Ayah 2:114فہم القرآن
ربط کلام : نیا خطاب شروع ہوا ہے جس میں اہل کتاب کے ساتھ مشرکین مکہ کو مخاطب کیا گیا ہے۔
یہود و نصاریٰ نے نا صرف ایک دوسرے کی آسمانی کتابوں کی نفی کی بلکہ اس سے آگے بڑھ کر انبیاء کرام (علیہ السلام) کی عظیم شخصیات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہاں تک کہ عبادت گاہوں کو فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے مذہبی منافرت کے مورچے بنا لیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک دوسرے کے معبد خانوں پر حملہ آور ہوئے اور طاقتوروں نے عبادت گاہوں کے تقدس و احترام کو پامال کیا۔ بسا اوقات ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی جیسا کہ بیت المقدس کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے۔ ایسا ہی کردار مشرکین مکہ کا تھا۔ بیت اللہ جس کی تعمیر کا مقصد ہی اس میں اللہ کی عبادت کرنا اور اسے زیارت گاہ قرار دیتے ہوئے مرکزِتوحید ٹھہرایا گیا ہے۔ ایک عرصہ تک نبی محترم ﷺ اور مسلمانوں کو اس کی زیارت سے محروم رکھا اور اس میں عبادت کرنے سے منع کردیا گیا۔ یہ تو اسلام کی خصوصیت ہے کہ جس نے نظریاتی اختلافات کے باوجود ہر عبادت گاہ کو احترام کی نظر سے دیکھنے کا حکم دیا ہے۔ جس کی آپ نے اس وقت عملاً اعلیٰ مثال قائم فرمائی جب نجران کے عیسائی آپ سے اسلام کے بارے میں مذاکرات کرنے لیے مسجد نبوی میں حاضر ہوئے گفتگو کے دوران ظہر کی نماز کا وقت ہوا تو آپ ﷺ یہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے کہ ہمیں اب نماز پڑھنا ہے۔ یہ سنتے ہی وفد کہنے لگا کہ اگر اجازت ہو تو ہم بھی اپنے طریقے اور قبلہ کے مطابق آپ کی مسجد میں نماز ادا کرلیں ؟ آپ نے بڑی خوشی کے ساتھ انہیں نماز پڑھنے کی اجازت دے کر عملًا یہ ثابت کیا کہ واقعتا مسجدیں اللہ کا گھر ہیں اور ان میں ہر کسی کو اللہ کی عبادت کرنے کا حق ہے اور ملنا چاہیے۔ [ تفسیر ابن کثیر : آل عمران : 61] بشرطیکہ باطل نظریات کا پرچار اور اس میں بد نظمی نہ کی جائے کیونکہ کسی شخص کو دوسرے کی عبات گاہ میں جا کر اپنے نظریات پھیلانے کا حق نہیں پہنچتا۔ مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ انہوں نے کسی علاقے میں بھی اپنے دور حکومت میں دوسروں کے معبد خانوں میں جا کر تبلیغ کی ہو بلکہ مسلم حکمرانوں نے ان کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کیا۔ البتہ کسی کو مسجدوں میں شور و غل اور بدنظمی پیدا کرنے کا حق نہیں دیا جاسکتا۔ مسجد بالخصوص بیت اللہ کا ماحول خراب کرنے والے کو اللہ تعالیٰ دنیا میں ذلیل اور آخرت میں شدید عذاب میں مبتلا کرے گا۔ مسجدوں کا ماحول اتنا سنجیدہ اور عبادت گزاری کا ہونا چاہیے کہ کوئی بد تمیزی اور شر پسندی کی کوشش کرے تو اپنے آپ میں خفّت اور ذلّت محسوس کیے بغیر نہ رہ سکے جو لوگ مسجدوں میں بحث و تکرار اور لڑائی جھگڑا کرتے ہیں ایسے لوگ بالآخر لوگوں کی نظروں میں ذلیل ہوجاتے ہیں۔ آپ نے مسجد اور بازار کا فرق بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ مسجدوں میں اس طرح بلند آواز سے گفتگو نہیں کرنا چاہیے جس طرح منڈی اور بازار میں کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ قرآن مجید کی تلاوت مناسب آواز سے کرنا چاہیے تاکہ ہر آدمی یکسوئی اور پورے انہماک کے ساتھ ذکر و فکر اور اللہ کی عبادت کرسکے۔
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِیَلِیَنِیْ مِنْکُمْ أُولُوا الْأَحْلَامِ وَالنُّھٰی ثُمَّ 8 الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثَلَاثًا وَّإِیَّاکُمْ وَھَیْشَاتِ الْأَسْوَاقِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الصلوۃ، باب تسویۃ الصفوف وإقامتھا ]
” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا میرے قریب عقلمند لوگ کھڑے ہوا کریں۔ پھر ان سے کم۔ یہ کلمات آپ نے تین دفعہ دہرائے اور فرمایا مسجدوں میں بازاروں کی طرح شور و غوغا نہ کیا کرو۔ “
مسائل
1۔ اللہ کے گھروں سے لوگوں کو روکنے والا ظالم ہے وہ دنیا و آخرت میں ذلیل ہوگا۔
2۔ شرارتی لوگوں پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
مسجد کا مقام و احترام :
1۔ مسجدیں صرف اللہ کی عبادات کے لیے ہیں۔ (الجن : 18)
2۔ مسجدیں شرک سے پاک ہونی چاہییں۔ (الحج : 26)
3۔ مسجدوں کی صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔ (الحج : 26)
4۔ مسجدیں نماز اور اعتکاف کے لیے ہوتی ہیں۔ (البقرۃ : 125)
5۔ مسجدیں آباد کرنا صرف ایمانداروں کا حق ہے۔ (التوبۃ : 18)
6۔ مشرک کو بیت اللہ میں داخل ہونے کا حق نہیں ہے۔ (التوبۃ : 28)
Ayah 2:115فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ آیات میں مساجد کے احترام و اکرام اور ان کا مقصد بیان فرمایا کہ ان میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہونا چاہیے۔ یہاں اس بات کی وضاحت فرمائی گئی کہ اللہ تعالیٰ کی توجہ صرف مسجدوں تک محدود نہیں بلکہ پوری زمین مشرق سے لے کر مغرب تک اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ اس کی توجہ زمین کے چپیّ چپیّ اور ذرّے ذرّے پر ہے۔
اسلام حقیقت پسندی کا مذہب ہے اور اس کی تعلیم یہ ہے کہ شعائر کا احترام اور خیال رکھنے کے باوجود آدمی کی نظر ہمیشہ حقائق اور اصلیت پر رہنی چاہیے۔ کیونکہ قومیں جب ظاہر پرستی میں مبتلا ہوجائیں تو ان میں حقیقی روح اور جذبہ ختم ہوجایا کرتا ہے۔ یہی صورت حال عیسائیوں اور یہودیوں میں پیدا ہوئی جس کی وجہ سے عیسائیوں نے بیت المقدس میں اس جگہ کو زیادہ افضل قرار دیا جس مشرقی کونے میں حضرت مریم [ نے اپنے آپ کو عبادت کے لیے وقف کیا تھا اور جہاں عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش ہوئی تھی جسے بیت اللحم کہا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں یہودیوں نے مغربی جانب کو اپنے لیے زیادہ محترم قرار دیا کہ ہیکل سلیمان یہاں واقع ہے۔ مسلمانوں پر بھی ایسا دور گزرا ہے کہ جب بیت اللہ کو فکری اور جغرافیائی طور پر تقسیم کردیا گیا۔ ملک عبد العزیز آل سعود کی حکومت سے پہلے ترکوں کی طرف سے مکہ کے گورنر جسے شریف مکہ کہا جاتا ہے اس کے دور میں بد قسمتی سے اتحاد کے نام پر بیت اللہ میں چار مصلے بچھا دیے گئے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حطیم کی طرف کھڑے ہونے والے اس لیے دوسرے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے تھے کہ ہم فلاں ہیں اور ہماری جائے نماز زیادہ افضل ہے۔ ان کے مقابلے میں رکن یمانی کی جانب کھڑے ہونے والے اپنے آپ کو زیادہ حق پر سمجھتے کہ ہماری جانب حجر اسود کی طرف ہے۔ علی ھٰذا القیاس افسوس ! مرکز توحید و اتحاد میں بھی ملت تقسیم ہو کر رہ گئی۔ یہاں وضاحت فرمائی گئی ہے کہ بیشک تمہارے لیے ایک قبلہ مقرر کردیا گیا ہے جو تمہارے لیے یکسوئی اور اتحاد کی علامت بنایا گیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی توجہ اس میں محدود نہیں ہوگی۔ اس کی توجہ ہر جانب یکساں اور متواتر ہوا کرتی ہے۔ انسان کوتاہ نظر اور کم ظرف ہے۔ ورنہ اللہ کے فضل وعطا کی وسعتیں اور عفو و درگزر کی جہتیں بےمثال ولا محدود ہیں۔
مسائل
1۔ انسان جدھر بھی منہ کرے اللہ تعالیٰ کی اس طرف توجہ ہوتی ہے۔
2۔ اللہ مشرق و مغرب کا مالک اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔
نوٹ : قبلہ کے بارے میں بحث دوسرے پارے کی ابتدا میں ملاحظہ فرمائیں۔
Ayahs 2:116–117فہم القرآن
ربط کلام : جب زمین و آسمان کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ تو اسے اولاد کی کیا ضرورت وہ تو کن کہتا ہے اور ہر چیز اس کی مرضی کے مطابق معرض وجود میں آجاتی اور اس کی غلامی میں لگ جاتی ہے۔ اولاد کی حاجت انسان کو ہے اللہ تعالیٰ ان حاجات اور کمزوریوں سے پاک ہے۔
سلسلۂ کلام سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ یہود و نصاریٰ انبیاء کے گستاخ، دین کے لیے ننگ و عار ‘ عبادت خانوں کی بےرونقی کا باعث اور اللہ تعالیٰ کی توہین کرنے والے ہیں۔ جس کی بنا پر یہودیوں نے جناب عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہا اور عیسائیوں نے اس میں اضافہ کرتے ہوئے حضرت مریم کو خدا کی بیوی اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کا بیٹا ٹھہرایا۔ مشرکین مکہ نے بتوں کو خدا کا اوتار تصور کیا اور کچھ اقوام نے ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔ یہاں اس بات کی سختی کے ساتھ تردید کی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں وہ اس کمزوری سے بالکل مبرّا اور پاک ہے کیونکہ اولاد سلسلۂ نسب کے تسلسل کے لیے ضروری ‘ انسان کی ضرورت اور اس کی طبعی محبت کا تقاضا ہے۔ آدمی کی اولاد نہ ہو تو وہ اپنے گھر ہی میں ویرانی، بےرونقی اور تنہائی محسوس کرتا ہے اور اپنے آپ کو کمزور اور بےسہارا سمجھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو ان تمام کمزوریوں سے مبرّا ہے۔ اسے کسی لحاظ سے بھی نہ سہارے کی ضرورت ہے اور نہ ہی اسے تنہائی اور کمزوری کا احساس ہوتا ہے اور نہ ہی وہ کسی کی محبت میں مبتلا ہے۔ حاکم کل اور قادر مطلق ہے۔ کیونکہ جو کچھ زمین و آسمانوں میں ہے ہر چیز اس کی غلام اور تابع فرمان ہے۔ اس نے زمین و آسمان کو بغیر نقشے اور میٹریل کے پیدا کیا وہ تو صرف اتنا حکم دیتا ہے کہ ہو جاوہ چیز ٹھیک ٹھیک اس کے حکم کے مطابق معرض وجود میں آجاتی ہے۔ اس سے ان اقوام اور سائنسدانوں کے نظریے کی تردید ہوتی ہے جن کا کہنا ہے کہ روح اور مادہ تو پہلے ہی موجود چلا آ رہا ہے۔ خدا تو صرف اسے ایک شکل اور وجود دینے والا ہے۔
(قَال النَّبِیُّ ﷺ قَال اللّٰہُ کَذَّبَنِی ابْنُ آدَمَ وَلَمْ یَکُنْ لَہٗ ذٰلِکَ وَشَتَمَنِیْ وَلَمْ یَکُنْ لَہٗ ذٰلِکَ فَأَمَّا تَکْذِیْبُہٗ إِیَّایَ فَقَوْلُہٗ لَنْ یُعِیْدَنِیْ کَمَا بَدَأَنِیْ وَلَیْسَ أَوَّلُ الْخَلْقِ بِأَھْوَنَ عَلَیَّ مِنْ إِعَادَتِہٖ وَأَمَّا شَتْمُہٗ إِیَّایَ فَقَوْلُہُ اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا وَأَنَاالْأَحَدُ الصَّمَدُ لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُوْلَدْوَلَمْ یَکُنْ لِیْ کُفْءًا أَحَدٌ)
[ رواہ البخاری : کتاب تفسیر القرآن، باب یقال لاینون أحد أي واحد ]
” نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم جھٹلاتا ہے یہ اس کے لیے جائز نہیں۔ وہ مجھے برا کہتا ہے اسے یہ بھی زیب نہیں دیتا۔ اس کا یہ کہنا کہ جس طرح اللہ نے مجھے پیدا کیا ہے دوبارہ ہرگز نہیں لوٹائے گا مجھے جھٹلانے کے مترادف ہے حالانکہ پہلی بار پیدا کرنا دوسری بار لوٹانے سے مجھ پر بھاری نہیں۔ ابن آدم کا یہ کہنا کہ اللہ کی اولاد ہے مجھے برا کہنا ہے حالانکہ میں ایک اور بےنیاز ہوں نہ میں والد ہوں اور نہ ہی مولود اور نہ ہی کوئی میرا ہمسر ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کو اولاد کی ضرورت نہیں کیونکہ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی ملک اور تابعدار ہے۔
2۔ ہر کام اس کے ” کن “ کہنے سے ہوجاتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ ایک ہے :
1۔ اللہ اولاد سے پاک ہے۔ (الانعام : 101)
2۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اور مریم [ اِلٰہ نہیں اللہ کے بندے تھے۔ (المائدۃ : 75)
3۔ اللہ کی اولاد قرار دینا سنگین ترین جرم ہے۔ (مریم : 91، 92)
4۔ اللہ تعالیٰ کو کسی نے جنم نہیں دیا نہ اس نے کسی کو جنم دیا ہے۔ (الاخلاص : 3)
زمین و آسمان کی تخلیق :
1۔ اللہ تعالیٰ نے بغیر نمونے کے زمین و آسمان بنائے۔ (البقرۃ : 117)
2۔ اللہ تعالیٰ نے سات آسمان اور سات زمینیں بنائیں۔ (البقرۃ : 29)
3۔ اس نے آسمان و زمین کو برابر کیا۔ (البقرۃ : 29)
4۔ آسمان کو چھت اور زمین کو فرش بنایا۔ (البقرۃ : 22)
5۔ زمین اور آسمانوں کو چھ دنوں میں بنایا۔ (الاعراف : 54)
Ayahs 2:118–119فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح لوگوں کا اللہ تعالیٰ کی اولاد ٹھہرانا غلط ہے۔ اسی طرح ان کا براہ راست اللہ تعالیٰ کو دیکھنے یا اس سے براہ راست بات کرنے کا مطالبہ بھی غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ کی زیارت دنیا کی آنکھوں سے کرنا نا ممکنات میں سے ہے۔
اہل کفر کی ہمیشہ سے یہ عادت رہی ہے کہ جب بھی وہ انبیاء کے مقابلے میں لا جواب ہوئے تو یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ جس خدا نے آپ کو نبی بنایا ہے وہ براہ راست ہمیں اپنے آپ پر ایمان لانے کا حکم کیوں نہیں دیتا ؟ یا پھر ہمارے پاس ایسے دلائل و معجزات کیوں نہیں آتے ؟ جن کو دیکھتے ہی ہم آپ کی رسالت اور خدا کی خدائی پر ایمان لانے کے لیے مجبور ہوجائیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہم کلامی کے مطالبہ کو اس لیے در خور اعتناء نہیں سمجھا گیا کیونکہ اس سے زیادہ جہالت پر مبنی کوئی مطالبہ نہیں ہوسکتا۔ مشرکین مکہ سے پہلے بنی اسرائیل نے مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کوہ طور پر خدا کے نور کی ایک جھلک دیکھی تو سارے کے سارے بےہوش ہوگئے۔ قرآن مجید صاف ‘ صاف بتلاتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں انسان کی آنکھ ربِّ کبریا کو نہیں دیکھ سکتی جب کہ اللہ تعالیٰ سب کو دیکھ رہا ہے۔ (الانعام : 103) اگر اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو براہ راست حکم دینا اور بات کرنی ہے اور ہر کوئی انبیاء کی طرح پاکباز اور با صلاحیت ہو تو پھر پیغمبروں کی آمد کا مقصد ہی باقی نہیں رہتا۔ اس بےہودہ سوال کا جواب دینے کی بجائے فقط اتنا فرمایا کہ ان کی زبان اور دل ان لوگوں کی طرح ہوچکے ہیں جنہوں نے ہمیشہ انکار اور تمرّد کا راستہ اختیار کرتے ہوئے ایسا مطالبہ کیا ہے۔ جہاں تک کھلے اور واضح دلائل اور معجزات کا تعلق ہے وہ اس سے زیادہ کیا ہوسکتے ہیں کہ ان کے سامنے چاند کا دو ٹکڑے ہونا ‘ آپ کا آسمانوں کی رفعتوں سے بلند سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنا، قرآن مجید کی ایک ایک پیش گوئی کا حرف بحرف سچ ہونا، معجزات اور آیات کا نازل ہونا۔ پھر آپ ﷺ کی ذات گرامی کی شکل میں ایک چلتا پھرتا معجزۂ مجسم بھی ان کے سامنے تھا۔ جس کی نظیر و مثال قیامت تک کوئی پیش نہیں کرسکتا اتنے واضح و بیّن براہین و دلائل پر ایمان تو وہی لوگ لاتے ہیں جو یقین و اعتماد کی صلاحیتوں سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔ بلا شبہ ہم نے آپ ﷺ کو ایسی سچائی کے ساتھ جلوہ گر کیا ہے کہ جس پر ایمان لانے والوں کے لیے دنیا و آخرت کی بشارتیں اور منکروں کے لیے دنیا میں پریشانیاں اور آخرت میں پشیمانیاں ہوں گی۔ میرے نبی ! آپ اپنا کام کرتے جائیں۔ آپ برے کاموں پر انتباہ کرنے اور اچھے کاموں کی اچھی خوشخبری دینے والے ہیں۔ ہم قیامت کے دن یہ سوال نہیں کریں گے کہ آپ کے ہوتے ہوئے یہ جہنم کے سزا وار کیوں ٹھہرے ؟
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ﷺ قَالَ أُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَھُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِيْ وَلَا أَقُوْلُھُنَّ فَخْرًا بُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ کَافَّۃً الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَنُصِرْتُ بالرُّعْبِ مَسِیْرَۃَ شَھْرٍ وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَاءِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِيْ وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَھُوْرًا وَّأُعْطِیْتُ الشَّفَاعَۃَ فَأَخَّرْتُھَا لِأُمَّتِيْ فَھِيَ لِمَنْ لَّایُشْرِکُ باللّٰہِ شَیْءًا) [ مسند احمد : کتاب ومن مسند بنی ہاشم، باب بدایۃ مسند عبداللہ بن العباس ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے ایسی پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں اور میں ان کے بارے میں فخر سے بات نہیں کرتا میں تمام سرخ و سیاہ لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں اور ایک مہینے کی مسافت تک میری رعب کے ساتھ مدد کی گئی ہے اور میرے لیے غنیمت کا مال حلال قرار دیا گیا ہے جب کہ مجھ سے پہلے کسی امت کے لیے حلال نہ تھا اور میرے لیے زمین مسجد اور طہارت کا ذریعہ بنادی گئی ہے اور مجھے شفاعت عطا کی گئی میں نے اسے اپنی امت کے لیے مؤخر کردیا ہے اور وہ ہر اس شخص کی نجات کا ذریعہ بنے گی جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا۔ “
مسائل
1۔ جاہل اور کافر لوگ اللہ تعالیٰ کو براہ راست دیکھنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
2۔ انبیاء کا کام لوگوں کو جہنم سے کھینچنا نہیں بلکہ ان کو اچھے، برے سے آگاہ کرنا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خوشخبری دینے اور انتباہ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کا کلام کرنا :
1۔ بنی اسرائیل نے اللہ کو دیکھنے اور اس سے ہم کلامی کا مطالبہ کیا۔ (النساء : 153)
2۔ اللہ تعالیٰ براہ راست کسی سے کلام نہیں فرماتا۔ (الشورٰی : 51)
3۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ پردے میں بات کرتا تھا۔ ( الشورٰی : 51)
Ayah 2:120فہم القرآن
ربط کلام : اہل کفر اور یہود و نصاریٰ کے تمام کے تمام مطالبات بھی مان لیے جائیں تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے لہٰذا اے رسول ! آپ اپنا کام کرتے رہیں کیونکہ آپ ﷺ کو ان کا ہر مطالبہ پورا کرنے اور ہر حال میں انہیں راضی کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔ آپ حق کی شہادت اور ان کے برے کاموں کے انجام سے ڈراتے ہیں۔ ہدایت تو وہی لوگ پائیں گے جو کتاب اللہ کو اخلاص نیت کے ساتھ پڑھتے ہیں۔
صحابہ کرام ؓ کو رہ رہ کر یہ خیال آتا تھا کہ اہل کتاب پڑھے لکھے اور اپنے دین پر قائم ہونے کے دعویدار ہونے کے باوجود رسالت مآب ﷺ پر ایمان کیوں نہیں لاتے ؟ انہی کو تسلی دینے کے لیے براہ راست رسول محترم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے یہود و نصاریٰ کی فطرت خبیثہ کے بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہے کہ یہ لوگ اس وقت تک آپ سے خوش نہیں ہوسکتے جب تک آپ لوگ اپنا دین چھوڑ کر ان کے دین کو قبول نہ کرلیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہدایت تو وہی ہے جس پر وہ قائم ہیں۔
اے نبی ! ان سے فرما دیجیے جسے تم ہدایت سمجھتے ہو وہ ہرگز ہدایت نہیں۔ ہدایت تو وہ ہے جس کی رہنمائی اور توفیق اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے۔ یہاں ہمیشہ کے لیے یہ اصول بیان کردیا کہ ہدایت وہ نہیں جس کو کوئی انسان ‘ قوم یا کوئی پارلیمنٹ متعین کرے بلکہ حقیقی ہدایت وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی صورت میں آپ پر نازل فرمایا ہے۔ اگر علم و معرفت کے باوجود آپ ان کی طرف جھک گئے تو یاد رکھیں کہ جن لوگوں کی حمایت اور خوشی کے لیے آپ ایسا کریں گے وہ تو در کنار کوئی بھی ذات کبریا کے سوا آپ کا خیر خواہ اور مددگار ثابت نہیں ہوگا۔ اس فرمان کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو پیش نگاہ رکھنا چاہیے۔ اگر مسلمان دوسروں کو خوش کرنے کے لیے اپنا دین اور تہذیب چھوڑدیں گے تو اس طرح یہود و نصاریٰ تو وقتی طور پر خوش ہوں گے لیکن مسلمان اللہ تعالیٰ کی نصرت و حمایت سے محروم ہوجائیں گے۔ جو اللہ تعالیٰ کی نصرت و حمایت سے محروم ہوا اس کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی وضاحت فرمائی جا رہی ہے کہ اہل کتاب میں وہی لوگ محمد عربی ﷺ کی رسالت اور قرآن کی صداقت پر ایمان لائیں گے جو ذہنی تحفظات اور گروہی تعصبات سے بالا تر ہو کر تورات ‘ انجیل اور قرآن مجید پر ایمان لاتے ہیں۔ حصول ہدایت کا یہی وہ بنیادی اصول ہے جس کے لیے قرآن بار بار اس بات کی دعوت دیتا ہے۔ کہ اے دنیا جہاں کے لوگو ! کتاب ہدایت میں تدبر و تفکر کرو تاکہ تمہارے لیے ہدایت کا راستہ واضح اور آسان ہوجائے۔ جنہوں نے کتاب اللہ میں تدبر و تفکر سے اجتناب اور اس کے حقائق کا انکار کیا وہ بالآخر نقصان پائیں گئے۔
Ayah 2:121(عَنْ أَبِی ذَرٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ إِنَّ بَعْدِی مِنْ أُمَّتِی أَوْ سَیَکُونُ بَعْدِیْ مِنْ أُمَّتِی قَوْمٌ یَقْرَءُ وْنَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ حَلَاقِیمَہُمْ یَخْرُجُونَ مِنْ الدِّینِ کَمَا یَخْرُجُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ ثُمَّ لَا یَعُوْدُوْنَ فیہِ ہُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِیقَۃِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الزکوۃ، باب الخوارج شر الخلق والخلیقۃ ]
” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے بعد ایک قوم آئے گی وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلقوں سے تجاوز نہیں کرے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر اپنے ہدف سے نکل جاتا ہے۔ پھر وہ دین کی طرف نہیں لوٹ سکیں گے۔ وہ انسانوں اور جانوروں میں سے بدترین ہوں گے۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ مَا أَذِنَ اللّٰہُ لِشَیْءٍ مَا أَذِنَ للنَّبِیِّ أَنْ یَّتَغَنّٰی بالْقُرْآنِ )
[ رواہ البخاری : کتاب، فضائل القرآن، باب من لم یتغن بالقرآن ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے کسی اور چیز کی نبی کو اتنی اجازت نہیں دی جتنی کہ قرآن کو خوبصورت آواز کے ساتھ پڑھنے کی اجازت دی ہے۔ “
(عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ زَیِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِکُمْ )
[ رواہ ابوداوٗد : کتاب الصلاۃ، باب استحباب الترتیل فی القراء ۃ ]
” حضرت براء بن عازب ؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قرآن کو اپنی آوازوں کے ساتھ مزین کرو۔ “
مسائل
1۔ جب تک مسلمان یہودی یا عیسائی نہ ہوجائیں یہود و نصاریٰ راضی نہیں ہوسکتے۔
2۔ کتاب و سنت کی اتباع کے بغیر اللہ تعالیٰ کی ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی۔
3۔ قرآن و سنت کی اتباع کیے بغیر خدا کی نصرت و حمایت حاصل نہیں ہوتی۔
4۔ قرآن مجید کی تلاوت اس کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کرنی چاہیے۔
5۔ قرآن کی راہنمائی کا انکار کرنے والے دنیا و آخرت میں نقصان اٹھائیں گے۔
تفسیر بالقرآن
خواہشات کی پیروی کرنا جرم ہے :
1۔ اللہ کی راہنمائی آجانے کے بعد اپنی خواہشات کی پیروی نہیں کرنا چاہیے۔ (ص : 26)
2۔ فیصلہ کرتے وقت خواہشات کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے۔ (المائدۃ : 49)
3۔ علم کے باوجود خواہشات کی پیروی کرنے والا اللہ کی ضمانت سے نکل جاتا ہے۔ (الرعد : 37)
4۔ اپنی خواہش کی پیروی کرنا اپنے نفس کو رب بنانا ہے۔ (الفرقان : 43)
5۔ حق کو خواہشات کے تابع کرنے سے نظام کائنات درہم برہم ہوجائے گا۔ (المؤمنون : 71)
6۔ نبی کی بات نہ ماننا اپنی خواہش کی پیروی کی علامت ہے۔ (القصص : 50)
تلاوت قرآن کے آدا ب :
1۔ قرآن کی تلاوت کا حق ادا کرنا چاہیے۔ (البقرۃ : 121)
2۔ قرآن کی تلاوت کے وقت تدبر کرنا چاہیے۔ (النساء : 82)
3۔ سحری کے وقت تلاوت کرنا افضل ہے۔ (الاسراء : 78)
Ayahs 2:122–123فہم القرآن
ربط کلام : سورة البقرۃ میں اہل کتاب بنی اسرائیل کو تیسری بار خطاب کیا جار ہا ہے۔ جس میں بیت اللہ کی تاریخ ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں کا ذکر خاص کر اس دعا کا ذکر ہے جس میں انہوں نے مکہ میں مبعوث ہونے والے آخری پیغمبر کے لیے اللہ کے حضور کی تھی۔
اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو تیسری مرتبہ اپنی عطا کردہ نعمتیں اور فضیلتیں یاد کروا کر احساس دلا رہا ہے کہ تم جس عزت رفتہ کے حصول کے خواہش مند ہو وہ نبی آخر الزماں ﷺ کی مخالفت کے راستے پر چل کر حاصل نہیں ہوسکتی۔ آج تم مسلمانوں کے خلاف ایک دوسرے کے معاون اور مددگار بن رہے ہو اس دن کی ہولناکیاں اپنے احاطۂ خیال میں لاؤ جس دن تم رائی کے دانے کے برابر بھی ایک دوسرے کی مدد نہیں کر سکوگے۔ تمہارے لیے یہ بات کہیں بہتر ہے کہ تم خواہ مخواہ مخالفت اور نا شکری کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے اپنے جدِّ امجد کا راستہ اختیار کرو اور خاتم المرسلین ﷺ کی اتباع کرو تاکہ تمہیں پہلے کی طرح عزت و عظمت سے نوازا جائے۔
چنانچہ ارشاد ہوتا ہے کہ میرے بندے یعقوب (علیہ السلام) کے فرزندو اور میرے خلیل ابراہیم (علیہ السلام) کے خانوادے کے ساتھ تعلق رکھنے والو ! سنو، غور کرو اور میری نعمتوں کو ایک دفعہ پھر اپنے ذہن میں تازہ کرو جو میں نے دنیا کے تمام لوگوں سے بڑھ کر تمہیں عنایت فرمائی تھیں۔ اگر تم عزت رفتہ اور انعامات گزشتہ کا اعادہ اور حصول چاہو تو پھر یوم احتساب سے پہلے اپنے کردار پر نظر ثانی کرو۔ چہ جائے کہ وہ دن وارد ہوجائے جب عزیز اپنے عزیز ‘ ماں اپنے جگر گوشے اور باپ اپنے لخت جگر کو کوئی فائدہ نہ پہنچا سکے گا اور نہ ہی دولت مند کی دولت اس کے کام آئے گی اور نہ کسی کی سفارش اور اثر و رسوخ دوسرے کا معاون اور مددگار ثابت ہو سکے گا۔ اسی کے پیش نظر رسول کریم ﷺ نے اپنے جگر گوشہ بتول حضرت فاطمہ ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے نصیحت فرمائی تھی :
(یَافَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ یَاصَفِیَّۃَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ یَابَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَاأَمْلِکُ لَکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا سَلُوْنِیْ مِنْ مَّالِیْ مَا شِءْتُمْ ) [ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب فی قولہ وأنذر عشیرتک الأقربین ]
” اے محمد کی بیٹی فاطمہ اور عبدالمطلب کی بیٹی صفیہ اور اے عبدلمطلب کی اولاد میں تمہارے لیے اللہ کے ہاں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں گا البتہ میرے مال میں سے جتنا چاہو مطالبہ کرسکتے ہو۔ “
(یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِيْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِءِذٍ م بِبَنِیْہِ ۔ وَصَاحِبَتِہٖ وَأَخِیْہِ ۔ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِيْ تُؤِْیْہِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنْجِیْہِ ۔ کَلَّا) [ المعارج : 11 تا 15]
” مجرم چاہے گا کہ اس دن بیٹوں کا فدیہ دے کر عذاب سے بچ جائے اور اپنی بیوی، اپنے بھائی اور اپنے اس کنبہ کا جو اسے پناہ دیا کرتے تھے اور جو کچھ بھی زمین میں ہے سب کچھ دے کر نجات پالے ہرگز ایسا نہیں ہوگا۔ “
(اَلْأَخِلَّآءُ یَوْمَءِذٍ م بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِیْنَ ) [ الزخرف : 67]
” اس دن متقین کے علاوہ سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دنیا کی نعمتوں اور عظمتوں سے سرفراز فرمایا تھا۔
2۔ قیامت کے دن مجرموں کی کوئی کسی لحاظ سے مدد نہیں کرسکے گا۔
3۔ انسان کو ہر وقت اپنے دل میں قیامت کا ڈر رکھنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن فدیہ اور سفارش قبول نہ ہوگا :
1۔ کسی جان سے قیامت کے دن فدیہ قبول نہ ہوگا۔ (البقرہ : 48)
2۔ کفار سے عذاب کے بدلے زمین بھر سونا بھی قبول نہ ہوگا۔ (آل عمران : 91)
3۔ ہر جان اپنا بوجھ خود اٹھائے گی۔ (النجم : 38)
4۔ قیامت کے دن کسی کی چالیں کفایت نہ کریں گی۔ (الطور : 46)
Ayah 2:124فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کے جد امجد ابراہیم (علیہ السلام) کا کردار اور ان کا اللہ تعالیٰ کی آزمائشوں میں پورا اترنے کے بعد مقام و مرتبہ۔
اے بنی اسرائیل آج تم اپنے فرسودہ نظریات ‘ مذہبی تعصبات اور معمولی مفادات کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ تمہارے جد امجد ابراہیم (علیہ السلام) کی شان تو یہ تھی کہ جب اس کے رب نے اسے امتحانات کے ذریعے آزمایا تو اس نے اولاد ‘ وطن ‘ عزت و اقبال گویا کہ ہر چیز اللہ کے راستے میں قربان کردی۔ اس طرح وہ آزمائشوں سے گزر کر اپنے رب کے ہاں سرخرو ہوئے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بھاری آزمائشوں کے لیے چند کلمات کا لفظ استعمال فرما کر اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے مقابلے میں یہ بڑے مختصر اور معمولی امتحانات تھے۔
چند کلمات کے الفاظ میں یہ راز بھی مضمر ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو انسان کو ایک ایک نعمت کے بدلے آزما لے تاکہ دنیا میں ہی فیصلہ ہوجائے کے کون سا انسان کس نعمت کا قدر دان اور کس کی ناقدری کرتا ہے۔
آزمائش کا مقصد بندے کو تکلیف دینا نہیں ہوتا بلکہ اسے اور اس کے حوالے سے دوسروں کو نعمتوں کا احساس دلانا، اس کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور آزمائشوں کی گزر گاہ سے گزار کر دنیا اور آخرت کی ترقیوں سے سرفراز کرنا ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب ابتلا کی دشوار گزار گھاٹیوں کو عبور کرچکے تو ان کو رہتی دنیا تک کے لوگوں کا قائد اور امام بنا دیا گیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پدری اور فطری جذبے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور عرض کی کہ یہ اعزازو اکرام اور منصب و مقام میری اولاد کو بھی ملنا چاہیے۔ جواباً ارشاد ہوا کہ منصب امامت اور حقیقی عزت ظالموں کو نہیں ملا کرتی۔ لہٰذا فاسق و فاجر لوگوں کے ساتھ ہمارا وعدہ نہیں ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد جس قدر شریعتیں نازل ہوئیں اور جتنے انبیاء مبعوث ہوئے وہ سب کے سب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے کے پابند کردیئے گئے۔ یہاں تک کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بھی یہی حکم ہوا کہ آپ بھی ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے کو اپنے اور اپنی امت کے لیے لازم ٹھہرائیں۔
(ثُمَّ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًاوَّمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) [ النحل : 123]
” پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ یکسو رہنے والے ابراہیم کی ملت کی اتباع کرو اور وہ مشرک نہ تھا۔ “
(قُلْ صَدَقَ اللّٰہُ فَاتَّبِعُوْا مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا وَّ مَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) [ آل عمران : 95]
” فرمادیں اللہ نے سچ فرمایا ہے لہٰذا تمہیں ابراہیم کے طریقہ کی اتباع کرنی چاہیے جو اللہ ہی کے ہوگئے تھے اور مشرک نہیں تھے۔ “
مسائل
1۔ ابراہیم (علیہ السلام) تمام امتحانات میں کامیاب ہوئے۔
2۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو آزمائشوں میں سرخروئی کے بدلے دنیا کی امامت عطا ہوئی۔
3۔ حقیقی عزت و سرفرازی ظالم لوگوں کو نصیب نہیں ہوا کرتی۔
تفسیر بالقرآن
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے امتحانات اور ان کا مقام ومنزلت :
1۔ ( ابرہیم (علیہ السلام) کا اسماعیل (علیہ السلام) کو قربانی کے لیے پیش کرنا) بہت بڑا امتحان تھا۔ (الصٰفٰت : 106)
2۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو توحید کی خاطر آگ میں پھینکا جانابہت بڑی آزمائش تھا۔ (الانبیاء : 68)
3۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی بیوی اور نو مولود بچے کو بےآب وگیاہ وادی میں چھوڑ کر آنا بہت بڑی آزمائش تھا۔ (ابرہیم : 37)
4۔ ابراہیم (علیہ السلام) امت محمدیہ کے لیے نمونہ ہیں۔ (الممتحنۃ : 4)
5۔ ابراہیم (علیہ السلام) نبی کریم ﷺ کے مقتدٰی ہیں۔ (النحل : 123)
6۔ ابراہیم (علیہ السلام) امت کے مقتدٰی ہیں۔ (آل عمران : 95)
7۔ ابراہیم (علیہ السلام) اکیلے ہی ایک جماعت تھے۔ (النحل : 120)
8۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے دوست بنایا۔ (النساء : 125)
9۔ ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے نہ عیسائی۔ (آل عمران : 67)
10۔ ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) بیت اللہ کے بانی ہیں۔ (البقرۃ : 127)
11۔ ابراہیم (علیہ السلام) پر مصحف نازل کیے گئے۔ (الاعلیٰ : 19)
12۔ ابراہیم (علیہ السلام) بردبار اور نرم خو تھے۔ ( التوبۃ : 114)
Ayah 2:125فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ اس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کے بیت اللہ کا متولی ہونے کا ثبوت فراہم کیا گیا۔
اس جہان رنگ و بو میں بیشمار خوبصورت سے خوبصورت ترین عمارات و محلات موجود ہیں۔ جن کے حسن و جمال میں اضافہ کرنے کے لیے لاکھوں، کروڑوں، اربوں روپے خرچ ہوئے اور کیے جا رہے ہیں۔ ان کو دیکھو تو عقل دنگ رہ جاتی ہے لیکن کوئی ایسی جگہ یا عمارت نہیں جس کے دیدار کو اہل جہاں کے لیے لازم قرار دیا گیا ہو اور جس کے لیے اتنی دنیا کے دل تڑپتے ہوں یہ اکرام و اعزازصرف ایک عمارت کو نصیب ہوا جس کو عام پتھروں سے اٹھایا گیا ہے۔ اللہ رب العزت نے اس کو بیت اللہ قرار دیا یعنی اللہ کا گھر۔
(وَلِلّٰہِ عَلٰی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیْلًا۔ ) [ آل عمران : 97]
” اور اللہ کے لیے ان لوگوں پر بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی طاقت رکھتے ہوں۔ “
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دین حنیف کی تبلیغ کے لیے اردن ‘ شام اور حجاز مقدس کو مرکز قرار دیا تھا اردن میں حضرت لوط، حجاز میں حضرت اسماعیل اور شام فلسطین میں بذات خود اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) دین حنیف کی خدمت کررہے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) گاہے گاہے ان مراکز کا دورہ کرتے اور ہدایات فرماتے رہتے تھے۔ اس طرح آپ حسب معمول حکم خداوندی حضرت ہاجرہ[ اور جناب اسماعیل (علیہ السلام) کی خبر گیری کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے اسی اثنا میں تعمیر کعبہ کا حکم ہوا جس کی نبی رحمت ﷺ کی زبان اطہر سے بخاری شریف میں ان الفاظ میں تفصیل موجود ہے :
(ثُمَّ لَبِثَ عَنْہُمْ مَّاشَآء اللّٰہُ ثُمَّ بَعْدَ ذَلِکَ وَ إسْمٰعِیْلُ یُبْرِیْ نَبْلًا لَّہٗ تَحْتَ دَوْحَۃٍ قَرِیْبًا مِّنْ زَمْزَمَ فَلَمَّا رَاٰہٗ قَامَ إلَیْہِ فَصَنَعَا کَمَا یَصْنَعُ الْوَالِدُ بالْوَلَدِ ثُمَّ قَالَ یَا إسْمَاعِیْلُ إِنَّ اللّٰہَ أَمَرَنِیْ أَنْ اَبْنِیَ ہٰہُنَا بَیْتًا وَأَشَارَ إلٰی اَکْمَۃٍ مُرْتَفِعَۃٍ عَلٰی مَا حَوْلَہَا قَالَ فَعِنْدَ ذٰلِکَ رَفَعَا الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ فَجَعَلَ إسْمَاعِیْلُ یَأْتِیْ بالْحِجَارَۃِ وَ اِبْرَاہِیْمُ یَبْنِیْ حَتّٰی اِذَا ارْتَفَعَ الْبِنَاءُ جَآءَ بِہٰذَا الْحَجَرِ فَوَضَعَہٗ لَہٗ فَقَامَ عَلَیْہِ وَہُوَ یَبْنِیْ وَ إسْمَاعِیْلُ یُنَاوِلُہُ الْحِجَارَۃَ )
[ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ واتخذ اللہ ابراہیم خلیلا ]
” پھر جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے ملک (فلسطین) میں ٹھہرے رہے اس کے بعد جب اسماعیل (علیہ السلام) کے پاس تشریف لائے تو اسماعیل (علیہ السلام) زمزم کے پاس ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر تیر ٹھیک کر رہے تھے۔ جب اسماعیل (علیہ السلام) نے اپنے والد مکرم کو دیکھا تو اٹھ کر استقبال کیا چناچہ دونوں اس طرح ملے جس طرح باپ اپنے بیٹے سے ملتا ہے پھر فرمانے لگے : بیٹا اسماعیل ! مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس اونچی جگہ پر بیت اللہ کو تعمیر کروں۔ اسماعیل (علیہ السلام) نے عرض کی میں حاضر خدمت ہوں۔ نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں اسی جگہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) نے بیت اللہ کی بنیادیں اٹھائیں۔ اسماعیل (علیہ السلام) پتھر لائے جا رہے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تعمیر فرما رہے تھے جب دیواریں اونچی ہوگئیں اور زمین پر کھڑے ہو کر پتھر لگانا مشکل ہوگیا تو جبرائیل (علیہ السلام) یہ پتھر لے کر آئے جس کو مقام ابراہیم کہا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس پتھر پر چڑھ کر کعبہ کی تکمیل فرمائی اور اسماعیل (علیہ السلام) معاونت کرتے رہے۔ “
(وَإذْ یَرْفَعُ إبْرَاہِیْمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ إسْمٰعِیْلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ) [ ابراہیم : 37]
اور یاد کرو جب ابراہیم اور اسماعیل ( علیہ السلام) بیت اللہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے تو دعا کرتے جاتے اے ہمارے پروردگار ! ہماری یہ خدمت قبول فرما تو سب کی سننے اور جاننے والا ہے۔ “
پاک صاف رکھنے کا معنٰی صرف یہی نہیں کہ اس کو کوڑے کرکٹ سے پاک صاف رکھا جائے بلکہ اس کے ساتھ اس کو شرک وبدعات کی روحانی گندگی اور فتنہ فساد سے بھی محفوظ رکھا جائے جیسا کہ قرآن مجید کے دوسرے مقام میں واضح ارشاد موجود ہے کہ مشرک کو حرم میں داخل نہ ہونے دیا جائے کیونکہ مشرک روحانی طور پر گندہ اور پلید ہوتا ہے۔
(یٰٓاََیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا إِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا۔۔ ) [ التوبۃ : 28]
” اے ایمان والو ! مشرکین ناپاک ہیں اس سال کے بعد یہ مسجد حرام کے قریب نہ پھٹکنے پائیں۔ “
(مَاکَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ أَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰہِ شٰھِدِیْنَ عَلٰٓی أَنْفُسِھِمْ بالْکُفْرِ أُولٰٓءِکَ حَبِطَتْ أَعْمَالُھُمْ وَفِي النَّارِ ھُمْ خَالِدُوْنَ ) [ التوبۃ : 18]
” مشرکین کو کوئی حق نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے معمار بنیں درآں حالیکہ وہ اپنے اوپر خود کفر کی شہادت دے رہے ہیں۔ ان کے تو سارے اعمال ضائع ہوگئے اور جہنم میں ان کو ہمیشہ رہنا ہوگا۔ “
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا مانگی تھی خدایا مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے بچائے رکھنا۔
(وَإِذْ قَالَ إِبْرَاھِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ أَنْ نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ ۔ رَبِّ إِنَّھُنَّ أَضْلَلْنَ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ ۔۔ )[ ابراہیم : 35، 36]
” اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور دعا کی کہ پروردگار اس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔ یارب ! اس لیے کہ ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ہے۔ “
اس لیے نبی اکرم ﷺ نے جب مکہ فتح کیا تو تمام بتوں کو مسمار کردیا اور کعبہ میں داخل ہو کر ان تصویروں کو بھی مٹایا جو مشرکین نے دیواروں پر ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کی بنائی ہوئی تھیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر ارشاد فرمایا :
” یقینا اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرمت والا بنایا ہے جب سے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا ہے یہ اللہ کی حرمت کی وجہ سے قیامت تک محترم ہے نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال ہوا نہ ہی بعد میں کسی کے لیے حلال ہوگا میرے لیے بھی تھوڑی دیر کے علاوہ کبھی حلال نہ ہوگا۔ نہ اس کا شکار بھگایا جائے نہ اس کا کانٹا اکھاڑا جائے اور نہ ہی گھاس کاٹی جائے اور وہاں کسی کی گری ہوئی چیز اعلان کرنے والے کے علاوہ کوئی نہ اٹھائے۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ کہنے لگے اللہ کے رسول ! اذخر نامی گھاس مستثنیٰ کریں کیونکہ وہ لوہاروں اور گھروں کے لیے ضروری ہے آپ خاموش رہے پھر فرمایا ہاں اذخر گھاس حلال ہے۔ “
[ رواہ البخاری : کتاب الجزیۃ، باب إثم الغادر ]
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کو مرکز خلائق اور جائے امن بنایا ہے۔ 2۔ مقام ابراہیم کو جائے نماز بنانا چاہیے۔
3۔ بیت اللہ کو ہر آلائش سے پاک صاف رکھنا لازم ہے۔
تفسیر بالقرآن
بیت اللہ کا مقام و مرتبہ :
1۔ بیت اللہ ہدایت کا مرکز ہے۔ (آل عمران : 96)
2۔ اہل مکہ کو بیت اللہ کی وجہ سے امن، رزق اور احترام ملا ہے۔ (قریش : 3، 4)
3۔ بیت اللہ جائے امن ہے۔ (آل عمران : 97)
4۔ بیت اللہ جائے ثواب ہے۔ (البقرۃ : 125)
5۔ بیت اللہ قبلہ ہے۔ (البقرۃ : 144)
Ayah 2:126فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا اور مکہ کے مرکز ہونے کا ثبوت اور ان کی اہل مکہ کے لیے خصوصی دعائیں۔
سورۃ ابراہیم آیت 37 میں بیان ہوا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے اہل خانہ کو بیت اللہ کے پڑوس میں چھوڑ کر جا رہے تھے۔ تو انہوں نے دوسری دعاؤں کے ساتھ یہ بھی التجا اور دعا کی تھی کہ بار الہٰا ! میں اپنی رفیقۂ حیات اور لخت جگر کو ایسی سر زمین پر چھوڑ رہا ہوں جو بنجر اور غیر آباد ہے۔ اس لیے ان کی روزی کا انتظام فرما۔ ساکنین مکہ کے لیے رزق کی دعا کرتے ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تخصیص کے ساتھ عرض کی کہ الٰہی ! رزق صرف ان لوگوں کو ملنا چاہیے جو تیری ذات کبریا اور آخرت کی جزا و سزا پر یقین رکھتے ہوں۔ اس تخصیص کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ پہلی غیرت ایمانی کی بنا پر جس کی وجہ سے بسا اوقات خدا کے منکروں کی عیش و عشرت دیکھ کر مومن محسوس کرتا ہے کہ ان وسائل سے یہ لوگ اور زیادہ نافرمان ہوئے جا رہے ہیں۔ انہیں تو رزق ملنے کی بجائے بھوکا مرنا چاہیے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ جب جناب ابرہیم (علیہ السلام) کو امامت کے منصب سے نوازا گیا تھا تو انہوں نے یہ اعزاز اپنی اولاد کے لیے بھی مانگا تھا۔ جس کی وضاحت میں ارشاد ہوا تھا کہ ظالموں کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہو پائے گا۔ تب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سوچا کہ شاید رزق کا معاملہ بھی ایسا ہی ہو لہٰذا انہوں نے مومنوں کے لیے ہی رزق کی دعا کی۔ جس کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ رزق تو سب کو دیا جائے گا لیکن ناشکروں اور نافرمانوں کو قیامت کے دن ان کے کفر و شرک کی وجہ سے جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔ یہاں جہنمی کو جہنم میں داخل کرنے کے لیے اضطرار کا لفظ استعمال فرمایا ہے کیونکہ جہنم کو دیکھ کر جہنمی چیخیں چلائیں گے کہ ہمیں جہنم میں داخل نہ کیا جائے لیکن یہ چیخ و پکار انہیں جہنم سے نہیں بچا سکے گی۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اہل مکہ کے لیے رزق کی دعا کرتے ہوئے ثمرات کا لفظ استعمال کیا ہے اس کا معنٰی صرف میوہ جات وثمرات نہیں بلکہ ہر قسم کی آمدنی ہے۔ جیسا کہ ہر زبان میں محاورہ ہے کہ یہ اجر فلاں محنت کا نتیجہ وثمرہ ہے۔ اس کی وضاحت سورة قصص آیت 57 میں فرمائی گئی ہے :
(وَقَالُوْا إِنْ نَتَّبِعِ الْہُدٰی مَعَکَ نُتَخَطَّفْ مِنْ أَرْضِنَا أَوَلَمْ نُمَکِّنْ لَہُمْ حَرَمًا آَمِنًا یُجْبَی إِلَیْہِ ثَمَرَاتُ کُلِّ شَیْءٍ رِزْقًا مِنْ لَدُنَّا وَلٰکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ )[ القصص : 57]
” اور کہتے ہیں اگر ہم تمہارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو اپنے ملک سے اچک لیے جائیں۔ کیا ہم نے ان کو حرم میں جو امن کا مقام ہے، جگہ نہیں دی۔ جہاں ہر قسم کے میوے پہنچائیں جاتے ہیں اور رزق ہماری طرف سے ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔ “
یاد رہے پھل کے لیے قرآن میں ” فَاکِھَۃ “ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کی جمع عربی میں ” فَوَاکِھَۃ “ آتی ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی رفیقۂ حیات حضرت ہاجرہ اور لخت جگر کو مکہ میں چھوڑتے وقت سب سے پہلے جو دعا کی وہ امن وا مان کے بارے میں تھی۔ کیونکہ اس وقت حضرت ہاجرہ اور ان کے لخت جگر اسماعیل کے سوا کوئی اور یہاں آباد نہ تھا۔ اتنے لق ودق صحرا اور سنگلاخ بیابان میں بس ماں بیٹا ہی تو تھے۔ اس لیے ان کے حفظ وامان کی فکر ایک فطری بات تھی۔ اس دعا میں یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ جس مقام پر امن وامان نہ ہو وہاں بسنے والے زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتے۔ لہٰذا کسی جگہ پر ٹھہرنے کے لیے پہلی ضرورت یہی ہوا کرتی ہے کہ وہاں کے باسیوں کو ہر قسم کا سکون میسر ہو۔ اس کے بغیر کوئی علاقہ ترقی نہیں کرسکتا۔ اس لیے چادر اور چار دیواری کی حفاظت حکومت کی اوّلین ترجیح ہونا چاہیے۔
اس دعا کے جواب میں ارشاد ہوا کہ رزق اور دنیا کے فائدے تو ان لوگوں کو بھی عطا کروں گا جو سرے سے میری ذات کے انکاری ہوں گے کیونکہ میں خالق و رازق ہوں۔ البتہ آخرت میں کفر و الحاد اور انکار و اعراض کی وجہ سے انہیں سخت عذاب میں دھکیل دیا جائے گا۔
مسائل
1۔ اہل مکہ کو ہر قسم کے پھل ملنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ رزق عطا کرنے میں کافرو مسلمان کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا کیونکہ وہ سب کا رازق ہے۔
3۔ آخرت کے مقابلے میں پوری دنیا متاع قلیل ہے۔ 4۔ قیامت کے دن کافر جہنم میں دھکیلے جائیں گے۔
تفسیر بالقرآن
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائیں :
1۔ نیک اولاد کے لیے دعا۔ (الصفت : 100) 2۔ اللہ تعالیٰ سے قوت ‘ حکم اور جنت کی دعا۔ (الشعراء : 82 تا 85)
3۔ باپ کے لیے بخشش کی دعا جو قبول نہیں ہوئی۔ (الشعراء : 86)
Ayahs 2:127–128فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا بانی کعبہ ہونے کا مزید ثبوت کیونکہ باقاعدہ بیت اللہ کا حج انہی کے زمانے سے شروع ہوا اور انہی پر مناسک حج اتارے گئے تھے۔
تاریخ عالم میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ وہ بانئ کعبہ کے نام سے مشہور ہیں اس اعزاز پر فخر کرنے کی بجائے اپنے رب کے سامنے حضور قلب اور عجز کے ساتھ فریاد کر رہے ہیں اے رب کریم ! تیرے گھر کی تولیّت اور تعمیر محض تیرے فضل و کرم کا نتیجہ ہے۔ ورنہ ہماری کیا حیثیت کہ ہم تیرے گھر کی تعمیر اور خدمت کا اعزاز پائیں۔ ہماری التجا ہے کہ اسے دنیا میں سکون کا گہوارہ ‘ مرکزہدایت اور لوگوں کی عقیدت و احترام کا مرجع بنادے اور ہماری طرف سے دنیا و آخرت میں یہ معمولی اور ناچیز محنت تیرے حضور شرف قبولیت پائے۔ نیکی کا حقیقی معیار اور مقام یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور منظور ہوجائے۔ تکمیل کعبہ کے بعد عظیم باپ اور اس کے کریم بیٹے نے مل کر یہ دعائیں بھی کیں کہ بار الٰہا ! ہمیں ہمیشہ اپنا تابع فرمان رکھنا اور ہماری اولادبھی آپ کی تابع فرمان رہے تاکہ ہمارے بعد اس مشن کی پشتیبانی کرتے رہیں اور یہ سلسلۂ ہدایت قیامت تک قائم و دائم رہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بیت اللہ کی حاضری کے آداب اور حج کے مناسک کی راہنمائی کے لیے درخواست پیش کرتے ہوئے یہ بھی فریاد کی کہ اے ہمارے خالق ومالک ! ہم پر ہمیشہ اپنے کرم کی توجہ فرمانا کیونکہ تیری نظر کرم اور مہربانی سے ہی ہماری خطائیں معاف اور دنیاوآخرت میں سرخروئی حاصل ہوگی۔ بیشک آپ توبہ قبول کرنے والے اور نہایت مہربان ہیں۔
تاریخ کعبۃ اللہ :
(إِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ للنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًاوَّ ھُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَ ) [ آل عمران : 96]
” بیشک سب سے پہلی عبادت گاہ جو انسانوں کے لیے تعمیر ہوئی۔ وہ مکہ مکرمہ میں ہے اس کو خیر و برکت دی گئی ہے اور اہل دنیا کے لیے مرکز ہدایت بنایا گیا ہے۔ “
حافظ ابن حجر عسقلانی ؓ نے فتح الباری شرح جامع صحیح بخاری میں ایک روایت ذکر کی ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بیت اللہ کی سب سے پہلی اساس حضرت آدم (علیہ السلام) کے ہاتھوں رکھی گئی اور اللہ کے فرشتوں نے ان کو اس جگہ کی نشاندہی کی پھر طوفان نوح اور ہزاروں سال کے حوادث نے اس کو بےنشان کردیا تھا۔
(عَنْ عَبْد اللَّہ بن عَمْرو ؓ مَرْفُوعًا : بَعَثَ اللَّہ جِبْرِیل إِلَی آدَم فَأَمَرَہُ بِبِنَاءِ الْبَیْت فَبَنَاہُ آدَم، ثُمَّ أَمَرَہُ بالطَّوَافِ بِہِ وَقِیلَ لَہُ أَنْتَ أَوَّل النَّاس وَہَذَا أَوَّل بَیْت وُضِعَ للنَّاسِ )
[ شرح فتح الباری : ج 10، ص 146]
” حضرت عبداللہ بن عمرو بیان مرفوع روایت بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو آدم (علیہ السلام) کے پاس بھیجا اور انہیں بیت اللہ بنانے کا حکم دیا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے بیت اللہ کی تعمیر کی، پھر انہیں طواف کا حکم ہوا اور ان سے کہا گیا تو لوگوں میں سے سب سے پہلا ہے اور یہ پہلا گھر ہے جو لوگوں کے لیے تعمیر کیا گیا ہے۔ “
مسائل
1۔ نیکی قبول ہونے کی دعا کرنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نیتوں کو جانتا اور ہر بات کو سننے والا ہے۔
3۔ اپنے اور اولاد کے لیے مسلمان رہنے کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ سے حج کی توفیق مانگنا چاہیے۔
5۔ اللہ تعالیٰ تو بہ قبول کرنے والا، نہایت ہی شفیق و رحیم ہے۔
تفسیر بالقرآن
بیت اللہ کی فضیلت :
1۔ بیت اللہ کی نشاندہی اللہ تعالیٰ نے فرمائی۔ (الحج : 26)
2۔ دنیا میں سب سے پہلے تعمیر ہونے والا گھر بیت اللہ ہے۔ (آل عمران : 96)
3۔ بیت اللہ کو ابراہیم و اسماعیل ( علیہ السلام) نے تعمیر کیا۔ (البقرۃ : 127)
4۔ بیت اللہ کی زیارت ہر صاحب استطاعت پر فرض ہے۔ (آل عمران : 97)
Ayah 2:129فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نبی آخر الزماں جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے لیے خصوصی دعا جس میں واضح ثبوت ہے کہ آخری نبی بنی اسماعیل میں سے مکہ میں ہوگا۔
قرآن مجید کے الفاظ سے ثابت ہورہا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلی دعا اس وقت کی جب انہوں نے اپنی رفیقۂ حیات اور لخت جگر کو بیت اللہ کے قریب ٹھہرایا تھا۔ کچھ دعائیں تعمیر کعبہ کے دوران اور باقی تکمیل کے بعد اللہ کے حضور کی گئیں۔ آخری دعا میں ایک ایسے نبی کی ضرورت کا تذکرہ ہے جو نا صرف اسی قوم سے ہو بلکہ اس کی پیدائش بھی مکہ معظمہ میں ہونے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس دعا میں نبوت کی غرض وغایت اور اس کے چار بنیادی فرائض کا ذکر ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسری دعاؤں کے ساتھ اس دعا کو بھی شرف قبولیت بخشتے ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نبی آخر الزماں کی بشارت سے نوازا۔
(قَدْ أُسْتُجِیْبَ لَکَ وَہُوَ کَاءِنٌ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ ) [ تفسیر ابن کثیر ]
” کہ تیری دعا مقبول ہے اور وہ نبی آخر زمانہ میں ہوگا۔ “
(عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ ؓ قَالَ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَا کَانَ أَوَّلُ اَمْرِکَ قَالَ دَعْوَۃُ أَبِیْ إِبْرَاہِیْمَ وَبُشْرٰی عِیْسٰی وَرَأَتْ أُمِّیْ أَنَّہٗ یَخْرُجُ مِنْھَا نُوْرٌ أَضَاءَ تْ مِنْھَا قُصُوْرُ الشَّامِ )
[ مسند احمد : کتاب باقی مسند الانصار، باب حدیث أبی امامۃ الباہلی الصدی بن عجلان ]
” حضرت ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول محترم ﷺ سے پوچھا کہ آپ کی نبوت کی ابتدا کس چیز سے ہوئی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : میرے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ‘ عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت اور میری ماں نے دیکھا کہ ان سے ایک نور نکلا جس سے شام کے محل روشن ہوگئے۔ “
مسائل
1۔ کتاب اللہ کی تبلیغ، تعلیم، لوگوں کو دانش سکھلانا اور تربیت کرنا نبوت کے بنیادی کام ہیں۔
2۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب اور اس کے ہر کام اور حکم میں حکمت ہوتی ہے۔