Ayah 3:176فہم القرآن
ربط کلام : کفار کی سازشوں اور شیطان کے ساتھیوں کی شرارتوں سے دل گیر نہیں ہونا چاہیے انہیں دنیا اور آخرت میں اذیت ناک سزا ملنے والی ہے۔
رسول محترم ﷺ نے ہمیشہ منافقوں کے ساتھ درگزر کا رویّہ اختیار کیا اور ہر موقع پر انہیں سمجھاتے رہے تاکہ ان کی دنیا اور آخرت سدھر جائے۔ لیکن وہ سدھرنے کے بجائے شرارتوں اور منافقت میں آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔ آپ کی درگزر اور اعلیٰ ظرفی سے انہوں نے ہمیشہ غلط فائدہ اٹھایا اور ہر نازک موقعہ پر خبث باطن کا اظہار اور اسلام کے دشمنوں کے ساتھ ساز باز کرتے رہے۔ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کا پلڑا ہلکا رہا جس سے انہیں امید ہوگئی کہ اب مسلمان ختم ہوجائیں گے اس لیے سر عام مسلمانوں سے الگ ہوگئے۔ ان کے منافقت میں آگے بڑھنے اور مسلمانوں سے الگ ہونے کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو دلی رنج پہنچا کہ یہ کیسے ناعاقبت اندیش اور بدنصیب لوگ ہیں ؟ جو سدھرنے کی بجائے نافرمانیوں میں آگے ہی بڑھتے جا رہے ہیں اس پر آپ کو تسلی دی گئی کہ میرے نبی ! اطمینان خاطر رکھو کیونکہ آپ کا کام تو فقط سمجھانا ہے جس میں آپ نے کسی غفلت کا ارتکاب نہیں کیا۔ یہ جو چاہیں کرلیں اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ تعالیٰ ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے چاہتا ہے کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ رہے۔ بلاشبہ جو لوگ ایمان کے مقابلے میں کفر کو ترجیح دیتے ہیں وہ ہرگز اللہ تعالیٰ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے ان کے لیے عظیم اور اذیت ناک عذاب ہوگا۔
مسائل
1۔ کفار کی سرگرمیاں رسول محترم ﷺ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں۔
2۔ ایمان کے بجائے کفر کو ترجیح دینے والے اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
Ayahs 3:177–178فہم القرآن
ربط کلام : دنیا کی بجائے کافر کو آخرت میں مکمل سزا دینا، کفریہ کاموں میں ان کا جلدی کرنا، احد میں معمولی کامیابی حاصل کرلینا یہ مہلت دینے کا مقصد یہ ہے کہ یہ دل بھر کر گناہ کرلیں تاکہ قیامت کو انہیں ٹھیک ٹھیک سزادی جائے۔
اُحد میں کفار مسلمانوں کے خلاف برسر پیکار تھے اور منافق ہمدرد اور خیر خواہ بن کر ان کے حق میں خفیہ کردار ادا کر رہے تھے۔ جس کی وجہ سے کبھی کافروں کے کردار پر تنقید کی جاتی ہے اور کبھی منافقوں کے روییّ کو ہدف بنایا جاتا ہے۔ بسا اوقات منافقوں کے کردار اور اعتقاد کی بنا پر ان کے لیے بھی کفر کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اس فرمان میں منافق اور کافر دونوں ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ تاہم کفار کو سمجھایا جا رہا ہے کہ اگر احد میں تھوڑی سی کامیابی اور دنیا میں تمہیں کچھ مہلت میسر ہے تو اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہم جو مہلت دیے جا رہے ہیں اس میں تمہارے لیے کوئی خیر ہوسکتی ہے۔ اگر اللہ کی گرفت سے بچے ہوئے ہو تو اس لیے نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان حرکتوں سے بیخبر ہے یا اس کی دسترس سے تم باہر ہو بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری رسی ڈھیلی اور دراز کر رکھی ہے تاکہ گناہ کرنے میں تمہیں کوئی حسرت باقی نہ رہے۔ جب اللہ تعالیٰ گرفت کی رسی کھینچے گا تو وہ تمہاری گردن میں اس طرح پھندا بن جائے گی جس سے چھٹکارا پانا ممکن نہ ہوگا اور کافر ہمیشہ کے لیے ذلیل کردینے والے عذاب میں سزائیں بھگتتے رہیں گے۔ یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہمیشہ کسمپرسی کی حالت میں اور منافقوں کو ان کے ساتھ خلط ملط رہنے دے بلکہ اللہ تعالیٰ ایسے حالات پیدا کر رہا ہے جس سے منافق الگ ہوتے جارہے ہیں جیسا کہ احد میں ہوا۔ یہاں مومنوں کے وجود اور کردار کو طیب اور منافقوں کے کردار کو خبیث کہا گیا ہے۔ جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں مومن کتنے عمدہ ‘ پاک اور منافق کس قدر گندے ہیں۔ اللہ کے ہاں یہ بھی درست نہیں کہ وہ ہر کسی کو اپنی تقدیر یعنی امور غائب سے مطلع کرتا رہے۔ ایک تو اس لیے کہ ہر شخص کا سینہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے بھید پانے اور برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے غیب کی اطلاع کے لیے پیغمبروں کو منتخب کر رکھا ہے۔ ان میں بھی جس پیغمبر کو جتنا چاہا امور غیب سے آگاہ فرمایا۔ لوگوں کا فرض ہے کہ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائیں اگر کافر اور منافق بھی ایمان لائیں تو ایمانداروں کی طرح یہ بھی اجر عظیم پائیں گے۔ بعض لوگ پیروں ‘ فقیروں اور علماء کے حوالے سے ایسے واقعات لکھتے اور بیان کرتے ہیں کہ فلاں بزرگ بھی غیب کے واقعات جانتے تھے۔ یہاں دو ٹوک الفاظ میں اس عقیدے کی نفی کی گئی ہے۔ جہاں تک انبیاء کا معاملہ ہے ان کے بھی درجنوں واقعات ہیں کہ وہ غیب کا علم ہرگز نہیں جانتے تھے۔ اس کے باوجود بعض علماء نے اس آیت سے یہ استدلال کرنے کی کوشش کی ہے کہ انبیاء کرام خود تو غیب کا علم نہیں جانتے تھے لیکن انہیں عطائی علم غیب ضرور تھا۔ عطائی کا معنیٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بتلایا ہوا اور عطا کردہ علم۔ علم غیب کی یہ تعریف بذات خود مضحکہ خیز ہے۔ جب اللہ تعالیٰ انبیاء یا کسی کو کوئی بات بتلا دے تو وہ غیب کس طرح رہا۔ یہ بات علم غیب کی تعریف میں نہیں آتی اس لیے رسول کریم ﷺ کی زبان اطہر سے کئی بار یہ اعلان کروایا گیا کہ آپ از خود یہ اعلان فرمائیں کہ میں غیب کا علم نہیں جانتا۔ اس کی تفصیل انشاء اللہ سورة الانعام کی تفسیر میں کی جائے گی۔
مسائل
1۔ کفار کے لیے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ڈھیل بہتر نہیں ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ انبیاء کے بغیر کسی کو غیب کی خبریں نہیں دیتا۔
3۔ ایمان اور تقو ٰی اختیار کرنے والوں کے لیے اجر عظیم ہے۔
تفسیر بالقرآن
کفار کے لیے مہلت مفید نہیں :
1۔ ڈھیل کفار کے لیے گناہوں کا باعث بنتی ہے۔ (آل عمران : 178)
2۔ کفار اور بخیل کے لیے مہلت نقصان دہ ہے۔ (آل عمران : 180)
3۔ کفار کے لیے دنیا کی فراوانی نقصان دہ ہے۔ (الانعام : 44)
Ayahs 3:179–180فہم القرآن
ربط کلام : مال اور جان اللہ کے راستے میں قربان کرنے چاہییں۔ منافق مخلص مسلمانوں کو جہاد پر خرچ کرنے سے روکتے تھے اس لیے احد کے غزوہ پر تبصرہ کرتے ہوئے بخل کی مذمت کی گئی ہے۔
منافق مسلمانوں کو صرف جہاد فی سبیل اللہ سے دلبرداشتہ اور منع ہی نہیں کرتے تھے بلکہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کو مایوس کرنے کی کوشش بھی کرتے۔ ان کا اپنا حال یہ تھا کہ جہاد فی سبیل اللہ سے دور بھاگتے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے بچنے کی کوشش کرتے۔ اس طرح وہ مال خرچ کرنے کی بجائے اسے جمع رکھنے کے روییّ پر گامزن تھے۔ ایک موقع پر انہوں نے یہاں تک مہم چلائی اور زبان درازی کرتے ہوئے ایک دوسرے کو کہا کہ مسلمانوں کے ساتھ قطعاً تعاون نہیں کرنا چاہیے تاکہ یہ تنگ آکر مدینہ خالی کردیں اس طرح مدینہ گھٹیا لوگوں سے پاک ہوجائے گا۔ [ المنافقون : 8] یہاں منافقوں کے حوالے سے ہر کسی کو آگاہ کیا جارہا ہے کہ جو لوگ غریبوں ‘ مسکینوں اور جہاد فی سبیل اللہ پر خرچ کرنے کے بجائے بخل کرتے ہیں وہ ہرگز گمان نہ کریں کہ جو مال اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمایا ہے وہ جمع کرنے کی صورت میں ان کے لیے بہتر ہوگا بلکہ جس مال کو اپنے مستقبل کی بہتری کے لیے جمع کر رہے ہیں وہ ان کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگا۔ عنقریب درہم و دینار اور سونا چاندی جہنم میں تپا کر قیامت کے دن ان کے گلے کا ہار بنادیے جائیں گے۔ ان بخیلوں اور کنجوسوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ حقیقتاً اللہ ہی زمین و آسمان کی میراث کا وارث ہے۔ اگر یہ پلٹ کر دیکھیں تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ زمین کی ملکیت کا دعو ٰی کرنے اور دنیا کا مال و متاع جمع کرنے والے ان سے پہلے لوگ کہاں ہیں ؟ ان پر بھی وقت آئے گا جب ان کی جائیداد کا وارث دوسرابنے گا تو پھر کیوں نہ یہ اللہ کے دین کی سربلندی اور اس کے مجبور بندوں پر خرچ کیا کریں۔ جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کی خوب خبر رکھنے والا ہے۔
دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
(یَوْمَ یُحْمٰی عَلَیْھَا فِيْ نَارِ جَھَنَّمَ فَتُکْوٰی بِھَا جِبَاھُھُمْ وَجُنُوْبُھُمْ وَظُھُوْرُھُمْ ھٰذَا مَاکَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِکُمْ فَذُوْقُوْا مَاکُنْتُمْ تَکْنِزُوْنَ ) [ التوبۃ : 35]
” روز قیامت مال کو جہنم کی آگ میں گرم کر کے ان کی پیشانیوں ‘ پہلوؤں اور پیٹھوں پر داغا جائے گا۔ یہ ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تم چکھو جو تم جمع کرتے تھے۔ “
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ مَامِنْ رَجُلٍ لَا یُؤَدِّيْ زَکَاۃَ مَالِہٖ إِلَّا جَعَلَ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِيْ عُنُقِہٖ شُجَاعًا ثُمَّ قَرَأَ عَلَیْنَا مِصْدَاقَہُ مِنْ کِتَاب اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ (وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَا آتَاھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ) الآیۃَ ) [ رواہ الترمذی : کتاب : تفسیر القرآن، باب ومن سورة آل عمران ]
” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اس بات کو نبی کریم ﷺ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو آدمی اپنے مال کی زکوٰۃ نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ روز قیامت یہ مال اس کی گردن میں گنجا سانپ بنا کر ڈالے گا۔ پھر آپ نے کتاب اللہ سے اس آیت کی تلاوت کی (وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَا آتَاھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ) ۔ “
مسائل
1۔ بخیل کے لیے اس کا بخل کرنا کبھی بہتر نہیں ہوگا۔
2۔ رزق حلال اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے خرچ کرتے رہنا چاہیے۔
4۔ قیامت کے دن بخیل کا مال سانپ بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔
5۔ زمین و آسمان کی حقیقی اور دائمی ملکیت اللہ ہی کی ہے۔
6۔ اللہ ہر کسی کے اعمال سے باخبر ہے۔
تفسیر بالقرآن
بخل اور بخیل کا انجام :
1۔ خزانے جمع کرنے والوں کو عذاب کی خوشخبری۔ (التوبۃ : 34)
2۔ بخیل اپنا مال ہمیشہ باقی نہیں رکھ سکتا۔ (ھمزہ : 3)
3۔ بخیل کے مال کے ذریعے ہی اسے سزادی جائے گی۔ (التوبۃ : 35)
Ayah 3:181فہم القرآن
ربط کلام : مسلمانوں میں بخل کا ماحول پیدا کرنے کے لیے یہودیوں نے منافقوں کو یہ کہہ کر مالی تعاون سے منع کیا کہ مسلمانوں کا رب کنگال ہوگیا ہے اور ہم مال و دولت والے ہیں یہاں بخل کی مذمت اور اس گستاخی کی سزا سنائی گئی ہے۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ فنحاص یہودی عالم کے پاس بیت المدراس میں گئے۔ اسے کہنے لگے اللہ سے ڈرتے ہوئے مسلمان ہوجاؤ۔ کیونکہ تو جانتا ہے کہ آپ ﷺ سچے رسول ہیں اور یہ بات تورات وانجیل میں بھی لکھی ہوئی ہے۔ فنحاص نے جواب دیا کہ ہم اللہ کے محتاج نہیں۔ البتہ وہ ضرور ہمارا محتاج ہے اگر وہ ہمارا محتاج نہ ہوتا تو ہم سے قرضے کا مطالبہ نہ کرتا۔ حضرت ابوبکرصدیق ؓ غصے میں آئے اور اس کے منہ پر تھپڑ رسید کیا اور ساتھ یہ فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر ہمارا آپس کا معاہدہ نہ ہوتا تو اے اللہ کے دشمن ! میں تیری گردن اڑا دیتا۔ فنحاص یہ معاملہ نبی کریم ﷺ کے پاس لے گیا۔ آپ ﷺ نے ابوبکرصدیق ؓ سے وجہ دریافت کی تو انہوں نے سارا واقعہ بیان کیا۔ فنحاص نے جب اپنی بات کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی تصدیق میں یہ آیات نازل فرمائیں۔[ تفسیر ابن کثیر ]
انفاق فی سبیل اللہ کی تحریک کے خلاف منافقوں نے اپنے طریقہ کے مطابق کوشش اور زبان درازی کی۔ لیکن یہودیوں نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ اب یہ نبی اور اس کا خدا لوگوں سے قرض کے نام پر چندہ مانگ رہے ہیں۔ در حقیقت مسلمانوں کا خدا فقیر اور کنگال ہوگیا ہے ہم ان کے مقابلے میں غنی اور دولت مند ہیں۔ جو خود لوگوں سے مانگتا ہے وہ ہمیں کہاں سے دوگنا تگنا کر کے واپس کرے گا ؟[ الرحیق المختوم ]
اس ہرزہ سرائی اور یا وہ گوئی کے بارے میں سخت ناراضگی کے عالم میں فرمایا کہ جو کچھ یہ اپنی زبانوں سے نکال رہے ہیں۔ ہم نے اس کا ایک ایک حرف لکھ لیا ہے جس طرح ان کا انبیاء کو ناحق قتل کرنا ریکارڈ ہوچکا ہے۔ گویا کہ جس طرح انہوں نے انبیاء کو قتل کیا اس طرح ہی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے تقدس کو پامال کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی سزا یہ ہے کہ ہم قیامت کے دن انہیں کہیں گے کہ جس مال کو تم بچا بچا کر رکھتے تھے اب اسی مال کے ساتھ جہنم کا جلا دینے والا عذاب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چکھتے رہو۔ جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا اس کی سزا پائیں گے اللہ تعالیٰ کی طرف سے زیادتی نہیں ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ذرہ برابر بھی زیادتی نہیں کرتا۔ بیشک انسان کتنا باغی ‘ کافر اور متکبر کیوں نہ ہو اسے اتنی ہی سزا ملے گی جتنا اس نے جرم کیا ہوگا۔
(عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِیْمَا رَوٰی عَنِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَنَّہٗ قَالَ یَاعِبَادِيْ إِنِّيْ حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلٰی نَفْسِيْ وَجَعَلْتُہٗ بَیْنَکُمْ مُحَرَّمًا فَلَاتَظَالَمُوْا۔۔ )[ رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ، باب تحریم الظلم ]
” حضرت ابوذر ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندو ! یقینًا میں نے اپنے آپ پر ظلم کرنا حرام کرلیا ہے اور میں اسے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیتا ہوں۔ پس تم آپس میں ظلم نہ کیا کرو۔ “
مسائل
1۔ یہودی اللہ تعالیٰ کو فقیر اور اپنے آپ کو مال دار کہتے ہیں۔
2۔ ہر زہ سرائی اور انبیاء کو ناحق قتل کرنے کی وجہ سے انہیں جلا دینے والا عذاب ہوگا۔
3۔ لوگوں کو قیامت کے دن وہی کچھ ملے گا جو آگے بھیجیں گے۔
4۔ اللہ تعالیٰ بندوں پر کبھی ظلم نہیں کرتا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ غنی ہے فقیر نہیں :
1۔ اللہ کے ہاتھ فراخ ہیں جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ (المائدۃ : 64)
2۔ زمین و آسمان کے خزانوں کا مالک اللہ ہی ہے۔ (المنافقون : 7)
3۔ زمین و آسمان کی کنجیوں کا مالک اللہ ہے۔ (الزمر : 63)
4۔ اللہ تعالیٰ رزق بڑھاتا اور کم کرتا ہے۔ (العنکبوت : 62)
اللہ تعالیٰ ظلم پسند نہیں کرتا :
1۔ اللہ تعالیٰ بلاوجہ عذاب دینا پسند نہیں کرتا۔ (النساء : 147)
2۔ اللہ تعالیٰ ذرّہ برابر ظلم نہیں کرتا۔ (النساء : 40)
3۔ اللہ تعالیٰ نبی بھیجنے سے پہلے عذاب نہیں دیتا۔ (بنی اسرائیل : 15)
4۔ اللہ تعالیٰ قیامت کو بھی کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ (آ : 29)
Ayahs 3:182–183فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ پر فقر کا الزام لگا کر یہودی مسلمانوں میں بخل کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اسی طرح آپ کی ذات اور دین سے روکنے کے لیے قربانی کے جل کر خاکستر ہونے کی جھوٹی شرط پیش کرتے جس کی یہ کہہ کر تردید کی گئی ہے کہ پہلے انبیاء میں سے کچھ نے یہ معجزہ بھی دکھایا تھا پھر تم نے انہیں کیوں قتل کیا ؟
یہودی کسی صورت بھی رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں تھے اور ایسا ہی ان کا رویّہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تھا۔ بات بات پر اعتراضات، ہر مسئلے کو سوالات کے ذریعے الجھانے اور بال کی کھال اتارنے کی کوشش کرتے۔ جب نبی محترم ﷺ کے سامنے ہر طرح لا جواب ہوتے تو اللہ تعالیٰ کے ذمّہ بات لگاتے کہ در اصل اے محمد ﷺ ! ہم آپ پر اس لیے ایمان نہیں لاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے عہد لیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کسی رسول پر ایمان نہیں لانا جب تک وہ رسول قربانی ذبح نہ کرے جسے تمہارے دیکھتے ہی دیکھتے آسمان سے آئی ہوئی آگ نگل جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لوگوں کے بار بار مطالبہ کی وجہ سے بعض انبیاء کے دور میں یہ واقعات رونما ہوئے کہ جو نہی قربانی پیش کی گئی آسمان سے آگ آئی اس نے اسے جلا کر خاکستر کردیا۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ اس شخص کی قربانی اللہ کی بارگاہ میں مستجاب ہوچکی ہے اور یہ نبی سچا ہے۔
اس بات کو یہود نے اس طرح توڑ مروڑ کر پیش کیا جیسے یہ نبوت کے لیے لازمی نشانی ہو۔ حالانکہ تورات اور انجیل میں نبی آخرالزمان ﷺ پر ایمان لانے کے لیے ایسی کسی شرط کا ذکر موجود نہیں ہے۔ اے نبی ! ان سے پوچھیے کہ مجھ سے پہلے بیشمار رسول ٹھوس اور واضح دلائل کے ساتھ آئے اور وہ چیز بھی انہوں نے کر دکھائی جس کا تم مطالبہ کرتے ہو اگر تم اپنی اس حجت میں سچے ہو تو بتاؤ کہ قربانی کے جل کر راکھ ہونے اور واضح دلائل آنے کے باوجود تم نے پہلے انبیاء کو قتل کیوں کیا ؟ اس کے بعد آپ کو اطمینان دلاتے ہوئے فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو بلاشبہ پہلے انبیاء کو بھی جھٹلایا گیا ہے۔ جبکہ یہ انبیاء واضح دلائل لے کر آئے تھے اور حضرت داوٗد اور عیسیٰ ( علیہ السلام) بھی روشن کتابوں اور کھلے معجزات کے ساتھ آئے تھے۔ جھٹلانے والوں نے ان کی بھی تکذیب کی۔
سورۂ یٰس میں یہاں تک بیان ہوا کہ ایک بستی میں پہلے ایک رسول آیا پھر دوسرے رسول بھیجے گئے اور ان کے بعد تیسرے نبی مبعوث کیے گئے جنہوں نے ایک دوسرے کی تائید اور تصدیق فرمائی لیکن اس کے باوجود لوگوں نے تینوں نبیوں کو جھٹلایا اور ان کی بات ماننے سے انکار کردیا۔
(وَاضْرِبْ لَہُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَۃِ اِذْجَآءَ ہَا الْمُرْسَلُوْنَ اِذْ اَرْسَلْنَآ اِلَیْہِمُ اثْنَیْنِ فَکَذَّبُوْہُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْا اِنَّآ اِلَیْکُمْ مُّرْسَلُوْنَ ) [ یٰسین : 13، 14]
” ان کے سامنے اس بستی کے رہنے والوں کی مثال بیان کرو۔ جن کے پاس پیغمبر تشریف لائے جب ہم نے ان کی طرف دو رسول مبعوث کیے تو انہوں نے دونوں کو جھٹلایا۔ ہم نے تیسرے کو بھیجا تینوں پیغمبروں نے لوگوں کو بتلایا کہ ہم رسول اور پیغمبر ہیں۔ “
لہٰذا اے محبوب پیغمبر ! تمہیں دل چھوٹا کرنے اور حوصلہ ہارنے کی ضرورت نہیں ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔
دوسرے مقام پر فرمایا :
(فَإِنَّھُمْ لَایُکَذِّبُوْنَکَ وَلٰکِنَّ الظَّالِمِیْنَ بآیَات اللّٰہِ یَجْحَدُوْنَ ) [ الانعام : 33]
” یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے لیکن ظالم لوگ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ “
مسائل
1۔ یہودی اپنی صداقت کے لیے من گھڑت دعوے اور جھوٹی نشانیاں پیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
2۔ رسول اللہ ﷺ سے پہلے انبیائے عظام کو معجزات اور آسمانی کتابیں پیش کرنے کے باوجود جھٹلایا گیا۔
تفسیر بالقرآن
حقائق کو جھٹلانا اہل کفر کا وطیرہ ہے :
1۔ اہل کفر انبیاء کو جھٹلایا کرتے تھے۔ (آ : 14)
2۔ باطل پرست اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ (المائدۃ : 86)
3۔ کفار قیامت کو جھٹلاتے ہیں۔ (الروم : 16)
4۔ کفار اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتے ہیں۔ (المائدۃ : 103)
Ayahs 3:184–185فہم القرآن
ربط کلام : موت اور فکر آخرت کے ذریعے نصیحت کی گئی ہے کہ دنیا کے جس جاہ و جلال اور مال پر اترا کر نبی ﷺ کی نبوت کا انکار اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں خرافات بکتے ہو یہ تو ختم ہونے والی ہے۔
منکرین توحید و رسالت کا کردار بتلانے کے بعد رسول اللہ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے موت کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ اے رسول ﷺ آپ کے مخالفوں نے دنیا میں ہمیشہ نہیں بیٹھے رہنا بالآخر ہر کسی نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور پھر قیامت کے دن تمہارے اعمال کے مطابق تمہیں مکمل جزا اور ان کے کردار کی انہیں پوری پوری سزا دی جائے گی۔ جسے جہنم کی ہولناکیوں سے بچا کر جنت میں داخل کردیا گیا یقیناً وہ کامیاب ہوا۔ یہ دنیا کی زندگانی محض نظر کا فریب اور دماغ کا غرور ہے۔ اسی وجہ سے یہ آپ کی ذات اور اللہ تعالیٰ کی آیات جھٹلا رہے ہیں حالانکہ یہ کرّ وفرّ اور سازو سامان عارضی ہے۔ اس کے مقابلے میں آخرت کی جزا وسزا مستقل اور دائمی ہے۔ جب دنیا عارضی اور موت یقینی ہے تو عقل و دانش کا تقاضا ہے کہ ہمیشہ رہنے والی زندگی کی فکر کرنی چاہیے۔
مسائل
1۔ ہر کسی کو موت آکر رہے گی۔ 2۔ یہ دنیا مکرو فریب کا سامان ہے۔
3۔ قیامت کے دن ہر کسی کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
4۔ جہنم کی آگ سے بچ کر جنت میں داخل ہونے والا ہی کامیاب ہے۔
تفسیر بالقرآن
نیکی کا پورا پورا اجر ملے گا :
1۔ اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرے گا۔ (آل عمران : 171)
2۔ اللہ تعالیٰ محسنین کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ (ھود : 115)
3۔ سب کو پورا پورا اجر دیا جائے گا۔ (النساء : 173)
Ayah 3:186فہم القرآن
ربط کلام : احد میں مالی، جانی نقصان اور یہودیوں کی اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہرزہ سرائی اور نبی ﷺ کی نبوت کی تصدیق کے لیے غلط ثبوت کا مطالبہ مسلمانوں کے لیے پریشانی کا باعث تھا۔ اس لیے انہیں تسلی دیتے ہوئے صبر کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ دنیا ہر کسی کے لیے آزمائش ہے خاص کر انبیاء اور مومنوں کے لیے اسے امتحان گاہ اور کڑی آزمائش کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ مومن کا مال اور اس کی جان آزمائش کی بھٹی میں اس لیے جھونکے جاتے ہیں تاکہ مال کا حق ادا کرنے کے بعد مومن کا مال خالص ہوجائے۔ مومنوں کو اس لیے آزمایا جاتا ہے کہ وہ دوسروں کے لیے نمونہ بن کر زندگی بسر کریں۔ آزمائش اور امتحان کا یہ بھی مقصد ہے کہ مومن دین کی سربلندی اور لوگوں کی خیر خواہی کے لیے قربانیاں پیش کریں۔ اس کے باوجود بھی غیر مسلم حسد و بغض کا مظاہرہ کرتے ہیں جس پر تسلی دینے کے لیے ارشاد ہوتا ہے اے مسلمانو ! تم اللہ کی راہ میں سب کچھ قربان کرنے کے باوجود یہود و نصاریٰ اور مشرکین سے باتیں سنو اور تکلیفیں اٹھاؤگے۔ اگر صبر اور پرہیزگاری اختیار کرتے رہو گے تو یہ بڑے ہی عظمت والے کام ہیں۔ صاحب عزیمت لوگ ہی اللہ تعالیٰ کے دین کو سربلند کرنے والے اور دنیا وآخرت میں سرخرو ہوں گے۔ چناچہ وہ کونسی اذیت اور طعن ہے جو رسول محترم ﷺ کو نہیں دیا گیا۔ اہل کتاب اور مشرکین کی طرف سے آپ اور صحابہ کرام ؓ نے وہ دکھ اٹھائے کہ جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
مسائل
1۔ مسلمانوں کو مال اور ان کی جانوں کے ساتھ ضرور آزمایا جائے گا۔
2۔ یہود و نصاریٰ اور مشرکوں سے مسلمان بڑی تکلیفیں اٹھائیں گے۔
3۔ تکالیف پر صبر کرنا اور گناہوں سے بچنا بڑے عظیم کام ہیں۔
Ayah 3:187فہم القرآن
ربط کلام : یہودیوں کے من گھڑت بہانے کی تردید کرنے کے بعد انہیں اظہارِ حق کے عہد کی یاد دہانی کروائی گئی ہے۔
یہود و نصاری نہ صرف نبی آخر الزماں ﷺ کے اوصاف اور آپ کی نبوت کے ٹھوس دلائل چھپاتے ہیں۔ بلکہ انہوں نے ہر اس بات کو تورات اور انجیل سے نکال دیا ہے جو ان کے مفادات کے خلاف ہے حالانکہ ان سے اللہ تعالیٰ نے پختہ عہد لیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے احکامات کو چھپانے کی بجائے انہیں کھول کھول کر لوگوں کے سامنے بیان کرو گے۔ انہوں نے اس عہد کو اس طرح فراموش کردیا اور دور پھینکا جس طرح کوئی شخص کسی چیز کو اپنے پیچھے پھینک کر الٹے منہ دیکھ نہیں سکتا۔ دنیا کے وقتی وقار، عارضی اقتدار، معمولی فائدے اور چند دمڑیوں کی خاطر انہوں نے اللہ کے احکام کو بیچ ڈالا۔ پھر اپنے کیے پر افسوس کا اظہار کرنے کی بجائے اس پر اترایا کرتے تھے۔ بڑا ہی برا کردار اور سودا ہے جو انہوں نے اختیار کیا۔
حضرت حسن بصری کی والدہ حضرت ام المومنین امّ سلمہ ؓ کی کنیز تھیں۔ اس بدولت حسن بصری نے حضرت ام المومنین امّ سلمہ ؓ کے ہاں پرورش پائی وہ اس آیت کی تصریح میں فرمایا کرتے تھے کہ یہ عہد اللہ تعالیٰ نے بالواسطہ امت محمدیہ کے علماء سے بھی لیا ہے کہ وہ حق کو چھپانے کے بجائے اسے ہر حال میں بیان کرتے رہیں گے۔ حضرت حسن بصری ؓ کا اپنا کردار یہ تھا کہ وہ حجاج بن یوسف پر سر عام تنقید کرتے۔ ایک دن حجاج نے انہیں بلا کر تلوار لہراتے ہوئے پوچھا کہ آپ میرے بارے میں یہ یہ باتیں کرتے ہیں ؟ حضرت حسن بصری ؓ نے وہی باتیں حجاج کے رو برو کہتے ہوئے فرمایا کہ ہاں جب تک تم ان جرائم سے باز نہیں آؤ گے میں تمہیں ٹوکتا رہوں گا۔ اس کے بعد انہوں نے مذکورہ آیات کی تلاوت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے سچ بولنے کا وعدہ لیا ہے جس کی پاسداری کرنا ہمارا فرض ہے۔ (تفسیر رازی)
مسائل
1۔ اہل کتاب نے دنیا کے تھوڑے سے مفاد کی خاطر اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈالا اور تھوڑی قیمت کے بدلے بیچ دیا۔
Ayah 3:188فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید تحریری شکل میں نازل نہیں ہوا یہ پر مغز خطابی انداز میں نازل ہوا ہے اس لیے مخاطب کو سمجھانے کے لیے جس پیرائے اور الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے وہی استعمال ہوتے ہیں جو موقعہ کے مطابق ہوں جس بنا پر بات کا تعلق بہت پیچھے کی بات سے جوڑ کر اسے کسی دوسرے انداز میں سمجھایا جاتا ہے یہاں یہ سمجھایا گیا ہے کہ جس دین کی مخالفت اور دنیا کی خاطر تم بخل اور خوشامد کرتے ہو اس وجہ سے جو تمہارا انجام ہونے والا ہے اس کی طرف توجہ دو ۔
انسان کی اخلاقی گراوٹ کی انتہا دیکھنا ہو تو اس شخص کے کردار کی طرف دیکھیے جو گناہ پر معذرت کرنے کے بجائے اس پر اصرار کرتے ہوئے خوش ہوتا اور فخر محسوس کرتا ہے۔ ایسے آدمی کی عادت ہوجاتی ہے کہ وہ صرف صحت مند تنقید سننا گواراہی نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے عمل اور ناپسندیدہ کردار کی بھی تعریف چاہتا ہے۔ جس شخص کی یہ حالت ہوجائے اس کے سنورنے کی تمام صورتیں ختم ہوجایا کرتی ہیں۔ اگر ایسا شخص کسی ملک یا قوم کا سربراہ ہو تو ہلاکت اس قوم کا مقدر ہوا کرتی ہے۔ اہل کتاب کے علماء اور زعماء کی یہی حالت تھی کہ وہ ہر حال میں اپنی تعریف سننا پسند کرتے تھے یہاں تک کہ جس کام کے ساتھ ان کا دور کا تعلق نہ ہوتا اس کی بھی تعریف چاہتے تھے۔ حتیٰ کہ مفاد پرست اور جاہل لوگ ان کی ذات اور خاندان میں وہ وہ خوبیاں ظاہر کرنے کی کوشش کرتے جن کا ان کے ہاں تصور بھی نہیں پایا جاتا تھا۔ اپنی کردہ اور ناکردہ خدمات کی تعریف چاہنے والا شخص مغرور ‘ ریا کار اور خود پسند ہوجایا کرتا ہے۔ اس قسم کے کردار کے حامل لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ آخرت میں بھی ان کی تعریف اور خوشامدہو گی اور وہ کامیاب ہوجائیں گے۔ ہرگز نہیں ان کے لیے تو رب ذوالجلال نے نہایت ہی تکلیف دہ عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اس طرح کی اخلاقی بیماریوں سے بچنے اور بچانے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے کسی کے رو برو تعریف کرنے والے کے بارے میں فرمایا ایسا شخص دوسرے کو کند چھری کے ساتھ ہلاک کرتا ہے۔
(عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ اأَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اأنْ نَّحْثُوَ فِیْ أَفْوَاہِ الْمَدَّاحِیْنَ التُّرَابَ )
[ رواہ الترمذی : کتاب الزھد، باب ماجاء فی کراھیۃ المدحۃ والمداحین ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں اللہ کے رسول ﷺ نے حکم دیا کہ ہم کسی کے منہ پر تعریف کرنے والے کے منہ میں مٹی ڈالیں۔ “
(عَنِ ابْنِ أَبِیْ مُلَیْکَۃَ قَالَ اسْتَأْذَنَ ابْنُ عَبَّاس ؓ قَبْلَ مَوْتِھَا عَلٰی عَاءِشَۃَ وَھِیَ مَغْلُوْبَۃٌ قَالَتْ أَخْشٰی یُثْنِیَ عَلَیَّ فَقِیْلَ ابْنُ عَمِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَمِنْ وُجُوْہِ الْمُسْلِمِیْنَ قَالَتْ إِءْذَنُوْا لَہٗ فَقَالَ کَیْفَ تَجِدِیْنَکِ قَالَتْ بِخَیْرٍ إِنِ اتَّقَیْتُ قَالَ فَأَنْتِ بِخَیْرٍ إِنْ شَآء اللّٰہُ زَوْجَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَلَمْ یَنْکِحْ بِکْرًا غَیْرَکِ وَنَزَلَ عُذْرُکِ مِنَ السَّمَاءِ وَدَخَلَ ابْنُ الزُّبَیْرِ خِلَافَہٗ فَقَالَتْ دَخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ ؓ فَأَثْنٰی عَلَیَّ وَوَدِدْتُّ أَنِّیْ کُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا) [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب ولولا إذ سمعتموہ قلتم مایکون لنا أن نتکلم بھذا ]
” ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں حضرت عائشہ ؓ جب موت کے قریب تھیں تو اس وقت عبداللہ بن عباس ؓ نے ان کے پاس آنے کی اجازت چاہی حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا مجھے ڈر ہے کہ وہ میری تعریف نہ کرنے لگیں۔ کسی نے عرض کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی اور خود بھی عزت دار ہیں اس پر انہوں نے کہا کہ انہیں اندر بلالو۔ ابن عباس ؓ نے ان سے پوچھا کہ آپ کس حال میں ہیں ؟ اس پر انہوں نے فرمایا کہ اگر میں اللہ سے ڈرنے والی ہوں تو اچھا ہی اچھا ہے۔ عبداللہ بن عباس ؓ نے کہا انشاء اللہ آپ اچھی ہی رہیں گی آپ رسول اللہ ﷺ کی زوجہ مطہرہ ہیں اور آپ کی براءت آسمان سے نازل ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے تشریف لے جانے کے بعد آپ کی خدمت میں ابن زبیر ؓ حاضر ہوئے۔ حضرت عائشہ ؓ نے ان سے فرمایا کہ ابھی ابن عباس آئے تھے اور میری تعریف کی کاش ! میں بھولی بسری گمنام ہوتی۔ “
مسائل
1۔ جو لوگ ہر کام پر اپنی تعریف چاہتے ہیں وہ آخرت کے عذاب سے بچ نہیں سکیں گے۔
تفسیر بالقرآن
اپنی تعریف کروانا بہتر نہیں :
1۔ خواہ مخواہ تعریف کروانے والا جہنم میں جائے گا۔ (آل عمران : 188)
2۔ اپنی پاک دامنی کا دعو ٰی کرنا بہتر نہیں۔ (النجم : 32)
3۔ اللہ کے نیک بندے شکریہ سے مبرّا ہوتے ہیں۔ (الدھر : 9)
4۔ پاک وہی ہے جسے اللہ پاک کرے۔ (النساء : 49)
Ayah 3:189فہم القرآن
ربط کلام : ریاکاروں، کنجوسوں، خوشامدیوں اور اللہ کے منکروں کو سوچنا چاہیے کہ زمین و آسمان کی بادشاہی اور ملکیت کس کے پاس ہے ؟ صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے تعریف تو اس کی ہونا چاہیے۔ اگر سمجھنا چاہو تو اس نے زمین و آسمان کے درمیان اور لیل ونہار کے آنے جانے میں بہت سی نشانیاں رکھ دی ہیں دوسری طرف مسلمانوں کو سمجھایا کہ جس طرح رات اور دن کا آنا جانا ہے اسی طرح زندگی میں دکھ، سُکھ، خوشی، غم، کامیابی اور ناکامی ایک دوسرے کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ اس میں مومن کے لیے خوش خبری اور اطمینان کا سبق ہے۔
” لُبْ “ کا معنی ہے عقل اور الباب اس کی جمع ہے۔ زمین و آسمان کی ملکیت تو ایک اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کی خدائی کا ثبوت چاہتے ہو تو زمین و آسمان کی پیدائش اور لیل و نہار کی گردشوں پر غور کرو۔ لہٰذاہر قسم کی تعریف ذات کبریا کو لائق ہے اور وہی زمین و آسمان کا مالک اور ان کے چپے چپے پر اختیار اور اقتدار رکھنے والا ہے۔ لیکن نشانات قدرت پر عقل مند ہی غور و خوض کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں پر خوش ہونے اور اپنی تعریف کروانے والے لوگ اس کی پکڑ سے نہیں بچ سکتے۔ کیونکہ ہر چیز پر اسی کا کنٹرول ہے۔
مسائل
1۔ آسمانوں اور زمین کی ملکیت اللہ کے لیے ہے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
2۔ زمین و آسمان کی تخلیق، رات اور دن کی تبدیلی میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نشانات ہیں۔
تفسیر بالقرآن
سب کچھ اللہ ہی کی ملکیت ہے :
1۔ مشرق ومغرب اللہ کے لیے ہے۔ (البقرۃ : 142) 2۔ زمین و آسمان اللہ کی میراث ہیں۔ (آل عمران : 180)
3۔ زمین و آسمان پر اللہ کی بادشاہی ہے۔ (آل عمران : 189)
4۔ قیامت کو بھی اللہ تعالیٰ ہی کی حکومت ہوگی۔ (الفرقان : 26)
Ayahs 3:190–191فہم القرآن
ربط کلام : اللہ کے بندے ہر حال میں اس کے شکر گزار ‘ اس کی عبادت میں محو اور اس کے ذکر و فکر میں مشغول رہتے ہیں، یہی دانشمندی ہے۔
اللہ تعالیٰ خالق کل اور حاکم مطلق ہے۔ اگر وہ چاہتا تو صرف حکم دیتا کہ میری ذات اور بات مانو لیکن اس نے اپنی ذات کو حاکم کی حیثیت سے ہی نہیں بلکہ خالق ومالک اور رحمن و رحیم کے طور پر تسلیم کرنے کی دعوت دی ہے اس لیے وہ انسان کو اس کی تخلیق، اپنی قدرتوں اور کائنات کی بناوٹ اور سجاوٹ پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے تاکہ عقل و فکر اور دل کی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ اس پر ایمان لایا جائے۔ ایسا ایمان ہی آدمی کی فکر میں تبدیلی اور اس کے کردار میں نکھار پیدا کرتا ہے۔ اسی بنا پر قرآن مجید بار بار آدمی کی توجہ کائنات کی تخلیق اور اللہ کی قدرت وسطوت کی طرف دلاتا ہے۔ یہاں تک کہ قرآن انسان کو اپنے اندر جھانکنے کی دعوت دیتا ہے کیونکہ یہی لوگ غور و فکر اور دلائل کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کی بات اور ذات کو پہچانتے اور یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنے کے تین طریقے ہیں کیونکہ آدمی تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت میں ہی ہوتا ہے۔ کھڑا، بیٹھا اور لیٹا ہوا۔ چلنے پھرنے کی حالت کھڑے ہونے میں شمار ہوتی ہے۔ ذکر کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا ادراک واعتراف کرتے ہوئے اس کے حکم کے مطابق اس کی عبادت کی جائے۔
جب اللہ تعالیٰ کی ذات کا شعور نصیب ہوجائے تو پھر انسان ان تینوں حالتوں میں جس حالت میں بھی ہو۔ وہ اللہ تعالیٰ کو یاد رکھتا ہے۔ نماز افضل ترین ذکر ہونے کی بنا پر فرض ہے۔ اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ملاحظہ فرمائیں :
(عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ؓ قَالَ کَانَتْ بِیْ بَوَاسِیْرُ فَسَأَلْْتُ النَّبِیَّ ﷺ عَنِ الصَّلَاۃِ فَقاَلَ : صَلِّ قَاءِمًا فإِنْ لَّمْ تَسْتَطِعْ فَقاَعِدًا فَإِنْ لَّمْ تَسْتَطِعْ فعَلٰی جَنْبٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجمعۃ، باب إذا لم یطق قاعدا صلی علی جنب ]
” حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے بواسیر کی تکلیف تھی تو میں نے نبی ﷺ سے نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا : کھڑے ہو کر نماز پڑ ھو کھڑے ہو کر پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تو پھر بیٹھ کر پڑھ اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں تو لیٹ کر۔ “
شعور کی دولت اور اللہ تعالیٰ کی محبت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب انسان اس کی تخلیقات اور زمین و آسمان کی بناوٹ وسجاوٹ پر فکر و تدبر اختیار کرے۔ پھر انسان اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس کے جسم کا ایک ایک رونگٹا اور دل کا ایک ایک گوشہ پکار اٹھتا ہے کہ اے ہمارے رب ! تو نے جو کچھ بھی پیدا کیا ہے۔ وہ بےمقصد پیدا نہیں فرمایا۔ اس لیے ہر چیز تیری حکمت اور حکم کے مطابق اپنی تخلیق کے مقصد پر لگی ہوئی ہے۔ اے ہمارے رب ! تو ہر عیب سے پاک ہے۔ ہم نے نافرمانیاں کر کے اپنے آپ کو ناپاک بنایا اور اپنی زندگی کے مقصد کو کھویا اور ضائع کرلیا ہے۔ ہماری تیرے حضور التجا ہے کہ ہمیں معاف فرما کر آگ کے عذاب سے محفوظ رکھنا۔ (آمین)
غور وفکر کے نتائج اور سائنسدانوں کے مشاہدات
ماہر طبقات الأرض جے ‘ ڈبلیوڈاسن :
” حق تو یہ ہے کہ عبادت کا فلسفیانہ تصور پیدا کرنے کے لیے اصول و قوانین پر ایمان لانا لابدی ہے۔ اگر کائنات بےترتیب اتفاقات کا نتیجہ ہوتی یا محض کسی ضرورت یاحاجت کی پیداوار ہوتی تو سوچ سمجھ کر عبادت کرنے کی ضرورت کبھی پیش نہ آتی۔ جب ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ کائنات ایک حکیم ودانا کی تدبیر کا مظہر ہے وہی ذات بےہمتا اسے کمال حکمت و دانائی سے چلا رہی ہے اسی حالت میں ہمارے دل میں یہ احساس ابھرتا ہے کہ ہم اس بےمثل ذات کو ہر چیز کا آقا ومولیٰ تصور کرکے، اس کی بےپناہ دانائی اور محبت پر اعتماد کرتے ہوئے اس کے حضور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں۔ “
جہاں تک میرے شعبے کا تعلق ہے ہم لوگ ہر چیز کو وسیع پیمانے پر دیکھنے کے عادی ہیں۔ وقت کا شمار تاریخ ارضی کے پچاس کھرب سال اکائیوں میں کرتے ہیں اور فضا کا اندازہ زمین کے محیط سے اور عمل کائنات کا اندازہ عالمی گردش سے کرتے ہیں۔ ان تمام اندازوں کی وسعت سے ناگزیر طور پر عقیدہ میں اضافہ ہوتا ہے۔ جو انسان مذہب کا دلدادہ نہ ہو وہ بھی ان حیرت پرور اشیاء کو دیکھ کر اپنے دل میں خوف وہیبت محسوس کرتا ہے اور اسے بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ :
” آسمان خدا کی عظمت کے شاہد ہیں اور یہ کائنات اس کے کرشمۂ تخلیق کا ثبوت ہے۔ “
مرلن گرانٹ سمتھ (ماہر ریاضیات وفلکیات):
خدا کے بارے میں انسان کے دل میں جو سوال پیدا ہوتا ہے اس کا خالق اور مخلوق دونوں کے سامنے جواب دہی سے بڑاقریبی تعلق ہے اس لیے جواب کا فیصلہ کرنے میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے اگر خدا ہے تو وہ صرف ہمارا پیدا کرنے والا ہی نہیں ہے بلکہ ہمارا مالک وآقا بھی ہے اس لیے ہمیں اس کے دونوں قسم کے پسندیدہ افعال و اعمال کے بارے میں معلومات حاصل کرنی چاہئیں، یعنی ان افعال کے بارے میں بھی جن کا تعلق براہ راست خدا سے ہے اور ان کے بارے میں بھی جن کا تعلق ہمارے ہم جنس انسانوں سے ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بہت چوٹی کے اہل علم نے حال ہی میں اس بات کا بالواسطہ یا بلا واسطہ اعتراف کیا ہے کہ خدا ہے۔ میں ان میں چند اقوال یہاں پیش کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔
مثلًا سرجیمر جینز کہتے ہیں :
” ہماری کائنات ایک بڑی مشین کے مقابلے میں ایک عظیم خیال سے زیادہ مشابہ ہے یہ بات ایک سائنسی حقیقت کی طرح نہیں بلکہ گمان کے طور پر کہتا ہوں کہ یہ کائنات کسی بڑے آفاقی ذہن کی پیداوا رہے جو ہمارے تمام ذہنوں سے مطابقت رکھتا ہے اور سائنس کے تصوّرات بھی اب اسی طرف اقدام کرتے نظر آتے ہیں۔ “
جارج رومینس جو ایک بڑا فاضل حیاتیات ہے لکھتا ہے :
” علم نجوم کی نئی معلومات سے جن کا حصول نئی میکانیات اور ذراتی علم کی بنا پر ممکن ہوا ہے کائنات کی طبیعیاتی بلندیوں خصوصًا اس مسلسل عمل اور ردّ عمل کو دیکھ کر ہمارے دماغ چکراگئے ہیں جو وہاں نظر آرہا ہے۔
یہ تمام بلکہ ان سے اور بھی زیادہ معلومات کا حصول اس مسلسل تلاش و جستجو کا مرہون منّت ہے جو اسباب اور ان کے پس پردہ نتائج معلوم کرنے کے لیے جاری ہے۔ اسباب و نتائج کو ایک دوسرے سے جد انہیں کیا جاسکتا۔ یہ دونوں معنوی طور پر ایک وحدت ہیں۔ ہم انسان اور ہمارے گردوپیش کی دنیا سب مل کر نتائج کا ایک مجموعہ ہیں اور اس مجموعہ کی تہہ میں اس کے پس پشت ایک غیر مرئی سبب اور ازلی علّت موجود ہے جس کو میں خدا کہتا ہوں۔ “
[ ماخوذ از : خدا موجود ہے، چالیس سائنسدانوں کی شہادت ]
مسائل
1۔ اللہ کے بندے اٹھتے بیٹھتے اور اپنے بستروں پر اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی قدرتوں پر غور و خوض کرتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
دعوت فکر :
1۔ حق پہچاننے کے لیے آفاق پر غور کرنے کی دعوت۔ (حمٓ السجدۃ : 53)
2۔ اپنی ذات پر غور وفکر کی دعوت۔ (الذاریات : 21)
3۔ رات کے سکون پر غور کرنے کی دعوت۔ (القصص : 72)
4۔ دن رات کے بدلنے میں غور و خوض کی دعوت۔ (المومنون : 80)
5۔ شہد کی بناوٹ پر غور کرنے کی دعوت۔ (النحل : 69)
Ayah 3:192فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی یاد کا تقاضا ہے کہ انسان کی فکر کا نتیجہ مثبت ہو اور وہ اپنے رب کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے اس کے عذاب سے پناہ اور اس کی عطاؤں کا طلب گار رہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ایسے فکر وعمل کا حامل مرد ہو یا عورت اللہ تعالیٰ کسی ایک کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا۔
حقیقی دانشمند لوگ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نشانات اور عجائبات دیکھنے کے بعد نہ صرف ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے احکامات کو یاد رکھتے ہیں بلکہ وہ برملا اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ہمارے خالق ومالک نے زمین و آسمان کی کسی چیز کو بھی بےمقصد پیدا نہیں کیا۔ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنی تخلیق کے مقصد کو پورا کر رہی ہے۔ اس حقیقت کے اعتراف کے بعد انہیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ انسان بھی ایک عظیم مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ وہ مقصد اللہ تعالیٰ کی غلامی میں رہتے ہوئے دنیا میں اس کی خلافت کا حق ادا کرنا ہے۔ اس مقصد کے حصول میں صادر ہونے والی کمزوریوں کا احساس کرتے ہوئے انسان پکار اٹھتا ہے۔ الٰہی ! ہم نے اس مقصد کو پانے میں کوتاہی کی۔ ہماری تیرے حضور عاجزانہ التجا ہے کہ تو اپنی ناراضگی اور جہنم کی آگ سے بچائے رکھ۔ کیونکہ جو جہنم کی آگ میں داخلہوا اس کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا اور وہ ذلیل و خوار ہوجائے گا۔ اس کے بعد مومنوں کی چھ دعاؤں کا ذکر اور ان کی قبولیت کا بیان ہوتا ہے۔ ہمیں ان دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے۔
اے ہمارے رب ! ہم نے تیری قدرتوں کے نشانات دیکھے ! ہم نے تیرے رسول کی دعوت کو قبول کیا۔ ہم تیری ذات پر ایمان لائے کہ تو ہی ہمارا خالق ‘ رازق اور مالک ہے۔ ہماری عاجزانہ درخواست ہے کہ ہمارے گناہوں کو معاف فرما ‘ ہمیں گناہوں اور غلطیوں سے بچنے کی توفیق نصیب فرما اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ فرما اور جو تو نے اپنے انبیاء کے ذریعے اپنے بندوں کے ساتھ وعدے فرمائے وہ سب کچھ ہمیں عطا فرما اور قیامت کے دن ذلت و رسوائی سے محفوظ رکھ۔ بیشک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
مومنوں کا کردار اور اخلاص دیکھ کر اللہ تعالیٰ اپنی شفقت و مہربانی سے جواب عنایت فرماتا ہے کہ ان کے رب نے ان کے اخلاص ‘ کردار اور دعاؤں کو قبول کرلیا ہے۔ اس کا اعلان ہے کہ مرد ہو یا عورت کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کرے گا۔ جنہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی یا انہیں ان کے گھروں سے جبراً نکال دیا گیا میرے راستے میں انہوں نے دکھ اٹھائے ‘ لڑے اور شہید ہوئے ان کے گناہوں کو ضرور معاف کیا جائے گا اور ان کے لیے باغات ہوں گے۔ جن میں نہریں جاری ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے اجر وثواب ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے پاس بہترین عطا اور جزا ہے۔
(عَنْ أَبِيْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِيِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی یَقُوْلُ لِأَھْلِ الْجَنَّۃِ یَاأَھْلَ الْجَنَّۃِ فَیَقُوْلُوْنَ لَبَّیْکَ رَبَّنَا وَسَعْدَیْکَ فَیَقُوْلُ ھَلْ رَضِیْتُمْ فَیَقُوْلُوْنَ وَمَالَنَا لَانَرْضٰی وَقَدْ أَعْطَیْتَنَا مَالَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِّنْ خَلْقِکَ فَیَقُوْلُ أَنَا أُعْطِیْکُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذٰلِکَ قَالُوْا یَارَبِّ وَأَیُّ شَیْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذٰلِکَ فَیَقُوْلُ أُحِلُّ عَلَیْکُمْ رِضْوَانِيْ فَلَا أَسْخَطُ عَلَیْکُمْ بَعْدَہٗ أَبَدًا )
[ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار ]
” حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ جنتیوں کو فرمائے گا کہ اے جنتیو ! جنتی عرض کریں گے اے ہمارے رب ! ہم حاضر ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم راضی ہو ؟ جنتی کہیں گے ہم کیوں راضی نہ ہوں۔ کیونکہ آپ نے ہمیں وہ کچھ عطا کیا ہے جو آپ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی عطا نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں تمہیں اس سے بھی افضل چیز دینا چاہتا ہوں۔ جنتی کہیں گے اے ہمارے رب ! اس سے افضل چیز کون سی ہوسکتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں تم پر راضی ہوگیا ہوں اور اس کے بعد تم پر کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔ “
مسائل
1۔ جسے اللہ تعالیٰ نے آگ میں داخل کردیا وہ ذلیل ہوا اور اس کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔
2۔ نیک اعمال کرنے والی عورت ہو یا مرد اللہ تعالیٰ کسی کا عمل ضائع نہیں کرے گا۔
3۔ اللہ کے راستے میں لڑنے ‘ مرنے ‘ تکلیف اٹھانے اور ہجرت کرنے والے کے گناہ معاف کر کے اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کسی کے عمل کو ضائع نہیں کرے گا :
1۔ اللہ تعالیٰ کسی کی نماز ضائع نہیں کرے گا۔ (البقرۃ : 143)
2۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ (آل عمران : 171)
3۔ نیکو کار کا اجر ضائع نہیں ہوتا۔ (التوبۃ : 120)
4۔ مصلح کا اجر ضائع نہیں ہوتا۔ (الاعراف : 170)
5۔ نیک عمل کرنے والے کا عمل برباد نہیں ہوگا۔ (الکہف : 30)
6۔ کسی مرد وزن کی نیکی ضائع نہیں ہوگی۔ (آل عمران : 195)
Ayahs 3:193–196فہم القرآن
ربط کلام : اپنی بادشاہی اور زمین و آسمانوں کے عبرت انگیز نشانات وآثارات کی نشاندہی ‘ ان پر مومنوں کی طرز فکر اور دعاؤں کے ذکر کے بعدمومنوں کے بہتر انجام کے بیان کے ساتھ نصیحت کی جارہی ہے کہ کفار کے کرّوفر پر فریفتہ نہیں ہونا، یہ تو دنیا کی زندگی کا عارضی سامان ہے تمہیں جنت کی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں عطا کی جائیں گی۔
قرآن مجید انسان کو بار بار یہ حقیقت بتلاتا اور سمجھاتا ہے کہ دنیا اور اس کی ہر چیز عارضی، ناپائیدار اور بہت جلد ختم ہونے والی ہے۔ نادان ہے وہ انسان جو اس کی زیب وزینت پر فریفتہ ہو کر اپنی زندگی کے اصل مقصد کو کھو بیٹھتا ہے۔ اس دنیا کی شادابی اور حسن و زیبائی نظر کا فریب اور دماغ کا دھوکا ہے جس کے پیچھے لگ کر آدمی اپنی دائمی زندگی اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کو فراموش کرتا اور لامتناہی مستقبل کو تاریک کرکے جہنم کا خریداربن جاتا ہے۔
یہ طرز حیات ایک مومن کا نہیں بلکہ اللہ کے منکر اور باغی کا ہوا کرتا ہے۔ مسئلہ کی اہمیّت کے پیش نظر بظاہر نبی محترم ﷺ کو مخاطب کیا ہے لیکن حقیقتاً ایمانداروں کو تاریک مستقبل اور جہنم کی ہولناکیوں سے بچنے کا احساس دلایا گیا ہے کہ دنیا کا سروسامان اور عیش و عشرت نہایت مختصر ہے۔ لہٰذا کفار کے کرّو فر، شان و شوکت اور ان کی زندگی کی چہل پہل مومنوں کو عظیم مقصد سے غافل اور اس غلط فہمی کا شکار نہ کردے کہ شاید اللہ تعالیٰ ان پر راضی ہے جس کی وجہ سے انہیں دنیا کی ترقی سے نوازا گیا ہے۔ جب کہ دنیا کی حقیقت یہ ہے :
( لَوْ کَانَتِ الدُّنْیَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللّٰہِ جَنَاحَ بَعُوْضَۃٍ مَاسَقٰی کَافِرًا مِّنْہَا شُرْبَۃَ مَاءٍ )[ رواہ الترمذی : کتاب الزھد ]
” اگر دنیا کی قدرو منزلت اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو دنیا میں کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی نصیب نہ ہوتا۔ “
” حضرت عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ ایک چٹائی پر سوئے تو آپ کے پہلو پر نشان پڑگئے۔ ہم نے عرض کی اللہ کے رسول ! اگر ہم آپ کے لیے اچھا سا بستر تیار کردیں ؟ آپ نے فرمایا میرا دنیا کے ساتھ ایک مسافر جیسا تعلق ہے جو کسی درخت کے نیچے تھوڑا سا آرام کرتا ہے پھر اسے چھوڑ کر آگے چل دیتا ہے۔ “ [ رواہ الترمذی : کتاب الزھد ]
مسائل
1۔ کفار کی ترقی اور عیش و عشرت سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔ 2۔ کافروں کے لیے بالآخر جہنم ہوگی۔
Ayahs 3:197–198فہم القرآن
ربط کلام : کفار کی شان و شوکت پر فریفتہ ہونے کی بجائے جنت کی نعمتوں پر نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کو اسلام کی سربلندی ‘ ذاتی کردار اور اپنی ترقی پر محنت کرنا چاہیے۔
قرآن مجید اپنے اسلوب کو برقرار رکھتے ہوئے یہاں پھر کفار کی سزا کا ذکر کرنے کے فوراً بعد مومنوں کے صلہ اور انعام کا ذکر کرتا ہے۔ تاکہ کتاب الٰہی کی تلاوت کرنے والا فوری طور پر دو کرداروں اور ان کے انجام کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنی اصلاح پر غور کرے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے اجتناب اور دنیا پر فریفتہ ہونے سے بچے رہے۔ ان کے لیے ان کے رب کے ہاں باغ و بہار ہیں جن میں ہر دم نہریں اور آبشاریں جاری ہیں وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان کو وہاں نہ مشقت ہوگی اور نہ کسی قسم کی پریشانی ‘ بلکہ وہ تو ہمیشہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہوں گے۔ ایسے نیکو کار لوگوں کا اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑا ہی انعام و اکرام ہوگا۔
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی گرامی ﷺ سے بیان کرتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا جنت میں اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ تم تندرست ہی رہو گے کبھی بیمار نہ ہوگے، تم ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی فوت نہ ہو گے ‘ تم ہمیشہ جوان رہو گے کبھی تمہیں بڑھاپا نہیں آئے گا اور تم ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے ان سے تمہیں محروم نہیں کیا جائے گا۔ یہ اللہ کا فرمان ہے کہ جنتیوں کو آواز دے کر بتایا جائے گا کہ یہ جنت ہے جس کا تمہیں وارث بنایا گیا ہے کیونکہ تم نیک اعمال کرتے تھے۔ “ [ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا وأھلھا ]
مسائل
1۔ رب سے ڈرنے والوں کے لیے ہمیشہ کی جنت ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہوں گے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کی مہمان نوازی :
1۔ مومن جنت الفردوس میں مہمان ہوں گے۔ (الکہف : 107)
2۔ مومنوں کی جنت میں مہمان نوازی ہوگی۔ (السجدۃ : 19)
3۔ مہمان نوازی رب رحیم کی طرف سے ہوگی۔ (حمٓ السجدۃ : 32)
Ayah 3:199فہم القرآن
ربط کلام : مسلمانوں کے بعد اہل کتاب میں سے ایمان والوں کا خصوصی ذکر اور اجر۔
اس سورت میں یہودیوں کے کردار کا ضمناً اور عیسائیوں کے کردار اور عقائد کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے۔ جس میں ان کے فکر و عمل کی کمزوریوں کی نشان دہی کی گئی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی وضاحت فرمائی کہ اہل کتاب تمام کے تمام ایک جیسے نہیں ہیں۔ ان میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے ‘ شب زندہ دار، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے والے بھی ہیں۔ اس فرمان سے پہلے مومنوں کی دعاؤں کی قبولیت اور بلا امتیاز ان کو اجر وثواب کی خوشخبری دی گئی ہے۔ اب اختتام پر ضروری سمجھا گیا ہے کہ اہل کتاب کے ان لوگوں کو اطمینان دلایا جائے جو، تورات اور انجیل کے بعد قرآن مجید پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو دنیا کی حقیر اور قلیل قیمت کے بدلے فروخت کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔ انہوں نے دنیا میں معمولی صلہ پانے کی بجائے آخرت کے اجر وثواب کی خاطر ایسا کیا ہے۔ جس بنا پر انہیں یہ تسلی دی گئی ہے کہ ان کا اجر ان کے رب کے ہاں محفوظ ہے۔ جوا نہیں اللہ تعالیٰ بہت جلد عطا کرنے والا ہے۔
” حضرت عبداللہ بن قیس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین آدمی ہیں جنہیں دوہرا اجر ملے گا۔ 1 اہل کتاب میں سے جو اپنے نبی اور محمد کریم ﷺ پر ایمان لایا۔ 2 غلام جو اللہ کا حق ادا کرنے کے ساتھ اپنے مالک کا حق بھی ادا کرتا ہے۔ 3 ایسا آدمی جس کے پاس لونڈی ہو اس نے اس کی اچھی تعلیم و تربیت کی پھر اسے آزاد کرکے اس کے ساتھ نکاح کرلیا۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب العلم، باب تعلیم الرجل أمتہ وأھلہ ]
مسائل
1۔ اہل کتاب میں سے ایمان لانے والوں کے لیے اللہ کے ہاں بڑا اجر ہوگا۔ 2۔ اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔