Ayahs 2:189–190فہم القرآن
ربط کلام : روزے کا چاند سے تعلق ہے لہٰذا ضمناً چاند کے بارے میں ایک سوال کا جواب عنایت فرما دیا گیا ہے۔
کارخانۂ کائنات میں چاند مظاہر فطرت وقدرت میں سے ایک ہے جس کا انسانی زندگی اور ذہن پر خاص اثر پڑتا ہے۔ چاند کا جمال و کمال انسان کے لیے ہمیشہ سے دلربا رہا ہے۔ ماں کی مامتا بےساختگی کے عالم میں اپنے لخت جگر کو چاند کہہ کر پکارتی ہے ‘ شاعروں نے اسے اپنے کلام کا موضوع بنایا اور غلط ذہن لوگ اپنے محبوب کو چاند سے تشبیہ دیتے آئے ہیں چاند کی حسن صورت کو دیکھ کر انسان اس کے سامنے سرنگوں ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قبیلہ اور قوم چاند کو اپنا معبود تصور کرنے لگی۔ اسی لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی تبلیغ کے دوران چاند، سورج اور ستارہ پرستوں کو خطاب کرتے ہوئے سمجھایا تھا کہ غائب اور غروب ہونے والے کبھی مشکل کشا اور خدا نہیں ہوسکتے ” الانعام : 77 اور حٰم السجدۃ : آیت 37“ میں فرمایا گیا کہ کائنات کی بڑی سے بڑی اور خوب تر سے خوب صورت ترین چیز بھی سجدہ کے لائق نہیں ہوسکتی۔ یہ تو تمہارے خدمت گار اور تابع دار کردیے گئے ہیں۔ قرآن مجید نے اپنے مخصوص اسلوب بیان کے پیش نظر چاند کے گھٹنے اور بڑھنے کے عوامل کا ذکر نہیں کیا بلکہ سوال کا رخ موڑتے ہوئے یہ بتلایا ہے کہ چاند کا گھٹنا اور بڑھنا ‘ اس کا طلوع اور غروب ہونا تمہارے لیے کھلے کیلنڈر کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس سے تم اپنی زندگی کے ادوار، عبادت کے اوقات اور حج کے ایّام معلوم کرسکتے ہو۔ مسلمانوں کے لیے حج، روزہ، عید اور دیگر عبادات کا شمار شمسی حساب کے بجائے قمری حساب پر رکھا گیا ہے۔ قمری مہینے کی تاریخ طلوع چاند کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے قمری مہینہ انتیس یا تیس دن کا قرار پاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں شمسی مہینوں میں فرق زیادہ ہے۔ حتی کہ کچھ سالوں کے بعد ایک سال کو لیپ کا سال قرار دینا پڑتا ہے۔ شمسی حساب کا آغاز دن کی ابتداء کے بجائے رات 12 بجے شروع کیا جاتا ہے جو بذات خود عجیب محسوس ہوتا ہے۔ لیکن افسوس ! ملت کو اس کا احساس بھی جاتا رہا اور آج مسلمانوں کی غالب اکثریت کو قمری مہینوں کے نام تک یاد نہیں۔ چاند کے فوائد کا ذکر کرنے کے ساتھ ہی عربوں کی خود ساختہ رسم کی نفی کی گئی ہے کہ ضرورت کے وقت حج کے دوران اپنے گھروں میں آنا پڑے تو ان کے پچھواڑے سے دیواریں پھلانگ کر آنے کے بجائے دروازوں کے راستے آیا جایا کرو۔ کیونکہ تمہارا رب تمہاری خود ساختہ عبادات اور رسومات پر راضی نہیں ہوتا ‘ نہ ہی دین کی بنیاد رسومات اور توہّمات پر رکھی گئی ہے۔ اس کی بنیاد تو حقیقی خوفِ الٰہی پر رکھی گئی ہے۔ یہی کامیابی کا زینہ اور وسیلہ ہے۔ لہٰذا تم ہر حال میں اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے احکام کا خوف واحترام قائم رکھو، تاکہ تم دنیا وآخرت میں کامیاب ہوجاؤ۔
چاند کے بارے میں جدید تحقیق
بُعد قمر : (1) زمین سے چاند کا بعد اوسط 240000 میل ہے، قطر 2160 میل ‘ اس کا حجم زمین کے حجم کا 49/1 حصہ ہے اور وزن زمین کے وزن کا 81/1 حصہ ‘ اس کی سطحی کشش زمین کی سطحی کشش کا تقریبًا 6/1 حصہ ہے۔ لہٰذا جس چیز کا وزن سطح زمین پر 6 پونڈ ہے سطح قمر پر اس کا وزن ایک پونڈ ہوگا۔
(2) چاند زمین کے ارد گرد 27 دن 7 گھنٹے 34 منٹ میں دورہ پورا کرتا ہے۔
(3) البتہ زمین کی سالانہ حرکت کے سبب ایک نئے چاند سے دوسرے نئے چاند تک ساڑھے انتیس دن لگتے ہیں۔ ٹھیک ٹھیک حساب کریں تو یہ مدت 29 دن 12 گھنٹے 14 منٹ اور 2.8 سیکنڈ میں ختم ہوتی ہے۔ اس مدت کو ایک قمری مہینہ کہتے ہیں۔
مظاہر قمر : (1) چاند روشن کرہ نہیں بلکہ اس کی روشنی سورج کی روشنی کے انعکاس کا نتیجہ ہے۔ اس کا نصف حصہ سورج کے سامنے ہونے کی وجہ سے ہمیشہ منوّر ہوتا ہے لیکن ہمیں اس کے مختلف مظاہر نظر آتے ہیں۔
(2) 28، 29 تاریخ کو روشن حصہ آفتاب کی طرف اور تاریک پہلو زمین کی جانب ہوتا ہے اور وہ بالکل نظر سے غائب ہوجاتا ہے۔ اس حالت کو محاق کہتے ہیں۔ حالت محاق میں شمس وقمر ایک سمت میں ہوتے ہیں۔
(3) پھر چاند آہستہ آہستہ سورج سے مشرق کی جانب ہوتا جاتا ہے۔ یکم کو اس کے چمکتے ہوئے چہرے کا صرف ایک باریک کنارہ ہمیں نظر آتا ہے۔ یہ ہلال کہلاتا ہے۔ (ماخوذ از فلکیات جدیدہ)
مسائل
1۔ چاند کے ذریعے لوگوں کو حج اور دوسرے معاملات طے کرنے کے لیے اوقات معلوم ہوتے ہیں۔
2۔ ہر دم اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔
3۔ گناہوں سے بچنے اور تقو ٰی اختیار کرنے والے ہی کامیاب ہوں گے۔
4۔ رسومات سے بچنا کامیابی کی ضمانت ہے۔
Ayahs 2:191–193فہم القرآن
ربط کلام : حرمت کے مہینوں کا تعلق بھی چاند سے ہے۔ اس لیے حرمت کے مہینوں کے بیان میں ان سے متعلقہ مسائل کا بیان ضروری سمجھا گیا۔
رسول محترم ﷺ اور مسلمانوں کو کفار کے ظلم وستم سہتے ہوئے اٹھارہ سال گزر چکے تھے۔ اس دوران مسلمانوں پر یکے بعد دیگرے بدر، احد اور خندق کی جنگیں بھی مسلط کی گئیں۔ لیکن آپ اور مسلمانوں نے ہمت نہیں ہاری۔ نبوت کے اٹھارہویں سال ایک غیبی اشارے کی بنیاد پر عمرہ کی نیت سے آپ عازم مکہ ہوئے۔ لیکن اہل مکہ نے قومی اخلاق اور حرم کی دینی اقدار کی پرواہ کیے بغیر رسول اللہ ﷺ کو عمرہ کرنے سے روک دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ عمرہ کی نیت سے مکہ کی طرف چلے تھے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس میں اہل مکہ کے لیے یہ پیغام تھا کہ مسلمان اخلاقی اور عسکری لحاظ سے اس قابل ہوچکے ہیں کہ وہ جب چاہیں مرکز ملت بیت اللہ کو کفار سے واگزار کرواسکتے ہیں۔ اہل مکہ نے اس حقیقت کو محسوس کرتے ہوئے اس شرط پر خصوصی طور پر اصرار کیا کہ اس سال تو بہر حال تمہیں واپس ہی جانا پڑے گا۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ حرم کی تولیّت ہمارا قومی اور دینی حق ہے اگر ہم نے اس حال میں مسلمانوں کو مکہ میں داخلہ کی اجازت دے دی تو ہمارے قومی اور ملی وقار کو شدید دھچکا لگے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے تصادم سے بچنے کے لیے اپنا ارادہ ملتوی فرمایا اور اگلے سال آنے کی شرط قبول فرمائی۔ جب اگلے سال مسلمان مکہ جانے لگے تو ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہونا فطری امر تھا کہ اگر اس سال بھی ہم روک دیے گئے تو کیا ہوگا ؟ اس کے جواب میں جہاد کا حکم دیتے ہوئے بارہ ہدایات جاری فرمائی گئی ہیں :
1۔ لڑائی کرنے والوں سے جنگ کرو۔ 2۔ زیادتی نہ کرو۔ 3۔ زیادتی کرنے والوں کو جہاں پاؤ قتل کردو۔
4۔ جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا وہاں سے انہیں بھی نکال دو ۔ 5۔ فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے۔
6۔ مسجد حرام کے نزدیک جب تک وہ نہ لڑیں تم بھی نہ لڑو۔
7۔ اگر وہ تم سے مسجد حرام میں قتال کریں تو تم بھی مسجد حرام میں قتال کرو۔
8۔ اگر باز آجائیں تو اللہ معاف کرنے والا ہے۔
9۔ فتنہ ختم ہونے تک قتال کرو۔ 10۔ حرمت والے مہینے حرمت والے مہینوں کے بدلے میں ہیں۔
11۔ حرمت میں قصاص ہے۔ 12۔ جتنی وہ زیادتی کریں تم بھی اتنی ہی کرو۔
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃ َ أَنَّ خُزَاعَۃَ قَتَلُوا رَجُلاً مِنْ بَنِی لَیْثٍ عَامَ فَتْحِ مَکَّۃَ بِقَتِیلٍ مِنْہُمْ قَتَلُوہُ ، فَأُخْبِرَ بِذَلِکَ النَّبِیُّ ﷺ فَرَکِبَ رَاحِلَتَہُ ، فَخَطَبَ فَقَالَ إِنَّ اللَّہَ حَبَسَ عَنْ مَکَّۃَ الْقَتْلَ أَوِ الْفِیلَ شَکَّ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَسَلَّطَ عَلَیْہِمْ رَسُول اللَّہِ وَالْمُؤْمِنِینَ ، أَلاَ وَإِنَّہَا لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِی، وَلاَ تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِی أَلاَ وَإِنَّہَا حَلَّتْ لِی سَاعَۃً مِنْ نَہَارَ.........) ٍ [ رواہ البخاری : باب کِتَابَۃِ الْعِلْمِ ]
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں بیشک خزاعہ قبیلے کے لوگوں نے فتح مکہ والے سال بنی لیث کا ایک آدمی قتل کردیا۔ اس واقعہ کی اطلاع نبی کریم ﷺ کو دی گئی آپ ﷺ سواری پر سوار ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا یقینا اللہ نے مکہ میں قتل و غارت کو ممنوع قرار دیا ہے۔ یا آپ نے فیل کے لفظ استعمال فرمائے راوی کو شک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کفار پر اپنے رسول اور مومنوں کو مسلط فرمایا خبردار میرے سے پہلے بھی کسی کے لیے مکہ کی حرمت کو پامال کرنا جائز تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے جائز ہوگا۔ اور میرے لیے کچھ وقت کے لیے اس میں لڑائی کو حلال قرار دیا گیا تھا۔ “
مسائل
1۔ مسلمانوں کے خلاف لڑنے والوں کے ساتھ جہاد کرنا چاہیے۔
2۔ کسی پر زیادتی کرنا جائز نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
3۔ کفار حدود حرم میں مسلمانوں پر حملہ آور ہوں تو حرم میں ان کے ساتھ لڑنا جائز ہے۔
4۔ مسلمانوں کے ساتھ لڑنے والے کفار کی سزا یہ ہے کہ انہیں قتل کردیا جائے۔
5۔ اگر کافر لڑنے سے اجتناب کریں تو مسلمانوں کو بھی اجتناب کرنا چاہیے۔
6۔ اللہ تعالیٰ ہر حال میں معاف کرنے والا ‘ مہربان ہے۔ 7۔ غلبہ دین ہونے تک کفار کے ساتھ لڑنا چاہیے۔
Ayahs 2:194–195فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ
ان بارہ ہدایات میں سے ایک یہ ہے کہ اگر کفار حرمتوں کی آڑ میں تم پر حملہ آور ہونے کی کوشش کریں تو تم بھی کسی حرمت کی پروا کیے بغیر ان کے خلاف برسر پیکار ہوجاؤ۔ کفار کے مقابلے میں حرمت کے بدلے ہی عزت و حرمت کا خیال رکھاجاسکتا ہے کیونکہ اللہ کے بندوں کو اس کی بندگی سے روکنا، کفر کو دین حق پر مسلط کرنا، کمزوروں پر ظلم ڈھانا اور مشرکوں کا بیت اللہ پر قبضہ جمانے سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں ہوسکتا اگر کفار مزاحم ہونے اور لوگوں پر ظلم کرنے سے باز آجائیں تو انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کفار نے اٹھارہ سال تمہارے اوپر ظلم کیے ہیں لیکن یاد رکھنا کسی لمحہ بھی تمہیں زیادتی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے غفور رحیم صفت بیان فرما کر اشارہ دیا ہے کہ اگر تم معاف کردو تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اس حکم سے واضح ہوا کہ اسلام کسی صورت میں بھی کسی پر زیادتی کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ رسول کریم ﷺ غزوات میں ہدایات جاری فرماتے کہ کسی بوڑھے، بچے اور عورت یہاں تک کہ معبد خانوں میں عبادت کرنے والے اور اپنے گھروں کے کواڑ بند کرنے والوں پر زیادتی نہ کیجائے۔ آپ ﷺ نے معاہدات میں اس بات کا مکمل خیال اور غیر مسلموں کو پورا پورا تحفظ عنایت فرمایا۔ نجران کے عیسائیوں سے جو معاہدہ کیا اس سے اسلام کی امن و سلامتی اور لوگوں کے حقوق کی رعایت کھل کر واضح ہوجاتی ہے وہ معاہدہ یہ ہے :
” نجران اور اس کے رہنے والوں کی جانیں، ان کا مذہب، ان کی زمینیں، ان کا مال، ان کے حاضرو غائب، ان کی مورتیاں، ان کے قافلے اور قاصد، اللہ کی امان اور اس کے رسول ﷺ کی ضمانت میں ہوں گے، ان کی موجودہ حالت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی ان کے حقوق میں سے کسی حق میں مداخلت نہیں کی جائے گی، کوئی اسقف اپنی اسقفیت سے، کوئی راہب اپنی رہبانیت سے، کنیسہ کا کوئی منتظم اپنے عہدہ سے ہٹایانہ جائے گا، اور جو کچھ بھی ان کے قبضے میں ہے اسی طرح رہے گا ان کے زمانۂ جاہلیت کے کسی جرم یا خون کا بدلہ نہ لیا جائے گا، نہ ان سے فوجی خدمت لی جائے گی اور نہ ان پر عشر لگایا جائے گا اور نہ اسلامی فوج ان کے علا قے کو پامال کرے گی۔ ان میں سے جو شخص اپنے کسی حق کا مطالبہ کرے گا تو اس کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔ نہ ان کو ظلم کرنے دیا جائے گا اور نہ ان پر ظلم ہوگا۔ ان میں سے جو شخص سود کھائے گا وہ میری ضمانت سے بری ہے۔ اس صحیفہ میں جو لکھا گیا ہے اس کے ایفا کے بارے میں اللہ کی امان اور محمد ﷺ کی ذمہ داری ہے یہاں تک کہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا کوئی دوسرا حکم نازل نہ ہو۔ جب تک یہ لوگ مسلمانوں کے خیر خواہ رہیں گے ان کے ساتھ کئے ہوئے معاہدہ کی پابندی کریں گے ان کو جبرًاکسی بات پر مجبور نہ کیا جائیگا۔ “ ان ہدایات کا مسلمانوں نے ہر دور اور ہر حال میں خیال رکھا۔
اسلام میں جہاد کا تصوّر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی زمین پر اس کے باغیوں کے بجائے صرف اس کے تابع فرماں بندوں کا قبضہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ کوئی بھی حکومت ملک، قوم اور ملی نظریے سے بغاوت کرنے والوں کو گوارا نہیں کرسکتی۔ لہٰذا جہاد ذاتی اغراض اور کشور کشائی کے لیے نہیں بلکہ صرف اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے ہوتا ہے۔ یہاں آخری حکم میں فرمایا جارہا ہے کہ جہاد فرض ہونے کی صورت میں اپنے آپ کو بچانا اور مال محفوظ رکھنا خودکشی کے مترادف ہوگا۔ کیونکہ جب دشمن سر پر چڑھ آئے تو نہ مال و منال بچا کرتا ہے اور نہ عزّت وجان سلامت رہتی ہے۔ نازک حالات میں ہر چیز قربان کرنے کے جذبے سے ہی قومیں اپنا وقار اور وجود قائم رکھ سکتی ہیں۔
غزوات نبوی ﷺ اور پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے درمیان نقصان کا تقابل
نبی ﷺ کے دور میں کل مسلمان شہداء 387 اور مخالف 732 تھے۔ ( رحمۃ للعلمین از قاضی سلیمان منصورپوری) لیکن افسوس غیر مسلموں کی تاریخ میں ان قدروں کا کبھی بھی خیال نہیں رکھا گیا۔ مہذب دنیا کے راہنماؤں نے اپنے ہم مذہب اور دوسرے ممالک کا پہلی جنگ عظیم 1914 تا 1919 میں اور دوسری جنگ عظیم 1939 تا 1945 میں جو قیامت برپا کی اس کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیں۔
پہلی جنگ عظیم میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کی تفصیل اس طرح ہے۔ جرمنی کے سب سے زیادہ 18 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد سوویت یونین کے 17 لاکھ، فرانس کے 13 لاکھ 85 ہزار، آسٹریلیا کے 12 لاکھ اور برطانیہ کے 9 لاکھ 47 ہزار افراد مارے گئے۔ جاپان کے 8 لاکھ، رومانیہ کے 7 لاکھ 50 ہزار، سربیان کے 7 لاکھ 8 ہزار، اٹلی کے 4 لاکھ 80 ہزار، ترکی 3 لاکھ 25 ہزار، بیلجئیم کے 2 لاکھ 27 ہزار، یونان کے 2 لاکھ 30 ہزار، امریکہ کے 1 لاکھ 37 ہزار، پرتگال کے 1 لاکھ، کینیڈا کے 69 ہزار، بلغاریہ کے 88 ہزار اور مونٹے نیگرو کے 50 ہزار مارے گئے۔ دوسری جنگ عظیم میں سپر پاور بننے کے لیے سوویت یونین کو سب سے بھاری جانی ومالی قیمت چکانا پڑی۔ اس کے 3 کروڑ 55 لاکھ 68 ہزارفوجی اور سویلین ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد چین کا نمبر آتا ہے جس کے 1 کروڑ 13 لاکھ 24 ہزار مارے گئے، پولینڈ کے 68 لاکھ 50 ہزار، جاپان کے 18 لاکھ 6 ہزار، یوگو سلاویہ کے 17 لاکھ، رومانیہ کے 9 لاکھ 85 ہزار، فرانس 8 لاکھ 10 ہزار، یونان 5 لاکھ 20 ہزار، امریکہ 4 لاکھ 95 ہزار، آسٹریا 4 لاکھ 80 ہزار، اٹلی 4 لاکھ 10 ہزار، برطانیہ 3 لاکھ 88 ہزار، ہالینڈ 2 لاکھ 50 ہزار اور بیلجئیم کے 85 ہزار مارے گئے۔ اس کے علاوہ فن لینڈ کے 79 ہزار، کینیڈا 42 ہزار، ہندوستان 36 ہزار، آسٹریلیا 29 ہزار، البانیہ 28 ہزار، سپین 22 ہزار، بلغاریہ 21 ہزار، نیوزی لینڈ 12 ہزار، ناروے 10 ہزار، جنوبی افریقہ 9 ہزار، لکسمبرگ 5 ہزار اور ڈنمارک کے 4 ہزار مارے گئے جب کہ حالیہ عراق اور افغانستان جنگ میں مرنے والوں کی تعداد 65 ہزار سے اوپر پہنچ چکی ہے۔
ان جنگوں پر اخراجات بھی کم نہیں ہوئے۔ 1990 میں ڈالر کی قیمت کے مطابق پہلی عالمی جنگ میں 196 ارب 50 کروڑ ڈالر خرچ ہوئے جبکہ دوسری عالمگیر جنگ میں 2091 ارب 30 کروڑ ڈالر خرچ ہوئے تھے۔ تیسری جاری عالمی جنگ میں اب تک 1 کھرب 79 ارب 19 کروڑ 51 لاکھ 11 ہزار ڈالر خرچ ہوچکے ہیں اور ابھی یہ سلسلہ جاری ہے۔
حال ہی (2004) میں امریکہ جو دنیا میں تہذیب و تمدن کا علمبردار بنا ہوا ہے۔ اس نے عراق کے تاریخی مقامات اور تمام شہروں بالخصوص نجف، بغداد اور فلوجہ میں جس طرح مساجد و مدارس اور خواتین کی بےحرمتی کی اور قبرستانوں پر بلڈوزر چلائے ان مظالم کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ یہاں تک کہ ابو غریب جیل میں قیدیوں کو پاخانہ کھانے اور اپنا پیشاب پینے پر مجبور کیا گیا جس پر امریکہ کے حلیف اور دیگر ممالک میں اس کے خلاف کہرام برپا ہوا جس کے رد عمل میں امریکہ کے صدر بش کو دنیا کے سامنے معافی مانگنی پڑی پھر بھی ان کے رویّے میں کوئی تبدیلی رونما نہ ہوسکی۔
مسائل
1۔ حرمت والے مہینوں اور حرمات میں قصاص ہے۔
2۔ زیادتی کے بدلے میں اتنی ہی زیادتی کرنا جائز ہے۔
3۔ ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔
4۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرنا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔
5۔ ہر حال میں نیکی کرنا چاہیے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
Ayah 2:196فہم القرآن
ربط کلام : چاند کے ساتھ روزے اور حج کا خصوصی تعلق ہے۔ لہٰذا حج کے مسائل کی تفصیل اور ان کے درمیان دور جہالت کی بدعات اور رسومات کا بیان ہوگا۔
حج عبادات کا مرقع ہے۔ اسلام کے پانچویں رکن کی ادائیگی مقررہ ایّام میں متعیّن اور مقدّس مقامات پر ادا ہوتی ہے۔ یہ مسلمانوں کی اجتماعی تربیت، عبادت اور ملت کے معاملات کا ہمہ گیر جائزہ لینے کا وسیع و عریض پلیٹ فارم ہے۔ شریعت نے امت مسلمہ کو اپنے اور دنیا بھر کے تعلقات و معاملات کا جائزہ لینے کے لیے سالانہ بین الاقوامی سٹیج مہیا کیا ہے تاکہ مسلمان حقوق اللہ اور حقوق العباد کے معاملہ میں اپنی کمی وبیشی کا احساس کرتے ہوئے توبہ و استغفار اور حالات کی درستگی کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔ جہاں اپنے کردار و گفتار کا جائزہ لینا ہے وہاں ملّتِ کفر کے حالات و واقعات اور ان کے فکرو عمل پر کڑی نظر رکھنا نہایت ضروری ہے۔ یہ احتساب و عمل کی ایسی تربیت گاہ ہے جس سے مسلمانوں کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ یہی وہ سوچ و حکمت تھی کہ جس کے لیے سّیدنا عمر فاروق ؓ حج کے موقع پر مملکت کے گورنروں اور اعلیٰ حکام کا اجلاس منعقد کرتے اور ان علاقوں کے عمائدین سے وہاں کے حالات و واقعات اور حکام و رعایا کے طرز عمل کے بارے میں استفسار فرماتے ہوئے موقع پر ہدایات جاری کرتے تھے۔ (سیرت فاروق)
دین حنیف میں ہر کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرنے کا حکم ہوا ہے۔ پھر حج اور عمرہ کے لیے یہ خصوصی حکم کیوں دیا گیا کہ حج اور عمرہ اللہ ہی کے لیے ہونے چاہییں ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین نے نہ صرف حج کے تمام مناسک میں اپنے بتوں کو شریک کرلیا تھا بلکہ انہوں نے بیت اللہ ‘ صفا ومروہ اور عرفات میں بھی بت سجا رکھے تھے۔ جن کی حرمت و وسیلہ سے اللہ تعالیٰ سے مناجات کرتے۔ یہاں تک کہ وہ احرام باندھتے تو ان الفاظ میں تلبیہ کہتے۔
(لَبَّیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ اِلَّا شَرِیْکًاھُوَ لَکَ تَمْلِکُہٗ وَمَامَلَکَ ) [ رواہ مسلم : کتاب الحج، باب التلبیۃ ...]
” میں حاضر ہوں ! اللہ تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس شریک کے جس کو تو نے اپنا ساتھی بنا لیا ہے۔ تو اس کا بھی اور اس چیز کا بھی مالک ہے جس کا وہ مالک ہے۔ “
یہاں مشرکین کو نہایت لطیف پیرائے میں شرک سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ حج اور عمرہ میں کسی کو اللہ کا شریک بنانے کے بجائے صرف اور صرف اللہ کے لیے حج اور عمرہ کرو۔ یہاں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ حج محض ایک رسم اور نیکی کی شکل میں مال کی نمائش کا نام نہیں۔ یہ تو اللہ کے گھر میں اس عقیدے کے ساتھ حاضری دینا ہے کہ میں صرف تیرے ہی در کا فقیر ہوں۔ جس طرح آج میں اپنا گھر بار چھوڑ کر حاضر ہوں اسی طرح مرنے کے بعد تیری جناب میں مجھے پیش ہونا ہے۔ لہٰذا میں معافی کا خواست گار ہوں ‘ تیرے بغیر کوئی بھی میرے گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا۔ یہاں اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ حج اور عمرہ اکٹھے کرسکتے ہو جبکہ دور جہالت میں لوگ حج اور عمرہ اکٹھا کرنا ٹھیک نہیں سمجھتے تھے۔
اس آیت کی ابتدا میں حکم ہے کہ حج اور عمرہ کو پورا کرنا چاہیے۔ تاہم اگر کسی وجہ سے راستے میں رکاوٹ پیدا ہوجائے یا کوئی بیماری لاحق ہو تو عمرہ اور حج کرنے والے کو کیا کرنا چاہیے ؟ فرمایا کہ اگر راستے میں رکاوٹ پیش آجائے تو قربانیاں کسی دوسرے ذرائع کے ذریعے مکہ روانہ کردی جائیں۔ اس وقت تک سرنہ منڈوایا جائے جب تک قربانی مکہ پہنچ جانے کا یقین نہ ہو۔ البتہ اگر قربانی مکہ پہنچانے کا کوئی انتظام نہ ہو تو اسی مقام پر قربانی ذبح کرکے آدمی حلال ہوجائے گا۔ جیسا کہ آپ ﷺ اور صحابہ ؓ نے صلح حدیبیہ کے موقع پر کیا تھا۔ اگر کسی کو ایسی تکلیف لاحق ہو یاسر منڈوانا تکلیف کی وجہ سے ناگزیر ہو تو اسے تین روزے یاچھ مساکین کا کھانا یا پھر ایک جانور ذبح کرنا ہوگا۔ اگر حج اور عمرہ اکٹھا کرنے والا اگر قربانی نہیں پاتا تو اسے حج کے دوران تین روزے رکھنے چاہییں اور جب وطن واپس پہنچے تو سات روزے رکھے۔ گویا کہ قربانی نہ کرنے کی وجہ سے دس روزے رکھنے پڑیں گے۔ اسے حدیث میں حج قرآن کہا گیا ہے حج تمتع ان لوگوں کو کرنے کی اجازت ہے جو حرم کی حدود میں رہنے والے نہ ہوں۔ کیونکہ انہیں حج کے لیے دور سے آنا پڑتا ہے۔ حرم میں رہنے والوں کو اس کی اجازت نہیں۔ شاید اس کا فلسفہ یہ ہے کہ بیت اللہ کی رونق ہر حال میں روز افزوں رہے۔ تمتع سے مراد حج اور عمرہ اکٹھا کرنا ہے۔ آیت کے آخر میں یہ انتباہ کیا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈر کر حج اور عمرہ میں افراط وتفریط، خود ساختہ رسومات اور شرک کی آمیزش ترک کردو ورنہ یادرکھو کہ اللہ تعالیٰ سخت ترین گرفت کرنے والا ہے اور اس کی گرفت اور عذاب سے تمہیں بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔
مسائل
1۔ اللہ ہی کے لیے حج اور عمرہ کے مناسک پورے کرنے چاہییں۔
2۔ محصور ہوجانے کی صورت میں قربانیاں مکہ بھیج دی جائیں۔ 3۔ قربانی سے پہلے سر نہ منڈوایا جائے۔
4۔ تکلیف کے باعث سر منڈواناپڑے تو تین روزے یا چھ آدمیوں کو کھانا کھلانا یا جانور ذبح کرنا چاہیے۔
5۔ حج اور عمرہ اکٹھے کیے جاسکتے ہیں۔
6۔ حج تمتع میں قربانی نہ کرنے والا تین روزے حج کے دوران اور سات واپسی پر رکھے گا۔
7۔ حدود حرم کے اندر رہنے والوں کو حج تمتع کی اجازت نہیں ہے۔
8۔ ہر دم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے وہ سخت عذاب والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
بیت اللہ کا حج :
1۔ لوگوں میں حج کے لیے نداء کر دو کہ تمہاری طرف پیدل اور دبلے دبلے اونٹوں پر جو دور دراز رستوں سے چلے آتے ہوں (سوار ہو کر) چلے آئیں۔ (الحج : 27)
2۔ لوگوں پر خدا کا حق ہے کہ جو اس گھر تک جانے کا مقدور رکھے وہ اس کا حج کرے۔ (آل عمران : 97)
3۔ حج کے مہینے معلوم ہیں تو جو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرلے تو حج میں نہ عورتوں سے اختلاط کرے، نہ کوئی برا کام کرے، نہ کسی سے جھگڑے اور جو نیک کام تم کرو گے وہ خدا کو معلوم ہے اور زاد راہ ساتھ لے جاؤ کیونکہ بہتر زاد راہ پرہیزگاری ہے اور اے عقل والو ! مجھ سے ڈرتے رہو۔ (البقرہ : 197)
4۔ تمہارے لیے دریا کا شکار اور ان کا کھانا حلال کردیا گیا ہے یعنی تمہارے اور مسافروں کے فائدہ کے لیے اور جنگل کا شکار جب تک تم احرام کی حالت میں ہو تم پر حرام ہے اور اللہ سے جس کے پاس تم جمع کیے جاؤ گے، ڈرتے رہو۔ (المائدۃ : 96)
5۔ تاکہ اپنے فائدے کے کاموں کے لیے حاضر ہوں اور قربانی کے ایام میں چہار پایان مویشی، جو اللہ نے ان کو دیئے ہیں۔ ان پر اللہ کا نام لیں۔ اس میں تم بھی کھاؤ اور فقیر درماندہ کو بھی کھلاؤ پھر چاہیے کہ لوگ اپنا میل کچیل دور کریں اور نذریں پوری کریں اور بیت اللہ کا طوا فکریں۔ (الحج : 28، 29)
Ayah 2:197فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے حج کے مہینے ایک ہی چلے آرہے تھے۔ جنہیں ہر دور کے ہزاروں ‘ لاکھوں اور ان کی وساطت سے نسل درنسل کروڑوں لوگ جانتے ہیں۔ اتنی عظیم الشان اور مسلسل ہونے والی عبادت کے مہینے بتلانے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ البتہ حدیث میں ان کی وضاحت موجود ہے۔ یہ ایام یکم شوال، ذی القعدہ اور ذی الحجہ کی دس تاریخ تک ہیں۔
(قَالَ ابْنُ عُمَرَ ؓ أَشْھُرُ الْحَجِِّ شَوَّالٌ وَذُو الْقَعْدَۃِ وَعَشْرٌ مِّنْ ذِی الْحَجَّۃِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الحج، باب قول اللّٰہِ تعالیٰ الحج أشھر معلومات ]
” عبدا للہ بن عمر ؓ نے فرمایا : حج کے مہینے شوال، ذو القعدہ اور ذو الحجہ کے دس دن ہیں۔ “
اس حدیث میں 10 ذی الحجہ ایام حج قرار دیے گئے۔ اس سے مراد ہے کہ حج 10 ذوالحجہ کے بعد نہیں ہوسکتا۔ حج کرنے والا انہی ایام میں احرام باندھے گا۔ اگر اس سے پہلے وہ حج کا سفر کرے تو احرام نہیں باندھ سکتا۔ البتہ دوردراز علاقے کے رہنے والے لوگ ذرائع آمد ورفت سست رفتار یا کم ہونے کی بنا پر حج کے لیے پہلے بھی سفر کا آغاز کرسکتے ہیں۔ جس طرح آج سے اسّی سال پہلے لوگ پیدل حج کے لیے جایا کرتے تھے۔ طوالت سفر کی وجہ سے وہ شوال سے پہلے ہی اپنے سفر کا آغاز کرتے اس طرح حج کے لیے چھ سے آٹھ ماہ لگ جاتے۔ ایسے حالات میں حج کے مہینوں سے پہلے سفر شروع کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ہر شخص احرام یکم شوال سے باندھے گا اور میقات پر پہنچ کر احرام کی پابندیاں شروع ہوں گی۔ عمرہ کے لیے کوئی دن اور مہینہ مقرر نہیں۔ آدمی جب چاہے عمرہ کرسکتا ہے۔ یہاں حج کی فرضیت سے مراد اس کی ادائیگی ہے کیونکہ مفسرین کا اتفاق ہے کہ حج تین ہجری آل عمران کی آیت 97 کے نزول کے وقت فرض ہوا تھا۔ جب کہ یہ آیات چھ ہجری صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئیں۔ اس فرمان میں حج کے آداب بتائے جارہے ہیں کہ حج میں تین کاموں سے سختی کے ساتھ پرہیز کیا جائے۔ اس موقع پر اجتناب اور احتیاط کے باوجود مرد و زن کا ایک ہی وقت اور ایک ہی مقام پر مناسک حج ادا کرنے سے لامحالہ کچھ نہ کچھ اختلاط پید اہوسکتا ہے۔ مختلف ممالک کے متفرق مزاج لوگوں کا جذبۂ شوق کے عالم میں اکٹھا ہو کر نیکی اور خیر کے کام میں ایک دوسرے سے مسابقت کرنے کی وجہ سے مزاج میں تیزی اور مستعدی پیدا ہونا فطری بات ہے جس کی وجہ سے باہم تصادم کے خطرہ کا امکان ہوسکتا ہے۔ اس لیے خصوصی طور پر حکم صادر فرمایا کہ اللہ کے حضور حج کے احکام بجا لاتے ہوئے بیوی سے شہوانی باتیں اور حرکات، فسق وفجور اور جنگ وجدال سے مکمل اجتناب کیا جائے۔ اللہ ! اللہ ! مسلمانوں کی اطاعت شعاری ملاحظہ فرمائیں کہ صدیوں سے یہ اجتماع منعقد ہو رہا ہے۔ جس میں بوڑھے، جوان، شاہ و گدا، کالے، گورے اور مرد و زن موجود ہوتے ہیں۔ سفر کی صعوبتوں اور دیگر مشکلات کے باوجود مسلمان ایسی سنجید گی اور جذبۂ عبادت کے ساتھ فریضۂ حج ادا کرتے ہیں کہ غیر مسلم دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں۔
یہاں یہ بھی حکم ہوا ہے کہ حج کے دوران زاد راہ لے لیا کرو۔ کیونکہ کچھ لوگ خاص کر یمن کے رہنے والے اس غرض سے سفر کا خرچ نہیں لیتے تھے کہ ہم اللہ کے گھر میں حاضری دینے جارہے ہیں وہی ہمارے لیے اسباب مہیا کرے گا ‘ ہمیں وسائل لینے کی ضرورت نہیں کیونکہ وسائل لینا توکل اور تقو ٰی کے خلاف ہے۔ اس پر حکم ہوا کہ ادھر ادھر سے مانگنے اور جھانکنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ وسائل کو بروئے کار لاؤ۔ دوسرے کی طرف جھانکنے سے بہتر ہے کہ زاد راہ ساتھ لیاجائے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے پرہیز کرنا اور گناہوں سے بچنا ہی تقو ٰی ہے۔ یہی عقل مندی کا تقاضا اور صاحب دانش لوگوں کا وطیرہ ہونا چاہیے۔
انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول !
(أَعْقِلُھَا وَأَتَوَکَّلُ أَوْ أُطْلِقُھَا وَأَتَوَکَّلُ قَالَ اعْقِلْھَا وَتَوَکَّلْ )
[ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق ]
” میں اونٹ کو باندھ کر توکل کروں یا اسے چھوڑ دوں اور توکل کروں آپ ﷺ نے فرمایا : اونٹ کو باندھو اور توکل کرو۔ “
مسائل
1۔ شوال، ذی قعدہ، اور دس ذی الحجہ تک حج کے مہینے اور ایام ہیں۔
2۔ حج میں بیوی سے شہوانی باتیں ‘ فسق و فجور اور لوگوں سے جھگڑا نہیں کرنا چاہیے۔
3۔ حج کے لیے زاد راہ لینا ضروری ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا ہی دانشمندی ہے۔
Ayah 2:198فہم القرآن
ربط کلام : حج کے مناسک کا بیان جاری ہے۔
اسلام کے ورود مسعود سے پہلے لوگوں نے حج جیسے باوقار اور عبادات کے مجموعہ کو ایک میلہ اور تجارتی منڈی میں تبدیل کردیا تھا۔ لیکن جب یہ لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے تو ان کی سوچ کے زاویے یکسر تبدیل ہوگئے۔ صحابہ کرام ؓ نے سب کچھ اپنے رب کی رضا کے لیے قربان کردیا تھا۔ لہٰذا اب وہ حج کی ادائیگی کے دوران تجارت کرنے کے بارے میں کس طرح سوچ سکتے تھے ؟ وہ یہاں تک محتاط ہوئے کہ ایک مزدوری کرنے والا صحابی حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس آیا اور یہ سوال کیا کہ ہمارا پہلے سے یہ پیشہ ہے کہ ہم اونٹوں کے ذریعے سواری اور باربرداری کا کام کرتے ہیں کچھ لوگ ہمارے اونٹ حج کے لیے کرایہ پر لے جاتے ہیں ہم ان کے ساتھ جاتے ہیں اور حج کرتے ہیں کیا ہمارا حج ہوگا ؟ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا : کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا، اور اس نے آپ سے یہی سوال کیا تھا جو تم مجھ سے کررہے ہو آنحضرت ﷺ نے اس کو اس وقت کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی : (لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِنْ رَبِّکُمْ ) اس وقت رسول کریم ﷺ نے اس شخص کو بلوایا اور فرمایا کہ ہاں تمہارا حج صحیح ہے۔ [ معارف القرآن ]
اسی طرح ہی حج سے فراغت کے بعد آپس میں لین دین اور تجارت کرلی جائے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔ بلکہ رزق حلال کا حصول اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ جسے حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہو۔ جب تم عرفات سے مشعر حرام کی طرف پلٹو۔ تو تمہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس کی توفیق اور رہنمائی سے تم اس کے گھر کے مہمان بنے اور ہدایت پائے اس رہنمائی سے پہلے تم گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹک رہے تھے۔ لہٰذا رب کی راہنمائی کے مطابق اس کا شکریہ ادا کرتے رہو۔ یاد رہے کہ مشعر حرام مزدلفہ میں ایک پہاڑی ہے جسے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا گیا ہے۔
مزدلفہ میں قیام کا طریقہ
عرفات میں غروب آفتاب کے فوراً بعد نماز مغرب ادا کیے بغیر مزدلفہ روانہ ہونے کا حکم ہے۔ اب بےخانماں قافلہ رات کے اندھیروں میں ٹھوکریں کھاتا ہوا مزدلفہ کی سنگلاخ زمین پر آن پہنچا ہے۔ جسم تھکن سے چور، طبیعت نڈھال، نیند کا غلبہ اور آرام کی حاجت کے باوجود لوگ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تاکہ نماز مغرب و عشاء کی نماز ادا کرتے ہوئے اللہ کے حضور سرافگندگی کا اظہار کیا جائے۔ اس کے بعد آرام اور قیام کی ضرورت تھی جس بنا پر نبی محترم ﷺ نے اپنی امت پر شفقت و مہربانی کرتے ہوئے نہ خود اس رات تہجد پڑھی اور نہ ہی لوگوں کو تلقین فرمائی تاکہ سفر کی صعوبتوں اور تھکاوٹوں کی بنا پر لوگوں کو آرام کا موقع میسر آجائے۔ اور 10 ذوالحجہ کے لیے تازہ دم ہوجائیں کیونکہ 10 ذوالحجہ کا دن مناسک حج کے اعتبار سے بہت مشکل ترین دن ہے۔
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ؓ یَقُوْلُ أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ النَّبِيُّ ﷺ لَیْلَۃَ الْمُزْدَلِفَۃِ فِيْ ضَعْفَۃِ أَھْلِہٖ )
[ رواہ البخاری : کتاب الحج، باب من قدم ضعفۃ أھلہ بلیل الخ ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں تھا جن کو رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ کی رات اپنے گھروالوں کے ساتھ پہلے روانہ کردیا تھا۔ “
(عَنْ جَابِرٍ ؓ قَالَ أَفَاضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَعَلَیْہِ السَّکِیْنَۃُ وَأَمَرَھُمْ أَنْ یَرْمُوْا بِمِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ وَأَوْضَعَ فِيْ وَادِيْ مُحَسَّرٍ ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب المناسک، باب التعجیل من جمع ]
” حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ مزدلفہ سے واپس پلٹے تو آپ پر سکینت طاری تھی اور آپ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو حکم دیا کہ چنے کے برابر کنکریاں ماریں اور آپ وادی محسّر سے تیزی کے ساتھ گزرے۔ “
کیونکہ یہاں ابرہہ کے لشکر کو ابابیل کے ذریعے تہس نہس کردیا گیا تھا۔ جو یمن کا حکمران تھا اور اس نے بیت اللہ کے مقابلے میں ایک گھر تعمیر کیا اور لوگوں کو حکم دیا تھا کہ بیت اللہ کے بجائے اس کے بنائے ہوئے گھر کا طواف اور زیارت کیا کریں۔ جب لوگوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو اس نے حسد میں آکر بیت اللہ کو شہید کرنے کے لیے لشکر کشی کی جب لشکر ہاتھیوں پر سوار مزدلفہ کے قریب وادی محسّر میں پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے ابابیل کے جھنڈ بھیج کر انہیں کھائے ہوئے بھس کی طرح کردیا اور یہ پرندے اپنی چونچ اور پروں میں کنکریاں اٹھا اٹھا کر ان کے اوپر پھینکتے تھے جس کا تذکرہ سورة الفیل میں کیا گیا ہے۔
مسائل
1۔ حج میں لین دین اور تجارت کی جاسکتی ہے۔ 2۔ مشعرالحرام مزدلفہ میں ایک پہاڑی کا نام ہے۔
3۔ مزدلفہ میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے بغیر آدمی گمراہ ہوتا ہے۔
Ayah 2:199فہم القرآن
ربط کلام : حج کے مناسک میں قریش کے خود ساختہ امتیاز اور بدعت کا خاتمہ کیا گیا ہے۔
یہاں لوٹنے سے مراد عرفات پہنچ کر مزدلفہ واپس آنا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بتلائے ہوئے طریقہ کے مطابق حج کرنے والے نسل در نسل نو ذو الحجہ کو منٰی سے عرفات جاتے اور عرفات سے واپس مزدلفہ ٹھہرتے۔ مگر قریش نے اپنے مذہبی تقدس اور قومی تفاخر کے باعث یہ عقیدہ بنایا اور لوگوں میں پھیلایا ہوا تھا کہ ہم بیت اللہ کے متولّی اور مجاور ہیں اس لیے ہمارا مقام لوگوں سے ممتاز ہے لہٰذا ہمیں حدود حرم سے باہر جانے کی ضرورت نہیں۔ یاد رہے کہ عرفات حدود حرم سے باہر ہے۔ وہ مزدلفہ ہی میں قیام کرتے جب کہ لوگ عرفات سے ہو کر مزدلفہ آیا کرتے تھے۔ قریش کی دیکھا دیکھی ان کے حلیف قبائل نے بھی اپنے لیے یہ امتیاز قائم کرلیا۔ اس خود ساختہ تقدس کی نفی اور رسم کے خاتمہ کے لیے یہ حکم نازل ہوا کہ ہر کسی کے لیے عرفات جانا لازم اور حج کا حصہ ہے۔ رسول کریم ﷺ نے عرفات کو حج کارکن اعظم قرار دیا ہے۔ جو شخص دسویں ذوالحجہ کی صبح تک بھی عرفات نہیں پہنچ سکا باقی مناسک ادا کرنے کے باوجود اس کا حج اد انہیں ہوگا اور اسے دوبارہ حج کرنا پڑے گا۔
[ رواہ أبوداوٗد : کتاب المناسک، باب من لم یدرک عرفۃ ]
عرفات میں سمع و اطاعت کا نقطۂ عروج
عرفات میں حاضری حج کارکن اعظم ہونے کے باوجود حکم یہ ہے کہ یہاں غروب آفتاب کے فورًا بعد نماز مغرب ادا کیے بغیر مزدلفہ روانہ ہوا جائے۔ مسلمان کی سمع و اطاعت کا اندازہ کیجئے کہ وہ مومن جو نماز کے وقت کا انتظار کیا کرتا تھا اور نماز کا وقت ہوتے ہی ہر تعلق سے لا تعلق ہو کر اس کے قدم مسجد کی طرف اٹھ جایا کرتے تھے ‘ وہ نماز جس کی پابندئ وقت کا حکم ہے :
(إِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِےْنَ کِتَابًا مَّوْقُوْتًا۔ ) [ النساء : 103]
” مومنوں کے لیے نماز کے اوقات مقرر کردیے گئے ہیں۔ “
لیکن مغرب کا وقت ہونے کے باوجود حکم ہوا ہے کہ یہاں نماز پڑھنے کے بجائے یونہی آگے چل دیجئے اور مزدلفہ میں دونوں نمازوں کو ادا کیا جائے۔ ایک لمحہ ٹھہر کے ذرا سوچئے ! کہ بندہ اپنے رب کے حکم کے سامنے کس طرح بےاختیار وبے بس ہے ؟ کہ پہلے بیماری یا کسی مجبوری کے بغیر اس نے ظہر اور عصر جمع کی۔ اور اب مغرب کی نماز پڑھنا تو درکنار یہاں ٹھہرنے کی بھی اجازت نہیں۔ عرفات وہی مقام مقدس ہے کہ جہاں رسول اکرم ﷺ نے انسانیت کو دونوں جہاں کی کامیابی کی گارنٹی دیتے ہوئے ایک عالمگیر چارٹر سے متعارف کروایا تھا۔ جس کے چند نکات یہ ہیں :
(1) جب تک قرآن وسنت کو تھامے رکھو گے دنیا کی کوئی سازش اور طاقت تمہیں گمراہ نہیں کرسکے گی۔
(2) میں آج کے بعد ہر قسم کی عصبیتوں کو اپنے پاؤں تلے روند تا ہوں۔
(3) معاشی استحاصل کو ختم کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے سود کو حرام قرار دیا اور فرمایا کہ سب سے پہلے میں اپنے چچا کا سود معاف کرتا ہوں۔ وہ اس کے بعد اصل رقم کے بغیر کسی سے ایک دمڑی بھی سود وصول نہیں کرسکتے۔
(4) سابقہ تمام قتل و غارت معاف ہے اور سب سے پہلے اپنے قبیلے کا قتل معاف کرتا ہوں۔
(5) سب انسان برابر ہیں مگر تقو ٰی و کردار کے لحاظ سے فرق برقرار رہے گا۔ اللہ کی قربتیں اسی کو حاصل ہوں گی جو اس کا تقو ٰی اختیار کرے گا۔
مسائل
1۔ اہل حرم اور سب کو عرفات پہنچنا لازم ہے۔ 2۔ مناسک حج اخلاص اور سنت کے مطابق ادا کرنے چاہییں۔
3۔ مانگ کر حج کرنا جائز نہیں۔ 4۔ اللہ سے معافی مانگنی چاہیے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا نہایت رحیم ہے۔
5۔ حج میں تجارت کی جاسکتی ہے۔
حج کا مختصر طریقہ
میقات :
نبی اکرم ﷺ نے مکہ کے چاروں جانب سمندر میں میقات مقرر فرمائے ہیں :
1۔ یلملم (سعدیہ) یہ مکہ سے 45 کلو میٹر کے فاصلے پر جنو بی ایشیاء کے ممالک : پاکستان، افغانستان، بھارت بنگلہ دیش اور چین وغیرہ کا میقات ہے۔ 2۔ قرن منا زل : مکہ سے عرفات کی طرف 94 کلومیٹر پر اہل نجد اور دوسرے ممالک کے لیے ہے۔
3۔ جحفہ : مکہ سے شمال مغرب کی طرف 187 کلومیٹر کے فاصلے پر شام اور مصر وغیرہ کے لیے ہے۔
4۔ ذوالحلیفہ : مکہ معظمہ سے مدینہ کی طرف 450 کلومیٹر پر ہے۔ یہ اہل مدینہ کا میقات ہے۔
5۔ ذات عرق : مکہ سے شمال مشرق کی طرف 94 کلومیٹر دور ہے اسے ایران ‘ عراق اور شمال مشرق کے مما لک کے لیے مقرر فرمایا ہے۔
احرام باندھنے کا طریقہ
حج یا عمرہ کرنے والے کو میقات پر پہنچ کر احرام باندھنا چاہیے۔ لیکن پاکستان کا میقات یلملم سمندر میں ہے۔ ہوائی جہاز میں احرام باندھنے میں دقّت پیش آتی ہے۔ اس لیے اپنے گھر یا ایئر پورٹ سے احرام باندھ لیا جائے۔ البتہ احرام کی پابندیاں اور تلبیہ میقات پر پہنچ کر شروع کرنا ہوگا۔ احرام سے پہلے ضرورت ہو تو حجامت کروائے ورنہ غسل کے بعد خوشبو لگا کر احرام باندھنا چاہیے احرام کے دو نفل رسول کریم ﷺ سے ثابت نہیں کیونکہ جب آپ نے احرام باندھا تھا تو فرض نماز کا وقت تھا۔ اس لیے آپ نے مدینہ سے باہر میقات پر احرام کے بعد دو فرض ادا کیے تھے۔ تاہم احرام کے بعداکثر علماء دو نفل جائز سمجھتے ہیں۔ آدمی دو سفید چادروں میں احرام باندھے ایک تہبند اور دوسری کو سر ننگا رکھتے ہوئے اوپر لے۔ دایاں کندھا صرف پہلے طواف کے پہلے تین چکروں میں ننگا رکھنا ہے۔ یہ پہلا طواف عمرہ کا ہو یا حج کا اس سے پہلے یا بعد میں کندھا ننگا رکھنا جائز نہیں۔ کچھ علماء نے جدہ میں پہنچ کر احرام باندھنے کی اجازت دی ہے جس کا حدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔
عورت کا احرام اور مخصوص ایّام
عورت اپنے روایتی لباس میں ہی احرام کی نیت کرے گی تاہم اس کے ہاتھ اور چہرہ ننگا ہونا چاہیے۔ مرد ہو یا عورت اسے ایسا جوتا پہننا چاہیے جو ٹخنوں سے نیچے ہو۔ عورت کو غیر محرم کے سامنے آنے پر چہرہ ڈھانپنا چاہیے۔ لیکن نقاب چہرے سے ہٹاہو نا چاہیے۔ اگر عورت کو مخصوص حالت پیش آجائے تو احرام باندھ کر نماز پڑھے بغیر حج کے مناسک ادا کرے۔ اگر یہی حالت رہے تو بیت اللہ کا طواف بھی بعد میں کرنا ہوگا۔ بعض ملکوں میں قومی شناخت کے طور پر عورت کو خصوصی احرام کا پابند کیا گیا ہے یہ پابندی شریعت میں موجود نہیں۔
احرام میں جائز اور ناجائزکام
احرام سے پہلے غسل اور خوشبو لگانا سنت ہے احرام باندھ لینے کے بعد خوشبو لگانا جائز نہیں مرد کا احرام دو سفید چادریں ہیں عورت جس رنگ کا چاہے لباس پہن سکتی ہے مگر شوخ نہ ہو مرد کا سر 249 چہرہ 249 ہاتھ اور پاؤں ننگے ہونے چاہییں عورت غیر محرم کے سامنے آنے پر چہرہ ڈھانپے گی احرام میں چپل پہننے کا رواج پڑگیا ہے ورنہ ایسا جوتا پہنا جاسکتا ہے جو ٹخنوں سے نیچے ہو احرام میں نہانا، احرام بدلنا یا دھونا جسم یا سر کو کھجلانا بالکل جائز ہے احرام کی حالت میں مرد کو نفل یا فرض نماز میں سر ڈھانپنے پر دم دینا پڑے گا۔ جان بوجھ کر مکھی، چیونٹی حتیٰ کہ جوئیں تک مارنا حرام ہے۔ ایسے ہی مباشرت اور نکاح جائز نہیں البتہ سانپ اور بچھو مارا جاسکتا ہے احرام میں چھتری استعمال کی جاسکتی ہے۔
اقسامِ حج
1۔ حجِ اَفراد :
صرف حج کی نیت سے احرام باندھا جائے جس میں عمرہ شامل نہ ہو۔
2۔ حج قران :
جس میں یہ نیت ہو کہ حج اور عمرہ اکٹھے ادا کیے جائیں گے۔ یہ شخص عمرہ مکمل ہونے کے باوجود احرام نہیں اتار سکتا اسے عمرے والے احرام کے ساتھ ہی حج کرنا ہوگا۔ چاہے حج اور عمرے کے درمیان کتنے دن کیوں نہ ہو۔
3۔ حجِ تَمَتُّعْ :
تمتع کا معنٰی ہے فائدہ اٹھانا۔ اس میں حج اور عمرہ اکٹھے کیے جاتے ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ احرام باندھنے کے مقام (میقات) پر پہنچ کر یہ نیت کی جائے کہ میں صرف عمرہ کا احرام باندھ رہا ہوں۔ عمرہ کرنے کے بعد احرام کھول دوں گا۔ اب یہ شخص آٹھ ذوالحجہ کو دوبارہ مکہ میں جہاں رہ رہا ہے۔ وہاں سے ہی حج کے لیے احرام باندھے گا اسے میقات پر جانے کی ضرورت نہیں۔ حج تمتع اہل حرم کے لیے جائز نہیں۔
حج ایک نظر میں
1۔ میقات پر احرام باندھنا اور تلبیہ کہنا۔
2۔ 8 ذوالحجہ کو منٰی پہنچنا۔
3۔ 9 ذوالحجہ کو عرفات میں قیام کرنا۔ اور ظہر، عصر اکٹھی پڑھنا اور قصد کرنا۔
4۔ مغرب و عشاء مزدلفہ میں جمع کرنا اور قصرپڑھنا ‘ رات گزارنا اور 10 ذوالحجہ کی صبح طلوع آفتاب کے قریب منٰی روانہ ہونا۔
5۔ 10 ذوالحجہ کو کنکریاں مارنا قربانی کرنا ‘ حجامت کروانا ‘ اور بیت اللہ کا طواف کر کے واپس منٰی پہنچنا۔
6۔ ایّام تشریق میں کنکریاں مارنا۔
7۔ ایام تشریق کے دو یا تینوں دن منیٰ میں گزارنا۔
مذکورہ 10 ذو الحجہ کے مناسک کی ادائیگی میں تقدیم و تاخیر ہوجائے تو کوئی گناہ نہیں۔
Ayahs 2:200–202فہم القرآن
ربط کلام : حج کو عام اجتماع اور میلہ کا رنگ دینے کے بجائے اس میں عبادت اور ذکر و اذکار کا ماحول ہونا چاہیے۔
کفار اور مشرکین نے حج کے مقدس اجتماع کو دنیا کے فائدے اور خود غرضی کا ذریعہ بنا لیا تھا۔ یہاں تک کہ دعا کرتے ہوئے رب کے حضور دنیا ہی کے طلبگار ہوتے تھے۔ گویا کہ دین اور عبادت بھی ان کی نظروں میں دنیا کا ہی مقصود ٹھہری تھی۔ جیسے آج کل بعض لوگ کسی کو کھانا کھلائیں تو فقط دعا اور نمائش کی خاطر ‘ مسجد میں اعتکاف کریں تو صرف دنیا کے مصائب سے چھٹکارا پانے کے لیے ‘ مساجد ومدارس کے ساتھ تعاون کرتے ہیں تو نمائش اور شہرت کے لیے ‘ حج دنیاوی مشکلات سے نجات پانے اور دولت کی نمائش کے لیے کرتے ہیں۔ ایسے لوگ جب مصائب سے نجات پاتے ہیں تو نہ وہ زہد وتقو ٰی رہتا ہے اور نہ ہی علماء کا احترام واکرام بلکہ نماز اور روزے سے بھی غافل ہوجاتے ہیں۔ ان کے بارے میں سورة حج آیت 11 میں فرمایا گیا ہے کہ کچھ لوگ تو بس کنارے پر بیٹھ کر ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اگر انہیں فائدہ پہنچے تو مطمئن ہوجاتے ہیں۔ اگر آزمائش میں مبتلا ہوں تو پیٹھ پھیر جاتے ہیں۔ ان کو دنیا اور آخرت میں بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ یہاں بنیادی طور پر دو قسم کی سوچ بیان کی جارہی ہے ایک ان لوگوں کی جن کے صبح وشام اور لیل ونہار دنیا ہی کے حصول کے لیے وقف ہیں۔ دنیا کے علاوہ ان کے احاطۂ خیال میں کوئی چیز نہیں آتی۔ انہیں دنیا تو اپنے حصہ کے مطابق مل جائے گی مگر آخرت میں وہ یکسر طور پر تہی دامن ہوں گے۔ کیونکہ انہوں نے آخرت کے لیے کچھ نہیں کیا ہوگا اور نہ ہی وہ آخرت کے طلب گار تھے۔ ان کے مقابلے میں ان لوگوں کی تعریف کی جارہی ہے جو دنیا میں رہ کر آخرت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مومن اور دنیا دار کی سوچ کا فرق سمجھنے کے لیے حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص ؓ کے فرمان سے بہتر کسی امتی کا اس بات کے حوالے سے ارشاد نہیں ہوسکتا :
(إِحْرِزْلِدُنْیَاکَ کَأَنَّکَ تَعِیْشُ أَبَدًا وَاعْمَلْ لآخِرَتِکَ کَأَنَّکَ تَمُوْتُ غَدًا) [ مسند الحارث ]
” دنیا اس طرح کماؤ گویا تو نے دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے اور آخرت کے لیے ایسے اعمال کرو جیسے تو نے کل فوت ہوجانا ہے۔ “
یہی فرق ہے ایک کافر اور دنیا دار مومن کی جدوجہد کے درمیان۔ کیونکہ بیشمار کام ایسے ہیں جو کافر اور مومن کو فطری طور پر ایک جیسے کرنے پڑتے ہیں۔ جن کو سمجھنے کے لیے معمولی درجے کی چند مثالیں ذہن میں تازہ فرمائیں۔ کافر بھی کھانا کھاتا ہے اور مومن بھی کھانے کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ دنیا دار بھی کپڑے پہنتا ہے اور مسلمان کا بھی لباس کے بغیر گزارہ نہیں۔ ایمان سے تہی دامن انسان بھی سوتا ہے جب کہ ایمان دار کو بھی نیند پوری کرنا ہوتی ہے۔ لیکن ان کے کرنے کے انداز اور ان کے پیچھے کار فرما جذبات کا زمین و آسمان سے زیادہ فرق ہے۔ مومن کا سونا بھی عبادت ہے جب کہ کافر کی عبادت بھی خدا کے ہاں عبادت کا درجہ نہیں رکھتی۔ کیونکہ اس کے پیچھے نہ ایمان کا تصور ہے اور نہ کرنے کا انداز سنت نبوی کے مطابق ہے۔ یہاں دونوں قسم کے لوگوں کو بتلایا گیا ہے کہ جو کمائے گا وہی پائے گا۔ اللہ تعالیٰ عنقریب ایک ایک لمحہ کا حساب لے گا۔ لہٰذا دعا کی صورت میں یہ فکر دی جارہی ہے کہ کامل اور بہتر سوچ یہ ہے کہ دنیا اور آخرت کو سنوارنے کے لیے نہ صرف بیک وقت بھر پور کوشش کی جائے بلکہ رب کے حضور دعا بھی ہونی چاہیے کہ ” اے ہمارے رب ! ہماری دنیا بھی بہتر فرما اور آخرت بھی اور ہمیں جہنم کی ہولناکیوں سے محفوظ فرما۔ “ رسول کریم ﷺ اکثر یہ دعامانگتے اور طواف کے دوران رکن یمانی سے لے کر حجر اسود تک اس دعا کا التزام کرتے تھے۔ (رواہ البخاری، کتاب الحج)
مسائل
1۔ مناسک حج پورے کرنے کے بعد منٰی میں اللہ کا ذکر کثرت سے کرنا چاہیے۔
2۔ دنیا دار لوگ آخرت کے بجائے صرف دنیا ہی کے طلب گار ہوتے ہیں۔
3۔ صرف دنیا کے طلب کرنے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
4۔ اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت دونوں کی بھلائی طلب کرنا چاہیے۔
5۔ ہمیشہ جہنم کے عذاب سے پناہ مانگنا چاہیے۔
7۔ اللہ سے بڑھ کر کوئی جلد حساب لینے والا نہیں۔
Ayah 2:203فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
کفّار نے منٰی کو تفریح کا میدان اور اس کے اجتماع کو ایک اجتماع عام کا رنگ دے کر تفاخر کا ذریعہ بنالیا تھا۔ شاعر اپنا اپنا کلام پیش کرتے جس میں عشق وعاشقی کی داستانیں اور اپنے آباء و اجداد کے کارناموں کو اس طرح بڑھا چڑھا کر بیان کرتے جس میں دوسرے قبائل کی توہین پائی جاتی۔ بسا اوقات لوگوں میں تصادم کی صورت پید اہوجاتی۔ اللہ تعالیٰ نے چند دن کا لفظ استعمال فرما کر یہ احساس دلایا ہے کہ ان قیمتی ایام میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہیے تھا۔ تم نے انہیں بھی فخروغرور کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ حالانکہ تمہیں اپنے رب کا شکر گزار اور اسے کثرت کے ساتھ یاد کرنا چاہیے۔ جس کی توفیق سے تمہیں حج کی سعادت اور اس کے گھر کی حاضری کا شرف نصیب ہوا۔ یہاں اس فکری اختلاف کو بھی ختم کردیا گیا ہے جو منٰی میں قیام کے بارے میں پایا جاتا تھا۔ کچھ لوگ دو کے بجائے تین دن ٹھہرنا ضروری سمجھتے تھے اور وہ منٰی میں دو دن قیام کرنے والوں سے مجادلہ اور تکرار کرتے کہ ہم تم سے بہتر ہیں۔ اس طرح دو یوم قیام کرنے والے تین دن ٹھہرنے کو برا سمجھتے۔ یہاں یہ اختیار دیا جارہا ہے کہ تم چاہو تو تین دن ٹھہرو نہیں تو دو دن۔ دونوں میں سے کوئی ایک مدت ٹھہرنے والوں پر کوئی گناہ نہیں۔ یہ اجر تو اس شخص کے لیے ہے جو فخر و غرور اور دنیاوی رسومات سے پرہیز کرتا ہے اور اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف پایا جاتا ہے۔ یاد رکھو جس طرح تم یہاں اکٹھے ہوئے ہو ایک دن ایسا بھی آنے والا ہے جب تمام کے تمام رب کبریا کی عدالت میں دست بستہ جمع کیے جاؤ گے۔ وہاں تقو ٰی اور رب کی یاد ہی کام آئے گی۔
مسائل
1۔ ایام تشریق میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہیے۔ 2۔ منٰی میں دو یا تین دن ٹھہرنا چاہیے۔
3۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے وہ سب کو اکٹھا کرنے والا ہے۔
Ayahs 2:204–207فہم القرآن
ربط کلام : پہلے دو قسم کی سوچ اور فکر کے درمیان فرق بیان ہوا تھا اب مخلص ‘ اور غیر مخلص ‘ مصلح اور فساد کرنے والے کے درمیان فرق بتلایا گیا ہے۔ درمیان میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ کیونکہ جب تک انسان دنگہ فساد سے پرہیز نہیں کرتا۔
منیٰ میں قیام اور ایّام تشریق کا مسئلہ بیان کرنے سے پہلے لوگوں کی دو قسم پر مبنی سوچ کا ذکر ہورہا تھا۔ اب دو کرداروں کو بیان کیا جارہا ہے، پہلا کردار دنیا پرست کا ہے جس کے قول وفعل میں اس قدر تضاد ہوتا ہے کہ اس کی زبان میٹھی ہے اور وہ اپنے کردار کی کھوٹ اور گفتگو کی چوری کو چھپانے کے لیے ہر بات پر اللہ تعالیٰ کے مقدّس نام کو استعمال کرتا ہے۔ اس کا کسی سے الجھاؤ ہوجائے تو وہ پرلے درجے کا جھگڑالو ثابت ہوتا ہے اور جب بھی اسے وسائل اور کچھ اقتدار حاصل ہوتا ہے تو اس کی پالیسیاں اور کردار لوگوں کے لیے تباہ کن اور آئندہ نسلوں کے لیے مہلک ثابت ہوتا ہے۔ اس شخص کو جب اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کی غلطی کا احساس دلایاجائے تو اصلاح کی بجائے اسے اپنی توہین تصور کرتا ہے۔ ایسے شخص کے فکر وعمل میں خیر کی تبدیلی آنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ یہ گناہ چھوڑنے اور اپنی اصلاح کرنے کے بجائے دنگا فساد کرنے پر اتر آتا ہے۔ اس کے جھوٹے وقار اور تکبر کے خاتمہ کے لیے جہنم کی سزا ہی ہوسکتی ہے۔ اس کا ٹھکانہ دنیا کے بجائے جہنم ہی ہونا چاہیے۔ جس میں اس کے فکرو عمل کی ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے گی۔ رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب فاسق وفاجر شخص دنیا سے کوچ کرتا ہے تو روئے زمین پر تمام مخلوق اس کے جانے پر خوشی کا اظہار کرتی ہے یہاں تک کہ زمین اسے دبوچ کر اپنا بوجھ ہلکا کرتی ہے۔ [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق ‘ باب سکرات الموت ]
مفسرین نے اس آیت کی تشریح میں اخنس بن شریک منافق کے کردار کی نشاندہی کی ہے جو آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوتا تو چکنی چپڑی باتیں کرتے ہوئے اسلام کی تائید کرتا جب اپنے ساتھیوں میں جاتا تو آپ ﷺ اور اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے دوسروں کو سازشوں کے لیے آمادہ کرتا تھا۔ اس کے برعکس ایک مومن کا کردار یہ ہوا کرتا ہے کہ وہ گفتار کے بجائے کردار کا غازی ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نہ صرف اپنی انا کی قربانی دیتا ہے بلکہ وقت آنے پر سب کچھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں لٹا کر اس کی رضا کا طالب ہوتا ہے۔
اس آیت کے شان نزول میں حضرت ابویحییٰ صہیب رومی ؓ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ جب وہ مدینہ طیبہ کے لیے نکلے ابھی مکہ معظمہ سے تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ کفار نے انہیں آگھیرا۔ حضرت صہیب ؓ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ میں تم سے بہتر تیر انداز ہوں اور میرا نشانہ کم ہی خطا ہوا کرتا ہے۔ اگر میری طرف بڑھوگے تو میں تمہیں ایک ایک کرکے نشانہ بناؤں گا۔ جب میرے ترکش سے تیر ختم ہوجائیں گے تو تلوار سے مقابلہ ہوگا۔ لہٰذا میرے راستے میں حائل ہونے کی کوشش نہ کرو۔ اگر تم مال لے کر میرا پیچھا چھوڑنا چاہو تو میرا اتنا سرمایہ میرے مکان کے فلاں کونے میں دفن ہے۔ تم جاکر اسے حاصل کرسکتے ہو۔ کفار خزانے کے لالچ میں واپس پلٹے اور جناب صہیب رومی ؓ کے مدینہ پہنچنے پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی جس میں ایثار و قربانی سے بھر پور کردار کی تعریف کے ساتھ یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے کردار کے لوگوں کے ساتھ نہایت ہی شفقت فرماتا ہے۔
مسائل
1۔ چکنی چپڑی باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ 2۔ جھوٹی بات پر اللہ تعالیٰ کو گواہ بنانا بڑا گناہ ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا۔
4۔ گناہ کو عزت کا باعث سمجھنا جہنم کو ٹھکانہ بنانا ہے۔
5۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ نہایت ہی مشفق و مہربان ہے۔