2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 2:1–2

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ١ۛۖۚ فِیْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 2:2 in the Quran reader

یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلام خدا ہے، خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے

اَلمّ اللہ ہی اس سے اپنی مراد کو بہتر جانتا ہے، یہ کتاب ہے جس کو محمد ﷺ پڑھتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ منجانب اللہ ہے اور جملہ (یعنی لَا رَیْبَ فِیْہِ ) خبر ہے جس کا مبتداء ذٰلِکَ ہے اور اسم بعید کا استعمال بیان تعظیم کے لئے ہے، ھُدًی خبر ثانی ہے اور معنی میں ھَادٍ کے ہے، متقیوں کے لئے رہنما ہے (یعنی) امتثال اوامر اور اجتناب نواہی کے ذریعہ تقویٰ کی رغبت رکھنے والے ہیں، (اس امتثال واجتناب) ہی کی بدولت نار جہنم سے بچنے کی وجہ سے ان کو متقی کہا گیا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو مغیبات پر ایمان رکھتے ہیں، یعنی ان چیزوں کی جو ان سے مخفی ہیں مثلاً بعث بعد الموت، جنت اور نار کی تصدیق کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں یعنی اس کے ارکان و شرائط کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے، اس میں سے اللہ کی طاعت میں خرچ کرتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں، جو اس قرآن پر ایمان رکھتے ہیں، جو آپ پر نازل کیا گیا ہے اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا، یعنی تورات انجیل وغیرہ، اور وہ آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں، یعنی اس کا پختہ علم رکھتے ہیں، یہی لوگ جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں، اپنے رب کی جانب سے ہدایت پر ہیں اور یہی ہیں جو پوری طرح کامیاب ہیں، (یعنی) جنت کے (حصول کے) ذریعہ کامیاب اور نار جہنم سے نجات پانے والے ہیں، بلاشبہ وہ لوگ جو منکر ہوئے جیسا کہ ابو جہل اور ابو لہب وغیرہ، آپ کا ان کو ڈرانا اور نہ ڈرانا برابر ہے، (ءَاَنْذَرْتَھُمْ ) میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے کو الف سے تبدیل کرکے اور دوسرے میں ترک تسہیل کرکے اور مُسَہُّلَہ اور محققہ کے درمیان الف داخل کرکے (اور ثانی میں) ترک تسہیل کرکے وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں، اس لئے کہ یہ بات ان کے بارے میں اللہ کے علم میں ہے، لہٰذا آپ ان کے ایمان کی امید نہ رکھیں اور انذار، خوف کے ساتھ ڈرانے کو کہتے ہیں، اللہ نے ان کے قلوب پر مہر لگا دی ہے اور ان کو سیل (Seel) کردیا ہے، لہٰذا اب ان میں خیر داخل نہیں ہوسکتی اور ان کی (قوت) سماعت یعنی کانوں پر (معنوی) مہر لگای گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ حق بات سن کر مستفید نہیں ہوتے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے، جس کی وجہ سے حق بات نہیں دیکھ سکتے اور ان کے لئے قوی اور دائمی عذاب ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قرآنی سورتوں کا ” سورة “ نام رکھنے کی وجہ تسمیہ : سَوْرَۃُ البَقَرَۃِ : سورة ، لغت میں بلندی یا بلند منزل کو کہتے ہیں، (لسان، راغب) یعنی ہر سورت بلند مرتبہ ہے، سورت کے ایک معنی فصیل (شہر پناہ) کے بھی ہیں، شہر کے چاروں طرف کی دیوار کو سورت المدینہ کہتے ہیں قرآنی سورتوں کو سورت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ اپنے مضامین کو اسی طرح احاطہ کئے رہتی ہے، جس طرح فصیل شہر کا احاطہ کئے رہتی ہے۔ ذَلِکَ : اسم اشارہ بعید کے لئے ہے، جس کا مشار الیہ محسوسات میں سے ہو، یعنی حواس خمسہ ظاہرہ سے جن کا ادراک کیا جاسکتا ہو، رَیْبَ شک و شبہ، ھو التردد بین المنقیضین لا ترجیح لاحدھما علی الآخر عند الشاک، ھُدًی، ہدایت سے ماخوذ ہے بمعنی رہنمائی غَیْبِ ہر وہ شئی جو انسان کے حواس خمسہ سے غائب ہو، یُقِیْمُوْنَ اقامت سے ماخوذ ہے، جس کے معنی سیدھا کرنے کے ہیں اور نماز کا سیدھا کرنا اس کو آداب و شرائط کی رعایت کرتے ہوئے خشوع خضوع کے ساتھ ادا کرنا ہے، رزق زندگی گزارنے کا سامان یُنْفِقُوْنَ یہ اتفاق سے ماخوذ ہے، بمعنی خرچ کرنا اٰخِرَۃِ مؤخر اور بعد میں آنے والی چیز، یہاں عالم دنیا کے مقابلہ میں عالم آخرت مراد ہے، یُوْقِنُوْنَ ، ایقان سے ماخوذ ہے، جمع مذکر غائب، مُفْلِحُوْنَ ، افلاح سے ماخوذ ہے، فلاح پوری کامیابی کو کہتے ہیں، سَوَآءٌ یہ اسم ہے قائم مقام مصدر کے یہی وجہ ہے کہ اس کا تثنیہ اور جمع نہیں آتا کہا جاتا ہے، ھما سوائ، ھم سَوَآءٌ اور جب اس کا تثنیہ لانا ہوتا ہے، تو کہا جاتا ہے، ھما سَیّانِ ، غِشَارَۃٌ، بروزن فِعالۃ یہ وزن کسی چیز پر مشتمل ہونے کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے : عِصابہ اور عِمَامہ، غشٰوۃ، کے غین پر تینوں حرکت درست ہیں، اس کے معنی سرپوش کے ہیں، یہ مصدر بھی ہے، مگر اس جگہ ڈھانکنے والی چیز مراد ہے۔ قولہ : ھذا۔ سوال : ذٰلِکَ کی تفسیر ھٰذا سے کیوں کی ؟ جواب : ذٰلِکَ ، بمعنی ھذا ہے، اس لئے کہ ذٰلِکَ کا مشار الیہ، الم، یا قرآن کریم ہے اور دونوں ہی نہایت قریب ہیں۔ سوال : تو پھر ذٰلِکَ کے بجائے، ھذا ہی کیوں استعمال نہیں کیا۔ جواب : بیان تعظیم کے لئے اسم اشارہ کا استعمال کیا۔ قولہ : اَلَّذِیْ یَقرؤہ محمد ﷺ اس سے دیگر کتب سماویہ سے احتراز ہوگیا۔ قولہ : اَنَّہٗ مِنْ عند اللہ کے اضافہ کا مقصد ایک اعتراض کا جواب ہے۔ اعتراض : (الکتاب) مفرد ہے، اور مفرد میں شک کا کوئی مطلب نہیں ہوتا اس لئے کہ شک اور ظن اور علم کا تعلق قضیہ سے ہوتا ہے۔ جواب : اَلکتاب مفرد نہیں ہے بلکہ قضیہ ہے، اسکی تقدیر عبارت یہ ہے ذالک الکتابُ أنَّہ مِن عند اللہ قولہ : اَلصائرنِ الی التقویٰ ۔ سوال : لِلْمُتَّقِیْنَ ، کی تفسیر اَلصَّائِرِیْنَ اِلَی التَّقْوٰی سے کرنے میں کیا نکتہ ہے ؟ جواب : اس تفسیر سے ایک سوال مقدر کا جواب مقصود ہے۔ سوال : سوال یہ ہے کہ ھُدًی لِلمتقین میں تحصیل حاصل ہے، یعنی یہ کتاب متقیوں کو ہدایت دینے والی ہے، متقیوں کو ہدایت دینے سے مراد ہے، جب کہ متقی تو خود ہی ہدایت یافتہ ہوتا ہے۔ جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ متقین سے مراد اغبین الی التقویٰ ہے۔ قولہ : لِاتقائِھم بذلک النار کے اضافہ کا مقصد متقی کو متقی کہنے کی وجہ کو بیان کرنا ہے متقی کو اس کے اعمال صالحہ کے ذریعہ چونکہ جہنم سے بچایا جائے گا اس لئے اس کو متقی کہتے ہیں۔ قولہ : کا بی جھل وابی لھب وغیرھما، اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَانْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَایُؤْمِنُوْنَ ، اس آیت میں عموم کے ساتھ کہا گیا ہے کہ آپ کو ان کو ڈرانا اور نہ ڈرانا برابر ہے ان میں سے کوئی بھی ایمان لانے والا نہیں حالانکہ ان ہی حضرات میں سے بہت سے افراد مشرف باسلام ہوئے۔ جواب : مفسر علام نے اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا، کی تفسیر کابی جھلٍ وابی لھبٍ سے کرکے اشارہ کردیا کہ عموم سے بعض افراد مراد ہیں، جن کا ایمان نہ لانا اللہ کے علم میں متعین تھا جیسا کہ ابوجہل اور ابو لہب۔ قولہ : ئَاَنْذَرْتَھُمْ ، اس میں پانچ قراءتیں ہیں، دونوں ہمزوں کی تحقیق کی صورت میں دو قراءتیں ہیں، (1) دونوں ہمزوں کے درمیان الف داخل کرکے، (2) ترک ادخال کرکے، دوسرے ہمزہ کی تسہیل کی صورت میں بھی دو قراءتیں ہیں، (3) ادخال الف، (4) ترک ادخال الف اور (5) پانچویں قراءت دوسرے ہمزہ کو الف سے بدل کر، وادخال الف میں واؤ بمعنی مع ہے، ای مع ادخال الف، مذکورہ پانچوں قراءتیں صاحب جلالین نے مندرجہ ذیل ترتیب سے بیان کی ہیں : (1) تحقیق ہمزتین (یعنی تحقیق محض بلا ادخال) (2) ابدال ثانیہ بالالف مع المد (3) تسہیل محض (بلا ادخال الف) (4) تسہیل بلا ادخال (5) ادخال مع تحقیق ثانیہ۔ الم : مبتداء محذوف کی خبر ہونے کی وجہ سے محلاً مرفوع ہے، تقدیر عبارت یہ ہے، ھٰذا الم، ذٰلک، اسم اشارہ مبتداء اور نحلاً مرفوع الکتابُ ، ذلک مبتداء کی خبر اول، لارَیْبَ فِیِہِ ، خبرثانی، تقدیر عبات یہ ہے کہ لَارَیْبَ کائنٌ فیِہ، لا نفی جنس رَیْبَ اس کا اسم فیہ، کائن کے متعلق ہو کہ جملہ ہو کر ذلک کی خبر ثانی، ھدًی للمتقین خبر ثالث۔ قولہ : ءَاَنْذَرْتَھُمْ ، پہلا ہمزہ استفہامیہ تسویہ کے لئے ہے، ءَاَنْذَرْتَھُمْ ، تاویل مصدر ہو کر مبتداء ہے اور سواءٌ علیھم خبر مقدم ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سَوَاءٌ جاری مجریٰ مصدر اور ءَاَنْذَرْتَھُمْ کا فاعل جملہ ہو کر اِنَّ کی خبر۔ سوال : انذار اور اخبار بالعذاب میں کیا فرق ہے۔ جواب : انذار ایسے وقت میں ڈرانے کو کہتے ہیں کہ امر مخوف منہ سے احتراز ممکن ہو، ورنہ تو اخبار بالعذاب کہیں گے (ای فی وقت یَسَعُ التحرز من الامر المخوف واِلَّا فَیُسمّٰی اِخبار بالعذاب) ۔ خَتَمَ اللہ علی قلوبھِمْ : یہ اور اس کا مابعد ماقبل کی علت ہے یعنی یہ لوگ ایمان اس لئے نہیں لائیں گے کہ ان کے قلوب پر مہر لگا دی گئی ہے۔ سوال : مہر لگانے سے کیا مراد ہے ؟ حالانکہ یہ امر مشاہدہ ہے کہ آج تک کسی بھی کافر کے قلب پر مہر لگی ہوئی نظر نہیں آئی حالانکہ آپریشن کے ذریعہ بہت سے قلوب کا مشاہد کیا جاتا ہے۔ جواب : قلب سے مراد عقل ہے کو کہ ایک لطیفہ ربانیہ ہے، جو کہ قلب صنوبری کے ساتھ قائم ہوتا ہے جیسا کہ عرض کا قیام جوہر کے ساتھ اور حرارت کا قیام نار کے ساتھ ہوتا ہے اس اتصال کی کیفیت خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ قولہ : ای مَوَاضِعَہٗ : ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : مضاف کسی فائدہ کے لئے محذوف مانا گیا ہے ؟ جواب : یہ ہے کہ سمع، ایک معنوی شئی ہے، اس کی جانب ختم کی نسبت درست نہیں ہے اس لئے مضاف محذوف مان لیا اور بتادیا کہ سمع سے مراد مواضع السمع ہیں، جن پر مہر لگ سکتی ہے۔ سوال : سمعٌ کو مفرد لانے میں کیا حکمت ہے، جب کہ قلوب اور ابصار کو جمع لایا گیا ہے۔ جواب : یا تو اس لئے کہ سمعٌ مصدر ہے اور مصدر کا تثنیہ و جمع نہیں لایا جاتا، یا اس لئے کہ مسموع واحد ہے، وَعَلٰی سَمْعِھِمْ میں وقف تام ہوگیا، عَلیٰ ابصارھم خبر مقدم ہے اور غشاوۃ مبتداء مؤخر اور جملہ مستانفہ ہے۔ قولہ : قویٌ دَائِمٌ: عَظِیْمٌ کی تفسیر قوی دائمٌ سے کرنے کا مقصد اس شبہ کا جواب دینا ہے کہ عظیمٌ اجسام کی صفت واقع ہوتی ہے جیسا کہ : ” لَھَا عرش عظیم “ اور عذاب از قبیل معنی ہے لہٰذا عظیمٌ، عذاب کی صفت لانا درست نہیں ہے، جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ عظیم، قوی دائمٌ کے معنی میں ہے جو کہ معنی کی صفت واقع ہوتا ہے۔ اللغۃ والبلاغۃ اَولٰئِکَ عَلیٰ ھُدًی مِّن رَّبِّھِمْ ۔ (1) وُضِعَ المصدر، ھدًی موضع الوصف المشتق الَّذِیْ ھو ھادٍ ، وذلِکَ اَوْغَلُ فی المبالغۃ فی التعبیر عن دَیْمُومَتِہٖ واستمرارہٖ کزید عدل۔ (2) فی قولہ تعالیٰ : عَلٰی ھُدًی، استعارۃ تصریحیۃ تبعیۃ تبعیۃ، تشبُّھا لحال المتقین بحال من اعتلیٰ صھوۃَ جوادہ، فحذِفَ المشبَّہ، واستعیرت کلمۃ عَلٰی الدالۃ علی الْاِسْتِعْلاء والتفوقِ عَلیٰ ما بعدھا حقیقۃ، نحو : زید علی السطح او حکمًا نحو علیہ دین “۔ خَتَمَ اللہُ عَلیٰ قُلُوْبِھِمْ (الآیۃ) فی اسناد الختم الی القلوب استعارۃً تمثیلیۃً ، فقد شُبِھَتْ قلوب الکفار فی نبوّھا عن الحق وعدم الاصغاء الیہ بحال قلوبٍ خَتَم اللہ عَلَیھَا، وھی قلوب البھائم وھو تشبیہ معقول بمحسوس۔ تفسیر و تشریح سورة بقرہ کے فضائل : حدیث شریف میں سورة بقرہ کی ایک خاص فضیلت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ سورت جس گھر میں پڑھی جائے اس گھر سے شیطان بھاگ جاتا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” لاتجعلوا بُیُوْتَکم قبورًا فَاِنَّ البَیْتَ الَّذِی تُقْرَأُ فیہ سُورَۃُ الْبَقَرَۃِ لَایَدْخُلُہُ الشَّیْطَانُ “ (مسلم، باب استحباب صلوٰۃ النافلۃِ فی بیتہٖ ) حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ : لکل شئ بمنام وسنام القرآن سورة البقرۃ، ہر چیز کا کوہان ہوتا ہے اور قرآن کا کوہان سورة بقرہ ہے، ایک روایت میں ہے کہ قرآنی آیتوں کی سردار آیت الکرسی ہے جو کہ سورة بقرہ میں ہے۔ زمانہ نزول : نزول کے اعتبار سے یہ مدنی دور کی ابتدائی سورتوں میں سے ہے، البتہ اس کی طرض آیتیں حجۃ الوداع کے موقع پر نام نازل ہوئیں، جو مضمون کی مناسبت سے اس کے آخر میں شامل کردی گئیں ہیں، سورتوں کے مکی یا مدنی ہونے کے بارے میں علماء کے متعدد اقوال ہیں، مگر راجح اور صحیح قول یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے نازل ہونے والی تمام سورتیں مکی ہیں، خواہ وہ مکہ میں نازل ہوئی ہوں یا مکہ سے باہر اور ہجرت کے بعد نازل ہونے والی سورتیں مدنی ہیں، خواہ مکہ ہی میں کیوں نہ نازل ہوئی ہوں، 83 سورتیں مکہ میں نازل ہوئیں اور 31 سورتیں مدینہ میں یہ کل 114 سورتیں ہوئیں۔ ابن عربی (رح) تعالیٰ نے کہا کہ سورة بقرہ میں ایک ہزار اوامر اور ایک ہزار نواہی اور ایک ہزار اخبار ہیں، اور 1، 15 مثلہ ہیں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے اس سورت کو حاصل کرنے میں آٹھ سال لگائے۔ سورة بقرہ کی وجہ تسمیہ : اس سورة کا نام ” بقرہ “ اس لئے ہے کہ اس میں ایک جگہ بقرہ کا ذکر آیا ہے، یہ اسم الکل باسم الجز کے قبیل سے ہے، قرآن مجید کی ہر سورت میں اس قدر وسیع مضامین بیان ہوئے ہیں کہ ان کے لئے مضمون کے لحاظ سے جامع عنوانات تجویز نہیں کیے جاسکتے، عربی زبان اپنی لغت کے اعتبار سے اگرچہ نہایت مالدار ہے، مشہور ہے کہ اگر تین حرفوں کو جمع کردیا جائے، تو ضرور کوئی بامعنی لفظ بن جائے گا، اس کے باوجود بہرحال ہے تو انسانی زبان ہی انسان جو زبانیں بھی بولتا ہے، وہ اس قدر تنگ اور محدود ہیں کہ وہ ایسے الفاظ یا فقرے فراہم نہیں کرسکتیں کہ جو ان وسیع مضامین کے لئے جامع عنوان بن سکتے ہوں، اس لئے آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی رہنمائی سے قرآن کی بیشتر سورتوں کے لئے عنوانات کے بجائے نام تجویز فرمائے ہیں، جو محض علامت کا کام دیتے ہیں، اس سورة کو سورة بقرہ کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ اس میں گائے کے مسئلہ سے بحث کی گئی ہے اور اس کی ماہیت اور خاصیت اور فوائد بیان کئے گئے ہیں، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ سورت جس میں گائے کا ذکر آیا ہے۔ حروف مقطعات کی بحث : الم، 29 سورتوں کے شروع میں 14 حروف مقطعات کا استعمال ہوا ہے جو کہ حروف ہجا کے نصف ہیں ان حروف کو مقطعات اس لئے کہا جاتا ہے کہ ان کو الگ الگ پڑھا جاتا ہے، اگرچہ یہ مرکب لکھے ہوئے ہیں، بعض سورتوں کے شروع میں صرف ایک حرف ہے جیسے، ق، اس کو احادی کہتے ہیں اور بعض کے شروع میں دو حروف ہیں جیسے : حم، اس کو ثنائی کہتے ہیں اور بعض کے شروع میں تین حروف ہیں جیسے : الم، اس کو ثلاثی کہتے ہیں، علی ھذا القیاس، رباعی اور خماسی اس سے زیادہ نہیں ہیں، اس لئے کہ کلام عرب میں پانچ حرفی سے زیادہ کوئی کلمہ نہیں ہے، حروف مقطعات کے بارے میں مختلف اقوال ہیں، ان میں احوط قبول یہ ہے کہ حروف مقطعات قرآن میں سِرٌّ من اسرار اللہ، یعنی حروف مقطعات قرآنی رازوں میں سے ایک راز ہے کما قال الشعبی و سفیان الثوری وجماعۃ من المحدثین، حروف مقطعات کا علم اللہ کے ساتھ خاص ہے، اور فرمایا لا نحبُّ ان نتکلم فیھا ولکن نؤمن بھا، یعنی ہم یہ پسند نہیں کرتے کہ ان میں بحث و گفتگو کریں اور یہ قول حضرت ابوبکر اور علی بن ابی طالب ؓ کا ہے بعض حضرات نے حروف مقطعات کے معانی بیان کرنے کی کوشش کی ہے حضرت ابن عباس اور حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ حروف مقطعات اسم اعظم ہیں، مگر ہم ان حروف سے تالیف کو نہیں جانتے قطرب اور فراء وغیرہ نے کہا کہ حروف مقطعات سے حروف ہجا کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن کا مقصد یہ بتانا ہے کہ قرآن جو اپنا مثل لانے کے لئے تحدی اور چیلنچ کر رہا ہے یہ کوئی انوکھے حروف سے مرکب نہیں ہے بلکہ یہ ان ہی حروف و کلمات سے مرکب ہے جن کو تم رات دن بولتے ہو، پھر کیا وجہ ہے کہ کہ تم قرآن کی ایک چھوٹی سے چھوٹی سورت لانے سے بھی عاجز ہو، معلوم ہوا کہ یہ بشری کلام نہیں ہے۔ ابن کثیر (رح) تعالیٰ نے بھی قرطبی وغیرہ سے نقل کرکے شعبی و سفیان ثوری رحمہما اللہ تعالیٰ وغیرہ کے قول کو ترجیح دی ہے، جن بعض اکابر سے ان حروف کے معنی منقول ہیں اس سے صرف تمثیل و تنبیہ و تسہیل مقصود ہے، اللہ تعالیٰ کی مراد کی تعیین نہیں۔ بعض حضرات نے کہا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس دور میں قرآن کریم کا نزول ہوا اس دور کے اسالیب بیان میں اس طرح کے حروف مقطعات عام تھا، خطیب اور شعراء اس اسلوب سے کام لیتے تھے، چناچہ اب بھی کلام جاہلیت کے جو نمونے محفوظ ہیں، ان میں اس کی مثالیں ملتی ہیں، نیز مفرد حروف کا استعمال بھی کلام عرب میں موجود ہے۔ مثال کے طور پر۔ قال شاعر : قُلتُ لَھَا قفی فقالت ق، ای وقفت۔ اور حدیث شریف میں ہے مَنْ اَعَانَ علیٰ قتل مسلم بشطر کلمۃ، مثلاً کسی شخص نے کسی کے قتل کے بارے میں اقتل کہنے کے بجائے، اُق کہا یہ بھی قتل ہر معاونت ہے اس سے معلوم ہوا کہ حروف مقطعات کوئی پہیلی یا چیستاں نہیں کہ بولنے والے کے سوا کوئی نہ سمجھتا ہو، بلکہ سامعین بلعموم جانتے تھے کہ ان سے کیا مراد ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن کے خلاف نبی ﷺ کے ہم عصر مخالفین میں سے کسی نے بھی یہ اعتراض کبھی نہیں کیا کہ یہ بےمعنی حروف کیسے ہیں، جو تم بعض سورتوں کے شروع میں بولتے ہو اور یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام ؓ سے بھی کوئی روایت منقول نہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے ان کے معانی پوچھے ہوں، اور نہ آپ ﷺ ہی سے ان کو کوئی تفسیر منقول ہے، بعد میں یہ اسلوب عربی زبان میں بھی متروک ہوتا چلا گیا، اس بناء پر مفسرین کے لئے ان کے معنی متعین کرنا مشکل ہوگیا، لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ ان حروف کا مفہوم سمجھنے پر قرآن سے ہدایت حاصل کرنے کا انحصار نہیں ہے، لہٰذا ایک عام ناظر کے لئے یہ قطعاً ضروری نہیں کہ وہ ان کی تحقیق میں سرگرداں ہو۔ ذٰلِکَ الْکِتَابُ لَارَیْبَ فِیْہِ : یہ کتاب ایسی ہے کہ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں، یہ موقع بظاہر اشارہ بعید کا نہیں تھا اس لئے کہ اسی قرآن کی طرف اشارہ مقصود ہے جو لوگوں کے سامنے بلکہ دل میں موجود ہے، مگر بعید کا اشارہ لا کر قرآن کی عظمت شان کی طرف اشارہ کرنے کے ساتھ اس کی طرف بھی اشارہ مقصود ہے، کہ سورة فاتحہ میں جس صراط مستقیم کی درخواست کی گئی ہے یہ سارا قرآن اس درخواست اور دعاء کا جواب ہے اور صراط مستقیم کی تشریح اور تفصیل ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے دعاء سن لی اور تمہاری رہنمائی کے لئے قرآن بھیج دیا جو آفتاب ہدایت ہے، جو شخص ہدایت چاہتا ہے وہ اس کو پڑھے اور سمجھے اور اس کے مقتضیٰ پر عمل کرے۔ (معارف القرآن) پھر قرآن کے متعلق ارشاد ہے کہ (لاریب فیہ) اس میں کوئی شک نہیں، سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کی حقانیت میں شک و شبہ کرنے والے تو ہزاروں لاکھوں موجود ہیں، پھر یہ کہنا کہ یہ قرآن شک و شبہ سے بالا تر ہے اس کا کیا مطلب ہے ؟ پہلا جواب : اس کا سیدھا سادا ایک جواب تو یہ ہے کہ دلائل وبراہین کی روشنی میں عقل سلیم کے لئے اس کے کتاب الہیٰ ہونے میں شک کی گنجائش نہیں اور نہ اس میں کوئی شک کی بات۔ دوسرا جواب : شک و شبہ کی دو صورتیں ہوتی ہیں ایک یہ کہ خود کلام میں غلطی ہو، تو وہ کلام محل شک و شبہ ہوجاتا ہے، اور اگر کسی کو کج فہمی یا کم فہمی کی وجہ سے کسی طرح کا شبہ ہوجائے جس کا ذکر خود قرآن کریم میں چند آیتوں کے بعد ” اِنْ کنتم فی رَیْبِ “ میں آرہا ہے، اس لئے ہزاروں کم فہم یا کج فہموں کے شبہات و اعتراضات کے باوجود یہ بات کہنی صحیح ہے کہ اس کتاب میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْن : یہ کتاب پرہیزگاروں کے لئے رہنما ہے، یہاں ھدًی بمعنی ھادٍ ہے، تاکہ مصدر کا حمل ذات پر ہونے کا اعتراض نہ ہو، اور یہ بھی درست ہے کہ ھُدًی مصدر کو مصدر ہی کے معنی میں رکھا جائے، اس صورت میں مبالغہ کے طور حمل درست ہوگا، اور یہ حمل، زیدٌ عَدْلٌ کے قبیل سے ہوگا مطلب یہ ہوگا کہ یہ کتاب ہے تو سراسر ہدایت و رہنمائی، اور تمام انسانوں بلکہ پوری کائنات کی ہدایت و رہنمائی کیلئے نازل ہوئی ہے لیکن اس چشمہ فیض سے سیراب صرف وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو آب حیات کے متلاشی اور خوف الہیٰ سے سرشار ہوں گے اس چشمہ ہدایت سے فیضیاب ہونے کے لئے جن چھ صفات و شرائط کا پایا جانا ضروری ہے، ان کو ان دو آیتوں میں بیان کیا گیا ہے ان میں سے پہلی شرط یہ ہے کہ آدمی متقی و پرہیزگار ہو، بھلائی اور برائی میں تمیز کرتا ہو، برائی سے بچنا چاہتا ہو، بھلائی کا طالب ہو اور اس پر عمل کرنے کا خواہشمند ہو، رہے وہ لوگ جو دنیا میں جانوروں کی طرح جیتے ہیں جنہیں کبھی یہ فکر لاحق نہ کوئی کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ صحیح بھی ہے یا نہیں، بس جدھر دنیا چل رہی ہو، یا جدھر خواہش نفس دھکیل دے اسی طرف چل پڑتے ہیں تو ایسے لوگوں کے لئے قرآن میں کوئی رہنمائی نہیں ہے۔
Ayah 2:3

الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ Open ayah 2:3 in the Quran reader

جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے، اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

اَلَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ : قرآن سے مستفید ہونے کی یہ دوسری شرط ہے اس آیت میں متقین کی تین صفات بیان کی گئی ہیں (1) ایمان بالغیب (2) اقامت صلوٰۃ (3) اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔ پہلی صفت۔ ایمان اور اس کی تعریف : ایمان کی تعریف کو قرآن کریم نے یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ کے صرف دو لفظوں میں پوری طرح بیان کردیا گیا ہے، اگر ایمان اور غیب کے معنی سمجھ لئے جائیں تو ایمان کی پوری حقیقت اور تعریف سمجھ میں آجاتی ہے۔ قرآن سے فائدہ اٹھانے کی یہ دوسری شرط ہے، غیب سے مراد وہ حقیقتیں ہیں، جو انسان کے حواس سے پوشیدہ ہوں ان کا ادراک نہ عقل سے ہوسکتا ہے اور نہ حواس خمسہ ظاہرہ سے، مثلاً خدا کی ذات وصفات، ملائکہ، وحی، جنت و دوزخ وغیرہ ان حقیقتوں کو بغیر دیکھے ماننا اور اس اعتماد پر ماننا کہ نبی اس کی خبر دے رہا ہے، ایمان بالغیب ہے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص ان غیر محسوس حقیقتوں کو ماننے کیلئے تیار ہو تو صرف وہی قرآن کی رہنمائی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، رہا وہ شخص جو ماننے کے لئے، دیکھنے اور چکھنے اور سونگھنے کی شرط لگائے اور کہے کہ میں کسی ایسی چیز کو نہیں مان سکتا کہ جو عقل یا حواس خمسہ کی ترازو میں تولی نہ جاسکتی ہو، تو وہ اس کتاب سے ہدایت نہیں پاسکتا۔ محسوسات اور مشاہدات میں کسی کے قول کی تصدیق کا نام ایمان نہیں : عرف میں کسی کی بات کو کسی کے اعتماد پر یقینی طور پر مان لینے کا نام ایمان ہے اسی لئے محسوسات و مشاہدات میں کسی کے قول کے تصدیق کرنے کو ایمان نہیں کہتے مثلاً کوئی شخص سفید چیز کو سفید اور سیاہ کو سیاہ کہہ رہا ہے، اور دوسرا شخص اس کی تصدیق کر رہا ہے، اس کو تصدیق کرنا تو کہیں گے، ایمان لانا نہیں کہیں گے، اس لئے کہ اس تصدیق میں قائل کے اعتماد کو کوئی دخل نہیں، بلکہ یہ تصدیق مشاہدہ کی بناء پر ہے اور اصطلاح شرع میں خبر رسول کو بغیر مشاہدہ کے محض رسولوں کے اعتماد پر یقینی طور پر مان لینے کا نام ایمان ہے، اس تعریف میں ماننے کا نام ایمان بتلا یا گیا ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ محض جاننے کو ایمان نہیں کہتے، جہاں تک جاننے کا تعلق ہے، وہ تو ابلیس اور بہت سے کفار کو بھی حاصل ہے کہ ان کو آنحضرت ﷺ کے صدق کا یقین تھا، مگر اس کو مانا نہیں اس لئے وہ مؤمن نہیں۔ دوسری صفت : وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلوٰۃ : اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ صرف جان کر یا مان کر بیٹھ جانے والے ہوں، وہ قرآن سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے، اقامت صلوٰۃ سے مراد پابندی سے سنت نبوی کے مطابق نماز کا اہتمام کرنا ہے، جس میں نماز کے تمام فرائض، واجبات، مستحبات اور پھر ان پر دوام والتزام یہ سب اقامت کے مفہوم میں داخل ہیں اور صحیح بات یہ ہے کہ اس جگہ نماز سے کوئی خاص نماز مراد نہیں بلکہ فرائض، واجبات اور نقلی نمازوں کو یہ لفظ شامل ہے۔ تیری صفت : وَمِمَّا رَزَقْنَاھُمْ یُنْفِقُوْنَ : تیسری صفت انفاق فی سبیل اللہ ہے، انفاق کا لفظ عام ہے جو صدقات واجبہ اور نافلہ دونوں کو شامل ہے، اہل ایمان حسب استطاعت دونوں میں کوتاہی نہیں کرتے والدین اور اہل و عیال پر صرف کرنا بھی اس میں داخل ہے اور باعث اجر وثواب ہے۔ قرآن سے فائدہ اٹھانے کی یہ چوتھی شرط ہے کہ آدمی مال کا حریص اور زرپرست نہ ہو اس کے مال میں اللہ اور بندوں کے جو حقوق مقرر کئے جائیں انہیں ادا کرنے کے لئے تیار ہو جن چیزوں پر ایمان لایا ہے ان کی خاطر مالی قربانی دینے میں دریغ نہ کرے، مطلقاً انفاق محمود نہیں، فی طاعۃ اللہ کہہ کر اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ : رزق کا لفظ عربی میں بڑے وسیع معنی رکھتا ہے، اس لئے کہ اس کے اندر ہر قسم کی نعمتیں شامل ہیں، خواہ ظاہری ہوں جیسے : مال، اولاد، صحت وغیرہ، یا معنوی و روحانی مثلاً علم و حکمت، فہم و فرست اور عقل سلیم وغیرہ۔ مِمَّا رَزَقْنٰھُم : میں رزق کی نسبت اپنی طرف کرکے بتادیا کہ جو نعمت بھی انسان کو ملتی ہے وہ سب اللہ ہی کے فیض و عطاکا ثمرہ ہوتی ہے۔ اس مختصر جملہ میں غور کیجئے، تو جہاں یہ لفظ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کا ایک قوی داعیہ انسان کے دل میں پیدا کرتا ہے، کہ جو مال ہمارے پاس ہے، سب خدا ہی کا عطا کیا ہوا ہے اور اسی کیا امانت ہے، اگر ہم تمام کا بھی اللہ کی راہ میں اس کی رضا کی خاطر خرچ کردیں تو حق اور بجا ہے نیز خالص نفع کا سودا ہے، وہیں مِمَّا، کے لفظ سے اس بات کی طرف اشارہ کردیا ہے کہ ہمارے عطا کردہ مال کو پورا خرچ کرنا نہیں بلکہ اس کا کچھ حصہ خرچ کرنا ہے۔ سوال : ایمان بالغیب کو بیان کرنے کے بعد اعمال کو بیان کرتے ہوئے صرف نماز اور انفاق کو بیان فرمایا حالانکہ اعمال کی فہرست طویل ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟ جواب : بنیادی طور پر اعمال کی دو قسمیں ہیں، بدنی اور مالی دونوں میں سے ایک ایک جو اہم ہیں ان کو بیان کردیا، اس کے علاوہ خودبخود اس میں شامل ہوگئے۔ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ : مِمَّا، میں مَنْ تبعیضیہ ہے، نون کو حذف کرکے میم کو ما، موصولہ میں ادغام کردیا، ما موصولہ، رَزَقْنٰھُم، جملہ ہو کر صلہ ہے رَزَقْنَا کا۔ ھُمْ مفعول اول اور مفعول ثانی اِیّاہ محذوف ہے : اَیْ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ اِیَّاہُ یُنْفِقُوْنَ ۔ ایمان اور اسلام میں فرق : لغت میں ایمان کسی چیز کی دل سے تصدیق کرنا کا نام ہے اور اسلام اطاعت اور فرمانبرداری کا نام ہے، ایمان کا محل قلب ہے اور اسلام کا تعلق قلب اور اعضاء وجوارح سے ہے، لیکن شرعًا ایمان بغیر اسلام کے اور اسلام بغیر ایمان کے معتبر نہیں، جب تک کہ دل میں اللہ اور اس کے رسول کی تصدیق نہ ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ لغت کے اعتبار سے ایمان اور اسلام الگ الگ مفہوم رکھتے ہیں اور قرآن و حدیث میں اسی لغوی مفہوم کی بناء پر ایمان اور اسلام میں فرق کا ذکر بھی ہے مگر شرعًا ایمان بغیر اسلام کے اور اسلام بغیر ایمان کے معتبر نہیں۔ اسلام اور ایمان میں فرق صرف ابتداء اور انتہا کا ہے : حضرت علامہ انور شاہ کشمیری (رح) تعالیٰ اس مضمون کو اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ ایمان اور اسلام کی مسافت ایک ہے، فرق صرف ابتداء اور انتہاء کا ہے یعنی ایمان قلب سے شروع ہوتا ہے اور ظاہر عمل پر پہنچ کر مکمل ہوتا ہے اور اسلام ظاہر عمل سے شروع ہوتا ہے اور قلب پر پہنچ کر مکمل سمجھا جاتا ہے اگر تصدیق قلبی اقرار باللسان تک نہ پہنچے تو وہ تصدیق ایمان معتبر نہیں، اسی طرح اگر ظاہری اطاعت و اقرار، تصدیق قلبی تک نہ پہنچے تو وہ اسلام معتبر نہیں۔ (معارف) امام غزالی (رح) تعالیٰ اور امام سبکی (رح) تعالیٰ کی بھی یہی تحقیق ہے اور امام ابن ہمام (رح) تعالیٰ نے مسامرہ میں اسی تحقیق پر اہل حق کا اتفاق ذکر کیا ہے۔
Ayah 2:4

وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 2:4 in the Quran reader

اور جو کتاب (اے محمد) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں

وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اَنْزِلَ اِلَیْکَ (الآیۃ) یہ پانچویں شرط ہے کہ آدمی ان تمام کتابوں کو برحق تسلیم کرے، جو بذریعہ وحی اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے پہلے کے انبیاء پر مختلف زبانوں اور ملکوں میں نازل کیں، اس شرط کی بناء پر قرآنی ہدایت کا دروازہ ان سب لوگوں پر بند ہے، جو سرے سے اس ضرورت ہی کے قائل نہ ہوں کہ انسان کو خدا کی طرف سے ہدایت ملنی چاہیے، یا اس ضرورت کے تو قائل ہوں مگر اس کے لئے وحی و رسالت کی طرف رجوع کرنا غیر ضروری سمجھتے ہوں، اور خود کچھ نظریات قائم کرکے انہی کو خدائی ہدایت قرار دیں، یا آسمانی کتابوں کے بھی قائل ہوں، مگر صرف اس کتاب پر ایمان لائیں جنہیں ان کے باپ دادا مانتے چلے آئے ہیں، رہیں اسی چشمے سے نکلی ہوئی دوسری ہدایات تو وہ ان کو قبول کرنے سے انکار کردیں، ایسے سب لوگوں کو الگ کرکے قرآن اپنا چشمہ فیض صرف ان لوگوں کے لئے کھولتا ہے، جو اپنے آپ کو خدائی ہدایت کا محتاج بھی مانتے ہوں اور یہ بھی مانتے ہوں کہ یہ خدائی ہدایت ہر انسان کے پاس الگ الگ نہیں آتی بلکہ انبیاء اور کتب آسمانی کے ذریعہ ہی سے خلق تک پہنچتی ہے، اور پھر وہ کسی نسلی و قومی تعصب میں بھی مبتلا نہ ہوں بلکہ خالص حق کے پرستار ہوں اس لئے حق جہاں اور جس شکل میں بھی آیا ہے اس کے آگے سرجھکا دیں۔ وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَآ ا آنْزِلَ اِلَیْکَ : آیت کے الفاظ سے یہ مسئلہ صاف ہوجاتا ہے کہ تین چیزیں الگ الگ ہیں، (1) کلام کا نازل کرنے والا، (2) وہ جس پر کلام نازل کیا گیا ہو، یعنی رسول، (3) خود کلام، اس عبارت سے بروز، تمثل و حلول اور وحدۃ الوجود (اپنے عوامی مفہوم میں) ان مشرکانہ اور نیم مشرکانہ عقائد کی جڑ کٹ جاتی ہے نہ کلام متمثل ہوا ہے اور نہ رسول (نعوذ باللہ) اللہ کے اوتار یعنی انسانی قالب میں خدا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ عہد رسالت میں مومنین متقین دو طرح کے تھے، ایک وہ جو پہلے مشرک تھے، بعد میں مشرف باسلام ہوئے اور دوسرے وہ کہ جو پہلے اہل کتاب یہودی یا نصرانی تھے، بعد میں مسلمان ہوگئے اس سے پہلے اول طبقہ کا ذکر تھا، اور اس آیت میں دوسرے طبقے کا ذکر ہے اسی لئے اس آیت میں قرآن پر ایمان لانے کے ساتھ پچھلی آسمانی کتابوں پر ایمان لانے کی بھی تصریح فرمائی گئی کہ یہ حضرات دوہرے ثواب کے مستحق ہیں سابقہ کتابوں پر عمل کرنے کا ثواب اور قرآن پر ایمان لانے اور عمل کرنے کا ثواب، پچھلی آسمانی کتابوں پر ایمان لانا آج بھی ہر مسلمان کے لئے لازم ہے فرق صرف اتنا ہے کہ آج ان کتابوں پر صرف اجمالی ایمان اس طرح ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں میں جو کچھ نازل فرمایا تھا، وہ سب حق ہے اور اس زمانہ کے لئے وہی واجب العمل تھا، مگر قرآن نازل ہونے کے بعد چونکہ یہ پچھلی کتابیں اور شریعتیں سب منسوخ ہوگئیں اب عمل صرف قرآن پر ہوگا۔ (معارف) ایک اہم نکتہ : آیت کے طرز بیان سے ایک اہم نکتہ یہ بھی معلوم ہوگیا کہ آپ ﷺ آخری نبی اور آپ کی وحی آخری وحی ہے، اس لئے کہ اگر قرآن کے بعد کوئی اور کتاب یا وحی نازل ہونے والی ہوتی تو جس طرح اس آیت میں پچھلی کتابوں پر ایمان لانا ضروری قرار دیا گیا ہے اسی طرح آئندہ نازل ہونے والی کتاب پر ایمان لانے کا بھی ذکر ہوتا مگر ایسا نہیں ہے قرآن نے جہاں آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کی کتاب پر ایمان لانے کا ذکر کیا ہے، وہیں سابقہ کتابوں پر بھی ایمان لانے کا ذکر فرمایا ہے، مگر کسی آیت میں اس کا اشارہ تک نہیں کہ آئندہ بھی کوئی وحی آنے والی ہے، جس پر ایمان لانا ضروری ہے۔ وَبِالْآخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ ، اَلْآخِرۃُ یہ اَلْآخِر کی تانیث ہے اور آخر اول کی نقیض ہے اور دار کی صفت ہے جیسا کہ اللہ کے قول : تِلْکَ الدَّارُ الْآخِرَۃُ میں ہے قرآن سے فائدہ اٹھانے کی یہ چھٹی اور آخری شرط ہے آخرۃ ایک انقلابی عقیدہ اور ایک جامع لفظ ہے، جس کا اطلاق بہت سے عقائد کے مجموعے پر ہوتا ہے اس میں حسب ذیل عقائد شامل ہیں : (1) یہ کہ انسان اس دنیا میں غیر ذمہ دار نہیں ہے بلکہ اپنے تمام اعمال کے لئے خدا کے سامنے جواب دہ ہے۔ (2) یہ کہ دنیا کا موجود نظام ابدی نہیں بلکہ ایک وقت پر جسے صرف خدا ہی جانتا ہے اس کا خاتمہ ہوجائے گا۔ (3) یہ کہ اس عالم کے خاتمے کے بعد خدا ایک دوسرا عالم بنائے گا اور اس میں پوری نوع انسانی کو جو ابتداء آفرینش سے قیامت تک زمین پر پیدا ہوئی تھی، بیک وقت دوبارہ پیدا کریگا اور سب کو جمع کرکے ان کے اعمال کا حساب لے گا، اور ہر ایک کو اس کے کئے کا پورا بدلہ دے گا۔ (4) یہ کہ خدا کے اس فیصلے کی رو سے جو لوگ نیک قرار پائیں گے وہ کامیاب قرار دئیے جائیں گے اور جنت میں جائیں گے اور جو لوگ بدقرار دئیے جائیں گے وہ دوزخ میں جائیں گے۔ (5) یہ کہ کامیابی اور ناکامی کا اصل معیار موجود زندگی کی خوشحالی اور بدحالی نہیں ہے بلکہ در حقیقت کامیاب انسان وہ ہے جو خدا کے آخری فیصلے میں کامیاب ٹھہرے اور ناکام وہ ہے، جو اس فیصلے میں ناکام ٹھہرے۔ عقائد کے اس مجموعے پر جن لوگوں کو یقین نہ ہو وہ قرآن سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے کیونکہ ان باتوں کا انکار تو درکنار، اگر کسی کے دل میں ان کی طرف سے شک ہو، تو وہ اس راستہ پر نہیں چل سکتا جو انسانی زندگی کے لئے قرآن نے تجویز کیا ہے۔ ایمان بالآخرت اگرچہ ایمان بالغیب میں داخل ہے مگر اس کو دوبارہ صراحۃ اس لئے ذکر کیا گیا کہ یہ اجزاء ایمانی میں اس حیثیت سے سب سے زیادہ اہم جزء ہے، کہ مقتضائے ایمان پر عمل کا جذبہ پیدا کرنا اسی کا اثر ہے۔ اور اسلامی عقائد میں وہ وہ انقلابی عقیدہ ہے جس نے دنیا کی کایا پلٹ دی اور جس نے آسمانی تعلیم پر عمل کرنے والوں کو پہلے اخلاق و اعمال میں اور پھر دنیا کی سیاست میں تمام اقوام عالم کے مقابلہ میں ایک امتیازی مقام عطا فرمایا اور جو عقیدہ توحید و رسالت کی طرف تمام انبیاء (علیہم السلام) اور تمام شرائع میں مشترک اور متحقق چلا آتا ہے۔ وجہ ظاہر ہے کہ جن لوگوں کے پیش نظر صرف دنیا کی زندگی اور اس کا عیش و عشرت ہے اور دنیا ہی کی تکلیف کو تکلیف سمجھتے ہیں، آخرت کی زندگی اور اعمال کے حساب و کتاب کا کوئی تصور ان کے یہاں نہیں ہے اگر ایسے لوگ جھوٹ اور سچ اور حلال اور حرام کی تفریق کو اپنی عیش و عشرت میں خلل انداز ہوتے دیکھیں تو ان کو جرائم سے باز رکھنے والی کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ حکومت کے تعزیزی قوانین قطعاً انسداد جرائم اور اصلاح اخلاق کے لئے کافی نہیں، عادی مجرم تو ان سزاؤں کے عادی ہو ہی جاتے ہیں، کوئی شریف انسان اگر تعزیزی سزا کے خوف سے اپنی خواہشات کو ترک کو بھی دے تو اس حد تک کہ اس کو حکومت کی دار و گیر کا خطرہ ہو، خلوتوں اور راز دار انہ طریقوں پر جہاں حکومت اور اس کے قوانین کی رسائی نہیں انہیں کون مجبور کرسکتا ہے کہ : اپنی عیش و عشرت کو چھوڑ کر پابندیوں کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیں ؟ ہاں وہ صرف عقیدہ آخرت اور خوف خدا ہی ہے کہ جس کی وجہ سے انسان کی ظاہری اور باطنی حالت، جلوت و خلوت میں یکساں ہوسکتی ہوسکتی ہے وہ یقین رکھتا ہے، کہ مکان کے بند دروازوں اور رات کی تاریکیوں میں بھی کوئی دیکھنے والا مجھے دیکھ رہا ہے اور کوئی لکھنے والا میرے اعمال لکھ رہا ہے۔
Ayah 2:5

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ١ۗ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:5 in the Quran reader

یہی لوگ اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں

اُولِئلکَ عَلیٰ ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْ وَاُولٰئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ : یہ ان اہل ایمان کا انجام بیان کیا گیا ہے جو ایمان لانے کے بعد تقویٰ و عمل اور عقیدہ صحیحہ کا اہتمام کرتے ہیں، محض زبان سے اظہار ایمان کو کافی نہیں سمجھتے، کامیابی دار آخرت میں رضائے الہیٰ اور اس کی رحمت و معرفت کا حصول ہے اگر اس کے ساتھ دنیا میں بھی خوشحالی اور کامرانی مل جائے، تو سبحان اللہ ورنہ اصل کامیابی آخرت کی ہی کامیابی ہے۔ فلاح : عربی میں بڑے وسیع معنی میں آتا ہے، دنیا و آخرت کی ساری خوبیوں کو جامع ہے اس لئے مُفْلِحُوْنَ کا پورا مفہوم کامیاب، بامراد، وغیرہ کسی اردو لفظ سے ادا ہونا دشوار ہے، امام لغت زبیدی کا قول ہے کہ ائمہ لغت کا اس پر اتفاق ہے کہ کلام عرب میں جامعیت خیر کے لئے فلاح سے بڑھ کر کوئی لفظ نہیں : ” لیس فی کلام العرب کلمۃ اجمع من لفظۃ الفلاح لخیری الدنیا والآخرۃ کما قال ائمۃ اللسان “۔ (تاج) اَولٰئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ : کی ترکیب نے معنی میں حصر و تاکید پیدا کردی اور ھم ضمیر فصل تاکید و تخصیص نسبت کے لئے ہے۔ (بحر) اہم نکتہ : مفسر تھانوی (رح) تعالیٰ نے یہ بات خوب لکھی ہے کہ حصر کا تعلق فلاح کامل سے ہے نہ کہ فلاح مطلق سے اور المفلحون سے مراد الکاملون فی الفلاح ہے۔
Ayah 2:6

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:6 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے، وہ ایمان نہیں لانے کے

اِنَّ الَّذِیْنَ کفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَاَنْذَرْتھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَایُؤْمِنُوْنَ بیشک جو لوگ کفر (اختیار) کئے ہوئے ہیں ان کے حق میں یکساں ہے کہ آپ ﷺ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہ لائیں گے نبی ﷺ کی شدید خواہش تھی کہ سب لوگ مسلمان ہوجائیں اور اسی حساب سے آپ ﷺ کوشش فرماتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایمان ان کے نصیب میں ہے ہی نہیں، مراد ان سے چند مخصوص لوگ ہیں جن کے دلوں پر مہر لگ چکی تھی (جیسے ابوجہل، ابولہب وغیرہ) ورنہ آپ ﷺ کی دعوت و تبلیغ سے بیشمار لوگ مسلمان ہوئے حتی کہ پورا جزیرۃ العرب اسلام کے سایہ عاطفت میں آگیا۔
Ayah 2:7

خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ١ؕ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ١٘ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 2:7 in the Quran reader

خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے، اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑا ہوا) ہے، اور انکے لئے بڑا عذاب (تیار) ہے

خَتَمَ اللہُ عَلیٰ قُلُوْبِھِمْ : یہ ان کے ایمان قبول نہ کرنے کی وجہ بیان کی گئی ہے چونکہ کفر و معصیت کے مسلسل ارتکاب کی وجہ سے ان کے دلوں کی قبول حق کی استداد ختم ہوچکی ہے ان کے کان بات سننے کے لئے آمادہ نہیں اور ان کی نگاہیں کائنات میں پھیلی ہوئی رب کی نشانیاں دیکھنے سے محروم ہیں، تو اب وہ ایمان کس طرح لاسکتے ہیں ؟ ایمان تو انہیں لوگوں کے حصے میں آتا ہے جو اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرتے ہیں۔ قبول حق کی صلاحیت سے محروم کفر پر مرتے ہیں : ایسے لوگ جو قیام دلائل کے باوجود کفر پر اڑے رہتے ہیں، آخر کار علم الہیٰ میں کفر ہی پر مرنے والے ہیں، جو لوگ دلائل حق میں غور نہیں کرتے اور باطل پر جمے رہتے ہیں، ان کے قبول حق کی صلاحیت جو ہر انسان میں فطری طور پر ودیعت کی جاتی ہے روز بروز کمزور ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ بالکل مردہ ہوجاتی ہے، آیت میں اشارہ خاص طور پر یہود مدینہ کی جانب ہے گو اس میں دیگر کافر و مشرک بھی داخل ہوسکتے ہیں یہود مدینہ کا کفر جحود کی قسم کا تھا، یعنی یہ نبی آخر الزمان کی بابت پیشین گوئیوں اور آپ کی علامات سے بخوبی واقف تھے، اس کے باوجود دانستہ اغماض اور اخفاء کرتے تھے، تاکہ اپنی دینی ریاست اور دنیوی سیادت میں فرق نہ آئے۔ ” وَاَمَّا معنی الکفر فاِنَّہ الجحود وذلک انّ الاحبار مِن یھود المدینۃ جحدوا نبوۃ محمد ﷺ وستروہ عن الناس وکتموا امرہٗ “۔ (ابن جریر) عدم قبول کے یقینی ہونے کے باوجود آپ ﷺ کی دعوت و تبلیغ برابر جاری رہنی چاہیے اس لئے کہ آپ کو اس کا اجر مسلسل ملتا رہے گا خواپ وہ ایمان لائیں یا نہ لائیں ایسا نہ ہونا چاہیے کہ آپ ﷺ ان کے ایمان سے مایوس ہو کر ان کو دعوت و تبلیغ کا کام چھوڑیں۔ آج معمولی مبلغ بھی اپنی دھن کے پکے ہوتے ہیں، آپ ﷺ تو مبلغ اعظم تھے، دین الہیٰ کی اشاعت کے لئے آپ کی تڑپ کا کیا کہنا ! آپ کی تو خواہش یہی تھی کہ کافر سب کے سب دائرہ اسلام میں داخل ہوجائیں ان بدبختوں کے حق میں آپ کی خواہش کے بار آور نہ ہونے کی صورت میں آپ کے رنج و غم کو کم کرنے کے لئے آپ کو یہاں یہ بات بتلا دی گئی ہے کہ یہ بدبخت اپنی صلاحیت حق شناسی ضائع کرچکے ہیں آپ کچھ بھی کرلیں یہ حق کو قبول کرنے والے نہیں ہیں، لیکن آپ کا اجر تبلیغ بہرحال ثابت ہے : ” فَلاَ تِذْھَبْ نَفْسُکَ عَلَیْھِمْ حَسَرَاتٍ ۔ فمن استجابَ لَکَ فلہ الحظ الاوفر وَمَنْ تولیّٰ فَلا تحزن عَلَیْھِمْ “ (ابن کثیر) سوال : جب اللہ تعالیی کے علم ازلی میں ان کا ایمان نہ لانا متعین ہے جس کے مطابق حق تعالیٰ نے : ” لَایُؤْمِنُوْنَ “ کہہ کر خبر بھی دیدی، تو یہ لوگ ایمان لا بھی کیسے سکتے ہیں ؟ اس لئے کہ علم خداوندی کے خلاف نہیں ہوسکتا۔ جواب : لَایُؤْمِنُوْنَ ، ایک خبر ہے جو خبیر مطلق اپنے بندے کو دے رہا ہے، ایک اطلاع ہے، جو علیم کل اپنے رسول کو پہنچا رہا ہے، خدا کی مرضی کا اس سے کوئی تعلق نہیں، علم اور مرضی کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے بعض لوگ ان میں فرق و امتیاز نہ کرنے کی وجہ سے خلجان میں پڑجاتے ہیں، طبیب حاذق اپنے علم کی روشنی میں مدتوں پہلے خبردیدیتا ہے کہ فلاں بد پرہیز خود رائے مریض اچھا نہ ہوگا، کیا اس پیش خبری میں اس شفیق طبیب کی خواہش ومرضی کو بھی کچھ دخل ہوتا ہے ؟ یہ امر واقعہ ہے کہ خبر واقعہ کے مطابق ہوتی ہے نہ کہ واقعہ خبر کے مطابق دار العلوم کی مسجد رشید کی خوبصورتی کی خبر اس کے خوبصورت ہونے کی وجہ سے ہے نہ کہ مخبر کی خبر کی وجہ سے مسجد کی خوبصورتی، حضرت تھانوی (رح) تعالیٰ نے فرمایا : اس کافر کا ناقابل ایمان ہونا اللہ کے اس خبر دینے کی وجہ سے نہیں ہوا، بلکہ خود اللہ تعالیٰ کا یہ خبر دینا اس کافر کے ناقابل ایمان ہونے کی وجہ سے واقع ہوا ہے اور ناقابل ایمان ہونے کی صفت خود اس کی شرارت وعناد و مخالفت حق کے سبب سے پیدا ہوئی ہے، اللہ نے ہر شخص میں اس کی پیدائش کے وقت قبول حق کی استعداد رکھی ہے، جیسا کہ حدیث ” کل مولود یولد علی الفطرۃ الخ “ میں فرمایا گیا، مگر یہ شخص خود اپنی ہوائے نفسانی اور قوت ارادی سے غلط کام لے کر حق کی مخالفت کرتا ہے یہاں تک کہ ایک روز قبولیتِ حق کی صلاحیت فنا ہوجاتی ہے۔ (حذف واضافہ کے ساتھ تفسیر ماجدی) فائدہ عظمیہ : مذکورہ آیات نے تمام اقوام عالم بلکہ نوع انسانی کو ہدایت کے قبول یا انکار کے معیار سے دو حصوں میں تقسیم کردیا ایک ہدایت یافتہ جن کو مومنین اور متقین کہا جاتا ہے، دوسرے ہدایت سے انحراف اور انکار کرنے والے جن کو کافر یا منافق کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم کی اس تعلیم سے ایک اصولی مسئلہ بھی نکل آیا کہ اقوام عالم کے حصوں یا گروہوں میں ایسی تقسیم جو اصول پر اثر انداز ہوسکے، وہ صرف اصول اور نظریات ہی کے اعتبار سے ہوسکتی ہے نسب، وطن، زبان، رنگ اور جغرافیائی حالات ایسی چیزیں نہیں کہ جن کے اختلاف سے قوموں کے ٹکڑے کئے جاسکیں واضح فیصلہ ہے : ” خَلَقَکَمْ فَمِنْکُمْ کَافِرٌ وَّمِنْکُمْ مُّؤْمِنٌ“ یعنی اللہ نے تم سب کو پیدا کیا پھر کچھ لوگ تم میں مومن اور کچھ کافر ہوگئے۔ اس بات کی نا مقبولیت کسی زیادہ غور و فکر کی محتاج نہیں کہ ایک ماں باپ کی اولاد محض رنگ کے مختلف ہوجانے، یا الگ الگ خطوں میں بس جانے یا مختلف زبانیں بولنے کی وجہ سے الگ قومیں کیسے ہوسکتی ہیں ؟ بعض اوقات ایک ہی والدین کی اولاد میں بین تفاوت ہوتا ہے کوئی کالا ہوتا ہے کوئی گورا ہوتا ہے کوئی خوبصورت تو کوئی خوبصورتی سے محروم ہوتا ہے کوئی ذہین ہوتا ہے تو کوئی غبی ہوتا ہے، ان وصاف کے اختلاف کی وجہ سے کیا وہ آپس میں بھائی نہیں رہتے ؟ آج انسانیت کی ہمدردی کے ٹھیکے داروں نے خدا کی مخلوق اور آدم کی اولاد کو مختلف عنوانوں کے تحت مختلف گروہوں اور طبقوں میں تقسیم کردیا ہے، جب کہ تقسیم صرف نیکی اور بدی کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
Ayah 2:8

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ Open ayah 2:8 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے

آیت نمبر 8 ترجمہ : (آئندہ آیت) منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں، یعنی قیامت کے دن پر اس لئے کہ وہ آخر الایام ہے حالانکہ وہ (بالکل ہی) ایمان لانے والے نہیں ہیں، (ھم، ضمیر جمع لانے میں) مَنْ کے معنی کی رعایت کی گئی ہے، اور یقول کی ضمیر (واحد لانے میں) مَن کے لفظ کی رعایت کی گئی ہے (بلکہ) وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں، اپنے اس کفر کے خلاف ظاہر کرکے جس کو وہ چھپائے ہوئے ہیں تاکہ وہ اپنے اوپر سے کفر کے دنیوی احکام کو دفع کرسکیں، حالانکہ (فی الواقع) وہ دھوکا کسی کو نہیں دے رہے بجز اپنی ذات کے اس لئے کہ ان کی دھوکہ دہڑی کا وبال خود ان پر پلٹنے والا ہے، چناچہ وہ دنیا ہی میں ذلیل ہوں گے اللہ کے اپنے نبی کو اس (نفاق) پر مطلع کرنے کی و کہ سے جس کو انہوں نے چھپا رکھا ہے اور آخرت میں ان کو سزا دی جائے گی، اور ان کو اس کا احساس بھی نہیں ہے یعنی اس بات کا علم نہیں رکھتے کہ ان کی دھوکہ بازی (کا ضرر) خود ان کے لئے ہے اور مُخَادعَۃ (مفاعلۃ) یہاں جانب واحد سے ہے، جیسا کہ عاقبت اللّص میں اور اللہ کا ذکر تحسین کے لئے ہے اور ایک قراءت میں وَمَا یُخٰدِعُوْنَ ہے اور ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے، جو ان کے دلوں کو مریض یعنی ضعیف کر رہی ہے، سو اللہ نے ان کی بیماری کو بڑھا دیا بسبب اس کے کہ اللہ نے قرآن نازل کیا اور وہ اس کا انکار کرتے ہیں۔ اور ان کے جھوٹ کہ وجہ سے ان کے لئے دردناک عذاب ہے، (یکذّبون) کی تشدید کے ساتھ یعنی اللہ کے نبی کی تکذیب کرتے ہیں اور (ذال کی) تخفیف کے ساتھ یعنی اپنے قول آمَنَّا میں جھوٹے ہیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : وَمِنَ النَّاسِ : مِن تبعیضیہ ہے، اَلنَّاس اصل میں اُنَاسٌ تھا، ہمزہ تخفیفاً حذف کردیا گیا سورة اسراء میں یہ اصل استعمال ہوئی ہے : ” یَوْمَ نَدْعُوْا کُلَّ اَنَاسٍ بِاِمٰمِھِمْ “ سیبویہ اور فراء کے نزدیک اناس کا مادہ ہمزہ، نون، سین ہے اور کسائی کے نزدیک اس کا مادہ نون واؤ سین ہے، یہ النّوس سے مشتق ہے، اسکی معنی حرکت کرنے کے ہیں، ناسَ یَنُوسُ نَوْسًا حرکت کرنا، ابو نواس شاعر کو جس کا اصل نام حسن بن ہانی تھا، ابو نواس اس لئے کہتے تھے کہ اس کے بالوں کی دولٹیں ہوا سے حرکت کرتی رہتی تھیں۔ (لغات القرآن للدرویش) واؤ استینافیہ یا عاطفہ مِنَ الناسِ خبر مقدم مِنَ یَقُوْلُ امنَّا مبتداء مؤخر (دوسری ترکیب) مِنَ النِّاسِ ، فَرِیْقٌ، یانَاسٌ موصوف محذوف کی صفت ہے، موصوف باصفت مبتداء اور مَنْ یَقُوْلُ الخ جملہ ہو کر خبر۔ قولہ : وَبالْیَوْمِ الآخِرِ : باء حرف جر کا اعادہ اپنے دعوائے ایمان کی تاکید کے لئے کیا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے دعوائے ایمان کو اپنے قول : ” وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ “ سے ابلغ اور زیادہ موکد طریقہ سے رد فرمایا ہے بایں طور پر جملہ اسمیہ استعمال فرمایا جو کہ دوام و استمرار پر دلالت کرتا ہے یعنی وہ کسی زمانہ میں بھی متصف بالایمان نہیں رہے، نہ ماضی میں تھے، اور نہ حال میں اور نہ آئندہ مومن ہوں گے اور خبر پر حرف جر کا اضافہ تاکید کے لئے فرمایا قولہ : وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ : واؤ حالیہ ہے مَا، مشابہ بلیس، ھُمْ اس کا اسم بِمُؤْمِنِیْنَ اس کی خبر بازائدہ تاکید کے لئے۔ قولہ : ای یَوْمِ القِیَامَۃِ : اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک شبہ کا جواب ہے۔ شبہ : شبہ یہ ہے کہ آخر ایام پر ایمان لانا موجبات دین میں سے نہیں ہے تو اس کے منکر کو کافر کیوں کہا جاتا ہے ؟ جواب : یوم الآخرۃ : سے مراد یوم القیامۃ ہے، یعنی حساب و کتاب اور جزائے اعمال کا دن ہے، اور یہ موجباتِ دین میں سے ہے۔ قولہ : لَاِنَّہُ آخر الایّام : اس عبارت سے یوم الآخر کی وجہ تسمیہ کی طرف اشارہ کردیا۔ قولہ : یُخَادِعُوْنَ اللہ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا : یُخَادِعُوْنَ : جمع مذکر غائب کا صیغہ باب ہے (مفاعلۃ) وہ باہم فریب دیتے ہیں، اَلْخُداعُ لغت میں فساد اور اِخْفاء کو کہتے ہیں اور مُخْدِعُ ، میم مثلث کے ساتھ بڑے کمرے میں چھوٹے کمرے یعنی کوٹھری کو کہتے ہیں، جس میں مال اور اسباب چھپا کر رکھا جاتا ہے۔ (فتح القدیر شوکانی) یُخَادِعُوْنَ : جملہ استینافیہ بھی ہوسکتا ہے، اس صورت میں ایک سوال مقدر کا جواب ہوگا۔ سوال : یہ ہوگا کہ باطن کے خلاف یہ منافقین ایمان کا اظہار کیوں کرتے ہیں ؟ جواب : اللہ کو دھوکا دینے کے لئے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ : ” یُخَادِعُوْنَ اللہ “ یقول کی ضمیر سے حال ہو، ای مُخَادِعین اللہ الخ (اعراب القرآن) اور یَقُوْلُ آمَنَّا باللہ سے بدل الاشتمال بھی ہوسکتا ہے۔ قولہ : ” مِنَ الکُفْر یہ مَا اَبْطَنُوْا “ کا بیان ہے۔ قولہ : لِیَدْفَعُوْا یہ اظہار ایمان کی علت ہے۔ قولہ : اَحکامَہٗ : ای احکام الکفر، اور احکام کفر سے دنیوی احکام مراد ہیں یعنی منافقین باطن کے خلاف ایمان کا اظہار گرفت سے بچنے کے لئے کرتے ہیں مثلاً اظہار ایمان کی وجہ سے قتل وقید، جزیہ و رسوائی سے محفوظ رہتے ہیں اور مراعات اسلامی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ (صاوی) قولہ : یَعْلَمُوْنَ کو یشعرون : سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ذریعہ علم مشاعر خمسہ ہی ہیں خواہ ظاہرہ ہوں یا باطنہ۔ قولہ : اَلْمُخَادَعَۃُ ھُنَا مِنْ وَّاحِدٍ : اس عبارت کے اضافہ کا فائدہ ایک اعتراض کا جواب ہے۔ اعتراض : باب مفاعلہ طرفین سے شرکت کا تقاضہ کرتا ہے منافقین کی طرف سے تو مکرو خداع سمجھ میں آتا ہے مگر اللہ کی طرف سے اس کی نسبت سمجھ میں نہیں آتی اس لئے کہ مکرو فریب خصائل رذیلہ میں سے ہے، جن سے اللہ تعالیٰ پاک ہے۔ جواب : باب مفاعلۃ اگرچہ طرفین کی شرکت کا تقاضہ کرتا ہے مگر یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے، اس لئے کہ اس کی ایک خاصیت موافقت مجرد بھی ہے جیسے : عاقبت اللص۔ وسَافَرَ بمعنی سَفَرَ ، لہٰذا خادعَ بمعنی خَدَعَ ہے۔ اعتراض : یُخَادِعُوْنَ اللہ : وہ اللہ کو دھوکا دیتے ہیں، کیا اللہ دھوکا کھا سکتا ہے، وہ تو علیم بذات الصدور ہے، اس سے کسی کا کوئی راز مخفی نہیں دھوکا تو وہ کھاتا ہے جو خادع کے خدع اور ما کر کے مکر سے بیخبر ہو۔ جواب : لفظ اللہ، تحسین کلام کے لئے ہے، معنی مقصود نہیں، تقدیر عبارت اس طرح ہے : ” یُخَادِعُوْن رسول اللہ وَالَّذِیْنَ ّمَنُوْا “ یا مقصد تحسین معنوی ہے، اس طور پر کہ یہ استعارہ رمثیلیہ ہے، مشبہ بہ کو مشبہ کیلئے مستعار لیا گیا ہے، یعنی اللہ کے ساتھ منافقین کے معاملہ کو اس شخص کے حال کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو اپنے صاحب کے ساتھ دھوکا دہی کا معاملہ کرتا ہے، یا مجاز عقلی کے طور ہر اللہ کی طرف نسبت کردی گئی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول : ” فَاَنَّ لِلہِ خُمْسَہٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی “ میں اسناد مجازی ہے، یا مشاکلت کے طور پر خدا کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کردی گئی ہے جیسے : اللہ تعالیٰ کے قول : ’ وَجَزؤُا سَیّئَۃٍ سَیَّئَۃٌ‘ میں قولہ : فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ: مرض، طبیعت کے حد اعتدال سے نکل جانے کو کہتے ہیں، جس کی وجہ سے افعال و افکار میں خلل واقع ہوجاتا ہے یہاں مرض سے روحانی مرض مراد ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ جسمانی مرض مراد ہو، جب یہ دونوں امراض اپنی انتہا کو پہنچ جاتے ہیں تو روحانی اور جسمانی موت کا باعث ہوجاتے ہیں۔ روحانی امراض : مثلاً کفر، شرک، شک، نفاق، جہل، بخل، وغیرہ، علامہ سیوطی (رح) تعالیٰ نے اپنے قول شک و نفاق سے، روحانی مرض کی جانب اور یُمَرِّضُ قلوبَھُمْ سے جسمانی مرض کی طرف اشارہ کیا ہے۔ قولہ : مُوْلَمٌ، لام کے فتحہ کے ساتھ اس لئے کہ فعیل بمعنی مفعول مستعمل نہیں ہے (ترویح الارواح) عذابٌ مُوْلَمُ ، ایسا شدید عذاب کہ شدت کی وجہ سے خود عذاب بھی اذیت محسوس کرنے لگے یہ بطور مبالغہ ہے، اس لئے کہ : اَلِیْمٌ، مَعذّب کی صفت ہے، نہ کہ عذاب کی بعض حضرات نے مولِمٌ لام کے کسرہ کے ساتھ بھی کہا ہے، اس صورت میں عذاب کی طرف الیمٌ کی نسبت حقیقی ہوگی۔ اللغۃ والبلاغۃ اَلمشاکلۃُ فی قولھمْ ، ” یخٰدِعون اللہ “ لأن المفاعلۃ تقتضی المشارکۃَ فی المعنی وقد اطلق علیہ تعالیٰ مقابلا لما ذکرہٗ من خداع المنافقین کمقابلۃ المکر بمکرھم، ومن امثلۃِ ھذا الفن فی الشعر قول بعضھم۔ ؎ قالوا : التمس شیئًا نجدلک طبخۃ قلت : اطبخو الی جُبِّۃً وقمیصا تفسیر و تشریح مذکورہ بالا آیات میں پہلی دو آیتوں میں منافقین کے متعلق فرمایا کہ لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ پر حالانکہ وہ بالکل ایمان لانے والے نہیں، بلکہ وہ اللہ سے اور مومنین سے فریب کرتے ہیں، واقعہ یہ ہے کہ وہ کسی کے ساتھ فریب نہیں کرتے بجز اپنی ذات کے اور اس کا ان کو احساس بھی نہیں۔ ان آیتوں میں منافقین کے دعوائے ایمان کو فریب محض بلکہ خود فریبی قرار دیا گیا ہے اس لئے کہ اللہ کو کوئی فریب نہیں دے سکتا جو سمجھتا ہے کہ میں اللہ کو فریب دے رہا ہوں، وہ خود اپنی ذات کو فریب دے رہا ہے، البتہ اللہ کے رسول اور مومنین کے ساتھ ان کی چالبازی کو ایک حیثیت سے اللہ کے ساتھ چالبازی فرمایا گیا ہے۔ مدینہ میں نفاق کی ابتداء : نفاق کی تاریخ اگرچہ بڑی قدیم ہے، مگر اسلام میں نفاق کی ابتداء آپ ﷺ کے مدینہ تشریف لانے کے بعد ہوئی مگر شباب؁ 2 ھ میں غزوہ بدر میں مسلمانوں کی کامیابی کے بعد آیا۔ اسلام میں نفاق کے اسباب : آپ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے پہلا اور اہم کام یہ انجام دیا کہ مدینہ اور اطراف مدینہ میں رہنے والے یہود اور غیر یہود سے معاہدہ امن فرمایا تاکہ امن اور اطمینان کی فضا میں لوگوں کو اسلام کو سمجھنے کا موقع ملے، جس کے نتیجے میں مدینہ میں مسلمان ایک بڑی طاقت سمجھے جانے لگے، مگر ایک طبقہ کو جس کو سردار عبداللہ بن ابی ابن سلول تھا، یہ صورت حال ناپسند اور ناگوار تھی، ابھی قوموں اور قبیلوں سے معاہدہ کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ مسلمانوں کے خلاف اندرونی خفیہ سازشوں اور بیرونی کھلی عداوتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا، مدینہ میں ایک شخص جس کا نام عبداللہ بن ابی ابن سلول تھا، بہت عقلمند ہوشیار، چالاک اور تجربہ کار شخص تھا، اوس و خزرج کے تمام قبائل پر اس کا کافی اثر و رسوخ تھا، لوگ اس کی سرداری کو متفقہ طور پر تسلیم کرتے تھے، اوس اور خزرج چند روز قبل ہی جنگ بعاث میں آپس میں صف آرا ہو کر اور اپنے اپنے بہادروں کو قتل کرا کر کمزور ہوچکے تھے، عبداللہ بن ابی نے اس حالت سے فائدہ اٹھانے اور دونوں قبیلوں میں اپنی مقبولیت بڑھانے میں کوئی کوتاہی اور غفلت نہیں کی، اہل مدینہ یہ طے کرچکے تھے کہ : عبداللہ بن ابی کو مدینہ کا افسر اعلیٰ اور بادشاہ بنالیں اور ایک عظیم الشان اجلاس منعقد کرکے اس کا باقاعدہ اعلان کردیں، عبداللہ بن ابی کی تاجپوشی کے لئے ایک قیمتی تاج بھی بنوا لیا گیا تھا، اب صرف اعلان ہی باقی تھا، اسی دوران مدینہ میں اسلام اور پیغمبر اسلام داخل ہوگئے۔ آپ ﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد لوگوں کا رخ آپ ﷺ کی جانب ہوگیا اور آپ مسلم قائد اور رہبر تسلیم کے لئے گئے، جب عبداللہ نے یہ صورت حال دیکھی اور اپنی تمناؤں کا خون ہوتے اور امیدوں پر پانی پھرتے دیکھا تو اس کے دل میں رقابت کی آگ بھڑکنے لگی، اور بادشاہت اور سرداری خاک میں ملتی نظر آنے لگی، چونکہ عبداللہ بڑا چالاک اور ہوشیار شخص تھا، آنحضرت ﷺ کو اگرچہ اپنا رقیب اور حریف سمجھتا تھا، لیکن اس دشمنی کے اظہار کو غیر مفید سمجھ کر اپنے دل میں چھپائے رہا، اوس و خزرج کے وہ لوگ جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے وہ سب عبداللہ کے زیر اثر تھے، جب مکہ کے مشرکوں کو معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ اور ان کے رفقاء مدینہ میں پہنچ کر اطمینان کی زندگی بسر کرنے لگے ہیں اور مذہب اسلام کا دائرہ روز بروز وسیع ہو رہا ہے، تو انہوں نے عبداللہ بن ابی اور مدینہ کے دیگر مشرکوں سے رابطہ قائم کرکے ساز باز شروع کردی، غزوہ بدر میں مسلمانوں کی شاندار کامیابی نے منافقین اور مشرکین مکہ کی دشمنی کی جلتی آگ پر تیل کا کام دیا۔