2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsفہم القرآن

Ayahs 2:208–210

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً١۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:208 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:209 in the Quran reader

پھر اگر تم واضح دلائل آجانے کے باوجود بھی پھسل جاؤ تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ غالب ‘ حکمت والا ہے

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیَهُمُ اللّٰهُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 2:210 in the Quran reader

کیا لوگوں کو اس بات کا انتظار ہے کہ ان کے پاس خود اللہ تعالیٰ اور فرشتے بادلوں کے سائے میں آئیں اور فیصلہ انتہا کردیا جائے اور اللہ ہی کی طرف تمام کام لوٹائے جاتے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : منافق اور سب لوگوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ اپنی سوچ اور کردار کو کلی طور پر دائرہ اسلام میں داخل کرو یہی سلامتی کا راستہ اور شیطان کی پیروی سے محفوظ رہنے کا طریقہ ہے۔ اس کے سوا گمراہی ہے۔ اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ جو رسول اللہ ﷺ کی ہجرت مدینہ کے معًا بعد مسلمان ہوئے تھے۔ انہوں نے ایک مجلس میں ان خیالات کا اظہار کیا کہ کیا حرج ہے اگر ہم ہفتہ کے دن کی تعظیم کریں اور اونٹ کا گوشت کھانا چھوڑ دیں ؟ اس طرح ہمارے اور یہودیوں کے درمیان مفاہمت کی فضا پید اہوسکتی ہے۔ اس صورت حال پر یہ حکم نازل ہوا کہ اے مسلمانو ! لوگوں کے دباؤ یا مفاہمت کے جذبہ کی خاطر باطل نظریات کی پاسداری کرنے کے بجائے دین اسلام میں کامل اور مکمل طور پر داخل ہوجاؤ۔ یہ تمہاری زندگی کے تمام تقاضے پورے کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور اور تمہارے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ لہٰذا تمہاری معاشرت، معیشت، سیاست ‘ جلوت و خلوت اور انفرادی اجتماعی زندگی کا ماحول اسلامی نظریۂ حیات کے مطابق ہونا چاہیے۔ اگر تم اسلام میں داخل ہو کر من مرضی اور خود غرضی کا مظاہرہ کرو اور اسلام کے ساتھ باطل نظریات کی پیوند کاری کا سوچو گے تو یہ اللہ کی تابعداری نہیں بلکہ شیطان کی اتباع تصور ہوگی۔ شیطان تمہارا ابدی، ازلی اور کھلا دشمن ہے۔ ایسے دشمن سے خیر کی توقع رکھنے والا کبھی خیر نہیں پاسکتا۔ تمہاری ہر قسم کی سلامتی اور دنیا وآخرت کی بھلائی اسلام میں مضمر ہے۔ کیونکہ اسلام کا نام اور پیغام ہر قسم کی سلامتی کا ضامن ہے۔ اگر تم واضح ہدایات کے باوجود سلامتی کے اس راستے سے ہٹ گئے تو یاد رکھو اللہ تعالیٰ اپنے دین کو غالب کرنے والا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اپنی قوت اور طاقت کے ذریعے منکروں کو حلقۂ اسلام میں داخل کرسکتا تھا۔ لیکن اس کے ہر کام میں حکمت اور دانائی پنہاں ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ ہدایت کا معاملہ جبر کی بجائے لوگوں کے فہم و شعور اور مرضی پر چھوڑ دیا جائے۔ جن لوگوں کو تم راضی کرنے کے درپے ہو ان کے پاس ہر قسم کے دلائل آچکے ہیں۔ اب تو یہ اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ بذات خود ملائکہ کا لشکر لے کر بادلوں کے سایہ میں ان کے سامنے جلوہ گر ہو اور انہیں اسلام کی دعوت دے۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب اللہ تعالیٰ فرشتوں کو کسی کام کے فیصلے کے لیے بھیجتے ہیں تو پھر نہ اس میں تاخیر ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے فیصلے کے سامنے کوئی دم مار سکتا ہے۔ قوم نوح ‘ قوم لوط اور قوم عادو ثمود کی بستیاں اور علاقے زبان حال سے بول بول کر اس حقیقت کی گواہی دے رہے ہیں کہ اللہ کی نافرمانی کرنے والو ہمیں نگاہ عبرت سے دیکھو کہ ہمارا انجام کیا ہوا ؟ ایسے لوگوں کو جلد بازی کے بجائے انتظار کرنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اقتدار اختیار سے کوئی چیز باہر نہیں ہے۔ بالآخر سب کچھ اسی کے حضور پیش ہونے والا ہے۔ مسائل 1۔ اسلام میں کامل طور پر داخل ہونا چاہیے۔ 2۔ اسلام سے باہر اٹھنے والا قدم شیطان کی اتباع تصور ہوگا۔ 3۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ غالب اور اس کے کاموں میں حکمت پنہاں ہوتی ہے۔ 5۔ ہدایت کے بعد گمراہ ہونے والوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ 6۔ فیصلے کا اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور سب کچھ اسکے حضور پیش ہونے والا ہے۔ 7۔ ملائکہ اللہ کے حکم کے مطابق کاروائی کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ ہی مختار کل ہے : 1۔ ہر کام اللہ کے سپرد کرنا چاہیے۔ (البقرۃ : 210) 2۔ ہر کام کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے۔ (الحج : 41) 3۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ (البروج : 16) 4۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرہ : 20)
Ayahs 2:211–212

سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 2:211 in the Quran reader

بنی اسرائیل سے پوچھو کہ ہم نے انہیں کتنی روشن نشانیاں عطا فرمائیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پانے کے بعد بدل دے تو یقیناً اللہ تعالیٰ سخت عذاب والا ہے

زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۘ وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 2:212 in the Quran reader

کافروں کے لیے دنیا کی زندگی خوبصورت بنا دی گئی ہے وہ ایمان والوں سے ہنسی مذاق کرتے ہیں ‘ حالانکہ پرہیزگار لوگ قیامت کے دن ان سے اعلیٰ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بےحساب رزق عطا فرماتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل کے مطالبات کے بعد ان سے سوال کیا گیا کہ تم مزید معجزات اور دلائل کا مطالبہ کرتے ہو یہ بتاؤ کہ تم نے پہلے دلائل اور معجزات کا کیا مثبت جواب دیا ہے ؟ دراصل تم دنیا پر فریفتہ ہونے کی وجہ سے حق سے جی چراتے ہو دنیا تو عارضی ہے جب کہ آخرت ہمیشہ کے لیے ہے۔ مکہ والوں کے سامنے بیشمار حقائق اور دلائل واضح ہوچکے تھے لیکن اس کے باوجودوہ مزید براہین کا مطالبہ کرتے رہتے تھے۔ ان کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ اگر انہیں مزید دلائل کی ضرورت ہے تو بنی اسرائیل کے منصف مزاج لوگوں کو خاص کر ان میں جو مسلمان ہوچکے ہیں ان سے پوچھیں کہ جب ان کے آباء و اجداد کو لاتعداد نعمتوں سے نوازا گیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یکے بعد دیگرے ایک سے بڑھ کر ایک معجزات پیش کیے تو کیا اس کے بعد انہوں نے حق قبول کرلیا تھا ؟ نہیں ! بلکہ انہوں نے حق قبول کرنے کے بجائے نعمتوں کی ناقدری اور دین کو تبدیل کرنے کی مذموم کوششیں کیں ‘ انہیں فرعون کے مظالم سے نجات ملی تو برسر اقتدار آکر وہی ظلم روا رکھے ‘ فرعون کے غرق ہونے کے بعد دریا عبور کرکے ابھی راستے ہی میں تھے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بتوں کے سامنے اعتکاف کرنے اور ان کی عبادت کی اجازت مانگنے لگے۔ جناب موسیٰ (علیہ السلام) طور پر گئے تو بچھڑے کو معبود بنالیا، بیت المقدس میں فتح کی ضمانت ملنے کے باوجود داخلے سے انکار کردیا، وادئ تیہ میں چالیس سال کی سزا بھگتنے کے بعد جب بیت المقدس میں داخل ہوئے تو عاجزی اور استغفار کرنے کے بجائے حِطَّۃٌ کو حِنْطَۃٌ میں تبدیل کرکے اللہ سے بخشش مانگنے کے بجائے گندم کا مطالبہ شروع کردیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کے حکم اور دین کی شکل بگاڑنے کی کوششیں کی۔ یہاں بنی اسرائیل کی تاریخ کا حوالہ دے کر منافقوں ‘ مشرکوں اور اہل کتاب کو سمجھایا جارہا ہے کہ جو بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناقدری اور اس کو تبدیل کرے گا ‘ دنیا میں رسوائی اور آخرت میں اس کے لیے بربادی ہوگی۔ یہاں نعمت سے مراد دین حق کی نعمت ہے۔ دین حق کی بےحرمتی اور ناقدری کے بنیادی اسباب میں سب سے بڑا سبب دنیا کی زیب وزینت پر منکرین آخرت کا فریفتہ ہونا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا سب کے لیے حسین اور پر کشش ہے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ مومن نعمتوں کو اللہ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بناتا ہے اور بےدین انسان اسی پر قانع ہو کر اپنی آخرت تباہ کرلیتا ہے۔ مومن ایمان کی دولت کے بدلے دنیا کی دولت کو ترجیح نہیں دیتا ‘ چاہے دنیا کی نظر میں اسے کروڑوں کا نقصان برداشت کرنا پڑے اور اپنے ہم عصروں اور برادری سے کتنا ہی پیچھے رہنا پڑے۔ جب کہ کافر دنیا کی زیب وزینت پر نظر جمائے ہوتا ہے۔ وہ چند دمڑیوں کی خاطر ایمان اور جاہ و حشمت کے لیے اپنی غیرت وضمیر کا سودا کرنے سے باز نہیں آتا۔ ایسے دنیا پرست کی نظر میں مومن کا کردار کس طرح معیاری اور قابل رشک ہوسکتا ہے ؟ اسی بنا پر وہ مومنوں کو بےوقوفی اور تمسخر کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم ان احمقوں اور رذیلوں کی پیروی کریں ؟ کیا یہی لوگ انقلاب برپا کریں گے ؟ اس فرمان میں واضح کیا جا رہا ہے کہ ایمان کے بغیر دنیا کی نعمتوں اور برتری میں اللہ تعالیٰ کی رضا نہیں ہے۔ وہاں تو ایمان کی نعمت اور خوفِ الٰہی کی دولت ہی کام آئے گی۔ اسی کی بدولت مومن آخرت میں کفار سے ممتاز اور بلند وبالا ہوں گے۔ دنیا میں مومن پر حرام کمانے اور کھانے کی پابندی تھی۔ جس کی وجہ سے کفار اور حرام خور لوگ مومنوں سے دنیاوی ترقی میں آگے نکل گئے لیکن قیامت میں مومنوں کو بےانتہا رفعت و عظمت اور بےحساب رزق سے نواز اجائے گا اور منکرین کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مسائل 1۔ دین کو تبدیل کرنے والا سخت عذاب کا مستحق ہوگا۔ 2۔ کفار کے لیے دنیا دلفریب بنادی گئی ہے۔ 3۔ صاحب تقو ٰی ایمان دار قیامت کے دن کافروں سے بلند ہوں گے۔ 4۔ رزق اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے جتنا اور جسے چاہے عطا فرماتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کی نعمت کو بدلنے کی سزا : 1۔ نعمت تبدیل کرنے والے کو سخت ترین عذاب ہوگا۔ (البقرۃ : 211) 2۔ نعمت تبدیل کرنے والا دنیا وآخرت میں ذلیل ہوگا۔ (البقرۃ : 61) 3۔ دین اسلام کے سوا دوسرا دین تلاش کرنے والے سے دوسرا دین قبول نہ ہوگا۔ (آل عمران : 85)
Ayah 2:213

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً١۫ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١۪ وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ۚ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:213 in the Quran reader

لوگ (شروع میں) ایک ہی امت تھے (پھر ان میں اختلافات ظاہر ہوئے) تو اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو خوش خبری دینے اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا اور ان کے ساتھ سچی کتابیں نازل فرمائیں تاکہ لوگوں کے ہر اختلافی امر کا فیصلہ ہوجائے۔ اس سے صرف ان لوگوں نے محض باہمی ضد کی وجہ سے اختلاف کیا جن کے پاس پہلے سے دلائل پہنچ چکے تھے۔ اس لیے اللہ نے ایمان والوں کی اس اختلاف میں بھی حق کی طرف اپنی مشیت سے رہبری کی اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : دنیاوی فوائد، سماجی، سیاسی، اور مذہبی اختلافات کی وجہ سے امت کی وحدت ختم ہوگئی۔ وحدت اور دین حق کے احیاء کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء مبعوث فرمائے۔ لوگوں نے ان سے بھی اختلاف کیا حالانکہ انبیاء ‘ اختلافات مٹانے کے لیے آئے تھے۔ قرآن و حدیث کے علم سے بےبہرہ دین دشمن مستشرقین اور نام نہاد دانش مندوں نے کئی نسلوں سے یہ پروپیگنڈہ کر رکھا ہے کہ انسان تخلیقی طور پر تاریکی اور شرک کے ماحول میں پیدا ہوا ہے۔ اسی لیے انسان نے نسل در نسل ارتقاء کے بعد آہستہ آہستہ اپنے خالق کو پہچانا ہے۔ یہ باطل نظریات انگلش لٹریچر میں منظم طریقے کے ساتھ پھیلائے گئے ہیں اسی نظریے کی بنیاد پر عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ انسان تخلیقی طور پر گناہگار پیدا ہوا ہے۔ قرآن مجید ایسے نظریے اور معلومات کی نفی کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ انسان اپنی تخلیق کے وقت ہی توحید کے تصور سے اس قدر آشنا ہوچکا تھا کہ اسے اپنے خالق کا اعتراف کرتے ہوئے ذرّہ برابر بھی تأمّل نہ ہوا۔ اس کی گرہ کشائی کے لیے سورة الاعراف : آیت 172 تا 174 کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔ ” اور جب آپ کے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں ! ہم سب گواہ ہیں۔ تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے بیخبر تھے۔ یا یوں کہو کہ پہلے شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے، سو کیا ان غلط راہ والوں کے فعل پر تو ہم کو ہلاکت میں ڈال دے گا ؟ ہم اسی طرح آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں تاکہ وہ باز آجائیں۔ “ یہاں اسی نقطہ کی وضاحت کی جارہی ہے کہ انسان فطری و بنیادی طور پر ایک نظریے کے حامل ہونے کی بنا پر ایک ہی جماعت تھے اور ان کی فطرت میں دین اسلام سمودیا گیا ہے۔ لیکن بعد ازاں وہ توحید کے نظریے سے دور ہوئے اور ان کی وحدت بھی پارہ پارہ ہوتی چلی گئی۔ رسول محترم ﷺ نے اپنے مخصوص الفاظ میں انسانی فطرت کی اس طرح ترجمانی فرمائی ہے : (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَال النَّبِيُّ ﷺ کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُھَوِّدَانِہٖ أَوْیُنَصِّرَانِہٖ أَوْیُمَجِّسَانِہٖ کَمَثَلِ الْبَھِیْمَۃِ تُنْتِجُ الْبَھِیْمَۃَ ھَلْ تَرٰی فِیْھَا جَدْعَاءَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجنائز ‘ باب ماقیل فی أولاد المشرکین ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی، یا عیسائی، یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ چوپائے کی طرح جب جانور جنم لیتا ہے تو کیا تم اس میں کوئی کان کٹا ہوا پاتے ہو ؟ “ چنانچہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت ادریس (علیہ السلام) کی وفات تک پوری انسانیت نظریۂ توحید پر قائم رہتے ہوئے ایک جماعت اور کنبے کے طور پر زندگی بسر کر رہی تھی۔ اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) سے قبل لوگوں میں پہلی دفعہ شرک پھیلنے لگا۔ شرک کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی لوگ ایک دوسرے سے دور اور منتشر ہوتے چلے گئے کیونکہ توحید وحدت کا سبق دیتی ہے اور شرک انتشار کا سبب ہوتا ہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت اور انہیں یکجا رکھنے کے لیے حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک سلسلۂ نبوت جاری فرمایا۔ ان میں سے کئی انبیاء کو ضخیم کتابیں اور کچھ نبیوں کو صحائف اور باقی کو ایک دوسرے کی تائید کے لیے مبعوث فرمایا تاکہ وہ پیش آمدہ مسائل اور اختلافات میں لوگوں کو حق اور سچ کی طرف بلائیں اور ان کے باہمی اختلافات کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ لوگ اختلاف پیدا کرنے میں پیش پیش رہے جن کے پاس پہلے سے آسمانی ہدایت اور دلائل آچکے تھے۔ ایسا کیوں ہوا ؟ اس کی بنیادی وجہ حسد وبغض، اور ایک دوسرے پر مذہبی، معاشی، سیاسی اور شخصی بالا دستی حاصل کرنے کی کوشش تھی۔ جسے ” بَغْیًا بَیْنَھُمْ “ سے تعبیر کیا گیا۔ ایسے نام نہاد تعلیم یافتہ لوگوں نے اختلافات کو اس قدر ہوادی کہ جس میں حقیقت کو پہچاننا عام انسان کے لیے مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا گیا۔ تاہم وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہر دور میں ہدایت پاتے رہے جنہوں نے اخلاصِ نیّت کے ساتھ ہدایت کی جستجو کی۔ قرآن مجید میں کئی مقامات پر یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت سے سرفراز کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہی سے دوچار کرتا ہے۔ اگر ان الفاظ کا وہی معنی لیا جائے جو حیلہ سازلوگ لیتے ہیں کہ ہدایت اور گمراہی اللہ کے اختیار میں ہے تو ہدایت نہ پانے میں ہمارا کیا قصور ہے ؟ ایسے لوگوں کی بات تسلیم کرلی جائے تو انبیاء کی تشریف آوری، ان کی لازوال جدوجہد اور قیامت کے دن جزاء وسزا کا تصور ہی ختم ہوجاتا ہے۔ اس حقیقت کو جاننے کے لیے عقیدہ کے اس بنیادی اصول کو سامنے رکھیے جس میں انسان کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جس طرح کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملک ہے۔ اسی طرح ہدایت اور گمراہی بھی اللہ کی ملک اور اس کے اختیار میں ہے۔ کائنات میں سب سے گراں قدر نعمت ہدایت ہے۔ یہ انہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو اس کے طالب اور متلاشی ہوا کرتے ہیں۔ جو ہدایت سے انحراف کرتے ہیں ان کے لیے گمراہی کا راستہ آسان ہوتا ہے۔ اس مفہوم کو قرآن مجید (یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَیَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ ) [ النحل : 93] کے الفاظ سے بیان کرتا ہے۔ مسائل 1۔ ہر انسان فطرت سلیم اور عقیدۂ توحید پر پیدا ہوتا ہے۔ 2۔ حق پہنچانے اور اختلافات مٹانے کے لیے انبیاء مبعوث ہوئے۔ 3۔ اختلافات کی بنیادی وجہ توحید سے بغاوت اور ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کی رہنمائی کرتا ہے۔ 5۔ ہدایت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے وہ جسے چاہے دے دیتا ہے۔ تفسیر بالقرآن نبوت کے مقاصد : 1۔ بعثت انبیاء کے مقاصد۔ (البقرہ : 213، المزمل : 15، الجمعۃ : 2) 2۔ انبیاء تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتے ہیں۔ (ابراہیم : 1، 5) 3۔ انبیاء کا مقصد لوگوں میں عدل و انصاف قائم کرنا۔ (النساء : 105) 4۔ نبی کو حق کے ساتھ فیصلہ کرنے کا حکم ہوتا ہے۔ (صٓ: 26) 5۔ رسول ﷺ حق کے ساتھ فیصلہ کرنے والے ہیں۔ (المائدۃ : 42) 6۔ رسول ﷺ شاہد اور مبشر بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ (الأحزاب : 45) 7۔ رسول ﷺ رحمۃ للعالمین بنا کر مبعوث کیے گئے۔ (الأنبیاء : 107) 8۔ رسول ﷺ شفیق و مہربان بنائے گئے ہیں۔ (آل عمران : 159)
Ayah 2:214

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ١ؕ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ Open ayah 2:214 in the Quran reader

کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ تم جنت میں ایسے ہی داخل ہوجاؤ گے ؟ حالانکہ اب تک تم پر وہ حالات نہیں آئے جو تم سے پہلے لوگوں پر آئے تھے۔ انہیں تنگیاں اور مصیبتیں پہنچیں اور وہ جھنجھوڑ دیے گئے حتی کہ رسول اور اس پر ایمان لانے والے پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی ؟ سنو اللہ کی مدد قریب ہے

فہم القرآن ربط کلام : مومن دنیا کی لذات اور باہمی اختلافات سے بچنے کے لیے اکثر اوقات نقصان اٹھاتے ہیں۔ اس سے انہیں تسلی دی جارہی ہے کہ جنت کی بیش بہا نعمتوں کے لیے یہ نقصان اٹھانا ہی پڑے گا۔ اس کے لیے اپنے سے پہلے ایمان والوں کا کردار سامنے رکھو کہ انہوں نے کیا کچھ نہیں کیا تب جا کر اللہ تعالیٰ کی مدد کے مستحق قرار پائے۔ مکہ میں مسلمانوں کا ہر طرف سے حلقۂ حیات تنگ کردیا گیا، معاشی بائیکاٹ اور کمزوروں کو ہر قسم کے مظالم کا تختۂ مشق بنایا گیا۔ یہاں تک کہ معصوم خواتین پر جور و استبداد سر عام ہورہا تھا۔ ان حالات میں مجبوروں اور مظلوموں کے دلوں کا غم سے چور چور ہونا اور ان کا رسول کریم ﷺ کی خدمت میں فریاد کرنا ایک فطری عمل تھا۔ جب آپ کے حضور یہ رودادِ غم پیش کی جارہی تھی تو آپ بیت اللہ کے ساتھ ٹیک چھوڑ کر سیدھے بیٹھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے ساتھیو ! کیا تم ابھی سے حوصلہ پست کربیٹھے ہو ؟ جب کہ ہم سے پہلے ایمان داروں پر اس قدر ظلم کیے گئے کہ انہیں آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کردیا گیا اور لوہے کی کنگھیوں سے ان کے جسم تارتار کردیے گئے لیکن پھر بھی وہ دین حق پر قائم رہے۔ [ رواہ البخاری : کتاب المناقب، باب مالقی النبی ﷺ وأَصحابہ من المشرکین بمکۃ ] اس پس منظر کے ساتھ مسلمانوں کو سمجھایا جارہا ہے کہ کیا تم امتحانات سے گزرے اور آزمائشوں میں مبتلا ہوئے بغیر نعمتوں اور عزتوں سے بھر پور جنت میں داخل ہوجاؤ گے ؟ ایسا نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ جتنی منزل اہم اور مقصد عظیم ہوتا ہے اس کے لیے اتنی ہی جدوجہد اور قربانیاں دیناپڑتی ہیں۔ کیا تم نے پہلے لوگوں کی بےپناہ مشکلات اور لازوال جدوجہد پر غور نہیں کیا کہ جب ان کو جنگ وجدل ‘ غربت و افلاس اور امتحانات و مشکلات کے ساتھ اس قدر آزمایا گیا کہ ان کے عزم و استقلال سے بھر پور قدم بھی ڈگمگانے لگے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ وقت کا رسول اور اس کے عظیم ساتھی شدت غم سے بہ تقاضائے بشریت بےساختہ پکار اٹھے کہ اے اللہ تعالیٰ تیری مدد کب آئے گی ؟ جونہی وہ کربناک حالات میں سرخرو ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے دامن رحمت میں لیتے ہوئے تشفی دی کہ یقین رکھو ! گھبرانے نہ پاؤ میری رحمت تمہارے سروں پر سایہ فگن ہوچکی ہے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ اور آپ کے متّبعین کے لیے یہ پیغام تسلی ہے کہ اے نبی ! تم عظیم ترین انسان اور رسول ہو آپ کی امت بھی امتوں میں عظیم تر ہے۔ تمہیں اپنے قدموں میں کمزوری لانے کے بجائے مضبوط اور بھر پور طریقے کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ تمہاری بےمثال جدو جہد تمہارے رب کے سامنے ہے۔ وہ قادر مطلق تمہاری اس طرح مدد فرمائے گا کہ تمہارا نام اور کام ہمیشہ جگمگاتا رہے گا۔ چناچہ کائنات کا ذرّہ ذرّہ اس حقیقت پر گواہ ہے کہ آپ ﷺ پر اللہ کی رحمت ونصرت اس طرح نازل ہوئی کہ مکہ اور جزیرہ نمائے عرب ہی نہیں بلکہ قیصرو کسریٰ بھی آپ کے سامنے سر نگوں ہوئے اور قرآن مجید میں بارہا یہ اعلان ہوا کہ اللہ تعالیٰ ان پر راضی ہوا اور وہ اپنے رب پہ راضی ہوگئے۔ (عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَ ۃَ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : حُجِبَتِ النَّار بالشَّھَوَاتِ وَحُجِبَتِ الْجَنَّۃُ بالْمَکَارِہِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب حجبت النار بالشھوات ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جہنم کی آگ کو شہوات سے اور جنت کو مشکلات سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ اَوْفٰی ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : وَاعْلَمُوْآ أَنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلَال السُّیُوْفِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجہاد والسیر، باب الجنۃ تحت بارقۃ السیوف ] ” عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جان لو ! یقینًا جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔ “ مسائل 1۔ جنت آزمائشوں کے بغیر نہیں ملتی۔ 2۔ حق پر قائم رہنے والے کی اللہ تعالیٰ ضرور مدد کرتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی مدد ہمیشہ بندے کے قریب ہوا کرتی ہے۔ تفسیر بالقرآن آزمائش شرط ہے : 1۔ جنت میں داخلہ کے لیے آزمائش شرط ہے۔ (العنکبوت : 2) 2۔ پہلے لوگوں کو بھی آزمایا گیا۔ (العنکبوت : 3) 3۔ ڈر سے آزمائش۔ (البقرۃ : 155) 4۔ فاقوں سے آزمائش۔ (البقرۃ : 155) 5۔ مال و جان کی کمی کے ساتھ آزمائش۔ (البقرۃ : 155)
Ayah 2:215

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ Open ayah 2:215 in the Quran reader

آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں ؟ آپ فرمادیں جو مال تم خرچ کرو ماں باپ، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے اور تم جو بھی نیکی کرو گے اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : اس سوال کا جواب یہاں اس لیے دیا گیا ہے کہ لوگو ! مشکلات اور مصائب میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔ کیونکہ صدقہ رد بلا ہوتا ہے۔ اللہ کی رضا کے طالب عسر و یسر میں خرچ کرتے ہیں۔ یہ مومنوں کی صفت ہے۔ یہاں پے در پے چھ سوالات کے جواب دیئے جارہے ہیں۔ جب کہ دو سوالوں کے جواب دعا اور چاند کے متعلق دیئے جاچکے ہیں۔ قرآن مجیدنے زیادہ سوالات کرنے کی حوصلہ شکنی کی ہے لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ ضرورت کے تحت بھی سوال نہ کیا جائے۔ بعض سوال اس قدر ناگزیرہوتے ہیں جن کے بغیر سامعین حقیقت حال کو پوری طرح سمجھ نہیں سکتے۔ لہٰذا جائز سوال کرنے کی اجازت ہی نہیں بلکہ حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کا تفصیل کے ساتھ جواب دیتے ہوئے ضمنی وضاحتیں بھی کردی گئیں۔ چناچہ آیت 215 سے 223 تک یہی اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ پہلا سوال یہ تھا کہ کیا خرچ کریں ؟ فرمایا : اپنے مال سے خرچ کرو۔ یہاں مال کو خیر قرار دیتے ہوئے فرمایا تم جو بھی کروگے اللہ تعالیٰ اسے اچھی طرح جانتا ہے پھر اس کی مدّات کی تفصیل پیش فرمائی کہ سب سے پہلے والدین کی خدمت، دلجوئی اور ان کے ساتھ احسان سے پیش آیاجائے۔ کیونکہ ہر والدین حسب استطاعت پہلے اپنی اولاد پر خرچ کرتے ہیں لہٰذا جب اولاد اس قابل ہو تو انہیں بھی والدین کو اولیّت دینی چاہیے۔ ان کے بعد مستحق رشتہ داروں کی باری آتی ہے۔ پھر معاشرہ کے نہایت ہی پسماندہ طبقہ یتیموں کا حق ہے اور ان کے بعد مساکین اور غریب الوطن لوگوں کا استحقاق بنتا ہے۔ رسول کریم ﷺ سے اس ضمن میں سوال ہوا تو ارشاد فرمایا : والدین میں ماں کی خدمت کیجیے ! تین دفعہ یہی ارشاد فرمانے کے بعد والد کا نام لیا اور پھر فرمایا کہ (ثم الاقرب فالأقرب) پھر جو ان کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ [ رواہ أبو داوٗد : کتاب الأدب، باب فی بر الوالدین ] یہ ترتیب ایسی ہے جس کے لیے بڑے بڑے رجسٹروں اور دفاتر کی ضرورت نہیں۔ شہری ہو یا دیہاتی ہر کوئی اپنے رشتہ داروں کو جانتا ہے۔ کون ان میں ضرورت مند اور کون سا شخص صدقات سے مستغنی ہے ؟ پھر دنیا میں شاید ہی کوئی بد قسمت ہوگا جس کا کوئی بھی قریبی نہ ہو۔ خدانخواستہ اگر کوئی بالکل لاوارث ہے تو بیت المال اس کی کفالت کرے گا۔ یہ ایسا فطری اور جانا پہچانا نظم ہے کہ جس سے کوئی بھی غریب اور مسکین محروم نہیں رہ سکتا لیکن افسوس ! مسلمانوں نے جس طرح شریعت کے دوسرے احکامات کا حلیہ بگاڑا ہے۔ ایسے ہی اس فطری فہرست اور نظم کو توڑ کر گدا گری میں اضافہ کیا ہے۔ جس سے گداگر تو کئی جگہوں سے تعاون حاصل کرلیتے ہیں لیکن سفید پوش حضرات غربت کی چکّی میں اسی طرح پستے رہتے ہیں۔ اگر مسلمان مالدار منہ ملاحظوں اور خوشامدوں سے پرہیز کرتے تو نظم قائم رہنے کے ساتھ باہمی محبتیں بھی برقرار رہتیں۔ یہاں صدقہ سے مراد فرضی صدقات نہیں۔ کیونکہ زکوٰۃ والدین پر خرچ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یاد رہے کہ عام صدقات انفرادی طور پر خرچ کرنا بہتر ہیں اور زکوٰۃ اجتماعی طور پر صرف کرنا افضل ہے۔ ابن السبیل : جہاں تک مسافر کے ساتھ تعاون کا تعلق ہے۔ آپ نے مسافر کی پریشانی کو اس قدر اہمیت دی اور ارشاد فرمایا : (لِلسَّاءِلِ حَقٌّ وَإِنْ جَاءَ عَلٰی فَرَسٍ ) [ رواہ أبو داوٗد : کتاب الزکوٰۃ، باب حق السائل ] ” اگر سائل گھوڑے پر سوار ہو کر کسی کے ہاں آکر سوال کرے تو اس کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ “ نامعلوم وہ کس حادثے کا شکار ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے بظاہر خوشحال دکھائی دیتے ہوئے بھی سوال کرنے پر مجبور ہے۔ مسائل 1۔ رزق خیر ہے۔ 2۔ تعاون کے پہلے مستحق والدین ہیں۔ 3۔ والدین کے بعد رشتہ دار ‘ یتیم ‘ مسکین اور ضرورت مند مسافر۔ 4۔ صدقہ کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ ہر نیکی کو جاننے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن انفاق فی سبیل اللہ کا نظام : 1۔ وہ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کس طرح مال خرچ کریں ؟ کہہ دو جو مال خرچ کرنا چاہو وہ والدین، قریبی رشتہ داروں یتیم، مساکین اور مسافروں پر خرچ کرو۔ (البقرۃ : 215) 2۔ صدقات مفلسوں، محتاجوں، عاملین، تالیف قلب، غلاموں کی آزادی، قرض داروں، اللہ کی راہ اور مسافروں کے لیے ہیں۔ (التوبۃ : 60) 3۔ اپنے صدقات ان فقرأ پر خرچ کرو جو اللہ کی راہ میں محبوس کردیے گئے ہیں۔ (البقرہ : 273)
Ayah 2:216

كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:216 in the Quran reader

تم پر جہاد فرض کردیا گیا ہے اگرچہ وہ تمہیں مشکل معلوم ہو ‘ ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برا جانو اور دراصل وہی تمہارے لیے بہتر ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو اچھا سمجھو حالانکہ وہ تمہارے لیے نقصان دہ ہو۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا اور جان قربان کرنا دونوں مشکل ترین کام ہیں۔ اس لیے انہیں ایک دوسرے کے بعد ذکر کیا ہے جہاد میں دونوں لازم وملزوم ہوتے ہیں۔ ہرمعاشرے اور قوم میں ایسے لوگ بھی ہوا کرتے ہیں جو مشکل حالات میں جذباتی ہو کر لڑنے مرنے کے لیے تیار ہوجایا کرتے ہیں۔ لیکن کفار کے ساتھ باضابطہ مقابلے کے وقت آگے بڑھنے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ میدان کارزار میں اترنا ہر کسی کے دل گردہ کی بات نہیں۔ لہٰذا لوگوں کو انگیخت دینا اور تیار کرنا پڑتا ہے۔ اس فرمان میں ایسی ہی صورت حال کی طرف اشارات پائے جارہے ہیں۔ جس سے اس الزام کی از خود نفی ہورہی ہے جو غیر مسلم مسلمانوں پر لگایا کرتے ہیں کہ مسلمان بنیادی طور پر جنگجو اور جارح قوم ہے۔ یہاں تو عیاں ہورہا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے زمانے میں بھی کچھ مسلمان ابتداءً جنگ سے کتراتے تھے۔ لیکن جب مسلمانوں پر ایسے حالات ٹھونس دیے جائیں کہ جنگ کے بغیر چارہ کار نہ ہو تو پھر لڑنے مرنے کا فیصلہ کرنا مسلمانوں کا اختیار نہیں رہتا ان حالات میں آسمانی حکم ہے۔ ایسی صورت حال میں لڑائی سے جی چرانا اپنے آپ کو دشمن کے کے حوالے کرنا ہے۔ اللہ عالم الغیب جانتا ہے کہ بہتری اور خیر کس کام میں زیادہ ہے۔ کیا کوئی شخص یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ اس کام میں خیر زیادہ اور دوسرے میں بہتری کم ہے ؟ فرمایا ہرگز نہیں ! خیر اور نقصان کے بارے میں اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ تمہاری خیر اللہ کے حکم ماننے میں ہے۔ لہٰذا مال بھی خرچ کرو اور جان بھی لڑاؤ۔ اس سے دوسرا مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی حکمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے ہر صورت اس پر عمل کرنا مسلمان پر فرض ہے۔ مسائل 1۔ خیر وشر کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ 2۔ انسان کسی چیز کو اپنے لیے بہتر سمجھتا ہو تو ضروری نہیں وہ بہتر ہو۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہر کام کی حکمت جانتا ہے انسان نہیں جانتا۔
Ayah 2:217

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْهِ١ؕ قُلْ قِتَالٌ فِیْهِ كَبِیْرٌ١ؕ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ كُفْرٌۢ بِهٖ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۗ وَ اِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ الْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ١ؕ وَ لَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى یَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِیْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا١ؕ وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:217 in the Quran reader

لوگ آپ سے حرمت والے مہینے میں لڑنے کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ آپ فرمائیں کہ ان میں لڑائی کرنا بہت بڑا گناہ ہے لیکن اللہ کی راہ سے روکنا، اس کے ساتھ کفر کرنا ‘ مسجد حرام سے منع کرنا اور وہاں کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے بھی بڑا گناہ ہے۔ فتنہ قتل سے بھی بڑا گناہ ہے۔ یہ لوگ تم سے لڑائی کرتے رہیں گے یہاں تک کہ اگر ان سے ہوسکے تو تمہارے دین سے تمہیں پھیر دیں اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے پھرجائیں اور کفر کی حالت میں مریں ان کے اعمال دنیوی اور اخروی سب غارت ہوجائیں گے۔ یہ لوگ جہنمی ہیں اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے

فہم القرآن ربط کلام : سوال و جواب کا سلسلہ جاری ہے۔ جس میں قتال فی سبیل اللہ کے بارے میں یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ حرمت کے مہینوں میں قتال کرنے میں ابتدا نہیں کرنا چاہیے۔ البتہ مسلمانوں پر جنگ مسلط کردی جائے تو پھر حرمت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کی مکمل طور پر اجازت ہے۔ سورۃ التوبۃ کی آیت 36 میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق فرمائی اسی وقت سے سال کے بارہ مہینے مقرر کیے اور ان میں چار مہینوں کو حرمت والے قرار دیا جن کے نام حدیث میں ذی قعدہ ‘ ذوالحجہ ‘ محرم اور رجب ہیں۔ اسی وقت سے لے کر لوگوں میں ان کا احترام پایا جاتا ہے۔ اہل عرب اپنی خود غرضی کی بنا پر ان مہینوں کی جگہ دوسرے مہینے شمار کرکے حرمت کے مہینوں میں لوٹ کھسوٹ اور جنگ وجدال کرلیا کرتے تھے لیکن بنیادی طور پر ان مہینوں کے احترام کے قائل تھے۔ ہوایہ کہ اہل مکہ کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے رسول کریم ﷺ نے عبداللہ بن جحش ؓ کی سر کردگی میں آٹھ آدمیوں کا ایک دستہ نخلہ کے مقام پر بھیجا۔ جو طائف اور مکہ کے درمیان ایک علاقہ ہے۔ یونٹ کے سربراہ کو ایک بند لفافہ دیا کہ دو دن کا سفر طے کرنے کے بعد اسے کھول کر میری ہدایات کے مطابق عمل کرنا۔ چناچہ دو دن کے بعد حضرت عبداللہ ؓ نے تحریر دیکھی تو اس میں یہ درج تھا ” جب میری یہ تحریر پڑھو تو اس کے مطابق آگے بڑھتے جاؤ یہاں تک کہ مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں اترو۔ وہاں قریش کے ایک قافلے کی گھات میں لگ جاؤ اور ہمارے لیے ان کی خبروں کا پتہ لگاؤ۔ “ انہوں نے سمع وطاعت کی اور اپنے رفقاء کو اس کی اطلاع دیتے ہوئے فرمایا کہ میں کسی پر جبر نہیں کرتا۔ (مَنْ کَانَ لَہُ رَغْبَۃًفِیْ الشَّھَادَۃَ فَلْیَنْطَلِقْ مَعِیَ فَاِنِیْ مَاضٍ لِاَمْرِ رسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَمَنْ کَرِہ فَلْیَرْجِعْ فَاِنَّ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ قَدْ نَہَا نِیْ اَنْ اُسْتُکْرَہُ مِنْکُمْ اَحَدا فَمَضٰی مَعَہُ الْقَوْمٌُ ) [ سنن البیہقی : باب قسمۃ الغنیمۃ فی دار الحرب ] ” جسے شہادت محبوب ہو وہ اٹھ کھڑا ہو اور جسے موت ناگوار ہو وہ واپس چلاجائے۔ باقی رہا میں ! تو میں بہر حال آگے جاؤں گا۔ اس پر سارے رفقاء اٹھ کھڑے ہوئے اور منزل مقصود کے لیے چل پڑے۔ “ البتہ راستے میں سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان ؓ کا اونٹ غائب ہوگیا جس پر یہ دونوں بزرگ باری باری سفر کررہے تھے۔ اس لیے یہ دونوں پیچھے رہ گئے۔ حضرت عبداللہ بن جحش ؓ نے طویل مسافت طے کر کے نخلہ میں نزول فرمایا۔ وہاں سے قریش کا ایک قافلہ گزرا جو کشمش، چمڑا اور دیگرسامان تجارت لیے ہوئے تھا۔ قافلہ میں عبداللہ بن مغیرہ کے دو بیٹے عثمان اور نوفل اور ان کے ساتھ عمرو بن حضرمی اور حکیم بن کیسان مولیٰ مغیرہ تھے۔ مسلمانوں نے باہم مشورہ کیا کہ آخر کیا کریں ؟ آج رجب کا آخری دن ہے اگر ہم لڑائی کرتے ہیں تو اس حرام مہینے کی بےحرمتی ہوتی ہے اور رات بھر رک جاتے ہیں تو یہ لوگ حدود حرم میں داخل ہوجائیں گے۔ اس کے بعد سب کی یہی رائے ہوئی کہ حملہ کردینا چاہیے۔ چناچہ ایک شخص نے عمرو بن حضرمی کو تیر مارا اور اس کا کام تمام کردیا۔ باقی لوگوں نے عثمان اور حکیم کو گرفتار کرلیا البتہ نوفل بھاگ نکلا۔ اس کے بعد یہ لوگ دونوں قیدیوں اور سامان لیے ہوئے مدینہ پہنچے۔ انہوں نے مال غنیمت سے خمس بھی نکال لیا تھا اور یہ اسلامی تاریخ کا پہلا خمس، پہلا مقتول اور پہلے قیدی تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی اس حرکت پر باز پرس کی اور فرمایا کہ میں نے تمہیں حرام مہینے میں جنگ کرنے کا حکم نہیں دیا تھا ؛ اور سامان قافلہ اور قیدیوں کے سلسلے میں کسی بھی طرح کے تصرف سے ہاتھ روک لیا۔ اس کے باوجودم کہ والوں کو اس واقعہ کی خبر ہوئی تو انہوں نے اس ہنگامی اور اتفاقی واقعہ کو مذہبی رنگ دے کر مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ کا طوفان برپا کردیا کہ مسلمان ایسے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کا خیال نہیں رکھتے اور ملّتِ ابراہیم (علیہ السلام) کے شعار کو پامال کرتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا کوئی مذہب نہیں۔ ان الزامات کا جواب دینے سے پہلے وضاحت فرمائی کہ یہ حرمت والے مہینے ہیں اور ان میں قتال کرنا واقعی گناہ ہے۔ لیکن یہاں کفار کو بھی ان کے اعمال کا آئینہ دکھاتے ہوئے ان کے مظالم کی ایک فہرست سامنے رکھ دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں رکاوٹ بننا، دین حق کا انکار کرنا، بیت اللہ سے صحابہ کو روکنا اور مکہ سے مسلمانوں کو نکالنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک حرمت والے مہینوں میں قتال کرنے سے کئی گنا بڑے جرائم ہیں۔ پھر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنا قتل سے بدتر جرم ہے۔ اس وضاحت اور تنبیہ کے بعد مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کفار کے عزائم سے آگاہ رہو کہ اگر ان کا بس چلے تو ان کی اوّل وآخر کوشش ہوگی اور ہے کہ تمہیں تمہارے سچے دین سے پھیر دیں۔ یاد رکھو جو کوئی دین حق سے مرتد ہوگیا اور کفر کی حالت میں اسے موت آگئی تو ایسے لوگوں کے تمام اعمال دنیا وآخرت میں ضائع کردیے جائیں گے۔ دنیا میں اعمال ضائع ہونے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اپنے نظریہ اور صحیح موقف سے پھرجانے والے پر کوئی اعتماد نہیں کیا کرتا۔ دنیا میں اس کا نام ذلّت و رسوائی کا نشان بن کے رہ جاتا ہے۔ آخرت میں یہ لوگ آگ میں جھونک دیے جائیں گے۔ جس میں ان کو ہمیشہ رہنا ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ بَدَّل دِیْنَہٗ فَاقْتُلُوْہُ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر ] ” جس نے اپنے دین کو تبدیل کرلیا اسے قتل کردو۔ “ مسائل 1۔ حرمت کے مہینوں میں جنگ کرنا گناہ ہے۔ 2۔ اللہ کے راستے میں رکاوٹ بننا، دین کا انکار کرنا، بیت اللہ سے لوگوں کو منع کرنا، کمزوروں کو ہجرت پر مجبور کرنا اور دین و مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنا قتل اور لڑائی سے بڑا گناہ ہے۔ 3۔ مرتد کے دنیا اور آخرت میں تمام اعمال ضائع ہوجاتے ہیں اور وہ واجب القتل ہے۔ 4۔ ارتداد اور کفر کی حالت میں مرنے والے ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ تفسیر بالقرآن مرتد کی سزا : 1۔ مرتد ہونے والے کی توبہ قبول نہ کی جائے گی۔ (آل عمران : 90) 2۔ ارتداد میں مرنے والوں کو عذاب ہوگا۔ (البقرۃ : 217) 3۔ مرتد ہونے والا اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ (آل عمران : 144)
Ayah 2:218

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:218 in the Quran reader

یقیناً صاحب ایمان لوگ ‘ ہجرت کرنے والے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہی رحمت الٰہی کے امیدوار ہیں ‘ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ بخشنے والا ‘ اور بہت مہربانی کرنے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : کفار کی جدّو جہد دین اور مسلمانوں کے خلاف ہے۔ لہٰذا ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ مسلمانوں کی کوشش و کاوش اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ جس کا بدلہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور ہمیشہ کی جنت ہے۔ جس میں انہیں حیات جاوداں نصیب ہوگی۔ بعض لوگ سچے ایمان اور صالح کردار کے بغیر جنت کے وارث بننے کا دعو ٰی کرتے ہیں۔ حالانکہ قرآن کا فرمان ہے کہ جب تک مسلمان مخلص ہو کر اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کے حصول کے لیے مال و جان کی قربانی پیش نہیں کرو گے۔ اس وقت تک تمہیں اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت نصیب نہیں ہوسکتی۔ اسی نظریہ کی دو ٹوک وضاحت کی جارہی ہے کہ بلا شک جو لوگ خلوص دل کے ساتھ ایمان لائے، عزم و استقامت کا مظاہرہ کیا اور ایمان و ایقان کی خاطر انہیں باغ و بہار ‘ کاروبار اور مکان ومقام بھی چھوڑنے پڑے تو وہ بےپروا ہو کر نکل پڑے۔ اللہ تعالیٰ کے دین کی سر بلندی کے لیے میدان جنگ وجدال میں اترنا پڑا تو قربانیوں کی ایسی داستانیں رقم کرتے چلے گئے کہ رہتی دنیا تک ان کی جرأت وبہادری کو شہسوارِجنگ خراج تحسین پیش کرتے رہیں گے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اپنے رب کی رحمتوں اور نعمتوں کا حق دار ٹھہرا لیا ہے۔ اگر ان سے بتقاضائے بشریت خطائیں سرزد ہوگئیں تو انہیں پورا یقین رکھنا چاہیے کہ ان کا رب ان کو ضرور معاف کرے گا۔ وہ تو ہمیشہ سے معاف فرمانے والا اور نہایت ہی شفیق و مہربان ہے۔ یاد رہے کہ علمی، مالی، جانی اور ذاتی صلاحیتوں کو اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے وقف کرنے کا نام جہاد ہے۔ تفسیر بالقرآن خدا کی رحمت کے مستحق کون ؟ 1۔ رب کریم کی رحمت کے امیدوار اور ان کی صفات۔ (البقرۃ : 218، الاعراف : 156) 2۔ گناہ گار کو رحمت الٰہی سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ (الزمر : 53) 3۔ اللہ کی رحمت محسنین کے قریب ہوا کرتی ہے۔ (الاعراف : 56) 4۔ اللہ کی رحمت کی وسعت و کشادگی ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ (المؤمن : 7)
Ayah 2:219

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ١ؕ قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ١٘ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلِ الْعَفْوَ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ Open ayah 2:219 in the Quran reader

لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں ‘ فرما دیجئے ان دونوں میں بہت بڑا گناہ ہے اور لوگوں کو اس سے دنیاوی فائدہ بھی ہوتا ہے لیکن ان کا گناہ ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہے۔ تم سے یہ بھی دریافت کرتے ہیں کیا کچھ خرچ کریں ؟ تو آپ فرما دیں اپنی ضرورت سے زائد چیز خرچ کرو۔ اللہ تعالیٰ اس طرح تمہارے لیے اپنے احکام صاف صاف بیان کرتا ہے تاکہ تم سوچ سمجھ سکو

فہم القرآن ربط کلام : درمیان میں مومنوں کا کردار ذکر کرنے کے بعد اب پھر ایک سوال کا جواب دیا گیا ہے۔ خمر کا معنی : عربی میں ہراس چیز کو خمر کہتے ہیں جو پردہ ڈال دے، اسی مناسبت سے عورتوں کی اوڑھنیوں کو بھی قرآن مجید میں خمر کہا گیا ہے۔[ النور : 31] کیونکہ عورت اس سے اپنا سر، چہرہ اور جسم ڈھانپتی ہے۔ شراب کو خمر اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ آدمی کی عقل وفکر پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ اسلام کے دوسرے ضابطوں اور قوانین کی طرح شراب کے حکم امتناعی کی تکمیل بھی تدریجًا نازل ہوئی۔ یہاں حرمت شراب کا پہلا حکم جاری کرتے ہوئے لوگوں کو نفع اور نقصان کی بنیاد پر سمجھایا جارہا ہے کہ شراب اور جوئے میں عارضی اور معمولی فائدے بھی ہیں لیکن دوررس نتائج کے اعتبار سے ان کے نقصانات ان کے فوائد سے کہیں زیادہ ہیں۔ اگر شراب پینے سے عارضی طور پر جسم میں قوت و حرکت اور دلیری پیدا ہوتی ہے تو شراب کا نشہ ختم ہونے کے بعد آدمی اتنی ہی کمزوری محسوس کرتا ہے۔ شراب کا عادی شخص اپنی عمر سے کہیں پہلے بوڑھا ہوجاتا ہے۔ آدمی شراب پی کر ایسی حرکات کرتا اور خرافات بکتا ہے کہ جس کا صحیح حالت میں تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اس لیے شراب کسی مذہب میں بھی جائز قرار نہیں دی گئی۔ شراب کے بارے میں دور حاضر کے ڈاکٹر بھی اس بات پر متفق ہیں کہ اس کے فائدے نہایت ہی عارضی اور معمولی ہیں لیکن جسمانی اور معاشرتی نقصان اور مضمرات لامحدود اور ناقابل تلافی ہیں۔ رسول معظم ﷺ نے شراب کو علاج کے طور پر استعمال کرنے سے منع ہی نہیں فرمایا ہے بلکہ اسے بیماری قرار دیتے ہوئے ابتداءً اس میں استعمال ہونے والے برتنوں سے بھی منع فرمادیا۔ (أَنَّ طَارِقَ بْنَ سُوَیْدِ الْجُعْفِیَّ ؓ سَأَلَ النَّبِیَّ ﷺ عَنِ الْخَمْرِ فَنَھَاہُ أَوْکَرِہَ أَنْ یَّصْنَعَھَافَقَالَ إِنَّمَا أَصْنَعُھَا للدَّوَآءِ فَقَالَ إِنَّہٗ لَیْسَ بِدَوَاءٍ وَلٰکِنَّہٗ دَاءٌ) [ رواہ مسلم : کتاب الأشربہ، باب تحریم التداوی بالخمر ] ” طارق بن سوید جعفی ؓ نے نبی ﷺ سے شراب کے متعلق سوال کیا آپ نے اسے استعمال کرنے سے منع کیا یا ناپسند کیا تو اس نے کہا میں اسے بطور دوا استعمال کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا دوا نہیں یہ تو بیماری ہے۔ “ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کی تائید میں حضرت عثمان ؓ نے تاریخ کا ایک واقعہ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ شراب سے بچو ! کیونکہ یہ ام الخبائث ہے۔ تم سے پہلے ایک آدمی بڑا عبادت گزار گزرا ہے۔ اس سے ایک بدکار عورت کو محبت ہوگئی اس نے اپنی لونڈی کو یہ کہہ کر اس آدمی کی طرف بھیجا کہ ہمیں کسی معاملہ میں آپ کی گواہی چاہیے۔ وہ آدمی اس کی لونڈی کے ساتھ چل پڑا۔ جس دروازے سے داخل ہوتا اسے بند کردیا جاتا یہاں تک کہ وہ ایک خوبصورت عورت تک جا پہنچا۔ جس کے پاس ایک بچہ اور شراب کا پیالہ تھا۔ اس عورت نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے تجھے شہادت دینے کے بجائے اپنے ساتھ بدکاری کرنے یا شراب کا پیالہ پینے یا بچہ قتل کرنے کے لیے بلایا ہے۔ اس نے کہا مجھے شراب پلادوجب اس نے شراب پی لی تو نشہ کی حالت میں اس نے عورت کے ساتھ زنا بھی کیا اور بچہ بھی قتل کردیا۔[ رواہ النسائی : کتاب الأشربۃ ‘ باب ذکر الآثام المتولدۃ عن شرب الخمرالخ ] (عَنِ السَّاءِبِ بْنِ یَزِیْدَ ؓ قَالَ کُنَّا نُؤْتٰی بالشَّارِبِ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَإِمْرَۃِ أَبِيْ بَکْرٍوَصَدْرًا مِنْ خِلَافَۃِ عُمَرَفَنَقُوْمُ إِلَیْہِ بِأَیْدِیْنَا وَنِعَالِنَا وَأَرْدِیَتِنَا حَتّٰی کَانَ آخِرُإِمْرَۃِ عُمَرَ فَجَلَدَ أَرْبَعِیْنَ حَتّٰی إِذَا عَتَوْا وَفَسَقُوْا جَلَدَ ثَمَانِیْنَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الحدود، باب الضرب بالجرید والنعال ] ” حضرت سائب بن یزید ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں نبی کریم ﷺ کے زمانے اور ابوبکر و عمر ؓ کے ابتدائی دور میں شرابی پکڑا دیا جاتاہم اسے اپنے ہاتھوں، جوتوں اور چادروں کے ساتھ مارتے اور جب عمر ؓ کی خلافت کا آخری دور آیا تو انہوں نے چالیس کوڑے مارے اور جب لوگ شرب نوشی میں بڑھ گئے تو پھر عمر ؓ نے اسی کوڑے مارے۔ “ جوئے کو میسر کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے میسر کا لفظی معنی آسان ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جوا کھیلنے والا بغیر کسی جسمانی اور ذہنی محنت کے مال حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ عرب کے لوگ بسا اوقات اس لیے بھی جوا کھیلتے تھے کہ اس سے حاصل شدہ رقم غریبوں میں تقسیم کردی جائے۔ جس طرح آج کل کئی فن کار ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اس سے حاصل ہونے والی رقم قحط زدہ یا معذور اور بیمار لوگوں پر خرچ کردیتے ہیں۔ جوئے کے بارے میں بھی اس قسم کے منافع کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن اس میں بھی نقصانات اس کے فوائد سے زیادہ ہوتے ہیں۔ کاروبار میں رقم لگاتے وقت آدمی کے ذہن میں نفع اور نقصان دونوں ہوتے ہیں۔ پھر کاروبار میں تاجر سوچ وبچار کرتے ہوئے نقصان سے بچنے کے لیے محنت بھی کرتا ہے اگر اسے ایک کاروبار میں مسلسل نقصان ہورہا ہو تو وہ اسے چھوڑنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ محنت ومشقت سے حاصل ہونے والی رقم آدمی سمجھ سوچ کر خرچ کرتا ہے۔ جب کہ جوئے میں یہ تمام صورتیں مفقود ہوتی ہیں۔ جوئے پر رقم لگانے والا جواری نقصان کے بجائے فائدے کے بارے میں بڑا جذباتی ہوتا ہے۔ جوئے سے حاصل شدہ رقم اکثر اللّے تللّوں پر خرچ ہوتی ہے۔ جوا کھیلنے والا ہارنے کے باوجود مسلسل قسمت آزمائی کرتا چلا جاتا ہے۔ کاروبار میں نقصان یا مندا ہونے میں آدمی جذباتی ہونے کے بجائے سوچ وبچار کرتا ہے اور بسا اوقات فیکٹری یا کاروبار کو کچھ عرصہ کے لیے بند کردیتا ہے۔ جوئے میں یہ صورت نہیں ہوتی۔ جوّے باز جیتنے کے لالچ سے چند لمحوں میں ہر چیز سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ کاروبار میں حاصل ہونے والا منافع مزید تجارت کے لیے استعمال ہوتا ہے جب کہ جوئے سے حاصل ہونے والی رقم سے کبھی بھی لوگ کاروبار کرتے نہیں دیکھے گئے۔ اکثر جوا باز جیت جائیں تو عیاشی کے طور پر اور اگر ہار جائیں تو غم دور کرنے کے لیے شراب پیتے ہیں۔ اس وجہ اور دیگر وجوہات کی بنا پر جوئے اور شراب کا ذکر اکٹھا کیا گیا ہے۔ پھر شراب اور جوئے کی وجہ سے باہم نفرتیں اور لڑائی جھگڑے پید اہوتے ہیں ان اسباب کی بنا پر مسلمانوں کو شراب نوشی اور جوا بازی سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی سورت کی آیت 215 میں سوال یہ تھا کہ کیا اور کہاں خرچ کریں ؟ اب سوال کیا جارہا ہے کہ کتنا خرچ کیا جائے ؟ جوابًا ارشاد ہوتا ہے کہ اپنی ضرورت سے زائد۔ اس فرمان سے اشتراکی نظام جس کی تعریف یہ ہے کہ ہر چیز کی مالک حکومت ہوتی ہے۔ اشتراکی نظام حکومت میں انفرادی ملکیت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اس کے حاملین نے اسلام کے معاشی نظام کی غلط توجیہ کرتے ہوئے اشتراکی نظام کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن ان کی توجیہ اسلام اور نظام فطرت کے خلاف تھی۔ جس کی وجہ سے چند ہی سالوں میں وہ نظام نہ صرف اپنے انجام کو پہنچا بلکہ روس جیسی عظیم مملکت اس نظام کی کمزوریوں کی وجہ سے تباہی کے گھاٹ اتر گئی۔ سوویت یونین جو دنیا میں دوسری سپر پاور سمجھی جاتی تھی آج اپناوجود سلامت رکھنے کے لیے اپنے مخالفوں سے قرض کی بھیک مانگنے پر مجبو رہے۔ دراصل ” قُلِ الْعَفْوَ “ کا حکم ایک جنگ کے دوران نازل ہوا تھا اور اسی کی روشنی میں دوران سفر رسول محترم ﷺ نے لوگوں کو توجہ دلائی کہ جس کے پاس اپنی ضرورت سے زائد اسباب ہوں۔ وہ دوسرے بھائی کو عنایت کردے۔ (عَنْ أَبِيْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِيِّ ؓ قَالَ بَیْنَمَا نَحْنُ فِيْ سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ إِذْ جَآءَ رَجُلٌ عَلٰی رَاحِلَۃٍلَہٗ قَالَ فَجَعَلَ یَصْرِفُ بَصَرَہٗ یَمِیْنًا وَشِمَالًا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ کَانَ مَعَہٗ فَضْلَ ظَھْرٍ فَلْیُعِدْبِہٖ عَلٰی مَنْ لاَّ ظَھْرَ لَہٗ وَمَنْ کَانَ لَہٗ فَضْلٌ مِنْ زَادٍفَلْیُعِدْ بِہٖ عَلٰی مَنْ لَا زَادَ لَہٗ قَالَ فَذَکَرَ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ مَا ذَکَرَ حتّٰی رَأَیْنَآ أَنَّہٗ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِّنَّا فِيْ فَضْلٍ ) [ رواہ مسلم : کتاب اللقطہ، باب استحباب المؤساۃ بفضول المال ] ” حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے کہ اچانک ایک آدمی اپنی سواری لے کر آیا اور دائیں بائیں دیکھنے لگا۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : جس کے پاس ضرورت سے زائد سواری ہو وہ اس شخص کو دے دے جس کے پاس سواری نہیں مگر اس کے پاس سفر کا زائد خرچ ہو وہ اس کو دے دے جس کے پاس زاد راہ نہیں۔ راوی کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے مال کی اور بھی کئی اقسام کا تذکرہ کیا یہاں تک کہ ہم نے سمجھ لیا کہ ضرورت سے زائد مال میں ہمارا کوئی حق نہیں ہے۔ “ ہنگامی حالات میں ذمہ دار قومیں ایسا ہی رویّہ اختیار کرتی ہیں۔ کیونکہ دشمن کے مقابلے میں جب تک تن من دھن اور ہر چیز نہ جھونک دی جائے کامل اور مکمل فتح حاصل نہیں ہوا کرتی۔ ” عَفْو “ کا معنی جن لوگوں نے من مرضی سے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ ان کے پاس کوئی ایسی دلیل نہیں جس سے فرد کی ضروریات کا تعین کیا جاسکے۔ کیونکہ اپنی ضروریات کو جو آدمی خود سمجھتا ہے کوئی دوسراشخص یا حکومت نہیں سمجھ سکتی۔ ایک آدمی کا آنا جانا اس قدر کم ہے کہ اسے سائیکل کی بھی ضرورت نہیں۔ اس کے مقابلے میں ایسا شخص ہے جس کے گھر کے ایک ایک فرد کو سواری کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ایک آدمی کپڑوں کے دو جوڑوں میں گزارا کرسکتا ہے جب کہ دوسرے کو ہر روز لباس تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے کسی کی ضرورت کا تعین کوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔ البتہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ مسلمان کو سادگی اختیار کرتے ہوئے اپنے اعزاء و اقرباء اور پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ عفو سے جن لوگوں نے اجتماعی معیشت کا تصور لیا ہے وہ ہر لحاظ سے اسلام کے معاشی نظام کے متصادم ہے۔ کیونکہ اگر ضرورت سے زائد چیزیں حکومت کی ملکیت قرار دے دی جائیں تو قرآن و حدیث میں زکوٰۃ اور وراثت کے احکامات کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ اپنے احکام کو اس لیے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ ان پر غوروفکر کیا جائے۔ مسائل 1۔ شراب اور جوئے میں فائدے کی نسبت نقصانات زیادہ ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے ارشادات پر غور و فکر کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن شراب وجوا کے نقصانات : 1۔ شراب، جوئے کے فائدے کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔ (البقرۃ : 219) 2۔ نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہیں جانا چاہیے۔ (النساء : 43) 3۔ شراب اور جوا حرام ہیں۔ (المائدہ : 90) 4۔ شراب وجوا دشمنی کا سبب اور اللہ کے ذکر میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ (المائدۃ : 91)
Ayah 2:220

فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰى١ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:220 in the Quran reader

دنیا و آخرت کے بارے میں غورو فکر کرو اور وہ آپ سے یتیموں کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ بتائیں کہ ان کی خیر خواہی کرنا بہتر ہے۔ ان کا مال اپنے مال میں ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور اللہ تعالیٰ اصلاح اور بگاڑ کرنے والے کو خوب جانتا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشکل میں ڈال دیتا یقیناً اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ کلام کا تسلسل اور سوال و جواب کا سلسلہ جاری ہے۔ لہٰذا اب یتیموں کی اصلاح اور ان کے ساتھ معاشرت کے اصول بیان کیے جارہے ہیں۔ کیونکہ اس سے پہلے یتیموں کے بارے میں یہ احکامات نازل ہوچکے تھے کہ یتیموں کا مال کھانا پیٹ میں جہنم کے انگارے بھرنے کے مترادف ہے۔ اس انتباہ کی وجہ سے صحابہ کرام ؓ اس قدر خوف زدہ اور محتاط ہوئے کہ انہوں نے یتیموں کا کھانا پینا اور ان کے معاملات یکسر طور پر اپنے سے الگ کردیے۔ لیکن اس صورت حال سے نئے مسائل پیدا ہونے شروع ہوئے۔ جس کے لیے یتیموں کے بارے میں مزید وضاحت کی ضرورت پیش آئی۔ چناچہ وضاحت کی جارہی ہے کہ دراصل اللہ تعالیٰ کے احکام کا منشاء یہ ہے کہ یتیموں کے مال اور ذات کی اصلاح اور خیر خواہی ہونی چاہیے لہٰذا ان کے ساتھ مل جل کر رہنا، ایک ہی جگہ مل کر کھانا، پینا اور ترقی کے نقطۂ نظر سے ان کے مال کو اپنے کاروبار میں شامل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ پسماندہ اور والدین کی سرپرستی سے محروم ہونے اور اخوت اسلامی کی بنا پر وہ تمہارے بھائی ہیں۔ ان کے ساتھ ایک بھائی جیسی ہی خیر خواہی ہونی چاہیے۔ یہ وضاحت اور آسانی اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے ورنہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم پر سخت احکامات نازل کرسکتا تھا۔ لیکن یاد رکھنا اللہ تعالیٰ تمہاری نیّتوں اور طرز عمل کو جانتا ہے۔ اسے خوب معلوم ہے کہ کون زیادتی اور خرابی اور کون اصلاح کے ارادے سے یتیموں کے مال کو اپنے مال کے ساتھ شامل کررہا ہے۔ بیشک تم عارضی اور وقتی طور پر کمزوروں اور یتیموں پر بالا دست ہو۔ مگر زیادتی نہ کرنا اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ بالا دست اور حکمت والا ہے۔ یتیموں اور بیواؤں کی کفالت کے بارے میں رسول اکرم ﷺ کے فرمودات : (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَ ۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ کَافِلُ الْیَتِیْمِ لَہٗ أَوْلِغَیْرِہٖ أَنَا وَھُوَ کَھَاتَیْنِ فِی الْجَنَّۃِ وَأَشَارَ مَالِکٌ بالسَّبَابَۃِ وَالْوُسْطیٰ ) [ رواہ مسلم : کتاب الزھد، باب الإحسان إلی الأرملۃِ والمسکین والیتیم ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول گرامی ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : قریبی یا کسی دوسرے یتیم کی کفالت کرنے والا اور میں جنت میں ان دوانگلیوں کی طرح ہوں گے۔ راوی نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کا اشارہ کیا۔ “ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَجُلًا شَکَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَسْوَۃَ قَلْبِہٖ فَقَالَ لَہٗ إِنْ أَرَدْتَ تَلْیِیْنَ قَلْبِکَ فَأَطْعِمِ الْمِسْکِیْنَ وَامْسَحْ رَأْسَ الْیَتِیْمِ ) [ مسند أحمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب مسند أبی ہریرہ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کو دل کے سخت ہونے کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا : اگر چاہتا ہے کہ تیرا دل نرم ہوجائے تو پھر مسکین کو کھانا کھلا اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر۔ “ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَ ۃَ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ اَلسَّاعِیْ عَلَی الْأَرْمَلَۃِ وَالْمِسْکِیْنِ کَالْمُجَاھِدِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوِالْقَاءِمِ اللَّیْلَ الصَّاءِمِ النَّھَارَ ) [ رواہ البخاری : کتاب النفقات بابفضل النفقۃ علی الأھل ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیوگان اور مساکین کی کفالت کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے یا دن کو روزہ اور رات بھر قیام کرنے والے کی طرح ہے۔ “ مسائل 1۔ یتیموں کی اصلاح کرنا نیکی کا کام ہے۔ 2۔ ان کے ساتھ مل جل کر رہنے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ فساد کرنے والے اور اصلاح کرنے والے کو جانتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب اور حکمت والا ہے۔ تفسیر بالقرآن یتیموں کے حقوق کا تحفظ : 1۔ یتیم تمہارے بھائی ہیں۔ (البقرۃ : 220) 2۔ یتیموں کی اصلاح میں ہی بہتری ہے۔ (البقرۃ : 220) 3۔ یتیم کو جھڑکنے کی ممانعت ہے۔ (الضحیٰ : 9) 4۔ یتیموں کے سمجھ دار ہونے پر ان کا مال ان کے حوالے کرنا چاہیے۔ (النساء : 6) 5۔ مال حوالے کرتے وقت گواہ بنانے چاہییں۔ (النساء : 6) 6۔ یتیم کا مال کھانا بہت بڑا گناہ ہے۔ (النساء : 2)