2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsفہم القرآن

Ayah 2:235

وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَ لٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا١ؕ۬ وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:235 in the Quran reader

تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اشارۃَ ان عورتوں سے نکاح کی بات کرو یا اپنے دل میں پوشیدہ ارادہ کرو اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ تم عنقریب ان سے ذکر کرو گے لیکن تم ان سے خفیہ وعدہ نہ کرو۔ ہاں تم بھلی بات کہو اور جب تک کہ عدت ختم نہ ہوجائے عقد نکاح پختہ نہ کرو اور جان لو یقیناً اللہ تعالیٰ کو تمہارے دلوں کی باتوں کا علم ہے۔ تم اس سے ڈرتے رہا کرو اور یہ بھی جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا ‘ حلم والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : عورتوں کے مسائل جاری ہیں۔ بیوہ عورت اپنے خاوند کی وفات کے بعد چار مہینے دس دن کی عدت گزارے گی بشرطیکہ وہ حاملہ نہ ہو۔ حاملہ ہونے کی صورت میں اس کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہوگی۔ اس عدت کے دوران اس کے ساتھ نکاح کرنے کا خواہش مند شخص کسی ایسے طریقے اور انداز سے اسے اپنے ارادے سے آگاہ نہیں کرسکتا جس سے نکاح کرنے کا کھلا اشارہ پایا جائے البتہ کنایہ کی زبان استعمال کرسکتا ہے۔ یہ شرط عورت کی پریشان حالی کی وجہ سے عائد کی گئی ہے کیونکہ عدّت اور صدمے کے ایّام میں اس کے ساتھ نکاح کی واضح بات کرنا ہمدردی کے بجائے اس کی افسردگی میں اضافہ اور دکھے ہوئے دل پر نمک پاشی کرنے کے مترادف ہے۔ شاید ہی کوئی بیوہ ہو جس کے لیے اس کے خاوند کا فوت ہونا معمولی بات ہو ورنہ خاوند کے اٹھ جانے کے خیال سے ہی ایک شریف عورت جدائی اور تنہائی کے تصور سے کانپ جاتی ہے۔ اگر اس کے چھوٹے چھوٹے بچے اور مالی حالات بہتر نہ ہوں تو اس کی زندگی ویران اور مستقبل تاریک ہوجاتا ہے۔ بیوہ کی عدّت کے دوران نکاح کا واضح پیغام بھیجنا اخلاقی قدروں کے منافی ہے ایسی صورت میں دیکھنے اور سننے والا یہ سمجھے گا کہ شاید یہ اپنے خاوند کے مرنے کے انتظار میں تھی۔ ہاں اشارے، کنائے سے آگاہ کرنے کی اجازت دینا اپنے دامن میں کئی حکمتیں لیے ہوئے ہے۔ سب سے بڑی اور جامع حکمت اسی حکم میں بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اشارے کی زبان استعمال کرنے کی اس لیے اجازت دی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ نکاح کے خواہشمند لوگ ضرور کسی انداز میں اپنے جذبات کا اظہار کریں گے۔ اس اخلاقی جرم سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے از راہ کرم تمہیں کنایہ استعمال کرنے کی اجازت عطا فرمائی ہے تاہم یہ اشارات اس وقت تک نکاح کے عزم کے ترجمان نہیں ہونے چاہییں جب تک اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ ضابطہ اپنے وقت کو نہ پہنچ جائے یعنی عدت پوری نہ ہوجائے۔ عزم نکاح کے اظہار سے اس لیے بھی منع کیا گیا کہ کہیں عورت غم اور پریشانی کے عالم میں اپنے مستقبل کے بارے میں غلط فیصلہ نہ کربیٹھے۔ آخر میں ارشاد ہوتا ہے کہ لوگو ! یہ بات یاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے جذبات اور عزائم کو اچھی طرح جانتا ہے لہٰذا اس کی نافرمانیوں سے بچ کر رہنا اور یہ بھی یاد رکھو اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے کے باوجود معاف کرنے والا نہایت ہی برد بار ہے۔ عدّت کے مسائل (عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ قَالَتْ کُنَّا نُنْھٰی أَنْ نُحِدَّ عَلٰی مَیِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلٰی زَوْجٍ أَرْبَعَۃَ أَشْھُرٍ وَّعَشْرًا وَلَانَکْتَحِلَ وَلَا نَطَّیَّبَ وَلَا نَلْبَسَ ثَوْبًا مَصْبُوْغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ وَقَدْ رُخِّصَ لَنَا عِنْدَ الطُّھْرِ إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِیْضِھَا فِيْ نُبْذَۃٍ مِنْ کُسْتِ أَظْفَارٍ وَکُنَّا نُنْھٰی عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَآءِزِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الطلاق، باب القسط للحادۃ عند الطھر ] ” حضرت ام عطیہ ؓ کہتی ہیں ہمیں منع کیا جاتا تھا کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کریں سوائے شوہر کے۔ شوہر کے مرنے پر چار مہینے دس دن سوگ کریں اور عدت کے زمانے میں نہ سرمہ لگائیں نہ خوشبو لگائیں نہ رنگا ہوا کپڑا پہنیں سوائے اس کپڑے کے جو بننے سے پہلے رنگا گیا ہو۔ البتہ ہمیں اس بات کی اجازت تھی کہ جب ماہواری کے غسل کے بعد خوشبو کے پھنبے کو خون کی جگہ پر پھیر لیں۔ اور جنازے کے پیچھے جانے سے بھی روکا جاتا تھا۔ “ ” رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بیوہ عدّت کے دوران نہ زرد کپڑا پہنے نہ زیور پہنے اور نہ خضاب لگائے۔ “ [ رواہ ابو داوٗد : کتاب الطلاق، باب فیما تجتنبہ المعتدۃ فی عدتھا ] مسائل 1۔ بیوہ کو عدّت کے دوران نکاح کا پیغام بھیجنا منع ہے۔ 2۔ عدّت کے دوران بیوہ کو نکاح کا اشارہ دیاجاسکتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کے حال سے واقف ہے۔ 4۔ ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا نہایت ہی بردبار ہے۔
Ayahs 2:236–237

لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً١ۖۚ وَّ مَتِّعُوْهُنَّ١ۚ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ١ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:236 in the Quran reader

اگر تم عورتوں کو بغیر ہاتھ لگائے اور بغیر حق مہر مقرر کیے طلاق دے دو تو بھی تم پر کوئی گناہ نہیں۔ ہاں انہیں کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچاؤ۔ خوش حال اپنی ہمت اور تنگدست اپنی طاقت کے مطابق اچھے انداز سے فائدہ دے۔ بھلائی کرنے والوں پر یہ لازم ہے

وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ١ؕ وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١ؕ وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:237 in the Quran reader

اگر تم عورتوں کو انہیں چھونے سے پہلے طلاق دے دو اور تم ان کا حق مہر بھی مقرر کرچکے ہو تو مقررہ مہر کا آدھا مہر دے دو یہ اور بات ہے کہ وہ خود معاف کردیں یا وہ شخص معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی ذمہ داری ہے تمہارا معاف کردینا تقو ٰی کے زیادہ قریب ہے۔ اور تم آپس کے احسان کو فراموش نہ کیا کرو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے

فہم القرآن اب ایسے ہنگامی حالات اور واقعات کے بارے میں ہدایات دی جارہی ہیں جو اس دنیا میں پیش آہی جاتے ہیں۔ ان حالات کے کئی اسباب ہوا کرتے ہیں۔ نکاح کے وقت حق مہر پر جھگڑا، نکاح سے پہلے ایک دوسرے کو دی گئی معلومات کا غلط ثابت ہونا اور بعض دفعہ موقع پر اچانک کسی شریر کی شرارت اس قدر شر انگیز اور زوداثر ہوتی ہے کہ خوشی کے موقع پر جمع ہونے والے خاندان کے ذمہ دار افراد آپس میں لڑ کر جدا ہوجاتے ہیں۔ عام طور پر یہ واقعات اچانک رونما ہوتے ہیں جو فریقین کے لیے نہایت ہی خفت کا باعث اور خاص طور پر بیٹی والوں کے لیے ایسا معاملہ نہایت ہی دل خراش اور سبکی کا باعث ہوتا ہے۔ اس سارے ہنگامے میں سب سے زیادہ متاثر دلہن ہوتی ہے جس کا چند لمحوں بعد نکاح ہونے والا ہوتا ہے۔ لہٰذا نہایت ہی ضروری تھا کہ جس لڑکی کو اس کے خاوند نے چھوئے اور حق مہر مقرر کیے بغیر چھوڑ دیا ہے اس کی دل جوئی کا سامان اور اس کے مستقبل کو کئی قسم کے خدشات اور الزامات سے بچایا جائے۔ کیونکہ اس صورت حال سے اس کا مستقبل خدشات اور شبہات کے حوالے ہوچکا ہے۔ لہٰذا دلخراش اور ہنگامی صورت حال میں حکم دیا کہ صاحب حیثیت اپنے وسائل کے مطابق اور مالی لحاظ سے کمزور اپنی طاقت کے مطابق عورت کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ نیک لوگوں پر اس لیے لازم ہے کہ اس سے طرفین کی پریشانی میں کمی اور عورت کا مستقبل کافی حد تک غلط افواہوں اور الزامات سے محفوظ ہوگا اور دونوں خاندان مزید اختلافات سے بھی بچ جائیں گے۔ نکاح کے بعد یہ صورت بھی پیش آسکتی ہے کہ حق مہر مقرر ہوچکا ہو لیکن میاں بیوی کے باہم ازدواجی تعلقات قائم ہونے سے پہلے طلاق ہوجائے۔ جس کی کئی ہنگامی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ جن میں ایک بڑی وجہ میاں بیوی کا ایک دوسرے کو ناپسند کرنا ہے۔ نعوذ باللہ یہ کوئی فرضی مسئلہ بیان نہیں کیا جارہا بلکہ غیرمسلم معاشروں کی طرح مسلمان معاشرے میں بھی اس قسم کے واقعات ایک حد تک رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اسلام کی ہمہ جہت رہنمائی، شفقت اور جامعیت کا تصور ذہن میں لائیں کہ وہ زندگی کے تمام اہم شعبوں کی رہنمائی کے لیے کس قدر جامع اور تفصیلی ہدایات جاری کرتا ہے۔ مسلمان معاشرہ میں ہونے والے اس قسم کے ہنگامی واقعات کو مستقل دشمنی کا روپ دھارنے سے پہلے اس کا حل پیش کردیا گیا ہے تاکہ رشتہ داری اور اخوت کے مضبوط قلعہ میں واقعہ ہونے والی دراڑوں کو حتی المقدور پر کرنے کی سعی ہوسکے۔ حق مہر مقرر ہوجانے اور خاوند کا اپنی بیوی سے مجامعت کرنے سے پہلے طلاق دینا خاندانی نظام اور میاں بیوی کے لیے شدید دھچکا ہوا کرتا ہے۔ ایک حد تک اس کی تلافی کے لیے یہ اصول نافذ فرمایا کہ ایسی صورت میں بہتر ہوگا کہ عورت اپنا حق معاف کردے یا اس کا خاوند پورے کا پورا حق مہر دے دے۔ مردو ! اگر تم معاف کرو تو یہ تقو ٰی کے زیادہ قریب ہے۔ یہاں تقو ٰی سے مراد باہمی بدگمانیوں اور آئندہ مزید اختلافات اور قلبی نفرتوں سے بچنا ہے۔ یہ تبھی ہوسکتا ہے کہ علیحدگی کے عمل کے دوران سابقہ تعلقات اور رشتہ داریوں کو پیش نظر رکھا جائے اس بات کا حکم دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ یاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ سب کے پوشیدہ اور ظاہر کردار کو دیکھنے والا ہے۔ اس سے تمہاری کوئی زیادتی اور حرکت پوشیدہ نہیں ہے۔ مسائل 1۔ غیر معمولی حالات میں بیوی کو چھوئے بغیر طلاق دی جاسکتی ہے۔ 2۔ مرد کی طرف سے سارا حق مہر چھوڑ دینا تقو ٰی کی علامت ہے۔ 3۔ طلاق کا معاملہ کرتے ہوئے سابقہ محبت کو نہیں بھولنا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے عمل کو دیکھ رہا ہے۔ تفسیر بالقرآن مطلقہ کے حقوق : 1۔ طلاق والی عورتوں کو مالی وسعت کے مطابق خرچ دینا ہوگا۔ (البقرۃ : 236) 2۔ طلاق یافتہ عورتوں کو خرچ دینامتقین پر لازم ہے۔ (البقرۃ : 241)
Ayahs 2:238–239

حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى١ۗ وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ Open ayah 2:238 in the Quran reader

نمازوں کی حفاظت کرو بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لیے عاجزی کی حالت میں کھڑے ہوا کرو

فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:239 in the Quran reader

اگر تمہیں خوف ہو تو پیدل ہو یا سواری پر (نماز ادا کرو) پھر امن ہوجائے تو اللہ کا ذکر کرو جس طرح کہ اس نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی جسے تم نہیں جانتے تھے

فہم القرآن ربط کلام : ازواجی مسائل کے بیان کے دوران خصوصی نصیحت۔ سلسلۂ کلام منقطع فرما کر یہاں حفاظت نماز اور خاص کر درمیانی نماز کی حفاظت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسلام کے عملی نظام میں نماز ایسی پنجگانہ تربیت ہے کہ اگر کوئی شخص شریعت کی ہدایات کے مطابق نماز ادا کرے اور اس کے تقاضے سمجھنے کی طرف توجہ دے تو نمازی دین اور دنیا کی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک منفرد اور ذمہ دار شخصیت بن جاتا ہے۔ کیونکہ پانچ وقت اس بات کا آرزو مند ہوتا ہے کہ اس کے گناہ معاف کردیے جائیں اور قدم قدم پر اس کی رہنمائی کا اہتمام ہوجائے اور روز محشر اپنے رب کے حضور اس حالت میں پیش ہو کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے والا بندہ شمار ہوسکے۔ گویا کہ مومن بظاہر تو دنیا میں زندگی بسر کر رہا ہے لیکن اعتقادی اور فکری طور پر اپنے آپ کو میدان محشر میں اپنے رب کے حضور سمجھتا ہے۔ نماز خود احتسابی کا مؤثر ترین ذریعہ ہے۔ حضرت عمر ؓ اپنی حکومت کے اہل کاروں کو فرمایا کرتے تھے کہ میں تمہاری کارکردگی کو نماز کی حفاظت کے آئینہ میں دیکھتا ہوں۔ (سیرت الفاروق) کیونکہ جو شخص نماز کی پابندی اور اسے احسن انداز سے ادا نہیں کرتا وہ اپنی دوسری ذمّہ داریاں پوری کرنے میں بھی کوتاہی کا مرتکب ہوگا۔ انسان کی معاشرتی ذمہ داریوں کی ابتداو انتہا اس کے اہل خانہ کے حوالے سے ہوا کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : (خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِأَھْلِہٖ وَأَنَا خَیْرُکُمْ لِأَھْلِیْ ) [ رواہ الترمذی : کتاب المناقب عن رسول اللہ ] ” وہی شخص اعلیٰ اخلاق و کردار کا مالک ہے جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ بہتر طریقے سے رہتا ہے اور میں تم سے اپنے گھر والوں کے معاملہ میں بہتر ہوں۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں معاشرتی اور ازدواجی مسائل کے درمیان حفاظت نماز کے حکم کا یہی منشا ہے۔ کہ آدمی اپنی ذمہ داریوں کو پہچانے۔ صلوۃِ وسطیٰ سے مراد اکثر اہل علم کے نزدیک عصر کی نماز ہے۔ کیونکہ نبی محترم ﷺ نے غزوۂ خندق کے موقع پر کفار کو ملعون کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اللہ ان کا ستیا ناس کرے کہ انہوں نے آج ہماری نماز وسطیٰ کو بھی مؤخر کرادیا ہے۔ [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب غزوۃ الخندق ] نماز عصر کی اہمیت اور فضیلت اس لیے زیادہ ہے کہ گھر پلٹنے والا مسافر گھر پہنچنے کے لیے تیز گام ہوجاتا ہے۔ دفتر سے رخصت کا وقت دن کا پچھلا پہر ہی ہوا کرتا ہے۔ کاروباری لوگ ذہنی طور پر عصر کے وقت ہی معاملات سمیٹنے کی کوشش میں ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ مزدوری کا اختتام اور مالک سے معاوضہ لینے کا بھی یہی وقت ہوتا ہے۔ گویا کہ یہ وقت ہجوم کار کا سنگھم اور ان کی انتہا ہے۔ اس لیے اس نماز کے فوت یا مؤخر ہونے کے زیادہ خدشات ہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ جس کی نماز عصر ضائع ہوگئی گویا اس کی تمام دن کی کمائی غارت ہوگئی۔ [ رواہ البخاری : کتاب مواقیت الصلاۃ، باب إثم من فاتتہ العصر ] جس طرح مزدوردن کے آخر میں معاوضے کا طلب گار ہوتا ہے یہی صورت نمازی کی ہے کہ اس وقت ملائکہ اللہ تعالیٰ کے حضور آدمی کے سارے دن کی رپورٹ پیش کرتے ہیں۔ گویا کہ جس کی نماز عصر ضائع ہوئی وہ اس دن اللہ تعالیٰ سے اجر لینے میں محروم رہے گا۔ نماز کی ادائیگی کے بارے میں یہ حکم دیا ہے کہ نہایت خاموشی اور عاجزی کے ساتھ اللہ کے حضور کھڑا ہواجائے۔ نماز میں بےجاحرکت نہیں کرنا چاہیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا : (اُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلٰی سَبْعَۃٍ لَاأَکُفُّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا)[ رواہ البخاری : کتاب الاذان ] ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں اور بالوں اور کپڑوں کو نہ لپیٹوں۔ “ یہاں نماز خوف کا طریقہ بھی بتلایا ہے کہ اگر انتہائی خطر ناک اور ہنگامی حالات ہوں تو سواری پر نماز ادا کی جاسکتی ہے۔ البتہ امن کی حالت میں پہلے طریقے پر ہی نماز ادا کی جائے گی۔ نماز خوف کے ہنگامی حالات کے مطابق کئی طریقے احادیث کی کتابوں میں موجود ہیں جن کی تفصیل إن شاء اللہ سورة المائدۃ میں آئے گی۔ حالت جنگ میں اللہ تعالیٰ کو زیادہ سے زیادہ یاد کرنا چاہیے۔ فاذْکُرُوا اللّٰہ سے مراد نماز کے بعد کے اذکار ہوسکتے ہیں نماز اسی طرح پڑھو اور قائم کرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کی تعلیم دی ہے۔[ تفسیر ابن کثیر ] مسائل ا۔ نمازوں کی حفاظت کرنا چاہیے بالخصوص عصر کی نماز کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔ 2۔ نماز میں عاجزی کے ساتھ کھڑا ہونا اور بلا وجہ حرکات نہیں کرنا چاہیے۔ 3۔ نماز کے بعد اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہیے۔
Ayahs 2:240–242

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا١ۖۚ وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ١ۚ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:240 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ وصیت کر جائیں کہ ان کی بیویاں سال بھر تک فائدہ اٹھائیں اور گھر سے نہ نکالی جائیں ‘ ہاں اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں جو وہ اپنے لیے بہتر سمجھیں اللہ تعالیٰ بڑا غالب اور حکیم ہے

وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:241 in the Quran reader

اور طلاق والیوں کو اچھی طرح فائدہ پہنچانا پرہیزگاروں پر لازم ہے

كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 2:242 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ اسی طرح اپنی آیات تمہارے لیے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھو

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ مضمون۔ جس عورت کا خاوند فوت ہوتے وقت وصیت کرجائے کہ اسے ایک سال گھر سے نہ نکالا جائے تو اس صورت میں اسے شوہر کے گھر رہنے اور نان و نفقہ کی ذمہ داریاں وارثوں پر ہوں گی۔ اگر وہ اپنے طور پر اپنے میکے یا کہیں اور رہنے کا انتظام کرے تو وارثوں پر اس کا کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اس حکم کے بارے میں تمام مفسرین کا خیال ہے کہ جب بیوہ کو باضابطہ طور پر اس کے فوت شدہ خاوند کی وراثت میں حصہ دار بنا دیا گیا تو یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی اپنے احکام کے بارے میں ترمیم واضافہ کرنے کا حق رکھنے اور ان کی حکمت کو سمجھنے والا ہے۔ آخر میں پھر ہدایت کی جارہی ہے کہ مطلقہ عورتوں کے ساتھ حسن سلوک اور تعاون کرنا صاحب تقو ٰی لوگوں کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ اس لیے اپنے احکامات کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ لوگ دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاندانی الجھنوں اور آخرت کی سختیوں سے مامون ہوجائیں۔ مسائل 1۔ بیوہ اپنی عدّت کے بعد رہائش کا فیصلہ کرنے میں خود مختار ہے۔ 2۔ مطلقہ عورتوں کو اچھے انداز میں فائدہ پہنچانا لازم ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے احکام پر غور و خوض کرنا چاہیے۔
Ayahs 2:243–244

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ١۪ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا١۫ ثُمَّ اَحْیَاهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:243 in the Quran reader

کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا جو ہزاروں کی تعداد میں تھے اور موت کے ڈر کے مارے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا کہ مرجاؤ پھر انہیں زندہ کردیا بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے ‘ لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:244 in the Quran reader

اللہ کی راہ میں جہاد کرو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ خوب سننے اور خوب جاننے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : نیاخطاب بدر، احد سے پہلے مسلمانوں کو جہاد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے سورة البقرۃ آیت : 191 تا 193 میں دفاعی جنگ کا حکم دیا گیا تھا اور یہاں بھی ایسے تناظر میں جہاد کا ذکر ہورہا ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں پر جنگ مسلط کردی جائے تو انہیں موت کی پروا کیے بغیردشمن کے مقابلے میں ڈٹ جانا چاہیے۔ کیونکہ بات کا آغاز ہی بنی اسرائیل کے اس واقعے سے کیا جارہا ہے جو ہزاروں کی تعداد میں اپنے گھروں سے صرف اس لیے نکلے تھے کہ کہیں یہاں رہتے ہوئے انہیں موت نہ دبوچ لے۔ چند اہل علم کو چھوڑ کر باقی سب نے ایک خاص واقعے اور علاقے کا ذکر کیا ہے کہ وہاں بنی اسرائیل پر طاعون کی وبا پھیلی اور وہ موت کے خوف سے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس حرکت کو ناپسند کرتے ہوئے ان پر موت وارد کی اور وہ سب کے سب موت کی آغوش میں چلے گئے۔ ایک مدت گزرنے کے بعد حضرت سموئیل (علیہ السلام) کی دعا کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندگی عطا کی۔ اس واقعہ سے بیک وقت دو نتائج لوگوں کے سامنے رکھے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ اسی طرح مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے۔ اور دوسری یہ بات بتلائی کہ جو لوگ موت سے ڈر کر اپنے گھروں سے نکلے تھے موت نے انہیں آلیا۔ یاد رکھو ہر کسی کی موت کا وقت اور مقام مقرر ہے وہ اس سے بھاگ نہیں سکتا بلکہ ان لوگوں کی طرح چل کر خود ہی موت کے مقام تک پہنچ جائے گا اس لیے بزدلوں کی طرح دشمن کے آگے بھاگنے اور بھیڑ بکریوں کی طرح اس کے ہاتھوں قتل ہونے کی بجائے دشمن کے سامنے ڈٹ جاؤ۔ موت تو اپنے وقت اور مقام پر ہی آئے گی۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اپنی قدرت کے معجزات اس لیے دکھاتا ہے تاکہ وہ ہدایت پاکر اس کا شکریہ ادا کریں لیکن اکثر لوگ شکر گزار نہیں ہوتے۔ مرنے کے بعد اٹھنا قرآن مجید کا بنیادی نظریہ ہے جس کے ثبوت میں یہ دوسراواقعہ بیان ہورہا ہے۔ اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شریعت محمدی کی طرح بنی اسرائیل کے لیے بھی یہی قانون تھا کہ اگر کسی علاقے میں طاعون یا کوئی وبا پھیل جائے تو اسے چھوڑنا نہیں چاہیے۔ حضرت اسامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلطَّاعُوْنُ رِجْسٌ أُرْسِلَ عَلٰی طَآءِفَۃٍ مِّنْ بَنِیْ إِسْرَآءِیْلَ أَوْ عَلٰی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِہٖ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوْا عَلَیْہِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِھَا فَلَا تَخْرُجُوْا فِرَارًا مِّنْہُ ) [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب حدیث الغار ] ” طاعون عذاب ہے جو بنی اسرائیل یا تم سے پہلے کسی قوم پر بھیجا گیا۔ جب تمہیں معلوم ہو کہ فلاں علاقے میں طاعون کی بیماری پھیل گئی ہے تو وہاں نہ جاؤ۔ اگر تمہارے علاقے میں طاعون کی وباپھوٹ پڑے تو وہاں سے فرار اختیار نہ کرو۔ “ طاعون کی بیماری کے وقت اپنا گھر بار چھوڑ کر نکلنے کا اس لیے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ موت کا وقت مقرر ہے جو کسی بنا پر بھی آگے پیچھے نہیں ہوسکتا قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے جرائم کی وجہ سے پکڑنا چاہے تو زمین میں ایک جاندار بھی باقی نہ رہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی موت تک مہلت دیتا ہے جب موت کا وقت آجاتا ہے تو لوگوں کی اجل ایک لمحہ بھی آگے پیچھے نہیں ہوا کرتی۔ سورة لقمان آیت 34 میں فرمایا ” ہر کسی کی مرنے کی جگہ مقرر ہوچکی ہے کوئی شخص موت کے مقام سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتا۔ “ طاعون سے شاید اس لیے بھی فرار کی اجازت نہیں دی کہ اس طرح مخصوص علاقہ کے جراثیم دور تک پھیلنے کا خدشہ ہوسکتا ہے۔ مسائل 1۔ موت سے بھاگنے والا موت کی ہی طرف جاتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہی مارنے اور زندہ کرنے والا ہے۔ 3۔ اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کے شکرگزار نہیں ہوتے۔ 4۔ جہاد صرف اللہ کے لیے ہونا چاہیے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھنے والا اور ہر بات کو سننے والا ہے۔ دنیا میں مر کر دوبارہ زندہ ہونے والوں کے واقعات اور دلائل البقرہ آیت 259 کے تحت دیکھیں۔
Ayah 2:245

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةً١ؕ وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ١۪ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:245 in the Quran reader

کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دے پھر اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑھا چڑھا کر لوٹائے ‘ اللہ ہی تنگی اور کشادگی پیدا کرتا ہے۔ اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے

فہم القرآن ربط کلام : جہاد میں مال کی بڑی اہمیت ہے لہٰذا دفاعی فنڈ میں حصہ لینا اللہ تعالیٰ کو قرض دینے کے برابر ہے۔ جہاد کے لیے مجاہد کی جسمانی جدوجہد کے ساتھ جو اہم ترین چیز ہے وہ مال ہے۔ جہاد میں مال اور جان دونوں لازم وملزوم ہیں۔ دشمنوں کے مقابلے میں نہتا مجاہد کب تک لڑ سکتا ہے ؟ اس لیے اسلحہ اس کی پہلی اور بنیادی ضرورت ہے۔ اسلحہ مال کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس کے ساتھ ہی مجاہد کے لیے فوجی لباس، طعام، سواری یہاں تک کہ اس کے بال بچوں کے اخراجات کی بھی ضرورت ہے۔ ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مال ناگزیر ہے اس لیے قرآن مجید میں اکثر مقامات پر جہاد بالنفس سے پہلے جہاد بالمال کا حکم ہوا ہے۔ یہ مال بظاہر تو مجاہد کی ضروریات پر خرچ ہوتا ہے لیکن حقیقتاً یہ اللہ تعالیٰ کو قرض دینے کے مترادف ہے کیونکہ مجاہد کو اللہ ہی کے لیے جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے جہاد فی سبیل اللہ پر خرچ کرنے کو اپنی ذات عالی کو قرض دینا قرار دیا ہے۔ لیکن جس طرح جہاد محض فی سبیل اللہ ہونا چاہیے اس طرح قرض بھی کسی اور غرض کی بجائے اللہ ہی کی رضا کے لیے دینا چاہیے۔ یہی قرض حسنہ کا معنٰی ہے کہ جس کے دینے میں کوئی ذاتی غرض نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کا ذرا تصور کیجیے کہ جو کچھ اس نے بندوں کو عطا کیا ہے وہ اسی کی مہربانی ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ اپنا عطا کیا ہوا مال اپنے بندوں سے قرض کے طور پر حاصل کرتا ہے اس شرط کے ساتھ کہ تم جس ذات کریم کو قرض دے رہے ہو وہ تمہیں کئی گنا اضافے کے ساتھ واپس لوٹائے گی۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے مال دیتے ہوئے کمی کا خوف محسوس نہ کرو۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تمہارے مال کو کسی اور طریقے سے کم کرسکتا ہے۔ زمیندار ہے تو فصل تباہ ہونے کی شکل میں، دکاندار ہے تو خسارے کی صورت میں، تنخواہ دا رہے تو بیماری اور حادثے کی شکل میں ‘ تاجر ہے تو نقصان کی صورت میں مال میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ اس طرح کسی بھی حادثے کے ذریعے مال کم ہوسکتا ہے۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو اس کے لیے کمی کرنا کوئی مشکل نہیں وہ بڑھانے اور کم کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔ طبع انسانی میں یہ بات ہمیشہ موجود رہتی ہے کہ اسے آنے والے کل کے لیے کچھ جمع کرنا چا ہے کیونکہ آج وہ صحت مند اور صاحب روز گار ہے۔ نہ معلوم آنے والے وقت میں اس کے ساتھ کیا حا دثہ پیش آجائے۔ اس فکر کی بنا پر ہر آدمی کچھ نہ کچھ بچا کر رکھنے کا عا دی ہوتا ہے تاکہ کل خود اور اس کے اہل و عیال اس مال سے مستفید ہو سکیں۔ اس طرح کی انشور نس کے لیے دنیا میں بیشمار ناجائز سکیمیں جاری ہیں۔ مسلمان کا جب یہ عقیدہ ہے کہ یہ دنیا عا رضی ہے اور موت کے بعد لا محدود زندگی کا آغاز ہونے والا ہے اور اس کا انحصار اعمال کے نتا ئج پر ہوگا تو صحیح فہم و فراست کا تقاضا ہے کہ آدمی اس جہان کے لیے ضرور اہتمام کرے جس کی کوئی انتہا نہیں۔ اسی انشورنس کی بنیاد پر ہی اسے آخرت کی مراعات میسر ہوں گی گویا کہ صدقہ و خیرات آدمی کے لیے الٰہی انشورنس کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس انشورنس کی ضمانت اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے۔ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍمِنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ وَلَا یَقْبَلُ اللّٰہُ إِلَّا الطَّیِّبَ وَإِنَّ اللّٰہَ یَتَقَبَّلُھَا بَیَمِیْنِہٖ ثُمَّ یُرَبِّیْھَا لِصَاحِبِہٖ کَمَا یُرَبِّيْ أَحَدُکُمْ فَلُوَّہٗ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الزکاۃ، باب الصدقۃ من کسب طیب ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے پاکیزہ کمائی سے ایک کھجور کے برابر بھی صدقہ کیا اور اللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ چیز ہی قبول فرماتے ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لیتے ہیں پھر اس کو صدقہ کرنے والے کے لیے بڑھاتے رہتے ہیں جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھٹرے کی پرورش کرتا ہے یہاں تک کہ آدمی کا کیا ہوا صدقہ پہاڑ کی مانند ہوجاتا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے صدقہ کرنا اللہ تعالیٰ کو قرض دینے کے مترادف ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ رزق کم اور زیادہ کرنے والا ہے۔ 3۔ ہر کسی نے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے۔ تفسیر بالقرآن بہترین قرض حسنہ : 1۔ اللہ کو قرض حسنہ دینے کا حکم۔ (المزمل : 20) 2۔ اللہ اسے بڑھا کر واپس کرے گا۔ (الحدید : 11) 3۔ اللہ اسے سات سو گناہ سے بھی زیادہ بڑھائے گا۔ (البقرہ : 261) 4۔ صدقہ صرف اللہ کی رضا کے لیے دینا چاہیے۔ (البقرۃ : 265)
Ayah 2:246

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:246 in the Quran reader

کیا تم نے موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کی جماعت کو نہیں دیکھا جب انہوں نے اپنے پیغمبر سے کہا کسی کو ہمارا بادشاہ بنا دیجئے تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ پیغمبر نے فرمایا کہ ممکن ہے کہ جہاد فرض ہوجانے کے بعد تم جہاد نہ کرو انہوں نے کہا ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد نہ کریں حالانکہ ہم تو اپنے گھروں سے نکالے گئے ہیں اور بچوں سے دور کردیے گئے ہیں۔ پھر جب ان پر جہاد فرض ہوا تو سوائے چند لوگوں کے سب پھرگئے اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو خوب جانتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ مضمون سے پیوستہ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل کی بد اعمالیوں کی بنا پر ان پر قوم عمالقہ کو مسلط کردیا گیا۔ جنہوں نے بنی اسرائیل پر پے در پے حملے کیے اور ان کو بیت المقدس سے نکال دیا۔ یہ در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوئے۔ بنی اسرائیل کا شیرازہ اس طرح بکھر کر رہ گیا کہ باپ بیٹے اور بھائی بھائی کا چہرہ دیکھنے کو ترستا گیا۔ قرآن مجیدان حالات کا نقشہ انہی کی زبان سے بیان کررہا ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر سے جہاد کے لیے کمانڈر کا مطالبہ کیا۔ وقت کے پیغمبر نے انہیں سمجھایا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر جہاد فرض کردیا جائے اور تم جہاد کرنے سے انکار کرنے لگو ؟ انہوں نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اللہ کے راستے میں جہاد کرنے سے جی چرائیں۔ جب کہ ہم پر اس قدر ظلم ہوا ہے کہ ہمیں ہمارے گھروں سے نکال دیا گیا اور ہم اپنے بچوں سے الگ کردیئے گئے ہیں۔ یاد رہے قوموں کے عروج وزوال کا دارومدار غرباء اور ضعفاء پر نہیں ہوا کرتا۔ یہ طبقہ تو عضو محض اور لکیر کا فقیر ہوتا ہے قوم کی ترقی وتنزل کا تعلق قوم کے کھاتے پیتے اور سربرآوردہ لوگوں پر ہوا کرتا ہے اگر یہ طبقہ باشعور اور بہتر فکر وعمل کا حامل ہو تو قوم ترقی کی منازل طے کیا کرتی ہے۔ جب یہ لوگ عیاش، بدکردار اور بےعمل ہوجائیں تو قوم کی تباہی یقینی ہوجاتی ہے۔ بنی اسرائیل کے حالات جب بہتر ہونے کو آئے تو ان کے سرداروں نے اس بات کا احساس کیا کہ ہمارا ملک چھن گیا ہے اور ہم در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ہمارے لیے بہتر ہے کہ ذلت کی موت مرنے کے بجائے شہادت کی باعزت موت مرجائیں چناچہ انہوں نے اپنے پیغمبر سے مضبوط اور جوان قیادت کا مطالبہ کیا۔ وقت کا پیغمبر بوڑھا ہوچکا تھا جس بنا پر اللہ تعالیٰ نے نبی کی دعا اور قوم کے مطالبہ پر طالوت کو ان کا کمانڈر مقرر فرمادیا کیونکہ جب تک ایک اور مضبوط قیادت نہ ہو قوم ترقی نہیں کرسکتی۔ جنگ کی تمنا نہ کیا کرو (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ لَاتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ فَإِذَا لَقِیْتُمُوْھُمْ فَاصْبِرُوْا) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر، باب لاتمنوا لقاء العدو ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان فرماتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا : دشمن سے ٹکرانے کی آرزو نہ کرو اور جب تمہارا ان سے سامنا ہوجائے تو پھر جم جاؤ۔ “ قوم کی تباہی کا باعث طبقہ (وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا فِيْ کُلِّ قَرْیَۃٍ أَکٰبِرَ مُجْرِمِیْھَا لِیَمْکُرُوْا فِیْھاَط وَمَا یَمْکُرُوْنَ إِلَّا بِأَنْفُسِھِمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ ) [ الأنعام : 123] ” اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں وہاں کے رئیسوں ہی کو جرائم کا مرتکب بنایا تاکہ وہ لوگ وہاں فریب کریں۔ اور وہ لوگ اپنے ہی ساتھ فریب کررہے ہیں اور ان کو ذرا خبر نہیں۔ “ (وَکَمْ أَھْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَھَاج فَتِلْکَ مَسٰکِنُھُمْ لَمْ تُسْکَنْ مِّنْ بَعْدِھِمْ إِلَّا قَلِیْلًا ط وَکُنَّا نَحْنُ الْوَارِثِیْنَ ) [ القصص : 58] ” اور ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کردیں جو اپنی عیش و عشرت میں اترانے لگی تھیں، یہ ہیں ان کی رہنے کی جگہیں جو ان کے بعد بہت ہی کم آباد کی گئیں اور ہم ہی ہیں آخر سب کے وارث۔ “ (فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَکْبَرُوْا فِي الْأَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَقَالُوْا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃًط أَوَلَمْ یَرَوْا أَنَّ اللّٰہَ الَّذِيْ خَلَقَھُمْ ھُوَ أَشَدُّ مِنْھُمْ قُوَّۃً ط وَکَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ ) [ حمٓ السجدۃ : 15] ” اب عاد نے بےوجہ زمین میں سرکشی شروع کردی اور کہنے لگے کہ ہم سے زور آور کون ہے ؟ کیا انہیں یہ نظر نہ آیا کہ جس نے انہیں پیدا کیا ہے وہ ان سے (بہت ہی) زیادہ زور آور ہے۔ اور وہ ہماری آیات کا انکار کرنے والے تھے۔ “ مسائل 1۔ ارباب حل و عقد ہی قوموں کے بگاڑ و سنوار کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ 2۔ مظلوم کو ظالم کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔ 3۔ جہاد کرنے والے لوگ تھوڑے ہی ہوا کرتے ہیں۔
Ayahs 2:247–248

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:247 in the Quran reader

اور انہیں ان کے نبی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا دیا ہے تو کہنے لگے بھلا اس کی ہم پر کیسے بادشاہت ہوسکتی ہے ؟ اس سے زیادہ بادشاہت کے ہم حق دار ہیں۔ اس کے پاس تو زیادہ مال نہیں۔ نبی نے فرمایا سنو اللہ تعالیٰ نے اسی کو تم پر مقرر کیا ہے اور اسے علمی اور جسمانی برتری عطا فرمائی ہے اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنا ملک عطا کرتا اللہ تعالیٰ کشادگی اور علم والا ہے

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 2:248 in the Quran reader

ان کے نبی نے انہیں پھر فرمایا کہ اس کی بادشاہت کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے اس میں اطمینان ہے اور آل موسیٰ اور آل ہارون کا ترکہ ہے اسے فرشتے اٹھا کر لائیں گے۔ یقیناً یہ تمہارے لیے کھلی نشانی ہے اگر تم ایمان والے ہو

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ وہی ہوا جس کا پیغمبر نے خدشہ ظاہر کیا تھا۔ جب سرداران قوم کے مطالبہ پر جناب طالوت کو ان کا بادشاہ مقرر کردیا گیا تو بنی اسرائیل حسب عادت بہانے تراشتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ ہمارا بادشاہ بن جائے ؟ جب کہ اس کے پاس مال واسباب کی فراوانی نہیں۔ پیغمبر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جسمانی اور علمی صلاحیتوں سے تم پر برتری عطا فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے حکومت سے سرفراز کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔ لیکن اس کے باوجود انہیں اطمینان نہ ہوا انہوں نے یہ مطالبہ کرڈالا کہ اس کے سربراہ ہونے کی کوئی نشانی ہونی چاہیے۔ حضرت شمویل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس کے بادشاہ ہونے کی نشانی یہ ہے کہ وہ صندوق جو تم سے چھن چکا ہے اسے فرشتے اٹھائے ہوئے تمہارے پاس لائیں گے جس میں تمہارے رب کی طرف سے سامان اطمینان ‘ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے تبرکات اور وہ عصا بھی اس میں موجود ہوگا جسے موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے حکم سے پھینکتے تو اژدہا بن جاتا۔ اس کے ذریعے پانی جاری ہوتا اور کبھی اس سے دریا کی لہریں اس طرح تھم گئیں کہ درمیان میں خشک اور ہموار راستے بن گئے۔ اگر تم تسلیم کرنے والے ہو تو طالوت کی تائید میں یہ بہت بڑے دلائل وبراہین ہیں۔ بالآخر انہوں نے جناب طالوت کی سر کردگی کو قبول کرلیا۔ اس واقعہ سے دنیا پرست مال داروں کی ذہنیت کا پتہ چلتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ قیادت بھی سرمایہ کی بنیاد پر ان کا حق بنتا ہے۔ حالانکہ قائد میں علم و فراست اور جسمانی قوت و صلاحیت کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ اس کی دیانت وامانت بھی مسلّمہ ہونی چاہیے۔ یہاں تک کہ اس میں منصب کی خواہش بھی نہیں ہونا چاہیے۔ (عَنْ أَبِيْ مُوْسٰی ؓ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَرَجُلَانِ مِنْ قَوْمِيْ فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَیْنِ أَمِّرْنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَقَالَ الْآخَرُ مِثْلَہٗ فَقَالَ إِنَّا لَانُوَلِّيْ ھٰذَا مَنْ سَأَلَہٗ وَلَا مَنْ حَرَصَ عَلَیْہِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الأحکام، باب مایکرہ من الحرص علی الإمارۃ ] ” حضرت ابو موسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرے قبیلے کے دو آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ دونوں میں سے ایک نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے عہدہ دیجیے اور دوسرے نے بھی ایسا ہی مطالبہ کیا آپ ﷺ نے فرمایا : یقینًا ہم ایسے شخص کو عہدہ نہیں دیتے جو عہدہ طلب کرے اور نہ ہی ایسے شخص کو عہدہ دیتے ہیں جو عہدے کا حریص ہو۔ “ حکمران کے اوصاف (1) مسلمان ہو : قرآن کریم میں اولوالامر کا مسلمان ہونا شرط قرار دیا گیا ہے۔[ النساء : 59] لہٰذا امیر کا مسلمان ہونا بدرجۂ اولیٰ ضروری ہے۔ کیونکہ غیر مسلموں کو اپنے معاملات میں دخیل اور شریک کرنا جائز نہیں ہے۔ [ آل عمران : 118، التوبۃ : 16] (2) مرد ہو : مرد عورتوں پر حاکم ہیں۔[ النساء : 34] رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی جس نے عورت کو اپنا حاکم بنا لیاہو۔[ رواہ البخاری : کتاب الفتن، باب الفتنۃ التی تموج کموج البحر ] رسول اللہ ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ جب تمہارے معاملات عورتوں کے حوالے کردیے جائیں تو تمہارے لیے پھر موت ہی بہتر ہے۔[ رواہ الترمذی ] فقہائے اسلام کا اس بات پر اجماع ہے کہ عورت خلیفہ اور سربراہ حکومت نہیں بن سکتی۔ (3) عادل اور صالح ہو : قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے کہ ظالم لوگ مسلمانوں کی امامت اور قیادت کے مستحق نہیں ہیں۔[ البقرۃ : 124] غافل اور مسرفین ومفسدین کی اطاعت جائز نہیں ہے۔[ الکہف : 28، الشعراء : 151، 152] اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محترم وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہو۔[ الحجرات : 13] (4) صاحب علم ہو : قرآن کریم میں اولوا لامر کے لیے استنباط اور اجتہادی بصیرت کا حامل ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ [ النساء : 83] قیادت کے لیے علمی اور جسمانی صلاحیتوں کا ہونا ضروری ہے۔[ البقرۃ : 247] عالم اور غیر عالم برابر نہیں ہیں۔[ الزمر : 9] (5) آزاد ہو : یعنی کسی کا غلام، ہمہ وقتی ملازم اور قیدی نہ ہو اور فرائض کی ادائیگی کے لیے فارغ ہو۔ (6) بالغ ہو : نابالغ بچہ اس بوجھ کو جسمانی اور ذہنی کمزوری کی وجہ سے نہیں اٹھاسکتا۔ اس لیے نادان اور نابالغ بچوں کو اپنے مال میں تصرف کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔[ النساء : 5] (7) عاقل ہو : دماغی طور پر مریض نہ ہو۔ (8) سلیم الاعضاء ہو : جسمانی طور پر ناکارہ شخص یہ عظیم خدمت انجام نہیں دے سکتا۔ (9) دلیر اور شجاع ہو : بزدل شخص نہ ملک کا دفاع کرسکتا ہے اور نہ امن قائم کرسکتا ہے۔ (10) معاملہ فہم ہو : حالات سے باخبر اور معاملہ فہم ہو۔
Ayah 2:249

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader

جب طالوت لشکروں کو لے کر نکلے تو کہا سنو اللہ تعالیٰ تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے جس نے اس میں سے پانی پی لیا وہ میرا نہیں اور جو اس سے نہ چکھے وہ میرا ساتھی ہے۔ ہاں یہ کہ اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے لیکن چند لوگوں کے سوا باقی سب نے پانی پی لیا۔ طالوت مومنوں کے ساتھ جب نہر سے گزر گئے تو وہ لوگ کہنے لگے آج تو ہم میں طاقت نہیں کہ جالوت اور اس کے لشکروں سے لڑائی کریں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی ملاقات پر یقین رکھنے والوں نے کہا بسا اوقات چھوٹی سی جماعت بڑی جماعت پر اللہ کے حکم سے غالب آجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

فہم القرآن ربط کلام : واقعہ طالوت و جالوت کی تفصیل جاری ہے۔ جناب طالوت قوم کے حالات اور عادات کو جانتے تھے اس لیے انہوں نے مناسب سمجھا کہ پہلے ان کی آزمائش کرنا چاہیے تاکہ دشمن کے مقابلے میں ان کی طاقت و صلاحیت کا اندازہ لگایا جاسکے۔ اسی سے ٹریننگ اور فوجی مشقوں کا اصول نکلا ہے۔ جنا بِ طالوت نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارے راستے میں ایک نہر آنے والی ہے اور وہ نہر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے آزمائش ہوگی۔ جس نے نہر سے سیر ہو کر پانی پی لیا وہ میرا ساتھی نہیں ہوگا چلو بھر پانی پینا تمہارے لیے جائز قرار دیا گیا ہے۔ جو نہی وہ نہر کے کنارے پہنچے تو چند لوگوں کو چھوڑ کر ان کی اکثریت نے خوب سیر ہو کر پانی پیا۔ جنہوں نے پانی نہیں پیا تھا ان کی تعداد تین سو تیرہ (313) تھی۔ (عَنِ الْبَرَاءِ ؓ قَالَ کُنَّا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ ﷺ نَتَحَدَّثُ أَنَّ عِدَّۃَ أَصْحَابَ بَدْرٍ عَلٰی عِدَّۃِ أَصْحَابِ طَالُوْتَ الَّذِیْنَ جَاوَزُوا النَّھْرَ وَلَمْ یُجَاوِزُوْا مَعَہٗ إِلَّا مُؤْمِنٌ بِضْعَۃَ عَشَرَ وَثَلَاث ماءَۃٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب المغازی : باب عدۃ أصحاب بدر ] ” حضرت براء ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت رسول کریم ﷺ کے ساتھی باہم گفتگو کیا کرتے تھے کہ اصحاب بدر کی تعداد طالوت کے ان ساتھیوں کی تعداد کے برابر تھی جنہوں نے نہر پار کی تھی اور ان کے ساتھ صرف 313 مومن تھے۔ “ جب ان کا سامنا جالوت کی فوج کے ساتھ ہوا تو سیر ہو کر پانی پینے والوں نے لڑنے سے انکار کردیا۔ بعض مفسرین نے اسرائیلی روایات کے حوالے سے لکھا ہے کہ سیر ہو کر پانی پینے والوں کے پیٹ پھول گئے۔ جب فوجوں کا آمنا سامنا ہوا تو انہوں نے جہاد سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ہم میں جالوت کے لشکر کے ساتھ لڑنے کی ہمت نہیں ہے۔ اس صورت حال سے عہدہ برآ ہونے اور بزدلوں کو جہاد پر آمادہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر سچا یقین رکھنے والے مجاہدوں نے کم ہمت لوگوں کو بار بار سمجھایا کہ کم ہمتی اور بزدلی نہ دکھاؤ۔ ہمت کرو اور یقین جانو کہ تاریخ میں بار ہا دفعہ ایسا ہوا کہ قلیل جماعتیں کثیر جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غالب آتی رہی ہیں۔ یہ ایسی حقیقت ہے کہ اسلام کا تابناک ماضی اس پر گواہ ہے کہ مسلمان اسلحہ اور افرادی قوت کے اعتبار سے کبھی بھی اپنے دشمن سے زیادہ نہیں رہے لیکن جب تک یہ منظم ‘ مستقل مزاج، پر عزم، صاحب کردار اور حوصلہ مند یعنی صابر رہے یہی غالب آتے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مستقل مزاج لوگوں کا ساتھ دیا کرتا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ مختلف طریقوں کے ساتھ لوگوں کو آزماتا ہے۔ 2۔ دشمن کے مقابلے سے پہلے ٹریننگ اور تربیت حاصل کرنا ضروری ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی مدد سے قلیل کثیر پر غالب آیا کرتے ہیں۔ 4۔ اللہ کے نافرمان بزدل ہوتے ہیں۔ 5۔ اللہ تعالیٰ حوصلہ مند لوگوں کی مدد فرماتا ہے۔ 6۔ جناب طالوت کے ثابت قدم رہنے والے ساتھی 313 تھے۔ 7۔ آزمائش کے وقت ایک دوسرے کو ثابت قدم رہنے کی تلقین کرنا چاہیے۔
Ayahs 2:250–251

وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader

جب ان کا جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ ہوا تو انہوں نے دعا مانگی کہ اے پروردگار ! ہمیں صبردے ‘ ثابت قدمی دے اور کفار پر ہماری مدد فرما

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader

چناچہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہوں نے جالوت کے لشکر کو شکست دی اور حضرت داوٗد (علیہ السلام) کے ہاتھوں جالوت قتل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے داؤد کو مملکت و حکمت اور جتنا کچھ چاہا علم بھی عطا فرمایا۔ اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض سے نہ ہٹاتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا لیکن اللہ تعالیٰ دنیا والوں پر بڑا فضل و کرم کرنے والا ہے

فہم القرآن جب طالوت کے لشکر کا جالوت کے لشکروں کے ساتھ آمنا سامنا ہوا تو جذبۂ ایمان سے سرشارمجاہد اپنے رب کے حضور دعائیں مانگنے لگے کہ بار الٰہا ! ہمیں حوصلہ، ثابت قدمی اور کفار پر غلبہ عطا فرما ! سو اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ جناب داوٗد (علیہ السلام) نے کفار کے کمانڈر جالوت کو قتل کیا۔ جس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت داوٗد (علیہ السلام) کو بہت بڑی مملکت سونپتے ہوئے نبوت سے سرفراز فرمایا۔ یہ وہی داوٗد (علیہ السلام) ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) جیسا بیٹا عطا فرمایا جو پیغمبر بھی تھے اور حکمران بھی۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنا علم وفضل عطا کرتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے نہ ہٹائے تو زمین پر فساد عظیم برپا ہوجائے لیکن اللہ تعالیٰ اہل جہاں پر انتہائی فضل فرمانے والا ہے۔ بنی اسرائیل کے ان دو واقعات میں ایک طرف اہل مکہ کے مظالم کی طرف اشارہ ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کو بتلایا جارہا ہے کہ تمہیں بنی اسرائیل کی طرح جنگ کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے۔ بیشک تمہارے ساتھ اہل مکہ وہی کچھ کر رہے ہیں جو عمالقہ نے بنی اسرائیل کے ساتھ کیا تھا۔ ہاں اگر تم پر جنگ مسلط کردی جائے تو بنی اسرائیل کے ایمان دار مجاہدوں کی طرح تمہیں بھی پوری غیرت اور جرأت کے ساتھ ڈٹ جانا چاہیے۔ جیسے انہوں نے میدان کارزار میں اترنے سے پہلے اپنے رب سے نصرت و حمایت طلب کی تھی تمہیں بھی اپنے رب کی نصرت ودستگیری مانگنا چاہیے جس طرح بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے دشمن کے مدّ مقابل ہونے کے بعد اپنے کمانڈر سے غداری کی تھی۔ ایسے ہی حالات تمہیں بھی درپیش ہوسکتے ہیں جو تھوڑے ہی عرصہ کے بعد احد میں منافقین کے کردار کی وجہ سے پیش آئے۔ جب منافقین کفار کو دکھا دکھا کر ٹولیوں کی صورت میں مسلمانوں سے الگ ہوئے تھے۔ وہ طالوت کی سربراہی پر یہ کہہ کر معترض ہوئے تھے کہ اس کے پاس مال نہیں۔ منافق یہ کہہ کر الگ ہوئے تھے کہ اس موقع پر مدینہ میں رہ کر لڑنے کی ہماری تجویز تسلیم نہیں کی گئی ہے۔ حالانکہ رسول مکرم ﷺ بھی مدینہ میں رہ کر دفاع کرنے کے حق میں تھے لیکن مسلمانوں کی بھاری اکثریت کا احترام کرتے ہوئے میدان احد میں تشریف لے گئے۔ طالوت کے ساتھیوں کی طرح مکہ والے بھی یہی کہتے تھے کہ یہ نبی تو غریب ہے پیغمبری تو ابو الحکم (ابوجہل) یا طائف کے سرداروں میں سے کسی کو ملنا چاہیے تھی۔ ازل سے اللہ تعالیٰ کا یہی دستور ہے کہ وہ جہاد اور دوسرے ذرائع سے ظالم اور سفّاک لوگوں کو کمزوروں اور مظلوموں کے ذریعے اقتدار سے ہٹایا کرتا ہے۔ جس کی ایک حکمت یہ بیان فرمائی ہے کہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو دنیا کا نظام درہم برہم ہوکررہ جائے جو اللہ تعالیٰ کو ہر گز گوارا نہیں۔ مسائل 1۔ قیادت کا انتخاب مال نہیں علمی اور جسمانی صلاحیت پر ہونا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کشادگی اور علم والا ہے۔ 3۔ مجاہد کی تربیت اور آزمائش ہونا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے تھوڑے زیادہ پر غالب آیا کرتے ہیں۔ 5۔ اللہ تعالیٰ صابروں کے ساتھ ہوا کرتا ہے۔ 6۔ جنگ سے پہلے اور اس کے دوران اللہ تعالیٰ سے مدد اور حوصلہ مانگنا چاہیے۔ 7۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے حکومت اور حکمت عطا کرتا ہے۔ 8۔ اللہ تعالیٰ زمین میں امن قائم رکھنے کے لیے ظالم کو مظلوموں کے ذریعے ہٹایا کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن طالوت و جالوت کا واقعہ اور حکمران کے اوصاف : 1۔ بنی اسرائیل کا بادشاہ کی تقرری کے لیے درخواست کرنا۔ (البقرۃ : 246) 2۔ حکمران کے دو بڑے اوصاف۔ (البقرۃ : 247) 3۔ طالوت کے پاس بطور نشانی تابوت سکینہ کا آنا۔ (البقرۃ : 248) 4۔ لشکر کا کم ہمتی دکھانا۔ (البقرۃ : 249) 5۔ طالوت کا جالوت پر فتح حاصل کرنا۔ (البقرۃ : 250، 251) 6۔ فتح وشکست کا معیار کثرت وقلت نہیں ہے۔ (البقرۃ : 249)
Ayah 2:252

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader

یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں جنہیں ہم حق کے ساتھ آپ پر پڑھتے ہیں یقین جانیں آپ رسولوں میں سے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : قلیل اور ضعیف جماعت کا اپنے سے طاقت ور اور زیادہ پر غالب آنا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے اس فرمان میں آپ ﷺ کی کامیابی کی پیش گوئی ہے۔ جو واقعات، حقائق اور نتائج ہم آپ کے سامنے پڑھتے ہیں یہ بالکل سچ ہیں۔ جس طرح بنی اسرائیل کو ہم نے معزز اور محترم امت بنایا تھا۔ ان کی راہنمائی کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بعد حضرت داوٗد (علیہ السلام) کو پیغمبر بنایا گیا تاآنکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مبعوث کیے گئے۔ بنی اسرائیل کو موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات اور سخت ترین احکامات، حضرت داوٗد (علیہ السلام) کی حکومت و حکمت اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مافوق الفطرت خلقت، حلیمی اور برد باری حلقۂ ایمان میں داخل نہ کرسکی۔ اگر یہ لوگ حقائق ‘ معجزات اور آپ کا اخلاق و اخلاص دیکھ کر حلقہ اسلام میں داخل نہیں ہو رہے تو آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں ؟ یقین فرمائیں کہ آپ بھی اسی مقدس جماعت انبیاء کے ایک فرد اور اسی مشن کے داعی ہیں۔ لہٰذا آپ کو اپنے بارے میں شک نہیں کرنا چاہیے اعتماد کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنے ضابطے کے مطابق بالآخر ظالموں کو مٹا کر آپ کو غلبہ عطا کرنے والا ہے اور یہ انقلاب آکر رہے گا۔ ظالموں کا ظلم کبھی اس سیل حق کے سامنے نہ رکاوٹ بنا اور نہ بن سکے گا۔ ( ھُوَ الَّذِيْ أَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْکَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ ) [ ا لصف : 9] ” اللہ وہ ذات ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کردے اگرچہ یہ بات مشرکوں کو ناپسند لگے۔ “ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَیَبْلُغَنَّ ھٰذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّیْلُ وَالنَّھَارُوَلَایَتْرُکُ اللّٰہُ بَیْتَ مَدَرٍ وَّلَا وَبَرٍإِلَّا أَدْخَلَہُ اللّٰہُ ھٰذَا الدِّیْنَ ) [ مسند أحمد : کتاب مسند الشامیین، باب حدیث تمیم الداري ] ” یہ دین ضروربضرور وہاں تک پہنچے گا جہاں رات کی تاریکی اور دن کی روشنی پہنچتی ہے اور اللہ تعالیٰ ایک ایک شہر اور بستی کے ہر گھر میں اس دین کو داخل کردے گا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے احکام حق اور سچ ہیں۔ 2۔ نبی محترم ﷺ مرسلین میں سے ایک ہیں۔
Ayah 2:253

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader

یہ رسول ہیں جن میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، ان میں سے بعض وہ ہیں جن سے اللہ نے کلام فرمایا ہے اور بعض کے درجات بلند کئے ہیں اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو معجزات عطا فرمائے اور روح القدس سے اس کی تائید فرمائی۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کے بعد والے لوگ دلائل آجانے کے بعد ہرگز آپس میں لڑائی جھگڑا نہ کرتے۔ لیکن انہوں نے اختلاف کیا، ان میں سے بعض تو ایمان لائے اور بعض نے کفر کیا اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتاتو یہ آپس میں نہ لڑتے لیکن اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : جلیل القدر انبیاء کرام اور ان کے معجزات دیکھ لینے کے باوجود سب کے سب لوگوں کا ایمان نہ لانا اللہ تعالیٰ کے اختیار سے متجاوز نہیں یہ اس کی مشیّت کے عین مطابق ہے۔ جس طرح انبیاء کے مراتب اور ان کی جدوجہد کے نتائج میں فرق ہے اسی طرح حق کو قبول کرنے اور کفر سے اجتناب کرنے میں لوگوں میں فرق پایا جاتا ہے۔ اے رسول کریم ! آپ کو ان کے حالات کا موازنہ کرتے ہوئے یقین رکھنا چاہیے کہ آپ بالیقین مرسلین کے سرخیل ہیں۔ تمام انبیاء خاندان نبوت کے افراد اور گلدستۂ رسالت کے پھول ہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ انبیاء رشتہ نبوت کے اعتبار سے ایک دوسرے کے بھائی ہیں لیکن ان کی مائیں مختلف ہیں۔ [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الانبیاء ] پھر سلسلۂ نبوت کو ایک عالی شان اور خوبصورت محل کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا : (إِنَّ مَثَلِيْ وَمَثَلَ الْأَنْبِیَاءِ مِنْ قَبْلِيْ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی بَیْتًا فَأَحْسَنَہٗ وَأَجْمَلَہٗ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍمِنْ زَاوِیَۃٍ فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوْفُوْنَ بِہٖ وَیَعْجَبُوْنَ لَہٗ وَیَقُوْلُوْنَ ھَلَّا وُضِعَتْ ھٰذِہِ اللَّبِنَۃُ قَالَ فَأَنَا اللَّبِنَۃُ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ ) [ رواہ البخاری : کتاب المناقب، باب خاتم النبیین ] ” بیشک میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے ایک گھر بنایا پھر اس کو خوبصورت اور مزین کیا لیکن صرف ایک اینٹ کی جگہ ایک کونے میں رہ گئی۔ لوگ اس گھر کو دیکھتے اور اس ایک اینٹ کی جگہ خالی پا کر تعجب کرتے ہوئے کہتے : یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ “ رسول کریم ﷺ نے فرمایا : (أَنَا سَیِّدُ وُلْدِ اٰدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا فَخْرَ وَبِیَدِيْ لِوَاءُ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ وَمَا مِنْ نَبِيٍّ یَوْمَءِذٍ اٰدَمُ فَمَنْ سِوَاہُ إِلَّا تَحْتَ لِوَاءِيْ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْہُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ ) [ رواہ الترمذی : کتاب المناقب ] ” میں قیامت کے دن آدم کی ساری اولاد کا سردار ہوں گا مگر اس اعزاز پر فخر نہیں کرتا اور میرے ہاتھ میں حمد کا جھنڈا ہوگا اس پر میں اتراتا نہیں اور قیامت کے دن آدم (علیہ السلام) سمیت تمام نبی میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور میں قیامت کے دن سب سے پہلے اپنی قبر سے اٹھوں گا اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں۔ “ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ” جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب و حکمت دوں پھر تمہارے پاس کوئی دوسرا رسول اسی چیز کی تصدیق کرتا ہوا آئے جو پہلے تمہارے پاس موجود ہے تو تمہارے لیے اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہے فرمایا کہ تم اس کے اقراری ہو اور اس پر میرا ذمہ لے رہے ہو ؟ سب نے کہا کہ ہم اقرار کرتے ہیں ‘ فرمایا اب گواہ رہو اور خود میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔ “ [ آل عمران : 81] رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَاتُفَضِّلُوْا بَیْنَ أَنْبِیَاء اللّٰہِ )[ رواہ البخاری : أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہ تعالیٰ وإن یونس لمن المرسلین ]” انبیاء کو آپس میں ایک دوسرے پر فضیلت نہ دو ۔ “ انبیاء کے درمیان مراتب کا تفاوت سمجھنے کے لیے طلبہ کی ایک کلاس کو سامنے رکھیں۔ استاد کی نظر میں تمام طلبہ عزیز ہوتے ہیں اور ہونے چاہییں۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ میرا ہر طالب علم ایک دوسرے پر سبقت لے جائے۔ اس کے باوجود پوری کلاس میں مجموعی طور پر ایک ہی طالب علم قابلیت اور لیاقت کے اعتبار سے سب سے آگے ہوتا ہے۔ جب کہ جزوی لیاقت اور صلاحیت کے لحاظ سے کئی طلبہ کو ایک دوسرے پر برتری حاصل ہوتی ہے۔ ہوسکتا ہے مجموعی طور پر سرفہرست آنے والے طالب علم سے دوسرا طالب علم سائنس کے مضمون میں اس سے زیادہ نمبر حاصل کرتا ہو۔ اور یہی کیفیت دوسرے طالب علم کی کسی دوسرے مضمون میں ہوسکتی ہے۔ یہاں بھی انبیاء کو ایک دوسرے پر فضیلت و عظمت دینے کا یہی مفہوم ہوسکتا ہے کہ زمانے اوراقوام کے مزاج کے پیش نظر ایک نبی کو ایسے معجزات دیے گئے جو اس کے بعد آنے والے نبی کے دور اور مزاج کے لیے ضروری نہیں تھے۔ مثال کے طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں جادو کا علم اپنی انتہا کو پہنچا ہوا تھا اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایسے معجزات عطا ہوئے کہ دنیا کے قابل ترین جادوگر شکست ماننے پر مجبور ہوئے۔ ان کے بعد ہر دور کے مطابق انبیاء معجزات کے ساتھ مبعوث کیے گئے یہاں تک کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ایسے معجزات عطا ہوئے کہ ان کے سامنے ارسطو اور افلاطون کی طب ماند پڑگئی۔ پھر یہودیوں کی چیرہ دستیوں اور سازشوں سے محفوظ رکھنے کے لیے حضرت جبریل امین (علیہ السلام) کے ذریعے ان کی حفاظت کا انتظام کیا گیا تاآنکہ عیسیٰ ( علیہ السلام) زندہ آسمان پر اٹھالیے گئے۔ اتنے عظیم المرتبت پیغمبروں کی تشریف آوری اور ان کی گراں مایہ تعلیمات اور بےمثال جدوجہد کے باوجود بھی نہ صرف لوگ انکاری ہوئے بلکہ باطل نظریات کی خاطر انبیاء کرام سے لڑتے جھگڑتے رہے۔ یہ جرأت ان کو اس لیے حاصل نہ تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و سطوت سے باہر تھے بلکہ یہ اس لیے ہوتا رہا کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ ہے کہ حقائق لوگوں کے سامنے کھول کر رکھنے کے بعد دیکھا جائے کہ کون دل و دماغ اور بصارت و بصیرت سے کام لے کر ہدایت کے راستے پر گامزن ہوتا ہے اور کون ہدایت کا انکار کرتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ انہیں اپنی طاقت کے ذریعے روکنا چاہتاتو وہ ایک قدم بھی آگے نہ بڑھ سکتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق ہی سب کچھ کیا کرتا ہے لہٰذا ان میں ایمان لانے والے بھی تھے اور کفروالحاد قبول کرنے والے بھی ہوئے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو ایک دوسرے پر فضیلت عطا فرمائی۔ 2۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم کلامی کا شرف عطا کیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی جبریل امین سے تائید فرمائی۔ 3۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو لوگ آسمانی ہدایت آنے کے بعد اختلاف نہ کرتے۔ تفسیر بالقرآن انبیاء کے مراتب میں فرق : 1۔ آدم (علیہ السلام) کو اللہ نے خلیفہ بنایا۔ (البقرۃ : 30) 2۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنا خلیل بنایا۔ (النساء : 125) 3۔ سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ نے سب سے بڑا حکمران بنایا۔ (ص : 35) 4۔ داوٗد (علیہ السلام) کو اللہ نے دانائی عطا فرمائی۔ (ص : 20) 5۔ یعقوب (علیہ السلام) کو اللہ نے صبر جمیل عطا فرمایا۔ (یوسف : 83) 6۔ یوسف (علیہ السلام) کو اللہ نے حکمرانی اور پاک دامنی عطا فرمائی۔ (یوسف : 31) 7۔ ادریس (علیہ السلام) کو اللہ نے مقا مِ علیا سے سرفراز کیا۔ (مریم : 57) 8۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے ہم کلامی کا شرف بخشا۔ (طٰہٰ : 12 تا 14) 9۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنا کلمہ قرار دیا۔ (النساء : 171) 10۔ نبی مکرم ﷺ کو رحمۃ للعالمین وخاتم النبیّین بنایا۔ (الانبیاء : 107، الاحزاب : 40)
Ayah 2:254

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ہم نے جو کچھ تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہو۔ اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس میں تجارت ہے اور نہ دوستی اور نہ شفاعت جبکہ انکار کرنے والے ہی ظالم ہیں

فہم القرآن ربط کلام : انبیاء (علیہ السلام) کے مراتب ‘ ان کے ادوار اور جدوجہد کے انداز کا فرق بیان کرنے کے بعد انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیا جو دنیا میں کامیابی کا اہم عنصر اور آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی عدالت عظمیٰ کے اصول بتلاتے ہیں کہ جس دن تمہیں اس کے حضور پیش ہونا ہے اس دن کوئی لین دین نہیں ہوگا۔ آج وہ تمہیں بار بارحکم دیتا ہے کہ آؤ میرے راستے میں خرچ کرو۔ یہ میرے ساتھ تمہارا لین دین ہے۔ تمہارا خرچ کرنا رائیگاں نہیں جائے گا بلکہ تمہیں اس کے بدلے کئی گنا زیادہ عطا ہوگا۔ مگر یہ لین دین صرف دنیا کی زندگی میں ہے۔ اس کے بعدآخرت میں اپنی نجات کے بدلے تم سب کچھ دینے کے لیے تیار ہوگے لیکن کوئی لینے اور قبول کرنے والا نہیں ہوگا۔ تمہاری ایک دوسرے کے ساتھ دوستی اور محبت کام نہ آئے گی اور کوئی سفارش بھی فائدہ مند نہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہ کرنے اور قیامت کا انکار کرنے والے ہی ظالم ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ لوگوآگ سے بچو ! اگرچہ تمہیں کھجور کا ایک ٹکڑا ہی صدقہ کرنا پڑے۔ [ رواہ البخاری : کتاب الزکوٰۃ، باب إتقوا النار ولوبشق تمرۃ ] مسائل 1۔ مرنے سے پہلے پہلے اللہ کی راہ میں صدقہ کرنا چاہیے۔ 2۔ قیامت کا انکار کرنے والے ظالم ہیں۔ 3۔ قیامت کے دن لین دین، دوستی اور کوئی سفارش قبول نہیں ہوگی۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کی عدالت کے ضابطے : 1۔ قیامت کے دن دوستی اور سفارش کام نہ آئے گی۔ (ابراہیم : 31) 2۔ قیامت کو لین دین نہیں ہوسکے گا۔ (البقرۃ : 254) 3۔ قیامت کے دن کوئی دوست کسی دوست کے کام نہیں آئے گا۔ (الدخان : 41، 42) 4۔ قیامت کے دن متقین کے سوا سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے۔ (الزخرف : 67)