2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsفہم القرآن

Ayahs 2:265–266

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:265 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور دل کی تسکین و یقین کے لیے خرچ کرتے ہیں اس باغ جیسی ہے جو اونچی زمین پر ہو اس پرزور دار بارش برسے تو وہ دو گنا پھل دے اگر اس پر تیز بارش نہ بھی برسے تو پھوار ہی کافی ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے

اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ۙ وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ١۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:266 in the Quran reader

کیا تم میں سے کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں بہتی ہوں اور اس میں ہر قسم کے پھل ہوں اور اس کے مالک کو بڑھاپا آچکا ہو ‘ اس کے ننھے منھے بچے بھی ہوں اور اچانک باغ کو بگولا آلے جس میں آگ ہو پھر وہ باغ جل جائے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آیات بیان کرتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو

فہم القرآن ربط کلام : ریا کاری ‘ احسان جتلانے اور تکلیف والے صدقہ کے مقابلہ میں لِوَجْہِ اللّٰہِ کیے گئے صدقہ کے ثمرات و انجام۔ یہاں دو مثالوں کے ذریعے دو قسم کا کردار واضح کیا جارہا ہے۔ پہلی مثال میں ایسے سخی کی بات تھی جو کسی کو صدقہ دینے کے بعد احسان جتلاتا اور اذیّت دے کر اپنے صدقے کو اس طرح ضائع کر بیٹھتا ہے جیسے نمود و نمائش کرنے والے کا اللہ تعالیٰ اور آخرت پر یقین نہیں ہوتا جس وجہ سے اس کا اجر ضائع ہوجاتا ہے۔ اس صدقے کی مثال ایک چٹان اور اس پر پڑی ہوئی مٹی سے دی گئی تھی جو بارش کے چند قطروں سے صاف ہوجائے۔ گویا کہ ریا کار اور اس قسم کے آدمی کے صدقے کی حیثیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ حالانکہ پتھر پر مٹی کے ذرات ہوں تو بارش کے بعد اس پر کچھ نہ کچھ ضرور اگتا ہے۔ ایسے ہی اگر اخلاص کے ساتھ صدقہ کیا جائے تو اس کے مخیّر کے دل اور معاشرہ پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ لیکن جس طرح چٹان پر بارش کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ایسے ہی ریا کار کو صدقہ کرنے کا کوئی اجر وثواب حاصل نہیں ہوگا۔ اس کے بعد اس صاحب دل اور خوش قسمت انسان کی مثال دی جارہی ہے جو اپنے دل کے اطمینان، روح کی خوشی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے صدقہ کرتا ہے۔ اس کی مثال اس باغ جیسی ہے جو بلند اور ہموار زمین پر ہو جس پر بارش نہ بھی ہو تو اسے شبنم ہی کفایت کرتی ہے۔ اخلاص نیت کے ساتھ کیے جانے والے صدقہ میں اگر کوئی کمی و کمزوری رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کی تلافی فرما دے گا۔ کیونکہ صدقہ کرنے والا اس نیت کے ساتھ کر رہا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ہی مال تھا جو میں نے اس کے کمزور بندوں پر خرچ کیا ہے اس میں میرا کوئی کمال نہیں۔ ایسا شخص نمود و نمائش، احسان جتلانے اور تکلیف دینے سے اجتناب کرتا ہے۔ دوسری مثال میں مخیر حضرات کی توجہ اس جانب دلائی جارہی ہے کہ کیا تم میں کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس کھجوروں اور انگوروں پر مشتمل ایک بہترین باغ ہو اور اس میں آب پاشی کا خود کار نظام ہو ‘ اس باغ کا مالک بوڑھا اور اس کی چھوٹی چھوٹی اولاد ہو اور وہ باغ بھر پور طریقے سے پھل دے رہا ہو۔ اچانک اس باغ کو آگ کا بگولہ خاکستر کر دے۔ بتائیے کہ ایسے سانحہ فاجعہ پر اس بوڑھے مالک کی کیا حالت ہوگی ؟ جو لوگ خرچ کرنے کے بعد شہرت کے طالب اور مسکین کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ قیامت کے دن ان کا معاملہ باغ کے بوڑھے مالک کی طرح ہوگا جسے بڑھاپے میں ایک ایک پائی کی ضرورت تھی اور بچے کمزور اور کمانے کے لائق نہیں تھے جو بچے اس سانحہ کے وقت بچے اپنے باپ کی کوئی مدد نہ کرسکے جب کہ بوڑھے باپ اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچوں کے سامنے باغ جل رہا تھا۔ بوڑھا اسے بچانے کی کوشش کے باوجود نہ بچا سکا۔ نمود و نمائش اور صدقہ کرنے کے بعد احسان جتلانے اور تکلیف دینے والے کو قیامت کے دن ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے کمینے پن کی وجہ سے آج اس کے سامنے اس کی امیدیں ختم ہورہی ہیں۔ جب اسے جہنم کی طرف دھکیلا جارہا ہوگا تو اولاد سمیت کوئی بھی اس کی مدد نہیں کرسکے گا۔ اس نازک ترین صورت حال کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا کوئی دنیا میں ایسا شخص ہوسکتا ہے جو اپنے اور اپنی اولاد کے لیے ایسا حادثہ پسند کرتا ہو ؟ ظاہر ہے کوئی پسند نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنے احکامات اس لیے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم اپنے فکر و عمل پر غور کرو۔ مسائل 1۔ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے والا خسارہ نہیں اٹھاتا۔ 2۔ ریا کاری اور احسان جتلانے سے اعمال غارت ہوجاتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن لوجہ اللہ خرچ کرنے کا ثواب : 1۔ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے والے کو پورا پورا اجر ملے گا۔ (البقرۃ : 272) 2۔ اللہ کی رضا کے لیے کیے گئے کام کا بڑا اجر ہے۔ (النساء : 114) 3۔ اللہ کی رضا کے متلاشیوں کا انجام بہترین ہوگا۔ (الرعد : 22) 4۔ مخلص، مخیرحضرات لوگوں کے شکریہ اور جزا سے بےنیاز ہوتے ہیں۔ (الدھر : 9)
Ayahs 2:267–268

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ١۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 2:267 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنی پاک کمائی سے اور جو کچھ ہم نے تمہارے لیے زمین میں سے پیدا کیا ہے اس سے خرچ کرو۔ ان میں سے گندی چیزوں کے خرچ کرنے کا ارادہ نہ کرو جسے تم خود چشم پوشی کرنے کے سوا لینے کے لیے تیار نہیں ہو۔ اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ بڑا بےپروا اور نہایت قابل تعریف ہے

اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖۙ Open ayah 2:268 in the Quran reader

شیطان تمہیں فقر سے ڈراتا اور بےحیائی کا حکم دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نہایت وسعت والا اور خوب علم والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے مومنوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ جو تم کمائی کرتے ہو یا جو کچھ ہم تمہارے لیے زمین سے نکالتے ہیں اس میں سے پاک اور طیّب مال اللہ تعالیٰ کے راستے میں صدقہ کیا کرو۔ یہاں طیّب سے مراد حلال، پاک اور نفیس مال ہے کیونکہ ایسا مال خرچ کرنے سے منع کیا گیا ہے جو آدمی کسی سے خود لینے کے لیے تیار نہ ہو۔ اس حرکت سے نفرت دلانے کے لیے ایسے صدقے اور مال کو خبیث کہا گیا ہے جس میں وہ تمام نقائص شامل ہوجائیں جو ایک شریف آدمی کے لیے نہایت ہی ناگوار ہوتے ہیں۔ فرمایا کہ تم ایسے مال کو کسی مجبوری یا چشم پوشی کے سوا قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تو اللہ تعالیٰ کے بارے میں کس طرح تصور کرتے ہو کہ وہ تمہارا مسترد اور ناپسندیدہ مال پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمائے گا ؟ ایسے صدقے سے نہ تو دل بخل سے پاک ہوتا ہے اور نہ ہی لینے والے پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسا شخص اجرو ثواب سے بھی محروم رہے گا۔ لہٰذا بطور انتباہ فرمایا جارہا ہے کہ یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ کو ایسے صدقہ کی ضرورت نہیں وہ ہر چیز سے بےنیاز اور ہر حال میں لائقِ تعریف ہے۔ صدقہ کرتے ہوئے ناقص مال دینا یا حرام مال اللہ کے راستے میں خرچ کرکے اجر کی توقع رکھنا یہ شیطان کی طرف سے جھوٹی امید کا نتیجہ ہے۔ شیطان تمہیں غریب ہوجانے کا خوف دلاتا ہے۔ ناقص اور حرام مال خرچ کرنے کی ترغیب دے کر حقیقتاً شیطان تمہیں بےحیائی کا حکم دیتا ہے۔ یہ عقل مند مسلمان کے سچے جذبات کے منافی ہے کہ صدقے کے نام پر حرام مال خرچ کرے جس کے لینے سے ہی اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ گویا کہ انتہاء درجے کی بےحیائی اور ڈھٹائی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں حرام سے منع کرے اور تم اس کے نام حرامچیز دو اور پھر اس میں ثواب کی امید بھی رکھو۔ یہ سراسر شیطانی عمل ہے جب کہ اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے کے بدلے تمہارے گناہ معاف کرنے اور مزید عطا کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ أَیُّھَاالنَّاسُ إِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌ لَایَقْبَلُ إِلَّا طَیِّبًا وَإِنَّ اللّٰہَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ بِمَا أَمَرَ بِہِ الْمُرْسَلِیْنَ فَقَالَ (یَاأَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْامِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا إِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ) وَقَالَ (یَا أَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَارَزَقْنٰکُمْ ) [ رواہ مسلم : کتاب الزکوٰۃ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگو ! اللہ پاک ہے ا ورپاک چیز ہی قبول کرتا ہے۔ اللہ نے مومنوں کو وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے رسولو ! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو جو کچھ تم کرتے ہو میں اسے جانتا ہوں اور فرمایا : اے مومنو ! ہم نے جو تمہیں دیا ہے اس میں سے حلال کھاؤ۔ “ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ مَانَقَصَتْ صَدَقَۃٌ مِّنْ مَّالٍ وَّمَازَاد اللّٰہُ عَبْدًابِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا وَّمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلّٰہِ إِلَّا رَفَعَہُ اللّٰہُ ) [ رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ والآداب ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور کسی بھائی کو معاف کرنے سے اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے کو مزید عزت بخشتا ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سر بلندفرماتا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ کی راہ میں پاک مال دینا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ بےنیاز اور حمد و ستائش کے لائق ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے، شیطان غربت اور بےحیائی کا وعدہ کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن شیطان کے وعدے تباہی کا پیش خیمہ ہیں : 1۔ شیطان بےحیائی کا حکم دیتا ہے۔ (البقرۃ : 169) 2۔ شیطان مفلسی سے ڈراتا اور بےحیائی کا حکم دیتا ہے۔ (البقرۃ : 268) 3۔ شیطان کا وعدہ فریب ہے۔ (بنی اسرائیل : 64)
Ayah 2:269

یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 2:269 in the Quran reader

وہ جسے چاہے حکمت عطا کرتا ہے اور جس شخص کو حکمت و دانائی عطا کی گئی اسے خیر کثیر عطا کردی گئی اور نصیحت تو صرف عقل مندہی قبول کرتے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے احکامات کو سمجھنا اور اس کی راہ میں حلال و طیب مال خرچ کرنا عقل و دانش کا کام ہے۔ اہل علم نے حکمت کے بیشمار معانی بیان فرمائے ہیں لیکن حکمت کا سب سے جامع معنیٰ حدیث رسول ہے کیونکہ رسول محترم ﷺ نے قرآن کا وہی مفہوم بیان فرمایا جو اللہ تعالیٰ کی منشا ہے۔ تفسیر بحر المحیط کے مصنف سورة البقرہ آیت 251 کی تفسیر میں حضرت داوٗد (علیہ السلام) کے حوالے سے لکھتے ہیں : (اَلْحِکْمَۃُ وَضْعِ الْاُمُوْرِ فِیْ مَحَلِّہَا عَلَی الصَّوَابِ وَکَمَالِ ذٰلِکَ اَنَّمَا یَحْصِلُ بالنَّبُوَّۃِ ) ” حکمت کا حقیقی معنی ہر چیز کو ٹھیک طور پر اس کے مقام پر رکھنا ہے۔ حکمت کی تکمیل نبوت کے ذریعے ہوا کرتی ہے لہذا حکمت وہ ہے جو اللہ کے رسول کا ارشاد ہے۔ “ [ بحوالہ معارف القرآن مفتی محمد شفیع ] امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں فرمایا کہ حکمت کا لفظ جب اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو تو اس کا معنٰی تمام چیزوں کی مکمل معرفت اور ان کی ٹھیک ٹھیک ایجاد ہے۔ اور جب اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف نسبت ہو تو اس سے مراد معرفت اور اس کے مطابق عمل کرنا ہے۔ حدیث کی مقدس دستاویزات میں لفظ حکمت کو کئی معنوں میں استعمال کیا گیا ہے صدقات کے مسائل اور احکامات کے بیان کے بعد حکمت کو بہت بڑی خیر قرار دینے میں جو حکمت سجھائی دیتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک دانا اور سمجھ دار آدمی یہ حرکت کبھی نہیں کرسکتا کہ وہ ایسا مال اللہ کے راستے میں خرچ کرے جسے وہ خود لینے کے لیے تیار نہ ہو اور نہ ہی کسی دانشور سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ آخرت کے بدلے دنیا کے مال کو ترجیح دے کر بخل کا مظاہرہ کرے یا نمود و نمائش کے لیے خرچ کرے۔ نصیحت تو اہل دانش ہی قبول کیا کرتے ہیں۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ حکمت و دانش بہت بڑا خزانہ ہے۔ 2۔ عقلمند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن انبیاء علم و حکمت کے داعی تھے : 1۔ خاتم الانبیاء ﷺ کی تعلیمات حکمت پر مبنی ہیں ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا۔ (البقرۃ : 129) 2۔ اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو حکمت سے نوازا۔ (البقرۃ : 251) 3۔ نبی کریم ﷺ کو کتاب و حکمت سکھانے کے لیے بھیجا گیا۔ (آل عمران : 164)
Ayah 2:270

وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 2:270 in the Quran reader

اور تم جو کچھ بھی خرچ کرو یا نذر مانو اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ مضمون سے پیوستہ۔ ایسا کام جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کسی آدمی نے خود اپنے آپ پر لازم قرار دے لیا ہو اسے منّت یا نذر سے تعبیر کیا گیا ہے اس کا کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ غیر اللہ کے نام کی نذر ماننا شرک ہے جس کی ہرگز اجازت نہیں۔ نذر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ہونی چاہیے یہ جسمانی عبادت بھی ہوسکتی ہے اور صدقہ بھی۔ اگر کسی نے غلطی یا بےعلمی سے کوئی غیر شرعی کام کرنے کی نذر مانی ہو تو اسے پورا نہیں کرنا چاہیے۔ اگر نذر مانتے وقت قسم اٹھائی ہو تو غلط کام پر اٹھائی ہوئی قسم کا کفارہ دینا چاہیے جس کی تفصیل دیکھنے کے لیے سورة المائدۃ آیت 89 کی تلاوت کیجیے۔ نذر ماننے کا یہ طریقہ ناپسندیدہ ہے کہ کوئی شخص یہ ارادہ کرے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے میرا فلاں کام کردیا تو میں اتنا صدقہ، نفل یا حج کروں گا۔ اگر یہ کام نہ ہوا تو پھر میں نذر پوری نہیں کروں گا۔ ایسی نذر کے بارے میں آپ ﷺ کا فرمان : ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نذر ماننے سے منع کیا اور فرمایا کہ نذر کسی چیز کو ٹالتی نہیں۔ نذر کے ذریعے صرف بخیل کا مال نکالا جاتا ہے۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب القدر ] رسول اللہ ﷺ کے فرمان کا مقصد یہ ہے کہ آدمی کو صدقہ کرتے ہی رہنا چاہیے۔ رب ذوالجلال کے ساتھ شرط لگاناآدمی کو زیب نہیں دیتا کیونکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا ہے پھر اس کے ساتھ شرط لگانے کا کیا معنٰی ؟ اگر کوئی شخص نذر مان کر اس پر عمل درآمد نہیں کرتا تو وہ اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے کیونکہ وہ بیک وقت چار گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ اپنے خالق اور رازق سے شرط لگانا، اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے سے انکار کرنا، عہد شکنی اور نعمت کی ناقدری کرنا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کی مدد نہیں کرتا۔ ” حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا نافرمانی کے کام میں نذر کو پورا نہ کیا جائے اور جو چیز انسان کے قبضہ میں نہیں اس کی نذر نہ مانی جائے۔ ایک اور روایت میں ہے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں نذر نہیں ہے۔ “ [ رواہ مسلم : باب لا وفاء لنذر فی معصیۃ ] مسائل 1۔ نیکی کے کام پر مانی ہوئی نذر کو پورا کرنا لازم ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کی حمایت نہیں کرتا۔
Ayah 2:271

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:271 in the Quran reader

اگر تم علانیہ صدقات دو تو وہ بھی اچھا ہے۔ اور اگر تم اسے پوشیدہ طور پر مسکینوں کو دو تو یہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے اور اللہ تمہارے گناہوں کو مٹا دے گا اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے خوب باخبر ہے

فہم القرآن ربط کلام : صدقہ کے متعلق وضاحت اور اخروی فائدہ۔ نیت خالص ہو تو دوسرے کی خود داری کو مدنظر رکھ کر حالات کے مطابق خفیہ کی بجائے علانیہ صدقہ دیا جاسکتا ہے۔ کچھ اہل علم کا خیال ہے کہ زکوٰۃ اور فرضی صدقات علانیہ طور پر دینا چاہییں تاکہ لوگوں کو ترغیب دی جاسکے۔ عام صدقات خفیہ طور پر دینا زیادہ افضل ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شریعت کا مزاج یہی ہے کیونکہ اکثر اوقات خفیہ طور پر صدقہ کرنے سے دینے اور لینے والوں پر نہایت ہی دور رس اور پاکیزہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جس سے مسکین کی خود داری اور صدقہ کرنے والے کی لِلّٰہیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم یہ بات انسان کی نیت اور مساکین کے حالات پر منحصر ہے کہ صدقہ کب اور کس انداز میں دینا چاہیے ؟ یہاں اعلانیہ کو بہتر اور خفیہ کو خیر قرار دیا ہے اور یہ بھی ضمانت دی گئی ہے کہ اخلاص نیت کے ساتھ صدقہ کرنے والے کے گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے۔ آخری الفاظ اس بات کے ترجمان ہیں کہ صدقہ خفیہ ہو یا اعلانیہ تم جن جذبات کے ساتھ صدقہ کرو گے اللہ تعالیٰ اس جذبے اور صدقہ کے ایک ایک ذرّے سے باخبر ہے۔ ” رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک آدمی نے کہا میں ضرور صدقہ کروں گا وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا تو اس نے صدقہ ایک چور کو دے دیا۔ جب صبح ہوئی تو لوگوں نے باتیں کیں کہ رات کسی نے چور کو صدقہ دے دیا ہے۔ اس نے کہا اے اللہ ! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں میں پھر صدقہ کروں گا۔ وہ پھر صدقہ لے کر نکلا اور اس نے ایک بدکار عورت کو صدقہ دے دیا۔ جب صبح ہوئی تو لوگ باتیں کرنے لگے کہ رات زانیہ پر صدقہ کیا گیا ہے۔ اس نے کہا : میں پھر صدقہ کروں گا۔ تیسری مرتبہ پھر صدقہ لے کر نکلا اور اس نے صدقہ ایک مالدار کو دے دیا تو صبح کے وقت لوگ باتیں کرنے لگے کہ رات کسی شخص نے مالد ار کو صدقہ دیا ہے۔ تو اس نے کہا : اے اللہ ! چور، بدکارہ اور مالدار کو صدقہ دینے پر تیرے لیے ہی تمام تعریفیں ہیں۔ پھر اس کو خواب میں کہا گیا کہ شاید تیرے صدقہ دینے سے چور چوری اور بدکار بدکاری سے باز آجائے اور مالدار عبرت پکڑ کر اللہ کے دیئے ہوئے مال سے صدقہ کرنے لگے۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب الزکوۃ، باب إذا تصدق علی غنی وہو یعلم ] مسائل 1۔ صدقہ علانیہ اور خفیہ دونوں طرح دیا جاسکتا ہے۔ 2۔ صدقہ کرنے والے کے گناہ معاف اور اسے برکت نصیب ہوتی ہے۔
Ayah 2:272

لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:272 in the Quran reader

انہیں ہدایت دینا آپ کے ذمہ نہیں لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور تم جو اچھی چیز اللہ کی راہ میں دو گے وہ تمہارے ہی لیے ہے تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب کے لیے ہی خرچ کرنا چاہیے۔ تم جو مال خرچ کرو گے اس کا تمہیں پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور تم زیادتی نہیں کئے جاؤ گے

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح حکمت و دانائی اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ اسی طرح ہدایت پانا اور صدقہ کی توفیق ملنا بھی اسی کا کرم ہے۔ اے رسول کریم ﷺ ! تمہاری ذمہ داری لوگوں کو سمجھانا ہے۔ ہدایت سے ہمکنار کرنا آپکا اختیار نہیں ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مشیّت اور حکمت ہے جسے چاہے ہدایت سے سرفراز فرمائے۔ صدقات کے بیان میں یہ جملہ اس لیے لایا گیا ہے کہ ابتدائی دور میں بیشمار ایسے صحابہ کرام ؓ تھے جن کی کافروں اور مشرکوں کے ساتھ قریبی رشتہ داریاں تھیں۔ مال دار صحابہ ایمان لانے کے بعد بھی کفار کے ساتھ تعاون کرتے تھے۔ لیکن اب انہوں نے ایمان کی بنیاد پر ایسے لوگوں کے ساتھ تعاون کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ جس پر یہ فرمان نازل ہوا جس میں وضاحت فرمائی کہ جو کچھ بھی تم اللہ کی رضا کے لیے غریبوں اور مسکینوں پر خرچ کرو گے اس کا پورا پورا اجر عنایت کیا جائے گا۔ ایسا ہی واقعہ حضرت عائشہ ؓ کی بہن حضرت اسماء ؓ کے ساتھ پیش آیا ان کی والدہ اپنی بیٹی اسماء ؓ سے تعاون حاصل کرنے کے لیے مکہ سے مدینہ آئی جس پر حضرت اسماء ؓ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھتی ہیں کہ میری والدہ مجھ سے تعاون کی امید رکھتی ہے۔ کیا میں مشرکہ والدہ کے ساتھ تعاون کرسکتی ہوں ؟ آپ نے فرمایا : تمہیں اس کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ [ رواہ البخاری : کتاب الھبۃ وفضلھا، باب الھدیۃ للمشرکین ] بعض اہل علم نے یہ تفسیر فرمائی ہے کہ عام صدقہ مستحق کافر اور مشرک کو دیا جاسکتا ہے لیکن زکوٰۃ کافر کو نہیں دینا چاہیے البتہ قربانی کا گوشت مشرک، کافر کو دینے میں کوئی حرج نہیں۔ صدقہ اور خیرات کی وسعتوں کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے : (مَامِنْ مُّسْلِمٍ غَرَسَ غَرْسًا فَأَکَلَ مِنْہُ إِنْسَانٌ أَوْ دَآبَّۃٌ إِلَّا کَانَ لَہٗ بِہٖ صَدَقَۃٌ) [ رواہ البخاری : کتاب الأدب ] ” جس مسلمان کے کھیت سے کسی انسان یا جانورنے دانہ کھایا اسے بھی صدقہ کا ثواب ملے گا۔ “ (کُلُّ سُلَامٰی عَلَیْہِ صَدَقَۃٌ کُلَّ یَوْمٍ یُعِیْنُ الرَّجُلَ فِيْ دَابَّتِہٖ یُحَامِلُہٗ عَلَیْھَا أَوْ یَرْفَعُ عَلَیْھَا مََتَاعَہٗ صَدَقَۃٌ وَالْکَلِمَۃُ الطَّیِّبَۃُ وَکُلُّ خُطْوَۃٍ یَمْشِیْھَا إِلَی الصَّلٰوۃِ صَدَقَۃٌ وَدَلُّ الطَّرِیْقِ صَدَقَۃٌ) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر ] ” روزانہ ہر جوڑ پر صدقہ ہے کسی آدمی کو سواری کے لیے سواری دے دینا یا کسی کے سامان کو سواری پر رکھ لینا صدقہ ہے اور اچھی بات کہناصدقہ ہے۔ نماز کے لیے جاتے ہوئے ہر قدم کا بدلہ صدقہ ہے۔ کسی کو راستہ بتلانا صدقہ ہے۔ “ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ بَیْنَمَا کَلْبٌ یُطِیْفُ بِرَکِیَّۃٍ کَادَ یَقْتُلُہُ الْعَطْشُ إِذْ رَأَتْہُ بَغِیَّۃٌ مِّنْ بَغَایَا بَنِیْ إِسْرَاءِیْلَ فَنَزَعَتْ مُوْقَھَا فَسَقَتْہُ فَغُفِرَلَھَا بِہٖ ) [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ایک کتا کنوئیں کے کنارے چکر لگارہا تھا قریب تھا وہ پیاس سے مرجائے۔ اچانک بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت نے دیکھ کر اپنے موزے کے ذریعے اسے پانی پلایا۔ اس وجہ سے اس عورت کو بخش دیا گیا۔ “ مسائل 1۔ اللہ کے نبی کا کام رہنمائی کرنا ہے کسی کو ہدایت پر گامزن کرنا نہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے ہدایت سے نوازتا ہے۔ 3۔ صدقہ کرنے میں بہتری ہے۔ 4۔ صدقہ کرنے والے کو پورا پورا اجر دیا جائے گا۔ 5۔ قیامت کے دن کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ تفسیر بالقرآن اللہ کی توفیق سے ہی ہدایت ملتی ہے : 1۔ ہدایت پر چلانا انبیاء کی ذمہ داری نہیں۔ (البقرۃ : 272) 2۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر کوئی شخص ہدایت یافتہ نہیں ہوسکتا۔ (الاعراف : 43) 3۔ اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے۔ (القصص : 56) 4۔ جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت یافتہ ہے۔ (الکہف : 17) 5۔ اللہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ : 142)
Ayah 2:273

لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ١٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:273 in the Quran reader

ان کے لیے بھی صدقہ کرنا ہے جو اللہ کی راہ میں روک دیے گئے ہیں اور وہ ملک میں چل پھر نہیں سکتے۔ نادان لوگ ان کے سوال نہ کرنے کی وجہ سے انہیں مال دار خیال کرتے ہیں، آپ ان کے چہرے دیکھ کر انہیں پہچان لیں گے۔ وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے اور تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ اس کو خوب جاننے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : پہلے صدقہ کرنے کا حکم تھا اب مستحق حضرات کو پہچاننے کا حکم ہے۔ اس مقام پر خود دار اور پاک باز لوگوں کے ساتھ تعاون کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے جو نہ کسی سے سوال کرتے ہیں اور نہ ہی مزدوری کے پیچھے بھاگتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو تعلیم وتعلّم، ترویج اسلام، جہاد فی سبیل اللہ بالفاظ دیگر اپنے آپ کو خدمت اسلام کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ وہ مزدوری کرسکتے ہیں لیکن اس لیے نہیں کرتے کہ کہیں فریضۂ تبلیغ میں کوتاہی واقع نہ ہوجائے۔ پہلے انفاق کے احکامات میں فی سبیل اللہ خرچ کرنے کا حکم تھا اور اب خود دار مستحق لوگوں کو فی سبیل اللہ کے مقام پر فائز کرتے ہوئے اغنیاء کو خرچ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے انہیں سرزنش کی گئی ہے کہ ایسے مال دار ‘ لوگ جاہلوں کا ساکردار رکھتے ہیں۔ جو حاجت مند خود دار لوگوں کو ضرورت مند نہیں سمجھتے۔ اللہ کے راستے میں وقف لوگ اس قدر غیّور، خود دار، شرم وحیا کے پیکر اور بےنیاز ہیں کہ کسی سے سوال کرنا ان کے ضمیر کے خلاف ہے۔ یہاں چمٹ کر سوال کرنے کا یہ معنٰی نہیں کہ اس کے سوا کسی اور انداز میں سوال کرنا اپنے لیے روا رکھتے ہیں بلکہ اس انداز کلام سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ وہ کسی حال میں بھی دوسرے کے سامنے دست سوال دراز کرنے کے قائل نہیں۔ لہٰذا مخیر حضرات کا فرض ہے کہ وہ خود آگے بڑھ کر ان کی ضروریات کا خیال رکھیں۔ ان کی ضرورتوں کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں گو ان کے ہاتھ اور زبانیں بند ہیں لیکن ان کے چہرے ‘ لباس اور بودو باش عسرت کے ترجمان ہیں کیونکہ اگر یہ لوگ اپنے آپ کو تبلیغ دین کے لیے وقف نہ کریں تو دینی درسگاہیں باہنجھ، مساجد ائمہ کرام سے خالی اور دین کا نسل درنسل چلنے کا سلسلہ بند ہوجائے گا۔ یہاں یہ بات بھی نمایاں ہوتی ہے کہ دین کے نام پر جائیدادیں بنانا اور تبلیغ کو پیشہ کے طور پر اختیار کرنا کسی لحاظ سے بھی مناسب نہیں۔ قرآن کا منشاء یہ ہے کہ دین کا کام کرنے والے لوگ پوری بےنیازی کے ساتھ اپنے کام کو جاری رکھیں۔ مخیر حضرات کا فرض ہے کہ وہ از خود ان کی ضروریات کا خیال رکھیں ان کے مقام و مرتبہ کو پیش نظر رکھ کر ان کے ساتھ فی سبیل اللہ تعاون کرتے رہیں۔ جن پاک باز لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی وہ اصحاب صفّہ ؓ کا مقدس گروہ تھا جن کو رسول کریم ﷺ حسب ضرورت تبلیغ اور دوسرے دینی کاموں کے لیے بھیجا کرتے تھے۔ جونہی یہ لوگ اس فرض سے فارغ ہوتے تو مسجد نبوی کے متصل ایک چبوترے پر اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے۔ اصحابِ صُفَّہ ؓ کی خود داری : ان میں سے ایک عظیم ہستی جن کا اسم گرامی حدیث کی مقدس دستاویزات میں بڑی کثرت کے ساتھ آیا ہے وہ جناب ابوہریرہ ؓ ہیں جو اپنے بارے میں بیان کرتے ہیں : (إِنَّکُمْ تَزْعُمُوْنَ أَنَّ أَبَاھُرَیْرَۃَ یُکْثِرُ الْحَدِیْثَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَاللّٰہُ الْمَوْعِدُ إِنِّيْ کُنْتُ امْرَأً مِسْکِیْنًا أَلْزَمُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَلٰی مِلْءِ بَطْنِيْ وَکَانَ الْمُھَاجِرُوْنَ یَشْغَلُھُمُ الصَّفْقُ بالْأَسْوَاقِ وَکَانَتِ الْأَنْصَارُ یَشْغَلُھُمُ الْقِیَامُ عَلٰی أَمْوَالِھِمْ فَشَھِدْتُ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ذَاتَ یَوْمٍ وَقَالَ مَنْ یَّبْسُطُ رِدَاءَ ہٗ حَتّٰی أَقْضِيَ مَقَالَتِيْ ثُمَّ یَقْبِضُہٗ فَلَنْ یَّنْسٰی شَیْءًا سَمِعَہٗ مِنِّيْ فَبَسَطْتُّ بُرْدَۃًکَانَتْ عَلَيَّ فَوَ الَّذِيْ بَعَثَہٗ بالْحَقِّ مَا نَسِیْتُ شَیْءًا سَمِعْتُہٗ مِنْہُ ) [ رواہ البخاری : کتاب الإعتصام، باب الحجۃ علی من قال إن أحکام النبي ] ” اے لوگو ! تم کہتے ہو کہ ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ کی حدیثیں بہت بیان کرتا ہے۔ اللہ کی قسم ! میں مسکین آدمی تھا پیٹ بھرنے کی خاطر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چمٹا رہتا تھا۔ مہاجرین منڈی میں کاروبار کرنے میں مصروف رہتے اور انصار اپنے مال کو سنبھالنے میں مشغول ہوتے۔ ایک دن میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضرہوا تو آپ نے فرمایا : کون اپنی چادر پھیلاتا ہے یہاں تک کہ میں اپنی بات پوری کرلوں ؟ پھر وہ اپنی چادر کو لپیٹ لے۔ وہ جو کچھ بھی مجھ سے سنے گا کبھی نہیں بھولے گا۔ میں نے اپنی چادر بچھائی جو میں نے اپنے اوپر لے رکھی تھی۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں نے جو کچھ بھی آپ سے سنا کبھی نہیں بھولا۔ “ مسائل 1۔ صدقات فقراء و غرباء میں تقسیم کرنے چاہییں۔ 2۔ اللہ کے راستے میں وقف لوگوں کی از خود خدمت کرنا چاہیے۔ 3۔ اللہ کے کام میں گھرے ہوئے خود دار مسکین لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے۔ 4۔ انسان جو کچھ بھی خرچ کرے گا اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔
Ayah 2:274

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ Open ayah 2:274 in the Quran reader

جو لوگ اپنے مال رات، دن، خفیہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے۔ اور نہ انہیں خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

فہم القرآن ربط کلام : پہلے ریاکاری کی مذمت کی گئی ہے اب وضاحت فرمائی ہے کہ نیت میں اخلاص ہو تو اعلانیہ صدقہ کرنا ریاکاری میں شامل نہیں۔ صدقہ کرنے کے انداز اور طریقہ کے بارے میں پہلے ارشاد یہ تھا کہ چھپا کر صدقہ کرو یا اعلانیہ دونوں صورتیں تمہارے لیے بہتر ہیں۔ اس کے بدلے تمہارے گناہوں کو معاف کردیا جائے گا۔ یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ جو لوگ رات کی تاریکی میں صدقہ کریں یا دن کی روشنی میں سب کے سامنے کریں یا چھپ کر ایسے لوگوں کے اخلاص ‘ جذبات اور صدقات کے مطابق ان کے رب کے ہاں نہایت ہی عمدہ اجر ہے۔ جس میں ایک رائی کے دانے کے برابر بھی کمی نہیں کی جائے گی۔ اس اجر کے ساتھ انہیں یہ بھی انعام سنایا جاتا ہے کہ انہیں اپنے مستقبل کے بارے میں خوفزدہ اور فکر مند ہونے کا اندیشہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ غربت کے خوف اور دولت کے لالچ سے بےنیاز ہو کر مستحق غریب کو معاشی غم سے نجات دلایا کرتے ہیں اس کے بدلے ان پر نہ خوف طاری ہوگا اور نہ ہی انہیں کسی قسم کی پریشانی اور پشیمانی ہوگی۔ دنیا میں بھی ان کا مال کم نہیں ہوگا۔ مسائل 1۔ صدقہ دن رات، چھپ کر یا اعلانیہ کیا جائے اس کا اجر اللہ کے ہاں محفوظ ہے۔ 2۔ صدقہ کرنے والے کو کوئی خوف و خطر نہیں ہوگا۔ تفسیر بالقرآن خوف وغم سے مبرّا حضرات : 1۔ ہدایت پر عمل پیرا ہونے والا خوف زدہ اور غمگین نہیں ہوگا۔ (البقرۃ : 38) 2۔ ایمان اور عمل صالح کرنے والے خوف زدہ نہ ہوں گے۔ (البقرۃ : 62) 3۔ رضائے الٰہی کے لیے خرچ کرنے والے بےخوف وبے غم ہوں گے۔ (البقرۃ : 262) 4۔ ایمان، نماز اور زکوٰۃ مومن کو بےخوف وبے غم کرتی ہے۔ (البقرۃ : 277) 5۔ ایمان پر قائم رہنے والوں اور اصلاح کرنے والوں پر خوف وغم نہ ہوگا۔ (الانعام : 48)
Ayah 2:275

اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا١ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا١ؕ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ١ؕ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:275 in the Quran reader

جو لوگ سو دکھاتے ہیں وہ اس شخص کی طرح کھڑے ہوں گے جسے شیطان نے چھو کر اس کو حواس باختہ کردیا ہو۔ اس لیے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ تجارت بھی سود ہی کی طرح ہے، حالانکہ تجارت کو اللہ تعالیٰ نے حلال اور سود کو حرام کیا ہے۔ تو جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی نصیحت سن کر (سود کھانے سے) رک گیا اس کے لیے وہ ہے جو ہوچکا اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے اور جو پھر بھی حرام کی طرف لوٹا وہی لوگ جہنمی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

فہم القرآن ربط کلام : سودی نظام صدقہ کی تحریک میں سب سے زیادہ رکاوٹ ہے لہٰذا سود خور کا انجام بیان کرنے کے بعد سود اور تجارت کا فرق بتلایا گیا ہے۔ سود کو قدیم زمانے سے ربا کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید نے بھی اس کے لیے یہی لفظ استعمال کیا ہے۔ ربا کا معنٰی ہے اضافہ یا زیادتی۔ فارسی میں اس کو سود کہتے ہیں جس کا مطلب ہے فائدہ یا اضافہ۔ انگلش میں اس کا نام (USURY) ہے۔ ایسا معاملہ جس میں سرمایہ کار کو مہلت کی بنا پر اپنی رقم پر منافع ملے۔ یہ کاروبار انفرادی طور پر ہو یا اجتماعی سطح پر ہو، رباتصور ہوگا۔ سود کا دھندا پہلی اقوام میں بھی پایا جاتا تھا جیسا کہ یہود کے بارے میں قرآن مجید نے بڑی وضاحت کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ وہ سود کھانے اور کھلانے والی قوم تھی حالانکہ تورات میں انہیں سختی کے ساتھ اس دینی اور معاشی جرم سے منع کیا گیا تھا۔ (النساء : 161) عیسائیوں کے متعلق انجیل میں موجود ہے کہ ان کا ایک گروہ ہیکل سلیمانی میں بیٹھ کر سود کا دھندا کیا کرتا تھا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ایک دفعہ ان کے کاروبار کو یہ کہہ کر الٹ ڈالا تھا کہ تم کیسے ناہنجار لوگ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے عظیم اور مقدس گھر میں بھی اس جرم سے باز نہیں آتے۔ ہندؤوں کی پرانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو سودی کاروبار کے واضح ثبوت ملتے ہیں۔ یہاں تک کہ دارا شکوہ نے ایک پنڈت سے گفتگو کرتے ہوئے اس سے سود کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا کہ ہمارے مذہب میں بھی اسی طرح سود حرام ہے جس طرح دوسرے مذاہب میں اس کی حرمت کا ذکر ہوا ہے۔ افلاطون نے اپنی کتاب ” جمہوریہ “ میں سودی کاروبار کو مکھیوں کے چھتے کے ساتھ تشبیہ دی ہے کہ جس طرح شہد کی مکھیوں میں کچھ ایسی مکھیاں ہوتی ہیں جو شہد بنانے کے بجائے دوسری مکھیوں کے بنائے ہوئے شہد کو کھاجاتی ہیں۔ جب یہ چوری مکھیوں کی ملکہ کے نوٹس میں آتی ہے تو وہ اس مکھی کو موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے یہی صورت حال معاشرے کے ساتھ سود خور کی ہے لہٰذا افلاطون کہتا ہے کہ سود خور کو فوری طور پر قتل کردینا چاہیے۔[ معارف القرآن ] عربوں کے ہاں دونوں طرح کا سود رواج پاچکا تھا ذاتی غرض اور مجبوری کے وقت یا کاروبار کو ترقی دینے کے لیے سود پر رقم حاصل کرنا۔ حضرت عباس ؓ ؓ حرمت سود نازل ہونے سے پہلے اس کام میں پیش پیش تھے۔ [ رواہ مسلم : کتاب الحج، باب حجۃ النبی ﷺ ] سود کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے کہ جسے اپنے رب کی نصیحت پہنچے اور سود خوری سے باز آجائے تو جو کچھ وہ پہلے کھاچکا سو کھاچکا اور اس کا سابقہ معاملہ اللہ کے حوالے ہوگا۔ یہاں واضح طور پر معافی کا اعلان نہیں کیا بلکہ یہ فرمایا کہ جو گزر گیا سو گزر گیا اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ یہ معاف کردینے ہی کا ایک انداز ہے لیکن سود کے جرم کے پیش نظر واضح طور پر معافی کا اعلان نہیں کیا تاکہ سود خوروں کو اس جرم کی سنگینی کا احساس ہو اور وہ آئندہ اس جرم سے بچتے رہیں۔ جو اس کے باوجود سودی دھندہ کریں گے۔ وہ یقینا جہنم میں پھینکے جائیں گے اور انہیں اس میں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ (عَنْ جَابِرٍ ؓ قَالَ لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اٰکِلَ الرِّبَا وَمُوْکِلَہٗ وَشَاھِدَیْہِ وَقَالَ ھُمْ سَوَاءٌ) [ رواہ مسلم : کتاب المساقاۃ، باب لعن آکل الربوا وموکلہ ] ” حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں اللہ کے رسول ﷺ نے سود کھانے، کھلانے اور گواہی دینے والوں پر لعنت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سب برابر ہیں۔ “ (عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ رَأَیْتُ اللَّیْلَۃَ رَجُلَیْنِ أَتَیَانِیْ فَأَخْرَجَانِیْ إِلٰی أَرْضٍ مُّقَدَّسَۃٍ فَانْطَلَقْنَا حَتّٰی أَتَیْنَا عَلٰی نَھْرٍ مِّنْ دَمٍ فِیْہِ رَجُلٌ قَاءِمٌ وَعَلٰی وَسْطِ النَّھْرِ رَجُلٌ بَیْنَ یَدَیْہِ حِجَارَۃٌ فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ الَّذِیْ فِی النَّھْرِ فَإِذَا أَرَاد الرَّجُلُ أَنْ یَّخْرُجَ رَمَی الرَّجُلُ بِحَجَرٍ فِیْ فِیْہِ فَرَدَّہٗ حَیْثُ کَانَ فَجَعَلَ کُلَّمَا جَآءَ لِیَخْرُجَ رَمٰی فِیْ فِیْہِ بِحَجَرٍ فَیَرْجِعُ کَمَا کَانَ فَقُلْتُ مَاہٰذَا فَقَالَ الَّذِیْ رَأَیْتَہٗ فِی النَّھْرِ آکِلَ الرِّبَا) [ رواہ البخاری : کتاب البیوع، باب آکل الربا وشاھدہ وکاتبہ ] ” حضرت سمرۃ بن جندب ؓ کہتے ہیں اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا رات میں نے دیکھا میرے پاس دو آدمی آئے اور وہ مجھے ایک مقدس زمین کی طرف لے گئے ہم چلتے رہے حتیٰ کہ ہم ایک خونی نہر پر پہنچ گئے۔ ایک آدمی اس کے اندر تھا اور دوسرا آدمی باہر کھڑا تھا جس کے سامنے پتھر پڑے ہوئے تھے۔ نہر میں کھڑا شخص جب باہر نکلنے کا ارادہ کرتا تو دوسرا آدمی اس کے منہ پر پتھر مار کر واپس کردیتا۔ جب بھی وہ نکلنا چاہتا اسے باہر والا آدمی پتھر مار کر واپس لوٹا دیتا۔ میں نے پوچھا یہ کون ہے ؟ فرشتے نے جواب دیا خون کی نہر میں کھڑا شخص سود خور ہے۔ “ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَلرِّبَا سَبْعُوْنَ حُوْبًا أَیْسَرُھَا أَنْ یَّنْکِحَ الرَّجُلُ أُمَّہٗ ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب التجارات، باب التغلیظ فی الربا ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سود کے گناہ کے ستر درجات ہیں۔ سب سے ہلکا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے نکاح جیسا عمل کرے۔ “ ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شب معراج میں جب ہم ساتویں آسمان پر پہنچے تو میں نے کڑک سنی اور بجلی دیکھی اس کے بعد ہم ایسی قوم پر گزرے جن کے پیٹ بڑے بڑے مکانات کی طرح بڑھے ہوئے تھے اور ان میں سانپ بھرے ہوئے تھے جو باہر سے بھی نظر آرہے تھے۔ میں نے جبریل امین (علیہ السلام) سے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ سود خور ہیں۔ “ [ مسند أحمد : کتاب باقی مسند المکثرین ] صدقات کی ترغیب، احکامات اور آداب بیان کرنے کے بعد سود کی حرمت ومذمت کے احکام جاری فرمائے گے کیونکہ سود انفرادی اور اجتماعی معیشت کی تباہی کا بڑا سبب اور جذبۂ ایثار و ہمدردی اور باہمی تعاون کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ سود کی حرمت اس نظریۂ باطل کی مذمت سے شروع کی گئی جس کا سود خور صدیوں سے پروپیگنڈہ کرتے آرہے ہیں۔ سود خور حرص وہوس کی وجہ سے دماغی طور پر اس قدر غیر متوازن ہوچکا ہوتا ہے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کا انکار ہی نہیں کرتا بلکہ اپنے خبث باطن کی وجہ سے اس حکم کی ایسی تاویل کرتا ہے جو کھلم کھلا اللہ تعالیٰ کے حکم کے برخلاف اور اس کا استہزاء کرنے کے مترادف ہے۔ سود خور کی پہلی سزا یہ ہوگی کہ قبر سے اٹھتے ہی یہ ایسی حرکات کرے گا کہ لوگ دیکھتے ہی پہچان جائیں گے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا وہ باغی اور قومی مجرم ہے جو دنیا میں سود کھایا کرتا تھا۔ اس کی حواس باختگی کو شیطان کے خبط کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ اندازہ کیجیے جس شخص کے اوپر شیطان مسلط ہوجائے کیا اس سے کسی بھلے کام کی توقع کی جاسکتی ہے ؟ ہرگز نہیں۔ اس پر یہ سزا اس لیے مسلط ہوگی کہ یہ دنیا میں کہا کرتا تھا کہ تجارت اور سود میں کوئی فرق نہیں حالانکہ تجارت اور سود میں مماثلت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ تجارت اور سود میں فرق 1 تجارت میں نفع و نقصان دونوں کا احتمال ہوتا ہے۔ سود میں بظاہر نقصان کا کوئی احتمال نہیں ہوتا۔ 2 تجارت میں منافع کا تعین نہیں ہوتا۔ سود میں منافع کی حد مقرر ہوتی ہے۔ 3 تجارت میں نفع و نقصان کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ سود میں پہلے دن ہی نفع کی وصولی کے لیے وقت مقرر کرلیا جاتا ہے۔ 4 تجارت میں کسی سودے پر ایک ہی دفعہ منافع لیا جاتا ہے۔ سود میں بار بار منافع وصول کیا جاتا ہے۔ 5 تجارت میں دونوں طرف سے کچھ نہ کچھ محنت ہوتی ہے۔ سود میں صرف سود ادا کرنے والا ہی محنت کرتا ہے۔ 6 تجارت دونوں طرف سے لوگوں کے روز گار کا ذریعہ بنتی ہے۔ سود میں ایک طرف سے ہی آدمی شریک ہوتا ہے۔ 7 تجارت کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے۔ سود اللہ اور رسول کے خلاف جنگ کرنے کے مترادف ہے۔ 8 ٍتجارت کرنے کا حکم اور اس میں برکت ہے۔ سود حرام اور اس میں برکت نہیں ہوتی۔ 9 تاجر صدقہ کرنے میں خوشی محسوس کرتا ہے۔ سود خور لوگوں کا خون نچوڑ نے سے خوش ہوتا ہے۔ 10 تجارت ملک وقوم کی ترقی کا باعث بنتی ہے۔ سود تباہی کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ 11 صدقہ کرنے والے پر اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے۔ سود خورمجرم ہے اس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔ 12 نیک تاجر صدیقین اور شہداء کا ساتھی اور جنتی ہے۔ سود خور شیطان کا ساتھی اور جہنمی ہے۔ مسائل 1۔ سود خور قیامت کے دن پاگلوں کی طرح کھڑے ہوں گے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے سود حرام اور تجارت جائز قرار دی ہے۔ 3۔ نصیحت قبول کرنے والے سے اللہ تعالیٰ در گزر فرماتا ہے۔ 4۔ نصیحت سننے کے باوجود گناہ کرنے والا دوزخ میں جائے گا۔ تفسیر بالقرآن سودکی تباہ کاریاں : 1۔ سود حرام ہے۔ (البقرۃ : 275، آل عمران : 130) 2۔ اللہ سود کو مٹانا چاہتا ہے۔ (الروم : 39) 3۔ سودخوروں کی اللہ و رسول سے جنگ ہے۔ (البقرۃ : 279) 4۔ سود کی حرمت کے بعد سود کھانے کی سخت سزا ہے۔ (البقرۃ : 275)
Ayah 2:276

یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ Open ayah 2:276 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے گنہگار سے محبت نہیں کرتا

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ سود خور سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا ہے۔ سود کے بارے میں اسلام نے صرف انفرادی اور اخلاقی سطح پر مذّمت نہیں کی بلکہ اسے قانونی شکل دے کر انفرادی اور اجتماعی نظام میں سرکاری سطح پر حرام قرار دیا۔ اس فرمان میں پھر کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سود کو ہر صورت مٹانا اور صدقات کو بڑھانا چاہتا ہے۔ جو لوگ سود کے حق میں پروپیگنڈہ اوراقدام کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ فکری ونظری اور علمی و عملی طور پر نافرمان اور مجرم ٹھہریں گے۔ رسول معظم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر یہ اعلان فرمایا کہ آج کے بعد سود کے واجبات کا لین دین حرام قرار دیتا ہوں اور سب سے پہلے اپنے چچا عباس کے واجبات کو چھوڑتا ہوں۔ آپ کے اعلان کے بعد مسلمانوں نے جو غیر مسلموں اور ایک دوسرے سے سودی واجبات لینے تھے انہیں یکسر چھوڑ دیا۔ اسی بنیاد پر آئمہ کرام اور فقہاء نے اسلامی حکومت میں کسی غیر مسلم کو بھی سودی کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دی۔ نبی کریم ﷺ نے جب نجران کے عیسائیوں سے معاہدات کیے تو ان میں ایک شق یہ بھی تھی کہ اگر تم نے اسلامی مملکت میں سودی کاروبار کا دھندا کیا تو ہماری طرف سے یہ معاہدہ فی الفور ختم ہوجائے گا۔ [ فتوح البلدان ‘ کتاب الخراج امام ابو یوسف ] سود کا متبادل عالم اسلام بالخصوص پاکستان میں جب کبھی سود کے خلاف آواز اٹھتی ہے تو سود خور اور اس نظام سے منسلک افراد یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ علماء کرام کو چاہیے کہ وہ سودی نظام کے خاتمے کا مطالبہ کرنے سے پہلے اس کا متبادل نظام پیش کریں۔ حالانکہ متبادل نظام پیش کرنا معاشیات کے ماہر سرکاری کارندوں کی ذمّہ داری ہے جن میں اکثریت کو بھاری تنخواہوں پر بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے درآمد کیا جاتا ہے۔ علماء کا کام تو دینی رہنمائی کرنا ہے اگر حکومت اس استحاصلی نظام سے مخلصانہ طور پر نجات حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے اسلام نے دو واضح صورتیں پیش کی ہیں جنہیں صدیوں مسلمانوں نے انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنایا اور اس کے نتیجے میں مسلمان بین الاقوامی منڈیوں پر غالب آئے اور معاشیات میں قوموں کے رہبر و رہنما بنے۔ مسلمان تاجروں نے تجارت میں اپنی دیانت اور امانت کے ذریعے عام لوگوں پر وہ اثرات مرتب کیے۔ جن کی وجہ سے بڑی بڑی قومیں حلقۂ اسلام میں داخل ہوئیں۔ قدیم تاریخ کے مطابق شام اور جدید دنیا میں انڈونیشیا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ یاد رہے کہ انڈو نیشیا کو مسلمانوں نے تلوار کی بجائے کاروباری اخلاق اور دینی اطوار کے ذریعے فتح کیا تھا۔ اسلام میں تجارت کی دو بڑی قسمیں مضاربت اور مشارکت ہیں۔ مضاربت کا معنیٰ یہ ہے کہ مال ایک کا ہو اور محنت دوسرے کی اور دونوں نفع و نقصان میں شامل ہوں۔ نقصان ہونے کی صورت میں صاحب ثروت کا مال ضائع ہوگا اور محنت کرنے والے کی محنت رائیگاں جائے گی۔ مشارکت آج کے مالی ادارے اور کمپنیوں کے مترادف ہے۔ ماضی کی طرح یہ نظام آج بھی بابرکت اور ترقی کا ضامن بن سکتا ہے بشرطیکہ درج ذیل اصولوں کی پاسداری کی جائے اور یہی سودی نظام کا متبادل ہے۔ حکومت کی طرف سے مشار کہ کمپنیوں اور کاروباری افراد کو اندرون اور بیرون ملک نفع بخش پراجیکٹ فراہم کیے جائیں جس طرح ترقی یافتہ ملک کرتے ہیں۔ شراکت داروں کے نمائندوں کا خفیہ انتخاب کے ذریعے بورڈ بنایا جائے جو شراکت داروں کو نفع و نقصان سے آگاہ رکھیں۔ بد دیانت افراد کو سخت ترین سزائیں دینے کے ساتھ ان سے پائی پائی وصول کی جائے۔ کھاتہ داروں کو قانونی تحفظ اور بھرپور اعتماد فراہم کیا جائے۔ صدقہ : اللہ تعالیٰ سود کے خاتمہ کے ساتھ ارشاد فرماتے ہیں کہ تمہارے رب کا فرمان اور منشا یہ ہے کہ سود لینے دینے کی بجائے صدقہ و خیرات عام کیا جائے اس کی روشنی میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : (عَنْ زَیْنَبَ امْرأَۃِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَتْ کُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَرَأَیْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِیِّکُنَّ ) [ رواہ البخاری : کتاب الزکاۃ، باب الزکاۃ علی الزوج ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی بیوی زینب ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو مسجد میں دیکھا آپ ﷺ نے فرمایا : راہ خدا میں صدقہ کیا کرو اگرچہ تمہیں اپنے زیورات میں سے دینا پڑے۔ “ (عَنْ اَسْمَاءَ ؓ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ أَنْفِقِیْ وَلَا تُحْصِیْ فَیُحْصِی اللّٰہُ عَلَیْکِ وَلَا تُوْعِیْ فَیُوْعِی اللّٰہُ عَلَیْکِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الزکاۃ، باب الحث علی الإنفاق وکراھیۃ الإحصاء ] ” حضرت اسماء ؓ بیان کرتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خرچ کر اور اسے شمار نہ کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھے گن کر دے گا اور نہ ہی حساب کرو، ورنہ وہ بھی تجھ سے حساب کرے گا۔ “ یعنی فراخ دلی اور کشادہ دستی سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہنا چاہیے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ سود کو مٹانا اور صدقات کو بڑھانا چاہتا ہے۔ ٍ 2۔ اللہ تعالیٰ ناشکرے اور گناہگار کو پسند نہیں کرتا۔
Ayah 2:277

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:277 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور ساتھ نیک کام کرتے ہیں، نماز قائم اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ان پر نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ غم زدہ ہوں گے

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید اپنے اسلوب کے مطابق احکامات جاری کرتے ہوئے نصیحت بھی کرتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل پیرا ہونے کے لیے ذہن ازخود آمادہ ہوجائے۔ قرآن مجید کا یہ اسلوب ہے کہ جب قانون اور ضابطے بیان کرتا ہے تو اس دوران لوگوں کے اخلاق میں نکھار پیدا کرنے اور ایمان کو جلا بخشنے کے لیے نماز، آخرت، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور جزا ‘ سزا میں سے کسی ایک کی طرف توجہ دلاتا ہے تاکہ دین کے احکام لوگوں کے ذہن میں محض ضابطے اور قانون کے طور پر نہیں بلکہ عبادت، قیامت میں پیشی کا تصور، خوف خدا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے طور پر سامنے رہیں۔ سماجی تعلقات ہوں یا کاروباری معاملات، امتناعی احکامات ہوں یا ترغیبی ارشادات ان کے دوران اسی فلسفہ کے تحت یہ اسلوب اختیار کیا جاتا ہے۔ یہاں بھی سود کی حرمت اور قباحت واضح کرنے کے دوران فکر آخرت، نماز اور زکوٰۃ کا حکم دے کر یہ تصور دیا گیا ہے کہ جس طرح تم خدا کا حکم سمجھ کر نماز میں اس کے سامنے سرفگندہ ہوتے ہو اور نماز کا صلہ اللہ کے پاس تمہارے لیے موجود ہے اور تمہیں مستقبل میں کوئی خوف وخطر نہیں ہوگا۔ اسی طرح ہی سود اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر چھوڑدو اور اس اللہ کے سامنے جھک جاؤ اس کا تمہیں اجر ملے گا۔ لہٰذا سود لینے اور لوگوں کا مال کھانے کی بجائے صدقہ اور زکوٰۃ دینے والے بن جاؤ۔ مسائل 1۔ ایماندار، نیکو کار، نمازی، اور زکوٰۃ دینے والے کو نہ خوف ہوگا نہ غم۔ تفسیر بالقرآن خوف سے بےنیاز حضرات : 1۔ اولیاء اللہ خوف اور غم سے پاک ہوں گے۔ (یونس : 62) 2۔ استقامت دکھلانے والے خوفزدہ و غمگین نہ ہوں گے۔ (الاحقاف : 13) 3۔ جنتی لوگوں کو خوف وغم نہ ہوگا۔ (الاعراف : 49)
Ayahs 2:278–279

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:278 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم مومن ہو

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:279 in the Quran reader

اور اگر تم نے سود نہ چھوڑا تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ لڑنے کے لیے تیار ہوجاؤ۔ ہاں اگر تو بہ کرلو تو تمہارا اصل مال تمہارا ہی ہے، نہ ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ سود خوروں کو آخری انتباہ۔ نماز اور زکوٰۃ کا حکم دینے کے بعد ایک دفعہ پھر دلربا اور عزت افزا لقب کے ساتھ مخاطب کیا جارہا ہے۔ اے میرے مومن بندو ! سو دکامعمولی اور عارضی فائدہ حاصل کرنے کی بجائے دائمی سکون، اطمینان اور میرے ہاں اجر پانے کے لیے مجھ سے ڈرو اور جو کچھ سود کے بقایا جات ہیں انہیں ترک کردو اگر تم حقیقتاً میرا حکم ماننے اور مجھ پر ایمان لانے والے ہو۔ حقیقی ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ تم سود سے کنارہ کش ہوجاؤ اگر تم نے اس نعمت کے باوجود سود نہ چھوڑا تو یاد رکھو یہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کھلی جنگ ہوگی۔ ہاں اگر تم تائب ہوجاؤ تو پھر اصل مال لینے کا تمہیں پورا پورا حق ہے۔ نہ ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ سود خور پر ظلم کرے گا۔ بلکہ اس کا معنٰی ہے کہ سود معاشی ظلم ہے جس کا رد عمل ظلم ہوا کرتا ہے۔ سود قانونی اور معاشی جرم ہی نہیں بلکہ اس سے انسان اخلاق باختہ ہوجاتا ہے۔ سود خور فقط منافع کی نظر سے دیکھتا، بولتا اور معاملات کرتا ہے۔ اس میں دن بدن انسانی ہمدردی ختم ہوجاتی ہے۔ ہر دور اور معاشرے میں سینکڑوں واقعات ایسے ملتے ہیں کہ سود خور نے مصیبت زدہ حقیقی بھائی کو قرض حسنہ دینے کے بجائے سود پر رقم دی اور وہ بیچارہ کنگال سے کنگال ہوتاچلا گیا۔ حکومت کے نظام میں تو ہزاروں واقعات تاریخ کا حصہ ہیں کہ سودی قرضہ کی وجہ سے غریبوں کی جائیدادیں ضبط ہوئیں، مکانات گروی ہوئے یہاں تک کہ انہیں کئی کئی سال جیل میں رہنا پڑا حالانکہ انہوں نے ذاتی مجبوری اور حقیقی ضرورت کے لیے بینک یا حکومت کے کسی مالیاتی ادارے سے قرض لیا تھا۔ کیا پسماندہ لوگوں کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنا، انہیں مالی سہارا دینا، ان کو وسائل فراہم کرنا، بیماروں کا علاج کروانا اور تعلیم کا انتظام کرنا حکومت کے فرائض میں شامل نہیں ؟ لیکن غریبوں، معذوروں، مجبوروں اور بیماروں کے ساتھ عملی ہمدردی کی بجائے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑدیے جاتے ہیں۔ اس عمل کو اللہ تعالیٰ اپنے اور اپنے رسول کے خلاف جنگ قرار دے رہے ہیں۔ کیا دنیا میں کوئی ایسا مذہب اور حکومت ہے جو غریبوں اور مجبوروں کی اس قدر خیر خواہ ہو کہ ان پر ہونے والی زیادتی کو براہ راست اپنے آپ پر ظلم تصور کرے ؟ یہ خیر خواہی تو صرف دین اسلام میں ہی پائی جاتی ہے کاش غریب لوگ اسلام کے سایۂ عاطفت میں آکر اپنی دنیا اور آخرت سنوار لیں۔ اس فرمان کے آخر میں حکم دیا ہے کہ اے صاحب ثروت حضرات ! کسی پر ظلم نہ کرو تاکہ تم پر بھی ظلم نہ کیا جائے۔ کسی معاشرے اور قوم میں جب سود خوروں کی بہتات ہوجائے تو پھر غریب عوام کے لیے اس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں رہتا کہ مظلوم کے ہاتھ ظالم کے گریبان تک پہنچیں، پھر یہ لوگ استحاصلی طبقہ کے محلات اور فیکٹریوں پر حملہ آور اور ہڑتالیں کرتے ہیں۔ ماضی قریب میں روس، یوگو سلاویہ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ جب غریب لوگ سرمایہ داروں کے خلاف سینہ سپر اور منظم ہوئے تو پھر انہوں نے نہ صرف امیروں کی جائیدادوں پر قبضہ کیا بلکہ کیمو نزم کے نام پر ایک نیا نظام دنیا کے سامنے پیش کیا۔ یہ نظام غیر فطری اور پہلے نظام سے زیادہ ظالمانہ تھا۔ اس لیے نہ صرف یہ نظام ناکام ہوا بلکہ روس جیسی عظیم مملکت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی۔ اس طرح ان قوموں نے ایک دوسرے پر ظلم کیا۔ لہٰذا سودی نظام قوم اور معاشرے کے لیے مہلک ہے۔ انہی اخلاقی ومعاشی برائیوں کی وجہ سے سودی نظام کو اپنے آپ پر ظلم کرنے اور اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ قرار دیا گیا ہے۔ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ إجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُْوْبِقَاتِ قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَاھُنَّ قَالَ اَلشِّرْکُ باللّٰہِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰہُ إِلَّا بالْحَقِّ وَأَکْلُ الرِّبَاوَأَکْلُ مَالِ الْیَتِیْمِ وَالتَّوَلِّيْ یَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الوصایا، باب قول اللہ تعالیٰ إن الذین یأکلون أموال الیتامی ظلما ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچ جاؤ صحابہ کرام ؓ نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ ! وہ گناہ کون کون سے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ‘ جادو کرنا ‘ ناحق کسی جان کو قتل کرنا ‘ سود کھانا ‘ یتیم کا مال کھانا ‘ میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا اور پاکدامن ‘ مومن ‘ بیخبر عورتوں پر تہمت لگانا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ سے ڈر کر سود اور اس کی باقیات کو چھوڑ دیا جائے۔ 2۔ سود نہ چھوڑنے والے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کرتے ہیں۔ 3۔ سود سے توبہ کے بعد اصل مال وصول کیا جاسکتا ہے۔ 4۔ سود خور نہ ظلم کریں اور نہ ان پر ظلم ہو۔
Ayahs 2:280–281

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:280 in the Quran reader

اور اگر کوئی (مقروض) تنگ دست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہیے اور قرض معاف کردینا تمہارے لیے بہت بہتر ہے اگر تم جان جاؤ

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:281 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرو جس دن سب اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور ہر کسی کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا

فہم القرآن ربط کلام : اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ضرورت مند پر صدقہ کیا جائے یا قرض حسنہ کے ساتھ اس سے تعاون کیا جائے اس لیے سود کی حرمت ومذّمت کرنے کے بعد تجارت کے مسائل بیان ہورہے ہیں۔ قرض حسنہ کے بارے میں حکم ہے کہ اگر مقروض کوشش کے باوجود قرض کی ادائیگی کا اہتمام نہ کرسکے تو اسے مہلت دینا ہوگی۔ اگر قرض معاف ہی کردیا جائے تو یہ صاحب مال کے لیے بہت ہی بہتر ہوگا۔ یہاں فکر آخرت کے حوالے سے سمجھایا جارہا ہے کہ اے مالدارو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو یہ سب کچھ یہیں کا یہیں رہ جائے گا اور بالآخر تم نے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہونا ہے اگر تم قرض معاف کردو یا تنگ دست کو مہلت دو تو دونوں صورتوں میں تمہیں پورا پورا اجر دیا جائے گا۔ یہاں کُلُّ نَفْسٍ کا لفظ استعمال فرما کر قرض دہندہ کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ اگر جان بوجھ کر قرض کی ادائیگی میں تاخیر کی تو یہ اللہ کے ہاں ظلم تصور ہوگا۔ ” حضرت ابو قتادہ ؓ کا کسی آدمی پر قرض تھا جب اس کے پاس قرض لینے جاتے تو وہ آگے پیچھے ہوجاتا۔ ایک دن وہ اس کے گھر گئے تو ایک بچہ نکلا حضرت ابو قتادہ ؓ نے بچے سے اس آدمی کے بارے میں دریافت کیا۔ اس نے کہا وہ گھر میں کھاناکھا رہا ہے انہوں نے آواز دی کہ اے فلاں ! باہر آؤ مجھے پتہ چلا ہے کہ تم یہیں ہو۔ وہ آدمی آیا تو انہوں نے پوچھا کہ تو مجھ سے کیوں غائب ہوجاتا ہے ؟ اس نے کہا میں تنگدست ہوں اور میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ ابو قتادہ ؓ نے پوچھا اللہ کی قسم ! کیا تو واقعی تنگدست ہے ؟ اس نے کہا ہاں۔ ابو قتادہ ؓ نے روتے ہوئے کہا میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنا ہے کہ جس شخص نے اپنے قرض دار پر نرمی کی یا اس کا قرض معاف کردیا تو وہ روز قیامت عرش کے سایہ تلے ہوگا۔ “ [ مسند احمد : کتاب باقی مسند الأنصار، باب حدیث أبی قتادہ ] (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ کَانَ تَاجِرٌ یُدَایِنُ النَّاسَ فَإِذَا رَأٰی مُعْسِرًا قَالَ لِفِتْیَانِہٖ تَجَاوَزُوْا عَنْہُ لَعَلَّ اللّٰہَ أَنْ یَتَجَاوَزَ عَنَّا فَتَجَاوَزَ اللّٰہُ عَنْہُ ) [ رواہ البخاری : کتاب البیوع، باب من أنظر معسرا ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ایک تاجر لوگوں سے لین دین کرتا تھا۔ جب وہ کسی تنگدست کو دیکھتا تو اپنے خادموں سے کہتا کہ اسے معاف کردو شاید اللہ ہمیں معاف فرما دے تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف فرمادیا۔ “ (عَنْ کَعْبٍ ؓ قَالَ تَقَاضَی ابْنَ اَبِیْ حَدْرَدٍ دَیْنًا کَانَ لَہٗ عَلَیْہِ فِی الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُھُمَا حَتّٰی سَمِعَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَھُوَ فِیْ بَیْتِہٖ فَخَرَجَ إِلَیْھِمَا حَتّٰی کَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِہٖ فَنَادٰی یَاکَعْبُ ! قَالَ لَبَّیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ ضَعْ مِنْ دَیْنِکَ ہٰذَا وَأَوْمَأَ إِلَیْہِ أَیْ الشَّطْرَ قَالَ لَقَدْ فَعَلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ قُمْ فَاقْضِہٖ ) [ رواہ البخاری : کتاب الصلوۃ، باب التقاضی والملازمۃ فی المسجد ] ” حضرت کعب ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن ابی حدرد ؓ سے کچھ ادھار لینا تھا۔ میں نے مسجد میں اس کا مطالبہ کیا۔ ہماری آوازیں سن کر رسول کریم ﷺ نے اپنے حجرہ کا پردہ ہٹاکرگھر سے نکلتے ہوئے آواز دی اے کعب ! میں نے عرض کیا : لبیک یارسول اللہ ! فرمایا : اسے آدھا قرض معاف کردو۔ میں نے آدھا معاف کردیا۔ آپ ﷺ نے ابن ابی حدرد کو حکم دیا جاؤ باقی قرض واپس کرو۔ “ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ مَطْلُ الْغَنِیِّ ظُلْمٌ فَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُکُمْ عَلٰی مَلِیٍّ فَلْیَتْبَعْ ) [ رواہ البخاری : کتاب الحوالات، باب الحوالۃ وھل یرجع فی الحوالۃ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : صاحب استطاعت کا قرض واپس کرنے سے ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ جب مہلت کا مطالبہ کیا جائے تو قرض دار کو اسے مہلت دینی چاہیے۔ “ مسائل 1۔ مقروض کو مہلت دینا یا اسے معاف کردینا بہتر ہے۔ 2۔ ہر کسی نے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ 4۔ ہر کسی کو اس کے عمل کے مطابق جزا ملے گی کسی پر ظلم نہیں ہوگا۔