3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsفہم القرآن

Ayah 3:105

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 3:105 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اپنے پاس دلائل آجانے کے بعد بھی تفرقہ ڈالا اور باہم اختلاف کیا ان لوگوں کے لیے بہت بڑا عذاب ہے

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے احکام کو مضبوطی سے تھامنا اور متحد ہو کر لوگوں تک پہنچانا۔ اختلاف کی صورت میں تبلیغ غیر مؤثر ہوجاتی ہے اس لیے باہمی اختلاف سے منع فرمایا ہے۔ اتحاد و اتفاق اور فریضۂ تبلیغ کی ادائیگی کے ساتھ ایک دفعہ پھر امت کو تاکید کی جارہی ہے کہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو آپس میں گروہ بندی کا شکار ہوئے۔ ٹھوس اور واضح دلائل آجانے کے باوجود انہوں نے اپنے دین میں تفرقہ بازی اور اختلافات پیدا کیے۔ اس فرمان میں عام لوگوں اور خاص کر علماء اور مبلّغین کو مخاطب کیا گیا ہے کیونکہ عام مسلمان امت میں محدود انتشار کا باعث ہوتے ہیں لیکن راہنما اور علماء انتشا رکا زیادہ سبب ہوا کرتے ہیں۔ ایسے رہنما، علماء اور عوام کو وارننگ دی جارہی ہے کہ وہ وقت ذہن میں لاؤ کہ جب تمہارے چہروں کی ترو تازگی اور حسن و جمال کو جہنم کی سیاہی اور دنیا کی شہرت کو آخرت کی رسوائی سے بدلتے ہوئے نرم و نازک اجسام کو آگ کے انگاروں میں جھونک دیا جائے گا اور حکم ہوگا کہ اب ہمیشہ کے لیے جہنم کا عذاب چکھتے رہو۔ اے دنیا کی جاہ وعزت ‘ شہرت اور دولت کی خاطر دین اور امت میں انتشار پیدا کر کے گل چھڑے اڑانے والو ‘ اب تمہیں جہنم میں رہنا اور عذاب عظیم برداشت کرنا ہوگا۔ (عَنْ صُہَیْبٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ اِذَا دَخَلَ اَہْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ یَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی تُرِیْدُوْنَ شَیْءًا اَزِیْدُکُمْ فَیَقُوْلُوْنَ اَلَمْ تُبَیِّضْ وُجُوْہَنَا اَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّۃَ وَ تُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ قَالَ فَیَکْشِفُ الْحِجَابَ فَمَا اُعْطُوْا شَیْءًا اَحَبَّ اِلَیْہِمْ مِنَ النَّظَرِ اِلٰی رَبِّہِمْ عَزَّوَجَلَّ ثُمَّ تَلَا ھٰذِہِ الْآیَۃَ (لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ) [ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب إثبات رؤیۃ المؤمنین فی الآخرۃ ربھم سبحانہ ] ” حضرت صہیب ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی گرامی ﷺ نے فرمایا جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تب اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تم مزید کسی نعمت کو چاہتے ہو کہ میں تمہیں عطا کروں ؟ وہ عرض کریں گے اے اللہ ! کیا آپ نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں فرمایا ؟ آپ نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا ؟ اور آپ نے ہمیں دوزخ سے نہیں بچایا ؟ رسول معظم ﷺ نے فرمایا تب اللہ تعالیٰ اپنے چہرہ نور سے پردہ اٹھائیں گے۔ انہیں ایسی کوئی نعمت عطا نہیں ہوئی ہوگی جو پروردگار کے دیدار سے انہیں زیادہ محبوب ہو۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ” جن لوگوں نے اچھے عمل کیے ان کے لیے جنت ہے اور مزید بھی۔ “ مسائل 1۔ آپس میں اختلاف کرنا عذاب الیم کو دعوت دینا ہے۔ 2۔ قیامت کے دن ایمانداروں کے چہرے روشن اور کفار کے منہ کالے ہوں گے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا۔ 4۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے۔ 5۔ اللہ ہی کے پاس ہر کام کا انجام اور اختیار ہے۔ تفسیر بالقرآن جنتیوں اور جہنمیوں کے چہروں میں فرق : 1۔ کفار کے چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔ (الحج : 73) 2۔ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے۔ (القیامۃ : 22) 3۔ کفار کے چہرے مرجھائے اور اڑے ہوئے ہوں گے۔ (القیامۃ : 24) 4۔ مومنوں کے چہرے خوش وخرم ہوں گے۔ (العبس : 38) 5۔ کفار کے چہروں پر گردوغبار ہوگا۔ (العبس : 40) 6۔ مجرموں کے چہرے ڈرے اور اوندھے ہوں گے۔ (الغاشیۃ : 2) 7۔ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے۔ (الغاشیۃ : 8)
Ayahs 3:106–108

یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌ١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْهُهُمْ١۫ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 3:106 in the Quran reader

جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاہ، کالے چہروں والوں سے کہا جائے گا کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ؟ اب عذاب چکھو کیونکہ تم کفر کرتے تھے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ ابْیَضَّتْ وُجُوْهُهُمْ فَفِیْ رَحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 3:107 in the Quran reader

اور جن کے چہرے سفید ہوں گے وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:108 in the Quran reader

اے نبی ہم آپ پر سچی آیات تلاوت کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ لوگوں پر ظلم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے مجرموں کو سزا سنائی گئی تھی یہاں وضاحت فرمائی ہے کہ مجرموں کے چہرے کالے ہونا اور ان کا جہنم میں داخل ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے زیادتی نہیں بلکہ یہ تو ان کے اعمال کا نتیجہ اور بدلہ ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے ضابطے اور فیصلے ہیں جو ذات کبریا خود آپ ﷺ کے سامنے پڑھ رہی ہے۔ اس کے منزل من اللہ ہونے میں ذرّہ برابر بھی شک نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق اور سچ ہیں۔ جو فرد اور قوم ان پر عمل پیرا ہوگی وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوتے ہوئے نہ صرف دنیا میں ساحل مراد تک پہنچیں گی بلکہ آخرت میں ایک لامتناہی روشن مستقبل ان کا منتظر ہوگا اور جو لوگ ان کا انکار کریں گے ان کے لیے دنیا میں بربادی ہے اور آخرت میں روسیاہی ہوگی۔ برے انجام کے ساتھ دوچار ہونا ان کا یقینی ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر کوئی زیادتی نہ ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ نہ صرف لوگوں کو ظلم سے روکتے ہیں بلکہ اس نے اپنی ذات اقدس پر ظلم و زیادتی حرام قرار دی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی پر زیادتی کرنے کی اس لیے بھی ضرورت نہیں کیونکہ زمین و آسمان کا ذرّہ ذرّہ اس کا تابع فرمان اور زیر اقتدار ہے زیادتی تو وہ کرے جس کے اختیارات سے بڑھ کر کوئی نافرمانی کرنے والا ہو۔ انسان نافرمانی کرتا ہے تو اس مہلت کے مطابق کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھی ہے۔ آخرکار ہر کوئی اپنے اعمال کے ساتھ اس کے حضور پیش ہونے والا ہے اور آخرت میں ہر ایک کو اس کے کردار کا بدلہ چکا دیا جائے گا۔ (یَاعِبَادِيْ إِنِّيْ حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلٰی نَفْسِيْ وَجَعَلْتُہٗ بَیْنَکُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوْا) [ رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ وا آداب، باب تحریم الظلم ] ” اے میرے بندو ! یقینًا میں نے اپنے آپ پر ظلم کرنا حرام کردیا ہے اور میں اسے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیتا ہوں پس تم آپس میں ظلم نہ کیا کرو۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ 2۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ ہی کے لیے ہے۔ 3۔ تمام معاملات اللہ کی طرف ہی لوٹائے جاتے ہیں۔ 4۔ ہر کام کا انجام اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
Ayahs 3:109–110

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 3:109 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اللہ ہی کی طرف تمام کام لوٹائے جائیں گے

كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اٰمَنَ اَهْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَكْثَرُهُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 3:110 in the Quran reader

تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے اور بری باتوں سے منع کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے تو ان کے لیے بہتر تھا۔ ان میں ایمان والے بھی ہیں لیکن ان کے اکثر فاسق ہیں

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ جس میں امت محمدیہ کا مقام اور کام بتلایا گیا ہے۔ امام رازی ؓ نے ایک نظریہ پر اکٹھا ہونے والے لوگوں کو امت قرار دیا ہے یہاں مسلمانوں کو صرف ایک امت نہیں بلکہ امت خیر کے معزز ترین لقب سے ملقب فرمایا گیا ہے اور یہ اعزاز صرف اس امت کو حاصل ہوا ہے۔ اس اعتبار سے امت محمدیہ پہلی تمام امتوں پر برتر اور فضیلت کی حامل قرار پائی ہے۔ جس کی تین بنیادی وجوہات ہیں۔ (1) اللہ تعالیٰ پر کامل اور بلاشرکت غیرے ایمان لانا۔ (2) نیکی پر عمل پیرا ہو کر دوسروں کو اس کی دعوت دینا (3) برائی سے بچنا اور لوگوں کو اس سے منع کرنا، یہی امت کا اجتماعی فریضہ ہے۔ یہ فرض اتنا مشکل ‘ عالمگیر اور ہمہ وقت کرنے کا ہے جو ایک جماعت کے کرنے سے بھی کما حقہ پورا نہیں ہوتا جب تک کہ امت کا ایک ایک فرد اپنے مقام پر اس کے لیے کوشاں نہ ہوجائے۔ رسول محترم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے : (مَنْ رَّأٰی مِنْکُمْ مُّنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ وَذٰلِکَ أَضْعَفُ الْاِیْمَانِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب بیان کون النھی عن المنکر من الإیمان ] ” تم میں جو آدمی کوئی برائی دیکھے اسے اپنے ہاتھ سے روکے، طاقت نہ ہو تو زبان کے ساتھ منع کرے اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل میں ہی اسے برا محسوس کرے لیکن یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ “ یہ فرض امت کے ہر فرد پر اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس حکم میں امر اور نہی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور امر ونہی کے الفاظ قوت و اقتدار کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کیونکہ قوت و اقتدار کے بغیر کسی حکم کا نافذ ہونا ممکن نہیں لہٰذا اس کے لیے اجتماعی قوت کی ضرورت ہے۔ یہ کام محض عوامی تحریک یا اجتماعی قوت کے طور پر ہی نہیں بلکہ اس کے پیچھے للہیت اور ایمان کی روشنی ہونی چاہیے تب جا کر اقامت دین کا تقاضا پورا ہوسکتا ہے۔ جہاں تک اہل کتاب کا تعلق ہے اگر وہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے لازم ہے کہ وہ اللہ اور اس کے آخری رسول پر ایمان لاتے ہوئے ابلاغ دین کے کام میں لگ جائیں اگر وہ ایسا کریں تو نہ صرف وہ امّتِ خیر میں شامل ہوں گے۔ بلکہ دنیا اور آخرت کی بھلائی کے حق دار ٹھہریں گے۔ ان میں کچھ لوگ تو ایمان لاتے ہیں جبکہ اکثریت نے نافرمانی کا رویّہ اختیار کیا ہوا ہے۔ ایسے لوگ اپنی ہرزہ سرائی اور شرارتوں کے ذریعے مسلمانوں کو عارضی اور معمولی نقصان تو پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کو کامرانی کے راستے سے ہٹانا ان کے لیے ناممکن ہوچکا ہے کیونکہ مسلمان اتحاد و تقو ٰی اور ایمان باللہ کی بنیاد پر غزوۂ خندق کے بعد اس لائق ہوچکے تھے کہ اب انہیں قابل ذکر نقصان پہنچانا ان کے بس کا روگ نہیں رہا تھا۔ اسلام کے دشمن رزم گاہ حق و باطل میں اترنے کی کوشش کریں گے تو مقابلے کی تاب نہ لا کر پیٹھ پھیر کر بھاگنے پر مجبور ہوں گے۔ ان کی مدد کے لیے کوئی تیار نہیں ہوگا۔ بعض مفسرین نے اس آیت مبارکہ کو قرآن کی پیش گوئیوں میں شمار کیا ہے جس کی کامل ابتدا غزوۂ تبوک سے ہوئی اور پھر صدیوں تک یہود و نصارٰی مسلمانوں کی تاب نہ لاسکے۔ مسائل 1۔ امت محمدیہ تمام امتوں سے بہتر ہے۔ 2۔ امت محمدیہ نیکی کا حکم دینے، برائی سے رکنے اور روکنے والی ہے۔ 3۔ اہل کتاب ایمان لائیں تو ان کے لیے بہتر ہوگا۔ 4۔ اہل کتاب میں ایمان لانے والے تھوڑے ‘ کفر اور فسِق و فجور اختیار کرنے والے زیادہ ہیں۔ 5۔ سچے مسلمان متحد ہو کر اہل کتاب کے خلاف لڑیں تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ تفسیر بالقرآن مشرکین اور اہل کتاب کی پسپائیاں : 1۔ بدر میں مشرکین پسپا ہوئے۔ (آل عمران : 123 تا 127) 2۔ 8 ہجری کو اہل مکہ مغلوب ہوئے۔ (الفتح : 1) 2۔ غزوۂ حنین میں مشرک شکست خوردہ ہوئے۔ (التوبۃ : 26) 3۔ جنگ خندق میں مشرکین اور اہل کتاب کو شکست ہوئی۔ (الاحزاب : 25 تا 27)
Ayahs 3:111–112

لَنْ یَّضُرُّوْكُمْ اِلَّاۤ اَذًى١ؕ وَ اِنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ یُوَلُّوْكُمُ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 3:111 in the Quran reader

یہ تمہیں ستانے کے سوا اور کچھ ضرر نہیں پہنچا سکتے اور اگر وہ تم سے لڑیں تو تمہیں پیٹھ دے کر بھاگ جائیں گے۔ پھر وہ مدد نہیں کیے جائیں گے

ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْۤا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الْمَسْكَنَةُ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَۗ Open ayah 3:112 in the Quran reader

ان پر ہر جگہ ذلت مسلط کردی گئی ہے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی یا لوگوں کی پناہ میں ہوں۔ یہ غضب الٰہی کے ساتھ پھریں گے اور ان پر ذلت و مسکنت ڈال دی گئی یہ اس لیے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات سے کفر کرتے اور بلا جواز انبیاء کو قتل کرتے تھے۔ یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا بدلہ ہے

فہم القرآن ربط کلام : مسلمانوں کی راہ میں رکاوٹ بننے والے اہل کتاب خاص کر یہودیوں کے بارے میں دو ٹوک فیصلہ۔ خندق اور فتح مکہ کے بعد مسلمان اس قابل ہوگئے کہ سرزمین حجاز میں مشرک ان کے سامنے سر نگوں ہوئے ‘ یہودیوں کو ہمیشہ کے لیے جزیرہ نمائے عرب سے نکال دیا گیا۔ نصارٰی کی طاقت تبوک کے میدان میں ہزیمت کا شکار ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد یہود و نصارٰی ذمّی بن کر رہنے اور جزیہ دے کر اسلام کی قوت کے مقابلہ میں رسوا ہوئے۔ یہودیوں کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کردی گئی کہ ان پر ہمیشہ ذّلت اور مسکنت مسلط کردی گئی ہے۔ یہ جہاں کہیں بھی ہوں گے دو صورتوں میں سے ایک کو اختیار کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ یا تو اللہ تعالیٰ پر ایمان لا کر اس کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام کر اس امت کا حصہ بن کر معزز ہوجائیں یا پھر دوسروں کے سیاسی گداگر بن کر زندگی بسر کریں۔ ایسی صورت میں ان پر ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا غضب رہے گا اور مال ومتاع ہونے کے باوجود ان کے دلوں سے حرص و ہوس اور غربت نہیں نکل پائے گی۔ ان کا جرم یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا ہمیشہ انکار اور انبیائے کرام کو ناحق قتل کرنے والے ہیں۔ ان جرائم میں اس لیے ملوث ہوئے کہ یہ لوگ پرلے درجے کے نافرمان اور حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اور رسول معظم ﷺ کو یہ لوگ قتل نہیں کرسکے اور آپ کے بعد تو سلسلۂ نبوت ختم ہوا پھر ان یہودیوں اور ان کے بعد آنے والوں پر یہ سزا کیوں مقرر کی گئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک عیسیٰ (علیہ السلام) اور رسول اکرم ﷺ کو یہ لوگ قتل نہیں کرسکے اور نہ ہی اب کسی نبی نے آنا ہے اس کے باوجود ان پر اس سزا کا مسلط ہونا اس لیے ہے کہ یہ اپنے بڑوں کی صفائی ہی پیش نہیں کرتے بلکہ ان کے گھناؤنے جرائم کی تائید کرتے ہیں اور آج بھی مسلمانوں اور مصلحین کو قتل کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان پر اللہ کی پھٹکار اور سیاسی طور پر ذلیل اور معاشی اعتبار سے ارب پتی ہونے کے باوجود یہودی کی نگاہ سیر ہوتی ہے نہ پیٹ بھرتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہودی دنیا کی مالدار ترین قوم ہونے کے باوجود کنجوس اور دل کے بھوکے ہوتے ہیں اور ہمیشہ دنیا میں در بدر پھرتے رہے ہیں۔ 1947 ء میں تین عیسائی حکومتوں برطانیہ ‘ فرانس اور امریکہ کی مدد سے یہودیوں نے مختصر سے خطہ پر اپنی ایک الگ حکومت قائم کی جسے کئی ممالک نے تاحال تسلیم ہی نہیں کیا اور عیسائیوں نے مسلمانوں سے انتقام کے طور پر ان کے ممالک کے درمیان یہ اسرائیلی حکومت قائم کرکے مسلمانوں کے جگر میں خنجر گھونپا ہے اور آج بھی اسرائیل کو امریکہ کی مکمل حمایت حاصل ہے اور اسی کے دم قدم سے یہ اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہے۔ اگر امریکہ ‘ برطانیہ کا سایہ اس کے سر سے اٹھ جائے تو اس کا وجود فوراً ختم ہوجائے۔ اسرائیلغیر قانونی ریاست : اسرائیل فلسطین میں اپنی ریاست کے قیام کی بنیاد جن تین بڑے ماخذوں پر تعمیر کرتا ہے : (1) انجیل میں عہد نامہ قدیم کی میراث۔ (2) 1917 ء میں حکومت برطانیہ کا اعلان بالفور (3) 1947 ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سفارش جس میں فلسطین کو عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ حالانکہ تاریخی لحاظ سے یہودی فلسطین کے قدیم ترین باشندے نہیں ہیں اور نہ ہی انہوں نے وہاں اتنا عرصہ حکومت کی جتنی دوسری اقوام نے کی ہے۔ جدیدماہرین آثار قدیمہ اب اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ یہاں کے قدیم ترین باشندے یعنی 3000 سال قبل مسیح سے لے کر تقریبًا 1700 قبل مسیح تک کنعانی اور مصری تھے۔ جن کا ذکر قدیم کتب میں ملتا ہے۔ ان کے یکے بعد دیگرے دوسری اقوام مثلًا ہکسو، حطی اور فلسطینی آئے۔ یہودی حکومت کا عہد 875 قبل مسیح سے شروع ہو کر 1020 قبل مسیح تک رہا اس کے بعد اسرائیلیوں کو اسیرین، اہل بابل، مصریوں اور شامیوں نے روند ڈالا۔ پھر 83 قبل مسیح میں سلطنت رومانے یروشلم فتح کرکے یہودی معبدگھروں کو مسمار کرڈالا اور یہودیوں کو دوسرے علاقوں کی طرف بھگادیا۔ مجموعی طور پر فلسطین کی پانچ ہزارسالہ دستاویزی تاریخ میں قدیم یہودیوں نے اسے یا اس کے ایک بڑے حصہ کو محض چھ سو سال تک کنڑول کیا یعنی کنعانیوں، مصریوں، مسلمانوں اور رومیوں سے بہت کم امریکی ” کنگ کرین کمیشن “ کے مطابق اسرائیل کا 1919 ئ کے دو ہزار سال پیشتر قبضہ کو بنیاد بنا کر دعو ٰی ملکیت کرنا سنجیدگی سے نہیں لیا جاسکتا۔ 14 مئی 1947 ء کو تل ابیب میں جو میٹنگ ہوئی جس میں جو ” قدرتی اور تاریخی حق “ کے طور پر اعلان آزادی کیا گیا تھا اس میں صرف یہودیوں کے 37 افراد شریک ہوئے تھے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کے اس اقدام کی بین الأقوامی عالمی قانون میں کوئی مستند حیثیت نہیں بنتی کیونکہ وہ اس وقت کی آبادی کی اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتے تھے۔ در حقیقت ان میں سے صرف ایک فلسطین کا پیدائشی شہری تھا بقیہ 35 یو رپی ممالک سے تھے اور ایک یمن کا باشندہ تھا۔ بقول ایک فلسطینی دانشور عیسیٰ نخلح کے ” یہودی اقلیت کو ایک ایسے علاقے میں اپنی آزاد ریاست کے قیام کا اعلان کرنے کا کوئی حق نہیں تھا جہاں فلسطینی عرب قوم آباد تھی۔ “ امریکہ کی مالی امداد کا سہارا : ہر سال اسرائیل کو دی جانے والی امریکن امداد کسی بھی دوسرے ملک کو دی جانے والی امداد سے زیادہ ہوتی ہے۔ صرف 1987 ء سے لے کر 2003 ء تک براہ راست دی جانے والی معاشی اور فوجی امداد تین ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ علاوہ ازیں جو دوسرے مالی معاملات صرف اور صرف اسرائیل کے لیے خصوصی طور پر طے پاتے ہیں ان کو شامل کرکے یہ امداد تقریبًا پانچ ارب ڈالرسالا نہ تک جاپہنچتی ہے۔ اس میں اسرائیل کو دیے جانے والے قرضہ جات شامل نہیں ہیں۔ امریکی قانون کے مطابق کسی بھی ملک کو امداد چاہے وہ اقتصادی ہو یا فوجی ! یکسر ختم کردینی چاہیے اگر وہ ملک جوہری ہتھیار بنالے یا پھر وہ ” عالمی طور پر تسلیم شدہ انسانی حقوق کی پامالی کا مرتکب ہورہا ہو “ امریکی حکومت کو سالہا سال سے اسرائیل کے جوہری اسلحہ خانے کے انبار کا اور اس کے حقوق انسانی کی لگاتار پامالی کا علم ہے لیکن کسی بھی صدر یا کانگرس نے قانون کے مطابق امداد کو ختم کرنے کے اقدامات تو کجا اس کو کم کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ [ بحوالہ اسرائیل کی دیدہ و دانستہ فریب کاریاں/پال فنڈ ] مسائل 1۔ یہودی اللہ تعالیٰ کی پناہ اور لوگوں کے سہارے کے بغیر ہر جگہ ذلیل و خوار رہیں گے۔ 2۔ یہودی انبیاء کے قاتل، اللہ کی آیات کے منکر اور حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ تفسیر بالقرآن یہود ونصارٰی کی ذلّت کے اسباب : 1۔ اللہ تعالیٰ کے گستاخ ہیں۔ (آل عمران : 181) 2۔ انبیاء کے گستاخ ہیں۔ (آل عمران : 21) 3۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکاری ہیں۔ (البقرۃ : 61) 4۔ شرک کی وجہ سے ذلیل ورسوا ہوئے۔ (المائدۃ : 18) 5۔ اللہ تعالیٰ کی حکم عدولی کی وجہ سے رسوا ہوئے۔ (البقرۃ : 83 تا 85) 6۔ کتاب اللہ میں تحریف کرنے کی وجہ سے خوار ہوئے۔ (النساء : 46) 7۔ سود اور لوگوں کا مال ناحق کھانے کی بنا پر تباہ ہوئے۔ (النساء : 161)
Ayah 3:113

لَیْسُوْا سَوَآءً١ؕ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَآئِمَةٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّیْلِ وَ هُمْ یَسْجُدُوْنَ Open ayah 3:113 in the Quran reader

اہل کتاب سب برابر نہیں ہیں ان میں ایک جماعت حق پر قائم رہنے والی ہے جو راتوں کے وقت کلام اللہ کی تلاوت اور سجدے کرتے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب سارے ایک جیسے نہیں اور نہ ہی تمام پر ذلت اور پھٹکار ہوگی۔ ان میں وہ مستثنیٰ ہیں جو ایمان لائے اور نیکی کا حکم دینے والے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں۔ ان سے مراد وہ بھی اہل کتاب ہوسکتے ہیں جو نبی اکرم سے پہلے تورات، انجیل پر عمل کرتے تھے اور آپ کی بعثت سے پہلے فوت ہوگئے۔ یہاں ان لوگوں کو اللہ کی پھٹکار اور ذلت و رسوائی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے جو اہل کتاب میں سے رسول معظم ﷺ پر ایمان لائے اور امّتِ خیر کے وصف سے متّصف ہوئے۔ انہیں مسلمانوں میں شامل کرتے ہوئے امت کے لفظ سے یاد فرمایا ہے کہ یہ لوگ رات کی تاریکیوں میں اٹھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور اس کی آیات کی تلاوت کرتے اور اس کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان رکھنے کے ساتھ ان کے دل فکر آخرت سے لرزاں رہتے ہیں ‘ نیکی کا حکم دینے ‘ برائی سے منع کرنے ‘ ہر کار خیر میں آگے بڑھنے والے اور صالحین میں شامل ہیں اور جو کوئی بھی نیکی کا طلب گار اور ان اوصاف کا حامل ہوگا وہ امیر ہو یا غریب ‘ چھوٹا ہو یا بڑا ‘ اس کے صالح اعمال کی ہرگز ناقدری نہیں ہونے پائے گی۔ نجاشی شاہ حبشہ جس کا نام اصحمہ جو اہل کتاب میں سے تھا۔ اس نے مسلمانوں کی اس وقت بھرپور حمایت کی جب مسلمان ہجرت کر کے حبشہ پہنچے اور قریش مکہ کا ایک وفد انہیں واپس لانے کے لیے شاہ حبشہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ شاہ نے نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کو واپس نہیں کیا اور انہیں پناہ دی بلکہ برملا اعتراف کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور مریم [ کے معاملہ میں مسلمانوں کے عقائد بالکل درست اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیمات کے عین مطابق ہیں۔ پھر مسلمانوں کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کیا۔ اور مسلمان ہوگیا جب وہ فوت ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو اس کی وفات پر مطلع کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنے بھائی کی نماز جنازہ پڑھو۔ چناچہ اس کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی گئی۔ [ رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب الصفوف علی الجنازۃ۔۔] عبداللہ بن سلام یہود کے ممتاز علماء میں سے تھے لیکن مفاد پرست اور جاہ طلب ہونے کی بجائے حق پرست تھے۔ جب آپ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے اور عبداللہ بن سلام نے آپ میں وہ نشانیاں دیکھیں جو تورات میں نبی آخر الزماں ﷺ کی بتلائی گئی تھیں تو چند سوالات پوچھنے کے بعد اسلام لے آئے۔ اس نے رسول محترم ﷺ کو یہود کی سرشت سے آگاہ کیا ‘ چناچہ یہود ان کے دشمن بن گئے۔ بعد ازاں زنا کے ایک مقدمہ میں یہود نے تورات سے رجم کی آیت کو چھپانا چاہا تو عبداللہ بن سلام ؓ نے ہی اس آیت کی نشاندہی کر کے یہود کو نادم اور رسوا کیا تھا۔ [ رواہ ابوداوٗد : کتاب الحدود، باب فی رجم الیہودیین ] عبداللہ بن سلام ؓ کو ایک خواب آیا تھا جس کی تعبیر رسول اللہ ﷺ نے یہ بتلائی کہ عبداللہ بن سلام آخری دم تک اسلام پر ثابت قدم رہیں گے۔ [ رواہ البخاری : کتاب المناقب ‘ باب مناقب عبداللہ بن سلام ] مسائل 1۔ اہل کتاب سب ایک جیسے نہیں۔ 2۔ اہل کتاب میں سے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہوئے اللہ کی عبادت کرنے والے ہیں۔ 3۔ اللہ و آخرت پر ایمان ‘ امر بالمعروف ‘ نہی عن المنکر اور نیکیوں میں جلدی کرنے والے صالح ہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کسی کی نیکی کی ناقدری نہیں کرتا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کہ متقی کون ہے۔ تفسیر بالقرآن اہل کتاب میں اچھے لوگوں کے اوصاف : 1۔ اللہ تعالیٰ ‘ آخرت اور اللہ کی نازل کردہ کتب اور قرآن مجید پر ایمان لاتے ہیں۔ (آل عمران : 199) 2۔ اللہ کی آیات کے بدلے دنیا کا مال نہیں بٹورتے۔ (آل عمران : 199) 3۔ رات کو اٹھ اٹھ کر کتاب اللہ یعنی قران مجید کی تلاوت کرتے ہیں۔ (آل عمران : 113) 4۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔ (آل عمران : 114) 5۔ امانتوں کا خیال رکھتے ہیں۔ (آل عمران : 75)
Ayahs 3:114–116

یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:114 in the Quran reader

یہ اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔ بھلائیوں کا حکم کرتے اور برائیوں سے روکتے اور بھلائی کے کاموں میں جلدی کرتے ہیں اور یہ نیک لوگوں میں سے ہیں

وَ مَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّكْفَرُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:115 in the Quran reader

یہ جو کچھ بھی نیکی کریں گے ان کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور اللہ پرہیزگاروں کو جانتا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 3:116 in the Quran reader

یقیناً کافروں کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں ہرگز کچھ کام نہ آئیں گی اور یہ آگ والے ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے

فہم القرآن ربط کلام : اہل ایمان کے بعد اہل کفر کا انجام ذکر ہوتا ہے۔ اسلام کے مخالف اپنی انا کی خاطر مسلمانوں کے خلاف مال بھی خرچ کرتے ہیں۔ انہیں اس خرچ کرنے کی حقیقت سے آگاہ کیا گیا ہے کہ بالآخر اس کا انجام کیا ہوگا۔ صاحب ایمان اور صالح کردار لوگوں کی ہرگز ناقدری نہیں ہوگی۔ اس کے برعکس جن لوگوں نے کفر کا رویّہ اختیار کیا ان کے مال اور اولادربِّ ذوالجلال کے ہاں انہیں کچھ فائدہ نہیں دے سکیں گے۔ کفار اور اہل کتاب رسول معظم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو غریبی کے طعنے دیتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ اگر آپ لوگ سچے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ضرور تمہیں دنیا کے اسباب سے مالا مال کرتا۔ اگر ہم اس کی بارگاہ میں غلط ہوتے تو وہ ہمیں مال اور اولاد سے کیوں نوازتا ؟ اس خیال کی تردید اور اہل کفر کے کان کھولنے کے لیے بتلایا جارہا ہے کہ ایسا ہرگز نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک معیار دنیا کی بجائے آدمی کا عقیدہ اور صالح کردار ہے۔ جو لوگ اس سے تہی دامن ہوئے انہیں جہنم میں جھونکا جائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا : ( لَایَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِی الْبِلَادِ مَتَاعٌ قَلِیْلٌ ثُمَّ مَ اْوٰہُمْ جَہَنَّمُ وَ بِءْسَ الْمِہَادُ ) [ آل عمران : 196، 197] ” آپ کو کفار کا شہروں اور بستیوں میں چلنا پھرنا دھوکے میں نہ ڈالے یہ تھوڑا سا فائدہ ہے پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جو بدترین ٹھکانہ ہے۔ “ اس عقیدہ کے حامل لوگ دنیا میں فلاح و بہبود اور نیکی کے کاموں پر لاکھوں روپے خرچ کریں تو بھی انہیں کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ جس طرح لہلہاتے ہوئے باغ ‘ کھلے ہوئے پھول اور سرسبز و شاداب کھیتیاں باد صرصر سے خاکستر ہوجایا کرتی ہیں۔ عقیدۂ کفر و شرک کی وجہ سے ان کے اعمال بھی اسی طرح ضائع ہوجائیں گے۔ ان کے صدقات اور عبادات کا غارت ہونا ظلم کی بنا پر نہیں بلکہ ان کے اپنے عقیدے اور کردار کی وجہ سے ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ لوگ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ کفار کے اعمال کے بارے میں حدیث مبارکہ میں یوں آیا ہے : (عَنْ عَاءِشَۃ قَالَتْ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ابْنُ جُدْعَانَ کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ یَصِلُ الرَّحِمَ وَیُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ فَہَلْ ذَاکَ نَافِعُہٗ قَالَ لاَ یَنْفَعُہٗ إِنَّہُ لَمْ یَقُلْ یَوْمًا رَبِ اغْفِرْلِیْ خَطِیْءَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب الدلیل علی من مات علی الکفر لاینفعہ عمل ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں میں نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کہ ابن جدعان جاہلیت میں صلہ رحمی اور مساکین کو کھانا کھلایا کرتا تھا کیا اسے یہ چیزیں نفع دیں گی ؟ آپ نے فرمایا نہیں کیونکہ اس نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا کہ اے میرے رب ! قیامت کے دن میری خطاؤں کو معاف فرمادینا۔ (یعنی اس کا اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں تھا ) ۔ “ مسائل 1۔ کفار کے مال اور اولاد اللہ کے ہاں کچھ فائدہ نہیں دیں گے۔ 2۔ کفار جہنمی ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ 3۔ کفار کا سب کچھ ضائع ہوجائے گا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا لوگ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن کفار کو کوئی چیز فائدہ نہ دے گی : 1۔ کافر زمین کے برابر سونا دے کر بھی جہنم سے نجات نہیں پاسکتے۔ (آل عمران : 91) 2۔ قیامت کے دن ان کا کوئی سفارشی نہیں ہوگا۔ (الانعام : 51) 3۔ کافر بغیر حساب کے جہنم میں دھکیل دیے جائیں گے۔ (الکہف : 105) 4۔ کافروں کو ان کی جمعیت اور تکبر کام نہ آسکے گا۔ (الاعراف : 48) 5۔ کفار کے مال و اولاد ہرگز ان کے کام نہ آسکیں گے۔ (آل عمران : 10)
Ayahs 3:117–118

مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْهَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَاَهْلَكَتْهُ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 3:117 in the Quran reader

اس دنیا میں کفار جو خرچ کریں اس کی مثال ایک تند ہوا کی طرح ہے جس میں پالا تھا جو ظالموں کی کھیتی پر پڑا اور اسے تباہ کردیا اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا یَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا١ؕ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ١ۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ۖۚ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُهُمْ اَكْبَرُ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:118 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم اپنا دوست ایمان والوں کے سوا اور کسی کو نہ بناؤ وہ تمہاری خرابی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ وہ تو چاہتے ہیں کہ تم دکھ میں پڑے رہو۔ ان کی عداوت ان کی زبان سے ظاہر ہوچکی ہے اور جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے وہ اس سے کہیں بڑ کر ہے۔ ہم نے تمہارے لیے آیات بیان کردیں تاکہ تم سمجھ جاؤ

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مال خرچ کریں اور ہر قسم کی دشمنی روا رکھیں ان کے ساتھ قلبی دوستی سے منع کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کو کفار اور اہل کتاب کے بارے میں مسلسل بتلایا جا رہا ہے کہ ان کی خواہش اور کوشش ہے کہ وہ تمہیں دین حق سے پھیر دیں۔ اب دو ٹوک انداز میں حکم دیا گیا ہے کہ انہیں اپنا راز دان بنانے کی کوشش نہ کرنا یہ دین اسلام سے منحرف کرنے کے ساتھ چاہتے ہیں کہ تمہیں ہر قسم کا نقصان پہنچے یہ تمہاری ذات اور دین کے دشمن ہیں، کئی بار اپنی زبان سے حسد و بغض کا اظہار کرچکے ہیں۔ ان کے سینوں میں حسد اور دشمنی کی جو آگ بھڑک رہی ہے اس کا تم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ہم نے تمہارے سامنے حقیقت حال بیان کردی ہے تاکہ تم عقل و فکر سے کام لو۔ عربی زبان میں ” بِطَانَۃُ ٗ “ استر کو کہتے ہیں جو لباس کے اندر پہنا جاتا ہے جسے بنیان کہا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اہل کتاب کے ساتھ اس طرح خلط ملط ہونے کی کوشش نہ کرو کہ وہ تمہاری پالیسیوں اور کمزوریوں سے واقف ہو کر تمہیں نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوجائیں۔ اہل کتاب کی دشمنی کی تصویر کا ایک رخ : خیبر کی فتح کے بعد سلام بن مشکم کی بیوی زینب بنت حارث نے رسول اللہ ﷺ کے پاس بھنی ہوئی بکری کا ہدیہ بھیجا۔ اس نے پوچھ رکھا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کون سا گوشت زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اسے بتایا گیا کہ دستی کا گوشت پسند فرماتے ہیں۔ اس لیے اس نے دستی میں زہر ملایا اور بعد ازاں بقیہ حصہ بھی زہر آلود کردیا پھر اسے رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھا۔ آپ نے دستی اٹھا کر اس کا ایک ٹکڑا چبایا لیکن نگلنے کے بجائے تھوک دیا۔ فرمایا کہ یہ دستی مجھے بتلا رہی ہے کہ اس میں زہر ملایا گیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے زینب کو بلایا تو اس نے اقرار کرلیا۔ آپ نے پوچھا تم نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے کہا میں نے سوچا کہ اگر یہ بادشاہ ہے تو ہمیں اس سے نجات مل جائے گی۔ اگر نبی ہے تو اسے خبر دے دی جائے گی۔ اس پر آپ نے اسے معاف کردیا۔ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حضرت بشر بن براء بھی تھے۔ انہوں نے ایک لقمہ نگل لیا تھا جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوگئی۔ روایت میں اختلاف ہے کہ آپ ﷺ نے اس عورت کو معاف کردیا تھا یا قتل کردیا تھا تطبیق اس طرح دی گئی ہے کہ پہلے تو آپ نے معاف کردیا تھا۔ لیکن جب حضرت بشر ؓ کی موت واقع ہوگئی تو پھر قصاص کے طور پر قتل کردیا گیا۔ [ فتح الباری : 497/7] ایک دفعہ امیر المومنین حضرت عمر ؓ کے پاس کسی صحابی نے ایک اہل کتاب کی سفارش کی کہ یہ فن کتابت اور حساب کا ماہر ہے آپ اسے اپنا منشی اور کاتب رکھ لیں۔ امیر المومنین ؓ نے فرمایا کہ میں اسے مسلمانوں کا رازدان نہیں بنا سکتا۔ پھر اس آیت کا حوالہ دیا کہ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ اہل کتاب کو اتنا قریب نہ کرو۔[ ابن کثیر ] حضرت عمر ؓ کے فرمان کا مقصد یہ تھا کہ غیر مسلموں کو اس قسم کے اہم عہدے نہیں دینے چاہییں۔ اسی وجہ سے وہ فوج کے کمانڈروں کو حکم دیتے کہ کفار کے ساتھ جب تمہارے مذاکرات ہوں یا کہیں مشترکہ اجلاس ہوں تو ان کے ساتھ اس طرح خلط ملط نہ ہونا کہ وہ تمہاری فوجی اور اخلاقی کمزوریوں سے واقف ہوجائیں۔ (سیرت الفاروق) ملت اسلامیہ کو سب سے پہلے جو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اس کا بنیادی سبب مسلمانوں کی یہی کمزوری تھی۔ امیر المومنین حضرت عمر ؓ کو ابولؤلؤ ایرانی مجوسی نے صبح کی نماز کے وقت پے در پے خنجر مار کر زخمی کردیا۔ جب اس تکلیف میں حضرت عباس ؓ اور کچھ صحابہ حضرت عمر ؓ کے پاس اظہار افسوس کے لیے آئے تو انہوں نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں توجہ نہیں دلایا کرتا تھا کہ غیر مسلم غلام اپنے قریب نہ آنے دیا کرو۔ لیکن آپ لوگوں نے اسے درخور اعتنانہ سمجھا۔ اب اس کا نتیجہ دیکھ رہے ہو۔ [ البدایۃ والنہایۃ ] مسائل 1۔ کفار سے دلی دوستی کرنا منع ہے۔ 2۔ کفار مسلمانوں کو تکلیف دینے میں ذرہ بھر کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ 3۔ کفار مسلمانوں کو ہر وقت تکلیف میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن کفار اور یہود ونصارٰی کے ساتھ دوستی منع ہے : 1۔ اللہ کے دشمنوں کے ساتھ دوستی کی ممانعت۔ (الممتحنۃ : 1) 2۔ کفار کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ (الانعام : 150) 3۔ کفار کی اطاعت کا نقصان۔ (آل عمران : 149) 4۔ کافر مسلمانوں کے ہمدرد نہیں ہوسکتے۔ (آل عمران : 119۔ 120) 5۔ اہل کتاب مسلمانوں کو اپنے پیچھے لگائے بغیرخوش نہیں ہوسکتے۔ (البقرۃ : 120) 6۔ اہل کتاب چاہتے ہیں کہ مسلمان مشکلات میں پھنسے رہیں۔ (آل عمران : 118)
Ayah 3:119

هٰۤاَنْتُمْ اُولَآءِ تُحِبُّوْنَهُمْ وَ لَا یُحِبُّوْنَكُمْ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّهٖ١ۚ وَ اِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۗۚ وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:119 in the Quran reader

ہاں تم ان سے محبت رکھتے ہو اور وہ تم سے محبت نہیں رکھتے حالانکہ تم پوری کتاب کو مانتے ہو اور جب وہ تم سے ملتے ہیں تو اپنے ایمان دار ہونے کا دعو ٰی کرتے ہیں لیکن تنہائی میں غصے سے تمہارے خلاف انگلیاں چباتے ہیں۔ کہہ دو کہ تم اپنے غصہ میں ہی مرجاؤ اللہ تعالیٰ دلوں کے رازوں کو اچھی طرح جانتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : اسلام کے دشمنوں سے دوستی نہ رکھنے کی مزید وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ مسلمانوں کا ضمیر جھنجھوڑنے اور غیرت دلانے کے لیے اب نیا انداز اختیار کرتے ہوئے فرمایا کہ تم کیسے لوگ ہو کہ تم ان سے محبت کی پینگیں بڑھاتے ہو اور وہ تمہارے ساتھ کوئی الفت نہیں رکھتے۔ تم خلوص نیت کے ساتھ قرآن مجید پر ایمان لائے ہو ان کی حالت یہ ہے کہ تمہارے ساتھ ملتے ہیں تو زبانی جمع خرچ کے طور پر ایمان کا دعو ٰی کرتے ہیں اور جب تم سے الگ ہوتے ہیں تو غیظ و غضب کی وجہ سے اپنی انگلیاں کاٹتے ہیں۔ ان سے کہو کہ تم اپنے غصے کی آگ میں جل مرو۔ اللہ تعالیٰ سب کے دلوں کے حال کو جاننے والا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت علیم کے ذریعے مسلمانوں کو یہ باور کروایا ہے کہ کفار کے غیظ و غضب اور ان کے سینے کی حالت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ تو تمہارے اعمال اور دلوں کی کیفیّات کو بھی جانتا ہے کہ تم کس حد تک کفار کی دوستی سے اجتناب کرنے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو ماننے والے ہو۔ اگر تمہیں کوئی فائدہ اور اچھائی پہنچتی ہے تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر تمہیں نقصان اور مصیبت پہنچے تو اس پر شاداں وفرحاں ہوتے ہیں۔ ہاں اگر تم صبر کرو، اللہ تعالیٰ کا خوف اختیار کرو اور کفار سے بچتے رہو تو ان کی سازشیں اور شرارتیں تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی دسترس سے کسی کا عمل اور سازش بڑھ نہیں سکتی۔ یہاں مسلمانوں کو اہل کتاب کے چار اخلاقی جرائم بتلا کر ان کے ساتھ قلبی محبت سے روکا گیا ہے۔ تم ان سے محبت کرتے ہو جبکہ وہ تم سے محبت نہیں کرتے۔ تم اللہ تعالیٰ کی کتاب پر مکمل ایمان رکھتے ہو جبکہ وہ صرف تمہارے سامنے ایمان کے دعوے دار ہیں۔ تمہارا فائدہ انہیں برا لگتا ہے اور تمہارے نقصان پر وہ خوش ہوتے ہیں۔ وہ تمہارے ساتھ حسد و بغض رکھتے اور ہر وقت تمہارے نقصان کے درپے رہتے ہیں۔ یہود کا غیظ وغضب : بنوکلاب کے دو مقتولوں جنہیں عمرو بن امیہ ضمری نے غلطی سے قتل کردیا تھا۔ ان کی دیت میں اعانت پر بات چیت کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر، حضرت علی اور صحابہ کرام ؓ کی ایک جماعت کے ساتھ یہود کے پاس تشریف لے گئے انہوں نے کہا : ابوالقاسم ! آپ تشریف رکھیں ہم آپ کا مطالبہ پورا کیے دیتے ہیں۔ آپ صحابہ کے ہمراہ ان کے وعدے کی تکمیل کے انتظار میں ان کے گھروں میں سے ایک گھر کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ یہودیوں نے تنہائی میں یہ مشورہ کیا کیوں نا ہم نبی کو ختم کردیں۔ انہوں نے آپس میں کہا : کون اس چکی کے پاٹ کو لے کر اوپر جائے وہاں سے اسے آپ کے سر پر گراکر آپ کو کچل دے ؟ عمرو بن جحاش بدبخت یہودی نے اس کام کو اپنے ذمے لیا۔ ان میں سے سلام بن مشکم نے یہ کہہ کر روکا بھی کہ ایسا نہ کرو کیونکہ اللہ اسے اس بات کی خبر دے دے گا اور ہمارے آپس کے عہدوپیمان ختم ہوجائیں گے لیکن وہ نہ مانے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو جبریل (علیہ السلام) کے ذریعے یہودیوں کے ارادے سے آگاہ کردیا۔ آپ فورًا اٹھے اور تیزی کے ساتھ مدینے کی طرف چل پڑے۔ صحابہ کرام ؓ بھی آپ کے پیچھے پیچھے اٹھ آئے۔ پھر آپ نے صحابہ کرام کو سارا واقعہ بیان کیا۔ اس کے بعد محمد بن مسلمہ کو بنی نضیر کی طرف روانہ کیا۔[ ملخص ازالرحیق المختوم، غزوہ بنی نضیر ] مسائل 1۔ یہود ونصارٰی اور منافق علیحدگی میں مسلمانوں کے خلاف اپنے غیظ و غضب کے باعث اپنی انگلیاں چبانے لگتے ہیں۔ 2۔ اہل کتاب مسلمانوں کی ترقی پر ناخوش اور نقصان پر خوش ہوتے ہیں۔ 3۔ یہود و نصارٰی اور کفار کے ساتھ قلبی تعلق منقطع کرنے سے مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں ہوسکتا۔ 4۔ مسلمانوں کو لوگوں سے ڈرنے کے بجائے صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ 5۔ کفار کو راضی کرنے کے بجائے قرآن وسنت پر ثابت رہنا چاہیے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
Ayahs 3:120–121

اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١٘ وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۠ Open ayah 3:120 in the Quran reader

تمہیں بھلائی ملے تو یہ ناخوش ہوتے ہیں اور اگر تمہیں مصیبت پہنچے تو اس سے خوش ہوتے ہیں اور اگر تم صبر کرو اور اجتناب کرو تو ان کا مکر تمہیں کچھ نقصان نہیں دیگا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کا احاطہ کر رکھا ہے

وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 3:121 in the Quran reader

جب آپ صبح کے وقت اپنے گھر سے نکل کر مسلمانوں کی مورچہ بندی کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ سننے ‘ جاننے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : کفار کا مسلمانوں کو نقصان پہنچانا اور اس پر خوش ہونے کی پہلی مثال غزوۂ احد ہے۔ جس کا نقشہ پیش کیا جار رہا ہے۔ بدر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عظیم الشان فتح سے نوازا تھا۔ شکست سے بچنے کے لیے نظم و ضبط ‘ حوصلہ اور تقو ٰی نہایت ضروری ہے۔ مسلمانوں نے 2 ہجری 17 رمضان المبارک کے دن بدر کے میدان میں اہل مکہ کو شکست فاش دی تھی۔ جس کا بدلہ لینے کے لیے مکہ والوں نے شوال 3 ہجری میں مدینہ پر یلغار کردی۔ رسول اللہ ﷺ نے دفاعی منصوبہ بندی کے لیے مشاورت کا اہتمام فرمایا جس میں آپ کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ مدینہ سے باہر جانے کے بجائے شہر میں رہ کر دفاع کیا جائے۔ عبداللہ بن ابی اور منافقین نے اس بات کی بھرپور تائید کی۔ لیکن صحابہ ؓ کی اکثریت کی رائے یہ تھی کہ مدینہ سے باہر نکل کر جنگ کرنا چاہیے۔ چناچہ جمعہ ادا کرنے کے بعد آپ نے مدینہ سے باہر نکلنے کا فیصلہ فرمایا۔ آپ اپنے گھر تشریف لائے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ نے آپ کی دو زرہیں پہننے میں معاونت کی۔ جب آپ جرنیلی شان کے ساتھ گھر سے باہرنکلے تو صحابہ کرام ؓ نے اپنی رائے پر نظر ثانی کرتے ہوئے عرض کی کہ ہمیں آپ کی رائے کے مطابق مدینے میں ہی دفاع کرنا چاہیے لیکن ارشاد ہوا کہ نبی کی شان اور غیرت کے منافی ہے کہ وہ پختہ عزم کرنے کے بعد فیصلہ کن جنگ کیے بغیر جنگی لباس اتار دے۔ اس طرح آپ احد کے قریب پہنچے اور ہفتہ کی صبح کو مورچہ بندی کا آغاز فرمایا۔ جونہی مورچہ زن ہونے کا آغاز ہوا تو عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر اس احتجاج کے ساتھ واپس ہوا کہ ہماری رائے کا احترام نہیں کیا گیا۔ منافقین کے اس اقدام نے کفار کے حوصلے بڑھائے جبکہ مسلمانوں میں سراسیمگی پھیلی۔ یہاں تک کہ بنو سلمہ اور بنو حارثہ کے لوگوں نے بھی واپس جانے کے لیے چہ میگوئیاں کیں۔ ان آیات میں اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے کہ مسلمانو ! وہ وقت یاد کرو۔ جب اللہ کا رسول تمہاری صف بندی کر رہا تھا اور عین اس وقت تم میں سے دو گروہوں نے کم ہمتی کا مظاہرہ کرنا چاہا لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں ثابت قدم رکھا کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ محبت رکھتا تھا جس کی وجہ سے وہ ایسا نہ کرسکے۔ مومنوں کو چاہیے کہ حالات اچھے ہوں یا برے ہر حال میں اللہ پر بھروسہ کرتے رہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرمایا کرتے تھے کہ اس آیت میں ہماری کمزوری کی نشان دہی کی گئی ہے جس میں ہماری پستی کا پہلو نکلتا ہے لیکن باوجود اس کمزوری کے ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان اعزاز کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے ” وَلِیُّھُمَا “ کا ارشاد فرما کر ہمیں اپنی محبت اور دوستی کا اعزاز بخشا ہے۔ (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ یَقُوْلُ فِیْنَا نَزَلَتْ (إِذْ ھَمَّتْ طَّاءِفَتَانِ مِنْکُمْ أَنْ تَفْشَلَا وَاللّٰہُ وَلِیُّھُمَا) قَالَ نَحْنُ الطَّاءِفَتَانِ بَنُوْ حَارِثَۃَ وَبَنُوْ سَلِمَۃَ وَمَانُحِبُّ أَنَّھَا لَمْ تُنْزَلْ لِقَوْلِ اللّٰہِ (وَاللّٰہُ وَلِیُّھُمَا) [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب إذ ھمت طائفتان منکم أن تفشلا ] ” حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی تھی کہ جب تم میں سے دو جماعتیں ہمت ہارنے کا سوچ چکی تھیں۔ کہتے ہیں ہم دو جماعتیں بنو حارثہ اور بنو سلمہ تھے ہمارے جذبات کے برعکس یہ آیت نازل ہوئی جبکہ اس میں ہے کہ اللہ دونوں گروہوں کا سر پرست اور مددگار ہے۔ “ مسائل 1۔ مومنوں کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ 2۔ جہاد میں بزدلی دکھانا اللہ تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں۔ 3۔ اللہ کی رحمت شامل حال ہو تو آدمی کی بگڑی حالت درست ہوجاتی ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کن کا دوست ؟ 1۔ اللہ مومنوں کا دوست ہے۔ (آل عمران : 68) 2۔ اللہ متقین کا دوست ہے۔ (الجاثیۃ : 19) 3۔ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو روشنی کی طرف لاتا ہے۔ (البقرۃ : 257) 4۔ اللہ کے دوستوں کو کوئی خوف و غم نہیں ہوگا۔ (یونس : 62)
Ayahs 3:122–123

اِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا١ۙ وَ اللّٰهُ وَلِیُّهُمَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:122 in the Quran reader

جب تم میں سے دو جماعتیں پست ہمتی کا ارادہ کرچکی تھیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دست گیری فرمائی اور مومنوں کو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا چاہیے

وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 3:123 in the Quran reader

یقیناً جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد فرمائی حالانکہ تم نہایت کمزور تھے۔ پس اللہ ہی سے ڈرو تاکہ تم شکریہ ادا کرسکو

فہم القرآن ربط کلام : احد اور بدر کے حالات کا موازنہ کیا جا رہا ہے۔ اُحد کی شکست کے عوامل اور محرّکات پر تبصرہ کرنے سے پہلے بدر کی کامیابی ‘ اس وقت کے حالات اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملائکہ کی شکل میں نصرت و حمایت کا تذکرہ اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ مسلمانوں کا غم ہلکا اور مورال بلند ہو سکے۔ اے مسلمانو ! میدان بدر کی طرف دیکھو جب تم کمزور اور تعداد میں تھوڑے ہونے کی وجہ سے کفار کی نگاہوں میں حقیر اور کمزور سمجھے جارہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد فرمائی تاکہ تم اللہ سے ڈر کر اپنی کمزوریوں کو دور کر کے اس کا شکریہ ادا کرتے رہو۔ واقعہ اس طرح ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا کہ کفار ایک ہزار کا لشکر لے کر بدر کے میدان میں اترنے والے ہیں تو آپ مدینہ سے 313 صحابہ کو لے کر تقریباً 80 میل کا سفر طے کرتے ہوئے بدر میں کفار کے مد مقابل ہوئے۔ صحابہ کو خطاب کرتے ہوئے ایک ہزار فرشتوں کی مدد کی خوشخبری سنائی جس کا ذکر سورة الانفال آیت : 9 میں کیا گیا ہے۔ لیکن جنگ کا میدان گرم ہونے سے پہلے کفار نے افواہ پھیلائی کہ کرز بن جابر بھاری کمک کے ساتھ ہماری مدد کے لیے پہنچنے والا ہے۔ اس صورت حال میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسول للہ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ اے مومنو ! کیا تم کافی نہیں سمجھتے کہ اللہ تمہاری مدد کے لیے تین ہزار مخصوص نشان والے فرشتے نازل کرے ؟ بلکہ اگر تم جرأت و حوصلہ اور تقو ٰی میں آگے بڑھو گے تو فوری طور پر ملائکہ کی کمک کو پانچ ہزار کردیا جائے گا۔ ملائکہ کی بھاری نفری اس لیے اتاری جا رہی ہے تاکہ تمہارے دل مطمئن اور تم خوش ہوجاؤ۔ جب کہ حقیقی مدد تو اللہ غالب حکمت والے کی ہی ہوا کرتی ہے۔ کفار کی تباہی کے لیے ایک فرشتہ ہی کافی تھا لیکن جنگ میں افرادی قوت مجاہدین کے لیے خوشی ‘ تقویت اور حوصلے کا باعث ہوا کرتی ہے اس لیے فرشتوں کی تعداد کو بشارت کے طور پر بڑھا دیا گیا۔ اتنی بڑی حمایت کے باوجود اس بات کی وضاحت کی گئی کہ پانچ ہزار فرشتوں کی بجائے کائنات کے جن و بشر اور ملائکہ بھی تمہاری حمایت کے لیے آجاتے تو وہ تمہیں فتح نہیں دلوا سکتے تھے کیونکہ نصرت و حمایت ‘ فتح و شکست کی طاقت کسی کے پاس نہیں صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ وہی غالب حکمت والا ہے۔ بدر میں کفار کے ستر سرخیل زمین بوس ہوئے اور ستر کو گرفتار کیا گیا۔ یہ اس لیے ہوا تاکہ کفار کی کمر ٹوٹ جائے اور وہ دنیا کے سامنے ذلیل و خوار ہوجائیں۔ مسائل 1۔ تقو ٰی شکر گزاری کا سبب ہے۔ 2۔ بدر میں اللہ تعالیٰ نے تین ہزار مخصوص ملائکہ کے ساتھ مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ 3۔ اللہ تعالیٰ صابر اور متقی مجاہدین کی مدد میں اضافہ فرماتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کی مدد کامیابی کی ضمانت اور دلوں کا سکون ہوتی ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کے بغیر کوئی مدد نہیں کرسکتا وہ غالب اور حکمت والا ہے۔ 6۔ مسلمانوں کو اللہ کی مدد پہنچنے کے بعد کافر ہمیشہ ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ اپنے کمزور بندوں کی مدد کرتا ہے : 1۔ بدر میں اللہ تعالیٰ نے کمزوروں کی مدد فرمائی۔ (آل عمران : 123) 2۔ غار ثور میں نبی ﷺ اور ابوبکر ؓ کی مدد فرمائی۔ (التوبۃ : 40) 3۔ ابرہہ کے مقابلے میں بیت اللہ کا تحفظ فرمایا۔ (الفیل : مکمل) 4۔ بنی اسرائیل کے کمزوروں کی مدد فرمائی۔ (القصص : 5)
Ayahs 3:124–128

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُنْزَلِیْنَؕ Open ayah 3:124 in the Quran reader

جب تم مومنوں کو تسلی دے رہے تھے کہ کیا تمہارے لیے کافی نہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد فرمائے ؟

بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِیْنَ Open ayah 3:125 in the Quran reader

کیوں نہیں اگر تم صبر کرو اور پرہیزگاری اختیار کرو۔ وہ تمہارے پاس فوراً پہنچ جائیں گے یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہاری مدد پانچ ہزار نشان والے فرشتوں کے ساتھ ہوگی

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 3:126 in the Quran reader

یہ تو محض تمہاری خوشی اور اطمینان قلب کے لیے ہے ورنہ مدد تو اللہ تعالیٰ ہی کی ہے جو غالب، حکمت والا ہے

لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ Open ayah 3:127 in the Quran reader

تاکہ کافروں کی ایک جماعت کو کاٹ دے یا انہیں ذلیل کر ڈالے اور وہ نامراد ہو کر واپس چلے جائیں

لَیْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ اَوْ یُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 3:128 in the Quran reader

اے پیغمبر ! تمہارے اختیار میں کچھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب دے بلا شبہ وہ ظالم ہیں

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ کی نصرت کے بغیر کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ اسی طرح معاف کرنا یا کسی کو عذاب دینا بھی اللہ ہی کے اختیار میں ہے کیونکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ غزوۂ احد میں مسلمانوں کے سر کردہ جنگجو یہاں تک کہ حضرت حمزہ ؓ بڑی بیدردی کے ساتھ شہید کردیے گئے اور رسول مکرم ﷺ کی ذات اقدس کو بھی زخم آئے، رباعی دانت شہید ہوا اور آپ بےہوش ہو کر ایک گھاٹی میں جا گرے جونہی ہوش سنبھالا تو آپ کی زبان اطہر سے بےساختہ بددعا نکلی : (کَیْفَ یُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوْا نَبِیَّھُمْ وَکَسَرُوْا رُبَاعِیَتَہٗ وَھُوَ یَدْعُوْھُمْ إِلَی اللّٰہِ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ (لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْءٌ) [ رواہ مسلم : کتاب الجھاد والسیر، باب غزوۃ أحد ] ” وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کا سر پھوڑ ڈالا اور اس کا دانت شہید کردیا ؟ حالانکہ وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ میرے محبوب ! آپ کو کسی چیز کا اختیار نہیں ہے۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَر ؓ أَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ إِذَ ارَفَعَ رَأْسَہٗ مِنَ الرُّکُوْعِ مِنَ الرَّکْعَۃِ الْآخِرَۃِ مِنَ الْفَجْرِ یَقُوْلُ اللّٰھُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا بَعْدَ مَایَقُوْلُ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ (لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ )إِلٰی قَوْلِہٖ (فَإِنَّھُمْ ظَالِمُوْنَ ) وَعَنْ حَنْظَلَۃَ بْنِ أَبِيْ سُفْیَانَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ یَقُوْلُ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَدْعُو عَلٰی صَفْوَانَ بْنِ أُمَیَّۃَ وَسُھَیْلِ بْنِ عَمْرٍو وَالْحَارِثِ بْنِ ھِشَامٍ فَنَزَلَتْ (لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ )إِلٰی قَوْلِہٖ (فَإِنَّھُمْ ظَالِمُوْنَ ) [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب لیس لک من الأمر شیء ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا جب آپ فجر کی دوسری رکعت میں رکوع سے سر اٹھا نے اور سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد دعا کر رہے تھے۔ اے اللہ ! فلاں اور فلاں پر لعنت فرما۔ تب اللہ تعالیٰ نے (لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ۔۔ فَإِنَّھُمْ ظَالِمُوْنَ ) آیت نازل فرمائی۔ حنظلہ بن ابی سفیان نے سالم بن عبداللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام کے لیے بد دعا کرتے تو (لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ۔۔ فَإِنَّھُمْ ظَالِمُوْنَ ) آیت نازل ہوئی۔ “ اس فرمان میں آپ کی توجہ مبذول کروائی گئی ہے کہ میرے محبوب ! آپ کو دل شکستہ اور حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے کیونکہ کسی کو معاف کرنا یا اسے عذاب دینا آپ کے اختیار میں نہیں یہ تو رب کبریا کے فیصلے ہیں جو اس کی حکمت کے مطابق صادر ہوتے ہیں۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اسی کی ملکیت ہے اور وہ لا محدود اختیارات اور ہر چیز کی ملکیت رکھنے کے باوجود معاف کرنے والا اور نہایت ہی مہربان ہے۔ آپ کو بددعا سے منع کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ تھوڑے ہی عرصے بعد احد میں کفار کے لشکر کی کمان کرنے، رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے خالد بن ولید، عمرو بن عاص، ابوسفیان بن حرب اور بڑے بڑے لوگ مسلمان ہوئے یہاں تک کہ پورے عرب میں لوگ حلقۂ اسلام میں داخل ہونے لگے۔ مسائل 1۔ حقیقتاً کسی کو معاف کرنا یا عذاب دینا صرف اللہ کا اختیار ہے۔ 2۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ غفورورحیم ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ ہی مختار کل ہے : 1۔ نبی ﷺ کسی پر عذاب نازل کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ (آل عمران : 128) 2۔ رسول اللہ ﷺ کو منافقین کے لیے دعا اور ان کی قبروں پر جانے سے روک دیا گیا۔ (التوبۃ : 84) 3۔ نبی مشرک کے لیے دعائے مغفرت کرنے کا مجاز نہیں۔ (التوبۃ : 113) 4۔ اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کی رضا کا پابند نہیں۔ (التوبۃ : 96) 5۔ رسول اللہ ﷺ نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ (الجن : 21) 6۔ رسول اللہ ﷺ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے۔ (القصص : 56)
Ayahs 3:129–130

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 3:129 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ وہ جسے چاہے بخش دے یا جسے چاہے عذاب دے اللہ تعالیٰ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 3:130 in the Quran reader

اے ایمان والو ! دوگنا چوگنا سود نہ کھاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ تمہیں نجات ملے

فہم القرآن ربط کلام : سود خوری آدمی میں لالچ پیدا کرتی ہے۔ احد میں درّہ چھوڑنے کے پیچھے لالچ ہی کار فرما تھا۔ حرمت سود سے پہلے بعض صحابہ بھی اس کام میں ملوّث تھے۔ جس کے منفی اثرات کا نتیجہ تھا کہ جونہی درّے پر مامور اصحاب نے مجاہدین کو مال غنیمت لوٹتے ہوئے دیکھا تو اپنے کمانڈر سے بےقابو ہو کر غنائم اکٹھا کرنے پر ٹوٹ پڑے۔ اس اخلاقی کمزوری کو دور کرنے کے لیے حکم ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے سود کو چھوڑ دو تاکہ تم اپنے مقاصد میں کامیاب ہو سکو اور اس آگ سے ڈرو جو اللہ کے حکم کا انکار کرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ بغاوت اور انکار کی روش اختیار کرنے کی بجائے ہمیشہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں لگے رہو تاکہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی شفقت و مہربانی نازل کرتا رہے۔ دنیا کے مال کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی بخشش اور جنت کے حصول کے لیے جلدی کرو۔ دنیا کا مال عارضی، اس کی سہولتیں ناپائیدار ‘ یہاں کے بنگلے اور محلاّت مسمار اور دنیا کے باغ و بہار ویرانوں میں تبدیل ہونے والے ہیں جبکہ جنت کے باغات سدا بہار اور اس کی نعمتیں لا محدود اور ہمیشہ رہنے والی ہیں جو اللہ سے ڈرنے اور گناہوں سے بچنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ قرآن مجید نے مسلمانوں کو صرف نیکی کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ نیکیوں میں آگے بڑھنے اور جنت کی طرف سبقت لے جانے کا حکم دیا ہے۔ جس معاشرے میں نیکی اور اہم مقصد کے لیے آگے بڑھنے کا جذبہ ختم ہوجائے وہ معاشرہ اور قوم بالآخر مردگی کا شکار ہوجایا کرتی ہے۔ زندہ اور بیدار قومیں اپنی منزل کے حصول کے لیے نئے جذبوں اور تازہ ولولوں کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے مسلسل منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ مسلمانوں کی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا حصول ہے اس لیے قرآن مجید نے مختلف مقامات پر ترغیب دی ہے کہ اس مقصد کے لیے آگے بڑھو اور بڑھتے ہی چلے جاؤ۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ لَشَجَرَۃً یَسِیْرُ الرَّاکِبُ فِيْ ظِلِّھَا ماءَۃَ سَنَۃٍ وَاقْرَأُوْا إِنْ شِءْتُمْ (وَظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ گھوڑے پر سوار شخص اس کے سائے میں سو سال تک چل سکتا ہے۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو ( اور سائے ہیں لمبے لمبے) ۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ ؓ عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِی الْجَنَّۃِ لَخَیْمَۃً مِنْ لُؤْلُؤَۃٍ وَاحِدَۃٍ مُجَوَّفَۃٍ طُوْلُھَا سِتُّوْنَ مِیْلًا لِلْمُؤْمِنِ فِیْھَا أَھْلُوْنَ یَطُوْفُ عَلَیْھِمُ الْمُؤْمِنُ فَلَا یَرٰی بَعْضُھُمْ بَعْضًا) [ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا وأھلھا، باب فی صفۃ خیام الجنۃ .....] ” حضرت عبداللہ بن قیس اپنے باپ سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جنت میں مومن کے لیے موتی کا ایک ایسا خیمہ ہوگا جس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی وہاں مومن کے گھر والے ہوں گے جن کے پاس وہی جائے گا دوسرا کوئی کسی کو نہ دیکھ سکے گا۔ “ مسائل 1۔ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے سود خوری چھوڑ دینا چاہیے۔ 2۔ اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔ 3۔ اللہ کے نافرمان اور سود خوروں کے لیے جہنم کی آگ تیار کی گئی ہے۔ 4۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کی شفقت و مہربانی ہوتی ہے۔ 5۔ اللہ کی بخشش اور اس کی جنت کے لیے جلدی کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اطاعت رسول ﷺ کے فائدے : 1۔ اللہ کی شفقت و مہربانی حاصل ہوتی ہے۔ (آل عمران : 132) 2۔ اللہ کی محبت اور بخشش حاصل ہوتی ہے۔ (آل عمران : 31) 3۔ اطاعت رسول ﷺ سے اعمال ضائع ہونے سے محفوظ ہوتے ہیں۔ (محمد : 33) 4۔ دنیا وآخرت کی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ (الاحزاب : 71) 5۔ قیامت کے دن انبیاء، صدیقوں، شہداء اور صلحاء کا ساتھ نصیب ہوگا۔ (النساء : 69)