Ayahs 2:45–46فہم القرآن
ربط کلام : دوغلا پن اختیار کرنے کی بجائے، عُسرویُسر میں دین پر قائم رہو اور نماز اور صبر کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی مدد کے طالب بنو۔
اے بنی اسرائیل ! تمہیں اپنے آپ کو شریعت کا پابند صبر و شکر کا خوگر اور نماز قائم کرنے والا بننا چاہیے لیکن یاد رکھو یہ کام نسبتاً مشکل ہیں۔ اس پر عمل کرنا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ صبر و شکر اور نماز کی ادائیگی وہی لوگ کیا کرتے ہیں جن کے دل ” اللہ “ کے خوف سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں اور انہیں یقین ہوتا ہے کہ ہم نے دنیا میں ہمیشہ نہیں بیٹھ رہنا بلکہ آخر کار ہمیں اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کے خوف اور فکر آخرت کے نتیجہ میں آدمی سے نیک اعمال کا ظہور ہوتا ہے۔ اس فکرکے بغیر دینی کام اچھی عادت اور پیشہ تو ہوسکتے ہیں مگر توشۂ آخرت نہیں ہوسکتے اور نہ ہی کردار میں اچھی تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نماز کے ذریعے مدد طلب کرنا :
(إِذْ أَتٰی عَلٰی جَبَّارٍ مِّنَ الْجَبَابِرَۃِ فَقِیلَ لَہٗٓ إِنَّ ہَا ہُنَا رَجُلًا مَعَہُ امْرَأَۃٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ فَسَأَلَہٗ عَنْہَا فَقَالَ مَنْ ہٰذِہٖ قَالَ أُخْتِیْ فَأَتٰی سَارَۃَ قَالَ یَا سَارَۃُ لَیْسَ عَلٰی وَجْہِ الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَیْرِی وَغَیْرَکِ وَإِنَّ ھٰذَا سَأَلَنِی فَأَخْبَرْتُہُ أَنَّکِ أُخْتِیْ فَلَا تُکَذِّبِیْنِیْ فَأَرْسَلَ إِلَیْہَا فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَیْہِ ذَہَبَ یَتَنَاوَلُہَا بِیَدِہٖ فَأُخِذَ فَقَالَ ادْعِی اللّٰہَ لِیْ وَلَا أَضُرُّکِ فَدَعَتِ اللّٰہَ فَأُطْلِقَ ثُمَّ تَنَاوَلَہَا الثَّانِیَۃَ فَأُخِذَ مِثْلَہَا أَوْ أَشَدَّ فَقَالَ ادْعِی اللّٰہَ لِیْ وَلَآ أَضُرُّکِ فَدَعَتْ فَأُطْلِقَ فَدَعَا بَعْضَ حَجَبَتِہٖ فَقَالَ إِنَّکُمْ لَمْ تَأْتُونِی بِإِنْسَانٍ إِنَّمَآ أَتَیْتُمُونِی بِشَیْطَانٍ فَأَخْدَمَہَا ہَاجَرَ فَأَتَتْہُ وَہُوَ قَآءِمٌ یُّصَلِّیْ فَأَوْمَأَ بِیَدِہٖ مَہْیَا قَالَتْ رَدَّ اللّٰہُ کَیْدَ الْکَافِرِ أَوِ الْفَاجِرِ فِیْ نَحْرِہٖ وَأَخْدَمَ ہَاجَرَ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ تِلْکَ أُمُّکُمْ یَا بَنِیْ مَاء السَّمَاءِ ) (رواہ البخاری :، باب قول اللہ تعالیٰ واتخذ اللّٰہ ابراھیم خلیلا)
” جب ( حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور بی بی سارہ) ایک ظالم حکمران کے ملک سے گزرے تو اس کے نوکر چاکروں نے بادشاہ کو کہا کہ ہمارے شہر میں ایک مسافر آیا ہے جس کی عورت بہت ہی زیادہ خوبصورت ہے۔ ظالم بادشاہ نے حکم دیا۔ ابراہیم کو فوراً میرے سامنے پیش کرو۔ ان سے پوچھا یہ عورت کون ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا یہ میری بہن ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بادشاہ سے فارغ ہو کر حضرت سارہ کے پاس آئے اور کہا اے سارہ ! اس سرزمین میں میرے اور تیرے سوا کوئی مومن نہیں۔ اس ظالم بادشاہ نے مجھے پوچھا ہے کہ یہ تیرے ساتھ عورت کون ہے ؟ تو میں نے تجھے اپنی بہن کہا ہے کیونکہ دینی رشتہ کے اعتبار سے تو میری بہن ہے، تجھے اس کے سامنے یہی کہنا چاہیے۔ ایسا نہ ہو میں جھوٹا ثابت ہوجاؤں۔ اس ظالم بادشاہ نے حضرت سارہ کو جبراً منگوایا جب وہ اس کے پاس پہنچائی گئی تو ظالم نے دست اندازی کی کوشش کی لیکن دھڑام نیچے گرا اور فریاد کرنے لگا اے نیک خاتون ! اپنے رب سے میری عافیت کی دعا کر میں تجھے کچھ نہیں کہوں گا۔ حضرت سارہ کی دعا سے وہ اچھا ہوگیا پھر دوسری مرتبہ زیادتی کی کوشش کی دوبارہ پہلے کی طرح یا اس سے بھی زیادہ اللہ کی گرفت میں آیا۔ اب پھر التجا کی کہ اے نیک عورت ! اب کے بار پھر دعا کر میں اچھا ہوجاؤں تو میں تجھے کچھ نہیں کہوں گا۔ حضرت سارہ نے دعا کی تو اللہ کے فضل وکرم سے وہ پھر صحیح ہوگیا۔ اس بار اس نے اپنے نوکر کو بلا کر کہا تم کیسی عورت میرے پاس لائے ہو یہ عورت ہے یا شیطان ؟ ( بےشرم اپنی بےشرمی کو مٹانے کے لیے ایسا کہہ رہا تھا۔ (حالانکہ شیطان خود تھا) اس نے ہاجرہ کو حضرت سارہ کی خدمت میں دے دیا۔ جب حضرت سارہ جناب ابراہیم ( علیہ السلام) کی خدمت میں آئیں تو آپ ” اللہ “ کے حضور نماز میں مصروف تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نماز کی حالت میں اشارہ سے پوچھتے ہیں کیا معاملہ ہوا ؟ حضرت سارہ نے عرض کیا : اللہ ذوالجلال نے کافرو فاجر کی شرارت کو اس پر الٹ دیا ہے پھر سارا ماجرا ذکر کیا اور کہا بالآخر اس نے اپنی اس بیٹی کو خادمہ کے طور پر میرے حوالے کردیا ہے۔ جناب حضرت ابوہریرہ ؓ نے یہ حدیث مبارکہ ذکر کرنے کے بعد کہا اے بارش پر پلنے والو۔ (یعنی اے عرب قوم ! ) یہی تو تمہاری والدہ ہاجرہ ہیں۔ “
مسائل
1۔ مشکل کے وقت حوصلہ اور نماز کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنی چاہیے۔
2۔ مشکل کے وقت صبر کرنا اور نماز پڑھنا بھاری کام ہیں مگر اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے آسان ہیں۔
3۔ ہر شخص کی اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری یقینی ہے۔
Ayah 2:47فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کو دوسراخطاب۔
بنی اسرائیل سے پہلے خطاب میں کچھ باتوں کا حکم دیا اور کچھ کاموں سے منع کیا تھا۔ اب دوسرے خطاب کا آغاز بھی نہایت دل کش انداز میں کرتے ہوئے نعمتوں کی یاد دہانی کروانے کے بعد قیامت کے دن کی ہولناکیوں سے ڈراتے ہوئے بتلایا ہے کہ دنیا کی عدالتوں میں اثر ورسوخ، سفارش، رشوت یا جرمانہ دے کر تم چھوٹ جاتے ہو۔ رب کبریا کی عدالت میں مجرموں کا چھوٹنا محال اور ناممکن ہے وہاں سچا ایمان اور نیک اعمال کے علاوہ کچھ بھی کام نہیں آئے گا۔ یہاں سے بنی اسرائیل کے عدالتی نظام کا اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے کس قدر اسے تباہی کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ آدمی کے ضمیر کو راغب کرنے اور جھنجھوڑنے کے لیے انعامات کا وعدہ اور خوف نہایت مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ یہاں خوف دلانے کے بعد احسانات کا ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ پچھلے خطاب میں فرمایا تھا اگر تم عہد کی پاسداری کرو گے تو ہم تمہیں دوبارہ نعمتیں عطا کریں گے تاکہ ان کے ضمیر میں احساس اور حیا پیدا ہو جس بنا پر وہ اسلام کی مخالفت سے باز آجائیں۔
بنی اسرائیل پر عظیم الشان احسانات
1 ۔ جور و استبداد سے نجات :
(وَلَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْٓ اِسْرَاءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُہِیْنِ ) ( الدخان : 30)
” ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت آمیز عذاب سے نجات دی۔ “
2 ۔ دریا میں راستہ بنانا :
(وَ اِذْ فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰٰکُمْ ) (البقرۃ : 50)
” جب ہم نے تمہارے لیے دریا کو پھاڑا اور تمہیں نجات دی۔ “
3 ۔ بچھڑے کی پرستش کے بعد توبہ قبول کی :
(ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْکُمْ ) (البقرۃ : 52) ” پھر ہم نے تمہیں معاف کردیا۔ “
4 ۔ دوبارہ زندگی عطا کرنا :
(ثُمَّ بَعَثْنٰکُمْ م مِّنْ بَعْدِ مَوْتِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ ) (البقرۃ : 56)
” پھر ہم نے تمہاری موت کے بعد تم کو زندہ کیا تاکہ تم شکر ادا کرو۔ “
5 ۔ بادلوں کا سایہ کیا :
(وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْغَمَامَ ) (البقرۃ : 51) ” اور ہم نے تم پر بادلوں کا سایہ کیا۔ “
6 ۔ من وسلویٰ اتارا :
(وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰی۔ ) (البقرۃ : 57) ” اور ہم نے تم پر من وسلویٰ نازل کیا۔ “
7 ۔ بارہ چشمے جاری کیے :
(فَانْفَجَرَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَۃَ عَیْنًا۔ ) (البقرۃ : 60) ” پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ “
8 ۔ دنیا میں حکمران بنایا :
(وَ جَعََلَکُمْ مُّلُوْکًا) (المائدۃ : 20) ” اور تمہیں بادشاہ بنایا “
9 ۔ اقوام عالم پر عزت عطا فرمائی :
(وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ) (البقرۃ : 47) ” میں نے تمہیں اقوام عالم پر فضیلت دی۔ “
0 ۔ جو کچھ بنی اسرائیل کو دیاوہ کسی اور کو نہ دیا :
(وَ اٰتٰکُمْ مَا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ ) (المائدۃ : 20)
” اور جو کچھ تمہیں دیا سارے عالم میں سے کسی کو نہیں دیا۔ “
!۔ تواتر کے ساتھ انبیاء (علیہ السلام) بھیجے گئے :
(وَ قَفَّیْنَا مِنْ بَعْدِہٖ بالرُّسُلِ ) (البقرۃ : 87)
” ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بہت سے رسول بھیجے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ انسان کو نعمت اور فضل سے نوازے تو اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
Ayah 2:48فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل سے دوسرا خطاب جاری ہے۔
دنیا کی عدالتوں میں مجرم جن طریقوں سے بچ نکلتے ہیں وہ چار ہیں۔
(1) ۔ حقیقی مجرم کی جگہ دوسرے کو پھنسا دینا۔ (2) ۔ شخصی سفارش کے ذریعے مجرم کو بچا لینا۔
(3) ۔ رشوت کے ذریعے بچ نکلنے میں کامیاب ہونا۔ (4) ۔ سیاسی دباؤ کے ذریعے مجرم کا رہائی پانا۔
یہاں بنی اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے ہر فرد کو باور کرایا جا رہا ہے کہ یہ ہتھکنڈے دنیا کی بےانصاف عدالتوں ‘ رشوت خورججوں، کمزور اور غلط عدالتی نظام میں تو چل سکتے ہیں۔ جس وجہ سے مظلوم سر چھپاتے اور ظالم دندناتے پھرتے ہیں۔ لیکن اللہ کی عدالت میں ان باتوں کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ محشر کے میدان میں کسی مجرم کو دم مارنے اور آنکھ اٹھا کر دیکھنے اور بلا اجازت بولنے کی بھی جرأت نہ ہوگی۔ اس دن کوئی نفس اور کوئی متاع کام نہ آئے گا۔ قرآن مجید نے ان اصولوں کو مختلف مقامات اور انداز میں بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے تاکہ کسی مجرم کے دل میں چھوٹ جانے کا تصور بھی پیدا نہ ہوسکے۔
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حِیْنَ أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ (وَأَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَقْرَبِیْنَ ) قَالَ یَامَعْشَرَ قُرَیْشٍ أَوْ کَلِمَۃً نَحْوَھَا اشْتَرُوْٓا أَنْفُسَکُمْ لَآأُغْنِيْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا یَابَنِيْ عَبْدِ مَنَافٍ لَآأُغْنِيْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا یَاعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَآأُغْنِيْ عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا وَیَاصَفِیَّۃُ عَمَّۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ لَآأُغْنِيْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا وَیَافَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ سَلِیْنِيْ مَاشِءْتِ مِنْ مَالِيْ لَآأُغْنِيْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا) (رواہ البخاری : کتاب الوصایا، باب ھل یدخل النساء والولد فی الأقارب)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں جب یہ آیت (اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے) نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے قریش کے لوگو ! اپنے لیے کچھ کرلو میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کوئی فائدہ نہیں دے سکوں گا، اے بنی عبد منامیں تمہیں اللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکوں گا ‘ اے عباس بن عبدالمطلب ! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ فائدہ نہیں دے سکوں گا، اور اے صفیہ ! رسول کی پھوپھی ! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ فائدہ نہیں دے سکوں گا اور اے فاطمہ بنت محمد ! میرے مال سے جو چاہتی ہے مانگ لے میں تجھے اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکوں گا۔ “
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَۃٌ مُسْتَجَابَۃٌ فَتَعَجَّلَ کُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَہٗ وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِيْ شَفَاعَۃً لِأُمَّتِيْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَھِيَ نَآءِلَۃٌ إِنْ شَآء اللّٰہُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِيْ لَایُشْرِکُ باللّٰہِ شَیْءًا) (رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب اختباء النبی دعوۃ الشفاعۃ لأمتہ )
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر نبی کی ایک مقبول دعا ہوتی ہے ہر نبی نے اپنی دعا کرنے میں جلدی کی میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے بچا کر رکھا ہوا ہے وہ میری امت کے ہر اس شخص کو فائدہ دے گی جو اس حال میں مرا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا۔ “
مسائل
1۔ قیامت کے دن رشتہ دار، غلط سفارش اور مال مجرم کو کوئی فائدہ نہیں دیں گے۔
تفسیر بالقرآن
سفارش کی گنجائش نہیں :
1۔ کون ہے جو اللہ کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے۔ (البقرۃ : 255)
2۔ دوستی اور سفارش کام نہ آئے گی۔ (البقرۃ : 254) 3۔ مجرموں کو سفارش کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی۔ (المدثر : 48)
4۔ ظالموں کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارشی۔ (المؤمن : 18) 5۔ کافروں کا کوئی سفارشی نہیں ہوگا۔ (انعام : 51)
6۔ بزرگ اور سردار بھی سفارش نہ کریں گے۔ (الروم : 13)
نوٹ : فدیہ کے بارے میں البقرۃ :123 دیکھیے۔
Ayahs 2:49–50فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل سے خطاب جاری ہے اس میں دو احسانات کا تذکرہ فرما کر نصیحت کی گئی ہے۔
اہل تاریخ بنی اسرائیل پر فرعون کے بد ترین مظالم کی دو وجوہات تحریر کرتے ہیں۔ ایک جماعت کا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ اس وقت کے نجومیوں نے فرعون کو اس بات کی خبر دی کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا بچہ پیدا ہونے والا ہے جو بڑا ہو کر تیرے اقتدار کو چیلنج کرے گا۔ دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ بنی اسرائیل کی بڑھتی ہوئی افرادی قوت کے خوف سے فرعون نے ان کے بچوں کو قتل کرنے اور عورتوں کو باقی رکھنے کا حکم جاری کیا تھا۔
یاد رہے بنی اسرائیل کے جوانوں کا قتل عام اور ان کی بیٹیوں کو باقی رکھنے کا معاملہ دو ادوار میں ہوا ایک مرتبہ موسیٰ ( علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت اور دوسری مرتبہ موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے بعد۔ (المؤمن : 23)
یہاں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنی نعمتوں کا احساس ‘ آخرت کا خوف اور ان کے ماضی کے الم ناک دور کا حوالہ دیتے ہوئے سمجھایا ہے کہ آج تم کمزور اور بےخانماں مسلمانوں پر ظلم کررہے ہو تمہیں وہ وقت بھی یاد رکھنا چاہیے جب فرعون تمہارے جوانوں اور نونہالوں کو سر عام ذبح کرتا تھا اور تمہاری ماؤں اور بہو ‘ بیٹیوں کو باقی رہنے دیتا تھا۔ قرآن مجید نے اسے بلائے عظیم قرار دے کر ان تمام مضمرات کی طرف اشارہ کیا ہے جو مظلوم اور غلام قوم کو پیش آیا کرتے ہیں اور ظالم مظلوم کی بہو بیٹیوں کے ساتھ وہ سلوک کیا کرتے ہیں جس کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اے بنی اسرائیل ! پھر اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان عظیم کرتے ہوئے ان مظالم سے تمہیں نجات دلائی اور تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہارے بد ترین دشمن کو ذلت کی موت دیتے ہوئے اسے ہمیشہ کے لیے نشان عبرت بنا دیا۔ اس سے دنیا میں تمہاری عظمت و سچائی اور بزرگی کی دھوم مچ گئی کہ بنی اسرئیل کے لیے دریا رک گیا اور ان کی آنکھوں کے سامنے دنیا کا بد ترین مغروروسفّاک، خدائی اور مشکل کشائی کا دعوی کرنے والاڈبکیاں لیتے ہوئے دہائی دیتا رہا کہ لوگو ! میں موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے رب پر ایمان لاتا ہوں لیکن آواز آئی کہ تیرا ایمان ہرگز قبول نہیں ہوگا اب تجھے آئندہ نسلوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا جائے گا۔[ یونس : 91]
قیامت کے دن مظلوم بچیاں اس طرح سوال کریں گی :
(وَإِذَا الْمَوْءٗ دَۃُ سُءِلَتْ ۔ بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ ۔ ) (التکویر : 8، 9)
” اور زندہ در گورلڑ کی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس جرم میں ماری گئی تھی ؟۔ “
یہاں انتباہ کیا گیا ہے کہ جو بچوں کو قتل کرتے ہیں قیامت کے دن وہ بچہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فریاد کرے گا کہ مولائے کریم ! آج اس ظالم سے پوچھا جائے کہ مجھے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا گیا تھا بیشک قاتل والدین ہی کیوں نہ ہوں۔
ظلم کے بارے میں رسول محترم ﷺ کا ارشاد ہے :
(اَلظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ) (رواہ البخاری : کتاب المظالم والغصب، باب الظلم ...)
” ظلم قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے۔ “
مسائل
1۔ فرعون بنی اسرائیل پر ظلم کرتا تھا۔ 2۔ فرعون بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل اور لڑکیوں کو زندہ رکھتا تھا۔
3۔ ظلم مظلوم پر بھاری آزمائش ہوتی ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ڈبویا اور بنی اسرائیل کو بچایا لیا۔
تفسیر بالقرآن
فرعون کے مظالم :
1۔ فرعون نے اپنی قوم میں طبقاتی کشمکش پیدا کی۔ (القصص : 4)
2۔ بنی اسرائیل قتل و غارت کے عذاب میں دو مرتبہ مبتلا کئے گئے۔ (الاعراف : 127 تا 129)
3۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اقتدار بخشا تاکہ فرعون کو اپنی قدرت دکھلائے۔ (القصص : 5، 6)
4۔ فرعون نے ظلم کرنے کے لیے میخیں تیار کی ہوئی تھیں۔ (الفجر : 10)
5۔ فرعون نے اپنی بیوی پر اس لیے ظلم کیا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئی تھی۔ (التحریم : 11)
Ayahs 2:51–53فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل پر تیسرا اور چوتھا احسان۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین کے علاقہ سے واپسی کے وقت سفر کے دوران نبوت سے سرفراز فرمایا اور دو معجزے عطا فرمائے۔ لاٹھی کا اژدہا بن جانا اور ہاتھ کا روشن ہونا۔ ان معجزات کے ساتھ موقع بموقع حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایات ملتی رہیں۔ جن میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو فرعون کے پاس جا کر نہایت نرمی کے ساتھ سمجھانے کی ہدایت ‘ توحید کے دلائل ‘ بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ مظلوم بنی اسرائیل کو صبر اور نماز کی تلقین اور ہر قسم کی راہنمائی کا بندوبست، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے مجادلہ کے نتیجہ میں جادوگروں سے مقابلہ ‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عظیم کامیابی کا حصول جس کے نتیجے میں جادوگروں کا موقعہ پر ہی اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہونا اور برملا موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا اعلان۔ جس کی تفصیل اپنے مقام پر بیان ہوگی۔ بالآخر فرعون اور اس کے لشکروں کا غرقاب ہونا۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ فلسطین پر حملہ آور ہوجاؤ۔ اللہ اسے تمہارے ہاتھوں فتح کرے گا لیکن بزدل قوم نے کہا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) تم اور تمہارا خدا لڑو ہم تو اتنے طاقت وروں کے ساتھ نہیں لڑ سکتے اس کی پاداش میں انہیں سینا کے ریگستان میں چالیس سال کے لیے انہیں مقید کردیا گیا۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ آپ کوہ طور پر تیس دن کے لیے حاضری دیں تاکہ آپ کو تحریری طور پر تختیوں کی شکل میں تورات عنایت کی جائے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) طور سینا پر فرو کش ہوئے تو تیس دن کی مدت کو چالیس دن میں تبدیل کردیا گیا۔
بنی اسرائیل اس قدر احسان فراموش اور سنگ دل قوم تھی کہ جوں ہی ان کا دشمن غرقاب ہوا۔ یہ دریا عبور کر کے ابھی تھوڑی ہی دیر چلے تھے کہ راستہ میں انہوں نے ایسے لوگوں کو دیکھا جو بتوں کے سامنے مراقبہ ‘ اعتکاف اور طواف کر رہے تھے۔ بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کے احسانات کو فراموش کرتے ہوئے بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبہ کرنے لگے کہ ہمیں بھی ایسا ہی معبود بنادیجیے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے شرک کے نقصانات بتاتے ہوئے فرمایا کہ یہ قوم تو ہلاکت اور بربادی کے کنارے پر کھڑی ہے۔ جن کی یہ پوجا کر رہے ہیں وہ باطل اور ان کا یہ عمل شرک ہے۔ کیا تم اللہ کے بغیر کسی اور کو معبود مانتے ہو ؟ جبکہ اس نے تمہارے دشمن کو غرق کرکے پوری دنیا میں تمہیں ممتاز کردیا ہے۔ اس وقت تو یہ لوگ باز آئے لیکن غلامانہ ذہن رکھنے والی قوم شرک سے کس طرح باز آسکتی تھی ؟ جوں ہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چالیس دن کے لیے کوہ طور پر تشریف لے گئے تو سامری نام کے ایک آدمی نے سونے کا ایک بچھڑا بنا کر انہیں کہا کہ یہی وہ خدا ہے جس کی تلاش میں موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر بیٹھے ہیں۔ انہوں نے سب کچھ فراموش کرتے ہوئے بچھڑے کی عبادت شروع کردی۔[ طٰہٰ : 87، 88]
مسائل
1۔ غیر اللہ کی پوجا یعنی شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ آدمی کو ڈھیل دے تو اسے توبہ اور شکر کرنا چاہیے۔
3۔ تورات موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی جو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کا سرچشمہ تھی۔
4۔ حضرت موسیٰ کو بڑے بڑے معجزات عنایت کیے گئے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کا موسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ :
1۔ موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے تیس راتوں کا وعدہ ہوا پھر مزید دس راتوں کا اضافہ کردیا گیا۔ (الاعراف : 142)
2۔ اسی مدت میں انہیں تختیوں کی شکل میں تورات عنایت کی گئی۔ (الاعراف : 143 تا 145)
فرقان کیا ہے ؟
1۔ فرقان سے مراد معجزات۔ (البقرۃ : 53) 2۔ قرآن مجید فرقان ہے۔ (الفرقان : 1)
3۔ یوم بدر یوم فرقان ہے۔ (الانفال : 41) 4۔ تقو یٰ فرقان کا ذریعہ ہے۔ (الانفال : 29)
Ayah 2:54فہم القرآن
ربط کلام : سنگین جرم معاف کرتے ہوئے پانچواں احسان۔
جب موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور سے اتر کر اپنی قوم کی طرف آئے تو انہوں نے بچھڑے کو جلا کر دریا میں پھینک دیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جن لوگوں نے شرک کا ارتکاب کیا ہے ان کے رشتہ داروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں اپنے ہاتھوں سے قتل کردیں۔ یہی تمہاری توبہ ہے اور یہی توبہ کا طریقہ تمہارے رب کے ہاں مقبول ہے۔ جب مشرک ہزاروں کی تعداد میں قتل ہوچکے تو اللہ کی بار گاہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی معافی کی درخواست پیش کی جس کو قبول کرتے ہوئے رب کریم نے باقی ماندہ لوگوں کی توبہ قبول فرمائی کیونکہ اللہ تائب ہونے والوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ بنی اسرائیل کے مشرکوں کو ختم کرنے اور ایمانداروں کے ایمان کو پرکھنے کے لیے توبہ کا یہ طریقہ اس لیے مقرر کیا گیا تاکہ لوگ شرک کے بدترین گناہ اور اس کی سنگینی سے آگاہ ہوں اور آئندہ شرک کرنے کا تصور بھی ان کے دل میں پیدا نہ ہو سکے۔
توبہ کے متعلق نبی اکرم ﷺ کے ارشادات :
1۔ (عَنْ أَبِيْ مُوْسٰی ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَبْسُطُ یَدَہٗ باللَّیْلِ لِیَتُوْبَ مُسِیْءُ النَّھَارِ وَیَبْسُطُ یَدَہٗ بالنَّھَارِ لِیَتُوْبَ مُسِیْءُ اللَّیْلِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِھَا) (رواہ مسلم : کتاب التوبۃ، باب قبول التوبۃ من الذنوب وإن تکررت الذنوب والتوبۃ)
” حضرت ابوموسیٰ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : یقیناً اللہ عزوجل رات کو اپنا ہاتھ بڑھاتے ہیں تاکہ دن کو خطائیں کرنے والا توبہ کرلے اور دن کو ہاتھ پھیلاتے ہیں تاکہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کرلے یہ سلسلہ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے تک جاری رہے گا۔ “
2۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ التَّاءِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَا ذَنْبَ لَہٗ )
(رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزھد، باب ذکرا لتوبۃ)
” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہی پاک ہوجاتا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ “
3۔ (قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ اَللّٰہُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ حینَ یَتُوبُ إِلَیْہِ مِنْ أَحَدِکُمْ کَانَ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ بِأَرْضِ فَلَاۃٍ فَانْفَلَتَتْ مِنْہُ وَعَلَیْہَا طَعَامُہٗ وَشَرَابُہٗ فَأَیِسَ مِنْہَا فَأَتٰی شَجَرَۃً فَاضْطَجَعَ فِی ظِلِّہَا قَدْ أَیِسَ مِنْ رَاحِلَتِہٖ فَبَیْنَا ہُوَکَذَلِکَ إِذَا ہُوَ بِہَا قَاءِمَۃً عِنْدَہٗ فَأَخَذَ بِخِطَامِہَا ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّۃِ الْفَرَحِ اللّٰہُمَّ أَنْتَ عَبْدِیْ وَأَنَا رَبُّکَ أَخْطَأَ مِنْ شِدَّۃِ الْفَرَحِ ) (رواہ مسلم : کتاب التوبۃ، باب فی الحض علی التوبۃ والفرح بھا)
” رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب بندہ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے توبہ کرنے پر اس بندے سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جو چٹیل میدان میں اپنی سواری پر تھا اور اس کی سواری گم ہوگئی جس پر اس کا کھانا، پینا تھا۔ وہ سواری اور زندگی سے ناامید ہو کر ایک درخت کے نیچے لیٹ گیا۔ اچانک اس کی سواری مل گئی وہ خوشی میں آکر غلطی سے یہ بات کہہ دیتا ہے کہ : اے اللہ ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں۔ “
مسائل
1۔ شرک کرنے والا اپنے اپ پر ظلم کرتا ہے۔ 2۔ ہر دم اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرنی چاہیے۔
3۔ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا نہایت مہربان ہے۔
تفسیر بالقرآن
توبہ کی اہمیت :
1۔ توبہ کرنا مومن کا شیوہ ہے۔ (التوبۃ : 112) 2۔ توبہ کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے۔ (البقرۃ : 222)
3۔ توبہ قبول کرنا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ (البقرۃ : 160)
4۔ توبہ کرنے والوں کے لیے فرشتے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ (المؤمن : 7 تا 9)
5۔ توبہ کرنے والے کے گناہ نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ (الفرقان : 70)
6۔ توبہ کرنے والے کا میاب ہوں گے۔ (القصص : 67)
Ayahs 2:55–56فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی بدترین گستاخی معاف کرتے ہوئے ان پر چھٹا احسان فرمایا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے آسمانی دستاویزات یعنی تورات کو یہ کہہ کر تسلیم کرنے سے انکار کردیا کہ جب تک ہم اللہ کے ساتھ ہم کلام اور اس کو خود نہیں دیکھ لیتے اس وقت تک ہم اس کتاب کی تصدیق نہیں کریں گے۔ اس نازک صورت حال کے پیش نظر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کی کہ اے رب کریم ! انہیں اپنی ہم کلامی اور زیارت سے مشرف فرما۔ اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ آپ اپنی قوم کے ستر نمائندہ لوگوں کو کوہ طور پر لے آئیں۔ جب یہ لوگ طور سینا پر پہنچے تو زور دار آسمانی دھماکے سے مرگئے۔ تب موسیٰ (علیہ السلام) نے ” اللہ “ کے حضور عجز و انکساری سے فریاد کی کہ اے رب جلیل ! ان لوگوں کی حماقت کی وجہ سے آپ نے انہیں تباہ کردیا ؟ اگر ایسا ہی کرنا تھا تو پہلے مار دیا ہوتا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی اور انہیں دوبارہ زندہ کردیا گیا۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اس طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کو دوبارہ زندہ فرمائیں گے۔
اللہ تعالیٰ کی زیارت کے بارے میں نبی ﷺ کا ارشاد :
(عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ ؓ قَالَ سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ھَلْ رَأَیْتَ رَبَّکَ قَالَ نُوْرٌ أَنّٰی أَرَاہُ )
(رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب فی قولہ نور أنی أراہ وفی قولہ رأیت نورا)
” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے استفسار کیا کہ کیا آپ اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوئے ہیں ؟ جواباً آپ نے فرمایا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں۔ “
شکر کا جامع مفہوم یہ ہے کہ آدمی کو جو کچھ میسّر ہو اس کی قدر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔ یہ ایسی صفت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات والا صفات کی طرف منسوب فرمایا ہے۔ سورة النساء آیت 147 میں ارشاد ہوا کہ لوگو ! تمہیں عذاب کرنے سے اللہ تعالیٰ کو کچھ حاصل نہیں ہوتا اگر تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کا شکریہ ادا کرو تو اللہ تعالیٰ تمہارا قدر دان ہوگا۔ یہاں شاکر کا لفظ استعمال فرما کر شکر کی اہمیت کو دو چند کردیا ہے۔ سورة ابراہیم آیت 7 میں یہ خوشخبری عطا فرمائی کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو گے تو وہ تمہیں مزید عنایات سے نوازے گا۔
سورۃ ابراہیم میں شکر کے بالمقابل کفر کا لفظ استعمال کیا ہے جس کے معانی ناقدری اور احسان فراموشی کے ہیں اس لیے ہر زبان میں ناشکری کو کفران نعمت سے تعبیر کیا گیا ہے۔
ابلیس لعین کو جب اس کے جرم کی پاداش میں ہمیشہ کے لیے راندہ درگاہ قرار دیا گیا تو اس نے بنی نوع انسان کے بارے میں ان الفاظ میں اپنے خبث باطن کا اظہار کیا تھا :
” جس وجہ سے مجھے راندہ درگاہ قرار دیا گیا ہے میں اس کے لیے صراط مستقیم میں رکاوٹ بنوں گا اور میں ان کے آگے، پیچھے، دائیں اور بائیں سے حملہ آور ہوں گا۔ اے اللہ ! تو ان کی اکثریت کو شکر گزار نہیں پائے گا۔ “
(الاعراف : 16، 17)
بنی آدم کو ناشکری کے گناہ سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بار بار اپنی نعمتوں کی قدر کرنے اور ہر دم شکر گزار رہنے کا حکم دیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کا اس قدر خیال رکھتے کہ آپ تہجد کی نماز میں اس قدر قیام کرتے کہ آپ کے قدم مبارک پر ورم آجایا کرتا تھا جنہیں دیکھ کر آپ کے اہل خانہ نے عرض کی کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیے ہیں تو آپ اس قدر کیوں مشقت اٹھاتے ہیں جس کے جواب میں آپ نے فرمایا کیا میں ان نعمتوں پر اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟[ رواہ البخاری : کتاب الجمعۃ، باب قیام النبی اللیل ]
اسی بنا پر آپ ﷺ فرض نماز کے بعد اس دعا کا اہتمام کیا کرتے تھے :
(أَللّٰھُمَّ أَعِنِّيْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ ) (رواہ أبوداوٗد : کتاب الصلاۃ، باب فی الإستغفار)
” الٰہی ! اپنے ذکر، شکر اور بہترین طریقے سے عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ موت دے کر زندہ کرنے پر قادر ہے۔ 2۔ ہر دم اللہ کا شکر گزار رہنا چاہیے۔
3۔ کسی کی عظمت اور احسان مندی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس کا شکر ادا کرے۔
تفسیر بالقرآن
شکر کی اہمیت :
1۔ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق پر اس کا شکریہ ادا کرو۔ (الانفال : 26)
2۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر کو تمہارے تابع کیا جس سے تازہ مچھلی، زیبائش کا سامان نکلتا ہے اس پر اللہ کا شکریہ ادا کرو۔ (النحل : 14)
3۔ اللہ تعالیٰ نے رات کو باعث سکون اور دن کو کسب معاش کا ذریعہ بنایا ہے تاکہ اس کا شکر ادا کرو۔ (القصص : 73)
4۔ شکر کے بارے میں حضرت داؤد اور سلیمان (علیہ السلام) کی دعائیں۔ (صٓ: 35، النمل : 19)
5۔ اللہ تعالیٰ شکر گزار لوگوں کو زیادہ دیتا ہے۔ (ابراہیم : 7)
Ayah 2:57فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل پر من وسلویٰ کی شکل میں ساتواں اور آٹھواں احسان۔
بنی اسرائیل کا آزادی کے بعدشکر کی بجائے شرک کرنا، جناب موسیٰ (علیہ السلام) پر عدم اعتماد کا اظہار اور اللہ تعالیٰ کو خود دیکھنے کا گستاخانہ مطالبہ، وطن کی آزادی کے لیے جہاد فی سبیل اللہ سے انکار جیسے پے در پے سنگین جرائم کرنے کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ ان کو صحرائے سینا میں تڑپ تڑپ کر بھوک سے مرنے دیا جاتا۔ لیکن اس کے باوجود رحیم و کریم رب نے انہیں پہلے سے زیادہ عمدہ و لذیذ کھانا ‘ گھنے بادلوں کا سایہ، پینے کے لیے میٹھے اور صاف و شفاف چشموں کا پانی عنایت کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے ہم پر زیادتی نہیں کی وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے۔ یعنی جو کچھ وہ کرتے تھے اللہ تعالیٰ کی ذات پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ وہ اپنے جرائم کے بدلے خود ہی ذلیل و خوار ہوتے رہے۔ چناچہ حکم دیا کہ بس میری عبادت کرو، امن سے رہو اور دشمن کے مقابلے میں اپنے آپ کو جہاد کے لیے تیار کرو۔ اس میں یہ حکمت پنہاں تھی کہ فرعون کی غلامی میں پلنے والی نسل ختم ہو اور نئی نسل کھلی فضا اور آزاد ماحول میں پروان چڑھے جو جسمانی لحاظ سے تنو مند و کڑیل جوان اور فکری طور پر آزادی کے متوالے، اعتقاد و کردار کے اعتبار سے انتہائی پختہ ہوں اور جو قابض قوم عمالقہ سے نبرد آزما ہو کر اپنا آبائی وطن ملک فلسطین آزاد کروانے کی ہمت اور جرأت رکھتے ہوں۔
صحرائے سینا کا حدود اربعہ :
یہ مثلث نما جزیرہ ہے جو بحر الکاہل (بحیرہ روم) (شمال کی طرف) اور ریڈسی (جنوب کی طرف) کے درمیان مصر میں واقع ہے اور اس کا رقبہ ساٹھ ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں سویز نہر مغرب کی طرف اور اسرائیل۔ مصر سرحد ‘ شمال مشرق کی طرف ہیں۔ سینائی جزیرہ نما جنوب مغربی ایشیا میں واقعہ ہے۔ اسے مغربی ایشیا بھی کہتے ہیں یہ زیادہ درست جغرافیائی اصطلاح ہے جبکہ مصر کا باقی حصہ شمالی افریقہ میں واقعہ ہے جغرافیائی و سیاسی مقاصد کے لیے سینائی کو اکثر افریقہ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
سینائی تقریباً مکمل طور پر صحرا ہے اور تبا (Taba) میں سباہ ساحل (Sabah Coast) کے ساتھ ساتھ واقعہ ہے۔ (موجودہ اسرائیل قصبہ ایلٹ ( eilat) کے نزدیک) جہاں ایک ہوٹل اور رقص گاہ (Casino) ہے جب ساحل کے ساتھ ساتھ جنوب کی طرف حرکت کی جائے تو وہاں نیو ویبا (Nuweiba) داھاب (Dahab) اور شرم الشیخ (Sharmel Sheikh) و اقع ہیں سینائی العریش (el Arish) میں غزہ پٹی کے نزدیک شمالی ساحل پر بھی واقع ہے۔
جبل موسیٰ جسے جبل سینائی بھی کہتے ہیں۔ تورات میں اہمیت کا حامل ہے۔ اس جگہ جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خدائی احکام وصول کیے جنوبی سینائی جزیرہ نما میں واقع ہے۔ جس کے لیے دعویٰ ہے کہ یہ تورات کے سینائی پہاڑ کی جگہ ہے۔
اس قصے کی تفصیلات بائبل کی کتاب ‘ گنتی استثناء اور یشعو میں ملیں گی۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دشت فاران سے بنی اسرائیل کے بارہ سرداروں کو فلسطین کا دورہ کرنے کے لیے بھیجا تاکہ وہاں کے حالات معلوم کر کے آئیں۔ یہ لوگ چالیس دن دورہ کر کے وہاں سے واپس آئے اور انہوں نے قوم کے مجمع عام میں بیان کیا کہ واقعی وہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں۔ لیکن جو لوگ وہاں بسے ہوئے ہیں وہ زور آور ہیں۔ ہم اس لائق نہیں ہیں کہ ان لوگوں پر حملہ کریں وہاں جتنے آدمی ہم نے دیکھے وہ سب بڑے قد آور ہیں اور ہم نے وہاں بنی عناق کو بھی دیکھا جو جبار ہیں اور جباروں کی نسل سے ہیں اور ہم تو اپنی ہی نگاہ میں ایسے تھے جیسے ٹڈے ہوتے ہیں اور ایسے ہی ان کی نگاہ میں تھے۔ یہ بیان سن کر سارا مجمع چیخ اٹھا کہ ” اے کاش ہم مصر ہی میں مرجاتے یا کاش اس بیابان میں ہی مرتے۔ خداوند کیوں ہمیں اس ملک میں لے جا کر تلوار سے قتل کرانا چاہتا ہے ؟ پھر تو ہماری بیویاں اور بال بچے لوٹ کا مال ٹھہریں گے۔ کیا ہمارے لیے بہتر نہ ہوگا کہ ہم مصر واپس چلے جائیں ؟ پھر وہ آپس میں کہنے لگے کہ آؤ ہم کسی کو اپنا سردار بنا لیں اور مصر لوٹ چلیں۔ اس پر ان بارہ سرداروں میں سے جو فلسطین کے دورے پر بھیجے گئے تھے۔ دو سردار یوشع اور کالب اٹھے اور انہوں نے اس بزدلی پر قوم کو ملامت کی۔ کالب نے کہا ” چلو ہم یک دم جا کر اس ملک پر قبضہ کرلیں کیونکہ ہم اس قابل ہیں کہ اس پر تصرف کریں۔ “ پھر دونوں نے یک زبان ہو کر کہا ” اگر خداوند ہم سے راضی رہے تو وہ ہمیں اس ملک میں پہنچائے گا فقط اتنا ہو کہ تم خداوند سے بغاوت نہ کرو اور نہ اس ملک کے لوگوں سے ڈرو اور ہمارے ساتھ خداوند ہے سو ان کا خوف نہ کرو۔ “ مگر قوم نے جواب یہ دیا کہ ” انہیں سنگسار کردو۔ “ آخر کار اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکا اور اس نے فیصلہ فرمایا کہ اچھا اب یوشع اور کالب کے سوا اس قوم کے بالغ مردوں میں سے کوئی بھی اس سر زمین میں داخل نہ ہونے پائے گا۔ یہ قوم چالیس برس تک بےخانماں پھرتی رہے گی یہاں تک کہ جب ان میں سے بیس برس سے لے کر اوپر کی عمر تک کے سب مرد مرجائیں گے اور نئی نسل جوان ہو کر اٹھے گی تب انہیں فلسطین فتح کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس دوران وہ سب لوگ مر کھپ گئے جو جوانی کی عمر میں مصر سے نکلے تھے۔ شرق اردن فتح کرنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بھی انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد یوشع بن نون کے عہد خلافت میں بنی اسرائیل اس قابل ہوئے کہ فلسطین فتح کرسکیں۔
” من “ کے بارے میں نبی ﷺ کا ارشاد :
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ الْعَجْوَۃُ مِنَ الْجَنَّۃِ وَفِیہَا شِفَاءٌ مِّنَ السُّمِّ وَالْکَمْأَۃُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُہَا شِفَاءٌ لِلْعَیْنِ ) (رواہ الترمذی : باب ماجاء فی الکمأۃ والعجوۃ)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عجوہ (کھجور کی ایک خاص قسم) جنت سے ہے اور اس میں زہر کے لیے شفا ہے اور کھنبی ” مَنْ “ سے ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا کا باعث ہے۔ “
مسائل
1۔ صحرائے سینا میں بنی اسرائیل پر بادل سایہ فگن رہتا تھا۔ 2۔ اللہ نے حلال اور طیب چیزیں کھانے کا حکم دیا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کسی پر زیادتی نہیں کرتا۔ 4۔ لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔
5۔ من کا معنٰی ہے میٹھی چیز، سلو ٰی نمکین تھا۔ 6۔ اللہ ہی رزق دینے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
ظالم کی سزا :
1۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ (الحج : 10)
2۔ اللہ تعالیٰ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔ (آل عمران : 140)
3۔ ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہوتی ہے۔ ( الاعراف : 44)
4۔ ظالم کامیاب نہیں ہوں گے۔ (الانعام : 21)
5۔ قیامت کو ظالموں کا کوئی عذر قبول نہیں ہوگا۔ (المؤمن : 52)
Ayahs 2:58–59فہم القرآن
ربط کلام : نواں احسان : دشمن پر غلبہ عطا فرمایا لیکن بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے ناشکری کی اور ظلم و زیادتی کا بازار گرم رکھا۔
بیت المقدس میں بنی اسرائیل کے داخل ہونے کے واقعہ کے بارے میں مفسرین کے دو نقطہ نگاہ ہیں۔ ایک مکتب فکر کا خیال ہے کہ ان کا داخلہ جناب موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد ہوا تھا اور دوسروں کا نقطہ نظر یہ ہے کہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قیادت میں بیت المقدس میں داخل ہوئے تھے لیکن ٹھوس حقائق کی بنیاد پر اکثریت کا خیال یہ ہے کہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بیت المقدس میں داخل ہوئے تھے۔ ” حطۃ “ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور سر جھکائے اس سے معافی مانگتے ہوئے اور لوگوں کے ساتھ در گزر کا رویہ اختیار کرتے ہوئے داخل ہونا لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو یکسر تبدیل کردیا اور خدا فراموشی اور تکبر کا رویہ اختیار کر کے دنیا دار فاتحین کی طرح قتل و غارت اور لوٹ کھسوٹ کا مظاہرہ کیا جس کے بدلے میں ان پر طاعون کی بیماری مسلط کی گئی جس سے ان کی فتح کی خوشیاں غارت ہوئیں اور یہ ہزاروں کی تعداد میں موت کے گھاٹ اتر گئے۔ اللہ تعالیٰ ظالموں اور نافرمانوں کو ایسے بھی سزا دیا کرتا ہے۔ بظاہر بنی اسرائیل کا واقعہ بیان ہوا ہے لیکن اس میں ہر طاقت ور اور فاتح کے لیے ہدایت ہے کہ وہ متکبر اور ظالم بننے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے مفتوحہ قوم کے ساتھ زیادہ سے زیادہ درگزر کا مظاہرہ کرے۔
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ قِیْلَ لِبَنِيْ إِسْرَاءِیْلَ (ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوْلُوْا حِطَّۃٌ) فَدَخَلُوْا یَزْحَفُوْنَ عَلٰی أَسْتَاھِھِمْ فَبَدَّلُوْا وَقَالُوْا حِطَّۃٌ حَبَّۃٌ فِيْ شَعَرَۃٍ )
(رواہ البخاری : کتاب تفسیر القرآن، باب وإذقلنا ادخلوا ھذہ القریۃ۔۔ )
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کو کہا گیا : (دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا اور بخشش مانگنا) تو وہ اپنی پیٹھوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور ” حطۃ “ کی جگہ ” حَبَّۃٌ فِيْ شَعَرَۃٍ “ کہتے ہوئے داخل ہوئے۔ “
(عَنْ أُسَامَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ إِنَّ ہٰذَا الطَّاعُونَ رِجْزٌ سُلِّطَ عَلٰی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ أَوْ عَلٰی بَنِیْ إِسْرَاءِیلَ فَإِذَاکَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَخْرُجُوْا مِنْہَا فِرَارًا مِّنْہُ وَإِذَاکَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوہَا) (رواہ مسلم : کتاب السلام، باب الطاعون والطیرۃ والکھانۃ ونحوھا)
” حضرت اسامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : طاعون کی بیماری وہ عذاب ہے جسے تم سے پہلے کسی قوم یا بنی اسرائیل پر مسلط کیا گیا تھا۔ جب طاعون کی بیماری کسی علاقے میں پھیلی ہوئی ہو تو اس بیماری کی وجہ سے وہاں سے نہ نکلو اور جب کسی علاقے میں طاعون پھیلا ہوا ہو تو وہاں مت جاؤ۔ “
رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کا کردار فتح مکہ کے موقع پر ملاحظہ فرمائیں کہ جب آپ نے مکہ فتح کیا تو اتنی عاجزی اور انکساری کے ساتھ شہر میں داخل ہوئے کہ آپ کا سر مبارک اس حد تک جھکا جا رہا تھا کہ آپ کی مبارک داڑھی سواری کے پلان کے ساتھ لگ رہی تھی اور آپ کی زبان اطہر سے اللہ تعالیٰ کے شکرانے کے الفاظ جاری تھے۔ اس موقع پر مجاہدین کو حکم صادر فرمایا کہ جو مخالف بیت اللہ یا ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو یا اپنے گھر کے کواڑ بند کرلے اس پر کسی قسم کی دست درازی نہیں کرتا یہاں تک کہ مکہ سے نکل جانے والوں کا بھی پیچھا کرنے سے منع فرمایا۔ (ابن ہشام)
مسائل
1۔ نیکی کرنے والوں کو اللہ زیادہ دیتا ہے۔ 2۔ ظالم اللہ کے احکام تبدیل کردیتے ہیں۔
3۔ نافرمانوں پر اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے۔ 4۔ فتح حاصل ہونے پر اللہ کا شکرادا کرنا چاہیے۔
5۔ فتح حاصل ہونے پر اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے۔
6۔ فاتح کو مفتوح قوم کے ساتھ زیادہ سے زیادہ درگزر کرنی چاہیے۔
Ayahs 2:60–61فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ سواں احسان : قبائل کی تعداد کا لحاظ رکھتے ہوئے ٹھنڈے، میٹھے پانی کے بارہ چشمے جاری فرمائے لیکن اس قوم نے صبح وشام من وسلوی اور ٹھنڈا پانی ملنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کی۔
قرآن مجید کا اسلوب بیان ہے کہ وہ کسی واقعہ کو زیب داستان اور حکایت گوئی کے لیے بیان نہیں کرتا یہی وجہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ کے سوا باقی تمام واقعات کو مختلف اجزاء کی صورت میں موقع محل کے مطابق بیان کیا گیا ہے اور کبھی یوں ہوتا ہے کہ کسی واقعہ کی کڑیوں اور اجزا کو تقدم و تاخر کے ساتھ بیان کرتے ہوئے ایک خاص نصیحت اور کیفیت پیدا کردی جاتی ہے۔
یہاں بھی ایسا ہی کیا گیا ہے تاکہ اس واقعہ میں یہودیوں کے مظالم اور نافرمانیوں کی فہرست یکجا بیان کی جائے قرآن کی تلاوت کرنے والا شخص فاسقوں اور نافرمانوں کی سرشت سے مکمل طور پر آگاہ ہو سکے۔ چناچہ صحرائے سینا میں جب موسیٰ (علیہ السلام) سے پانی کا مطالبہ کیا گیا تو بنی اسرائیل کے قبائل کی تعداد کے مطابق بارہ چشمے جاری کیے گئے اس لیے کہ یہ پانی پینے پلانے پر جھگڑا کرنے کی بجائے پر امن طریقے سے اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں اور دشمن کے خلاف بھرپور انداز میں جہاد کی تیاری کرسکیں لہٰذا حکم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اکل و شرب سے لطف اندوزی حاصل کرو لیکن دنگا فساد سے بچو۔ اس حکم کے باوجود ناہنجار قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبہ کر ڈالا کہ ایک ہی قسم کے کھانے پر اکتفا کرنا ہمارے لیے ہرگز ممکن نہیں ہمیں تو زمین کی پیدوار، ساگ، ترکاری، کھیرا، ککڑی، گیہوں، لہسن، پیاز اور دال چاہیے۔
جناب موسیٰ (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا کہ تم ادنیٰ کو اعلیٰ اور بہتر کو کم تر کے ساتھ بدلنا چاہتے ہو ؟ اس مطالبہ سے باز آجاؤ اور اللہ تعالیٰ کی ناشکری سے بچو لیکن بنی اسرائیل اپنے مطالبہ پر مصر رہے جس کے نتیجے میں انہیں حکم ہوا کہ شہر میں داخل ہوجاؤ جو کچھ تم نے چاہا ہے وہ تمہیں مل جائے گا۔ لیکن یاد رکھنا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری اور ناشکری کی وجہ سے تم پر ذلت اور غربت مسلط کردی گئی ہے اس طرح وہ اللہ کے غضب اور مسکینی کے مستحق ٹھہرے۔ کیونکہ یہ بار بار اللہ تعالیٰ کے احکام کا انکار کرنے والے اور انبیا کو قتل کرنے والے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ یہودی ارب پتی ہونے کے باوجود نہ سیر چشم ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی ہوس کی آگ ماند پڑتی ہے اور دنیا میں اس قوم کو کبھی قرار نہیں حاصل ہوا۔ کبھی بخت نصر نے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کیا اور کبھی اہل روم نے انہیں اپنے ملک سے نکال دیا۔
سورۃ آل عمران آیت : 112 میں وضاحت فرمائی ہے کہ انہیں دنیا میں قرار دو ہی وجہ سے حاصل ہوسکتا ہے اللہ کے ہو کر رہیں یا پھر دوسروں کے دست نگر ہو کر زندگی بسر کریں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی مدت کے بعد یہودی اسرائیل کے نام پر امریکہ اور یورپ کے سیاسی گداگر بلا کر اسرائیل کی ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ خوردونوش کی فراوانی عطا فرمائے تو دنگا فساد کرنے کی بجائے اس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔
2۔ اعلیٰ کی بجائے ادنیٰ چیز کی طلب کرنا مغضوب قوم کا طریقہ ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری کرنے والے لوگ دنیا میں ذلیل اور آخرت کو سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے۔
Ayah 2:62فہم القرآن
ربط کلام : انعام و احسان کا ادراک اور ذلت و رسوائی کا احساس دلانے کے بعد حقیقی ایمان اور عمل صالح کا صلہ بتلایا گیا ہے۔
اس فرمان میں اس بات کی دو ٹوک انداز میں وضاحت کی گئی ہے کہ خالی خولی ایمان ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کے حوالے سے یہودی کہلوانا ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ نسبت جوڑنا یا اپنے آپ کو صابی کہلوانے سے نجات نہیں ہوگی۔ نجات اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اور صالح اعمال سے ہوگی۔
مفسرین نے صابی کے دو معنیٰ کیے ہیں۔ آتش پرست یا بےدین یعنی سیکولر۔ بعض لوگوں نے زرتشت مراد لیے ہیں جو نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے کا فرقہ ہے اور ایران میں پایا جاتا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ زرتشت بھی اللہ کے نبی تھے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسے دعوؤں اور حسب ونسب کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس کے حضور قابل قدر ‘ اور لائقِ اجر بات اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور آخرت کی جواب دہی کی تیاری ہے۔ یہاں رسالت مآب ﷺ پر ایمان لانے کا اس لیے تذکرہ نہیں کیا کہ ایک تو ایمان باللہ مکمل ہی ایمان بالرسالت اور اس کے تقاضوں سے ہوتا ہے۔ دوسرا اس سے پہلے بنی اسرائیل کو یہی تو دعوت دی گئی ہے کہ جو کچھ ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا اس پر ایمان لاؤ۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آدمی یہودی ہو یا عیسائی یا کسی اور عقیدے پر ہو اس کے لیے صرف اللہ پر ایمان لانا اور نیک اعمال ہی کافی ہیں۔ ان کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے قرآن مجید نے کئی مقامات پر اس بات کو کھول کر بیان کیا ہے کہ جب تک نبی آخر الزماں ﷺ پر ایمان اور اس کی اطاعت نہیں کرو گے تمہارا ایمان قابل قبول نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کو نبی آخر الزماں کی اطاعت کے ساتھ مشروط فرما دیا ہے۔ سورة آل عمران کی آیت 31 میں فرمایا کہ اگر تم میری محبت کے طلب گار ہو تو میرے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی اتباع کرو۔ اس سے نہ صرف تمہیں میری محبت حاصل ہوگی بلکہ تمہارے گناہ معاف اور تم پر رحم کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔
(یَٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا أَطِیْعُوا اللّٰہَ وَأَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْا أَعْمَالَکُمْ ) (محمد : 33)
” اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال برباد نہ کرو۔ “
(عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ؓ أَتَی النَّبِيَّ ﷺ بِکِتَابٍ أَصَابَہٗ مِنْ بَعْضِ أَھْلِ الْکُتُبِ فَقَرَأَ ہُ النَّبِيُّ ﷺ فَغَضِبَ فَقَالَ أَمُتَھَوَّکُوْنَ فِیْھَا یَاابْنَ الْخَطَّابِ وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہٖ لَقَدْ جِءْتُکُمْ بِھَا بَیْضَاءَ نَقِیَّۃً لَاتَسْأَلُوْھُمْ عَنْ شَیْءٍ فَیُخْبِرُوْکُمْ بِحَقٍّ فَتُکَذِّبُوْہُ بِہٖ أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُوْا بِہٖ وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہٖ لَوْ أَنَّ مُوسٰی ( علیہ السلام) کَانَ حَیًّا مَاوَسِعَہٗ إِلَّا أَنْ یَّتَّبِعَنِيْ ) (مسند احمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب باقي المسند السابق)
” حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ کے پاس اہل کتاب میں سے کچھ لوگ ایک کتابچہ لے کر آئے۔ حضرت عمر ؓ وہ کتابچہ نبی کریم ﷺ کے پاس لائے۔ نبی ﷺ کے سامنے پڑھا اور جس پر آپ ﷺ نے غضب ناک ہو کر فرمایا : ابن خطاب ! کیا تم اس میں ذوق وشوق اور رغبت رکھتے ہو ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یقیناً میں تمہارے پاس صاف اور واضح شریعت لے کر آیا ہوں تم اہل کتاب سے جس چیز کے بارے میں بھی سوال کرو گے وہ تمہیں سچ بتائیں تم اس اسلام کو ان کی سچی خبر کی وجہ سے جھٹلادو یا ان کی جھوٹی خبر کی وجہ سے تصدیق کربیٹھو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر موسیٰ (علیہ السلام) بھی زندہ ہوجائیں تو انہیں بھی میری اتباع کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہوگا۔
مسائل
1۔ قیامت کے دن نجات کا دارومدار خالی خولی ایمان یا کسی مذہبی نسبت پر نہیں بلکہ نجات کا انحصار سچے ایمان اور صالح اعمال پر ہے، ایسے لوگ ہی خوف و غم سے آزاد ہوں گے۔
تفسیر بالقرآن
ہدایت یافتہ لوگ پریشانیوں سے محفوظ ہوں گے :
1۔ ہدایت کی پیروی کرنے والے کو کوئی خوف نہیں۔ (البقرۃ : 38)
2۔ اللہ کے لیے خرچ کرنے والے کو کوئی خوف نہیں۔ (البقرۃ : 262)
3۔ نماز اور زکوٰۃ ادا کرنے والے کو کوئی خوف نہیں۔ (البقرۃ : 277)
4۔ اللہ کے دوستوں کو کوئی خوف نہیں۔ (یونس : 62)
5۔ ایمان پر استقامت دکھلانے والوں کو کوئی خوف نہیں۔ (الاحقاف : 13)
6۔ متقی اور مصلح کو کوئی خوف نہیں۔ (الاعراف : 35)
Ayahs 2:63–64فہم القرآن
ربط کلام : گیا رھواں احسان۔ بار بار جرائم کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو معافی دی اور اللہ تعالیٰ کا انہیں اپنے فضل و کرم سے نوازنا۔
بعض لوگوں کا نقطۂ نگاہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو جبراً ہدایت کیوں نہیں دیتا ؟ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ انسان کو عقل و شعور کی دولت سے اس لیے مالا مال کیا گیا ہے کہ وہ حیوانوں اور جانوروں کے مقابلے میں اپنے نفع و نقصان کا خود فیصلہ کرسکے۔ تاکہ انسان اور حیوان کا فرق نمایاں رہے۔ اس لیے جبراً ہدایت دینے کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں فرمایا۔ لیکن پھر بھی ربِّ کریم نے لوگوں کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے بنی اسرائیل کا واقعہ پیش فرمایا ہے۔ کیونکہ جبری ہدایت دیرپا نہیں ہوتی یہ اسی وقت تک رہتی ہے جب تک جبر کا ماحول قائم رہتا ہے۔ جونہی جبر کا خاتمہ ہوگا ہدایت کو دل سے قبول نہ کرنے والا انسان پھر گمراہی کی طرف پلٹ جائے گا۔ دائمی اور دیر پاہدایت وہی ہوتی ہے جو دل کی گہرائی اور عقل و شعور کی رسائی سے حاصل ہو۔ جبری ہدایت کا مطالبہ کرنے والوں کے لیے بنی اسرائیل کے واقعات نظر کشائی کے لیے کافی ہیں۔
یہاں اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کی مسلسل نا فرمانیوں اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان کے سروں پر کوہ طورمنڈلا کر حکم دیا گیا کہ مانتے ہو یا پہاڑ گرا کر تمہیں زمین کے ساتھ چپکا دیا جائے۔ اس موقعہ پر حکم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی نصیحت یاد کرو اور اللہ کا خوف اختیار کرتے ہوئے گناہوں سے بچ جاؤ۔ یہ لوگ اس وقت تو ایمان لے آئے لیکن جونہی ان کے سروں سے پہاڑ ٹل گیا وہ پہلے کی طرح سر کشی پر اتر آئے۔
اس عہد شکنی کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و رحمت سے انہیں مہلت عطا فرمائی تاکہ وہ از خود اپنی اصلاح کی طرف پلٹ آئیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم نہ ہوتا اور اے بنی اسرائیل ! تمہیں مہلت نہ دی جاتی تو تمہارا انجام تو اسی وقت ہی بدترین ہوتا اور تم ہمیشہ کے لیے نقصان پانے والوں میں سے ہوجاتے۔ یہاں واقعہ تو ماضی کا بیان کیا جا رہا ہے لیکن ضمائر مخاطب کی استعمال کی گئی ہیں۔ جس کا معنی یہ ہے کہ تمہارے اور تم سے پہلے لوگوں کے اعمال ایک جیسے ہوچکے ہیں۔ اور تم اپنے آپ کو انہی کا جانشین سمجھتے اور ان کا دفاع کرتے ہو۔ اگر ان کے سروں پر پہاڑ رکھا جاسکتا ہے تو تم پر عذاب نازل کرنا اللہ تعالیٰ کی قوت و سطوت سے کس طرح باہر ہوسکتا ہے۔ اس واقعہ سے یہ مسئلہ بھی واضح ہوا کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کو مسلم اتھارٹی جبراً اسلام کے احکام پر عمل کر وا سکتی ہے۔ اس لیے اسلامی حکومت پر حدود اللہ کا نفاذ فرض قرار دیا گیا ہے۔ جو حکمران اس کا نفاذ نہیں کرتے انہیں ظالم ‘ فاسق اور کافر شمار کیا گیا ہے۔ [ المائدۃ : 44 تا 47]
بچوں کو جبراً نماز پڑھانا چاہیے :
(عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مُرُوْا أَوْلَادَکُمْ بالصَّلَاۃِ وَھُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِیْنَ وَاضْرِبُوْھُمْ عَلَیْھَا وَھُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ وَفَرِّقُوْا بَیْنَھُمْ فِي الْمَضَاجِعِ ) (رواہ ابوداوٗد : کتاب الصلاۃ، باب متی یؤمر الغلام بالصلاۃ)
” حضرت عمر و بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے دادا ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو اور دس سال کی عمر میں انہیں نماز کی وجہ سے سزا دو اور ان کے بستر جدا کر دو ۔ “
مسائل
1۔ ایمان کے دعوے دار کو جبراً عمل کروانا چاہیے۔ 2۔ اللہ کے احکام پر عمل کرنے سے پرہیزگاری پیدا ہوتی ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر ہر انسان گھاٹے میں ہے۔
تفسیر بالقرآن
بنی اسرائیل کے منحرف ہونے کے واقعات :
1۔ اللہ کے احکام پر عمل کرنے کا وعدہ کرنے کے بعد انحراف کیا۔ (البقرۃ : 64)
2۔ اللہ کی عبادت، والدین، قریبی رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے، لوگوں کو اچھی بات کہنے اور صوم و صلاۃ کی پابندی کا عہد کرنے کے بعد انحراف کیا۔ (البقرۃ : 83)
3۔ اپنوں کا خون بہانے اور قتل نہ کرنے کے عہد کے بعد منحرف ہوگئے۔ (البقرۃ : 85)
4۔ قیدیوں کو رشوت دے کر چھڑانے کی ممانعت کے باوجود باز نہ آئے۔ (البقرۃ : 85)
5۔ ہفتہ کے دن مچھلیاں پکڑنے کی ممانعت کے باوجود مچھلیاں پکڑنا۔ (البقرۃ : 65)