Ayahs 3:24–26فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب اسلام کی عظمت، غلبہ اور نبی محترم ﷺ کی عزت ختم کرنے کے درپے ہیں جب کہ عزت وذلت، اختیار و اقتدار، موت وحیات اور ہر چیز اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
یہودی اپنے آپ کو سلسلۂ نبوت کا وارث سمجھتے ہیں جس بنا پر انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو تختہ دار پر لٹکانے کی سازش کی اور اسی بنا پر یہ رسول محترم ﷺ ، اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت کے درپے ہوئے اور رہتے ہیں۔ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ دنیا میں سب سے پاک، معزز اور اللہ تعالیٰ کے مقرب یہودی ہیں لہٰذا جب بھی غلبۂ اسلام یا مسلمانوں کی عزت واقبال کی بات ہو تو یہ لوگ اپنے آپ سے باہر ہوجاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ان کا حسدوبغض اپنے عروج پر پہنچا ہوا تھا۔ جب کبھی مسلمانوں کو تابناک مستقبل کے بارے میں خوشخبری سنائی جاتی تو یہودی طعنہ زن ہوتے کہ جنہیں پہننے کے لیے کپڑا، کھانے کے لیے روٹی، سر چھپانے کے لیے مکان میسر نہیں اور جن کا معاشرے میں کوئی مقام نہیں کیا یہ لوگ سلطنت رومہ پر قابض اور ایران کے فاتح بنیں گے ؟ ایسے لوگوں کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے آپ ﷺ کو یہ عظیم دعا سکھلائی گئی جو دعا بھی ہے مستقبل کی پیش گوئی بھی اور مسلمانوں کے عقیدے کی ترجمانی بھی کرتی ہے۔ اس میں مسلمان اپنے مولا کے حضور اس خواہش کا اظہار اور فریاد کرتا ہے کہ الٰہی ! اس لا محدود اور بےکنار مملکت کا تو ہی مالک اور بادشاہ ہے تیرے اختیار میں ہے کہ تو گداؤں کو بادشاہ بنادے اور بادشاہوں کو دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کردے۔ عزت والوں کو ان کی سر مستیوں کی وجہ سے ذلیل کردے اور لوگوں کی نظروں میں ناچیز اور حقیروں کو معزز اور محترم ٹھہرادے۔ پوری کی پوری خیر تیرے ہی قبضہ میں ہے بلاشک تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ لیکن یہودیوں کی طرح کتنے لوگ اور حکمران ہیں جو ” أَنَا وَلَا غَیْرِیْ “ کے نعرے لگاتے ہیں کہ ہمارے اقتدار اور اختیار کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں۔ ہماری طرف بڑھنے والے ہاتھ کاٹ دیے جائیں گے۔ لیکن جب احکم الحاکمین کا فیصلہ صادر ہوا تو جو ہاتھ بادشاہوں، افسروں اور لیڈروں کے گلے میں پھول پہنایا کرتے تھے وہی ہاتھ ان کی موت کا سبب ثابت ہوئے۔ یہاں اسی عقیدے کی ترجمانی کی گئی ہے۔
الٰہی ! تو ہی رات کو دن میں اور دن کی روشنی کو رات کی تاریکیوں میں گم کرتا ہے۔ تو مردہ سے زندہ پیدا کرتا اور زندہ سے مردہ نکالتا ہے۔ تیرے ہی ہاتھ میں ہماری روزی ہے تو جسے چاہے بغیر حساب کے عطا فرماتا ہے۔ دعا کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح رات کے اندھیروں کے بعد دن کا اجالا ہوتا ہے اسی طرح مصائب اور مشکلات کے بعد آسانیاں ہوا کرتی ہیں۔ جس طرح دن کی روشنی کو رات کی تاریکیاں آلیتی ہیں ایسے ہی تندرستی کے بعد بیماری، دولت کے بعد غربت اور کامیابی کے بعد ناکامی آدمی کا مقدر بن جاتی ہے۔ گویا کہ جس طرح زندگی دن رات سے عبارت ہے اسی طرح غمی و خوشی اور بیماری و تندرستی آپس میں جڑے ہوئے اور زندگی کا حصہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے بےحساب رزق دینے کا معنیٰ یہ ہے کہ جب وہ دینے پر آتا ہے تو لینے والے کو بھی اندازہ نہیں رہتا۔ یہ اس کے بےحساب رزق دینے کا ہی نتیجہ ہے کہ مالداروں نے اپنا حساب و کتاب رکھنے کے لیے کئی کئی کیشیئر اور کلرک رکھے ہوتے ہیں۔ اب تو کیش گننے کے لیے کمپیوٹر اور مشینیں ایجاد ہوچکی ہیں۔ اس کے باوجود بھی مال داروں کو اپنی جائیداد اور سرمایہ کا اندازہ نہیں ہوتا اس میں سرمایہ دار کی محنت سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی رزّاقی اور اس کی مشیت کا دخل ہوتا ہے جس کی حکمت وہی جانتا ہے۔
مسائل
1۔ اقتدار وزوال اور عزّت و ذلّت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
2۔ ہر قسم کی خیر اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ رات کو دن اور دن کو رات میں داخل کرنے والا ہے۔
4۔ وہ زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ نکالتا اور بےحساب رزق دینے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کے اختیارات :
1۔ اللہ زندہ کو مردہ اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔ (آل عمران : 27)
2۔ اللہ جسے چاہتا ہے معزز اور جسے چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے۔ (آل عمران : 26)
3۔ اللہ مردے کو زندہ کرنے پر قادر ہے۔ (الاحقاف : 33)
4۔ اللہ سب کو مار کر دوسری مخلوق پیدا کرسکتا ہے۔ (النساء : 133)
Ayahs 3:27–28فہم القرآن
ربط کلام : جب عزت وذلت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے تو ذاتی مفاد اور دنیوی عزت کی خاطر اسلام دشمن قوتوں کے ساتھ قلبی محبت اور تعلق نہیں رکھنا چاہیے۔ دنیا میں جو لوگ جان بوجھ کر گناہوں سے نہیں بچتے قیامت کے دن خواہش کرنے کے باوجود عذاب سے نہیں بچ سکیں گے۔
مدینہ طیبہ میں ہجرت کے ابتدائی ایّام تک کئی مسلمان کافروں کو اپنا دوست اور خیر خواہ سمجھتے تھے۔ یہاں مسلمانوں کو کفار کے ساتھ رہنے کے بنیادی اصول سے آگاہ کیا جارہا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ کفار کو اپنا دلی دوست بنائے اور اسے مومن بھائی سے مقدّم سمجھنے کی کوشش کرے۔ جو ایسا کرے گا اللہ تعالیٰ پر اس کی کوئی ذمّہ داری نہ ہوگی کیونکہ عزّت و ذلّت، غربت و دولت اور اختیار واقتدار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ عام طور پر یہی چیزیں ایک غریب آدمی کو امیر کے سامنے دست نگربناتی اور قریب کرتی ہیں۔ جب ہر قسم کی خیر اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے تو پھر مومن کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے ہم عقیدہ بھائی کو چھوڑ کر یا مومن سے زیادہ اللہ کے باغیوں کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھائے۔ البتہ وقتی طور پر کسی خوف یا مصلحت کی خاطر دوستی رکھی جاسکتی ہے۔ تفصیل کے لیے سورة توبہ رکوع 9 کی تلاوت کریں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں صرف اپنی ذات سے ڈرنے کا حکم دیتا ہے اور اسی کی طرف تم نے پلٹ کر جانا ہے۔ تم کوئی چیز چھپاؤ یا اسے ظاہر کرو، اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے کیونکہ وہ آسمانوں کے چپے چپے اور زمین کے ذرّے ذرّے سے واقف اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ وہ تمہیں اس دن جمع کرے گا جس دن ہر کسی کے سامنے اس کے اچھے یا برے کام پیش کیے جائیں گے۔ مجرم اس وقت اس خواہش کا اظہار کرے گا کہ کاش ! میرے اور میرے جرائم کے درمیان ایک وسیع خلیج حائل ہوجائے۔ سورة النباء آیت 40 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (وَیَقُوْلُ الْکَافِرُ یٰلَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرَابًا) ” کافر کہے گا کاش میں مٹی کے ساتھ مٹی ہوتا۔ “ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے۔ اس کی جلالت سے ڈرانے کا مقصد یہ ہے کہ تم کفار اور اپنے مفاد کے چھن جانے سے نہ ڈروبل کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کبریا سے ڈرتے رہو۔ جو اس سے ڈرتے ہیں وہ کسی سے نہیں ڈرا کرتے۔ اللہ تعالیٰ اپنے تابع فرمان بندوں کے ساتھ نہایت ہی شفقت و مہربانی کرنے والا ہے۔
مسائل
1۔ کافر کو دلی دوست بنانا جائز نہیں۔ 2۔ مصلحت کی خاطر کافر سے عارضی دوستی ہوسکتی ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ سے ہی ڈرنا چاہیے، سب نے اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔
4۔ ہم کوئی چیز چھپائیں یا ظاہر کریں اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔
5۔ قیامت کے دن ہر آدمی کے سامنے اس کے نیک اور برے اعمال پیش کئے جائیں گے۔
6۔ مجرم اپنے جرائم سے دور بھاگنے کی تمنا کرے گا۔
7۔ اللہ تعالیٰ مجرموں کو ڈرانے والا اور نیکوں کے ساتھ شفقت کرنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
کفار سے قلبی دوستی کی اجازت نہیں :
1۔ کافروں سے دوستی کی ممانعت۔ (آل عمران : 28) 2۔ کافروں کو خوش کرنے کی ممانعت۔ ( الانعام : 150)
3۔ کفار کی پیروی کا نقصان۔ ( آل عمران : 149)
4۔ جب تک یہود و نصارٰی کی پیروی نہ کی جائے یہ خوش نہیں ہوتے۔ (البقرہ : 120)
5۔ یہود و نصارٰی کی پیروی پر انتباہ۔ (البقرہ : 120)
Ayahs 3:29–31فہم القرآن
ربط کلام : اسلام کے دشمنوں سے محبت رکھنے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے محبت کرو اور یہ اطاعت رسول کے بغیر ممکن نہ ہوگی۔
دنیا میں ہر مذہب کے لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی قربت و محبت کے حصول کے لیے اپنے اپنے طریقے ایجاد کررکھے ہیں۔ یہودی اپنے آپ کو انبیاء کی اولاد اور خود کو ان کا وارث سمجھتے ہیں۔ اس بنا پر ان کا دعویٰ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ مقرب ہیں۔ مشرکوں نے اپنے بزرگوں، بتوں اور مزارات کو اللہ تعالیٰ کی قربت کا وسیلہ ٹھہرا لیا ہے کچھ لوگوں نے دنیا سے لاتعلق ہو کر گوشہ نشینی، صحرا نور دی اور چلہ کشی کو اللہ تعالیٰ کی قربت کا ذریعہ بنایا ہے۔ عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) ‘ ان کی والدہ، پوپ اور پادری کو درجہ بدرجہ اللہ تعالیٰ کے تقرب کا زینہ بنایا ہے۔ مسلمانوں نے زندہ اور فوت شدہ بزرگوں کو وسیلہ بنا لیا ہے۔ یہاں مثبت اور لطیف انداز میں ان طریقوں کی نفی کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ سے اعلان کروایا گیا ہے کہ اے لوگو ! اگر تم اللہ تعالیٰ کی محبت کے طلب گار ہو تو اس کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے کہ تم صرف اور صرف میری فرمانبرداری کرو۔ کیونکہ آپکی اطاعت ہی اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرتے ہوئے تمہارے گناہوں کو معاف فرمائے گا۔ اللہ معاف کرنے والا ‘ نہایت ہی مہربان ہے۔ مسلمان اور کافر کے درمیان یہی بنیادی فرق ہے ورنہ عیسائی، یہودی، مجوسی، ہندو، سکھ، بدھ مت، غرضیکہ دنیا میں کوئی ایسی قوم نہیں جو کسی نہ کسی طریقے سے اللہ تعالیٰ کی ذات کا اعتراف اور اس کی عبادت نہ کرتی ہو۔ آخر کیا وجہ ہے کہ قرآن مجید انہیں کافر گردانتا ہے ؟ اگر مسلمان بھی اللہ تعالیٰ کی ذات کو اپنے اپنے انداز میں مانیں اور اس کی عبادت اپنے اپنے طریقے سے کریں تو مقام رسالت اور آپ کی اتباع کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے ؟ کاش کہ مسلمان اتباع رسول کو سمجھنے کی کوشش کریں اور آپ کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی محبت کا وسیلہ بنا کر دنیا وآخرت کی کامرانیوں سے سرفراز ہوجائیں۔
مقام نبوت اور رسول اللہ ﷺ کی اتباع کو سمجھنے کے لیے عقل مند کے لیے آپ کا ایک ہی ارشاد کافی ہے جو شخص اس کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے انحراف کرتا ہے اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ انکار کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔ ایک دن رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ تشریف فرما تھے کہ حضرت عمر ؓ نے اچانک آپ کے سامنے تورات کا کچھ حصہ پڑھنا شروع کیا جس میں قرآن مجید کے احکامات کی تائید پائی جاتی تھی۔ جوں جوں حضرت عمر ؓ تورات پڑھ رہے تھے آپ کا چہرہ متغیر ہورہا تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے یہ صورت حال دیکھی تو انہوں نے عمر ؓ کی توجہ اس طرف مبذول کروائی کہ آپ تورات پڑھے جارہے ہیں جب کہ سرور دو عالم ﷺ اس پر خوش نہیں ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے معذرت خواہانہ انداز میں عرض کیا کہ میں تو اللہ اور اس کے رسول پر مطمئن اور راضی ہوں تب آپ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا جو ہر مسلمان کے لیے مشعل زندگی ہونا چاہیے۔ آپ نے فرمایا : ( وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوْ أَنَّ مُوْسٰی ﷺ کَانَ حَیًّا مَا وَسِعَہٗ إِلَّا أَنْ یَّتَّبِعَنِیْ ) [ مسند احمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب باقی مسند السابق ]
” اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر موسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اتّباع کیے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہوتا۔ “
مسائل
1۔ رسول محترم ﷺ کی اتباع ہی اللہ تعالیٰ کی محبت کا ذریعہ ہے۔
2۔ رسول اللہ ﷺ کی اتباع کے سبب اللہ تعالیٰ گناہ معاف کرتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کفار سے محبت نہیں کرتا۔
تفسیر بالقرآن
رسول معظم ﷺ کی اطاعت کے ثمرات :
1۔ رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔ (النساء : 80)
2۔ اطاعت میں کامیابی ہے۔ (الاحزاب : 71)
3۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانی رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں ہے۔ (آل عمران : 132)
4۔ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اللہ کی محبت اور بخشش کا ذریعہ ہے۔ (آل عمران : 31)
5۔ اطاعت رسول سے نبیوں، صدیقوں، شہداء اور صالحین کی رفاقت نصیب ہوگی۔ (النساء : 69)
6۔ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرنے والوں کو جنت میں داخلہ نصیب ہوگا۔ (الفتح : 17)
Ayahs 3:32–33فہم القرآن
ربط کلام : یہاں سے خطاب کا رخ عیسائیوں کی طرف کیا جارہا ہے۔ جس کی ابتدا حضرت آدم، حضرت نوح ‘ حضرت ابراہیم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خاندانی حالات سے کی گئی ہے کہ یہ سب انسان تھے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کس طرح خدا بن گئے ؟
عیسائیوں کے نظریات کی اصلاح، حضرت عیسیٰ اور مریم ( علیہ السلام) کے بارے میں ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنے سے پہلے دنیا کی عظیم ترین شخصیات کا اس لیے حوالہ دیا جارہا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے کلمہ اور محبوب پیغمبر ہیں ‘ مگر ان شخصیات سے عظیم تر نہیں بلکہ وہ انہی کے روحانی اور نسبی فرزند ہیں۔ چناچہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا خاندانی پس منظر اس طرح ہے کہ جب ان کے نانا حضرت عمران (علیہ السلام) کی بیوی نے اپنے رب کے حضور یہ نذر مانی کہ اے اللہ ! میرے بطن میں جو ہے میں اسے تیرے لیے وقف کرتی ہوں۔ تو میری طرف سے اسے قبول فرما۔ لیکن جب اس نے جنم دیا تو وہ بیٹے کی بجائے بیٹی تھی اس نے اپنے رب کے حضور عرض کی کہ الٰہی ! یہ تو بیٹی پیدا ہوئی ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا تھا جو اس نے جنم دیا ہے بلا شبہ لڑکی لڑکے کی مانند نہیں ہوسکتی۔ زوجہ عمران نے اس کا نام مریم رکھنے کے بعد دعا کی کہ الٰہی ! میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان لعین سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی فریاد کو خوب قبول فرمایا اور حضرت مریم (علیہ السلام) کی بہترین نشوونما فرمائی اور اس کی کفالت حضرت زکریا (علیہ السلام) کے ذمہ ٹھہری۔ حضرت مریم ع[ کی پیدائش کے بارے میں مشہور مفسر امام رازی لکھتے ہیں کہ مریم کی والدہ نہایت ہی بوڑھی ہوچکی تھیں۔ ایک دن ایک درخت کے نیچے تشریف فرما تھیں۔ کیا دیکھتی ہیں کہ ایک پرندہ اپنے بچوں کے منہ میں منہ ڈال کر دانہ کھلا رہا ہے اس منظر نے ان کی طبیعت میں عجیب احساس پیدا کیا۔ فوراً اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کرنے لگیں کہ الٰہی ! اگر تو مجھے بیٹا عطا فرمائے تو میں اسے تیری راہ میں وقف کروں گی جس کے نتیجے میں مریم [ پید اہوئیں۔
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں ہر پیدا ہونے والے بچے کو شیطان مس کرتا ہے۔ بچہ شیطان کے چھونے کی وجہ سے چیختا ہے لیکن مریم اور عیسیٰ (علیہ السلام) اس سے مستثنیٰ ہیں۔ پھر ابوہریرہ ؓ نے اس آیت کی تلاوت کی (وَإِنِّیْ أُعِیْذُھَا بِکَ وَذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطَان الرَّجِیْمِ )
[ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ واذکر فی الکتاب مریم ]
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَنْ نَذَرَ أَنْ یُّطِیْعَ اللّٰہَ فَلْیُطِعْہُ وَمَنْ نَذَرَ أَنْ یَّعْصِیَہٗ فَلَا یَعْصِہٖ )
[ رواہ البخاری : کتاب الأیمان والنذور، باب النذر فی الطاعۃ ]
” حضرت عائشہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتی ہیں آپ ﷺ نے فرمایا جس نے نذرمانی کہ وہ اللہ کی اطاعت کرے گا تو اسے پورا کرنا چاہیے اور جو اس کی نافرمانی کی نذر مانے اسے اس سے باز رہنا چاہیے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) آل ابراہیم اور آل عمران کو منتخب کرلیا تھا۔
2۔ نذر پوری کرنی چاہیے۔ 3۔ حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے شیطان کے شر سے محفوظ رکھا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کے منتخب کردہ حضرات :
1۔ آدم، نوح (علیہ السلام) ، آل ابراہیم اور آل عمران۔ (آل عمران : 33) 2۔ حضرت مریم [۔ (آل عمران : 42)
3۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ۔ (الاعراف : 144) 4۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) منفرد اور منتخب۔ (البقرۃ : 130)
5۔ حضرت اسحاق و یعقوب (علیہ السلام) اللہ کے منتخب کردہ ہیں۔ (ص : 45 تا 47)
6۔ رسول اللہ ﷺ رحمۃ للعالمین اور خاتم النبیین ہیں۔ (الانبیاء : 107‘ الاحزاب : 40)
Ayahs 3:34–37فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
حضرت مریم [ جب بڑی ہوئیں تو انہیں حضرت زکریا (علیہ السلام) کی کفالت میں دیا گیا۔ اس زمانے کے مذہبی رواج کے مطابق اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف لوگ تارک الدّنیا ہو کر مسجد اقصیٰ میں تعلیم و تربیت اور ذکر و اذکار میں مصروف رہتے تھے۔ ان میں وہ عورتیں بھی شامل ہوتی تھیں۔ جنہوں نے اپنے آپ کو دنیا کے معاملات سے الگ کرلیا ہوتا تھا۔ چناچہ حضرت مریم [ انہی ذاکرات میں شامل ہو کر اپنے حجرے میں محو عبادت رہا کرتی تھیں۔ ان کے کھانے پینے کا انتظام ان کے خالو حضرت زکریا (علیہ السلام) کے سپر دتھا۔ ایک دن زکریا (علیہ السلام) ان کے ہاں حجرے میں تشریف لائے تو ان کے پاس غیر موسمی عمدہ پھل دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ حیران ہو کر پوچھتے ہیں کہ بیٹی مریم یہ پھل کہاں سے آئے ہیں ؟ مریم [ نے جواب دیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے بلا حساب رزق سے نوازتا ہے۔ یہ سنتے اور خدا کی قدرت دیکھتے ہی حضرت زکریا (علیہ السلام) کے رونگٹے کھڑے ہوئے اور وجود تھرّانے لگا اور بےساختہ ہاتھ اللہ کے حضور اٹھے اور فریاد کرنے لگے کہ اے میرے رب ! مجھے بھی اپنی جناب سے نیکو کار اولاد نصیب فرما یقینًا تو دعا سننے والا ہے زکریا (علیہ السلام) ابھی اسی حجرے میں نماز کی حالت میں کھڑے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملائکہ کا نزول ہوا اور انہوں نے آپ کو یہ نوید سنائی کہ اے زکریا ! خوش ہوجائیے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بیٹا عطا فرمائیں گے جس کا نام یحییٰ ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کے کلمے کی تصدیق کرے گا اور وہ سردار ہوگا نہایت ہی پاک باز، اپنے آپ کی حفاظت کرنے والا اور انبیاء میں سے ہوگا۔ کلمہ سے مراد اللہ تعالیٰ کی کتاب اور عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ حصورًا کا معنی ہے کہ مجرّد رہیں گے جس کی غالبًا حکمت یہ تھی کہ یہود دنیا کے بندے بن چکے تھے۔ دنیا سے بےرغبتی دلانے کے لیے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے اپنی ذات کو نمونہ کے طور پر پیش کیا تاکہ ان میں دنیا کے بارے میں بےرغبتی پیدا ہوسکے۔
مسائل
1۔ حضرت مریم [ کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی نشو و نما سے نوازا تھا۔
2۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بلا حساب رزق دیتا ہے۔
3۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سردار اور شرم وحیا والے نبی تھے۔
تفسیر بالقرآن
حضرت مریم [ کی کفالت :
1۔ کفالت میں جھگڑا۔ (آل عمران : 44) 2۔ جھگڑے کے حل کا طریقہ کار۔ (آل عمران : 44)
3۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) کفیل ہوئے۔ (آل عمران : 37)
اولاد کی بشارت :
1۔ زکریا (علیہ السلام) کو یحییٰ (علیہ السلام) کی بشارت۔ (مریم : 7)
2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسماعیل (علیہ السلام) کی خوشخبری۔ (الصافات : 101، الذاریات : 28)
3۔ مریم [ کو عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت۔ (مریم : 17، 19)
4۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور پوتے کی خوشخبری۔ (ھود : 71)
Ayahs 3:38–40فہم القرآن
ربط کلام : خطاب کا تسلسل جاری ہے۔
قدرت کاملہ کی طرف سے دنیا میں کچھ واقعات ایسے رونما ہوتے ہیں کہ جن کے ظہور پذیر ہونے سے پہلے آدمی ان کی توقع نہیں کرسکتا۔ لیکن انسان کے دیکھتے ہی دیکھتے وہ سامنے آجاتے ہیں اور آدمی ان کو دیکھ کر حیرت کی تصویر بن جاتا ہے ایسے واقعات پر تعجب کا اظہار کرنے سے کوئی شخص مستثنیٰ نہیں ہوا کرتا۔ یہاں تک کہ کچھ واقعات پر انبیاء کرام (علیہ السلام) بھی تعجب میں مبتلا ہوجاتے۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور زندگی سے متعلقہ کئی واقعات ایسے ہیں جو زمانے میں پہلی اور ایک ہی دفعہ رونما ہوئے۔ ان واقعات میں ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ جب حضرت زکریا (علیہ السلام) نے حضرت مریم [ کے پاس بےموسم پھل دیکھے تو پوچھا کہ مریم ! یہ پھل کہاں سے آئے ہیں ؟ حضرت مریم (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ خالو جان ! یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت کا نتیجہ ہیں وہ جسے چاہے بغیر اسباب اور بےحساب رزق عطا فرماتا ہے۔ جناب زکریا (علیہ السلام) کے کلیجے پر چوٹ لگی کہ مریم کو بےموسم پھل اس حجرے میں مل سکتے ہیں تو مجھے اس عمر میں اولاد کیوں نہیں مل سکتی ؟ چناچہ بےساختہ دعا نکلی اے رب العالمین ! مجھے بھی اپنی قدرت کاملہ سے نیک اولاد عطا فرما۔ اس دعا کے صلہ میں جب ملائکہ نے انہیں بیٹے کی خوشخبری سنائی اور کہا کہ اس کا نام یحییٰ ہوگا اور اس سے پہلے اس نام کا کوئی شخص نہیں ہوا۔ تو زکریا (علیہ السلام) حیرت زدہ ہو کر اللہ کے حضور عرض کرتے ہیں کہ بار الٰہ ! مجھے کس طرح بیٹا نصیب ہوگا جب کہ میں بوڑھا اور میری بیوی جسمانی طور پر بچہ جننے کے لائق نہیں ؟ حالانکہ وہ اس سے پہلے دعا کیا کرتے تھے کہ میری بیوی بانجھ اور میرے بال بڑھاپے سے سفید ہوچکے ہیں اس کے باوجود اللہ ! میں تیرے کرم سے مایوس نہیں ہوا۔ (مریم 2 تا 7) لیکن ملائکہ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری سنائی تو تعجب کا اظہار فرمانے لگے مگر تعجب کا اظہار ملائکہ سے کرنے کے بجائے براہ راست اللہ تعالیٰ سے کرتے ہیں۔ کیونکہ اولاد دینے والا تو وہی ہے اور یہ خوشخبری بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی۔ فرشتہ تو محض پیغام رساں ہے۔ زکریا (علیہ السلام) کے تعجب کے جواب میں ارشاد ہوا کہ میرے بندے ! اللہ اپنے کام کو خود ہی جانتا ہے اور وہ اسی طرح ہی کرتا ہے جس طرح اس کی منشا ہوا کرتی ہے۔ پھر عرض کرنے لگے : اے رب ! میرے لیے بیٹے کی کوئی واضح نشانی ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم تین دن تک لوگوں سے اشارے کے علاوہ کلام نہیں کرسکو گے ان دنوں خاص طور پر صبح وشام اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کا شکریہ ادا کرتے رہو۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ مسبب الاسباب ہے وہ جس طرح چاہے کرتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ بانجھ عورت کو بچہ دے سکتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کو صبح و شام کثرت کے ساتھ یاد کرنا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ بڑھاپے میں بھی اولاد دیتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ بڑھاپے میں اولاد دینے پر قاد رہے :
1۔ زکریا (علیہ السلام) کو بڑھاپے میں اولاد دی۔ (مریم : 7، 8)
2۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو بڑھاپے میں اولاد عطا فرمائی۔ (ھود : 71، 72)
اللہ کا ذکر :
1۔ اللہ کا ذکر بڑی چیز ہے۔ (العنکبوت : 45)
2۔ اللہ کا ذکر کرنے کا حکم۔ (البقرۃ : 152)
3۔ اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔ (الانفال : 45)
4۔ اللہ کو گڑگڑا کر صبح وشام آہستہ یاد کرو۔ (الأعراف : 205)
5۔ اللہ کے ذکر سے دل مطمئن ہوتے ہیں۔ (الرعد : 28)
6۔ اللہ کے ذکر سے غافل لوگوں پر شیطان کا تسلط ہوتا ہے۔ (الزخرف : 36)
7۔ اللہ کے ذکر سے غافل لوگ گھاٹے میں ہیں۔ (المنافقون : 9)
8۔ اللہ کے ذکر سے اعراض کرنا اس کے عذاب کو دعوت دینا ہے۔ (الجن : 17)
Ayahs 3:41–42فہم القرآن
ربط کلام : خطاب کا رخ حضرت مریم [ کی طرف ہوتا ہے۔
سلسلۂ کلام یہاں تک پہنچا کہ حضرت مریم [ کی والدہ جو حضرت عمران (علیہ السلام) کی بیوی اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی نانی ہیں انہوں نے نذر مانی تھی کہ اللہ تعالیٰ اسے بیٹا عطا فرمائے گا تو وہ اس کو اللہ تعالیٰ کی نذر کر دے گی لیکن بیٹے کے بجائے مریم پیدا ہوئی تو اس نے مریم کو ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے وقف کردیا جو مسجد اقصیٰ کے متصل ایک حجرے میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتی تھی۔ جب حضرت مریم [ سن بلوغت کو پہنچی تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ملائکہ نے یہ پیغام دیا کہ اے مریم ! اللہ نے تجھے منتخب فرمالیا ہے گناہوں، حیض ونفاس اور لوگوں کے الزامات سے پاک کردیا ہے اور تجھے دنیا کی عورتوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے لہٰذا اے مریم ! اپنے رب کی تابعدار بن جا، اس کے حضور سجدہ ریز ہوتی رہو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرتی رہو۔
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِیًّا ؓ یَقُوْلُ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ خَیْرُنِسَاءِھَا مَرْیَمُ ابْنَۃُ عِمْرَانَ وَخَیْرُ نِسَاءِھَا خَدِیْجَۃُ )[ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب وإذ قالت الملائکۃ یامریم ]
” حضرت عبداللہ بن جعفر کہتے ہیں میں نے حضرت علی ؓ سے سنا وہ کہتے تھے میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ عورتوں میں مریم بنت عمران (علیہ السلام) اور خدیجہ ؓ بہترین عورتیں ہیں۔ “
(عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَاطِمَۃُ سَیِّدَۃُ نِسَاءِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ )
[ مسند احمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب مسند أبی سعید الخدری ]
” حضرت ابو سعید ؓ فرماتے ہیں نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہے۔ “
(عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ فَضْلُ عَاءِشَۃَ عَلَی النِّسَآءِ کَفَضْلِ الثَّرِیْدِ عَلٰی سَآءِرِ الطَّعَامِ کَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ کَثِیْرٌ وَّلَمْ یَکْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَرْیَمُ بْنَتُ عِمْرَانَ وَآسِیَۃُ امْرَأَۃُ فِرْعَوْنَ )
[ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ إذ قالت الملائکۃ یا مریم إن اللہ یبشرک ]
” حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا : عورتوں میں عائشہ کی فضیلت ایسے ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی ہے ‘ مردوں میں کامل لوگ بہت ہیں لیکن عورتوں میں مریم بنت عمران اور آسیہ زوجۂ فرعون کے علاوہ کوئی کامل نہیں۔ “
علامہ رازی نے امام اوزاعی کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت مریم [ اس قدر نماز میں طویل قیام کرتی کہ ان کے پاؤں سے خون رسنا شروع ہوجاتا۔ واقعہ کے بیان میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ میرے پیغمبر ! یہ غیب کی خبریں ہیں جو تمہارے سامنے بیان کی جارہی ہیں کیونکہ تم اس وقت موجود نہیں تھے جب لوگ مریم کو اپنی کفالت میں لینے کے لیے باہم جھگڑتے ہوئے قلموں کے ذریعے قرعہ اندازی کر رہے تھے۔ اہل علم نے لکھا ہے کہ اس زمانے میں مذہبی لوگوں میں رواج تھا کہ جب کسی بات کا فیصلہ نہ ہوپاتا تو وہ ان قلموں کو پانی میں پھینکتے جن کے ذریعے تورات کی کتابت کی جاتی تھی جس کا قرعہ نکلتا اس کا قلم پانی کے بہاؤ کی طرف بہنے کے بجائے وہیں ٹھہرا رہتا یا الٹا چلنا شروع ہوجاتا۔ اس طرح حضرت زکریا (علیہ السلام) کا نام نکلا جو رشتہ میں حضرت مریم [ کے خالو لگتے تھے۔ حضرت مریم [ کی کفالت پر یہ لوگ اس لیے جھگڑتے تھے کہ حضرت مریم [ کو اللہ تعالیٰ نے ابتدا میں ہی اپنے ہاں ایک مقام سے نوازا تھا۔ وہ بچپن میں نہایت ہی معصوم، شرم وحیا کا مجسمہ اور حسن و جمال کی پیکر تھی۔ ان کے وجود کی برکات اور کرامات لوگ دیکھ چکے تھے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم [ کو ہر قسم کے عیب سے پاک اور عورتوں پر فضیلت عطا فرمائی۔
2۔ حضرت مریم [ عبادت گزار اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبردار تھی۔
3۔ یہ غیب کی خبریں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ پر وحی فرمائی ہیں۔
تفسیر بالقرآن
رسول اللہ ﷺ حاضر وناظر نہیں ہیں :
1۔ مریم [ کی کفالت کے وقت رسول اللہ ﷺ حاضر نہ تھے۔ (آل عمران : 44)
2۔ اخوان یوسف کے مکر کے وقت رسول اللہ ﷺ موجود نہ تھے۔ (یوسف : 102)
Ayahs 3:43–45فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
اب وہ وقت آن پہنچا جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم [ کو پاک، معزز اور اس زمانے کی عورتوں پر فضیلت عطا فرمائی تھی۔ چناچہ حضرت مریم [ کے پاس فرشتے حاضر ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بیٹے کی خوشخبری کا اشارہ دیتے ہوئے بتلاتے ہیں کہ اس کا لقب مسیح اور نام عیسیٰ بن مریم جو دنیا وآخرت میں نہایت ہی وجیہ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقرب بندوں میں ہوگا۔
وَجِیْھاً کا معنیٰ ہے معزز، تروتازہ وہشاش بشاش، نہایت ہی خوبصورت چہرے والا۔ یہی وجہ ہے کہ جب رسول محترم ﷺ معراج سے واپس آکر انبیاء کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بارے میں صحابہ کرام ؓ کو تفصیل بتا رہے تھے تو آپ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا :
(رَبْعَۃٌ أَحْمَرُکَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِیْمَاسٍ یَعْنِي الْحَمَّامَ )
[ رواہ البخاری : أحادیث الانبیاء، باب قول اللہ واذکر فی الکتاب مریم ]
” درمیانے قد اور سرخ رنگ کے تھے گویا کہ وہ حمام سے غسل فرما کر ابھی نکلے ہوں۔ “
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دو وجہ سے مسیح کہا جاتا ہے ایک یہ کہ اس زمانے میں نیک اور معزز شخص کو مذہبی لوگ ایک خاص قسم کا تیل لگاتے تھے دوسری وجہ حضرت ابن عباس ؓ بیان فرماتے ہیں چونکہ ان کے ہاتھ پھیرنے سے کوڑھی صحت مند اور پیدائشی نابینا ‘ بینا ہوجاتا تھا اس لیے انہیں مسیح کہا جاتا ہے۔ عبرانی میں عیسیٰ کا معنیٰ سردار ہے۔ فرشتوں نے یہ بھی کہا کہ وہ گہوارہ اور بڑی عمر میں پہنچ کر لوگوں سے گفتگو کرے گا اور نیک سیرت ہوگا۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو حضرت مریم [ پر لوگوں نے تہمت لگائی تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت صاف اور مؤثر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں مجھے اللہ تعالیٰ نے کتاب عطا فرمائی ہے۔ ہر حال میں مجھے برکت دی گئی ہے اور میں اپنی والدہ کا خدمت گزار ہوں گا۔ (تفصیل کے لیے سورة مریم کی آیات 30 تا 43 تلاوت کیجیے۔ ) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو تیس سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی اور پینتیس سال کی عمر میں انہیں آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ ” کَہْلًا “ یعنی وہ بڑھاپے میں بھی لوگوں سے خطاب اور گفتگو کریں گے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کے قریب دنیا میں تشریف لائیں گے اور میری اتّباع میں دین اسلام کی سربلندی کے لیے کام کریں گے گویا انہیں بڑھاپے کی عمر بھی دیکھنا نصیب ہوگی۔
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِيِِّ ﷺ قَالَ لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یَنْزِلَ عِیْسَي ابْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا مُقْسِطًاوَإِمَامًا عَادِلًا فَیَکْسِرُ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ وَیَضَعُ الْجِزْیَۃَ وَیَفِیْضُ الْمَالُ حَتّٰی لَایَقْبَلَہٗ أَحَدٌ)
[ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الفتن، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ ابن مریم ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جب تک عیسیٰ بن مریم منصف حکمران اور عادل امام بن کر نہیں آتے۔ اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی وہ صلیب کو توڑیں گے ‘ خنزیر کو قتل کریں گے ‘ جزیہ ختم کریں گے اور مال کی فراوانی ہوگی یہاں تک کہ اسے کوئی قبول کرنے والا نہیں ہوگا۔ “
اس سے یہودیوں کے دعو ٰی کی تردید ہوتی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) پھانسی دیئے گئے ہیں۔ دوسری طرف عیسائیوں کے شرک کی نفی کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ولادت، بچپن اور بڑھاپا جیسی تبدیلیوں سے مبرّا ہے جب کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی میں بہت سے مدو جزر ہوئے اور قرب قیامت ان کے متعلق مزید واقعات رونما ہوں گے لہٰذاعیسیٰ (علیہ السلام) رب نہیں اللہ کا بندہ ہے۔
مسائل
1۔ عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا و آخرت میں عزت والے اور اللہ کے مقرب ہیں۔ 2۔ حضرت قرب قیامت آسمانوں سے زمین پر اتریں گے۔
تفسیر بالقرآن
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اوصاف :
1۔ بغیر باپ کے پیدا ہونا۔ (آل عمران : 47)
2۔ بچپن و بڑھاپے میں کلام کرنا۔ (آل عمران : 46)
3۔ مٹی سے پرندہ بنانا۔ (المائدۃ : 110)
4۔ ماد رزاداندھے اور کوڑھی کو درست کرنا۔ (آل عمران : 49)
5۔ لوگوں کی ذخیرہ شدہ اشیاء کی خبردینا۔ (آل عمران : 49)
6۔ باذن اللہ مردوں کو زندہ کرنا۔ (المائدۃ : 110)
7۔ روح اور جسم سمیت آسمانوں پر اٹھایا جانا۔ (آل عمران : 55)
Ayahs 3:46–47فہم القرآن
ربط کلام : حضرت مریم [ کو ولادت عیسیٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اوصاف، معجزات اور ان کے مشن کا بیان۔
ملائکہ کی گفتگو ابھی جاری تھی کہ حضرت مریم (علیہ السلام) شرمندگی اور گھبراہٹ کے عالم میں فرشتوں کی بجائے اللہ تعالیٰ سے عرض کرنے لگیں کیونکہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی عیسیٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری دے رہے تھے۔ اے میرے رب ! مجھے کیونکربیٹا ہوگا ؟ جب کہ کسی بشر نے آج تک مجھے چھوا ہی نہیں۔ ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو وہ صرف اس کام کے ہوجانے کا حکم دیتا ہے اور وہ کام اسی طرح ہوجا تا ہے۔ حضرت مریم [ یہ سوچنے لگی کہ میں کنواری ہوں میرے ماں باپ نے مجھے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ معاشرہ مجھے نیک اور باحیا سمجھتا ہے۔ قوم میں میرے خاندان کی نیک نامی کا شہرہ ہے ‘ مجھے کسی انسان نے چھوا تک نہیں وہ انہی خیالات میں گم تھیں کہ اچانک حضرت جبریل امین (علیہ السلام) انسان کی شکل میں ظاہر ہوئے۔ حضرت مریم [ چونک اٹھیں کہ میں تجھے رب رحمٰن کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ اگر تم واقعی نیک ہو تو میرے قریب نہ آنا۔ جبریل امین (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تیرے رب کی طرف سے بھیجا ہواہوں تاکہ تجھے نیک بچہ عطا کروں۔ (سورۂ مریم آیت 19) حضرت جبریل (علیہ السلام) نے حضرت مریم [ کو عیسیٰ (علیہ السلام) کے اوصاف، خصوصیات، مرتبہ میں بتلاتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اسے کتاب اور حکمت و دانائی کی تعلیم دے گا تورات اور انجیل بھی سکھلائے گا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو لکھنے کا طریقہ سکھلایا ‘ ان کی گفتگو اتنی حکیمانہ ہوتی کہ لوگ حیران رہ جاتے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں انجیل سے نوازا اور تورات پر انہیں اتنا عبور تھا کہ اگر کوئی یہودی ان سے سوال کرتا تو وہ تورات کی عبارت کا زبانی حوالہ دے کر اسے قائل اور خاموش کردیتے۔ فرشتوں نے مریم [ کے سامنے یہ بات بھی واضح کی کہ وہ بنی اسرائیل کا رسول ہوگا۔ چناچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں کہ میں تمہارے رب کی طرف سے کھلے دلائل اور معجزات لے کر آیا ہوں، میں تمہارے سامنے مٹی سے پرندہ بنا کر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اڑنے لگتا ہے پیدائشی نابینے کو بینا، کوڑھی کو صحیح اور مردے کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے زندہ کرتا ہوں پھر میں تمہیں یہ بھی بتلاتا ہوں کہ تم اپنے گھروں میں کیا کھاتے اور کیا جمع کرتے ہو ؟ یقیناً ان معجزات اور دلائل میں تمہارے لیے ہدایت کے بڑے ثبوت ہیں۔ اگر تم ایمان لانے کے لیے تیار ہو۔ میں تورات کی تائید کرتا ہوں اور ان چیزوں کو تمہارے لیے حلال کرتا ہوں جو تمہاری نافرمانیوں اور گستاخیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام قراردیں ہیں۔ ان چیزوں کو بھی تمہارے لیے جائز قرار دیتا ہوں جو تمہارے مذہبی پیشواؤں نے اپنی مرضی سے تم پر حرام کی ہیں۔ میں یہ سب دلائل و معجزات تمہارے رب کی طرف سے پیش کرتا ہوں لہٰذا اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری تابع داری میں لگ جاؤ۔
یہ بات پہلے بھی بیان ہوچکی ہے کہ نبی جس قوم میں مبعوث کیا جاتا ہے وہ قوم جس فن میں ید طولیٰ رکھتی ہو اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی نبوت ثابت کرنے کے لیے اسے ایسے معجزات عطا فرماتا ہے کہ جس سے ظاہری اسباب کے حوالے سے بھی نبی کی صداقت لوگوں کے سامنے اظہر من الشمس ہوجائے اور لوگ نبی کے دلائل کے سامنے لاجواب ثابت ہوں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے اس زمانے کے اہل علم طب، جراحت اور جادوگری میں اپنے کمال کو پہنچے ہوئے تھے انہیں لاجواب کرنے کے لیے عیسیٰ (علیہ السلام) کو ایسے معجزات عطا فرمائے کہ لوگ یہ معجزات دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گئے۔
یاد رہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ان معجزات کی نسبت اپنی طرف کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہیں کہ جس طرح میں اللہ کا رسول ہوں اسی طرح یہ معجزات اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ ہیں اس میں میرا کمال اور اختیار نہیں ہے۔
یہودیوں پر حرام کردہ چیزیں :
(وَعَلٰی الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِيْ ظُفُرٍ ج وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْھِمْ شُحُوْمَھُمَا إِلَّا مَاحَمَلَتْ ظُھُوْرُھُمَا أَوِ الْحَوَایَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ط ذٰلِکَ جَزَیْنٰھُمْ بِبَغْیِھِمْ ز وَإِنَّا لَصٰدِقُوْنَ ۔ فَإِنْ کَذَّبُوْکَ فَقُلْ رَبُّکُمْ ذُوْ رَحْمَۃٍ وَّاسِعَۃٍج وَلَا یُرَدُّ بَأْسُہٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ ) [ الأنعام : 146، 147]
” اور یہود پر ہم نے تمام ناخن والے جانور حرام کردیے تھے اور گائے اور بکری میں سے ان دونوں کی چربی ان پر ہم نے حرام کردی تھی مگر وہ جو ان کی پشت پر یا انتڑیوں میں لگی ہو یا جو ہڈی سے ملی ہو۔ ان کی شرارت کے سبب ہم نے ان کو یہ سزا دی اور ہم یقیناً سچے ہیں۔ پھر اگر یہ تمہیں جھٹلائیں تو کہہ دو کہ تمہارا رب بڑی وسیع رحمت والا ہے اور اس کا عذاب مجرم لوگوں سے نہ ٹلے گا۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ جو حکم دیتا ہے وہ ہوجاتا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب، حکمت، تورات اور انجیل سکھلائی۔
3۔ عیسیٰ (علیہ السلام) صرف بنی اسرائیل کے پیغمبر تھے۔
4۔ عیسیٰ (علیہ السلام) تورات کی تصدیق کرتے تھے۔
5۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہودیوں کے لیے حرام چیزیں حلال ہونے کا اعلان فرمایا۔
6۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے بیماروں کو شفاء اور مردے زندہ کرتے تھے۔
7۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی تابعداری اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم دیتے تھے۔
8۔ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔
Ayahs 3:48–51فہم القرآن
ربط کلام : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا پیغام اور عقیدہ توحید تھا۔
یہ پہلے بھی بیان ہوچکا ہے کہ تمام انبیاء رشتۂ نبوت کے لحاظ سے ایک دوسرے کے بھائی ہیں بالخصوص بنی اسرائیل کے انبیاء کی اکثریت نسب کے اعتبار سے بھی آپس میں رشتہ دار تھی اور سب انبیاء کی دعوت کے بنیادی اصول بھی ایک ہی ہوا کرتے تھے۔ اسی لیے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) صاحب انجیل ہونے کے باوجود تورات سے اپنی تائید میں اکثر حوالہ پیش کیا کرتے تھے۔ واضح اور ٹھوس دلائل دینے اور بےمثال معجزات دکھانے کے بعد جناب عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو ایک ہی دعوت دیا کرتے تھے۔ اس اللہ کی عبادت کرو جو تمہارا اور میرا رب ہے۔ یاد رہے کہ وہ میرا اور تمہارا باپ نہیں کہتے تھے جس طرح انجیل میں ان کی طرف بار بار باپ کے الفاظ منسوب کیے گئے ہیں۔ حالانکہ وہ میرا اور تمہارے رب کے مقدس اور واضح الفاظ استعمال فرماتے تاکہ معجزے دیکھ کر لوگوں کو ان کے بارے میں کوئی غلط فہمی نہ پید اہو۔ فرماتے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور صرف اسی ایک کی عبادت کرنا صراط مستقیم ہے۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا فرمان
پرانے عہد نامہ کی کتاب استثناء میں مرقوم، قوم اسرائیل کا مشہور کلمہ شمع (Shama) (= عربی : اسمع) اپنے مفہوم کے اعتبار سے اسلام کے کلمۂ شہادت اور قرآن کی سورة اخلاص کی پہلی آیت سے چنداں مختلف نہیں ہے۔ خصوصًا اپنے عربی و عبرانی متن میں اس کے الفاظ مبارک اس آیت کی باز گشت ہیں ملاحظہ فرمائیے :
عربی : اسمع یا اسرائیل إن الرب الھنارب واحد۔
عبرانی :Shama Yisrael Adonoielohem. Adonoiehod
شمع یاسرائیل ادونائی الوھیم ادونائی احاد۔
[ بائبل عبرانی واردو، کتاب استثناء 6: 4۔ الکتاب المقدس عربی 0 ط۔ بیروت 1899 ء) پرانے اور نئے عہد نامہ کی وضاحت کے لیے دیکھئے باب ہفتم۔]
” سن اے اسرائیل ! خداوند ہمارا خدا ایک ہی خدا ہے۔ “
کتاب استثناء میں دوسری جگہ ہے :
” خدا وند ہی خدا ہے اور اس کے سوا اور کوئی ہے ہی نہیں۔ “ [ استثناء : 4، 35]
نیز فرمایا : ” میرے آگے اور معبودوں کو نہ ماننا۔ “ [ استثناء : 5، 7]
پرانے عہد نامہ کی کتاب میں مذکور ہے حضرت داوٗد (علیہ السلام) کی دعا میں یہ الفاظ موجود ہیں :
” تو ہی واحد خدا ہے۔ “ [ زبور : 86: 10]
عہد نامہ قدیم میں ایک اور جگہ لکھا ہے :
” مجھ سے پہلے کوئی خدا نہ ہے اور میرے بعد بھی کوئی نہ ہوگا۔۔ خدا وند فرماتا ہے میں ہی خدا ہوں۔ “ [ یسعیاہ : 43: 10، 12]
نیز فرمایا :
” میں خدا وند سب کا خالق ہوں، میں ہی اکیلا آسمان کو تاننے اور زمین کو بچھانے والا ہوں، کون میرا شریک ہے۔ “ [ یسعیاہ : 44: 24]
برناباس۔ باب 11 میں ہے :
” تو احمق ہے۔ تو اس خدا کی عبادت کر جس نے تجھے پیدا کیا ہے اور وہی تجھے صحت عطا کرے گا کیونکہ میں ویسا ہی ایک انسان ہوں جیسا تو ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ سب کا رب ہے لہٰذا صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیے۔
2۔ اللہ کی عبادت کرنا ہی صراط مستقیم ہے۔
تفسیر بالقرآن
تمام انبیاء کی دعوت :
1۔ تمام انبیاء (علیہ السلام) اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے۔ (الانبیاء : 25)
2۔ نوح (علیہ السلام) کا فرمان کہ اللہ کی عبادت کرو۔ (ھود : 26)
3۔ یوسف (علیہ السلام) نے اللہ کی عبادت کرنے کی طرف بلایا۔ (یوسف : 40)
4۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ (المائدۃ : 72)
5۔ ھود (علیہ السلام) نے اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دی۔ (الاعراف : 65)
6۔ صالح (علیہ السلام) نے اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دی۔ (الاعراف : 73)
7۔ شعیب (علیہ السلام) نے اللہ کی عبادت کرنے کی طرف بلایا۔ (الاعراف : 85)
8۔ نبی ﷺ نے بھی اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دی۔ (آل عمران : 64)
Ayah 3:52فہم القرآن
ربط کلام : عیسائیوں کا اللہ تعالیٰ کی توحید سے انکار اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی پکار۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے جناب موسیٰ (علیہ السلام) نے یہودیوں کو راہ راست پر لانے کے لیے لازوال اور انتھک جدوجہد فرمائی اور ایسے معجزات دکھائے جن کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی۔ مگر یہودی اس قدر متلوّن مزاج، موقع شناس، نافرمان اور مکار قوم ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جانے کے بعد انہوں نے انبیاء اور مصلحین کے ساتھ ایسا گھناؤ نا کردار ادا کیا کہ دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایسے معجزات پیش فرمائے جو اپنی تاثیر اور نوعیت کے اعتبار سے موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات سے بڑھ کر تھے۔ خطاب اور گفتگو کا ملکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو بچپن میں ہی معجزانہ طور پر عطا ہوا تھا۔ وہ ایسی مدلّل، مؤثر اور حکیمانہ گفتگو فرماتے کہ بڑے سے بڑا مخالف بھی انہیں قلبی طور پر اللہ کا بندہ اور نبی تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔
زبور کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بارہ سال کی عمر میں حضرت مسیح نے پہلی بار ہیکل میں تعلیم دی۔ اس کم سنی کے باوجود ان کی تعلیم میں حکمت ومعرفت، فصاحت و بلاغت اور لب و لہجہ میں عظمت و جلالت اور رعب و دبدبہ کا عالم یہ تھا کہ فقیہ، فریسی، سردار، کاہن اور ہیکل کا تمام عملہ دم بخود رہ گیا۔ حیرانی کے عالم میں وہ ایک دوسرے سے پوچھتے پھرتے تھے کہ یہ کون ہے ؟ جو اس شان سے بات کرتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمان سے اس کو خاص ملکہ عطا ہوا ہے۔ انہوں نے اپنے زمانے کے اہل علم اور یہودیوں کو ایسے معجزات دکھائے کہ لوگ ورطۂ حیرت میں ڈوب گئے۔ اس وقت یونان کے لوگ طب میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ اس دور میں بقراط، ارسطو، افلاطون اور بڑے بڑے شہرۂ آفاق اطباء اور سائنسدان ہوچکے تھے وہ پیدائشی نابینے اور کوڑھے کا علاج نہ کرسکے لیکن عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے ایسے معجزے پیش کیے کہ یہ لوگ ان کے سامنے طفل مکتب کے طور پر کھڑے بےبس دکھائی دیتے تھے۔ مٹی کا پرندہ بنانا، مردے کو زندہ کرنا، لوگوں کے کھائے پیے اور جمع پونجی کے بارے میں خبر دینا، بڑے بڑے حکماء اور نجومی ان باتوں کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات اور خطبات نے بنی اسرائیل میں ایک حرکت اور انقلاب برپا کردیا۔ وہ جہاں جاتے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جاتے۔ ان کا پر جمال اور ہشاش بشاش چہرہ دیکھ کر لوگ پروانہ وار ان کی طرف لپکے آتے گویا کہ قوم میں ایک انقلاب برپا ہوچکا ہے۔ یہ صورت حال دیکھ کر یہودی غضب ناک ہوئے اور انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف الزامات کا طوفان اٹھایا اور لوگوں کو متنفر کرنے کے لیے ان کے خلاف سازشوں کا ایک طویل منصوبہ تیار کیا۔[ یوحنا باب 94 بحوالہ تدبر قرآن ]
حالات اس قدر نازک صورت حال اختیار کرگئے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے باہر نکلنا بھی مشکل ہوگیا۔ اس صورت حال میں انہوں نے ہر جگہ لوگوں کو بتلایا اور سمجھایا کہ میری دعوت قبول کرو اسی میں تمہاری دنیا و آخرت کی کامیابی ہے لیکن حکومت کے خوف، یہودیوں کے الزامات اور سازشوں کے ڈر سے لوگ ان سے دور بھاگ گئے۔ بالآخر انہوں نے اپنے شاگردوں کو اللہ کے نام پر دہائی دی کہ کون ہے جو اللہ کے لیے میرا ساتھ دے ؟ ہزاروں شاگردوں میں سے صرف بارہ آدمیوں نے موت کی پروا کیے بغیر کہا کہ ہم ہیں اللہ کی خاطر آپ کی نصرت و حمایت کرنے والے اور اللہ پر ایمان لانے والے ہیں۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یقین دلایا اور کہا کہ گواہ رہنا کہ ہم اسلام پر مرتے دم تک قائم رہیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کے حضور بھی ہماری فریاد ہے کہ وہ ہمیں آپ کا تابع دار اور آپ کے ساتھ کلمہ حق کی شہادت دینے والے شمار فرمائے۔
مسائل
1۔ داعی اپنے متبعین کی جانچ اور ان کا امتحان لے سکتا ہے۔
2۔ اللہ کے رسول کی اتباع کرنا حق کی شہادت دینا ہے۔
3۔ اللہ کی نازل کردہ کتابوں پر ایمان لانا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری :
1۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے انصار۔ (الصف : 14)
2۔ حواریوں کی پکار کہ ہم انصار اللہ ہیں۔ (الصف : 14)
3۔ امت محمدیہ کو حکم کہ ایمان والو ! اللہ کے انصار بن جاؤ۔ (الصف : 14)