Ayahs 3:131–134فہم القرآن
ربط کلام : سود اور جہنم سے بچنے کا حکم، جنت اور صدقہ کی ترغیب دینے کے بعد جنّتیوں کے اوصاف بیان کیے گئے ہیں۔
یہاں جنتیوں کے چھ اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1 یہ لوگ عسر ویسر میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔ 2 طیش اور غضب کی حالت میں اپنے آپ پر ضبط رکھتے ہیں۔ 3 ساتھیوں اور بھائیوں کے ساتھ معافی کا وطیرہ اختیار کرتے ہیں۔ 4 جب ان سے بری حرکت یا گناہ کی صورت میں اپنے آپ پر زیادتی ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے احسانات کا احساس، اس کے عذاب کا خوف اور اس کی ذات کبریا کا تصور کرتے ہوئے اس کے حضور اپنے گناہوں اور خطاؤں کی معافی مانگتے ہیں۔ 5 اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی گناہ معاف کرنے والا نہیں 6 وہ ایک لمحہ کے لیے بھی اپنے گناہوں پر اترانے اور اصرار کرنے پر تیار نہیں ہوتے کیونکہ گناہوں کے نتائج اور نقصانات کو وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
نیک لوگ منصوبہ بندی کے ساتھ گناہ کا ارتکاب نہیں کرتے اور نہ ہی وہ شیطان کی طرح اپنی غلطی پر اصرار کرتے ہیں۔ وہ تو اپنی غلطی کا اعتراف اور اس پر استغفار کرتے ہیں۔ ان کا صلہ ان کے رب کے ہاں بخشش اور جنت ہے جس کے نیچے نہریں جاری ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ لوگ بہترین اجر پائیں گے۔
(عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : لَیْسَ الشَّدِیْدُ بالصُّرْعَۃِ إِنَّمَا الشَّدِیْدُ الَّذِیْ یَمْلِکُ نَفْسَہٗ عِنْدَ الْغَضَبِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب الحذر من الغضب ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی کو پچھاڑنے والا طاقتور نہیں ہے طاقتور تو وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔ “
” نبی کریم ﷺ کے صحابی سلیمان بن صرد ؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کے پاس دو آدمیوں کا جھگڑا ہوا۔ ایک آدمی ان میں اتنا غضبناک ہوا کہ اس کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا۔ آپ نے فرمایا میں ایک کلمہ جانتا ہوں اگر وہ پڑھ لے تو اس کا ساراغصہ ختم ہوجائے۔ ایک آدمی نے اسے جاکر رسول اللہ ﷺ کی بات بتائی اور کہا کہ شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔ اس نے جوابًا کہا کیا مجھ میں کوئی بیماری نظر آرہی ہے یا میں مجنون ہوں ؟ چل تو چلاجا۔ “ ( اس کا مقصد یہ تھا کہ آپ کا فرمان سن کر میں اپنے غصہ پر ضبط کرتا ہوں) [ رواہ البخاری : کتاب الأدب ]
مسائل
1۔ مسلمانوں کو اپنے رب کی بخشش اور جنت کے حصول کی کوشش کرنا چاہیے۔
2۔ جنت کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے جو گناہوں سے بچنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔
3۔ ایمان دار لوگ آسانی اور تنگی میں خرچ کرنے والے، غصہ پر ضبط کرنے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہوتے ہیں۔
4۔ اللہ تعالیٰ نیکو کار لوگوں سے محبت کرتا ہے۔
5۔ ایمان والے اپنے آپ پر ظلم یا بےحیائی کا ارتکاب کر بیٹھیں تو اللہ کو یاد کرتے اور اس سے معافی مانگتے ہیں۔
6۔ صاحب ایمان لوگ اپنی غلطی پر اصرار نہیں کرتے۔
7۔ اللہ کے بغیر کوئی گناہ معاف کرنے والا نہیں۔
8۔ معافی مانگنے والوں کے لیے ان کے رب کی طرف سے بخشش اور جنت ہے۔
تفسیر بالقرآن
جنت کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے :
1۔ اللہ کی مغفرت اور جنت کی کوشش کرو۔ (الحدید : 21) 2۔ نیکی کے حصول میں جلدی کرو۔ (البقرۃ : 148)
3۔ نیکیوں میں سبقت کرنے والے سب سے اعلیٰ ہوں گے۔ (فاطر : 32)
4۔ سبقت کرنے والے اللہ کے مقرب ہوں گے۔ (الواقعہ : 10، 11)
Ayahs 3:135–137فہم القرآن
ربط کلام : اگر لوگ گناہوں سے بچنے ‘ جنت میں داخل ہونے ‘ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس سے معافی مانگنے کے لیے تیار نہیں تو ظالم کو اپنی عارضی کامیابی پر اترانا نہیں چاہیے کیونکہ اس کا انجام برا ہی ہوا کرتا ہے۔
اُحد کی عارضی فتح پر کفار نے بڑے گھمنڈ اور غرور کا مظاہرہ کیا۔ ابو سفیان نے نعرہ لگاتے ہوئے کہا ’ ہبل زندہ باد ‘ پھر اس نے احد کے معرکہ کو بدر کا بدلہ قرار دیا جس پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے قریبی ساتھیوں کو حکم دیا کہ اس کا فوری جواب دیا جائے۔ چناچہ صحابہ نے جواباً نعرہ لگایا : ( اَللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ ) ” اللہ بلند وبالا اور عظمت والا ہے “ حضرت عمر ؓ نے یہ بھی فرمایا کہ احد بدر کا بدلہ نہیں ہوسکتا کیونکہ تمہارے مرنے والے جہنم کا ایندھن بنے اور ہمارے شہید جنت کے مہمان قرار پائے ہیں۔
[ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب غزوۃ أحد ]
اس پر روشنی ڈالتے ہوئے قرآن مجید ظالموں کو حکم دیتا ہے کہ اگر تم تاریخ کے اوراق سے بےبہرہ ہو تو ذرا ان جگہوں اور مقامات کو نگاہ عبرت سے دیکھوجہاں ظالموں کو تباہ و برباد کیا ہے کہ پیغمبروں کو جھٹلانے ‘ شریعت کو ٹھکرانے اور اللہ سے ٹکرانے والوں کا کیا انجام ہوا ؟ اے اہل کفر ! تمہارا انجام بھی ایسا ہی ہونے والا ہے۔ چناچہ ٹھیک اگلے سال غزوۂ احزاب میں کافر ذلیل ہوئے۔ 8 ہجری میں اہل مکہ اس طرح سرنگوں ہوئے کہ بیت اللہ میں سب کے سامنے رسول معظم ﷺ سے معافی کے خواستگار ہوتے ہیں۔ اس کے بعد قیصر و کسریٰ کی حکومتوں کے تخت الٹ گئے یہاں تک کہ ہندوستان کی سرزمین پر راجہ داہر جیسا ظالم محمد بن قاسم (رح) کے ہاتھوں جہنم واصل ہوا۔ اس طرح کفار اور کذاب لوگوں کا عبرت انگیز انجام ہر جگہ دیکھا جاسکتا ہے۔ رہنمائی حاصل کرنے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لیے تاریخ کے اوراق ہمیشہ کے لیے رقم ہوچکے ہیں جن سے عبرت حاصل کرنا چاہیے۔
مسائل
1۔ جھوٹے لوگوں کا انجام دیکھنے کے لیے ان کی اجڑی ہوئی بستیوں کو دیکھنا چاہیے۔
2۔ یہ تاریخی واقعات گناہوں سے بچنے والوں کے لیے عبرت اور نصیحت ہیں۔
Ayahs 3:138–139فہم القرآن
ربط کلام : احد کی ہزیمت کے بعد تسلی دینے کے ساتھ کامیابی کی مشروط ضمانت دی گئی ہے۔
غزوۂ احد میں مسلمانوں کے ستر (70) زعماء شہید ہوئے۔ جن میں شیر دل اور بہادر جوان حضرت حمزہ ؓ بھی شامل تھے جنہوں نے معرکۂ بدر میں سب سے زیادہ کفار کو نقصان پہنچایا تھا۔ انہیں احد میں خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔ ان کی شہادت کے بعد آتش انتقام کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کفار نے ان کے جسد اطہر کا مثلہ کیا اور سینہ مبارک چیر کر کلیجہ چبانے کی کوشش کی گئی۔ اس بھاری جانی نقصان کے ساتھ رسول محترم ﷺ کی ذات گرامی کو شدید زخم آئے۔ درّہ والوں کی کوتاہی کی وجہ سے یہ سب کچھ آنًا فاناً ہوا۔ اس شدید نقصان کے بارے میں مسلمان سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ خاص کر ایسے مجاہد جنہوں نے ایک سال پہلے بدر میں کفار کی کمر توڑ دی تھی۔ اس صورت حال پر انتہائی مغموم اور دل گرفتہ ہوئے۔ یہاں ان کی ڈھارس بندھانے اور ان کا حوصلہ بلند رکھنے کے لیے تسلی دی گئی ہے کہ غمزدہ ہونے اور کمزوری دکھانے کی ضرورت نہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش ایّام کرتے ہیں۔ مجاہد کا ہارنا ‘ شہسوار کا گرنا ‘ اقتدار کا چھننا ‘ جوان کا بوڑھا ہونا ‘ تندرست کا بیمار پڑنا ‘ امیر کا غریب ہونا ‘ غریبوں کو تونگر بنانا ‘ کمزوروں کو طاقت بخشنا ‘ اوقات کا تبدیل ہونا ‘ ایّام کا بدلنا اور قوموں کا عروج وزوال ہماری مشیّت و حکم کا مظہر ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کی قدرت وسطوت کا اعتراف ہوتا رہے۔ ہاں ہمیشہ تم ہی سربلند رہو گے بشرطیکہ تم ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہو۔ رہی بات تمہیں زخم پہنچنے کی تو اس سے بڑھ کر تم انہیں بدر کے میدان میں زخمی کرچکے ہو۔ وہ شدید زخمی ہونے، جانی ومالی نقصان اٹھانے کے باوجود ہمت نہیں ہارے بلکہ اس سے کئی گنا پرجوش ہو کر تم پر حملہ آور ہوئے ہیں۔ تمہارے پاس حوصلہ ہارنے اور غیر معمولی افسردہ ہونے کا کیا جواز ہے ؟ یہ تو گردش ایّام ہے جس کو لوگوں کے اعمال اور کردار کی وجہ سے ہم پھیرتے رہتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو ممتاز کر کے ان سے منافقوں کو الگ کر دے۔ تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کے درجے پر فائز فرما دے۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں کٹ مرنے والا اپنے خون جگر سے عملاً اللہ کے کلمہ کو بلند رکھنے کی گواہی دیتا ہے اس لیے اسے شہید کہا جاتا ہے۔ امام رازی ؓ فرماتے ہیں کہ قرآن و حدیث کے مطابق مرنے کے بعد مومنوں کی ارواح مقام علّیّین میں ہوتی ہیں لیکن شہداء کی ارواح اللہ تعالیٰ کے عرش معلّٰی کے نیچے ہوتی ہیں۔ اس لحاظ سے وہ قیامت سے پہلے ہی اپنے رب کے حضور حاضر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں شہید کہا جاتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر رہنے والے۔ مفسّرین نے اللہ تعالیٰ کا منافقوں کو جاننے کا معنٰی ان کو لوگوں کے سامنے ظاہر کرنا لیا ہے۔ عربی میں اس طرح کلام کرنے کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ علیم وخبیر ہے اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔
مسائل
1۔ مسلمانوں کو کسی حال میں غمگین اور سست نہیں ہونا چاہیے۔
2۔ مسلمان اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں تو ہمیشہ سر بلند رہیں گے۔
3۔ احد میں مسلمانوں کو زخم آئے ان کے مقابلہ میں کفار بدر میں زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
4۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان دن پھیرتے رہتے ہیں۔
5۔ اللہ تعالیٰ کافروں کو مٹانا اور مومنوں کو ممتاز کرنا چاہتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ کا حکم اور مومن سر بلند رہیں گے :
1۔ اللہ کا حکم بلند رہے گا۔ (التوبۃ : 40)
2۔ مومن ہی ہر حال میں بلند رہیں گے۔ (آل عمران : 139)
3۔ مومن اللہ کا لشکر ہیں اور غالب رہیں گے۔ (المجادلۃ : 22)
گردشِ ایّام :
1۔ بدر میں مومنوں کو فتح ہوئی۔ (آل عمران : 123)
2۔ احد میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ (آل عمران : 140)
3۔ احزاب میں مسلمان فاتح ہوئے۔ (الاحزاب : 25 تا 27)
4۔ مکہ میں فتح یاب ہوئے۔ (الفتح : 1)
5۔ حنین میں تکلیف دیکھنا پڑی۔ (التوبۃ : 25)
Ayahs 3:140–142فہم القرآن
ربط کلام : آزمائش سے قوموں کے کردار میں پختگی پیدا ہوتی ہے احد کی عارضی شکست اسی سلسلہ کی کڑی سمجھنا چاہیے۔
دنیا کی یہ مسلّمہ حقیقت ہے کہ آدمی کا مقصد جتنا بلند اور اہم ہوتا ہے اتنی ہی وہ محنت اور اس کے لیے تکلیف اٹھاتا ہے۔ مومن کی زندگی کا مقصد دین کو سر بلند کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنا ہے جس کا ما حصل جنت ہے۔ یہ مقصد عظیم خالی دعوؤں اور کھوکھلے نعروں سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے مال لٹانا، پیٹ پر پتھر باندھنا ‘ گھر بار چھوڑنا ‘ اولاد قربان کرنا اور جسم کٹواتے ہوئے صابر و شاکر رہنا پڑتا ہے تب جا کر اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا حصول ممکن ہوا کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے (حُجِبَتِ الْجَنَّۃُ بالْمَکَارِہِ ) ” کہ جنت مصائب اور مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔ “
[ رواہ البخاری : کتاب الرقاق ]
اب یہاں ایک لطیف سرزنش کے ساتھ مسلمانوں کو باور کروا یا جا رہا ہے کہ تم خود ہی تو موت کی تمنا کر رہے تھے۔ یعنی جو لوگ کسی وجہ سے بدر کے معرکہ میں شامل نہ ہو سکے وہ تمنا کرتے تھے کہ کفار کے ساتھ پھر کب لڑائی ہو جس میں ہم اللہ کے راستے میں کٹ مریں۔ جب احد میں موت سے تمہارا آمنا سامنا ہوا اور کچھ لوگ موت کا لقمہ بنے تو تم اس پر حیرانگی کا اظہار کر رہے ہو کہ ہمیں یہ جانی نقصان کیوں اٹھانا پڑا ؟ یہاں موت کی تمنا سے مراد شہادت ہے۔ جو مومن کی منزل مقصود اور جنت کے حصول کا مؤثر زینہ ہے کیونکہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ [ رواہ البخاری : کتاب الجہاد ]
مسائل
1۔ صبر اور جہاد کے بغیر کوئی ایماندار جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔
2۔ قتال فی سبیل اللہ میں مجاہد موت کو اپنے قریب دیکھتا ہے۔
نوٹ : صبر کی فضیلت کے بارے میں البقرۃ آیت 153 کی تفسیر بالقرآن دیکھیں۔
Ayahs 3:143–144فہم القرآن
ربط کلام : احد میں نبی محترم ﷺ کی شہادت کی خبر کی وجہ سے بعض صحابہ بددل ہوئے جس کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ شخصیات تو آنی جانی ہیں اصل مشن تو ان کی دعوت ہے جسے جاری رہنا اور رکھنا چاہیے۔
جنگی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ میدان جنگ میں جونہی فوج کا سپہ سالار زخمی ہو کر گرا۔ اس کے گرنے کے ساتھ ہی بڑے بڑے بہادروں اور جنگجوؤں کے قدم اکھڑ گئے۔ سپہ سالار کا گرنا اور مرنا تو بڑی بات ہے فوج کا پرچم سرنگوں ہوجائے تو لڑنے والوں کے حوصلے پست ہوجایا کرتے ہیں۔ غزوۂ احد میں اسلامی فوج کا پرچم ہی سر نگوں نہیں ہوا بلکہ جلیل القدر صحابہ شہید ہوئے اور رسول کریم ﷺ کے بارے میں یہ آواز اٹھی کہ آپ کو شہید کردیا گیا ہے۔ ایسے موقع پر صحابۂ کرام ؓ کے قدم اکھڑنا کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ آپ ﷺ جرنیل ہی نہیں بلکہ جرنیل اعظم تھے۔ فاطمہ ؓ کے باپ اور حسن و حسین ؓ کے نانا ہی نہیں پوری امت کے روحانی باپ تھے۔ بیواؤں کے سرپرست ‘ یتیموں کے ملجا اور مسکینوں کے ماویٰ تھے۔ آپ صحابہ کی عقیدتوں اور محبتوں کا مرکز ‘ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سرور تھے۔ اگر صحابہ اس خبر پر دل برداشتہ اور غمزدہ نہ ہوتے تو اس سے بڑھ کر دنیا میں کس کے لیے پریشان ہوا جاتا ؟ لیکن اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد آپ کی زندگی کا مقصود تھا اگر آپ کے بعد اسلام کا پرچم سرنگوں ہوجائے تو نہ صرف آپ کی محنت دنیا میں ضائع ہوجاتی بلکہ اتنی بڑی جماعت بنانے کا مقصد ہی فوت ہوجاتا۔ اس طرح ایک نہیں دو ناقابل تلافی نقصان ہوتے۔ لہٰذا اس خطاب کا آغاز ہی یہاں سے کیا گیا ہے کہ محمد ﷺ خدا نہیں اللہ کا رسول ہے۔ اللہ تو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ محمد ﷺ تو انسان ہیں اور ہر ذی روح نے اس دنیا سے کوچ کرنا ہے۔ رسول کا معنی ہی قاصد اور پیغام دینے والا ہے۔ جس ہستی نے آپ کو اپنے کام اور پیغام کے لیے مبعوث فرمایا ہے۔ وہ جب چاہے جس حال میں چاہے آپ کو واپس بلا سکتی ہے۔ آپ سے پہلے رسول گزر چکے جن میں کچھ طبعی موت فوت ہوئے اور کچھ شہادت کے منصب پر فائز ہوئے۔ کیا آپ کو طبعی موت یا شہادت نصیب ہوجائے تو تم اسلام اور جہاد سے منہ موڑ جاؤ گے ؟ یاد رکھو ! جو بھی اپنی ایڑیوں کے بل پھرجائے گا وہ اللہ تعالیٰ کو ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اس خطاب کا مقصد یہ ہے کہ شخصیات کتنی ہی گراں قدر اور اہم کیوں نہ ہوں اصل تو ان کا مشن ہوا کرتا ہے۔ ذمہ دار اور زندہ قومیں اپنے قائد کے صحیح نظریات ‘ اس کا مشن اور ان کے صحت مند کارناموں کو ہمیشہ آگے بڑھاتی ہیں۔ تم میں جو دنیا کے لیے کوشش کرے گا اسے دنیا مل جائے گی اور جو آخرت کے لیے کوشاں ہوگا اسے آخرت میں جزا ملے گی۔ اسی فلسفہ کی ترجمانی کرتے ہوئے ٹھیک ساڑھے سات سال بعد آپ کی وفات کے وقت حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے یہ ارشاد فرمایا تھا :
(مَنْ کَانَ مِنْکُمْ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْمَاتَ وَمَنْ کَانَ یَعْبُدُ اللّٰہَ فَإِنَّ اللّٰہَ حَیٌّ لَّا یَمُوْتُ )
[ رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب الدخول علی المیت بعد الموت إذا أدرج في أکفانہ ]
” جو کوئی محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو حضرت محمد ﷺ اپنی طبعی موت فوت ہوچکے ہیں اور جو کوئی اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ زندہ ہے وہ کبھی فوت نہیں ہوگا۔ “
امام رازی ؓ اپنی تفسیر کبیر میں ان الفاظ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ” أَفَإِنْ مَّاتَ “ سے واضح ہو رہا ہے کہ آپ کو طبعی موت آئے گی اور اس کے ساتھ ہی حضرت سعید بن جبیر ؓ کا قول نقل کرتے ہیں کہ کسی رسول کو آج تک میدان کارزار میں قتل نہیں کیا گیا۔
آیت کے آخر میں ” شَاکِرِیْنَ “ کا لفظ اس لیے بھی لایا گیا ہے تاکہ واضح ہو کہ اللہ کے حقیقی شکر گزار بندے وہی ہوتے ہیں جو غم اور خوشی اور نفع و نقصان میں اللہ کے دین پر کاربند رہتے ہیں۔ حضرت علی ؓ فرمایا کرتے تھے کہ اس فرمان سے مراد حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں کیونکہ وہ سب سے زیادہ شاکر رہنے والے تھے۔ [ معارف القرآن ]
مسائل
1۔ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔
2۔ آپ ﷺ سے پہلے آنے والے رسول دنیا سے جا چکے اور آپ بھی فوت ہوں گے۔
3۔ جو شخص اسلام سے پھر جائے وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
4۔ اللہ تعالیٰ شکر گزار بندوں کو جزا دینے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
نبی ﷺ اور ہر کسی نے فوت ہونا ہے :
1۔ رسول اللہ ﷺ فوت ہوں گے اور آپ کے مخالف بھی۔ (الزمر : 30)
2۔ ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ (آل عمران : 185)
3۔ کسی بشر کو دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا۔ (الانبیاء : 34)
4۔ رب ذوالجلال کے سوا سب کچھ فنا ہوجائے گا۔ (الرحمن : 26)
Ayah 3:145فہم القرآن
ربط کلام : رسول اللہ ﷺ کی موت کا اشارہ دے کر ہر کسی کا مرنا یقینی بتلایا ہے اور حوصلہ دیا ہے کہ موت سے ڈرنا اور موت کی وجہ سے نیکی کے کام اور جہاد سے پیچھے ہٹنا گناہ ہے۔
موت ایسی حقیقت ہے کہ اس سے کوئی شخص محفوظ نہیں۔ موت کا وقت اور اس کی جگہ کا تعین کردیا گیا ہے۔ کوئی ذی روح اس ضابطے سے بچ نہیں سکتا۔ جب موت یقینی ‘ اس کا وقت مقرر اور اس کی جگہ متعین کردی گئی ہے تو اس سے ڈرنے کا کیا مطلب ؟ اسلام نے موت کا تصور اس انداز میں پیش کیا ہے کہ جس سے انسان میں بیک وقت شجاعت اور احساس ذمہ داری پیدا ہوتا ہے کہ ہر انسان جان لے کہ اس نے مر کر ملیا میٹ نہیں ہونا بلکہ اپنے ایک ایک عمل کا اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دینا ہے۔ موت پر یقین محکم ہو تو آدمی گھمسان کے رن میں اتر کر بھی خوف زدہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کی موت کا دن اور جگہ متعین ہے۔ اسی جذبہ کے پیش نظر مجاہد تلوار کی دھار ‘ نیزے کی نوک کے سامنے اور توپ کے برستے ہوئے گولوں میں مسکرایا کرتا ہے۔ وہ موت کو سامنے آتے ہوئے دیکھ کر کترانے کی بجائے اس سے نبرد آزما ہونے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ اسے یقین کامل ہے کہ موت ہر وقت اور ہر جگہ نہیں آسکتی۔
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ أَنَّہٗ قَالَ مِنْ خَیْرِ مَعَاش النَّاسِ لَھُمْ رَجُلٌ مُمْسِکٌ عِنَانَ فَرَسِہٖ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یَطِیْرُ عَلٰی مَتْنِہٖ کُلَّمَا سَمِعَ ھَیْعَۃً أَوْ فَزْعَۃً طَارَ عَلَیْہِ یَبْتَغِی الْمَوْتَ وَالْقَتْلَ مَظَانَّہٗ أَوْ رَجُلٌ فِيْ غَنِیْمَۃٍ فِيْ رَأْسِ شَعَفَۃٍ مِنْ ھٰذِہِ الشَّعَفِ أَوْ بَطْنِ وَادٍ مِنْ ھٰذِہِ الْأَوْدِیَۃِ یُقِیْمُ الصَّلَاۃَ وَیُؤتِيَ الزَّکٰوۃَ وَیَعْبُدُ رَبَّہٗ حَتّٰی یَأْتِیَۃُ الْیَقِیْنُ لَیْسَ مِنَ النَّاسِ إِلَّا فِيْ خَیْرٍ ) [ رواہ مسلم : کتاب الأمارۃ، باب فضل الجھاد والرباط ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا سب لوگوں سے بہتر زندگی اس آدمی کی ہے جو جہاد میں اپنے گھوڑے کی باگ تھامے ہوئے اس کی پیٹھ پر اڑتا پھرتا ہے جب بھی کوئی شور یا ہنگامہ سنتا ہے تو وہ اس پر اڑتا ہواپہنچتا ہے موت اور قتل کی جگہوں کو تلاش کرتا ہے یا وہ آدمی سب سے بہتر زندگی والا ہے جو پہاڑ کی چوٹیوں میں کسی چوٹی یا وادیوں میں سے کسی وادی میں اپنی بکریوں کے ساتھ رہتا ہے۔ وہاں نماز پڑھتا ‘ زکوٰۃ ادا کرتا اور مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت کرتا رہتا ہے وہ لوگوں میں بہترین آدمی ہے۔ “
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ان کا چچا غزؤہ بدر میں حاضر نہیں تھا۔ اس نے کہا کہ میں نبی کریم ﷺ کی پہلی جنگ میں غیر حاضر تھا اگر اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے ساتھ کسی جنگ میں شرکت کا موقع دیا تو اللہ تعالیٰ دیکھے گا کہ میں کیسی بہادری کے ساتھ لڑتا ہوں۔ غزوۂ احد کے موقع پر جب مسلمانوں کی جماعت میں افراتفری پھیلی تو انہوں نے کہا : اے اللہ ! میں تیری بارگاہ میں اس معاملہ میں معذرت کرتا ہوں جو مسلمانوں نے کیا اور میں مشرکین کے مسلمانوں پر غلبہ پانے سے تیرے حضور برأت کا اظہار کرتا ہوں۔ پھر اپنی تلوار لے کر آگے بڑھے تو سعد بن معاذ کو ملے۔ کہنے لگے اے سعد ! کہاں جا رہے ہو ؟ میں تواحد کی دوسری طرف جنت کی خوشبو پا رہا ہوں۔ پھر وہ آگے بڑھے اور شہید ہوگئے۔ پہچانے نہ گئے یہاں تک کہ میں نے ان کی انگلیوں کے پوروں سے ان کی لاش کو پہچانا۔ ان کے جسم پر نیزہ ‘ تیر اور تلوار کے 80 سے اوپر زخم آئے تھے۔ [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب غزوۃ أحد ]
حضرت خالد بن ولید ؓ نے اپنی وفات کے وقت مدینے کے نوجوانوں کو خطاب کرتے ہوئے یہی فلسفہ بیان کیا تھا کہ آج تم موت سے ڈرتے اور کتراتے ہو میری طرف دیکھو کہ میرے جسم پر درجنوں نشانات ہیں اور میں ہمیشہ میدان جنگ میں ہر اول دستہ کے طور پر لڑتا رہا ہوں لیکن افسوس ! مجھے شہادت نصیب نہیں ہوئی۔ یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھیں نمناک ہوگئیں اور ہونٹ کانپنے لگے۔ تب ایک بزرگ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو رسول معظم ﷺ نے ” سیف من سیوف اللّٰہ “ کا خطاب دیا تھا اگر یہ تلوار کفار کے ہاتھوں ٹوٹ جاتی تو رسول اللہ ﷺ کے فرمان پر آنچ اور اسلام کے لیے آپ کی موت طعنہ بن جاتی۔ کفار کہتے کہ ہم نے اللہ کی تلوار توڑ دی ہے۔ (سیرت خالد بن ولید ؓ
مسائل
1۔ کوئی ذی روح اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر نہیں مرتا۔ 2۔ ہر کسی کے لیے موت کا دن اور جگہ مقرر ہے۔
3۔ دنیا چاہنے والے کو دنیا اور آخرت چاہنے والے کو اللہ تعالیٰ آخرت کا اجر دیں گے۔
تفسیر بالقرآن
دنیا اور آخرت کے طلب گار میں فرق :
1۔ دنیا دار صرف دنیا طلب کرتے ہیں۔ (البقرۃ : 220) 2۔ نیکو کار دنیا وآخرت کی اچھائی چاہتے ہیں۔ (البقرۃ : 201)
3۔ دنیا چاہنے والوں کو دنیا اور آخرت چاہنے والوں کو آخرت ملتی ہے۔ (آل عمران : 145)
4۔ دنیا کی زیب وزینت عارضی اور آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے۔ (الکہف : 46)
Ayah 3:146فہم القرآن
ربط کلام : مسلمانوں کو احد میں پہنچنے والی تکلیف پر تبصرہ جاری ہے جس میں تلقین کی جارہی ہے کہ حوصلہ ہارنے کے بجائے اپنے سے پہلے اللہ والوں کی تابناک تاریخ پر نظر رکھو۔ مصائب و مشکلات کے باوجود وہ اللہ کی راہ میں کس طرح ڈٹے رہے۔
اے اسلام کے مجاہدو ‘ بدر کے غازیو اور محمد عربی ﷺ کے ساتھیو ! کیا تم ایک ہی معرکہ میں عارضی شکست کھانے کے بعد کم ہمتی اور دل چھوٹے کیے بیٹھے ہو۔ ذرا تاریخ کے دریچوں میں جھانک کر دیکھو کہ کتنے ہی نبی اور ان کے ساتھ رب والے اللہ کے راستے میں جان توڑ کر لڑے۔ ان کے بچے یتیم ہوئے ‘ عورتیں بیوہ ہوئیں ‘ گھر بار لٹ گئے، انہیں زخم پر زخم اور صدمہ پر صدمے برداشت کرنے پڑے۔ وہ آگ کے انگاروں میں جھونکے گئے، ان کی چمڑیاں ادھیڑ دی گئیں ‘ ان پر مصیبتوں اور پریشانیوں کی آندھیاں چلیں ‘ مصائب کے پہاڑ ٹوٹے ‘ صدموں اور زخموں سے چور چور ہوئے اس کے باوجود وہ پوری استقامت کے ساتھ بہادروں اور جوانمردوں کی طرح میدان کارزار میں سینہ سپر رہے۔ وہ دشمن کے مقابلے میں نہ بزدل ہوئے اور نہ ہی کم ہمت۔
(اَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَأْتِکُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ مَّسَّتْہُمُ الْبَأْسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ مَتٰی نَصْرُ اللّٰہِ ط أَلَاإِنَّ نَصْرَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ)
[ البقرۃ : 214]
” تم سمجھتے ہو کہ جنت میں یوں ہی داخل ہوجاؤ گے ؟ حالانکہ ابھی تم پر ان لوگوں جیسی حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ وہ سختیوں اور بدحالیوں سے دو چار ہوئے اور انہیں جھنجھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ رسول اور جو لوگ ان پر ایمان لائے تھے پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی ؟ سنو ! اللہ کی مدد قریب ہی ہے۔ “
یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ دین پر مستقل مزاج رہنے اور پریشانیوں میں صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اللہ کے بندے اپنی محنتوں اور قربانیوں پر اترانے کی بجائے نہایت ہی عاجزی اور سرافگندگی کے ساتھ اپنے رب کے حضور اپنی کوتاہیوں ‘ لغزشوں اور اطاعت و جہاد میں کمی وبیشی کی معافی طلب کرتے ہوئے کفار کے مقابلہ میں استقامت اور اللہ تعالیٰ سے نصرت و حمایت طلب کیا کرتے تھے۔ جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں عزت و عظمت عطا فرمائی اور دین کی خدمت کی توفیق بخشی۔ یہی لوگ آخرت میں بےپناہ اجر وثواب کے مستحق ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
یہاں ” فِیْ اَمْرِنَا “ (ہمارا کام) کے الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ والے دین کی خدمت اور جہاد فی سبیل اللہ کو کسی پر احسان کے طور پر نہیں بلکہ اپنا فرض سمجھ کر ادا کیا کرتے ہیں۔
مسائل
1۔ بہت سے انبیاء کے ساتھ کثیر تعداد میں نیک لوگ جہاد کرتے رہے۔
2۔ انہوں نے جہاد فی سبیل اللہ میں نہ ہمت ہاری اور نہ دب کر رہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ حوصلہ مند لوگوں کے ساتھ محبت کرتا ہے۔
4۔ اللہ کے بندے اللہ تعالیٰ سے ثابت قدمی کے لیے دعا کرتے ہیں۔
5۔ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اجر عطا فرماتا ہے۔
6۔ اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
انبیاء (علیہ السلام) اور ان کے مجاہد ساتھی :
1۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اور حواریوں کی جانثاری۔ (الصف : 14)
2۔ جالوت وطالوت کا معرکہ۔ (البقرۃ : 249)
3۔ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کا جہاد۔ (الفتح : 29)
4۔ مجاہدین ہی بلند وبالا ہوں گے۔ (النساء : 95)
Ayahs 3:147–149فہم القرآن
ربط کلام : جب تمہارے دشمن احد میں تمہیں عظیم نقصان پہنچا چکے اور تمہیں کافر بنانے کے درپے ہیں تو ان سے خیر کی توقع کا کیا معنٰی ؟ مسلمانوں تمہارا مولیٰ اور خیر خواہ صرف اللہ تعالیٰ ہے بس اس پر بھروسہ رکھو۔
سورۃ آل عمران کی آیت 100 میں مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر تم کفار اور منافقین کے پیچھے چلو گے تو وہ تمہیں کافر بناکر چھوڑیں گے۔ اب دوبارہ تاکید کی جارہی ہے کہ اے مومنو ! تم کافروں کے پیچھے لگو گے تو وہ تمہیں یکسر الٹے پاؤں پھیر دیں گے جس سے تمہیں دنیا اور آخرت میں نقصان اٹھانا پڑے گا۔ یاد رکھو ! صرف اللہ ہی تمہاری مدد کرنے والا ہے عنقریب وہ کفار کے دلوں میں تمہارا رعب اور دبدبہ ڈال دے گا کیونکہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ جس کی اللہ تعالیٰ نے کسی صورت بھی تائید نہیں فرمائی۔ ان کا ٹھکانہ دہکتی ہوئی آگ ہے اور یہ ظالموں کے لیے بدترین ٹھکانہ ہوگا۔
غزوۂ احد کی ہزیمت کے بعد منافقوں کی سرگرمیاں اس قدر تیز ہوئیں کہ وہ مسلمانوں کے گھروں میں جا جا کر پروپیگنڈہ کرتے کہ اگر یہ رسول سچا ہوتا تو اللہ اس کی نصرت و حمایت ضرور کرتا اور تمہیں اس طرح اپنی قیمتی جانوں سے محروم نہ ہونا پڑتا۔ تم اپنی خیر اور تحفظ چاہتے ہو تو ہمارے ساتھ مل جاؤ تاکہ ہم اپنے رئیس عبداللہ بن ابی کے ذریعے اہل مکہ سے تمہیں حفظ وامان کی گارنٹی لے دیں۔ یہاں کمزور مسلمانوں کو ارتداد اور منافقت سے بچانے کے لیے ایک دفعہ پھر حکم دیا گیا ہے کہ اگر تم منافقوں کے پیچھے چلو گے تو یقیناً وہ تمہیں مرتد کردیں گے۔ یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی تمہارا خیر خواہ اور مددگار نہیں ہوسکتا۔ عنقریب اللہ تعالیٰ کفار پر تمہارا رعب اور دبدبہ ڈال دے گا۔ چناچہ احد کے دورانیہ میں دو دفعہ کفار پر ایسا رعب پڑا کہ وہ خود بخود پسپا ہوئے اور اس پسپائی پر ہمیشہ شرمندہ رہے۔ ایک اس وقت جب درّے کے راستہ مسلمانوں پر ان کے عقب سے انہوں نے حملہ کیا اور جونہی مسلمان اکٹھے ہوئے تو انہوں نے بھاگنے میں اپنی عافیت سمجھی۔ دوسری دفعہ جب مدینے سے کچھ میل دور جا کر مسلمانوں پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے لگے۔ رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ نے حکم دیا کہ ہمارے ساتھ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے وہی لوگ نکلیں جو احد کی جنگ میں شریک تھے۔ کچھ تازہ دم لوگوں نے بھی نکلنا چاہا لیکن آپ نے ایک آدمی کے سوا کسی کو اجازت نہیں دی (الرحیق المختوم) جب تھکے ماندے اور انتہائی زخمی احد کے مجاہدوں کے ساتھ آپ نکلے تو کافروں نے صورت حال جان کر مکہ کی راہ لی۔ اس طرح دوسری مرتبہ کفار پر مسلمانوں کا دبدبہ طاری ہوا۔ ایسے موقع پر رسول معظم ﷺ نے فرمایا :
(نُصِرْتُ بالرُّعْبِ مَسِیْرَۃَ شَھْرٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب التیمم ]
” اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسا رعب عطا کردیا ہے کہ میرا دشمن ایک مہینے کی مسافت پر بیٹھا ہوا بھی کانپتا رہے گا۔ “
اسی رعب کا نتیجہ تھا کہ جب آپ نے مکہ پر یلغار کی تو مکہ والوں نے مقابلہ کرنے کی بجائی آپ سے معافی مانگ کر جان بچائی۔ اس کے بعد حنین والے پسپا ہوئے اور آخر میں سلطنت روم کے حکمران جو اس وقت دنیا کی واحد سپر پاور تھی تبوک کے مقام پر آپ کا سامنا کرنے کی تاب نہ لاسکے۔
مسائل
1۔ مسلمانوں کو کفار کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے۔
2۔ کافر مسلمانوں کو مرتد بنا کر دنیا و آخرت کے نقصان میں ڈالنا چاہتے ہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کا مالک اور بہترین مدد کرنے والا ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ کفار کے دل میں مسلمانوں کا رعب ڈالتا ہے۔
5۔ کافروں کے پاس اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کی کوئی دلیل نہیں۔
6۔ کفار کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
تفسیر بالقرآن
شرک بےبنیاد نظریہ ہے :
1۔ شرکیہ عقیدے کی کوئی دلیل نہیں۔ (المومنون : 117) 2۔ شرک سے آدمی ذلیل ہوجاتا ہے۔ (الحج : 31)
3۔ بتوں کے الٰہ ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔ (النجم : 23) 4۔ مشرک پر جنت حرام ہے۔ (المائدۃ : 72)
5۔ مشرک کو اللہ تعالیٰ کسی صورت معاف نہیں کرے گا۔ (النساء : 48)
Ayahs 3:150–152فہم القرآن
ربط کلام : احد میں ہونے والے افتراق کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ آئندہ اس سے بچا جاسکے۔ مجاہدین کی صفوں میں اختلافات ہوں تو وہ دشمن کے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔
غزوۂ احد کے دن رسول اللہ ﷺ نے خواب بیان فرمایا کہ میں نے رات کو اپنے گردو پیش بہت سی گائیں ذبح ہوتی دیکھی ہیں۔ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ میری تلوار کو دندانے پڑگئے ہیں۔ میں پھر دیکھتا ہوں کہ میں نے اپنے ہاتھ میں ایک مضبوط کڑا پکڑا ہوا ہے جس کی آپ نے یوں تعبیر فرمائی کہ پہلے ہمیں فتح ہوگی اس کے بعد نقصان اٹھانا پڑے گا اور بعد ازاں ہم محفوظ ہوجائیں گے۔ [ رواہ البخاری : کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الإسلام ]
اُحد کی عارضی شکست پر منافقین نے ہرزہ سرائی کی چونکہ یہ رسول اپنے دعوائے رسالت میں سچا نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد کا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا اگر اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت و حمایت کا وعدہ کیا ہوتا تو وہ ضرور پورا کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ میرا وعدہ اس وقت پورا ہوگیا تھا۔ جب مسلمان اللہ تعالیٰ کے حکم سے کفار کو قتل کر رہے تھے پھر تم نے آپس میں اختلاف کیا اور مال غنیمت کو دیکھ کر اپنے رسول کی نافرمانی کی۔ کچھ تم میں دنیا اکٹھی کر رہے تھے جبکہ دوسرے آخرت کے طلبگار تھے۔ یہ درّہ والوں کی طرف اشارہ ہے کہ جن پچاس آدمیوں میں سے دس نے اپنے یونٹ کے سردار کے ساتھ جان دے دی لیکن درّہ نہیں چھوڑا۔ جب کہ دوسرے مال غنیمت سمیٹنے میں لگ گئے حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو تعینات کرتے ہوئے فرمایا تھا :
(إِنْ رَأَیْتُمُوْنَا تَخْطَفُنَا الطَّیْرُ فَلَا تَبْرَحُوْا مَکَانَکُمْ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد ]
” اگر پرندوں کو ہماری بوٹیاں نوچتے ہوئے دیکھو تو پھر بھی تم نے درّہ کو نہیں چھوڑنا۔ “
جب پہلے مرحلہ میں مسلمانوں کو فتح ہوئی اور وہ مال غنیمت اکٹھا کرنے لگے تو درّہ پر مامور لوگ ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ ہمیں بھی شریک ہونا چاہیے ورنہ ہم مال غنیمت سے محروم رہ جائیں گے۔ دستے کے سالار حضرت عبداللہ بن جبیر ؓ نے کہا کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کیونکہ رسول معظم ﷺ نے ہمیں یہیں جمے رہنے کا حکم دیا ہے لیکن دس آدمیوں کے سوا باقی سب درّہ چھوڑ کر مال غنیمت اکٹھا کرنے میں مصروف ہوگئے۔ درّہ خالی دیکھ کر خالد بن ولید کی سربراہی میں کفار نے حملہ کیا اور درّے والوں کو شہید کرتے ہوئے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے جس سے حواس باختہ ہو کر مسلمان ادھر ادھر پہاڑ پر چڑھنے لگے۔ جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کفار سے بچا لیا تاکہ تمہیں آزمائے اور پھر تمہیں معاف کردیا اللہ تعالیٰ مومنوں پر بڑا ہی فضل کرنے والا ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کا خواب سچا کردیا۔
2۔ اللہ تعالیٰ مومنوں پر بڑا فضل کرتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ صاحب فضل وکرم ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ جہان والوں پر فضل کرنے والا ہے۔ (البقرۃ : 243)
2۔ اللہ تعالیٰ مومنوں پر اپنا فضل فرماتا ہے۔ (آل عمران : 152)
3۔ اللہ کا فضل نہ ہو تو آدمی شیطان کے تابع ہوجاتا ہے۔ (النساء : 73)
4۔ اللہ کا فضل نہ ہو تو انسان خسارہ پاتا ہے۔ (البقرۃ : 64)
5۔ اللہ کے فضل وکرم کے بغیر تکلیف سے نہیں بچا جاسکتا۔ (النور : 14)
6۔ فضل سارے کا سارا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ (آل عمران : 73)
Ayah 3:153فہم القرآن
ربط کلام : احد میں سرزد ہونے والی کمزوریوں میں ایک اور کمزوری کی نشاندہی کی ہے کہ جب اکثر صحابہ رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے اور رسول معظم انہیں واپس بلا رہے تھے۔
معرکۂ احد کی ابتدا میں میدان صحابہ کرام ؓ کے ہاتھ رہا کفار نے بھاگنے میں اپنی عافیت سمجھی۔ صحابہ اسلحہ ایک طرف رکھ کر مال غنیمت اکٹھا کرنے میں مصروف ہوگئے۔ درّہ خالی دیکھ کر خالد بن ولید نے اتنی مستعدی اور منصوبہ بندی کے ساتھ حملہ کیا کہ درّہ پر مامور دس اصحاب کو ان کے سالار سمیت شہید کرتے ہوئے غنیمت لوٹنے والوں پر بجلی کی طرح ٹوٹ پڑا۔ افرا تفری کے عالم میں صحابہ کا جس طرف منہ ہوا بھاگناشروع کردیا لیکن رسول معظم ﷺ زخمی ہونے کے باوجود صبر و استقلال کا پہاڑ اور استقامت کا پیکر بن کر اپنی جگہ پر ڈٹے ہوئے تھے۔ چہرے پر پریشانی اور نہ لہجہ میں گھبراہٹ اپنے حواس پر مکمل کنٹرول، پورے تدبر و تفکر کے ساتھ حالات کا جائزہ لیتے ہوئے بھاگنے والوں کو آواز پر آواز دے رہے تھے :
(یَا عِبَادَ اللہ ِإِلَیَّ عِبَادَ اللہ) [ تفسیر البغوی تفسیر آیت وما محمد الارسول ]
” اے اللہ کے بندو ! کہاں بھاگے جا رہے ہو پلٹ کر میری طرف آؤ۔ “
لیکن حالات نے اس قدر اچانک پلٹاکھایا کہ کسی کو کچھ بھی سوجھائی نہیں دے رہا تھا کہ وہ کیا کرے سوائے چودہ صحابہ کے جن میں سات مہاجر اور سات انصار تھے۔ ان میں سر فہرست حضرت ابوبکر صدیق، حضرت طلحہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ تھے۔ جناب سعد بن ابی وقاص ؓ اس طرح جانثاری کے ساتھ آپ کا دفاع کر رہے تھے کہ رسول اللہ ؓ نے ان کے بارے میں فرمایا :
(یَاسَعْدُ ارْمِ فَدَاکَ أَبِيْ وَأُمِّيْ ) [ رواہ البخاری : کتاب المغازی ]
” اے سعد ! تیر پھینکئے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ “
حضرت طلحہ ؓ ڈھال ٹوٹ جانے کی وجہ سے آپ کی طرف آنے والے تیروں کو دبوچنے کی کوشش کرتے جس کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے ان کا ایک بازو مفلوج ہوگیا : جیسا کہ قیس بن حازم کہتے ہیں کہ
(رَأَیْتُ یَدَ طَلْحَۃَ الَّتِيْ وَقٰی بِھَا النَّبِيَّ ﷺ قَدْ شَلَّتْ ) [ رواہ البخاری : کتاب المناقب ]
” میں نے طلحہ ؓ کے ہاتھ کو دیکھا جس کے ساتھ انہوں نے نبی ﷺ کا دفاع کیا تھا وہ مفلوج ہوچکا تھا۔ “
حضرت طلحہ ؓ کبھی کبھار بڑے ناز کے ساتھ مدینہ کے نوجوانوں کو اپنا معذور بازو دکھلاکر فرماتے کہ احد کے دن میں نے اسے ڈھال کے طور پر استعمال کیا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ایک موقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا احد طلحہ کا دن تھا۔ (سیر الصحابہ)
اس ہنگامی صورت حال میں کفار کی طرف سے یہ افواہ پھیلائی گئی کہ مسلمانوں کے نبی کو قتل کردیا گیا ہے۔ یہاں اسی کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ مسلمانو ! وہ وقت یاد کرو جب تم پر غم پر غم ٹوٹ رہے تھے۔ مال غنیمت کا ہاتھ سے نکل جانا، ستر صحابہ کا شہید ہونا، حضرت حمزہ ؓ کا مثلہ کیا جانا ‘ رسول کریم ﷺ کا زخمی ہو کر نیچے گرنا ‘ آپ کے دانت ٹوٹنا، پیشانی پر زخم آنا، فتح کا شکست میں تبدیل ہونا اور کفارکا خوش ہونا ایک سے ایک بڑھ کر صدمہ تھا۔ انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے یہ لچک اور وسعت رکھی ہے کہ اکثر اوقات یہ ہلکا غم برداشت نہیں کرتا لیکن بڑے غم کو حوصلے کے ساتھ برداشت کرلیتا ہے۔ گردشِ ایّام کے ساتھ احد میں ہزیمت کا فلسفہ یہ تھا کہ مسلمان اپنے آپ کو آئندہ حالات کے لیے تیار کرلیں کیونکہ افراد اور قومیں وہی آگے بڑھا کرتی ہیں جو مصائب پر نڈھال اور دل برداشتہ ہونے کے بجائے مضبوط اعصاب کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنے والی ہوتی ہیں۔
مسائل
1۔ متواتر غم سہنے سے آدمی میں حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔
2۔ جماعت کے قائد کو مشکل حالات میں بہادری اور استقامت دکھانا چاہیے۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے اعمال کی خبر رکھنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
غم کا بہتر ردّ عمل :
1۔ غم سے مومن کی تربیت اور اس میں حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ (الحدید : 22، 23)
2۔ غم میں صبر و استقامت کی دعا کرنا چاہیے۔ (البقرۃ : 250)
3۔ جو چھن جائے اس پر پچھتانا نہیں چاہیے جو ملے اس پر اترانا نہیں چاہیے۔ (الحدید : 23)
4۔ پریشانی انسان کے اپنے عمل کا نتیجہ ہوتی ہے۔ (الشوریٰ : 30)
Ayah 3:154فہم القرآن
ربط کلام : احد کے بارے میں تبصرہ جاری ہے۔ احد کے میدان سے ایک دفعہ ہٹنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی طرف سے صحابہ پر سکینت کا نزول۔
اُحد میں سراسیمگی اور پے درپے صدمات کے عالم میں اچانک اللہ کی رحمت کا نزول ہوا جہاں جہاں کوئی تھا۔ لمحہ بھر کے لیے اسے اونگھ آئی جس سے کئی دنوں کی تھکاوٹ اور دماغ کا بوجھ ہلکا ہوا۔ صحابہ ؓ اس طرح تازہ دم ہوئے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ حضرت طلحہ ؓ اپنی کیفیت ذکر کرتے ہیں :
(کُنْتُ فِیْمَنْ تَغَشَّاہ النُّعَاسُ یَوْمَ أُحُدٍ حَتّٰی سَقَطَ سَیْفِيْ مِنْ یَدِيْ مِرَارًا یَسْقُطُ وَآخُذُہٗ وَیَسْقُطُ فَآخُذُہٗ ) [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب ثم أنزل علیکم من بعد الغم الخ ]
” میں ان لوگوں میں تھا جنہیں اونگھ نے آلیا حتیٰ کہ میرے ہاتھ سے کئی مرتبہ تلوار گری اور میں اسے اٹھاتا رہا۔ “
کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہیں نہ اونگھ آئی اور نہ ہی انہیں کچھ سکون حاصل ہوا۔ وہ اللہ تعالیٰ پر بد ظنی کا اظہار کرتے ہوئے ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے کہ کاش ! ہمارے پاس فیصلہ کرنے کا کچھ اختیار ہوتا۔ یہ لوگ اپنے دلوں میں بہت کچھ چھپائے ہوئے تھے۔ یہ بھی کہے جا رہے تھے کہ اگر ہماری بات چلتی تو ہم یہاں مرنے اور کٹنے کے بجائے اپنے گھروں میں ٹھہرے رہتے انہیں سمجھاتے ہوئے یہ عقیدہ بتلایا گیا ہے کہ کلی اختیارات صرف اللہ کے پاس ہیں۔ اگر تم اپنے گھروں میں بستروں پر لیٹے ہوتے تو پھر بھی موت کے وقت اپنے مقتل پر پہنچ جاتے۔ گو شکست تمہاری اپنی کمزوریوں کا نیتجہ ہے لیکن حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس میں آزمائش ہے تاکہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے وہ ظاہر ہوجائے اور تمہیں معلوم ہو کہ تم ایمان کے کس مقام پر کھڑے ہو ؟ اللہ تعالیٰ دلوں کے حالات سے خوب واقف ہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ منافقوں کے ساتھ بعض کمزور مسلمانوں نے بھی ایسے خیالات کا اظہار کیا تھا جن کے متعلق یہ تبصرہ کیا گیا ہے کہ جن لوگوں نے احد کے دن پیٹھ دکھائی درحقیقت ان کی کمزوریوں کی وجہ سے شیطان نے انہیں ایسا کرنے پر اکسایا تھا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا ہے اور اللہ تعالیٰ نہایت ہی معاف فرمانے والا، بُردبار ہے۔
حافظ ابن حجر ؓ اس فرمان کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انسان کے اعمال لشکر کی طرح ہیں جو آدمی کو اپنے مطابق گھسیٹ لیتے ہیں اگر نیک اعمال ہوں گے تو وہ نیکی کی طرف کھینچ لیں گے اور اگر برے اعمال ہوں گے تو وہ برائی کی طرف لے جائیں گے۔ یہاں معافی کا اعلان ان مسلمانوں کے لیے ہے جو درّہ اور میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے سامنے کسی شخص نے حضرت عثمان ؓ پر اعتراض کیا کہ وہ تین اہم موقعوں پر غیر حاضر تھے۔ ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ صلح حدیبیہ کے وقت حضرت عثمان کو نبی کریم ﷺ نے اپنی اور مسلمانوں کی طرف سے مکہ میں نمائندہ بنا کر بھیجا تھا کہ وہ کفار کے ساتھ مذاکرات کریں۔ جب آپ نے صحابہ سے بیعت لی تو اپنے ہاتھ کو عثمان ؓ کا ہاتھ قرار دیا تھا۔ اس سے بڑھ کر کونسا اعزاز ہوسکتا ہے ؟ غزوۂ بدر میں حضرت عثمان ؓ کی غیر حاضری اس لیے تھی کہ ان کی بیوی جو نبی کریم کی بیٹی تھی وہ ان دنوں شدید بیمار تھیں۔ آپ نے اس کی تیمار داری کے لیے حضرت عثمان ؓ کو گھر میں رہنے کی اجازت دی تھی۔
جہاں تک احد میں میدان چھوڑ کر بھاگنے کا تعلق ہے۔ اس میں چودہ صحابہ ؓ کے علاوہ باقی سب شامل تھے۔ حضرت عثمان ؓ تنہا نہیں تھے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان سب کو معاف کردینے کا اعلان کردیا ہے۔ اس کے بعدابن عمر ؓ نے یہ آیت پڑھتے ہوئے فرمایا کہ تجھے معلوم نہیں کہ اللہ نے انہیں معاف کردیا ہے جس کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دے اس پر کسی کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں رہتا۔ ظَنَّ الْجَاھِلِیَّۃ سے مرا دایسا خیال ہے جو عقیدہ توحید اور شریعت کے اصولوں کے خلاف ہو۔ کچھ لوگوں نے یہ کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مدد کا وعدہ نہیں کیا تھا۔
(إِنَّ وَعْدَ اللَّہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا وَلَا یَغُرَّنَّکُمْ باللَّہِ الْغَرُورُ )[ لقمان : 33]
” بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے چناچہ تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ شیطان اللہ کے بارے میں دھوکے میں رکھے۔ “
مسائل
1۔ تمام اختیارات اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں۔
2۔ مرنے کے وقت آدمی خود بخود موت کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔
3۔ مرنے کے وقت آزمائش میں انسان کا امتحان ہوتا ہے۔ 4۔ اللہ کا کرم نہ ہو تو شیطان آدمی کو پھسلا دیتا ہے۔
5۔ اللہ سینوں کے رازوں کو جانتا ہے۔ 6۔ اللہ بخشنے والا ‘ حوصلے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
ظَنّ کے معانی :
1۔ ظن کا معنٰی یقین۔ (الحاقۃ : 20)
2۔ ظن کا معنی گمان کرنا۔ (یوسف : 42) (موقعہ کی مناسبت سے معنٰی کا تعین کیا جاتا ہے)
موت ہر کسی کا مقدر ہے :
1۔ موت کا وقت مقرر ہے۔ (آل عمران : 145) 2۔ موت کی جگہ متعین ہے۔ (آل عمران : 154)
3۔ موت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ (آل عمران : 168) 4۔ موت سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ (النساء : 78)
5۔ سب کو موت آنی ہے۔ (الانبیاء : 35)
6۔ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر کسی نے مرنا ہے۔ (الرحمن : 26، القصص : 88)
Ayahs 3:155–156فہم القرآن
ربط کلام : منافقین نے اپنے عزیزوں کی موت پر حسرت وافسوس کا اظہار کیا جس پر مسلمانوں کو سمجھایا گیا ہے کہ تمہیں منافقوں اور بزدلوں کی طرح اپنے جذبات کا اظہار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ موت وحیات تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
اے صاحب ایمان لوگو ! تمہاری سوچ اور زبان کفار جیسی نہیں ہونی چاہیے جنہوں نے اپنے رشتے داروں کو یہ کہا کہ اگر تم قتال کے لیے نہ نکلتے اور ہمارے ہاں ٹھہرے رہتے تو قتل ہونے سے بچ جاتے دراصل یہ لوگ اپنی حد سے بڑھ کر بات کرتے ہیں۔ کیونکہ موت وحیات کے فیصلے صرف اللہ کے اختیار میں ہیں۔ کسی نیک کی نیکی ‘ برے کی برائی ‘ دانش مند کی دانش مندی اور محتاط کی احتیاط موت کو ٹال سکتی ہے اور نہ ہی کسی کو اس کی موت کی جگہ سے ہٹا سکتی ہے۔ یہ تو کفار کی سوچ ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو یوں ہوجاتا اور یوں ہوتا تو اس طرح ہوجاتا۔ ایسے لوگ زندگی بھر ایسی حسرتوں کا شکار رہتے ہیں کہ کاش وسائل ہوتے تو یہ اور وہ ہوجاتا حالانکہ ہوتا وہی ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ایسی گفتگو اور سوچ سے منع فرمایا ہے :
(عَنْ أبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَلْمُؤْمِنُ الْقَوِیُّ خَیْرٌ وَّاأحَبُّ إِلَی اللّٰہِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِیْفِ وَ فِیْ کُلٍّ خَیْرٌ إِحْرِصْ عَلٰی مَا یَنْفَعُکَ وَاسْتَعِنْ باللّٰہِ وَلَا تَعْجَزْ وَإِنْ أَصَابَکَ شَیْ ءٌ فَلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّی فَعَلْتُ کَانَ کَذَا وَ کَذَا وَلٰکِنْ قُلْ قَدَّرَ اللّٰہُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّیْطَانِ )
[ رواہ مسلم : کتاب القدر، باب فی الأمر بالقوۃ وترک العجز والإستعانۃ باللہ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے طاقتور مومن اللہ کے ہاں کمزور مومن سے بہتر اور پسندیدہ ہے تاہم بہتری اور خیر دونوں میں ہے۔ تجھے نفع بخش چیز کی طلب کرتے ہوئے اللہ سے مدد طلب کرنا چاہیے اور عاجز نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی تکلیف آئے تو یہ نہ کہنا چاہیے کہ اگر میں یہ کام کرتا تو ایسے ہوجاتا بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اللہ نے جو تقدیر میں لکھا اور جو چاہا کردیا۔ کیونکہ لفظ ” اگر سے شیطان اپنے کام کی ابتدا کرتا ہے۔ “
رسول اللہ ﷺ کے فرمان کا مقصد یہ ہے کہ پریشانی کے موقعہ پر آدمی کے اگر مگر کہنے سے شیطان آدمی کا عقیدہ کمزور کرنے اور اسے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ “
رسول اکرم ﷺ کی تعلیم :
آپ نے بچوں کے ذہنوں میں بھی یہ بات پختہ کردی کہ جو فیصلہ اللہ تعالیٰ نے کر رکھا ہے وہ ہو کر رہنے والا ہوتا ہے۔ نہ وہ ٹل سکتا ہے اور نہ اسے کوئی روک سکتا ہے آپ نے عبداللہ بن عباس ؓ کو یہ عقیدہ سکھایا :
(وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّۃَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلٰی أَنْ یَنْفَعُوْکَ بِشَیْءٍ لَمْ یَنْفَعُوْکَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ لَکَ وَلَوِ اجْتَمَعُوْا عَلٰی أَنْ یَّضُرُّوْکَ بِشَیْءٍ لَمْ یَضُرُّوْکَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلَیْکَ رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ ) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع ]
” یقین رکھ کہ اگر پوری دنیا تجھے کچھ نفع دینے کے لیے جمع ہوجائے تو وہ اتنا ہی نفع دے سکتی ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے لکھ رکھا ہے اور اگر وہ تجھے کچھ نقصان دینے پہ تل جائے تو تجھے اتنا ہی نقصان پہنچے گا جتنا تیری قسمت میں لکھا گیا ہے، قلمیں اٹھالی گئیں ہیں اور صحیفے خشک ہوگئے ہیں۔ “
مسائل
1۔ مسلمانوں کی سوچ اور گفتگو کفار جیسی نہیں ہونی چاہیے۔
2۔ مسلمانوں کو جہاد سے پھسلانا یا ہٹانا کفریہ سوچ ہے۔
3۔ موت اور زندگی اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔
تفسیر بالقرآن
حسرت زدہ لوگ :
1۔ اسلام کا انکار کرنا حسرت کا سبب ہوگا۔ (الحاقۃ : 50)
2۔ مشرکین قیامت کے دن حسرت کا اظہار کریں گے۔ (البقرۃ : 167)
3۔ قیامت کے منکرین حسرت وافسوس کریں گے۔ (الانعام : 31)
4۔ قیامت کے دن مجرم دنیا کی بری دوستی پر اظہار افسوس کریں گے۔ (الفرقان : 27 تا 29)
Ayah 3:157فہم القرآن
ربط کلام : منافق قتل ہوں یا طبعی موت مریں ان کے لیے حسرتیں ہیں مسلمان شہید ہوں یا فطری موت مریں ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بخشش ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دنیا کی کوئی دولت مقابلہ نہیں کرسکتی۔
یہاں تجزیاتی انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص جو اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لیے میدان کار زار میں اترتا ہے اور شہید ہوجاتا ہے یا اسے اللہ تعالیٰ کی سمع و اطاعت میں طبعی موت آجاتی ہے اس کا صلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی زندگی کی فرو گزاشتوں کو اپنے کرم سے معاف فرمائیں گے اور اس کے اعمال سے کہیں بڑھ کر اپنی رحمت سے نوازیں گے۔ یہ اجر وثواب دنیا کی دولت و ثروت سے کہیں بڑھ کر ہے۔ جس کو لوگ زندگی بھر جمع کرتے رہتے ہیں۔ ایسے مومن کو جب موت آتی ہے تو ملائکہ اس کا استقبال کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی مہمان نوازی کا اہتمام ہوتا ہے۔ ان کے مقابلہ میں جو لوگ بدکردار اور اللہ کے نافرمان ہوتے ہیں۔ وہ بری موت مرتے ہیں اور ان کا انجام جہنم ہوگا۔ یہاں کفار کی حسرتوں کا جواب دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تم دنیا میں کتنی مدت ٹھہرے رہو گے ؟ اگر تم قتل ہوجاؤ یا تمہیں طبعی موت آئے بالآخر تم نے اللہ کے حضور ہی جمع ہونا ہے۔ پھر موت سے فرار اور ان حرکتوں کا کیا فائدہ ؟ ذرا سوچیے کہ کتنا فرق ہے ایک اللہ کے حضور عزت و تکریم کے ساتھ مہمان کی حیثیت سے حاضر ہے اور اسے دائمی آرام و انعام سے نوازا جا رہا ہے۔ دوسرا رو سیاہ ‘ ذلیل و خوار اور مجرم بن کر پیش ہو رہا ہے اور اسے ہمیشہ کے لیے جہنم کے دہکتے ہوئے انگاروں میں پھینکا جا رہا ہیلہٰذا سوچو دنیا بہتر ہے یا آخرت۔
مسائل
1۔ اللہ کا فرمانبردار اور اس کی راہ میں جہاد کرنے والا بخشا جائے گا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت دنیا کے مال و متاع سے بےانتہا گنا بہتر ہے۔ 3۔ کوئی طبعی موت مرے یا قتل ہوجائے سب کو اللہ کے ہاں جمع ہونا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ کی رحمت و بخشش دنیا کے خزانوں سے بہتر :
1۔ اللہ کا فضل ورحمت دنیا کے مال ومتاع سے بہتر ہے۔ (یونس : 58)
2۔ اللہ کی رحمت دنیا کے خزانوں سے بہتر ہے۔ (الزخرف : 32)
3۔ حکمت و بصیرت خیر کثیر ہے۔ (البقرۃ : 269)