2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsفہم القرآن

Ayahs 2:65–66

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَۚ Open ayah 2:65 in the Quran reader

اور یقیناً تمہیں ان لوگوں کا علم ہے جو تم میں سے ہفتہ کے بارے میں حد سے بڑھ گئے اور ہم نے انہیں حکم دیا کہ تم ذلیل بندر بن جاؤ

فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:66 in the Quran reader

ہم نے ان کو موجود اور آنے والوں کے لیے باعث عبرت بنادیا اور پرہیزگاروں کے لیے نصیحت ہے

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل کے انحراف کا مشہور واقعہ شکر گزاری کی بجائے بد عہدی کرتے ہوئے ہفتہ کے دن کی بےحرمتی کی اور اس کی سزا۔ بنی اسرائیل میں یہ واقعہ نسل در نسل زبان زدعام اور تورات و انجیل کے کئی صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ اس لیے اس کی یاد دہانی کے لیے تفصیلات ذکر کرنے کے بجائے ایک اشارہ ہی کافی سمجھا گیا ہے۔ تاہم سورة الاعراف میں اس کی کچھ تفصیل بیان ہوئی ہے کہ تم وہ لوگ ہو کہ جب تمہاری ہی خواہش کے مطابق تمہارے لیے عبادت کا دن ” ہفتہ “ مقرر کیا گیا کہ اس دن تمہیں عبادت کرنے کے سوا کچھ نہیں کرنا چاہیے۔ تم نے اس دن میں بھی سر کشی اور تمرّد کے کئی راستے نکال لیے۔ ہوا یہ کہ مچھلیاں دوسرے دنوں کے بجائے ہفتہ کے روز کثرت کے ساتھ سمندر کی تہ پر تیرتی ہوئی دکھائی دیتی تھیں۔ انہوں نے ہفتہ کے دن مچھلی کا شکار نہ کیا لیکن سمندر کے متصل اس طرح کے بڑے بڑے گھاٹ تیار کیے کہ مچھلیاں خود بخود تالابوں میں بھر جاتیں اگلے دن انہیں پکڑ لیا جاتا۔ اس طرح انہوں نے ہفتہ کے دن کی بےحرمتی اور اللہ تعالیٰ کے قانون کی روح کو پامال کیا۔ جس کی پاداش میں ان کے چہروں کو تبدیل کر کے بندر کی شکل میں تبدیل کردیا تاکہ ان کے جیسے ذہن ہیں شکلیں بھی ویسی ہوجائیں۔ ان کے چہروں کو مسخ کر کے بستی کے گرد و جوار اور بعد میں آنے والے لوگوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا گیا۔ اتنی ذلّت و رسوائی کے باوجودان کی اولادیں گناہوں سے بچنے کی بجائے اللہ کی نافرمانی میں آگے ہی بڑھتی چلی گئیں۔ نصیحت تو اللہ سے ڈرنے اور گناہوں سے بچنے والے ہی حاصل کرتے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بندروں کی نسل انہی لوگوں سے ہے۔ حالانکہ حدیث میں وضاحت پائی جاتی ہے کہ وہ بندر بننے کے تین دن بعد مرگئے۔ (رواہ مسلم : کتاب الجمعۃ) (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ نَحْنُ الْآخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ یَوْمَ القِیَامَۃِ بَیْدَ أَنَّھُمْ أُوْتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا ثُمَّ ھٰذَا یَوْمُھُمُ الَّذِيْ فُرِضَ عَلَیْھِمْ فَاخْتَلَفُوْا فِیْہِ فَھَدَانَا اللّٰہُ فَالنَّاسُ لَنَا فِیْہِ تَبَعٌ الْیَھُوْدُ غَدًا وَالنَّصَارٰی بَعْدَ غَدٍ ) (رواہ البخاری : کتاب الجمعۃ، باب فرض الجمعۃ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم آخر میں آنے والے قیامت کے دن پہلے ہوں گے بیشک یہود ونصارٰی ہم سے پہلے کتاب دیئے گئے ہیں پھر ہفتہ اور اتوار کے دن کی عبادت ان پر فرض کی گئی انہوں نے اس میں اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت سے نواز دیا یہودی اور عیسائی ایام کے معاملہ میں ہمارے تابع ہیں یعنی شمار کرنے میں جمعہ کا دن پہلے ہفتہ اور اتوار کے دن بعد میں آتے ہیں۔ یہود ہفتہ اور عیسائی اتوار کے روز عبادت کرتے ہیں اور ہمارے لیے جمعہ افضل قرار دیا گیا ہے۔ “ جمعہ کی فضیلت و اہمیت : (عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّوَکَانَتْ لَہٗ صُحْبَۃٌ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ مَنْ تَرَکَ ثَلَاثَ جُمَعٍ تَھَاوُنًا بِھَا طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قَلْبِہٖ ) (رواہ النسائی : باب التشدید في التخلف عن الجمعۃ) ” حضرت ابو الجعد الضمری کو نبی کریم ﷺ کی رفاقت حاصل رہی وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جو آدمی تین جمعے سستی کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہے اللہ رب العزت اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ “ (عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَتَطَھَّرَ بِمَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُھْرٍ ثُمَّ ادَّھَنَ أَوْ مَسَّ مِنْ طِیْبٍ ثُمَّ رَاحَ فَلَمْ یُفَرِّقْ بَیْنَ اثْنَیْنِ فَصَلّٰی مَاکُتِبَ لَہٗ ثُمَّ إِذَاخَرَجَ الْإِمَامُ أَنْصَتَ غُفِرَ لَہٗ مَابَیْنَہٗ وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ الْأُخْرٰی) (رواہ البخاری : کتاب الجمعۃ، باب لایفرق بین اثنین یوم الجمعۃ) ” حضرت سلمان فارسی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور حسب توفیق صفائی کی پھر اس نے تیل یا خوشبو لگائی پھر وہ مسجد آیا اس نے دو آدمیوں کے درمیان جدائی نہ ڈالی اور اس نے جو اس کے لیے لکھی گئی نماز ادا کی پھر جب امام نکلا خاموش رہا تو اس کے ایک جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ “ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَال الصَّلَوَاۃُ الْخَمْسُ وَالْجُمْعَۃُ إِلَی الْجُمْعَۃِ کَفَّارَۃٌ لِّمَا بَیْنَھُنَّ مَالَمْ تُغْشَ الْکَبَاءِرُ ) (رواہ مسلم : باب الصلواۃ الخمس والجمعۃ إلی الجمعۃ۔۔ ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کیا جائے تو پانچ نمازیں اور جمعہ۔ جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔ “ مسائل 1۔ یہودیوں کے لیے ہفتے کے دن مچھلیاں پکڑنا ممنوع تھا۔ 2۔ یہودیوں نے ہفتہ کے دن کا احترام نہیں کیا۔ 3۔ شعائر اللہ کا احترام نہ کرنے سے قومیں ذلیل ہوجاتی ہیں۔
Ayah 2:67

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا١ؕ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 2:67 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے۔ انہوں نے کہا ہم سے مذاق کرتے ہو ؟ موسیٰ نے جواب دیا کہ میں جاہلوں میں ہونے سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل کے جرائم کی فہرست کا تسلسل جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کو توڑنا اور تعمیل حکم سے روگردانی کرنے بنانے والوں نے حضرت موسیٰ کو غیر سنجیدہ ہونے کا الزام دیا۔ حضرت موسیٰ نے ایک اندھے قتل (Blind Murder) کا فیصلہ کرنے کے لیے قوم کے مشکوک افراد کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا تمہیں حکم ہے کہ کوئی ایک گائے ذبح کر کے اس کے گوشت کا کوئی ٹکڑا مقتول کی لاش کے ساتھ لگاؤ تو مردہ زندہ ہو کر اپنے قاتل کا پتہ بتلادے گا۔ لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بڑی گستاخ اور بہانہ ساز تھی۔ انہوں نے قتل چھپانے اور قاتلوں کو بچانے کے لیے الٹا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا کہ آپ تو سراسر مذاق کر رہے ہیں۔ کبھی اس طرح بھی قتل کے مقدمہ کا فیصلہ ہوا ہے اور مردے زندہ ہوا کرتے ہیں ان کے انکار کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ پہلے گائے پرستی کا شرک کرچکے تھے۔ جس کے اثرات باقی ہونے کی وجہ سے بہانے تراشنے لگے۔ مسائل 1۔ شرعی اور سنجیدہ مسئلہ یا پریشان حال کو مذاق کرنا پرلے درجے کی جہالت ہے۔ 2۔ جہالت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن جاہل کون ؟ 1۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ الٰہ بنانے والے جاہل ہیں۔ (الاعراف : 138) 2۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کے ساتھ مذاق کرنا جہالت ہے۔ (البقرۃ : 67) 3۔ اغلام بازی کرنے والے جاہل ہیں۔ (النمل : 55) 4۔ نبی محترم کو جاہلوں سے اعراض کی ہدایت تھی۔ (اعراف : 199) 5۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جہالت سے پناہ مانگی۔ (البقرۃ : 67) 6۔ حضرت نوح کو جہالت سے بچنے کا حکم۔ (ہود : 46) 7۔ جاہلوں سے بحث کی بجائے اجتناب اور اعراض کرنا چاہیے۔ (الفرقان : 63)
Ayahs 2:68–71

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِكْرٌ١ؕ عَوَانٌۢ بَیْنَ ذٰلِكَ١ؕ فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 2:68 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے موسیٰ اپنے رب سے دعا کیجیے کہ ہمارے لیے بیان کرے کہ وہ کیسی گائے ہو ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ نہ بالکل بڑھیا ہو اور نہ بچی بلکہ درمیانی عمر کی ہو۔ جو تمہیں حکم دیا گیا ہے کر گزرو۔

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ١ۙ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ Open ayah 2:69 in the Quran reader

پھر وہ کہنے لگے کہ اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ ہمارے لیے اس کے رنگ کی وضاحت کر دے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس گائے کا رنگ گہرا زرد ہو جو دیکھنے والوں کو خوش کرتی ہو

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ۙ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَا١ؕ وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:70 in the Quran reader

وہ کہنے لگے اپنے رب سے دعا کیجیے کہ ہمیں اس کے بارے میں مزید بتلائے۔ کس قسم کی گائے ہو۔ کیونکہ گائیں ہمارے سامنے ملی جلی ہیں۔ اگر اللہ نے چاہا تو یقیناً ہم ہدایت پانے والے ہوں گے۔

قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْقِی الْحَرْثَ١ۚ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِیَةَ فِیْهَا١ؕ قَالُوا الْئٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ١ؕ فَذَبَحُوْهَا وَ مَا كَادُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 2:71 in the Quran reader

موسیٰ نے فرمایا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ وہ گائے زمین میں ہل جوتنے والی اور کھیتوں کو پانی پلانے والی نہ ہو بلکہ وہ تندرست اور بےداغ ہو۔ انہوں نے کہا اب آپ نے حق واضح کردیا انہوں نے اسے ذبح کیا حالانکہ وہ ایسا کرنے والے نہیں تھے

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے نام پر آپ کے ساتھ غلط بیانی اور مذاق کروں۔ کیونکہ پریشانی کے وقت مذاق کرنا اور قتل جیسے مقدمے کو غیر سنجیدہ طور پر لینا سراسر جہالت ہے۔ پیغمبر کی شان تو انتہائی اعلیٰ اور ارفع ہوتی ہے۔ ایک ادنیٰ درجے کے معقول آدمی سے بھی توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ پریشانی کے موقعہ پر اس قسم کا مذاق کرے۔ لیکن حیلہ ساز اور مشرکانہ عقائد رکھنے والی قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے ساتھ مذاق کر رہے ہو۔ مکمل حکم آنے کے باوجود اپنا جرم چھپانے کے لیے۔ وہ سوال پر سوال کرتے چلے گئے۔ جن کے جواب میں یہ کہہ کر گائے کا تعین کیا گیا کہ وہ بوڑھی ہو نہ بچی بلکہ بھر پور جوان ہونی چاہیے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر تم مجرموں کا سراغ لگانے میں سنجیدہ ہو تو تمہیں اس حکم پر عمل کرنا چاہیے۔ لیکن انہوں نے گائے کی رنگت کے بارے میں سوال کر ڈالا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس کا رنگ گہرا زرد ہونا چاہیے تاکہ دیکھنے والوں کو بھلی اور خوبصورت لگے۔ رنگ اور عمرپوچھ لینے کے باوجود کہنے لگے یہ اوصاف تو کئی گائیوں میں پائے جاتے ہیں۔ اس کی مزید وضاحت ہونی چاہیے۔ بار بار کے حیلوں اور بہانوں کی وجہ سے ان کے ضمیر پر ایک بوجھ تھا۔ ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنے، اپنی شرمندگی مٹانے اور گھمبیر صورت حال سے بچنے کے لیے انہوں نے کہا انشاء اللہ اس سوال کے بعد ہم اس حکم پر عمل کر گزریں گے۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے پھر وضاحت فرمائی کہ اس گائے کو آج تک ہل جوتنے اور کنواں چلانے میں استعمال نہ کیا گیا ہو۔ مزید یہ کہ اس کے پورے جسم پر کسی قسم کا کوئی داغ نہیں ہونا چاہیے۔ اس قدر بحث و تکرار اور سوالات واستفسارات کے بعد گائے ذبح کی۔ جس کے گوشت کا ایک ٹکڑا انہوں نے مقتول کی لاش کو لگایا تو اللہ تعالیٰ نے اس مردہ کو زندہ کیا۔ قتل کا گناہ : (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَاتُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا کَانَ عَلَی ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ کِفْلٌ مِّنْ دَمِھَا لِأَنَّہٗ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ ) (رواہ البخاری : باب خلق آدم وذریتہ ) ” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو بھی نفس ظلماً قتل کیا جاتا ہے اس کے خون کا گناہ آدم (علیہ السلام) کے پہلے بیٹے کو بھی ہوتا ہے کیونکہ اسی نے سب سے پہلا قتل کیا تھا۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ قَال النَّبِيُّ ﷺ أَوَّلُ مَایُقْضٰی بَیْنَ النَّاسِ فِي الدِّمَاءِ ) (رواہ البخاری : باب قول اللہ تعالیٰ ومن یقتل مؤمنا متعمدا فجزاءہ جھنم ) ” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون کا فیصلہ کیا جائے گا۔ “ مسائل 1۔ شریعت کے احکام میں قیل و قال اور بہانے تلاش کرنا یہودیوں کا طریقہ ہے جس سے اجتناب کرنا لازم ہے۔
Ayahs 2:72–73

وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِیْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 2:72 in the Quran reader

اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کر ڈالا پھر اس میں اختلاف کرنے لگے اور اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا تھا جو تم چھپاتے تھے

فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى١ۙ وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:73 in the Quran reader

تو ہم نے حکم دیا کہ اس گائے کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم پر لگاؤ اسی طرح اللہ تعالیٰ مردے کو زندہ کرے گا اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل کی شریعت کے بارے میں عادات اور حیلہ سازیوں کے ذکر کے بعداصل واقعہ کا ذکر۔ چچاکی دولت پر قبضہ کرنے کے لیے رات کی تاریکیوں میں بھتیجوں نے چچا کو قتل کرکے اس کی لاش اپنے مخالفوں کے محلہ میں پھینک دی۔ جب صبح ہوئی تو خود ہی مدعی بن کر بےگناہوں کو اس قتل کا ذمہ دار ٹھہرانے لگے۔ قریب تھا کہ اس کے رد عمل میں مزید قتل و غارت شروع ہوجاتی لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قاتلوں کا سراغ لگانے کے لیے ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا حکم رکھا کہ ایک گائے ذبح کرکے اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا مقتول کی لاش کو لگایا جائے اس طرح مردہ زندہ ہو کر اپنے قاتلوں کی نشاندہی کردے گا۔ متعدد سوالات کے جواب میں مجبورًا انہوں نے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے گائے ذبح کر کے اس کے گوشت کا ٹکڑا مقتول کی لاش کو لگایا۔ مقتول نے زندہ ہو کر اپنے قاتل کا نام بتلایا جس سے یہ لوگ مزید قتل و غارت سے محفوظ ہوئے اور مجرموں کو سزا ہوئی۔ اس حکم کی تعمیل پر ان کے گائے پرستی کے تصور کو کاری ضرب لگی جس سے اس بات کا مشاہدہ کر وایا گیا کہ گائے مشکل کشا اور معبود نہیں ہے جو اپنی جان نہیں بچا سکتی وہ مشکل کشا کس طرح ہوسکتی ہے اور یہ بھی واضح ہوا کہ جس طرح اس مقتول نے زندہ ہو کر قتل کی واردات اور اپنے قاتل کا نام بتلایا ہے ایسے ہی سب انسان قبروں سے زندہ ہو کر اپنے اپنے اعمال کا اقرار کریں گے اور بالآخر ہر کسی کو اس کے عمل کے مطابق جزاء وسزا ملے گی۔ مسائل مقتول کا زندہ ہونا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ ہے جو مرنے کے بعد زندہ ہونے پر واضح دلیل ہے۔ نوٹ : موت کے بعد زندہ ہونے کے ثبوت ” البقرۃ آیت 259“ کے تحت تفسیر بالقرآن میں ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 2:74

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً١ؕ وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:74 in the Quran reader

پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے گویا وہ پتھر ہوں بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت۔ بعض پتھروں سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں اور بعض پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی نکل آتا ہے۔ اور بعض اللہ تعالیٰ کے ڈر سے گرپڑتے ہیں اور جو تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے بیخبر نہیں ہے

فہم القرآن ربط کلام : احکام الٰہی کے مقابلہ میں حیلے بہانے کرنے سے دل پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہوجاتے ہیں۔ انسان جب اللہ کے احکام سے سر تابی، مسلسل نافرمانیوں کا ارتکاب اور مسائل کی کھال اتارنے کی عادت اختیار کرلیتا ہے تو اس کا دل سخت سے سخت ہوجاتا ہے بالآخر مستقل طور پر گمراہی کے راستے پر چل نکلتا ہے۔ دل کی سختی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی علامت ہے۔ دل سخت ہوجائے تو ایمان کا بیج جسے آگے چل کر اعمال کی صورت میں پھل پھول لانے ہوتے ہیں وہ ابتدا ہی میں مردہ ہوجاتا ہے۔ جس طرح پتھروں کی کئی اقسام ہیں اسی طرح انسانوں کے دلوں کا حال ہے۔ پتھروں سے نہریں نکلتی، چشمے پھوٹتے اور خوف خدا سے ٹنوں وزنی پہاڑ سر کے بل زمین پر آ گرتے ہیں۔ لیکن افسوس انسانی دل گوشت کا ایک ٹکڑا ہونے کے باوجود پتھر سے سخت، پتھر سے سخت تر خوف خدا سے عاری ہوجاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے اور اس کے حکم کے سامنے سرنگوں ہونے کے لیے تیار نہیں ہوتا اور اس پر کوئی نصیحت اثر نہیں کرتی۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک گرنے والے پتھروں اور بہنے والے چشموں کی وہ قدرو منزلت نہیں جو انسان کے دل سے نکلنے والی آہوں، اس کی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں اور اس کے حضور جھکنے والی پیشانیوں کی ہے۔ آخر میں یہ اشارہ فرمایا کہ اے انسان ! جو اللہ فلک بوس پہاڑوں کی اقسام، میلوں تک پھیلی غاروں، چٹانوں اور ان میں سے پھوٹنے والے چشموں ‘ چلنے والی آبشاروں اور بہنے والے پانی کے قطرات کو جانتا ہے وہ تیرے دل اور اعمال سے کس طرح بیخبر ہوسکتا ہے ؟ دل نرم کرنے کا طریقہ : 1۔ یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنا : (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَجُلًا شَکَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَسْوَۃَ قَلْبِہٖ فَقَالَ لَہٗ إِنْ أَرَدْتَّ تَلْیِیْنَ قَلْبِکَ فَأَطْعِمِ الْمِسْکِیْنَ وَامْسَحْ رَأْسَ الْیَتِیْمِ ) (مسند احمد : باب مسند أبی ہریرہ ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے دل کی سختی کے متعلق شکایت کی تو آپ نے فرمایا : اگر تو اپنے دل کو نرم کرنا چاہتا ہے تو مسکین کو کھانا کھلا اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر۔ “ 2۔ اللہ کا ذکر کرنا : (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّہٗ کَانَ یَقُوْلُ إِنَّ لِکُلِّ شَیْءٍ صِقَالَۃٌ وَإِنَّ صِقَالَۃَ الْقُلُوْبِ ذِکْرُ اللّٰہِ وَمَا مِنْ شَيْءٍ أَنْجٰی مِنْ عَذَاب اللّٰہِ مِنْ ذِکْرِ اللّٰہِ ۔۔ ) (صحیح الترغیب للألبانی : 1495) ” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ فرمایا کرتے تھے ہر چیز کی پالش ہوتی ہے دلوں کی پالش اللہ کا ذکر ہے اور اللہ کے ذکر سے زیادہ کوئی چیز اللہ کے عذاب سے نجات دینے والی نہیں ہے۔ “ 3۔ قرآن کی تلاوت کرنا : (إِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ إِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ وَإِذَا تُلِیَتْ عَلَیْھِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْھُمْ إِیْمَانًا وَّعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ) (الأنفال : 2) ” مومن تو وہ ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں اور جب انہیں اللہ کی آیات سنائی جائیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ “ مسائل 1۔ گناہوں سے دل سخت ہوجاتے ہیں۔ 2۔ اللہ کے ذکر سے دل نرم ہوتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن دل کی سختی کے اسباب : 1۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے سے دل سخت ہوتا ہے۔ (البقرۃ : 74) 2۔ عہد شکنی کی وجہ سے دل سخت ہوتا ہے۔ (المائدۃ : 13) 3۔ اللہ کی یاد سے غافل ہونے والے دلوں کے لیے جہنم ہے۔ ( الزمر : 22) 4۔ برے اعمال کی وجہ سے دل زنگ آلود ہوجاتے ہیں۔ (المطففین : 14)
Ayah 2:75

اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:75 in the Quran reader

مسلمانو ! کیا تم توقع رکھتے ہو کہ یہ لوگ تمہاری خاطر ایمان لے آئیں گے حالانکہ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کا کلام سن کر سمجھنے اور جاننے کے باوجود اسے بدل دیتے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : جن کے دلوں پر مہر قساوت لگ چکی ہو ان سے ایمان لانے کی توقع کرنا عبث ہے۔ اے امت محمدیہ کے لوگو ! کیا تم اب بھی بہانہ باز، پتھر دل اور کلام اللہ کی تحریف کرنے والے لوگوں سے ایمان لانے کی امید باندھے ہوئے ہو ؟ حالانکہ ان کے جرائم اور عادات کا تفصیلی ریکارڈ تمہارے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ ایسے لوگوں سے ایمان اور خیر کی توقع رکھنا فضول ہے جو جان بوجھ کر قرآن مجید کا مفہوم ہی نہیں بدلتے بلکہ انہوں نے تورات و انجیل کے الفاظ تک بدل ڈالے ہیں۔ جس سے تورات و انجیل کے نزول کا مقصد فوت ہوگیا۔ یہودیوں نے تورات میں قطع و بریدکر کے بیت اللہ کے ساتھ اس کے بانی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تعلق منقطع کیا۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی جگہ جناب اسحاق (علیہ السلام) کو ذبیح اللہ ثابت کرنے کے لیے تاریخ کا ریکارڈ بدل ڈالا پھر اس سے بڑھ کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے یہودی اور عیسائی ہونے کے جھوٹے دعوے کیے۔ حالانکہ ابراہیم (علیہ السلام) تورات اور انجیل کے نزول سے سینکڑوں سال پہلے رحلت فرما چکے تھے۔ ایسا وہ کسی غفلت یا لاعلمی کی بنا پر نہیں کرتے بلکہ جان بوجھ کر کرتے ہیں۔ مسائل 1۔ کلام اللہ کی تحریف کرنے والے سے خیر کی توقع رکھنا فضول ہے۔ 2۔ پتھر دل، بہانہ ساز انسان کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا۔ تفسیر بالقرآن کلام اللہ میں اہل کتاب کی تحریف کے مختلف طریقے : 1۔ آیات کو ان کے محل سے آگے پیچھے کردینا۔ (النساء : 46) 2۔ اپنی طرف سے کچھ باتیں گھڑ کر شامل کرنا۔ (البقرۃ : 79) 3۔ زبان مروڑ کر مفہوم بدل ڈالنا۔ (آل عمران : 78) 4۔ بنیادی باتیں چھوڑ کر مشتبہات کے پیچھے لگنا۔ (آل عمران : 7)
Ayahs 2:76–77

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالُوْۤا اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ لِیُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:76 in the Quran reader

اور جب وہ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان دار ہیں اور جب آپس میں ملتے ہیں تو کہتے ہیں مسلمانوں کے سامنے وہ کچھ کیوں بیان کرتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ظاہر کردیا ہے کہ وہ اسے اللہ کے ہاں تمہارے خلاف پیش کردیں ؟ تمہیں عقل نہیں

اَوَ لَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 2:77 in the Quran reader

کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ بیان کرتے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح یہودی بہانہ ساز اور متلوّن مزاج ہیں، منافقوں کی بھی یہی عادات ہیں۔ منافقوں کی عادات کا ذکر کرتے ہوئے آیت 13 میں یہ بتلایا گیا تھا کہ یہ لوگ ایمان والوں کو ملتے ہیں تو ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ایمان کے دعویدار بنتے ہیں اور جب اپنے مذہبی پیشواؤں اور لیڈروں کے پاس جاتے ہیں تو انہیں یقین دہانیاں کرواتے ہیں کہ ہم تمہارے ہی ساتھی ہیں۔ یہاں اہل کتاب کے اندرون خانہ کا انکشاف کرتے ہوئے بتلایا جارہا ہے کہ ان کے مذہبی رہنما ان سے کہتے ہیں کہ تورات و انجیل میں بیان ہونے والے حقائق جن میں نبی آخر الزماں ﷺ اور قرآن مجید کی تصدیق پائی جاتی ہے۔ ان کا مسلمانوں کے سامنے ذکر کرنا دانشمندی کے خلاف ہے۔ پھر یہ کہہ کر انہیں خوفزدہ کرتے ہیں کہ اس طرح دنیا میں مسلمانوں کے سامنے لا جواب اور آخرت میں تمہارے رب کے ہاں مسلمان تمہارے خلاف گواہی دیں گے۔ اپنی بات کو مؤثر بنانے کے لیے ان کے خطبا اور پیشوا بڑے معصوم بن کر اپنے تقو ٰی کی دھاک بٹھاتے ہوئے فکر آخرت کا تصوردے کر لوگوں کو حقائق کے انکشاف سے روکتے تھے۔ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ لوگ ان حقائق کا انکشاف نہ کریں تو اللہ تعالیٰ سے یہ حقیقت چھپی رہ جائے گی ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہی تورات ‘ انجیل نازل فرمائی ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید، لوگوں کی اعلانیہ اور پوشیدہ حرکات و افعال کو جانتا ہے۔ انہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے جو وہ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ آخرت میں ان کے ظاہر اور باطن کو طشت ازبام کردیا جائے گا۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ انسان کے باطن اور ظاہر سے واقف ہے۔ یہ عقیدہ انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے۔
Ayah 2:78

وَ مِنْهُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 2:78 in the Quran reader

اور بعض ان میں ان پڑھ ہیں جو آرزوؤں اور گمان کے علاوہ کتاب اللہ کا کچھ علم نہیں رکھتے اور صرف وہم و گمان کی بنیاد پر امید لگائے ہوئے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب کے علماء کی دیکھا دیکھی ان کا ان پڑھ طبقہ یعنی عوام الناس بھی بےبنیاداُمیدیں لگائے ہوئے ہے۔ یاد رہے کہ مذہبی پیشواؤں اور سیاسی راہنماؤں کے منفی اور مثبت اثرات عوام پر ضرور اثر انداز ہوا کرتے ہیں۔ علمائے یہود نے حسب ونسب، مصنوعی تقدُّس اور مذہب کا نام لے کر خود ساختہ رسومات کو عوام کے ذہن پر اس طرح مسلط کردیا تھا جس سے عوام سمجھنے لگے کہ فقط بزرگوں کا احترام ‘ علماء کی خدمت اور مذہبی رسومات ہی اصل دین ہے۔ حالانکہ ان تصورات کی کوئی بنیاد نہیں تھی کہ جس اساس پر وہ اپنے آپ کو جنت کا ٹکٹ ہولڈر سمجھتے اور یہ امید لگابیٹھے تھے کہ بخشش کے لیے بزرگوں سے محبت اور ان کے دامن کے ساتھ وابستہ ہونا ہی کافی ہے۔ یہاں ان کے بےبنیاد نظریات کی نفی کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ دین صرف جذبات اور خوش کن تصورات کا نام نہیں ہے۔ اس کے لیے تو باطل نظریات کو چھوڑنا ‘ بےبنیاد تصورات سے نجات پانا اور جان و مال کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ ( عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِيْ قِرَادٍ ؓ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ تَوَضَّأَ یَوْمًا فَجَعَلَ أَصْحَابُہٗ یَتَمَسَّحُوْنَ بِوَضُوْءِہٖ فَقَالَ لَھُمُ النَّبِيُّ ﷺ وَمَاحَمَلَکُمْ عَلٰی ھٰذَا قَالُوْا حُبُّ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَقَال النَّبِيُّ ﷺ مَنْ سَرَّہٗ أَنْ یُّحِبَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ أَوْ یُحِبُّہُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ فَلْیَصْدُقْ حَدِیْثَہٗ إِذَا حَدَّثَ وَلْیُؤَدِّ أَمَانَتَہٗ إِذَا اءْتُمِنَ وَلْیُحْسِنْ جَوَارَ مَنْ جَاوَرَہٗ ) (بیھقی فی شعب الإیمان۔ 1533) ” حضرت عبدالرحمن بن ابی قراد ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک دن وضو کیا۔ آپ ﷺ کے اصحاب آپ کے وضو کے پانی کو اپنے جسموں پر ملنے لگے۔ نبی محترم ﷺ نے ان سے استفسار فرمایا تم اس طرح کیوں کررہے ہو ؟ انہوں نے عرض کی، اللہ اور اس کے رسول کی محبت کی بنا پر۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کو یہ بات اچھی لگتی ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرے یا اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کریں تو اسے چاہیے کہ جب بات کرے تو سچ بولے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو امانت کا حق ادا کرے اور اپنے ہمسائیوں سے اچھا برتاؤ کرے۔ “ مسائل 1۔ بےبنیاد خواہشات نجات کا ذریعہ نہیں بن سکتیں۔
Ayah 2:79

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَیْدِیْهِمْ١ۗ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَ وَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 2:79 in the Quran reader

ان لوگوں کے لیے بربادی ہے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھ کر پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے بدلے تھوڑی قیمت کمائیں۔ تباہی ہے جو کچھ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے لکھا اور تباہ ہو جو کچھ انہوں نے کمایا

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب کا حال یہ ہے کہ ایک طرف اپنے نیک اور جنتی ہونے کے بلند وبالا دعوے کرتے ہیں اور دوسری طرف خود ساختہ تصورات اور ذاتی خیالات کو تورات و انجیل کی زبان میں ڈھال بنا کر لوگوں کا مال بٹورتے اور سیاسی مفادات حاصل کرتے ہیں۔ یہودونصاریٰ کے علماء اور ان کے حکام نے اپنی کتابوں کی صرف تاویلات و تحریفات اور ان کے الفاظ میں تغیر و تبدل ہی نہیں کیا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اپنی تاویلات اور نظریات کو وحی الٰہی کا رنگ دے کر تورات و انجیل میں اس کا اندراج کردیا تھا۔ قرآن مجید کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے ذمہ لیا ہے جس کی وجہ سے امت محمدیہ کے پیشہ ورعلماء اور مفاد پرست حکمران قرآن مجید میں کمی بیشی اور تبدیلی تو نہیں کرسکے البتہ تشریح و تفسیر کے پردے میں قرآن مجید کے معانی ومفاہیم میں تبدیلی کرنے سے گریز نہیں کرتے اور اپنے اپنے گروہی نظریات اور شخصی تفردات کو قرآن وسنت بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ذاتی اور جماعتی مفادات اٹھاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی کمائی اور ان کے اعمال جہنم میں داخلے کا باعث ہوں گے۔ تورات و انجیل میں ترمیم و اضافے : One story tells that man was created before the animals, while another tells us that the animals were created before man. (George Barcaly: The Making and Meaningof the Bible, p.48) ” ایک کہانی یہ بیان کرتی ہے کہ انسان جانوروں سے پہلے پیدا کیا گیا جبکہ دوسری ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جانور انسانوں سے پہلے بنائے گئے۔ “ کتاب پیدائش کے دوسرے باب کے پہلے باب سے اس فرق کے بارے میں کیتھولک بائبل میں نوٹ لکھا ہے : This account ...... comes from a different source and is composed in a very differnt style. (Catholic Bible (RSV) p.995) ” یہ بیان کسی دوسرے ذریعے سے آیا ہے اور پہلے باب سے بالکل مختلف طرز تحریر میں لکھا ہوا ہے۔ “ ایک اور مسیحی مصنف لکھتا ہے : So many different minds are represented in the pages of the New testament, so many writ ers with differing personalities and points of view. (William Neil: The Bible Story, London, 1975, p.215 --- Also see" Interprentation" --- A Journal of Bible The ecology, Viginia vol. 37 (July 1983) p.20) ” عہد جدید (اور بائبل کے دوسرے حصوں) کے صفحات بہت سے مختلف دماغوں اور بہت سے لکھنے والوں (کی کاوش) کا نتیجہ ہیں ‘ جن کی شخصیات اور نقطہ ہائے نظر آپس میں مختلف ہیں۔ “ ول ڈیورنٹ نے لکھا : It is clear that there are many contradictions between one Gospel and another, many dubious statements of history............ (Will Dusrant : The story of Civilisation, New York, 1957, vol. 3) ” یہ بات واضح ہے کہ ایک انجیل کے دوسری انجیل سے بہت تضادات ہیں ‘ اور ان کے بہت سے بیانات تاریخی طور پر مشکوک ہیں۔ “ [ عیسائیت تجزیہ ومطالعہ از ساجد میر ] (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ مَرَّ بِسَخْلَۃٍ جَرْبَاءَ قَدْ أَخْرَجَہَا أَہْلُہَا قَالَ تُرَوْنَ ہَذِہِ ہَیِّنَۃً عَلَی أَہْلِہَا ؟ قَالُوا نَعَمْ قَالَ وَاللَّہِ لَلدُّنْیَا أَہْوَنُ عَلَی اللَّہِ مِنْ ہَذِہِ عَلَی أَہْلِہَا) (سنن دارمی : باب فی ہو ان الدنیا علی اللہ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر بکری کے مردہ بچے کے پاس سے ہوا۔ جس کو اسکے اہل والوں نے باہر پھینک دیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ تم اسے اس کے اہل والوں پر بےفائدہ تصور کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا ہاں ! آپ نے فرمایا اللہ کی قسم ! دنیا اللہ کے نزدیک اس مردہ بکری کے بچے سے بھی کم تر ہے۔ “ مسائل 1۔ دین کی غلط تشریح کرکے دنیا کمانے والوں کے لیے جہنم اور ہلاکت ہے۔ تفسیر بالقرآن آخرت کے مقابلے میں دنیا کی حیثیت : 1۔ آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ (الاعلیٰ : 17) 2۔ دنیا کھیل اور تماشا ہے۔ (الانعام : 32) 3۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی عارضی ہے۔ (الرعد : 26) 4۔ دنیا کی زندگی محض دھوکے کا سامان ہے۔ (الحدید : 20) 5۔ دنیا عارضی اور آخرت پائیدار ہے۔ (المؤمن : 39)
Ayah 2:80

وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَةً١ؕ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:80 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں چند روز کے علاوہ آگ ہرگز نہ چھوئے گی۔ ان سے پوچھیں کہ تم نے اللہ تعالیٰ سے کوئی عہد لیا ہے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی کبھی خلاف ورزی نہیں کرے گا یا تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں وہ کچھ کہہ رہے ہو جس کا تمہیں علم نہیں

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں اہل کتاب خود ساختہ عقائد کی بنیاد پر یہ دعویٰ کرتے تھے اور آج ان کا دعوٰی ہے کہ ہم گنتی کے چند دن جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ اس کے بعد جنت ہماری اور ہم جنت کے وارث ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ‘ نبی آخر الزماں ﷺ کی نبوت کا انکار اور بھاری جرائم میں ملوث ہونے کے باوجود یہودیوں کی خوش فہمیوں کی انتہا یہ تھی اور ہے کہ وہ بڑی بےباکی کے ساتھ تورات کے حوالے سے دعویٰ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہونے کے ناطے سے ہم جہنم میں نہیں جاسکتے۔ سوائے ان چند دنوں کے جن دنوں میں ہمارے بزرگوں نے بچھڑا پوجنے کی غلطی کی تھی۔ اس دعویٰ کی قلعی کھولنے کے لیے ان سے سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا تم نے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد لے رکھا ہے کہ جس کی خلاف ورزی کی اللہ تعالیٰ سے توقع نہیں کی جاسکتی ؟ اگر تم اس دعویٰ میں سچے ہو تو تمہیں کوئی ثبوت پیش کرنا چاہیے۔ درحقیقت یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بےبنیاد اور جہالت کی بات کرتے ہیں۔ فرقہ پرستی کے مضمرات میں سے ایک یہ بات بھی ہے کہ ہمارے بعض علماء اور مشائخ نے اس سے دو قدم آگے بڑھ کر اپنے عقیدت مندوں اور مریدوں میں یہ تاثر پیدا کر رکھا ہے کہ جنت میں جانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کسی پیر کا مرید یا کسی امام کا مقلد ہوجائے۔ حالانکہ اس نظریہ کی دلیل قرآن وسنت میں نہیں پائی جاتی۔ مسائل 1۔ یہودیوں کا عقیدہ شرعی حقائق کے منافی اور عدل و انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ 2۔ من گھڑت دینی مسائل اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہیں۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن کا معاملہ : 1۔ ہر ایک کو اس کے اپنے اعمال کام آئیں گے۔ (البقرۃ : 134) 2۔ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (الانعام : 164) 3۔ کوئی کسی کے اعمال کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جائے گا۔ (فاطر : 43) 4۔ کسی کے گناہ کے متعلق کسی دوسرے سے نہیں پوچھا جائے گا۔ ( الرحمن : 39)
Ayahs 2:81–82

بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓئَتُهٗ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:81 in the Quran reader

کیوں نہیں جس نے برے کام کیے اور اس کے برے کاموں نے اسے گھیر لیا پس یہی لوگ آگ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:82 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے وہ جنتی ہیں اور وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے

فہم القرآن ربط کلام : من گھڑت تصورات اور بد اعمالیاں آدمی کو جہنم میں لے جائیں گی جبکہ جنت کے وارث تو صاحب ایمان اور صالح اعمال کرنے والے لوگ ہی ہوں گے۔ اہل کتاب اور ہر فرد کو یہ باور کروایا جا رہا ہے کہ بلند بانگ دعوے، دل کش نعرے، حسب ونسب کے امتیازات اور بزرگوں کے ساتھ نسبت اس شخص کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتے جو ایمان سے عاری اور تادم مرگ شرک و بدعت میں ملوث رہا ہو اسے ہر حال میں جہنم کے دہکتے ہوئے انگاروں میں جانا ہے اور ان میں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ اس کے برعکس کوئی شخص اعلیٰ حسب و نسب اور بڑے بڑے امتیازات و القابات سے محروم ‘ مگر صاحب ایمان و کردار ہو۔ ایسے لوگ جہاں کہیں کے رہنے والے اور جو بھی ہوں اگر ان کا دامن ایمان کی نعمت اور کردار کی دولت سے مالا مال ہے تو وہ جنت میں ضرور جائیں گے اور وہاں انہیں حیات جاوِداں حاصل ہوگی۔ یاد رہے کہ یہاں زندگی بھر گناہوں میں گھرے ہوئے سے مراد کفر و شرک اور بدعات میں ملوّث ہونے والا شخص ہے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِيْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ مِّنْ کِبْرٍ وَّلَا یَدْخُلُ النَّارََ مَنْ کَانَ فِيْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ حَبَّۃٍ مِّنْ إِیْمَانٍ ) (رواہ الترمذی : کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی الکبر) ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا اور جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہوگا جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔ “ مسائل 1۔ کفرو شرک اور کبیرہ گناہ کا مرتکب اگر توبہ کے بغیر مرجائے تو وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ 2۔ ایمان خالص اور عمل صالح اپنانے والے لوگ ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔
Ayah 2:83

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ١۫ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْكُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 2:83 in the Quran reader

اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا کہ تم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو گے اور ماں باپ اور قرابت داروں ‘ یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو گے اور لوگوں کو اچھی باتیں کہو گے نماز قائم اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو گے لیکن تھوڑے سے لوگوں کے علاوہ تم سب پھرگئے اور تم پھرجانے والے ہو

فہم القرآن ربط کلام : یہودی دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ لیا حالانکہ یہود نے اللہ تعالیٰ سے کوئی وعدہ نہیں لیا البتہ اللہ تعالیٰ نے ضرور ان سے ان باتوں کا وعدہ لیا ہوا ہے۔ ہر دور میں دین کے بنیادی ارکان اور احکام ایک ہیں اور ان کی ترتیب بھی ایک جیسی ہی رہی ہے۔ سب سے پہلے خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا جسے حقوق اللہ کہا جاتا ہے۔ حقوق اللہ کے بعد والدین کی تابعداری اور ان کے ساتھ احسان کرنا ہے۔ اور ان کے ساتھ قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، لوگوں سے اچھی بات کہنا، نماز کا اہتمام کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ رب اور خالق ہے لیکن اس نے اپنی تخلیق اور ربوبیت کا ذریعہ والدین کو بنایا ہے اس لیے اپنی ذات کے بعد اس نے اس مقدس رشتہ کو تقدیس و تکریم دیتے ہوئے ہدایات فرمائیں کہ اولاد کو چاہیے کہ اپنے والدین کے ساتھ ہر دم اچھا سلوک کرتی رہے۔ نبی کریم ﷺ نے قرآن مجید کی اسی ترتیب کا خیال رکھتے ہوئے ارشادات فرمائے : (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِیَّ ﷺ أَیُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ قَال الصَّلَاۃُ عَلٰی وَقْتِہَا قَالَ ثُمَّ اَیٌّ قَالَ ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَیْنِ قَالَ ثُمَّ اَیٌّ قَالَ الْجِہَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ) (رواہ البخاری : کتاب مواقیت الصلوۃ ) ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا : نمازوقت پر ادا کرنا۔ پھر پوچھا تو فرمایا والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ اس کے بعد پوچھنے پر آپ نے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ (عَنْ بَھْزِ بْنِ حَکِیْمٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ مَنْ أَبَرُّّ قَالَ أُمَّکَ ثُمَّ أُمَّکَ ثُمَّ أُمَّکَ ثُمَّ أَبَاکَ ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ ) (رواہ ابو داؤد : باب فی بر الوالدین) ” بہز بن حکیم اپنے باپ سے اور وہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا : میں نے پوچھا اللہ کے رسول ﷺ ! میں کس سے اچھا سلوک کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اپنی ماں سے پھر اپنی ماں سے پھر اپنی ماں سے پھر اپنے باپ سے اور پھر قریبی رشتہ داروں سے۔ “ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ کَافِلُ الْیَتِیْمِ لَہٗ أَوْلِغَیْرِہٖ أَنَا وَھُوَ کَھَاتَیْنِ فِی الْجَنَّۃِ وَأَشَارَ مَالِکٌ بالسَّبَابَۃِ وَالْوُسْطٰی) (رواہ مسلم : باب الإحسان إلی الأرملۃ۔۔ ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے رشتہ دار یا کسی دوسرے یتیم کی پرورش کرنے والا اور میں جنت میں ایسے ہوں گے۔ راوی نے درمیانی اور انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔ “ (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ أَنَّ الْیَھُوْدَ دَخَلُوْا عَلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالُوْا أَلسَّامُ عَلَیْکَ فَلَعَنَتْھُمْ فَقَالَ مَالَکِ قُلْتُ أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَاقَالُوْا قَالَ فَلَمْ تَسْمَعِیْ مَاقُلْتُ وَعَلَیْکُمْ ) (رواہ البخاری : باب الدعاء علی۔۔ ) اچھی بات کا حکم : ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ یہودیوں نے نبی ﷺ کے پاس آکر کہا : السّام علیک کہ تجھ پر ہلاکت ہو۔ حضرت عائشہ ؓ نے ان پر لعنت کی۔ آپ ﷺ نے پوچھا : عائشہ ! تجھے کیا ہوا ؟ حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا کہ آپ نے ان کی بات نہیں سنی۔ فرمایا تو نے میری بات نہیں سنی میں نے وعلیکم کہا کہ تم پر بھی ہو۔ “ بیوہ اور مسکین کے ساتھ حسن سلوک کی فضیلت : (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَال النَّبِيُّ ﷺ السَّاعِيْ عَلَی الْأَرْمَلَۃِ وَالْمِسْکِیْنِ کَالْمُجَاھِدِ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوِ الْقَاءِمِ اللَّیْلَ الصَّاءِمِ النَّھَارَ ) (رواہ البخاری : باب فضل النفقۃ علی الأھل ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیوہ اور مسکین پر نگران اللہ کی راہ میں مجاہد کی طرح ہے یا رات کو قیام اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔ “ مسائل 1۔ صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا، والدین سے حسن سلوک کرنا، رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں سے اچھا برتاؤ کرنا اور ہمیشہ اچھی بات کہنا، نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرنا اللہ تعالیٰ سے عہد نبھانے کے مترادف ہے۔ تفسیر بالقرآن مقام والدین : 1۔ بنی اسرائیل سے والدین کے ساتھ احسان کا عہدلیا گیا۔ (البقرۃ : 83) 2۔ والدین سے نیکی کرنے کا حکم۔ (بنی اسرائیل : 23) 3۔ والدین کو اف کہنا اور جھڑکناجائز نہیں۔ (بنی اسرائیل : 23) 4۔ والدین کے سامنے عاجزی سے رہنا اور ان کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ (بنی اسرائیل : 24) 5۔ غیر مسلم والدین کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنا چاہیے۔ (لقمان : 15) (دیگر احکام کے بارے میں اگلے مقامات پر وضاحت ہوگی)
Ayah 2:84

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 2:84 in the Quran reader

اور جب ہم نے تم سے پکا وعدہ لیا کہ آپس میں نہ خون بہاؤ گے اور نہ اپنوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالو گے۔ پھر تم نے اقرار کیا اور تم اس پر گواہ ہو

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ عہد کا حصہ۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح بنی اسرائیل سے اپنی بندگی اور والدین کے ساتھ حسن سلوک، یتامٰی و مساکین کے ساتھ تعاون اور لوگوں سے خوش اخلاقی و خوش گفتاری کے ساتھ پیش آنے، نماز اور زکوٰۃ کا عہد لیا تھا۔ اسی طرح ان سے یہ عہد بھی لیا تھا کہ آپس میں دنگا فساد کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے صلح وآشتی کے ساتھ رہنا۔ لیکن انہوں نے نہ صرف اس عہد کی مخالفت کی بلکہ قتل و غارت اور ظلم و زیادتی کا بازار گرم کیا۔ طاقت ور کمزور کے لیے وحشی درندے کی شکل اختیار کر گیا۔ ماضی میں جو کچھ فرعون ان کے ساتھ کیا کرتا تھا انہوں نے اس سے بڑھ کر اپنے لوگوں پر ظلم ڈھائے کہ کمزور طبقات کو ان کے گھروں سے نکلنے پر مجبور کردیا۔ طاقتور قبائل اپنی برتری قائم رکھنے کے لیے ایک دوسرے کو لڑایا کرتے اور پھر لوگوں کے سامنے سچا ہونے اور اپنے آپ کو مظلوموں کا خیر خواہ ثابت کرنے کے لیے حقوق انسانیت کے علمبردار بن جاتے اور مغلوب قبیلے کے قیدیوں کو رہائی دلانے کے لیے فدیے کا بندوبست کرتے تاکہ یہ لوگ ہمیشہ کے لیے ان کے ممنون رہیں۔ جس طرح امریکہ، برطانیہ اور دیگر اتحادیوں نے پہلے 2001 ء میں افغانستان اور عراق کے لاکھوں بےگناہ لوگوں کو شہید کیا اور پھر انسانیت اور تعمیر نو کے نام پر اپنے مفاد کے لیے کروڑوں ڈالر خرچ کیے اور لوگوں کو خوراک اور ادویات مہیا کیں تاکہ دنیا کو باور کرایا جائے کہ ہم ظالم نہیں خیر خواہ اور انسان دوست لوگ ہیں۔ مسائل 1۔ بنی اسرائیل سے کشت و خون نہ کرنے کا عہد لیا گیا۔ 2۔ بنی اسرائیل سے اپنے لوگوں کو دربدر نہ کرنے کا عہد لیا گیا۔
Ayah 2:85

ثُمَّ اَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِیَارِهِمْ١٘ تَظٰهَرُوْنَ عَلَیْهِمْ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١ؕ وَ اِنْ یَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْهُمْ وَ هُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ١ؕ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ١ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُرَدُّوْنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الْعَذَابِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:85 in the Quran reader

پھر تم وہ لوگ ہو جو آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرتے ہو اور اپنے لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال دیتے ہو، گناہ اور ظلم کے ساتھ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہو اگر وہ تمہارے پاس قید ہو کر آئیں تو فدیہ دے کر انہیں چھڑاتے ہو حالانکہ ان کو ان کے گھروں سے نکالنا ہی تم پر حرام تھا۔ کیا تم کتاب کے کچھ حصے پر ایمان لاتے اور کچھ کا انکار کرتے ہو۔ جو تم میں سے ایسا کام کرے گا ان کے لیے دنیا میں ذلت ہے اور قیامت کے دن انہیں سخت عذاب کی طرف دھکیل دیا جائے گا جو تم عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے بیخبر نہیں ہے

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل نے نہ صرف اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو توڑا بلکہ اس حد تک عہد شکن ثابت ہوئے کہ انہوں نے باہمی تعلقات کو توڑتے ہوئے اپنوں میں سے کمزور لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال باہر کیا۔ اس بات پر یہودیوں کو سمجھایا گیا ہے کہ مظلوموں کی حالت زار تمہاری سیاست اور مذموم منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے جبکہ تورات میں تمہیں اس بات سے منع کیا اور تم سے عہد لیا گیا تھا کہ اپنوں کو قتل کرنا اور کمزوروں کو ان کے گھروں سے نکالنا سنگین اخلاقی اور معاشرتی جرم ہے۔ یہاں بار بار مخاطب کی ضمیر لا کر انہیں شرم دلائی جارہی ہے کہ یہ تمہارے ہی ہم نسب اور ہم وطن ہیں۔ جن میں سے کچھ کو تم قتل کردیتے ہو اور کچھ کو ان کے گھروں سے نکال کر باہر پھینکتے ہو۔ تمہاری سازشوں کی وجہ سے وہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے جاتے ہیں۔ اس کے بعد فدیہ دے کر چھڑاتے ہو۔ ایسا کرنا نہ صرف اخلاقی جرم ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے کہ کلام اللہ کے جس حصہ پر چاہا عمل کرلیا اور جس سے دنیا کے نقصان کا اندیشہ ہوا اسے چھوڑ دیا۔ اس طرح نہ صرف شریعت بازیچۂ ا طفال بن جاتی ہے بلکہ آدمی کی طبیعت میں مستقل طور پر منافقت اور مفاد پرستی پیدا ہوجاتی ہے۔ جس کی سزا دنیا میں ذلت و رسوائی اور آخرت میں شدید ترین عذاب ہے۔ جو لوگ دین کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دیتے ہیں اور خیر خواہی کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں ان پر نہ آخرت کا عذاب ہلکا ہوگا اور نہ ہی کوئی ان کی مدد کرنے والا ہوگا۔ ” نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں انصار ( جو اسلام سے قبل مشرک تھے) کے دو قبیلے تھے۔ اوس اور خزرج، ان کی آپس میں آئے دن جنگ رہتی تھی، اسی طرح یہود مدینہ کے تین قبیلے تھے۔۔ بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ۔ یہ بھی آپس میں لڑتے رہتے تھے، بنو قریظہ اوس کے حلیف تھے اور بنو قینقاع اور بنو نضیر خزرج کے حلیف تھے، جنگ میں یہ اپنے اپنے حلیفوں کی مدد کرتے اور اپنے ہی ہم مذہب یہودیوں کو قتل کرتے، ان کے گھروں کو لوٹتے اور انہیں جلاوطن کردیتے۔ حالانکہ تورات کے مطابق ایسا کرنا ان کے لیے حرام تھا، پھر جو لوگ مغلوب ہونے کی وجہ سے قیدی بن جاتے تو انہیں فدیہ دے کر چھڑاتے اور کہتے کہ ہمیں تورات میں یہی حکم دیا گیا ہے۔ ان آیات میں یہودیوں کے اسی کردار کو بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے شریعت کو موم کی ناک بنالیا تھا، مرضی سے حکم پر عمل کرلیتے اور مرضی کے خلاف حکم کو کوئی اہمیت نہ دیتے۔ قتل، لوگوں کو ان کے گھروں سے نکالنا اور ایک دوسرے کی ظلم پر مدد کرنا، ان کی شریعت میں حرام تھا، ان جرائم کا انہوں نے کھلم کھلا ارتکاب کیا اور جو فدیہ دے کر چھڑا لینے کا حکم تھا اس پر عمل کیا۔ حالانکہ اگر وہ پہلے تین امور کا لحاظ رکھتے (قتل و غارت گری سے باز رہتے، دوسروں کو جلاوطن نہ کرتے، ظلم وستم سے رک جاتے) تو فدیہ دے کر چھڑانے کی نوبت ہی نہ آتی۔ “ (ماخوذ از ” تفسیر احسن البیان “ ) اہل کتاب کے ایک دوسرے پر مظالم : ہربرٹ ملر نے لکھا ہے : ” رومی بادشاہ تھیوڈو سیس نے دوسرے مذاہب کی عبادت گاہیں حکماً بند کردیں اور کیتھولک عیسائیت کو ملک کا واحد قانونی مذہب قرار دیتے ہوئے ان سب ” دیوانوں “ (madmen) سے ہر قسم کے شہری حقوق چھین لیے جو کیتھولک عیسائیت سے متفق نہ تھے۔ “ When The odosius deprived heretics of civil rights, religious orthodoxy became the price of citizenship for the first time in history. (Herbert Muller: op.cit pp.86-87; Cambridge Modern History (1907) vol.10 p.152) ” جب تھیوڈو سیس نے ملحدین کو شہری حقوق سے محروم کیا ‘ تو عقیدہ کی تبدیلی شہریت کی قیمت قرار پائی۔ “ اور پوپ لیو دواز دہم نے تو رواداری (Toleration) کو صاف الفاظ میں سچے مذہب سے بےپروائی (Indifference) سے تعبیر کرتے ہوئے بتادیا کہ عیسائیت میں نقطۂ نظر کے اختلاف کو برداشت کرنے کی قوت و صلاحیت کہاں تک ہے۔ عملاً بھی اس نے تنخواہ دار مخبرین (Informers) کی مدد سے مسلمہ عقائد سے ہٹے ہوئے افراد سے اپنی جیلیں بھر دیں۔ ” مشرکین “ (pagans) اور ” ملحدین “ (heretics) کے بعد جو طبقہ مسیحی عدم رواداری اور تشدد کا پہلا نشانہ بنا ‘ وہ یہودی تھے۔ یہودیوں سے مسیح کے ” خون کا بدلہ “ لینے کے لیے انجیل کی اس آیت کا حوالہ استعمال کیا گیا جس میں مسیح کے وقت کے یہودیوں نے رومی حاکم پیلاطس کی مسیح کو مصلوب کرنے پر ہچکچاہٹ دیکھتے ہوئے کہا تھا ” اس کا خون ہماری اور ہماری اولاد کی گردن پر ! “ (متی 27: 25) : With the triumph of Christianity, the children of Israel had to repay his duffering a million fold. (Herbert Muller : op.cit., p.91) ” عیسائیت کے غلبہ کے بعد بنی اسرائیل کو مسیح کی تکالیف کا کئی لاکھ گنا بدلہ چکانا پڑا۔ “ ملحدین ‘ مشرکین اور یہود وغیرہ پر ظلم وتشدد اور ان کے قتل و غارت پر عیسائی حکمرانوں اور امراء کو اکساتے ہوئے ایک مشہور پوپ ہلڈر برینڈ (Hilderbrand) نے کہا تھا : Cursed be he that refraineth his sword from blood. (H.C.Lea: A history of the Inquisition in spain (New York 1906) vol. 1, pp.81, 115) ” جو اپنی تلوار کو (ان لوگوں کا) خون کرنے سے روک رکھے وہ لعنتی ہے۔ “ (عیسائیت تجزیہ ومطالعہ) مسائل 1۔ بنی اسرائیل عہد توڑنے والی قوم ہے۔ 2۔ بنی اسرائیل پر رشوت لینا حرام تھا۔ 3۔ دین کے کچھ ارکان پر عمل کرنا اور کچھ کو چھوڑ دینا دنیا میں ذلت اور آخرت میں عذاب جہنم کا سبب ہوگا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال سے بیخبر نہیں ہے۔
Ayah 2:86

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١٘ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۠ Open ayah 2:86 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے خرید لیا ہے سو ان پر عذاب ہلکا نہیں کیا جائے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی

فہم القرآن ربط کلام : یہود و نصاریٰ کی یہ عہد شکنیاں اس لیے تھیں کہ انہوں نے آخرت کو فراموش کر کے دنیا کو مقدم کرلیا تھا۔ دنیا کے لیے وہ تمام اخلاقی اور دینی حدیں پھاندنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ کفار اور مشرکین کے بارے میں قرآن مجید بار بار اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ ان لوگوں پر نہ عذاب ہلکا ہوگا اور نہ ہی انہیں جہنم سے نجات ملے گی۔ جس شخص کے بارے میں عذاب ہلکا ہونے کا امکان ہے وہ جناب ابو طالب ہیں۔ ان کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے اس امید کا اظہار کیا ہے۔ (عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ؓ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ﷺ وَذُکِرَ عِنْدَہُ عَمُّہُ فَقَالَ لَعَلَّہُ تَنْفَعُہُ شَفَاعَتِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، فَیُجْعَلُ فِی ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ ، یَبْلُغُ کَعْبَیْہِ ، یَغْلِی مِنْہُ دِمَاغُہُ ) (رواہ البخاری : کتاب المناقب، باب قصۃ ابی طالب) ” حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپ ﷺ کے پاس آپ کے چچا ابو طالب کا تذکرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا شاید اسے میری شفاعت قیامت کے دن فائدہ دے۔ اسے آگ پر کھڑا کیا جائے گا۔ وہ آگ اس کے ٹخنوں تک پہنچتی ہوگی جس سے اس کا دماغ کھولے گا۔ “ ” جن لوگوں نے ہماری آیات کا انکار کیا یقیناً ہم انہیں جہنم واصل کریں گے جب ان کے جسموں کی کھال گل جائے گی تو ہم دوسری کھال سے بدل دیں گے تاکہ عذاب کا مزا چکھتے رہیں اللہ تعالیٰ یقینًا زبردست اور حکمت والا ہے۔ “ (النساء : 56) مسائل 1۔ آخرت کی زندگی پر دنیا کو ترجیح دینے والوں پر جہنم کا عذاب ہلکا نہیں ہوگا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کے بدلے مال اور منصب حاصل کرنا حرام ہے۔ 3۔ دوزخیوں کی کوئی کچھ بھی مدد نہیں کرسکے گا۔
Ayahs 2:87–88

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ١٘ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ١ۚ فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ١٘ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ Open ayah 2:87 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی اور ان کے بعد مسلسل رسول بھیجے اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم ( علیہ السلام) کو واضح دلائل دیے۔ اور روح القدس سے اس کی تائید فرمائی۔ جب تمہارے پاس رسول وہ چیز لائے جو تمہاری طبیعتوں کے خلاف تھی تو تم نے تکبر کیا پس ایک جماعت کو تم نے جھٹلا دیا اور دوسری جماعت کو تم نے قتل کر ڈالا

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:88 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل پردے میں ہیں۔ بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کردی ہے اب ان میں ایمان لانے والے تھوڑے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل سے عہد لینے کے بعد اس کی یاد دہانی کے لیے مسلسل انبیاء مبعوث کیے گئے مگر یہ لوگ تکبر اور ظلم میں آگے ہی بڑھتے گئے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے پختہ عہد سے انحراف، قومی جرائم اور اجتماعی ذلت کا احساس دلا کر بنی اسرائیل کو یاد کروایا گیا ہے کہ اپنی تاریخ کا ریکارڈ ذہن میں لاؤ۔ جب ہم نے تمہاری رہنمائی کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عنایت کی اور ان کے بعد اس عہد کی یاد دہانی اور ایفا کے لیے متواتر انبیائے کرام مبعوث فرمائے۔ یہاں تک کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) ایسے معجزات کے ساتھ مبعوث ہوئے کہ جن کے سامنے حاذق اطبا، معروف دانشور اور بڑے بڑے اہل علم طفل مکتب دکھائی دیتے تھے۔ لیکن اے اہل کتاب ! تم نے ہر اس بات کا انکار کیا جو تمہارے رواج اور مزاج کے خلاف تھی۔ تم نے نا صرف روشن معجزات اور ٹھوس دلائل کا متکّبرانہ جواب دیا بلکہ انبیاء کی کثیر تعداد کی تکذیب کرتے ہوئے انہیں ماننے سے انکار کردیا اور کچھ انبیاء کو شہید ہی کر ڈالا۔ اب تم گناہوں اور اپنے استکبار کو چھپانے کے لیے کہتے ہو کہ ہم قرآن اور اس نبی کی رسالت کو اس لیے تسلیم نہیں کرتے کہ ہمارے دل علم و دانش کے گہوارے ہیں اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمیں اس نبی کی باتوں کی سمجھ ہی نہیں آتی۔ ہمارے اور اس کے درمیان پردہ حائل ہوچکا ہے۔ یہی وہ بہانے ہیں جو ہر دور میں نام نہاد دانشور اور متعصب مذہبی لوگ کرتے آئے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ دلائل سمجھنے اور حقائق کو جاننے کے باوجود یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ علم و معرفت رکھتے ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے ان پر خدا کی پھٹکار پڑچکی ہے۔ تکبر کا معنٰی اور انجام : (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِيْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِّنْ کِبْرٍ قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ أَنْ یَّکُوْنَ ثَوْبُہٗ حَسَنًا وَّنَعْلُہٗ حَسَنَۃً قَالَ إِنَّ اللّٰہَ جَمِیْلٌ یُّحِبُّ الْجَمَالَ الْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ ) (رواہ مسلم : باب تحریم الکبر وبیانہ ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ ایک آدمی نے کہا کہ آدمی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اور اس کے جوتے اچھے ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ تکبر حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ “ (عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ یُحْشَرُ الْمُتَکَبِّرُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَمْثَال الذَّرِّ فِيْ صُوَرِ الرِّجَالِ یَغْشَاھُمُ الذُّلُّ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ فَیُسَاقُوْنَ إِلٰی سِجْنٍ فِيْ جَھَنَّمَ یُسَمّٰی بُوْلَسَ تَعْلُوْھُمْ نَارُ الْأَنْیَارِ یُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَۃِ أَھْلِ النَّارِ طِیْنَۃَ الْخَبَالِ ) (رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب منہ ) ” حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے دادا ؓ سے وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قیامت کے دن متکبر لوگ چیونٹیوں کی صورت میں لائے جائیں گے انہیں ہر طرف سے ذلت ڈھانپے ہوئے ہوگی اور انہیں بولس نامی جہنم کی جیل میں لے جایا جائے گا۔ ان پر آگ کے شعلے بلند ہورہے ہوں گے اور انہیں جہنمیوں کی زخموں کی پیپ پلائی جائے گی۔ “ مسائل 1۔ بنی اسرائیل نے کچھ انبیاء کو شہید کیا اور اکثر کو جھٹلا دیا۔ 2۔ منکرین حق بات ماننے کی بجائے یہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل پردہ میں ہیں۔ تفسیر بالقرآن لعنتی کون ؟ 1۔ شیطان لعنتی ہے۔ (النساء : 118) 2۔ کافر لعنتی ہیں۔ (الاحزاب : 64) 3۔ اصحاب السبت لعنتی ہیں۔ ( النساء : 47) 4۔ یہودی لعنتی ہیں۔ (المائدۃ : 64) 5۔ جھوٹے لعنتی ہیں۔ (آل عمران : 61) 6۔ ظالم پر لعنت ہوتی ہے۔ (ھود : 18) 7۔ حق چھپانے والے لعنتی ہیں۔ (البقرۃ : 159) 8۔ اللہ اور رسول کو تکلیف دینے والے لعنتی ہیں۔ (الاحزاب : 57)