2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsفہم القرآن

Ayah 2:221

وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى یُؤْمِنَّ١ؕ وَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْكُمْ١ۚ وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْا١ؕ وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ١ۚ وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:221 in the Quran reader

مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں۔ ایمان دار لونڈی مشرکہ آزاد عورت سے بہتر ہے گو تمہیں مشرکہ اچھی لگتی ہو۔ اور نہ مشرکوں سے (اپنی عورتوں کا) نکاح کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں۔ ایماندار غلام ‘ آزاد مشرک سے بہتر ہے گو مشرک تمہیں اچھا لگے۔ یہ لوگ جہنم کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے حکم سیجنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے۔ وہ اپنی آیات لوگوں کے لیے بیان کرتا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں

فہم القرآن ربط کلام : سورة کے مرکزی مضمون سے وابستہ احکام۔ معاشرتی اور عائلی مسائل کے سلسلہ میں اب ایک اہم اور بنیادی مسئلے کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے۔ کیونکہ جوں جوں اسلام پھیل رہا تھا اس کے ساتھ ہی معاشرہ میں نئے نئے مسائل پیدا ہورہے تھے۔ ان میں سے اہم ترین مسئلہ یہ تھا کہ ایک آدمی مسلمان ہوجاتا ہے اور اس کی بیوی کفر و شرک کی حالت پر قائم رہتی ہے۔ اسی طرح اس کے برعکس صورت بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ یا دوسری صورت میں ایک مسلمان کو ازدواجی زندگی اپناتے ہوئے کون سے بنیادی اصولوں کا خیال رکھنا چاہیے ؟ اس کے بارے میں بنیادی اصول یہ قرار پایا کہ ” آج کے بعد کوئی مرد کافرہ اور مشرکہ کے ساتھ اور کوئی مومن خاتون کسی کافر اور مشرک کے ساتھ نکاح نہیں کرسکتی۔ چاہے جمال و کمال کے اعتبار سے وہ مرد اور عورت کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں ؟ یہاں تک کہ وہ حلقۂ اسلام میں داخل ہوجائیں۔ ان کے مقابلے میں ایک غلام مسلمان عورت ہو یا مرد کہیں بہتر ہیں۔ حالانکہ معاشرتی طور پر آزاد کے مقابلے میں غلام مرد ہو یا عورت اس کی حیثیت آزاد کے برابر نہیں ہوسکتی۔ خاص کر عرب معاشرے میں غلاموں کی حیثیت ایک زرخرید جانور سے زیادہ نہیں تھی۔ لیکن شرک اور کفر ایسے جرم ہیں جن سے آدمی کی حیثیت حقیقی طور پر ایک غلام سے بھی زیادہ ابتر ہوجاتی ہے۔ اس کے نقصانات دینی اور سماجی اعتبار سے اتنے زیادہ ہیں جن پر کنٹرول کرنا کسی کے بس کا روگ نہیں رہتا۔ کفریہ اور شرکیہ عقیدہ رکھنے والا مردہویا عورت درحقیقت وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا انکار اور اس کے ساتھ شرک کرکے عملًا اس سے بغاوت کا اقرار کرتا ہے۔ کوئی ایمانی غیرت رکھنے والا شخص ایسے باغی کے ساتھ زندگی کا بندھن قائم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوسکتا۔ سماجی لحاظ سے وہ ایک ایسی ذہنی کش مکش میں مبتلا ہوتا ہے جس سے چھٹکارا پانا ناممکنات میں سے ہے۔ کیونکہ ایماندار خاوند اپنی اولاد کو ایمان اور جنت کی ہی دعوت دے گا۔ جب کہ اس کی مشرک بیوی اولاد کو اپنے عقیدے کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے گی جو سراسر خدا سے بغاوت اور جہنم کے راستے پرچلنے، چلانے کے مترادف ہے۔ یہی صورت ایک مومنہ بیوی کی مشرک اور کافر خاوند کے ساتھ پیدا ہوگی۔ ایسی صورت میں اولاد، خاندان اور معاشرے پر کس قدر منفی اور باہمی کش مکش کے اثرات مرتب ہوں گے ؟ اگر مسلمانوں کو کفرو شرک کے اختلاط سے منع نہ کیا جائے تو امت کا اپنا تشخص کس طرح قائم ہوسکتا ہے ؟ اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ تمہیں جہنم کی آگ کی دعوت دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قانون بنا کر تمہیں اپنی بخشش اور جنت کے راستے کی رہنمائی کی ہے تاکہ ان حقائق کو سامنے رکھ کر تم نصیحت حاصل کرو۔ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ لِأَرْبَعٍ لِمَالِھَا وَلِحَسَبِھَا وَلِجَمَالِھَا وَلِدِیْنِھَا فَاظْفُرْ بِذَات الدِّیْنِ تَرِبَتْ یَدَاکَ ) [ رواہ البخاری : کتاب النکاح، باب الأکفاء فی الدین ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : عورت سے چار وجوہات کی بنیاد پر شادی کی جاتی ہے۔ مال کی وجہ سے، حسب ونسب کی بناء پر، اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے دین کی بنیاد پر۔ پس تم دین دار کو پسند کرو تاکہ تم کامیاب اور تروتازہ رہو۔ “ اہل کتاب کے ساتھ نکاح کرنے کا مسئلہ (المائدہ :5) چھٹے پارے میں بیان ہوگا۔ ان شاء اللہ مسائل 1۔ مشرک مرد اور عورت سے نکاح جائز نہیں۔ 2۔ مومن غلام اور کنیز آزاد مشرک مردوزن سے بہتر ہیں۔ 3۔ مشرک جہنم کی طرف بلانے والے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ اپنی بخشش اور جنت کی دعوت دیتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے احکام نصیحت حاصل کرنے کے لیے ہیں۔ تفسیر بالقرآن کن عورتوں سے نکاح جائز نہیں ؟ 1۔ مشرکہ اور کفار عورتوں سے نکاح جائز نہیں۔ (البقرۃ : 221۔ الممتحنۃ : 10) 2۔ زانیہ سے نکاح جائز نہیں۔ (النور : 3) 3۔ محرمات سے نکاح جائز نہیں۔ (النساء : 23، 24)
Ayah 2:222

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ١ؕ قُلْ هُوَ اَذًى١ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ١ۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ١ۚ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ Open ayah 2:222 in the Quran reader

لوگ تم سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں فرمادیں کہ وہ گندگی ہے ‘ حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں پھر جب وہ پاک ہوجائیں تو پاک ہونے پر ان کے پاس جاؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے اجازت دی ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : عورتوں کے متعلقہ مسائل کا بیان جاری ہے۔ سوال و جواب کے حوالے سے سلسلۂ کلام جاری ہے۔ یہاں ازدواجی زندگی کے ایک اہم اور فطری مسئلے کے متعلق پھر ایک سوال کا جواب دیا جارہا ہے کہ حیض کی حالت میں میاں بیوی کے تعلقات کی کیا نوعیت ہونی چاہیے ؟ کیونکہ اس بارے میں لوگ افراط وتفریط کا شکار تھے۔ عیسائی حیض کے ایام میں اپنی بیویوں سے مجامعت جاری رکھتے اور یہودی ان سے اس قدر دور رہتے اور نفرت کرتے کہ بیویوں کے قریب بیٹھنا اور ان کے ساتھ کھانا پینا تو در کنار ان کے برتن اور رہائش بھی الگ کردیتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ بےچاری مخصوص ایام میں اپنے معصوم بچوں سے پیار بھی نہ کرسکتی تھی۔ مسئلے کی وضاحت کرنے سے پہلے فرمایا کہ حیض عورت کے لیے ایک تکلیف دہ امر ہے اس سے عورت کے اندرونی نظام میں کچھ منفی اور مثبت تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ میڈیکل کی زبان میں عورت کے جسم کا مخصوص حصہ فلٹرائز ہورہا ہوتا ہے لہٰذا ان ایام میں عورت کے ساتھ مباشرت کرنا مرد اور بیوی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے اس لیے تمہیں اس وقت تک صحبت کی غرض سے عورتوں کے قریب نہیں جانا چاہیے یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں۔ پاک ہونے سے مراد عورت کا غسل کرنا ہے اور عورت کے غسل کرنے سے پہلے مجامعت جائز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ پاک باز اور توبہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ یہاں قرآن مجید نے ” لَا تَقْرَبُوْھُنَّ “ کے الفاظ استعمال فرمائے ” کہ ان کے قریب نہ جاؤ۔ “ جس سے مراد مجامعت کرنا ہے۔ سوال کا جواب دیتے ہوئے آخر میں فرمایا کہ اپنی عورتوں کے پاس جاؤ جس طریقے اور حالت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اجازت عطا فرمائی ہے۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ گناہوں سے بچنے اور پاک صاف رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ نبی محترم ﷺ نے عورتوں کے ساتھ کی جانے والی افراط وتفریط کو ختم کرنے کے لیے اپنی خلوت کو بیان کرنے کی اجازت دی تاکہ لوگ سمجھ جائیں کہ حیض کی حالت میں خاوند کس حد تک تعلقات قائم کرسکتا ہے۔ 1 (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ کُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِیُّ ﷺ مِنْ إِنَآءٍ وَاحِدٍ وَّکِلَانَا جُنُبٌ وَکَانَ یَأْمُرُنِیْ فَأَتَّزِرُ فُیُبَاشِرُنِیْ وَأَنَآ حَآءِضٌ وَکَانَ یُخْرِجُ رَأْسَہٗ إِلَیَّ وَھُوَ مُعْتَکِفٌ فَأَغْسِلُہٗ وَأَنَا حَآءِضٌ) [ روا البخاری : کتاب الحیض، باب مباشرۃ الحیض ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں اور نبی ﷺ ایک ہی برتن میں بحالت جنابت غسل کرلیا کرتے۔ آپ مجھے ازار باندھنے کا حکم دیتے ازار باندھنے کے بعد وہ مجھ سے مباشرت کرتے یعنی صرف میرے ساتھ لیٹتے اور میں حائضہ ہوتی۔ آپ اعتکاف کی حالت میں اپنا سر باہر نکالتے اور میں حیض کی حالت میں آپ کا سر مبارک دھو دیتی۔ “ 2 (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ کُنْتُ أَشْرَبُ وَأَنَا حَآءِضٌ ثُمَّ أُنَاوِلُہُ النَّبِیَّ ﷺ فَیَضَعُ فَاہُ عَلٰی مَوْضِعِ فِیَّ فَیَشْرَبُ وَأَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ وَأَنَا حَآءِضٌ ثُمَّ أُنَاوِلُہُ النَّبِیَّ ﷺ فَیَضَعُ فَاہُ عَلیٰ مَوْضِعِ فِیَّ ) [ رواہ مسلم : کتاب الحیض، باب جواز غسل الحائض رأس زوجھا وترجیلہ وطھارۃ ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں بحالت حیض کوئی چیز پیتی پھر اسی برتن میں نبی کریم ﷺ کو دیتی تو آپ اسی جگہ منہ رکھ کر پیتے جہاں سے میں نے پیا ہوتا۔ اور میں حیض کی حالت میں ہڈی سے گوشت نوچتی پھر وہ نبی ﷺ کو دیتی تو آپ بھی وہاں ہی منہ لگا لیتے۔ “ 3 (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِی الَّذِیْ یَأْتِی امْرَأَتَہٗ وَھِیَ حَآءِضٌ قَالَ یَتَصَدَّقُ بِدِیْنَارٍ أَوْ نِصْفِ دِیْنَارٍ )[ رواہ أبو داوٗد : کتاب الطہارۃ، باب فی إتیان الحائض ] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نبی کریم ﷺ سے اس شخص کے متعلق بیان فرماتے ہیں جو اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں جماع کرتا ہے فرمایا وہ ایک دینا ریا آدھا دینار صدقہ کرے۔ “ آج کے حساب سے ایک دینار کی قیمت 158 روپے 85 پیسے ہے۔ مسائل 1۔ حیض پلیدی اور تکلیف ہے اس میں عورتوں سے الگ رہنا چاہیے۔ 2۔ بیویوں سے مجامعت پاک حالت میں کرنی چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ گناہ اور گندگی سے پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن صفائی اور پاکی کی فضیلت : 1۔ اللہ تعالیٰ پاک لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ (البقرۃ : 222) 2۔ نیک لوگ پاک صاف رہنا پسند کرتے ہیں۔ (التوبۃ : 108)
Ayah 2:223

نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ١٘ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:223 in the Quran reader

تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں ‘ اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ اور اپنے لیے (نیک اعمال) آگے بھیجو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ تم اپنے رب سے ملنے والے ہو اور ایمان والوں کو خوشخبری سنا دیجئے

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ چونکہ پہلے حکم میں مخصوص ایّام کے دوران عورتوں سے صحبت کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ اس لیے یہاں طبیعتوں کی گھٹن دور کرنے اور ازدواجی زندگی کے بنیادی مقصد کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں۔ جس طرح کھیتی باڑی کے کچھ اصول اور ہر فصل کے مخصوص ایّام ہوتے ہیں اسی طرح ازدواجی زندگی کے مقاصد اور خلوت کے بھی کچھ اصول ہیں۔ تاہم جس طرح زمیند ار کو اپنی زمین اور کھیتی باڑی میں کھلا اختیار ہوتا ہے ایسے ہی تمہیں اپنی بیویوں کے بارے میں اختیارات حاصل ہیں کہ جب اور جس طرح چاہو مجامعت کرسکتے ہو۔ یہاں ازدواجی زندگی کو کھیتی کے ساتھ تشبیہ دے کر واضح کیا جارہا ہے کہ جس طرح کوئی زمیندار بےمقصد ہل نہیں چلایا کرتا بلکہ اس کے پیش نظر اناج کی شکل میں اپنی محنت کا صلہ ہوتا ہے اسی طرح محض شہوت رانی کی غرض سے یہ کام نہیں ہونا چاہیے۔ میاں بیوی کے اس عمل اور جذبات میں اپنے آپ کو گناہوں سے پاک رکھنا، اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب ہونا اور نیک اولاد کی تمنا شامل ہونی چاہیے تاکہ دنیاوی فوائد کے ساتھ آخرت میں اس چیز کا اجر ملے۔ جیسے زمیندار اپنے اور قوم کے لیے غلہ مہیا کرتا ہے ایسے ہی ازدواجی تعلقات کے ذریعے نسل کا تسلسل، قوم کی بقاء اور دین اسلام کے لیے اچھے مسلمان تیار کرنا ہے۔ جس طرح زمیندار اپنی زمین اور فصل کا خیال اور خدمت کرتا ہے۔ تمہیں اپنی بیویوں اور اولاد کا اس سے بڑھ کر خیال اور ان کی خدمت کرنا چاہیے۔ اس میں بیوی کی صحت، گھریلو مصروفیات، عبادات اور بچے کا پورے دو سال دودھ پلانے کا اشارہ بھی شامل ہے۔ اگر میاں بیوی ان امور کا خیال کریں تو انہیں تولید میں وقفہ کے لیے کسی غیر شرعی طریقہ کی حاجت نہیں رہتی۔ آج کے مصنوعی طریقے صحت کے لیے مضر ہیں۔ یہ بات ذہن میں ہر دم تازہ رکھو کہ تم اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہو اور وہ تمہاری جلوتوں اور خلوتوں کو جانتا ہے۔ تمہاری پوشیدہ اور ظاہری زندگی اس طرح ہونی چاہیے کہ اپنے رب کے ہاں تمہیں شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔ جو جلوت اور خلوت میں اس بات کا خیال رکھے گا ایسے صاحب ایمان لوگوں کے لیے مسرّت و شادمانی کا پیغام ہے۔ ازدواجی زندگی کے بارے میں رسول معظم ﷺ کے ارشادات : (عَنْ مَعْقَلِ بْنِ یَسَارٍ ؓ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ إِنِّیْ أَصَبْتُ امْرَأَۃً ذَاتَ حَسْبٍ وَّجَمَالٍ وَّإِنَّھَالَاتَلِدُ أَفَأَتَزَوَّجُھَا قَالَ لَا ثُمَّ اَتَاہ الثَّانِیَۃَ فَنَھَاہُ ثُمَّ اَتَاہ الثَّالِثَۃَ فَقَالَ تَزَوَّجُوا الْوَدُوْدَ الْوَلُوْدَ فَإِنِّیْ مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْاُمَمَ ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب النکاح، باب النھی عن تزویج من لم یلد من النساء ] ” حضرت معقل بن یسار ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک آدمی نے آکر پوچھا ایک عورت حسب ونسب اور حسن و جمال والی ہے لیکن ہے وہ بانجھ۔ کیا میں اس سے شادی کرلوں ؟ آپ نے اسے روک دیا۔ دوسری اور تیسری مرتبہ آنے پر بھی منع کرتے ہوئے فرمایا محبت کرنے اور زیادہ بچے جننے والی عورت سے شادی کرو کیونکہ میں تمہاری کثرت تعداد کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔ “ (عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدِ السُّلَمِیِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِذَا أَتٰی أَحَدُکُمْ أَھْلَہٗ فَلْیَسْتَتِرْ وَلَا یَتَجَرَّدْ تَجَرُّدَ الْعَیْرَیْنِ ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب النکاح، باب التستر عند الجماع ] ” حضرت عتبہ بن عبدالسلمی ؓ بیان کرتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے ساتھ مباشرت کرے تو وہ پردہ کرے اور گدھوں کی طرح ننگا نہ ہو۔ “ ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ شخص لعنتی ہے جو اپنی بیوی سے اس کی دبر کی جگہ جماع کرتا ہے۔ “ [ رواہ أبو داوٗد : کتاب النکاح، باب فی جامع النکاح ] (عَنْ أَبِيْ سَعِیْدنٍ الْخُدْرِيّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللّٰہِ مَنْزِلَۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الرَّجُلُ یُفْضِيْ إِلَی امْرَأَتِہٖ وَتُفْضِيْ إِلَیْہِ ثُمَّ یَنْشُرُ سِرَّھَا)[ رواہ مسلم : کتاب النکاح، باب تحریم إفشاء سر ] ” حضرت ابوسعید خدری ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے ہاں قیامت کے دن بدترین شخص وہ ہوگا جو اپنی بیوی سے ملتا ہے اور بیوی اپنے خاوند سے ملتی ہے اور پھر وہ اس کے راز فاش کرتا ہے۔ “ مسائل 1۔ بیویاں خاوندوں کے لیے کھیتیوں کی مانند ہیں۔ 2۔ اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے کیونکہ بالآخر اس سے ملاقات ہونا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں خوشخبریاں ہیں۔ تفسیر بالقرآن بیوی کی حیثیت : 1۔ بیوی لباس ہے۔ (البقرۃ : 187) 2۔ بیوی نسل انسانی کا ذریعہ ہے۔ (النساء : 1) 3۔ بیوی سکون کا باعث ہے۔ (الروم : 21) 4۔ بیوی خاوند کی نائب ہے۔ (النساء : 34)
Ayahs 2:224–227

وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:224 in the Quran reader

اور تم اللہ تعالیٰ کے نام کو اپنی ایسی قسموں میں استعمال نہ کرو جن سے مقصود بھلائی اور پرہیزگاری اور لوگوں کے درمیان اصلاح سے باز رہنا ہو اور اللہ تعالیٰ خوب سننے، خوب جاننے والا ہے

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 2:225 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری لغو قسموں پر نہیں پکڑتا البتہ وہ ان قسموں پر پکڑے گا جو تم نے پختہ ارادے کے ساتھ قسمیں کھائیں۔ اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور خوب بردبار ہے

لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ١ۚ فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:226 in the Quran reader

جو لوگ اپنی بیویوں سے علیحدگی کی قسمیں کھا بیٹھیں ان عورتوں کے لیے چار مہینے کی مدت ہے ‘ پھر اگر وہ رجوع کرلیں تو اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے

وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:227 in the Quran reader

اور اگر مرد طلاق کا ہی ارادہ کرلیں تو اللہ خوب سننے، خوب جاننے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : میاں بیوی کے درمیان کسی مسئلہ میں تکرار ہوجائے تو بسا اوقات معاملہ بحث و تکرار سے بڑھ کر قسم تک پہنچ جاتا ہے لہٰذا جذباتی قسم کے بارے میں رعایت دی گئی ہے۔ ازدواجی وعائلی مسائل کے دوران قسم کے مسئلہ کی وضاحت اس لیے ضروری سمجھی گئی کہ اس زمانے میں اور آج بھی باہمی مخالفت یا طیش میں آکر لوگ قسم اٹھا لیتے ہیں کہ میں اپنی بیوی کے ساتھ اتنے دن کلام سے اجتناب، بائیکاٹ یا فلاں کام نہیں کروں گا۔ حالانکہ اس موقع پر قسم اٹھانا مناسب بات نہیں ہوتی۔ جہاں تک بیوی سے ایلاء یعنی بائیکاٹ کا معاملہ ہے اس فرمان میں ایلاء کی آخری مدت چار ماہ مقرر کردی گئی۔ خاوند کو اس کے بعد رجوع کرنا یا پھر طلاق دینا ہوگی۔ مسلمان کو ایسی قسم اٹھانے سے روک دیا گیا ہے جو نیکی اور خیر کے کام میں رکاوٹ بنتی ہو۔ یہ قسم اس لحاظ سے عجیب اور غیر دانش مندی کا مظہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر آدمی کسی نیک کام سے رک جائے حالانکہ اللہ تعالیٰ نیکی کا حکم دیتا اور ہر قسم کی برائی سے منع کرتا ہے۔ یہ کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بابرکت اور عظیم نام ہی نیکی میں رکاوٹ بنادیا جائے۔ اس لیے یہاں حکم دیا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام کو نیکی اور اصلاح بین الناس کے درمیان رکاوٹ نہ بناؤ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم کس نیت اور غرض سے اس کے عظیم نام کو استعمال کررہے ہو ؟ (عَنْ زَھْدَمَ قَالَ کُنَّا عِنْدَ أَبِیْ مُوْسَی الأَشْعَرِیِّ ؓ قَالَ أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فِیْ نَفَرٍ مِنَ الْأَشْعَرِیِّیْنَ فَوَافَقْتُہٗ وَھُوَ غَضْبَانُ فَاسْتَحْمَلْنَاہُ فَحَلَفَ أَنْ لاَّ یَحْمِلَنَا ثُمَّ قَالَ وَاللّٰہِ إِنْ شَآء اللّٰہُ لَآ أَحْلِفُ عَلٰی یَمِیْنٍ فَأَرٰی غَیْرَھَا خَیْرًا مِّنْھَآ إِلَّآ أَتَیْتُ الَّذِیْ ھُوَ خَیْرٌ وَتَحَلَّلْتُھَا) [ رواہ البخاری : کتاب الأیمان والنذور، باب الیمین فیما لایملک الخ ] ” حضرت زھدم ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم ابو موسیٰ اشعری ؓ کے پاس تھے وہ فرماتے ہیں میں نبی کریم ﷺ کے پاس اشعری قبیلہ کے کچھ افراد کے ہمراہ اس وقت حاضر ہوا جب آپ غصہ میں تھے۔ ہم نے سواری کا مطالبہ کیا تو آپ نے قسم اٹھادی کہ میں تمہیں کچھ نہیں دوں گا۔ پھر آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر اللہ کی مشیت شامل حال ہو تو جس کام پر میں قسم کھاتا ہوں اگر میں اس کے بجائے دوسرے کام کو بہتر سمجھوں تو میں افضل کام کرکے قسم کا کفارہ ادا کردیتا ہوں۔ “ یہاں اس بات کی بھی وضاحت فرمادی گئی کہ اللہ تعالیٰ تمہارا انہی قسموں پر مؤاخذہ کرے گا جو تم نے نیتًا اٹھائی ہوں گی کیونکہ اللہ تعالیٰ اعلیٰ ظرف ہونے اور اپنی بخشش کی وجہ سے تمہاری لغو قسموں پر مؤاخذہ نہیں کرتا۔ حالانکہ تم اس کا پاک اور عظیم نام کو بےمقصد کام کے لیے استعمال کرتے ہو۔ لغو کے بارے میں سورة المؤمنون آیت : 3 کی تلاوت کیجئے : (وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ )[ المومنون : 3] ” مؤمن وہ ہیں جو لغو اور بےمقصد کام اور کلام سے پرہیز کرتے ہیں۔ “ رسول مکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے : (مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکُہٗ مَالَا یَعْنِیْہِ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الزھد ] ” آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ بےمقصد کام چھوڑ دے “۔ البتہ جس نے عزم کے ساتھ قسم اٹھائی اور پھر اس قسم کو پورا نہ کیا اس کی سزا ساتویں پارے میں یوں بیان کی گئی ہے۔ (لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ باللَّغْوِ فِیْٓ اَیْمَانِکُمْ وَ لٰکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا عَقَدْتُّمُ الْاَیْمَانَ ج فَکَفَّارَتُہ ‘ ٓ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَھْلِیْکُمْ اَوْکِسْوَتُھُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ ط فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ ط ذٰلِکَ کَفَّارَۃُ اَیْمَانِکُمْ اِذَا حَلَفْتُمْط وَ احْفَظُوْٓا اَیْمَانَکُمْط کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیَاتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ) [ المائدۃ : 89] ” اللہ تعالیٰ تمہاری قسموں میں لغو قسم پر تم سے مؤاخذہ نہیں فرماتا لیکن مؤاخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو مضبوط کردو۔ اس کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا کھلانا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھروالوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا پہنچانایا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے اور جس کو مقدور نہ ہوتوتین دن کے روزے رکھے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھالو اور اپنی قسموں کا خیال رکھو۔ اللہ تعالیٰ تمہاریلیے اپنے احکام اس لیے بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو۔ “ مسائل 1۔ نیکی اور اصلاح بین الناس سے رکنے یا روکنے کے لیے قسم اٹھانا جائز نہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ بےارادہ قسموں پر مؤاخذہ نہیں کرتا۔ 4۔ عزم کے ساتھ اٹھائی ہوئی قسم پر مؤاخذہ ہوگا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی حوصلے اور معاف کرنے والا ہے۔ 6۔ بیوی سے ایلاء کی مدت چار ماہ ہے۔ 7۔ ایلاء کا معنی ہے بیوی سے بائیکاٹ کرنا۔ تفسیر بالقرآن جھوٹی قسم کا گناہ : 1۔ قسم کو ڈھال نہ بنائیں۔ (البقرۃ : 224) 2۔ قسموں کو پورا کرنا چاہیے۔ (النمل : 91) 3۔ ناجائز قسموں پر عمل نہ کیا جائے۔ (التحریم : 1، 2) 4۔ صدقہ نہ دینے کی قسم ممنوع ہے۔ (النور : 22) 5۔ غلط قسموں کے ذریعے مال بٹورنے والوں کا انجام کیا ہوگا ؟ (آل عمران : 77) 6۔ جھوٹی قسمیں کھانے والوں کا انجام۔ (التوبۃ : 95) 7۔ بلا قصد قسموں پر مؤاخذہ نہیں۔ (المائدۃ : 89) قسم کی وجہ سے بیوی سے علیحدگی کی عدّت : 1۔ عورتوں سے علیحدگی کی قسم کی مدت چارماہ ہے۔ (البقرۃ : 226) 2۔ چار ماہ کے بعد رجوع ہے یا طلاق دینا ہوگی۔ (البقرۃ : 226، 227)
Ayah 2:228

وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ یَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِیْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا١ؕ وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:228 in the Quran reader

طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں اور اگر وہ اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں ان کے لیے حلال نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو ان کے رحم میں پیدا کیا اسے چھپائیں۔ ان کے خاوند اس مدت میں ان کی واپسی کے زیادہ حق دار ہیں اگر ان کا ارادہ اصلاح کا ہو۔ اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردوں کے حق ہیں اچھے انداز کے ساتھ۔ البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا غالب، خوب حکمت والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : عورتوں کے متعلقہ مسائل کا بیان جاری ہے۔ اگر ایلاء کرنے والے نے طلاق دینے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے تو مطلقہ عورت کو تین حیض انتظار کرنا چاہیے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے سمیع وعلیم کی صفات کا تذکرہ فرماکر ایک قسم کی تنبیہ کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ طلاق تک نوبت پہنچنے میں خاوند ‘ بیوی اور خاندان کے کس کس آدمی کا کتنا ہاتھ ہے لہٰذا تمہیں خوب سمجھ سوچ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ رسول معظم ﷺ کا ارشاد ہے : (ثَلَاثٌ جِدُّھُنَّ جِدٌّ وَھَزْلُھُنَّ جِدٌّ النَّکِاحُ وَالطَّلَاقُ وَالرَّجْعَۃُ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الطلاق، باب ماجاء فی الجد والھزل فی الطلاق ] ” تین کام ایسے ہیں جو حقیقتاً اور بطور مذاق بھی ثابت ہوجاتے ہیں۔ نکاح، طلاق اور رجوع۔ “ یہاں مطلقہ عورت سے مراد وہ عورت ہے جسے طلاق رجعی ہو۔ رجعی کا معنٰی ہے جس میں میاں بیوی کو آپس میں رجوع کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ ایسی مطلقہ کو تین حیض انتظار کرنا چاہیے۔ یہاں عورت کو بالخصوص یہ ہدایت کی جارہی ہے کہ اگر وہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہے تو جو کچھ اس کے رحم میں ہے اسے ہرگز نہیں چھپانا چاہیے۔ کیونکہ عورت کے حاملہ ہونے کا صرف اسی کو علم ہوسکتا ہے۔ خاص کر ابتدائی ایام میں اس کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں ہو تاکہ وہ خالی الرحم ہے یا صاحب امید ہے۔ اسے اللہ اور آخرت کا واسطہ دے کر احساس دلایا جارہا ہے کہ اسے آگے نکاح کرنے کے لیے یہ خیانت نہیں کرنا چاہیے۔ اس طرح کرنا نہ صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی ہے بلکہ رحم کی کیفیت کو چھپاتے ہوئے کسی دوسرے سے نکاح کرتی ہے تو وہ اس حرکت کے ساتھ کئی بھاری جرائم کا ارتکاب کرے گی۔ پہلا جرم تو یہ ہے کہ اس طرح اس کا دوسرے شخص سے نکاح کرنا ہی ناجائز ہے۔ دوسرا جرم یہ ہے کہ اس کے رحم میں جو بچہ ہے اس کی ولدیت کا معاملہ بھی خلط ملط ہوجائے گا۔ کیونکہ ایسے بچے کی ولدیت کا حقیقی علم ہوجائے تو وہ دونوں طرف سے وراثت سے محروم ہوجائے گا۔ بیوی کا پہلاخاوند اس لیے اس بچے کو اپنا وارث نہیں بنائے گا کہ اس کی ماں نے طلاق کے وقت اسے بتلانے سے انکار کردیا تھا عورت کا موجودہ خاوند انکار کرنے میں اس لیے حق بجانب ہوگا کہ حقیقتًا وہ اس کا بچہ ہی نہیں۔ اسی طرح آگے چل کر یہ فیصلہ کرنا بھی مشکل ہوگا کہ یہ بچہ یا بچی کس کے لیے محرم ہے ؟ اگر حاملہ ہونے کے باوجودعورت اپنا رحم خالی بتلاتی ہے تاکہ وہ کسی دوسرے سے نکاح کرسکے جب کہ اس کی عدّت وضع حمل ہے تو غلط بیانی سے کام لے کر اپنے خاوند کو رجوع کے حق سے محروم کرتی ہے اور بچے کے نسب کو خلط ملط کرتی ہے۔ جو شرعی طور پر خاوند اور اس کے خاندان کے ساتھ خیانت کے مترادف ہے۔ اس لیے اللہ اور آخرت کے نام سے اسے تاکید کی جارہی ہے کہ اسے اس معاملے کو چھپانا نہیں چاہیے۔ اگر اس کا خاوند طلاق رجعی کی مدت میں عدت گزرنے کے بعد نکاح کی خواہش کرے تو اس کو عقد ثانی کرنے کا زیادہ حق پہنچتا ہے بشرطیکہ وہ باہمی طور پر اپنی اصلاح کا ارادہ رکھتے ہوں۔ یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق ٹھہرائے ہیں تاہم مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ فضیلت حاصل ہے کیونکہ مرد خاندان کی اکائی اور کنبے کا کفیل ہوتا ہے۔ رسول معظم کا ارشاد ہے کہ جان بوجھ کر نسب کو خلط ملط کرنا حرام ہے۔ (عَنْ رُوَیْفِعِ بْنِ ثَابِتِ الْاَنْصَارِیِّ ؓ قَالَ کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ حِیْنَ افْتَتَحَ حُنَیْنًا فَقَامَ فِیْنَا خَطِیْبًا فَقَالَ : لَا یَحِلُّ لِإمْرِی ءٍ یُّؤْمِنُ باللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ أَنْ یَّسْقِیَ مَاءَ ہٗ زَرْعَ غَیْرِہٖ الخ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب النکاح، باب فی وطء السبایا ] ” حضرت رویفع بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں کہ فتح حنین کے موقعہ پر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا۔ آپ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے کے لیے یہ بات حلال اور جائز نہیں کہ وہ اپنے پانی سے کسی اور کی کھیتی سیراب کرتا پھرے۔ “ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ مَنِ ادَّعٰی إِلٰی غَیْرِ أَبِیْہِ أَوِ انْتَميٰ إِلٰی غَیْرِ مَوَالِیْہِ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ الْمُتَتَابِعَۃُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب الأدب، باب فی الرجل ینتمی الخ ] ” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے جس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کے باپ کو اپنا باپ بنانے کا دعو ٰی کیا یا کسی نے اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کے آقا کی طرف اپنے آپ کو منسوب کیا تو اس پر قیامت کے دن تک لگا تار ” اللہ “ کی لعنت ہوتی رہے گی۔ “ مسائل 1۔ مطلقہ عورت کی عدّت تین حیض ہے۔ 2۔ مطلقہ عورت کو اپنے رحم کی حالت نہیں چھپانا چاہیے۔ 3۔ طلاق رجعی کی عدّت گزرنے کے بعد پہلا خاوندنکاح کرنے کا زیادہ حق دا رہے۔ 4۔ میاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق ہیں۔ 5۔ خاوندوں کا بیویوں پر درجہ بلند ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔ تفسیر بالقرآن عدّت کے مسائل : 1۔ مطلقہ کی عدّت تین حیض ہے۔ (البقرۃ : 228) 2۔ حیض نہ آنے کی صورت میں عدّت تین ماہ ہے۔ (الطلاق : 4، 5) 3۔ بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ (البقرۃ : 234) 4۔ حاملہ کی عدّت وضع حمل ہے۔ (الطلاق : 4) 5۔ عدّت کے دن گننے چاہئیں۔ (الطلاق : 1) 6۔ عورت شوہر کے گھر عدّت گزارسکتی ہے۔ (الطلاق : 1) 7۔ خاوند کے ہاتھ لگائے بغیر طلاق دینے کی صورت میں عدّت نہیں۔ (الاحزا ب : 49) 8۔ عدّت والی حاملہ ہو تو بچہ جنم دینے تک مکان اور نفقہ کی حق دار ہے۔ (الطلاق : 6) 9۔ عدّت والی حمل نہ چھپائے۔ (البقرۃ : 228) 10۔ عدّت میں منگنی کا اشارہ کرنے میں گناہ نہیں۔ (البقرۃ : 235) 11۔ دورانِ عدّت نکاح جائز نہیں۔ (البقرۃ : 235)
Ayah 2:229

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ١۪ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْئًا اِلَّاۤ اَنْ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:229 in the Quran reader

طلاق دو مرتبہ ہے پھر یا تو اچھے انداز سے رکھنا ہے یا احسان کے ساتھ چھوڑ دینا ہے اور تمہارے لیے جائز نہیں کہ جو تم نے ان عورتوں کو دیا ہے اس میں سے کچھ بھی واپس لو۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ دونوں کو اللہ کی حدیں قائم نہ رکھنے کا اندیشہ ہو ‘ اس لیے اگر تمہیں ڈر ہو کہ یہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت رہائی پانے کے لیے کچھ دے دے۔ اس میں دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔ یہ اللہ کی حدود ہیں خبر دار ان سے آگے نہ بڑھنا اور اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والے لوگ ہی تو ظالم ہیں

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ عربوں نے عورت کے لیے طلاق کو کنددھار آلہ بنا لیا تھا۔ ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دیتا جب اس کی عدّت ختم ہونے کے قریب آتی تو وہ اس سے رجوع کرلیتا تھا۔ اس طرح باربار طلاق دیتا اور رجوع کرتا یہاں تک کہ اس کو اسی حالت پر رہنے دیتا۔ اس حالت میں نہ وہ بیوی کے طور پر گھر میں زندگی بسر کرتی اور نہ ہی اس کی جان چھوٹتی۔ انہی خیالات کے تحت ایک انصاری صحابی ؓ نے ایک دن اپنی بیوی سے کہا کہ میں تمہیں ایسی سزادوں گا جس سے چھٹکارا پانا تیرے بس کا روگ نہیں ہوگا۔ اس نے عرض کیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ انصاری نے کہا کہ میں ہر طلاق کے بعد عدّت گزرنے سے پہلے رجوع کرتا رہوں گا تاکہ تو اسی کش مکش میں مبتلا رہے۔ یہ سزا سن کر بیچاری کانپ اٹھی اور موقع پاتے ہی رسول اکرم ﷺ کے گھر پہنچی۔ آپ گھر میں موجود نہ تھے حضرت عائشہ ؓ سے عرض کیا کہ میرے ساتھ یہ ظلم ہونے والا ہے۔ مجھے ان حالات میں کیا کرنا چاہیے۔[ رواہ الترمذی : ابواب الطلاق واللعان، باب ماجاء فی طلاق المعتوہ ] اس صورت حال پر رسول کریم ﷺ پر وحی نازل ہوئی کہ آج کے بعد مرد کو صرف دو رجعی طلاقیں دینے کا حق ہوگا۔ اگر وہ اس دوران رجوع کرتا ہے تو ٹھیک ورنہ تیسری طلاق کے بعد نکاح ختم ہوجائے گا اور مردوں کے لیے یہ بھی جائز نہیں کہ جو کچھ انہوں نے اپنی بیویوں کو بھلے وقت میں دیا ہے وہ ان سے واپسی کا مطالبہ کریں۔ اگر دونوں اس بات کا خطرہ محسوس کریں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ اخلاقی حدود کا احترام نہیں کرسکیں گے۔ ایسی صورت میں عورت حق مہر واپس کرے یا مزید کوئی چیز دے کر طلاق حاصل کرلے۔ اس لین دین میں دونوں پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود ہیں جن میں کسی صورت بھی تجاوز نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنی متعین کردہ حدود کو اس لیے واضح فرماتا ہے کہ تم احترام کرو اور ان کا حدود اربعہ سمجھ جاؤ۔ اسلام کے نظام معاشرت اور عائلی قوانین میں اس قدر توازن برقرار رکھا گیا ہے کہ باوجود اس کے کہ مرد مرتبے اور اختیارات کے لحاظ سے عورتوں پر ناظم اور نگران بنائے گئے ہیں لیکن مرد کو اس طرح کے اندھا دھند اختیارات نہیں دیے گئے کہ وہ آزاد اور محصنات عورتوں کو لونڈیاں بناڈالے۔ بلکہ اس حکم خدا وندی میں عورت کو بھی ایک درجہ اختیار دیا گیا ہے کہ اگر وہ غیر جذباتی انداز اور پوری سوچ وبچار کے بعد اس فیصلے پر پہنچتی ہے کہ میرا اس خاوند کے ہاں اب رہنا مشکل ہوگیا ہے تو اس صورت حال میں عورت کو طلاق لینے کا حق دیا گیا ہے جسے شریعت کی زبان میں خلع کہا جاتا ہے۔ خلع کا مطلب ہے کہ عورت طلاق لینا چاہتی ہے تو خاوند کے مطالبہ پر اسے اس کی کچھ نہ کچھ قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ یہ قدغن اس لیے لگائی گئی کہ عورت جذباتی اور مرد کے مقابلے میں معاشرتی حالات کو پوری طرح نہیں جانتی تاکہ وہ خلع حاصل کرنے کے لیے اچھی طرح غوروخوض کرلے۔ ایسا ہی واقعہ رسول محترم ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا کہ ثابت بن قیس ؓ کی بیوی نے آپ کی خدمت میں عرض کیا (یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! ثَابِتُ بْنُ قَیْسٍ مَا أَعْتِبُ عَلَیْہِ فِیْ خُلُقٍ وَلَا دِیْنٍ وَلٰکِنِّیْ أَکْرَہُ الْکُفْرَ فِی الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ أَتَرُدِّیْنَ عَلَیْہِ حَدِیْقَتَہٗ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِقْبَلِ الْحَدِیْقَۃَوَطَلِّقْھَا تَطْلِیْقَۃً ) [ رواہ البخاری : کتاب الطلاق، باب الخلع وکیف الطلاق فیہ ] ” اے اللہ کے رسول ﷺ ! میں ثابت بن قیس کے دین اور اخلاق میں کوئی نقص محسوس نہیں کرتی لیکن اسلام میں کفر کو ناپسند کرتی ہوں۔ آپ نے پوچھا کیا تو اس کا باغ اسے واپس لوٹا دے گی۔ اس نے اثبات میں جواب دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ثابت باغ قبول کرو اور اسے طلاق دے دو ۔ “ لیکن اس کے باوجود عورتوں کو یہ مسئلہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ جو عورت بغیر کسی عذر کے خلع مانگتی ہے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہوگی۔[ رواہ أبود اوٗد : کتاب الطلاق، باب ماجاء فی المختلعات ] مسائل 1۔ طلاق رجعی دو مرتبہ ہے۔ 2۔ بیوی کو دئیے ہوئے تحائف واپس نہیں لینے چاہییں۔ 3۔ عورت خاوند کے مطالبہ پر کچھ نہ کچھ دے کر خلع حاصل کرسکتی ہے۔ 4۔ اللہ کی حدود میں تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ 5۔ اللہ کی حدود کو پامال کرنے والے ظالم ہیں۔
Ayah 2:230

فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ١ؕ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 2:230 in the Quran reader

پھر اگر اس کو تیسری بار طلاق دے دے تو اب اس کے لیے حلال نہیں جب تک کہ وہ عورت اس کے سوا دوسرے سے نکاح نہ کرے۔ پھر اگر وہ بھی طلاق دے دے تو ان دونوں کو باہم رجوع کرلینے میں کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ یہ یقین کرلیں کہ اللہ کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں جنہیں وہ علم والوں کے لیے بیان کرتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ اگر میاں بیوی کے درمیان اکٹھا رہنے کی کوئی شکل باقی نہ رہے اور عورت کو تیسری بار طلاق بھی دے دی جائے تو پھر وہ آپس میں رجوع نہیں کرسکتے کیونکہ ایسی طلاق کو طلاق مغلظہ کہتے ہیں۔ اب ان کا میاں بیوی بن کر رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ سوائے اس کے کہ یہ عورت کسی دوسرے کے ساتھ نکاح کرے اور اس نکاح میں یہ شرط ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ میں اتنی مدت کے بعد تجھ سے طلاق حاصل کروں گی یا اس کا بننے والا خاوند اس ارادے کے ساتھ نکاح کرے کہ میں مجامعت کرنے کے بعد اسے طلاق دے دوں گا۔ ایسے ملاپ اور نکاح کو حدیث میں حلالہ کہا گیا ہے اور حلالہ کرنے اور کروانے والے پر رسول معظم ﷺ نے لعنت کی ہے۔ [ رواہ أبوداوٗد : کتاب النکاح، باب فی التحلیل ] اس طرح کا نکاح زنا کے زمرے میں آتا ہے اور اس انداز سے دی ہوئی طلاق پہلے خاوند کے ساتھ نکاح کرنے کا جواز پید انہیں کرسکتی۔ قرآن مجید کے نقطۂ نگاہ سے تین طلاقیں ہوجانے کے بعد پہلے خاوند سے نکاح اس صورت میں جائز ہوگا جب یہ خاوند کسی جبر اور پیشگی طے شدہ بات یا نیت کے بغیر صرف باہمی نباہ نہ ہونے کی صورت میں طلاق دے پھر اس عورت کا پہلے خاوند کے ساتھ اس شر ط کے ساتھ نکاح ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں خلوص نیت کے ساتھ یہ عہد کریں کہ آئندہ وہ اللہ تعالیٰ کی متعین کردہ حدود کا پوری طرح احترام کریں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنی حدود کو اس لیے واضح اور کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ لوگ ان کا احترام کریں۔ مسائل 1۔ طلاق مغلظہ کے بعد نکاح نہیں ہوسکتا۔ 2۔ دوسرا خاوند بلا شرط نکاح اور طلاق دے تو پہلے خاوند سے نکاح ہوسکتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ اپنی حدود اس لیے بیان کرتا ہے تاکہ لوگ سمجھ جائیں اور ان کا احترام کریں۔
Ayah 2:231

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ١۪ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا١٘ وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:231 in the Quran reader

اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت پوری کرنے پر آجائیں تو اب انہیں اچھی طرح بساؤ یا بھلائی کے ساتھ الگ کر دو اور انہیں تکلیف اور ظلم و زیادتی کی غرض سے نہ روکو۔ جو شخص ایسا کرے گا اس نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اور تم اللہ کے احکام کو ہنسی مذاق اور کھیل تماشا نہ بناؤ اور اللہ کی جو نعمت تم پر ہے اسے اور جو کتاب و حکمت اس نے نازل فرمائی ہے جس سے تمہیں نصیحت کر رہا ہے اسے بھی یاد رکھو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ بیوی کو طلاق دینا جائز قرار دینے کے باوجود اسلام میں اس قدر مشکل بنا دیا گیا ہے کہ آدمی طلاق دینے سے پہلے بار بار اس پر غور اور اس کے مضرات سمجھنے کی کوشش کرے۔ کیونکہ شریعت کا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ جس حد تک ممکن ہو میاں بیوی کے درمیان یہ بابرکت اور پاکیزہ بندھن ٹوٹنا نہیں چاہیے۔ رسول معظم ﷺ فرمایا کرتے تھے : ( أَ بْغَضُ الْحَلَالِ إِلَی اللّٰہِ الطَّلَاقُ ) [ رواہ أبو داوٗد : کتاب الطلاق ‘ باب فی کراھیۃ الطلاق ] ” اللہ تعالیٰ کے ہاں طلاق جائز ہونے کے باوجود ناپسندیدہ عمل ہے۔ “ لہٰذا اگر میاں بیوی کے درمیان ناچاقی اور نااتفاقی کا ماحول پیدا ہوجائے تو اس خلیج کو پاٹنے اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے یکے بعد دیگرے کئی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ ان پر عمل کیے بغیر کوئی طلاق دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک طرح کا مجرم تصور ہوگا۔ کیونکہ عام تعلقات اور رشتہ داریوں کے بارے میں ارشاد ہے کہ جس نے رشتہ داری اور صلہ رحمی کو منقطع کیا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو اپنے رشتۂ رحمت سے کاٹ دے گا۔ [ رواہ البخاری : کتاب الادب، باب من وصل وصلہ اللّٰہ ] شریعت نے طلاق سے پہلے جو اقدامات تجویز فرمائے ہیں وہ مرحلہ وار ایک طویل سلسلہ ہے جس کا اختصار پیش کیا جاتا ہے۔ بیوی کو مسلسل نصیحت کرنا۔ بیوی کی عادت پسند نہیں تو پھر بھی گزارا کرنا۔ بستر الگ کردینا۔ ہلکی پھلکی سزا دینا۔ فریقین کے خاندان میں سے دو ثالث مقرر کرنا۔ طلاق طہر کی حالت میں دینا۔ مطلقہ اپنے خاوند کے گھر میں عدّت گزارنے کی مجاز ہے۔ حاملہ ہونے کی صورت میں وضع حمل تک اپنے خاوند کے گھر رہنے کا اسے حق دینا ہے۔ اس صورت میں وضع حمل تک خاوند اپنی بیوی کے نان ونفقہ اور دیگر ضروریات کا ذمہ دار ہوگا۔ طلاق رجعی کی صورت میں رجوع کرنے کا حق رکھتا ہے۔ تاکہ نباہ کی کوئی نہ کوئی شکل پیدا ہوجائے اور انہیں بار بار سمجھنے ‘ سوچنے اور حالات کو نارمل کرنے کا موقع میسر آئے یہ سب کے سب اقدامات اگر بےنتیجہ ثابت ہوتے ہیں تو پھر حکم ہے کہ اچھے طریقے کے ساتھ اسے الوداع کیا جائے اور خاوند کے لیے حکم ہے کہ وہ عورت کو تکلیف دینے کے لیے عورت کے آگے نکاح کرنے میں کسی قسم کی منفی حرکت اور رکاوٹ پیدا نہ کرے۔ جس نے ایسا کیا حقیقتاً وہ اپنے آپ پر ظلم کرے گا۔ ظاہر ہے کوئی عقل مند اپنے آپ پر ظلم نہیں کیا کرتا اپنے آپ پر ظلم کا معنیٰ ہے دنیا میں اس کی عزت میں فرق آئے گا اور قیامت کے دن پکڑ ہوگی اس ظلم سے باز رکھنے کے لیے مختلف انداز سے چار دفعہ سمجھایا گیا ہے۔ جب کہ پچھلی آیات میں میاں بیوی کے درمیان اخلاقی قدروں اور ازدواجی بندھن کو حدود اللہ قراردیا گیا ہے۔ یہاں انتباہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو مذاق سمجھنے کی جرأت نہ کرنا۔ اس نے جو تمہیں باہم رہنے کے اصول اور تنازعات ختم کرنے کے ضابطے اور اکٹھا رہنے کے بار بار مواقع فراہم کیے ہیں۔ یہ سراسر اس کی طرف سے انعامات ہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اپنی کتاب اور پر حکمت احکام اس لیے عطا فرماتا ہے کہ وہ ان سے استفادہ اور نصیحت حاصل کرے۔ پھر انتباہ کرتے ہوئے اپنی ذات سے ڈرایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈر کر رہنا سیکھو اور جانو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری گھریلو اور پبلک زندگی کی ہر ہر حرکت سے واقف ہے۔ مسائل 1۔ عدّت کے دوران عورت کو اچھے انداز سے رکھنا یا اچھے انداز سے فارغ کرنا چاہیے۔ 2۔ عورت کو کسی دوسرے کے ساتھ نکاح کرنے سے روکنا اپنے آپ پر ظلم کرنا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو مذاق نہیں بنانا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات کو یاد رکھنا چاہیے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نے کتاب و حکمت اس لیے نازل فرمائے کہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ 6۔ ہر دم اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے کیونکہ وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے
Ayah 2:232

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:232 in the Quran reader

اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت پوری کرلیں تو انہیں ان کے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب کہ وہ آپس میں دستور کے مطابق رضامند ہوجائیں۔ یہ نصیحت انہیں کی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزگی اور بہترین صفائی کا باعث ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ اس سے پہلے طلاق رجعی کا بیان جاری ہے کہ جس عورت کو طلاق رجعی دی جائے اور وہ اپنی عدت گزارلے تو کسی دوسرے کے ساتھ نکاح کرنے میں سابقہ خاوند رکاوٹ نہ بنے۔ یہاں اس بات کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ طلاق رجعی کی صورت میں اگر مطلقہ عورت کی عدت گزرجائے اب میاں بیوی آپس میں اچھے انداز میں رہنے کا عزم کرتے ہوئے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو ولی کو بھی اس نکاح میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے شخص کے لیے نصیحت ہے جو حقیقتاً دل کی گہرائیوں سے اللہ اور آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ فرمایا یہی صورت تمہارے لیے مناسب اور بہتر ہے۔ کیونکہ انہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا بھالا ہوا ہے اور وہ ایک عرصہ اکٹھے رہے ہیں اور اولاد ہونے کی صورت میں تو نہایت ہی مستحسن فیصلہ ہوگا۔ خاص کر جب انہوں نے ماضی کی تلافی اور آئندہ اچھے انداز سے رہنے کا عہد کرلیا ہو تو یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ کوئی دوسرا راستہ تلاش کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے جب کہ لوگوں کو حالات کا کماحقہ علم نہیں ہوتا۔ لہٰذا ایسی عورتوں کو اپنے خاوندوں کے ساتھ نکاح کرنے سے ہرگز نہیں روکنا چاہیے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اس قسم کا واقعہ پیش آیا : (عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ ؓ أَنَّہٗ زَوَّجَ أُخْتَہٗ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَکَانَتْ عِنْدَہٗ مَاکَانَتْ ثُمَّ طَلَّقَھَا تَطْلِیْقَۃًلَمْ یُرَاجِعْھَا حَتَّی انْقَضَّتِ الْعِدَّۃُ فَھَوِیَھَا وَھَوِیَتْہُ ثُمَّ خَطَبَھَا مََعَ الْخُطَّابِ فَقَالَ لَہٗ یَا لُکَعْ أَکْرَمْتُکَ بِھَا وَزَوَّجْتُکَھَا فَطَلَّقْتَھَا وَاللّٰہِ لَاتُرَاجِعُ إِلَیْکَ أَبَدًا آخِرُ مَا عَلَیْکَ قَالَ فَعَلِمَ اللّٰہُ حَاجَتَہٗ إِلَیْھَا وَحَاجَتَھَا إِلٰی بَعْلِھَا فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی (وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَھُنَّ ) إِلٰی قَوْلِہٖ (وَأَنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ ) فَلَمَّا سَمِعَھَا مَعْقِلٌ قَالَ سَمْعًا لِّرَبِّیْ وَطَاعَۃً ثُمَّ دَعَاہُ فَقَالَ أُزَوِّجُکَ وَأُکْرِمُکَ ) [ رواہ الترمذی : کتاب التفسیر، باب ومن سورة البقرۃ ] ” حضرت معقل بن یسار ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے دور میں مسلمانوں کے ایک آدمی سے اپنی بہن کی شادی کردی وہ اس کے پاس کچھ عرصہ رہی پھر اس کے خاوندنے اسے ایک طلاق دی اور عدت بھی گزر گئی لیکن رجوع نہ کیا۔ پھر میاں بیوی ایک دوسرے کو چاہنے لگے اس آدمی نے نکاح کے لیے آدمی بھیجا تو معقل بن یسار ؓ نے کہا ‘ کمینے ! میں نے تیری عزت کرتے ہوئے اس کے ساتھ شادی کی اور تو نے اسے طلاق دے دی اللہ کی قسم ! اب کبھی بھی یہ تیرے پاس نہیں لوٹے گی یہ آخری باری تھی۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں میاں بیوی کی خواہش کے پیش نظر یہ آیت نازل فرمائی (وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَھُنَّ ) جب معقل بن یسار ؓ نے یہ آیت سنی تو فرمایا کہ میں نے اپنے رب کی بات کو سنا اور مان لیا۔ پھر انہوں نے اس آدمی کو بلایا اور کہا میں تیرا نکاح بھی کرتا ہوں اور عزت بھی۔ “ تاہم عقد ثانی کی صورت میں اگر عورت چاہے تو وہ نیا حق مہر اور شرائط مقرر کرسکتی ہے کیونکہ پہلا نکاح ختم ہوجانے کی وجہ سے دوسرے نکاح کی ضرورت پیش آتی ہے۔ مسائل 1۔ عدّت پوری ہونے کے بعد عورتیں اپنے خاوندوں سے نکاح کرنا چاہیں تو انھیں روکنا نہیں چاہیے۔ 2۔ نصیحت اس شخص پر اثر انداز ہوتی ہے جو اللہ اور آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے جبکہ لوگ بہت کمعلم رکھتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ 1۔ اللہ دلوں کے راز جانتا ہے۔ (ہود : 5) 2۔ جوا للہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ (البقرہ : 216) 3۔ اللہ کا علم فرشتے بھی نہیں جانتے۔ (البقرہ : 30) 4۔ ہر گرنے والا پتا اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ (الانعام : 59) 5۔ اللہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے۔ (المومن : 19) 6۔ اللہ خشکی اور تری کی پوشیدہ چیزوں سے واقف ہے۔ (الانعام : 59)
Ayah 2:233

وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ١ؕ وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ١ۗ وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ١ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا١ؕ وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:233 in the Quran reader

اور مائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال دودھ پلائیں جن کا ارادہ دودھ پلانے کی مدت پوری کرنے کا ہو۔ اور باپ کے ذمہ دستور کے مطابق ان کا روٹی کپڑا ہے۔ ہر شخص کو اتنی ہی تکلیف دی جاتی ہے جتنی اس کی طاقت ہو۔ ماں کو اس کے بچہ کی وجہ سے یا باپ کو اس کی اولاد کی وجہ سے کوئی تکلیف نہ دی جائے۔ وارثوں پر بھی اس جیسی ذمہ داری ہے ‘ پھر اگر ماں باپ ‘ اپنی رضا مندی اور باہمی مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان دونوں پر کچھ گناہ نہیں اور اگر تمہارا ارادہ اپنی اولاد کو دودھ پلوانے کا ہو تو بھی تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تم ان کو دستور کے مطابق جو طے کیا ہو ان کے حوالے کر دو ۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ طلاق ہونے کی صورت میں ماں کی گود میں نو نہال اور معصوم بچہ ہو تو اس کا کون محافظ اور نگران ہونا چاہیے ؟ بالخصوص جب کہ بچہ کھانا کھانے اور اپنے ہاتھ سے پانی پینے کے قابل نہ ہو۔ رب کریم نے اس نونہال کی پرورش اور نگرانی کا ایسا انتظام فرمایا کہ جس میں ماں کو بچے کی وجہ سے تکلیف نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی باپ کو تنگ کرنے کے لیے ماں بچے کا بہانہ بنائے بلکہ باہمی مشاورت کے ساتھ بچے کی رضاعت اور حفاظت کا معاملہ طے ہونا چاہیے۔ اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ طلاق ہونے کے باوجود سابقہ میاں بیوی اور دونوں کے خاندانوں کے درمیان دشمنی کے بجائے ممکن حد تک قربت باقی رہنے کا امکان رہے گا۔ لہٰذا باہم رضامندی کے ساتھ ماں اپنے بچے کو مکمل دو سال دودھ پلائے اور اس دوران بچے اور اس کی والدہ کے کھانے پینے اور رہنے سہنے کے اخراجات بچے کے والد کے ذمّہ ہوں گے۔ والد کے فوت ہوجانے پر یہ ذمّہ داری وارث نبھائیں گے۔ کفالت کے سلسلے میں بھی اس اصول کو پیش نظر رکھا جائے کہ جس سے ایک دوسرے کو تکلیف پہنچانے کے بجائے خاوند عورت کی ضروریات کا خیال رکھے اور بچے کی ماں اپنے سابقہ خاوند کی مالی حیثیت کو سامنے رکھ کر اخراجات کا تقاضا کرے۔ پھر تیسری گنجائش یہ بھی رکھ دی گئی ہے کہ اگر بچے کا والد کسی وجہ سے اس کی ماں کا دودھ نہیں پلوانا چاہتا یا عورت کسی مجبوری یا آئندہ نکاح کے پیش نظر اپنے لخت جگر کو دودھ پلانے سے عاجز ہے تو ایسی صورت میں کسی دایہ کے ہاں بچے کی رضاعت کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔ بشرطیکہ دودھ پلانے والی کو اچھے انداز میں اس کا حق الخدمت ادا کیا جائے۔ یہاں اس مسئلہ کی وضاحت بھی فرمادی گئی کہ ماں اپنے بچے کو دو سال دودھ پلائے گی اور رضاعت کی مدت دو سال ہوگی۔ اس سے رضاعت کی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ میں نے معراج کی رات دیکھا کہ کچھ عورتوں کے پستانوں سے سانپ چمٹے ہوئے ہیں۔ میرے پوچھنے پر بتلایا گیا کہ یہ وہ مائیں ہیں جو بلاوجہ اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلاتی تھیں۔ [ سلسلۃ الصحیحۃ : للألبانی :3951] الحمد للہ جدید میڈیکل سائنس نے ثابت کردیا ہے کہ جو مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں وہ سینے کے کینسر سے محفوظ رہتی ہیں۔ آج اس کے لیے سالانہ واک کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں نے رضاعت کی مدت سورة الاحقاف کی آیت 15 سے استدلال کرتے ہوئے اڑھائی سال بتلائی ہے اس استدلال کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملتا۔ قرآن مجید کا اسلوب ہے کہ وہ ہر اہم مسئلہ کے بعد اللہ تعالیٰ کا خوف اور لوگوں کو اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر کیا کرو۔ کیونکہ وہ تمہاری ہر حرکت کو جاننے اور دیکھنے والا ہے۔ یہ تصور یہاں اس لیے دہرایا اور تازہ کیا گیا ہے کہ معصوم بچے اور اس کی مطلقہ ماں کے بارے میں وہی اچھا سلوک کرے گا جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہے۔ مسئلہ رضاعت رضاعت کی مدت دو سال ہے۔ (وَالْوَالِدَاتُ یُرْضِعْنَ أَوْلَادَھُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ ) [ البقرۃ : 233] ” مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں۔ یہ مدت مکمل دودھ پلانے کا ارادہ رکھنے والوں کے لیے ہے۔ “ ان سالوں میں بچہ جس عورت کا دودھ پیے گا وہ اس کی رضاعی ماں کہلائے گی اور جتنے رشتے حقیقی ماں کی وجہ سے اس پر حرام تھے اتنے ہی رضاعی ماں کی وجہ سے حرام ہوں گے۔ رسول محترم ﷺ کا ارشاد ہے : (یَحْرُ مُ مِنَ الرَّضَاعِ مَایَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الشھادات، باب الشھادۃ علی الأنساب ] ” جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہیں وہ رضاعت کے سبب بھی حرام ہوجاتے ہیں۔ “ پردہ کی آیات کے نزول کے بعد حضرت عائشہ ؓ کے پاس افلحابو القعیس کا بھائی آیا تو حضرت عائشہ ؓ نے قسم اٹھا کر کہا کہ جب تک میں نبی کریم ﷺ سے نہ پوچھ لوں تب تک میں تجھے اپنے ہاں آنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ حضرت عائشہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے یہ بھی سوال کیا کہ مجھے تو ابو القعیس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے نہ کہ ابو القعیس کے بھائی نے آپ ﷺ نے فرمایا : (إِءْذِنِیْ لَہٗ فَإِنَّہٗ عَمُّکِ تَرِبَتْ یَمِیْنُکِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الأدب ] ” تیرے ہاتھ خاک آلودہ ہوں ! اسے اجازت دے کیونکہ وہ تیرا چچا ہے۔ “ ہاتھ آلودہ ہونا عرب کا محاورہ تھا جو تعجب دلانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ رضاعت کب تک ثابت ہوسکتی ہے ؟ اس مسئلہ میں صحابہ ؓ کی غالب اکثریت کا فیصلہ ہے کہ رضاعت اتنی مدّت کے دوران ہی ثابت ہوگی جتنی دیر تک بچے کو دودھ پلانے کی اجازت ہے۔ اور وہ قرآن مجید کے مطابق دو سال ہے :[ البقرۃ : 233] نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : (لَا یُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ إِلَّا مَافَتَقَ الْأَمْعَاءَ فِی الثَّدْیِ وَکَانَ قَبْلَ الْفِطَامِ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الرضاع، باب ماجاء ماذکرأن الرضاعۃ لاتحرم إلا فی الصغر ] ” رضاعت اس وقت ثابت ہوگی جب دودھ سے انتڑیاں سیر ہوجائیں اور یہ رضاعت دودھ چھڑانے کی مدت کے دوران ہے۔ “ (بچہ پانچ بار خوب سیر ہو کر دودھ پیئے تب رضاعت ثابت ہوگی کیونکہ حدیث میں پانچ بار کی شرط ہے ) مسائل 1۔ مائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال دودھ پلائیں۔ 2۔ دودھ پلانے کے دوران ماں اور بچے کے اخراجات خاوند کے ذمہ ہوں گے۔ 3۔ بچے کے بہانے میاں بیوی ایک دوسرے کو اذیت نہ پہنچائیں۔ 4۔ باپ کے فوت ہونے کی صورت میں اس کے وارث بیوہ اور اس کے بچے کی کفالت کے ذمہ دار ہوں گے۔ 5۔ میاں بیوی یا وارث باہمی رضامندی سے بچے کو دودھ دوسری عورت سے پلوانا چاہیں تو کوئی حرج نہیں۔ 6۔ دایہ کو اس کا حق ہر صورت ادا کرنا چاہیے۔ 7۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے کیونکہ وہ سب کے اعمال دیکھ رہا ہے۔ تفسیر بالقرآن رضاعت کے اصول : 1۔ مدت رضاعت دو برس ہے۔ (البقرۃ : 233) 2۔ دودھ پلانے والی کا نان ونفقہ اور کپڑے بچے کے والد کے ذمّے ہیں۔ (البقرۃ : 233) 3۔ دودھ پلانے میں کسی کو تکلیف نہ دی جائے۔ (البقرۃ : 233) 4۔ رضامندی سے بچے کی ماں کا دودھ چھڑانا گناہ نہیں۔ (البقرۃ : 233) 5۔ دودھ پلانے کے دوران مطلقہ کو اخراجات دینے چاہییں۔ (الطلاق : 6)
Ayah 2:234

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا١ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:234 in the Quran reader

تم میں سے جو لوگ بیویاں چھوڑ کر فوت ہوجائیں وہ عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن روکے رکھیں۔ پھر جب عدت پوری کرلیں تو جو اچھائی کے ساتھ وہ اپنے لیے کریں اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خبر دار ہے

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ یہاں ازدواجی اور معاشرتی مسائل کے تذکرہ میں ایک اور اہم مسئلہ کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے۔ جن عورتوں کے خاوندفوت ہوجائیں انہیں چار مہینے دس دن اسی گھر میں رہنا اور عدّت گزارنی چاہیے۔ جب وہ اپنی عدّت گزار لے تو اسے اپنے مستقبل کے بارے میں شریفانہ انداز میں فیصلہ کرنے کا حق دینا چاہیے۔ پھر خبردار فرمایا کہ بیوہ، اس کے لواحقین اور سب لوگوں کے اعمال سے اللہ تعالیٰ بہت اچھی طرح باخبر ہے۔ لہٰذا ہر کسی کو پوری ہوش مندی کے ساتھ اپنی ذمہ داری پوری کرنا چاہیے۔ بیوی کی چار مہینے دس دن عدت کے بارے میں اہل علم کے مختلف موقف ہیں۔ ایک جماعت کا کہنا ہے کہ یہ عدّت اس لیے مقرر کی گئی ہے تاکہ اچھی طرح معلوم ہوسکے کہ بیوہ صاحب امید ہے یا کہ خالی الرحم اور دوسروں کا خیال ہے کہ چار مہینے دس دن خاوند کی وفات پر اس کی بیوی افسوس کے طور پر گزارے گی جب کہ خاوند کے علاوہ کسی دوسرے کی وفات پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا شرعًا جائز نہیں۔ چار مہینے دس دن عدت ہر اس عورت کے لیے ہے چاہے فوت ہونے والے اس کے خاوند نے اس کے ساتھ مجامعت کی ہو یا نہ کی ہو ‘ بوڑھی ہو یا جوان۔ البتہ حاملہ کی عدّت بچہ جنم دینے تک ہے۔ [ الطلاق : 4] ایسی عورت اس کے بعد کسی دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے بیوہ عدّت کے دوران زیب وزینت، بناؤ سنگھار نہیں کرسکتی اور نہ ہی بلا ضرورت گھر سے باہر جاسکتی ہے۔ البتہ مجبوری کی حالت میں گھر تبدیل کرنا اور ضرورت کے تحت کام کاج کرنے کی اجازت ہے۔ ” جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میری خالہ کو طلاق دے دی گئی۔ اس نے اپنے باغ سے کھجوریں اتارنے کا ارادہ کیا تو ایک شخص نے اسے باہر نکلنے سے روک دیا۔ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں تو آپ نے فرمایا : اپنی کھجوریں اتارو ہوسکتا ہے کہ تم صدقہ کرو یا دوسرا نیکی کا کام کرو۔ “ [ رواہ مسلم : کتاب الطلاق، باب جواز خروج المعتدۃ ] مسائل 1۔ بیوہ کی عدّت چار مہینے دس دن ہے۔ 2۔ عدت پوری ہونے کے بعد عورت اپنے بارے میں فیصلہ کرسکتی ہے۔