2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsفہم القرآن

Ayahs 2:130–132

وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَقَدِ اصْطَفَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 2:130 in the Quran reader

دین ابرہیمی سے وہی بےرغبتی کرے گا جس نے اپنے آپ کو بیوقوف بنا لیا ہے۔ بلا شک ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا میں چن لیا اور آخرت میں بھی وہ صالحین میں سے ہوگا

اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:131 in the Quran reader

جب اسے اس کے رب نے فرمایا فرمانبردار ہوجاؤ اس نے عرض کی میں نے رب العالمین کے سامنے اپنے آپ کو جھکا دیا ہے

وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُ١ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَؕ Open ayah 2:132 in the Quran reader

ابراہیم اور یعقوب ( علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو وصیت فرمائی کہ اے میرے بیٹو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اس دین کو پسند فرمایا لیا ہے تمہیں موت مسلمان ہونے کی حالت میں آنی چاہیے

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عقیدے کی وضاحت ان کو بیت اللہ کا بانی ثابت کرنا ان کا اہل مکہ سے خصوصی تعلق اور نبی کریم کی نبوت کے بارے میں واضح ثبوت دیتے ہوئے یہ وضاحت کی جارہی ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو بھی اسی عقیدے کی وصیت فرمائی تھی جس کی دعوت نبی آخر الزمان ﷺ پیش کررہے ہیں۔ جو شخص ابراہیم (علیہ السلام) کے عقیدہ اور ان حقائق کو نہیں مانتا اس کی حماقت میں کیا شک ہوسکتا ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنے رب کے حضور اطاعت گزاریاں ‘ قربانیاں ‘ دعائیں بالخصوص یہ التجا جس میں نبی آخر الزماں کی بعثت کی آرزو کی گئی ہے ان سے وہی شخص اعراض و انحراف کرسکتا ہے جس نے اپنے آپ کے لیے حماقت اور نقصان کا راستہ پسند کرلیا ہو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمات اور امتحانات کی وجہ سے انہیں دنیا میں نیک نامی ‘ عظمت اور رہتی دنیا تک امامت کے منصب سے سرفراز فرمایا ہے اور آخرت میں یقیناً وہ خدا کے پسندیدہ اور برگزیدہ لوگوں میں ہوں گے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اطاعت شعاری کا یہ حال تھا کہ جب بھی ان کے رب نے انہیں حکم فرمایا کہ تابعدار ہوجاؤ۔ وہ یہ کہتے ہوئے پورے اخلاص اور مکمل انہماک کے ساتھ اپنے رب کے فرمانبردار ہوئے کہ فرمانبرداری میرا کمال اور احسان نہیں میں تو اس رب کی فرمانبرداری کر رہا ہوں جس کی سب کو فرمانبرداری کرنا چاہیے۔ کیونکہ وہ تو سب کو پالنے والا اور تمام جہانوں کا مالک ہے۔ یہ فرمانبرداریاں ان کی ذات اور بیٹوں تک محدود نہیں تھیں بلکہ ان کے پوتے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بھی اپنی نسل کو اسی طریقے اور دین پر مر مٹنے کی ہدایت کی تھی۔ لیکن اے اہل کتاب ! تمہاری حالت یہ ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وراثت کے دعویدار ہونے کے باوجود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بنائے ہوئے گھر کو تسلیم نہیں کرتے ہو اور نہ ہی ان کی دعا کے صلہ میں مبعوث ہونے والے محمد عربی خاتم النبیین ﷺ کو ماننے کے لیے تیار ہو۔ تم ہی بتاؤ اس سے زیادہ حماقت اور کیا ہوسکتی ہے ؟ آدمی کے انجام کا دارومدار اس کے خاتمہ پر ہے لہٰذا آدمی کو اپنے انجام کی فکر کرنی چاہیے۔ جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ یوں فرمایا کرتے تھے : (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ الزَّمَنَ الطَّوِیلَ بِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ثُمَّ یُخْتَمُ لَہٗ عَمَلُہٗ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ الزَّمَنَ الطَّوِیلَ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِثُمَّ یُخْتَمُ لَہٗ عَمَلُہٗ بِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ) [ رواہ مسلم : کتاب القدر، باب کیفیۃ خلق الآدمی في بطن امہ۔۔] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آدمی طویل عرصہ جنتیوں والے اعمال کرتارہتا ہے پھر اس کا خاتمہ جہنمیوں والے اعمال پر ہوجاتا ہے اور ایک آدمی لمبا عرصہ جہنمیوں والے اعمال کرتارہتا ہے پھر اس کا خاتمہ جنتیوں والے اعمال پر ہوجاتا ہے۔ “ مسائل 1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرز حیات سے منہ پھیرنے والا احمق ہوگا۔ 2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دنیا میں معزز ترین اور آخرت میں صالحین میں سے ہیں۔ 3۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) زندگی بھر اپنے رب کے تابع فرمان رہے۔ 4۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے پوتے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو مرتے دم تک مسلمان رہنے کی وصیت فرمائی۔ تفسیر بالقرآن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سب کے پیشوا ہیں : 1۔ ابراہیم (علیہ السلام) سب کے پیشوا ہیں۔ (البقرۃ : 124) 2۔ ابراہیم (علیہ السلام) سب کے لیے اسوہ ہیں۔ (الممتحنۃ : 4) 3۔ نبی آخر الزمان ﷺ کو ابراہیم (علیہ السلام) کی اتباع کا حکم ہوا ہے۔ (النحل : 123) 4۔ ملت ابراہیم (علیہ السلام) کی اتباع کا سب کو حکم ہے۔ ( آل عمران : 95)
Ayahs 2:133–134

اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ١ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ١ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآئِكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:133 in the Quran reader

کیا تم یعقوب (علیہ السلام) کی موت کے وقت موجود تھے۔ جب انہوں نے اپنی اولاد کو فرمایا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے ؟ سب نے جواب دیا کہ تیرے معبود کی اور تیرے آباء ابراہیم، اسماعیل، اور اسحاق (علیہ السلام) کے معبود کی جو ایک ہی معبود ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار رہیں گے

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:134 in the Quran reader

یہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی جو انہوں نے کیا وہ ان کے لیے ہے اور جو تم کرو گے تمہارے لیے ہے۔ ان کے اعمال کے بارے میں تمہیں نہیں پوچھا جائے گا

فہم القرآن ربط کلام : پہلی آیات میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وصیتکا بیان تھا۔ جس کا اہل کتاب انکار کرتے ہیں۔ لہٰذا ان سے سوال کیا گیا ہے کہ کیا تم ان کی وفات کے وقت موجود تھے کہ انہوں نے یہ نصیحت نہیں کی تھی ؟ انبیائے عظام کے ذمہ قوموں کی رہنمائی کا فریضہ ہوا کرتا ہے۔ اس جان کٹھن اور ہمہ وقت بھاری ذمہ داری کے باوجود انبیاء اپنے اہل خانہ کی ذمہ داریوں سے لمحہ بھر کے لیے غافل نہیں ہوا کرتے تھے۔ ان کی کوشش ہوتی کہ ان کی ذات اہل خانہ اور لوگوں کے لیے بہترین نمونہ ثابت ہوں۔ اس بارے میں وہ اس قدر فکر مند ہوتے تھے کہ جب موت کا فرشتہ سرہانے کھڑا جان قبض کرنے کی اجازت لے رہا ہوتا۔ جن نازک لمحات میں انسان کی نگاہیں دنیا کی بجائے اگلی منزل پر مرکوز ہوتی ہیں دوسری کوئی چیز سوجھائی نہیں دیتی۔ انبیاء اس وقت بھی اپنی ذمہ داری کے بارے میں فکر مند ہوتے تھے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اسی فکر مندی میں اپنے بیٹوں کو وصیت کرتے ہوئے ایک عہد لے رہے ہیں کہ جان پدر ! میرے چل چلاؤ کا وقت آن پہنچا ہے۔ لیکن میں اس اطمینان اور تسلی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہونا چاہتا ہوں وعدہ کیجیے کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے ؟ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی دعاؤں اور کوششوں کا نتیجہ تھا کہ ان کی اولاد بیک زبان عرض کرتی ہے ہم آپ کے معبود اور اپنے عظیم آباء حضرت ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق (علیہ السلام) کے معبود کی عبادت کیا کریں گے۔ ان سب کا ایک ہی معبود تھا لہٰذا ہم ایک ہی الٰہ کے تابع فرمان اور اس کی عبادت کریں گے۔ اس واقعہ میں بتلایا جا رہا ہے کہ والدین کو اپنی ذمہ داریوں کا کس قدر خیال رکھنا چاہیے۔ ساتھ ہی اہل کتاب کو باور کروایا گیا ہے کہ اگر تم واقعی اپنے آپ کو اس عظیم خاندان کا وارث سمجھتے ہو تو تمہیں صالح اولاد کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنے باپ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت اور عہد کا خیال رکھنا چاہیے۔ ان کا عقیدہ توحید پر مبنی اور کردار اللہ تعالیٰ کے فرمان کے تابع تھا۔ اگر تم نے اپنے عقیدہ اور کردار کو ان جیسا بنانے کی کوشش نہ کی اور آخرالزمان نبی ﷺ پر ایمان نہ لائے تو قیامت کے دن محض عقیدت اور نسبت کچھ کام نہ آسکے گی اور دنیا میں بھی کوئی قوم صرف حسب ونسب کی بنیاد پر عزت و رفعت حاصل نہیں کرسکتی۔ نبی معظم ﷺ نے اس اصول کا اس طرح تذکرہ فرمایا ہے۔ (۔۔ مَنْ بَطَّأَ بِہٖ عَمَلُہٗ لَمْ یُسْرِعْ بِہٖ نَسَبُہٗ ) [ رواہ مسلم : کتاب الذکر والدعاء ] ” جو اعمال کی وجہ سے پیچھے رہ گیا اسے حسب ونسب کام نہیں دے گا۔ “ اس کے ساتھ یہ اصول بھی بیان فرما دیا گیا کہ کوئی کسی کے اعمال کی وجہ سے نہ پکڑا جائے گا اور نہ بخشا جائے گا اور یہی اصول اسلامی حکومت کے لیے لازم قرار پایا۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : ” باپ کے بدلے بیٹا نہیں پکڑا جاسکتا۔ “ [ مسند احمد : کتاب مسند العشرۃ المبشرین بالجنۃ ] مسائل 1۔ ماں باپ کو اپنی اولاد سے توحید اور خدا کی عبادت کا عہد لینا چاہیے۔ 2۔ تمام انبیاء ایک اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے۔ 3۔ لوگوں کو قیامت کے دن ان کے اپنے اپنے اعمال کے بارے میں سوال ہوگا۔ تفسیر بالقرآن اللہ کا پسندیدہ دین اسلام ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو پسند فرمایا ہے۔ (المائدۃ : 3) 2۔ اللہ تعالیٰ اسلام کی دعوت دیتا ہے۔ (یونس : 25) 3۔ اسلام فرمانبرداری کا نام ہے۔ (آل عمران : 83) 4۔ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہونا چاہیے۔ (البقرۃ : 208) 5۔ اسلام پر ہی مرمٹنا چاہیے۔ (آل عمران : 102) 6۔ یوسف (علیہ السلام) بھی یہی دعا کرتے تھے۔ ( یوسف : 101)
Ayahs 2:135–136

وَ قَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا١ؕ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهٖمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 2:135 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں کہ یہودی یا عیسائی بن جاؤ تبھی ہدایت پاؤ گے آپ فرما دیں کہ صحیح راہ تو ملت ابراہیم ہے اور وہ شرک کرنے والے نہیں تھے

قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١ۖ٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:136 in the Quran reader

اے مسلمانو ! تم کہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس چیز پر جو ہماری طرف اتاری گئی اور اس پر بھی جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب ( علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر اتاری گئی اور جو کچھ اللہ کی جانب سے موسیٰ ، عیسیٰ ( علیہ السلام) اور دوسرے انبیاء دیے گئے ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب لوگوں کو یہودی اور عیسائی ہونے کی دعوت دیتے ہیں حالانکہ لوگوں کو ملت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت دینا چاہیے۔ لہٰذا اے نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ آپ لوگوں کو وہی دعوت دیں جو ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد عالی دیا کرتی تھی۔ وہ دعوت توحید خالص اور دین اسلام کی دعوت تھی۔ فکر و عمل کے لحاظ سے کمزور جماعتیں لوگوں کو اپنی طرف راغب رکھنے اور اپنے بوسیدہ نظریات کو منوانے کے لیے ہمیشہ سے بزرگوں کا نام ناجائز استعمال کرتی آئی ہیں۔ ایسے لوگ فکری دولت سے اس قدر محروم ہوتے ہیں کہ وہ صدیوں پہلے فوت شد گان بزرگوں کو بھی اپنے بوسیدہ نظریات کا حامل ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہود و نصاریٰ بھی اسی فکری بیچارگی کا شکار تھے اور ہیں۔ لہٰذا جب بھی انہیں دین اسلام کی دعوت پیش کی جاتی ہے تو وہ اپنے آپ کو مطمئن کرنے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور جناب یعقوب (علیہ السلام) کو یہودی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ یہاں ایک بار پھر واضح کیا جا رہا ہے کہ جن بزرگوں کو تم اپنے نظریات کا حامل ثابت کر رہے ہو ان کا تو تمہارے نظریات کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں تھا اور نہ ہی مشرکین کے ساتھ ان کا تعلق جوڑا جاسکتا ہے لہٰذا سرور گرامی ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ دو ٹوک انداز میں اس بات کا اظہار فرمائیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے بعد آنے والے انبیاء کا نظریہ یہود و نصاریٰ اور اہل مکہ کے نظریات سے یکسر مختلف تھا۔ وہ تو ایک رب کی توحید کو ماننے والے اور زندگی بھر اسی کے تابع فرمان رہنے والے تھے۔ اسی دعوت کا اقرار اور اظہار مسلمانوں سے کروایا جا رہا ہے کہ ہم اسی عقیدے کے حامل اور اسی دعوت کے داعی ہیں جو عظیم المرتبت ہستیاں اور ان کی نیک اولاد پھر انہی کی پیروی کرنے والے جلیل القدر پیغمبر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دیا کرتے تھے۔ ہم بلا تفریق ان کی پیغمبرانہ حیثیت کو تسلیم اور ان کی شریعتوں کی تائید کرتے ہیں۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ کَانَ أَہْلُ الْکِتَابِ یَقْرَءُ وْنَ التَّوْرَاۃَ بالْعِبْرَانِیَّۃِ وَیُفَسِّرُونَہَا بالْعَرَبِیَّۃِ لِأَہْلِ الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ لَا تُصَدِّقُوا أَہْلَ الْکِتَابِ وَلَا تُکَذِّبُوْہُمْ وَقُوْلُوْا آمَنَّا باللّٰہِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَیْنَا الْآیَۃَ ) [ رواہ البخاری : کتاب تفسیر القرآن، باب قولوا آمنا باللّٰہ وماأنزل علینا ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ اہل کتاب تورات کو عبرانی زبان میں پڑھتے اور مسلمانوں کے لیے اس کی تفسیر عربی زبان میں کرتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نہ تم اہل کتاب کی تصدیق کرو اور نہ ان کو جھٹلاؤ بلکہ تم کہو کہ ہم اللہ پر اور جو ہماری طرف اتارا گیا اس پر ایمان لے آئے ہیں۔ “ مسائل 1۔ ہدایت کا سرچشمہ صرف ملت ابراہیم ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ اور قرآن مجید، پہلی آسمانی کتابوں پر ایمان لانا اور تمام انبیاء کو بلا تفریق تسلیم کرنا ہی اسلام ہے۔ 3۔ انبیاء کے درمیان فرق کرنا کفر ہے۔ 4۔ انبیاء میں سے کسی کی گستاخی کرنا جائز نہیں۔ تفسیر بالقرآن انبیاء کا مقام اور کتب آسمانی کا احترام : 1۔ تمام انبیاء پر ایمان لانا فرض ہے۔ (البقرۃ : 136) 2۔ پہلی کتب آسمانی پر ایمان لانا لازم ہے۔ (البقرۃ : 4) 3۔ اللہ تعالیٰ اور انبیاء کے درمیان فرق کرنا کفر ہے۔ (النساء : 150)
Ayahs 2:137–138

فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍ١ۚ فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ Open ayah 2:137 in the Quran reader

اگر وہ تمہاری طرح ایمان لائیں تو ہدایت پائیں گے۔ اور اگر منہ موڑیں تو وہ واضح ضد کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کے مقابلہ میں آپ کو کافی ہوگا اور وہ خوب سننے اور جاننے والا ہے

صِبْغَةَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً١٘ وَّ نَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ Open ayah 2:138 in the Quran reader

اللہ کا رنگ اختیار کرو اور اللہ تعالیٰ کے رنگ سے اچھا رنگ کس کا ہوسکتا ہے۔ ہم تو اسی کی عبادت کرنے والے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : صحابہ کرام ؓ نبی ﷺ کی دعوت کے وارث اور اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے جس وجہ سے ان کے ایمان کو ایمان کی کسوٹی قرار دیا گیا ہے۔ اے یہود و نصاریٰ اور دنیا کے لوگو ! اگر تم صحابہ کرام ؓ کی طرح ایمان اور تسلیم و رضا کا رویہ اختیار کرلو تو ہدایت پا جاؤ گے۔ اگر لوگ نبی کی دعوت اور صحابہ کے طریقہ کا انکار کریں تو پھر سمجھ جائیے کہ یہ لوگ مخالفت برائے مخالفت کی روش کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مسلمانو ! بےپرواہ ہوجاؤ کفار کا حسد و بغض اور اختلاف تم کو حقیقی اور دائمی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی شرارتوں سے تمہیں محفوظ رکھنے کا ذمہ لے رکھا ہے۔ اللہ ان کی زبان درازیوں اور سازشوں کو جاننے اور سننے والا ہے۔ دنیا کے مختلف مذاہب نے اپنی پہچان کے لیے اپنے طور پر کچھ شعار اور نشان مقرر کر رکھے ہیں نبی اکرم ﷺ کے دور میں غیر یہودی یہودیت میں داخل ہوتا تو یہودی اسے خاص طریقے سے غسل دیتے اور عیسائی اپنے مذہب میں داخل ہونے والے کو رنگ دار پانی کے ساتھ نہانے کا حکم دیتے۔ جسے اصطباع کا نام دیا گیا تھا۔ بعدازاں یہودیوں نے مذہبی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے آہستہ آہستہ یہ عقیدہ بنا لیا کہنسلی یہودی کے علاوہ غیر مذہب کا کوئی شخص یہودی مذہب قبول نہیں کرسکتا عیسائیوں نے بپتسمہ کی رسم ایجاد کی ان کی دیکھا دیکھی ہندوؤں نے تلک ایجاد کیا کہ جب کوئی ہندو مذہب قبول کرے تو باقی رسومات کے ساتھ اس کے ماتھے پر صنوبر کا نشان لگایا جائے جسے وہ تلک کا نام دیتے ہیں۔ ہندوؤں اور دوسرے مذاہب سے منفرد ہونے کے لیے سکھوں نے اپنے لیے پانچ نشان مقرر کیے۔ کیس ‘ کرپان ‘ کلائی میں کڑا ‘ جیب میں کنگھا اور کچھا اپنا مذہبی نشان قرار دیا ہے۔ زرتشت جو ایران میں پائے جاتے ہیں چین ‘ جاپان ‘ ہندوستان ‘ سری لنکا اور دیگر ممالک میں بسنے والے بدھ مت کے پیرو کاروں نے اپنے لیے ایک عہد تیار کیا ہے۔ ان کے مذاہب میں داخل ہونے والا۔ مخصوص الفاظ میں ایک عہد کا اظہار کرتا ہے۔ لیکن اسلام ایسا دین ہے جس نے مسلمان ہونے کے لیے کلمہ پڑھنا لازم قرار دیا ہے۔ جس کا مختصر مفہوم یہ ہے کہ مسلمان ہونے والا اقرار کرتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اپنا معبود ‘ خالق ‘ مالک ‘ رازق ‘ حاکم ‘ حاجت روا اور مشکل کشا نہیں سمجھتا اور میرے راہنما ‘ مرشد اور قائد حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں جو میرے لیے کامل واکمل نمونہ ہیں اور میں اسی کو دنیاوآخرت کی فوزوفلاح کا ذریعہ سمجھتا ہوں اور اسی طریقہ پر زندگی بسر کروں گا جب اس عقیدے کا رنگ انسان کے کردار پر چڑھ جائے تو اسے کوئی خوف اور لالچ اپنے مقصد سے نہیں ہٹا سکتا۔ اس عقیدہ کو ” صِبْغَۃَاللّٰہِ “ کا نام دیا گیا ہے۔ جس کے مختلف شیڈ (Shade) ہیں جن کا تذکرہ سورة الاحزاب کی آیت 22 اور سورة التوبہ کی آیات 20 تا 22 میں کیا گیا ہے۔ زرتشت اور بدھ کا عہد : بپتسمہ عیسائیوں کی وہ رسم ہے جو عیسائی مذہب میں شامل ہونے کے وقت ادا کی جاتی ہے اور اس رسم کی ادائیگی کے بغیر کوئی عیسائیت میں داخل نہیں ہوسکتا اور اس رسم کا تعلق ایک طرح سے عقیدہ کفارہ سے ہے۔ ان کے خیال میں اس رسم کی ادائیگی کے بعد انسان گناہوں سے بالکل پاک ہوجاتا ہے اسے مختلف انداز سے سر انجام دیا جاتا ہے۔ عام طور پر ایسے شخص کو جسے بپتسمہ دیا جائے ایک کمرے میں لٹا کر اس کے پورے جسم پر تیل کی مالش کی جاتی ہے جس کے بعد اسے غسل دیا جاتا ہے اور اس سے پوچھا جاتا ہے۔ کیا تم باپ بیٹے اور روح القدس پر مکمل ایمان رکھتے ہو ؟ اس کے اقرار کرنے کے بعد اسے سفید کپڑے پہنائے جاتے ہیں اور پھر وہ تمام اشخاص جو بپتسمہ لے چکے ہیں اجتماعی طور پر کلیسا میں جاتے ہیں اور عشائے ربانی میں شرکت کرتے ہیں۔ بپتسمہ کا ذکر انجیل مارک میں ملتا ہے۔ ” یوحنا لوگوں کو بپتسمہ دیتا اور لوگوں کو ان کے گناہوں سے پاک کرتا تھا۔ یروشلم کے بہت سے لوگ اس کے پاس آئے اور اپنے گناہوں کا اقرار کرکے بپتسمہ لیا اور یوحنا اس بات کا اقرار کرتا تھا کہ میرے بعد وہ شخص آئے گا جو مجھ سے زیادہ طاقت والا ہوگا اور تمہیں روح القدس سے بپتسمہ دے گا۔ “ اس انجیل میں بھی اس بات کا ذکر ہے کہ حضرت مسیح نے یوحنا سے بپتسمہ لیا۔ عشائے ربانی : عیسائی عقیدہ میں اس رسم کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ بقول عیسائی حضرات اس رسم کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بنفس نفیس محفل میں تشریف لاتے ہیں۔ اس کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ اتوار کو گرجا میں سروس اور پھر دعا وغیرہ کے بعد پادری باپ بیٹے اور روح القدس کی برکت سے دعا کرتا ہے اور روٹی شراب میں بھگو کر تقسیم کی جاتی ہے۔ تاکہ عقیدہ کفارہ کی یاد تازہ کی جائے اور یہ روٹی اور شراب عیسائی حضرات کے عقیدہ کے مطابق حضرت مسیح کا گوشت اور خون بنتے ہیں۔ یہ عبادت اس یاد میں کی جاتی ہے کہ جب گرفتاری سے قبل یسوع مسیح نے حواریوں کے ساتھ کھانا کھایا تھا اور ان سے کہا کہ : And as they were eating, Jesus took bread, and blessed it, and brake it, and gave it to the discibles, and said Take, eat; this is my body. And he took the cup, and gave thanks, and gave it to them, saying, Drink ye all of it: For this is my blood of the new testament, which is shed for many for the remission of sins. ” جب وہ کھا رہے تھے تو یسوع نے روٹی لی اور برکت دے کر توڑی اور شاگردوں کو دے کر کہا لو کھاؤ یہ میرا بدن ہے پھر پیالہ لے کر شکر کیا اور ان کو دے کر کہا کہ تم سب اس میں سے پیو کیونکہ یہ میرا وہ عہد کا خون ہے جو بہتیروں کے لیے گناہوں کی معافی کے واسطے بہایا جاتا ہے۔ “ (ادیان و مذاہب کا تقابلی مطالعہ، ڈاکٹر عبدالرشید، کراچی یونیورسٹی) مسائل 1۔ ہدایت کا سرچشمہ صرف ملت ابراہیم ہے۔ 2۔ صحابہ کرام کا ایمان امت کے لیے کسوٹی ہے۔ صحابہ کے ساتھ حسد، بغض اور اختلاف رکھنے والا دین کا دشمن ہے۔ 3۔ صحابہ کے دشمنوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ حفاظت کرنے والا ہے۔ 4۔ خدا کی عبادت اور توحید کا رنگ دنیا کے ہر رنگ اور نشان سے خوبصورت ہے، پورے اخلاص کے ساتھ اسے اختیار کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن شان صحابہ ؓ : 1۔ اللہ نے صحابہ کے ایمان کو آزمالیا۔ (الحجرات : 3) 2۔ صحابہ ایمان کا معیار ہیں۔ (البقرۃ : 137) 3۔ صحابہ اللہ کی جماعت ہیں۔ (المجادلۃ : 22) 4۔ صحابہ ؓ کو براکہنے والے بیوقوف ہیں۔ (البقرۃ : 13) 5۔ صحابہ ؓ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوئے۔ (المجادلۃ : 22) 5۔ صحابہ ؓ کو اللہ نے اپنی رضا کی ضمانت دی ہے۔ (البینۃ : 8) 6۔ صحابہ ؓ بھی اللہ پر راضی ہوگئے۔ (البینۃ : 8)
Ayah 2:139

قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِی اللّٰهِ وَ هُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ۚ وَ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ۚ وَ نَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَۙ Open ayah 2:139 in the Quran reader

آپ فرما دیں کہ کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو جو ہمارا اور تمہارا رب ہے ہمارے لیے ہمارے عمل ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ‘ ہم تو اسی کے لیے خالص ہوچکے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عبادت سے انحراف اور اس کے احکام کا انکار کرنے والا عملًا اللہ تعالیٰ سے جھگڑا کرتا ہے۔ اے نبی ﷺ ! اب ان سے پوچھیے کیا تم ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑتے ہو جس کی توحید اور اطاعت کا رنگ ہم نے اختیار کرلیا ہے جو ہمارا مالک ‘ ہمیں پالنے والا اور تمہارا مالک اور تمہیں بھی روزی مہیا کرنے والا ہے۔ جب ہم ایک ہی مالک کی مخلوق اور ایک ہی رازق کے در کے سوالی اور محتاج ہیں تو پھر اس ذات کبریا کے بارے میں ہمارے ساتھ کیوں جھگڑتے ہو ؟ ایک مالک ‘ خالق اور ایک ہی رازق ماننے والوں کو ایک ہی امت ہونا چاہیے اگر تم دنیا وآخرت کی سب سے بڑی سچائی توحید کو ماننے کے لیے آمادہ نہیں اور اللہ تعالیٰ کی غلامی میں آنے کے لیے تیار نہیں تو پھر ہم نے اپنے اعمال کا جواب دینا ہے اور تم اپنے کردار کے بارے میں جواب دہ ہو گے۔ ہاں ہم تمہاری طرح اپنے فکر و عمل میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کی شراکت اور عقیدۂ توحید میں کوئی ملاوٹ گوارا نہیں کرتے۔ ہمارا عمل اور عقیدہ اسی ذات کے لیے خالص اور بلا شرکت غیرے ہے جو سب کا رب ہے۔ یہی وہ جھگڑا ہے جس بنا پر ہر زمانے میں کافر اور مشرک اللہ کے مخلص بندوں سے ٹکراتے آ رہے ہیں۔ اس فرمان میں ایک مخصوص انداز میں مسلمانوں کو تسلی دی جا رہی ہے کہ ان سے الجھنے کی بجائے ان کو انہی کے حال پر چھوڑ دو کیونکہ ہر شخص اپنے ہی اعمال کا جواب دہ ہے۔ مسائل 1۔ سب کا رب ایک اللہ ہے۔ 2۔ ہر کوئی اپنے اعمال کا جواب دہ ہے۔ 3۔ سچا مسلمان وہ ہے جو اپنے رب کے لیے مخلص ہوجائے۔ تفسیر بالقرآن اخلاص کی اہمیت : 1۔ نبی ﷺ کو اخلاص کا حکم۔ (الزمر : 11) 2۔ تمام امتوں کو اخلاص کا حکم۔ (الاعراف : 29) 3۔ اخلاص والے مومن ہیں۔ (النساء : 146) 4۔ مخلص بندوں پر شیطان قابو نہ پاسکے گا۔ (ص : 83)
Ayahs 2:140–141

اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:140 in the Quran reader

کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا عیسائی تھے۔ پوچھئے کہ کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔ اللہ کے نزدیک شہادت چھپانے والے سے بڑا ظالم اور کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے غافل نہیں

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:141 in the Quran reader

یہ ایک امت تھی جو گزر چکی ہے جو انہوں نے کیا ان کے لیے اور جو تم نے کیا تمہارے لیے ہے۔ تمہیں ان کے عمل کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا

فہم القرآن ربط کلام : انبیائے کرام فرقہ واریت سے مبرّا حضرات تھے اور ان کو فرقہ واریت میں گھسیٹنا اللہ تعالیٰ کی شہادت کو ٹھکرانے اور چھپانے کے مترادف ہے۔ یہود و نصاریٰ انتہائی ہٹ دھرم لوگ ہیں جو جغرافیائی حقائق ‘ تاریخی شواہد اور الہامی دلائل سننے کے باوجود بھی رسول معظم ﷺ کے زمانے سے لے کر آج تک اپنی ضد پر قائم اور جھوٹا دعو ٰی کیے جا رہے ہیں کہ ہدایت کا راستہ یہودی اور عیسائی ہونے میں ہے اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کے لیے حضرت ابراہیم ‘ حضرت اسماعیل ‘ حضرت اسحاق ‘ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) اور ان کے بعد آنے والے انبیاء کو یہودی اور عیسائی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لہٰذا آپ ﷺ کو حکم دیا جارہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے استفسار فرمائیں کہ ان پیغمبروں کے متعلق اور ان کے عقائد کے بارے میں تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ علیم وخبیر اور علّام الغیوب زیادہ جانتا ہے ؟ یہ اللہ کی وہ شہادت ہے جس پر تورات ‘ انجیل اور قرآن گواہی دے رہے ہیں۔ وہ شخص انتہا درجے کا ظالم ہے جو اللہ تعالیٰ کی اس عظیم شہادت کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے جو ہر اعتبار سے کامل اور اکمل ہے۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ تمہارے کسی قول و فعل سے غافل وبے خبر نہیں ہے۔ جن ہستیوں کو تم اپنے کھاتہ میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہو وہ اللہ تعالیٰ کی ایک برگزیدہ جماعت تھی جو گزر چکی۔ ان کے اعمال کا صلہ انہی کے لیے ہے اور تمہارے اعمال کا نتیجہ تمہارے سامنے ہوگا۔ تمہیں ان کے اعمال کی بجائے اپنے اعمال کی فکر کرنا چاہیے۔ کیونکہ تمہیں ہرگز ان کے اعمال کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عدالت کا ایسا اصول ہے جس سے ہر انسان میں احساس ذمہ داری پیدا کرنے کے ساتھ ان تمام سہاروں کو کاٹ دیتا ہے جن سے افراد اور قوموں میں بد عملی پیدا ہوا کرتی ہے۔ ( مَا کَانَ إِبْرَاہِیمُ یَہُودِیًّا وَلَا نَصْرَانِیًّا وَلَکِنْ کَانَ حَنِیفًا مُسْلِمًا وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِینَ ) [ آل عمران : 67] ” ابراہیم یہودی اور عیسائی نہ تھے۔ لیکن وہ توحید پرست مسلمان تھے اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔ “ مسائل 1۔ حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولاد یہودی اور عیسائی نہیں تھے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی قائم کی ہوئی شہادت کو چھپانا بڑا گناہ اور ظلم ہے۔ 3۔ فوت شدگان کے بارے میں ہمیں اور ہمارے بارے میں انہیں نہیں پوچھا جائے گا۔ 4۔ ہر شخص اپنے اعمال کا جواب دہ ہوگا۔ تفسیر بالقرآن بڑا ظالم کون ؟ 1۔ اللہ کی مساجد کو ویران کرنے والا۔ (البقرۃ : 114) 2۔ اللہ کی گواہی کو چھپانے والا۔ (البقرۃ : 140) 3۔ اللہ پر جھوٹ باندھنے والا۔ (الانعام : 12) 4۔ نبوت کا دعو ٰی کرنے والا۔ (الانعام : 93) 5۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والا۔ (الاعراف : 37) 6۔ اللہ کی آیات سن کر اعراض کرنے والا۔ (الکہف : 57) 7۔ حق بات کو جھٹلانے والا۔ (العنکبوت : 68) 8۔ سچ بات کو جھٹلانے والا۔ (الزمر : 32) 9۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم ظالم تھی۔ (النجم : 52) 10۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے مانگنے والا۔ (یونس : 106) 11۔ قرآن کی نصیحت سے منہ موڑنے والا۔ (الکہف : 57)
Ayah 2:142

سَیَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِیْ كَانُوْا عَلَیْهَا١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ؕ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:142 in the Quran reader

عنقریب نادان لوگ کہیں گے کہ جس قبلہ پر یہ تھے اس سے انہیں کس چیز نے ہٹا دیا ہے آپ فرمادیں کہ مشرق و مغرب کا مالک اللہ ہی ہے وہ جسے چاہے سیدھے راہ کی ہدایت دیتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : پہلے پارہ کے اختتامی رکوعات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے خاندان کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے وضاحت فرمائی تھی کہ بیت اللہ ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے صاحبزادے نے تعمیر کیا تھا۔ پھر یہود و نصارٰی کو ملت ابراہیم پر متفق ہوجانے کی دعوت دی تھی۔ پارہ کی آخری آیت میں ارشاد ہوا کہ یہ ایک امت تھی جن کے عقائد و نظریات ایک ہی تھے اور وہ اس دنیا سے جہان آخرت کی طرف رخت سفر باندھ چکے لہٰذا اب ان کی شریعت کے حوالہ سے کوئی ثبوت دینا، اس پر مصر ہونا اور بیت المقدس کے قبلہ ہونے پر اصرار کرنا بڑی بےوقوفی کی علامت ہے جس کا یہ لوگ عنقریب برملا اظہار کریں گے۔ لیکن اے مسلمانو ! گھبرانے کی بجائے اس سچائی پر قائم رہنا۔ یہاں یہود و نصارٰی کے پروپیگنڈہ کے مقابلہ کے لیے رسول محترم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو ذہنی طور پر تیار کیا گیا ہے۔ قبلہ کا لفظی معنی جانب اور سمت ہے۔ شرعی اصطلاح میں نماز کے وقت مسجد حرام کی جانب منہ کرنے کی سمت کو قبلہ کہا گیا ہے۔ اب بیت اللہ کو مسلمانوں کا قبلہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح مسلمان اعتقادی طور پر ایک رب کی عبادت کرنے والے ہیں اسی طرح عبادت کے وقت بھی ان کا رخ ایک ہی طرف ہونا چاہیے تاکہ فکری اور عملی طور پر امت میں وحدت ویگانگت پیدا ہوسکے۔ تحویل قبلہ کے وقت دنیا کے دو بڑے مذہب عیسائی اور یہودی عبادت کے وقت بیت المقدس کی طرف رخ کرتے تھے اور مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد نبی کریم ﷺ بھی سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے۔ لیکن آپ کی خواہش اور تمنا یہ تھی کہ جس طرح ہمیں ملت ابراہیم کی اتباع کا پابند کیا گیا ہے اسی طرح ہمارا قبلہ بھی بیت اللہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے مرکز ہدایت اور مرجع خلائق بنایا ہے۔ اس خواہش کی تکمیل سے پہلے آپ اور مسلمانوں کو اتنی بڑی تبدیلی کے لیے ذہنی طور پر تیار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ عنقریب نادان لوگ کہرام مچائیں گے کہ تبدیلئ قبلہ کی کیا ضرورت تھی ؟ پہلے قبلہ میں کونسی خرابی واقع ہوئی ہے ؟ یہ تو محض مخالفت برائے مخالفت کا نتیجہ ہے۔ اس کے جواب میں اعتراض کرنے والوں کو سمجھایا کہ مشرق ومغرب اللہ تعالیٰ کی ملکیت اور اسی کے اختیار میں ہے وہ جس طرف چاہے رخ پھیرنے کا حکم صادر فرمائے۔ وہ بھی ایک سمت تھی اور یہ بھی ایک جانب اور سمت ہے۔ لیکن فرق اتنا بڑا ہے کہ پہلے آپ اپنی مرضی سے بیت المقدس کی طرف رخ کرتے تھے اب اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھتے ہوئے بیت اللہ کی طرف رخ پھیرلیں۔ ہدایت رسم و رواج، پرانی اور غیر مستند روایات کوا پنا نے کا نام نہیں۔ ہدایت تو وہ ہے جس کی اللہ تعالیٰ نشاندہی اور رہنمائی فرماتا ہے۔ یہ انہی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان اور ہدایت کے طالب ہوا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم پر اعتراض کرنے والے بیوقوف ہوتے ہیں اور جان بوجھ کر بیوقوف بننے والوں کو ہدایت نصیب نہیں ہوا کرتی۔ مسائل 1۔ اللہ ہی کے لیے مشرق ومغرب ہے۔ 2۔ اللہ کے حکم پر اعتراض کرنا بےوقوفی ہے۔ 3۔ اللہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہی صراط مستقیم ہے۔ تفسیر بالقرآن ہدایت اللہ کے اختیار میں ہے : 1۔ ہدایت وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ ہدایت قرار دے۔ (البقرۃ : 120) 2۔ ہدایت اللہ کے اختیار میں ہے۔ (القصص : 56) 3۔ وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ : 213) 4۔ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کے بغیر کوئی ہدایت نہیں پاسکتا۔ (الاعراف : 43) 5۔ ہدایت جبری نہیں اختیاری چیز ہے۔ (الدھر : 3) 6۔ نبی اکرم ﷺ بھی کسی کو ہدایت نہیں دے سکتے۔ (القصص : 56) 7۔ ہدایت پانا اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔ (الحجرات : 17) 8۔ رسولِاکرم ﷺ کی تابعداری انسان کی ہدایت کی ضمانت ہے۔ (النور : 54) 9۔ صحابہ کرام ؓ کا ایمان ہدایت کی کسوٹی ہے۔ (البقرۃ : 137) 10۔ ہدایت پر استقامت کی دعا کرنا چاہیے۔ (آل عمران : 8)
Ayah 2:143

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَیْهِ١ؕ وَ اِنْ كَانَتْ لَكَبِیْرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:143 in the Quran reader

اسی طرح ہم نے تمہیں امت وسط بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو۔ جس قبلہ پر تم پہلے تھے اسے ہم نے صرف اس لیے مقرر کیا تھا تاکہ ہم جان لیں کہ رسول کا پیرو کار کون ہے اور کون اپنی ایڑیوں کے بل پھرجاتا ہے ؟ گویہ کام بڑا مشکل تھا مگر جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی ہے ان کے لیے مشکل ثابت نہ ہوا اور اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ شفقت اور مہربانی کرنے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ مستقبل قریب میں تحویل قبلہ کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے لفظ ” کَذٰلِکَ ‘ ا ستعمال کیا ہے۔ اصل لفظ ” ذَالِکَ “ ہے جس میں حرف ” ک “ کا اضافہ فرمایا گیا ہے۔ اسے عربی زبان میں حرف تشبیہ کہا جاتا ہے ‘ جس کا معنی ‘ مانند ‘ جیسے ہے۔ یہاں اشارتاً یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ جس طرح جغرافیائی لحاظ سے تمہارا قبلہ زمین کے وسط میں واقع ہے اسی طرح ہی ہدایت اور فکر وعمل کے اعتبار سے تمہیں امت عدل اور وسط بنایا گیا ہے۔ محشر کے دن جب پہلی امتوں سے ان کے انبیاء کے بارے میں سوال ہوگا کہ انبیاء نے میرا پیغام آپ تک پہنچایا تھا یا نہیں ؟ بعض اُمّتیں واضح طور پر اپنے نبیوں کی جدوجہد کی نفی کردیں گی۔ اس کے بعد انبیاء (علیہ السلام) کو اپنی تائید کے لیے گواہ لانے کا حکم ہوگا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کریں گے کہ ہماری گواہی امّتِ محمد یہ کے لوگ دیں گے۔ تب آپ ﷺ کی امت کے لوگ عرض کریں گے کہ یا الٰہی ! یہ لوگ غلط بیانی کررہے ہیں ان کے انبیاء نے توتیرا پیغام ٹھیک ٹھیک ان تک پہنچایا تھا۔ (عَنْ أَبِيْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِيِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُدْعٰی نُوْحٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُقَالُ لَہٗ ھَلْ بَلَّغْتَ فَیَقُوْلُ نَعَمْ فَیُدْعٰی قَوْمُہٗ فَیُقَالُ لَھُمْ ھَلْ بَلَّغَکُمْ فَیَقُوْلُوْنَ مَا اَتَانَا مِنْ نَّذِیْرٍ أَوْ مَآ أَتَانَا مِنْ أَحَدٍ قَالَ فَیُقَالُ لِنُوْحٍ مَنْ یَّشْھَدُ لَکَ فَیَقُوْلُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُہٗ قَالَ فَذٰلِکَ قَوْلُہٗ (وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَّسَطًا) [ مسند أحمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب : مسند أبی سعید الخدری ] ” حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا روز قیامت نوح (علیہ السلام) کو بلا کر پوچھا جائے گا کہ کیا تو نے میرا پیغام پہنچا دیا تھا ؟ وہ جواب دیں گے ہاں پھر ان کی قوم کو بلا کر پوچھا جائے گا کیا نوح (علیہ السلام) نے تمہیں تبلیغ کی اور میرا پیغام پہنچایا تھا۔ وہ کہیں گے ہمارے پاس تو ڈرانے والا کوئی بھی نہیں آیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے کہا جائے گا آپ کی گواہی کون دے گا ؟ وہ کہیں گے، محمد ﷺ اور اس کی امّت۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ (اسی طرح ہم نے تمہیں امّتِ وسط بنایا ہے) ۔ “ اسی لیے اس امت کو عدل کا لقب عطا کیا گیا۔ کیونکہ عدالت میں عادل کی گواہی معتبر ہوا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہجرت مدینہ کے ابتدائی ایام میں تحویل قبلہ کا حکم دے سکتا تھا۔ لیکن ایسا اس لیے نہیں کیا گیا تاکہ تحویل قبلہ کے ذریعے لوگوں کو آزمایا جائے کہ کون اللہ کا حکم سمجھ کر اپنا قبلہ تبدیل کرتا ہے کیونکہ ہدایت یافتہ لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں حالات اور سمت نہیں دیکھا کرتے۔ تحویل قبلہ بہت بڑی آزمائش اوراقدام تھا۔ اللہ تعالیٰ کا کرم وفضل دیکھیے کہ بیت اللہ قبلہ مقرر فرمانے کے باوجود اسے سمت مقرر نہیں کیا گیا بلکہ مسجد حرام کی جانب چہرے کرنے کا حکم دیا تاکہ قبلہ کی سمت متعین کرنے میں دقّت نہ اٹھانی پڑے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس میں اور وسعت کرتے ہوئے فرمایا : (بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَۃٌ) [ رواہ الترمذی : کتاب الصلوۃ ] ” قبلہ مشرق ومغرب کے درمیان ہے۔ “ تحویل قبلہ کے بارے میں فرمایا جارہا ہے کہ بیشک یہ بڑا مشکل مسئلہ اور مرحلہ ہے لیکن ان کے لیے معمولی کام ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا ہے۔ جہاں تک شہادت کا حق ادا کرنے کا معاملہ ہے آپ ﷺ نے اسے اس طرح ذمہ داری اور شاندار طریقہ سے ادا کیا کہ امّتکا ایک ایک فرد پکار اٹھا کہ اے رسول ﷺ ! آپ نے کمال طریقے سے یہ حق ادا فرمادیا ہے۔ لہٰذا اب امّتکا فرض ہے کہ وہ اس ذمہ داری میں کوتاہی نہ کرے۔ (عَنْ أَبِيْ بَکْرَۃَ ؓ قَالَ خَطَبَنَا النَّبِيُّ ﷺ یَوْمَ النَّحْرِ فَإِنَّ دِمَآءَ کُمْ وَأَمْوَالَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا فِيْ شَھْرِکُمْ ھٰذَا فِيْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا إِلٰی یَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ أَلَا ھَلْ بَلَّغْتُ قَالُوْا نَعَمْ ۔۔ ) [ رواہ البخاری : کتاب الحج، باب الخطبۃ أیام منی ] ” حضرت ابو بکرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ نے حج کا خطبہ دیتے ہوئے فرمایا یقیناً تمہارے خون اور تمہارے مال تم پر ایسے ہی حرام ہیں جیسا کہ تمہارے لیے آج کا دن، مہینہ اور یہ شہر قیامت تک کے لیے حرام ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کیا میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام تم تک پہنچا دیا ہے ؟ تو لوگوں نے جواب دیا ہاں۔ “ آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے صفت رؤف کا ذکر فرما کر مخلص اور تابعدار بندوں کو تسلی دی ہے کہ مخالف جس قدر چاہیں پروپیگنڈہ کریں تمہاری پہلی نمازیں ہرگز ضائع نہیں ہوں گی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ انتہائی رحم اور شفقت فرمانے والا ہے۔ اَلرَّءُ وْفَ : کہتے ہیں جو کسی کو نقصان سے بچا کر مزید نوازنے والا ہو۔ یہاں نماز اور ایمان کو باہم مترادف قرار دیا گیا ہے۔ نماز کی اہمیت سمجھنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ملاحظہ فرمائیں : (بَیْنَ الرَّجُلِ وَبَیْنَ الشِّرْکِ وَالْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلٰوۃِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب بیان إطلاق إسم الکفر علی من ترک الصلاۃ ] ” مسلمان اور کفر و شرک کے درمیان ترک نماز کا فرق ہے۔ “ مسائل 1۔ آپ ﷺ کی امت معزز اور عدل کرنے والی ہے۔ 2۔ یہ امت فکر و عمل کے لحاظ سے معتدل قرار پائی ہے۔ 3۔ امّتِ محمدیہ پہلی امتوں پر اور آپ ﷺ اس امت پر گواہ ہوں گے۔ 4۔ تحویل قبلہ بہت بڑی آزمائش اور اتباع رسول کی کسوٹی ہے۔ 5۔ نماز اور ایمان باہم مترادف ہیں۔ 6۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بخشنے والے اور انتہائی مہربان ہیں۔ تفسیر بالقرآن شہادتِ حق امت محمدیہ کا اعزاز : 1۔ نبی ﷺ کی امت تمام امتوں میں امّتِ خیر قرارپائی۔ (آل عمران : 110) 2۔ آپ ﷺ کی امت نے امّتِ وسط کا اعزاز پایا۔ (البقرۃ : 143) 3۔ آپ کی امت کو داعی الی الخیر کا منصب ملا۔ (آل عمران : 104) 4۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو شاہد، مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ (الفتح : 8) 5۔ آپ ﷺ کا منصب لوگوں پر شہادت قائم کرنا ہے۔ (المزمل : 15) 6۔ آپ ﷺ اور دوسرے انبیاء ( علیہ السلام) اپنی اپنی امت کے بارے میں گواہی دیں گے۔ (النساء : 41) 7۔ امت محمدیہ لوگوں پر گواہی دے گی۔ (البقرۃ : 143)
Ayahs 2:144–145

قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ١ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا١۪ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:144 in the Quran reader

ہم تمہارے چہرے کو بار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں سو ہم تمہیں اس قبلہ کی جانب پھیرے دیتے ہیں جسے آپ پسند کرتے ہیں تو آپ اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور آپ جہاں کہیں ہوں اپنا چہرہ اسی طرف کرلیا کریں۔ اہل کتاب جانتے ہیں کہ یہی ان کے رب کی طرف سے حق ہے اور جو وہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے غافل نہیں ہے

وَ لَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 2:145 in the Quran reader

خواہ تم اہل کتاب کو تمام دلائل دیں لیکن وہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ آپ ان کے قبلے کو ماننے والے ہیں اور نہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے قبلے کو ماننے والے ہیں اور اگر معلوم ہوجانے کے باوجود آپ ان کی خواہشات کے پیچھے چلیں تو یقینا آپ ظالموں میں سے ہوجائیں گے

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ بیت اللہ میں رسول محترم ﷺ نماز کے لیے اس طرح کھڑے ہوتے کہ بیک وقت آپ کا رخ بیت اللہ اور بیت المقدس کی جانب ہوا کرتا تھا۔ جب ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو وہاں متضاد جوانب کے ساتھ واسطہ پڑا۔ اگر آپ بیت اللہ کی طرف رخ کرتے تو بیت المقدّس پیٹھ کی طرف ہوتا اور اگر بیت المقدّس کی طرف رخ کرتے تو بیت اللہ پیچھے کی جانب ہوتا تھا۔ اس صورت حال میں رسول کریم ﷺ کی تمنّا تھی کہ ہمارا قبلہ مرکز ابراہیمی یعنی بیت اللہ ہونا چاہیے۔ اسی انتظار میں سولہ سترہ ماہ گزر گئے۔ اس دوران آپ کے اشتیاق اور اضطراب میں اضافہ ہی ہوتا رہا جس کی وجہ سے بسا اوقات آپ کا چہرہ بےساختہ آسمان کی طرف اٹھ جایا کرتا تھا۔ آپ دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ سے تبدیلئ قبلہ کی آرزو کرتے۔ یہ اشتیاق ربِّ رحیم کو اس قدر بھلا لگا کہ قیامت تک اس کا منظر قرآن مجید میں محفوظ فرما دیا۔ جو نہی تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا کہ آپ ﷺ اور آپ کی امت کے لوگ نماز میں اپنے چہرے بیت اللہ کی طرف کیا کریں۔ تو اہل کتاب نے پروپیگنڈہ کا طوفان برپا کردیا جس کا ذکر پارے کی ابتدا میں کیا گیا ہے۔ اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ اہل کتاب یہ جانتے ہیں کہ نبئآخر الزماں ﷺ کا قبلہ بیت المقدس کی بجائے بیت اللہ ہوگا۔ یہ سب کچھ وہ تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ یہ حقیقت جاننے کے باوجود ان کا اعتراض کرنا حق چھپانے اور اظہار حسد کا بہانہ ہے جو اللہ تعالیٰ سے کسی صورت بھی چھپا نہیں سکتے۔ اب فیصلہ ہوچکا ہے لہٰذا میرے پیغمبر ! آپ جتنے بھی دلائل دیں اور انہیں جس انداز سے سمجھائیں یہ مسجد حرام کو قبلہ نہیں مانیں گے۔ بیت المقدس کو قبلہ تسلیم کرنے کے باوجود ان کی حالت یہ ہے کہ یہودی بیت المقدس میں کھڑے ہوتے وقت اپنا منہ دیوار گریہ کی طرف کرتے ہیں جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ یہ ہیکل سلیمانی کی بنیاد ہے۔ عیسائی عبادت کے دوران اپنے چہرے اس جانب کرتے ہیں جہاں عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تھے۔ گویا کہ ایک قبلہ ہونے کے باوجود یہ ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔ جب یہ اپنے قبلہ پر متفق نہیں ہیں تو آپ ان سے یہ کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ یہ آپ کے قبلہ پر اتفاق کریں گے لہٰذا قیامت تک آپ بھی ان کے قبلہ کو تسلیم کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا حکم معلوم ہوجانے کے بعد اگر آپ خوش کرنے کے لیے ان کی خواہشات کے پیچھے لگیں گے تو یاد رکھیں آپ اس وقت ظالموں میں شمار ہوں گے۔ آپ ﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ آپ اللہ تعالیٰ کا حکم جاننے کے باوجود اس کے برعکس کوئی قدم اٹھا سکتے ہیں۔ کیونکہ رسول براہ راست اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں زندگی گزارتا ہے۔ یہاں مسئلہ کی اہمیت اور بنیادی اصول کی وضاحت کے پیش نظر آپ کو مخاطب کیا گیا ہے کہ حق کے مقابلے میں اپنی خواہشات کی پیروی کرنا، اپنے آپ پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔ یہ ایسا بنیادی مسئلہ ہے جس کے بارے میں رسول معظم ﷺ فرمایا کرتے تھے : (لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبَعًا لِّمَا جِءْتُ بِہٖ ) [ مشکوٰۃ : باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ] ” تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک ایماندار نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ کردے۔ “ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کیا کرتے تھے : (اَللّٰھُمَّ انِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنْ مُّنْکَرَاتِ الْأَخْلَاقِ وَالْأَعْمَالِ وَالْأَھْوَآءِ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الدعوات، باب الدعوات ] ” الٰہی میں برے اخلاق، اعمال اور خواہشات کی پیروی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ “ آپ ﷺ نے فرمایا : اہل کتاب کے بہتر فرقے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی۔ (وَإِنَّہٗ سَیَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِيْ أَقْوَامٌ تَتَجَارٰی بِھِمْ تِلْکَ الْأَہْوآءُ کَمَا یَتَجَارَی الْکَلْبُ بِصَاحِبِہٖ لَا یَبْقٰی مِنْہُ عِرْقٌ وَلَا مَفْصِلٌ إِلَّا دَخَلَہٗ ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب السنۃ، باب شرح السنۃ ] ” عنقریب میری امت میں ایسی قومیں ظہور پذیر ہوں گی کہ خواہشات ان میں ایسے سماجائیں گی جیسے باؤلے کتے کے کاٹنے سے لاحق ہونے والی بیماری رگ رگ اور ہر جوڑ میں سرایت کر جاتی ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی پسند کے مطابق قبلہ تبدیل فرمادیا۔ 2۔ مسلمان جہاں کہیں بھی ہوں ‘ نماز میں مسجد الحرام کی طرف ہی منہ کیا کریں۔ 3۔ اہل کتاب علمی طور پر مانتے ہیں کہ خانہ کعبہ ہی قبلۂ حق ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ یہود و نصارٰی اور کسی شخص کے کردار سے غافل نہیں ہے۔ 5۔ حق اور سچ ہونے کے باوجود یہود و نصارٰی بیت اللہ کو قبلہ تسلیم نہیں کرتے۔ 6۔ حقیقت کا علم ہونے کے باوجود اپنی خواہشات کی پیروی کرنے والا ظالم ہے۔ تفسیر بالقرآن خواہشات کی پیروی کرنے کے نقصانات : 1۔ علم ہونے کے باوجود دوسروں کے خیالات کی پیروی کرنیوالا اللہ کی نصرت سے محروم ہوجاتا ہے۔ (البقرۃ : 120) 2۔ علم ہونے کے باوجود کفار کے خیالات کو اپنانا ظالموں میں شامل ہونا ہے۔ (البقرۃ : 145) 3۔ کتاب اللہ کے مقابلے میں لوگوں کی خواہشات پر عمل نہیں کرنا چاہیے۔ (المائدۃ : 48) 4۔ خواہشات کی اتباع کے بجائے کتاب اللہ کے مطابق فیصلے ہونے چاہییں۔ (المائدۃ : 49) 5۔ لوگوں کی خواہشات کے پیچھے لگنے والا گمراہ ہوجاتا ہے۔ (صٓ: 26) 6۔ اپنی خواہشات کی پیروی کرنے والا تباہ ہوجاتا ہے۔ (طٰہٰ : 16) 7۔ سب سے بڑا گمراہ اپنی خواہشات کی پیروی کرنے والا ہے۔ (القصص : 50) 8۔ خواہشات کی پیروی کرنے والا خواہشات کو الٰہ بنا لیتا ہے۔ (الفرقان : 43) 9۔ حق کو چھوڑ کر خواہشات کی پیروی کرنے سے زمین و آسمان میں فساد پیدا ہوتا ہے۔ (المؤمنون : 71)
Ayahs 2:146–147

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ Open ayah 2:146 in the Quran reader

جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ تو اسے اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے ہیں بلاشبہ ان کی ایک جماعت حق کو جاننے کے باوجود اسے چھپالیتی ہے

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۠ Open ayah 2:147 in the Quran reader

آپ کے رب کی طرف سے یہ بالکل حق ہے پس آپ کو کبھی شک کرنے والوں میں نہیں ہونا چاہیے

فہم القرآن ربط کلام : یہاں معنوی ربط ہے کہ اہل کتاب جس طرح رسول اللہ ﷺ کی نبوت کو پہچانتے ہیں اسی طرح بیت اللہ کو قلبی طور پر قبلہ تسلیم کرتے ہیں۔ جہاں تورات و انجیل میں آپ کی نبوت کے ثبوت ہیں وہاں بیت اللہ کے قبلہ ہونے کا ثبوت بھی موجود ہے۔ اظہارِ حق اور نبی کریم ﷺ کے اطمینان اور مسلمانوں کی تسلی کے لیے مزید فرمایا جا رہا ہے کہ اہل کتاب آپ ﷺ کی ذات اور حیثیت کو اس طرح پہچانتے ہیں جیسے کوئی باپ اپنے بیٹے کو پہچاننے میں ذرّہ برابر شک نہیں کرتا، جب انہوں نے آپ کو اچھی طرح پہچان لیا ہے تو پھر آپ کی نبوت سے انحراف اور قبلہ کے انکار کا کیا معنیٰ ؟ لیکن اس کے باوجود کتمانِ حق کا جرم ہمیشہ سے ان میں سے ایک فریق کرتا آرہا ہے۔ لہٰذا قبلہ کی تبدیلی اور سلسلۂ وحی آپ کے رب کی طرف سے ہے اس لیے آپ کو رائی کے دانے کے برابر بھی اس میں شک نہیں کرنا چاہیے۔ (عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ ؓ قَالَ قَالَ یَھُوْدِيٌّ لِصَاحِبِہِ اذْھَبْ بِنَآ إِلٰی ھٰذَا النَّبِيِّفَقَالَ صَاحِبُہٗ لَا تَقُلْ نَبِيٌّ إِنَّہٗ لَوْ سَمِعَکَ کَانَ لَہٗ أَرْبَعَۃُ أَعْیُنٍ فَأَتَیَارَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَسَاَلَاہُ عَنْ تِسْعِ آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ فَقَالَ لَھُمْ لَا تُشْرِکُوْا باللّٰہِ شَیْءًا وَلَا تَسْرِقُوْا وَلَا تَزْنُوْا وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰہُ إِلَّا بالْحَقِّ وَلَا تَمْشُوْابِبَرِيءٍ إِلٰی ذِيْ سُلْطَانٍ لِیَقْتُلَہٗ وَلَا تَسْحَرُوْا وَلَا تَأْکُلُوا الرِّبَا وَلَا تَقْذِفُوْا مُحْصَنَۃً وَلَا تُوَلُّوا الْفِرَارَ یَوْمَ الزَّحْفِ وَعَلَیْکُمْ خَآصَّۃَ الْیَھُوْدَ أَنْ لَّاتَعْتَدُوْا فِي السَّبْتِ قَالَ فَقَبَّلُوْا یَدَہٗ وَرِجْلَہٗ فَقَالَا نَشْھَدُ أَنَّکَ نَبِيٌّ قَالَ فَمَا یَمْنَعُکُمْ أَنْ تَتَّبِعُوْنِيْ قَالُوْا إِنَّ دَاوٗدَ دَعَا رَبَّہٗ أَنْ لاَّ یَزَالَ فِيْ ذُرِّیَتِہٖ نَبِيٌّ وَإِنَّا نَخَافُ إنْ تَبِعْنَاکَ أَنْ تَقْتُلَنَا الْیَھُوْدُ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الإستئذان، باب ماجاء فی قبلۃ الید والرجل ] ” حضرت صفوان بن عسال ؓ کہتے ہیں ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا کہ مجھے اس نبی کے پاس لے چلو اس نے کہا تو اسے نبی نہ کہہ اس لیے کہ اگر اس نے سن لیا تو اس کی چار آنکھیں ہوجائیں گی یعنی بہت خوش ہوگا۔ ان دونوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آکرنو آیات بیّنات کے متعلق سوال کیے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، چوری نہ کرو، زنانہ کرو اور قتل ناحق نہ کرو، کسی بےگناہ کو حاکم کے ہاں اسے قتل کرانے کے لیے نہ لے جاؤ، جادونہ کرو، سود نہ کھاؤ، پاکدامن عورت پر تہمت نہ لگاؤ، میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر نہ بھاگو ” اور یہودیو ! تم پر خصوصی طور پر لازم ہے کہ ہفتے کے دن زیادتی نہ کرو۔ “ راوی کہتے ہیں دونوں نے آپ کے ہاتھ اور پاؤں کو بوسہ دیا اور کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نبی ہیں۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا : پھر میری اتباع کرنے سے کونسی چیز مانع ہے ؟ انہوں نے جواب دیاحضرت داود (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ نبوت انہی کے خاندان میں رہے اور ہمیں خطرہ ہے کہ اگر ہم نے آپ کی اتباع کرلی تو یہودی ہمیں قتل کردیں گے۔ “ حضرت صفیہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میرے والد حیی بن اخطب اور چچا ابو یاسر صبح کے وقت رسول محترم ﷺ کی خدمت میں پہنچ کر اسلام کے بارے میں مذاکرات کرتے ہیں اور انہیں یقین ہوگیا کہ حقیقتًا آپ ﷺ نبی آخر الزماں ہیں۔ جب آپ سے گفتگو کرنے کے بعد مغرب کے وقت واپس آئے تو نہایت تھکے ماندے دکھائی دے رہے تھے۔ چچا ابو یاسر میرے والد سے پوچھتے ہیں : أَھُوَ ھُوَ ؟ ” کیا یہی وہ نبی ہے جس کا تذکرہ تورات و انجیل میں پایا جاتا ہے ؟ “ والد کہتے ہیں کیوں نہیں یہ وہی رسول ہے۔ پھر وہ پوچھتے ہیں : أَتَعْرِفُہٗ وَتُثَبِّتُہٗ ؟ ” کیا واقعی تو اسے پہچانتا ہے ؟ “ تو انہوں نے کہا : ہاں میں اچھی طرح پہچانتا ہوں۔ چچا ابویاسر کہتے ہیں : فَمَافِیْ نَفْسِکَ مِنْہُ ؟ ” پھر آپ کا کیا ارادہ ہے ؟ “ تو میرے والد جواب دیتے ہیں : عَدَاوَۃٌ وَاللّٰہِ مَابَقِیْتُ ” کہ اللہ کی قسم ! جب تک زندہ ہوں مخالفت کرتا رہوں گا “۔ [ ابن ہشام : شہادۃ عن صفیۃ ] یہی حالت اہل مکہ کی تھی کہ وہ اچھی طرح پہچان چکے تھے کہ محمد ﷺ واقعی ہی اللہ تعالیٰ کے فرستادہ ہیں لیکن اپنی انا اور باطل عقیدہ کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ بدر کے معرکہ کے موقعہ پر ابو جہل سے کسی نے یہ سوال کیا کہ کیا محمدنے زندگی میں ہم سے جھوٹ بولا ہے ؟ اس نے کہا : ہرگز نہیں اس شخص نے پھر کہا کہ جو شخص لوگوں کے ساتھ جھوٹ نہیں بولتا وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کس طرح غلط بیانی کرسکتا ہے ؟ خصوصًا جب اس کی کنپٹیوں کے بال بھی سفید ہوچکے۔ اس پر ابوجہل نے کہا کہ دراصل ہمارے اور ان کے قبیلے کی آپس میں ہر معاملے میں مقابلہ بازی رہی ہے اس لیے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اس کی سربراہی قبول کرلیں۔ مسائل 1۔ یہود ونصارٰی رسول اکرم ﷺ کی ذات اور رسالت کو اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے ہیں۔ 2۔ اہل کتاب جان بوجھ کر حق چھپالیتے ہیں۔ 3۔ قرآن مجید اور بیت اللہ کے قبلہ ہونے پر شک نہیں کرنا چاہیے۔
Ayahs 2:148–149

وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؐؕ اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:148 in the Quran reader

ہر ایک شخص کی ایک جہت ہے وہ اسی کی طرف پھرتا ہے تم نیکیوں کی طرف سبقت کرو۔ جہاں کہیں بھی تم ہوگے اللہ تعالیٰ تم تمام کو لے آئے گا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:149 in the Quran reader

آپ جہاں سے نکلیں اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف کرلیا کریں۔ آپ کے رب کی طرف سے یہی حق ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے بیخبر نہیں ہے جو کچھ تم کرتے ہو

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ ہر مذہب کے لوگوں نے عبادت کے لیے ایک جہت مقرر کر رکھی ہے۔ وہ اسی طرف ہی راغب اور رخ کیے ہوئے ہیں۔ ہندو اپنے عبادت خانوں میں مورتی (بت) کی طرف اور اگر مورتی یعنی بت نہ ہو تو سورج کی طرف منہ کرتے ہیں۔ سکھ اپنی کتاب گرنتھ کی جانب منہ کرتے ہیں۔ کتاب موجود نہ ہونے کی صورت میں جس طرف چاہیں چہرہ کرلیتے ہیں۔ بدھ مت بدھا کی مورتی کی طرف، یہودی بیت المقدس میں بھی دیوار گریہ کی طرف اور عیسائی مسجد اقصیٰ کی اس جانب منہ کرتے ہیں جہاں عیسیٰ (علیہ السلام) نے جنم لیا تھا۔ یہ تو مسلمانوں کا امتیاز ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں بیت اللہ کی طرف منہ کرتے ہیں۔ اس لیے ارشاد ہورہا ہے کہ تمہارے رب نے تمہارے چہروں کو اپنے گھر کی طرف پھیرنے کا حکم دیا ہے بس تم اسے قبول کرنے میں سبقت حاصل کرو۔ کیونکہ کا رِ خیر میں سبقت اختیار کرنے سے ایک ولولۂ تازہ پیدا ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ امّتِ مسلمہ کو صرف نیکی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا ارشاد ہوا ہے۔ کیونکہ دنیا میں کوئی شعبہ اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک اس میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا صحت مند رجحان پیدا نہ ہو۔ سبقت کے جذبہ کے بغیر قوموں کی زندگی میں مردگی پیدا ہوجاتی ہے۔ بالآخر زندگی مردہ ہو کر رہ جاتی ہے۔ زندہ اور بیدار قومیں اسی لیے مختلف شعبوں میں مقابلے کروا یا کرتی ہیں۔ قرآن مجید نے جذبۂ مسابقت کو پروان چڑھانے کے لیے ” سَابِقُوْا اور سارِعُوْا “ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ نیکیوں میں سب سے بڑی نیکی نماز ہے ‘ جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا : (أَیُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ ) ” کونسا عمل اللہ کے ہاں زیادہ پسندیدہ ہے ؟ “ آپ ﷺ نے فرمایا : اَلصَّلَاۃُ عَلٰی وَقْتِھَا :” وقت پر نماز ادا کرنا اللہ کو بہت محبوب ہے۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب مواقیت الصلوۃ ] یہاں ہر قسم کی نیکی میں سبقت اور سورة الحدید آیت 21 میں مغفرت اور جنت کے لیے یہ الفاظ استعمال کیے گئے۔ جب کہ سورة آل عمران : آیت 133 میں رب تعالیٰ کی مغفرت اور جنت کے حصول کے لیے تیزروی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پھر سورة الواقعہ : آیت 10 تا 12 میں اس کا نتیجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا : نیکیوں میں سبقت کرنے والے ہی قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے۔ جس طرح آج تمہیں اللہ تعالیٰ کے گھر کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا جارہا ہے، قیامت کے روز تمہیں اسی گھر کے مالک کے حضور پیش ہونے کا حکم ہوگا اور تم سب کے سب اس کی بارگاہ میں سر جھکائے حاضر ہوگے۔ اب تو تبدیلی قبلہ کا حکم آنے کے باوجود لوگ مختلف سمتوں کی طرف چہرے کیے ہوئے ہیں لیکن وہاں ہر حال میں سب کو ایک ہی بار گاہ اور ایک ہی عدالت میں جمع ہونا ہوگا۔ بلا شک اللہ تعالیٰ تمہیں اور تمہارے اعمال کو اپنے حضور پیش کرنے پر قادر ہے کیونکہ وہ قطرے قطرے، پتّے پتّے اور ذرّے ذرّے پر قدرت رکھتا ہے۔ تحویل قبلہ کا حکم آتے ہی صحابۂ کرام ؓ نے سمع و اطاعت کا وہ نمونہ پیش کیا کہ جس کی دنیا کی تاریخ میں مثال ملنا مشکل ہے۔ ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ لوگ مسجد قبا میں صبح کی نماز ادا کررہے تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی نے آکرکہا کہ نبی ﷺ پر آج رات قرآن نازل ہوا۔ اس میں حکم دیا گیا ہے کہ وہ کعبہ کی طرف منہ کریں لہٰذا تمہیں بھی کعبہ کی طرف رخ کرنا چاہیے۔ لوگوں کے چہرے شام کی طرف تھے۔ اسی وقت انہوں نے اپنے چہروں کو کعبہ کی طرف پھیرلیا۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب الصلاۃ، باب ماجاء فی القبلۃ .....] مسائل 1۔ نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنا چاہیے۔ 2۔ لوگ جہاں کہیں بھی ہوں گے اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس جمع کرلے گا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ذرّے ذرّے اور چپّے چپّے پر قادر ہے۔ تفسیر بالقرآن ہر امت کا قبلہ : 1۔ نبی ﷺ کو بھی قبلہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ہے۔ (البقرۃ : 149) 2۔ ہر امّت نے اپنے لیے ایک جہت مقرر کرلی ہے۔ (البقرۃ : 148) 3۔ آدمی مسجد حرام میں ہو یا باہر اسے حالت نماز میں قبلہ کی طرف ہی منہ کرنا چاہیے۔ (البقرۃ : 144)
Ayah 2:150

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌ١ۙۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ١ۗ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْ١ۗ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ Open ayah 2:150 in the Quran reader

اور جس جگہ سے تم نکلو اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیرلیا کرو اور جہاں کہیں تم ہو اپنے چہرے اسی طرف (نماز میں) کیا کرو تاکہ لوگوں کے لیے تم پر کوئی حجت نہ رہ جائے سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ان میں سے ظلم کیا ہے تم ان سے نہ ڈرومجھ ہی سے ڈرو تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور اس لیے بھی کہ تم ہدایت پاؤ

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ : پہلے بھی بیان ہوا ہے کہ تحویل قبلہ معمولی اقدام نہیں تھا۔ اس لیے رسول کریم ﷺ کو تیسری مرتبہ اور صحابہ ؓ کو دوسری بار مخاطب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تم نماز کے وقت جہاں کہیں ہوبہر حال اپنے چہروں کو مسجد حرام کی طرف پھیرلو۔ قرآن مجید میں صرف یہی ایسا مسئلہ ہے جس پر عمل درآمد کروانے کے لیے آپ کو تین بار حکم دیا گیا ہے۔ اس تاکید کے باوجود فرمان کے آخر میں مزید حکم دیا ہے کہ لوگوں سے ڈرنے کے بجائے صرف مجھ سے ڈرو۔ کیونکہ آدمی جب اللہ کا ڈر اپنے آپ میں پیدا کرلیتا ہے تو پھر کسی کا خوف اس پر غلبہ نہیں پاسکتا۔ قبول حق اور اس کے ابلاغ کے لیے یہ بات شرط اول کی حیثیت رکھتی ہے کہ انسان صرف اپنے رب سے ڈرتا رہے۔ مسائل 1۔ اللہ ہی سے ڈرنا چاہیے۔ 2۔ اللہ سے ڈرنے کی وجہ سے نعمتوں کا اتمام اور ہدایت نصیب ہوتی ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم اور اس کا صلہ : 1۔ لوگ اللہ سے ڈرنے کے بجائے لوگوں سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ (النساء : 77) 2۔ اللہ سے خلوت میں ڈرنے والے کے لیے جنت کی خوشخبری ہے۔ (یٰس : 11) 3۔ لوگوں سے ڈرنے کے بجائے اللہ سے ہی ڈرنا چاہیے۔ (آل عمران : 175)