2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsفہم القرآن

Ayah 2:282

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ١ؕ وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ١۪ وَ لَا یَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ یَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْیَكْتُبْ١ۚ وَ لْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْئًا١ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ سَفِیْهًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ هُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّهٗ بِالْعَدْلِ١ؕ وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى١ؕ وَ لَا یَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا١ؕ وَ لَا تَسْئَمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِیْرًا اَوْ كَبِیْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِیْرُوْنَهَا بَیْنَكُمْ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا١ؕ وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ١۪ وَ لَا یُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّ لَا شَهِیْدٌ١ؕ۬ وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ یُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 2:282 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم آپس میں ایک دوسرے سے میعاد مقرر پر قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو اور لکھنے والے کو انصاف سے لکھنا چاہیے اور کاتب لکھنے سے انکار نہ کرے جیسے اللہ تعالیٰ نے اسے سکھایا ہے، پس اسے لکھ دینا چاہیے اور جس کے ذمے حق ہو وہ لکھوائے اور اپنے اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور اصل میں سے کچھ کم نہ کرے، ہاں جس کے ذمے حق ہے اگر وہ نادان یا کمزور یا لکھوانے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کا ولی عدل کے ساتھ لکھوا دے اور تم اپنے میں سے دو مرد گواہ کرلو اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جنہیں تم گو اہوں میں سے پسند کرو تاکہ ایک کی بھول چوک کو دوسری یاد کرادے اور گواہ جب بلائے جائیں تو وہ انکار نہ کریں اور قرض جس کی مدت مقرر ہے خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ لکھنے میں سستی نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بات بہت انصاف والی اور گواہی کو بھی درست رکھنے والی اور شک و شبہ سے بھی زیادہ بچانے والی ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ معاملہ نقد تجارت کی شکل میں ہو جو آپس میں تم لین دین کرتے ہو تو تم پر اس کے نہ لکھنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ خریدو فروخت کے وقت بھی گواہ مقرر کرلیا کرو۔ اور نہ تو کاتب کو نقصان پہنچایا جائے نہ گواہ کو اور اگر تم یہ کرو گے تو یہ تمہاری نافرمانی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اللہ تمہیں تعلیم دے رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : سود کی لعنت تین طریقوں سے ختم ہوسکتی ہے صدقہ، قرض دینا اور تجارت بڑھانا لہٰذا قرض اور تجارت کے معاملات کو ضبط تحریر میں لانے کی ہدایات جاری کی جارہی ہیں۔ اسلام کی منشایہ ہے کہ جس کے پاس اپنی ضرورت سے زائد مال ہو یا وہ کسی سبب سے خود تجارت نہیں کرسکتا تو اس کے لیے دو ہی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مالی لحاظ سے کمزور بھائی پر صدقہ کرے یا اس کو قرض حسنہ دے۔ یہاں قرض کا لین دین کرنے والوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ وہ قرض کی ماعہد اور اس کے متعلقہ معاملات ضبط تحریر میں لائیں تاکہ قرض دینے والے کو قانونی تحفظ حاصل ہونے کے ساتھ یہ اطمینان ہو کہ اس کی رقم کسی حقیقی سبب کے بغیر ضائع نہیں ہوپائے گی۔ اس سے قرض دار کو بر وقت ادائیگی کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ قرض دینے والے محسن کا احسان ذہن میں رکھتے ہوئے مقررہ میعاد تک پائی پائی واپس کرنے کی کوشش کرے۔ ان دستاویزات کو مکمل قانونی شکل اور تحفظ دینے کے لیے دو ایسے گواہ ہونے چاہییں جن پر فریقین کا پورا پورا اعتماد ہو اور اگر مردوں میں دو مناسب گواہ نہ مل سکیں تو پھر دو عورتیں ایک مرد کی گواہی کے قائم مقام شہادت دیں گی تاکہ اگر ایک عورت اپنا بیان دیتے ہوئے کوئی بات بھول جائے تو دوسری عورت اسے یاد کروادے۔ ایک مرد کے مقابلے میں دو عورتوں کی گواہی کو برابر ٹھہرایا گیا ہے کیونکہ عورتیں مالی معاملات میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتیں اور نہ ہی اسلامی معاشرے میں معیشت کی ذمّہ داری عورتوں پر ڈالی گئی ہے۔ اس بنا پر ان کا مالی معاملات سے پوری طرح واقف نہ ہونا فطری اور شرعی امر ہے۔ جس کو پیش نظر رکھتے ہوئے دو عورتوں کی گواہی مرد کی ایک گواہی کے برابر ٹھہرائی گئی ہے۔ بعض لوگ اسلام دشمن عناصر سے متاثر ہو کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ عورت کی نصف گواہی کے اصول میں عورت کی تذلیل پائی جاتی ہے۔ حالانکہ اس طرح عورت کو بہت بڑی ذمہ داری سے سبکدوش اور کئی الجھنوں سے بچایا گیا ہے۔ اسلام کے نقطۂ نظر سے عورت خاتون خانہ ہے یہ کس طرح مناسب ہوسکتا ہے کہ ایک پردہ نشین، باحیا اور کاروباری معاملات سے لا تعلق خاتون خانہ کو تھانوں، کچہریوں اور مردوں کے کاروباری معاملات میں پھنسایا جائے ؟ یہ اصول عورت کو تکریم اور تحفظ فراہم کرتا ہے کہ ایک خاتون خانہ کیوں عدالت میں فریقین کے سامنے وکلاء کے اوٹ پٹانگ سوالات کا نشانہ بنے ؟ عدالت کے ماحول میں تو بڑوں بڑوں کے حواس گم ہوجاتے ہیں جب آپ یکایک بھری محفل یا عدالت میں خاتون خانہ کو لاکھڑا کریں گے تو اس کے ذہن پر ماحول کا دباؤ اور منفی اثرات کا مرتب ہونا ایک طبعی اور فطری امر ہے۔ قرآن مجید نے عورت کے ساتھ خیر خواہی کرتے ہوئے ایک کی بجائے دو عورتوں کو رکھا۔ اکیلی عورت عدالت میں جانے کے بجائے اپنی ہم جنس کے ساتھ پہنچے تاکہ آنے جانے، عدالت میں بیٹھنے اٹھنے، جرح کے وقت اور عدالتی وقفے کے دورانیہ میں وہ اپنی ساتھی عورت سے مشورہ اور وقت گزارنے کے لیے بات چیت کرسکے۔ پھر یہ بات بھی میڈیکل سائنس نے ثابت کی ہے کہ عورتوں کی غالب اکثریت مردوں کے مقابلے میں دماغی لحاظ سے کمزور واقع ہوئی ہے۔ اس لیے اگر وہ گواہی دیتے بھول جائے تو دوسری عورت اس کو یاد کروائے تاکہ اس طرح ایک دوسرے کی معاون بنتے ہوئے گواہی ٹھیک طرح سے دے سکیں۔ (عَنْ أَبِيْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِيِّ ؓ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِيْ أَضْحٰی أَوْفِطْرٍ إِلَی الْمُصَلّٰی فَمَرَّ عَلَی النِّسَاءِ فَقَالَ یَامَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ فَإِنِّيْ أُرِیْتُکُنَّ أَکْثَرَ أَھْلِ النَّارِ فَقُلْنَ وَبِمَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ تُکْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَکْفُرْنَ الْعَشِیْرَ مَارَأَیْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِیْنٍ أَذْھَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاکُنَّ قُلْنَ وَمَانُقْصَانُ دِیْنِنَا وَعَقْلِنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ أَلَیْسَ شَھَادَۃُ الْمَرْأَۃِ مِثْلَ نِصْفِ شَھَادَۃِ الرَّجُلِ قُلْنَ بَلٰی قَالَ فَذٰلِکَ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِھَا أَلَیْسَ إِذَاحَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ قُلْنَ بَلٰی قَالَ فَذٰلِکَ مِنْ نُقْصَانِ دِیْنِھَا) [ رواہ البخاری : کتاب الحیض، باب ترک الحائض الصوم ] ” حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ عید الاضحی یا عید الفطر کے لیے عیدگاہ کی طرف نکلے عورتوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا اے عورتوں کی جماعت ! صدقہ کیا کرو۔ مجھے جہنم میں تمہاری اکثریت دکھلائی گئی ہے۔ عورتوں نے کہا اللہ کے رسول ! کس وجہ سے ؟ آپ نے فرمایا : تم اکثر لعنت کرتی اور خاوند کی ناشکری کرتی ہو۔ میں نے عقل اور دین کے اعتبار سے تم سے بڑھ کر کسی کو کم عقل نہیں دیکھا جو ایک عقلمند آدمی کو حواس باختہ کر دے۔ عورتوں نے پوچھا اللہ کے رسول ! ہماری عقل اور دین میں کیا کمی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کیا ایک عورت کی گواہی مرد کے مقابلے میں آدھی نہیں ؟ عورتوں نے کہا ایسے ہی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ تمہاری کم عقلی ہے۔ دوبارہ پوچھا کہ کیا ایسے نہیں کہ عورت حائضہ ہوجائے تو نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزے رکھتی ہے۔ عورتوں نے کہا ہاں ایسے ہی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ تمہارے دین میں کمی ہے۔ “ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اسلام میں ہر معاملہ میں عورت کی آدھی گواہی مقرر نہیں کی گئی بلکہ کئی ایسے معاملات ہیں جن میں عورت کی گواہی مرد کے مقابلے میں زیادہ ثقہ اور مکمل سمجھی گئی ہے۔ مثال کے طور پر رضاعت اور حمل کے معاملات۔ عورت کی آدھی گواہی کے بارے میں سورة نور میں بحث ہوگی۔ (ان شاء اللہ) نظام عدالت، معاملات اور مقدمات کو صحیح خطوط پر چلانے کے لیے یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ گواہوں کو گواہی دینے سے بلا عذر شرعی انکار نہیں کرنا چاہیے۔ کاروباری معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا اس کے لکھنے کا اہتمام کرنا، حصول انصاف اور معاملات کو صحیح خطوط پر استوار رکھنے کا بہترین طریقہ ہے۔ کاروباری معاملہ دست بدست اور نقد ہونے کی صورت میں اگر تحریر نہ ہوسکے تو اس میں کوئی حرج نہیں تاہم بہتری اسی میں ہے کہ اسے بھی کیش میمو، رسید، یا کسی شکل میں ریکارڈ میں لایاجائے۔ جس سے نہ صرف کاروباری الجھنوں سے بچاجاسکتا ہے بلکہ مسلمانوں کو اپنی تجارت کا سالانہ اندازہ کرنے اور زکوٰۃ کی ادائیگی میں آسانی پیدا ہوگی۔ یہاں یہ بھی فرمایا کہ معاہدہ ضبط تحریر میں لاتے ہوئے کاتب کو لکھنے سے انکار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہی اسے اس صلاحیّت سے نوازا ہے۔ اس لیے اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ عدل و انصاف کے اصول پیش نگاہ رکھے۔ معاہدہ لکھوانا مقروض کی ذمّہ داری ہے۔ اگر مقروض کم عقل، کمزور یا املاء نہ کرواسکتا ہو تو اس کا ولی یا وکیل معاہدہ تحریر کروائے تاکہ کسی کمی بیشی کا امکان اور الزام کا موقع پیدا نہ ہوسکے۔ اس طرح فریقین کو اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے ہر قسم کی خیانت سے پرہیز کرنا لازم ہے۔ کاتب اور گواہوں کو کسی صورت تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے اسی بنا پر دانشوران اسلام نے لکھا ہے کہ کاتب کے آنے جانے اور کھانے پینے کے اخراجات بھی ادا کرنے ہوں گے۔ جو کوئی ان قواعد کی خلاف ورزی کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا مرتکب ہوگا لہٰذا ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر قرآن مجید کے ضابطوں کے مطابق اپنے معاملات طے کرنے چاہییں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اصول سمجھانے کا مقصد ہی یہی ہے کہ مسلمان اپنے معاملات کو صحیح سمت پر چلائیں اور یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کو ایک ایک لمحہ اور ہر چیز کا علم ہے۔ مسائل 1۔ ادھار کا معاملہ ضبط تحریر میں لانا چاہیے۔ 2۔ کاتب کو انکار کرنے کے بجائے انصاف کے ساتھ تحریر کرنا چاہیے۔ 3۔ معاہدہ لکھوانے کا حق قرض دار کو ہے۔ 4۔ تحریر میں کمی وبیشی نہیں کرنی چاہیے۔ 5۔ نادان، کمزور، اور معذور کی طرف سے اس کا وکیل عدل کے ساتھ تحریر کروائے۔ 6۔ فریقین کی طرف سے مردوں میں سے دو گواہ ہونے چاہییں۔ 7۔ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہوگی۔ 8۔ گواہوں کو گواہی سے انکار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ 9۔ معاہدہ کے مطابق انصاف کے ساتھ چھوٹے بڑے معاملے کو لکھنا چاہیے۔ 10۔ معاملہ کو درست رکھنے کا بہترین طریقہ اسے تحریر کرنا ہے۔ 11۔ نقد لین دین کو نہ لکھا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ 12۔ کاتب اور گواہ کو تکلیف سے بچانا چاہیے۔ 13۔ معاہدہ میں گڑ بڑ کرنا اور کاتب و گواہ کو تکلیف دینا اللہ کی نافرمانی کرنا ہے۔
Ayah 2:283

وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ١ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ١ؕ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ یَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:283 in the Quran reader

اور اگر تم سفر میں ہو اور لکھنے والا نہ پاؤ تو بطور گروی کوئی چیز قبضہ میں رکھ لیا کرو۔ ہاں اگر آپس میں ایک دوسرے پر اطمینان ہو تو جسے امانت دی گئی ہے وہ اسے ادا کر دے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے جو اس کا رب ہے۔ اور گواہی کو نہ چھپاؤ اور جو شخص گواہی کو چھپائے گا تو بیشک اس کا دل گنہگار ہوگا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ ہدایات۔ اگر سفر کے دوران ادھارلینے کی نوبت پیش آئے تو کاتب کی عدم موجودگی اور باہمی اعتماد نہ ہونے کی صورت میں قرض لینے والے کی کوئی چیز گروی رکھی جاسکتی ہے۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتِ اشْتَرٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنْ یَھُوْدِيٍّ طَعَامًا بِنَسِیْءَۃٍ وَرَھَنَہٗ دِرْعَہٗ ) [ رواہ البخاری : کتاب البیوع، باب شراء الإمام الحوائج بنفسھا ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی سے کچھ مدت کے لیے غلہ حاصل کیا اور اپنی لوہے کی زرہ اس کے پاس بطور رہن رکھی۔ “ یاد رکھیں کہ ( آپ ﷺ کا کسی سے اپنی ذات کیلیے قرض لینا ثابت نہیں۔ بیت المال کمزور ہونے کی وجہ سے آپ غریب مسلمانوں کے لیے قرض لیتے تھے) ۔ “ جو چیز کسی کے ہاں گروی رکھی جائے اس کا عارضی مالک اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اگر یہ فائدہ اٹھائے گا تو وہ بھی سود کے زمرے میں سمجھا جائے گا۔ سوائے اس کے کہ اگر کوئی جانور وغیرہ ہو تو اس کا دودھ پینا یا اس پر سواری کرنا اس کے لیے جائز ہے۔ کیونکہ یہ اس جانور کے چارے کا انتظام کرتا ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَلرَّھْنُ یُرْکَبُ بِنَفَقَتِہٖ إِذَا کَانَ مَرْھُوْنًا وَلَبَنُ الدَّرِّ یُشْرَبُ بِنَفَقَتِہٖ إِذَا کَانَ مَرْھُوْنًا وَعَلَی الَّذِیْ یَرْکَبُ وَیَشْرَبُ النَّفَقَۃُ ) [ رواہ البخاری : کتاب الرھن، باب الرھن مرکوب ومحلوب ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے گروی چیز پر خرچ کرنے کی وجہ سے سواری کی جاسکتی ہے جب اسے گروی رکھا جائے اور دودھ والے جانور کا دودھ جانور کو چارہ کھلانے کی وجہ سے پیا جاسکتا ہے۔ جب اس قسم کا جانور گروی رکھاجائے تو سواری کرنے یا دودھ پینے والے پر اسے چارہ کھلانا ہے۔ “ سفر سیگھر پہنچنے اور معاملے کی میعاد پوری ہوجانے کے بعد یہ گروی شدہ چیز مالک کو صحیح سالم واپس لوٹانا ہوگی۔ آخر میں پھر حکم دیا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو وہی تمہارا پالنہار اور مالک ہے۔ لہٰذا گواہی کو ہرگز نہ چھپایا جائے۔ جو شخص شہادت کو چھپائے گا یقینًا اس کا دل گناہ سے آلودہ ہوچکا ہے۔ گویا کہ وہ گندے دل کا مالک ہے اور ایسے دل والے سے ہر گناہ کی توقع کی جاسکتی ہے۔ گواہی چھپانے والے کے لیے اس لیے بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے کہ اس کے شہادت چھپانے کی وجہ سے حق دار کی حق تلفی کا خطرہ اور نظام عدالت کے ناکام ہوجانے کا انتہائی اندیشہ ہے کیونکہ عدالت شرعی ہو یا غیر شرعی اس کا دارو مدار بالآخر شہادت پر ہی قائم ہے۔ شہادت چھپانے والے نے گویا کہ نظام عدل کی بنیاد ہی اکھاڑ ڈالی ہے لہٰذا ایسے لوگوں کو ادراک ہونا چاہیے کہ جو بھی وہ حرکت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے بخوبی واقف ہے۔ مسائل 1۔ حالت سفر میں کاتب نہ ملنے کی صورت میں کوئی چیز گروی رکھی جاسکتی ہے۔ 2۔ مدّت مکمل ہونے کے بعد امانت واپس لوٹانا لازم ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے کو شہادت نہیں چھپانی چاہیے۔ 4۔ شہادت چھپانے والے کا دل گنہگار ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن سچی گواہی : 1۔ سچی گواہی دینے کا حکم۔ (المائدۃ : 8) 2۔ سچی گواہی چھپانے کا گناہ۔ (البقرۃ : 283) 3۔ گواہی چھپانے والے ظالم ہیں۔ (البقرۃ : 140) 4۔ جھوٹی گواہی سے بچنے والوں کی تعریف۔ (الفرقان : 72) 5۔ گواہی پر قائم رہنے والوں کی جنت میں تکریم ہوگی۔ (المعارج : 33)
Ayah 2:284

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ١ؕ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:284 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہے۔ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے تم ظاہر کر ویا چھپاؤ اللہ تعالیٰ اس کا تم سے حساب لے گا۔ پھر جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب دے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے

فہم القرآن ربط کلام : صدقہ کرنے، قرض حسنہ دینے اور سود سے دست کش ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان یہ تسلیم کرے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اس لیے مجھے حقیقی مالک کی مرضی کے مطابق لین دین اور مالی معاملات کو چلانا چاہیے۔ عام طور پر شہادت کسی مفاد یا خوف کی وجہ سے ہی چھپائی جاتی ہے جس سے عدالتی نظام کے بگاڑ کے ساتھ حق دار اپنے حق سے محروم ہوجاتا ہے۔ شہادت چھپانے والے کو یہاں یہ باور کرایا گیا ہے کہ شہادت چھپانے سے پہلے تجھے ہزار بار سوچنا چاہیے کہ یہ وقتی مفاد اور عارضی خوف ہے۔ جب کہ نفع و نقصان اور زمین و آسمان کی ہر چیز کا اصلی مالک تو اللہ تعالیٰ ہے جو ہر کسی کے مفاد کی حفاظت کرنے والا ہے۔ جس کا حق مارا گیا اس کے لیے بھی یہ الفاظ سرمایۂ اطمینان ہیں کہ دنیا میں تو یہ حق مارا گیا لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں تیرا حق محفوظ ہے۔ آگے فرمایا لوگو ! کوئی چیز تم اپنے دلوں میں چھپاؤ یا اسے ظاہر کرو اللہ تعالیٰ اس کا محاسبہ کرے گا اور جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے عذاب میں مبتلا کرے گا۔ وہ اللہ ذرّے ذرّے پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اس لیے گواہی سوچ سمجھ کردینا چاہیے۔ جھوٹی گواہی دے کر متاثرہ فریق کو اپنی چرب لسانی سے مطمئن کرلو لیکن اللہ تعالیٰ تو تمہارے دلوں کو جانتا ہے کہ تمہارا ظاہر کیا ہے اور دل میں کیا چھپائے ہوئے ہو۔ یہاں دلوں کے خیالات پر محاسبے کا ذکر ہوا ہے۔ اس کے متعلق قرآن و حدیث میں دو قسم کے اصول بیان ہوئے ہیں۔ کفر، شرک، نفاق، حسد، کینہ اور ریاکاری کے خیالات سے اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنے کی بجائے انہیں دانستہ دل میں جمائے رکھتا ہے اور عقیدے کے طور پر اپناتا ہے تو ان پر نہ صرف محاسبہ ہوگا بلکہ ایسے لوگ شدید عذاب میں مبتلا کیے جائیں گے۔ باقی خیالات کے بارے میں معاف کردیا گیا ہے۔ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ إِنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَعَنْ أُمَّتِيْ مَاحَدَّثَتْ بِہٖ أَنْفُسُھَا مَالَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَتَکَلَّمْ ) [ رواہ البخاری : کتاب الطلاق، باب الطلاق فی الإغلاق والکرہ والسکران والمجنون ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان فرماتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا یقینًا اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لوگوں کے دلوں کے وسوسے اس وقت تک کے لیے معاف کردیے ہیں جب تک وہ ان پر عمل نہ کریں یا ان کے مطابق کلام نہ کی جائے۔ “ دل کی پاکیزگی کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کی دعائیں : (عَنْ أُمِّ مَعْبَدٍ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ اللّٰھُمَّ طَھِّرْ قَلْبِيْ مِنَ النِّفَاقِ وَعَمَلِيْ مِنَ الرِِّیَاءِ وَلِسَانِيْ مِنَ الْکَذِبِ وَعَیْنِيْ مِنَ الْخِیَانَۃِ فَإِنَّکَ تَعْلَمُ خَاءِنَۃَ الْأَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ ) [ مشکوۃ المصابیح : کتاب الدعوات، الفصل الثالث ] ” حضرت ام معبد ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا اے اللہ ! میرے دل کو نفاق سے، میرے عمل کو دکھلاوے سے، میری زبان کو جھوٹ سے اور میری آنکھوں کو خیانت سے پاک کردے یقینًا تو آنکھوں کی خیانت اور جو کچھ دلوں میں ہے اسے جانتا ہے۔ “ (عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ کَان النَّبِيُّ ﷺ یَدْعُوْ یَقُوْلُ اللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسْلِ وَالْبُخْلِ وَالْھَرَمِ وَالْقَسْوَۃِ وَالْغَفْلَۃِ وَالذِّلَّۃِ وَالْمَسْکَنَۃِ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْکُفْرِ وَالشِّرْکِ وَالنِّفَاقِ وَالسُّمْعَۃِ وَالرِّیَاءِ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنَ الصَّمَمِ وَالْبُکْمِ وَالْجُنُوْنِ وَالْبَرْصِ وَالْجَذَامِ وَسَیِّءِ الْأَسْقَامِ ) [ صحیح ابن حبان : کتاب الرقائق، باب الأدعیۃ ] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ دعا کرتے ہوئے فرماتے اے اللہ ! بیشک میں تجھ سے بےبسی، سستی، بخیلی، بڑھاپا، سختی، غفلت، ذلت اور مسکنت سے پناہ مانگتا ہوں اور میں تجھ سے فقر، کفر، شرک، نفاق اور ریاکاری سے پناہ مانگتا ہوں اور بہرے پن، گونگے پن، جنون، پھلبہری، کوڑھ اور بری بیماریوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ “ مسائل 1۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کے لیے ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کا احتساب کرے گا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا معاف کرے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
Ayah 2:285

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ١۫ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ١۫ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ۗ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:285 in the Quran reader

رسول اس چیز پر ایمان لایا جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتاری گئی اور مومن بھی ایمان لائے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں ‘ اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ اے ہمارے رب ! ہم تیری بخشش کے طلب گار ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے

فہم القرآن ربط کلام : سورة البقرۃ کی ابتدا ایمانیات سے ہوئی اختتام بھی انہی ہدایات سے کیا گیا ہے جب ہر چیز کا مالک اللہ ہے اور وہی گناہوں کو معاف فرمانے اور سزا دینے والا ہے تو اسی پر ایمان لاؤ جس پر کائنات کی عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ اور مومن ایمان لائے۔ سورۃ البقرۃ کے آغاز میں ایمان کے بنیادی ارکان کا ذکر ہوا ہے اب اس سورة مبارکہ کا اختتام بھی عقائد کے بیان سے ہورہا ہے تاکہ معلوم ہو کہ ایمان کامل کے بغیر اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل پیرا ہونا اور ان کی قبولیت ناممکن ہے۔ ابتدا میں اہل ایمان کے حوالے سے دین کے بنیا دی عقائد کا ذکر تھا اور اب رسول اللہ ﷺ کی ذات پر اختتام کیا جارہا ہے کہ یہ وہ عقائد، نظریات، اصول اور احکام ہیں جن پر میرا رسول محمد عربی ﷺ ایمان لایا اور تمام مومن یعنی صحابہ کرام ؓ اللہ تعالیٰ ، اس کے ملائکہ، اس کی نازل کردہ کتب اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ رسول کریم ﷺ اور مومن پہلے رسولوں کے درمیان کسی قسم کا فرق نہیں کرتے۔ رسولوں کے درمیان فرق نہ کرنے کا معنٰی ہے کہ وہ اپنے زمانے میں اللہ تعالیٰ کے رسول تھے۔ لیکن اب سب پر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی اتباع فرض ہے رسول ﷺ اور مومن ان جذبات کا اظہار کرتے ہیں کہ الٰہی ! ہم نے تیرے پیغامات کو سنا اور اس پر ایمان لائے۔ ہمارے رب ! ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو معاف کیجیے۔ ہم تیرے حضور ہی حاضر ہونے والے ہیں۔ یہاں دعا کی صورت میں مومنوں کے ایمانی جذبات اور کردار کی ترجمانی کی جارہی ہے۔ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اللہ کا رسول سب سے پہلے اپنے رب کے احکام پر ایمان لانے والا اور اس پر عمل کرکے مومنوں کے لیے نمونہ ہوا کرتا ہے۔ یہی نیک قائد اور مذہبی پیشوا کا عمل ہونا چاہیے تاکہ اپنے اور بیگانے سبھی اسلام کے اصولوں پر عمل کرنے میں رغبت محسوس کریں۔ (عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ إِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ کِتَابًا قَبْلَ أَنْ یَخْلُقَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ بِأَلْفَيْ عَامٍ أَنْزَلَ مِنْہُ آیَتَیْنِ خَتَمَ بِھَا سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ وَلَا یُقْرَآنِ فِيْ دَارٍ ثَلَاثَ لَیَالٍ فَیَقْرَبُھَا شَیْطَانٌ) [ رواہ الترمذی : کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء فی آخرسورۃ البقرۃ ] ” نعمان بن بشیر ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے دو ہزار سال قبل ایک کتاب لکھی اس کتاب کی دو آیتیں نازل کیں جن سے سورة البقرہ کا اختتام کیا جس گھر میں یہ تین راتیں پڑھی جائیں وہاں شیطان نہیں جاتا۔ “ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ﷺ قَالَ بَیْنَمَاجِبْرِیْلُ قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ اِذْ سَمِعَ نَقِیْضًا مِّنْ فَوْقِہٖ فَرَفَعَ رَأْسَہٗ فَقَالَ ھٰذَا بَابٌ مِّنَ السَّمَاءِ فُتِحَ الْیَوْمَ لَمْ یُفْتَحْ قَطُّ إِلَّا الْیَوْمَ فَنَزَلَ مِنْہُ مَلَکٌ فَقَالَ ھٰذَا مَلَکٌ نَزَلَ إِلَی الْأَرْضِ لَمْ یَنْزِلْ قَطُّ إِلَّا الْیَوْمَ فَسَلَّمَ وَقَالَ أَبْشِرْ بِنُوْرَیْنِ أُوْتِیْتَھُمَا لَمْ یُؤْتَھُمَا نَبِيٌّ قَبْلَکَ فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ وَخَوَاتِیْمُ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ لَنْ تَقْرَأَ بِحَرْفٍ مِّنْھُمَا إِلَّا أُعْطِیْتَہٗ ) [ رواہ مسلم : کتاب صلاۃ المسافرین ] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت جبریل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس دوران انہوں نے ایک زور دار آواز سنی اور اپنا سر اٹھانے کے بعد فرمایا کہ آسمان کا جو دروازہ آج کھولا گیا ہے یہ اس سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا۔ اس دروازے سے ایک ایسا فرشتہ نازل ہوا ہے جو آج سے پہلے زمین پر نہیں اترا۔ اس فرشتے نے رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا اور کہا دو نوروں کی خوشخبری سنیے جو آپ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کیے گئے ان میں سے ایک فاتحۃ الکتاب اور دوسرا سورة البقرہ کی آخری دو آیات ہیں۔ آپ ان دونوں میں سے کوئی کلمہ تلاوت کریں گے تو آپ کی مانگی مراد پوری ہوجائے گی۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ، ملائکہ، آسمانی کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانا فرض ہے۔ 2۔ مومن بندے انبیاء کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔ 3۔ مومن بندے سننے، ماننے اور اپنے رب سے معافی طلب کرنے والے ہوتے ہیں۔ 4۔ ہر نفس نے اللہ تعالیٰ کی طرف ہی پلٹنا ہے۔ تفسیر بالقرآن انبیاء ( علیہ السلام) کے درمیان فرق نہیں کرنا چاہیے : 1۔ مومن اللہ اور اس کے رسولوں میں فرق نہیں کرتے۔ (النساء : 152) 2۔ رسولوں کے درمیان فرق کرنا کفر ہے۔ (البقرۃ : 285) 3۔ کافر اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرتے ہیں۔ (النساء : 150)
Ayah 2:286

لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ؕ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْ١ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ١ۚ وَ اعْفُ عَنَّا١ٙ وَ اغْفِرْ لَنَا١ٙ وَ ارْحَمْنَا١ٙ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 2:286 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا، جو نیکی کرے وہ اسی کے لیے ہے اور جو برائی کرے اس کا بوجھ بھی اسی پر ہے۔ اے ہمارے رب ! اگر ہم بھول جائیں یا خطا کر بیٹھیں تو ہماری گرفت نہ کرنا۔ اے ہمارے رب ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈالنا جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے ہمارے رب ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو، ہم سے درگزر فرما اور ہمیں معاف فرما دے۔ اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کفار پر غلبہ عطا فرما

فہم القرآن ربط کلام : ایمان لانا اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنا مشکل کام نہیں یہ عین انسان کی فطرت اور اس کی وسعت ہمت کے مطابق ہے ان پر اپنی ہمت کے مطابق عمل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے بخشش، رحمت اور مدد طلب کرنی چاہیے یہی اسلام کے غلبہ اور کفار پر فتح پانے کا طریقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سورة کے اختتام میں از راہ کرم اپنے بندوں کے لیے یہ وضاحت فرماتا ہے کہ تمہارے رب نے جو احکامات نازل فرمائے ہیں۔ وہ ایسے نہیں کہ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالا گیا ہو۔ لہٰذا جو ان کے مطابق عمل کرے گا اس کا اسی کو فائدہ پہنچے گا اور جس نے ان احکامات کی مخالفت کی وہ اس کا خمیازہ بھگتے گا۔ مومن تو وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کے باوجود اس کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہیں کہ اے ہمارے خالق ومالک ! اگر ہم سے بھول یا دانستہ خطا ہوجائے تو ہمیں اپنی گرفت سے بچائے رکھنا۔ اے ہمارے پالنہار ! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالنا جس طرح پہلے لوگوں پر ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ڈالا گیا تھا۔ مومن تو اپنے رب کے حضور دست بستہ دعا کرتے ہیں کہ ہمارے رب ! ہم سے غلطی ہوجائے تو اس سے صرف نظر کرتے ہوئے ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالیو۔ جس کی ہم میں ہمت نہ ہو۔ الٰہی ! ہم سے در گزر کر، ہماری خطاؤں کو معاف فرما اور ہم پر رحم کر۔ تو ہی تو ہمارا مولا ہے اور کافروں کے مقابلے میں ہماری نصرت و حمایت فرما۔ آمین۔ (عَنْ فَرْوَۃَ بْنِ نَوْفَلِ نِ الْأَشْجَعِیِّ قَالَ سَأَلْتُ عَاءِشَۃَ عَمَّا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ یَدْعُوْ بِہِ اللّٰہَ قَالَتْ کَانَ یَقُوْلُ اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَالَمْ أَعْمَلْ ) [ رواہ مسلم : کتاب الذکر والدعاء، باب التعوّذ من شر ماعمل ومن شر ما لم یعمل ] ” حضرت فروہ بن نوفل اشجعی ؓ نے حضرت عائشہ ؓ سے نبی کریم ﷺ کی دعاؤں کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا آپ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ ! میں نے جو کام کیے اور جو نہیں کیے ان کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ “ (عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ؓ قَالَ کَانَ عَآمَّۃُ دُعَاءِ نَبِیِّ اللّٰہِ ﷺ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَاأَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُّ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا جَھِلْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُّ ) [ مسند احمد : کتاب اول مسند البصریین، باب حدیث عمران بن حصین ] ” حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی یہ دعا ہوا کرتی تھی کہ اے اللہ ! میری خطاؤں کو جو میں نے جان بوجھ کر ‘ پوشیدہ ‘ ظاہری ‘ بےعلمی سے اور عمداً کی ہیں سب کو معاف فرما۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ 2۔ ہر کسی کو اس کے عمل کے مطابق جزاء و سزا ملے گی۔ 3۔ اللہ تعالیٰ سے اپنی خطاؤں اور بھول کی معافی مانگنا اور اس کی سختی سے پناہ طلب کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن دین میں آسانیاں : 1۔ مریض ومسافر کو روزوں میں تاخیر کرنے کی اجازت۔ (البقرۃ : 185) 2۔ نماز میں قصر۔ (النساء : 101) 3۔ رمضان کی راتوں میں مباشرت کی اجازت۔ (البقرۃ : 187) 4۔ حج صرف صاحب استطاعت پر فرض ہے۔ (آل عمران : 97) 5۔ ہمت کے مطابق اللہ تعالیٰ کا تقو ٰی اختیار کرنے کا حکم۔ (التغابن : 16) تفصیل کے لیے میری کتاب ” دین تو آسان ہے “ کا مطالعہ فرمائیں