Ayahs 2:178–179فہم القرآن
ربط کلام : متقین کی صفات میں یہ بات بھی شامل ہے اور ہونی چاہیے کہ معاشرے کو جرائم سے بچانے کے لیے وہ اسلام کا حدود و قصاص کا نظام نافذ کریں یہی سمجھ داری، تقو ٰی کا تقاضا اور اس طرح ہی جرائم سے بچا جاسکتا ہے۔
اسلام کے نظام عدل سے پہلے دنیا میں قانون کے وجود اور اس کے نفاذ میں کئی قسم کے اختلافات، تضادات اور امتیازات پائے جاتے تھے۔ یہودیوں کا نقطۂ نگاہ یہ تھا اور ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا چاہیے۔ ان کے ہاں کمزور کے لیے معافی کی کوئی صورت نہیں۔ ان کے برعکس انجیل کی تعلیم یہ ہے کہ اگر کوئی زیادتی کرے تو اس سے بدلہ لینے کی بجائے اپنے چہرے کا دوسرا رخ پیش کردینا چاہیے۔ اس طرح یہود میں سختی ہی سختی اور عیسائیت میں نرمی ہی نرمی کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ اسلام نے دونوں قسم کی فلاسفی کے درمیان راستہ اختیار کیا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کو عمدًا قتل کرتا ہے تو مقتول کے وارثوں کو تین باتوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ اس کے لیے حکومت وقت کا فرض ہے کہ وہ مقتول کے ورثاء کو ایسا ماحول فراہم کرے۔ جس میں وہ تینوں میں سے کوئی ایک بات اختیار کرتے ہوئے اپنے آپ پر کوئی دباؤ محسوس نہ کریں۔ (1) قتل کے بدلے قتل (2) قتل کے بدلے دیت (3) قاتل کو معاف کرنا۔ یہ بات ذہن میں راسخ ہونی چاہیے کہ یہ کام عدالت یا ذمہ دار اتھارٹی کے ذریعے ہونا ضروری ہے۔ ورنہ اچھے ثمرات کی بجائے مضرّات کا زیادہ خدشہ ہے۔ حکومت کی یہ ذمہ داری ” کُتِبَ عَلَیْکُمْ “ کے الفاظ میں مضمر ہے۔ جس کی روشنی میں نبی محترم ﷺ نے ورثاء کے لیے مجرم کو از خود سزا دینے کی اجازت نہیں دی۔
(عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ ؓ أَنَّ رَجُلًا أَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَرَأَیْتَ رَجُلًا رَأٰی مَعَ امْرَأَتِہٖ رَجُلًا أَیَقْتُلُہٗ فَتَقْتُلُوْنَہٗ أَمْ کَیْفَ یَفْعَلُ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ مَا ذُکِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنَ التَّلَاعُنِ فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَدْ قُضِيَ فِیْکَ وَفِي امْرَأَتِکَ قَالَ فَتَلَاعَنَا وَأَنَا شَاھِدٌ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَفَارَقَھَا فَکَانَتْ سُنَّۃً أَنْ یُفَرَّقَ بَیْنَ الْمُتَلَاعِنِیْنَ وَکَانَتْ حَامِلًا فَأَنْکَرَ حَمْلَھَا وَکاَنَ ابْنُھَا یُدْعٰی إِلَیْھَا ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّۃُ فِي الْمِیْرَاثِ أَنْ یَرِثَھَا وَتَرِثُ مِنْہُ مَا فَرَضَ اللّٰہُ لَھَا)
[ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب والخامسۃ أن لعنۃ اللّٰہ الخ ]
” حضرت سھل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آکرکہنے لگا۔ اے اللہ کے رسول ! ایسے آدمی کے متعلق کیا خیال ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو پاتا ہے کیا وہ اسے قتل کردے تو آپ اسے قتل کردیں گے یا وہ کیا کرے ؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں لعان کے متعلق آیات نازل فرمائیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے اسے فرمایا : تیرے اور تیری بیوی کے متعلق فیصلہ ہوچکا ہے سہل ؓ کہتے ہیں پھر ان دونوں نے لعان کیا اور میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا۔ سنت طریقہ یہ ہے کہ لعان کرنے والوں کے درمیان علیحدگی کردی جائے۔ وہ عورت حاملہ تھی اس کے خاوند نے اس کے حمل کا انکار کیا پھر اس کا بیٹا اس عورت کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔ پھر میراث میں یہ طریقہ جاری کیا گیا کہ وہ اس کا وارث بنے گا اور وہ اس کی وارث بنے گی جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کیا ہے۔ “
جہاں تک پہلی اقوام کے قانون کی تنفیذ کا تعلق ہے۔ انہوں نے قانون کو موم کی ناک بنا رکھا تھا کہ حسب ضرورت جس طرف چاہا اس کا رخ موڑ دیا۔ اگر بڑے آدمی سے جرم سر زد ہوتا تو ان کی کوشش ہوتی کہ اس پر قانون کا اطلاق نہ ہونے پائے یا اس کے بدلے اس کے غلام کو سزا وار ٹھہرایا جائے۔ کوئی غیر مؤثر آدمی جرم کرتا تو اس پر قانون کا شکنجہ اس طرح کس دیا جاتا کہ نکلنے نہ پائے کی فضا پید اکر دی جاتی۔ آپ ﷺ نے اس عملی تضاد کے بھیانک نتائج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ پہلی اقوام اس وجہ سے تباہ ہوئیں کہ وہ عدل نہیں کرتی تھیں :
( عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ أَنَّ قُرَیْشًا أَھَمَّھُمْ شَأْنُ الْمَرْأَۃِ الْمَخْزُوْمِیَّۃِ الَّتِيْ سَرَقَتْ فَقَالُوْا وَمَنْ یُکَلِّمُ فِیْھَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالُوْا وَمَنْ یَجْتَرِ ئُ عَلَیْہِ إِلَّا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ حِبُّ رَسُوْلِ اللّٰہِ فَکَلَّمَہٗ أُسَامَۃُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ أَتَشْفَعُ فِيْ حَدٍّ مِنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا أَھْلَکَ الَّذِیْنَ قَبْلَکُمْ کَانُوْا إِذَا سَرَقَ فِیْھِمُ الشَّرِیْفُ تَرَکُوْہُ وَإِذَا سَرَقَ فِیْھِمُ الضَّعِیْفُ أَقَامُوْاعَلَیْہِ الْحَدَّ وََأَیْمُ اللّٰہِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ یَدَھَا)
[ رواہ البخا ری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب حدیث الغار ]
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ قریش اس مخزومی عورت کے متعلق بڑے فکر مند ہوئے جس نے چوری کی تھی انہوں نے سوچا کہ اس معاملے میں اللہ کے رسول سے کون بات کرسکتا ہے ؟ انہوں نے کہا یہ کام اسامہ بن زید ؓ کے سوا اور کوئی نہیں کرسکتا وہ اللہ کے رسول کا محبوب ہے۔ چناچہ اسامہ ؓ نے اللہ کے رسول سے عرض کی تو آپ نے فرمایا : کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے متعلق سفارش کرتے ہو ؟ پھر آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا : یقیناً تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے تباہ ہوئے کہ جب ان میں کوئی بڑاچوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اگر کمزور چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے۔ اللہ کی قسم ! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔ “
قرآن مجید دو ٹوک انداز میں قانون کے نفاذ میں بےانصافی کا تدارک کررہا ہے چناچہ آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت ہی قتل کی جائے گی اس کے بر خلاف کرنے کی ہرگز اجازت نہ ہوگی۔ قاتل کی جو بھی حیثیت ہو بدلے میں اسے ہی قتل کیا جائے گا۔ آپ نے اس امتیاز کو ختم کرنے کے اقدامات کے ساتھ قانون کے نفاذ کو یقینی بنایا تاکہ قرآن کی منشا کے مطابق زندگی عدل و انصاف کے اصولوں پر استوار ہوسکے۔ اس سے مجرموں کے حوصلے پست اور مظلوموں میں احساس زندگی پیدا ہونے کے ساتھ معاشرہ جرم درجرم کے بدترین عمل سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ یہی معاشرے کی بقا اور زندگی کی روح ہے۔
مظلوموں کو معاف کردینے کا حق دے کر اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اسلام صرف سزاؤں کے ذریعے جرائم کی بیخ کنی کا تصور پیش نہیں کرتا۔ بلکہ اس نے غیرعادی مجرموں کے لیے معافی کا راستہ کھول رکھا ہے کہ سہواً یا غیر ارادی طور پر کسی سے جرم سر زد ہو تو اسے معاف کردینے کے نتائج بدلہ لینے سے بہترہوا کرتے ہیں۔ معافی کا اختیار حکومت کو نہیں بلکہ یہ بھی مظلوم کے ورثاء کا حق ہے۔ اگر وہ معاف کردیں تو فریق ثانی کو حتی المقدور مظلوموں کے ساتھ بھر پور طریقے سے مالی اور اخلاقی تعاون کرنا چاہیے تاکہ ان کا زخم جلد از جلد مندمل ہوسکے۔
یہاں رحمت اور تخفیف کے الفاظ بیان فرما کر اشارہ کیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو ” کُتِبَ “ کے حکم کی فرضیت کو مِنْ وَعَنْ قائم رکھتے۔ لیکن یہ اس کی طرف سے رحمت اور نرمی کا مظاہرہ ہے کہ اس نے تمہیں معاف کردینے کا اختیار دے کر حالات کی سنگینی کو حسن سلوک کے ذریعے سد ھارنے کا اختیار عطا کیا ہے۔ البتہ جو اس کے بعد بھی زیادتی کرے گا اس کے لیے ہولناک عذاب ہوگا۔
مسائل
1۔ مقتول کے ورثاء معاف کردیں تو ان کے ساتھ پھر بھی احسان کرنا ہے۔
2۔ آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت قتل کی جائے گی۔
3۔ اللہ تعالیٰ اپنے احکام میں آسانی پیدا کرتا ہے۔
4۔ جو قصاص اور دیت لینے دینے کے بعد زیادتی کرے اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
5۔ قتل کا قصاص لینے میں زندگی کی بقاء ہے۔
Ayahs 2:180–182فہم القران
ربط کلام : حرمت جان کے بعد حرمت مال اور پسماند گان کے حقوق کے احترام کا حکم۔
قرآن مجید کا مال کے بارے میں عمومی نقطۂ فگاہ یہ ہے کہ مال اگرچہ حلال اور جائز طریقے سے کمایا گیا ہو تب بھی آدمی کے لیے ایک بھاری آزمائش ہے۔ البتہ آزمائش ہونے کے باوجود مال آدمی کی زندگی کے لیے استحکام اور احترام کا باعث بنایا گیا ہے۔ اس لیے قرآن مجید نے اسے خیر، فضل، رحمت اور نعمت سے تعبیر فرمایا ہے۔ جمع شدہ مال کے بارے میں جو احکامات اور ہدایات جاری فرمائیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب آدمی قریب المرگ ہو تو اسے مال کے متعلق اپنے والدین اور وراثت میں حق دار رشتے داروں کے بارے میں وصیّت کرنی چاہیے۔ یہاں وصیّت اور وراثت کے بارے میں اصلاحات سے لوگوں کو آگاہ فرمایا جارہا ہے کہ وصیّت کرتے ہوئے اپنوں کو چھوڑ کر دوسروں کے لیے وصیّت کرنا جائز نہیں۔ عرب کے لوگ مرتے وقت والدین اور دوسرے حق دار حضرات کو محروم کر کے وراثت صرف اپنی بیوی اور اولاد میں تقسیم کردیا کرتے تھے۔ بسا اوقات اپنے دوست کے حق میں وصیّت کردیتے۔ اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے کہ موت کے وقت لواحقین کو اس قسم کی وصیت پر عمل کے لیے نہ کہا جائے کہ جس سے کچھ حق داروں کو محروم کرکے چند اقرباء میں پورے کا پورا مال تقسیم کردیا جائے۔ بعد ازاں اس حکم کی وضاحت میں رسول کریم ﷺ نے یہ بھی اصلاح فرمائی کہ فوت ہونے والا تیسرے حصّہ سے زیادہ وصیّت نہیں کرسکتا :
(عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِيْ وَقَّاصٍ ؓ قَالَ جَاء النَّبِيُّ ﷺ یَعُوْدُنِيْ وَأَنَا بِمَکَّۃَ وَھُوَ یَکْرَہُ أَنْ یَّمُوْتَ بالْأَرْضِ الَّتِيْ ھَاجَرَ مِنْھَا قَالَ یَرْحَمُ اللّٰہُ ابْنَ عَفْرَاءَ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أُوْصِيْ بِمَالِيْ کُلِّہٖ قَالَ لَا قُلْتُ فَالشَّطْرُ قَالَ لَا قُلْتُ الثُّلُثُ قَالَ فَالثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِیْرٌ إِنَّکَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَکَ أَغْنِیَاءَ خَیْرٌ مِّنْ أَنْ تَدَعَھُمْ عَالَۃً یَتَکَفَّفُوْنَ النَّاسَ فِيْ أَیْدِیْھِمْ )[ رواہ البخاری : کتاب الوصایا، باب أن یُترک ورثتہٗ أغنیاء خیر من أن یتکففو ا ]
” سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں مکہ میں تھا۔ نبی اکرم ﷺ میری تیمار داری کے لیے تشریف لائے۔ میں مکہ میں موت کو اس لیے ناپسند کرتا تھا کہیہاں سے میں ہجرت کرچکا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ ابن عفراء پر رحم کرے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں اپنے سارے مال کے متعلق وصیت کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : نہیں میں نے کہا : آدھے کی۔ آپ نے فرمایا : نہیں میں نے کہا : تیسرے حصے کی۔ آپ نے فرمایا : تیسرا حصہ بھی زیادہ ہے۔ اگر تو اپنے ورثاء کو مال دار چھوڑ کر جائے تو یہ اس بات سے کہیں بہتر ہے کہ تو ان کو ایسی حالت میں چھوڑ کر جائے کہ وہ کنگال ہوں اور لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ “
وصیّت کرتے وقت وراثت میں حق داروں کی اجازت کے بغیر وراثت میں شریک کسی ایک کے لیے وصیت کرنا جائز قرار نہیں دیا گیا۔ کیونکہ اس سے دوسروں سے بےانصافی ہونے کے ساتھ فوت ہونے والے کے بارے میں ہمیشہ کے لیے نفرت پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَا وَصِیَّۃَ لِوَارِثٍ ) ” وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں۔ “ [ رواہ النسائی : کتاب الوصایا باب إبطال الوصیۃ للوارث ]
تاہم اس بات کی مکمل گنجائش رکھی گئی کہ اگر فوت ہونے والا کسی وجہ سے غلط وصیّت کرتا ہے تو اس کی وصیّت کو شریعت کے مطابق درست کرنا لواحقین پر ایک اہم فرض ہے۔ ایسی صورت میں اصلاح کنند گان پر کوئی گناہ نہیں۔ البتہ شریعت کے مطابق کی گئی وصیت کو تبدیل کرنے والا سخت گناہ گار ہوگا۔ ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ لوگوں سے تو جرم چھپا سکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سے نہیں چھپا سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر بات سننے اور ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ اپنی دو صفات کا ذکر فرما کر اس طرف اشارہ کررہے ہیں کہ اگر تم غلط وصیّت کی اصلاح کرو گے تو یقینًا غَفُوْرٌ رَّحِیْم اصلاح کے اس عمل کے باعث فوت شدہ آدمی سے سر زد ہونے والی سہوًا یا عمدًاغلطی کو معاف فرمادیں گے۔ اس طرح تم ناانصافی اور باہمی اختلافات سے بھی بچ جاؤ گے۔
مسائل
1۔ فوت ہونے والے کو شریعت کی حدود میں رہ کر اپنے مال کے بارے میں وصیّت کرنی چاہیے۔
2۔ وصیّت کو بدلنا بڑا گناہ ہے۔ 3۔ غلط وصیّت کی اصلاح کرنے والے پر کوئی گناہ نہیں۔
Ayahs 2:183–184فہم القرآن
ربط کلام : روزہ دار اللہ تعالیٰ کا حکم مانتے ہوئے حلال چیزیں چھوڑدیتا ہے اس بناء پر اسے حرام چھوڑنا مشکل نہیں رہتا تزکیۂ نفس اور حقیقی تقو ٰی روزے سے حاصل ہوتا ہے بشرطیکہ روزے کے تقاضے پورے کیے جائیں۔
سال کے گیارہ مہینے مسلمان کو حلال کھانے کی کھلی چھٹی تھی کہ وہ جو چاہے اور جس وقت چاہے کھاپی سکتا ہے۔ لیکن جونہی رمضان کا چاند نمودار ہوا یکدم اس پر پابندی لاگو کردی گئی کہ صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے کی کسی چیز کو خوردو نوش کی نیت سے ہاتھ نہ لگائے اور نہ بیوی سے جماع کرے۔ حرام کھانے پر تو دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہی قدغن لگ چکی تھی اب تو حلال پر بھی دن بھر کے لیے پابندی عائد کردی گئی۔ گیارہ مہینے کی آزاد طبیعت کو اس پابندی کا خوگر بنانے کے لیے اس کے نفسیاتی پہلو کو پیش نظر رکھتے ہوئے فرمایا ہے کہ روزے تم پر ہی نہیں بلکہ تم سے پہلی امّتوں اور ملّتوں پر بھی فرض کیے گئے تھے۔ بس یہ گنتی کے چنددن ہیں حوصلہ کیجیے یہ دیکھتے ہی دیکھتے گزر جائیں گے۔ ہاں اگر کوئی تم میں سے ان دنوں میں بیمار ہو یا اسے سفر درپیش ہو تو وہ اتنے دن کے روزے بعد میں پورے کرے۔ یہاں مریض کو یہ اختیار دیا جارہا ہے کہ رمضان کے مہینے میں تکلیف کی وجہ سے اس سے جتنے روزے چھوٹ جائیں وہ سال کے گیارہ مہینوں میں جب چاہے ان کی گنتی پوری کرسکتا ہے۔ اس میں وہ خواتین بھی شامل ہیں جو بچے کی پیدائش یا اس کے دودھ پینے کی صورت میں روزہ نہ رکھ سکتی ہوں۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں : (کَانَ یَکُوْنُ عَلَیَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ فَمَا أَسْتَطِیْعُ أَنْ أَقْضِیَ إِلَّا فِیْ شَعْبَانَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الصوم، باب متی یقضی قضاء رمضان ]
” میرے ذمّہ رمضان کے کچھ روزے ہوتے جنہیں میں شعبان کے علاوہ کسی مہینے میں نہیں رکھ سکتی تھی۔ “
البتہ دائمی مریض جسے بظاہر بیماری سے نجات پانے کی کوئی امید نہ ہو تو وہ کسی مستحق کو رمضان کے چھوڑے ہوئے روزوں کی گنتی کے مطابق فدیہ دے گا۔ سفر میں روزے کے حوالے سے رسول رحمت ﷺ نے اس قدر نرمی اور آسانی کا ماحول پیدا فرمایا کہ فتح مکہ کے سفر میں جہاد اور موسم کی شدت کے پیش نظر آپ نے نہ صرف لوگوں کو روزہ توڑنے کا حکم دیا بلکہ نماز عصر کے بعد اپنی سواری پر جلوہ افروز ہو کر لوگوں کو دکھا کر پانی نوش فرمایا۔ حالانکہ سورج غروب ہونے میں تھوڑا ہی وقت باقی تھا۔[ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب غزوۃ الفتح فی رمضان ]
اسی سنّتِ مبارکہ کا نتیجہ تھا کہ صحابہ کرام ؓ سفر میں روزہ چھوڑنے کو قابل اعتراض نہیں سمجھتے تھے اور نہ ہی سفر میں روزہ رکھنے کو غیرمعمولی نیکی تصور کرتے تھے۔ جہاں تک سفر کی مسافت کا تعلق ہے آپ کے مختلف اسفار کو سامنے رکھتے ہوئے سفر کی مسافت کے تعیّن کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ امام بخاری (رح) ، امام احمد بن حنبل (رح) اور امام ابوحنیفہ ؓ 48 میل سے کم مسافت کو سفر شمار نہیں کرتے۔ جب کہ دوسرے علماء اپنے شہر کی حدود کے باہر 13 میل تقریبًا 23 کلو میٹر کو سفر تصور کرتے ہیں۔ آیت کے آخر میں تدریجی حکمت عملی کا خیال رکھتے ہوئے پہلے اجازت دی گئی کہ جو روزہ نہیں رکھنا چاہتا وہ کسی مسکین کو فدیہ دے تاہم روزہ رکھنا بہتر ہے۔ بعد ازاں اگلی آیت میں اس حکم کو منسوخ فرما کر معذورین کے سوا سب پر روزہ فرض کردیا گیا۔
روزہ فارسی کا لفظ ہے عربی میں اسے صوم کہا جاتا ہے۔ عربی ڈکشنری کے لحاظ سے روزہ کا لغوی معنی ہے کسی کام سے رک جانا ‘ شرعی اصطلاح میں صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے ‘ جماع کرنے سے رک جانے اور فسق وفجور سے بچنے کا نام روزہ ہے۔
برکات رمضان
(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ إذَا کَانَتْ اَوَّلُ لَےْلَۃٍ مِّنْ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّےَاطِےْنُ وَمَرَدَۃُ الْجِنِّ وَغُلِّقَتْ اَبْوَاب النَّارِ فَلَمْ ےُفْتَحْ مِنْھَا بَابٌ وَفُتِحَتْ اَبْوَابُ الْجَنَّۃِ فَلَمْ ےُغْلَقْ مِنْھَا بَابٌ وَنَادٰی مُنَادٍ ےَا بَاغِیَ الْخَےْرِ اَقْبِلْ وَ ےَا بَاغِیَ الشَّرِّاَقْصِرْ وَلِلّٰہِ عُتَقَاءٌ مِّنَ النَّارِ وَذٰلِکَ فِیْ کُلِّ لَےْلَۃٍ )
[ رواہ ابن ماجۃ، کتاب الصیام، باب ماجاء فی فضل شہر رمضان ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رمضان کی پہلی رات شیاطین اور سرکش جن گرفتار کرلیے جاتے ہیں اس کے ساتھ ہی جہنم کے تمام دروازے بند کردیے جاتے ہیں ان میں کوئی ایک دروازہ بھی کھلا نہیں رہنے دیا جاتا پھر جنت کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک دروازہ بھی بند نہیں رہنے دیا جاتا اور ایک منادی کرنے والافرشتہ اعلان کرتا ہے اے بھلائی کے چاہنے والے ! آگے بڑھ اور اے شر کے خوگر ! رک جا۔ اور اللہ تعالیٰ دوزخ سے لوگوں کو آزاد کرتے ہیں اور یہ آزادی رمضان کی ہر رات ہوتی ہے۔ “
فضیلت صوم
(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ یَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَال اللّٰہُ کُلُّ عَمَلِ ابْنِ اٰدَمَ لَہُ إِلَّا الصِّےَامَ فَإِنَّہُ لِیْ وَأَنَا أَجْزِیْ بِہِ وَالصِّےَامُ جُنَّۃٌ فَإِذَا کَانَ ےَوْمُ صَوْمِ أَحَدِکُمْ فَلَا ےَرْفُثْ وَلَا ےَصْخَبْ فَإِنْ سَابَّہُ اَحَدٌ اَوْقَاتَلَہُ فَلْےَقُلْ إِ نِّی امْرُؤٌ صَاءِمٌ وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِےَدِہٖ لَخَلُوْفُ فَمِ الصَّاءِمِ أَطْےَبُ عِنْدَاللّٰہِ مِنْ رِےْحِ الْمِسْکِ للصَّاءِمِ فَرْحَتَانِ ےَفْرَحُھُمَا اِذَا اَفْطَرَ فَرِحَٖ وَاِذَا لَقِیَ رَبَّہُ فَرِحَ بِصَوْمِہٖ ) [ رواہ البخاری : کتاب الصوم، باب ھل یقول إنی صائم ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ابن آدم کا ہر عمل اس کی ذات کے لیے ہے مگر روزہ میرے لیے ہے اس لیے میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ روزہ ڈھال ہے جب تم میں کوئی روزہ دار ہو تو وہ فحش گوئی اور بد کلامی سے اجتناب کرے۔ اگر کوئی اس سے گالی گلوچ یا لڑنے کی کوشش کرے تو وہ فقط اسے اتنا کہے کہ میں روزہ دار ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہوگی۔ روزہ دار کے لیے خوشی کے دو مواقع ہیں جن سے وہ مسرت و انبساط حاصل کرتا ہے اولاً جب وہ روزہ افطار کرتا ہے۔ ثانیاً جب قیامت کے دن اپنے رب سے روزہ کے بدلے میں انعام پائے گا تو انتہائی خوش ہوگا۔ “
ثواب کی حدہی نہیں
(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آَدَمَ ےُضَاعَفُ الْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ اَمْثَالِھَا إِلٰی سَبْعِمِاءَۃِ ضِعْفٍ قَال اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّہُ لِیْ وَاَنَا أُجْزٰیْ بِہٖ )
[ رواہ مسلم : کتاب الصیام، باب فضل الصیام ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا کہ آدمی کے ہر اچھے عمل کا اجر دس سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ لیکن روزے کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ “
دومقبول ترین سفارشی
(عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍ و ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَال الصِّےَامُ وَالْقُرْاٰنُ ےَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ ےَوْمَ الْقِےَامَۃِ ےَقُوْلُ الصِّےَامُ اَیْ رَبِّ مَنَعْتُہُ الطَّعَامَ وَالشَّھْوَات بالنَّھَارِ فَشَفِّعْنِیْ فِےْہِ وَےَقُوْلُ الْقُرْاٰنُ مَنَعْتُہُ النَّوْمَ بالَّلے ْلِ فَشَفِّعْنِيْ فِےْہِ قَالَ فَےُشَفَّعَانِ ) [ مسند أحمد : کتاب مسند المکثرین من الصحابۃ، باب مسند عبدا اللہ ]
” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ ذکر کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے لیے سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا اے میرے رب ! میں نے اس بندے کو کھانے پینے اور خواہشات سے روکے رکھا لہٰذا اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔ قرآن کہے گا اے میرے رب ! میں نے اس بندے کو تلاوت کی وجہ سے سونے سے روکے رکھا لہٰذا اس کے بارے میں میری گذارش قبول فرما۔ اللہ تعالیٰ دونوں کی سفارش قبول فرما لیں گے۔ “
(عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْد ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ بَابًا ےُقَالُ لَہُ الرَّیَّانُ ےَدْخُلُ مِنْہُ الصَّآءِمُوْنَ ےَوْمَ الْقِےَامَۃِ لَا ےَدْخُلُ مِنْہُ اَحَدٌ غَےْرُھُمْ ) [ رواہ البخاری : کتاب الصوم، باب الریان للصائمین ]
” حضرت سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا ! جنت کے ایک دروازے کا نام ہی ” الریان “ رکھ دیا گیا ہے۔ جس سے قیامت کے دن روزہ دار گزر کر جنت میں داخل ہوں گے۔ ان کے علاوہ اس دروازے سے کوئی دوسرا داخل نہیں ہو سکے گا۔ “
مسلمان پر ارکان اسلام فرض ہیں اور ہر مسلمان ان کی ادائیگی کا پابند ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا کہ جنت کے دروازے کا نام یہ اور یہ رکھا گیا ہے۔ آدمی کو اس نیکی کی بناء پر خصوصی طور پر مخصوص دروازے سے بلایا جائے گا اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ باقی ارکان اور نیکیاں کرنے کے ساتھ اس نیکی میں زیادہ رغبت اور لذّت محسوس کرتا ہے اس فرمان کے ساتھ جذبہ اور ترغیب پیدا کرنا مقصودبھی ہے کہ مومن کو ہر نیکی پوری توجہ اور للہیت سے ادا کرنی چاہیے۔ جو لوگ ہر نیکی رغبت سے کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے گا۔ جیسا کہ حضرت ابوبکر ؓ کے ایک سوال کے جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر تو انہی حضرات میں شامل ہے جنہیں جنت کے ہر دروازے سے پکارا جائے گا۔ [ رواہ البخاری : کتاب الصوم، باب الریان للصائمین ] روزے کا مقصد گناہوں سے بچنا ہے۔ اگر سنّت کے مطابق کچھ بھوک رکھ کر روزہ رکھا جائے تو آدمی گناہوں کی معافی کے ساتھ کئی بیماریوں سے بچ سکتا ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں میری کتاب : برکات رمضان)
مسائل
1۔ روزے ہر امت پر فرض تھے۔ 2۔ روزے کا مقصد تقو ٰی میں اضافہ کرنا ہے۔
3۔ بیماری اور سفر کی وجہ سے چھوڑے ہوئے روزے بعد میں پورے کرنا فرض ہے۔
4۔ روزہ رکھنا ہر لحاظ سے بہتر ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں میری کتاب ” برکات رمضان “ )
5۔ تقویٰ نام ہے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور گناہوں سے بچنے کا۔
Ayah 2:185فہم القرآن
ربط کلام : روزہ اور قرآن مجید کا باہمی تعلق بیان کرتے ہوئے روزے داروں کو تسلی دی جارہی ہے کہ روزے تمہیں تنگ کرنے کے لیے فرض نہیں کیے بلکہ ان سے تقویٰ ، خدا کی کبریائی کا تصور اور شکریہ کا جذبہ پیدا کرنا مقصود ہے۔
ماہ رمضان کی عظمت و فضیلت کی سب سے بڑی دلیل رب جلیل نے یہ دی ہے کہ اس مہینے میں قرآن نازل کیا گیا ہے۔ جس میں قوموں کی رشدو ہدایت اور ان کی اصلاح اور فلاح کا نہایت ہی جامع پروگرام دیا گیا ہے۔ یہ ہدایت اتنی واضح اور اس کے دلائل اس قدر روشن ہیں کہ اس سے بہتر راہنمائی کوئی اور نہیں کرسکتا اور نہ ہی کسی صحیح فلسفۂ حیات کی تائید کے لیے اس سے قوی دلائل پیش کیے جاسکتے ہیں۔ جونہی قرآن مجید کے دلائل فکری اور عملی میدان میں پیش کیے جاتے ہیں تو کوئی بھی ذی شعور اور سلیم الفطرت انسان قرآنی ہدایت اور اس کے دلائل کے سامنے سرجھکائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس لیے قرآن کو ” اَلْفُرْقَانَ “ بھی کہا گیا ہے۔ یعنی ایسی کتاب جو حق و باطل اور کھرے کھوٹے میں امتیاز پیدا کردے۔ قرآن مجید سے مستفید ہونے کے لیے اس کی پہلی آیت میں تقو ٰی کو شرط لازم قرار دیا گیا ہے۔ اس تقو ٰی کے حصول کے لیے رمضان کے روزے مقرر کیے گئے ہیں۔ لہٰذا روزے کا مقصد تقو ٰی کا حصول ہے۔ تقویٰ کا مفہوم یہ ہے کہ انسان ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور گناہوں سے بچے۔ اس لحاظ سے رمضان اور قرآن کا آپس میں چولی دامن کا تعلق ہے۔ سلسلۂ کلام کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ تمہیں اس غلطی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ تمہارے رب نے پہلے حکم میں مریضوں اور مسافروں کو روزہ نہ رکھنے کی جو رخصت عنایت فرمائی تھی۔ اس فرمان میں وہ رعایت واپس لے لی گئی ہے۔ یہاں پھر مریضوں اور مسافروں کے لیے من وعن وہی الفاظ دہرا کر اس رعایت کو بحال رکھا گیا ہے تاکہ انہیں مزید اطمینان ہو کہ اگر ہم تکلیف میں مبتلا ہوئے ہیں تو ہمیں آسانی بھی دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ نرمی اور آسانی کرتا ہے۔ اسی لیے اس نے لوگوں کی مجبوریوں اور معذوریوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے ضابطوں میں نرمی اور ترمیم فرمائی ہے۔ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان کا عملی پہلو سامنے رکھیں تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح نمایاں ہوجائے گی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو تکلیف مالا یطاق سے بچانے کے لیے اسلام کے تمام احکام اور مسائل میں نرمی اور آسانی کے پہلو کو سامنے رکھا ہے۔ نماز ہی کو لے لیجیے جو ہر بالغ مسلمان پر فرض ہے لیکن اس میں کتنی رعائتیں دی گئی ہیں تاکہ آدمی فرض ادا کرنا چاہے تو کوئی رکاوٹ بھی اس کے سامنے حائل نہ ہوسکے گی۔ کھڑا ہو کر نہیں پڑھ سکتا تو بیٹھ کر نماز ادا کرلے۔ اگر بیٹھنا دشوار معلوم ہو تو لیٹ کر ادا کرسکتا ہے۔ لیٹنے کی حالت میں چہرہ قبلہ کی جانب نہیں ہوسکتا تو ارشاد ہوتا ہے کہ میرے بندے ! تجھے افسردہ ہونے کی ضرورت نہیں تیرا چہرہ جس جانب بھی ہوگا۔ میری نظر کرم اسی طرف اس کے استقبال میں ہوگی۔ اسی طرح حج کے مناسک کو لے لیجیے ایک دو کو چھوڑ کر معذوری کی حالت میں باقی تمام مناسک کوئی دوسرا ادا کرے تو یہ ادائیگی معذور آدمی کی طرف سے ہی تصور ہوگی۔ یہاں تک کہ اگر کسی پر حج فرض ہو لیکن وہ جسمانی یا اور کسی شرعی مجبوری کی وجہ سے بیت اللہ میں حاضری نہیں دے سکتا تو وہ حج بدل کے ذریعے یہ فریضہ سرانجام دے سکتا ہے۔ یہ آسانیاں اور مہربانیاں اس لیے ہیں تاکہ مسلمان حتی المقدور خدا کے احکام پورے کرسکیں۔ فرائض کی ادائیگی کا یہ احساس اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتا جب تک اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا تصور دل و دماغ میں جاگزیں نہ ہوجائے۔ اس لیے روزے کے مسائل کے بیان میں اللہ تعالیٰ اپنی کبریائی کا احساس یاد دلا رہے ہیں کہ جس نے خدا کی کبریائی کا تصور پختہ کرلیا اس کے لیے روزہ رکھنا اور اپنے رب کے احکامات پر عمل کرنا آسان ہوجائے گا۔ خدا کے احکامات کی بجاآوری ہی حقیقی شکریہ ہے اور شکر گزار بندے ہی ہدایت پایا کرتے ہیں۔
مسائل
1۔ قرآن مجید رمضان المبارک میں نازل ہوا۔
2۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت ہے، اس میں ہدایت کے بڑے بڑے دلائل ہیں۔
3۔ یہ حق و باطل میں امتیاز کرنے والا ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ سختی کرنے کے بجائے نرمی اختیار کرتا ہے۔
5۔ ہدایت نصیب ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔
Ayah 2:186فہم القرآن
ربط کلام : رمضان کی راتوں اور روزہ کی حالت میں دعا جلد قبول اور اللہ تعالیٰ کی قربت نصیب ہوتی ہے۔ اس لیے دعا سے متعلق سوال کا جواب دینا یہاں مناسب سمجھا گیا تاکہ مومن دل کھول کر اپنے رب سے مانگیں۔
دعا کا معنٰی و مفہوم :
دعا عبادات کا خلاصہ، انسانی حاجات اور جذبات کا مرقّع، بندے اور اس کے رب کے درمیان لطیف مگر مضبوط واسطہ، اللہ تعالیٰ کے مزید انعامات کا حصول اور نقصانات سے بچنے کا ذریعہ ہے۔ اس سے ضمیر کا بوجھ ہلکا اور پریشانیوں سے چھٹکارا حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے دعا مکمل یکسوئی، خلوص نیت اور انتہائی توجہ، اصرار اور تکرار کے ساتھ کرنی چاہیے۔ ارض و سماء کے مالک کی خوشی اور اس کا حکم ہے کہ اس سے براہ راست مانگا جائے۔ اللہ تعالیٰ سے نہ مانگنا تکبر ہے۔ فوت شدگان کے واسطے، حرمت، طفیل اور وسیلے سے دعا کرنا شرک ہے۔ نبی کریم ﷺ نے دعا کے مقصدو مفہوم کو نہایت ہی مختصر مگر جامع کلمات میں بیان فرمایا ہے :
( اَلدُّعَاءُ ہُوَ الْْعِبَادَۃُ ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب الصلوۃ، باب الدعاء ] ” دعا عبادت ہے۔ “
دعا بمعنٰی عبادت :
تمہارے رب کا ارشاد ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا جو لوگ میری عبادت سے بےپروائی کرتے ہیں انہیں ذلیل و خوار کرکے جہنم میں داخل کیا جائے گا۔[ المؤمن : 60]
دعا بمعنٰی مدد طلب کرنا :
اللہ کے سوا اپنے مدد گاروں سے مدد مانگو اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔[ البقرۃ : 23]
دعا بمعنٰی پکار :
اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسی ہستی کو نہ پکا رو جو تجھے نہ فائدہ پہنچا سکتی ہے اور نہ نقصان اگر تو ایسا کرے گا تو ظالموں میں سے ہوگا۔ [ یونس : 106]
دعا کی اہمیت :
(عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ؓ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ لَنْ یَّنْفَعَ حَذْرٌ مِنْ قَدْرٍ وَلٰکِنَّ الدُّعَاءَ ےَنْفَعُ مِمَّا نُزِّلَ وَمِمَّا لَمْ ےُنْزَلْ فَعَلَےْکُمْ بالدُّعَاءِ عِبَاد اللّٰہِ ) [ مسند أحمد : کتاب مسند الأنصار، باب حدیث معاذ بن جبل ]
” حضرت معاذ بن جبل ؓ آنحضرت ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا کوئی بھی احتیاط اور پرہیز تقدیر سے نہیں بچا سکتی، لیکن دعا نازل شدہ اور آئندہ نازل ہونے والے مصائب و تکالیف سے فائدہ پہنچاتی ہے۔ پس اے بندگان خدا دعا ضرور کیا کرو۔ “
دعا کے آداب
درود، توبہ، استغفار :
اخلاقیات کے حوالے سے اس بات کو کبھی بھی پسندیدہ قرار نہیں دیا گیا کہ کمزور آدمی اور حاجت مند کسی بڑے سے سوال کرے تو وہ آداب واکرام کو بالائے طاق رکھ کر سوال پر سوال ڈالتا چلا جائے۔ اس انداز سے نہ صرف مانگنے والا محروم رہ سکتا ہے بلکہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ دینے والا اس طرح مانگنے پر ناراض ہوجائے۔ لہٰذا جب رب کی بارگاہ میں دست سوال دراز کیا جائے تو پہلے حمد و ستائش اور اس کی عنایات کا اعتراف واقرار کیا جائے۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ کی ذات اطہر پر درود پڑھا جائے جو بذات خود بہترین دعا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ” جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھا اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ “ [ رواہ مسلم : کتاب الصلٰوۃ، باب الصلٰوۃ علی النبی ] آپ ﷺ نے ابی بن کعب ؓ کو سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ اگر تو اپنی دعا میں تمام وقت درود پڑھنے پر صرف کرے تو تیرے سارے دکھوں کے لیے کافی اور گناہوں کی بخشش کا باعث ہوگا۔[ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق، باب منہ ]
درود کے بعد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کا احترام ومقام اور انسانیت کا شرف یہ ہے کہ کچھ مانگنے سے پہلے اس کے حضور اپنے گناہوں کی معافی اور بخشش طلب کی جائے۔
عاجزی، درماندگی :
(اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً ) [ الاعراف : 55]
” اپنے رب کو عاجزی اور خوف کے ساتھ پکارو۔ “
دعا کے آداب میں شکر، حمد، درود اور توبہ و استغفار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی جلالت ومنزلت کا تقاضا اور فقیرکا کام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مانگتے وقت غایت درجے کی انکساری اور در ما ندگی کے ساتھ اس کے سامنے دست سوال دراز کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ کو انکساری اس قدر پسند ہے کہ جب انسان پریشانیوں کے ہجوم، مسائل کے گرداب اور مصائب کے بھنور میں پھنس جائے اعزہ و اقرباء اور رفقاء و احباب منہ پھیر جائیں، حالات کے تھپیڑوں نے زمین کی پستیوں پردے مارا ہو، تمام وابستگیاں ختم اور ہر قسم کی امیدیں دم توڑ گئی ہوں ‘ نہ اٹھنے کی ہمت ہو نہ بیٹھنے کی سکت اور آدمی اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا ہو تو اس وقت یہ اپنے رب کے سامنے ہاتھ پھیلا کر التجا کرے کہ اے اللہ ! میں نے اپنے گلشن حیات کو اپنی خطاؤں اور گناہوں کے جھکڑوں، غلطیوں اور جرائم کی آندھیوں سے برباد کرلیا ہے۔ میری وادئ حیات کو تیرے بغیر کوئی سیراب نہیں کرسکتا۔ مجھے تیرے ہی در کی امید اور تیری ہی رحمتوں کا سہارا ہے۔ جس طرح تو ویران وادیوں، تپتے صحراؤں اور اجڑے ہوئے باغوں کو اپنے کرم کی بارش سے سر سبز و شاداب بنا دیتا ہے اسی طرح مجھے حیات نو سے ہمکنار کر دے۔ جب یہ کہتے ہوئے اس کا دل موم اور آنکھیں پر نم ہوجاتی ہیں۔ تو اسی لمحے رحمت خداوندی اس کی روح کو تھپکیاں اور دل کو تسلیاں دیتے ہوئے ان الفاظ میں اسے حیات نو کی امید دلا رہی ہوتی ہے۔
(قُلْ ےَا عِبَادِیَ الَّذِےْنَ اَسْرَفُوْا عَلآی اَنْفُسِھِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ إِنَّ اللّٰہَ ےَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِےْعًا إِنَّہٗ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِےْمُ ) [ الزمر : 53]
” اے نبی ! کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ۔ یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کرنے والا ہے ‘ وہ غفور الرحیم ہے۔ “
شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں :
(رُوْحُ الدُّعَاءِ اَنْ یَّرٰی کُلَّ حَوْلٍ وَقُوَّۃٍ مِنَ اللّٰہِ وَےَصِےْرُ کَالْمَےِّتِ فِیْ ےَدِ الْغُسَّالِ ) [ حجۃ اللّٰہ ]
” دعا کی روح یہ ہے کہ دعا کرنے والا ہر قسم کی طاقت وقوت کا سر چشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو تصور کرے اور اس کی قوت و عظمت کے سامنے اپنے آپ کو اس میت کی طرح سمجھے جو نہلانے والے کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ “
ہاتھ آگے بڑھائیے !
انسان کی عزت وشرف اور غیرت و حمیّت کا تحفظ کرتے ہوئے دین کی تعلیم یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائے۔ مگر بارگاہ ایزدی میں ہاتھ پھیلانے کا حکم ہی نہیں یہ تو انسانیت کا شرف ہونے کے ساتھ دعا کے آداب میں سے ہے۔ رسول اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے جب دعا مانگنے والا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اقدس میں ہاتھ اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ بندے کے ہاتھ خالی لوٹاتے ہوئے حیا محسوس کرتا ہے۔
(عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِنَّ رَبَّکُمْ حَیِیٌّ کَرِےْمٌ ےَسْتَحْیِیْ مِنْ عَبْدِہٖ إِذَارَفَعَ ےَدَےْہِ اَنْ یَّرُدَّھُمَا صِفْرًا) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب الصلاۃ، باب الدعاء ]
” حضرت سلمان فارسی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا تمہارا رب نہایت ہی مہربان اور بڑا ہی حیا والا ہے۔ بندہ جب اس کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھاتا ہے تو خالی ہاتھ لوٹاتے ہوئے اسے شرم آتی ہے۔ “
یقین کے ساتھ مانگیے
رسول اللہ ﷺ ارشاد فرمایا کرتے تھے دعا مانگنے والے کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ اور یقین ہونا چاہیے کہ میری دعا اللہ تعالیٰ ضرور قبول فرمائے گا۔ کیونکہ آدمی جس طرح اللہ کے بارے میں گمان کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اسی طرح کا سلوک فرمائے گا۔ لہٰذا دعا کرتے ہوئے یقین محکم ہونا چاہیے کہ میری دعا ضرور قبول ہوگی۔
ہر دعا قبول ہونے کی گارنٹی
1 ۔ دعا کا فی الفور قبول ہوجانا۔
2 ۔ زندگی کے کسی حصّہ میں مستجاب ہونا۔
3 ۔ مقصود حاصل ہونے کے بجائے اس کے بدلے میں کسی ناگہانی مصیبت کا ٹل جانا۔
4 ۔ زندگی میں دعا قبول نہیں ہوئی تو اس کا آخرت میں پورا پورا بدلہ چکا دیا جائے گا۔
رِفعتیں اور قربتیں
اپنے گناہوں اور غلطیوں کی وجہ اور اللہ تعالیٰ کے عرش پر متمکن ہونے کے عقیدے سے انسان یہ بات سمجھتا رہا ہے کہ جس طرح میرا اللہ تک پہنچنا مشکل ہے اس طرح میری فریاد بھی اس تک نہیں پہنچ سکتی۔ اس لیے مجھے ایسے طریقے اور وسائل بروئے کار لانے چاہییں جس سے میری آواز خالق حق تک پہنچ سکے۔ ابتداءً ایسا ہی خیال رسول کریم ﷺ کے رفقائے کرام کے دل میں پیدا ہوا وہ اس فکری الجھن کی وجہ سے آپ سے سوال کرتے ہیں کہ اے ذات اقدس ! ہمیں بتایا جائے کہ ہمارا رب ہم سے کتنی دوری اور مسافت پر جلوہ افروز ہے تاکہ ہم اپنی آواز کو اسی قدر بلند کرنے کی کوشش کریں۔ اس محدود سوچ اور فکری الجھن کو دور کرنے کے لیے فرمایا گیا کہ میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کرتے ہیں کہ میں ان سے کتنا دور ہوں۔
اے نبی ! آپ ان کو اطمینان اور یقین دلائیں کہ میں قدرت وسطوت اور اپنے فضل وکرم کے لحاظ سے ہر وقت ان کے ساتھ ہی ہوا کرتا ہوں۔ میری رفاقت اس قدر پکّی اور ان کے قریب ہے کہ میں انسان کی شہ رگ سے بھی قریب تر ہوں۔ یہاں تک کہ انسان کے دل میں پیدا ہونے والے جذبات اور اس کے ذہن میں ابھرنے والے خیالات سے ہر لمحہ مجھے آگاہی حاصل رہتی ہے۔
(وَإِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَإِنِّیْ قَرِےْب۔ ) [ البقرۃ : 186]
” جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں تو انہیں فرمائیے کہ میں ان کے بالکل قریب ہوں۔ “
(وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہٗ وَنَحْنُ اَقْرَبُ إِلَےْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِےْدِ )
[ قٓ: 16]
” ہم نے انسان کو پیدا کیا اور اس کے دل میں پیدا ہونے والے خیالات تک کو ہم جانتے ہیں ہم اس کی شاہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔ “
(اِنَّہُ عَلِےْمٌم بِذَات الصُّدُوْرِ ) [ الملک : 13]
” یقیناً وہ سینے کے رازوں کو جانتا ہے۔ “
وسیلہ کی بحث المائدۃ آیت :35 میں آئے گی انشاء اللہ۔
نوٹ : مزید تفصیل میری کتاب ” انبیاء کا طریقۂ دعاء “ میں ملاحظہ فرمائیں۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ بندے کے قریب اور اس کی دعاؤں کو قبول کرنے والا ہے۔
2۔ بندوں کو بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہوئے اس کا حکم ماننا چاہیے۔
3۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کا حکم ماننے سے رشدو ہدایت حاصل ہوتی ہے۔
4۔ دعا بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان قریب ترین واسطہ ہے۔
5۔ مواحد کی ہر دعا قبول ہوتی ہے۔
تفسیر بالقرآن
دعا کا مفہوم قرآن مجید میں :
1۔ اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ وہ ہمارے لیے زمین میں سے نباتات پیدا فرمائے۔ (البقرۃ : 61)
2۔ مساجد اللہ کے لیے ہیں، اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کرو۔ (الجن : 18)
3۔ اور ان کا آخری قول اللہ تعالیٰ کی حمدو تعریف ہوگی۔ (یونس : 10)
4۔ مشرک دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے۔ (البقرۃ : 221)
5۔ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کے حکم کو قبول کرو جب وہ تم کو بلائیں۔ (الانفال : 24)
6۔ اگر تم کہتے ہو کہ آپ نے اس قرآن کو ازخود بنا لیا ہے تو تم بھی ایسی دس سورتیں لے آؤ اور جن کو تم بلا سکتے ہو بلالو۔ (ہود : 13)
Ayah 2:187فہم القرآن
ربط کلام : روزہ کے اوقات کا تعین، ماہ رمضان کی راتوں میں بیویوں سے جماع اور رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنے کے مسائل۔
یہودیوں کے ہاں یہ دستور تھا کہ روزہ افطار کرنے کے وقت اگر کوئی شخص سو جائے تو اسے اگلے دن کی مغرب سے پہلے کھانے پینے کی اجازت نہ تھی۔ اسی طرح روزہ کی راتوں میں عورتوں سے مباشرت کے بارے میں ان پر پابندی تھی۔ فرضیت رمضان کے ابتدائی دور میں صحابہ ؓ نے یہودیوں کے روزے پر قیاس کرتے ہوئے اپنے آپ پر یہ پابندیاں عائد کرلی تھیں۔ جن کی وجہ سے انہیں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ بعض دفعہ ان پابندیوں کے برعکس عمل کر بیٹھتے تو اپنے ضمیر میں ایک خلش محسوس کرتے۔ ان خود ساختہ پابندیوں کو اٹھاتے ہوئے ” اُحِلَّ لَکُمْ “ کے الفاظ استعمال فرما کر یہ اعلان کیا جارہا ہے کہ ہماری طرف سے یہ پابندیاں نہ تھیں۔ بعض مفسرین نے ” اُحِلَّ لَکُمْ “ کے بارے میں لکھا ہے کہ پہلے یہ پابندی تھی لیکن اس ارشاد کے بعد اٹھا لی گئی۔ لہٰذا تم رمضان کی راتوں میں اپنی بیویوں کے ساتھ مباشرت کرسکتے ہو، اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ تم اپنے طور پر پابندی سمجھنے کے باوجود اس کی خلاف ورزی کررہے تھے۔ مباشرت کی اجازت دیتے ہوئے اس کے لیے نہایت ہی جامع اور خوبصورت الفاظ استعمال فرمائے کہ میاں بیوی آپس میں لباس کی طرح ہیں۔ اس سے میاں بیوی کے درمیان اپنائیت کے جذبات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ جس طرح لباس آدمی کے لیے زینت، حفاظت اور وقار کا باعث ہوتا ہے اسی طرح میاں بیوی کے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات، جذبات اور احساسات ہونے چاہییں۔
لباس جسم کے نشیب و فراز ڈھانپتا ہے اور دنیا کی کوئی چیز لباس سے زیادہ آدمی کے قریب تر نہیں ہوتی۔ میاں بیوی کی قربت بھی اسی انداز کی ہونی چاہیے۔ پھر ازدواجی زندگی کا مقصد بیان فرمایا کہ یہ تعلقات حیوانی لذّت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے طالب کے طور پر ہونے چاہییں۔ تاکہ نسل انسانی کی بقاء کے ساتھ ساتھ اولاد ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دل کا سکون، زندگی کا سہارا اور اللہ تعالیٰ کی تابع فرمان ثابت ہو۔ اس کے بعد روزے کے اوقات متعین فرماتے ہوئے صبح کا ذب اور صبح صادق کا فرق واضح کرنے کے لیے سفیدوسیاہ دھاگے کی اصطلاح استعمال فرمائی کیونکہ رات کی تاریکی چھٹنے کے وقت صبح کی ابتدا افق پر باریک اور سفیددھاگے کی طرح طویل ہوتی ہے۔ لہٰذا طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک روزے کے تحفظات کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہاں اس بات کی خصوصی طور پر وضاحت کردی گئی کہ جب تم مساجد میں اعتکاف کی حالت میں ہو تو پھر اپنی بیویوں کے ساتھ ازدواجی تعلقات سے مکمل اجتناب کرو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں۔ ان کے قریب جانے سے ہر حال میں بچنا چاہیے، کیونکہ ارشاد الٰہی کا مقصد ہی اس کا احترام کرنا ہے سحری اور افطاری کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے امت کی خیر خواہی کے لیے ہدایات جاری فرمائیں :
(عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ تَسَحَّرُوْا فَإِنَّ فِی السُّحُوْرِ بَرَکَۃً ) [ رواہ البخاری : کتاب الصوم، باب برکۃ السحور من غیرِ إیجاب ]
” سحری کرو ! کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے۔ “
(عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : لاَایَزَال النَّاسُ بِخَیْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ )
[ رواہ البخاری : کتاب الصوم، باب تعجیل الإفطار ]
” جب تک لوگ افطار میں جلدی کریں گے اس وقت تک لوگ بھلائی پر رہیں گے۔ “
جلدی افطار سے مراد یہ نہیں کہ ابھی سورج نظرآرہا ہو تو افطار کرلیا جائے اس کا مطلب یہ ہے کہ سورج غروب ہونے کے فورًا بعد ہی روزہ افطار کردینا چاہیے۔
مسائل
1۔ رمضان کی راتوں میں بیوی سے مباشرت جائز ہے۔
2۔ میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے لباس کا درجہ رکھتے ہیں۔
3۔ مباشرت کا مقصد نیک اولاد کا حصول ہونا چاہیے۔
4۔ روزے کی ابتدا صبح صادق اور انتہا غروب آفتاب ہے۔
5۔ اعتکاف مساجد میں ہونا چاہیے اور معتکف اپنی بیوی سے مباشرت اور بوس وکنار نہیں کرسکتا۔
6۔ اللہ تعالیٰ کی حدود کی حفاظت کرنا ہی تقو ٰی ہے۔
تفسیر بالقرآن
روزوں کے مسائل :
1۔ روزے پہلی امتوں پر بھی فرض تھے۔ (البقرۃ : 183)
2۔ مریض اور مسافر روزہ نہ رکھ سکے تو بعد میں قضا دے۔ (البقرۃ : 184)
3۔ جو روزہ نہ رکھ سکتے ہوں وہ فدیۃً ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔ (البقرۃ : 184)
4۔ رمضان پانے والے کو روزے رکھنے چاہییں۔ (البقرۃ : 185)
5۔ رمضان کی راتوں میں عورتوں کے پاس جانا اور صبح تک کھانا پینا درست ہے۔ (البقرۃ : 187)
6۔ روزہ صبح صادق سے غروب آفتاب تک رکھنا چاہیے۔ (البقرۃ : 187)
7۔ دوران اعتکاف عورتوں سے مباشرت نہیں کرنا۔ (البقرۃ : 187)
8۔ روزوں کا مقصد تقو ٰی کا حصول ہے۔ (البقرۃ : 183)
9۔ رمضان اور قرآن کا گہرا تعلق ہے۔ (البقرۃ : 185)
10۔ لیلۃ القدر رمضان المبارک میں آتی ہے۔ (القدر)
11۔ لیلۃ القدر ہزار مہینے سے بہتر ہے یہ رات طلوع فجر تک بابرکت ہے۔ (القدر)
تفصیل جاننے کے لیے میری کتاب پڑھیں ” برکات رمضان “
Ayah 2:188فہم القرآن
ربط کلام : جب تم اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر دن کے وقت روزہ میں کھانے پینے، عورتوں سے مباشرت اور اعتکاف کی حالت میں رات کے وقت بھی اپنی بیویوں سے جماع نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ کا حکم جانتے ہوئے ہمیشہ کے لیے حرام خوری اور ناجائز ذرائع سے بچ جاؤ۔
حرام کے بارے میں حکم امتناعی جاری کرنے سے پہلے آیت 148 میں ارشاد فرمایا تھا کہ ” لوگوجو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حلال اور طیّب پیدا کیا ہے اسے کھاؤ اور شیطان کے قدم بہ قدم نہ چلو وہ تمہار اکھلا اور واضح دشمن ہے۔ “ یہاں دو ٹوک انداز میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے کھانے اور ہتھیانے سے منع کیا جارہا ہے اور یہ امتناعی حکم روزے کے احکام، آداب اور اوقات کا تعین فرماتے ہوئے دیا جارہا ہے جس میں یہ فلاسفی پائی جاتی ہے کہ روزہ کا مقصد گناہوں سے بچنا اور پرہیزگاری ہے۔ جب تم اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر صبح سے شام تک اپنے جائز حقوق اور حلال چیزوں سے ہاتھ اٹھالیتے ہو تو اسی مالک کا حکم جان کر تمہیں حرام مال سے ہاتھ اٹھا لینا چاہیے۔ حرام مال کے لیے باطل کا لفظ استعمال فرما کر واضح کیا جارہا ہے کہ ناجائز طریقے سے کمایا ہوا مال بیشک وہ عُرْفِ عام میں حلال کی فہرست میں شامل کیوں نہ ہو تین غلط ذرائع سے حاصل ہونے کی وجہ سے حرام ہوجاتا ہے۔ پھر جذبۂ اخوّت کو بیدار کرنے کے لیے ” آپس کے مال کی “ اصطلاح استعمال فرمائی تاکہ باہمی ہمدردی کا احساس ایک دوسرے کا مال ہڑپ اور ضبط کرنے سے لوگوں کو روک سکے۔ اس کے ساتھ ہی اس طریقے کی نفی کی گئی جس کے ذریعے مقدّمہ باز اور حرام خور دوسرے کے مال کو اپنے لیے جائز سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ایسے لوگوں کا ضمیر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ قانونی جنگ جیتنے کے باوجود یہ مال میرے لیے جائز نہیں۔ ضمیر کی اس خلش کا یہ کہہ کر ذکر فرمایا ہے کہ تم خود بھی اس حرام کام اور حرام خوری سے واقف ہو۔ کاش ! ایسا دھندہ کرنے والے مسلمان اس قسم کی مقدمہ بازی کے مضمرات اور اس سے پیدا ہونے والی نفرتوں سے آگاہ ہوجائیں۔ رسول کریم ﷺ نے اس برے دھندے اور اس سے حاصل شدہ مال کے بارے میں اس طرح ارشاد فرمایا ہے :
(إِنَّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ إِلَیَّ وَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ أَنْ یَّکُوْنَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِہٖ مِنْ بَعْضٍ فَأَقْضِیَ لَہٗ عَلٰی نَحْوِ مِمَّا أَسْمَعُ مِنْہُ فَمَنْ قَطَعْتُ لَہٗ مِنْ حَقِّ أَخِیْہِ شَیْءًا فَلَا یَأْخُذْ ہُ فَإِنَّمَاأَقْطَعُ لَہٗ بِہٖ قِطْعَۃً مِّنَ النَّارِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الأقضیۃ ]
” تم میرے پاس فیصلے لاتے ہو شاید تم میں سے کچھ لوگ دوسروں کی نسبت اپنی دلیل پیش کرنے میں زیادہ فصیح ہوں اور میں اس کی بات سن کر اس کے حق میں فیصلہ کردوں۔ فیصلہ کرتے ہوئے میں جس شخص کو اس کے بھائی کے حق میں سے کچھ دوں تو وہ اسے نہ لے بلا شبہ میں اسے آگ کا ایک ٹکڑا دے رہا ہوں۔ “
کمائی کے حرام طریقے
(عَنْ أَبِيْ أُمَامَۃَ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِیءٍ مُّسْلِمٍ بِیَمِیْنِہٖ فَقَدْ أَوْجَبَ اللّٰہُ لَہُ النَّارَوَحَرَّمَ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ فَقَالَ لَہٗ رَجُلٌ وَإِنْ کَانَ یَسِیْرًا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَا لَ وَإِنْ کَانَ قَضِیْبًا مِّنْ أَرَاکٍ )
[ رواہ مسلم : کتاب الإیمان : باب : وعید من اقتطع حق امری مسلم بیمین فاجرۃ بالنار ]
” حضرت ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مارتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے دوزخ واجب کردیتا ہے اور جنت اس پر حرام کردیتا ہے۔ “ کسی نے آپ ﷺ سے پوچھا اگرچہ یہ حق تلفی معمولی قسم کی ہو ؟ ” فرمایا : اگرچہ وہ پیلوں کے درخت کی شاخ ہی کیوں نہ ہو۔ “
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِأَصْحَابِ الْمِکْیَالِ وَالْمِیْزَانِ إِنَّکُمْ قَدْ وُلِّیْتُمْ أَمْرَیْنِ ھَلَکَتْ فِیْہِ الْأُمَمُ السَّالِفَۃُ قَبْلَکُمْ ) [ رواہ الترمذی : کتاب البیوع، باب فی المکیال والمیزان ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے ماپ تول کرنے والوں کو فرمایا : بلاشبہ تم دو ایسے کاموں کے ذمہ دار بنائے گئے ہو کہ تم سے پہلی قومیں اسی جرم کی پاداش میں ہلاک ہوئیں۔ “
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ مَرَّ عَلٰی صَبُرَۃِ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ یَدَہٗ فِیْھَا فَنَالَتْ أَصَابِعُہٗ بَلَلًا فَقَالَ مَاھٰذَا یَا صَاحِبَ الطَّعَامِ قَالَ أَصَابَتْہُ السَّمَاءُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ أَفَلَا جَعَلْتَہٗ فَوْقَ الطَّعَامِ کَيْ یَرَاہ النَّاسُ مَنْ غَشَّ فَلَیْسَ مِنِّيْ ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان : باب : قول النبی من غشنا فلیس منا ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا ایک غلہ کے ڈھیر پر گزر ہوا۔ آپ نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا تو انگلیوں کو نمی محسوس ہوئی۔ آپ نے پوچھا : اے اناج والے ! یہ کیا ہے ؟ وہ کہنے لگا : یارسول اللہ ! اس پر بارش ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا : تو نے اس نمدار غلے کو ڈھیر کے اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ اسے دیکھ سکتے۔ پھر فرمایا : جس نے دھوکا دیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ “
مسائل
1۔ ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے نہیں کھانا چاہیے۔ 2۔ جھوٹی مقدّمہ بازی سے اجتناب کرنا چاہیے
3۔ ناجائز طریقہ سے کمایا ہوا مال حرام ہوجاتا ہے۔ 4۔ کسی کا مال ناجائز طریقے سے کھانا حرام ہے۔