2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsفہم القرآن

Ayahs 2:163–164

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 2:163 in the Quran reader

تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے ‘ اس نہایت رحم کرنے والے اور بڑے مہربان کے سوا کوئی معبود برحق نہیں

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 2:164 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش، رات دن کا بدلنا ‘ کشتیوں کا لوگوں کو فائدہ پہنچانے والی چیزوں کو لیے ہوئے سمندروں میں چلنا ‘ آسمان سے پانی اتار کر زمین کو مردہ ہوجانے کے بعد زندہ کردینا ‘ اس میں ہر قسم کے جانوروں کو پھیلانا ‘ ہواؤں اور آسمان و زمین کے درمیان مسخر بادلوں کے رخ بدلنے میں یقیناً عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح تمہارا رسول، قرآن، قبلہ اور دین ابراہیم ایک ہے اسی طرح تمہارا معبودِ برحق بھی ایک ہی ہے۔ اب اس کی الوہیت کے دلائل سنو اور ان پر غور کرو ! وہ ایک ہی الٰہ ہے ‘ حاکم مطلق، معبود اور مسجود وہی بحروبرّ ، زمین و آسمان ‘ اور فضاؤں پر کلی اختیار رکھنے والا ہے۔ وہ ہر چیز کا خالق اور واحد مالک ہونے کے باوجود اپنے اختیارات ظلم و زیادتی کی بنیاد پر نہیں بلکہ نہایت ہی رحم وکرم کی اساس پر استعمال کرتا ہے۔ کائنات کے ذرّے ذرّے پر اس کی شفقت و مہربانی کی گھٹائیں برس رہی ہیں۔ اس کی ذات اور شان کی جھلک دیکھنا چاہتے ہو تو غور کرو کہ اس نے زمین و آسمان کو کس طرح پیدا کیا بظاہر زمین ایک ہی دکھائی دیتی ہے لیکن یہ تہ بہ تہ سات طبقات پر بچھائی گئی ہے۔ پھر جس زمین پر تمہارا ٹھکانہ اور بسیرا ہے ‘ اس کی ہزاروں اقسام اور قطعات ہیں۔ کہیں یہ زمین ہزاروں میلوں تک ریت کی شکل میں حد نظر تک سراب کا نقشہ پیش کررہی ہے۔ کہیں سیم و تھور کی وجہ سے پانی کا منظر پیش کرتی ہے۔ پھر کسی مقام پر زمین پوٹھو ہار کا روپ دھار لیتی ہے اور اس کے سینہ پر اربوں سنگلاخ ریزے دکھائی دیتے ہیں ‘ کہیں ٹیلوں اور پہاڑوں کا سلسلہ جاری ہے ‘ اور کہیں ڈھلوان کی صورت میں درجنوں فٹ نیچے ہی نیچے چلی جاتی ہے۔ ایک طرف اس کی چھاتی پر سر سبز و شاداب باغات ہیں اور دوسری طرف صحراء وبیابان کا لامتناہی سلسلہ ہے۔ اس کا ایک حصّہ ایک بیج کو اپنی گود میں لے کر اس کی نشوونما کرتا ہے ‘ دوسراحصّہ اسی بیج کو تلف کردیتا ہے۔ زمین کے ایک حصہ پر ایک فصل لہلہا رہی ہوتی ہے ‘ جب کہ اس کے ساتھ ہی دوسرا رقبہ اس فصل کو اگانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ یہی صورت زمین کی تہوں کے اندر پائی جاتی ہے۔ ایک علاقے میں کوئلے کے ذخائر ہیں تو اس کے ساتھ والی زمین سونے اور چاندی کے خزانے لیے ہوئے ہے۔ ایک جگہ پانی اتنا کڑوا ہے کہ زبان کاٹ رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی زیر زمین میٹھے پانی کا دریا بہہ رہا ہے۔ یہ زمین اپنے اوپر پہاڑوں، دریاؤں کھربوں انسانوں، حیوانات اور دیگر اشیاء کا بوجھ اٹھانے کے باوجود نہ جھکتی ہے نہ تھکتی ہے۔ اَب آسمان کو دیکھو کہ وہ لاکھوں کروڑوں سالوں سے بغیر ستونوں کے سائبان بنا ہوا ہے۔ کیا مجال ہے کہ ایک انچ بھی اوپر نیچے ہوپائے۔ اس میں غور کے ساتھ دیکھنے سے بھی کوئی جھول نظر نہیں آتا۔ یہاں تک کہ نہ اس کا رنگ بدلا ہے اور نہ اس میں کوئی دراڑ واقع ہوئی ہے ‘ جب کہ اس کا بنیادی مادہ دھواں قرار دیا گیا ہے ( الدخان : 10) حالانکہ ایک آسمان کی موٹائی اور ایک سے دوسرے تک کا فاصلہ پانچ سو سال کی مسافت بیان کیا گیا ہے۔[ مسند احمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب مسند السابق ] رات اور دن کے فرق کو دیکھا جائے تو رات ٹھنڈی اور دن گرم ہے۔ رات سر شام ہی تاریکی کا نقاب اوڑھ لیتی ہے جب کہ دن ہر جگہ روشن دکھائی دیتا ہے۔ رات کو اکثر فصلیں نمو پاتی ہیں جب کہ دن کی گرمی اور روشنی پھلوں کے پکنے میں مدد دیتی ہے۔ کبھی رات اپنے دامن کو طویل کردیتی ہے اور کبھی دن اس کی چادر کو لپیٹ کر اسے مختصر کرتے ہوئے خود طوالت اختیار کرلیتا ہے۔ پھر سال میں ایسے اوقات بھی آتے ہیں کہ دونوں اپنی طوالت کے لحاظ سے یکساں ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد مسلسل ان کے درمیان گھٹنے اور بڑھنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے کبھی دن صبح کے وقت بڑھنا شروع ہوتا اور کبھی دونوں جانب سے سکڑنا شروع ہوتا ہے۔ سمندر کے سینے پر چلنے والی کشتیوں اور بڑے بڑے جہازوں کی طرف توجہ کی جائے تو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ جو پانی اپنے اوپر ایک سوئی کو برداشت نہیں کرسکتا اسی پانی کی لہریں کشتیوں اور جہازوں کو ساحل مراد تک پہنچانے میں خدّام بنی ہوئی ہیں جو ٹنوں کے حساب سے بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں ‘ اور نقل وحمل کا یہ سب سے بڑا اور مفید ترین ذریعہ ہیں۔ اس طرح ابتدائے آفرینش سے ہی دنیا کی سب سے بڑی تجارت بحری راستوں کے ذریعے ہی ہورہی ہے اور قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اب اس اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اندازہ کیجیے جو آسمان سے بارش کی صورت میں خاص مقدار اور رفتار سے پانی نازل کرتا ہے جس سے پھول کی نازک ترین پتی بھی غسل کرتی اور پیاس بجھاتی ہے۔ اس طرح جو زمین موت کی ویرانی کا ہولناک منظر پیش کررہی تھی چند لمحوں میں اس میں جل تھل کا سماں دکھائی دیتا ہے۔ جس سے انسان ہی نہیں بلکہ زمین پر رینگنے والے حشرات الارض بھی برابر مستفید ہوتے ہیں۔ پھر ہوا اور اس کی رفتار پر غور کیجیے اگر اللہ تعالیٰ ایک لمحہ کے لیے ہوا کو رنگ دار بنادے تو آنکھیں ہونے کے باوجود دیدہ ور اندھے کی طرح ٹھوکریں کھاتا پھرے۔ یہ ہوا ہی تو ہے جو سمندر کے کڑوے کسیلے پانی کو جراثیم اور مہلک گیسوں سے پاک کر کے بلندیوں کی مخصوص سطح تک لے جاتی ہے۔ پھر ان بادلوں کو دھکیل کر وہاں پہنچادیتی ہے جہاں اللہ تعالیٰ بادلوں کو برسنے کا حکم دیتا ہے۔ بسا اوقات وہ برسنے کے قریب ہوتے ہیں لیکن چند لمحوں میں ہوا بھاری بھر کم بادلوں کو کہیں اور ہانک کرلے جاتی ہے یہ قدرت کے وہ عظیم الشان آٹھ نشانات ہیں ‘ جن میں کوئی بھی اس اِلٰہِ برحق کا شریک وسہیم نہیں ہے۔ اگر تم عقل و دانش کا معمولی استعمال بھی کرو تو ان چیزوں کے پیدا کرنے والے خالق کو ہر اعتبار سے ایک مانے اور یہ کہے بغیر نہ رہ سکو۔ ( فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ ) ” اللہ جو سب سے بہتر بنانے والا ہے بڑا ہی بابرکت ہے “ [ المومنون : 14] مسائل 1۔ اللہ ہی معبودِ برحق ہے۔ 2۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ 3۔ آسمانوں و زمین کی پیدائش اور ہر چیز کی تخلیق میں دانش مندوں کے لیے عبرت کے دلائل ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی الٰہ اور رب ہے : 1۔ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ (النساء : 87) 2۔ معبود حقیقی صرف اللہ ہے۔ (النساء : 171) 3۔ اللہ کے علاوہ کوئی خالق نہیں۔ (فاطر : 3 ) 4۔ اللہ رحمٰن ورحیم ہے۔ (الفاتحۃ : 3) 5۔ اللہ ہی رزّاق ہے۔ (الذاریات : 58) 6۔ اللہ ہی مشکل کشا ہے۔ (الانعام : 17) 7۔ اللہ ہی حاجت رواہے۔ (الانبیاء : 87) لیل ونہار کی گردشیں : 1۔ رات دن ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے ہیں۔ (الاعراف : 54) 2۔ رات دن کو اور دن رات کو ڈھانپ لیتا ہے۔ (الزمر : 5) 3۔ رات اور دن کا بڑھنا، گھٹنا۔ (الحدید : 6) 4۔ رات آرام اور دن کام کے لیے ہے۔ (الفرقان : 47)
Ayah 2:165

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ١ؕ وَ لَوْ یَرَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ١ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ Open ayah 2:165 in the Quran reader

بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو دوسروں کو اللہ کا شریک بنا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیے جبکہ ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں۔ کاش کہ مشرک لوگ اب دیکھ لیتے وہ بات جو وہ عذاب کے وقت دیکھیں گے کہ تمام طاقت اللہ ہی کے پاس ہے اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : زمین و آسمانوں کا خالق اور انسانوں کو آفاقی اسباب کے ذریعے روزی اور فوائد پہنچانے والا اللہ ہے تو پھر محبت اسی سے ہونی چاہیے نہ کہ دوسرے سے۔ سابقہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کے آٹھ ایسے آفاقی دلائل دیئے ہیں۔ جن سے ایک دیہاتی، شہری، جاہل اور تعلیم یافتہ، موٹی عقل والا آدمی یا انتہائی دانشور، سیاست دان یا سائنس دان سب کے سب اپنی اپنی لیاقت اور صلاحیت کے مطابق ان سے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ ایسے ہمہ گیر اور ٹھوس دلائل ہیں جن سے ہر آدمی کا واسطہ پڑتا ہے اور وہ ان سے استفادہ کرتا ہے۔ یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ آفاق کے تمام عناصر ایک ہی ہستی کے پیدا کردہ اور اسی کے تابع فرمان ہیں۔ جب ان تمام آفاقی عناصر کی پیدائش اور انہیں مسخر اور مقید رکھنے میں زندہ اور مردہ باطل خداؤں، نیک و بد، حکمرانوں اور سائنس دانوں کا عمل دخل نہیں بلکہ پورے کا پورا نظام ایک ہی ہستی کے زیر اقتدار ہے تو پھر اسی مالک کو الٰہ مانو اور اسی سے محبت کا رشتہ جوڑو جو پورے نظام کو سنبھالے ہوئے ہے۔ لیکن مشرک حقیقی عقل سے عاری ہوتا ہے۔ چاہے وہ کتنا ہی پڑھا لکھا کیوں نہ ہو۔ وہ کائنات کے خالق ومالک سے محبت وتعلق قائم کرنے کے بجائے اپنے رب سے بڑھ کر دوسروں سے محبت اور تعلق قائم کرتا ہے ‘ حالانکہ حقیقی اور دائمی محبت سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہونی چاہیے۔ باقی تمام محبتیں اس کی محبت کے تابع ہوناضروری ہیں۔ لیکن مشرک ایسی محبت کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی محبت کے مقابلے میں دوسروں کو ترجیح دیتا ہے۔ اس کے برعکس موحّد کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے اس طرح لبریز ہوتا ہے کہ وہ اس کے مقابلے میں دنیا کی کسی چیز کی محبت کو ترجیح نہیں دیتا۔ یہاں تک کہ وہ اپنی اولاد اور جان سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی محبت کو عزیز سمجھتا ہے اور اس کی ہر سوچ اور کام کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کا حکم ہی مقدم ہوتا ہے۔ رسول محترم ﷺ اسی بات کی راہنمائی اور دعا کیا کرتے تھے۔ محبت وہ فطری جذبہ ہے جو ہر انسان اور حیوان میں پایا جاتا ہے۔ محبت کرنے کے کچھ اسباب اور وجوہات ہوا کرتی ہیں جن کی وجہ سے دوسروں کے ساتھ محبت کرنے سے منع نہیں کیا گیا۔ مطالبہ صرف یہ ہے کہ تم اپنے رب سے سب سے زیادہ محبت کرنے کی کوشش کرو۔ اگر تم کسی کے احسان کی وجہ سے محبت کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ تمہارا محسن ہے۔ تم کسی سے قرابت داری کی وجہ سے محبت کرتے ہو تو وہ سب سے بڑھ کر تمہارے قریب ہے، اگر تم جمال و کمال کی وجہ سے کسی سے محبت کرتے ہو تو کائنات کا سار اجمال و کمال اسی کی وجہ سے ہے اور اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ اجمل واکمل ہے۔ اگر تم کسی کے اقتدار اور اختیار کی بنا پر اس سے الفت کرتے ہو تو اس سے بڑھ کر کسی کے پاس اختیار اور اقتدار نہیں ہے۔ غرضیکہ کسی سے صحیح محبت کرنے کے جو بھی محرکات اور اسباب ہوسکتے ہیں ان سب کا مالک تمہارا اللہ ہے ‘ پھر اسی کے ساتھ سب سے زیادہ محبت کیوں نہ کی جائے ؟ اللہ تعالیٰ کی محبت کے ساتھ اس کے رسول محمد مصطفیٰ ‘ احمد مجتبیٰ ﷺ کے ساتھ بھی محبت ساری مخلوق سے بڑھ کر ہونی چاہیے تب جا کر آدمی کا ایمان مکمل ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی أَکُوْنَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان، باب حب الرسول من الإیمان ] ” تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اپنے والدین ‘ اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوجاؤں۔ “ مسائل 1۔ مشرک باطل معبودوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ جیسی محبت کرتے ہیں۔ 2۔ صاحب ایمان لوگ اللہ تعالیٰ کی محبت میں متشدّد ہوتے ہیں۔ 3۔ قیامت کے دن مشرک عذاب دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی قوت و سطوت کا اعتراف کریں گے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معبود ماننا اور اس کی عبادت کرنا حرام ہے : 1۔ حضرت عیسیٰ اور مریم (علیہ السلام) کو عیسائیوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا۔ (النساء : 171) 2۔ یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا ٹھہرایا۔ (التوبہ : 30) 3۔ یہودیوں نے بچھڑے کو معبود بنایا۔ (الاعراف : 152) 4۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے بتوں کو معبود بنایا۔ (نوح : 23) 5۔ مکہ کے مشرک بتوں کی تعظیم اور عبادت کرتے تھے۔ (الانعام : 136) 6۔ مشرک غیر اللہ کو خدا کے قرب کا ذریعہ بناتے ہیں۔ (الزمر : 2)
Ayahs 2:166–167

اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ Open ayah 2:166 in the Quran reader

(وہ سزا دے گا تو کیفیت یہ ہوگی) جب پیشوا لوگ اپنے تابعداروں سے بےتعلق ہوجائیں گے اور (دونوں) عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور ان کے تمام تعلقات ختم ہوجائیں گے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ۠ Open ayah 2:167 in the Quran reader

اور بڑوں کی پیروی کرنے والے لوگ کہیں گے کاش ہم دنیا کی طرف دوبارہ لوٹائے جائیں تو ہم بھی ان سے ایسے ہی لا تعلق ہوجائیں گے جیسے یہ ہم سے ہوئے ‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ انہیں ان کے اعمال ان پر حسرتیں بنا کر دکھائے گا ‘ اور وہ آگ سے نہ نکل سکیں گے

فہم القرآن ربط کلام : مشرک سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے اور دنیا میں غیر اللہ کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں لیکن قیامت کے دن ایک دوسرے پر پھٹکار کرتے ہوئے ایک دوسرے سے بیزار ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہی واحد معبود ہے اور وہی کائنات کا خالق ومالک اور کائنات کے نظام کو چلائے ہوئے ہے۔ اس کے نظام میں کوئی ذرّہ برابر بھی دخل ڈالنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس نے نظام کائنات میں کسی کو اپناہمسر اور شریک کار نہیں بنایا اور آخرت میں بھی کوئی اس کے اختیارات اور نظام میں کوئی دم مارنے کی ہمت نہیں پائے گا۔ جو لوگ دنیا میں پیروں، فقیروں، حکمرانوں اور باطل معبودوں یہاں تک کہ دنیاوی مفادات کی خاطر اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی بات سے بڑھ کر دوسروں سے محبت کرتے اور تعلق جوڑتے ہیں قیامت کے دن یہ ظالم اور مشرک رب ذوالجلال کی جلالت وجبروت اور عذاب کو دیکھیں گے تو ان کے تمام واسطے اور رابطے کٹ جائیں گے۔ یہاں تک کہ پیرمرید سے، طالب مطلوب سے، حاکم محکوم سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ جو مذہبی پیشوا اور سیاسی رہنما اپنی ذات اور مفاد کی خاطر لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے فرمان سے ہٹایا کرتے تھے جب وہ پوری طرح جان جائیں گے کہ آج اللہ تعالیٰ کی قوت و طاقت کے سوا کسی کی کوئی طاقت نہیں اور نہ کوئی وسیلہ کار گر ثابت ہوسکتا ہے تو وہ ایک دوسرے پر پھٹکار بھیجیں گے۔ ور کر اور مرید اللہ تعالیٰ سے آرزو کریں گے کہ اِلٰہی ! ہمیں دنیا میں جانے کا موقع دے تاکہ ہم ان ظالم رہنماؤں اور مشرک پیروں سے اسی طرح نفرت کا اظہار کریں جس طرح آج وہ ہم سے بیزاری کا اظہار کررہے ہیں۔ حکم ہوگا کہ اب تم نے ہمیشہ یہیں رہنا ہے۔ اس دن سے ان کی پریشانیوں اور حسرتوں میں اضافہ ہوتا رہے گا اور ان کو عذاب سے کوئی نکالنے والا نہیں ہوگا۔ دنیا کے تمام اعمال ضائع، رہنماؤں کے وعدے اور سہارے جھوٹے ثابت ہوئے ہوں گے۔ واپسی کے تمام راستے بند اور ہر قسم کی آہ و زاریاں بےکارثابت ہوں گی، یہ مایوس ہو کر دوسری درخواست پیش کریں گے کہ اے رب ذوالجلال ! پھر ظالم سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کودُگنے عذاب میں مبتلا کیجیے۔ (الاحزاب : 67) جواب آئے گا سب کو دوگنا عذاب دیا جارہا ہے۔ (الاعراف : 38) مسائل 1۔ عذاب دیکھ کر پیر اپنے مریدوں اور لیڈر اپنے ور کروں سے براءت کا اظہار کریں گے۔ 2۔ جہنم کا عذاب دیکھ کر جہنمیوں کی تمام امیدیں ختم ہوجائیں گی۔ 3۔ جہنمی دنیا میں واپس آنے اور اپنے پیروں، لیڈروں سے قطع تعلق کرنے کی تمنا کریں گے۔ 4۔ جہنمی اپنے اعمال پر ہمیشہ حسرت و افسوس کا اظہار کرتے رہیں گے۔ 5۔ مشرک اور کافر جہنم سے کبھی نہیں نکل سکیں گے۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن باطل عابد و معبود میں نفرتیں اور بیزاریاں : 1۔ عابد و معبود ایک دوسرے سے بیزار ہوں گے۔ (یونس : 28 تا 30) 2۔ جب مشرک شریکوں کو دیکھیں گے کہیں گے یہی ہیں وہ جنہیں ہم تیرے سو اپکارتے تھے۔ تو وہ ان سے کہیں گے کہ تم جھوٹے ہو۔ (النحل : 86) 3۔ اگر تم انہیں پکارو وہ تمہاری پکار نہیں سنتے۔ اگر سن بھی لیں تو جواب نہیں دے سکتے۔ قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کا انکار کردیں گے۔ (فاطر : 14) 4۔ جب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ ان کی دشمن ہوں گے اور اپنی پرستش سے انکار کریں گے۔ (الاحقاف : 6) 5۔ ان کے شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور وہ اپنے شریکوں کے انکاری ہوجائیں گے۔ (الروم : 13) 6۔ جن کو وہ پکارا کرتے تھے۔ وہ سب ان سے غائب ہوں گے۔ (حٰمٰ السجدہ : 48)
Ayah 2:168

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:168 in the Quran reader

لوگو ! زمین میں جتنی بھی حلال اور پاکیزہ چیزیں ہیں انہیں کھاؤ۔ لیکن شیطان کے قدم بقدم نہ چلو ‘ یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

فہم القرآن ربط کلام : یہاں پہلی آیات کے ساتھ معنوی ربط پایا جارہا ہے۔ قرآن مجید میں اکثر مقامات پر شرک اور حرام و حلال کا مسئلہ ایک ہی جگہ بیان کیا گیا ہے۔ [ الانعام : 137 تا 140۔ النحل : 35] آیات ملاحظہ فرمائیں۔ حلال وطیب کھانے کے بارے میں قرآن مجید نے بنی نوع انسان کے تینوں طبقات کو مخاطب کرتے ہوئے ایک جیسے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ آغاز میں عوام الناس کو مخاطب کیا جارہا ہے اور اس کے بعد ٹھیک چوتھی آیت میں مومنوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ سورة المومنون آیت 51 میں انبیاء کی مقدس جماعت کو خطاب کرتے ہوئے حلال کھانے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ یہ مسئلہ اتنا اہم ہے کہ جب تک اس پر اپنے اپنے مقام پر سب لوگ عمل نہیں کرتے توحید کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے اور نہ معیشت کرپشن سے محفوظ رہ سکتی ہے۔ اس مسئلے کا تعلق بیک وقت حقوق اللہ اور حقوق العباد کے ساتھ ہے۔ حقوق اللہ کے ساتھ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور وہ پاک جسم کی عبادت ہی قبول کرتا ہے۔ حلال، طیب کھانے والا اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بندگی میں لذت محسوس کرتا ہے ‘ اس کے دل میں سرور، طبیعت میں استغناء، دوسروں کے ساتھ ہمدردی اور ان کے حقوق کا خیال رکھنے کے ساتھ سخاوت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ حقوق العباد کے ساتھ تو اس کا اتنا گہرا تعلق ہے کہ جب معاشرے میں حلال و حرام کی تمیز اٹھ جائے تو معاشی استحاصل ‘ ڈاکہ ‘ چوری ‘ دھوکہ دہی ‘ فریب کاری کی وارداتیں عام ہوجاتی ہیں۔ جس سے معاشی ناہمواری کے ساتھ سماجی زندگی تباہی کے راستے پر چل پڑتی ہے۔ اس لیے تمام لوگوں کو بیک وقت حلال، طیب کھانے کی تلقین کی جارہی ہے۔ خوراک ظاہری گندگی سے پاک نہ ہو تو جسمانی بیماریاں پیدا ہوں گی۔ کھانے اور کمانے میں شریعت کا لحاظ نہ رکھا جائے تو روحانی زندگی اور اخلاقی قدریں اس قدر کمزور ہوجاتی ہیں بالآخر آدمی زندہ ہونے کے باوجود اس کے روح کی موت اور اجتماعیت بکھر کر رہ جائے گی اور یہی شیطان کا مقصد ہے۔ لہٰذا حرام کھانے والا شیطان کے قدم بقدم چلتا ہوا دنیا میں ذلیل اور حریص کہلوائے گا اور آخرت میں جہنم کا ایندھن بنے گا۔ اس لیے متنبہ کیا جارہا ہے کہ شیطان تمہارا ابدی دشمن ہے اس سے ہر صورت بچ کر رہنے کی کوشش کرتے رہنا اور کوئی غیرت مند آدمی اپنے دشمن کی چال میں نہیں آیا کرتا۔ حرام خوری کے نقصانات رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ ‘ اَلنَّارُ أَوْلٰی بِہٖ ) [ مسند احمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب مسند جابر بن عبد اللّٰہ ] ” حرام سے پلنے والا جسم جنت میں داخل نہ ہوگا بلکہ اسے آگ زیادہ لائق ہے۔ “ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے : ” لوگو ! یقیناً اللہ پاک ہے اور پاک ہی قبول کرتا ہے اور اللہ نے مومنوں کو اسی چیز کا حکم دیا جس کا رسولوں کو حکم دیا ہے۔ فرمایا : اے رسولو ! پاک چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو جو کچھ تم کرتے ہو یقیناً میں اسے جاننے والا ہوں۔ اور فرمایا : اے مومنو ! ہم نے جو تمہیں رزق دیا اس میں سے پاک کھاؤ۔ “ (ثُمَّ ذَکَرَ الرَّجُلَ یُطِیْلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ یَمُدُّ یَدَیْہِ إِلَی السَّمَاءِ یَارَبِّ یَا رَبِّ وَمَطْعَمُہٗ حَرَامٌ وَمَشْرَبُہٗ حَرَامٌ وَمَلْبَسُہٗ حَرَامٌ وَغُذِیَ بالْحَرَامِ فَأَنّٰی یُسْتَجَابُ لِذَلِکَ ) [ رواہ مسلم : کتاب الزکوٰۃ، باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیب وتربیتھا ] پھر آپ ﷺ نے ایک آدمی کا تذکرہ کیا جو لمبا سفر کرتا ہے ‘ اس کے بال پراگندہ اور پاؤں خاک آلود ہیں، وہ آسمان کی طرف اپنے ہاتھ پھیلائے یارب ! یارب ! کی صدائیں بلند کرتا ہے اس کی حالت یہ ہے کہ اس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام اور وہ حرام سے پرورش پایا ہے ایسے آدمی کی دعا کیسے قبول کی جائے گی ؟ “ مسائل 1۔ ہر شخص کو حلال اور پاک کھانا چاہیے۔ 2۔ حرام کھانا شیطان کی پیروی کرنا ہے۔ 3۔ شیطان انسان کا واضح دشمن ہے، اس کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اکل حلال کی اہمیت : 1۔ ایمان داروں کو حلال کھانے کا حکم ہے۔ (البقرۃ : 172) 2۔ رسولوں کو اکل حلال کی تلقین۔ (المومنون : 51) 3۔ تمام لوگوں کو اکل حلال کا حکم ہے۔ (البقرۃ : 168)
Ayah 2:169

اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:169 in the Quran reader

وہ تمہیں صرف برائی اور بےحیائی اور اللہ تعالیٰ پر ان باتوں کے کہنے کا حکم دیتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں

فہم القرآن ربط کلام : حلال کے فوائد کے بعد حرام خوری کے نقصانات بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے حرام کھانے والا بالفعل شیطان کا حکم مانتا ہے۔ شیطان تو انسان کو بےحیائی اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بےاعتقادی اور بدگمانی پیدا کرتا ہے۔ حرام سے اجتناب نہ کرنا اور اپنی مرضی سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرلینا درحقیقت شیطان کی پیروی کرنے کے مترادف ہے جس سے منع کیا گیا ہے۔ حرام کھانے پر آمادہ کرنے کے بعد شیطان کے لیے یہ کام نہایت ہی آسان ہوجاتا ہے کہ وہ حرام خور کو برائی اور بےحیائی کی طرف مائل کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا آدمی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتے ہوئے اپنے ضمیر میں حیا محسوس نہیں کرتا۔ جب ضمیر حیا سے خالی ہوجائے تو ظلم کرنا، کاروبار میں ہیرا پھیری، اشیاء میں ملاوٹ ‘ جھوٹ بول کر سودا بیچنا اور دوسرے کا حق مارنا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھا کر گاہک کو دھوکہ دینے میں بھی یہ شخص باک محسوس نہیں کرتا۔ رسول محترم ﷺ بےحیائی کا نقصان ذکر کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے : (اِنَّ مِمَّا اَدْرَکَ النَّاسُ مِنْ کَلَام النُّبُوَّۃِ الْاُؤلٰی إِذَا لَمْ تَسْتَحْیِ فَاصْنَعْ مَاشِءْتَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الادب، باب إذا لم تستحی فاصنع ماشئت ] ” جو کچھ لوگوں نے پہلے انبیاء کی تعلیم سے پایا وہ یہ ہے کہ جب تجھ سے حیا ختم ہوجائے تو جو چاہے کر گزر۔ “ حرام کی دولت جب کسی گھر میں داخل ہوتی ہے تو اس میں بےحیائی کا ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔ پردہ نشین عورتوں کے نقاب اترنا شروع ہوجاتے ہیں ‘ بچیوں کے سروں سے دوپٹے سرکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، نوجوان اچھی روایات کو چھوڑ کر بری عادات کو فیشن کے طور اپنانے میں فخر اور شرافت کے ماحول میں گھٹن محسوس کرتے ہیں۔ ایسے شخص کے پاس اگر مال کی فراوانی اور جوانی ہو تو وہ برائی اور بدکاری میں آگے ہی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اگر ان لوگوں کو سمجھایا جائے تو کچھ لوگ حد سے آگے بڑھ کر کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہی سب کچھ کھاپی رہے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی حرام خوری کو اللہ رب العزّت کے ذمہ لگاتے ہیں۔ جس کو قرآن مجید نے سورة النحل کی آیت 35 میں مشرکوں کا کردار بتاتے ہوئے یوں بیان فرمایا ہے کہ :” مشرک کہتے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے آباء و اجداد اللہ کے علاوہ نہ کسی کی عبادت کرتے اور نہ کسی چیز کو حرام ہی قرار دیتے۔ “ مسائل 1۔ شیطان انسان کو برائی، بےحیائی اور اللہ تعالیٰ کے متعلق غلط باتیں سکھلاتا ہے۔
Ayahs 2:170–171

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:170 in the Quran reader

اور ان سے جب کبھی کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب کی تابعداری کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس طریقہ کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ‘ اگرچہ ان کے باپ دادا بےسمجھ اور ہدایت یافتہ نہ بھی ہوں ؟

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً١ؕ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:171 in the Quran reader

کفار کی مثال ان جانوروں کی طرح ہے جو اپنے چرواہے کی صرف پکار اور آواز ہی کو سنتے ہیں وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں ‘ انہیں عقل نہیں

فہم القرآن ربط کلام : تقلید آباء بھی شیطان کی پیروی کا نتیجہ ہے۔ جس طرح شیطان بےحیائی اور انسان کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں لایعنی گفتگو کا حکم دیتا ہے اسی طرح وہ یہ بات بھی دلیل کے طور پر آدمی کو سمجھاتا ہے کہ آخر پہلے لوگ اور بزرگ کوئی غلط اور گمراہ تھے ؟ حالانکہ یہ سوچ عقل کے خلاف اور جانوروں کا طریقہ ہے۔ جب انہیں حرام و حلال اور دیگر مسائل کے حوالے سے کتاب اللہ کی طرف رجوع کرنے کے لیے کہا جائے تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو انہی روایات پر چلیں گے جن پر ہمارے آباء و اجداد چلا کرتے تھے۔ وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ ان کے بزرگ دین کی سمجھ نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی ہدایت یافتہ تھے۔ اس ارشاد سے یہ بات بڑی واضح ہوتی ہے کہ بزرگوں کی روایات کو اس وقت اپنایا جائے گا جب وہ کتاب الٰہی کے مطابق ہوں گی۔ بصورت دیگر ہر فرد پر انہیں مسترد کرنا فرض ٹھہرے گا۔ اگر رسومات اور بزرگوں کی روایات کو من و عن قبول کرلیا جائے تو پھر شریعت کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے ؟ درحقیقت یہ وہ اندھی تقلید ہے جسے بہانہ بنا کر لوگ گمراہی کے راستہ پر چلنا اپنے لیے فخرسمجھتے ہیں۔ دین کے راستے میں یہی وہ رکاوٹ ہے جو انبیاء کرام کے سامنے سب سے پہلے پیش کی جاتی تھی۔ تقلید خاندانی روایات کی صورت میں ہو یا ائمہ کرام کے حوالے سے، مقلدین ہمیشہ سے جذباتی فضاپیدا کرتے ہوئے دو ہی جواز پیش کرتے ہیں۔ ایک جواز جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خطاب کے جواب میں فرعون نے پیش کیا تھا کہ اے موسیٰ ! جو ہمارے بزرگ پہلے فوت ہوچکے ہیں کیا وہ سب کے سب گمراہ اور جہنمی تھے ؟ جس کا جواب پیغمبرانہ شان کے مطابق دیتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تھا کہ پہلوں کے بارے میں خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ وہ نا بھٹکا ہے اور نا بھولتا ہے۔ [ طٰہٰ : 51، 52] دوسرا جواز یہ بیان کیا جاتا ہے کہ کیا ائمہ کرام اور بڑے بڑے علماء کو اس مسئلہ کا علم نہیں تھا ؟ اگر تقلید جامد کے مؤ یّدین کے نزدیک قرآن وسنت ہی معیار ہو تو انہیں یہ انداز گفتگو کس طرح زیب دیتا ہے ؟ بسا اوقات اس کا جواب اس قدرحساس صورت حال پیدا کردیتا ہے کہ اعتراض کرنے والا اپنے گریبان میں جھانکے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ اگر یہ بزرگ واقعتًا اس اختلافی مسئلہ میں کتاب و سنت کا علم رکھتے تھے تو وہ قرآن وسنت کے واضح دلائل کے خلاف کس طرح عمل کرسکتے تھے ؟ اگر اس مسئلہ کے بارے میں قرآن وسنت کے دلائل سامنے ہونے کے باوجود انہوں نے اسے تسلیم نہیں کیا تو ان کی عظیم شخصیات کو کس نظر سے دیکھنا چاہیے ؟ اس نازک صورت حال میں سلامتی کا یہی راستہ ہے کہ ہم قرآن وسنت کو معیار ٹھہراتے ہوئے ان کے بارے میں یہ نقطۂ نگاہ قائم کریں کہ علم کی اشاعت کم ہونے کی وجہ سے مطلوبہ دلائل ان کی نگاہ سے اوجھل رہے۔ جس کی وجہ سے ان کی طرف منسوب موقف نظر ثانی کے لائق ہے۔ لیکن مقلدانہ ذہن رکھنے والے حضرات اہمیتِ مسئلہ اور ان کی شخصیات کا لحاظ رکھے بغیر تقلید پر اصرار کرنا دین کا حصّہ تصور کرتے ہیں۔ قرآن مجید اس طرز فکر کو عقل و ہدایت کا راستہ تصور نہیں کرتا۔ اس لیے اندھے مقلدین کے بارے میں یہ تبصرہ فرمایا کہ ان کی مثال تو جانوروں کی طرح ہے جو عقل وفکر اور کسی اصول کی پیروی کیے بغیر محض اپنے سے پہلے جانور کی اتباع میں چلے جا رہے ہیں اور مقلد بھی جانوروں کی طرح بات کا مفہوم سمجھے بغیر محض ایک پکار ‘ دعو ٰی اور ایک عادت کے طور چلتے ہیں۔ اب یہ سننے، بولنے اور دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوچکے ہیں۔ جس کی وجہ سے عقل وفہم کے دروازے ان پر بند ہیں اور یہ حقیقی عقل سے عاری ہوچکے ہیں۔ جب عقل ہی اپنے ٹھکانے نہ رہی تو ہدایت کس طرح پاسکتے ہیں ؟۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مقابلے میں آباء و اجداد کی اتّباع نہیں کرنا چاہیے۔ 2۔ کافر لوگ جانوروں کی طرح بلانے والے کی صرف آواز سنتے ہیں غور و فکر نہیں کرتے۔ 3۔ کافر جانوروں سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اندھی تقلید کا انجام : 1۔ مشرک اپنے آباؤ اجداد کی اندھی تقلید کرتے ہیں۔ (البقرۃ : 170) 2۔ المائدۃ : 104 3۔ الاعراف : 28 4۔ یونس : 78 5۔ الانبیاء : 53 6۔ الشعراء : 74 7۔ لقمان : 21 8۔ الصافات : 69، 70 9۔ الزخرف : 22 تا 25
Ayah 2:172

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 2:172 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو ‘ اگر تم واقعی اسی کی عبادت کرنے والے ہو

فہم القرآن ربط کلام : پہلے تمام لوگوں کو حلال کھانے کا حکم دیا تھا اب خاص کر مومنوں کو یہ کہہ کر حلال کھانے کا حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کرنے کا تقاضا ہے کہ حلال کھانے کا اہتمام کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ حرام خور کی عبادت قبول نہیں کرتا۔ قبل ازیں بنی نوع انسان کو حلال وطیب کھانے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ حلال وطیب کا اہتمام نہ کرنے والا درحقیقت شیطان کی پیروی کرتا ہے۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ وہ حرام خوری کے ذریعے نہ صرف تمہیں تمہارے خالق سے دور رکھ کر تمہارے ساتھ دشمنی کا مظاہرہ کرتا ہے بلکہ وہ حرام کھانے اور کمانے کے ذرائع کے ذریعے بھی تمہارے درمیان نفرتیں اور عداوتیں پیدا کرتا ہے۔ کیونکہ حرام ذرائع کے ساتھ دولت کمانے سے لامحالہ دوسرے کے مالی حقوق کو نقصان پہنچتا ہے جس سے لوگوں کے درمیان نفرتیں پروان چڑھتی ہیں۔ ان نقصانات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایمان داروں کو خصوصی خطاب کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ اے ایمان وایقان رکھنے والو ! تمہیں پاک چیزیں کھانی چاہییں جو ہم نے تمہیں عطا فرمائی ہیں۔ اِدھر ادھر ہاتھ مارنے کے بجائے انہی پر صابر و شاکر رہنے کی کوشش کرو۔ حلال پر صبر وشکر تب ہی کر پاؤ گے جب تم اپنے آپ کو ہماری غلامی اور عبادت کے لیے خالص کرلو گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ طیبات کھانے والوں کی ہی عبادت قبول کرتا ہے۔ (عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ الْحَلَالُ بَیِّنٌ وَالْحَرَامُ بَیِّنٌ وَبَیْنَھُمَا مُشْتَبِھَاتٌ لَایَعْلَمُھُنَّ کَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَی الشُّبُھَاتِِ اِسْتَبْرَأَ لِدِیْنِہٖ وَعِرْضِہٖ وَمَنْ وَقَعَ فِی الشُّبُھَاتِ وَقَعَ فِی الْحَرَامِ کَالرَّاعِيْ یَرْعٰی حَوْلَ الْحِمٰی یُوْشِکُ أَنْ یَّرْتَعَ فِیْہِ أَلَا وَإِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی أَلَا وَإِنَّ حِمَی اللّٰہِ مَحَارِمُہٗ أَلَا وَإِنَّ فِيالْجَسَدِ مُضْغَۃً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ أَلَا وَھِيَ الْقَلْبُ ) [ رواہ مسلم : کتاب المساقاۃ، باب أخذ الحلال وترک الشبھات ] ” حضرت نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی مگر ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہات ہیں۔ جن سے اکثر لوگ واقف نہیں۔ جو شخص ان مشکوک چیزوں سے بچا رہا اس نے اپنے دین اور عزت کو محفوظ رکھا۔ اور جو ان میں ملوث ہوگیا اس کی مثال ایسے چرواہے کی ہے جو اپنے جانوروں کو سرکاری چراگاہ کے قریب لے جاتا ہے۔ بہت ممکن ہے وہ جانور اس چراگاہ میں گھس جائیں۔ اچھی طرح سن لو ! ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔ خبردار جسم میں ایک ٹکڑا ہے اگر وہ درست ہو تو پورا جسم درست رہتا ہے اگر وہ خراب ہوجائے تو سارا جسم ہی خراب ہوجاتا ہے۔ سنو ! وہ دل ہے۔ “ حلال کے بارے میں احادیث (عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ یْکرِبَ الزُّبَیْدِیِّ ؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ مَا کَسَبَ الرَّجُلُ کَسْبًا أَطْیَبَ مِنْ عَمَلِ یَدِہٖ وَمَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلٰی نَفْسِہٖ وَ أَہْلِہٖ وَوَلَدِہٖ وَخاَدِمِہٖ فَہُوَ صَدَقَۃٌ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب التجارات، باب الحث علی المکاسب ] ” حضرت مقدام بن معدیکرب ؓ رسول اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : آدمی کے ہاتھ کی کمائی سے بڑھ کر اور کوئی کمائی پاکیزہ نہیں آدمی اپنے نفس، اہل، اولاد اور خادم پر جو کچھ خرچ کرتا ہے وہ صدقہ ہے۔ “ (عَنْ عَاءِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِنَّ مِنْ أَطْیَبِ مَآ أَکَلَ الرَّجُلُ مِنْ کَسْبِہٖ وَوَلَدُہٗ مِنْ کَسْبِہٖ ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب البیوع، باب فی الرجل یأکل من مال ولدہ ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بہترین اور پاکیزہ مال وہ ہے جو آدمی اپنی کمائی سے کھاتا ہے اس کی اولادبھی اس کی کمائی ہے۔ “ (لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ لَحْمٌ وَ دَمٌ نَبْتَا عَلٰی سُحْتٍ فَالنَّارُ اَولٰی بِہٖ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الصلاۃ، باب ما ذکر فی فضل الصلٰوۃ ] ” جنت میں وہ گوشت اور خون داخل نہیں ہوگا جو حرام سے پلا ہوگا اس کے لیے دوزخ ہی مناسب ہے۔ “ مسائل 1۔ صاحب ایمان لوگوں کو پاک روزی کھانا چاہیے۔ 2۔ ہر دم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہی رزق دینے والا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا تقاضا ہے کہ ہمیشہ حلال کمایا اور کھایاجائے۔ تفسیر بالقرآن اکل حلال کی اہمیت : 1۔ ایمان داروں کو حلال کھانے کا حکم۔ (البقرۃ : 172) 2۔ رسولوں کو اکل حلال کی تلقین۔ (المومنون : 51) 3۔ تمام لوگوں کو اکل حلال کا حکم۔ (البقرۃ : 168)
Ayah 2:173

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:173 in the Quran reader

تم پر مردار ‘ خون، سور کا گوشت اور ہر وہ چیز جس پر اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کا نام لیا گیا ہو حرام ہے۔ پھر جو مجبور ہوجائے اور وہ حد سے بڑھنے والا اور سرکشی کرنے والا نہ ہو اس پر ان کے کھانے میں کوئی گناہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ بخشش کرنے والا نہایت مہربان ہے

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح حلال کھانا لازم ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھنا اور ان سے پوری طرح اجتناب کرنا بھی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کے کھانے کا حکم دیا ہے وہ انسان کے لیے ہر اعتبار سے مفید ہیں اور جن سے منع فرمایا ہے وہ روحانی اور جسمانی لحاظ سے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ بعض لوگ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کی حرمت کی وجوہات معلوم کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ اگر کوئی غیر مسلم کو مطمئن کرنے کے لیے ایسا کرتا ہے تو اس میں حرج کی بات نہیں۔ اگر یہ کاوش اس لیے کی جائے کہ حرمت کی حکمت سمجھے بغیر وہ اس سے رکنے کے لیے تیار نہیں تو ایسے شخص کو اپنے ایمان پر غور کرنا چاہیے۔ بھلا کون سی حکومت ہے جو اپنے تمام قوانین کی توجیہ بیان کرتی ہو ؟ اس طرح تو قانون کا حجم پھیلتا ہی چلا جائے گا۔ اگر حکم کی حکمت جاننے کے بعد اس پر عمل کرتا ہے تو پھر اتھارٹی کی کیا حیثیت رہ جائے گی ؟ حکمت جانے اور اطمینان کیے بغیر حکم نہ ماننے والے شخص نے تو اپنی عقل اور اطمینان کو خدا کا درجہ دے دیا ہے۔ اکل حلال کا حکم دینے کے بعد یہاں چار بڑے محرمات کا ذکر کیا گیا ہے : (1) ہر قسم کے مردار کھانے سے منع کیا گیا ہے سوائے دو چیزوں کے رسول کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے : (اُحِلَّتْ لَنَا مَیْتَتَانِ اَلْحُوْتُ وَالْجَرَادُ ) [ رواہ ابن ماجہ : کتاب الصید، باب صید الحیتان والجراد ] ” ہمارے لیے دو مردار حلال کیے گئے ہیں۔ مچھلی اور ٹڈی۔ “ (2) نزول قرآن کے وقت وحشی قبائل نہ صرف مردار کھایا کرتے بلکہ وہ جانوروں کا خون بھی پی جاتے تھے۔ جس طرح آج بھی افریقہ کے کئی وحشی قبائل جانوروں کا ہی نہیں بلکہ انسانوں کا بھی خون پینے سے گریز نہیں کرتے۔ جدید تحقیق کے مطابق خون میں کئی ایسے جراثیم ہوتے ہیں جن سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا علاج ممکن نہیں ہوتا۔ تبھی تو اللہ تعالیٰ نے مردہ یا زندہ جانور کا خون پینے سے منع فرما دیا ہے البتہ کسی کی زندگی بچانے کے لیے خون کا میڈیکل استعمال جائز ہے۔ (3) خنزیر کا گوشت کھانا بھی حرام ہے۔ اس کے بارے میں جدید اور قدیم اطباء کا اتفاق ہے کہ اس کا گوشت کھانے سے انسان کے جسم میں نہ صرف مہلک بیماریاں پیدا ہوتی ہیں بلکہ آدمی میں بےحیائی اور بےشرمی کے جذبات ابھرتے ہیں۔ کیونکہ خنزیر جانوروں میں سب سے زیادہ بےغیرت جانور ہے۔ کوئی بھی جانور اپنی جنم دینے والی مادہ کے ساتھ اختلاط کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا جب کہ خنزیر کی طبیعت میں اس کام میں کوئی جھجک نہیں پائی جاتی۔ (4) غیر اللہ کے نام پر ذبح کی یا پکائی ہوئی چیز اس لیے حرام کی گئی کہ اس سے روح، عزت اور ایمان کی موت واقع ہوتی ہے۔ ایک غیرت مند ایماندار سے یہ کس طرح توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ گردانے گئے شریک کے نام پر چڑھائی گئی چیز کھانے یا اسے استعمال کرنے پر آمادہ ہوجائے ؟ یہ نہ صرف غیرت ایمانی کے منافی ہے بلکہ فطرت بھی اس بات کو گوارا نہیں کرتی بشرطیکہ کسی کی فطرت مسخ نہ ہوچکی ہو۔ فطرت سلیم کا ثبوت اس فرمان کے نازل ہونے سے پہلے مکہ میں پایا گیا ہے۔ (عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ أَ نَّہٗ لَقِیَ زَیْدَ بْنَ عَمْرِ و بْنِ نُفَیْلٍ بِأَسْفَلَ بَلْدَحٍ وَذَاکَ قَبْلَ أَنْ یُّنْزَلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ الْوَحْیُ فَقُدِّمَتْ إِلَی النَّبِیِّ ﷺ سُفْرَۃٌ فَأَبٰی أَنْ یَّأْکُلَ مِنْھَا ثُمَّ قَالَ زَیْدٌ إِنِّیْ لَسْتُ آکُلُ مِمَّا تَذْبَحُوْنَ عََلٰی أَنْصَابِکُمْ وَلَا آکُلُ إِلَّا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الذبائح والصید ] ” وحی نازل ہونے سے پہلے بلدح کے نشیبی علاقے میں رسول کریم ﷺ کی ملاقات زید بن عمر وبن نفیل سے ہوئی۔ رسول معظم ﷺ کے سامنے ایک دستر خوان لایا گیا جس پر غیر اللہ کے نام کی کوئی چیز تھی۔ آپ نے کھانے سے انکار کردیا۔ اسکے ساتھ ہی جناب زید نے کہا کہ میں بھی ان ذبیحوں کا گوشت نہیں کھاتا جو تم اپنے آستانوں پر ذبح کرتے ہو اور نہ ان جیسی کوئی اور چیز کھاتا ہوں سوائے اس چیز کے جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ “ ابو قلابہ کہتے ہیں : (حَدَّثَنِیْ ثَابِتُ بْنُ الضَّحَاکِ ؓ قَالَ نذَرَ رَجُلٌ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ أَنْ یَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَۃَ فَأَتَیالنَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ إِنِّيْ نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَۃَ فَقَال النَّبِيُّ ﷺ ھَلْ کَانَ فِیْھَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاھِلِیَّۃِ یُعْبَدُ قَالُوْا لَا قَالَ ھَلْ کَانَ فِیْھَا عِیْدٌ مِنْ أَعْیَادِھِمْ قَالُوْا لَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ أَوْفِ بِنَذْرِکَ فَإِنَّہٗ لَاوَفَاءَ لِنَذْرٍ فِيْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ وَلَا فِیْمَا لَا یَمْلِکُ ابْنُ آدَمَ ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب الأیمان والنذور باب مایؤمربہ من وفاء النذر ] ” مجھے ثابت بن ضحاک ؓ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں ایک آدمی نے بوانہ نامی جگہ پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر عرض کی میں نے نذر مانی ہے کہ میں بوانہ نامی جگہ پر اونٹ ذبح کروں گا تو آپ ﷺ نے فرمایا : کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی ؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں۔ آپ نے پھر پوچھا : کیا وہاں کوئی ان کا میلہ لگتا تھا ؟ صحابہ نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا : اپنی نذر پوری کرو کیونکہ اللہ کی نافرمانی والی نذر پوری نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی وہ نذر پوری کرنا لازم ہے جس کی انسان طاقت نہیں رکھتا۔ “ اللہ تعالیٰ کا رحم وکرم تو دیکھیے کہ ان چار چیزوں سے سختی کے ساتھ منع کرنے کے باوجود ایسے شخص کے لیے ان کو کھانے کی اجازت دی ہے جسے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا شدید خطرہ لاحق ہوگیا ہو۔ لیکن اس کے ساتھ یہ شرط رکھی کہ نہ وہ پہلے سے ان چیزوں کے کھانے کا عادی ہو اور نہ ہی حرام خوری کی طرف اس کا دل مائل ہو۔ عمومًا یہ سمجھا جاتا ہے کہ جس جانور پر ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا کسی دوسرے کا نام لیا جائے، صرف وہی حرام ہوتا ہے۔ یہ تصور بالکل غلط ہے، کیونکہ قرآن کے الفاظ میں نہ جانور کا ذکر ہے نہ ذبح کا بلکہ ” ما “ کا لفظ ہے جس میں عمومیت پائی جاتی ہے۔ لہٰذا اس کا معنی یہ ہوگا کہ جو چیز کسی بزرگ ‘ دیوی، دیوتا کا تقرب حاصل کرنے اور اس کے نام پر مشہور کردی جائے جیسے امام جعفر کے کو نڈے، بی بی کی صحنک، مزار کے لیے بکرا وغیرہ یہ سب چیزیں حرام ہیں۔ بعض علماء لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے کہتے ہیں دودھ، چاول حلال ہیں اگر کوئی چیز کسی کے نام پر پکائی جائے یہ حرام کس طرح ہوگئی بیشک وہ چیزجو فی نفسہٖ حلال ہو اور اس پر ذبح کے وقت اللہ کا نام ہی کیوں نہ لیا جائے وہ حرام ہی رہے گی۔ کیونکہ غیر اللہ کے نام کی نیت رکھنے سے ہی وہ چیز حرام ہوجائے گی۔ اس لیے کہ اللہ کی عطا کردہ چیزوں کی قربانی یا نذر ونیاز صرف اسی کے نام کی ہونا چاہیے اس میں کسی کو شریک نہ بنایا جائے۔ ہاں اگر کوئی شخص صدقہ و خیرات یا قربانی کرتا ہے اور اس سے اس کی نیت یہ ہو کہ اس کا ثواب میرے فوت شدہ والدین یا فلاں رشتہ دار یا فلاں بزرگ کو پہنچے تو اس میں کوئی حرج نہیں، یہ نیک عمل ہے اور سنت سے ثابت ہے۔ مسائل 1۔ مردار کھانا، خون پینا، خنزیر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام کی چیز کھانا ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔ 2۔ بھوک کی حالت میں مرنے کے خوف سے یہ چیزیں معمولی مقدار میں کھانے پر کوئی گناہ نہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ مجبوری کے عالم میں حرام کھانے والوں کو معاف کرنے والا ‘ مہربان ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء : 1۔ مردار ‘ خون ‘ خنزیر کا گوشت ‘ غیر اللہ کے نام پر مشہور کی ہوئی چیز ‘ گلا گھٹنے سے مرا ہوا جانور کسی چوٹ سے مرا ہوا ‘ اونچی جگہ سے گر کر مرا ہوا ‘ سینگ لگنے سے مرا ہوا ‘ جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو اور جو آستانوں پر ذبح کیا جائے حرام ہیں۔ (المائدۃ : 3) 2۔ جس کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو وہ بھی حرام ہے۔ (الانعام : 121)
Ayahs 2:174–176

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ۙ اُولٰٓئِكَ مَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١ۖۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:174 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نازل کردہ احکام چھپاتے ہیں اور اسے تھوڑی قیمت پر بیچتے ہیں یہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے بات بھی نہیں کرے گا ‘ نہ ہی انہیں پاک کرے گا ‘ اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ١ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ Open ayah 2:175 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمر اہی کو ہدایت کے بدلے اور عذاب کو مغفرت کے بدلے خرید لیا ہے ‘ ان کا کتنا حوصلہ ہے کہ جہنم کا عذاب برداشت کرنے پر تیار ہیں

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 2:176 in the Quran reader

یہ عذاب اس لیے ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے سچی کتاب حق کے ساتھ نازل فرمائی ‘ بلاشبہ جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا وہ دور کے جھگڑے میں ہیں

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب نے حرام و حلال کی فہرست میں تبدیلی کرنے کے ساتھ بیشمار حقائق کو پیٹ کے دھندے کی خاطر چھپالیا تھا جس پر انہیں جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔ اہل ایمان کو ان سے بچنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ اہل کتاب کے علماء نے صرف رسول معظم ﷺ کے اوصاف حمیدہ ہی نہیں چھپائے بلکہ اپنی شکم پروری اور بڑے لوگوں کی عیاشی اور مفادات کی خاطر اللہ تعالیٰ کے احکام بھی چھپانے کے جرم میں ملوّث ہوئے۔ جن میں حلال و حرام کی وضاحت کی گئی تھی۔ اس طرح بےشمارامور کو اپنے لیے جائز اور حرام کردہ چیزوں کو حلال کرنے کی جسارت کے مرتکب ہوئے۔ انہوں نے شکم پروری، سیاسی مفاد، مذہبی مقام اور آخرت کی عظیم اور لامحدود نعمتوں کے بدلے دنیا کی معمولی اور عارضی چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے فتویٰ فروشی کی۔ ایسے انواع و اقسام کے نوالے کھانے والے ضمیر اور ایمان فروشوں کے ساتھ قیامت کے دن رب کبریا کلام نہیں کرے گا اور نہ ہی انہیں معاف کیا جائے گا ‘ انہیں اذیت ناک اور ذلت آمیز عذاب ہوگا کیونکہ یہ لوگ جانتے بوجھتے ہدایت کے بدلے گمراہی اور اللہ کی شفقت و مغفرت کے عوض اس کے قہرو غضب اور ہمیشہ کی زندگی کے مقابلے میں قلیل اور حقیر دنیا کا انتخاب کرنے والے ہیں۔ مزید انتباہ فرمایا کہ آج تو یہ دین کے بدلے درہم و دینار کی شکل میں جہنم کے انگارے جمع کر اور نگل رہے ہیں لیکن قیامت کے دن جب یہ مال حقیقتاً آگ کے شعلے بن چکا ہوگا تب یہ اسے کس طرح برداشت اور اس پر صبر کرسکیں گے ؟۔ ذرا غور کیجیے ! کہ جو رحیم وکریم مالک دنیا میں ندامت کے ایک آنسو سے ریت کے ذرّات کے برابر گناہوں کو معاف کردیتا ہے ‘ جو توبہ کی غرض سے اٹھنے والے ہاتھوں کی لاج رکھتے ہوئے پہاڑوں سے بڑی بلاؤں کو ٹال دیتا ہے۔ جو اپنے حضور افسردہ چہروں اور کانپتے ہوئے ہونٹوں کی اس حد تک قدر کرتا ہے کہ جو نہی گناہ گار بندوں سے رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا سنتا تو اس کی رحمتوں، بخششوں اور مہربانیوں کے سمندر میں تلاطم پید اہو جایا کرتا۔ لیکن آج حق چھپانے کے جرم کی پاداش میں رب ذوالجلال اس حد تک غضب ناک ہوچکے ہیں کہ نظر کرم سے دیکھنے، شفقت سے التفات کرنے اور ایسے لوگوں کو گناہوں سے پاک کرنے کے بجائے سخت ترین عذاب میں مبتلا کیے جارہا ہے۔ درحقیقت یہ لوگ اختلاف وعصبیت اور مفاد پرستی و خود غرضی میں اس قدر آگے بڑھ چکے ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ حق میں سچائی نظر ہی نہیں آتی۔ یہ اختلاف اور تعصب بالآخر انہیں جہنم میں لے جائے گا۔ یہ ہے پڑھے لکھے بالخصوص ایسے مذہبی پیشواؤں کی سزا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حق کو چھپایا اور بات بات میں شریعت کا مفہوم بگاڑا اور اس میں اختلافات پیدا کیے۔ مسائل 1۔ حق بات چھپانے کے بدلے میں دنیا کمانے والے اپنے پیٹوں میں آگ ڈالتے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو درد ناک عذاب سے نجات نہیں دیں گے۔ 3۔ ہدایت کے بدلے گمراہی اور بخشش کے مقابلے میں عذاب کو ترجیح دینے والوں کے لیے جہنم کی آگ ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کی آیات میں اختلاف کرنے والا پرلے درجے کا ضدی ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن دنیا کی حیثیت : 1۔ اللہ کی آیات کے مقابلے میں پوری دنیا قلیل ہے۔ (البقرۃ : 174) 2۔ دنیا کا فائدہ قلیل ہے۔ (النساء : 77) 3۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا قلیل ہے۔ (التوبۃ : 38) 4۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مدت کم اور قلیل ہے۔ (الاسراء : 52)
Ayah 2:177

لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ١ۚ وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ۙ وَ السَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ١ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ١ۚ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا١ۚ وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 2:177 in the Quran reader

صرف نیکی مشرق و مغرب کی طرف منہ کرنے ہی میں نہیں۔ حقیقتاً نیکی یہ ہے جو اللہ تعالیٰ ، قیامت کے دن، فرشتوں، کتاب اللہ اور نبیوں پر ایمان رکھنے والے۔ جو لوگ مال کے محبوب ہونے کے باوجود رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والوں کو دیں۔ غلاموں کو آزاد کریں نماز کی پابندی اور زکوٰۃ کی ادائیگی کریں، اپنے وعدے پورے کریں۔ تنگدستی اور لڑائی کے وقت صبر کریں۔ یہی لوگ سچے اور یہی پرہیزگار ہیں

فہم القرآن ربط کلام : پہلی آیت میں حق چھپانے اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے بدلے دنیا کمانے کی سزا بیان کرتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ بیت اللہ کو قبلہ نہ ماننا، رسالت مآب کی نبوت ‘ ایک خدا کا انکار کرنا اور مسائل کو چھپانے کا بنیادی سبب باہمی اختلاف کا نتیجہ ہے۔ یہ رویہ اور سوچ سراسر نیکی کے خلاف ہے۔ حقیقی نیکی کے اعمال یہ ہیں۔ یہودونصارٰی وقفے وقفے کے بعد قبلہ کی بحث چھیڑتے تاکہ مسلمانوں کو رسمی اور لفظی بحث میں الجھایا جائے۔ حالانکہ تحویل قبلہ کے ابتدائی احکامات میں واضح کردیا گیا تھا کہ اس پر اعتراض کرنا اور اس بحث میں الجھنا بیوقوفوں کا کام ہے۔ کیونکہ مشرق و مغرب اللہ ہی کی ملکیت ہیں اور اسے اختیار ہے کہ وہ جس طرف چاہے تمہیں رخ کرنے کا حکم صادر فرمائے۔ اب اس بحث کو سمیٹتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ نیکی کی روح اور حقیقت صرف یہ نہیں کہ آدمی اپنا منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرلے۔ یہ تو نیکی کی روح تک پہنچنے کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے جو طریقہ اور راستہ تمہارے لیے منتخب کیا ہے اسے اختیار کرو اور یاد رکھو کبھی راستے اور طریقے منزل نہیں ہوا کرتے۔ اصل نیکی تو یہ ہے کہ ان راستوں اور طریقوں کو اختیار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا تلاش کی جائے۔ الفاظ کے گورکھ دھندوں میں الجھنے اور ظاہری طریقوں پر اکتفا کرلینے سے مقصود حاصل نہیں ہوا کرتا۔ اسی فلسفہ کو رسول کریم ﷺ نے اس طرح بیان فرمایا کہ ایک وقت آئے گا اسلام کے ظاہری ارکان باقی رہ جائیں گے۔ (عَنْ عَلِیٍّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَأْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌلَایَبْقٰی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّاإِسْمُہٗ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْاٰنِ إِلَّا رَسْمُہٗ مَسَاجِدُھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِنَ الْھُدٰی عُلَمَاءُ ھُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ أَدِیْمِ السَّمَآءِ مِنْ عِنْدِ ھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ ) [ سنن البہیقی، شعب الایمان باب یوشک ان یاتی علی الناس زمان ] ” حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : لوگوں پر ایک دور آئے گا کہ اسلام کا صرف نام رہ جائے گا ‘ قرآن کی تلاوت رسم کے طور پر کی جائے گی ‘ ان کی مساجد تو آباد ہوں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی ‘ ان کے علماء آسمان کی چھت تلے شریر ترین لوگ ہوں گے ‘ انہی سے فتنہ ظہور پذیر ہوگا اور انہی کی طرف لوٹ جائے گا۔ “ اس آیت میں وضاحت کی جارہی ہے کہ مشرق ومغرب کی طرف منہ کرنا ہی نیکی نہیں بلکہ نیکی کی روح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے فرمان پر ایمان لا کر اس کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ اس عقیدے کے ساتھ کہ آخرت میں ان کے بارے میں جواب طلبی ہونے والی ہے اور بالآخر یہ دِن برپا ہو کر رہے گا۔ ملائکہ پر اس طرح ایمان لایا جائے کہ وہ خدائی نظام حکومت کے تابع فرمان، اہلکار، ہمارے نگران اور صبح وشام ہماری زندگی کے ایک ایک لمحے کی رپورٹ لکھ کر اللہ کے حضور پیش کر رہے ہیں۔ انبیاء کی ذات اور خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان پر ایمان لایا جائے، مال کی محبت کے باوجود اسے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سوالیوں اور غلاموں کی آزادی پر خرچ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی نماز کا اہتمام اور زکوٰۃ کی ادائیگی کی جائے۔ چاہے تم امن اور خوشحالی میں ہو یا بدحالی اور حالت جنگ میں گویا کہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر صبرو استقامت کا مظاہرہ کرنے والے ہی قول کے سچے سمجھے جائیں گے۔ یہی لوگ در حقیقت نیکو کار اور پرہیزگار ہیں۔ اس فرمان میں کتاب مبین کی ابتدا سے لے کر اب تک جو احکامات بیان ہوئے ہیں اعتقادات، عبادات اور معاملات کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔ ان احکامات کی تفصیل اپنے اپنے مقام پر بیان ہوگی یہاں قرآن کے اتّباع میں اجمال پر ہی اکتفا کرنا چاہیے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ، آخرت، ملائکہ، آسمانی کتابوں اور انبیاء پر ایمان لانا، اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ مقامات پر خرچ کرنا، نماز کی پابندی، زکوٰۃ کی ادائیگی، عہد کی پاسداری، جہاد اور مخدوش حالات میں صبر کرنے والے سچے، نیک اور متقی لوگ ہیں۔