کسی کو شک میں ڈالنا۔
رَیْبٌ : شک۔ شبہ (یہ مصدر ہے لیکن بطور اسم ذات بھی استعمال ہوتا ہے)
رِیْـبَۃٌ : شک ‘ شبہ ۔ { لَا یَزَالُ بُنْیَانُھُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْـبَۃً فِیْ قُلُوْبِھِمْ } (التوبۃ :110) ” ہمیشہ رہے گا اس عمارت سے جو انہوں نے بنائی تھی شبہ ان کے دلوں میں۔ “
اَرَابَ یُرِیْبُ (افعال) اِرَابَۃً : کسی کا کسی کو شک میں ڈالنا۔
مُرِیْبٌ (اسم الفاعل) : شک میں ڈالنے والا۔ { مَنَّاعٌ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبٍ } (قٓ:25) ” بھلائی سے روکنے والا حد سے بڑھنے والا شبہ ڈالنے والا ۔ “
اِرْتَابَ یَرْتَابُ (افتعال) اِرْتِیَابًا : شک کرنا ‘ شبہ میں پڑنا۔ { وَلٰـکِنَّـکُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَکُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ } (الحدید :14) ” لیکن تم لوگوں نے خود کو فتنہ میں مبتلا کیا ‘ گومگوں میں رہے اور شبہ میں پڑے۔ “
مُرْتَابٌ(اسم الفاعل) : شک کرنے والا۔ { کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ مَنْ ھُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابٌ} (المؤمن :34) ” اس طرح اللہ گمراہ کرتا ہے اس کو جو ہے اسراف کرنے والا شک کرنے والا ۔ “
و ق ی
وَقٰی یَقِیْ (ض) وِقَایَۃً : کسی کو تکلیف یا نقصان سے بچانا۔ { وَوَقٰھُمْ رَبُّھُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ } (الطور :18) ” اور ان کو بچایا ان کے رب نے دوزخ کے عذاب سے۔ “
تَقِ (یہ واحد مذکر مخاطب میں مضارع تقی تھا) : مجزوم ہونے کی وجہ سے ” ی “ گرگئی۔ { وَمَنْ تَقِ السَّیِّئَاتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَہٗ } (المؤمن :9) ” اور جس کو تو نے بچایا برائیوں سے اس دن تو یقینا تو نے رحمت کی اس پر ۔ “
قِ (فعل امر) : تو بچا۔ { وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ } (البقرۃ :201) ” اور تو بچا ہم کو آگ کے عذاب سے۔ “
وَاقٍ (اسم الفاعل) : بچانے والا۔ { وَمَا لَھُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ وَّاقٍ } (الرعد :34) ” اور نہیں ہے ان کے لیے اللہ سے کوئی بھی بچانے والا۔ “
اِتَّقٰی یَتَّقِیْ (افتعال) اِتِّقَائً : نقصان یا تکلیف سے بچنا۔ اصطلاحاً ہر اس چیز سے بچنا جو اللہ کی ناراضگی کا باعث ہو۔ { وَالْاٰخِرَۃُ خَیْرٍ لِّمَنِ اتَّقٰی } (النسائ :77) ” اور آخرت بہتر ہے اس کے لیے جو اللہ کی ناراضگی سے بچا۔ “
یَتَّقِ (مضارع مجزوم ہے شرط ہونے کی وجہ سے) : { وَمَنْ یَّـتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّـہٗ مَخْرَجًا } (التغابن :2) ” اور جو بچتا ہے اللہ کی ناراضگی سے تو وہ یعنی اللہ پیدا کرتا ہے اس کے لیے نکلنے کی ایک جگہ یعنی راستہ۔ “
اِتَّقِ (فعل امر) : تو بچ۔ { وَاِذَا قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللّٰہَ } (البقرۃ :206) ” اور جب کہا جائے اس سے کہ تو بچ اللہ کی ناراضگی سے۔ “
مُتَّقُوْنَ (اسم الفاعل جمع کا صیغہ) : بچنے والے۔ { وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ } (البقرۃ :177) ” اور وہ لوگ ہی بچنے والے ہیں اللہ کی ناراضگی سے۔ “
اَتْقٰی (افعل التفضیل) : { وَسَیُجَنَّـبُھَا الْاَتْقٰی } (الضحیٰ :17) ” اور دور کیا جائے گا اس سے یعنی آگ سے زیادہ پرہیزگار کو۔ “
اَلتَّقْوٰی (مصدر) : اللہ کی ناراضگی سے بچنا ‘ پرہیزگار ہونا۔ { وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی } (المائدۃ :2) ” اور باہم تعاون کرو نیکی پر اور پرہیزگار ہونے پر۔ “
تُقَاۃٌ (اسم ذات) : پرہیزگاری ۔{ اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ } (آل عمران :102) ” تم لوگ اللہ کی ناراضگی سے بچو جیسا کہ حق ہے اس کی ناراضگی سے بچنے کا۔ “
تَقِیٌّ : باب افتعال میں فا کلمہ کی جگہ ” و “ کو ” ت “ میں تبدیل کردیتے ہیں۔ اس لیے فَعِیْلٌ کے وزن پر وقی کے بجائے تَقِیٌاسم الفاعل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ { تِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ کَانَ تَقِیًّا } (مریم :63) ” یہ وہ جنگ ہے جس کا ہم وارث بنائیں گے اپنے بندوں میں سے اس کو جو تھا تقویٰ پر دوام کرنے والا ۔ “
لَارَیْبَ : سورة الفاتحہ میں آپ لفظ ” اَلْحَمْدُ “ میں لام جنس پڑھ چکے ہیں ‘ جو مذکورہ چیز کی تمام جنس اور ہر شکل و صورت کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے۔ اب نوٹ کریں کہ رَیْبَ کے ساتھ جو لَا ہے یہ لائے نفی جنس ہے ‘ جو مذکورہ چیز کی تمام جنس اور ہر شکل و صورت کی نفی کرتا ہے۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ یہ اپنے اسم کو نصب دیتا ہے اور اس کی تنوین کو ختم کرتا ہے ۔ اس لیے لَارَیْبَ میں ہر قسم کے شک کی نفی شامل ہے۔
ھُدًی : یہ مصدر دراصل ھُدَیٌ تھا جو قاعدے کے مطابق ھُدًی بنا۔ یہ مبنی کی طرح استعمال ہوتا ہے یعنی تینوں اعرابی حالت میں ھُدًی ہی رہتا ہے۔ اس پر لام تعریف داخل ہو تو تینوں اعرابی حالت میں اَلْھُدٰی استعمال ہوتا ہے۔
ترکیب : آیت 2 کی ایک سے زیادہ ترکیبیں ممکن ہیں اور کئی بھی ہیں۔ اس کی ایک سادہ اور عام فہم ترکیب یہ ہے کہ ” ذٰلِکَ الْکِتٰبُ “ مرکب اشاری اور مبتدأ ہے۔ ” ھُدًی “ اس کی خبر ہے ۔ ” لِلْمُتَّقِیْنَ “ متعلق خبر ہے۔ ” لَارَیْبَ فِیْہِ “ خبر ثانی ہے ‘ جسے خبر اوّل سے پہلے لانے کی وجہ سے لائے نفی جنس میں مزید تاکید پیدا ہوگئی ہے۔
نوٹ (1) : ذٰلِکَاشارہ بعید ہے۔ اس لحاظ سے ذٰلِکَ الْکِتٰبُ کا ترجمہ ” وہ کتاب “ ہونا چاہیے۔ لیکن عام طور پر اس کا ترجمہ ” یہ کتاب “ کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سمجھ لیں ایک فاصلہ Horizental ہوتا ہے جس سے عام طور پر کسی کے دوریا نزدیک ہونے کا تصور کرتے ہیں لیکن ایک Vertical کا فاصلہ بھی ہوتا ہے جس میں کسی کے مقام و رتبہ کی بلندی کا تصور ہوتا ہے۔ اب نوٹ کرلیں کہ عربی میں مقام و مرتبہ کی بلندی کے اظہار کے لیے بھی اشارہ بعید استعمال ہوتا ہے جبکہ اردو میں یہ اسلوب نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ایسے موقع پر اردو میں ترجمہ اشارہ قریب سے کرنا پڑتا ہے۔
رتبہ کی بلندی ظاہر کرنے کے لیے اشارہ بعید کے استعمال کی قرآن مجید میں ذٰلِکَ الْکِتٰبُکے علاوہ اور بھی متعدد مثالیں ہیں جیسے { تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلَا تَقْرَبُوْھَا } ‘ (البقرۃ :187) { تِلْکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتْلُوْھَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ } (البقرۃ :187) ‘ { وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ } (العنکبوت :43) لیکن سورة یوسف کی آیات 31 ۔ 32 میں اس کا فوری تقابل سامنے آتا ہے۔ حضرت یوسف (رح) کے متعلق عزیز مصر کی بیوی کے رویہ کی جب شہرت ہوئی اور شہر کی خواتین نے اس پر ملامت کی ‘ تو اس نے خواتین کو بلایا اور یوسف (رح) کو ان کے سامنے کیا۔ ان کی شکل و صورت کی خوبی کی تعریف میں انہوں نے کہا یہ کوئی بشر نہیں ہے۔ لیکن چونکہ وہ یوسف ( علیہ السلام) کے کردار کی بلندی سے واقف نہ تھیں ‘ اس لیے ان کے قول میں اشارہ قریب استعمال ہوا ہے : { مَا ھٰذَا بَشَرًا }۔ عزیز مصر کی بیوی نے جواب میں کہا کہ یہ ہے جس کے متعلق تم مجھے ملامت کرتی ہو۔ چونکہ اسے یوسف ( علیہ السلام) کی عظمت کا تجربہ تھا ‘ اس لیے اس کے قول میں اشارہ بعید آیا ہے : { فَذٰلِکُنَّ الَّذِیْ لُمْتَنَّنِیْ فِیْہِ }۔
نوٹ (2) : قرآن کو { ھُدًی لِّلنَّاسِ } (البقرۃ :185) کہا گیا ہے یعنی قرآن تمام انسانوں کے لیے ہدایت ہے ۔ لیکن یہاں اسے { ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ } کہا گیا ہے۔ یعنی قرآن صرف متقی لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ اس وجہ سے کچھ لوگوں کے ذہن میں الجھن پیدا ہوتی ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ قرآن میں بالقوہ (potentially) ہدایت موجود ہے جو ہر شخص کے لیے ہے۔ لیکن اس سے ہدایت صرف وہ لوگ حاصل کرتے ہیں جن کے دل میں اللہ کی ناراضگی سے بچنے کا جذبہ ہوتا ہے۔ یہ بات ایسے ہی ہے جیسے پنجاب یونیورسٹی کے دروازے ہر شخص کے لیے کھلے ہوئے ہیں لیکن اس میں داخلہ کے لیے بی اے ہونا ضروری ہے۔ پھر داخلہ ملنے کے بعد بھی ہاں سے علم صرف وہ حاصل ہوتا ہے جو فیس ادا کرے اور نظم کی پابندی کرے ‘ ورنہ داخلہ ملنے کے بعد بھی محروم رہتا ہے۔
Ayah 2:3[ الَّذِیْنَ : وہ لوگ جو ] [ یُؤْمِنُوْنَ : ایمان لاتے ہیں ] [ بِالْغَیْبِ : غیب پر ] [ وَیُـقِیْمُوْنَ : اور جو لوگ قائم رکھتے ہیں ] [ الصَّلٰوۃَ : نماز کو ] [ وَمِمَّا : اور اس میں سے جو ] [ رَزَقْنٰــھُمْ : ہم نے عطا کیا ان کو ] [ یُنْفِقُوْنَ : وہ لوگ انفاق کرتے ہیں ]
ء م ن
اَمِنَ یَاْمَنُ (س) اَمْنًا ۔ اَمَنًا : (1) مطمئن ہونا۔ امن میں ہونا۔ { فَاِذَا اَمِنْتُمْ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْھَدْیِ } (البقرۃ :96) ” پس جب تم لوگ اطمینان سے ہو تو جس نے فائدہ اٹھایا عمرہ کا حج تک تو (اس پر واجب ہے) جو میسر ہو قربانی کے جانور میں سے۔ “ (2) کسی معاملہ میں کسی پر بھروسہ کرنا۔ { وَمِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ مَنْ اِنْ تَأْمَنْہُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّہٖ اِلَیْکَ } (آل عمران :57) ” اور اہل کتاب میں وہ بھی ہے کہ اگر تو بھروسہ کرے اس پر ڈھیروں (چیز یا امانت) کے بارے میں تو وہ ادا کرے گا اس کو تیری طرف۔ “ (3) کسی کی بات کا اعتبار کرنا۔ { قَالَ ھَلْ اٰمَنُکُمْ عَلَیْہِ اِلاَّ کَمَا اَمِنْتُکُمْ عَلٰی اَخِیْہِ مِنْ قَبْلُ } (یوسف :64) ” اس نے یعنی یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کیا میں اعتبار کروں تم لوگوں کا اس کے بارے میں سوائے اس کے کہ جیسے میں نے اعتبار کیا تم لوگوں کا اس کے بھائی کے بارے میں اس سے پہلے۔ “
اٰمِنٌ (اسم الفاعل) : امن میں ہونے والا۔ { وَاِذْ قَالَ اِبْرٰھِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا } (البقرۃ :126) ” جب کہا ابراہیم (علیہ السلام) نے اے میرے رب تو بنا دے اس کو امن میں ہونے والا شہر۔ “
مَأْمَنٌ(اسم الظرف) : امن کی جگہ { ثُمَّ اَبْلِغْہُ مَأْمَنَہٗ } (التوبۃ :6) ” پھر تم پہنچا دو اس کو ‘ اس کے امن کی جگہ۔ “
اَمُنَ یَاْمُنُ (ک) اَمَانَۃً : امانت دار ہونا۔
اَمَانَۃٌ ج اَمَانَاتٌ: امانت۔ { اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ } (الاحزاب :72) ” بیشک ہم نے پیش کیا اس امانت کو آسمانوں پر اور زمین پر اور پہاڑوں پر ۔ “ { وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رٰعُوْنَ ۔ } (المؤمنون) ” اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی رعایت کرنے والے ہیں۔ “
اَمِیْنٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : امانت دار۔ { اِنِّیْ لَـکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ ۔ } (الشعرائ) ” بیشک میں تم لوگوں کے لیے امانت دار رسول ہوں۔ “
اٰمَنَ یُوْمِنُ (افعال) اِیْمَانًا : امن دینا۔ کسی کی بات کی تصدیق کرنا۔ ایمان لانا (تصدیق کرنے سے اختلاف ختم ہوجاتا ہے اور امن ہوجاتا ہے) ۔ { مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ } (البقرۃ :62) ” جو ایمان لایا اللہ پر اور آخرت پر۔ “
اِیْمَانٌ (اسم ذات) : ایمان ‘ قلبی تصدیق۔ { اِنِ اسْتَحَبُّوا الْکُفْرَ عَلَی الْاِیْمَانِ } (التوبۃ :23) ” اگر وہ لوگ پسند کریں کفر کو ایمان پر۔ “
اٰمِنٌ ج اٰمِنُوْا (فعل امر) : تو ایمان لا۔ { وَیْلَکَ اٰمِنْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ} (الاحقاف :17) ” تیرے لیے تباہی ہے تو ایمان لا ‘ یقینا اللہ کا وعدہ حق ہے “۔ { وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا کَمَا اٰمَنَ النَّاسُ } (البقرۃ :13) ” اور جب کہا جاتا ہے ان سے کہ تم لوگ ایمان لائو جیسے لوگ ایمان لائے۔ “
مُؤْمِنٌ (اسم الفاعل) : امن دینے والا ‘ ایمان لانے والا۔ { لَا اِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ الْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ } (الحشر :23) ” کوئی الٰہ نہیں سوائے اس کے جو بادشاہ ہے ‘ پاک ہے ‘ سلامتی ہے ‘ امن دینے والا ہے۔ “{ ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ فَمِنْکُمْ کَافِرٌ وَّمِنْکُمْ مُّؤْمِنٌ} (التغابن :2) ” وہ ہے جس نے تم لوگوں کو پیدا کیا تو تم میں سے کوئی کفر کرنے والا ہے اور تم میں سے کوئی ایمان لانے والا ہے۔ “
غ ب ی
غَبَا یَغْبِیْ (ض) غَیْبًا : پوشیدہ ہونا ‘ دور ہونا۔
غَیْبٌج غُیُوْبٌ(اسم ذات) : حو اس سے پوشیدہ چیز یا بات۔ { اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ } (المائدۃ :116) ”۔ “
غَائِبٌ (اسم الفاعل) : غائب ہونے والا ۔ { وَمَا مِنْ غَائِبَۃٍ فِی السَّمَائِ وَالْاَرْضِ اِلاَّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ } (النمل :75) ” اور نہیں ہے کوئی بھی غائب ہونے والی چیز آسمانوں میں اور زمین میں مگر وہ ایک واضح کتاب میں ہے۔ “
غَیَابَۃٌ (اسم ذات) : پستی ‘ گہرائی۔ { قَالَ قَائِلٌ مِّنْھُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَاَلْقُوْہُ فِیْ غَیٰـبَتِ الْجُبِّ } (یوسف :10) ” کہا ان میں سے ایک کہنے والے نے قتل مت کرو یوسف کو اور اس کو ڈال دو کنویں کی گہرائی میں۔ “
اِغْتَبٰی یَغْتِبْی (افتعال) اِغْتِیَابًا : پوشیدگی میں یعنی پیٹھ پیچھے کسی کا عیب بیان کرنا ‘ بیان کرنا۔
لَا یَغْتَبْ (فعل نہی) : { وَلَا یَغْتَبْ بَعْضُکُمْ بَعْضًاط } (الحجرات :12) ” تم میں سے کوئی غیبت نہ کرے کسی کی ۔ “
ص ل و
صَلٰی یَصْلُوْا (ن) صَلْوًا : پیٹھ کے درمیان میں مارنا ‘ نرم ہونا (ثلاثی مجرد سے قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا) ۔
صَلّٰی یُصَلِّیْ (تفعیل) صَلَاۃً : ( اس کا مصدر خلاف قاعدہ صَلَاۃً استعمال ہوتا ہے) ۔ دعا دینا ‘ نشو و نما دینا ‘ نماز پڑھنا۔ (نماز کی اصل دعا ہی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی نماز نشو و نما دینے کے معنی میں ہے) ۔ { اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ } (الاحزاب :33) ” بیشک اللہ نشو و نما دیتا ہے اور اس کے فرشتے دعا کرتے ہیں ان نبی ﷺ کے لیے۔ “
صَلَاۃً (اسم ذات) : (قرآنی املا صَلٰوۃٌ ج صَلَوَاتٌ) نماز ‘ شفقت و رحمت۔ { حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی } (البقرۃ :238) ” تم لوگ حفاظت کرو نمازوں کی اور درمیانی نماز کی ۔ “ { اُولٰٓـئِکَ عَلَیْھِمْ صَلَوَاتٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَرَحْمَۃٌ} (البقرۃ :157) ” یہ لوگ ہیں جن پر شفیق ہیں ان کے رب کی جانب سے اور رحمت ہے۔ “
صَلِّ ج صَلُّوْا (فعل امر) : تو دعا کر۔ نماز پڑھ۔ { فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ ۔ } (الکوثر) ” پس آپ نماز پڑھیں اپنے رب کے لیے اور قربانی دیں۔ “{ یٰٓــاَیـُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ } (الاحزاب :56) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم لوگ دعا کرو ان (علیہ السلام) کے لیے یعنی درود بھیجو۔ “
مُصَلِّیْنَ (اسم الفاعل جمع کا صیغہ ‘ واحد مُصِلٍّ ) : نماز پڑھنے والا۔ { قَالُوْا لَمُ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ } (المزمل :43) ” ان لوگوں نے کہا ہم نہیں تھے نماز ادا کرنے والوں میں سے۔ “
مُصَلّٰی (اسم المفعول ‘ جو بطور اسم الظرف استعمال ہوتا ہے) : نماز کی جگہ۔ { وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھِیْمَ مُصَلّٰی } (البقرۃ :125) ” اور تم لوگ بنا لو ابراہیم (علیہ السلام) کے کھڑے ہونے کی جگہ میں سے نماز ادا کرنے کی جگہ۔ “
ر ز ق
رَزَقَ یَرْزُقُ (ن) رَزْقًا : معاوضہ دیے بغیر کوئی چیز دینا پھر دیتے رہنا ‘ عطیہ جاریہ دینا ‘ عطا کرنا۔ { اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ ثُمَّ رَزَقَکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ } (الروم :40) ” اللہ ہے جس نے تم لوگوں کو پیدا کیا پھر اس نے تم لوگوں کو عطا کیا یعنی صلاحیتیں اور اشیاء پھر وہ تم لوگوں کو موت دے گا پھر وہ تم لوگوں کو زندہ کرے گا۔ “
رِزْقٌ (اسم ذات) : وہ چیز جو عطیہ جاریہ کے طور پر دی جائے۔ جو چیز ایک مرتبہ دی جائے اسے رَزْقَـۃٌ کہتے ہیں۔ { یٰـقَوْمِ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ کُنْتُ عَلٰی بَـیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَرَزَقَنِیْ مِنْہُ رِزْقًا حَسَنًا } (ھود :88) ” اے میری قوم کیا تم نے غور کیا اگر میں ہوں ایک واضح دلیل پر اپنے رب کی جانب سے اور اس نے مجھے عطا کیا اپنے پاس سے ایک بہترین عطیہ جاریہ۔ “ اس آیت میں سے رِزْقًا حَسَنًاسے مراد علم وحی ہے۔
اُرْزُقْ (فعل امر) : تو عطا کر۔ { وَارْزُقْھُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّھُمْ یَشْکُرُوْنَ } (ابراھیم :37) ” اور تو انہیں عطا کر پھلوں میں سے شاید کہ وہ لوگ شکر ادا کریں۔ “
رَازِقٌ (اسم الفاعل) : عطا کرنے والا۔ { وَاِنَّ اللّٰہَ لَھُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ } (الحج :37) ” اور یقینا اللہ ہی سب سے بہتر عطا کرنے والا ہے۔ “
رَزَّاقٌ (فَعَّالٌ کے وزن پر اسم مبالغہ) :{ اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الرَّزَّاقُ } (الذریت :58) ” یقینا اللہ ہی بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے ۔ “
نق
نَفَقَ یَنْفُقُ ۔ نَفِقَ یَنْفَقُ (ن۔ س) نَفْقًا : خرچ ہوجانا ‘ ختم ہوجانا ‘ دومنہ والا ہونا۔ (قرآن مجید میں ثلاثی مجرد سے سے فعل استعمال نہیں ہوا) ۔
نَفَقَۃٌ ج نَفَقَاتٌ (اسم ذات) : خرچہ ‘ خرچ ہونے والی چیز ۔ { وَمَا اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَفَقَۃٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَذْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُہٗ } (البقرۃ :270) ” اور جو تم لوگ خرچ کرو کسی خرچہ میں سے یا منت مانو کسی منت میں سے تو یقین اللہ اس کو جانتا ہے۔ “
نفق : سرنگ۔ { فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ } (الانعام :35) ” تو اگر آپ ﷺ میں استطاعت ہے کہ آپ تلاش کرلیں کوئی سرنگ زمین میں ۔ “
اَنْفَق یُنْفِقُ (افعال) اِنْفَاقًا : خرچ کرنا۔ { لَا یَسْتَوِیْ مِنْکُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ } (الحدید :10) ” برابر نہیں ہے تم میں سے وہ جس نے خرچ کیا الفتح سے پہلے یعنی فتح مکہ سے پہلے اور قتال کیا۔ “
اَنْفِقْ ج اَنْفِقُوْا (فعل امر) : تو خرچ کر۔ { اَنْفِقُوْا مِّنْ مَّا رَزَقْنٰـکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ } (المنفقون :10) ” اور تم لوگ خرچ کرو اس میں سے جو ہم نے تم کو عطا کیا اس سے پہلے کہ آئے تم میں سے کسی ایک کو موت۔ “
مُنْفِقٌ (اسم الفاعل) : خرچ کرنے والا۔ { وَالْمُنٰفِقِیْنَ وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ } (آل عمران :17) ” اور خرچ کرنے والے اور مغفرت مانگنے والے راتوں کے پچھلے پہر میں۔ “
نَافَقَ یُنَافِقُ (مفاعلہ) مُنَافَقَۃٌ وَنِفَاقٌ : دو رخا ہونا ‘ دوغلا ہونا۔ { اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِھِمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا } (الحشر :11) ” کیا آپ ﷺ نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو دورخے ہوئے ‘ وہ لوگ کہتے ہیں اپنے بھائیوں سے جنہوں نے کفر کیا۔ “
مُنَافِقٌ (اسم الفاعل) : دو رخا ہونے والا۔ { یَحْذَرُ الْمُنٰـفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْھِمْ سُوْرَۃٌ تُنَبِّئُھُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِھِمْ } (التوبۃ :64) ” ڈرتے ہیں دو رخا پن اختیار کرنے والے کہ نازل کردی جائے ان کے بارے میں کوئی سورت جو جتلا دے ان کو وہ ‘ جو ان کے دلوں میں ہے۔ “
صَلٰوۃٌ : اصل لفظ ” صَلَوَۃٌ“ ہے جو قاعدہ کے مطابق تبدیل ہو کر صَلَاۃٌ بنتا ہے اور عربی میں یہ آج تک اسی طرح لکھا جاتا ہے۔ یہ قرآن مجید کا مخصوص املا ہے جہاں یہ لفظ صَلٰوۃٌ لکھا جاتا ہے۔ البتہ قرآن مجید میں بھی جب یہ مضاف بن کر آتا ہے تو اس کی واو گرجاتی ہے اور الف کے ساتھ ہی لکھا جاتا ہے جیسے صَلَاتُھُمْ ۔ یہ نوٹ کرلیں کہ اصطلاحاً صَلٰوۃ اس مخصوص عبادت کا نام ہے جو حضور ﷺ کی تعلیمات اور ہدایات کے مطابق ادا کی جاتی ہے۔ شاید اسی لیے قرآن مجید میں اس کا املا بھی مخصوص رکھا گیا ہے۔ واللہ اعلم !
ترکیب : اس آیت میں تین جملے ہیں : (1) الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ (1) وَ (الَّذِیْنَ ) یُـقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ (3) وَ (الَّذِیْنَ ) یُنْفِقُوْنَ مِمَّا رَزَقْنٰــھُمْ ۔ تیسرے جملے میں مِمَّا رَزَقْنٰــھُمْکو اصل فعل یُنْفِقُوْنَ سے پہلے اس حقیقت میں تاکید اور زور پیدا کیا گیا ہے کہ انسان کے پاس جو کچھ ہے وہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے۔ یہ تینوں جملے گزشتہ آیت اَلْمُتَّقِیْنَکے لفظ کا بدل ہیں۔
نوٹ (1) : سب سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ ڈکشنری المنجد کے مطابق مادہء م ن اگر باب سَمِعَ سے آئے تو معنی ہوتے ہیں مطمئن ہونا۔ اور اگر باب ضَرَبَ سے آئے تو معنی ہوتے ہیں بھروسہ کرنا ‘ اعتبار کرنا۔ لیکن قرآن مجید میں یہ مادہ تینوں معانی میں باب سَمِعَ سے آیا ہے جیسا کہ معانی کی وضاحت میں دی گئی آیات 3/175 اور 12/64 سے ظاہر ہے۔ اس لیے ہم نے تینوں معانی باب سَمِعَ کے تحت دیے ہیں۔
نوٹ (2) : ہمارے جدید تعلیم یافتہ افراد میں سے اکثر کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے ‘ البتہ اس کا اظہار کم لوگ کرتے ہیں ‘ کہ ان دیکھی چیزوں پر ایمان لانا غیر سائنٹفک حرکت ہے اور ایمان بالغیب کا مطالبہ غیر فطری ہے۔ بظاہر ان کی اس بات میں وزن بھی نظر آتا ہے لیکن جب ہم اپنے روز مرہ کے معمولات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایمان بالغیب انسان کی فطرت میں ودیعت شدہ (inbuilt) ہے اور اس کے بغیر ہم اپنی زندگی کا ایک دن بھی نہیں گزار سکتے۔
اس بات کو چند مثالوں کی مدد سے سمجھ لیں۔ لاہور میں ہمیں فون پر اطلاع ملتی ہے کہ پشاور میں فلاں عزیز کی شادی طے ہوگئی ہے۔ ملتان میں فلاں عزیز بیمار ہیں۔ سکھر میں فلاں صاحب حادثہ میں زخمی ہوگئے۔ کراچی میں فلاں کا انتقال ہوگیا ہے۔ اب غور کریں کہ ان میں سے کوئی بھی واقعہ ہماری آنکھوں کے سامنے نہیں ہوا ہے۔ ان تمام ان دیکھے واقعات پر ان کی خبر کی بنیاد پر ہم ایمان لاتے ہیں اور اس کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ نیویارک کاٹن کے سودے ہماری آنکھوں کے سامنے نہیں ہوتے۔ صرف ان کے متعلق خبر کی بنیاد پر پاکستان میں لاکھوں اور کروڑوں روپے کے سودے ہوجاتے ہیں۔
اس طرز پر اپنے روزانہ کے کام کا تجزیہ کر کے دیکھیں کہ آپ کتنے کام آنکھوں دیکھے واقعات کی بنیاد پر کرتے ہیں ‘ اور کتنے کام ان دیکھے واقعات کی خبر کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ پھر ان شاء اللہ آپ تسلیم کرلیں گے کہ ایمان بالغیب کے بغیر ہم زندگی کا ایک دن بھی نہیں گزار سکتے۔ ہم بس اتنی احتیاط کرسکتے ہیں کہ یہ دیکھ لیں کہ خبر دینے والا کتنا معتبر ہے۔ اسی لیے PTV اور BBC کی خبر میں ہم فرق کرتے ہیں اور BBC کی خبر پر ایمان لانے میں دیر نہیں کرتے۔
اب آپ انصاف سے فیصلہ کریں کہ بی بی سی ‘ نیوز ویک ‘ واشنگٹن پوسٹ ‘ وغیرہ وغیرہ وغیرہ کی خبروں پر ایمان لانے کو نہ تو ہم غیر سائنٹفک سمجھتے ہیں اور نہ ہی غیر فطری کہتے ہیں۔ لیکن اس ہستی کو دی ہوئی خبروں پر ایمان لانے کو ہم غیر فطری کہتے ہیں جس کے بدترین دشمن بھی اسے جھوٹا نہ کہہ سکے اور زندگی کی آخری سانس تک اسے صادق اور امین ہی تسلیم کرتے رہے۔ اس کے بعد نرم ترین الفاظ میں بس اتنا کہا جاسکتا ہے کہ بعض اوقات بہت زیادہ پڑھے لکھے لوگ بھی کچھ باتیں سوچے سمجھے بغیر اور علم کے بغیر کہہ جاتے ہیں۔ آخر وہ بھی بندہ بشر ہیں۔
نوٹ (3): قرآن مجید میں صَلٰوۃًکے ساتھ اکثر و بیشتر اقامہ کا لفظ آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ کی تعلیم کردہ نماز کو اس کے ظاہری نظام اور باطنی روح کے ساتھ ادا کرنے کی تاکید ہے۔ جبکہ آیت { فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّٰی ۔ } (القیامۃ)” نہ اس نے تصدیق کی اور نہ اس نے نماز پڑھی “ میں فَلَاصَلّٰی سے مراد ہے کہ اس نے رسمی نماز بھی نہیں پڑھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسمی نماز پڑھنا بھی فائدہ سے خالی نہیں ہے۔ ایک روایت میں ہے اِنَّ الْمُصَلِّیْنَ کَثِیْرٌ وَالْمُقِیْمِیْنَ لَھَا قَلِیْلٌ” نماز پڑھنے والے بہت ہیں جبکہ اس کو قائم کرنے والے کم ہیں۔ “
Ayah 2:4[ وَالَّذِیْنَ : اور وہ لوگ جو ] [ یُؤْمِنُوْنَ : ایمان لاتے ہیں ] [ بِمَا : اس پر جو ] [ اُنْزِلَ : اتارا گیا ] [ اِلَـیْکَ : آپ ﷺ کی طرف ] [ وَمَا : اور جو ] [ اُنْزِلَ : اتارا گیا ] [ مِنْ قَبْلِکَ : آپ ﷺ سے پہلے ] [ وَبِالْاٰخِرَۃِ : اور آخری پر ] [ ھُمْ : وہ لوگ ] [ یُوْقِنُوْنَ : یقین رکھتے ہیں ]
ن ز ل
نَزَلَ یَنْزُلُ (ن) نُزُوْلاً : اُترنا۔ { وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ } (الحدید :16) ” اور جو اترا حق میں سے “۔ { وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآئِ } (الحدید :4) ” اور جو اترتا ہے آسمانوں سے۔ “
مَنْزِلٌج مَنَازِلُ (اسم الظرف) : اترنے کی جگہ ‘ ٹھہرنے کی جگہ۔ { ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَائً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَہٗ مَنَازِلَ } (یونس :5) ” وہ ہے جس نے بنایا سورج کو روشن اور چاند کو نور اور اس کے لیے طے کردیں منزلیں۔ “
نُزُلٌ (اسم ذات) : وہ چیز جو مہمان کے سواری سے اترتے ہی یعنی آتے ہی اصل دعوت سے پہلے پیش کی جائے۔ ابتدائی مہمان نوازی۔ { اِنَّا اَعْتَدْنَا جَھَنَّمَ لِلْکٰفِرین نُزُلًا } (الکہف :102) ” یقینا ہم نے تیار کیا ہے جہنم کو کافروں کے لیے ابتدائی مہمان نوازی کے طور پر۔ “
اَنْزَلَ یُنْزِلُ (افعال) اَنْزَالًا : اتارنا۔ { اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ الْکِتٰبِ } (البقرۃ :172) ” بیشک وہ لوگ جو چھپاتے ہیں اس کو جو اتارا اللہ نے الکتاب میں سے۔ “
مُنْزِلٌ(اسم الفاعل): اتارنے والا۔ { اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْ اُوفِی الْکَیْلَ وَاَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ } (یوسف :59) ” کیا تم لوگ دیکھتے نہیں کہ میں پورا ناپتا ہوں پیمانے کو اور میں سب سے بہتر ہوں اتارنے والوں میں یعنی بہترین مہمان نواز ہوں۔ “
مُنْزَلٌ (اسم المفعول) : اتارا ہوا۔{ اَنْ یُّمِدَّکُمْ رَبُّـکُمْ بِثَلٰثَۃِ اٰلَافٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُنْزِلِیْنَ ۔ } (آل عمران) ” کہ تم لوگوں کی مدد کرے تمہارا رب تین ہزار فرشتوں سے جو اتارے گئے۔ “
تَنَزَّلَ یَتَنَزَّلُ (تفعیل) تَنْزِیْلًا : کسی چیز کو بتدریج اتارنا۔ { ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ نَزَّلَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ } (البقرۃ :176) ” یہ اس لیے کہ اللہ نے بتدریج اتارا الکتاب کو حق کے ساتھ۔ “ { وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا ھُوَ شِفَآئٌ وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ } (بنی اسرائیل :82) ” اور ہم بتدریج اتارتے ہیں قرآن میں سے جو شفاء ہے اور رحمت ہے مؤمنوں کے لیے۔ “
مُنَزِّلٌ (اسم الفاعل) : بتدریج اتارنے والا۔ { قَالَ اللّٰہُ اِنِّیْ مُنَزِّلُھَا عَلَیْکُمْ } (المائدۃ :115) ” کہا اللہ نے کہ میں بتدریج اتارنے والا ہوں اس کو تم لوگوں پر۔ “
مُنَزَّلٌ (اسم المفعول) : بتدریج اتارا ہوا۔ { وَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّـہٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّکَ بِالْحَقِّ } (الانعام :114) ” اور جن لوگوں کو ہم نے دی الکتاب ‘ وہ لوگ جانتے ہیں کہ وہ یعنی قرآن بتدریج اتارا ہوا ہے آپ ﷺ کے رب کی جانب سے حق کے ساتھ “۔
تَنَزَّلَ یَتَنَزَّلُ (تفعل) تَنَزُّلًا : ٹھہر ٹھہر کر اترنا ‘ اترتے رہنا۔ { اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْھِمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ } (حٰمٓ السجدۃ :30) ” بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ لوگ ڈٹے رہے یعنی اپنے قول پر ‘ تو اترتے ہیں ان لوگوں پر فرشتے۔ “
ء خ ر
x x : ثلاثی مجرد سے فعل استعمال نہیں ہوتا۔
اَخَّرَ یُـاَخِّرُ (تفعیل) تَاْخِیْرًا : پیچھے کرنا۔ { یُنَـبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ } (القیامۃ :13) ” جتلا دیا جائے گا اس دن انسان کو جو اس نے آگے کیا اور جو اس نے پیچھے کمایا۔ “ { وَلَنْ یُّـؤَخِّرَ اللّٰہُ نَفْسًا اِذَا جَآئَ اَجَلُھَا } (المنفقون :11) ” اور اللہ ہرگز پیچھے نہیں کرے گا یعنی ہرگز مہلت نہیں دے گا کسی نفس کو جب آجائے گی اس کی اجل۔ “
تَاَخَّرَ یَتَاَخَّرُ (تفعل) تَاَخُّرًا : پیچھے رہنا۔ { نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِ لِمَنْ شَآئَ مِنْکُمْ اَنْ یَّـتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَ } (المدثر :37) ” وارننگ ہے ہر شخص کے لیے جو چاہے تم میں سے کہ وہ آگے رہے یا پیچھے رہے۔ “
اِسْتَئْخَرَ یَسْتَئْخِرُ (استفعال) اِسْتِئْخَارًا : پیچھے ہونا۔ { فَاِذَا جَآئَ اَجَلُھُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوْنَ } (الاعراف :34) ” تو جب آجائے گی ان لوگوں کی اجل نہ تو وہ لوگ پیچھے ہوں گے ایک گھڑی اور نہ آگے ہوں گے۔ “
آخِرٌ (فَاعِلٌکا وزن) : آخری۔ { وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّـقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَبِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ ۔ } (البقرۃ) ” اور لوگوں میں سے وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر اور آخری دن پر حالانکہ وہ لوگ مومن نہیں ہیں۔ “
آخَرُ (اَفْعَلُکا وزن) : دوسرا۔ { اَلَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَ } (الحجر :96) ” وہ لوگ جو بناتے ہیں اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا الٰہ۔ “
ی ق ن
(س) یَقَنًا : روشن و ثابت ہونا۔ قرآن مجید میں ثلاثی مجرد سے فعل استعمال نہیں ہوا۔
یَقِیْنٌ (فَعِیْلٌ کا وزن) : کسی چیز کا ثبوت کے ساتھ ہمیشہ کے لیے سمجھ میں آجانا ‘ یقین آنا۔ { وَکُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّّیْنِ حَتّٰی اَتٰٹنَا الْیَقِیْنُ } (المدثر :47) ” اور ہم جھٹلایا کرتے تھے بدلے کے دن کو یہاں تک کہ آیا ہم کو یقین۔ “
اَیْقَنَ یُوْقِنُ (افعال) اِیْقَانًا : یقین کرنا۔ { قَدْ بَیَّنَا الْاٰیٰتِ لَقِوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ } (البقرۃ :118) ” ہم واضح کرچکے ہیں نشانیوں کو ایسی قوم کے لیے جو یقین کرتے ہیں۔ “
مُوْقِنٌ (اسم الفاعل) : یقین کرنے والا۔ { وَکَذٰلِکَ نُرِیْ اِبْرٰھِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ ۔ } (الانعام) ” اور اس طرح ہم دکھاتے ہیں ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین اور آسمانوں کی بادشاہت اور اس لیے کہ وہ ہوجائے یقین کرنے والوں میں سے۔ “
اِسْتَیْقَنَ یَسْتَیْقِنُ (استفعال) اِسْتِیْقَانًا : یقین حاصل کرنا۔ { وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَھُمْ اِلاَّ فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوتُوا الْکِتٰبَ } (المدثر :31) ” اور ہم نے نہیں بنایا ان کی گنتی کو مگر آزمائش ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا ‘ تاکہ یقین حاصل کریں وہ لوگ جنہیں دی گئی الکتاب۔ “
مُسْتَیْقِنٌ (اسم الفاعل) : یقین حاصل کرنے والا۔ { قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَۃُ اِنْ نَّظُنُّ اِلاَّ ظَنًّا وَّمَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ } (الجاثیۃ :32) ” تم لوگوں نے کہا ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہے ‘ ہم گمان نہیں کرتے مگر ایک گمان یعنی کچھ گمان سا ہوتا ہے اور ہم یقین حاصل کرنے والے نہیں ہیں۔ “
ترکیب : یہ پوری آیت بھی آیت 2 کے لفظ اَلْمُتَّقِیْنَ کا بدل ہے۔ وَبِالْاٰخِرَۃِ صفت ہے۔ اس کا موصوف محذوف ہے۔ اَلْاٰخِرَۃِ مؤنث ہے اس لیے اس کا موصوف مذکر نہیں ہوسکتا لازماً مؤنث ہوگا جیسے وَبِالسَّاعَۃِ الْاٰخِرَۃِ ۔
نوٹ (1): انزال اور تنزیل ‘ دونوں کے معنی ہیں اتارنا۔ جبکہ ان میں فرق یہ ہے کہ انزال میں زیادہ تر کسی چیز کو ایک دفعہ اتارنے کا مفہوم ہوتا ہے۔ اور تنزیل میں کسی چیز کو رفتہ رفتہ اتارنے کے معنی ہوتے ہیں۔ نزول قرآن کے لیے انزال اور تنزیل ‘ دونوں کے مختلف صیغے استعمال ہوئے ہیں۔ اس کو سمجھنے میں ایک حدیث سے مدد ملتی ہے جس میں ہے کہ قرآن پاک ایک ہی دفعہ آسمان دنیا پر نازل ہوا اور پھر رفتہ رفتہ نازل ہوتا رہا۔
نوٹ (2): اس آیت میں { وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ } کے الفاظ سے واضح ہوجاتا ہے کہ قرآن مجید سے پہلے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں پر ایمان لانا ہمارے ایمان کا لازمی جز ہے۔ لیکن اس وقت صورت حال یہ ہے کہ صحف ابراہیم کا آج دنیا میں وجود نہیں ہے۔ توراۃ ‘ زبور ‘ انجیل سریانی اور عبرانی زبانوں میں نازل ہوئی تھیں۔ ان زبانوں میں ان کے نسخے اب دستیاب نہیں ہیں۔ مختلف زبانوں میں ان کے ترجمے موجود ہیں ‘ جن کے متعلق خود ان کتابوں کے علماء تسلیم کرتے ہیں کہ ان میں کلام اللہ کے ساتھ انسانی کلام بھی شامل ہے۔ ان حالات میں آیت زیر مطالعہ کے تقاضے کو پورا کرنے کے لیے اتنا ایمان کافی ہے کہ قرآن مجید سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل کی تھیں جن کا اب وجود نہیں ہے۔ لیکن آج کے دور میں قرآن مجید کے علاوہ کسی دوسری کتاب کو کلام اللہ تسلیم کرنا درست نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہاجا سکتا ہے کہ ان کتابوں کے کچھ اجزاء کلام اللہ کی ترجمانی پر مشتمل ہوسکتے ہیں۔
نوٹ (3):{ وَبِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ } کے الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ ” آخری “ پر ایمان لانا بھی ہمارے ایمان کا لازمی جز ہے۔ جیسا کہ اس آیت کی ترکیب میں واضح کیا جاسکتا ہے کہ اَلْاٰخِرَۃ چونکہ مؤنث صفت ہے اس لیے اس سے پہلے کسی مذکر لفظ کو محذوف ماننا ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ صفت چاروں پہلوئوں سے موصوف کے مطابق ہوتی ہے۔ اس لیے اَلْاٰخِرَۃ سے پہلے کسی بھی مؤنث لفظ کو محذوف ماننے کی گنجائش قواعد کی رو سے نکلتی ہے۔ اس کے علاوہ قواعد ہی کی رو سے اس سے پہلے کسی غیر عاقل کی جمع مکسر کو بھی محذوف ماننے کی گنجائش ہے۔ بشرطیکہ سیاق وسباق بھی اس کی اجازت دیتے ہوں۔ اس کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے مرزائی لوگوں نے اَلْاٰخِرَۃسے پہلے لفظ ” وحی “ کو محذوف مانا ہے۔ اس بنیاد پر وہ استدلال کرتے ہیں کہ قرآن مجید سے پہلے نازل ہونے والی کتابوں کی طرح ‘ قرآن کے بعد نازل ہونے والی ” آخری وحی “ پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ اب یہ عجیب اتفاق ہے کہ اردو زبان میں وحی کا لفظ مؤنث ہے لیکن عربی میں مذکر ہے۔ مرزائی اہل علم اس حقیقت کو اچھی طرح جانتے ہیں ان کی اس غلطی کو لاعلمی پر محمول کرنا ممکن نہیں ہے۔
Ayah 2:5[ اُولٰٓـئِکَ : یہی لوگ ] [ عَلٰی ھُدًی : ہدایت پر ہیں ] [ مِّنْ رَّبِّھِمْ : اپنے رب کی جانب سے ] [ وَاُولٰٓـئِکَ : اور یہ لوگ ] [ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ : ہی مراد پانے والے ہیں ]
ل ح
فَلَحَ یَفْلُحُ (ن) فَلْحًا : پھاڑنا ‘ زمین میں ہل چلانا۔ ثلاثی مجرد سے فعل یا اسم قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا۔
اَفْلَحَ یُفْلِحُ (افعال) فَلَاحًا : اس کا مصدر اِفْلَاحٌ کے بجائے فَلَاحٌ استعمال ہوتا ہے۔ مشکلات اور رکاوٹوں کو پھاڑ کر یعنی عبور کر کے اپنا مطلوب حاصل کرلینا۔ مراد پالینا (فعل لازم ہے) ۔ { وَاعْبُدُوْا رَبَّـکُمْ وَافْعَلُوا الْخَیْرَ لَـعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ } (الحج) ” تم لوگ بندگی کرو اپنے رب کی اور بھلے کام کرو شاید کہ تم لوگ مراد پائو۔ “
مُفْلِحٌ (اسم الفاعل) : مراد پانے والا۔
ترکیب :” اُولٰٓئِکَ “ کا اشارہ گزشتہ آیت 2 میں ” اَلْمُتَّقِیْنَ “ کی طرف ہے۔ نیز اس آیت میں ” اُولٰٓئِکَ “ مبتدأ ہے اور اس کی خبر محذوف ہے۔ ” عَلٰی ھُدًی “ قائم مقام خبر ہے۔ ” مِنْ رَّبِّھِمْ “ متعلق خبر کہلائے گا۔ خبر محذوف اگر ” قَائِمُوْنَ “ مانیں تو جملہ ہوگا ” اُولٰٓئِکَ قَائِمُوْنَ عَلٰی ھُدًی مِّنْْ رَّبِّھِمْ “۔
نوٹ : نجات پانے اور مراد پانے کا فرق سمجھ لیں۔ نجات پانے میں مفہوم یہ ہے کہ دوزخ میں جانے سے بچ گیا۔ جس طرح 33 فیصد نمبر حاصل کرنے والا اور سو فیصد نمبر حاصل کرنے والا ‘ دونوں طالب علم فیل ہونے سے بچ جاتے ہیں اور پاس ہوجاتے ہیں جبکہ مراد پانے میں مفہوم یہ ہے کہ اپنی محنت اور توقع کے مطابق یا اس سے زیادہ نمبر لے کر پاس ہونا۔
Ayah 2:6[ اِنَّ : یقینا ] [ الَّـذِیْنَ کَفَرُوْا : جن لوگوں نے انکار کیا ] [ سَوَآئٌ عَلَیْھِمْ : برابر ہے ان پر ] [ ئَ اَنْذَرْتَھُمْ : خواہ آپ خبردار کریں ان کو ] [ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ : یا آپ ﷺ خبردار کریں نہ کریں ان کو ] [ لَا یُؤْمِنُوْنَ : وہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے ]
کر
کفر یکفر (ن) کفرا : کسی چیز کو دبا دینا ‘ چھپا دینا۔ پھر اس بنیادی مفہوم کے ساتھ دو معانی میں استعمال ہوتا ہے۔
(1) کفورًا : ناشکری کرنا یا ناقدری کرنا اور ایمان لانے سے انکار کرنا۔ دراصل اللہ تعالیٰ کی معرفت ‘
(3) کفرانًا : اس کی وحدانیت ‘ نیکی بدی کا شعور ‘ جذبہ شکر وغیرہ انسان کی فطرت میں ڈال کر اسے دنیا کی امتحان گاہ میں بھیجا جاتا ہے۔ یہ چیزیں جب اس کے اندر سے ابھر کر شعور کی سطح پر آنا چاہتی ہیں تو کچھ لوگ اسے دبا دیتے ہیں یا چھپالیتے ہیں۔ اس کے بعد ہی وہ اس قابل ہوتے ہیں کہ ناشکری کریں یا انکار کریں۔ { ومن یشکر فانما یشکر لنفسہ ومن کفر فان اللہ غنی حمید ۔ } (لقمٰن) ” اور جو شکر کرے تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ وہ شکر کرتا ہے اپنے ہی لیے اور جس نے ناشکری کی تو بیشک اللہ بےنیاز ‘ حمد کیا ہوا ہے۔ “
(1) { اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ کُفْرًا } (ابراھیم :28) ” کیا تو نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنہوں نے بدل دیا اللہ کی نعمت کو ناشکری سے۔ “
(2) { وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ فَاَبٰی اَکْثَرُ النَّاسِ اِلاَّ کُفُوْرًا ۔ } (بنی اسرائیل ) ” ہم نے مختلف پیرایوں میں بیان کی ہے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال ‘ تو نہ مانا لوگوں کی اکثریت نے مگر ناشکری کرتے ہوئے ۔ “
(3) { فمن یعمل من الصلحت وھو مومن فلا کفران لسعیہ } (الانبیائ :94) ” تو جو عمل کرے نیکیوں میں سے اس حال میں کہ وہ مومن رہے تو کسی قسم کی کوئی ناقدری نہیں ہے اس کی کوشش کے لیے۔ “
اکفر (فعل امر) : تو کفر کر۔ { کمثل الشیطن اذ قال للانسان اکفر } (الحشر :16) ” شیطان کی مثال کی مانند جب اس نے کہا انسان سے کہ تو ناشکری کر یا انکار کر۔ “
کَافِرٌ ج کافرون اور کفار (اسم الفاعل) : کفر کرنے والا۔ { وَیَقُوْلُ الْکٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرٰبًا } (النبائ :40) ” اور کہے گا انکار کرنے والا اے کاش میں مٹی ہوتا۔ “ { ان الذین کفروا وماتو وھم کفار اولئک علیھم لعنۃ اللہ } (البقرۃ :161) ” بیشک جن لوگوں نے انکار کیا اور وہ لوگ مرگئے اس حال میں کہ وہ لوگ انکار کرنے والے ہی رہے ‘ ان لوگوں پر اللہ کی لعنت ہے۔ “ کسان کو بھی کَافِرٌکہتے ہیں کیونکہ وہ بیج کو زمین میں دبانے اور چھپانے والا ہوتا ہے۔ { کَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْکُفَّارَ } (الحدید :20) ” بارش کی مثال کی مانند جو بھلی لگی کسانوں کو۔ “
کُفَّارٌ (فَعَّالٌ کے وزن پر اسم مبالغہ) : بہت ناشکرا ‘ انکار کرنے والا۔ { ان اللہ لا یھدی من ھو کذب کفار ۔ } (الزمر) ” یقینا اللہ ہدایت نہیں دیتا اس کو جو بہت زیادہ انکار کرنے والا جھوٹا ہے۔ “
کفور (فَعُوْلٌکے وزن پر اسم مبالغہ) : دل کھول کر ناشکری کرنے والا ‘ انکار کرنے والا۔ { ان الانسان لکفور ۔ } (الحج :66) ” بیشک انسان دل کھول کر ناشکری کرنے والا ہے۔ “
کفر یکفر (تفعیل) تکفیرا : کسی کی ناپسندیدہ چیز کو اس سے دور کرنا ‘ دبا کر یا چھپا کر۔ غلطی کا جرمانہ ادا کر کے اس کی سزا کو دور کرنا ‘ کفارہ ادا کرنا۔ { کفر عنھم سیئاتھم واصلح بالھم } (محمد :2) ” اس نے یعنی اللہ نے دور کیا ان کی برائیوں کو ان سے اور اس نے اصلاح کی ان کی حالتوں کی۔ “
کفر (فعل امر) : تو دور کر۔ { ربنا فاغفرلنا ذنوبنا وکفر عنا سیئاتنا وتوفنا مع الابرار } (آل عمران :193) ” اے ہمارے رب تو بخش دے ہمارے لیے ہمارے گناہوں کو اور تو دور کر دے ہم سے ہماری برائیوں کو اور تو موت دے ہم کو نیک لوگوں کے ساتھ۔ “
کفارۃ (اسم ذات) : وہ چیز جو بطور جرمانہ ادا کی جائے۔ { ذلک کفارۃ ایمانکم اذا حلفتم } (المائدۃ :89) ” یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم حلف اٹھائو۔ “
سَوِیَ یَسْوٰی (س) سوی وسواء : ہموار ہونا ‘ طول وعرض یا قدر و قیمت میں برابر ہونا ‘ درمیان میں ہونا ‘ قرآن مجید میں ثلاثی مجرد سے فعل استعمال نہیں ہوا۔ البتہ اس کا مصدر سَوَائٌ آیت زیر مطالعہ میں استعمال ہوا ہے۔
سواء (مصدر کے علاوہ اسم ذات بھی ہے) : کسی چیز کا درمیان یا وسط ۔ { ومن یتبدل الکفر بالایمان فقد ضل سواء السبیل } (آل عمران :108) ” اور جو تبدیل کرتا ہے کفر کو ایمان کے بدلے تو وہ بھٹک گیا ہے راستہ کے درمیان سے یعنی سیدھے راستے سے۔ “ { فاطلع فراہ فی سواء الجحیم } (الصّٰفّٰت :55) ” پس اس نے جھانکا تو اس نے دیکھا اس کو بھڑکتی آگ کے وسط میں۔ “
سوی (فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت) : ہر لحاظ سے کمی یا زیادتی سے پاک ‘ کامل ‘ درمیانی۔ { قال ایتک الا تکلم الناس ثلث لیال سویا ۔ } (مریم) ” اس نے یعنی اللہ تعالیٰ نے کہا تیری نشانی ہے کہ تو کلام نہیں کرے گا لوگوں سے تین کامل راتیں یعنی تین رات اور دن۔ “
سَوّٰی یُسَوِّیْ (تفعیل) تَسْوِیَۃً : کسی چیز کی کمی یا زیادتی سے پاک کرنا۔ ہر لحاظ سے مناسب و موزوں بنانا یعنی نوک پلک درست کرنا ‘ ہموار یا برابر کرنا۔ { اَلَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰی ۔ } (الاعلیٰ ) ” جس نے پیدا کیا پھر نوک پلک درست کی۔ “{ رَفَعَ سَمْکَھَا فَسَوّٰٹھا ۔ } (النزعت) ” اس نے بلند کیا اس کی یعنی آسمان کی چھت کو پھر اسے ہموار کیا۔ “
ساوی یساوی (مفاعلہ) مساواۃ : دو یا زیادہ چیزوں کو برابر کرنا۔ { حتی اذا ساوی بین الصدفین قال انفخوا } (الکہف :96) ” یہاں تک کہ جب اس نے برابر کردیا پہاڑوں کے دونوں کناروں کے درمیان کو ‘ تو اس نے کہا تم لوگ پھونکو ۔ “
استوی یستوی (افتعال) استواء : (1) برابر ہونا۔ { قل ھل یستوی الاعمی والبصیر ام ھل تستوی الظلمت والنور } (الرعد :16) ” آپ ﷺ کہیے کیا برابر ہوتے ہیں اندھا اور بصیرت والا کیا برابر ہوتے ہیں اندھیرے اور نور۔ “ (2) اِسْتَوٰی اِلٰی۔ ارادہ کرنا ‘ متوجہ ہونا۔ { ثم استوی الی السماء وھی دخان } (حٰمٓ السجدۃ :11) ” پھر وہ متوجہ ہوا آسمان کی طرف اس حال میں کہ وہ دھواں تھا۔ “ (3) اِسْتَوٰعَلٰی۔ غالب آنا ‘ متمکن ہونا۔ { الذی خلق السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش } (الفرقان :59) ” جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ‘ چھ دنوں میں پھر وہ متمکن ہوا عرش پر۔ “
ن ذ ر
نذر ینذر۔ نذر ینذر (ض۔ ن) نذرا : کسی غیر واجب چیز کو اپنے اوپر واجب کرلینا ‘ منت ماننا۔ { انی نذرت للرحمن صوما } (مریم :26) ” میں نے منت مانی رحمن کے لیے ایک روزے کی۔ “
نَذْرٌ ج نُذُوْرٌ (اسم ذات) : منت ‘ نذر۔ { وما انفقتم من نفقۃ او نذرتم من نذر فان اللہ یعلمہ } (البقرۃ :270) ” اور جو تم لوگ انفاق کرو کسی خرچے میں سے یا جو تم لوگ منت مانو کسی منت سے تو یقینا اللہ اس کو جانتا ہے۔ “{ ثم لیقضوا تفثھم ولیوفوا نذورھم ولیطوفوا بالبیت العتیق } (الحج :29) ” پھر ان لوگوں کو چاہیے کہ اتاریں اپنے میل کچیل اور پوری کریں اپنی منتیں اور طواف کریں قدیم گھر کا یعنی خانہ کعبہ کا۔ “
نَذِرَ یَنْذَرُ (س) نَذْرًا : کسی متوقع خطرہ سے خبردار ہونا ‘ چوکنا ہونا ‘ باب سمع سے فعل قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا۔
نذیر ج نذر (فَعِیْلٌ کا وزن ہے اسم الفاعل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے) : لیکن اس کے معنی خبردار ہونے والا کے بجائے خبردار کرنے والا ہیں۔ { وما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیرا ونذیرا } (سبا :28) ” اور ہم نے نہیں بھیجا آپ ﷺ کو مگر تمام انسانوں کے لیے خوشخبری دینے والا اور خبردار کرنے والا ہوتے ہوئے۔ “ { وقد خلت النذر من بین یدیہ ومن خلفہ } (الاحقاف :21) ” اور گزر چکے ہیں خبردار کرنے والے ان کے سامنے اور ان کے پیچھے۔ “
انذر ینذر (افعال) انذارا : کسی متوقع خطرے سے خبردار کرنا ‘ وارننگ دینا۔ { واوحی الی ھذا القران لانذرکم بہ ومن بلغط } (المائدۃ :19) ” اور وحی کیا گیا میری طرف یہ قرآن تاکہ میں خبردار کروں تم لوگوں کو اس کے ذریعہ سے ‘ اور اس کو جس کو وہ پہنچے۔ “
انذر (فعل امر) : تو خبردار کر۔ { وَاَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْھُمُ الْعَذَابُ } (ابراھیم :44) ” اور خبردار کیجیے لوگوں کو اس دن سے جب آئے گا ان کے پاس عذاب۔ “
منذر (اسم الفاعل) : خبردار کرنے والا۔ { انما انت منذر ولکل قوم ھاد ۔ } (الرعد) ” کچھ نہیں سوائے اس کے کہ آپ ﷺ ایک خبردار کرنے والے ہیں اور ہر ایک قوم کے لیے ایک ہدایت دینے والا ہے۔ “
منذر (اسم المفعول) : خبردار کیا ہوا۔{ واغرقنا الذین کذبوا بایتنا فانظر کیف کان عاقبۃ المنذرین } (یونس :73) ” اور ہم نے ڈبویا ان لوگوں کو جنہوں نے جھٹلایا ہماری نشانیوں کو ‘ تو دیکھ کیسا تھا خبردار کیے جانے والوں کا انجام۔ “
ترکیب :” اَلَّـذِیْنَ کَفَرُوْا “ یہ پورا جملہ ” ان “ کا اسم یعنی مبتدأ ہے اور ” سوائ “ اس کی خبر ہے۔ اس سے آگے کا جملہ ” سوائ “ وضاحت کر رہا ہے۔
نوٹ (1) : کسی جملہ میں ئَ کے بعد اگر اَمْ لانا ہو تو (1) زیادہ تر ئَ کے بعد فعل ماضی لاتے ہیں اور ام کے بعد فعل مضارع لاتے ہیں ۔ پھر مضارع میں ماضی کا مفہوم پیدا کرنے کے لیے اس پر لَمْ داخل کرتے ہیں۔ (2) ایسی صورت میں ئَ کے معنی ” کیا “ نہیں ہوتے بلکہ ” خواہ “ یا ” چاہے “ ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ چاہے یہ کرو یا نہ کرو۔
نوٹ (2) : اس آیت سے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ کافروں میں سے کوئی بھی ایمان نہیں لائے گا۔ لیکن اگلی آیت میں یہ خیال رد ہوجاتا ہے اور بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہاں پر بات دراصل کافروں کے ایک مخصوص گروہ کی ہو رہی ہے جو کفر میں point of no return پر پہنچ چکے ہیں۔ اس سے کم تر درجہ کے کافروں میں ایمان لانے کی صلاحیت باقی رہتی ہے جن میں سے بہت سے لوگ ایمان لائے ہیں اور ان شاء اللہ لاتے رہیں گے۔
نوٹ (3) : اس آیت میں کٹر کافروں کے لیے حضور ﷺ کا وعظ کرنا یا نہ کرنا ‘ دونوں کو برابر قرار دیا گیا ہے۔ لیکن سواء کے ساتھ علیھم کا اضافہ کر کے واضح کردیا کہ یہ برابری ایسے کفار کے حق میں ہے ‘ آپ ﷺ کے حق میں نہیں ہے۔ آپ ﷺ کو اپنا فرض منصبی بہرحال ادا کرنا ہے۔ اسی لیے ایسے لوگوں کو بھی دعوت ایمان دینے سے حضور ﷺ کو نہیں روکا گیا۔ بلکہ ابلاغ کی تاکید کی گئی ہے :” اے رسول ﷺ آپ پہنچائیں وہ جو اتارا گیا آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے۔ اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو آپ نے نہیں پہنچایا اس کے پیغام کو “۔ (المائدۃ :67) اس سے معلوم ہوا کہ جو بھی امتی دعوت دین اور اصلاح کا کام کرتا ہے ‘ اس کو اپنی کوشش کا ثواب بہرحال ملے گا ‘ خواہ اس کی کوشش کا سامنے والے پر اثر ہو یا نہ ہو۔
نوٹ (4) : یہاں سے ایک اصول یہ بھی ملتا ہے کہ کسی کی ذمہ داری دوسروں کے غلط رویہ کی وجہ سے ختم نہیں ہوتی۔ مثلاً کوئی استاد یہ کہہ کر نہیں بچ سکے گا کہ طلبہ پڑھائی میں دلچسپی نہیں لیتے تھے اس لیے میں نے نہیں پڑھایا۔ کسی طالب علم کا یہ عذر قبول نہیں کیا جائے گا کہ استاد کو پڑھانا نہیں آتا تھا اس لیے میں نے نہیں پڑھا۔ ہر فریق اپنی اپنی ذمہ داری کے لیے جواب دہ ہے اور اس میں کوتاہی کا نقصان اس کی اپنی ذات کو پہنچتا ہے۔ اسی لیے حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ اپنے رویہ کو دوسروں کے رویہ کا تابع مت بنائو۔ اگر کوئی تمہارا حق مارتا ہے ‘ تو تم اس کا حق ادا کرو۔
Ayah 2:7[ خَتَمَ : سیل لگا دی ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ : ان کے دلوں پر ] [ وَعَلٰي سَمْعِهِمْ ۭ : اور ان کی سماعت پر ] [ وَعَلٰٓي اَبْصَارِهِمْ : اور ان کی بصارتوں پر ] [ غِشَاوَةٌ: ایک پردہ ہے ] [ وَّلَھُمْ : اور ان کے لیے ] [ عَذَابٌ عَظِيْمٌ: ایک عظیم عذاب ہے ]
خ ت م
خَتَمَ یَخْتِمُ (ض) خَتْمًا : (1) سیل (Seal) لگانا تاکہ اندر کی چیز باہر اور باہر کی چیز اندر نہ جاسکے { الیوم نختم علی افواھھم وتکلمنا ایدیھم ونشھد ارجلھم بما کانوا یکسبون ۔ } (یٰسٓ) ” اور اس دن ہم سیل لگا دیں گے ان کے مونہوں پر اور ہم سے کلام کریں گے ان کے ہاتھ اور گواہی دیں گے ان کے پیر ‘ جو وہ لوگ کیا کرتے تھے۔ “ (2) کسی کام سے فارغ ہونا ‘ ختم کرنا۔
ختام (اسم ذات) : وہ چیز جس سے سیل لگائی جائے جیسے لاکھ ‘ گیلا آٹا ‘ گیلی مٹی وغیرہ۔ { یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍ ۔ خِتٰـمُہٗ مِسْکٌج وَفِیْ ذٰلِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ ۔ } (المطففین) ” وہ لوگ پلائے جائیں گے سیل لگی ہوئی خالص شراب میں سے ‘ اس کی سیل مشک ہے۔ اور چاہیے کہ اس میں جان کھپائیں جان کھپانے والے۔ “
خاتم (فاعل اسم الآلہ کا ایک وزن) : سیل بند کرنے کا ذریعہ ‘ سیل بند کرنے والا ‘ ختم کرنے والا ۔ { وما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین } (الاحزاب :40) ” اور نہیں ہیں محمد ﷺ کسی ایک کے باپ ‘ تمہارے مردوں میں سے ‘ اور لیکن اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کے سیل کرنے والے ہیں یعنی نبیوں کے سلسلہ کو ختم کرنے والے ہیں۔ “
مختوم (اسم المفعول) : سیل بند کیا ہوا۔ (المطففین :25)
ق ل ب
قَلَبَ یَقْلِبُ (ض) قَلْبًا : کسی چیز کو ایک حالت یا رُخ سے یا دوسری طرف پھیرنا یا پلٹنا۔ { والیہ تقلبون } (العنکبوت :21) ” اور اس کی طرف ہی تم لوگ پلٹائے جائو گے۔ “
قَلْبٌ ج قُلُوْبٌ (اسم ذات) : دل (کیونکہ یہ ہر لمحہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹا رہتا ہے۔ ){ وَمَنْ یُّـؤْمِنْ بِاللّٰہِ یَھْدِ قَلْبَہٗ } (التغابن :11) ” اور جو ایمان لاتا ہے اللہ پر تو وہ ہدایت دیتا ہے اس کے دل کو۔ “{ لھم قلوب لا یفقھون بھا ولھم اعین لا یبصرون بھا ولھم اذان لا یسمعون بھا } (الاعراف :179) ” ان کے دل ہیں وہ لوگ تفقہ نہیں کرتے اس سے ‘ ان کی آنکھیں ہیں وہ لوگ بصارت نہیں کرتے ان سے ‘ ان کے کان ہیں وہ لوگ سماعت نہیں کرتے اس سے ‘ ان کے کان ہیں وہ لوگ سماعت نہیں کرتے اس سے۔ “
قلب یقلب (تفعیل) تقلیب : کسی چیز کو بار بار پلٹنا۔ { وَنُقَلِّبُھُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَذَاتَ الشِّمَالِ } (الکہف :18) ” اور ہم بار بار پلٹتے ہیں ان کو دائیں جانب اور بائیں جانب یعنی ہم ان کی کروٹیں بدلتے رہتے ہیں۔ “
تقبل یتقبل (تفعل) تفلبا : کسی چیز کا خود بار بار پلٹنا ‘ گھومناپھرنا۔ { قد نری تقلب وجھک فی السمائ } (البقرۃ :124) ” ہم نے دیکھ لیا ہے آپ ﷺ کے چہرے کا بار بار پلٹنا آسمان میں۔ “{ لا یغرنک تقلب الذین کفروا فی البلاد } (آل عمران :196) ” ہرگز دھوکا نہ دے آپ ﷺ کو ‘ شہروں میں ان لوگوں کا گھومنا پھرنا جنہوں نے کفر کیا۔ “
متقلب (اسم المفعول جو بطور اسم ظرف استعمال ہوتا ہے) : گھومنے پھرنے کی جگہ۔ { واللہ یعلم متقلبکم ومثوٹکم } (محمد :19) ” اللہ جانتا ہے ‘ تمہارے گھومنے پھرنے کی جگہ کو اور تمہارے واپس ہونے کی جگہ کو۔ “
اِنْقَلَبَ یَنْقَلِبُ (انفعال) اِنْقِلَابًـا : کسی چیز کا خود ایک حالت یا رخ سے دوسری طرف پھرنا یا پلٹنا۔ { اَفَاِئنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰی اَعْقَابِکُمْ } (آل عمران :144) ” تو کیا اگر وہ یعنی حضور ﷺ انتقال کر جائیں یا قتل کیے جائیں تو تم لوگ الٹے پھر جائو گے اپنی ایڑیوں کے بل۔ “
منقلب (اسم الفاعل) : پھرنے والا۔ { قالوا انا الی ربنا منقلبون } (الزخرف :125) ”۔ “
Ayah 2:8[ وَمِنَ النَّاسِ : اور لوگوں میں سے ] [ مَنْ : وہ (بھی) ہیں جو ] [ يَّقُوْلُ : کہتے ہیں ] [ اٰمَنَّا : ہم ایمان لائے ] [ بِاللّٰهِ وَبِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ : اللہ پر اور آخری دن پر ] [ وَ : حالانکہ ] [ مَا ھُمْ بِمُؤْمِنِيْنَ : وہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں ]
ق و ل
[ قولا : (ن) کہنا، بولنا۔ وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَةً (اور جب کہا آپ کے رب نے بیشک میں بنانے والا ہوں زمین میں ایک خلیفہ)
قیل ماضی مجہول ہے ۔ کہا گیا۔
یقال ۔ مضارع مجہول ہے کہا جاتا ہے مَا يُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِيْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ ۭ، (نہیں کہا جاتا آپ سے مگر جو کہا گیا ہے رسولوں سے آپ سے پہلے)
قیل، اسم ذات ہے بات۔ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِيْلًا (اور اللہ سے زیادہ سچا کون ہے بلحاظ بات کے)
قول۔ ج اقوال، جمع کی جمع، اقاویل۔ اسم ذات ہے بات ہے۔ (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ ، وَّمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ۭ](یہ ایک بزرگ رسول کا قول ہے اور یہ کسی شاعر کی بات نہیں ہے) ۔
قل۔ فعل امر ہے تو کہہ۔ (قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ ) آپ کہہ دیجیے کہ تم لوگ زیادہ جانتے ہو یا اللہ) ۔
قائل۔ اسم الفاعل ہے کہنے والا۔ قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ لَا تَـقْتُلُوْا يُوْسُفَ ) (کہا ان میں سے ایک کہنے والے نے تم لوگ قتل مت کرو یوسف کو)
تقولا۔ بات گھڑنا۔ کسی طرف ایسی بات منسوب کرنا جو اس نے نہیں کہی۔ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ ، لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ ) اور اگر وہ غلط منسوب کرتے ہم پر باتوں میں کوئی تو ہم ضرور پکڑتے ان کو قوت کے ساتھ)
ترکیب۔ آیت زیر مطالعہ کی ترکیب پہلے ایک مثال سے سمجھ لیں۔ اگر ہم کہیں کہ من الناس کافر، تو اس میں من الناس قائم مقام خبر مقدم ہے جبکہ خبر موجود محذوف ہے اور کافر مبتدا موخر ہے اس کا سادہ جملہ ہوتا الکافر موجود من الناس۔ اور اس کا مطلب ہوتا کہ کافر یعنی خاص کافر لوگوں میں موجود ہے ۔ لیکن جب مبتدا کو موخر کرکے نکرہ کردیا تو اب من الناس کافر کا مطلب ہوگیا کہ لوگوں میں سے کوئی کافر ہے یعنی لوگوں میں سب کافر نہیں ہیں بلکہ کچھ کافر ہیں یہ رعایت اردو میں لفظ بھی سے ادا ہوتی ہے اس لیے اس جملہ کا ترجمہ ہوگا لوگوں میں کافر بھی ہیں اسی طرح ومن الناس من یقول من الناس، قائم مقام خبر مقدم ہے جبکہ خبر موجود محذوف ہے اور من یقول مبتدا موخر ہے اس کا بامحاورہ ترجمہ ہوگا لوگوں مین وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں وما ھم بمومنین مین ھم مبتدا ہے جبکہ مومنین اسم الفاعل ہے اور ما کی خبر ہے۔
نوٹ۔ لفظ ، من ، کے متعلق یہ بات نوٹ کرلیں کہ واحد ، تثنیہ، جمع، مذکر، مونث، سب کے لیے من ہی استعمال ہوتا ہے اس آیت میں من کے بعد یقول واحد کے صیغہ میں لا کر اس کی لفظی رعایت کی گئی ہے کیونکہ من اصلا واحد لفظ ہے اس کے آگے امنا جمع کے صیغے میں لا کر اس کی معنوی رعایت کی گئی ہے کیونکہ یہاں من جمع کے معنی میں آیا ہے۔
نوٹ۔ اوپر ترجمہ میں آپ نے نوٹ کرلیا ہوگیا کہ وما ھم بمومنین کے واو کا ترجمہ اور کے بجائے حالانکہ کیا گیا ہے، اس کی وجہ سمجھ لیں۔ واو کی تین قسمیں زیادہ مستعمل ہیں ایک واو قیمہ ہے جس کے معنی ہیں قسم ہے اس کی پہچان یہ ہے کہ یہ اپنے اسم کو جر دیتا ہے۔ جیسے والعصر (قسم ہے زمانے کی) ایک واو عاطفہ ہے جس کے معنی ہیں یعنی یہ کوئی اعرابی تبدیلی نہیں لاتے اس لیے ان کی پہچان عبارت کے مفہوم سے ہوتی ہے حضور ﷺ کی ایک تعلیم کردہ دعا میں واو حالیہ اور واو عاطفہ کافوی تقابل بہت واضح ہے۔ اللھم انی اعوذبک۔ اے اللہ میں تیری پناہ میں آتا ہوں ۔ ان اشرک بک۔ کہ میں (کسی کو) شریک کروں تیرے ساتھ۔ واعلم۔ اس حال میں کہ میں جانتا ہوں ۔ واستغفرک۔ اور میں مغفرت مانگتا ہوں تجھ سے ۔ بما لا اعلم۔ اس کی جو میں نہیں جانتا۔ آیت زیر مطالعہ کے آخری حصہ کا واو بھی حالیہ ہے اس لیے اس کا ترجمہ ، حالانکہ کیا گیا ہے۔