3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة آل عمران اس سورة مبارکہ کا نام آل عمران ہے یہ آیت 33 سے لیا گیا ہے۔ حضرت عمران حضرت مریم [ کے والد گرامی اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے نانا محترم ہیں۔ یہ سورة مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی اس کے 20 رکوع اور 200 آیات ہیں۔ سورۂ آل عمران میں توحید کے دو ایسے پہلو نمایاں کیے گئے ہیں جن میں جلالت وجبروت اور اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ زندہ اور قائم رہنابیان ہوا ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ جب کچھ نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ کی ذات اس وقت بھی موجود اور قائم تھی اور جب ہر چیز فنا کے گھاٹ اتر جائے گی تو اس وقت بھی ذات کبریا قائم و دائم رہے گی۔ اس سورة کے نازل ہونے کا پس منظر یہ ہے کہ نجران کا علاقہ جو شام اور مدینہ منورہ کے درمیان واقع ہے۔ وہاں سے عیسائیوں کا ایک نمائندہ وفد رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام اور عیسائیت کے بارے میں گفتگو کرتا ہے اور ساتھ ہی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اپنے عقیدے کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شامل ہیں۔ ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے بارے میں اجمالی اشارے دیے گئے ہیں کہ یہ صفات عیسیٰ (علیہ السلام) اور کائنات کی کسی چیز میں نہیں پائی جاتیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ہی واحد اور معبود برحق ہے۔ وہ اپنی قدرت کاملہ سے ماں کے رحم کے اندر جس طرح اور جیسے چاہے بچہ پیدا کرتا ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) بھی اس کی خالقیت کا ایک نمونہ ہیں۔ اس کے بعد قرآن مجید کا تعارف کروایا گیا کہ یہ تورات ‘ انجیل اور ان سے پہلی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے۔ ربط سورة : ” الفاتحہ “ کی ابتداء اللہ تعالیٰ کی توحید سے اور ” البقرۃ “ کا آغاز قرآن مجید کے تعارف سے ہوا تھا۔ سورة آل عمران کی ابتداء ان دونوں مضامین سے ہورہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اسی ذات لم یزل نے یہ کتاب حق اور سچ کے ساتھ نازل فرمائی۔ جس نے تورات اور انجیل کو نازل فرمایا۔ یہ قرآن ان کی تائید و تصدیق کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن مجید ہدایت کا سر چشمہ ہے لیکن اس سے ہدایت پانے کے لیے چار بنیادی اصول ہیں : ١۔ قرآن مجید کو ہدایت حاصل کرنے کے لیے پڑھا جائے۔ ٢۔ قرآن مجید میں غور وخوض کیا جائے۔ ٣۔ قرآن مجید کی تشریح و توضیح کے لیے بنیادی اور مرکزی آیات کو رہنما اصول بنایا جائے۔ ٤۔ قرآن مجید پر عمل کیا جائے۔ جو شخص ان اصولوں کو چھوڑ کر قرآن مجید کی تشریح و تفسیر کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس کے بھٹکنے کا اندیشہ ہے۔ جس کے بارے میں اس سورة کی ابتدا میں وضاحت کردی گئی ہے کہ جن کے دلوں میں ٹیڑھ اور سوچ میں کجی ہے۔ وہ فرقہ واریت اور فتنہ پروری کے لیے بنیادی آیات کو چھوڑ کر متشابہات کو اپنے فکر کی بنیادبناتے ہیں حالانکہ متشابہات کا مفہوم اللہ تعالیٰ اور اہل علم کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ” سورة البقرۃ “ میں زیادہ تر یہودیوں کے کردار اور اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے جس میں ضمنًا عیسائیوں کا ذکر ہوا تھا لیکن اس سورة مبارکہ میں خطاب کا اکثر رخ عیسائیوں کی طرف ہے جس میں ان کے عقائد ونظریات اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں ان کے شبہات کا جواب دیا گیا ہے۔ سورۃ البقرۃ میں تحویل قبلہ کے احکام کے بعد واضح کیا گیا تھا کہ مسلمانو ! تم محض پراپیگنڈہ سے خوفزدہ ہوئے جارہے ہو جب کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دشمن کے خوف، اعزہ و اقرباء کی شہادت، مال وجان کے نقصان ‘ بھوک و پیاس اور غربت و افلاس کے ساتھ بہر حال آزمانے والا ہے۔ چناچہ احد میں مسلمانوں کو ان آزمائشوں سے حقیقتاً واسطہ پڑا۔ پھر احد کے نتائج اور عارضی شکست پر تفصیلی تبصرہ کرتے ہوئے آخری اصول واضح کیا کہ دنیا میں حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہا کرتے۔ اگر تم سر بلند رہنا چاہتے ہو تو تمہیں مسلمان بن کر رہنا ہوگا۔ ” سورة البقرۃ “ کی ابتدا اور اس کے آخر میں ایمان کے بنیادی ارکان کا ذکر ہوا تھا جس بنا پر اسلام کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ سورة آل عمران میں یہ ارشاد ہوا کہ ایمان کی مبادیات کی طرح اسلام کی عمارت کے بنیادی ستون بھی ہمیشہ سے ایک رہے ہیں اور اسلام ہی اللہ کا پسندیدہ دین ہے۔ یہی تمہارے لیے ضابطۂ حیات اور دستور زندگی ہے۔ جو فرد یا قوم اس کے علاوہ دوسرا راستہ تلاش کرے گی۔ اللہ تعالیٰ اس کے نظریۂ حیات اور کردار کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ اس کے بعد اہل کتاب کو مشترکہ خطاب کرتے ہوئے فرمایا جس دین اور نظریات پر تم فخر اور ناز کررہے ہو۔ اس کا دور ختم ہوچکا ہے اب اسلام کا سکہ چلے گا اور تمہاری مخالفت کچھ کام نہیں آسکتی۔ کیوں کہ عزت، ذلّت، اقتدار اور اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ جسے چاہے جب چاہے عنایت فرمائے اور جب چاہے محروم کر دے۔ اس کے سامنے کوئی دم نہیں مار سکتا۔ اگر تم عظمت رفتہ کے خواہاں اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے طلب گار ہو تو تمہیں نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی قربت و محبت کا کوئی ذریعہ نہیں ہوسکتا۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خاندان کی بزرگی اور عظمت کا ذکر مرحلہ وار کرتے ہوئے عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش، معجزات اور ان کے آسمان پر اٹھائے جانے کی وضاحت کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں یہودیوں کے دعو ٰی کی تردید کی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نہ قتل ہوئے اور نہ ہی انہیں تختہء دار پر لٹکایا گیا انہیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاں آسمانوں پر صحیح سالم اٹھا لیا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں وضاحتی اور دعوتی خطاب 31 آیات تقریبًا 3 رکوع پر مشتمل ہے۔ اس تفصیلی خطاب کے بعد ایک دفعہ پھر یہود ونصارٰی کو اہل کتاب کے باعزت لقب سے مخاطب کرتے ہوئے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے دعوت دی گئی ہے کہ آؤ اس کلمہ پر متفق ہوجائیں جو ہمارے اور تمہارے درمیان بنیاد اور قدر مشترک کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی دعوت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تورات وانجیل کے نزول سے پہلے دیا کرتے تھے۔ یقین جانو کہ ابراہیم (علیہ السلام) یہودی، عیسائی اور مشرک نہیں تھے وہ تو ادھر ادھر اور دائیں بائیں کی نسبتوں کے بجائے صاف، سیدھے، مواحد اور کامل مسلمان تھے۔ اس کے بعد اہل کتاب کی سازشوں اور شرارتوں کا ذکر کیا اور فرمایا عیسیٰ (علیہ السلام) تو اللہ کے جلیل القدر نبی اور رسول تھے۔ اللہ تعالیٰ جس شخص کو کتاب، نبوت اور حکومت عطا کرے تو اسے یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ لوگوں کو اللہ کی توحید سمجھانے اور اس کا بندہ بنانے کے بجائے اپنا بندہ بنانے کی کوشش کرے۔ تم انبیاء اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذمہ شرک لگاتے ہو۔ کیا وہ اللہ تعالیٰ کو ایک ماننے کے باوجود کفر و شرک کا حکم دے سکتے تھے ؟ انبیاء کا حال تو یہ تھا کہ انہوں نے ابتدائے آفرینش اپنے رب کے حضور یہ عہد کیا تھا کہ ہم تیری توحید کا اقرار اور اس کا پرچار کرنے کے ساتھ نبی آخر الزماں، خاتم المرسلین حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لا کر اس کی تائید کریں گے۔ انبیاء کے عہد کے بعد بیت اللہ کا تذکرہ اور اسے مرکزامن و ہدایت قرار دینے کا مقصد یہ ہے کہ اگر اہل کتاب اور بنی نوع انسان امن وامان، رشدو ہدایت چاہتے ہیں تو انہیں توحید کا اقرار اور رسول کی اتباع کرتے ہوئے ایک ہی مرکز کو اپنا نا ہوگا۔ جس طرح سورة البقرۃ کا اختتام قرآن کے الفاظ میں مومنوں کی دعاؤں کے ساتھ ہوا ہے اسی طرح آل عمران کا اختتام مومنوں کی دعاؤں سے ہوتا ہے۔ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة البقرۃ اور آل عمران کو دو نور اور الزھراوین قرار دیا ہے : (اِقْرَءُ وا الْقُرْاٰنَ فَإِنَّہٗ یَأْتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شَفِیْعًا لِاَّصْحَابِہٖ اِقْرَءُ وا الزَّھْرَاوَیْنِ الْبَقَرََۃَ وَسُوْرَۃَ آلِ عِمْرَانَ فَإِنَّھُمَا تَأْتِیَانِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَأَنَّھُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ کَاَ نَّہُمَا غَیَابَتَانِ کَأَنَّھُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَیْرٍ صَوَآفَّ تُحَآجَّانِ عَنْ أَصْحَابِھِمَا اِقْرَءُ و سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ فَإِنَّ أَخْذَھَا بَرْکَۃٌ وَتَرْکَھَا حَسْرَۃٌ وَلَا یَسْتَطِیْعُھَا الْبَطَلَۃُ ) [ رواہ مسلم : کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا، باب فضل قراء ۃ القرآن وسورۃ البقرۃ ] ” قرآن کی تلاوت کیا کرو کیونکہ یہ روز قیامت اپنے پڑھنے والوں کا سفارشی ہوگا دو روشن سورتیں البقرۃ اور آل عمران پڑھو یہ قیامت کے دن دو بدلیاں یا پرندوں کی طرح صفیں باندھے جھرمٹ کی طرح ہوں گی جو اپنے پڑھنے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے تکرار کریں گی۔ سورة البقرۃ کی تلاوت کیا کرو اس کا پڑھناباعث برکت اور چھوڑنا حسرت کا سبب ہے اور جہاں یہ پڑھی جائے وہاں جادو اور جنات اثر انداز ہونے کی جرأت نہیں کرتے۔ “

Ayahs 3:1–2

الٓمَّٓۙ Open ayah 3:1 in the Quran reader

الف لام میم

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ Open ayah 3:2 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو ہمیشہ زندہ ‘ قائم اور سب کو سنبھالنے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : سورة البقرۃ کا اختتام ایمان کے بنیادی ارکان اور اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگنے کی دعا پر ہوا ہے۔ سورة آل عمران کی ابتداء میں بتلایا گیا ہے کہ جس اللہ پر تم نے ایمان لانا ہے۔ وہ ہمیشہ قائم دائم اور زندہ جاوید رہنے والا ہے۔ اسی نے لوگوں کی ہدایت کے لیے پہلے تورات و انجیل نازل فرمائی اور اب اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے قرآن مجید نازل کیا ہے۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ نافرمانوں سے سخت انتقام لے گا۔ حروف مقطعات کے بعد اس عظیم سورة کی ابتدا توحید باری تعالیٰ سے ہوتی ہے۔ یہاں توحید کے دو ایسے پہلو نمایاں کیے گئے ہیں۔ جن میں جلالت وجبروت کے لہجے میں اللہ تعالیٰ کے ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے کا بیان ہوا ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ جب کچھ نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ کی ذات موجود اور قائم تھی۔ جب ہر چیز ختم ہوجائے گی تو اس وقت بھی اس کی ذات کبریا موجود اور قائم ہوگی گویا کہ وہ ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے والی ذات ہے اور کائنات کو اپنی حکمت اور مرضی کے مطابق قائم رکھے ہوئے ہے۔ جس طرح اور جس وقت تک چاہے ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے ان اوصاف میں اس کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں۔ جب کائنات میں کوئی ہستی اس جیسی نہیں تو سب کا وہی معبود ومسجود ہونا چاہیے اور ہے۔ اسی ذات اعلیٰ نے حضرت محمد ﷺ کی ذات اقدس پر کتاب حق نازل فرمائی اور اسی نے اس سے پہلے تورات اور انجیل نازل فرمائی تھیں جو اپنے اپنے دور میں لوگوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ تھیں۔ اب قرآن مجید نازل فرمایا جو پہلی کتابوں کے من جانب اللہ ہونے کی تصدیق اور ان میں لوگوں نے جو ترمیم واضافے کیے ان کی نشاندہی کرتا ہے تاکہ لوگوں کے سامنے حق اور باطل واضح ہوجائے اس امتیاز اور حق کو پہچاننے کے باوجود جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ارشادات کا انکار کرتے ہیں ان کے لیے شدید ترین عذاب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان سے اس جرم کا بدلہ لینے پر غالب ہے۔ قرآن مجید کے بنیادی اور مرکزی اوصاف میں ایک خوبی یہ ہے کہ یہ پہلی کتابوں کے حقیقی مضامین کی تصدیق کرنے کے ساتھ قیامت تک کے لیے حق و باطل کے درمیان حد فاصل اور نگران کی حیثیت رکھتا ہے۔ ” اور ہم نے تیری طرف حق کے ساتھ کتاب نازل کی جو اپنے سے ماقبل کتب کی تصدیق کرنے والی اور ان پر نگران و نگہبان ہے۔ “ [ المائدۃ : 48] گویا کہ حق و باطل کا فیصلہ کرنا لوگوں کی عقل و دانش اور کسی پارلیمنٹ کے اختیار پر نہیں بلکہ قرآن لوگوں کی رہنمائی کا ضامن اور صحیح و غلط میں تمیز کرنے کا معیار ہے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَایُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبْعًا لِّمَا جِءْتُ بِہٖ ) [ مشکوٰۃ : باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ] ” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدمی جب تک اپنی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ کردے تب تک وہ ایمان والا نہیں ہوسکتا۔ “ مسائل 1۔ اللہ ہی اکیلا معبود اور وہی ہمیشہ زندہ و قائم رہنے والا ہے۔ 2۔ اس نے تورات، انجیل اور قرآن مجید نازل فرمایا۔ 3۔ اب تورات اور انجیل نہیں صرف قرآن ہی ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ 4۔ قرآن مجید پہلی کتب آسمانی کی تصدیق کرتا ہے۔ 5۔ انکار کرنے والوں کے لیے سخت ترین عذاب ہوگا۔ 6۔ اللہ تعالیٰ سخت بدلہ لینے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن فرقان کا مفہوم : 1۔ قرآن فرقان ہے۔ (الفرقان : 1) 2۔ معجزات فرقان ہیں۔ (الانبیاء : 48) 3۔ بدر کا معرکہ فرقان ہے۔ (الانفال : 41) 4۔ فرقان سے مراد قوت فیصلہ بھی ہے۔ (الانفال : 29) 5۔ حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی کتاب یعنی قرآن مجید کو فرقان کہا گیا ہے۔ (البقرۃ : 185)
Ayahs 3:3–5

نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ Open ayah 3:3 in the Quran reader

جس نے آپ پر حق کے ساتھ اس کتاب کو نازل فرمایا ہے جو اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والی ہے، اسی نے تورات اور انجیل نازل فرمائی تھیں

مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 3:4 in the Quran reader

اس سے پہلے، لوگوں کے لیے ہدایت تھی اور یہ قرآن بھی اسی نے نازل فرمایا۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اور اللہ تعالیٰ غالب ‘ بدلہ لینے والا ہے

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ Open ayah 3:5 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ سے زمین و آسمان کی کوئی چیز چھپی نہیں ہے

فہم القرآن ربط کلام : بدلہ اور سزا دینے والی ہستی کے لیے ضروری ہے کہ وہ حالات ‘ واقعات سے اچھی طرح باخبر ہو چناچہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے۔ جس سے زمین و آسمان کی کوئی چیز مخفی نہیں وہ ماں کے رحم میں ہونے والی تبدیلوں کو جانتا ہی نہیں بلکہ جس طرح چاہتا ہے انسان کی شکل و صورت بناتا اور اسے خاص ڈھانچے میں ڈھالتا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ انسان کی ہر نقل و حرکت سے واقف ہے۔ اللہ تعالیٰ سے زمین و آسمان میں کوئی چیز پوشیدہ نہیں وہ زمین کی گہرائیوں اور اس کے ذرّے ذرّے ‘ آسمان کی بلندیوں اور اس کے چپے چپے سے واقف ہے۔ وہ تمہاری پیدائش کے ابتدائی مراحل سے آگاہ ہی نہیں بلکہ ماں کے رحم کے اندر لمحہ بہ لمحہ جو تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں انہیں بھی جانتا ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے تمہاری صورتوں اور قسمتوں کا فیصلہ کرتا ہے۔ وہ ایسا کرنے پر غالب بھی ہے اور اس کے ہر کام اور فیصلے کے پیچھے حکمتیں بھی کار فرما ہوتی ہیں۔ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ پیدا ہونے والے کو طاقتور بنانا ہے یا کمزور، خوبصورت پیدا کرنا ہے یا قبول صورت، اس کا غریب ہونا بہتر ہے یا امیر، یہ نیک ہوگا یا بد۔ اللہ تعالیٰ تمام اور ہر قسم کے حالات جانتا ہے اور اسے ہر فیصلے پر اختیار ہے اور تم نہ دنیا میں اس کی دسترس سے باہر ہو اور نہ مرنے کے بعد۔ وہ ہر حال میں تم پر غالب ہونے کے باوجود تمہیں مہلت دیے ہوئے ہے۔ اس مہلت کے پیچھے اس کی بہت سی حکمتیں پنہاں ہیں۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَھُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوْقُ قَالَ إِنَّ أَحَدَکُمْ یُجْمَعُ خَلْقُہٗ فِیْ بَطْنِ أُمِّہٖ أَرْبَعِیْنَ یَوْمًانُطْفَۃً ثُمَّ یَکُوْنُ عَلَقَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَکُوْنُ مُضْغَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَبْعَثُ اللّٰہُ مَلَکًا فَیُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ کَلِمَاتٍ وَیُقَالُ لَہٗ أُکْتُبْ عَمَلَہٗ وَرِزْقَہٗ وَأَجَلَہٗ وَشَقِیٌّ أَوْ سَعِیْدٌ ثُمَّ یُنْفَخُ فِیْہِ الرُّوْحُ فَإِنَّ الرَّجُلَ مِنْکُمْ لَیَعْمَلُ حَتّٰی مَایَکُوْنُ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ الْجَنَّۃِ إِلَّا ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ کِتَابُہٗ فَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَھْلِ النَّارِ وَیَعْمَلُ حَتّٰی مَایَکُوْنُ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ النَّارِ إِلَّا ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ فَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ ) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ ] ” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں صادق و مصدوق رسول مکرم ﷺ نے بیان فرمایا کہ تم میں سے ہر کوئی اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن ٹھہرتا ہے تو جما ہوا خون بن جاتا ہے پھر چالیس دن بعد گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرشتہ بھیجتے ہیں اسے آدمی کا عمل، رزق، موت اور نیک وبد ہونا لکھنے کا حکم ہوتا ہے پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ تم میں ایک بندہ عمل کرتارہتا ہے حتی کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر غالب آجاتی ہے وہ جہنمیوں والے کام شروع کردیتا ہے۔ ایسے ہی آدمی برے عمل کرتا رہتا ہے حتی کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو وہ جنتیوں والے اعمال شروع کردیتا ہے۔ “ اس حدیث میں آدمی کے انجام کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو زندگی بھر ماحول کے اثر، بزرگوں کے خوف، ذاتی مفاد اور اسلامی حکومت کے جبر سے بظاہر نیک اعمال کرتے ہیں لیکن ایمان ان کے دل میں راسخ نہیں ہوتا محض ماحول کے جبر کی وجہ سے ظاہری طور پر نیک ہوتے ہیں۔ جو نہی انہیں موقعہ ملتا ہے وہ برائی کی طرف لپکے چلے جاتے ہیں ایسے ہی بیشمار لوگ سوسائٹی یا گھریلو اثرات کی وجہ سے نیکی کی طرف متوجہ نہیں ہوتے لیکن فطرتًا نہایت ہی سعادت مندطبیعت کے مالک ہوتے ہیں۔ جب کبھی انہیں نیکی کا ماحول میسر آئے تو بہت سے نیک لوگوں سے بڑھ کر ذوق وشوق سے نیک کام سرانجام دیتے ہیں۔ موت کے قریب اس قسم کے لوگوں کی نیک نیتی اور حقیقی کردار ان کو اصلی انجام کی طرف کھینچ لیتا ہے۔ اس کے برعکس فطری اور قلبی طور پر برا شخص موت کے وقت کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے فرامین میں اسی فطری انجام کی نشان دہی کی گئی ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کا لکھا ہوا غالب آجاتا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ سے زمین و آسمان میں کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ 2۔ وہی ماں کے رحم میں انسان کی شکل و صورت بناتا ہے۔ 3۔ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ غالب ‘ حکمت والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ صورتیں بنانے اور اولاد دینے والا ہے : 1۔ لوگوں کی شکلیں اللہ تعالیٰ بناتا ہے۔ (آل عمران : 6) 2۔ اللہ ہی بیٹے، بیٹیاں دیتا ہے۔ (الشوری : 49) 3۔ اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے۔ (الانعام : 102) 4۔ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے۔ (الزمر : 62)
Ayahs 3:6–7

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:6 in the Quran reader

وہی ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ نہایت غالب خوب حکمت والا ہے

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 3:7 in the Quran reader

وہی اللہ ہے جس نے آپ پر کتاب اتاری جس میں واضح محکم آیات ہیں جو اصل کتاب ہیں اور دوسری متشابہ آیات ہیں۔ پس جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ فتنہ تلاش کرنے اور اس کی تاویل ڈھونڈنے کے لیے اس کی متشابہ آیات کے پیچھے لگ جاتے ہیں حالانکہ ان کی تاویل اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور پختہ مضبوط علم والے تو یہی کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے یہ ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور نصیحت صرف عقل مند ہی حاصل کرتے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کتاب مبین ہے جو پہلی کتابوں کا مصدق ہے۔ اس کے احکامات محکم ہیں جن میں کوئی ٹیڑھ اور زیغ نہیں۔ زیغ اور ٹیڑھ تو منکرین کے دلوں میں ہے انہیں معلوم ہونا چاہیے۔ اللہ ان کی حرکات و سکنات اور اعمال و افعال سے واقف ہے وہ دلوں کے اسرار و رموز اور کجی و زیغ بھی جانتا ہے۔ قرآن مجید کو سمجھنے اور اُمّت کے اختلافات کو جاننے کے لیے یہ آیت بنیادی اور کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں یہ وضاحت پائی جاتی ہے کہ قرآن مجید کے احکامات اور ارشادات دو طرح کے ہیں۔ ایک وہ احکامات ہیں جو الفاظ و معانی اور مفہوم کے اعتبار سے دو اور دو ‘ چار کی طرح واضح ہیں یہی قرآن کی اساس ہیں اور یہ فہم قرآن کے لیے رہنما اصول کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب کہ دوسری آیات میں دونوں قسم کے مفہوم تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ جن کے دل حق سے اجتناب کرنے والے اور فتنہ جو ہیں وہ محکم اور بیّن آیات کو چھوڑ کر دوسری آیات کو رہنما اور مقدم سمجھتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے اپنی انفرادیت، برتری اور الگ عقیدے کی بنیاد رکھیں۔ یہ لوگ متشابہ آیات کا اپنی مرضی سے معنیٰ متعین کرتے ہیں۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ قَالَتْ تَلَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ھٰذِہِ الْآیَۃَ (ھُوَ الَّذِیْ أَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ مِنْہُ اٰیٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ ھُنَّ أُمُّ الْکِتٰبِ وَأُخَرُ مُتَشٰبِھٰتٌط فَأَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَآءَ تَأْوِیْلِہٖ ج وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیْلَہٗٓ إِلَّا اللّٰہُ م وَالرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِہٖ لا کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَاج وَمَا یَذَّکَّرُ إِلَّآ أُولُوا الْأَلْبَابِ ) قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَإِذَا رَأَیْتِ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ فَأُولٰءِکَ الَّذِیْنَ سَمَّی اللّٰہُ فَاحْذَرُوْھُمْ ) [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں رسول کریم ﷺ نے (ھُوَ الَّذِیْ أَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ ۔۔ ) آیت پڑھنے کے بعد ارشاد فرمایا : عائشہ ! جب تو متشابہات کے پیچھے لگنے والے لوگوں کو دیکھے تو سمجھ لے کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے نام لے کر بتایا ہے کہ ان سے بچتے رہنا۔ “ متشابہات کا مفہوم اور حقیقت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ یہاں اہل علم کے دونظریے پائے جاتے ہیں۔ ایک جماعت کا خیال ہے کہ ”إِلَّا اللّٰہُ “ پر وقف کرنا چاہیے اور اس کا معنی ہے کہ ان آیات کا مفہوم اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ دوسرے علماء کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ”إِلَّا اللّٰہُ “ کو ” وَالرَّاسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ “ کے ساتھ ملا کر پڑھنا چاہیے۔ جس کا مفہوم یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تو جانتا ہی ہے مگر خداد اد صلاحیت سے کچھ اہل علم بھی ان کا مفہوم جانتے ہیں جو خداداد علم و بصیرت کی بنیاد پر ان آیات کا صحیح مفہوم متعین کرسکتے ہیں۔ قرآن مجید لوگوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے اور اس میں مقطعات کے سوا کوئی ایسی آیت نہیں جس کا معنی پوری امت سے مخفی رکھا گیا ہو۔ باوجود اس کے کہ اہل علم ان آیات کا مفہوم جانتے ہیں مگر اپنے متعین کردہ مفہوم پر اصرار کرنے کی بجائے عجز و انکساری کا مظاہرہ اور حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں کیونکہ یہ سب کچھ ہمارے رب کی طرف سے ہی نازل ہوا ہے۔ ایسی منصفانہ بات کہنا اور محکم آیات کو مقدم سمجھنا، فتنہ جوئی اور غلط تاویل سے بچناہی صاحب دانش لوگوں کا کردار ہوا کرتا ہے۔ قرآن ہی پہلی کتاب عظیم ہے جس نے دنیا کے اہل علم کو یہ اصول دیا کہ کسی قانون اور دستور میں اختلاف ہو تو اس کے بنیادی اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی باقی شقوں کی تشریح کرنا چاہیے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے ہی قرآن مجید نازل فرمایا۔ 2۔ قرآن مجید میں واضح اور متشابہ دونوں طرح کی آیات ہیں۔ 3۔ گمراہ لوگ فتنہ پروری کے لیے متشابہات کو مقدم جانتے ہیں۔ 4۔ پختہ علم، نیک اور سمجھ دار علماء فتنہ پروری اور قرآن مجید کی غلط تاویل سے پناہ مانگتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن نبی ﷺ کی ذات کے متعلق محکم آیات : 1۔ رسول انسان (بشر) ہوتے ہیں۔ (ابراہیم : 11) 2۔ رسول اللہ ﷺ بشر اور عبد ہیں۔ (الکہف : 110) 3۔ رسول اللہ ﷺ غیب دان نہیں ہیں۔ (الانعام : 50) 4۔ نبی مختار کل نہیں ہوتا۔ (القصص : 56) 5۔ رسول محترم اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں تھے۔ (الجن : 21)
Ayah 3:8

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 3:8 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل کو ٹیڑھا نہ کردینا اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما، یقیناً تو ہی سب سے بڑا عطا کرنے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : حقیقت جاننے کے باوجود ٹیڑھا پن اور کج روی اختیار کرنا عقل مندی نہیں۔ عقل مندی تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی طلب اور کج روی سے دوری اختیار کی جائے۔ اس سے پہلے قرآن فہمی کے بارے میں کج بحث، فتنہ جو اور گمراہ لوگوں کا ذکر کرنے کے بعد علم میں یدطولیٰ رکھنے والے علماء کی مثبت سوچ، عاجزی اور اعتراف حقیقت کے اظہار کا ذکر ہوا ہے۔ ایسے علماء کی یہ بھی خوبی ہوتی ہے کہ وہ اپنی بصیرت پر ناز ‘ موقف پر فخر اور علم پر اترانے کے بجائے اپنے رب سے آرزوئیں کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں ہدایت عطا کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو کجی اور گمراہی سے بچائے رکھنا کیونکہ کتنے ہی علم والے ہیں جن کا علم ان کی گمراہی کا سبب اور ان کی تحقیق ان کے لیے حجاب بن گئی اور وہ گمراہی کے سرغنہ ثابت ہوئے۔ اللہ ! ہماری تیرے حضور یہ فریاد ہے کہ ہمیں ہمیشہ اپنی رحمت سے نوازتے رہنا یقیناتوہی عطا کرنے والا ہے۔ اے ہمارے رب ! یہاں تو لوگ حق پر اکٹھے نہیں ہوئے لیکن قیامت کے دن لوگوں کو تو اکٹھا کرنے والا ہے جس کے قائم ہونے میں کوئی شک نہیں کیا جاسکتا۔ الٰہی ! اس دن بھی ہمیں اپنی رحمتوں سے ہمکنار اور اپنی عطاؤں سے سرفراز فرمانا، بیشک تو کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ (عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُکْثِرُ أَنْ یَّقُوْلَ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ فَقُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! اٰمَنَّا بِکَ وَبِمَا جِءْتَ بِہٖ فَھَلْ تَخَافُ عَلَیْنَا قَالَ نَعَمْ إِنَّ الْقُلُوْبَ بَیْنَ إِصْبَعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللّٰہِ یُقَلِّبُھَا کَیْفَ یَشَآءُ ) [ رواہ الترمذی : کتاب القدر، باب ماجاء أن القلوب ...] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں رسول کریم ﷺ اکثر دعا کرتے۔ اے دلوں کو پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھنا۔ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم آپ پر اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لائے۔ کیا آپ ہمارے بارے میں خطرہ محسوس کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔ اللہ انہیں جیسے چاہتا ہے پھیر دیتا ہے۔ “
Ayahs 3:9–10

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 3:9 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! یقیناً تو لوگوں کو ایک دن جمع کرنے والا ہے جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، یقیناً اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ وَ قُوْدُ النَّارِۙ Open ayah 3:10 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کافر ہوئے ان کو ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ تعالیٰ سے چھڑانے میں کچھ کام نہ آئیں گے۔ یہ لوگ تو جہنم کا ایندھن ہیں

فہم القرآن ربط کلام : جس مال اور افرادی قوت کی بنیاد پر اہل مکہ حقائق کا انکار کرتے ہیں آل فرعون بھی اسی بنا پر گمراہ ہوئے اور تباہی کے گھاٹ اترے تھے۔ اہل مکہ بھی عنقریب دنیا میں بدر کے معرکہ میں اور آخرت میں جہنم میں داخل ہونے کی بنا پر کافر ذلیل ہوں گے۔ سورۂ آل عمران کا آغازبڑے جاہ و جلال سے ہوا۔ جس میں واشگاف لہجے میں واضح کیا گیا ہے کہ ہمیشہ قائم و دائم رہنے والی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس سے کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ اس نے لوگوں کی رہنمائی کے لیے اپنی آخری کتاب نازل فرمائی ‘ منکروں کے لیے اس کا عذاب بڑا سخت ہے اور اللہ تعالیٰ ان سے زبردست انتقام لینے والا ہے۔ وہ سب کو اپنے حضور اکٹھا کرے گا اور یہ وعدہ اٹل ہے۔ اے کفر کرنے والو ! جب تمہیں جہنم کی آگ میں جھونکا جائے گا تو یہ مال و منال ‘ اولاد و احفاد اور دنیا کی جاہ و حشمت تمہارے کچھ کام نہیں آئے گی۔ تمہارا انجام بھی دنیا اور آخرت میں آل فرعون کی طرح ہونے والا ہے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی تکذیب کی اس کو اس کے جرائم کی وجہ سے شدید عذاب میں مبتلا کیا گیا۔ فرعون کا غرور، اقتدار، اختیار اور مال واسباب فرعون کو اللہ تعالیٰ کی گرفت سے نہ بچا سکا۔ اے رسول معظم ! دوٹوک اور بلا جھجک اعلان فرمائیں کہ عنقریب اللہ تعالیٰ کے منکروں کو دنیا میں سرنگوں اور آخرت میں جہنم میں اکٹھا کیا جائے گا جو رہنے کے اعتبار سے بدترین جگہ ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ غزوۂ بدر کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اہل یہود کو مخاطب کرتے ہوئے سمجھایا کہ تمہیں اسلام کی مخالفت اور کفر کی حمایت چھوڑ کر ہمارے ساتھ شامل ہوجانا چاہیے۔ انہوں نے بڑی رعونت کے ساتھ کہا کہ بدر میں تمہارا مقابلہ اپنے ہم وطنوں اور ناتجربہ کار لوگوں سے ہوا ہے۔ جب ہمارے ساتھ تمہاری پنجہ آزمائی ہوگی تو تمہارا جہاد کا شوق پورا کردیا جائے گا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ یہو دونصارٰی اور اہل کفر غزوۂ بدر سے عبرت حاصل کرتے کیونکہ دنیا کی تاریخ میں یہ ایسا معرکہ تھا کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ کے راستے میں کٹ مرنے کا جذبہ اور دوسری طرف خدا کے نافرمان تھے۔ جن کے درمیان طاقت کے عدم توازن کا یہ عالم تھا کہ مسلمانوں کی اکثریت بےخانماں، افرادی قوت کے اعتبار سے تھوڑے اور اسباب کے حوالے سے نہایت ہی کمزور اپنے سے کئی گناطاقت ور دشمن کے خلاف برسر پیکار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے کفار کی نظروں میں مسلمانوں کو دوگنا کردکھایا اور ملائکہ کے ساتھ اپنے بندوں کی نصرت و حمایت فرمائی۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے جتنی چاہے جس کی چاہے مدد کرتا ہے۔ اس معرکۂ حق و باطل کو یوم الفرقان کے لقب سے ملقب فرمایا اور دنیا والوں کے لیے اس طرح عبرت قرار دیا جس طرح فرعون اور اس سے پہلے لوگ عبرت کا سامان بنائے گئے۔ اسے فرقان اس لیے بھی کہا گیا کہ جنگ بدر کے بعد جب رسول اللہ ﷺ مدینہ پہنچ گئے تو آپ نے صحابہ کرام ؓ سے قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے کہا یارسول اللہ ! یہ لوگ چچیرے بھائی اور برادری ‘ قبیلے کے لوگ ہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ آپ ان سے فدیہ لیں اس طرح جو کچھ ہم لیں گے وہ کفار کے خلاف ہماری قوت کا ذریعہ ہوگا اور یہ بھی متوقع ہے کہ اللہ انہیں ہدایت دے دے اور وہ ہمارے دست وبازو بن جائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابن خطاب ! تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے کہا واللہ میری وہ رائے نہیں ہے جو ابوبکر کی ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ آپ فلاں کو (جو حضرت عمر ؓ کا قریبی تھا) میرے حوالے کریں میں اس کی گردن ماردوں۔ عقیل بن ابی طالب کو علی ؓ کے حوالے کریں وہ اس کی گردن ماریں اور فلاں کو جو حمزہ ؓ کا بھائی ہے حمزہ ؓ کے حوالے کریں وہ اس کی گردن ماردیں۔ تاکہ اللہ کو معلوم ہوجائے کہ ہمارے دلوں میں مشرکین کے لیے ذرّہ برابر بھی نرم گوشہ نہیں ہے اور یہ لوگ مشرکین کے ائمہ اور اکابر ہیں۔ حضرت عمر ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ کی بات پسند فرمائی اور میری بات پسند نہ کی گئی، چناچہ قیدیوں سے فدیہ لینا طے کرلیا اس کے بعد جب اگلا دن آیا تو میں صبح ہی صبح رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ دونوں رو رہے تھے۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول ! بتائیں آپ اور آپ کا ساتھی کیوں رو رہے ہیں ؟ اگر مجھے رونے کی وجہ ہوئی تو روؤں گا اور اگر نہ معلوم ہوسکی تو آپ حضرات کے رونے کی وجہ سے روؤں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فدیہ قبول کرنے کی وجہ سے تمہارے اصحاب پر جو چیز پیش کی گئی ہے اسی وجہ سے رو رہا ہوں۔ آپ نے ایک قریبی درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا مجھ پر اللہ کا عذاب اس درخت سے بھی زیادہ قریب کردیا گیا۔ [ الرحیق المختوم، بدر کے قیدیوں کا قضیہ ] مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں کفار کو ان کے مال اور اولاد کچھ فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔ 2۔ کفار جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے آل فرعون اور ان سے پہلے مجرموں کی سخت گرفت کی۔ 4۔ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے۔ 5۔ عنقریب کفار مغلوب اور جہنم میں اکٹھے کیے جائیں گے۔ 6۔ جہنم بہت برا ٹھکانہ ہے۔ 7۔ معرکۂ بدر بصیرت والوں کے لیے قدرت کا بہت بڑا نشان ہے۔ 8۔ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے جس کی چاہے اور جب چاہے مدد فرماتا ہے۔ تفسیر بالقرآن قوموں کی تباہی کے اسباب : 1۔ قوم نوح کی ہلاکت کا سبب بتوں کی پرستش تھی۔ (نوح : 23) 2۔ قوم لوط کی تباہی کا سبب اغلام بازی کرنا تھی۔ (الاعراف : 81) 3۔ شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی تباہی کا سبب ماپ تول میں کمی تھی۔ (ھود : 84، 85) 4۔ قوم عاد کی تباہی کا سبب رسولوں کی نافرمانی تھی۔ (ھود : 59) 5۔ صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا اے قوم ! یہ اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے، اسکو چھوڑ دو تاکہ اللہ کی زمین میں چرے اور اس کو کسی طرح تکلیف نہ دینا ورنہ تمہیں جلد عذاب آپکڑے گا۔ مگر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو صالح نے کہا تین دن فائدہ اٹھا لو، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا۔ (ھود : 64، 65) 6۔ فرعونیوں نے اپنے پروردگار کے پیغمبر کی نافرمانی کی تو اللہ نے بھی ان کو سخت پکڑا۔ (الحاقۃ : 10)
Ayahs 3:11–14

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 3:11 in the Quran reader

جیسا آل فرعون کا حال ہوا اور ان کا جو ان سے پہلے تھے، انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا اور اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:12 in the Quran reader

کافروں سے کہہ دیجئے کہ تم عنقریب مغلوب کیے جاؤ گے اور جہنم کی طرف جمع کئے جاؤ گے اور وہ برا ٹھکانا ہے

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 3:13 in the Quran reader

یقیناً تمہارے لیے عبرت تھی ان دو جماعتوں میں جو باہم ٹکرائیں۔ ایک جماعت اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑ رہی تھی اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا وہ انہیں اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا دیکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی مدد سے طاقت دیتا ہے۔ یقیناً اس میں دیکھنے والوں کے لیے بڑی عبرت ہے

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ١ؕ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ Open ayah 3:14 in the Quran reader

مرغوب اور پسندیدہ چیزوں کی محبت لوگوں کے لیے خوشنما اور مزین بنادی گئی ہے ‘ جیسے عورتیں ‘ بیٹے ‘ سونے چاندی کے جمع کیے ہوئے خزانے ‘ نشان زدہ گھوڑے ‘ چوپائے اور کھیتی یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور لوٹنے کا اچھا ٹھکانا تو اللہ ہی کے پاس ہے

فہم القرآن ربط کلام : حق سے انحراف اور قوموں کی تباہی میں دنیا پرستی کا عنصر ہمیشہ غالب رہا ہے اس لیے اس کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ ہدایت کے راستے میں جو چیزیں سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہیں۔ ان میں سر فہرست عورت، بیٹے، سونا، چاندی، سواری، مال، مویشی اور کھیتی باڑی ہے۔ ہر انسان ان میں سے کسی نہ کسی چیز کے ساتھ ضرورت سے زیادہ محبت کرتا ہے اور یہی چیز راہ ہدایت میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ خواہشات کے میدان میں عام طور پر سب سے پہلی خواہش عورت کے ساتھ مرد کی وابستگی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بطور آزمائش آدمی کے دل میں ان چیزوں کی محبت اور رغبت پیدا فرمائی ہے تاکہ دنیا کا نظام چلتا رہے۔ اگر عورت کے ساتھ مرد کی رغبت اور محبت نہ ہو تو نسب کا سلسلہ آگے نہیں چل سکتا۔ اسی تعلق کی خاطر اور ضرورت سے آدمی بیوی کو کھلاتا پلاتا اور اس کی آسائش و آرام کا خیال رکھتا ہے۔ اگر اولاد نہ ہو تو آدمی کی دنیا سے رغبت کم ہوجاتی ہے پھر اولاد میں بیٹوں کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ بیٹا ماں باپ کا سہارا اور ان کے سلسلۂ نسب اور جائیداد کا وارث ہوتا ہے۔ بیٹی کی پیدائش پر باپ اپنی ذمہ داریوں میں اضافہ محسوس کرتا ہے۔ جب کہ بیٹے کو اپنا معاون اور مستقبل کا سہارا سمجھتا ہے۔ طبع انسانی کا خیال رکھتے ہوئے بیٹوں کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ بیوی اور بیٹوں کے بعد دنیا کا نظام چلانے اور سہولیات حاصل کرنے کے لیے سونا اور چاندی ہمیشہ سے انسان کے لیے پر کشش سرمایۂ حیات رہا ہے۔ سونے اور چاندی کی بدولت ہی دنیا میں لین دین اور تجارت ہوا کرتی ہے۔ کاروبار کے بعد اچھی سواری آدمی کے لیے آرام کے ساتھ ساتھ باعث عزت ہوتی ہے۔ ہر دور میں گھوڑے کی سواری آدمی کے لیے شان و شوکت کا باعث سمجھی گئی ہے اور آج بھی موٹر کاروں اور مشینری کی پاور کا اندازہ کرنے کے لیے گھوڑے کی طاقت [ HORSE POWe R ] کو معیار بنایا گیا ہے۔ گھڑسواری ہمیشہ لوگوں کے لیے باعث فخر و انبساط رہی ہے۔ یہ جانور بہترین سواریوں میں شمار ہوتا ہے۔ ان چیزوں کے بعد کھیتی باڑی اور چوپایوں کی باری آتی ہے جو انسانی بقا کے لیے غلہ، رہائش، دودھ، مکھن، گوشت اور خوراک کا کام دیتے ہیں۔ دیہاتی زندگی اور زمیندار کی یہی چیزیں متاع حیات ہیں۔ اس لحاظ سے انسانی زندگی کا دارو مدار عورت، اولاد، سونا، چاندی، رہائش اور خوراک پر ہے باقی تمام نعمتیں انہی کے متعلّقات اور لوازمات ہیں۔ ان نعمتوں کی افادیت اپنی جگہ مسلّم اور انہیں دنیا کی زندگی کے بہترین اسباب اور زینت قرار دیا گیا ہے۔ لیکن آدمی کی دانشمندی یہ ہے کہ وہ عارضی زندگی اور اس کے اسباب پر نگاہ جمانے اور اکتفا کرنے کی بجائے حیات جاوداں ‘ لازوال نعمتوں اور ان کے خالق ومالک کی طرف توجہ رکھے اور دنیا کے ذریعے آخرت کے انعامات حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہے جو رب کریم کے پاس صاحب ایمان و کردار لوگوں کے لیے محفوظ ہیں۔ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ لَوْ أَنَّ لِإِبْنِ آدَمَ وَادِیًا مِّنْ ذَھَبٍ أَحَبَّ أَنْ یَکُوْنَ لَہٗ وَادِیَانِ وَلَنْ یَمْلَأَ فَاہُ إِلَّا التُّرَابُ وَیَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب مایتقی من فتنۃ المال ] ” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر آدم کے بیٹے کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو وہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں۔ اس کے منہ کو مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ اللہ جس پر چاہتا ہے توجہ فرماتا ہے۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ خَطَّ النَّبِيُّ ﷺ مُرَبَّعًا وَخَطَّ خَطًّا فِي الْوَسْطِ خَارِجًا مِّنْہُ وَخَطَّ خُطَطًا صِغَارًا إِلٰی ھٰذَا الَّذِيْ فِي الْوَسْطِ مِنْ جَانِبِہِ الَّذِيْ فِي الْوَسْطِ وَقََالَ ھٰذَا الْإِنْسَانُ وَھٰذَا أَجَلُہٗ مُحِیْطٌ بِہٖ أَوْ قَدْ أَحَاطَ بِہٖ وَھٰذَا الَّذِيْ ھُوَ خَارِجٌ أَمَلُہٗ وَھٰذِہِ الْخُطَطُ الصِّغَارُ الْأَعْرَاضُ فَإِنْ أَخْطَأَہٗ ھٰذَا نَھَشَہٗ ھٰذَا وَإِنْ أَخْطَأَہٗ ھٰذَا نَھَشَہٗ ھٰذَا) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب فی الأمل وطولہ ] ” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ نے ایک مربع نمالکیر کھینچی اور اس کے درمیان سے باہر نکلی ہوئی لکیر لگائی پھر اس درمیانی لکیر کے ارد گرد چھوٹی چھوٹی لکیریں کھینچیں اور فرمایا یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت اسے گھیرے ہوئے ہے اور جو اس خانے سے باہر لکیر ہے یہ اس کی خواہشات ہیں اور یہ چھوٹی لکیریں آفات ہیں اگر ایک سے بچتا ہے تو دوسری اسے دبوچ لیتی ہے۔ اگر اس سے بچتا ہے تو اور کوئی اسے آ لیتی ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے عورتوں، بیٹوں، سونا، چاندی، گھوڑوں، چوپایوں اور کھیتیوں کو لوگوں کے لیے خوش نما بنایا ہے۔ 2۔ یہ دنیا کی زندگی کے اسباب ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے پاس اس سے بہتر مقام اور انعام ہے۔
Ayah 3:15

قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِۚ Open ayah 3:15 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے : کیا میں تمہیں اس سے بہت بہتر چیز نہ بتاؤں ؟ متقین کے لیے ان کے رب کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ بیویاں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ہوگی اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اچھی طرح دیکھنے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : دنیا پرستی کے بجائے آدمی کی نظر آخرت کی دائمی نعمتوں پر ہونی چاہیے ایسا وہی لوگ کرتے ہیں جن میں یہ اوصاف پائے جاتے ہیں۔ اور وہ اپنے رب سے معافی مانگتے ہیں۔ میرے محبوب فرمائیں کہ اے دنیا دارو ! آؤ میں تمہیں ان نعمتوں سے بڑھ کر نعمتیں بتاتا ہوں۔ جو اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے پرہیزگار بندوں کے لیے جنت میں تیار فرمائی ہیں۔ ایسی جنت جس کے نیچے نہریں اور آبشاریں جاری ہیں۔ اس میں متقین کے لیے پارسا و باوفا اور حسن و جمال کی پیکر بیویاں ہوں گی۔ اس جنت کے وارث ایسے پرہیزگار ہوں گے جو نیکی اور پارسائی کے باوجود اپنے رب سے اپنے گناہوں اور خطاؤں کی معافی طلب کرتے اور ہر دم جہنم کی ہولناکیوں سے پناہ مانگتے ہیں۔ ان کے اوصاف یہ بھی ہیں کہ وہ نیک کاموں پر مستقل مزاج، مصائب و مشکلات پر حوصلہ مند، سچ کے داعی ‘ حق پر قائم رہنے والے، ہر حال میں اپنے رب کے فرماں بردار، عُسرو یسر میں خرچ کرنے والے اور سحری کے وقت توبہ و استغفار سے ماضی کی کوتاہیوں پر معذرت اور اپنے آپ کا محاسبہ کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور معافی کے خواستگار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ہر قسم کے اعمال پر نگاہ رکھے ہوئے ہے کہ کون دنیا کی آسائشوں کو مقدم جاننے والے اور کون اللہ تعالیٰ کی رضا کو ترجیح دینے والے ہیں۔ ایسے کردار کے حامل لوگ جنت کے وارث ہوں گے اور ان پر اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیشہ اپنی رضا مندی کا اظہار فرمائیں گے۔ (عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی یَقُوْلُ لِأَھْلِ الْجَنَّۃِ یَا أَھْلَ الْجَنَّۃِ فَیَقُوْلُوْنَ لَبَّیْکَ رَبَّنَا وَسَعْدَیْکَ فَیَقُوْلُ ھَلْ رَضِیْتُمْ فَیَقُوْلُوْنَ وَمَالَنَا لَانَرْضٰی وَقَدْ أُعْطِیْنَا مَالَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِّنْ خَلْقِکَ فَیَقُوْلُ أَنَآ أُعْطِیْکُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذٰلِکَ قَالُوْا یَارَبِّ وَأَیُّ شَیْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذٰلِکَ فَیَقُوْلُ أُحِلُّ عَلَیْکُمْ رِضْوَانِیْ فَلَا أَسْخَطُ عَلَیْکُمْ بَعْدَہٗ أَبَدًا) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار ] ” حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اہل جنت کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار فرمائیں گے اے جنت میں رہنے والو ! جنتی کہیں گے ہمارے رب ! ہم حاضر ہیں آپ کے حضور پیش ہیں۔ ہر قسم کی بھلائی آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا تم خوش ہو ؟ وہ عرض کریں گے : اے ہمارے رب ! بھلا ہم کیوں نہ خوش ہوں ؟ تو نے تو ہمیں ایسی نعمتیں عطاکی ہیں جو آپ نے اپنی مخلوق میں کسی کو عطا نہیں کیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں تمہیں اس سے بھی بہتر نعمت عطانہ کروں ؟ وہ عرض کریں گے اے ہمارے پروردگار ! اس سے بڑھ کر اور نعمت کیا ہوسکتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں تم پر ہمیشہ کے لیے خوش ہوں اب کبھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا۔ “ مسائل 1۔ جنتیوں پر اللہ ہمیشہ راضی رہے گا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نیکو کار اور مجرموں کو دیکھ رہا ہے۔ 3۔ نیکو کار ہر دم اپنے گناہوں کی معافی اور جہنم کی آگ سے پناہ مانگتے ہیں۔ 4۔ اللہ کے بندے صابر، سچے، تابعدار، مخیر اور سحری کے وقت استغفار کرنے والے ہوتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن مومنین کی صفات : 1۔ زمین پر اللہ کا نظام رائج کرنے والے ہیں۔ (الحج : 41) 2۔ اللہ کا ڈر رکھنے والے ہوتے ہیں۔ ( المومنون : 57) 3۔ زمین پر امن کے داعی ہیں۔ ( القصص : 83) 4۔ کروٹ کروٹ اللہ کو پکارتے ہیں۔ (السجدۃ : 16) 5۔ اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے ہوتے ہیں۔ (الاحزاب : 35) 6۔ صبح و شام معافی مانگنے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں۔ (آل عمران : 17)
Ayahs 3:16–18

اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِۚ Open ayah 3:16 in the Quran reader

وہ لوگ جو دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم ایمان لاچکے، لہٰذا ہمارے گناہ معاف فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما

اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ Open ayah 3:17 in the Quran reader

وہ صبر کرنے والے، سچ بولنے والے، تابعداری کرنے والے، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے اور سحری کے وقت بخشش مانگنے والے ہیں

شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ Open ayah 3:18 in the Quran reader

اللہ تعالی، فرشتے اور اہل علم اس بات پر گواہ ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ عدل کے ساتھ دنیا کو قائم رکھنے والا ہے اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی معبود نہیں

فہم القرآن ربط کلام : اوصاف حمیدہ کا تقاضا اور خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کی توحید اور انصاف پر قائم رہنا ضروری ہے۔ سورۃ کی ابتداء اللہ تعالیٰ کی توحید سے ہوئی تھی اور اب پھر اسی مضمون کا اعادہ شہادت کے الفاظ میں ہورہا ہے۔ سب سے پہلے رب ذو الجلال اپنی ذات، صفات اور وحدانیت پر خود گواہی دے رہا ہے کہ میرے بغیر کائنات کا کوئی خالق ومالک نہیں اور میں ہی معبودِ برحق اور واحد ہوں اس کے بعد ملائکہ کی شہادت ڈالی جارہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور بادشاہت کے عینی گواہ ہیں۔ ان کے بعد اہل علم کی گواہی پیش کی جارہی ہے جو انصاف کی گواہی دینے والے اور ہر حال میں اس پر قائم رہنے والے ہیں۔ یہاں ” اُولُوا الْعِلْمِ “ سے مراد سب سے پہلے انبیاء کرام ہیں اور ان کے بعد درجہ بدرجہ ان کے اصحاب، شہداء اور مومن ہیں۔ اس فرمان سے یہ بات عیاں ہورہی ہے کہ حقیقی اہل علم اور علمائے حق وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی توحید کا پرچار کرنے والے اور اس پر قائم ہیں۔ کائنات میں توحید سے بڑھ کر کوئی انصاف کی بات نہیں ہوسکتی جسے قسط کہا گیا ہے۔ قسط کا معنی ہے ” ہر چیز اپنے اپنے دائرۂ کار میں ٹھیک ٹھیک کام کرتی رہے “ جسے اللہ تعالیٰ نے سورة الرحمن کی ابتدا میں اس طرح بیان فرمایا ہے کہ شمس و قمر، نجم وشجر، زمین و آسمان اور ہوا و فضا میں جو کچھ بھی ہے وہ اصول قسط کے تحت رواں دواں اور قائم دائم ہے۔ یہ سب پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہی نظام کائنات پر غالب ‘ مالک اور تدبیر و حکمت کے ساتھ اس کا انتظام وانصرام کرنے والا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ اپنی وحدانیت پر خود گواہی دیتا ہے۔ 2۔ ملائکہ اور اہل علم اس کی توحید پر گواہ ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الہٰ نہیں اور وہی غالب ‘ حکمت والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کی شہادت : ا۔ اللہ تعالیٰ کی توحید پر شہادت (آل عمران : 18) 2۔ رسول کی وحی پر شہادت۔ (النساء : 166) 3۔ حضرت محمد ﷺ کی رسالت پر شہادت۔ (النساء : 79)
Ayah 3:19

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ١۫ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:19 in the Quran reader

یقیناً اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے اور اہل کتاب نے علم آجانے کے بعد آپس میں ضد اور حسد کی بنا پر اختلاف کیا اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کا بہت جلد حساب لینے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : توحید اور اسلام دونوں مترادف ہیں۔ توحید اور اسلام کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کردے۔ کائنات کا پورا نظام مالک واحد کی ذات اور اس کے حکم کے تابع اور عدل وقسط کے اصول پر چل رہا ہے۔ یہی توحید کی روح اور اس کا تقاضا ہے کہ بنی نوع انسان کے انفرادی اور اجتماعی معاملات بھی تقاضائے توحید کے مطابق چلنے چاہییں۔ توحید ہی اسلام کی بنیاد ہے اور یہی ایسا دین ہے جو اللہ کے نزدیک پسندیدہ، معتبر اور مقبول ہے۔ جس کے بنیادی ارکان اور اصول ہمیشہ سے ایک رہے اور تمام انبیاء کرام اسی اسلام کی دعوت دیتے رہے ہیں۔ اسی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کو ایک جماعت قرار دیتے ہوئے فرمایا : (اِنَّ ھٰذِہٖ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِ ) [ الانبیاء : 92] ” یقینًا تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس تم میری ہی عبادت کرو۔ “ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر جناب خاتم الانبیاء تک انبیاء کی دعوت میں کبھی اختلاف نہیں رہا اور نہ ہی ہوسکتا ہے۔ ہر نبی اپنے اپنے وقت میں لوگوں کے پاس دین اسلام لایا۔ لوگوں نے حقیقت معلوم ہوجانے کے باوجود اس دین کو ماننے سے انکار کیا اور انبیاء کرام کے جانے کے بعد دین کے ماننے والوں نے دین کے حصّے بخرے کردیے۔ یہودی 71 فرقوں میں تبدیل ہوئے عیسائیوں نے 72 گروہ بنا لیے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے میری امت 73 فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی۔ سوائے ایک کے باقی سب کے سب جہنمی ہوں گے۔[ رواہ الترمذی : کتاب الإیمان، باب ماجاء فی افتراق ہذہ الأمۃ ] حضرت محمد کریم ﷺ اور دین اسلام کے ساتھ یہود و نصارٰی اور کفار و مشرکین کے اختلاف کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انہیں دین سمجھنے میں کوئی غلط فہمی یا دقّت پیش آئی۔ قرآن مجید دوٹوک انداز میں اختلافات کا سبب بیان کرتا ہے کہ دین اسلام کا انکار کرنے والوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا تھا۔ حالانکہ وہ آپ کی ذات اور دین کو اچھی طرح پہچانتے تھے۔ مگر ذاتی برتری، معاشرتی رجحانات، جماعتی تعصبات اور مالی مفادات کی بنیاد پر انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کیا کیونکہ دین اللہ تعالیٰ نے ہی نازل فرمایا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ ہی ان سے حساب چکائیں گے اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ اے رسول ﷺ ! اگر حقیقت عیاں ہوجانے کے باوجود یہ لوگ تم سے جھگڑا کریں تو تم ان سے کہہ دو ، مانو یا نہ مانو میں نے تو اپنے چہرے کو اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان کرلیا ہے۔ اس سے مراد کلی تابعداری ہے کیونکہ چہرہ ہی انسان کے جذبات اور اس کے رجحانات کا ترجمان ہوتا ہے۔ ہر زبان میں چہرے کی سپردگی کو پورے وجود کی سپرد داری سمجھا جاتا ہے لہٰذا رسول اللہ ﷺ کو حکم ہوتا ہے کہ آپ اختلافات، حالات اور ان کے تعصبات سے بےپروا ہو کر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی غلامی اور دین کی سر بلندی کے لیے وقف کردیں۔ تمہارے پیروکاروں کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی اہل کتاب ‘ کفار ‘ اَن پڑھ اور پڑھے لکھے لوگوں سے یہ پوچھیے کہ کیا تم بھی اپنے آپ کو زمین و آسمان کے خالق ومالک کے تابع فرمان کرنے کے لیے تیار ہو ؟ اگر تم ایسا کرو گے تو ہدایت پاجاؤ گے کیونکہ ہدایت کا دارو مدار اور معیار صرف اسلام ہے۔ اگر یہ لوگ انکار کریں تو تمہارا کام سمجھانا ہے منوانا نہیں، پہنچانا ہے جھگڑنا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نیکو کاروں اور نافرمانوں کو خوب دیکھ رہا ہے۔ اس سے ان لوگوں کی خود بخود نفی ہوجاتی ہے جو اسلامی طریقہ سے ہٹ کر دوسرے کاموں میں نیکی اور خیر سمجھتے ہیں۔ حضرت جعفر ؓ کا نجاشی کے سامنے اسلامی تعلیمات کے بارے میں خطاب : مکہ کے مہاجر مسلمانوں کے ترجمان حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے کہا ” اے بادشاہ ! ہم ایسی قوم تھے جو جاہلیت میں مبتلا تھی۔ ہم بت پوجتے تھے مردار کھاتے تھے ‘ بدکاریاں کرتے تھے ‘ قرابتداروں سے تعلق توڑتے تھے ‘ ہمسایوں سے بدسلوکی کرتے تھے اور ہم میں سے طاقتور کمزور کو کھا رہا تھا ہم اسی حالت میں تھے کہ اللہ نے ہم میں سے ایک رسول بھیجا۔ اس کی عالی نسبی ‘ سچائی ‘ امانت داری ‘ پاکدامنی ہمیں پہلے سے معلوم تھی۔ اس نے ہمیں اللہ کی طرف بلایا اور سمجھایا کہ ہم صرف ایک اللہ کو مانیں اور اسی کی عبادت کریں اور اس کے سوا جن پتھروں اور بتوں کو ہم پوجتے تھے انہیں چھوڑ دیں۔ اس نے ہمیں سچ بولنے ‘ امانت ادا کرنے ‘ قرابت جوڑنے ‘ پڑوسی سے اچھا سلوک کرنے اور حرام کاری و خونریزی سے باز رہنے کا حکم دیا۔ اور فواحش میں ملوث ہونے ‘ جھوٹ بولنے ‘ یتیم کا مال کھانے اور پاکدامن عورتوں پر جھوٹی تہمت لگانے سے منع کیا۔ اس نے ہمیں یہ بھی حکم دیا کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اس نے ہمیں نماز ‘ روزہ اور زکوٰۃ کا حکم دیا۔ “ اسی طرح حضرت جعفر ؓ نے اسلام کے کام گنوانے کے بعد فرمایا : ” ہم نے اس پیغمبر کو سچا مانا ‘ اس پر ایمان لائے اور اس کے لائے ہوئے دین میں اس کی پیروی کی چناچہ ہم نے صرف اللہ کی عبادت کی ‘ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا اور جن باتوں کو اس پیغمبر ﷺ نے حرام بتایا انہیں حرام مانا ‘ اور جن کو حلال بتایا انہیں حلال جانا اس پر ہماری قوم ہم سے بگڑ گئی اس نے ہم پر ظلم و ستم کیا اور ہمیں ہمارے دین سے پھیرنے کے لیے فتنے اور سزاؤں سے دو چار کیا۔ تاکہ ہم اللہ کی عبادت چھوڑ کر بت پرستی کی طرف پلٹ جائیں اور جن گندی چیزوں کو حرام سمجھتے تھے انہیں پھر حلال سمجھنے لگیں۔ جب انہوں نے ہم پر بہت ظلم و جبر کیا ‘ ہمارے لیے زمین تنگ کردی۔ ہمارے اور ہمارے دین کے درمیان رکاوٹ بن کر کھڑے ہوگئے تو ہم نے آپ کے ملک کی راہ لی اور دوسروں پر آپ کو ترجیح دیتے ہوئے آپ کی پناہ میں رہنا پسند کیا اور یہ امید کی کہ اے بادشاہ ! آپ کی طرف سے ہم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ “ [ سیرت ابن ہشام ] مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف اسلام ہی مقبول ہے۔ 2۔ اہل کتاب محض تعصب کی بنیاد پر اسلام کی مخالفت کرتے ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے۔ 4۔ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کرنے والا ہدایت پائے گا۔ 5۔ رسول اللہ ﷺ کا کام تبلیغ کرنا ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔ تفسیر بالقرآن تابعداری کا حکم : 1۔ نبی کریم ﷺ کو مطیع ہونے کا حکم۔ (الانعام : 14) 2۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو مطیع ہونے کا حکم۔ (البقرۃ : 131) 3۔ اولاد ابراہیم (علیہ السلام) کو تابعدار ہونے کا حکم۔ (البقرۃ : 132، 133) 4۔ سب کو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے کا حکم۔ (الحج : 34) 5۔ اسلام میں ہی پوری کی پوری ہدایت مضمر ہے۔ (آل عمران : 20)
Ayahs 3:20–21

فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ١ؕ وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ١ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:20 in the Quran reader

پھر بھی اگر یہ تم سے جھگڑیں تو تم کہہ دو کہ میں اور میرے تابعداروں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا سر جھکا دیا ہے۔ اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے سوال کیجیے کہ کیا تم بھی سر تسلیم خم کرتے ہو ؟ اگر یہ تابعدار بن جائیں تو یقیناً ہدایت پاجائیں گے اور اگر یہ روگردانی کریں تو آپ پر صرف پہنچا دینا ہے اور اللہ تعالیٰ بندوں کو خوب دیکھ رہا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 3:21 in the Quran reader

جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کرتے اور ناحق انبیاء کو قتل کرتے ہیں اور ان لوگوں کو جو عدل و انصاف کا حکم دیں انہیں بھی قتل کر ڈالتے ہیں۔ اے نبی ! انہیں درد ناک عذاب کی خوشخبری دیجئے

فہم القرآن ربط کلام : اسلام چھوڑ کر جس نے کفر کا راستہ اختیار کیا، انبیاء اور نیک لوگوں کو قتل کیا اس کے لیے سزا عذاب الیم ہے۔ اہل کتاب اور کفار کو باربار اسلام کی دعوت دی گئی۔ لیکن انہوں نے تسلیم کرنے کے بجائے انکار اور مخالفت کا راستہ اپنایا بالخصوص یہودیوں کی یہ تاریخ ہے کہ جب بھی ان کے پاس کوئی نبی اور مصلح آیا تو انہوں نے سمع و اطاعت کی بجائے ان کے خلاف سازشوں اور تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ علامہ ابن جریر نے کئی حوالوں کے ساتھ تحریر فرمایا ہے کہ یہودی اس قدر سازشی اور تخریب کار تھے کہ انہوں نے ایک ہی دن میں صبح کے وقت 43 انبیاء کرام (علیہ السلام) اور دن کے پچھلے پہر 170 مذہبی رہنماؤں کو شہید کردیا۔ تاریخ کے اس المناک سانحہ کی نشاندہی کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے رفقاء گرامی کو چوکس کیا جارہا ہے کہ یہودیوں کی ملمع سازی اور چکنی چپڑی باتوں سے بچتے رہیے۔ یہ ایسی قوم ہے کہ جن کی تاریخ گھناؤنے جرائم سے بھری ہوئی ہے۔ مدینے کے یہودیوں نے بھی آپ کے خلاف بارہا سازش کی کہ آپ کو شہید کردیا جائے۔ ایک دفعہ آپ ایک مکان کے صحن میں تشریف فرما تھے یہودیوں نے پروگرام بنایا کہ کچھ لوگ آپ کو گفتگو میں مصروف رکھیں اور دوسرے آدمی چھت کے اوپر سے آپ پر بھاری پتھر پھینک کر آپ کا خاتمہ کردیں۔ (البدایہ والنہایہ) ابن اسحاق کا بیان ہے کہ ایک بوڑھا یہودی شاش بن قیس ایک بار صحابہ کرام ؓ کی ایک مجلس کے پاس سے گزرا۔ جس میں اوس و خزرج دونوں قبیلوں کے لوگ بیٹھے محبت و الفت کی باتیں کر رہے تھے۔ یہ دیکھ کر کہ ان کے درمیان جاہلیت کی باہمی عداوت و شقاوت کی جگہ اسلام کی الفت و اجتماعیت نے لے لی ہے۔ بوڑھا یہودی سخت رنجیدہ ہو کر کہنے لگا۔ بخدا اشراف کے اتحاد کے بعد تو ہمارا یہاں گزر نہیں ہوسکتا۔ “ چناچہ اس نے ایک نوجوان یہودی کو حکم دیا کہ انصار اور مہاجرین کی مجالس میں جائے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر پھر جنگ بعاث اور اس کے واقعات کا ذکر کرے۔ اس سلسلے میں دونوں جانب سے جو اشعار کہے گئے ہیں انہیں سنائے۔ اس یہودی نے ایسا ہی کیا۔ اس کے نتیجے میں اوس و خزرج میں تو تو میں میں شروع ہوگئی۔ لوگ جھگڑنے لگے اور ایک دوسرے پر خنجر اٹھا لیے یہاں تک کہ دونوں قبیلوں کے آدمی ایک دوسرے کے خلاف گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے۔ ایک نے اپنے مد مقابل سے کہا اگر چاہو تو ہم اس جنگ کو پھر جوان کر کے پلٹا دیں۔ اس پر دونوں فریقوں کو تاؤ آگیا اور بولے چلو ہم تیار ہیں حرہ میں مقابلہ ہوگا۔ اسلحہ۔۔ ! اسلحہ کی آوازیں بلندہوئیں ! اور لوگ اسلحہ لے کر حرہ کی طرف نکل پڑے۔ قریب تھا کہ خونریز جنگ ہوجاتی لیکن رسول اللہ ﷺ کو بروقت خبر ہوگئی۔ آپ مہاجر صحابہ کو ہمراہ لے کر جھٹ ان کے پاس پہنچے اور فرمایا اے مسلمانوں کی جماعت ! اللہ سے ڈرو کیا میرے ہوتے ہوئے اور اسلام قبول کرنے کے باوجود آپس میں لڑ رہے ہو ؟ سازشوں کا یہ سلسلہ رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ کے آخری دور تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ ہجرت کے ساتویں سال لبید بن اعصم یہودی نے آپ پر جادو کا ایسا وار کیا کہ آپ کی طبیعت کئی دنوں تک نڈھال اور پریشان رہی۔ گویا اس زمانے میں سب سے بڑے تخریب کار اور تشدد پسند یہودی تھے اور آج بھی بین الاقوامی سازشوں اور تخریب کاریوں کے پیچھے یہودی ہی کار فرما ہیں۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار، انبیاء اور نیک لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ اس قدر ناراض ہوتا ہے کہ انہیں اذیت ناک عذاب کی تنبیہ کرنے کے بجائے خوشخبری سنائی جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کے دنیا اور آخرت میں اعمال غارت ہوں گے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ رَجُلٌ قَتَلَہٗ نَبِیٌّ أَوْ قَتَلَ نَبِیًّا) [ مسند احمد : کتاب مسند المکثرین من الصحابۃ، باب مسند عبدا اللہ بن مسعود ] ” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ سخت عذاب اس آدمی کو ہوگا جسے کسی نبی نے قتل کیا یا اس نے کسی نبی کو قتل کیا۔ “ مسائل 1۔ اللہ کے احکامات کے منکر اور انبیاء و علماء کے قاتل جہنم میں جائیں گے۔ 2۔ دنیاو آخرت میں ان کے اعمال ضائع ہوں گے اور ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ تفسیر بالقرآن یہودیوں کا گھناؤنا کردار : 1۔ یہودی انبیاء کے قاتل ہیں۔ (آل عمران : 112) 2۔ یہودیوں نے انبیاء کی تکذیب 8 کی اور انہیں قتل کیا۔ (المائدۃ : 70) 3۔ یہودی مشرک ہیں۔ (التوبۃ : 30) 4۔ یہودی سازشی ہیں۔ (آل عمران : 54) 5۔ یہودی لعنتی ہیں۔ (المائدۃ : 78) 6۔ یہودی جھوٹے اور سودخور ہیں۔ (المائدۃ : 63) 7۔ یہودی اللہ تعالیٰ کے گستاخ ہیں۔ (المائدۃ : 64)
Ayahs 3:22–23

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:22 in the Quran reader

ان کے اعمال دنیا و آخرت میں غارت ہیں اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ وَ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 3:23 in the Quran reader

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا ہے ؟ وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کی طرف بلائے جاتے ہیں تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے، پھر ان کی ایک جماعت منہ پھیر لیتی ہے اور وہ اعراض کرنے والے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب ہی پہلے کفر کرنے والے ہیں ان کے کفر کی بنیاد ان کا من ساختہ عقیدہ ہے کہ ہم چند دن جہنم میں جائیں گے حالانکہ وہاں ایک کے اعمال دوسرے کے لیے فائدہ مند نہیں ہوں گے۔ اینبی ﷺ ! کیا آپ نے اہل کتاب کے رویّے پر غور نہیں فرمایا کہ جب بھی انہیں تنازعات کا فیصلہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی کتاب کی طرف بلایا جاتا ہے تو بلاوا سنتے ہی ان میں ایک گروہ سراسر منہ پھیر لیتا ہے۔ ایسا اس لیے کرتا ہے کہ ان کا دعو ٰی ہے کہ ہمیں جہنم کی آگ مَس نہیں کرے گی سوائے چند دنوں کے جن میں ہمارے بزرگوں نے بچھڑے کی عبادت کی تھی۔ دراصل ان کا خود ساختہ دین ہی ان کے لیے فریب نفس اور ہدایت کے لیے سدِّراہ بن چکا ہے۔ ان کی خود فریبیوں کا عالم یہ ہے کہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے بیٹے قرار دیتے ہیں اور لوگوں میں یہ تاثّر پیدا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ چند دنوں کے علاوہ ہمیں ہرگز سزا نہیں دے گا۔ افسوس ! یہی فریب کاریاں اور خوش فہمیاں آج امّتِ محمدیہ کی غالب اکثریت میں پیدا ہوچکی ہیں۔ کوئی آل رسول کا نام لے کر اپنے آپ کو دھوکہ دیتا ہے ‘ کسی نے عشق رسول کا نعرہ لگا کر لوگوں کو شریعت سے آزاد کردیا ہے اور کچھ لوگوں نے دنیا میں ہی بہشتی دروازے کھول رکھے ہیں اور ان کے مذہبی پیشوا اور پیر ومرشد برملا اپنے مریدوں کو یہ سبق دیتے ہیں کہ جنت میں جانے کے لیے نیک اعمال کی ثانوی حیثیت ہے۔ بزرگوں کو راضی رکھنا جنت کا سر ٹیفکیٹ حاصل کرنے کے مترادف ہے۔ اسی بناء پر مرشد پکڑنا اور کسی امام کی تقلید ضروری قرار دی جاتی ہے۔ ان خود ساختہ دعوؤں اور وعدوں کی نفی کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ اس وقت ان لوگوں کی کسمپرسی کا کیا عالم ہوگا ؟ جب اللہ تعالیٰ محشر کے میدان میں انہیں اپنے حضور جمع کرے گا ؟ وہاں نہ تو نسب کام آئے گا نہ بزرگ فائدہ پہنچا سکیں گے اور نہ ہی پر کشش نعرے سودمند ہوں گے۔ وہاں تو مجرموں کو دیکھتے ہی ہر کوئی ان سے دور بھاگ جائے گا۔ یہاں تک کہ جنم دینے والی ماں، پرورش کرنے والا باپ، فدا ہونے والے بھائی، اور جانثار بیوی، بیٹے اور بیٹیاں بھی ساتھ چھوڑ جائیں گی۔ پیر مریدوں سے اور مرید اپنے پیروں سے رفو چکر ہوجائیں گے اور ہر شخص کو اس کے اچھے برے اعمال کی پوری پوری جزاء وسزا دی جائے گی کسی پر ذرّہ برابر بھی ظلم نہیں ہونے پائے گا۔ مسائل 1۔ اہل کتاب کو اسلام کی دعوت دی جائے تو ان کی اکثریت اعراض کرتی ہے۔ 2۔ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ ہم چند دن ہی جہنم میں جائیں گے۔ 3۔ یہودیوں کے خود ساختہ دین نے ہی انہیں گمراہ کردیا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب کو جمع کرے گا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کو پورا پورا بدلہ دے گا اور کسی پر ظلم نہیں ہوگا۔ تفسیر بالقرآن کتاب اللہ سے اعراض کا نتیجہ : 1۔ قرآن سے اعراض کرنے والے ظالم اور گمراہ ہیں۔ (الکہف : 57) 2۔ قرآن سے منہ پھیرنے والوں کی سزا۔ (السجدۃ : 22) 3۔ قرآن سے اعراض کرنے والے قیامت کے دن اندھے ہوں گے۔ (طٰہٰ : 124، 125) 4۔ اعراض اور گناہوں کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ (طٰہٰ : 100، 101) 5۔ قرآن کا انکار برے لوگ ہی کرتے ہیں۔ (البقرۃ : 99) 6۔ انہیں دنیا اور آخرت میں دوہرا عذاب ہوگا۔ (بنی اسرائیل : 75)