Ayah 2:151فہم القرآن
ربط کلام : خوف خدا کے بغیر آدمی نعمت ہدایت نہیں پاسکتا اور ہدایت کے لیے سنت رسول اور تعلیم نبوت لازم ہے۔ یہ فرد کی اصلاح اور قوموں کی فلاح کا راستہ ہے۔ اور یہی رسول محترم ﷺ کی بعثت کا مقصد ہے۔
نبوّت کے مرکزی فرائض
(1) تلاوت آیات :
تلاوت سے مراد اللہ تعالیٰ کے ارشادات و احکامات سے لوگوں کو آگاہ کرنا ہے ‘ قرآن مجید کے ظاہری و باطنی آداب بتلانا، اس پر عمل کرنے اور اس کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ اس کی تلاوت کرنا اور تحفیظ القرآن کی ترغیب دینا ہے۔
(2) تعلیم :
تعلیم سے مراد باقاعدہ قرآن مجید کے اسراروعلوم سمجھنا ہے۔ کیونکہ آدمی کسی علم میں مہارت اور اس کے حقیقی مطالب حاصل نہیں کرسکتا جب تک متعلقہ علم کے ماہر کے سامنے زانوئے تلمذ طے نہ کرے۔ یہ تو صرف اور صرف رسول کی شان ہوا کرتی ہے کہ وہ کسی آدمی سے علم سیکھنے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے براہ راست علم اور معرفت حاصل کرتا ہے۔ لہٰذا نبی کے علاوہ ہر انسان اس بات کا محتاج ہے کہ وہ جو سیکھنا چاہتا ہے اس کے لیے متعلقہ استاد سے استفادہ کرے۔ جیسا کہ قرآن مجید نے وضاحت فرمائی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے براہ راست اپنے رب سے تعلیم پائی ورنہ آپ اس سے پہلے کچھ نہیں جانتے تھے۔ اسی کے بارے میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو وہ کچھ سکھلاتا ہے جو آپ پہلے نہیں جانتے تھے۔ جن لوگوں کا یہ دعو ٰی ہے کہ قرآن مجید کے بعد حدیث کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ وہ ایسی بات کہتے ہیں جس کی کسی زمانے میں بھی اہل عقل و فکر نے تائید نہیں فرمائی۔ کیونکہ محض کتاب کسی کے ہاتھ میں تھما دینے سے کوئی شخص ٹھیک ٹھیک اس سے استفادہ نہیں کرسکتا بیشک وہ اس کتاب کی زبان سے کتنا ہی واقف کیوں نہ ہو ؟ اس حقیقت کو جاننے کے لیے آج بھی کسی انگریزی دان کو انجینئرنگ یا طبّ کے متعلق کوئی کتاب دے کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس نے استاد کے بغیر طب اور انجینئرنگ میں کیا دسترس حاصل کی ہے اس لیے نبوت کے کار منصبی میں یہ فرض شامل ہے کہ نبی لوگوں کو باضابطہ طور پر کتاب اللہ کی تعلیم سے ہمکنار کرے تاکہ نبوت کا کام نسل در نسل چلتا رہے۔ لہٰذا رسول مقبول ﷺ نے تلاوت قرآن اور وعظ وخطاب کے ساتھ باقاعدہ طور پر مردوں کے لیے مسجد نبوی میں صفہ کے مقام پر اور خواتین کے لیے الگ تعلیم کا سلسلہ جاری فرمایا۔
” ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ایک عورت نے نبی ﷺ سے آکر کہا کہ مرد ہم سے تعلیم کی وجہ سے آگے بڑھ گئے ہیں ‘ آپ ہمارے لیے بھی کوئی دن مقرر کریں جس میں آپ ہمیں وہ کچھ سکھائیں جو اللہ نے آپ کو سکھایا آپ نے فرمایا فلاں فلاں دن جمع ہوجایا کرو۔ آپ تشریف لا کر انہیں اللہ تعالیٰ کا بتلایا ہوا علم سکھلاتے۔ “
[ رواہ البخاری : کتاب العلم، باب : ھل یجعل للنساء یوم علی حدۃ في العلم ]
” عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃُ ٗ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ “ [ مشکوۃ کتاب العلم ]
” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے “
علم کی عظمت و فضیلت :
علم وہ نعمت ہے جس سے ایک انسان ہی نہیں بلکہ حیوان بھی اپنی جنس میں ممتاز ہوجاتا ہے جیسا کہ کتے کی مثال ہے کہ اگر برتن چاٹ جائے تو اسے سات دفعہ دھونا ضروری قرار دیا گیا ہے لیکن اگر کتا سدھایا ہوا ہو تو اس کا پکڑا ہوا شکار حلال ہوتا ہے۔ (المائدۃ : 4) بیشک انسان اشرف المخلوقات ہے لیکن تعلیم کے بغیر اندھا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کا پہلا شرف علم ہی تھا جس کی وجہ سے انہوں نے ملائکہ پر برتری حاصل کی تھی۔ نبی کریم ﷺ کی نبوت کا آغاز ہی ” اِقْرَأ “ سے ہوا ہے۔ اس لیے آپ ﷺ نے اپنی امت کو زیور علم سے آراستہ کرنے کے لیے خصوصی توجہ فرمائی اور ان پڑھ قوم میں وہ علمی تحریک پیدا فرمائی کہ صحابہ کرام ؓ میں ایک شخص بھی ایسا نہ تھا جو اپنے بنیادی فرائض سے غافل اور ناواقف ہو۔ بیشک علوم میں سب سے اعلی اور دنیا وآخرت میں مفید ترین علم قرآن وسنت کا علم ہے لیکن قرآن و حدیث میں ہر اس علم کی حوصلہ افزائی پائی جاتی ہے جس سے انسانیت کو فائدہ پہنچے اس لیے آپ ﷺ علم میں اضافے کے لیے دعا کیا کرتے تھے ” رَبِّ زِدْنِیْ عِلْماً “ ” اے رب ! میرے علم میں اضافہ فرما “ اور امت کو ہدایت فرمائی کہ اگر کسی کو قرآن وسنت کا ایک فرمان بھی یاد ہو تو اس کا فرض ہے کہ وہ اسے آگے پہنچائے گویا کہ قیامت تک یہ تحریک جاری رہے اور اس طرح دیے سے دیا جلتا رہنا چاہیے۔
(عَنْ مُّعَاوِےَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ بِہٖ خَےْرًا یُّفَقِّھْہُ فِی الدِّےْنِ وَاِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَّاللّٰہُ ےُعْطِیْ ) [ رواہ البخاری : کتاب العلم، باب من یرد اللہ بہ خیرا یفقہ فی الدین ]
” حضرت معاویہ ؓ رسول اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ خیر خواہی کرنا چاہتے ہیں اسے دین کی سمجھ عنا یت فرماتے ہیں میں تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ مجھے عنایت فرمانے والا ہے۔ “
(عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا حَسَدَ اِلَّا فِی اثْنَےْنِ رَجُلٌ اٰتَاہ اللّٰہُ مَالًا فَسَلَّطَہُ عَلٰی ھَلَکَتِہٖ فِی الْحَقِّ وَرَجُلٌ اَتَاہ اللّٰہُ الْحِکْمَۃَ فَھُوَ ےَقْضِیْ بِھَا وَےُعَلِّمُھَا)
[ رواہ البخاری : کتاب الزکوۃ، باب انفاق المال فی حقہ ]
” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں رسول مکرم ﷺ نے فرمایا صرف دو آدمیوں پر رشک کرنا جائز ہے ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے مال عنایت فرمایا اور اسے نیکی کے کاموں پر خرچ کرنے کی توفیق دی، دوسرا جس کو اللہ تعالیٰ نے دانشمندی عطاکی وہ اس کی روشنی میں فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے۔ “
سلسلہ تعلیم کو آپ ﷺ کے اصحاب نے وقت کے ساتھ ساتھ اس قدر وسعت سے ہمکنار کیا کہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ نے مدارس ومساجد قائم کرنے کے ساتھ مملکت کے سول اور فوجی عہدے داران کو حکم دیا کہ وہ عوام اور فوج میں قرآن وسنت کی تعلیم کو عام کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کریں۔ اس کوشش اور توجہ کا ثمرہ تھا کہ حضرت عمر ؓ نے جب فوجی افسروں کو خط لکھا کہ حفاظ کرام کی فہرست میرے پاس بھیجو تو حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے جواب میں لکھا کہ صرف میری چھاؤنی میں تین سو حفاظ کرام موجود ہیں۔ (الفاروق)
(3) تزکیۂ نفس :
نفس مضمون اور علم کتنا ہی اہم اور اعلیٰ کیوں نہ ہو اس وقت تک اس کے مقاصد حاصل نہیں کیے جاسکتے جب تک اس کے مطابق تربیت کا انتظام نہ کیا جائے۔ تربیت کے لیے انفرادی اور اجتماعی ماحول کا ہونا ضروری ہے۔ فرد کی اصلاح کیے بغیر قوم کی اصلاح کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ تزکیہ نفس کے لیے نبی کریم ﷺ لوگوں کی انفرادی اصلاح بھی فرماتے اور اجتماعی بھی۔ تب جا کر ایک ایسی جمعیت معرض وجود میں آئی۔ جس کی مثال تاریخ میں پیش کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔
(4) حکمت :
اہل لغت اور مفسرین نے حکمت کے معانی ‘ فہم و فراست ‘ علم وحلم ‘ عدل و انصاف ‘ حقیقت اور سچائی تک پہنچنا اور دین کی سمجھ حاصل کرنا بیان کیے ہیں۔ جب کہ اکثر اہل علم نے حکمت سے مراد رسول کریم ﷺ کی سنت اور حدیث لی ہے۔ کیونکہ
آپ کی ذات اطہر پر قرآن نازل ہوا اور آپ اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق اس کی تفسیر بیان کرنے والے ہیں۔ سنت سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کے اس لفظ کا کیا معنی ہے کیونکہ آپ نے اپنے ارشاد اور عمل سے قرآن کے احکامات کا حقیقی مفہوم واضح فرمایا ہے۔ پھر آپ کی سنت اور حدیث ہی سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک فردا ورمعاشرے پر قرآن کا نفاذ کس طرح کرنا چاہیے ؟ آپ ﷺ نے ہی دنیا کو عقل و دانش سے ہمکنار فرمایا۔
رسول کریم ﷺ کا صرف یہی فرض نہیں تھا کہ آپ قرآن کی تلاوت، تبلیغ، تعلیم اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد کی حکمت کا تعیّن فرمائیں بلکہ آپ نے قرآن مجید کی روشنی میں اپنے اسوۂ مبارکہ کے ذریعے قرآن مجید کے مقصود کو لوگوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اس طرح راسخ فرمایا جس سے لوگوں کے نظریات کی تطہیر ہوئی۔ اخلاق میں نکھار اور کردار میں سنوار پیدا ہوا۔ کل کے جاہل آج قوموں کے معلّم اور راہبر بنے، ماضی میں لوٹ مار کرنے والے لوگوں کی عزت ومال کے محافظ ہوئے۔ لہٰذا کسی بھی حقیقی انقلاب اور طریقۂ حکومت کے یہی چار بنیادی اصول ہیں ‘ جن کے بغیر فرد اور معاشرے میں صحت مند اور جامع تبدیلی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ یہی اسلام کا وہ نظام تعلیم اور تزکیۂ نفس کا پروگرام ہے جس کو اختیار کرکے ہر شخص روحانی منازل طے کرسکتا ہے ‘ اس میں نہ تصور شیخ کی گنجائش ہے اور نہ قبروں کے سامنے مراقبہ کرنے اور نہ غاروں میں چلّہ کشی کی ہی ضرورت ہے۔ جن لوگوں نے تزکیۂ نفس کے مختلف طریقے ایجاد اور اختیار کیے ہیں انہوں نے سنت کے خلاف راستہ اختیار کیا ہے۔ لہٰذا کتاب وسنت میں ایسے طریقوں اور تصوف کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔
مسائل
1۔ رسول محترم ﷺ انسانوں میں سے ہی ایک انسان تھے۔ 2۔ رسول لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے احکامات سناتا ہے۔
3۔ رسول لوگوں کی تربیت و تزکیہ نفس کرتا ہے۔ 4۔ رسول تعلیم اور دانش مندی سکھاتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
نبوت کے اغراض و مقاصد :
1۔ نبوت کے منصبی فرائض۔ (البقرۃ : 151)
2۔ آپ ﷺ کو کتاب و حکمت کی تعلیم دینے کے لیے بھیجا گیا۔ (الجمعۃ : 2)
3۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں میں ان فرائض کا تذکرہ موجود ہے۔ (البقرۃ : 129)
4۔ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے بوجھ اتارنے اور غلامی سے چھڑانے کے لیے تشریف لائے۔ (الاعراف : 157)
5۔ نبوت اللہ تعالیٰ کا مومنوں پر احسان عظیم ہے۔ (آل عمران : 164)
6۔ آپ لوگوں کو خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تھے (الاحزاب : 45)
7۔ آپ کو ہدایت کا سورج بنایا گیا۔ (الاحزاب : 46)
Ayah 2:152فہم القرآن
ربط کلام : نعمتوں کے بدلے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور شکر کرنا چاہیے۔
بیت اللہ کو مرکز بنانا ‘ امّتِ مسلمہ کو پیشوائی کے منصب پر فائز کرنا، تبدیلی سے قبل کی نمازوں کا اجر عطا فرمانا، بیت اللہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دینے کے بجائے صرف اس سمت رخ کرنے کی سہولت عنایت فرمانا، نبی آخر الزماں ﷺ کی صورت میں مہربان مربیّ اور عظیم قائد عطا فرما کر حکم دیا جارہا ہے کہ ہمیشہ مجھے یاد رکھنا اور میرے شکر گزار رہتے ہوئے میرے احکام کی بجاآوری کرتے رہنا کسی کا خیال اور خوف دل میں ہرگز نہ لانا تاکہ تمہیں ہدایت کے راستے پر استقامت اور مزید رہنمائی سے نوازا جائے۔
ذکر کی اہمیّت
ذکر کی جامع تعریف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی بجا آوری کے ساتھ اس کی ذات اور صفات پر کامل یقین رکھتے ہوئے اسے دل اور زبان کے ساتھ یاد رکھا جائے۔ تمام عبادات ذکر ہی کی مختلف شکلیں ہیں۔ لیکن ان کی ادائیگی کے بعد بھی حکم دیا گیا ہے کہ اپنے رب کو کثرت کے ساتھ یاد رکھاکرو ‘ جب تم نماز پوری کرلو تو اٹھتے ‘ بیٹھتے اور لیٹتے وقت اللہ کو یاد کیا کرو۔
(فَإِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ قِیَامًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِکُمْج) [ النساء : 103]
” جب تم نماز ادا کر چکو تو کھڑے بیٹھے اور پہلوؤں پر اللہ کا ذکر کرو۔ “
ذکر کی مختلف صورتیں :
(اِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَاف بالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَرَمْیُ الْجِمَارِ لِاِقَامَۃِ ذِکْرِ اللّٰہِ )
[ رواہ أبو داوٗد : کتاب المناسک ‘ باب فی الرمل ]
” یقیناً ! بیت اللہ کا طواف ‘ صفا ومروہ کی سعی اور شیاطین کو کنکریاں مارنا اللہ کا ذکر بلند کرنے کے لیے مقرر کیے گئے۔ “
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی أَنَا مَعَ عَبْدِيْ حَیْثُمَا ذَکَرَنِيْ وَتَحَرَّکَتْ بِيْ شَفَتَاہُ ) [ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ لاتحرک بہ لسانک الخ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں ‘ وہ جہاں کہیں بھی میرا ذکر کرے اور اس کے ہونٹ میرے ذکر میں حرکت کریں۔ “
فضیلت شکر
یہاں شکر کے مقابلے میں کفر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جس کا معنیٰ ہے ناشکری اور ناقدری کرنا۔ گویا اللہ تعالیٰ کے احسانات اور نعمتوں کی ناقدری کرنے والا بالفعل کفر ہی کا ارتکاب کرتا ہے۔ شرف انسانیت کا تقاضا ہے کہ آدمی ہر حال میں اپنے رب کا شکر گزار بننے کی کوشش کرے۔
شکر رب سے مانگنے کا سلیقہ اور زوال نعمت سے محفوظ رہنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مزید عنایات کا دروازہ کھولتا ہے۔ انسان شکر تبھی ادا کرتا ہے جب اس کے دل میں اپنے رب کی نعمتوں اور احسانات کا شعور اور احساس پیدا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دین کے کسی عمل کے بارے میں بیک وقت یہ نہیں فرمایا کہ اس کے کرنے سے تم عذاب سے محفوظ اور مزیدملنے کے حق دار بن جاؤ گے۔ صرف شکر ہی ایک ایسا عمل ہے جس کے بارے میں واضح طور پر فرمایا ہے : کہ تمہیں عذاب سے محفوظ رکھنے کے ساتھ مزید عنایات سے نوازا جائے گا۔ اس دوہرے انعام کی وجہ سے شیطان نے سر کشی اور بغاوت کی حدود پھاندتے ہوئے کہا تھا : (وَلَا تَجِدُ اَکْثَرَھُمْ شَاکِرِیْنَ ) [ الأعراف : 17] ” اے رب تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا۔ “
رسول گرامی ﷺ نے معاذ بن جبل ؓ کو یہ دعا سکھلائی کہ اسے ہر نماز کے بعد پڑھا جائے۔
(أَللّٰھُمَّ أَعِنِّيْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ )
[ رواہ أبوداوٗد : کتاب الصلاۃ، باب فی الإستغفار ]
” الٰہی ! اپنے ذکر، شکر اور بہترین طریقے سے عبادت پر میری مدد فرما۔ “
مسائل
1۔ ذکر کرنے والے کو اللہ تعالیٰ ہر حال میں یاد رکھتا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ کا ہر دم شکریہ ادا کرتے رہنا چاہئے۔
3۔ ناشکری کفر کے مترادف ہے۔
تفسیر بالقرآن
شکر کی فضیلت :
1۔ اللہ تعالیٰ شکر گزار بندوں کا قدر دان ہے۔ (النساء : 147)
2۔ شیطان کا مقصد انسان کو ناشکرا بنانا ہے۔ (الاعراف : 17)
3۔ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے تھوڑے ہی ہوا کرتے ہیں۔ (سبا : 13)
4۔ اللہ تعالیٰ نے آنکھ ‘ کان اور دل اس لیے دیئے ہیں کہ اس کا شکر ادا کیا جائے۔ (السجدۃ : 9)
5۔ شکر ادا کرنے والے کو مزید عطا کیا جاتا ہے۔ (ابراہیم : 7)
Ayah 2:153فہم القرآن
ربط کلام : ذکر اور شکر کی بہترین صورت نماز ہے۔ شکر سے اعراض اور نماز کا انکار کفر ہے۔ اگلی آیات میں شہادت اور مختلف قسم کی آزمائشوں کا آنا یقینی فرمایا ہے۔ لہٰذا آزمائشوں اور کفار کے پروپیگنڈہ سے گھبرانے کے بجائے پہلے نماز اور صبر کے ذریعے مدد مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔
صبر ایک ایسی اخلاقی قدر اور قوت ہے جو انسان کی منفی قوتوں پر کنٹرول اور مثبت صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے ساتھ ان صلاحیتوں میں اضافہ بھی کرتی ہے۔ قرآن مجید نے صبر کا یہی معنی متعین فرمایا ہے۔ جناب موسیٰ (علیہ السلام) کی حضرت خضر (علیہ السلام) کے ساتھ گفتگو کے ضمن میں کئی بار یہ لفظ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت خضر (علیہ السلام) کے ساتھ کچھ معاملات کی حکمت جاننے کے لیے ان کے ہمسفر ہوئے تو انہوں نے کئی بار فرمایا کہ جناب موسیٰ ! آپ میرے معاملات پر حوصلہ نہیں کر پائیں گے۔ کلیم اللہ نے کہا کہ میں ہر ممکن کوشش کروں گا کہ میرے صبر کے بندھن ٹوٹنے نہ پائیں۔ گویا کہ صبر کا معنیٰ ہے اپنے آپ پر قابورکھنا اور مشکل کے وقت استقامت اختیار کرنا۔ تو اس طرح صبر اور استقامت کا تعلق آپس میں چولی دامن کا تعلق بنتا ہے۔ غریب آدمی صبر کا دامن چھوڑ دے تو وہ خود کشی کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ جو ان کے اندر صبر کی قوت کمزور ہوجائے تو اس سے بےحیائی کی ایسی حرکات ثابت ہوتی ہیں کہ ساری زندگی اسے پچھتاوا رہتا ہے۔ صاحب اقتدار آدمی صبر سے تہی دامن ہو تو وہ اپنے وقت کا فرعون ثابت ہوتا ہے۔ اس کے برعکس یہی لوگ صبر و حوصلہ کا مظاہرہ کریں تو زندگی ان کے لیے آسان ہوجاتی ہے۔ بہادر اور بااختیار شخص حوصلہ سے کام لے تو کمزوروں کے لیے اللہ کی رحمت ثابت ہوتا ہے۔ قرآن مجید نے زندگی کے ہر موڑ پر صبر وحوصلے کا حکم دیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی دستگیری کی خوشخبری دی ہے۔ صبر کے لیے آپ ﷺ کو یوں مخاطب کیا گیا :
(وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَاھْجُرْھُمْ ھَجْرًا جَمِیْلًا) [ المزمل : 10]
” لوگوں کی دل آزار باتوں پر صبر کرتے ہوئے انہیں اچھے انداز سے چھوڑ دیجیے۔ “
(وَلَءِنْ صَبَرْتُمْ لَھُوَ خَیْرٌ لِّلصَّابِرِیْنَ ) [ النحل : 126]
” صبر کا رویّہ اختیار کرو یہ بہترین انجام کی ضمانت ہے۔ “
(اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَہُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ ) [ الزمر : 10]
” صبر کرنے والوں کو ہی بغیر حساب کے پورا پورا اجر دیا جائے گا۔ “
یہاں اللہ تعالیٰ کی نصرت و حمایت کے حصول کے لیے دوسرا مؤثر ذریعہ نماز قرار دی گئی ہے۔ اگر آدمی نماز کو صحیح انداز میں ادا کرتے ہوئے یہ تصور قائم کرلے کہ میں مشفق و مہربان آقا کے حضور درخواست گزارہوں اور وہی میری روح کے کرب کو جانتا اور میرے دکھوں کا مداوا کرسکتا ہے تو انسان کا غم فوری طور پر ہلکا ہوجاتا ہے۔ اسی بنا پر رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے : مجھے نماز میں سکون ملتا ہے اور آپ ہر مشکل وقت مصلّے کی طرف لوٹا کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی زندگی کے نازک مراحل میں نماز کے ذریعے ہی اللہ تعالیٰ کی نصرت و حمایت طلب کیا کرتے تھے۔
(1) (جُعِلَتْ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃِ )[ رواہ النسائی : کتاب عشرۃ النساء، باب حب النساء ]
” نماز میں میری آنکھوں کے لیے ٹھنڈک ہے۔ “
(2) (یَابِلَالُ ! اَرِحْنَا بالصَّلَاۃِ ) [ مسند أحمد : کتاب باقی مسند الانصار، باب أحادیث رجال من أصحاب النبی ﷺ ]
” اے بلال ! نماز کے ذریعے ہمیں سکون پہنچاؤ۔ “
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور نماز
(3) (فَلَمَّا دَخَلَ أَرْضَہٗ رَاٰھَا بَعْضُ أَھْلِ الْجَبَّارِ أَتَاہُ فَقَالَ لَہٗ لَقَدْ قَدِمَتْ أَرْضَکَ امْرَأَۃٌ لَا یَنْبَغِیْ لَھَا أَنْ تَکُوْنَ إِلَّا لَکَ فَأَرْسَلَ إِلَیْھَا فَأُتِیَ بِھَا فَقَامَ إِبْرَاھِیْمُ إِلَی الصَّلَاۃِ فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَیْہِ لَمْ یَتَمَالَکْ أَنْ بَسَطَ یَدَہٗ إِلَیْھَا قُبِضَتْ یَدُہٗ قَبْضَۃً شَدِیْدَۃً فَقَالَ لَھَا ادْعِی اللّٰہَ أَنْ یُطْلِقَ یَدِیْ وَلَا اَضُرُّکِ فَفَعَلَتْ فَعَادَ فُقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنَ الْقَبْضَۃِ الْأُوْلٰٰی فَقَالَ لَھَا مِثْلَ ذٰلِکَ فَفَعَلَتْ فَعَادَ فَقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنَ الْقَبْضَتَیْنِ الْأُوْلَیَیْنِ فَقَالَ ادْعِی اللّٰہَ أَنْ یُطْلِقَ یَدِیْ فَلَکِ اللّٰہُ أَنْ لَّاأَضُرَّکِ فَفَعَلَتْ وَأُطْلِقَتْ یَدُہٗ وَدَعَا الَّذِیْ جَاءَ بِھَا فَقَالَ لَہٗ إِنَّکَ إِنَّمَا أَتَیْتَنِیْ بِشَیْطَانٍ وَلَمْ تَأْتِنِیْ بِإِنْسَانٍ فَأَخْرِجْھَا مِنْ أَرْضِیْ وَأَعْطِھَا ھَاجَرَ قَالَ فَأَقْبَلَتْ تَمْشِیْ فَلَمَّا رَاٰھَا إِبْرَاہِیْمُ ( علیہ السلام) انْصَرَفَ فَقَالَ لَھَا مَیْھَمْ قَالَتْ خَیْرًا کَفَّ اللّٰہُ یَدَ الْفَاجِرِوَأَخْدَمَ خَادِمًا)
[ رواہ مسلم : کتاب الفضائل، باب من فضائل إبراھیم الخلیل (علیہ السلام) ]
” جب ابراہیم اس جابر بادشاہ کی سرزمین میں داخل ہوئے تو بادشاہ کے کارندے نے انہیں دیکھ کر بادشاہ سے کہا کہ آپ کے علاقے میں ایک عورت آئی ہے جو صرف آپ کے پاس ہی ہونی چاہیے۔ بادشاہ نے اپنا اہلکار بھیج کر اسے منگوایاتو ابراہیم (علیہ السلام) نے نماز شروع کردی۔ حضرت سارہ[ جب اس کے پاس گئیں تو اس نے ان کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا لیکن بادشاہ کا ہاتھ سختی سے پکڑ لیا گیا۔ اس نے حضرت سارہ[ سے کہا کہ : اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ میرا ہاتھ چھوڑ دیا جائے۔ میں دوبارہ یہ حرکت نہیں کروں گا۔ ہاتھ چھوڑدیا گیا تو اس نے دوبارہ دست درازی کی کوشش کی لیکن ہاتھ پہلے سے زیادہ سختی سے پکڑ لیا گیا۔ پھر اس نے ہاتھ چھڑانے کے لیے اللہ سے دعا کروائی اور وعدہ کیا کہ اب ایسے نہ کروں گا تو ہاتھ چھوڑ دیا گیا۔ تیسری دفعہ پھر اس نے ہاتھ بڑھایا تو ہاتھ پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ پکڑ لیا گیا۔ اب پھر اس نے حضرت سارہ[ سے دعا کے لیے کہا کہ اللہ کی قسم ! میرا ہاتھ چھوٹ جائے تو میں تیرے ساتھ زیادتی نہیں کروں گا۔ حضرت سارہ[ کی دعا پر ہاتھ چھوڑ دیا گیا۔ بادشاہ نے اس اہلکار کو بلاکر کہا کہ : تو میرے پاس انسان کے بجائے کوئی شیطان لے آیا ہے۔ اسے میری سرزمین سے جانے دیجیے اور اسے ہاجرہ بھی ساتھ دے دیجیے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب سارہ[ کو آتے ہوئے دیکھا تو نماز کے بعد خیریت پوچھی۔ انہوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس فاجر کے ہاتھوں کو روک لیا اور میں سلامت رہی، اس نے ایک خادمہ خدمت کے لیے مجھے دی ہے۔ “
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْمُؤْمِنُ الَّذِيْ یُخَالِطُ النَّاسَ وَیَصْبِرُ عَلٰی أَذَاھُمْ أَعْظَمُ أَجْرًا مِّنَ الْمُؤْمِنِ الَّذِیْ لَایُخَالِطُ النَّاسَ وَلَا یَصْبِرُ عَلٰی أَذَاھُمْ ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الفتن، باب الصبر علی البلاء ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : جو مومن لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے وہ اس مومن سے زیادہ اجر والا ہے جو نہ لوگوں میں گھل مل کر رہتا ہے اور نہ ان کی دی ہوئی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے۔ “
مسائل
1۔ صبر اور نماز کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنا چاہیے۔
2۔ اللہ تعالیٰ مستقل مزاج اور صبر کرنے والوں کی دستگیری فرماتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
صبر کی اہمیت اور اجر :
ا۔ صبر اہم کاموں میں اہم ترین کام ہے۔ (الاحقاف : 35)
2۔ نبی ﷺ کو صبر کا حکم دیا گیا۔ (المعارج : 5)
3۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 153)
4۔ صبر کا انجام اچھا ہوتا ہے۔ (الحجرات : 5)
5۔ صبر کرنے والے کامیاب ہوں گے۔ (المومنون : 111)
6۔ مسلمان صابر کی آخرت اچھی ہوگی۔ (الرعد : 24)
7۔ صبر کرنے والوں کو جنت میں سلامتی کی دعائیں دی جائیں گی۔ (الفرقان : 75)
8۔ صابر بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے۔ (الزمر : 10)
Ayah 2:154فہم القرآن
ربط کلام : شہادت کے وقت صبر کرنا کیونکہ یہ فوت ہونے والے اور لواحقین کے لیے بہت بڑی آزمائش ہوتی ہے۔
شہداء کے مرتبہ ومقام، ان کے عظیم اور مقدس مشن کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کے نام کو عزت و تکریم دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ جن لوگوں نے میرے راستے میں اپنے جسم کے ٹکڑے کروائے اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ان کو مردہ شمار کرنے کے بجائے زندہ وجاوید تصور کیا جائے۔ بظاہر ان کے گرامی قدر وجود دنیائے فانی سے دار جاودانی میں منتقل ہوچکے ہیں۔ لیکن وہ اپنی بےمثال غیرت ایمانی اور قربانی کی وجہ سے اپنی قوم اور معاشرے میں یاد رکھے جائیں گے۔ کیونکہ ان کی موت سے قوم میں زندگی کا نیا جذبہ، جوش اور ولولۂ ایمان پیدا ہوتا ہے۔ جس سے یہ محاورہ زبان زد عام ہوا ” شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے “ یہ جوانمرد اپنی جانیں نچھاور کرکے قوم کی عزت، بہوبیٹیوں کی عفت، ملک کی حفاظت اور اسلام کی عظمت کے رکھوالے ثابت ہوئے ہیں۔ ایسے جانفروشوں، فداکاروں اور جرأت وبہادری کی داستانیں رقم کرنے والوں کو غیرت خدا وندی گوارا نہیں کرتی کہ انہیں مردہ کے لفظ سے پکارا جائے۔ بلکہ ان کا نام اور کام نسلوں تک باقی رہتا ہے۔ تاریخ کے اوراق میں ان کے نام اور کام کی ہر وقت زیارت کی جاسکتی ہے۔ شہدائے بدر و احد سے لے کر آج تک شہید ہونے والے خوش بختوں کے جب بھی نام لیے جاتے ہیں تو دل میں احترام ومقام تازہ ہونے کے ساتھ ان کی عظیم شہادت کی وجہ سے آدمی کا خون کھول اٹھتا ہے۔ مسلمان چشم تصور میں تاریخ کا مطالعہ کرتا ہے تو رات کی تاریکی میں بستر پر لیٹے ہونے کے باوجود اس کا دل میدان کارزار میں پہنچنے کے لیے تڑپ اٹھتا ہے۔ یہی وہ سرمایۂ حیات ہے جس بنا پر انہیں مردہ کہنے کی بجائے شہید کے عظیم اور مقدس لقب سے ملقب فرمایا گیا ہے۔ جہاں تک دنیاوی زندگی کا معاملہ ہے وہ اس طرح ہی اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں جس طرح طبعی موت سے آدمی اس دنیا سے دار آخرت کی طرف رخت سفر باندھتا ہے۔ اسی وجہ سے شہداء کی بیوگان کو آگے نکاح کرنے کی اجازت اور ان کی وراثت اسلامی قانون وراثت کے تحت ہی تقسیم ہوا کرتی ہے۔ اس بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح کیا ہے کہ ان کی زندگی کے بارے میں خود ساختہ تصورات اور کسی قسم کی قیل وقال سے پرہیز کرنا چاہیے۔ جہاں تک عالم برزخ میں جسد خاکی کی بقا کا معاملہ ہے تو انبیائے عظام کے اجسام مطہرہ کے بارے میں گارنٹی موجود ہے ‘ رسول اللہ ﷺ کا ارشادِگرامی ہے : (إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ حَرَّ مَ عَلَی الْأَرْضِ أَنْ تَأْکُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِیَاءِ ) [ رواہ أبو داوٗد : کتاب الصلوۃ، باب فصل یوم الجمعۃ ولیلۃ الجمعۃ ]” یقینًا اللہ عزوجل نے زمین پر انبیاء کا جسم کھانا حرام کردیا ہے۔ “
شہداء کے جسد خاکی کے بارے میں قرآن و حدیث میں کوئی مستقل ضابطہ موجود نہیں۔ البتہ جس کے لیے اللہ چاہے اس کے وجود کو سلامت رکھتا ہے۔ جس کی تاریخ میں کئی مثالیں موجود ہیں۔ اس حقیقت کے باوجود بعض لوگوں نے اپنے فرسودہ عقائد کو تقویت اور دنیاوی مفادات کے تحفظ کے لیے ان کی حیات اخروی کو دنیا کی زندگانی سے مماثل کرنے کی بےمعنی کوشش کی ہے۔ جن میں عصر حاضر کے ایک مفسر تفسیر مظہری کے حوالے سے یوں رقمطراز ہیں : قلت بل معیۃ غیر متکیفۃ یتضح علی العارفین۔ یعنی اس سنگت سے وہ خاص سنگت مراد ہے جس کی کیفیت بیان نہیں ہوسکتی۔ صرف عارف ہی اس کو سمجھ سکتے ہیں۔ (ضیاء القرآن)
رسول اللہ ﷺ نے شہید کی زندگی کے بارے میں یوں فرمایا :
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِجَابِرٍ یَاجَابِرُ أَلَاأُبَشِّرُکَ قَالَ بَلٰی بَشِّرْنِيْ بَشَّرَکَ اللّٰہُ بالْخَیْرِ قَالَ أَشَعَرْتَ أَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ أَحْیَاأَبَاکَ فَأَقْعَدَہٗ بَیْنَ یَدَیْہِ فَقَالَ تَمَنَّ عَلَيَّ عَبْدِيْ مَاشِءْتَ أُعْطِکَہٗ فَقَالَ یَارَبِّ مَاعَبَدْتُّکَ حَقَّ عِبَادَتِکَ أَتَمَنّٰيْ عَلَیْکَ أَنْ تَرُدَّنِيْ إِلَی الدُّنْیَا فَأُقَاتِلُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ مَرَّۃً أُخْرٰی فَقَالَ سَبَقَ مِنِّيْ إِنَّکَ إِلَیْھَا لَاتَرْجِعُ ) [ المستدرک علی الصحیحین : 3/223]
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابر ؓ سے فرمایا جابر ! کیا میں تجھے بشارت نہ دوں ؟ انہوں نے عرض کی کیوں نہیں ! اللہ آپ کو بہتری اور خیر کی بشارت دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تجھے معلوم ہے کہ اللہ نے تمہارے والد کو زندہ کرکے اپنے سامنے بٹھاکر فرمایا کہ میرے بندے تو جو چاہتا ہے مجھ سے تمنا کر میں تجھے عطا کروں گا۔ انہوں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! میں نے تیری عبادت کا حق ادا نہیں کیا میں تمنا کرتا ہوں کہ آپ مجھے دنیا میں بھیج دیں تاکہ میں نبی ﷺ کے ساتھ مل کر قتال کروں اور پھر تیری راہ میں شہید ہوں اللہ تعالیٰ نے جوابًا فرمایا : میرا فیصلہ ہوچکا ہے کہ تو دنیا میں دوبارہ نہیں جائے گا۔ “
مسائل
1۔ شہداء کو مردہ نہیں کہنا چاہیے۔ 2۔ شہداء کی زندگی ہمارے علم سے باہر ہے۔
تفسیر بالقرآن
شہداء کا مقام و زندگی :
1۔ اللہ کے راستے میں شہید ہونے والے زندہ ہیں۔ (البقرۃ : 154)
2۔ شہداء اللہ کے ہاں رزق پاتے ہیں۔ (آل عمران : 169)
3۔ شہداء اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر راضی ہیں۔ (آل عمران : 170)
4۔ شہداء اپنے لواحقین کو خوشخبری کا پیغام دیتے ہیں۔ (آل عمران : 170)
Ayahs 2:155–156فہم القرآن
ربط کلام : غم اور آزمائش کی مختلف صورتیں۔
اسلام کے اوصاف حمیدہ میں یہ وصف بھی شامل ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو کسی مبالغہ آمیزی اور خوش فہمی کا شکار نہیں ہونے دیتا کہ جو نہی تم اپنی زبان سے کلمہ ادا کرو گے تو بہاریں لوٹنے کے ساتھ ہر قسم کی کامیابیاں تمہارے دامن میں سمٹ آئیں گی۔ اسلام اور کسی نظریے کی تاریخ بھی اس بات کی تائید نہیں کرتی کہ جو نہی کسی نے اسے قبول کیا تو ان کے لیے نعمتوں اور سہولتوں کے دروازے کھل گئے ہوں۔ اس کے برعکس یہ ہوا کرتا ہے کہ تحریک کے ابتدائی معاون بیش بہا قربانیاں پیش کیا کرتے ہیں۔ اگر یہ لوگ اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے صبر و استقامت کا مظاہرہ کریں تو ایک وقت آیا کرتا ہے کہ اسی یا آئندہ نسل کے لیے دنیا میں آسانیوں کے راستے ہموار ہوجایا کرتے ہیں۔ شدید کشمکش اور قربانیوں سے پہلے ان سہولتوں کا تصور کرنا خوش فہمیوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ ایسی ہی صورت حال کے پیش نظر یہاں تحویل قبلہ کے احکامات کے دوران شہادتوں اور آزمائشوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ ترک وطن اور جانی قربانیوں کے ساتھ دشمن کا خوف، غربت و افلاس، مال و دولت کی کمی، اعزاء و اقرباء کی جدائی، موت کی صورت میں ہو یا ہجرت کی شکل میں اور اناج کی کمی سے تمہیں آزمایا جائے گا۔ یہاں پہلے شہادت کا ذکر فرما کر یہ تصوّر دیا کہ اللہ کے بندے جان کی پروا نہیں کرتے لہٰذا ان کے لیے دنیا کا مال ومتاع کیا حیثیت رکھتا ہے گویا کہ بڑی آزمائشوں سے گزرنے والے چھوٹی چھوٹی آزمائشوں سے نہیں گھبرایا کرتے۔ صحابہ کرام ؓ کو فتح مکہ تک پے درپے تمام امتحانات اور آزمائشوں سے گزارا گیا اور وہ ہر امتحان میں سرخرو ہوئے تب جا کر ان کے لیے کامیابیوں کے دروازے کھول دیئے گئے۔ آزمائش زندگی کا جز ولاینفک ہے ‘ بالخصوص دین اسلام کی سر بلندی کے لیے یہ اس قدر اہم اور ضروری ہے کہ اس کے لیے دو حرف تاکید استعمال کیے گئے ہیں۔ عربی کے طلبہ جانتے ہیں کہ جب بیک وقت لام مفتوح اور تشدید کے ساتھ نون آئے تو یہ تاکید مزید کا پتہ دیتے ہیں۔ جس کا مفہوم یہ ہوا کہ آزمائش کے کربناک مراحل سے تمہیں ہر حال میں گزرنا ہوگا۔ اسی بات کو قرآن مجید نے دوسرے انداز اور الفاظ میں یوں بیان فرمایا ہے :
” کیا لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ” اٰمَنَّا “ کہہ کر انہیں چھوڑ دیا جائے گا اور آزمائش میں مبتلا نہ کیے جائیں گے ؟ ہم نے ان سے پہلوں کو بھی آزمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ سچوں اور جھوٹوں کو ضرور دیکھ لے گا۔ “ [ العنکبوت : 2، 3]
یاد رکھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش مومن کو ذلیل کرنے کے لیے نہیں آتی بلکہ آزمائش انسان کی خوابیدہ صلاحیتیں ابھارنے اور آخرت میں اس کے مراتب میں اضافہ کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ دنیا میں مجرموں کے لیے مثال بنتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو کر بھی اپنے رب کے احسان مند اور شکر گزار بننے کے لیے تیار نہیں ہو جب کہ اس کے بندے نعمتیں چھنوا کر بھی اس کے حضور صبروشکر کا مظاہرہ کیے ہوئے ہیں۔ رسول کریم ﷺ کو فرمایا گیا ہے کہ آپ ایسے صبر و حوصلہ کرنے والوں کو دنیا اور آخرت میں مسرت و شادمانی کا پیغام دیجیے۔ کیونکہ یہ آزمائش کے وقت سر پیٹنے اور واویلا کرنے کے بجائے یہ کہہ کر اپنے آپ کو مطمئن اور حوصلہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ چھننے والی نعمت کیا چیز ہے ہماری جان عزیز بھی رب کریم کی امانت ہے۔ یہ نعمت تو آج مجھ سے رخصت ہورہی ہے جب کہ مقررہ وقت پر میں نے بھی اسی کے حضور لوٹنا ہے۔ صبر وہ نیکی ہے کہ آدمی کو جب بھی سابقہ تکلیف یاد آئے اور اس پر ” اِنَّا لِلّٰہِ “ کے الفاظ ادا کرے۔ اس کو پہلے کی طرح اجرِعظیم سے نوازاجائے گا۔ [ رواہ مسلم : کتاب الجنائز، باب مایقال عند المصیبۃ ]
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو خوف، غربت، مال کی کمی، پیاروں کی موت اور رزق کی قلّت کے ساتھ آزماتا ہے۔
2۔ مصائب پر صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ خوشخبری کا پیغام دیتا ہے۔
3۔ مصیبت کے وقت ” اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ “ پڑھنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
آزمائش :
1۔ ایمان کے لیے آزمائش شرط ہے۔ (العنکبوت : 2)
2۔ اللہ نے پہلے لوگوں کو بھی آزمایا۔ (البقرۃ : 214)
3۔ آزمائش میں ثابت قدمی کے بعد اللہ کی مدد یقینی اور قریب ہوا کرتی ہے۔ (البقرۃ : 214)
4۔ جنت میں داخلے کے لیے آزمائش ضرور ہوتی ہے۔ (آل عمران : 142)
Ayah 2:157فہم القرآن
ربط کلام : صبروشکر اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے ‘ مشکل وقت میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنیوالے اور مصائب میں جزع ‘ فزع کرنے کی بجائے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھنے والے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور ہدایت کے حق دار ٹھہرتے ہیں۔
صبر کا معنی ہے کہ آدمی مصیبت کے وقت اپنے آپ پر قابو پائے اور ہر حال میں اپنے آپ کو شریعت کا پابند رکھے۔ جب کوئی اپنے آپ کو رب کی رضا اور اس کے احکام کے تابع رکھ کر آزمائش میں ثابت قدم رہتا ہے تو اس کے صلہ میں وہ رب کی رحمت اور عنایات کا حق دار ٹھہرتا ہے۔ اللہ کی رحمت و عنایات کے مستحق لوگ ہی ہدایت یافتہ قرار پاتے ہیں۔ کیونکہ اس فرمان سے قبل نعمتوں کا چھن جانا، جگر گوشوں کی جدائی اور آزمائشوں سے دوچار ہونا یقینی امر قرار دیا ہے۔ ان کی تلافی اور مومنوں کی تسلی کے لیے صلوات اور رحمت کے نزول کا اطمینان دلایا جارہا ہے۔ عنایات سے مرادیہاں چھن جانے والی نعمتوں اور سہولتوں کی تلافی ہوگی اور رحمت سے نعمتوں میں استقرار اور ان کی وسعتوں میں اضافہ ہوگا۔ رب کریم کی رحمت سے سوکھی ہوئی کھیتیاں سرسبز و شاداب، ویران بستیاں آباد و بارونق، پریشان و پشیمان دل ایقان و اطمینان کا گہوارہ اور گناہوں سے آلودہ دامن پاک و شفاف ہوجاتے ہیں۔ یہ اس کی رحمت ہی تو تھی جس نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو دوبارہ اولاد، مال اور صحت و تندرستی سے نوازا تھا۔ اس بےپایاں رحمت و عنایات کا ہی صلہ تھا کہ صحابہ کرام ؓ نے جھونپڑیاں چھوڑیں اور مکانات کے مالک بنے، معمولی مال چھوڑا تو اس کے بدلے میں دولت کے انبار نصیب ہوئے، دین کی خاطر دنیا کی نظر میں عارضی طور پر خفت اٹھانی پڑی تو اس کے بدلے میں عزت و عظمت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے۔ مکہ چھوڑا تو دنیا کے حکمران قرار پائے۔ دنیا و آخرت کی نعمتیں، سہولتیں، عزتیں اور رفعتیں اللہ کی رحمت کا پر تو ہیں۔ اسی بنا پر سرور دوعالم ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے :
(اَللّٰھُمَّ رَحْمَتَکَ اَرْجُوْ فَلَا تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ وَّاَصْلِحْ لِیْ شَأْنِیْ کُلَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ )
[ رواہ أبوداوٗد : کتاب الأدب، باب مایقول إذا أصبح ]
” اے اللہ ! میں تیری رحمت کا امید وار ہوں مجھے لمحہ بھر بھی میرے نفس کے سپرد نہ کرنا، میرے تمام کاموں کو سنوارنا ‘ تیرے سوا کوئی معبودِ حق نہیں۔ “
مسائل
1۔ صاحب ایمان، مستقل مزاج اور صابر لوگوں پر اللہ کا فضل و کرم اور ان کو مزید ہدایت سے نوازا جاتا ہے۔
Ayah 2:158فہم القرآن
ربط کلام : پارے کی ابتدا سے تحویل قبلہ کا بیان ہورہا ہے۔ اس دوران زندگی میں پیش آنے والی مشکلات پر ثابت قدم رہنے والوں کو خوشخبری سنائی گئی۔ اب صفا ومروہ کی سعی کے حوالے سے گذشتہ مضمون سے پیوستہ کردیا گیا ہے۔
اسلام سے قبل اہل مکہ کے چار بڑے بت تھے جنّ میں سے ہبل کو بیت اللہ میں رکھا گیا اور مناۃ بحر احمر کے کنارے اور لات کو شہر طائف میں رکھا گیا۔ جب کہ عزی کو وادئ نخلہ میں نصب کیا گیا تھا۔ صفا اور مروہ کی دو مقدس پہاڑیوں پر اسااور نائلہ کے بت رکھے گئے تھے۔ اہل مکہ چونکہ اساف اور نائلہ کو خدائی اوتار تسلیم نہیں کرتے تھے ‘ جس کی وجہ سے مناۃ کے ماننے والے صفا اور مروہ کی سعی سے گریز کرتے تھے۔ دین اسلام کی آمد پر مسلمانوں کے دلوں میں یہ وہم پیدا ہوا کہ کہیں صفا اور مروہ کی سعی شرک کے زمرہ میں تو نہیں آتی ؟ اس تصور کی نفی کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اے مسلمانو ! انشراح صدر کے ساتھ صفا اور مروہ کی سعی کیا کرو کیونکہ یہ دونوں شعائر اللہ میں شامل ہیں۔ ان کے درمیان کی جانے والی سعی کا شرکیہ اعمال کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ یہ تو تمہاری والدۂ ماجدہ حضرت ہاجرہ کے توکل عَلَی اللّٰہِ اور بےبسی کے عالم میں ان کے گھومنے کا مقام اور ترجمان ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت سے نوازتے ہوئے شعائر اللہ میں سے شمار فرمایا ہے۔
” شَعَاءِرْ “ شعار کی جمع ہے جس کا معنی ہے کہ ایسی جگہ یا نشانی جس سے اللہ تعالیٰ کی طرف انسان کی راہنمائی ہوتی ہو۔ اس لیے شعائر اللہ کی تعظیم کرنا درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ذات کا احترام کرنا اور اس کا تقو ٰی قرار پایا ہے۔ لہٰذا ان کی سعی میں کوئی حرج کی بات نہیں۔ یا در کھیے ! جو شخص بھی دل کی گہرائی کے ساتھ نیکی کرے گا ‘ اللہ تعالیٰ اس کی نیکی کو جاننے اور اس کی قدر افزائی فرمانے والا ہے۔
دنیا میں بڑے بڑے پہاڑ اپنی بلندی اور فلک بوسی کے اعتبار سے مشہور ہیں ‘ ان میں مر مر اور یاقوت وعقیق بھی پائے جاتے ہیں ‘ صفا اور مروہ بظاہر معمولی پہاڑیاں ہیں مگر احترام واکرام اور نیکی کے اعتبار سے اپنے دامن میں ایک تاریخی پس منظر اور شعائر اللہ کا تقدس لیے ہوئے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے حضرت ہاجرہ [ کو یہاں چھوڑ کر جانے لگے تو انہوں نے عرض کیا کہ میرے سرتاج مجھ سے کوئی گستاخی ہوئی ہے یا اللہ کا حکم اس طرح ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : کہ اللہ کا حکم سمجھ کر اسے تسلیم کیجیے۔ تب حضرت ہاجرہ [ عرض کرتی ہیں کہ آپ مطمئن ہو کر تشریف لے جائیں : اِذًا لَا یُضَیِّعَنَا اللّٰہُ ” پھر ہمیں اللہ تعالیٰ ضائع نہیں ہونے دے گا۔ “
[ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہِ تعالیٰ واتخذ اللّٰہُ إبراھیم خلیلا ]
غور فرمائیں ! میلوں پھیلے ہوئے فلک بوس پہاڑ، بےآب وگیاہ سنگلاخ زمین اور دوردور تک انسانی زندگی کے لیے ضروری اسباب و وسائل کا فقدان ہونے کے باوجود کائنات کی عظیم ترین خاتون نے ایک ایسا جملہ ادا فرمایا جو اپنے اندر زمین و آسمان کی وسعتیں اور پہاڑوں سے زیادہ وزن لیے ہوئے ہے۔ اسی عقیدہ کی یاد دہانی اور مشکل ترین حالات میں اللہ پر توکل کرنے اور آزمائش میں ثابت قدمی کا سبق یاد دلانے کے لیے صفا ومروہ کی سعی کا حکم دیا گیا ہے۔
قرآن مجید نے صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنے کو طواف سے تعبیر فرمایا ہے۔ لیکن حدیث رسول میں اس کے لیے سعی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ تاکہ طواف سے لوگوں کو یہ غلط فہمی نہ پید اہو جائے کہ صفا سے صفا تک ایک چکر بنتا ہے۔ بلکہ آپ نے صفا سے مروہ تک ایک جانب کو ایک چکر شمار کیا ہے اس طرح یہ سعی مروہ پر مکمل ہوتی ہے۔ آپ صفا پر چڑھ کر یہ کلمات ادا کیا کرتے تھے۔
(إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآءِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِاعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَإِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ عَلِیْمٌ) [ البقرۃ : 158]
” بلاشبہ صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں چناچہ جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر صفا مروہ کا طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اور جو شخص خوشی سے نیکی کرے تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ قدر دان اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ “
(لَاإِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ لَاإِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ أَنْجَزَ وَعْدَہٗ وَنَصَرَ عَبْدَہٗ وَھَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہٗ )[ رواہ مسلم : کتاب الحج ]
مسائل
1۔ صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نشانات ہیں۔ 2۔ صفا اور مروہ کا طواف نیکی سمجھ کر کرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
شعائر اللہ کی تعریف :
1۔ صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں۔ (البقرۃ : 158)
2۔ قربانی کا جانور اللہ کے شعائر میں سے ہے۔ (الحج : 36)
3۔ اللہ کے شعائر کا احترام کرنے کا حکم ہے۔ (المائدۃ : 2)
4۔ شعائر اللہ کی تعظیم کرنا تقو ٰی کی نشانی ہے۔ (الحج : 32)
Ayahs 2:159–160فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب نے رسول اکرم ﷺ کی رسالت کے اوصاف اور بیت اللہ کے قبلۂ حق ہونے کو لوگوں سے چھپا رکھا تھا ‘ جس پر حق چھپانے کی سزا بیان کی جارہی ہے۔
اہل کتاب نے رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا ہی انکار نہیں کیا بلکہ ہر اس نشانی کو چھپانے اور مٹانے کی کوشش کی جس سے آپ کی رسالت کی نشاندہی ہوتی تھی۔ ان میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ نے بےقراری کے عالم میں صفا اور مروہ کے درمیان چکر لگائے تھے لیکن یہود و نصارٰی نے تاریخ کے اس اہم ترین حصّہ کو اپنی کتابوں سے نکال باہر کیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان مقامات کو شعائر اللہ قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حقائق اور احکامات کو چھپانا اتنا سنگین جرم ہے کہ اس جرم کی وجہ سے لا تعداد بلکہ بعض دفعہ تو نسل در نسل لوگ قبول حق سے محروم ہوجاتے ہیں لہٰذا ایسامجرم عالم ہو یا غیر عالم اس پر اللہ تعالیٰ اور کائنات کے ایک ایک ذرّہ کی لعنت ہوتی ہے۔ یہاں قرآن مجید نے لعنت کرنے والے افراد کو متعین نہیں فرمایا کہ یہ لعنت کرنے والے کون ہیں اس وجہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے شاگرد رشید اور مشہور مفسرِقرآن حضرت مجاہد اور عکرمہ ؓ فرمایا کرتے تھے کہ عدم تعین میں یہ واضح اشارہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز کتمانِ حق کرنے والوں پر پھٹکار کرتی ہے۔ یہاں حق چھپانے سے مراد صرف قرآن مجید کے ارشادات ہی نہیں بلکہ جو لوگ اپنے مذموم مقاصد کے لیے صحیح اسناد کے ساتھ امت تک پہنچنے والی احادیث کو جھٹلاتے یا چھپاتے ہیں ان پر بھی اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہوگی کیونکہ صحابہ کرام ؓ رسول کریم ﷺ کے ارشادات چھپانے کو بھی اس جرم میں شمار کرتے تھے۔ جیسا کہ حضرت معاذ ؓ نے یہی بات کہہ کر ایک حدیث اس وقت بیان فرمائی جب وہ اس دنیائے فانی سے کوچ کررہے تھے۔
حَدَّثَنَا اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ وَمُعَاذُ ٗ رَدِیْفَہٗ............ قَالَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَفَلاَ اُخْبِرُبِہِ النَّاسَ فَیَسْتَبْشِرُوْا قَال اذاً یَّتَّکِلُوْا وَاَخْبَرَبِہَا مُعَاذُ ٗ عِنْدَ مَوْتِہٖ تَأَثُّمًا [ رواہ البخاری : کتاب العلم، باب من خص بالعلم قوما الخ ]
حدیث معاذ ؓ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دینی مصلحت کی خاطر کسی بات کو کچھ عرصہ کے لیے بیان نہ کیا جائے تو اس میں کوئی جرم نہیں البتہ ایسے موقع پر حق بات چھپانا جس سے حق والوں کی ہزیمت ہو اور غلط بات حق کا درجہ اختیار کر جائے یا حق کے ہمیشہ دب جانے کا اندیشہ ہو تو حق چھپانا بہت بڑا گناہ ہے۔ اس گناہ سے بچنے اور اعلان حق کے لیے صحابہ کرام ‘ ائمہ عظام اور علمائے حق نے بڑی بڑی قربانیاں پیش کیں۔
لیکن جو آدمی دنیوی مفاد کی خاطر حق چھپاتا ہے اس شخص پر اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق پھٹکار کرتی ہے۔ البتہ ان لوگوں کو معاف کردیا جائے گا جنہوں نے اخفائے حق سے توبہ کی اور سابقہ اخفائے حق کی تلافی کے لیے حق بات کو کھول کر بیان کیا۔ یعنی جہاں جہاں اس جرم کے اثرات پہنچے ان کی تلافی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تاکہ حق واضح ہوجائے اور اس میں کوئی ابہام باقی رہنے نہ پائے۔
مسائل
1۔ حق چھپانے والوں پر اللہ اور اس کی تمام مخلوق لعنت کرتی ہے۔
2۔ توبہ کرنے والے کو اپنی سابقہ غلطیوں کے اثرات بھی ختم کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔
3۔ توبہ کرنے اور حقائق بیان کرنے والوں کو معاف کردیا جائے گا۔
4۔ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔
تفسیر بالقرآن
توبہ اور اس کی قبولیت کی شرائط :
1۔ اعتراف جرم کے باعث توبہ قبول ہوتی ہے۔ (البقرۃ : 37)
2۔ ظلم سے اجتناب اور اصلاح احوال کے بعد توبہ قبول ہوتی ہے۔ (المائدۃ : 39)
3۔ جہالت کے سبب گناہ ہوجائے تو اس کی اصلاح کرنے پر توبہ قبول ہوتی ہے۔ (الانعام : 54)
4۔ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ (البقرۃ : 160)
4۔ اللہ جس کی چاہتا ہے توبہ قبول کرتا ہے۔ (التوبۃ : 27)
5۔ اللہ تعالیٰ مومن مردوں اور عورتوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ (الاحزاب : 73)
6۔ توبہ کرنے والوں کی برائیاں نیکیوں میں تبدیل کردی جاتی ہیں۔ (الفرقان : 70)
Ayahs 2:161–162فہم القرآن
ربط کلام : جن لوگوں نے حق قبول کرنے، اخفائے حق کے گناہ کو ترک کرنے اور حق کھول کر بیان کرنے سے انکار کیا پھر اسی حالت میں مرگئے ایسے مجرموں پر اللہ تعالیٰ اور سب کی طرف سے پھٹکار ہوگی اور حق چھپانے والے ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
یہودو نصارٰی کے علماء کی اکثریت کا یہ حال تھا کہ وہ دنیاوی مفادات کے حصول، علمی برتری اور ظاہری تقدس کے تحفظ کی خاطر کتاب الٰہی کو اپنے تک ہی محدود رکھتے تھے۔ جس طرح ہندو مذہب میں شودر کو مذہبی کتاب اور مندروں سے دور رکھا جاتا ہے۔ اہل کتاب کے علماء حکمرانوں اور بڑے لوگوں کے سامنے کلمۂ حق کہنے کے بجائے ان کی چاپلوسی اور مدح سرائی کیا کرتے تھے تاکہ ان سے بڑے بڑے مناصب اور مفادات حاصل کرسکیں۔ نبی معظم ﷺ نے ان کی اخلاقی پستی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے :
(إِنَّ أَوَّلَ مَا دَخَلَ النَّقْصُ عَلٰی بَنِيْ إِسْرَاءِیْلَ کَان الرَّجُلُ یَلْقَی الرَّجُلَ فَیَقُوْلُ یَاھٰذَا اتَّقِ اللّٰہَ وَدَعْ مَا تَصْنَعُ فَإِنَّہٗ لَایَحِلُّ لَکَ ثُمَّ یَلْقَاہُ مِنَ الْغَدِ فَلَا یَمْنَعُہٗ ذٰلِکَ أَنْ یَکُوْنَ أَکِیْلَہٗ وَشَرِیْبَہٗ وَقَعِیْدَہٗ فَلَمَّا فَعَلُوْا ذٰلِکَ ضَرَبَ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِھِمْ بِبَعْضٍ ثُمَّ قَالَ (لُعِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْم بَنِيْ إِسْرَآءِیْلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ ) إِلٰی قَوْلِہٖ (فَاسِقُوْنَ ) ثُمَّ قَالَ کَلَّا وَاللّٰہِ لَتَأْمُرُنَّ بالْمَعْرُوْفِ وَلَتَنْھَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ وَلَتَأْخُذُنَّ عَلٰی یَدَيِ الظَّالِمِ وَلَتَأْطُرُنَّہٗ عَلَی الْحَقِّ أَطْرًا وَلَتَقْصُرُنَّہٗ عَلَی الْحَقِّ قَصْرًا)
[ رواہ أبوداوٗد : کتاب الملاحم، باب الأمر والنھی ]
” پہلی خرابی بنی اسرائیل میں یہ آئی تھی کہ ایک شخص دوسرے شخص سے ملتا اور اس سے کہتا اللہ سے ڈر اور اپنی حرکات سے باز آجا ؤیہ کام تیرے لیے درست نہیں ہے۔ جب دوسرے دن اس سے ملتا تو یہ کام اسے اس کے ساتھ کھانے پینے اور بیٹھنے سے نہ روکتا۔ جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے انکے ایک دوسرے کے ساتھ دل ملا دیے۔ مزید فرمایا : بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر داوٗد اور عیسیٰ ( علیہ السلام) کی زبان سے لعنت کی۔۔۔ پھر فرمایا : ہرگز نہیں ‘ اللہ کی قسم ! تم ضرور نیکی کا حکم دو اور برے کاموں سے منع کرو اور ظالم کے ہاتھ پکڑ کر اس کو حق کی طرف اس طرح جھکاؤ گے جیسا اسے جھکانے کا حق ہے اور اس کو حق پر ٹھہراؤ جیسا کہ حق پر ٹھہرانے کا حق ہے۔ “
نیکی قائم کرو جس طرح قائم کرنا چاہیے۔ اور حق پر اس کی مدد کرو جب جنّتی جنت میں جلوہ افروز ہوں گے تو ایک دن جہنم کے کنارے جاکر ایسے علماء سے پوچھیں گے کہ تم کس جرم کی پاداش میں یہاں ذلیل ہورہے ہو ؟ جہنمی اپنے بیٹوں، بیٹیوں، رشتے داروں اور مقتدیوں کے سامنے زارو قطار روتے ہوئے کہیں گے کہ ہم حق چھپایا کرتے تھے۔ جنّتی ترس کھانے کے بجائے ان کو کہیں گے کہ پھر تم پر رب ذوالجلال کی مزید پھٹکار ہونی چاہیے۔ اف ! یہ کتنا ذلت آمیز اور ہیبت ناک منظرہو گا۔ انہیں ان خوفناک اور درد ناک سزاؤں میں نہ صرف ہمیشہ رہنا ہے بلکہ ان کی سزاؤں میں ذرہ برابر بھی تخفیف نہیں کی جائے گی۔ یہ مجبور ہو کر باربار جہنم کے نگران فرشتے سے آرزو کریں گے کہ ہمیں موت ہی آجائے جوابًا کہا جائیگا کہ اب تمہیں ہمیشہ یہاں ہی رہنا پڑے گا اور کوئی کسی اعتبار سے بھی تمہاری مدد نہیں کرسکے گا۔
(وَنَادَوْا یٰمٰلِکُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّکَ قَالَ إِنَّکُمْ مَّاکِثُوْنَ ) [ الزخرف : 77]
” اور جہنمی پکاریں گے کہ اے فرشتے تیرا رب ہمیں موت ہی دے دے وہ جواب دے گا یقیناً تم یہیں رہنے والے ہو۔ “
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
(مَنْ سُءِلَ عَنْ عِلْمٍ فَکَتَمَہٗ اُلْجِمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِلِجَامٍ مِنْ نَّارٍ )
[ رواہ ابن ماجۃ : المقدمۃ، باب من سئل عن علم فکتمہ ]
” جس سے کوئی مسئلہ پوچھا گیا لیکن اس نے اسے چھپالیا ایسے عالم کو جہنم میں آگ کی لگام ڈالی جائے گی۔ “
مسائل
1۔ کفر کی حالت پر مرنے والوں پر اللہ تعالیٰ ، اس کے ملائکہ اور سب کی لعنت ہوتی ہے۔
2۔ حق چھپانے اور کفر پر مرنے والوں پر عذاب ہلکا نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی۔
تفسیر بالقرآن
ظالم کو مہلت میسر نہیں آئے گی :
1۔ نبی سے کیا جانے والا مطالبہ منظور ہونے کے بعد مہلت نہیں دی جاتی۔ (الانعام : 8)
2۔ کتمانِ حق کرنے والوں کو عذاب سے مہلت نہ دی جائے گی۔ (البقرۃ : 162)
3۔ مرتدین کو مہلت نہ دی جائے گی۔ (آل عمران : 88)
4۔ ظالموں کو مہلت نہ دی جائے گی۔ (النحل : 85)