Ayahs 2:31–33فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ خلیفہ کی علمی برتری اور فضیلت کا بیان۔
جناب آدم (علیہ السلام) کو ان تمام چیزوں کے ناموں سے آگاہ کردیا گیا جن سے انہیں واسطہ پڑنا تھا۔ پھر ان اشیاکو ملائکہ کے سامنے پیش کرکے حکم دیا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتلاؤ۔ ملائکہ نے نام بتلانے سے معذوری ظاہر کی اور عرض کی کہ بار الٰہا ! تیری ذات، احکام اور کام ہر کمزوری اور نقص سے پاک ہے ہم تو فقط اتنا ہی جانتے ہیں جو کچھ آپ نے ہمیں بتلایا ہے بلاشبہ تو ہر چیز کا علم بھی رکھنے والا ہے۔ ثابت ہوا کہ ملائکہ بھی غیب نہیں جانتے۔ اس کے بعد آدم (علیہ السلام) کو حکم فرمایا کہ ملائکہ کو ان چیزوں کے نام بتلاؤ حکم پاتے ہی حضرت آدم (علیہ السلام) نے بلا تأمّل ان کے نام بتلا دئیے۔ اس کے بعد ارشاد ہوا کیا میرا پہلے سے یہ فرمان نہیں تھا کہ میں زمین و آسمان کے ظاہر اور باطن کو جانتا ہوں ؟ اور وہ کچھ بھی مجھے معلوم ہے جو تم ظاہر کر رہے تھے اور جو تم چھپائے ہوئے ہو۔ اس میں واضح طور پر ملائکہ کے لیے اشارہ ہے کہ یہ چیزیں تمہارے سامنے ہونے کے باوجود تم ان کے نام نہیں بتلا سکے تو تم آدم (علیہ السلام) کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو کیسے جان سکتے ہو اور جس طرح آدم (علیہ السلام) نے میرے عطا کردہ علم کے ذریعے تم پر برتری حاصل کرلی ہے اسی طرح ہی میری ہدایت کی روشنی میں خیر و شر اور نیکی و بدی میں امتیاز کرکے برتری حاصل کرے گا۔ بعض مفسرین غیر مستند روایات اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر لکھتے ہیں کہ آدم (علیہ السلام) کو ان چیزوں کے نام ملائکہ سے الگ کرکے اور بعض کا خیال ہے کہ ملائکہ کی موجودگی میں ہی بتلائے گئے تھے۔ فرشتے اہلیت نہ ہونے کی وجہ سے یہ نام بھول گئے جبکہ آدم (علیہ السلام) اپنی لیاقت کی بنیاد پر ان چیزوں کے نام یاد رکھنے اور بتلانے میں کامیاب رہے۔
قرآن مجید لا حاصل موشگافیوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا کیونکہ اس طرح انسان اصل مقصود اور عملی زندگی سے نکل کر قیل و قال کا ہو کر رہ جاتا ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو تمام چیزوں کے نام بتلائے۔ 2۔ ملائکہ وہی کچھ جانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ انہیں بتلاتا ہے۔
3۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے ملائکہ کو تمام چیزوں کے نام بتلادیے۔
4۔ جس بات کا علم نہ ہو اس کے بارے میں عدم علم کا اعتراف کرنا ملکوتی صفت ہے۔
5۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز جاننے والا ہے اور اس کا ہر کام اور حکم پُر حکمت ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ ظاہر اور پوشیدہ سب کچھ جانتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
مخلوق کے علم کا ماخذ :
1۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء ( علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی۔ (۔۔ حوالہ)
2۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو پڑھنا سکھایا۔ (العلق : 1)
3۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو وہ کچھ بتلایا جو یہ نہیں جانتا تھا۔ (العلق : 5)
4۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو لکھنا سکھایا۔ (العلق : 4)
5۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بولنا اور بیان کرنا سکھلایا۔ (الرحمن : 4)
6۔ انسان کو رحمٰن نے قرآن سکھایا۔ (الرحمن : 2) 7۔ آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا۔ (البقرۃ : 31)
8۔ فرشتوں نے بھی سب کچھ اللہ تعالیٰ سے سیکھا۔ (البقرۃ : 32)
9۔ سدھائے ہوئے جانوروں کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ (المائدۃ : 4)
Ayah 2:34فہم القرآن
ربط کلام : خلیفہ کی علمی برتری اور شان کے سامنے کائنات کی اعلیٰ اور مقدس ترین مخلوق ملائکہ کو جھکنے کا حکم۔
سجدہ کا حکم ہوتے ہی تمام ملائکہ آدم (علیہ السلام) کے حضور سر بسجود ہوئے لیکن شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا احترام و مقام دیکھ کر حسد اور تکبر کی وجہ سے سجدہ ریز ہونے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ وہ جرم پر جرم اور گستاخی پر گستاخی کرتا چلا گیا۔ اس جگہ اجمال ہے جبکہ دوسرے مقامات پر شیطان کے انکار کی تفصیلات یوں بیان کی گئی ہیں۔
( وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلآءِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَ ط قَالَ ءَ اَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًا۔ )
(الاسراء : 61)
” اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو ابلیس کے علاوہ سب نے سجدہ کیا اور اس نے کہا کہ کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ “
( اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ ج خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ ) (الاعراف : 12)
” میں آدم سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے اور اسے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ “
( قَالَ لَمْ اَکُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہ ‘ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ) (الحجر : 33)
” شیطان نے کہا میں ایسا نہیں کہ انسان کو سجدہ کروں جسے تو نے کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے۔ “
( قَالَ اَرَءَ یْتَکَ ھٰذَا الَّذِیْ کَرَّمْتَ عَلَیَّ ز لَءِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَاَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہ ‘ ٓ اِلَّا قَلِیْلًا۔ ) (الاسراء : 62)
” شیطان کہنے لگایہی وہ ہے جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے۔ اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں تھوڑے شخصوں کے سوا اس (آدم (علیہ السلام) کی تمام اولاد کی جڑ کاٹتا رہوں گا۔ “
(قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَأُغْوِیَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ ) (ص : 82)
” کہنے لگا تیری عزت کی قسم ! میں ان سب کو بہکا دوں گا۔ “
حسد اور تکبر وہ بری چیز ہے کہ جس سے انسان کے تمام اعمال غارت اور بسا اوقات دنیا ہی میں ذلت و رسوائی سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ سرور دو عالم ﷺ نے تکبر کا مفہوم اور اس کے نقصانات یوں ذکر فرمائے ہیں :
(اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ ) (رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ)
” تکبر حق بات کو چھپانا اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔ “
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِّنْ کِبْرٍ ) (رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ)
” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبرہوا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ “
(عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ إِیَّاکُمْ وَالْحَسَدَ فَإِنَّ الْحَسَدَ یَأْکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَا تَأْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَ ) (رواہ ابوداؤد : کتاب الادب، باب فی الحسد)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ سوکھی لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔ “
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ اللّٰہُ سُبْحَانَہٗ الْکِبْرِیَاءُ رِدَاءِيْ وَالْعَظْمَۃُ إِزَارِيْ مَنْ نَازَعَنِيْ وَاحِدًا مِّنْھُمَا أَلْقَیْتُہٗ فِيْ جَھَنَّمَ ) (رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزھد، باب البراء ۃ من الکبر والتواضع )
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تکبر میری چادر ہے اور عظمت میرا ازار ہے جو ان میں سے کوئی ایک مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا میں اس کو جہنم میں پھینک دوں گا۔ “
غیر اللہ کو سجدہ کرنا جائز نہیں :
(عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ ؓ قَالَ أَتَیْتُ الْحِیْرَۃَ فَرَأَیْتُھُمْ یَسْجُدُوْنَ لِمَرْزُبَانٍ لَّھُمْ فَقُلْتُ رَسُوْلُ اللّٰہِ أَحَقُّ أَنْ یُّسْجَدَ لَہٗ قَالَ فَأَتَیْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَقُلْتُ إِنّيآ أَتَیْتُ الْحِیْرَۃَ فَرَأَیْتُھُمْ یَسْجُدُوْنَ لِمَرْزُبَانٍ لَّھُمْ فَأَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَکَ قَالَ أَرَأَیْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِيْ أَکُنْتَ تَسْجُدُ لَہٗ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَلَا تَفْعَلُوْا لَوْ کُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ یَّسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ النِّسَآءَ أَنْ یَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِھِنَّ لِمَا جَعَلَ اللّٰہُ لَھُمْ عَلَیْھِنَّ مِنَ الْحَقِّ )
(رواہ أبوداوٗد : کتاب النکاح، باب فی حق الزوج علی المرأۃ)
” حضرت قیس بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں حیرہ گیا تو میں نے وہاں کے لوگوں کو بادشاہ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔ میں نے سوچا کہ اللہ کے رسول سجدے کے زیادہ لائق ہیں۔ میں نبی ﷺ کے پاس آیا تو میں نے عرض کی : میں نے حیرہ میں دیکھا کہ وہ اپنے بادشاہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ اللہ کے رسول ! آپ زیادہ حقدار ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : بتلائیے ! اگر تم میری قبر کے پاس سے گزرو تو کیا اسے سجدہ کرو گے ؟ میں نے کہا : نہیں۔ آپ نے فرمایا : ایسے نہ کرو اگر میں نے کسی کو کسی کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا حکم دینا ہوتا تو اللہ تعالیٰ نے مردوں کا عورتوں پر جو حق رکھا اس وجہ سے عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوندوں کے سامنے سجدہ ریز ہوں۔ “
بریلوی مکتبہ فکر کے 3 عالم پیر محمد کرم شاہ صاحب الأزھری کی نظر میں تعظیمی سجدہ حرام ہے :
” جب فرشتوں نے آدم (علیہ السلام) کی وسعت علم اور اپنے عجز کا اعتراف کرلیا تو پروردگار عالم نے انہیں حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ سجدہ کا لغوی معنی ہے تذلّل اور خضوع اور شریعت میں اس کا معنٰی ہے۔ ” وضع الجبھۃ علی الأرض “ پیشانی کا زمین پر رکھنا۔ بعض علماء کے نزدیک یہاں سجدہ کا لغوی معنٰی مراد ہے کہ فرشتوں کو ادب و احترام کرنے کا حکم دیا گیا لیکن جمہور علماء کے نزدیک شرعی معنیٰ مراد ہے۔ یعنی فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ آدم (علیہ السلام) کے سامنے پیشانی رکھ دیں۔ اب اس سجدہ کی دو صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ پیشانی جھکانے والا یہ اعتقاد کرے کہ جس کے سامنے میں پیشانی جھکا رہا ہوں وہ خدا ہے تو یہ عبادت ہے اور یہ بھی کسی نبی کی شریعت میں جائز نہیں بلکہ انبیاء کی بعثت کا مقصد اولین تھا ہی یہی کہ وہ انسانوں کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیں اور دوسروں کی عبادت سے منع کریں تو یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ جس چیز سے روکنے کے لیے انبیاء تشریف لائے اس فعل کا ارتکاب خود کریں یا کسی کو اجازت دیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جس کے سامنے سجدہ کیا جارہا ہے اس کی عزت و احترام کے لیے ہو عبادت کے لیے نہ ہو تو اس کو سجدہ تحیہ کہتے ہیں۔ یہ پہلے انبیاء کرام کی شریعتوں میں جائز تھا لیکن حضور کریم ﷺ نے اس سے بھی منع فرمادیا۔ اب تعظیمی سجدہ بھی ہماری شریعت میں حرام ہے۔ “ [ ضیاء القرآن، جلد اول ‘ البقرہ : 34]
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ملائکہ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا۔
2۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے انکار اور تکبر کرنے والا کافر ہوجاتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
متکبرین :
1۔ سب سے پہلے شیطان نے تکبر کیا۔ (ص : 74)
2۔ تکبر کرنا فرعون اور اللہ کے باغیوں کا طریقہ ہے۔ (القصص : 39)
3۔ تکبر کرنے والے کے دل پر اللہ مہر لگا دیتا ہے۔ (المؤمن : 35)
4۔ متکبر کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ (النحل : 23) 5۔ تکبر کرنے والے جہنم میں جائیں گے۔ (المومن : 76)
Ayah 2:35فہم القرآن
ربط کلام : مسجود ملائکہ بننے کے بعد آدم (علیہ السلام) کے جنت میں قیام و طعام کا انتظام و انصرام اور خاص درخت سے احتیاط کا حکم۔
ارشاد ہوا کہ اے آدم ! تو اور تیری بیوی جنت میں قیام کرو اور اس درخت کے سوا تم جو چاہو کھا پی سکتے ہو۔ ہاں اگر تم اس کے قریب چلے گئے تو ظالموں کی صف میں شامل ہوجاؤ گے۔ 1 جنت میں رکھنے کی یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ جنت کی سہولتوں، بہاروں اور نعمتوں کو اچھی طرح دیکھ لیں اور ان سے لطف اندوز ہولیں۔ تاکہ دنیا کی عارضی نعمتوں کو جنت کے مقابلے میں خاطر میں نہ لائیں اور دوبارہ یہاں آنے کی کوشش کریں۔ 2 شاید یہ اس لیے بھی موقع دیا گیا کہ وہ آسمانی نظام کا براہ راست مشاہدہ کرسکیں تاکہ بحیثیت خلیفہ زمین کے انتظامات کرنے میں انہیں سہولت رہے۔ 3 بطور آزمائش اس درخت سے اس لیے منع کیا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے منع کردہ امور سے بچنے کی تربیت پائیں اور غلطی ہونے کی صورت میں معذرت کا رویہ اختیار کریں۔ 4 اس میں یہ حکمت بھی ہوسکتی ہے کہ انہیں شیطان کی عداوت اور دشمنی کا مزید مشاہدہ ہو۔ تاکہ دنیا میں جا کر شیطانی اثرات و حرکات سے بچنے کی ہر وقت کوشش کرتے رہیں۔
مسائل
1۔ آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی دنیا میں آنے سے پہلے جنت میں رہائش پذیر ہوئے۔
2۔ اللہ کی نافرمانی کرکے انسان ظالم ہوجاتا ہے۔
تفسیر بال قرآن
ظالم کون ؟
1۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والا ظالم ہے۔ (الانعام : 21) 2۔ شرک کرنے والا ظالم ہے۔ (لقمان : 13)
3۔ اللہ کی مسجدوں سے روکنے اور ان میں خرابی پیدا کرنے والا ظالم ہے۔ (البقرۃ : 114)
4۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والا ظالم ہے۔ (الزمر : 32) 5۔ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ (آل عمران : 57)
6۔ ظالم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ (الانعام : 21) 7۔ ظالم کی سزا جہنم ہوگی۔ (الانبیاء : 29)
Ayah 2:36فہم القرآن
ربط کلام : حضرت آدم (علیہ السلام) سے شیطان کا پہلا انتقام۔
حکم تھا کہ اے آدم ! تم میاں، بیوی نے اس درخت کے قریب نہیں جانا۔ اس کے باوجود دونوں نے درخت کا پھل کھالیا۔ اس طرح آدم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ کو بالآخر شیطان پھسلانے میں کامیاب ہوا۔ جس کی پاداش میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا کو جنت سے نکل جانے کا حکم صادر ہوا۔ ان کے ساتھ ہی شیطان کو بھی زمین پر دھتکار دیا گیا۔ خروج کا حکم دیتے ہوئے پھر فرمایا تم ایک دوسرے کے دشمن ہو لہٰذا ایک مدت کے لیے اب زمین ہی تمہارے لیے جائے قرار ہوگی۔
سورۃ الاعراف کی آیت 189 میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ حضرت حوا ( علیہ السلام) کو آدم (علیہ السلام) سے ہی پیدا کیا گیا تھا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) شیطان کے پھسلاوے میں آکر اللہ تعالیٰ کا حکم بھول گئے اور اس درخت سے نہ بچ سکے۔ یہ واقعہ بیان فرما کر شیطان کے ہتھکنڈوں اور اس کے خوشنما مغالطوں سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود آدم (علیہ السلام) کے بیٹے اور بیٹیاں شیطان کی فریب کاریوں میں مبتلا ہوتے رہیں گے۔ ان سے وہی خوش نصیب بچ سکیں گے جنہوں نے اپنے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) اور اپنی والدہ حضرت حوا [ کے واقعہ کو پوری غیرت کے ساتھ ذہن میں رکھا اور شیطان کو اپنا دشمن سمجھا :
(وَنَسِیَ اٰدَمُ فَنَسِیَتْ ذُرِّیَتُہٗ وَخَطِئَ اٰدَمُ فَخَطِءَتْ ذُرِّیَتُہٗ ) (رواہ الترمذی : تفسیر القرآن، باب ومن سورة الأعراف)
” آدم (علیہ السلام) بھول گئے ان کی اولاد بھی بھولتی رہے گی آدم (علیہ السلام) سے خطا ہوئی اس کی اولاد بھی خطا کرے گی۔ “
(عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَیْنٍ ؓ أَنَ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ ۔۔إِنَّ الشَّیْطَانَ یَجْرِيْ مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ ۔۔ ) (رواہ البخاری : کتاب الإعتکاف، باب زیارۃ المرأۃ زوجھا في اعتکافہ ]
” حضرت علی بن حسین ؓ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا یقیناً شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔ “
بعض مفسرین نے علمی موشگافیوں کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے چونکہ شیطان کا جنت میں داخلہ ممنوع تھا اس لیے وہ سانپ کی شکل اختیار کرکے جنت میں داخل ہوا اور اس نے حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حواء [ کو ورغلایا۔ حالانکہ سانپ بننے کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں کیونکہ شیطان کو اللہ تعالیٰ نے یہ قوت دی ہے کہ وہ انسان کے جسم میں داخل ہوئے بغیر اس پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے اس لیے شیطان کا سانپ بننا ضروری نہیں اور نہ ہی کسی حدیث میں اس کا ثبوت ملتا ہے۔
(عَنْ أَنَسٍ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ لَمَّا صَوَّرَ اللّٰہُ اٰدَمَ فِي الْجَنَّۃِ تَرَکَہٗ مَاشَآء اللّٰہ أَنْ یَّتْرُکَہٗ فَجَعَلَ إِبْلِیْسُ یُطِیْفُ بِہٖ یَنْظُرُ مَاھُوَ فَلَمَّا رَآہُ أَجْوَفَ عَرَفَ أَنَّہٗ خُلِقَ خَلْقًا لَایَتَمَالَکُ ) (رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ والآداب، باب خلق الانسان خلقا لایتمالک)
” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے جنت میں آدم (علیہ السلام) کی صورت گری کی تو اس کے بعد جتنی دیر اللہ تعالیٰ نے چاہا اس کو چھوڑے رکھا۔ شیطان ان کے ارد گرد چکر لگانے لگا اور دیکھنے لگا کہ یہ کیا ہے ؟ جب اس نے آدم (علیہ السلام) کا پیٹ دیکھا تو اس نے پہچان لیا کہ یہ ایسی مخلوق ہے جو اپنے آپ پر کنڑول نہیں رکھ سکے گی۔ “
مسائل
1۔ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا [ کو شیطان نے پھسلادیا تھا۔
2۔ درخت کا پھل چکھنے کی وجہ سے انہیں جنت سے نکال دیا گیا۔
3۔ شیطان بنی نوع انسان کا ازلی دشمن ہے۔ 4۔ زمین میں انسان نے ہمیشہ نہیں رہنا۔
تفسیر بالقرآن
آدم (علیہ السلام) کو جنت سے نکالنے کے شیطانی ہتھکنڈے :
1۔ شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے دل میں وسوسہ ڈالا اور انہیں پھسلا دیا۔ (الاعراف : 20)
2۔ شیطان نے آدم (علیہ السلام) کی غلط رہنمائی کی۔ (الاعراف : 22)
3۔ آدم (علیہ السلام) کو ورغلانے کے لیے شیطان نے قسمیں اٹھائیں۔ (الاعراف : 21)
4۔ شیطان نے اپنے آپ کو آدم (علیہ السلام) کا خیر خواہ ثابت کیا۔ (الأعراف : 21)
5۔ جنت میں ہمیشہ رہنے کا جھانسہ دیا۔ (طہ : 120)
Ayah 2:37فہم القرآن
ربط کلام : حضرت آدم (علیہ السلام) کا سنبھلنا اور اپنے رب سے معافی کا خواستگار ہونا اور رب کریم کا انہیں معاف فرما دینا۔
جب آدم (علیہ السلام) کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو نہ صرف وہ اپنے رب کے حضور معافی کے خوستگار ہوئے بلکہ معافی کا طریقہ، انداز اور الفاظ کی درخواست بھی کر رہے تھے تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی خطا کو اپنے بےپایاں کرم سے معاف کر دے۔ اس مقام پر تینوں بڑی مخلوقات کی فطرت کا فرق نمایاں ہوتا ہے۔ ملائکہ نے معمولی لغزش پر لفظ ” سبحان “ کے ذریعے معذرت کی اور انہیں اسی طرح تقرب حاصل رہا۔ شیطان اپنے جرم پر ڈٹا رہا تو ہمیشہ کے لیے پھٹکار کا مستحق اور راندۂ درگاہ ہوا۔ آدم (علیہ السلام) اپنی غلطی پر معذرت خواہ ہوئے تو ان کی معذرت نے شرف قبولیت پایا۔ کیونکہ ربِّ کریم ہمیشہ سے توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ اس کا وعدہ ہے کہ جب بھی میری بارگاہ میں کوئی معذرت کا دامن پھیلائے گا تو میں اسے معاف ہی کرتا رہوں گا۔
(مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَّغْرِبِھَا تَاب اللّٰہُ عَلَیْہِ ) (رواہ مسلم : کتاب الذکر والدعاء، باب إستحباب الإستغفار والإستکثار منہ)
” جس نے مغرب سے سورج طلوع ہونے سے پہلے تو بہ کرلی اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا۔ “
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ إِِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَیَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَالَمْ یُغَرْغِرْ ) (رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزھد، باب ذکرا لتوبۃ)
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یقینًا اللہ عزوجل بندے کی توبہ قبول کرتارہتا ہے جب تک جان حلق تک نہ پہنچ جائے۔ “
بعض لوگوں نے اپنا من گھڑت عقیدہ ثابت کرنے کے لیے لکھا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی توبہ نبی محترم ﷺ کے وسیلہ سے قبول ہوئی تھی۔ حالانکہ قرآن و حدیث میں اس کا بالکل کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ قرآن مجید نے سورة الاعراف : 22، 23 میں یہاں تک بیان فرمایا ہے کہ درخت کا پھل چکھنے کے بعد حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوّا [ کا لباس اتر گیا، برہنہ ہوجانے کی بنا پر وہ اپنی شرم گاہوں کو جنت کے پتوں سے ڈھانپ رہے تھے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے آدم ! کیا میں نے تمہیں اس درخت کے قریب جانے سے نہیں روکا تھا ؟ اگر حضرت آدم (علیہ السلام) نے نبی محترم ﷺ کا وسیلہ پیش کیا ہوتا تو قرآن مجید اس کا ضرور تذکرہ کرتا۔ کیا اللہ تعالیٰ نے اصل حقیقت کو اپنے بندوں سے چھپالیا ہے ؟ (نعوذ باللہ من ذالک) یہ ایسا الزام اور بہتان ہے جس کا ایک مومن تصور بھی نہیں کرسکتا۔ جن کلمات کے ذریعے توبہ قبول ہوئی ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے کہ آدم (علیہ السلام) نے وہ کلمات اپنے رب سے سیکھ لیے جو یہ تھے :
(رَبَّنَا ظَلَمْنَآ أَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ ) (الأعراف : 23)
” اے ہمارے رب ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے اگر تو نے ہمیں معاف نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو ہم گھاٹا پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ “
اللہ کا اپنے بندوں کو معاف کرنے کے لیے قسمیں اٹھانا :
(فَأَقُولُ یَا رَبِّ اءْذَنْ لِی فیمَنْ قَالَ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ فَیَقُولُ وَعِزَّتِی وَجَلاَلِی وَکِبْرِیَاءِی وَعَظَمَتِی لأُخْرِجَنَّ مِنْہَا مَنْ قَالَ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ) (رواہ البخاری : باب کلاَمِ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَعَ الأَنْبِیَاءِ وَغَیْرِہِمْ )
” آپ ﷺ فرماتے ہیں میں عرض کروں گا اے میرے پروردگار ! مجھے توحید پرست لوگوں کے متعلق سفارش کی اجازت دیجیے۔ اللہ فرمائیں گے مجھے میری عزت، جلال، کبریائی اور عظمت کی قسم ! میں توحید پرستوں کو خود جہنم سے نکالوں گا۔ “
مسائل
1۔ انسان کو اپنے رب کے حضور توبہ کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا نہایت مہربان ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ رحم کرنے اور توبہ قبول کرنے والا ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ غفور ہے۔ (الحجر : 49) 2۔ اللہ تعالیٰ رحیم ہے۔ (الزمر : 53)
3۔ اللہ تعالیٰ رحمن ہے۔ (الفاتحہ : 2) 4۔ اللہ ہی بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ (الشورٰی : 25)
5۔ اللہ بخشنے اور رحمت کرنے والا ہے۔ (الکہف : 58) 6۔ اللہ کی رحمت ہر چیز سے وسیع ہے۔ (الاعراف : 156)
7۔ کشتیوں کا غرق ہونے سے بچنا اللہ کی رحمت کا نتیجہ ہے۔ (یٰس : 43)
8۔ اللہ کی رحمت سے گمراہ ہی مایوس ہوتے ہیں۔ (الحجر : 56)
9۔ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ (الزمر : 53)
10۔ اللہ تعالیٰ کی مومنوں پر خاص رحمت ہوتی ہے۔ (الاحزاب : 43)
Ayah 2:38فہم القرآن
ربط کلام : خلافت کے قیام کے لیے آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اترنے کا حکم اور خلافت کی ذمہ داریاں پوری کرنے پر بےخوف اور تابناک مستقبل کی ضمانت۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہاری توبہ قبول ہوئی لیکن آسمان سے اترنا تمہارا یقینی ہے لہٰذا جنت سے نکل جاؤ اور تم زمین پر جا کر شیطان کی سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقہ سے نبھانے کی کوشش کرو۔ یاد رکھنا تمہارا زمین پر جانے کا یہ معنٰی نہیں کہ تم شتر بےمہار کی طرح جدھر چاہو نکل کھڑے ہو بلکہ تمہیں مسلسل ہدایات اور ایک دستور حیات دیا جائے گا جس کے مطابق تم نے انفرادی، اجتماعی، سماجی، معاشرتی، معاشی، سیاسی زندگی کا ہر گوشہ اور زاویہ اس کے مطابق ڈھالنا ہوگا یہی خلافت کا تقاضا اور تمہاری زندگی کا مقصد ہے۔ جس نے اس ہدایت نامے کی پابندی کی اسے دنیا کی زندگانی میں امن و سکون ملے گا اور آخرت میں کوئی خوف اور کسی قسم کی پریشانی نہیں ہوگی۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارنے والا خوف و غم سے محفوظ رہے گا۔
2۔ انسان اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ دستور حیات کا پابند ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت ہی کامل اور حقیقی ہدایت ہے۔
تفسیر بالقرآن
بے خوف کون ؟
1۔ اللہ کی ہدایت پر عمل کرنے والا بےخوف ہوگا۔ (البقرۃ : 38) 2۔ اولیاء اللہ کو کوئی خوف نہیں ہوگا۔ (یونس : 62)
3۔ اللہ اور آخرت پر یقین رکھنے والے کو کوئی ڈر نہیں ہوگا۔ (المائدۃ : 69)
4۔ ایمان لانے کے بعد استقامت دکھلانے والوں پر کوئی خوف نہیں ہوگا۔ (الاحقاف : 13)
5۔ رب کے سامنے اپنے آپ کو مطیع کردینے والا بےخوف ہوگا۔ (البقرۃ : 112)
Ayah 2:39فہم القرآن
ربط کلام : جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی نہ کی ان کا انجام۔
قرآن مجید کا یہ انداز فکر اور اسلوب بیان ہے کہ جب انعام و اکرام کا تذکرہ کرتا ہے تو ساتھ ہی برائی کے مضمرات و عواقب کے انجام کے بارے میں بھی انتباہ کرتا ہے تاکہ قرآن کا مطالعہ کرنے والا بیک وقت یہ سمجھ جائے کہ نیکی کے کیا فوائد اور برائی کے نقصانات کیا ہیں ؟ یہاں اللہ تعالیٰ کے احکام و ارشادات کا انکار اور ان کی تکذیب کرنے والوں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی ذات کے منکر اور اس کے احکامات کا انکارو تکذیب کرتے رہے تو تمہیں جہنم کی آگ میں ہمیشہ رہنا ہوگا۔
(عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ نَارُکُمْ جُزْءٌ مِّنْ سَبْعِیْنَ جُزْءً ا مِّنَ نَّارِ جَھَنَّمَ قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ إِنْ کَانَتْ لَکَافِیَۃً قَالَ فُضِّلَتْ عَلَیْھِنَّ بِتِسْعَۃٍ وَّتِسْعِیْنَ جُزْءً ا کُلُّھُنَّ مِثْلُ حَرِّھَا) (رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب صفۃ النار وأنھا مخلوقۃ)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں یقیناً اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا تمہاری یہ آگ جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے۔ عرض کیا گیا اللہ کے رسول ! یہی آگ جلانے کے لیے کافی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس آگ سے وہ انہتر حصے زیادہ ہے ان میں سے ہر حصے کی گرمی اس جیسی ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے احکامات کا انکار اور تکذیب کرنے والے ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
تفسیر بالقرآن
جہنم میں ہمیشہ رہنے والے لوگ :
1۔ مشرک جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ (البقرۃ : 39)
2۔ کافر اور تکذیب کرنے والے جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ (الزخرف : 74)
3۔ منافق ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (التوبہ : 68)
4۔ اللہ و رسول کی نافرمانی جہنم میں ہمیشگی کا سبب ہوگی۔ (الجن : 23)
5۔ اللہ کے دشمن جہنم میں ہمیشہ جلتے رہیں گے۔ (فصّلت : 28)
Ayah 2:40فہم القرآن
ربط کلام : حضرت آدم (علیہ السلام) کی نسل میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد یعنی بنی اسرائیل کو امت محمدیہ سے پہلے دنیا میں سب سے زیادہ عزت و عظمت اوراقتدارو اختیار ملا مگر انہوں نے اس کی ناقدری اور ناشکری کی جس کی وجہ سے وہ ذلیل و خوار ہوئے ان کی ذلت و رسوائی کے اسباب کی تفصیل سورة البقرۃ کی سو آیات میں بیان ہوئی ہے۔ (عہد کی تفصیل دیکھیں البقرۃ : 83)
ہر دور میں اہل علم کا اس بات پر اتفاق رہا ہے کہ اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے جس کا عبرانی زبان میں معنٰی ہے۔ ” اللہ کا بندہ “ لہٰذا بنی اسرائیل کا معنٰی ہوا کہ اللہ کے بندے کی اولاد۔ تاریخ کے اوراق سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کا اصلی وطن کنعان، فلسطین تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں یہ لوگ مصر میں آباد ہوئے۔ ان کے آنے کے بعد ان کے آبائی وطن کنعان، فلسطین اور پورے شام پر عمالقہ نامی قوم نے قبضہ کرلیا۔
جناب یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے تھے جن میں چوتھے بیٹے کا نام یہودہ تھا۔ اسی نسبت سے بنی اسرائیل کو یہودی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اپنے دور میں بڑی معزز اور محترم قوم تھی ان میں ہزاروں جلیل القدر انبیاء ہوئے ہیں جن میں سب سے نمایاں حضرت موسیٰ اور آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہوئے ہیں۔ مصر میں جب بنی اسرائیل پر فرعون نے مظالم ڈھانے شروع کیے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انتھک اور بےمثال جدو جہدکرکے ان کو فرعون کے جور وستم سے نجات دلوائی۔ فرعون دریا میں غرق ہوا تو اس کے بعد بنی اسرائیل کو عمالقہ سے جہاد کا حکم ہوا۔ بنی اسرائیل فلسطین کی طرف چلے تو قریب جا کر جب انہیں عمالقہ کی طاقت کا علم ہوا تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے صاف کہہ دیا کہ اے موسیٰ تم اور تمہارا خدا لڑو ہم تو یہیں ٹھہریں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا مگر انہوں نے جہاد سے انکار کردیا۔ جس کی پاداش میں انہیں چالیس سال تیہ کے صحرا میں بطور سزا رہنا پڑا۔ یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) فوت ہوئے پھر انہوں نے یوشع بن نون کی زیر کمان جہاد کیا اور فاتحانہ انداز میں فلسطین داخل ہوئے۔
بنی اسرائیل میں مجموعی طور پر یہودی اور عیسائی دونوں شامل ہیں۔ لیکن بعض مقامات پر بنی اسرائیل سے مراد صرف یہودی ہوتے ہیں۔ جس کا علم قرآن مجید کے سیاق وسباق سے ہوتا ہے۔ اس کے سیاسی ومذہبی راہنماؤں ‘ حکمرانوں اور عوام کے گھناؤنے کردار کا قرآن مجید کی ابتدا میں بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ نزول قرآن کے وقت دنیا میں یہ دو بڑے مذاہب تھے۔ باقی مذاہب ان کی بگڑی ہوئی شکلیں تھیں۔ ہندوستان میں جسے قدیم تاریخ میں بلادالہند کہا جاتا ہے ہندو اپنے مذہب کو تین ہزار سال پرانا مذہب ثابت کرتے ہیں اس مذہب کی اکثر رسومات اور گائے پرستی کا تصور یہودی مذہب سے ہی لیا گیا ہے۔ ہندو مذہب کی اصلاح کے لیے بدھ مت کی تحریک چلی جو اپنی عادات و رسومات کے لحاظ سے عیسائیت کے زیادہ قریب ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ انہی وجوہات کی بنیاد پر سورة بقرۃ کو قرآن مجید کی ابتدا میں رکھا گیا ہے۔ تاکہ قرآن مجید کا مطالعہ کرنے والے شخص کے ذہن میں شروع ہی سے بنیادی امور اور یہ بات منقش ہوجائے کہ پہلی اقوام بالخصوص بنی اسرائیل کے عروج وزوال کے اسباب کیا تھے ؟ وہ کیوں ذلت و رسوائی کے اندھے کنویں میں الٹے ہو کر گرے ؟ اس کے پیچھے ان کے علماء اور سیاسی راہنماؤں کا کیا کردار تھا ؟ بنی اسرائیل کے حوالے سے امت مسلمہ کو سمجھایا جا رہا ہے کہ اس عظیم قوم کا کردار سامنے رکھو کہ بزرگوں کی گدی نشینی ‘ صاحب زادگی، مذہبی امتیازات ‘ ابناء اللہ کے بھاری بھرکم دعوے، اقتدار اور وسیع اختیار ات بھی اس قوم کو ذلت سے نہ بچا سکے۔ اس خدشے کے پیش نظر رسول محترم ﷺ نے فرمایا تھا :
( لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ شِبْرًا شِبْرًا وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتّٰی لَوْ دَخَلُوْا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوْھُمْ قُلْنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ الْیَھُوْدُ وَالنَّصَارٰی قَالَ فَمَنْ ) (رواہ البخاری : کتاب الإعتصام بالکتاب والسنۃ، باب قول النبي ﷺ لتتبعن سنن من کان قبلکم)
” تم ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کی ہاتھوں ہاتھ اور قدم با قدم اتباع کرو گے حتی کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی ان کی اتباع کرو گے۔ صحابہ کرام ؓ کہتے ہیں ہم نے پوچھا : اللہ کے رسول ﷺ وہ یہودی اور عیسائی ہیں ؟ آپ نے فرمایا تو اور کون ؟۔ “ (غور کرنا ہے۔۔
اس کے ساتھ ہی یہ بتلانا مقصود ہے کہ مدینہ اور اس کے گرد و پیش جتنے قبائل اور قومیں آباد تھیں وہ یہودیوں کو بزرگوں کی اولاد اور انبیاء کے وارث تصور کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے یہ قبائل یہودیوں کے نظریات کو سچ اور حق کی کسوٹی سمجھتے تھے۔ ان اسباب کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے انہیں بڑے دلربا انداز میں سمجھاتے ہوئے یہ احساس دلانے کی کوشش کی ہے کہ اے میرے بندے یعقوب کی اولاد ! میری عطا کردہ نعمتوں، فضیلتوں اور رفعتوں کا احساس کرتے ہوئے تمہارا اولین فرض بنتا ہے کہ نبی آخر الزماں ﷺ کی مخالفت کرنے کی بجائے ان کی نصرت و حمایت کرتے ہوئے حلقۂ اسلام میں داخل ہو کر اس عہد سے وفا کرو جو تم سے توحید اور خاتم النبیین کے بارے میں لیا گیا ہے۔ میں بھی ایفائے عہد کے بدلے تمہیں دوبارہ نعمتوں اور عزتوں سے سرفراز کروں گا۔ یاد رکھنا اگر سابقہ مقام کی بحالی اور عزت رفتہ کے خواہش مند ہو تو تمہیں نبی آخر الزماں ﷺ کی قیادت میں آئے بغیر یہ شرف نہیں مل سکتا۔ اس کے لیے درج ذیل امور کو بجا لانا ہوگا۔ چناچہ بنی اسرائیل کو پہلے خطاب میں ابتدائی سبق اور تورات و انجیل کی بنیادی تعلیمات کی یاد دہانی کے طور پر سولہ باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔
1۔ میری نعمتوں کو ہر دم یاد رکھا کرو۔
2۔ تم عہد وفا کرو گے تو تمہارے ساتھ بھی ایفائے عہد ہوگا۔
3۔ ہمیشہ اللہ ہی سے ڈرتے رہو۔
4۔ قرآن مجید پر ایمان لاؤ۔ کیونکہ یہ تورات و انجیل کی تصدیق کرتا ہے۔
5۔ سب سے پہلے تم ہی کفر کرنے والے نہ بنو۔
6۔ دنیا کے معمولی مفاد کے بدلے اللہ کی آیات کو فروخت نہ کرو۔
7۔ حق اور باطل کے التباس سے اجتناب کرو۔
8۔ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش نہ کرو۔
9۔ نماز ادا کرو۔
10۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرتے رہو۔
11۔ رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کیا کرو۔ یاد رہے کہ یہودیوں نے رکوع کو نماز سے نکال رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے رکوع کا خاص طور پر حکم دیا گیا ہے۔
12۔ لوگوں کو نیکی کا حکم کرو مگر اپنے آپ کو بھول جانے سے بچو۔
13۔ اللہ کی دی ہوئی عقل کا صحیح استعمال کرتے رہو۔
14۔ مصائب پر صبر کرو۔
15۔ اللہ تعالیٰ سے صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کیا کرو۔
16۔ اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور اس کی بارگاہ میں پیش ہونے کا عقیدہ پختہ اور اس کے تقاضے پورے کرو۔
ان میں سے ہر فرمان ایک مضمون کا حامل اور اصلاح ذات اور فلاح جماعت کا جامع پروگرام پیش کر رہا ہے۔ پہلی آسمانی کتابوں پر ایمان کے دعوے دار کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ایسی بات کا انکار کرے جو اس کے نظریہ کی تائید کر رہی ہو گویا کہ اہل علم کی یہ شان نہیں کہ وہ کفر کے امام بنیں انہیں تو ہدایت کا پیش رو ہونا چاہیے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد رکھنا چاہیے۔
2۔ اللہ سے کیے ہوئے وعدوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔
3۔ اس کا خوف دل و جان میں بسائے رکھنا چاہیے۔
Ayah 2:41فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کو عظمت رفتہ کی یاد دہانی اور اللہ کا خوف دلانے کے بعد نصیحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو بلا چون و چرا تسلیم کرو اور دنیا کے مفاد کی خاطر ان سے روگردانی نہ کرو۔
سچائی کو قبول کرنے میں سب سے پہلے جو رکاوٹ پیش آیا کرتی ہے وہ دنیاوی مفاد، گروہی تعصبات اور آدمی کا قدیم رسومات ونظریات پر قائم رہنا ہے جنہیں چھوڑنا نہایت ہی مشکل ہوتا ہے۔ اس میں انسان کو وقتی مفادات، ماضی کے نظریات، آباء و اجداد کی روایات اور معاشرے کی فرسودہ رسومات کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ ان کو چھوڑنے سے کئی قسم کے الزامات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ آدمی ہمیشہ سے انہی زنجیروں میں جکڑا رہتا ہے۔ ان جکڑ بندیوں سے نجات پانا اور حقیقت کو قبول کرنا بڑی جرأت و جوا نمردی کا کام ہے۔ اہل کتاب کو دعوت دی جا رہی ہے کہ تمہیں سب لوگوں سے پہلے قرآن مجید پر ایمان لانا چاہیے کیونکہ قرآن کوئی نیا دین پیش نہیں کرتا یہ تو تمہاری بنیادی تعلیمات کی تائید کرتا ہے۔ لہٰذا رکاوٹ بننے کی بجائے ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے ہوئے آگے بڑھ کر قرآن کا پیغام سینے سے لگاؤ اور پرچم اسلام کو تھام لو۔ تمہیں وہ سب کچھ عزت کے ساتھ مل جائے گا جس کے چھن جانے کا تمہیں خوف ہے۔
لہٰذا دونوں آیات کے آخر میں تلقین کی گئی ہے کہ مفادات کے چھن جانے کا ڈر، لوگوں کا خوف اور مستقبل کے خدشات سے ڈرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ دنیا کے مفادات وتحفظات اللہ تعالیٰ کی پکڑ کے مقابلے میں نہایت ہی معمولی چیز ہیں۔
” اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو تھوڑے داموں میں فروخت نہ کرو اور اگر منہ مانگے دام ملیں تو بیچ دو بلکہ مقصد یہ ہے کہ کسی قیمت پر حق کو نہ بیچو۔ کیونکہ ساری دنیا کے خزانے بھی اس کے مقابلے میں حقیر ترین معاوضہ ہیں۔ “ [ ضیاء القرآن ]
بنی اسرائیل کو یہ کہہ کر سمجھایا جا رہا ہے کہ تمہیں میرے سوا کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں اور تمہیں اس لیے بھی خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ قرآن تمہاری بنیادی اور صحیح باتوں کی تصدیق کرتا ہے اور اسے میں نے ہی اپنے بندے محمد عربی ﷺ پر نازل کیا ہے لہٰذا تمہارے لیے اس سے انکار کرنے کا کوئی علمی و اخلاقی جواز نہیں بنتا۔ اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی بجائے آگے بڑھ کر اسے قبول کرو دنیا کے معمولی مفاد اور عارضی وقار کی خاطر میری آیات کے ساتھ سودے بازی نہ کرو کیونکہ میرے ارشادات کے مقابلے میں دنیا کی حیثیت ذرہ کے برابر بھی نہیں ہے۔ اس حقیقت کو نبی محترم ﷺ نے ایک موقعہ پریوں بیان فرمایا ہے :
(عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ مَرَّ بالسُّوْقِ دَاخِلًا مِّنْ بَعْضِ الْعَالِیَۃِ وَالنَّاسُ کَنَفَتُہٗ فَمَرَّ بِجَدْيٍ أَسَکَّ مَیِّتٍ فَتَنَاوَلَہٗ فَأَخَذَ بِأُذُنِہٖ ثُمَّ قَالَ أَیُّکُمْ یُحِبُّ أَنَّ ھٰذَا لَہٗ بِدِرْھَمٍ فَقَالُوْا مَانُحِبُّ أَنَّہٗ لَنَا بِشَیْءٍ وَمَا نَصْنَعُ بِہٖ قَالَ أَتُحِبُّوْنَ أَنَّہٗ لَکُمْ قَالُوْا وَاللّٰہِ لَوْکَانَ حَیًّاکَانَ عَیْبًا فِیْہِ لِأَنَّہٗ أَسَکَّ فَکَیْفَ وَھُوَ مَیِّتٌ فَقَالَ فَوَاللّٰہِ لَلدُّنْیَا أَھْوَنُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ ھٰذَا عَلَیْکُمْ ) (رواہ مسلم : کتاب الزھد والرقائق، باب )
” حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بازار کی ایک جانب سے داخل ہوئے آپ کے ساتھ لوگ بھی تھے آپ ایک مردہ بکری کے بچے کے پاس سے گزرے آپ نے اس کے ایک کان کو پکڑ کر پوچھا کون اسے ایک درہم کے بدلے لینا پسند کرے گا ؟ صحابہ کرام ؓ نے کہا : ہم تو اسے کسی چیز کے بدلے بھی لینا نہیں چاہتے اور ہم اس کا کیا کریں گے ؟ آپ نے فرمایا : کیا تم اسے پسند کرتے ہو کہ یہ بکری کا بچہ تمہارا ہوتا ؟ صحابہ کرام ؓ نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو کان چھوٹے ہونے کی وجہ سے اسے قبول نہ کیا جاتا۔ اب یہ مرا ہوا ہے تو ہم کیسے اسے پسند کریں گے۔ آپ نے فرمایا : جیسے تمہارے نزدیک یہ بکری کا مردہ بچہ بڑا ہی حقیر ہے۔ اللہ کی قسم ! دنیا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ حقیر اور ذلیل ہے۔ “
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِنَّہٗ لَیَأْتِي الرَّجُلُ الْعَظِیْمُ السَّمِیْنُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَایَزِنُ عِنْدَ اللّٰہِ جَنَاحَ بَعُوْضَۃٍ وَقَالَ اقْرَءُ وْا (فَلَا نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَزْنًا۔ ) (رواہ البخاری : کتاب تفسیر القرآن، باب أولئک الذین کفروا بآیات ربھم ولقاۂ )
” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : یقینًا روز قیامت ایک بڑا اور موٹا آدمی لایا جائے گا اللہ کے ہاں اس کا مچھر کے پر کے برا بر بھی وزن نہ ہوگا اور فرمایا : یہ آیت پڑھو ( قیامت کے دن ہم ان کافروں کے لیے ترازوقائم نہیں کریں گے) ۔ “
پادریوں کی دنیا پرستی :
جس تورات و انجیل کی قرآن نے تصدیق کی وہ وہی تھیں جو موسیٰ و عیسیٰ ( علیہ السلام) پر نازل ہوئیں۔ مگر نزول قرآن تک ان کتابوں کے کچھ حصے آمیزش اور تحریف و تناقص کا شکار ہوچکے تھے جبکہ بعض حصے بالکل ناپید ہوگئے تھے۔ لہٰذا قرآن نے جہاں ان کتابوں کی مجمل تصدیق کی ‘ وہاں یہ بھی بتایا کہ وہ تحریف اور تبدل کا شکار ہوچکی ہیں۔ گویا قرآن کے اپنے الفاظ میں اگر وہ ان کتابوں کا ” مصدق “ ہے تو وہ ان کا ” مہیمن “ بھی ہے۔ یعنی ان کی اصلی تعلیم کا محافظ و نگران اور اسے درست طور پر پیش کرنے والا (وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ الْکِتَابِ وَمُہَیْمِنًا عَلَیْہِ ) ” قرآن کی عظمت یہ ہے کہ اس نے ان حقائق کا اعلان اس وقت کیا جب یہودی اور عیسائی انہیں کسی قیمت پر ماننے کو تیار نہ تھے۔ “
پاپاؤں اور کارڈینلوں کی ہوس زر ‘ دنیا طلبی اور عیش پرستیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے تاریخ پاپائیت کا مستند مورخ کریٹن پوپ بونی فیس نہم کے بارے میں لکھتا ہے :
His ends were purely temporal and had no care for the higher intrests of the Church. (M.Creighton: History of the Papacy, vol. 1, p. 182, 183)
” اس کے مقاصد سراسر دنیاوی تھے اور اسے کلیسا کے اعلیٰ مفادات کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ “
حتیٰ کہ جب اس کے آخری وقت (last hour) پوچھا گیا کہ وہ کیسا ہے تو اس نے جواب دیا :
If I had more money I should be wellenough. (M.Crieghton: History of the Papacy, vol. 1, p. 182, 183)
” اگر مجھے مزید دولت مل جائے تو میں (اب بھی) ٹھیک ٹھاک ہوسکتا ہوں۔ “
صلیبی جنگوں کا ایک اہم محرک بھی جلب زر اور حصول جاہ تھا۔ پوپ اربن دوم (1088) ء نے پہلی صلیبی جنگ پر ابھارتے ہوئے مسیحی شہزادوں اور بہادروں کو کہا تھا :
The wealth of our enemies will be yours and you will despoil them of their treasures.
” ہمارے دشمنوں کی دولت تمہاری ہوجائے گی ‘ اور تم انہیں ان کے خزانوں سے محروم کر دو گے۔ “
[ عیسائیت تجزیہ ومطالعہ از پروفیسر ساجد میر ]
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو چھوڑ کر دنیا کمانا اس کی آیات کو معمولی قیمت پر فروخت کرنے کے مترادف ہے۔
2۔ اللہ کی کتابوں پر پورا یقین رکھنا چاہیے۔ 3۔ اللہ سے ہی ڈرتے رہنا چاہیے۔
Ayah 2:42فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کو خطاب جا ری ہے۔ دنیا کے فائدے کی خاطر حق و باطل کا التباس نہ کرو۔ بلکہ نماز کی صورت میں حقوق اللہ اور زکوٰۃ کی شکل میں حقوق العباد کا اہتمام کرتے ہوئے نماز میں رکوع کرتے ہوئے اسے جماعت کے ساتھ پڑھا کرو۔
بنی اسرائیل کے علماء اور سیاسی رہنما نہ صرف اپنے مفادات پر شریعت کے احکامات قربان کرتے بلکہ جو احکامات ان کی ” انا “ گروہی مفادات اور سیاسی سوچ کے خلاف ہوتے ان کو ہر ممکن چھپانے کی کوشش کرتے تھے۔ بصورت دیگر اپنے دھڑے کی حمایت کی خاطر ان کی تاویلات کرتے ہوئے اس طرح اپنے عقیدے کے سانچے میں ڈھالتے اور اس طرح التباسِ حق و باطل کرتے کہ پڑھنے اور سننے والا آسمانی کتاب اور علماء کی فقہ ‘ فتاو ٰی جات، ذاتی نظریات کے بارے میں فرق نہیں کرسکتا تھا کہ ان میں تورات و انجیل کی اصل عبارت کونسی ہے۔ بلکہ وہ ان کے فروعی مسائل ‘ فقہی تاویلات اور اصطلاحات کو بنیادی اور اصل دین تصور کرتا تھا۔ ان کے منصف مزاج لوگ اس بات کا کھلا اعتراف کرتے ہیں۔
عبداللہ بن سلام اور تورات۔۔ حدیث
چنانچہ ایک مسیحی فاضل لکھتا ہے :
Careful comparison of the Bibles published recently with the first and other early versions will show great differences; but by whose authority the sechanges havebeen made, no one seems to know. (J.R. Dore: op.cit., p.98)
” حال میں (یہ بات 1876 میں کہی گئی تھی) شائع ہونے والے بائبل کے نسخوں کا اگر پہلے اور ابتدائی نسخوں سے مقابلہ کیا جائے، تو ان میں بہت زیادہ اختلافات ظاہر ہوں گے۔ لیکن یہ بات کوئی نہیں جانتا کہ یہ تبدیلیاں کس سند اور اختیار کی رو سے کی گئی ہیں۔ “
برنارڈ ایلن (Bernard M.Allen) نے درج ذیل تبصرہ اناجیل اربعہ پر کیا تھا ‘ مگر یہی بات عہد عتیق اور بائبل کے دوسرے حصوں پر بھی صادق آتی ہے :
We have, therefore, no security that the narratives and sayings as given in the Gospels necessarily represent what actually happened or what was actually said. (B.M. Allen: op. cit., p.9)
” ہمارے پاس اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ اناجیل میں دیے ہوئے واقعات و اقوال لازماً وہی کچھ پیش کرتے ہیں جو حقیقت میں واقع ہوا اور جو کہا گیا تھا۔ “ [ عیسائیت تجزیہ ومطالعہ ]
حق چھپانے کے بارے میں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے :
(إِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَالْھُدٰی مِنْ م بَعْدِ مَا بَیَّنّٰہُ للنَّاسِ فِي الْکِتَابِ أُولٰٓءِکَ یَلْعَنُھُمُ اللّٰہُ وَیَلْعَنُھُمُ اللّٰعِنُوْنَ ) [ البقرۃ : 159]
” یقینا جو ہم نے واضح دلائل اور ہدایت نازل کرنے کے بعد اسے لوگوں کے سامنے بیان کردیا جو لوگ اسے چھپاتے ہیں ان پر اللہ بھی لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں۔ “
صحابہ کرام ؓ کی خدا خوفی یہ تھی کہ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان فرماتے ہیں لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ بہت زیادہ حدیثیں بیان کرتا ہے یقین جانیے کہ اگر قرآن مجید میں یہ دو آیات (البقرۃ : 159 و 174) نہ ہوتیں تو میں تمہیں کبھی کچھ بیان نہ کرتا۔ (رواہ البخاری : کتاب العلم، باب حفظ العلم)
Ayah 2:43یہاں نماز کی تلقین اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم دے کر انہیں سبق دیا جا رہا ہے۔ تمہیں اپنے مفادات کے سامنے جھکنے کی بجائے اللہ کے حضور سر نگوں ہونا چاہیے اور لوگوں سے مال بٹورنے کی بجائے زکوٰۃ کی صورت میں خرچ کرنے کی عادت اپنانی چاہیے۔ کیونکہ اللہ کی رضا کی خاطر پوری زکوٰۃ ادا کرنے والا نہ بخیل ہوتا اور نہ لوگوں کا مال بٹورتا ہے۔ تنہا نماز پڑھنے کے بجائے مسلمانوں کے ساتھ مل کر رکوع کیا کرو۔ یہودیوں نے اپنی نماز میں رکوع کو خارج کردیا تھا۔ اس لیے رکوع کی ادائیگی کا بالخصوص ذکر فرما کر جماعت کی اہمیت کا احساس دلایا جارہا ہے کہ دین میں صرف نماز پڑھ لینا ہی کافی نہیں بلکہ نماز با جماعت ادا کرنے کو لازم قرار دیا گیا ہے۔
نماز باجماعت :
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ صَلَاۃُ الْجَمَاعَۃِ تَفْضُلُ صَلَاۃَ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَّعِشْرِیْنَ دَرَجَۃً ) (رواہ البخاری : کتاب الأذان، باب فضل صلاۃ الجماعۃ)
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے ستائیس گنا زیادہ افضل ہے۔ “
رسول اللہ ﷺ نے جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھنے والوں کے بارے میں اپنے ارادے کا یوں بھی اظہار فرمایا :
(وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَیُحْطَبَ ثُمَّ آمُرَ بالصَّلَاۃِ فَیُؤَذَّنَ لَھَا ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَیَؤُمَّ النَّاسَ ثُمَّ أُخَالِفَ إِلٰی رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَیْھِمْ بُیُوْتَھُمْ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوْ یَعْلَمُ أَحَدُھُمْ أَنَّہٗ یَجِدُ عَرْقًا سَمِیْنًا أَوْ مِرْمَاتَیْنِ حَسَنَتَیْنِ لَشَھِدَ الْعِشَآءَ )
(رواہ البخاری : کتاب الاذان، باب وجوب صلاۃ الجماعۃ)
” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یقیناً میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں جب اکٹھی ہوجائیں تو میں نماز کا حکم دوں نماز کے لیے اذان دی جائے پھر میں کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کی امامت کروائے اور میں نماز سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے پاس جاؤں۔ ان پر ان کے گھروں کو جلا کر راکھ کردوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر ان میں سے کوئی یہ جانتا کہ اسے نماز کے بدلے موٹی ہڈی یا دو پائے ملیں گے تو وہ عشاء کی نماز میں ضرور حاضر ہوتے۔ “
مسائل
1۔ سچ اور جھوٹ کو خلط ملط کرنا بڑا گناہ ہے اور یہ یہودیوں کی عادت ہے۔
2۔ حق جاننے کے باوجود حق بات کو چھپانابڑا گناہ ہے۔ 3۔ زکوٰۃ کی ادائیگی اور نماز باجماعت پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
اقامت صلوٰۃ کے تقاضے :
1۔ پہلے وضو کیا جائے۔ (المائدۃ : 6) 2۔ نماز مقررہ اوقات پر ادا کی جائے۔ (النساء : 103)
3۔ نشے کی حالت میں نماز نہ پڑھو۔ ( النساء : 43) 4۔ نماز میں غفلت اور ریا کاری نہیں ہونی چاہیے۔ ( الماعون : 5، 6)
5۔ نماز جماعت کے ساتھ پڑھی جائے۔ ( البقرۃ : 43) 6۔ نماز میں عاجزی ہونی چاہیے۔ ( البقرۃ : 238)
7۔ نماز خشوع کے ساتھ پڑھنی چاہیے۔ ( المؤمنون : 2) 8۔ اقامت صلوٰۃ کا صلہ۔ (العنکبوت : 45)
Ayah 2:44فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم کرتے مگر اپنے آپ کو بھول جاتے تھے جو دانشمندی کے خلاف ہے۔
بنی اسرائیل کے علماء نے دین اور اس کی تبلیغ کو پیشہ کے طور پر اختیار کر رکھا تھا۔ بظاہر ان کا اوڑھنا بچھونا دین ہی تھا۔ لیکن دین کو محض ڈیوٹی اور پیشہ کے طور پر اختیار کئے ہوئے تھے۔ دینی فرائض کی بظاہر ادائیگی اور نیکی کی نمائش کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔
ایسے لوگوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ دینی مشغلے سے تمہیں وقتی مفاد تو حاصل ہوجائے گا۔ لیکن حقیقی اور دائمی فائدے سے محروم رہو گے۔ کتاب اللہ کا علم جاننے اور منصب امامت سنبھالنے کے باوجود ایسا کرنا عقل مندی کا تقاضا نہیں۔
اہل کتاب کے مذہبی پیشواؤں کا کردار :
” تاریخ اخلاق یورپ “ کے فاضل مؤلف نے اس شرمناک اور وحشت ناک صورت حال کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے :
... that inveterate prevalanceof incest among theclergy, which rendered it necessary angain and again to issue the most stringent enactments that priests should not be permitted to livewith their mothers and sisters. (W.Lecky: op.cit., p.231 -- H.C.Lea:op.cit., p.138)
” اہل کلیسا میں محرمات سے مباشرت کا چلن اتنا پختہ ہوچکا تھا کہ پادریوں کو اپنی ماؤں اور بہنوں کے ساتھ رہنے سے روکنے کی خاطر بار بار انتہائی سخت قوانین جاری کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ “
گریگوری دہم نے لے اونر (Lyons) کی دوسری کونسل میں شریک ہونے والے معزز ترین پادریوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا :
You are the ruin of the world. (Ibid., p.353)
” تم دنیا کی اخلاقی تباہی کے باعث ہو۔ “
The History of Christian monasticism ...... during the1, 000 years of the Church's complete domination of europe, is the most sordid chapter in the history of civilized religions ....... at least four-fiths of themonasteries of europe during the1, 000 years were corrupt ..... a monastery was generally a nursery of sloth, sensuality and vice. (Rationalist encyclopaedia pp.398-399)
” مسیحی رہبانیت کی ان ہزار سالوں کی تاریخ جب یورپ پر کلیسا کا مکمل تسلط تھا ‘ مہذب مذاہب کی تاریخ کا تاریک ترین باب ہے۔۔ ان ہزار سالوں کے دوران کم از کم 5/4 راہب خانے بدمعاشی کے اڈے تھے۔ ایک راہب خانہ عموماً کاہلی ‘ شہوت پرستی اور اخلاقی خرابی کا گہوارہ ہوتا تھا۔ “ [ عیسائیت تجزیہ ومطالعہ : مؤلف پروفیسر ساجد میر ]
بد عمل علماء کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان :
(یُجَآء بالرَّجُلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُلْقٰی فِی النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُہٗ فِي النَّارِ فَیَدُوْرُ کَمَا یَدُوْرُ الْحِمَارُ بِرَحَاہُ فَیَجْتَمِعُ أَھْلُ النَّارِ عَلَیْہِ فَیَقُوْلُوْنَ أَيْ فُلَانُ مَاشَأْنُکَ أَلَیْسَ کُنْتَ تَأْمُرُنَا بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَانَا عَنِ الْمُنْکَرِ قَالَ کُنْتُ آمُرُکُمْ بالْمَعْرُوْفِ وَلَآ اٰتِیْہِ وَأَنْھَاکُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَآتِیْہِ ) (رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب صفۃ النار ...)
” قیامت کے دن ایک آدمی کو لا کر آگ میں ڈالا جائے گا اس کی انتڑیاں آگ میں باہر نکل آئیں گی وہ ان کے گرد ایسے چکر کاٹے گا جیسے گدھا چکی کے گرد چکر کاٹتا ہے جہنمی اس کے پاس جمع ہو کر پوچھیں گے اے فلاں ! تجھے کیا ہوا کیا تو ہمیں اچھی باتوں کا حکم اور برے کاموں سے منع نہیں کرتا تھا ؟ وہ کہے گا میں تمہیں اچھی باتوں کا حکم دیتا تھا لیکن خود نیکی نہیں کرتا تھا اور میں تمہیں برے کاموں سے روکتا تھا لیکن خود نہیں رکتا تھا۔ “
مسائل
1۔ لوگوں کو نیکی کا حکم دینا خود اس پر عمل نہ کرنا بےعقلی کی دلیل ہے۔ 2۔ مبلغ کو سب سے پہلے نیکی کے کام پر عمل کرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
قول وفعل کے تضاد کی ممانعت :
1۔ ایمان داروں کے قول وفعل میں تضاد کیوں ؟۔ (الصف : 2)
2۔ عمل نہ کرنے والوں کی مثال گدھوں جیسی ہے۔ ( الجمعۃ : 5)
3۔ کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو۔ (البقرۃ : 44)