Ayah 2:255فہم القرآن
ربط کلام : صاحب ایمان مخیر حضرات کو ان کے نیک اعمال اور صدقات کا بدلہ عطا کرنے والا اور ظالموں کو ٹھیک ٹھیک سزا دینے والا اللہ تعالیٰ ہے جس کی ذات اور صفات میں کوئی شریک نہیں۔ لہٰذا وہی دنیا و آخرت میں تمہارا مالک ‘ خالق اور نگران ہے۔ آخرت میں کوئی اس کے سامنے دم نہیں مار سکے گا۔ البتہ دنیا میں اس نے بطور آزمائش تمہیں کچھ اختیار دے رکھے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ کسی پر ہدایت مسلط نہیں کرتا۔ اس آیت مبارکہ کو آیت الکرسی کہا گیا ہے۔ کچھ اہل علم نے کرسی کا معنیٰ اللہ تعالیٰ کا اقتدار لیا ہے لیکن صحابہ اور تابعین کی اکثریت نے اس سے مراد کرسی لی ہے۔
اس آیت کی عظمت و فضیلت کے بارے میں رسول کریم ﷺ نے ابی بن کعب ؓ سے یوں ارشاد فرمایا :
” اے ابو منذر ! تجھے علم ہے کہ کتاب اللہ کی عظیم آیت کونسی ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے پھر دریافت فرمایا ابو منذر ! تو جانتا ہے کہ قرآن کی عظیم آیت کونسی ہے ؟ ابی بن کعب کہتے ہیں میں نے جواباً عرض کیا کہ (أَللّٰہُ لَاإِلٰہَ إِلَّا ھُوَ الْحَيُّ الْقَیُّوْمُ ) (یعنی آیت الکرسی) آپ نے میرے سینے پر تھپکی دیتے ہوئے فرمایا اے ابو منذر ! اللہ تجھے تیرا علم مبارک کرے۔ “ [ رواہ مسلم : کتاب صلوۃ المسافرین وقصرھا ]
اس عظیم آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے معبودِ حق ہونے کی چودہ صفات بیان فرمائی ہیں جو انسان، جنات، ملائکہ اور کائنات کی کسی چیز میں نہیں پائی جاتیں۔ گویا کہ وہ اپنی ذات اور صفات کے اعتبار سے بےمثال، لازوال اور لا شریک ہے۔
اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک ” اللہ “ کے بارے میں امام رازی نقل کرتے ہیں کہ یہ ” اَلَھْتُ اِلَی فُلاَنٍ “ سے مشتق ہے۔ اس کے معنی ہیں ” سَکَنْتُ اِلٰی فُلاَنٍ “ یعنی وہ ہستی جس کے نام سے سکون حاصل کیا جائے اور وہ معبود برحق ہے۔ زمین و آسمان اور پوری کائنات میں اس کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں وہی اِلٰہ واحد ہے۔
اہل علم نے لفظ اِلٰہ کے جتنے مصادر بیان کیے ہیں ہر ایک کا معنیٰ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور الوہیت کا کامل تصور رکھتا ہے۔ جس کے معانی ہیں اونچی شان والا، کائنات کی نظروں سے پوشیدہ، سب کی ضرورتیں پوری کرنے والا اور جس کی ذات سے پناہ طلب کی جائے۔ جس سے سب سے زیادہ محبت کی جائے اس کی عبادت کرنی چاہیے۔ اکیلا ہی عبادت کے لائق، ہمیشہ زندہ رہنے والا اور ہر چیز کو حیات بخشنے والا، ہر دم اور ہر لحاظ سے قائم رہنے والا اور جب تک چاہے کائنات کی ہر چیز کو قائم رکھنے والا۔ ایسی ذات جسے نہ اونگلاہٹ آئے اور نہ ہی اس کی ذات کے بارے میں نیند کا تصور کیا جاسکے۔ زمین و آسمان میں ذرّہ ذرّہ اسی کی ملکیت ہے۔ اس کی جناب میں اس کی اجازت کے بغیر کوئی بات اور سفارش کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا وہ سب کچھ جانتا ہے جو ہوچکا ‘ جو موجود ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے۔ اس کے علم سے کوئی کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتا سوائے اس کے جسے وہ خود کچھ عطا کرنا چاہے۔ اس کا اقتدار اور اختیار زمین اور آسمانوں پر ہمیشہ سے قائم ہے اور ہمیشہ قائم رہیگا۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے ان کی حفاظت سے اسے نہ تھکاوٹ ہوتی ہے اور نہ اکتاہٹ۔ وہ اپنے مقام و مرتبہ اور ذات وصفات کے لحاظ سے بلند وبالا اور رفعت و عظمت والا ہے۔
حضرت ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے ہر فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھی اسے جنت میں داخل ہونے سے صرف موت ہی مانع ہے۔[ صحیح الجامع الصغیر للألبانی : 6464]
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے صدقۂ فطر کی حفاظت پر مقرر کیا۔ ایک شخص آیا اور غلہ چوری کرنے لگا میں نے اس کو پکڑ لیا اور کہا : میں تجھے رسول اکرم ﷺ کے پاس لے جاؤں گا ؟ وہ کہنے لگا میں محتاج، عیالدار اور سخت تکلیف میں ہوں چناچہ میں نے اسے چھوڑ دیا۔ جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا : ابوہریرہ ! آج رات تمہارے قیدی نے کیا کہا ؟ میں نے عرض کی یارسول اللہ ! اس نے محتاجی اور عیالداری کا شکوہ کیا۔ مجھے رحم آیا تو میں نے اسے چھوڑ دیا۔ آپ نے فرمایا دھیان رکھنا وہ جھوٹا ہے وہ پھر تمہارے پاس آئے گا۔ چناچہ اگلی رات وہ پھر آیا اور غلہ اٹھانے لگا۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا آج تو ضرور میں تمہیں آپ ﷺ کے پاس لے جاؤں گا۔ وہ کہنے لگا مجھے چھوڑ دو میں محتاج اور عیالدار ہوں آئندہ نہیں آؤں گا۔ مجھے پھر رحم آگیا اور اسے چھوڑ دیا۔ صبح ہوئی تو آپ نے مجھے پوچھا ابوہریرہ تمہارے قیدی نے کیا کیا ؟ میں نے کہا یارسول اللہ ! اس نے سخت محتاجی اور عیالداری کا شکوہ کیا مجھے رحم آگیا تو میں نے اسے چھوڑ دیا۔ آپ نے فرمایا خیال رکھناوہ جھوٹا ہے وہ پھر آئے گا۔ چناچہ تیسری بار میں تاک میں رہا وہ آیا اور غلہ سمیٹنے لگا میں نے اسے پکڑ لیا۔ اس نے کہا مجھے چھوڑ دو میں تمہیں چند کلمے سکھاتا ہوں جو تمہیں فائدہ دیں گے۔ میں نے کہا وہ کیا ہیں ؟ کہنے لگا جب تو سونے لگے تو آیۃ الکرسی پڑھ لیا کر۔ اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ تیرا نگہبان ہوگا اور صبح تک شیطان تیرے پاس نہیں آئے گا۔ چناچہ میں نے اسے چھوڑ دیا۔ صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا تیرے قیدی نے آج رات کیا کیا ؟ میں نے آپ ﷺ کو ساری بات بتلادی تو آپ ﷺ نے فرمایا اس نے یہ بات سچی کہی حالانکہ وہ کذاب ہے۔ پھر آپ ﷺ نے مجھ سے کہا ابوہریرہ ؓ جانتے ہو تین راتیں کون تمہارے پاس آتارہا ہے ؟ میں نے عرض کی نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ شیطان تھا۔
[ رواہ البخاری : کتاب الوکالۃ، باب إذا وکل رجلا فترک الوکیل شیئا الخ ]
مسائل
9۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے پہلے اور بعد کے حالات جانتا ہے۔
10۔ اس کی مرضی کے بغیر اس کے علم سے کوئی کچھ حاصل نہیں کرسکتا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہمیشہ رہنے والا ہے :
1۔ ہر چیز تباہ ہوجائے گی صرف اللہ کی ذات کو دوام حاصل ہے۔ (الرحمن : 27)
2۔ اللہ کے علاوہ ہر شے ہلاک ہوجائے گی۔ (القصص : 88)
3۔ اللہ ہی ازلی اور ابدی ذات ہے۔ (الحدید : 3)
قیامت کے دن سفارش کے اصول :
1۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں ہوسکے گی۔ (البقرۃ : 255)
2۔ سفارش بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہوگی۔ (النبا : 38)
3۔ اللہ تعالیٰ اپنی پسند کی بات ہی قبول فرمائیں گے۔ (طٰہٰ : 109)
4۔ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کا حقدار نہ ہوگا۔ (یونس : 3)
5۔ سفارش کا اختیار اسی کو ہوگا جسے رحمن اجازت دے گا۔ (مریم : 87)
6۔ اگر رحمننقصان پہنچانا چاہے تو کسی کی سفارش کچھ کام نہ آئے گی۔ (یٰس : 23)
7۔ سفارشیوں کی سفارش ان کے کسی کام نہ آئے گی۔ (المدثر : 48)
8۔ وہی سفارش کرسکے گا جس کی سفارش پر رب راضی ہوگا۔ (الانبیاء : 28)
Ayah 2:256فہم القرآن
ربط کلام : قدرت و سطوت ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو منوانے کا جبری طریقہ اختیار نہیں فرمایا۔ اس فرمان میں واضح اشارہ ہے کہ توحید کا دوسرا نام دین ہے۔ اس کے بغیر نہ لوگوں کا دین صحیح اور پختہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی تعلق باللہ مضبوط ہو سکے گا عقیدہ توحید اپنانا مضبوط رسی تھامنے کے مترادف ہے جس طرح رسی تھامنے والا بھنور میں نہیں ڈوبتا۔ اسی طرح عقیدہ توحید پر قائم رہنے والا اختیار کرنے والا دنیا و آخرت کے مسائل اور مصائب میں نہیں ڈولتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی رہنمائی اور دستگیری کرنے والا ہے جبکہ شیطان اللہ کے منکروں کو جہالت کے اندھیروں میں دھکیلتا ہے۔
یہاں لفظ دین سے پہلی مراد اللہ تعالیٰ کی توحید ہے۔ اس کی نہایت مختصر مگر جامع تعریف آیت الکرسی میں کردی گئی ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور ہر چیز اس کے حکم کی غلام اور تابع فرمان ہے۔ کوئی اس کے سامنے دم نہیں مار سکتا کوئی راز اور بات اس سے مخفی نہیں ‘ نہ ہی وہ کسی بات سے غافل ہے۔ وہ ہمیشہ سے قائم دائم اور جب تک کسی چیز کو چاہے اسے زندہ اور قائم رکھنے والا ہے۔ زمین و آسمان کی حفاظت و نگرانی سے نہ تھکتا ہے اور نہ اکتاہٹ محسوس کرتا ہے۔ اس کی حکومت ہواؤں اور فضاؤں حتی کہ زمین کے ذرّے ذرّے اور آسمان کے چپّے چپّے پر قائم ہے۔ اس کے اقتدار و اختیار کی وسعتیں لامحدود ہیں۔ وہ ہر چیز پر بلند وبالا اور اپنی عظمت و سطوت قائم رکھے ہوئے ہے۔ اس کے باوجود اس نے اپنی ذات اور بات منوانے کے لیے جبر واکراہ کا انداز اختیار نہیں فرمایا۔ ذرا سوچیے کہ انسان نے دنیا میں آکر کون سے جرائم اور بغاوتیں نہیں کیں ؟ اگر اللہ تعالیٰ روکنا چاہتاتو اس کی قوت و طاقت سے کچھ بھی باہر نہ تھا لیکن اس نے ہدایت کو گمراہی سے کئی گنا واضح اور آسان فرما کر انسان کو سمجھایا کہ اگر تو اپنے رب کی ذات اور اس کی بات پر ایمان لے آئے تو تیرا رب کے ساتھ ایسا تعلق اور رشتہ قائم ہوجائے گا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ اس کی ذات اور فرمان کو بلا شرکت غیرے تسلیم کرتے ہوئے ہر شیطانی قوت کا انکار کرے۔ دنیا میں جتنے بھی حلف لیے جاتے ہیں ان میں حلف اٹھانے والا صرف یہی کہتا ہے کہ میں فلاں قانون، دستور اور سلطنت یا مملکت کا وفا دار رہوں گا۔ اسلام صرف اس شخص کا حلف تسلیم کرتا ہے جو پہلے غیر اللہ کا انکار کرے اور پھر اپنے خالق ومالک کی ذات وصفات کا اقرار کرے تب جا کر حلف مکمل اور آدمی حلقۂ اسلام میں داخل ہوتا ہے۔ جہاں تک دین میں جبر نہ کرنے کا تعلق ہے اس کے بارے میں کچھ لوگ تو واقعتاغلط فہمی میں مبتلا ہیں لیکن زیادہ تر غلط فہمی پیدا کرنے والے ہیں۔ غلط فہمی پیدا کرنے والے کوئی ان پڑھ، دیہاتی اور اجڈلوگ نہیں بلکہ نہایت تعلیم یافتہ، ترقی پسند اور اپنے آپ کو مہذب ترین سمجھنے والے ہیں۔ انہیں انفرادی طور پر دین کی دعوت دی جائے یا ملک میں نفاذ شریعت کی بات چلے تو وہ کہنا شروع کردیتے ہیں کہ جبرًا کسی کو مسجدوں کی طرف نہیں دھکیلا جاسکتا ‘ مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے ‘ اس میں حکومت کو بھی دخل اندازی کا کوئی حق نہیں اور جبری عبادت تو ویسے ہی قبول نہیں ہوتی۔ پھر یکدم اس آیت کریمہ کے الفاظ یا اس کے مفہوم کا حوالہ دیتے ہیں۔ بالخصوص حدود کے نفاذ کی بات ہو تو ان کو فوری خطرات لاحق ہوتے ہیں کہ اس طرح تو لوگوں کے ہاتھ کٹ جائیں گے۔ اسلام کے حوالے سے چوری کی روک تھام کی بات کی جائے تو وہ کہتے ہیں کہ پہلے لوگوں کے روزگار کا بندوبست کیا جائے۔ گویا کہ ان کے نزدیک جب تک ملک میں شہد کی نہریں نہ چل نکلیں کسی چور اور ڈاکو کو سزا نہیں ملنی چاہیے۔ کچھ جرأت مند بےدین تو حدود اللہ کو ویسے ہی وحشیانہ قانون قرار دیتے ہیں۔
سختی کا حکم
جہاں تک قانون اور حدود کا تعلق ہے تو دنیا میں کونسا ایسا ملک ہے جہاں چور، ڈاکو اور قاتل کو سزا دینے کی بجائے تمغۂ جرأت عطا کیا جاتا ہے ؟ ہر ملک میں ایسے لوگوں کو کچھ نہ کچھ سزائیں ضرور دی جاتی ہیں۔ حکومت اور انتظامیہ کے وجود کا مقصدہی ملک میں اجتماعی نظام کی حفاظت اور قانون کا نفاذ ہوا کرتا ہے تاکہ لوگ ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرسکیں۔ اگر کوئی قانون کا احترام نہیں کرتا اور اس پر قانون کا نفاذنہ کیا جائے تو حکومت اور مملکت کے اجتماعی نظام کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟ اس بات سے ہی اس حقیقت کو سمجھنا چاہیے کہ اگر اسلامی مملکت میں مجرم کو شریعت کے مطابق سزا نہ دی جائے تو پھر حدودو قصاص کی آیات اور احادیث کا کیا مقصد ہوگا ؟ اگر حدود نافذ کرنا حکومت کا لوگوں کے ذاتی معاملات میں مداخلت کرنا ہے تو پھر کیا لوگوں کو ایک دوسرے پر قانون نافذ کرنے کی اجازت دے دینی چاہیے یا معاشرے کو کھلا چھوڑ دینا چاہیے ؟ دین میں جبر نہ ہونے کا فقط اتنا ہی مفہوم ہے کہ غیر مسلم کو جبرًامسلمان نہیں بنایا جاسکتا۔ جہاں تک اس معاملہ میں ملت اسلامیہ کے کردار و اخلاق کا تعلق ہے مسلمان تقریباً نو سو سال تک مشرق سے مغرب اور جنوب سے شمال تک بلا شرکت غیرے حکمران رہے۔ کیا انہوں نے کسی معبد خانے، کلیسا اور آتش کدہ میں جا کر تلوار کی دھار اور نیزے کی نوک سے لوگوں کو مسلمان بنایا ؟ ہرگز نہیں ! ایسا کرنا تو درکنار انہوں نے دوسروں کے عبادت خانوں میں جا کر دعوت اسلام دینا بھی اخلاقیات کے منافی اور دوسروں کے حقوق میں مداخلت سمجھا تاکہ غیر مسلم جبر کا پہلو محسوس نہ کریں۔ یہاں تک کہ حالت جنگ میں بھی کسی کو جبرًامسلمان بنانے کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی کیونکہ مسلمان کو روز اول ہی سے حکم ہوا ہے کہ دین میں جبر نہیں۔ تاہم جو لوگ حلقۂ اسلام میں داخل ہونے کا اعلان کردیں ان کو جبراً نماز پڑھانا، ان سے زکوٰۃ وصول کرنا اور ان پر اسلامی قانون جاری کرنا حکومت کا فرض ہے۔
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے انتقال فرمایا اور حضرت ابوبکر ؓ کو خلیفہ بنایا گیا تو عرب کے کچھ قبائل نے زکٰو ۃ دینے سے انکار کردیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا میں ان کے خلاف جہاد کروں گا۔ یہاں تک کہ یہ لوگ زکٰوۃ ادا کریں۔ حضرت عمر ؓ نے حضرت ابوبکر ؓ سے کہا آپ ان لوگوں سے کیسے لڑیں گے جب کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ مجھے لوگوں سے اس وقت تک لڑنے کا حکم ہے جب تک وہ لاإلہ إلا اللہ نہ کہیں۔ جس نے یہ شہادت دے دی اس نے اپنا مال اور اپنی جان مجھ سے بچالیے إلا یہ کہ وہ کوئی ایسا کام کرے جس سے سزا کے طور پر اس کے کوئی جرمانہ، دیت وصول کی جائے یا اسکو جسمانی سزا دی جائے۔ اس کے جواب میں حضرت ابوبکر ؓ نے کہا اللہ کی قسم ! میں اس شخص سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا۔ اس لیے کہ زکوٰۃ اللہ کا حق ہے اللہ کی قسم ! اگر یہ لوگ زکوٰۃ کی مد میں مجھے بکری کا ایک بچہ نہ دیں جو رسول اللہ ﷺ کو دیا کرتے تھے تو میں ان سے ضرور لڑوں گا۔ تب حضرت عمر ؓ نے کہا اللہ کی قسم ! اس کے بعد میں سمجھ گیا کہ ابوبکر ؓ کے دل میں جو جہاد کا ارادہ پیدا ہوا ہے یہ اللہ تعالیٰ ہی نے ان کے دل میں ڈالا ہے اور میں سمجھ گیا کہ حضرت ابوبکر ؓ کی رائے درست ہے۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب الزکوۃ، باب وجوب الزکوۃ ]
(عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مُرُوْا أَوْلَادَکُمْ بالصَّلَاۃِ وَھُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِیْنَ وَاضْرِبُوْھُمْ عَلَیْھَا وَھُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ وَفَرِّقُوْا بَیْنَھُمْ فِی الْمَضَاجِعِ ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب الصلوۃ ]
” عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جب تمہارے بچے سات سال کے ہوجائیں تو انہیں نماز کی تلقین کرو جب دس سال کے ہوں تو انہیں جبراً نماز پڑھاؤ اور ان کے بستر جدا کردو۔ “
ان دلائل سے ثابت ہوا کہ کلمہ گو کو جبراً شریعت پر چلایاجائے گا۔ الکرسی سے مرا دکرسی ہی لینی چاہیے۔ کچھ لوگوں نے کرسی سے مرا داللہ تعالیٰ کا اقتدار لیا ہے۔ واللہ اعلم
مسائل
1۔ دین میں جبر نہیں کیونکہ ہدایت گمراہی سے نمایاں ہوچکی ہے۔
2۔ طاغوت کا انکار اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لانانہ ٹوٹنے والی رسی کو پکڑنا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
دین میں جبر نہیں :
1۔ دین میں جبر نہیں۔ (البقرۃ : 256) 2۔ نبی ﷺ کو لوگوں پر داروغہ نہیں بنایا گیا۔ (بنی اسرائیل : 54)
3۔ نبی کسی کو ہدایت کے لیے مجبور نہیں کرسکتا۔ (القصص : 56) 4۔ نبی کسی پر نگران نہیں ہوتا۔ (النساء : 80)
Ayah 2:257فہم القرآن
ربط کلام : عقیدہ توحید اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق جوڑنے کا نام ہے جب آدمی اللہ تعالیٰ سے مخلصانہ تعلق قائم کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ از راہ کرم اسے اپنا دوست بنا کر روشن مستقبل کی رہنمائی فرماتا ہے۔
جب آدمی اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان لائے اور شیطانی قوتوں کا انکار اور ان کے خلاف سینہ سپر ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنی ہدایت کے راستے کھول دیتا ہے۔ یہاں ہدایت کو نور اور طاغوتی راستوں کو ظلمات سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیوں کہ شاہراہ ہدایت ایک ہی ہے اور شیطان کے راستے بیشمار ہیں جیسا کہ روشنی ایک ہے اور اندھیرے کئی قسم کے ہیں۔ یہی ایمان قیامت کے دن نور بن کر جنتیوں کے لیے مشعل راہ ہوگا۔ کفر و نفاق تاریکی بن کر جنت کے راستے میں حائل ہوجائے گا۔ ایسے لوگ جہنم میں دھکیلے جائیں گے جس میں انہیں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ [ الحدید : 13]
جب آدمی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے تو اللہ بندے کو اپنا دوست بنا لیتا ہے۔ اسے اپنی طرف آنے کی توفیق بخشتا اور اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ جوں جوں بندۂ مومن اللہ تعالیٰ کی محبت سے سرشار اور اس کے حکم پر نثار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی آنکھ، کان اور جوارح پر چھا جاتا ہے اور وہ اپنے دوستوں کی رہنمائی ہی نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے بندے کے دشمن کا دشمن ہوجاتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ میرے دوستوں کو دنیا و آخرت میں کوئی خوف نہ ہوگا۔ اس کے برعکس شیطان اپنے دوستوں کو نور ہدایت سے نکال کر گمراہی کے اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے۔
(عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إنَّّ اللّٰہَ قَالَ مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ آذَنْتُہٗ بالْحَرْبِ وَمَا تَقَرَّبَ إِلَیَّ عَبْدِیْ بِشَیْءٍ أَحَبَّ إِلیَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَیْہِ وَمَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ إِلَیَّ بالنَّوَافِلِ حَتّٰی أُحِبَّہٗ فَإِذَا أَحْبَبْتُہٗ کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِیْ یَسْمَعُ بِہٖ وَبَصَرَہُ الَّذِیْ یَبْصُرُبِہٖ وَیَدَہُ الَّتِیْ یَبْطِشُ بِھَا وَرِجْلَہُ الَّتِیْ یَمْشِیْ بِھَا وَإِنْ سَأَلَنِیْ لَأُعْطِیَنَّہٗ وَلَءِنِ اسْتَعَاذَنِیْ لَأُعِیْذَنَّہٗ وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَیْءٍ أَنَا فَاعِلُہٗ تَرَدُّدِیْ عَنْ نَفْسِ المُؤْمِنِ یَکْرَہُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَکْرَہُ مَسَاءَ تَہٗ ) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب التواضع ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے میرے دوست سے دشمنی کی میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں۔ میں نے جو چیزبندے پر فرض کی اس سے زیادہ مجھے کوئی چیز محبوب نہیں جس سے وہ میرا قرب حاصل کرے بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ جب میں اس کے ساتھ محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر سوال کرے تو میں اسے عطا کرتا ہوں ‘ اگر مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں۔ میں اپنے کسی کام میں اتنا تردُّد نہیں کرتا جتنا ایک مومن کی جان قبض کرنے میں کرتا ہوں کیونکہ بندہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور مجھے اس کی تکلیف اچھی نہیں لگتی۔ “
(عَنْ أَنَسٍ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِیْمَا یَرْوِیْہِ عَنْ رَبِّہٖ قَالَ إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ إِلَيَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَیْہِ ذِرَاعًا وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّیْ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْہُ بَاعًا وَإِذَا أَتَانِیْ یَمْشِیْ أَتَیْتُہٗ ھَرْوَلَۃً ) [ رواہ البخاری : کتاب التوحید ]
” حضرت انس ؓ نبی کریم ﷺ سے وہ بات بیان کرتے ہیں جو آپ اللہ تعالیٰ سے بیان کرتے ہیں یعنی یہ حدیث قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب بندہ میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہوں اور جب وہ میری طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف دو ہاتھ بڑھتا ہوں اور جب وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کا دوست ہے اور انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف لاتا ہے۔
2۔ شیطان اپنے دوستوں کو روشنی سے اندھیروں میں دھکیلتا ہے۔
3۔ شیطان کے دوست ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
النور :
1۔ اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمان کا نور ہے۔ (النور : 35)
2۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی روشنی نہیں دے سکتا۔ (النور : 40)
3۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو روشنی کی طرف لاتا ہے۔ (البقرۃ : 257)
4۔ رسول لوگوں کو روشنی کی دعوت دیتا ہے۔ (ابراہیم : 1)
5۔ تورات وانجیل نور ہیں۔ (المائدۃ : 46) 6۔ قرآن بھی نور ہے۔ (المائدۃ : 15)
Ayah 2:258فہم القرآن
ربط کلام :ٰ جس طرح اللہ تعالیٰ مردہ روح کو نور ایمان سے زندہ کرتا ہے اسی طرح وہ مردہ جسم کو دوبارہ زندگی عطا کرنے پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کو لوگوں کو زندہ فرمائے گا جس کی امثال پیش کی جارہی ہیں۔
ایک دنیا پرست اور کوتاہ نظر انسان کی عادت ہوتی ہے کہ جونہی اسے کوئی نعمت و افر مقدار میں میسر ہو تو اس کی فطرت بغاوت پر اتر آتی ہے۔ جن نعمتوں کے ملنے کے بعد آدمی بہت جلد غرور اور تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے ان نعمتوں میں اقتدار اور اختیار ایسی چیز ہے جب اس کا نشہ دماغ پر غالب آتا ہے تو آدمی اپنے محسنوں کو بھول ہی نہیں جاتا بلکہ بسا اوقات ان کی جان کا دشمن بن جاتا ہے۔ خیر خواہی کرنے والوں کو مخالف اور چاپلوسی کرنے والوں کو خیر خواہ سمجھتا ہے۔ ایسے شخص کے پاس زیادہ عرصہ اقتدار رہے تو وہ اس زعم باطل میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ سب کچھ میری ذاتی صلاحیتوں اور کارکردگی کا نتیجہ ہے بالآخر وہ عملاً اپنے آپ کو خدائی مقام پر فائز سمجھتا ہے۔ نمرود جب اس خمار میں مبتلا ہوا تو اس نے اپنے آپ کو زمین پر خدائی اوتار کے طور پر متعارف کروایا۔ اس قسم کے حکمرانوں کی بنیادی سوچ یہ ہوتی ہے کہ ہر قانون ان کے تابع ہو اور دین کا دنیاوی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جس کو آج کل کی زبان میں یوں کہا جاتا ہے کہ سیاست اور دین دو متضاد چیزیں ہیں۔ دین کا ریاست اور سیاست کے معاملات میں کوئی دخل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ان کے بقول دین ملک کی ترقی میں رکاوٹ بنتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نمرود سے واسطہ پڑا جو کہ نبوت کی تاریخ میں پہلا واقعہ تھا۔ اس سے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) عوام الناس کو تبلیغ کیا کرتے تھے اور کسی حکمران کے ساتھ دین کے حوالے سے بالمشافہ گفتگو کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔ جونہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے اللہ تعالیٰ کی توحید پیش فرمائی تو اس نے اپنے سیاسی تحفظات کی بنا پر رب کائنات کی ہستی کا انکار کیا اور پھر اپنے مؤقف کے بارے میں باطل اور فرسودہ دلائل دینے لگا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سمجھایا کہ میں اس خالق حقیقی کی بات کر رہا ہوں جو موت وحیات کا مالک ہے۔ اللہ کا باغی کہنے لگا یہ کام تو میں بھی کرسکتا ہوں۔ میں چاہوں تو جلاد کو حکم دوں کہ فلاں آدمی کو قتل کردیا جائے۔ جب جلاّد تلوار اٹھائے تو میں اسے ایسا کرنے سے روک دوں لہٰذا مارنا اور زندہ کرنا کونسا مشکل کام ہے۔ اکثر مفسّرین نے لکھا ہے کہ اس نے موت کی سزاپانے والے قیدی کو رہا کردیا اور رہا ہونے والے کو قتل کرنے کا حکم جاری کیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کا تکبر اور ہٹ دھرمی دیکھ کر اپنی دلیل کی لطافت سمجھانے اور اس کے ساتھ الجھنے کے بجائے یک دم فرمایا میں اس رب کی بات کر رہا ہوں جو سورج کو مشرق سے طلوع کر کے مغرب میں غروب کرتا ہے اگر تو اپنے آپ کو خدا سمجھتا ہے تو سورج کو مغرب سے طلوع کر۔ یہ ایسی اچانک، واضح اور ٹھوس دلیل تھی جس کا وہ جواب نہ دے سکا۔ یہاں بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ اگر وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہتا کہ تیرا رب سورج کو مغرب سے طلوع کرکے دکھائے تو اللہ تعالیٰ اس کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تائید میں ایسا کردیتے لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنے دلیل کی تاب نہ لاکر نمرود اس قدر بوکھلا چکا تھا کہ اس کے حواس ٹھکانے نہ رہے کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بات کرنے کا سلیقہ معجزہ کے طور پر عطا ہوا تھا۔[ الشعراء : 83] جب وہ اپنے مخالفوں سے بات کرتے تو لوگ ان کے سامنے دم بخود رہ جاتے تھے۔ چناچہ نمرود کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ یہی سچے دین کی خوبی ہے کہ وہ ہر دور میں علمی برتری اور ٹھوس دلائل کے حوالے سے باطل نظریات پر غالب رہا ہے اور ہمیشہ بالادست رہے گا۔ جو لوگ حقائق کے سامنے لاجواب ہو کر بھی حق قبول نہیں کرتے اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا کیونکہ ہدایت کے لیے عاجزی اور سچی طلب ضروری ہوا کرتی ہے۔
مسائل
1۔ موت وحیات کا صرف اللہ ہی مالک ہے۔ 2۔ شمس و قمر سمیت اللہ کے نظام میں کوئی دخل نہیں دے سکتا۔
3۔ اللہ کے منکروں کو بالآخر پریشانی اٹھاناپڑتی ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ ہی موت وحیات کا مالک ہے :
1۔ اللہ ہی زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ (آل عمران : 156) 2۔ اللہ ہی موت وحیات کا خالق ہے۔ (الملک : 2)
3۔ اللہ تعالیٰ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کرتا ہے۔ (آل عمران : 27)
4۔ اللہ تعالیٰ مارنے کے بعد زندہ کرے گا۔ (البقرۃ : 73)
Ayah 2:259فہم ال قرآن
ربط کلام : سلسلہ مضمون جاری ہے لہٰذا یہاں مرنے کے بعددوبارہ زندہ ہونے کی ایک مثال پیش کی گئی ہے۔
اس شخص سے مراد اکثر مفسّرین نے حضرت عزیر (علیہ السلام) لیے ہیں اور جس بستی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ بیت المقدس تھی جسے بخت نصر نے تہس نہس کردیا تھا۔ اس تاریخی اور مقدس شہر کو ویران اور سنسان دیکھ کر حضرت عزیر (علیہ السلام) کو شدید دھچکا لگا اور خیالات کی دنیا میں سوچنے لگے کہ کبھی اس کے بازار پُر رونق، اس کے مکان اپنے مکینوں سے آباد، یہاں چہل پہل اور شہر کی ایک شان ہوا کرتی تھی۔ اب یہاں ہُو کا عالم ہے اب تو اس میں سے گزرتے ہوئے بھی دل کانپتا ہے۔ جوں ہی یہ خیال پیدا ہوا کہ اللہ تعالیٰ اس اجڑی ہوئی بستی کو دوبارہ کس طرح رونقیں عطا کرے گا ؟ اس سوچ میں غلطاں ہو کر کہنے لگے اَنّٰی یُحِیْ ہٰذہ اللّٰہ بَعْدَ مَوتہا ” اللہ تعالیٰ اس کی موت کے بعد اسے کس طرح زندہ کرے گا “ اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو سو سال تک موت کی آغوش میں سلادیا۔ جب دوبارہ اٹھایا تو فرمایا کہ اے عزیر ! تم کتنی مدت تک یہاں رہے ہو ؟ انہوں نے عرض کی الٰہی ! میں ایک دن یا اس کا کچھ حصہ یہاں ٹھہرا ہوں۔ ارشاد ہوا کہ ہرگز نہیں ! تو یہاں ایک صدی ٹھہرا رہا ہے۔ اب اپنے کھانے پینے کی طرف دیکھ اس میں نہ بساند پیدا ہوئی اور نہ ہی اس کا ذائقہ تبدیل ہوا ہے۔ پھر اپنے گدھے کی طرف دیکھ تاکہ تجھے اور اس پورے واقعہ کو لوگوں کے لیے مر کر اٹھنے پر ایک دلیل کے طور پر پیش کیا جائے۔ اب گدھے کی ہڈیوں کی طرف دیکھ کہ ہم کس طرح انہیں اکٹھا کر کے اس پر گوشت پوست چڑھاتے ہیں۔ چناچہ دیکھتے ہی دیکھتے گدھے کی بوسیدہ ہڈیاں صحت مند ہڈیوں کی شکل اختیار کر گئیں اور باہم جڑ کر گدھے کا ڈھانچہ بن گیا اور پھر اس پر گوشت اور بالوں سمیت کھال نمودار ہوئی یہ دیکھتے ہی حضرت عزیر (علیہ السلام) پکار اٹھے میں اچھی طرح جان چکا کہ اللہ ہی زندہ کرنے پر قادر اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے عجب نظائر ہیں کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) کو سو سال تک موت کی آغوش میں دے کر پہلی حالت میں صحیح سالم اٹھانا، بہت جلد خراب ہونے والے کھانے اور پانی کو اسی طرح اپنی حالت پر برقرار رکھنا کہ اس میں معمولی تغیرّبھی پیدا نہ ہوپایا۔ گدھا جو زندہ رہ سکتا اور اپنے طور پر وادی میں کھا پی سکتا تھا اسے مار کر از سر نوزندہ فرما کر حضرت عزیر (علیہ السلام) کے سامنے تجربے اور مشاہدے کے ذریعے ثابت کرنا کہ اللہ تعالیٰ اس طرح ہی اجڑی ہوئی بستیوں کو آباد کرتا اور صحراؤں اور ریگستانوں کو گل و گلزار بناتا ہے۔ اگر کوئی پانی میں ڈوب جائے یا جل کر راکھ ہوجائے تو اللہ تعالیٰ بکھرے ہوئے اجزاء کو اکٹھا کر کے اپنی بارگاہ میں پیش کرے گا اور یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب بھی ہے اور اس کے ہر کام اور حکم میں حکمت بھی ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ اجڑی بستیوں کو آباد اور مردوں کو زندہ کرتا ہے اور کرے گا۔
2۔ مرنے والے کو اپنے مرنے کی مدّت بھی یاد نہیں ہوتی۔
3۔ اللہ تعالیٰ بقا اور فنا کا مالک اور ہر چیز پر قادر ہے۔
تفسیر بالقرآن
موت کے بعد زندہ ہونے کی مثالیں :
1۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے مقتول کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : 73)
2۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : 259)
3۔ چار پرندوں کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : 260)
4۔ اصحاب کہف کو تین سو سال کے بعد اٹھایا۔ (الکہف : 25)
5۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ہزاروں لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا۔ (البقرۃ : 243)
Ayah 2:260فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ مردہ کو زندہ کرنے کی ایک اور مثال۔
اللہ تعالیٰ نے سورة التّکاثر میں انسانی علم کے تین مدارج ذکر فرمائے ہیں۔ علم، علم الیقین اور عین الیقین۔ عین الیقین ایسا علم ہے جو تجربے اور مشاہدے سے ثابت ہوجائے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس واقعہ کو عین الیقین کے تناظر میں سمجھنا چاہیے کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حیات بعد الممات کے بارے میں کبھی بھی تشکیک کا شکار نہیں ہوئے۔ ان کے بارے میں دو ٹوک انداز میں الانعام 57 میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو پہلے روز سے ہی رشد و ہدایت سے نوازا تھا۔ انبیاء کرام نبوت سے پہلے بھی کفر اور شرک کا ارتکاب نہیں کرتے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر نبی کو ابتداء ہی سے اپنی نگرانی میں رکھتے اور پالتے ہیں اور ہر نبی کو اس کے حالات کے مطابق اپنی قدرت کے نشانات دکھلایا کرتے ہیں تاکہ ان کے کلام اور خطاب میں انقلابی تاثیر پیدا ہوجائے اس انقلابی تاثیر کی بنا پر لوگ انبیاء کا انکار کرنے کے باوجوددل میں ان کی سچائی کے قائل ہوا کرتے تھے۔ یہاں عین الیقین کے درجے کو پانے کے لیے جناب ابراہیم (علیہ السلام) اپنے رب کے حضور سوال پیش کر رہے ہیں۔ رب حکیم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لوگوں کے الزام سے بچانے کے لیے ہی یہ سوال فرمایا کہ کیا ابراہیم (علیہ السلام) تم بھی اس بات پر یقین نہیں رکھتے ؟ ابراہیم (علیہ السلام) جواباً عرض کرتے ہیں کہ میرے رب کیوں نہیں ! میں تو اطمینان قلب کے لیے یہ درخواست کر رہا ہوں تاکہ قیامت کو اٹھنے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے میرے دل کا ایک ایک گوشہ اور ریشہ گواہی دے رہا ہو کہ مرنے کے بعد جی اٹھنا اور اللہ کے حضور پیش ہونا یقینی ہے۔ حکم ہوا کہ ابراہیم چار پرندے پکڑ کر انہیں کچھ مدّت کے لیے اپنے ساتھ مانوس کرو۔ اس کے بعد انہیں ذبح کر کے ان کے اعضاء مختلف پہاڑوں پر رکھ کر انہیں اپنی طرف آنے کے لیے آواز دو ‘ آواز سنتے ہی وہ تمہاری طرف دوڑتے ہوئے آئیں گے۔ جان لو کہ اللہ تعالیٰ ہر کام کرنے پر قادر ہے اور اس کے ہر کام اور حکم میں بہت سی حکمتیں پنہاں ہوتی ہیں۔ پرندوں کو اپنے ساتھ مانوس کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا تاکہ پرندے زندہ ہونے کے بعد ڈر کر ادھر ادھر نہ اڑ جائیں۔ اُڑ کر آنے کے بجائے چل کر آنے کی وضاحت فرمائی کہ بعد میں آنے والے قیامت کے منکر لوگ یہ نہ کہہ پائیں کہ ذبح ہونے والے پرندے زندہ نہیں ہوئے تھے بلکہ کوئی اور پرندے اتفاقاً اڑ کر موقع پر پہنچ گئے تھے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ پرندے اڑنے کے بجائے چل کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے جس سے ہر قسم کے شبہات کا ازالہ کردیا گیا۔ پرندوں کے اجزاء اس لیے مختلف چٹانوں پر بکھیر دیے گئے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ آدمی جس حال میں مرے اللہ تعالیٰ اسے ہر صورت میں اپنے سامنے پیش کرے گا۔ مر کر اٹھنے کے عقیدے کو قرآن مجید اس طرح زور دار طریقے سے بیان کرتا ہے کہ اس کے بعد اس عقیدے کے بارے میں کوئی شک باقی نہیں رہتا۔
(قُلْ کُوْنُوْا حِجَارَۃً أَوْحَدِیْدًا۔ أَوْخَلْقًا مِّمَّا یَکْبُرُ فِیْ صُدُوْرِکُمْ ) [ بنی اسرائیل : 50، 51]
” اے پیغمبر ! قیامت کے منکروں کو فرما دو ۔ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا یا ایسی مخلوق بن جاؤ جو تمہارے خیالات میں بڑی ہو۔ “ (اللہ تعالیٰ پھر بھی تمہیں اٹھائے گا)
(عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ أَنَّ رَجُلًا کَانَ قَبْلَکُمْ رَغَسَہُ اللّٰہُ مَالًا فَقَالَ لِبَنِیْہِ لَمَّا حُضِرَ أیَّ أَبٍ کُنْتُ لَکُمْ قَالُوْا خَیْرَ أَبٍ قَالَ فَإِنِّیْ لَمْ أَعْمَلْ خَیْرًا قَطُّ فَإِذَا مِتُّ فَأَحْرِ قُوْنِیْ ثُمَّ اسْحَقُوْنِیْ ثُمَّ ذَرُوْنِیْ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ فَفَعَلُوْا فَجَمَعَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فَقَالَ مَا حَمَلَکَ قَالَ مَخَافَتُکَ فَتَلَقَّاہُ بِرَحْمَتِہٖ )[ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الانبیاء، باب حدیث الغار ]
” حضرت ابو سعید ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ تم سے پہلے ایک آدمی کو اللہ نے مال سے نوازا۔ اس نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ میں تمہارا کیسا باپ ہوں ؟ انہوں نے جواب دیا آپ بہترین باپ ہیں۔ اس آدمی نے کہا میں نے کبھی اچھا کام نہیں کیا لہٰذا میرے مرنے کے بعد مجھے جلا کر میری راکھ تیزہواؤں میں اڑا دینا انہوں نے ایسے ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی راکھ کو جمع کر کے اس سے پوچھا تو نے ایسا کیوں کیا تھا ؟ اس نے عرض کی : الٰہی ! تیرے خوف کی وجہ سے ایسا کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اسے معاف کردیا۔ “
مسائل
1۔ اطمینان قلب کے لیے سوال کرنا جائز ہے۔ 2۔ مشاہدہ انسان کے دل میں یقین پیدا کرتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انسان کے ایک ایک جز کو اکٹھا کریں گے۔
Ayah 2:261فہم القرآن
ربط کلام : یہاں سے صدقات کے بارے میں خطاب شروع ہوتا ہے۔ سابقہ آیات میں صدقہ کرنے کا حکم تھا اور صدقہ کرنا اللہ تعالیٰ کو قرض دینے کے مترادف قرار دیا گیا۔ اب صدقہ کی فضیلت ‘ اس کی قبولیت کے اصول اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیے گئے صدقات کے دنیا اور آخرت میں ثمرات کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔
قرآن مجید کی ابتداء میں ایمان کے مرکزی اور بنیادی اصولوں میں تیسرا اصول یہ بیان ہوا ہے کہ صاحب ایمان لوگوں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے انہیں عنایت فرمایا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں۔ اب اسی بنیادی رکن کی مختلف زاویوں سے وضاحت شروع ہوتی ہے جس میں فضیلت، فرضیت اور احتیاطی ہدایات مسلسل 23 آیات میں بیان کی گئی ہیں جو چار رکوع پر مشتمل ہیں۔
صدقات کی ترغیب سے پہلے موت کے بعد اٹھنے کے تین دلائل دیے گئے ہیں۔ ان کی حکمت یہ ہے کہ مرنے کے بعد جس طرح دوسرے اعمال کی جزا اور سزا ملے گی اسی طرح اللہ کے راستے میں کیے گئے صدقات کا نیت اور صدقے کے مطابق پورا پورا اجر ملے گا۔ لہٰذا ترغیب دی جارہی ہے کہ مرنے سے پہلے زیادہ سے زیادہ اپنے لیے آگے بھیجو۔ تاکہ مشکل وقت میں تمہارے کام آسکے۔ صدقے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ صدقہ ہر حال میں اللہ کی رضا اور اس کی منشا کے مطابق ہونا چاہیے۔ ایسے صدقے کی مثال اس بیج کی طرح ہے جس سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی سو دانہ اٹھائے ہوئے ہو۔ یہ اس صورت میں ہوگا جب کاشتکار نے صحیح بیج ‘ مناسب وقت اور زرخیز زمین پر کاشتکاری کر کے اس کی اچھی طرح آبیاری اور نگرانی کی ہو۔ ایسی برکت اللہ تعالیٰ ہر اس صدقے میں پیدا فرمائے گا جو اخلاص، للہیت، رزق حلال اور مستحق جگہ اور سنت کے مطابق خرچ کیا جائے۔ ایسے صدقہ کے بارے میں سات سو گنا بڑھانے کی حد بندی نہیں بلکہ ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والے کے اخلاص اور جذبات کے مطابق اسے اس سے زیادہ برکت سے نوازیں گے کیونکہ اللہ وسعت و کشادگی دینے اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ دنیا میں آج تک کوئی بینک یا مالیاتی ادارہ قائم نہیں ہوا اور نہ ہی ہوسکتا ہے جو اس قدر اپنے شیئر ہولڈر کو منافع دینے کے لیے تیار ہو۔ جس قدر اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو عطا کرتا ہے اور کرے گا۔
(عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍ مِّنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ وَّلَا یَقْبَلُ اللّٰہُ إِلَّا الطَّیِّبَ فَإِنَّ اللّٰہَ یَتَقَبَّلُھَا بِیَمِیْنِہٖ ثُمَّ یُرَبِّیْھَا لِصَاحِبِہٖ کَمَا یُرَبِّیْ أَحَدُکُمْ فُلُوَّہٗ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ )
[ رواہ البخاری : کتاب الزکوۃ، باب الصدقۃ من کسب طیب ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو آدمی کھجور کے برابر اپنی پاک کمائی سے صدقہ کرتا ہے اور اللہ کے ہاں صرف پاک چیز ہی قبول ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول کرتے ہوئے اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر اس کو اس طرح پالتا اور بڑھاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی بچھڑے کو پالتا ہے حتیٰ کہ صدقہ پہاڑ کی مانند ہوجاتا ہے۔ “
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ بَیْنَا رَجُلٌ بِفَلَاۃٍ مِّنَ الْأَرْضِ فَسَمِعَ صَوْتًا فِيْ سَحَابَۃٍ إِسْقِ حَدِیْقَۃَ فُلَانٍ فَتَنَحّٰی ذٰلِکَ السَّحَابُ فَأَفْرَغَ مَاءَ ہٗ فِيْ حَرَّۃٍ فَإِذَا شَرْجَۃٌ مِنْ تِلْکَ الشَّرَاجِ قَدِاسْتَوْعَبَتْ ذٰلِکَ الْمَاءَ کُلَّہٗ فَتَتَبَّعَ فَإِذَا رَجُلٌ قَاءِمٌ فِيْ حَدِیْقَتِہٖ یُحَوِّلُ الْمَاءَ بِمِسْحَاتِہٖ فَقَالَ لَہٗ یَاعَبْدَ اللّٰہِ مَااسْمُکَ قَالَ فُلَانٌ لِلْإِسْمِ الَّذِيْ سَمِعَ فِي السَّحَابَۃِ فَقَالَ لَہٗ یَاعَبْدَ اللّٰہِ لِمَ تَسْأَلُنِيْ عَنِ اسْمِيْ فَقَالَ إِنِّيْ سَمِعْتُ صَوْتًا فِي السَّحَابِ الَّذِيْ ھٰذَا مَاءُ ہٗ یَقُوْلُ اسْقِ حَدِیْقَۃَ فُلَانٍ لِإِسْمِکَ فَمَا تَصْنَعُ فِیْھَا قَالَ أَمَّا إِذْ قُلْتَ ھٰذَا فَإِنِّيْ أَنْظُرُ إِلٰی مَایَخْرُجُ مِنْھَا فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِہٖ وَآکُلُ أَنَا وَعِیَالِيْ ثُلُثًا وَأَرُدُّ فِیْھَا ثُلُثَہٗ ) [ رواہ مسلم : کتاب الزھد والرقائق، باب الصدقۃ فی المساکین ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : صحرا میں ایک آدمی نے بادلوں میں آواز سنی کہ فلاں آدمی کے باغ کو پانی پلاؤ تو وہ بادل دوسرے بادلوں سے علیحدہ ہوگیا اور اپنا پانی ایک پتھریلی زمین پر برسایا وہاں ایک نالا پانی سے بھر گیا وہ آدمی اس کے پیچھے پیچھے چلا ایک آدمی اپنے باغ میں کھڑا اپنی کسّی کے ساتھ پانی لگارہا تھا۔ اس آدمی نے پوچھا اللہ کے بندے تیرا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا : فلاں، وہی نام جو مسافر نے بادلوں میں سنا تھا۔ نام بتانے والے نے وجہ پوچھی تو سائل نے جواب دیا کہ میں نے اس بارش برسانے والے بادل میں یہ سنا کہ فلاں آدمی کے باغ کو پانی پلاؤ۔ آپ ایسا کونسا عمل کرتے ہیں ؟ اس نے جواب دیا کہ آپ نے پوچھ لیا ہے تو سنیں کہ میں اس باغ کی کل آمدنی سے ایک تہائی صدقہ کرتا ہوں ‘ ایک تہائی سے گھر کے اخراجات چلاتا ہوں اور ایک تہائی اس پر لگاتا ہوں۔ “
مسائل
1۔ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے والے کو سات سو گنا سے زیادہ اجر ملے گا۔
تفسیر بالقرآن
صدقہ میں برکت :
1۔ صدقہ کرنا اللہ تعالیٰ کو قرض دینا ہے۔ (الحدید : 11)
2۔ اللہ تعالیٰ اسے دگنا تگنا کرکے واپس کرے گا۔ (التغابن : 17)
3۔ اللہ سات سو گنا تک بڑھا دیتا ہے۔ (البقرۃ : 261)
4۔ اللہ کے ہاں اضافے کی کوئی حد نہیں ہے۔ (البقرۃ : 261)
Ayahs 2:262–263فہم القرآن
ربط کلام : انفاق فی سبیل اللہ سے ثواب میں اضافہ تب ہی ہوگا جب احسان جتلانے اور تکلیف دینے سے صدقہ پاک ہوگا۔ احسان جتلانے اور تکلیف سے بہتر ہے کہ آدمی دوسرے سے معذرت ہی کرلے۔
صدقہ کا بھاری اور بےانتہا اجر انہیں موصول ہوگا۔ جنہوں نے حالت ایمان میں انفاق فی سبیل اللہ کی شرائط پوری کرتے ہوئے اپنے صدقہ کو ایذاء اور احسان سے محفوظ رکھا ہو۔ ضروری نہیں کہ احسان اور تکلیف زبان سے ہی دی جائے۔ بسا اوقات صدقہ کرنے والا اپنے ملازم سے اس لیے زیادہ کام لیتا ہے کہ تنخواہ کے علاوہ بھی اسے کچھ دیتا ہے۔ اپنا اعزہ و اقرباء پر خرچ کرنے والے اکثر لوگ ان سے خدمت اور غیر معمولی احترام کی توقع کرتے ہیں۔ اسی طرح مسجد، مدرسہ اور کسی رفاعی ادارے پر خرچ کرنے کے بعد ریا کار اور کم ظرف لوگ ایسے اداروں کے خدمت گاروں اور علماء کو ملازم اور اپنا احسان مند رکھنے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ جس سے ملازم، رشتہ دار اور دین کی خدمت کرنے والوں کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے اور بسا اوقات اس قسم کے مخیر اور شہرت کے خواہش مند لوگ حکومت کے اداروں میں خرچ کرنے کے بعد سرکاری افسران سے مفادات اٹھاتے ہیں۔ جس سے صدقہ کرنے والے کے ثواب میں کمی اور صدقہ ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ جس نے اپنے صدقے کو ان کمزوریوں سے بچا لیا اس کے لیے اس کے رب کے ہاں بےانتہا اجر ہے اور اسے کوئی خوف و خطر نہیں ہوگا۔ ایسا صدقہ جو اخلاقی بیماریوں سے محفوظ ہو۔ وہ دنیا میں بھی آدمی کو بیشمار نقصانات اور آزمائشوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس سے نیک نامی ‘ دل میں سکون اور باہمی محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔
یہاں صدقہ کرنے والے کو عاجزی اختیار کرنے اور گفتگو کا طریقہ بتلایا گیا ہے بالخصوص اس وقت جب آدمی کے پاس سائل کو دینے کے لیے کچھ نہ ہو توسائل کو ڈانٹنے کے بجائے اچھے طریقے سے ٹالنا اور معذرت کرنا چاہیے۔ یہ انداز اس صدقے سے کہیں بہتر ہے جس صدقہ کے بعد مستحق کو احسان جتلا کر یا کسی اور طریقے سے اذیت پہنچائی جائے۔ صدقہ دینے والے کو ایسا اس لیے بھی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا نتیجہ ہے کہ اس نے اس کو اس قابل بنایا کہ اس کے سامنے دوسرے لوگ محتاج بن کر حاضر ہوتے ہیں۔ صاحب ثروت کو ہر دم یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ہمیشہ دینے والی اللہ کی ذات ہے۔ وہ آدمی کی کمزوریوں سے صرف نظر فرما کر اپنی عطاؤں سے نوازتا ہے۔ لہٰذا آدمی کو بھی برد باری اور سخاوت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ البتہ جو شخص صحت مند اور حقیقتاً محتاج نہ ہو اسے دینے کے بجائے سمجھانا چاہیے۔ اگر وہ پھر بھی مانگنے سے باز نہ آئے تو اسے ڈانٹنے کی گنجائش ہے جیسا کہ امیر المومنین حضرت عمر ؓ نے ایسے مانگت سے مانگا ہوا اس کی ضرورت سے زائد مال چھین کر آئندہ گداگری سے منع کردیا۔ [ سیرت فاروق ]
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ قَال النَّبِيُِّ ﷺ مَایَزَال الرَّجُلُ یَسْأَلُ النَّاسَ حَتّٰی یَأْتِيَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَیْسَ فِيْ وَجْھِہٖ مُزْعَۃُ لَحْمٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب الزکاۃ، باب من سأل الناس تکثرا ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا آدمی ہمیشہ لوگوں سے مانگتا رہتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ہوگا۔ “
(عَنْ أَبِیْ ذَرٍّ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ ثَلَاثَۃٌ لَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یَنْظُرُ إلَیْھِمْ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ قَالَ فَقَرَأَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ أَبُوْ ذَرٍّ ؓ خَابُوْا وَخَسِرُوْامَنْ ھُمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ الْمُسْبِلُ وَالْمَنَّانُ وَالْمُنْفِقُ سِلْعَتَہٗ بالْحَلْفِ الْکَاذِبِ )
[ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب بیان غلظ تحریم إسبال الإزار والمن بالعطیۃ ]
” حضرت ابوذر ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا قیامت کے دن تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ نہ کلام کرے گا نہ ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا اور نہ ہی ان کو گناہوں سے پاک کرے گا۔ ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا۔ ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ ابوذر ؓ نے عرض کی یارسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں ؟ وہ تو ناکام ونامراد ہوگئے۔ آپ نے فرمایا : 1 اپنا ازار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا 2 احسان جتلانے والا 3 جھوٹی قسمیں اٹھا کر اپنا مال فروخت کرنے والا۔ “
مسائل
1۔ احسان جتلانے اور تکلیف دینے سے بچنے والا دنیا و آخرت میں بےخوف و خطر ہوگا۔
2۔ معذرت کرنا تکلیف دینے اور احسان جتلانے سے بہتر ہے۔
Ayah 2:264فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے عمومی انداز میں سمجھایا گیا تھا کہ اللہ کے لیے خرچ کرو اور صدقہ لینے والے کو تکلیف نہ دو اور نہ ہی اس پر احسان جتلاؤ۔ یاد رکھو کہ حقیقی غنی وہ ذات اقدس ہے جس نے اپنی غنا کے خزانوں سے تمہیں عطا فرمایا ہے۔ تم تو تھوڑا سادے کر بےحوصلہ ہوجاتے ہو اس مالک کی طرف دیکھو جو تمہیں صبح وشام کھلانے پلانے اور خزانے عطا کرنے کے باوجود تمہاری گستاخیاں اور نافرمانیاں برداشت کرتا ہے۔
اب براہ راست صاحب ایمان لوگوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ ایذاء رسانی اور احسان جتلا کر اپنے صدقات کو ہرگز ضائع نہ کرنا۔ کیونکہ جس حاجت مند کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا جائے اس کے دل میں صدقہ دینے والے کے بارے میں دعا اور ہمدردی کے بجائے نفرت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ احسان جتلانے اور ایذاء پہنچانے والے آدمی کے بارے میں معاشرہ میں نفرت اور حقارت پیدا ہوتی ہے۔ اگر وہ اپنے آپ کو تبدیل نہ کرے تو ایسارویّہ اس کی کمینگی کی علامت بن جاتا ہے۔ معاشرہ میں صدقہ کرنے سے جو مثبت اثرات پیدا ہونے تھے۔ اس کی بجائے منفی اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ گویا کہ اس طرز عمل سے صدقہ دینے والے کی عزت اور خدمت برباد ہوجاتی ہے۔ آخرت کے بارے میں رسول معظم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو نظر کرم کے ساتھ نہیں دیکھے گا۔
[ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب بیان غلظ تحریم إسبال الإزار والمن بالعطیۃ ]
صدقہ کرنے کے بعد ایذا پہنچانے والے شخص کو ریا کار کے ساتھ تشبیہ دی جارہی ہے۔ جس کا اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں ہوتا کیونکہ اگر اس کا اللہ اور آخرت پر حقیقی ایمان ہوتا تو اسے نمودو نمائش کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ اس نے آخرت میں اپنے رب سے اجر لینے کے بجائے لوگوں سے تحسین اور شہرت کی صورت میں اجر لینے کی کوشش کی ہے۔ اس کے اس عمل کی مثال تو ایسی ہے جس طرح ایک چٹان کے اوپر معمولی سی مٹی ہو جو ہلکی سی بارش سے صاف ہوجائے۔ اس چٹان پر گل و گلزار کی توقع کس طرح کی جاسکتی ہے ؟ یہی حالت ریا کار اور اس شخص کی ہے جو صدقہ کرنے کے بعد احسان اور ایذارسانی کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ اس کا کردار تو کفار کے ساتھ ملتا جلتا ہے کیونکہ کافر نہ آخرت پر یقین رکھتا ہے نہ ہی اس کا اللہ تعالیٰ پر ایمان ہوتا ہے۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے محروم رہتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن سب سے پہلے تین آدمیوں کا فیصلہ کیا جائے گا ایک شہید ہوگا اس کو اللہ کے دربار میں پیش کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو اپنی نعمتیں یاد کروائے گا وہ ان نعمتوں کا اعتراف کرے گا پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم نے ان نعمتوں سے کیا فائدہ اٹھایا ؟ وہ کہے گا : میں نے تیرے راستے میں جہاد کیا یہاں تک کہ میں شہید ہوگیا۔ اللہ فرمائے گا تو جھوٹ بولتا ہے تو نے تو اس لیے جہاد کیا تھا تاکہ کہا جائے تو بڑا بہادر ہے۔ دنیا میں تجھے بہادر کہہ دیا گیا۔ اس کے بعد اس کو الٹے منہ گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ اسی طرح ایک عالم اور ایک سخی کو بھی لایا جائے گا جنہوں نے دکھلاوے کی خاطر علم پڑھا اور پڑھایا اور صدقہ کیا پھر ان کے ریاکاری کرنے کی وجہ سے ان کو بھی الٹے منہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ [ رواہ مسلم : کتاب الامارۃ ]
مسائل
1۔ تکلیف دینے اور احسان جتلانے سے صدقہ ضائع ہوجاتا ہے۔
2۔ ریا کار اللہ اور آخرت پر حقیقی ایمان نہیں رکھتا۔
3۔ اللہ تعالیٰ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔
تفسیر بالقرآن
ریا کاری اور احسان جتلانا :
1۔ ریاکاری دھوکہ ہے۔ (النساء : 142)
2۔ ریاکار نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے۔ (الماعون : 6)
3۔ ریاکاری کفار کرتے ہیں۔ (الانفال : 47)
4۔ منافق ریاکار ہوتے ہیں۔ (النساء : 142)
5۔ کسی سے زیادہ حاصل کرنے کے لیے احسان نہیں کرنا چاہیے۔ (المدثر : 6)
6۔ احسان جتلانے سے ثواب ضائع ہوجاتا ہے۔ (البقرۃ : 264)