Ayah 2:1فہم القرآن
ربط سورة : فاتحہ دعا ہے اور قرآن اس کا جواب، فاتحہ خلاصہ ہے اور قرآن اس کی تفصیل۔
اپنے حجم اور مضامین کے لحاظ سے یہ فرقان حمید کی سب سے بڑی سورت ہے۔ ا آآ حروف مقطعات ہیں جن کے مفسرین نے اپنی اپنی فہم و دانش کے مطابق کئی معانی لکھے اور بتلائے ہیں جن کی تفصیل مختلف تفاسیر میں موجود ہے۔ جن میں سے چند ایک یہ ہیں۔
عبدالرحمن بن زید بن اسلم ؓ فرماتے ہیں یہ سورتوں کے نام ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی قسموں میں سے قسمیں ہیں۔ دوسری جگہ فرماتے ہیں ” ا ل م ر “ اللہ تعالیٰ کے اسمائے اعظم میں سے ہے۔ جب کہ کچھ لوگ کہتے ہیں یہ قرآن کے اعجازکا نمونہ ہیں۔
لیکن اس بات پر تمام اہل علم متفق ہیں کہ یہ حروف مقطعات ہیں ان کا کوئی معنٰی رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں البتہ جو مفہوم عقل کے قریب تر نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ اس زمانے میں اہل زبان حروف مقطعات کا استعمال کرنے کے بعد اپنی فصیح اللسانی اور شستہ کلامی کا مظاہرہ کرتے اور سامعین ان حروف کا معنٰی پوچھنے کی ضرورت نہیں سمجھتے تھے۔ گویا کہ صاحب زبان ایسے الفاظ طرح مصرعہ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ اسی وجہ سے صحابہ کرام ؓ نے نبی محترم ﷺ سے ان حروف کا معنٰی پوچھنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ کیونکہ ان کا شریعت کے مسائل اور معاملات سے کوئی تعلق نہیں لہٰذا امت کا اتفاق ہے کہ ان حروف کا معنٰی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ البتہ یہ قرآن مجید کا حصہ ہیں۔
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ یَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِّنْ کِتَاب اللّٰہِ فَلَہٗ بِہٖ حَسَنَۃٌ وَالْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ أَمْثَالِھَا لَآ أَقُوْلُ الم حَرْفٌ وَلٰکِنْ أَلْفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِیْمٌ حَرْفٌ) (رواہ الترمذی : کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء فیمن قرأ حرفا من القرآن مالہ من الأجر)
” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا اسے اس کے بدلے ایک نیکی ملے گی اور ہر نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں یہ نہیں کہتا کہ ” الم “ ایک حرف ہے بلکہ ” الف “ ایک حرف ہے اور ” لام “ ایک حرف ہے ” اور ” میم “ ایک حرف ہے۔ “
” ا آآ “ چھ سورتوں کی ابتدا میں استعمال ہوا ہے۔ البقرۃ، آل عمران، العنکبوت، الروم، لقمان، السجدۃ۔
Ayah 2:2فہم القرآن
یہ عظیم سورت مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی۔ یہاں یہود ونصارٰی آپ کے مخاطبین تھے۔ اس لیے ” ہٰذَا “ کی بجائے اسم اشارہ بعید ” ذَالِکَ “ استعمال کیا گیا ہے کہ یہ وہی کتاب ہے جس کا بیان اور تذکرہ تم توراۃ اور انجیل میں پاتے ہو۔
” ذَالِکَ “ کا استعمال اس لیے بھی کیا گیا ہے کہ اس زمانے میں اہل عرب کسی عظیم چیز کی طرف توجہ دلاتے وقت دور کا اشارہ قریب کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔ اس دور میں اہل فارس بھی اپنی زبان میں قریب چیز کے لیے دور کے اشارات استعمال کرتے تھے اور انہی سے متاثر ہو کر اردو میں بھی آں جناب کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔
پہلی امتوں بالخصوص یہود و نصارٰی نے آسمانی کتابوں میں اپنے رجحانات اور مفادات کی خاطر کئی قسم کے اضافے ‘ التباسات اور مغالطے پیدا کردیے تھے۔ اس وجہ سے ان کتابوں پر لوگوں کا اعتماد ختم ہوچکا تھا۔ اس لیے آغاز ہی میں قرآن مجید کے بارے میں دو ٹوک الفاظ میں یہ وضاحت فرما دی گئی ہے کہ اس کے منزل من اللہ ہونے اور اس کے احکامات اور ارشادات میں کسی قسم کا شک اور تردّد کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کے نفاذ اور اس پر عمل کرنے سے کسی نقصان کا اندیشہ نہیں ہے بلکہ اس پر عمل کرنے سے یقینا تمہیں دنیا و آخرت میں بہترین نتائج اور ثمرات حاصل ہوں گے۔
یہ کتاب ہر لحاظ سے قیامت تک قابل اعتماد اور اس پر عمل کرنا فرض ہے۔ قرآن مجید کے من جانب اللہ اور مستند ہونے کے بارے میں جرمنی کی بین الاقوامی یونیورسٹی کی رپورٹ۔
” یونانی زبان میں انجیل کے جتنے نسخے دنیا میں پائے جاتے تھے کامل ہوں یا جزئی ان سب کو جمع کرکے ان کے ایک ایک لفظ کا باہم مقابلہ (۔۔ غور) (Collation) کیا گیا۔ اس کی جو رپورٹ شائع ہوئی اس کے الفاظ یہ ہیں ” کوئی دو لاکھ اختلافی روایات ملتی ہیں “ اس کے بعد یہ جملہ ملتا ہے ” یہ ہے انجیل کا قصہ “ اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد کچھ لوگوں کو قرآن کے متعلق حسد پیدا ہوا۔ اس لیے جرمنی کی میونخ یونیورسٹی میں ایک ادارہ قائم کیا گیا ” قرآن مجید کی تحقیقات کا ادارہ “ اس کا مقصد یہ تھا کہ ساری دنیا سے قرآن مجید کے قدیم ترین دستیاب نسخے خرید کر یا اس کے فوٹو لے کر جس طرح بھی ممکن ہو جمع کیے جائیں۔ جمع کرنے کا یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا۔ جب 1933 ء میں پیرس یونیورسٹی میں تھا تو اس کا تیسرا ڈائریکٹر پریتسل (Pretzl) پیرس آیا تھا کہ پیرس کی پبلک لائبریری میں قرآن مجید کے جو قدیم نسخے پائے جاتے ہیں ان کے فوٹو حاصل کرے۔ اس پروفیسر نے بیان کیا کہ اس وقت ہمارے انسٹی ٹیوٹ میں قرآن مجید کے بیالیس ہزار نسخوں کے فوٹو موجود ہیں اور مقابلے (Collection) کا کام جاری ہے۔
بعد ازاں اس ادارہ نے رپورٹ شائع کی جس کے الفاظ یہ ہیں کہ ” قرآن مجید کے نسخوں میں مقابلے کا جو کام ہم نے شروع کیا تھا اس کا اب تک جو نتیجہ نکلا ہے وہ یہ ہے کہ ان نسخوں میں کہیں کہیں کتابت کی غلطیاں تو ملتی ہیں لیکن اختلاف روایت ایک بھی نہیں۔ گویا کہ قرآن مجید ہر قسم کے ردّ وبدل سے مبرّا ہے۔ “ (ماخوذ : خطبات بہاولپور از ڈاکٹر حمیداللہ)
بلاشبہ قرآن مجید عظیم اور شک وشبہ سے بالا، انسانوں کی راہنمائی اور خیر خواہی کے لیے آخری آسمانی کتاب ہے لیکن اس سے ہدایت پانے کے لیے تقو ٰی لازم قرار پایا ہے۔ تقویٰ کے بارے میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ نے جناب ابی بن کعب ؓ سے استفسار فرمایا کہ تقویٰ کیا ہے ؟ حضرت ابی بن کعب ؓ نے اس سوال کا جواب دینے کی بجائے امیر المومنین سے عرض کی کہ جب آپ کسی ایسی پکڈنڈی پر گزرنے کا موقع پائیں جس کے چاروں طرف خار دار جھاڑیاں ہوں تو اس پر آپ کس طرح گزریں گے ؟ امیر المومنین نے فرمایا اس راستے کا راہی دامن بچا کر ہی گزرے گا۔ ابی بن کعب ؓ فرمانے لگے کہ اسی کا نام تقو ٰی ہے۔ اور ایسے شخص کو متقی کہا جائے گا جو گناہوں کی آلائشوں سے بچ کر صراط مستقیم پر ثابت قدمی سے چل کر اپنی منزل پر پہنچ جاتا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر)
بعض لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر یہ کتاب پرہیزگاروں کے لیے ہے تو پھر اس کا کیا کمال ہے ؟ شاید ان کا مقصد یہ ہے کہ کتاب تو ایسی ہونی چاہیے تھی جو فاسقوں ‘ فاجروں اور مجرموں کو کھینچ کر صراط مستقیم پر گامزن کر دے۔ دراصل یہ لوگ اس حقیقت کو فراموش کردیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور کی صلاحیتوں سے ہمکنار فرما کر یہ اختیار دیا ہے کہ وہ نیکی اور بدی، نفع اور نقصان، دائمی اور عارضی فوائد میں جس کا چاہے انتخاب کرے۔ برائی سے اجتناب نہ کرنے والے کی مثال اس مریض کی طرح ہے جس کو ایک خیر خواہ حکیم اور مہربان والدین بار بار دوائی کھلانے کی کوشش کریں لیکن مریض دوائی کھانے کی بجائے اپنا منہ بند کرلے اور اس کے مرض میں اضافہ ہی ہوتا چلا جائے۔ ایسے حضرات سے پوچھنا چاہیے کہ اس میں حکیم کی حکمت، ماں کی مامتا اور والد کی شفقت کا کیا قصور ہے ؟ اس لیے جاننا چاہیے کہ انسان کے لیے ہدایت کو جبری کی بجائے اختیاری بنایا گیا ہے۔ اگر ہدایت آدمی پر مسلط کردی جاتی تو اس کو قبول کرنے میں انسان کا کیا کمال ہوتا ؟ پھر حیوان اور انسان میں امتیاز چہ معنی دارد ؟ لہٰذا یہ کتاب انہی کے لیے ہدایت ہے جو ہدایت کے طالب اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مسائل
1۔ قرآن مجید میں کوئی عیب اور نقص نہیں اور اس کے منجانب اللہ ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔
2۔ اللہ سے ڈرنے اور گناہوں سے بچنے والوں کے لیے قرآن مجید سر چشمۂ ہدایت ہے۔
تفسیر بالقرآن
تقویٰ کیا ہے ؟
1۔ اللہ کی ذات، احکام اور اس کے شعائر کے احترام کرنے کا نام تقویٰ ہے۔ (الحج : 32)
2۔ تقویٰ نام ہے اللہ کے احکام پر عمل پیرا ہونے اور اس کی نافرمانیوں سے بچنے کا۔ (النور : 52)
3۔ تقویٰ نام ہے سمع و اطاعت کے باوجود اپنے رب سے ڈرتے رہنے کا۔ (التغابن : 16)
قرآن مجید کی عظمت و صداقت :
1۔ قرآن مجید سراپا رحمت اور کتاب ہدایت ہے۔ ( لقمان : 3)
2۔ یہ بابرکت اور پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے۔ ( الانعام : 92)
3۔ اس میں ہدایت کے متعلقہ ہر چیز واضح کی گئی ہے۔ ( النحل : 89)
4۔ یہ روشن اور بین کتاب ہے۔ ( المائدۃ : 15) 5۔ پہلی کتابوں کی حقیقی تعلیم کی نگہبان ہے۔ (المائدۃ : 48)
قرآن مجید کے اسمائے گرامی :
1۔ القرآن (الاسراء : 88) 2۔ الفرقان (الفرقان : 1) 3۔ الذکر (الانبیاء : 50)
4۔ التنزیل (الشعراء : 192) 5۔ الحدیث (الزمر : 23) 6۔ الموعظۃ (یونس : 57)
7۔ الحکمۃ (القمر : 5) 8۔ الحکم (الرعد : 37) 9۔ الحکیم (یٰس : 2)
10۔ المحکم (ھود : 1) 11۔ الشفاء (الاسراء : 82) 12۔ الھدیٰ (البقرۃ : 2)
13۔ الھادی (الاسراء : 9) 14۔ الصراط المستقیم (المائدۃ : 16) 15۔ الحبل (آل عمران : 103)
16۔ الرحمۃ (الاسراء : 82) 17۔ الروح (الشوریٰ : 52) 18۔ القصص (یوسف : 3)
19۔ البیان (آل عمران : 138) 20۔ التبیان (النحل : 89) 21۔ المبین (یوسف : 1)
22۔ البصائر (الاعراف : 203) 23۔ قول الفصل (الطارق : 13) 24۔ المثانی (الزمر : 23)
25۔ النعمۃ (الضحی : 11) 26۔ البرہان (النساء : 174) 27۔ البشیر (فصلت : 4)
28۔ النذیر (فصلت : 4) 29۔ القیم (الکھف : 2) 30۔ المھیمن (المائدۃ : 48)
31۔ النور (الاعراف : 157) 32۔ العزیز (فصلت : 41) 33۔ الکریم (الواقعہ : 77)
34۔ العظیم (الحجر : 87) 35۔ المبارک (الانبیاء : 50) (بحوالہ تفسیر رازی )
Ayah 2:3فہم القرآن
ربط کلام : کتاب حق کے تعارف کے بعد اس کے پیغام کا بیان اور ہدایت پانے والوں کے چھ جامع اور مرکزی اوصاف کا تذکرہ۔
ایمان کا اولیّن تقاضا یہ ہے کہ انسان ان دیکھی حقیقتوں کا اقرار کرے۔ جس میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان لانا اور اس کے حکم کے مطابق ہر بات کو ماننا شرط اول ہے۔ یہی انسانیت کا شرف اور اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کی پاسداری ہے۔ ان حقیقتوں پر ان دیکھے ایمان لانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ آدمی میں یہ استعداد اور طاقت نہیں کہ وہ اپنی آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی زیارت کرسکے اور نہ ہی اس میں ملائکہ اور قبر کے عذاب کو دیکھنے کی ہمت ہے حتی کہ انسان تو ان آنکھوں کے ساتھ جنت کے حسن و جمال کی جھلک بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ رسول محترم ﷺ کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ جب آپ ﷺ نے جبرئیل امین (علیہ السلام) کو اصلی حالت میں ملاحظہ فرمایا تو آپ کا جسم اطہر تھر تھرانے لگا، رونگٹے کھڑے ہوگئے آپ ﷺ اپنے آپ میں شدید خطرہ محسوس کرتے ہوئے گھر آکر شدید گرمی کے موسم کے باوجود کمبل لے کر لیٹ گئے اور کچھ سکون کے بعد اپنی زوجہ مکرمہ سے اظہار فرمایا کہ میں اپنے بارے میں شدید اندیشہ محسوس کر رہا ہوں۔ (رواہ البخاری : کتاب بدء الوحی)
قبر کے عذاب کے بارے میں فرمایا :
” اگر انسان اور جن قبر کا عذاب سن لیں تو بےہوش ہوجائیں۔ “ (رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب المیت)
جنت کی حور کے بارے میں ارشاد ہوا :
” اگر وہ آسمان سے نیچے جھانکے تو ہر چیز منور ہوجائے۔ “ (رواہ البخاری : کتاب الجہاد، باب الحور العین)
گویا کہ انسان اپنی ہمت سے بڑھ کر نہ حسن و جمال دیکھ سکتا ہے اور نہ ہیبت ناک منظر برداشت کرسکتا ہے اس بنا پر غیب پر ایمان لانا ایمان کی اولین شرط ہے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا بندہ اور غلام ہے۔ غلام کا کام اپنے آقا کا حکم ماننا ہے، ہر حکم کی حقیقت جاننا نہیں۔
اقامت صلوٰۃ
اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ عبادت کا لفظ بڑا جامع ہے عبادت کی سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ صورت نماز ہے۔ اسی لیے پہلے انبیاء اور امتوں کو نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اور امت محمدیہ کو بھی یہی حکم ہوا ہے کہ وہ نماز قائم کریں۔ دین اجتماعیت کا سبق دیتا ہے اور نماز اس کا عملی نمونہ پیش کرتی ہے۔ تاکہ مسلمانوں میں وحدت اور اجتماعیت کا شعور پیدا ہو۔
اقامت صلوٰۃ سے مراد اس کے ظاہری آداب و شرائط بجا لانے کے ساتھ ساتھ معاشرتی اور روحانی فوائد کا حصول ہے۔ اس لیے یہاں ” اقرء وا الصلوٰۃ “ یا صرف ” صلوا “ کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ ” اقیموا الصلوٰۃ “ کا جامع لفظ استعمال فرما کر واضح کیا گیا ہے کہ نماز پڑھنے اور ادا کرنے کے لحاظ سے جامع اور مکمل ہونی چاہیے۔ اس میں طہارت، ارکان کی صحیح ادائیگی، اخلاص اور جماعت کے ساتھ پڑھنے کا حکم شامل ہے۔ اس طرح یہ پانچ وقت کا اجتماعی عمل ہے۔ ” اَقِیْمُوا الدِّیْنَ “ (الشوریٰ : 13) کا لفظ پورے دین کے لیے بھی استعمال ہوا۔ جس طرح دین کا تقاضا صرف اس کے احکامات پڑھ لینے سے پورا نہیں ہوتا جب تک اسے پورے طور پر نافذ نہ کیا جائے ایسے ہی نماز پوری جامعیت کے ساتھ اس وقت قائم ہوگی جب اس کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ نمازی کو حکم ہے کہ نماز میں نظر کو ادھر ادھر نہ اٹھائے۔ یہی حکم نماز کے بعد ہے کہ غیر محرم عورتیں سامنے آئیں تو مرد اپنی نگاہوں کو نیچے رکھا کریں۔ تشہد میں نمازی درود اور التحیات میں سب کی سلامتی کی دعائیں مانگتا ہے۔ یہی جذبہ اسے نماز کے بعد بھی اختیار کرنا چاہیے۔ اسی طرح نماز کے اور بھی تقاضے ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ نماز میں اس قدر انہماک اور تعلق باللہ قائم ہونا چاہیے جیسے بندہ اپنے رب کی زیارت کر رہا ہو۔
(أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ فَإِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہٗ یَرَاکَ ) (رواہ البخاری : کتاب الایمان، باب سؤال جبریل النبی ﷺ عن الإیمان والإسلام والإحسان)
” اپنے رب کی عبادت اس تصور کے ساتھ کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو۔ اگر یہ تصور پیدا نہیں ہوسکتا تو کم از کم یہ خیال کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ “
زکوٰۃ کی فرضیت
قرآن نے لوگوں کو نماز با جماعت کی شکل میں مسجد میں پانچ وقت اکٹھا ہونے کا حکم دیا ہے تو یہ بات کس طرح گوارا ہوسکتی تھی کہ ایک شخص خوشحال زندگی بسر کر رہا ہو اور اس کے ساتھ کھڑا ہونے والا جسم پر چیتھڑے لپیٹے ہوئے زندگی کے تھپیڑے کھاتا رہے اور صاحب ثروت اس کی پرواہ نہ کرے۔
اسلام کا اجتماعی نظام دو بنیادوں پر قائم کیا گیا ہے ایک روحانی اور دوسری مادی معاشرے کی تطہیر، تزکیۂ نفس اور تعلق باللہ کے لیے پانچ وقت نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ باہمی ہمدردی، قرابت اور معاشی استحکام کے لیے زکوٰۃ فرض قرار دی گئی تاکہ معاشرتی اونچ نیچ اور معاشی افراط وتفریط کو توازن کے پیمانے کے قریب رکھتے ہوئے باہمی محبت و اخوت کی فضاء قائم کی جائے۔
قرآن مجید نے بار بار صدقہ کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اس تحریک کو محض لوگوں کی مرضی پر نہیں چھوڑا کہ جس کا دل چاہے خرچ کرے ورنہ مال پر مست ہو کر پھرتا رہے۔ زکوٰۃ کو فرض قرار دیتے ہوئے اسے ایمان کی مبادیات میں شامل فرمایا۔ قرآن مجید میں زکوٰۃ اور نماز کا چھبیس مرتبہ اکٹھا ذکر ہوا ہے۔ نماز حقوق اللہ کی ترجمان ہے اور زکوٰۃ حقوق العباد کی پاسبان۔ یہاں لفظ زکوٰۃ کی بجائے ” رَزَقْنٰھُمْ “ استعمال فرما کر اشارہ دیا کہ اجتماعی زندگی کا میابی کے ساتھ گزارنے کے لیے زکوٰۃ ہی نہیں بلکہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے عطا فرمایا ہے اس میں سے دوسروں پر خرچ اور صرف کرتا رہے۔ جسمانی قوت ہے تو نحیف اور ناتواں بندوں کی خدمت کرے، مالی استعداد ہے تو غریبوں اور ناداروں پر خرچ کرے، علم و بصیرت ہے تو لوگوں کی راہنمائی کرے، اقتدار اور اختیار ہے تو مجبوروں اور کمزوروں کی مدد کرتا رہے۔
حضرت ابوبکر ؓ کا زکوٰۃ نہ دینے والوں کے متعلق حکم :
(فَقَالَ وَاللَّہِ لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الصَّلاَۃِ وَالزَّکَاۃِ ، فَإِنَّ الزَّکَاۃَ حَقُّ الْمَالِ ، وَاللَّہِ لَوْ مَنَعُونِی عَنَاقًا کَانُوا یُؤَدُّونَہَا إِلَی رَسُول اللَّہِ ﷺ لَقَاتَلْتُہُمْ عَلَی مَنْعِہَا )
(رواہ البخاری : باب وجوب الزکٰوۃ)
” حضرت ابوبکر صدیق نے کہا اللہ کی قسم ! میں ان لوگوں سے ضرور لڑائی کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کریں گے۔ یقیناً زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم ! اگر لوگوں نے بکری کا بچہ دینے سے انکار کیا جو وہ اللہ کے رسول کے عہد میں دیا کرتے تھے۔ میں اس کے روکے جانے پہ لڑائی کروں گا۔ “
مسائل
1۔ غائب پر ایمان لاناضروری ہے۔ 2۔ نماز قائم کرنا فرض ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے رزق سے خرچ کرنا چاہیے۔
4۔ قرآن مجید اور پہلی کتابوں پر ایمان لانا اور آخرت کو یقینی جاننا ایمان کے بنیادی ارکان ہیں۔
5۔ ارکان اسلام کے تقاضے پورے کرنے والے لوگ ہدایت یافتہ اور کامیاب ہوں گے۔
تفسیر بالقرآن
نماز کی اہمیت :
یہاں نماز اور زکوٰۃ کی فرضیت و اہمیت کے چند دلائل پیش کیے جاتے ہیں۔ انشاء اللہ تفصیلی مسائل مرحلہ وار موقعہ بموقعہ بیان ہوں گے۔
1۔ رسول اللہ ﷺ کو نماز کا حکم۔ (العنکبوت : 45) 2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور نماز۔ (ابراہیم : 37)
3۔ حضرت موسیٰ ﷺ کو نماز کا حکم۔ (یونس : 87) 4۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور نماز۔ (مریم : 31)
5۔ بنی اسرائیل کو نماز کا حکم۔ (البقرۃ : 83) 6۔ تمام امتوں کو اقامت صلوٰۃ کا حکم۔ (البینۃ : 5)
7۔ نماز کا نظام قائم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ (الحج : 44)
Ayah 2:4فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
ایمان کے مرکزی ارکان کا ذکر کرنے کے بعد لفظ ” ما “ استعمال فرما کر ایمان کی ان تمام مبادیات وشروعات کا احاطہ کیا گیا ہے جو ایمان کی تکمیل کے لیے ضروری ہیں۔ اس کی تفصیلات کے لیے رسول کریم ﷺ کا ارشاد ملاحظہ فرمائیں جس میں آپ نے یہی لفظ ” مَا “ استعمال فرما کر اس بات کا واضح اشارہ دیا ہے کہ ایمان کی تکمیل اس جامع تصور کے بغیر ممکن نہیں۔
( لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبَعًا لِّمَا جِءْتُ بِہٖ ) (مشکوٰۃ : کتاب العلم : فصل ثالث)
” تم میں سے کوئی مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنی خواہشات کو میرے لائے ہوئے دین کے تابع نہ کر دے۔ “
اسلام کی وسعت تعلیم کا اندازہ لگائیں کہ وہ صرف قرآن مجید پر ہی نہیں بلکہ پہلی تمام آسمانی کتابوں پر ایمان لانا ضروری سمجھتا ہے۔ حالانکہ نزول قرآن کے بعد وہ منسوخ ہوچکی ہیں۔ اس کے باوجود قرآن مجید ان کی حقیقی تعلیمات اور پہلے انبیاء کی تائید کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تمام انبیاء کی شان اور مقام کے اعتراف و احترام کا حکم دیتا ہے کیونکہ پہلے انبیاء اللہ تعالیٰ کے فرستادہ تھے ‘ ان پر نازل ہونے والی کتابیں من جانب اللہ تھیں اور دین کے بنیادی ارکان ہمیشہ سے ایک ہی رہے ہیں لیکن ہدایت کے لیے اب قرآن اور اس پر کماحقہ عمل کرنے کے لیے جناب محمد ﷺ کی ذات گرامی واجب الاتباع قرار پائی ہے۔ ایمان کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے آپ ﷺ نے جبریل امین (علیہ السلام) کے سوال کے جواب میں فرمایا :
(اَنْ تُؤْمِنَ باللّٰہِ وَمَلٰءِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَتُؤْمِنَ بالْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ )
(رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب بیان الإیمان والإسلام والإحسان)
” تو اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، قیامت کے دن، اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لائے۔ “
دوسرے مقام پر رسول محترم ﷺ نے فرمایا :
(اَلْإِیْمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُوْنَ شُعْبَۃً فَأَفْضَلُھَا قَوْلُ لَاإِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَدْنَاھَا إِمَاطَۃُ الْأَذٰی عَنِ الطَّرِیْقِ وَالْحَیَاءُ شُعْبَۃٌ مِّنَ الْإِیْمَانِ ) (رواہ مسلم : باب بیان عدد شعب الإیمان وأفضلھا وأدناھا وفضیلتُہُ )
” ایمان کے ستر سے کچھ اوپر اجزاء ہیں۔ ان میں افضل ترین ” لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ ُ “ کا اقرار ہے اور سب سے ادنیٰ تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان میں شامل ہے۔ “
ایمان کا معنٰی :
ایمان کا معنٰی ہے دل سے تصدیق کرنا، زبان سے اس کا اظہار کرنے کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہونا۔
ایقان کا معنٰی :
کسی سچائی کو دل کی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ اس طرح تسلیم کرنا کہ اس میں شک اور تردد کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ یہ ایقان کا درجہ ہے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو اس طرح مانتے اور عمل پیرا ہوتے ہیں وہی ایمان دار ہیں۔ جب تک آدمی آخرت پر سچا ایمان نہ لائے اس وقت تک اس کی زندگی پر قرآن و سنت کے پورے اثرات مرتب نہیں ہوسکتے۔ قرآن مجید نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے بعد سب سے زیادہ عقیدۂ آخرت پر زور دیا ہے کیونکہ اس کے بغیر نیکو کاروں کو پورا پورا اجر اور نافرمانوں کو ٹھیک ٹھیک سزا نہیں مل سکتی۔ آخرت کی جواب دہی کا تصور ہی انسان کو درست رکھ سکتا ہے۔
مسائل
1۔ قرآن مجید ‘ پہلی آسمانی کتب اور آخرت پر ایمان لانا فرض ہے۔
تفسیر بالقرآن
آخرت پر یقین محکم ہونا چاہیے :
1۔ آخرت برحق اور اس کے برپا ہونے میں کوئی شک نہیں۔ (الکہف : 21)
2۔ ایمانداروں کی نشانی یہ ہے کہ وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ (البقرہ : 3)
3۔ اللہ تعالیٰ کی آیات اور آخرت کو جھٹلانے والوں کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ (الاعراف :147)
4۔ آخرت کے منکروں کی خواہشات کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے۔ ( الانعام : 151)
5۔ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے۔ (العنکبوت : 64)
Ayah 2:5فہم القرآن
ربط کلام : ایمان کے چھ اوصاف اپنانے اور ان کے تقاضے پورے کرنے والوں کو کامیابی کا مژدہ سنایا جاتا ہے۔
کتاب مبین کے الفاظ اور اس کی ہدایت پر کسی شک وتردد کے بغیر یقین کرنا، قرآن مجید کے بتلائے ہوئے ان دیکھے حقائق پر ایمان لانا، نماز کی شرائط کے مطابق اس کی ادائیگی اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا انفاق، قرآن و حدیث کی صورت میں جو کچھ جناب محمد کریم ﷺ پر نازل ہوا ہے اسے اعتقاداً ، قولًا اور عملًاتسلیم کرنا، انبیاء کرام (علیہ السلام) اور پہلی کتب آسمانی کی تصدیق کرتے ہوئے آخرت کی جواب دہی پر یقین کامل رکھنے والوں کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ یہی وہ خوش نصیب ہیں جو اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور یہی فلاح و کامیابی سے سر فراز ہونے والے ہیں۔
فلاح کسی ادھوری اور جزوی کامیابی کو نہیں کہتے بلکہ فلاح اس مکمل کامیابی کو کہا جاتا ہے جس کے دامن میں دنیا و آخرت کی سعادتیں اور برکتیں سمٹ آئی ہوں۔
” لیس فی کلام العرب کلہ اجمع من لفظۃ الفلاح لخیری الدنیا و الاخرۃ کما قالہ ائمۃ اللغۃ .“ [ تاج العروس ]
” ائمہ لغت نے تصریح کی ہے کہ عربی زبان میں فلاح کے لفظ سے زیادہ اور کوئی جامع لفظ نہیں جو دنیا وآخرت دونوں کی خیرات و برکات پر دلالت کرتا ہو۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ اور غائب پر ایمان لانا، نماز قائم کرنا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے رزق سے خرچ کرنا۔
3۔ قرآن مجید، پہلی کتابوں اور انبیاء کرام پر ایمان لانا۔ 4۔ آخرت کو یقینی جاننا ایمان کے بنیادی ارکان ہیں۔
تفسیر بالقرآن
کامیاب کون ؟
1۔ ایمان کے تقاضے پورے کرنے والے کامیاب ہوں گے۔ ( الاعراف : 157)
2۔ رسول محترم ﷺ پر ایمان لانے اور آپ ﷺ کی عزت و تکریم کرنے والے کامیاب ہوں گے (الاعراف : 157)
3۔ اللہ کے راستے میں مال و جان کے ساتھ جہاد کرنے والے کامیاب ہوں گے۔ (التوبۃ : 88)
4۔ غریبوں اور مسکینوں کی مدد کرنے والے کامیاب ہوں گے۔ (الروم : 38)
Ayah 2:6فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کی دوسری قسم جنہوں نے حق کا انکار کیا ان کے مزاج اور انجام کا بیان۔
لغت میں کفر کا معنٰی ہے کسی شے کو چھپانا۔ جو شخص نعمت کو چھپائے اور اس کا شکرا ادا نہ کرے اس کے فعل کو کفر اور کفران نعمت کہتے ہیں۔ سب سے بڑا کفر اللہ کی وحدانیت اور شریعت، نبوت کا انکار ہے۔ قرآن مجید میں کفر کا لفظ کفران نعمت اور کفر باللہ دونوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔
(اَلْکُفْرُ عَدَمُ تَصْدِیْقِ الرَّسُوْلِ فِیْمَا عُلِمَ بالضَّرُوْرَۃِ مَجِیْءُہٗ بِہٖ ) (تفسیر رازی : ص 306، ج 1)
” کفر کے معنٰی یہ ہیں کہ رسول اور پیغمبر کی اس بات میں تصدیق نہ کرنا جس کا بدیہی اور قطعی طور پر دین سے ہونا معلوم ہوچکا ہے۔ “
حقائق کا مسلسل انکار اور ہٹ دھرمی پر قائم رہنے والوں کی یہ حالت ہوچکی ہوتی ہے کہ ان کے لیے سمجھانا اور نہ سمجھانا یکساں ہوجاتا ہے۔ ان آیات میں ایک طرف نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ کا کام ” اللہ “ کا پیغام پہنچانا اور لوگوں کو سمجھانا ہے۔ اگر یہ لوگ حق کا مسلسل انکار کئے جا رہے ہیں تو آپ کو دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے۔ اور نہ ہی ایسے ہٹ دھرم لوگوں پر مزید صلاحیتوں کو صرف کرنا چاہیے کیونکہ ان کے سچ اور حق کو قبول کرنے والے اعضاء بےکار کردیے گئے ہیں۔
بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر اللہ نے ہی ان کی قوت فہم و سماعت ختم کردی ہے اور ان کی بصارت پر پردے ڈال دیے ہیں تو ان کا کیا قصو رہے ؟ در حقیقت یہ لوگ آیات کے سیاق وسباق سے ہٹ کر یہ معنٰی نکال کر اپنی کم فہمی یا منفی سوچ کا اظہار کرتے ہیں۔ جبکہ ان آیات کا مفہوم سمجھنے کے لیے ایک مشفق و مہربان حکیم کی مثال سامنے رکھنی چاہیے جو کسی مریض کو مرض کے نقصانات بتلا اور دوائی کے فائدے سمجھا کر بار بار دوائی کھلانے کی کوشش کرتا ہے لیکن مریض نہ صرف اپنا منہ بند کرلیتا ہے بلکہ ہر قسم کی بد پرہیزی اور حکیم کے ساتھ بد تمیزی کرنے میں آگے ہی بڑھتا جاتا ہے۔ مریض کی بد تمیزی اور ہٹ دھرمی دیکھ کر اگر حکیم یہ کہہ دے کہ مریض اپنی موت کو دعوت دے رہا ہے لہٰذا اسے مرنے ہی دینا چاہیے تو اس میں حکیم کا قصور سمجھا جائے گا یا مریض کا ؟
Ayah 2:7دوسرے مقام پر قرآن مجید نے واضح فرمایا ہے کہ ان کے گناہوں اور کفر کی وجہ سے ان کے کان بہرے، آنکھیں اندھی اور دلوں پر مہریں لگ چکی ہیں۔ (الاعراف : 179)
ان آیات میں کفر و شرک کے مریض کی حالت اور نبی کریم ﷺ کی بھر پورکوششوں کا نقشہ پیش فرما کر رب کریم نے آپ ﷺ کو تسلی دی ہے اور انکار کرنے والوں پر ہمیشہ کی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ان کو اس قدر ہولناک اور اذیت ناک عذاب ہوگا کہ وہ دنیا کی سب نعمتوں اور سہولتوں کو بھول جائیں گے۔
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُؤْتٰی بِأَنْعَمِ أَھْلِ الدُّنْیَا مِنْ أَھْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُصْبَغُ فِی النَّارِ صَبْغَۃً ثُمَّ یُقَالُ یَاابْنَ آدَمَ ھَلْ رَأَیْتَ خَیْرًا قَطُّ ھَلْ مَرَّبِکَ نَعِیْمٌ قَطُّ فَیَقُوْلُ لَاوَاللّٰہِ یَارَبِّ وَیُؤْتٰی بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِي الدُّنْیَا مِنْ أَھْلِ الْجَنَّۃِ فَیُصْبَغُ صَبْغَۃً فِي الْجَنَّۃِ فَیُقَالُ لَہٗ یَا ابْنَ آدَمَ ھَلْ رَأَیْتَ بُؤْسًا قَطُّ ھَلْ مَرَّ بِکَ شِدَّۃٌ قَطُّ فَیَقُوْلُ لَا وَاللّٰہِ یَارَبِّ مَا مَرَّ بِيْ بُؤْسٌ قَطُّ وَلَا رَأَیْتُ شِدَّۃً قَطُّ ) (رواہ مسلم : کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار، باب صبغ أنعم أھل الدنیا فی النار .....)
” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : روز قیامت دنیا میں سب سے زیادہ ناز و نعمت میں پلنے والے جہنمی کو لا کر آگ میں غوطہ دیا جائے گا پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ کیا تو نے کبھی کوئی بہتری دیکھی ؟ کیا تجھے کوئی نعمت ملی ؟ تو وہ کہے گا : اللہ کی قسم ! اے میرے رب میں نے کوئی نعمت نہیں دیکھی۔ پھر ایک جنتی کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ تکلیفوں میں رہا اسے جنت میں داخل کر کے پوچھا جائے گا اے ابن آدم ! کیا تو نے کبھی کوئی تکلیف اور سختی دیکھی ؟ وہ عرض کرے گا نہیں اللہ کی قسم ! مجھے کبھی کوئی تکلیف اور مصیبت نہیں آئی۔ “
مسائل
1۔ کفر پر پکے لوگوں کو سمجھانا یا نہ سمجھانا ایک جیسا ہوتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
جن لوگوں کے دلوں پر اللہ نے مہریں لگائی ہیں :
1۔ کفار۔ (الأعراف : 101) 2۔ خواہشات کا بندہ۔ (الجاثیۃ : 23) 3۔ مجرم۔ (یٰس : 65)
4۔ یہودی۔ ( النساء : 155) 5۔ منافقین۔ (التوبۃ : 87، 93) 6۔ جاہل بےعلم۔ ( الروم : 59)
8۔ حد سے تجاوز کرنے والا۔ ( یونس : 74) 9۔ دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دینے والا۔ ( النحل : 108)
Ayah 2:8فہم القرآن
ربط کلام : ایمان کی مبادیات تسلیم کرنے سے انکار کرنے والوں کے بیان کے بعد تیرہ آیات میں منافقوں یعنی دوغلے لوگوں کے کردار کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ معلوم ہو کہ نبی ﷺ اور ہر داعی حق کو تین قسم کے لوگوں سے سابقہ پیش آئے گا۔ لہٰذا گھبرانے اور حوصلہ ہارنے کی ضرورت نہیں بلکہ اس میدان کے غازی کو اپنا کام جاری رکھنا چاہیے۔
نفاق :
دل میں کفر اور ظاہر میں اسلام کا اظہار کرنا نفاق کہلاتا ہے۔ نفاق کی دو قسمیں ہیں، اعتقادی نفاق اور عملی نفاق دونوں احکام کے لحاظ سے مختلف ہیں۔
تین قسم کے لوگ :
نظریاتی اعتبار سے دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوا کرتے ہیں۔ (1) حق اور سچ قبول کرنے والے۔ (2) حق کا انکار کرنے والے (3) ذاتی مفاد یا فکری انتشار کی وجہ سے ہمیشہ تذبذب کا شکار اور دنیوی مفاد کی خاطر اعراض کرنے والے لوگ جنہیں قرآن مجید نے منافق قرار دیا ہے۔ یہ ڈبل چہرے اور دوہرے کردار کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایسا شخص نہ قول کا سچا اور نہ کردار کا پختہ ہوتا ہے۔ اسے ہر بات میں دنیا کا مفاد عزیزہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے مقدّس نام اور دین کے پاکیزہ کام کو بھی اپنی ذات اور مفاد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ حتی کہ آخرت کے عقیدے کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے میں کوئی باق محسوس نہیں کرتا۔ منافق، مومنوں کی آستینوں میں گھسے ہوئے سانپ ہیں جو ہر وقت اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں اور شرارتوں میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ مومنوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔
Ayah 2:9درحقیقت یہ اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں۔
کتنا برا اور بد بخت ہے وہ آدمی جو اپنی ذات کو دھوکے میں مبتلا رکھے۔ کیونکہ منافق اللہ کے رسول کو دھوکہ دیتے، دین اور دین داروں کو مذاق کرتے ہیں۔ دین اللہ تعالیٰ نے بھیجا اور رسول کریم ﷺ کو بھی اسی نے مبعوث فرمایا ہے اور مومنوں کو بھی دین کی وجہ سے استہزا کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے دھوکہ کو اپنی ذات کے ساتھ دھوکہ اور مذاق قرار دیا ہے۔
رسول محترم ﷺ نے منافق کے کردار کو اس طرح بیان فرمایا ہے :
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ کَمَثَلِ الشَّاۃِ الْعَاءِرَۃِ بَیْنَ الْغَنَمَیْنِ تَعِیْرُإِ لٰی ھٰذِہٖ مَرَّۃً وَ إِلٰی ھٰذِہٖ مَرَّۃً ) (رواہ مسلم : کتاب صفات المنافقین وأَحکامھم)
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان پھرتی ہے کبھی ایک ریوڑ کی طرف جاتی ہے کبھی دوسرے کی طرف۔ “
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ۔۔ قَالَ مَنْ غَشَّ فَلَیْسَ مِنِّيْ ) (رواہ مسلم : کتاب الإیمان باب قول النبی ﷺ من غشنا فلیس منا)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے دھوکہ دیا وہ مجھ سے نہیں۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ ) (رواہ البخاری : باب علامۃ المنافق)
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے وعدہ خلافی کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو خیانت کرتا ہے۔ “
مسائل
1۔ منافق اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن حقیقتاً وہ ایمان دار نہیں ہوتا۔
2۔ منافق اللہ تعالیٰ اور ایمان داروں کو دھوکا دیتا ہے۔ 3۔ منافق حقیقی فہم و شعور سے عاری ہوتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
منافق کا جھوٹا دعویٰ :
1۔ منافق دعوی ایمان کے باوجود ایمان دار نہیں۔ ( البقرۃ : 8)
2۔ اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق دعویٰ ایمانی میں جھوٹے ہیں۔ ( المنافقون : 1)
3۔ منافقین نے ایمان کے بعد کفر اختیار کیا ہوا ہے۔ ( المنافقون : 3)
4۔ منافق ایمان کے دعویٰ کی جھوٹی قسمیں اٹھاتے ہیں۔ ( التوبۃ : 56)
منافق کی دھوکہ بازیاں :
1۔ منافق اللہ اور مومنوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ( البقرۃ : 9)
2۔ منافق رسول ﷺ کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ( المنافقون : 1)
3۔ منافق نماز بھی دھوکہ دینے کی خاطر پڑھتے ہیں۔ ( النساء : 142)
Ayah 2:10فہم القرآن
ربط کلام : منافقت ایک روحانی بیماری ہے جس سے کئی جرائم جنم لیتے ہیں۔
منافق جھوٹ بولنے کا عادی ہوتا ہے۔ اس لیے اس کی روحانی اور اخلاقی بیماریوں میں اضافہ ہی ہوا جاتا ہے بالکل اس مریض کی طرح جس کے لیے بہترین خوراک بھی بیماری میں اضافے کا سبب بنتی ہو۔ یہاں یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ انسان جسمانی طور پر ہی بیمار نہیں ہوتا اس کی روح بھی بیمار ہوتی ہے جسم مادی عناصر سے بنا ہے۔ اس کا علاج مادی عوامل سے ہوتا ہے۔ روح اللہ تعالیٰ کا حکم اور ملکوتی ہے۔ اس کا علاج روحانی یعنی اللہ تعالیٰ کے کلام اور اس کے نبی کی تابعداری سے ہوتا ہے۔
(إِنَّ الْحَلَالَ بَیِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَیِّنٌ وَبَیْنَھُمَا مُشْتَبِھَاتٌ لَایَعْلَمُھُنَّ کَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَی الشُّبُھَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِیْنِہٖ وَعِرْضِہٖ وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُھَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ کَالرَّاعِيْ یَرْعٰی حَوْلَ الْحِمٰٰی یُوْشِکُ أَنْ یَّرْتَعَ فِیْہِ أَلَا وَإِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی أَلَا وَإِنَّ حِمَی اللّٰہِ مَحَارِمُہٗ أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَۃً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَإِذَ فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ أَلَا وَھِيَ الْقَلْبُ ) (رواہ مسلم : کتاب المساقاۃ، باب أخذ الحَلال وترک الشبھات)
” یقیناً حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی۔ ان کے درمیان کچھ متشابہات ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے جو شبہات سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو شبہات میں پڑگیا وہ حرام میں مبتلا ہوگیا۔ یہ اس چرواہے کی طرح ہے جو چراگاہ کے قریب جانور چراتا ہے ہوسکتا ہے وہ جانور چراگاہ میں چرنا شروع ہوجائیں۔ خبردار ! ہر بادشاہ کی چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔ سنو ! یقیناً جسم میں ایک ٹکڑا ہے وہ ٹھیک ہو تو سارا جسم درست ہوتا ہے اور وہ فاسد ہو تو سارا جسم خراب ہوجاتا ہے یاد رکھو ! وہ دل ہے۔ “
رسول اللہ ﷺ سے استفسار کیا گیا کہ کیا مومن جھوٹ بول سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہرگز نہیں۔ (مؤطا امام مالک : کتاب الجامع، باب أن عبداللہ بن مسعود کان یقول علیکم بالصدق )
(إِیَّاکُمْ وَ الْکَذِبَ فَإِنَّ الْکَذِبَ یَھْدِيْ إِلَی الْفُجُوْرِ وَإِنَّ الْفُجُوْرَ یَھْدِيْ إِلَی النَّارِ وَمَایَزَال الرَّجُلُ یَکْذِبُ وَیَتَحَرَّی الْکَذِبَ حَتّٰی یُکْتَبَ عِنْدَ اللّٰہِ کَذَّابًا) (رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ والآداب)
” تم جھوٹ سے کنارہ کش رہو۔ اس لیے کہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ دوزخ میں پہنچا دیتا ہے۔ جب ایک شخص ہمیشہ جھوٹ بولتا اور جھوٹ کا عادی ہوجاتا ہے تو وہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ “
دل کی حالت :
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِیْءَۃً نُکِتَتْ فِيْ قَلْبِہٖ نُکْتَۃٌ سَوْدَآءُ فَإِذَا ھُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ سُقِلَ قَلْبُہٗ وَإِنْ عَادَ زِیْدَ فِیْھَا حَتّٰی تَعْلُوَ قَلْبَہٗ وَھُوَ الرَّانُ الَّذِيْ ذَکَرَ اللّٰہُ (کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ مَّاکَانُوْا یَکْسِبُوْنَ )
(رواہ الترمذی : کتاب تفسیر القرآن)
” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب بندہ کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ پڑجاتا ہے جب وہ گناہ چھوڑ دے اور توبہ و استغفار کرے تو اس کا دل پالش ہوجاتا ہے۔ اگر وہ دوبارہ گناہ کی طرف پلٹے تو سیاہی اس کے دل پر چڑھ جاتی ہے یہی وہ زنگ ہے جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے کہ (ہرگز نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے گناہوں کی وجہ سے زنگ چڑھ چکا ہے۔ ) “
مسائل
1۔ منافقت دل کی بیماری ہے۔ 2۔ منافق جھوٹا ہوتا ہے۔
3۔ منافقت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ منافق کی بیماری کو بڑھا دیتا ہے۔ 4۔ منافق کو اذیت ناک عذاب ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
روحانی بیماریاں :
1۔ ریاکاری۔ ( البقرۃ : 264، النساء : 142، الأنفال : 47، الماعون : 4 تا 6)
2۔ قساوت قلب۔ (المائدۃ : 13، الزمر : 22) 3۔ کفر۔ (البقرۃ : 10)
4۔ تکبر۔ (النحل : 22، لقمان : 18، النساء : 172) 5۔ کجی۔ ( التوبۃ : 117، آل عمران : 7، الصف : 5)
6۔ دل کا زنگ آلود ہونا۔ ( المطففین : 14) 7۔ حسد۔ ( البقرۃ : 109، النساء : 54)
8۔ سرکشی۔ ( البقرۃ : 90، 213، یونس : 90) 9۔ بغض۔ (آل عمران : 118، المائدۃ : 91، الممتحنۃ : 4)
Ayah 2:11فہم القرآن
ربط کلام : منافقت کی بیماری کی وجہ سے منافق کو اصلاح اور بگاڑ کے درمیان شعور نہیں رہتا۔
اصلاح و فساد کی ابتدا انسان کے ضمیر سے ہوتی ہے۔ ضمیر بگڑتا ہے تو طبیعت میں برائی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ جو آدمی کے کردار پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ جس سے اکثر اوقات سوچ کے زاویے اس قدر بگڑ جاتے ہیں کہ آدمی کو اصلاح اور بگاڑ میں فرق محسوس نہیں ہوتا۔ خاص کر ایسا شخص جو اپنے مفاد کے لیے اللہ تعالیٰ کے مقدس نام اور آخرت کے عقیدہ کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے جھوٹ بولتا ہے۔ اس کا ضمیر اس حد تک پستی کا شکار ہوجاتا ہے کہ اس سے ہر گناہ اور جرم کی توقع کی جاسکتی ہے۔ ایسے لوگوں پر جتنے نگران مقرر کردیے جائیں اور انہیں لاکھ سمجھائیں۔ اصلاح کی بجائے ان کے بگاڑ میں اضافہ ہی ہوا کرتا ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ رشوت کے خاتمہ کے لیے انسداد رشوت ستانی کے محکمہ سے رشوت کے ریٹ بڑھ جاتے ہیں۔ فروغ تعلیم کے نام پر جہالت، معلومات عامہ کے نام پر گندہ لٹریچر، کلچر کے نام پر بےحیائی، عدل و انصاف کے نام پر ججز اور وکلاء کی قانونی موشگافیاں، شیطان کی آنت کی طرح پھیلا ہوا عدالتی نظام بگڑتاہی چلا جاتا ہے۔ ملک و ملت کے وسیع تر مفاد کے نام پر وسیع تر فساد کا جال بچھا دیا جاتا ہے۔
امن وامان قائم کرنے کے نام پر بےگناہوں کا قتل عام، یہ سب اصلاح اور فلاح کے نام پر ہی تو کیا جاتا ہے۔ ایسی حکومتوں، افسروں اور اداروں کے ذمہ داران کو سمجھا کر دیکھ لیجئے۔ جواب یہی ملے گا کہ ہم تو اصلاح احوال اور فلاح عوام کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں۔ ایسا اس لیے ہے کہ یہ لوگ فسادی ہیں مگر حقیقی شعور سے محروم ہونے کی وجہ سے اصلاح اور فساد میں فرق نہیں سمجھتے جس وجہ سے اپنے آپ کو مصلح سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے مسلمانوں کو خبردار اور ہوشیار رہنے کا حکم دیا گیا کہ ان منافقوں اور فسادیوں سے بچتے رہنا۔
مسائل
1۔ منافق فسادی ہونے کے باوجود اپنے آپ کو مصلح سمجھتا ہے۔ 2۔ منافق حقیقی سمجھ سے تہی دامن ہوتا ہے۔
Ayah 2:12تفسیر بالقرآن
فسادی کون ؟
1۔ منافقین (البقرۃ : 11) 2۔ زمین میں فساد لوگوں کے اعمال کا نتیجہ ہے (الروم : 41) 3۔ یاجوج و ماجوج (الکہف : 94)
4۔ فرعون (یونس : 91) 5۔ یہودی (المائدۃ : 64) 6۔ بچوں کے قاتل (القصص : 4)
Ayah 2:13فہم القرآن
ربط کلام : منافق دوغلا، جھوٹا اور فسادی ہی نہیں ہوتا بلکہ اپنی منافقت کے کھوٹ کی وجہ سے مخلص مسلمانوں کو بیوقوف کہتا اور سمجھتا ہے۔
منافق ابن الوقت اور مفاد پرست ہوتا ہے۔ اسی لیے مخلص، ایثار پیشہ اور با اصول شخص کو پسند نہیں کرتا۔ صحابہ کرام ؓ ایثار کے پیکر اور قربانی کے خوگر تھے۔ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی محبت اور اسلام کی سر بلندی کی خاطر ہر چیز قربان کرنے کی بےمثال اور لا زوال مثالیں قائم کیں تھیں۔ منافقین ایسے مخلص حضرات کو کس طرح پسند کرسکتے تھے ؟ ربِّ کریم نے جب منافقوں کو حکم دیا کہ تم بھی نبی ﷺ کے اصحاب کی طرح مخلصانہ ایمان اور فدا کاری کا رویہ اختیار کرو۔ منافقین نے تسلیم و رضا کا روّیہ اپنانے کی بجائے کہا : کیا ہم ان بیوقوفوں کی طرح کاروبار تباہ کرلیں اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دیں ؟ یہ تو سراسر حماقت کا راستہ ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ اپنے خالق ومالک کا فرمان تسلیم کرنا اور اس کے حکم پر سب کچھ قربان کردینا بےوقوفی نہیں۔ حماقت اور بےوقوفی تو یہ ہے کہ آدمی اپنے رب کا نافرمان اور اس کے ساتھ عدم اخلاص کا رویّہ اور فانی دنیا کے لیے ہمیشہ کی زندگی کو برباد کرلے۔ اس فرمان میں رہتی دنیا تک صحابہ کرام ؓ کے ایمان کو جہان والوں کے لیے معیار قرار دیتے ہوئے صحابہ کو برا کہنے والوں کو احمق، منافق اور علم و آگہی سے نا بلد قرار دیا گیا ہے۔
مسائل
1۔ منافق صحابہ کرام ؓ کو بیوقوف سمجھتے ہیں۔ 2۔ حقیقتاً منافق بیوقوف ہوتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
بیوقوف کون ؟
1۔ ملت ابراہیم سے اعراض کرنے والابیوقوف ہے۔ (البقرۃ : 130)
2۔ صحابہ کو برا کہنے والابیوقوف ہے۔ (البقرۃ : 12)
3۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ سے انحراف کرنے والابیوقوف ہے۔ (البقرۃ : 13)
4۔ قبلہ پر اعتراض کرنے والے بیوقوف ہے۔ (البقرۃ : 142)
Ayah 2:14فہم القرآن
ربط کلام : منافقت کے سبب اور حقیقی شعور سے تہی دامن ہونے کی وجہ سے کردار میں کھوکھلہ پن پیدا ہوجاتا ہے۔ جس وجہ سے منافق ایسی گفتگو کرتا ہے۔
منافق جب ایمان داروں سے ملتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور اسلام کی خوبیاں، رسول محترم ﷺ کے اوصاف اور مومنوں کے حسن کردار کا ذکر کرتے ہوئے ایمان کے دعویدار بنتے ہیں۔ لیکن جب اپنے لیڈروں کی طرف پلٹتے ہیں تو ان کو تسلی دیتے ہیں کہ ہمارے بارے میں فکر نہ کرنا ہم تمہارے ہی ہیں ہم تو مسلمانوں کے ساتھ شغل اور دکھاوے کے لیے ہم آہنگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہاں قرآن مجید نے ان کے بڑوں کو شیطان قرار دیا ہے کیونکہ ان کے بڑے شیطان کی طرح نہ صرف خود گمراہ ہیں بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کر رہے ہیں۔ منافق اخلاقی لحاظ سے اس قدر سفلہ مزاجی کا شکار ہوتا ہے کہ وہ ایمان جیسے گراں قدر اور حساس معاملے کو بھی مذاق سمجھتا ہے۔ ایسے لوگوں کو ان کے گناہ کی طرف توجہ دلائی جائے تو وہ اپنی خفت مٹانے اور شرمندگی چھپانے کے لیے کہتے ہیں کہ تم تو خواہ مخواہ سنجیدہ ہو رہے ہو ہم تو خوش طبعی کے طور ایسا کر رہے تھے۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ تَجِدُ مِنْ شَرِّ النَّاسِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عِنْدَ اللَّہِ ذَا الْوَجْہَیْنِ ، الَّذِی یَأْتِی ہَؤُلاَءِ بِوَجْہٍ وَہَؤُلاَءِ بِوَجْہٍ ) (رواہ البخاری : باب ما قیل فی ذی الوجہین)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ کے نزدیک لوگوں میں سے بدترین شخص دو چہروں والا (منافق) ہوگا۔ جو اس طرف ایک چہرے کے ساتھ آتا ہے اور دوسری طرف دوسرے چہرے سے۔ “
مسائل
1۔ منافق دوغلی پالیسی اختیار کرتے ہیں۔ 2۔ بڑے منافق شیطان کے قائم مقام ہوتے ہیں۔
3۔ منافق اللہ اور اہل ایمان کو مذاق کرتے ہیں۔
Ayah 2:15فہم القرآن
ربط کلام : منافقت اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔
یہاں منافقین کے کردار کے بارے میں لفظ طغیان استعمال کیا ہے جو ایک محاورہ بھی ہے کہ دریا میں طغیانی ہے۔ یعنی دریا اپنی حد سے آگے بڑھ گیا ہے۔ یہی حالت گناہ کے وقت انسان کی ہوتی ہے۔ اس لیے کہ وہ اپنی فطرت سلیم سے آگے بڑھ کر گناہ کرتا ہے۔ مذاق کرنا اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے لیکن منافقوں پر ناراضگی اور مومنوں سے مذاق کرنے کی وجہ سے منافقوں کے مذاق کو اللہ تعالیٰ اپنی طرف منسوب فرما رہا ہے۔ کیونکہ مومنوں کو اللہ پر ایمان لانے کی وجہ سے مذاق نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ مذاق کرنے کے مترادف سمجھتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس بات کو وسیع ترین تناظر میں یوں بیان فرمایا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا اعلان جنگ :
(عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إنَّّ اللّٰہَ قَالَ مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ آذَنْتُہٗ بالْحَرْبِ وَمَا تَقَرَّبَ إِلَیَّ عَبْدِیْ بِشَیْءٍ أَحَبَّ إِلیَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَیْہِ وَمَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ إِلَیَّ بالنَّوَافِلِ حَتّٰی أُحِبَّہٗ فَإِذَا أَحْبَبْتُہٗ کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِیْ یَسْمَعُ بِہٖ وَبَصَرَہُ الَّذِیْ یَبْصُرُبِہٖ وَیَدَہُ الَّتِیْ یَبْطِشُ بِھَا وَرِجْلَہُ الَّتِیْ یَمْشِیْ بِھَا وَإِنْ سَأَلَنِیْ لَأُعْطِیَنَّہٗ وَلَءِنِ اسْتَعَاذَنِیْ لَأُعِیْذَنَّہٗ وَمَا تَرَدَّدْتُّ عَنْ شَیْءٍ أَنَا فَاعِلُہٗ تَرَدُّدِیْ عَنْ نَّفْسِ المُؤْمِنِ یَکْرَہُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَکْرَہُ مَسَاءَ تَہٗ ) (رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب التواضع )
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے میرے دوست سے دشمنی کی میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں۔ میں نے جو چیزبندے پر فرض کی اس سے زیادہ مجھے کوئی چیز محبوب نہیں جس سے وہ میرا قرب حاصل کرے۔ بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ جب میں اس کے ساتھ محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ سوال کرے تو میں اسے ضرور عطا کرتا ہوں ‘ اگر مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں۔ میں اپنے کسی کام میں اتنا تردُّد نہیں کرتا جتنا ایک مومن کی جان قبض کرنے میں کرتا ہوں کیونکہ بندہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور مجھے اس کی تکلیف اچھی نہیں لگتی جس نے ولی کو تکلیف دی۔ “
کوئی مجرم اللہ تعالیٰ کی دسترس سے باہر نہیں ہوسکتا اس کے باوجود اس نے منافق کو دین اور دین داروں کے ساتھ مذاق کرنے کی مہلت دے رکھی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق ہے۔ سخت ناراضگی کے اظہار کے طور پر مذاق کا لفظ ذات کبریا نے اپنی طرف منسوب کیا ہے جب ان کے لیڈر سازشوں کے بےنقاب ہونے کے خوف سے ان کو روکتے ہیں۔ تو ان کے چیلے چانٹے یہ کہہ کر ان کو مطمئن کرتے ہیں کہ ہم تو مسلمانوں کو مذاق کے طور پر ایسی باتیں کرتے ہیں۔ اس عیاری اور چالاکی کی وجہ سے ان کی عقل پر پردہ پڑچکا ہے۔ یہ جھوٹ، سازش اور منافقت کے پردہ چاک ہونے کے خوف سے دل ہی دل میں پریشان رہتے ہیں اور ایسی باتوں اور ساتھیوں پر خوش ہوتے ہیں۔
یاد رکھیے ! گناہ کا نقصان صرف یہی نہیں کہ دنیا میں ذلّت اور آخرت میں سزا ہوگی بلکہ گناہ کا پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسان کا دل گناہ کی وجہ سے پریشان رہتا اور گناہ سے آدمی کی طبیعت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ گناہ گار ضمیر کا چور اور بزدل ہوجاتا ہے۔ جبکہ نیکی میں اطمینان ہے اور گناہ میں پریشانی۔ کبھی جرائم پیشہ اور بد کا رکو ٹٹول کر دیکھو بظاہر ہشاش بشاش نظر آنے کے باوجودوہ کس طرح پریشان ہوتا ہے۔ قرآن مجید اسی قلبی اضطراب کا ذکر کر رہا ہے کہ وہ اپنے نفس کی طغیانیوں اور نافرمانیوں میں پریشان رہتے ہیں۔ نفسیات کے معلّم اعظم ﷺ نے گناہ کی تعریف اس طرح فرمائی ہے :
(اَلْإِثْمُ مَا حَاکَ فِیْ صَدْرِکَ وَکَرِھْتَ أَنْ یَّطَّلِعَ عَلَیْہِ النَّاسُ ) (رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ، باب تفسیر البر والإثم)
” گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور لوگوں کو اس کا علم ہونا تجھے ناگوار محسوس ہو۔ “
مسائل
1۔ منافق کو روز قیامت استہزا کی سزا دی جائے گی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ منافق اور کافر کو دنیا میں ڈھیل دیتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
استہزا اور اس کی سزا :
1۔ انبیاء کے ساتھ استہزا کیا گیا۔ (الزخرف : 7) 2۔ اللہ اور اس کی آیات سے مذاق کیا گیا۔ (التوبۃ : 65)
3۔ نماز کے ساتھ استہزا کیا گیا۔ ( المائدۃ : 58) 4۔ کفار نے نبی کریم ﷺ سے استہزا کیا۔ ( الأنبیاء : 36)
5۔ استہزا کرنے والوں کو رسوا کن عذاب ہوگا۔ ( الجاثیۃ : 9) 6۔ اللہ کی آیات کو مذاق نہ بناؤ۔ ( البقرۃ : 231)
7۔ اللہ کی آیات اور انبیاء سے مذاق کی سزا جہنم ہے۔ ( الکہف : 106)
8۔ اے نبی ﷺ ہم آپ سے مذاق کرنے والوں سے نمٹ لیں گے۔
9۔ جہاں اللہ کی آیات سے مذاق کیا جائے وہاں نہ بیٹھو۔ ( النساء : 140)
Ayah 2:16فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے سورة الصف میں ایمان، نیک اعمال اور جہاد کو اپنے ساتھ تجارت کرنے کے مترادف قرار دیا ہے منافق ایمان اور اعمال میں مخلص نہیں ہوتے اس لیے وہ اس تجارت میں ہدایت کے بدلے گمراہی کے خریدار بن جاتے ہیں اور دھوکہ باز کی تجارت دینی ہو یا دنیوی اس کا انجام آخر خسارہ ہوتا ہے۔
ایمان کے جھوٹے دعوے اور اس جھوٹ کے ذریعے مومنوں کو دھوکہ دینے کی بنا پر منافقوں کے دل ایمان کی روشنی اور صحیح فیصلہ کرنے کی بصیرت سے محروم ہوچکے ہیں۔ منافق کی حالت اس شخص جیسی ہوچکی ہے جو نقص بصر کی وجہ سے ہر چیز کو ٹیڑھا دیکھتا ہے۔ اسی بنا پر منافق ایمان اور بصیرت سے محروم ہونے کی وجہ سے فساد کو اصلاح اور صحابہ کے ایمان کو غیر دانشمندانہ اقدام اور بےوقوفی قرار دیتے ہیں۔ مزید برآں کہ اللہ کی طرف سے ان کی رسی دراز ہوچکی ہے۔ جس بنا پر یہ عقل و دانش سے اندھے حقیقی اور دائمی نفع و نقصان میں فرق کرنے کی صلاحیت سے تہی دامن ہوچکے ہیں۔ اس وجہ سے نفع کی بجائے نقصان پانے والے سوداگر بن چکے ہیں۔ حالانکہ کم سے کم عقل رکھنے والا انسان بھی وہ کام کرتا ہے جس میں اسے زیادہ سے زیادہ فائدہ دکھائی دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو نفع و نقصان کا اس قدر شعور بخشا ہے کہ ایک گنوار اور اَن پڑھ ریڑھی لگانے والے محنت کش کو معلوم ہوجائے کہ اس کے مال کی قیمت فلاں بازار یا شہر میں زیادہ ہے۔ تو وہ وہاں جانے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ لیکن اللہ اور اس کے بندوں کو دھوکہ دینے والے منافق اس قدر کوتاہ چشمی کا شکار ہوچکے ہوتے ہیں کہ انہیں ایمان وایقان اور کفر و نفاق، آخرت اور دنیا کی نعمتوں میں فرق دکھائی نہیں دیتا۔ جب کہ دنیا آخرت کی کھیتی اور نیک اعمال آخرت کی نعمتوں کی قیمت ہیں۔
دنیا دارالعمل اور تجارت گاہ ہے اس بنا پر فطری طور پر انسان کے ہر عمل کے پیچھے نفع اور نقصان کی سوچ کار فرما ہوتی ہے۔ اچھی سوچ کے بدلے ہدایت نصیب ہوتی ہے ہدایت اور نیک عمل کے بدلے جنت عطا ہوگی۔ قرآن مجید نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا اور مال و جان کے ساتھ دین کی سر بلندی کے لیے کوشش کرنے کو بہترین نیکی اور تجارت قرار دیا ہے۔ (الصف : 11 تا 13)
قتال فی سبیل کے بیان میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانوں کے بدلے جنت کا سودا کرلیا ہے۔ (التوبۃ : 111) مومن اپنے رب کی تابعداری کرکے اس کی رضا کا طلب گار اور جنت کا خریدار بن جاتا ہے۔ منافق اپنی منافقت اور کافر اپنے کفر کی وجہ سے اس سودا گری میں دنیا کی ذلت اور آخرت کی سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ منافق جس عارضی عزت اور منفعت کے لیے جو کچھ کرتا ہے وہ حقیقت میں نقصان اور ہدایت سے محرومی کا نتیجہ ہے۔ جب کوئی شخص جان بوجھ کر خسارے کی تجارت کرنے سے باز نہ آئے تو اسے نفع کیونکر ہوسکتا ہے ؟ یہی ہدایت کا معاملہ ہے لہٰذا گمراہی کا طالب ہدایت کس طرح پاسکتا ہے ؟
اللہ تعالیٰ سے ہدایت طلب کرتے رہنا چاہیے :
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ أَنَّہُ کَانَ یَقُول اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْہُدَی وَالتُّقَی وَالْعَفَافَ وَالْغِنَی) (رواہ البخاری : باب التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ یَعْمَلْ )
” حضرت عبداللہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے۔ اے اللہ ! میں تجھ سے ہدایت، پرہیزگاری، تندرستی اور خوشحالی کا سوال کرتا ہوں۔ “
سابقہ آیات میں منافقین کی نشانیاں :
1۔ منافق دعوی ایمان میں جھوٹا ہوتا ہے۔ 2۔ منافق شعور سے تہی دامن ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو دھوکہ دیتا ہے۔
3۔ منافقت دل کی بیماری ہے۔ 4۔ منافق اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتا ہے۔
5۔ منافق احمق ہونے کے باوجود مومنوں کو بےعقل سمجھتا ہے۔ 6۔ منافق ایمان جیسی گراں قدر نعمت کو مذاق سمجھتا ہے۔
7۔ منافق ہدایت کی بجائے گمراہی کا طلب گار ہوتا ہے۔
مسائل
1۔ منافقین ہدایت کے بدلے گمراہی کے خریدار ہیں۔ 2۔ منافقین کی یہ تجارت سود مند نہ ہوگی۔
تفسیر بالقرآن
منافق کا کردار اور انجام :
1۔ منافق دغا باز، ریا کار اور بےتوجہگی کے ساتھ نماز پڑھتا ہے۔ (النساء : 142)
2۔ منافق کے کلمہ پر اعتبار نہیں کیونکہ وہ جھوٹا ہوتا ہے۔ (المنافقون : 1)
3۔ منافق کی قسم پر اعتبار نہیں کیونکہ وہ اسے ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ (المنافقون : 2)
4۔ منافق جہنم کے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔ (النساء : 145)