3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsفہم القرآن

Ayahs 3:80–81

وَ لَا یَاْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰٓئِكَةَ وَ النَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا١ؕ اَیَاْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 3:80 in the Quran reader

اور نہ تمہیں فرشتوں اور نبیوں کو رب ٹھہرا لینے کا حکم کرے گا کیا وہ تمہارے مسلمان ہونے کے بعد تمہیں کفر کا حکم دے گا ؟

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗ١ؕ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِیْ١ؕ قَالُوْۤا اَقْرَرْنَا١ؕ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:81 in the Quran reader

جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب و حکمت دوں تو پھر تمہارے پاس وہ رسول آئے جو تمہارے پاس ہے اس کی تصدیق کرنے والا ہو تمہارے لیے اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا لازم ہے فرمایا کہ کیا تم اس کے اقراری ہو اور اس پر میرا ذمہ لے رہے ہو ؟ سب نے کہا کہ ہم اقرار کرتے ہیں۔ فرمایا تم گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں

فہم القرآن ربط کلام : عیسائیوں اور یہودیوں کے الزام ‘ بہانے اور جھوٹ کی تردید۔ یہودی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نام لے کر اور عیسائی جناب عیسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے کہتے ہیں۔ ہمیں ہدایت کی گئی ہے کہ ہم اپنے انبیاء کے علاوہ کسی نبی پر ایمان نہ لائیں۔ ان کی کذب بیانی کی تردید کرتے ہوئے اس عہد کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے تخلیق آدم کے وقت انبیائے کرام سے لیا تھا کہ میں تمہیں کتاب و حکمت سے سرفراز کروں گا۔ لیکن ایک آخر الزمان پیغمبر آنے والا ہے جو تمہاری شریعتوں کی تائید کرے گا۔ جس کے دور میں وہ پیغمبر آئے اس نبی کا فرض ہوگا کہ وہ اس پر ایمان لائے اور اس کی نصرت و حمایت کرے۔ فرمایا کہ کیا تم اس بات کا اقرار اور میرے ساتھ وعدہ کرتے ہو ؟ تمام انبیاء نے بیک زبان ہو کر اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ ہم نبی آخر الزمان پر ایمان لاتے ہوئے اس کی مدد کریں گے۔ فرمایا پھر گواہ رہنا اور میں بھی اپنی شہادت تمہارے ساتھ ثبت کرتا ہوں۔ یاد رکھنا ! کہ جس نے اس عہد سے انحراف کیا وہ نافرمان سمجھا جائے گا۔ چناچہ ہر نبی اور رسول نے اپنے دور نبوت میں اپنی امت کو ہدایت کی کہ جوں ہی خاتم المرسلین تشریف لائیں تو تمہارا فرض ہوگا کہ تم میری نبوت چھوڑ کر اس پر ایمان لا کر اس کی نصرت و حمایت کرنا۔ رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے لیے حضرت ابراہیم ﷺ نے دعامانگی اور اپنی دعا میں اس تمنا کا اظہار کیا کہ بارالٰہ ! وہ آخری نبی مکہ معظمہ میں مبعوث فرمانا۔ اس طرح انہوں نے علاقے اور ایک شہر کی نشاندہی فرما دی (البقرۃ : 129) ان کے بعد آپ کی رسالت کا ہر نبی اعلان کرتا رہا یہاں تک کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) نے آپ کے اسم گرامی سے بنی اسرائیل کو آگاہ فرمایا اس آخری رسول کا نام نامی اسم گرامی احمد ہوگا۔ (الصف : 6) بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ یہ عہد انبیاء سے لینے کے بجائے ان کی وساطت سے ان کی امتوں سے لیا گیا تھا۔ حالانکہ قرآن مجید دوٹوک انداز میں واضح کررہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ عہد انبیاء سے براہ راست لیا تھا۔ دراصل ان حضرات کو ” فَمَنْ تَوَلّٰی “ (کہ تم میں سے عہد سے پھر جائے) کے الفاظ سے مغالطہ ہوا ہے اس لیے کہ نبی تو عام آدمی کے ساتھ عہد شکنی نہیں کرتا چہ جائے کہ اللہ کے ساتھ انبیاء کی وعدہ خلافی کے بارے میں کچھ کہا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انبیاء کے بارے میں یہ سوچنا گناہ ہے لیکن بات کی اہمیت کے پیش نظر قرآن مجید نے کئی مقامات پر یہ اسلوب اختیار فرمایا ہے۔ یہ انداز اس لیے بھی اپنایا گیا کہ معاملہ رب ذوالجلال کے ساتھ ہورہا ہے۔ لہٰذا یہ عہد انبیائے عظام سے ہوا کیونکہ خالق کو اپنی مخلوق پر حق ہے کہ جس طرح چاہے خطاب فرمائے۔ یہاں عہد کے بجائے میثاق کا لفظ استعمال فرمایا جو اہمیت کے اعتبار سے بلند درجہ رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول محترم ﷺ اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کو اس طرح بھی خطاب فرمایا ہے : (لَءِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ ) [ الزمر : 65] ” اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے اعمال برباد ہوجائیں گے۔ “ (وَلَوْ أَشْرَکُوْالَحَبِطَ عَنْھُمْ مَّاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) [ الانعام : 88] ” اور اگر یہ تمام انبیاء بھی شرک کا ارتکاب کرتے تو ان کے اعمال ضائع ہوجاتے۔ “ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی وصیت ” میں دنیا میں اس لیے آیا ہوں کہ اس اللہ کے رسول کی آمد کے لیے راستہ ہموار کروں جو دنیا کو نجات دلائے گا۔ لیکن خبردار ! دھوکہ نہ کھانا، کیونکہ بیشمار جھوٹے نبی آئیں گے جو میرا نام لیں گے اور میری انجیل میں ملاوٹ کریں گے۔ “ [ برناباس۔ باب 71] ” وہ تمہارے وقتوں میں نہیں آئے گا بلکہ تمہارے کچھ عرصے کے بعد آئے گا جب کہ میری انجیل مسترد کردی جائے گی۔۔ وہ دنیا سے بت پرستی کا خاتمہ کرے گا اور ان لوگوں سے بدلہ لے گا جو مجھے آدمی سے بڑھ کر کچھ اور تصور کریں گے۔ “ [ برناباس۔ باب 71] مسائل 1۔ رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا تمام انبیاء نے اقرار کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنی شہادت ثبت فرمائی۔ تفسیر بالقرآن انبیاء ایک دوسرے کے مصدّق تھے : 1۔ نبی کریم ﷺ نے پہلے انبیاء کی تصدیق کی۔ (الصافات : 37) 2۔ قرآن پہلی کتب کا مصدق ہے۔ (آل عمران : 3) 3۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے تورات کی تصدیق کی۔ (آل عمران : 50) 4۔ حضرت یحییٰ ، عیسیٰ (علیہ السلام) کے مصدق تھے۔ (آل عمران : 39)
Ayahs 3:82–83

فَمَنْ تَوَلّٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 3:82 in the Quran reader

پس اس کے بعد جو پھرجائیں وہ یقیناً پورے نافرمان ہیں

اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُوْنَ وَ لَهٗۤ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَ Open ayah 3:83 in the Quran reader

کیا اللہ تعالیٰ کے دین کے سوا وہ کوئی اور دین تلاش کرتے ہیں حالانکہ زمین اور آسمانوں کی ہر چیز خوشی اور ناخوشی سے اللہ تعالیٰ کی فرمانبردار ہے اور سب اس کی طرف لوٹائے جائیں گے

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب اور اللہ کے نافرمانوں کو بار بار سوچنا چاہیے کہ تمہاری بد عہدی اور نافرمانی سے رب کی خدائی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ زمین و آسمان کی ہر چیز اپنے خالق ومالک کی تابعدار ہے۔ جب ساری مخلوق تابعدار اور تمام انبیاء نے نبی ﷺ کی نبوت کا اقرار اور اس سے عہد کیا تو تم نبوت کا انکار اور اللہ کی بغاوت کرنے والے کون ہوتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے احکامات ماننے کا نام دین ہے۔ اے اہل کتاب اور دنیا جہان کے لوگو ! کیا اللہ تعالیٰ کی اطاعت چھوڑ کر کسی اور کی تابعداری کرنا چاہتے ہو ؟ ذراغور کرو اور سوچو کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی فرمانبرداری میں لگی ہوئی ہے۔ سورج اس کے حکم کے مطابق ڈیوٹی دے رہا ہے، چاند اس کی اطاعت میں اپنی منازل طے کرتا ہے، ستارے اسی کے نظام کے مطابق چھپتے اور ظاہر ہوتے ہیں۔ دریا اور سمندر اس کے حکم سے رواں دواں ہیں۔ ہوائیں اس کی فرمانبرداری میں چلتی اور رکتی ہیں، رات اور دن اس کے حکم سے ایک دوسرے کے آگے پیچھے چل رہے ہیں جونہی حکم ہوگا پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے، ہوائیں تھم جائیں گی، سمندر جامد ہوجائیں گے، سورج اپنا رخ موڑلے گا، اور لیل ونہار کی گردشیں رک جائیں گی گویا کہ پورے کا پورا نظام لفظ ” کُنْ “ سے جامد، ساکت اور الٹ پلٹ ہوجائے گا۔ جب پورا نظام اللہ تعالیٰ کی سمع وطاعت اور اس کے حکم سے انسان کی خدمت میں لگا ہوا ہے تو حیف ہے انسان پر جو اس کی ذات کا انکار اور اس کے حکم سے سرتابی کرتے ہوئے پورے نظام کے ساتھ بغاوت اور اس کے خلاف چلتا ہے۔ لہٰذا انتباہ کے انداز میں سوال کیا جا رہا ہے کیا اللہ تعالیٰ کے نظام قدرت کے خلاف چلنا چاہتے ہو ؟ جب کہ زمین و آسمان کی ہر چیز چاروناچار اس کے حکم کی فرمانبردار ہے۔ لفظ ” کَرْھًا “ استعمال فرما کر باغی انسانوں کو متنبہ کیا جارہا ہے کہ وہ اللہ ہواؤں کا رخ موڑدیتا ہے، سمندروں کو پرسکون بنا دیتا ہے، پہاڑوں کو پھاڑکر چشمے چلا دیتا ہے، شمس وقمر اپنے وجود عظیم کے باوجود اس کے سامنے بےبس ہیں، آسمان اپنی بلندیوں کے باوجود اس کے زیر تسلط ہیں، زمین کی وسعت و کشادگی اس کی کرسی اقتدار کے سامنے ایک انگوٹھی کے مانند ہے تو اے انسان ! تم اس رب کی دسترس سے کس طرح باہر ہوسکتے ہو ؟ اس کی دی ہوئی مہلت کے بعد بالآخر تم نے اسی کے حضور پیش ہونا ہے۔ دین کی روح اور مدعا اللہ تعالیٰ کی سمع وطاعت کا نام ہے اور یہی انبیاء کرام کی دعوت ہے اور اسی پر وہ ایمان لائے اور اسی کی اطاعت کرتے رہے۔ لہٰذا اے رسول ! تم اس بات کا اعلان کرو کہ میں ہی نہیں بلکہ ہم سب کے سب اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور جو کچھ ہم پر اور ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، موسیٰ اور عیسیٰ پر نازل کیا گیا ہم ان میں سے کسی ایک کی نبوت کی نفی اور ان کے درمیان تفریق نہیں کرتے اور ہم اسی کے ماننے والے ہیں اور یہی انبیاء کا دین اور طریقۂ حیات تھا۔ جو بھی اس طرز بندگی اور سمع وطاعت کے طریقہ سے ہٹ کر زندگی بسر کرے گا اس کی کوئی نیکی اور کاوش اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں ہوگی اور اس کا انجام بالآخر نقصان پانے والوں میں ہوگا۔ مسائل 1۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تابع فرمان ہے۔ لہٰذا جن و انس کو بھی اللہ کی اطاعت کرنا چاہیے۔ 2۔ سب نے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ 3۔ اسلام کے سوا دوسرادین قبول نہیں کیا جائے گا۔ 4۔ ایمان کا تقاضا ہے کہ انبیاء کی کتابوں کا من جانب اللہ ہونا بلاتفریق تسلیم کیا جائے۔ 5۔ دین اسلام کے خلاف چلنے والا بالآخر نقصان اٹھائے گا۔ تفسیر بالقرآن اسلام کی اہمیّت : 1۔ اسلام کے بغیر کوئی دین قبول نہیں۔ (آل عمران : 85) 2۔ اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہے۔ (آل عمران : 19) 3۔ یوسف (علیہ السلام) کی اسلام پر موت کی دعا۔ (یوسف : 101) 4۔ سب کو اسلام پر ہی مرنے کا حکم۔ (البقرۃ : 132)
Ayahs 3:84–86

قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١۪ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:84 in the Quran reader

آپ کہہ دیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور جو کچھ ہم پر اتارا گیا ہے اور جو کچھ ابراہیم ‘ اسحاق اور یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر اتارا گیا ہے اور جو کچھ موسیٰ و عیسیٰ اور دوسرے انبیاء (علیہ السلام) اللہ کی طرف سے دیے گئے ان سب پر ایمان لائے ہم ان میں سے کسی ایک کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ اور ہم اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں۔

وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْهُ١ۚ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 3:85 in the Quran reader

جو کوئی اسلام کے سوا کوئی اور دین تلاش کرے اس کا دین قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والے ہوں گے

كَیْفَ یَهْدِی اللّٰهُ قَوْمًا كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ وَ شَهِدُوْۤا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّ جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:86 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو کیسے ہدایت دے جو ایمان لانے اور رسول کی سچائی کی گواہی دینے اور اپنے پاس واضح دلائل آجانے کے بعد کفر کریں اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا

فہم القرآن ربط کلام : انبیاء کے مشن اور نظام کائنات کے خلاف چلنے والے کفار کی دنیا میں سزا اور آخرت میں اس کا انجام۔ اکثر مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ایمان کے بعد کفر اختیار کرنے والوں سے مراد اہل کتاب ہیں۔ کیونکہ تورات اور انجیل کے حوالے سے وہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے بارے میں قلبی طور پر مانتے ہیں کہ یہ حق ہے۔ اس فرمان کے مخاطب اہل کتاب ہوں یا مرتدین آپ کی رسالت کی حقیقت کے ٹھوس دلائل جاننے کے باوجود جو بھی تسلیم ورضا کارویّہ اختیار نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت عطا نہیں کیا کرتا۔ جو شخص اپنے آپ پر ظلم کرنے کے درپے ہوجائے اس کا ہاتھ پکڑنا مشکل ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ ہر زبان میں محاورہ ہے کہ ” سوئے ہوئے کو تو جگایا جاسکتا ہے۔ لیکن جاگتے کو جگانامحال ہوتا ہے “ یہاں بھی ایسے ہی لوگوں کو مخاطب کیا جارہا ہے کہ جنہوں نے آپ کی رسالت کو اس طرح پہچان لیا ہے جس طرح باپ اپنے بیٹے کو پہچان لیا کرتا ہے لیکن پھر بھی تعصب یا کسی مفاد کے چھن جانے کے خوف سے آپ پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ایسے ظالموں کو ہدایت دینا تو درکنار ان پر اللہ تعالیٰ ‘ ملائکہ اور دنیا جہان کے انسان پھٹکار بھیجتے ہیں۔ ایسا پھٹکارا ہوا شخص ہدایت پائے تو کس طرح ؟ انہیں تو اس پھٹکار کی حالت میں ہمیشہ رہنا ہے اور یہ پھٹکار انہیں بالآخر جہنم میں لے جائے گی۔ جہاں ان پر نہ کبھی عذاب ہلکا ہوگا اور نہ وہ اس سے چھٹکارا پاسکیں گے۔ مسائل 1۔ جان بوجھ کر حق کا انکار کرنے والے کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا۔ 2۔ کفار پر اللہ تعالیٰ اور پوری مخلوق لعنت کرتی ہے۔
Ayahs 3:87–89

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ اَنَّ عَلَیْهِمْ لَعْنَةَ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 3:87 in the Quran reader

ان کی یہی سزا ہے کہ ان پر اللہ کی ‘ فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَۙ Open ayah 3:88 in the Quran reader

جس میں یہ ہمیشہ رہیں گے نہ تو ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١۫ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:89 in the Quran reader

مگر جو لوگ اس کے بعد تو بہ اور اصلاح کرلیں تو بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے لیے توبہ کی گنجائش اور توبہ کرنے پر مہربانی کا وعدہ۔ توبہ کا معنٰی پلٹنا ہے جس سے مراد آدمی کا اللہ کی طرف رجوع کرنا ہے کیونکہ یہ شخص اپنے گناہوں اور جرائم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حکم سے الگ اور اس کی رحمت سے دور ہوگیا تھا۔ اب یہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوا ہے اور اس نے توبہ کی ایسے شخص کو تائب کہتے ہیں۔ جب لفظ توبہ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو معنٰی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر توجہ فرمائی۔ توبہ کی تکمیل کے لیے دو شرطیں ازحد ضروری ہوا کرتی ہیں 1 سابقہ گناہوں کی معافی طلب کرنا جسے قرآن و حدیث میں استغفار کہا گیا۔ 2 دوسری شرط یہ ہے کہ آدمی اخلاص نیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کرے کہ اِلٰہی آئندہ میں اس گناہ سے بچنے کی کوشش کروں گا۔ ذاتی اصلاح کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کی وجہ سے معاشرے میں جو گناہ پھیلا ہے اس کی تردید اور اس کے اثرات ختم کرنے کے لیے بھی کوشش کرتا رہے۔ ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ یقیناً اس کے گناہوں کو معاف فرمائے گا کیونکہ وہ معاف فرمانے والا ‘ نہایت مہربان ہے۔ مسائل 1۔ توبہ اور اصلاح کرلینے والوں کو معاف کردیا جاتا ہے۔ تفسیر بالقرآن توبہ کی شرائط : 1۔ اعتراف جرم کے سبب توبہ قبول ہوتی ہے۔ (البقرۃ : 37) 2۔ ظلم سے اجتناب اور اصلاح احوال کے بعد توبہ قبول ہوتی ہے۔ (المائدۃ : 39) 3۔ جہالت کے سبب گناہ کرکے اصلاح کرنے پر اللہ توبہ قبول کرتا ہے۔ (الانعام : 54) 4۔ توبہ قبول کرنا اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے۔ (التوبۃ : 27) 5۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی گناہ معاف نہیں کرسکتا۔ (آل عمران : 135)
Ayah 3:90

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الضَّآلُّوْنَ Open ayah 3:90 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اپنے ایمان کے بعد کافر ہوئے پھر کفر میں بڑھ گئے ان کی توبہ ہرگز قبول نہیں کی جائے گی یہی لوگ گمراہ ہیں

فہم القرآن ربط کلام : توبہ اور اصلاح کا موقعہ ملنے کے باوجود جو لوگ کفر و شرک پر ہیں۔ ان کے بارے میں حتمی سزا کا اعلان۔ بلا شبہ جن لوگوں نے ایمان کے بعد کفر اختیار کیا اور پھر اپنی اصلاح اور ایمان کی طرف پلٹنے کی بجائے کفر میں آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول نہیں کرے گا اور یہی لوگ گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اگر انہیں اسی حالت میں موت آگئی تو ایسے لوگ قیامت کے دن اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے زمین بھر سونا بھی پیش کریں تو وہ قبول نہیں ہوگا۔ یاد رہے کہ مرنے کے بعد انسان کے پاس اچھے یابرے اعمال کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہوگی۔ اس کے باوجود یہاں فدیہ کی بات ہورہی ہے۔ اس کا معنٰی ہے کہ ایسے لوگوں کے پاس نہ مرنے کے بعد کچھ ہوگا نہ ہی یہ لوگ عذاب سے نجات پائیں گے اور نہ ہی ان کا کوئی حامی ومدد گار ہوگا۔ (عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُؤْتٰی بالرَّجُلِ مِنْ أَھْلِ الْجَنَّۃِ فَیَقُوْلُ لَہٗ یَاابْنَ آدَمَ کَیْفَ وَجَدْتَّ مَنْزِلَکَ فَیَقُوْلُ أَیْ رَبِّ خَیْرُ مَنْزِلٍ فَیَقُوْلُ سَلْ وَتَمَنَّ فَیَقُوْلُ مَا أَسْأَلُ وَأَتَمَنّٰی إِلَّا أَنْ تَرُدَّنِيْ إِلَی الدُّنْیَا فَأُقْتَلَ فِيْ سَبِیْلِکَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَایَرٰی مِنْ فَضْلِ الشَّھَادَۃِ وَیُؤْتٰی بالرَّجُلِ مِنْ أَھْلِ النَّارِ فَیَقُوْلُ لَہٗ یَا ابْنَ آدَمَ کَیْفَ وَجَدْتَّ مَنْزِلَکَ فَیَقُوْلُ أَیْ رَبِّ شَرُّّ مَنْزِلٍ فَیَقُوْلُ لَہٗ أَتَفْتَدِيْ مِنْہُ بِطِلَاعِ الْأَرْضِ ذَھَبًا فَیَقُوْلُ أَيْ رَبِّ نَعَمْ فَیَقُوْلُ کَذَبْتَ فَقَدْ سَأَلْتُکَ أَقَلَّ مِنْ ذٰلِکَ وَأَیْسَرَ فَلَمْ تَفْعَلْ فَیُرَدُّ إِلَی النَّارِ ) [ مسند أحمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب باقی المسند السابق ] ” رسول محترم ﷺ نے فرمایا ایک جنتی کو لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا اے ابن آدم تو نے اپنا مقام کیسا پایا ؟ وہ جواب دے گا اے میرے رب ! بہترین رہنے کی جگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کسی اور تمنا کا اظہار کر۔ وہ عرض کرے گا نہ میری کوئی تمنا ہے نہ سوال سوائے اس کے کہ آپ مجھے دنیا میں دوبارہ بھیج دیں میں تیری راہ میں دس مرتبہ شہید کردیا جاؤں یہ شہادت کی فضیلت کی وجہ سے تمنا کرے گا۔ پھر ایک جہنمی آدمی لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا۔ اے ابن آدم تو نے اپنا ٹھکانہ کیسا پایا ؟ وہ جواب دے گا اے میرے رب ! بدترین ٹھکانا ہے اللہ تعالیٰ اسے کہیں گے کیا تو زمین بھر سونا فدیہ کے طور پردے گا ؟ وہ کہے گا ہاں میرے رب۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹ بولتا ہے میں نے تو تجھ سے اس سے کم اور آسان کام کا مطالبہ کیا تھا جو تو نے نہ کیا۔ پھر اسے جہنم میں داخل کردیا جائے گا۔ “ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ یَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی لِأَھْوَنِ أَھْلِ النَّارِ عذَابًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَوْ أَنَّ لَکَ مَافِي الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ أَکُنْتَ تَفْتَدِيْ بِہٖ فَیَقُوْلُ نَعَمْ فَیَقُوْلُ أَرَدْتُّ مِنْکَ أَھْوَنَ مِنْ ھٰذَا وَأَنْتَ فِيْ صُلْبِ آدَمَ أَنْ لَّاتُشْرِکَ بِيْ شَیْءًا فَأَبَیْتَ إِلَّآأَنْ تُشْرِکَ بِيْ ) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار ] ” حضرت انس بن مالک ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتی ہیں آپ نے فرمایا ایک جہنمی آدمی سے روز قیامت کہا جائے گا تیرا کیا خیال ہے کہ اگر تیرے پاس زمین میں جو کچھ ہے تو وہ جہنم کے عذاب کے بدلے فدیہ دے ؟ وہ کہے گا ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں نے تو تجھ سے اس سے ہلکی اور کم چیز کا مطالبہ کیا تھا۔ میں نے تیرے باپ آدم کی پشت میں عہد لیا تھا کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گا لیکن تو نے انکار کیا اور میرا شریک ٹھہرایا۔ “ مسائل 1۔ حالت ارتداد پر قائم رہنے والے کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ 2۔ کفر کی حالت میں مرنے والے کی معافی نہیں۔ تفسیر بالقرآن قیامت کو کفار سے کچھ بھی قبول نہیں کیا جائے گا : 1۔ قیامت کو کوئی فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ (البقرۃ : 123) 2۔ اسلام کے علاوہ کوئی دین قبول نہ کیا جائے گا۔ (آ ل عمران : 85) 3۔ جہنمیوں سے زمین کے برابر سونا بھی قبول نہ ہوگا۔ (آل عمران : 91) 4۔ قیامت کے دن ایمان لانا نفع بخش نہ ہوگا۔ (الانعام : 158) 5۔ دوستیاں کام نہ آئیں گی۔ (البقرۃ : 254) 6۔ خریدو فروخت کا موقعہ نہیں ہوگا۔ (البقرۃ : 254)
Ayahs 3:91–92

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ۠ Open ayah 3:91 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور وہ کفر کی حالت میں مرگئے ان میں سے کسی ایک سے بھی ہرگز فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اگرچہ وہ زمین بھر کر سونا پیش کریں ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا اور کوئی ان کی مدد نہ کرسکے گا

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ۬ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ Open ayah 3:92 in the Quran reader

جب تک تم اپنی محبوب چیز اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو گے ہرگز نیکی نہیں پاؤ گے اور تم جو خرچ کرو اسے اللہ تعالیٰ جانتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : کفر اللہ تعالیٰ سے دوری اور آخرت میں ذلّت کا باعث ہوگا۔ صدقہ اللہ تعالیٰ کی قربت اور آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔ ” بِرّ “ ایسی نیکی کو کہتے ہیں جسے اس کے پورے تقاضوں کے ساتھ ادا کیا جائے۔ لہٰذاحکم ہوا ہے کہ اے لوگو ! تم اس وقت تک صدقے کے حق اور نیکی کی روح کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اللہ کی راہ میں وہ چیز خرچ نہ کرو جس کے ساتھ تم انتہائی محبت کرتے ہو۔ ” بِرّ “ کا معنی جنت بھی کیا گیا ہے۔ (تفسیر کبیر رازی) دوسرے الفاظ میں تم جنت کو نہیں پاسکتے جب تک اپنی محبوب چیز اللہ کی راہ میں قربان نہ کرو۔ یہاں لطیف پیرائے میں یہودیوں کے کھوکھلے دعو وں اور ان کے بخل کی نشان دہی کرنے کے ساتھ مسلمانوں کو عزیز ترین چیز اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جونہی یہ حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام ؓ نے اپنی اپنی متاع عزیز کو فی سبیل اللہ صدقہ کیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے اپنی وفادار اور سلیقہ شعار کنیز کو آزاد کیا، حضرت زید بن حارثہ ؓ نے قیمتی گھوڑا بیت المال میں دینے کا اعلان کیا جسے رسول اکرم ﷺ نے اس کے بیٹے اسامہ کو عنایت فرمایا جو الگ گھر والے تھے۔ جس پر جناب زید دل گرفتہ ہوئے کہ ہمارا صدقہ ہمیں ہی واپس لوٹا دیا گیا ہے۔ ان کی تسلی کے لیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا صدقہ قبول فرما لیا ہے۔ [ ابن جریر و طبرانی ] (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَیُّ الصَّدَقَۃِ أَعْظَمُ أَجْرًا قَالَ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِیْحٌ شَحِیْحٌ تَخْشَی الْفَقْرَ وَتَأْمَلُ الْغِنٰی وَلَاتُمْھِلُ حَتّٰی إِذَابَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ قُلْتَ لِفُلَانٍ کَذَا وَلِفُلَانٍ کَذَا وَقَدْ کَانَ لِفُلَانٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب الزکاۃ، باب فضل صدقۃ الشحیح الصحیح ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آکر پوچھنے لگا کہ کونسا صدقہ زیادہ اجر والا ہے ؟ فرمایا جب تو تندرستی کی حالت میں مال کی خواہش ہوتے ہوئے محتاجی کے خوف اور مالدار بننے کی خواہش کے باوجود خیرات کرے۔ اتنی دیر نہ کر کہ جان حلق تک آپہنچے اس وقت تو کہے کہ اتنا فلاں کو دو اتنا فلاں کو دو ۔ حالانکہ اب تو سارا ہی فلاں فلاں کا ہوچکا۔ “ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ یَقُوْلُ کَانَ أَبُوْطَلْحَۃَ أَکْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بالْمَدِیْنَۃِ نَخْلًا وَکَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِہٖ إِلَیْہِ بَیْرُحَاءُ وَکَانَتْ مُسْتَقْبِلَۃَ الْمَسْجِدِ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَدْخُلُھَا وَیَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِیْھَا طَیِّبٍ فَلَمَّا أُنْزِلَتْ (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ) قَامَ أَبُوْ طَلْحَۃَ فَقَالَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ إِنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ) وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِيْ إِلَيَّ بَیْرُحَاءُ وَإِنَّھَا صَدَقَۃٌ لِلّٰہِ أَرْجُوْبِرَّھَا وَذُخْرَھَا عِنْدَ اللّٰہِ فَضَعْھَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ حَیْثُ أَرَاک اللّٰہُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بَخْ ذٰلِکَ مَالٌ رَابِحٌ ذٰلِک مَالٌ رَابِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ مَاقُلْتَ وَإِنِّيْ أَرٰی أَنْ تَجْعَلَھَا فِي الْأَقْرَبِیْنَ قَالَ أَبُوْ طَلْحَۃَ أَفْعَلُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَسَمَھَا أَبُوْ طَلْحَۃَ فِيْ أَقَارِبِہٖ وَفِيْ بَنِيْ عَمِّہٖ ) [ رواہ البخاری : کتاب تفسیر القرآن، باب لن تنالوا البرحتی تنفقوا مما تحبون ] ” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ مدینہ میں ابو طلحہ ؓ انصار میں سب سے زیادہ کھجوروں والے تھے ان باغات میں بیرحاء نامی باغ ان کا سب سے بہترین مال تھا۔ جو مسجد کے سامنے تھا نبی ﷺ اس میں جاتے اور وہاں سے پانی پیا کرتے تھے جب آیت (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ) نازل ہوئی۔ حضرت ابو طلحہ ؓ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتے ہیں اے اللہ کے رسول ﷺ ! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جب تک تم اپنی محبوب ترین چیز خرچ نہ کرو کبھی نیکی تک نہ پہنچ سکو گے۔ یقینًامیرے پاس ” بیرحاء “ کا باغ ہے جو میری پوری جائیداد میں میرے نزدیک قیمتی اور عزیز ہے میں اس کے بدلے اللہ کے ہاں نیکی اور آخرت کے خزانے کا خواہشمند ہوں لہٰذا آپ اسے جہاں چاہیں استعمال کریں۔ آپ ﷺ نے اس جذبہ کی تحسین کرتے ہوئے فرمایا : یہ مال بڑا نفع بخش ہے یہ مال بڑا فائدہ مند ہے جو تم نے کہا میں نے سن لیا۔ تم اسے اپنے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کردو۔ چناچہ حضرت ابو طلحہ ؓ نے باغ اپنے چچا زاد بھائیوں اور عزیزوں میں تقسیم کردیا۔ “ یاد رہے ! یہ وہی ابو طلحہ ؓ ہیں جنہوں نے مہمان کو کھانا کھلانے کے لیے اپنی بیوی کو کہا تھا کہ جونہی ہم کھانا شروع کریں تو دیا بجھا دیا جائے تاکہ مہمان کو کھانے کی کمی کا احساس نہ ہو۔ آیت کے آخر میں تمام صدقات کی یہ کہہ کر حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ جو کچھ بھی تم اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے۔ اللہ تعالیٰ اسے اور تمہاری نیت کو خوب جانتا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ کی راہ میں محبوب چیز خرچ کرنا چاہیے۔ 2۔ آدمی جو کچھ خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ تفسیر بالقرآن نیکی کیا ہے ؟ 1۔ نیکی کے کام۔ (البقرۃ : 177) 2۔ نیکی میں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے۔ (المائدۃ : 2) 3۔ نیکی کے عوض برائیاں معاف ہوتی ہیں۔ (ھود : 114) 4۔ محبوب چیز خرچ کیے بغیر نیکی کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ (آل عمران : 92)
Ayah 3:93

كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَآءِیْلُ عَلٰى نَفْسِهٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:93 in the Quran reader

بنی اسرائیل کے لیے تمام قسم کے کھانے حلال تھے سوائے اس کے جو یعقوب (علیہ السلام) نے تورات نازل ہونے سے پہلے خود اپنے اوپر حرام کرلیا تھا۔ آپ فرما دیں کہ اگر تم سچے ہو تو تورات لاؤ اور پڑھ کر سناؤ

فہم القرآن ربط کلام : تیسرے پارے کی آخری آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے خاندان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ ان کا دین یہی اسلام ہے۔ جو کوئی اسلام سے انحراف کرے گا اس سے کوئی دوسرا دین قبول نہ ہوگا۔ جس پر یہودیوں نے یہ اعتراض کیا کہ یہ نبی اور اس کے پیروکار اونٹ کا گوشت کھاتے ہیں۔ حالانکہ یعقوب (علیہ السلام) پر اونٹ کا گوشت حرام تھا لہٰذا ملت ابراہیم پر ہم ہیں تم نہیں۔ یہاں اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے کہ تم جھوٹ بولتے ہو جبکہ اللہ کا فرمان سچا ہے۔ یہودیوں کا دعو ٰی ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) پر اونٹ کا گوشت حرام تھا جس کی وجہ سے یہودی اونٹ کا گوشت نہیں کھاتے۔ حالانکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو عرق النساء کی تکلیف تھی۔ جس سے پوری ٹانگ میں ایک درد اٹھتا ہے بسا اوقات یہ تکلیف اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ مریض کے لیے ٹانگ گھسیٹ کر چلنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اس تکلیف میں پرہیز کے طور پر اونٹ کا گوشت کھانا چھوڑ دیا تھا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ انہوں نے نذر مانی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے شفا عطا فرمائی تو میں کھانے کی محبوب چیز ترک کر دوں گا۔ جس وجہ سے انہوں نے اونٹ کا گوشت کھانا چھوڑ دیا تھا۔ ان کی شریعت میں ایسی نذر جائز تھی۔ اسلام میں ایسا کرنا جائز نہیں ہے باوجود اس کے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) پر اونٹ کا گوشت حلال تھا۔ یہودیوں نے اسے اپنے طور پر حرام قرار دے لیا۔ یہ حقیقت جاننے کے باوجود یہودی پروپیگنڈہ کیا کرتے تھے کہ یہ عجیب رسول ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو اپنے لیے حلال قرار دے دیا ہے۔ لہٰذا یہ نبی ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان اور ان کی ملّت کے خلاف ہے۔ اس الزام کی وضاحت اس طرح کی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر پاک اور حلال کھانا اس میں اونٹ کا گوشت بھی شامل ہے حضرت یعقوب (علیہ السلام) پر حلال اور جائز قرار دیا تھا۔ سوائے اس کے جو کھانا حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے تورات نازل ہونے سے پہلے علاج کے طور پر اپنے لیے حرام قرار دے لیا تھا۔ انہیں فرمائیں اگر تورات میں اونٹ کا گوشت حرام کیا گیا ہے تو میرے سامنے تورات لا کر پڑھو۔ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ اتنے کھلے چیلنج کے باوجود آج تک کوئی یہودی اصلی توراۃ میں یہ بات نہیں دکھا سکا۔ لیکن پھر بھی یہودی دعو ٰی کیے جا رہے ہیں کہ اونٹ کا گوشت حضرت یعقوب (علیہ السلام) پر حرام تھا حالانکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نزول تورات سے پہلے فوت ہوچکے تھے۔ پھر حلال و حرام کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے کوئی بھی نبی اللہ تعالیٰ کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال نہیں کرسکتا۔ ] التحریم :1] البتہ بطور علاج یا کسی چیز کو کھانے پر طبیعت آمادہ نہ ہو تو اسے چھوڑنے میں کوئی گناہ نہیں۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ کے سامنے ضب (گوہ) کا سالن رکھا گیا آپ نے اس طرف ہاتھ نہیں بڑھایا جب کہ بعض صحابہ آپ کے سامنے کھا رہے تھے۔ انہوں نے آپ ﷺ سے عرض کی کہ آپ کیوں نہیں تناول فرماتے ؟ آپ نے فرمایا میری قوم میں یہ نہیں ہوتی اس لیے میری طبیعت اسے کھانے پر آمادہ نہیں ہے۔ [ رواہ البخاری : کتاب الاطعمۃ ] (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ حَضَرَتْ عِصَابَۃٌ مِّنَ الْیَھُوْدِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالُوْا یَاأَبَاالْقَاسِمِ حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَلُکَ عَنْھُنَّ لَایَعْلَمُھُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ فَکَانَ فِیْمَا سَأَلُوْہُ أَيُّ الطَّعَامِ حَرَّمَ إِسْرَاءِیْلُ عَلٰی نَفْسِہٖ قَبْلَ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاۃُ قَالَ فَأَنْشُدُکُمْ باللّٰہِ الَّذِيْ أَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ عَلٰی مُوْسٰٰی ھَلْ تَعْلَمُوْنَ أَنَّ إِسْرَاءِیْلَ یَعْقُوْبَ مَرِضَ مَرَضًا شَدِیْدًا فَطَالَ سَقَمُہٗ فَنََذَرَ لِلّٰہِ نَذْرًا لَءِنْ شَفَاہ اللّٰہُ مِنْ سَقَمِہٖ لَیُحَرِّمَنَّ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَیْہِ وَأَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَیْہِ فَکَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَیْہِ لُحْمَانُ الْإِبِلِ وَأَحَبُّ الشَّرَابِ إِلَیْہِ أَلْبَانُھَا فَقَالُوْا اللّٰہُمَّ نَعَمْ ) [ رواہ احمد : کتاب ومن مسند بنی ہاشم، باب بدایۃ مسند عبداللہ بن عباس ] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس یہودیوں کے ایک گروہ نے آپ سے کہا اے ابو القاسم ! ہم آپ سے کچھ سوال کرنا چاہتے ہیں جسے نبی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ ان سوالوں میں ایک سوال یہ تھا کہ وہ کون سا کھانا ہے جو یعقوب (علیہ السلام) نے تورات نازل ہونے سے پہلے اپنے آپ پر حرام کرلیا تھا آپ نے فرمایا : میں تمہیں اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل کی کہ تمہیں معلوم ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) ہت زیادہ بیمار ہوگئے اور بیماری نے طوالت اختیار کی تو انہوں نے اللہ کے لیے نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ انہیں شفا یاب کرے گا۔ تو وہ اپنے آپ پر سب سے محبوب کھانا ‘ پینا (چھوڑ) حرام کرلیں گے اور ان کا پسندیدہ کھانا اونٹ کا گوشت اور پینا اونٹوں کا دودھ تھا انہوں نے کہا ہاں اللہ کی قسم ایسے ہی ہے۔ “ مسائل 1۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) پر ہر حلال چیز کھانا جائز تھی۔ 2۔ بیماری کی وجہ سے حلال چیز کھانا چھوڑی جاسکتی ہے۔ تفسیر بالقرآن 1۔ پیغمبر اللہ تعالیٰ کی حلال چیز کو حرام نہیں کرسکتا۔ (التحریم : 1) 2۔ یہودیوں کی نافرمانی کی وجہ سے کچھ حلال چیزیں ان پر حرام کردی گئیں تھی۔ (النساء : 160) 3۔ یہودیوں پر جانوروں کی چربی حرام کردی گئی تھی۔ (الانعام : 146) 4۔ یہودیوں پر سود کھانا حرام تھا۔ (النساء : 161)
Ayah 3:94

فَمَنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَؐ Open ayah 3:94 in the Quran reader

اس کے باوجود جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولیں وہی ظالم ہیں

فہم القرآن ربط کلام : حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا کسی وجہ سے اونٹ کا گوشت کھانا چھوڑنے کو یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اونٹ کا گوشت حرام کیا تھا سراسر جھوٹ ہے جس کی تردید کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تورات میں اونٹ کا گوشت یا دودھ حرام نہیں کیا۔ تورات کے حوالے سے اسے حرام قرار دینا تمہارا اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ پر ظالم لوگ ہی جھوٹ باندھا کرتے ہیں۔ اے رسول معظم ﷺ ! آپ فرما دیں کہ یہودیو ! تمہاری بات غلط اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد سچا ہے۔ لہٰذا ملت ابراہیم کی اتباع کرو۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہر طرف سے کٹ کر اللہ ہی کے ہوچکے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مشرکوں کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے۔ یہی ملت ابراہیم ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو اپنے لیے حلال اور اس کی حرام کی ہوئی چیزوں کو اپنے لیے حرام سمجھے۔ اور بلاشرکت غیرے اور کسی کی پروا کیے بغیر اللہ تعالیٰ کا حکم مانتا رہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والا ظالم ہے۔ 2۔ سب کو ملّتِ ابراہیم کی اتّباع کرنے کا حکم ہے۔ تفسیر بالقرآن ملّتِ ابراہیم کی اتباع : 1۔ نبی کریم ﷺ کو ملّت ابراہیم کی اتّباع کا حکم۔ (النحل : 123) 2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی امت محمدیہ کے لیے نمونہ ہے۔ (الممتحنۃ : 6) 3۔ ابراہیم (علیہ السلام) مشرک نہ تھے۔ (آل عمران : 95) 4۔ ابراہیم (علیہ السلام) یکسو اور پکّے مسلمان تھے۔ (آل عمران : 67) 5۔ نبی کریم ﷺ اور حقیقی مسلمانوں کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے خاص تعلق ہے۔ (آل عمران : 68) 6۔ یہود و نصاریٰ کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کوئی تعلق نہیں۔ (آل عمران : 67) 7۔ تورات اور انجیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد نازل ہوئیں۔ (آل عمران : 65)
Ayahs 3:95–96

قُلْ صَدَقَ اللّٰهُ١۫ فَاتَّبِعُوْا مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 3:95 in the Quran reader

فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا بس تم سب یکسو ہو کر ملت ابراہیم کی پیروی کرو ‘ وہ مشرک نہیں تھے

اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّ هُدًى لِّلْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 3:96 in the Quran reader

پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا وہ مکہ میں ہے جو تمام دنیا کے لیے برکت و ہدایت والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : یہود و نصارٰی کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بیت اللہ تعمیر نہیں کیا تھا جس کی یہاں بھرپور طریقہ سے تردید کی گئی ہے۔ یہودی یہ دعو ٰی بھی کرتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبہ کی بجائے پہلے بیت المقدس تعمیر کیا اور یہی ان کا قبلہ تھا۔ اے نبی ! آپ یہ اعلان فرمائیں کہ دنیا میں سب سے پہلے لوگوں کے لیے جو گھر تعمیر ہوا وہ مکہ معظمہ میں بیت اللہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے ہدایت کا مرکز قرار دیا اور اس میں بےپناہ برکات رکھی ہیں۔ (عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ ؓ قَالَ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلَ قَالَ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ الْمَسْجِدُ الْأَقْصٰی قُلْتُ کَمْ کَانَ بَیْنَھُمَا قَالَ أَرْبَعُوْنَ سَنَۃًثُمَّ أَیْنَمَا أَدْرَکَتْکَ الصَّلَاۃُ بَعْدُ فَصَلِّہٖ فَإِنَّ الْفَضْلَ فِیْہِ ) [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ واتخذ اللّٰہ إبراھیم خلیلا ] ” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ! روئے زمین پر کون سی مسجد سب سے پہلے بنائی گئی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا مسجد حرام۔ میں نے دوبارہ سوال کیا کہ پھر کونسی ؟ آپ نے جواب دیا پھر مسجد اقصیٰ ۔ میں نے ان دونوں کے درمیان مدت کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا ان دونوں کے درمیان چالیس سال کی مدت ہے۔ پھر فرمایا جہاں بھی تو نماز کا وقت پائے وہاں نماز پڑھ لے کیونکہ یہی افضل ہے۔ “ مفسرین نے بیت اللہ اور بیت المقدس کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سب سے پہلے بیت اللہ کو آدم (علیہ السلام) نے تعمیر کیا تھا۔ طوفان نوح کے بعد اس کے نشانات معدوم ہوگئے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت جبریل امین (علیہ السلام) کی نشاندہی پر بیت اللہ تعمیر فرمایا۔ جہاں تک بیت المقدس کی تاریخ ہے اس کی پہلی تعمیر حضرت اسحاق (علیہ السلام) نے فرمائی بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کی بنیاد رکھی اور بعد ازاں انہیں بنیادوں پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اسے تعمیر کیا۔ نبی محترم کے ارشاد کے مطابق حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق ( علیہ السلام) کی تعمیر کے درمیان چالیس سال کا فرق ہے۔ اس لحاظ سے یہودیوں کا بیت المقدس کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ قرار دینا سراسر خلاف حقیقت ہے۔ کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے جس شہر میں اللہ کا گھر تعمیر کیا تھا اس کا نام ” بکہ “ ہے بکہ مکہ معظمہ کا قدیمی نام ہے۔ تاریخ میں اسے مکہ اور بکہ دونوں طرح ہی یاد کیا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر قرآن میں ” بکہ “ اور حدیث میں اس کا نام ” مکہ “ آیا ہے۔ اس جہان رنگ وبو میں بیشمار عمارات ومحلاّت خوبصورت سے خوبصورت ترین موجود ہیں جن کے حسن و جمال میں اضافہ کرنے کے لیے لاکھوں کروڑوں روپے لگائے گئے اور مزید خرچ کیے جارہے ہیں۔ ان کو دیکھیں تو عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔ لیکن کوئی ایسی جگہ یا عمارت نہیں جس کے دیدار کو اہل جہاں کے لیے لازم قرار دیا گیا ہو اور جس کے لیے اتنی دنیا کے دل تڑپتے ہوں یہ اکرام ومقام صرف ایک عمارت کو نصیب ہوا جس کو عام پتھروں سے اٹھایا گیا ہے۔ اللہ رب العزّت نے جس کو بیت اللہ قرار دیا۔ یہی لوگوں کی ہدایت کا مرکز اور بابرکت گھر ہے۔ اسی کی تعمیر کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہاں کھڑے ہو کر دعائیں مانگی تھیں اور یہاں سے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی پر قرآن مجید کے نزول کا آغاز فرمایا تھا۔ یہی گھر بھٹکی ہوئی انسانیت کے لیے ہدایت کا مرکز ہے۔ آج بھی اس گھر کی عظمت و فضیلت دیکھ کر ہزار ہا لوگ ہر سال ہدایت کی دولت سے مالا مال ہو رہے ہیں اور قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اس میں مقام ابراہیم ہے اور ہر دور میں لوگوں کو اس میں امن ملتا رہا اور قیامت تک اسی طرح ہی ملتا رہے گا۔ کائنات میں صرف یہی گھر ہے جس کی زیارت کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔ اس کی زیارت کی اس قدر تاکید فرمائی ہے کہ جو شخص استطاعت کے باوجود اس گھر کی زیارت نہیں کرتا اللہ تعالیٰ نے اس سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا اور ایسے شخص کو کافر قرار دیا ہے۔ (عَنْ عَلِیٍّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ مَّلَکَ زَادًا وَّرَاحِلَۃً تُبَلِّغُہٗ إِلٰی بَیْتِ اللّٰہِ وَلَمْ یَحُجَّ فَلَا عَلَیْہِ أَنْ یَّمُوْتَ یَہُوْدِیًّا أَوْ نَصْرَانِیًّا وَذٰ لِکَ أنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ فِیْ کِتَابِہٖ (وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیْلًا) [ رواہ الترمذی : ابواب الحج، باب ماجاء في التغلیظ فی ترک الحج ] ” حضرت علی ؓ رسول کریم ﷺ کا ارشاد بیان کرتے ہیں کہ جس کے پاس بیت اللہ پہنچنے کے لیے زاد راہ اور سواری ہو۔ پھر بھی وہ حج نہیں کرتا تو اللہ کو کوئی پروا نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ صاحب استطاعت لوگوں پر حج کرنا لاز م ہے۔ “ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قالَ خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ أَیُّھَا النَّاسُ قَدْ فَرَضَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ الْحَجَّ فَحَجُّوْا فَقَالَ رَجُلٌ أَکُلَّ عَامٍ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! فَسَکَتَ حَتّٰی قَالَھَا ثَلَاثًا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْوَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ ثُمَّ قَالَ ذَرُوْنِیْ مَاتَرَکْتُکُمْ فَإِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِکَثْرَۃِ سُؤَالِھِمْ وَاخْتِلَافِھِمْ عَلٰی أَنْبِیَاءِھِمْ فَإِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَیْءٍ فَأْتُوْا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَھَیْتُکُمْ عَنْ شَیْءٍ فَدَعُوْہُ ) [ رواہ مسلم : کتاب الحج ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول کریم ﷺ نے ہمیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا لوگو ! یقینًا اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے تم حج کرو۔ ایک آدمی نے اٹھ کر سوال کیا۔ اللہ کے رسول ! کیا ہر سال حج کرنا ہوگا ؟ نبی ﷺ خاموش رہے حتی کہ اس نے اپنا سوال تین مرتبہ دہرایا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال حج فرض ہوجاتا۔ تم اس کی طاقت نہ رکھتے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا مجھے چھوڑے رکھو جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں۔ تم سے پہلے لوگ اپنے نبیوں سے اختلاف اور کثرت سوال کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو حسب ہمت وہ کام کرو اور جس چیز سے تمہیں روکوں اسے چھوڑ دو ۔ “ مسائل 1۔ سب سے پہلے مکہ میں بیت اللہ تعمیر ہوا۔ 2۔ بیت اللہ بابرکت اور لوگوں کے لیے ہدایت کا مرکز ہے۔ 3۔ مکہ معظمہ کا پرانا نام بکہ ہے۔ 4۔ بیت اللہ میں مقام ابراہیم ہے۔ 5۔ بیت اللہ میں داخل ہونے والے کو امن نصیب ہوتا ہے۔ 6۔ صاحب استطاعت پر بیت اللہ کا حج فرض ہے۔ 7۔ جو حج سے بےپروائی کرے اللہ تعالیٰ اس سے بےنیاز ہے۔ تفسیر بالقرآن بیت اللہ کی عظمت : 1۔ بیت اللہ دنیا میں پہلا گھر ہے جو بابرکت اور ہدایت کا مرکز ہے۔ (آل عمران : 96) 2۔ بیت اللہ امن کا گہوارہ ہے۔ (البقرۃ : 125) 3۔ بیت اللہ کے باسیوں سے محبت کی جاتی ہے (القریش : 1) 4۔ بیت اللہ کے طواف کا حکم ہوا ہے۔ (الحج : 29) 5۔ پیدل اور سوار دور سے اس کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ (الحج : 27)
Ayahs 3:97–98

فِیْهِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰهِیْمَ١ۚ۬ وَ مَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا١ؕ وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:97 in the Quran reader

اس میں کھلی نشانیاں اور مقام ابراہیم ہے اور جو کوئی اس میں داخل ہوا وہ امن والا ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو اس تک پہنچ سکتے ہیں اس کا حج فرض کردیا ہے اور جو انکار کرے تو اللہ تعالیٰ تمام دنیا سے بےنیاز ہے

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:98 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ اے اہل کتاب ! تم اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیوں کرتے ہو ؟ جو تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس پر گواہ ہے

فہم القرآن ربط کلام : حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے حوالے سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بانئ کعبہ تسلیم نہ کرنا اور ملت ابراہیم سے انحراف کرنا کفر ہے۔ اہل کتاب ایسے حقائق کا انکار کرتے ہیں جو قیامت تک زندہ شہادت کے طور پر دنیا میں موجود ہیں اور رہیں گے۔ یعنی بیت اللہ کا مرکز ہدایت اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و برکت کا مرجع قرار پانا ‘ زم زم کی برکات اور اس کا ہر وقت رواں دواں رہنا ‘ مقام ابراہیم کی شکل میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدموں کے نشانات ثبت ہونا ‘ صفا اور مروہ کا حضرت ہاجرہ[ کی سعی کی خاموش گواہی دینا۔ زمین کی چھاتی پر نسل در نسل کروڑہا انسانوں کا خاندان ابراہیم کی خدمات کی شہادت دینا۔ اتنی عظیم اور زندہ وجاوید شہادتوں کو مسترد کردینے والی قوم کو قرآن مجید اہل کتاب کے معزز لفظ سے پکارتے ہوئے بار بار متوجہ کرتا ہے کہ اے اہل کتاب ! اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا انکار کیوں کرتے ہو اور ہدایت یافتہ لوگوں کو منحرف کرنے کی کوشش کے کیوں درپے ہو ؟ جبکہ تمہارا ضمیر قرآن مجید کی تصدیق ‘ نبی آخر الزّماں کا اعتراف اور شعائر اللہ کی شہادت دیتے ہوئے تمہارے کفر پر تمہیں ملامت کرتا ہے۔ مسائل 1۔ اہل کتاب جان بوجھ کر حقائق کا انکار کرتے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ انسان کی ہر حرکت کو جانتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ گواہ ہے : 1۔ اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔ (الحج : 17) 2۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے عمل پر گواہ ہے۔ (یونس : 46) 3۔ اللہ تعالیٰ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔ (الاعلیٰ : 7)
Ayahs 3:99–100

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا وَّ اَنْتُمْ شُهَدَآءُ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:99 in the Quran reader

اہل کتاب سے کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ کی راہ سے مومنوں کو کیوں روکتے ہو اور اس شخص کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہو ؟ حالانکہ تم خود شاہد ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بیخبر نہیں ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ یَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 3:100 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تم اہل کتاب کے کسی گروہ کی اتباع کرو گے تو وہ تمہارے ایمان کے بعد تمہیں مرتد بنادیں گے

فہم القرآن ربط کلام : پہلی آیت میں اہل کتاب کو اسلام کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے سے روکا گیا ہے۔ اب مسلمانوں کو متنبہ فرمایا کہ اہل کتاب کی پیروی نہ کرنا یہ تمہیں گمراہ کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ قرآن مجید متعدد مقامات پر مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ اگر تم اہل کتاب کو راضی کرنے کی کوشش کرو گے تو وہ ہرگز راضی نہیں ہوں گے۔ ان کی خواہش اور کوشش ہے کہ تمہیں ایمان سے منحرف کر کے کافر بنا دیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا میرے پیغمبر ! جب تک آپ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں گے تب تک یہ آپ پر بھی راضی نہ ہوں گے۔ [ البقرۃ : 120] اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ تم کس طرح اپنے لیے کفر کا جواز پیدا کرو گے ؟ جبکہ رسول مکرم ﷺ جیسا عظیم رہنما اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر عمل کر کے تمہارے سامنے بہترین نمونہ پیش کرتا ہے جس سے تم براہ راست تربیت پا رہے ہو۔ لہٰذا تمہیں اہل کتاب کو راضی کرنے کے بجائے اللہ اور اس کے رسول کو راضی کرنا چاہیے۔ جس نے اللہ تعالیٰ سے ایمان کا رشتہ مضبوط کرلیا یقیناً وہی صراط مستقیم پائے گا۔ مسائل 1۔ ایمان داروں کو یہود و نصاریٰ کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے۔ 2۔ یہود و نصاریٰ لوگوں کو مرتد کرنا چاہتے ہیں۔ 3۔ قرآن و حدیث کے ہوتے ہوئے مسلمان کو کافر ہونے کا کوئی جواز نہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لاناصراط مستقیم پرچلنا ہے۔
Ayahs 3:101–102

وَ كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ وَ اَنْتُمْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ اٰیٰتُ اللّٰهِ وَ فِیْكُمْ رَسُوْلُهٗ١ؕ وَ مَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللّٰهِ فَقَدْ هُدِیَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ Open ayah 3:101 in the Quran reader

اور تم کیسے کفر کرتے ہو ؟ باوجود یکہ تم پر اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اللہ کا رسول موجود ہے اور جس شخص نے اللہ تعالیٰ کو مضبوط تھام لیا یقیناً وہ سیدھی راہ پا گیا

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 3:102 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت مسلمانی کی حالت میں آنی چاہیے

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب کی اتباع سے بچنے اور ان سے ڈرنے کی بجائے مسلمانوں کو صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور اسی کے حکم پر مر مٹنا چاہیے۔ اب براہ راست مسلمانوں سے مسلسل خطاب ہوتا ہے۔ تقو ٰی کا عمومی معنٰی پرہیزگاری ہے لیکن جب ” اِتَّقِ اللّٰہَ “ کے الفاظ استعمال ہوں تو اس کا معنٰی ہوا کرتا ہے کہ اپنے رب کی نافرمانیوں سے ڈرو ‘ اس کی ذات اور احکام کا احترام کرو۔ نفس مضمون کے اعتبار سے یہاں یہ بات بھی تقو ٰی میں شامل ہے کہ اہل کتاب کے الزامات اور سازشوں سے ڈرنے کے بجائے صرف اللہ سے ڈرو۔ جس طرح اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حق ہے۔ خلوت ہو یا جلوت ‘ نفع ہو یا نقصان ‘ حاکم ہو یا محکوم ‘ امیر ہو یا غریب ‘ پڑھے لکھے ہو یا ان پڑھ۔ گویا کہ سب کے سب اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو تاکہ خوفِ الٰہی کا اجتماعی ماحول اور ایک سماں پیداہو جائے۔ جس میں تمہارے لیے نیکی کرنا آسان اور برائی سے بچنا سہل ہوجائے گا۔ تقو ٰی وقتی اور عارضی نہیں بلکہ اس میں ہمیشگی ہونی چاہیے یہاں تک کہ تمہیں موت آجائے۔ دوسرے لفظوں میں مرنا گوارا کرلینا لیکن غیر اللہ سے ڈرنا قبول نہ کرنا۔ گویا کہ تقو ٰی اور اسلام لازم و ملزوم ہیں۔ تقو ٰی اور اسلام کا تقاضا ہے کہ تم اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھو۔ اتحاد کے لیے پہلی شرط اللہ کا خوف ہے اگر آدمی کا دامن خوفِ الٰہی سے خالی ہو تو وہ اپنے مفادات کی خاطر چھوٹی سی بات کو پہاڑ بنا کر پیش کرتا ہے۔ اتحاد امت کے لیے سب سے بڑی بنیاد خدا خوفی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رسی کو تھامنا ہے۔ گویا کہ مسلمانوں کا اتحاد اللہ کا ڈراختیار کیے اور کتاب وسنت تھامے بغیر نہیں ہوسکتا۔ یہی اتحاد دیرپا اور بابرکت ہوتا ہے۔ اس کے بغیر اتحاد ناپائیدار اور عارضی ہوگا۔ رسی کی وضاحت کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا : (کِتَاب اللّٰہِ ھُوَحَبْلُ اللّٰہِ ) [ جامع الصغیر للألبانی ] ” اللہ کی کتاب ہی اللہ کی رسی ہے۔ “ یہاں رسی کا لفظ استعمال فرما کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جس طرح رسی سے لکڑیوں کا گٹھا یا جانور باندھا جاتا ہے اس طرح تم بھی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رسی کے ساتھ باندھ لو۔ آیت میں رسی کو مضبوط پکڑنے کے ساتھ مزید حکم دیا کہ باہمی تفرقے سے بچتے رہو۔ اختلافات سے نہ صرف ذات اور جماعت کی ساکھ اکھڑتی ہے بلکہ اس سے بےسکونی اور بےبرکتی پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ آدمی ایک دوسرے کے خلاف حسد و بغض کی آگ میں جلتا رہتا ہے۔ اکثر اوقات اس کا انجام قتل و غارت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہاں اختلاف کو بھڑکتی ہوئی آگ اور اتحاد کو اللہ تعالیٰ کی نعمت قرار دیا گیا ہے۔ یہاں صحابہ کرام ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم اپنے ماضی کو سامنے رکھو۔ تم اسلام سے قبل کس قدر باہمی اختلاف کی آگ میں بھسم ہوئے جا رہے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تمہارے دلوں سے رنجش و کدورت کو نکال کر انہیں محبت و الفت سے لبریز کردیا۔ اس اختلاف سے مراد اوس اور خزرج کی وہ طویل ترین جنگ ہے جو تقریباً سو سال تک جاری رہی۔ جس میں سینکڑوں عورتیں بیوہ، ہزاروں بچے یتیم اور قیمتی جانیں ضائع ہونے کے ساتھ شاداب کھیتیاں ‘ اور لہلہاتے ہوئے باغ اور پر رونق آبادیاں ویران ہوئیں۔ نقصانات سے بچنے اور مسلمانوں کے اتحاد کو قائم رکھنے کے لیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تم بد گمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی بہت بڑا جھوٹ ہے۔ تم کسی کی عیب جوئی، جاسوسی اور حسد نہ کرو، نہ پیٹھ پیچھے باتیں کرو ‘ نہ ہی دشمنی کرو۔ اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن جاؤ۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب الأدب ] مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ وابستہ رہنے والا ہمیشہ صراط مستقیم پاتا ہے۔ 2۔ صاحب ایمان لوگوں کو صحیح طور پر اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ 3۔ ایمان داروں کو اللہ کی غلامی میں موت آنی چاہیے۔ 4۔ فرقہ بندی کے بجائے قرآن و سنّت کے ساتھ وابستہ رہنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اتحاد نعمت اور اختلاف آگ ہے : 1۔ اتحاد واتفاق اللہ کی توفیق کا نتیجہ ہے۔ (الانفال : 63) 2۔ اتحاد واتفاق اللہ کی عظیم نعمت ہے۔ (آل عمران : 103) 3۔ کتاب اللہ کا رشتہ نہ ٹوٹنے والا ہے۔ (البقرۃ : 256) 4۔ باہمی اختلاف اللہ کا عذاب ہوتا ہے۔ (الانعام : 65) 5۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ تمّسک کا نتیجہ صراط مستقیم ہے۔ (آل عمران : 101)
Ayahs 3:103–104

وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا١۪ وَ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖۤ اِخْوَانًا١ۚ وَ كُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 3:103 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ پیدا نہ کرو۔ اور تم اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی۔ پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی بن گئے حالانکہ تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر پہنچ چکے تھے اس نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنے احکامات بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ

وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 3:104 in the Quran reader

تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو خیر کی طرف بلائے ‘ نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے اور یہی لوگ نجات پانے والے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ لوگوں کی ہدایت کے لیے اپنے احکامات بیان کرتا ہے لہٰذا مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے لوگوں کو تبلیغ کرتے رہیں۔ خاص کر ایک جماعت کو مسلسل یہ فریضۂ سرانجام دینا چاہیے۔ تھوڑا سا آگے چل کر آیت 110 میں اس امت کے وجود کی غرض وغایت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے وجود کا مقصدہی یہ ہے کہ تم لوگوں کو نیکی کا حکم کرو اور برائی سے روکتے رہو۔ چونکہ امت میں ہر آدمی اتنا وقت نہیں دے سکتا جس سے فریضۂ تبلیغ کا حق ادا ہو سکے اور نہ ہی ہر کسی میں اتنی صلاحیت ہوا کرتی ہے کہ وہ دلائل کی بنیاد پر دوسرے کو مطمئن کرسکے۔ اس لیے یہاں امت میں ایسی جماعت ہونے کا تقاضا کیا گیا ہے۔ جو لوگوں کو ہمہ وقت تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ خیر کی دعوت اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکتی رہے۔ ایسے لوگ اپنے مقاصد میں کامیاب اور آخرت میں سرخرو ہوں گے۔ جو لوگ فریضۂ تبلیغ ادا نہیں کرتے ان پر خدا کی لعنت ہوا کرتی ہے۔ جس طرح بنی اسرائیل کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل پر حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے پھٹکار کی کیوں کہ یہ لوگ اللہ کے نافرمان اور اس کی حدّوں کو توڑنے والے تھے۔ ان پر اس لیے بھی لعنت کی گئی کہ وہ لوگوں کو برائی سے روکنے کے بجائے خود بھی گناہوں میں ملّوث ہوگئے اور یہ برے کردار کے حامل لوگ تھے۔ (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِنَّ اَوَّلَ مَا دَخَلَ النَّقْصُ عَلٰی بَنِیْ إِسْرَاءِیْلَ کَان الرَّجُلُ یَلْقَی الرَّجُلَ فَیَقُوْلُ : یَا ہٰذَا !إِتَّقِ اللّٰہَ وَدَعْ مَا تَصْنَعُ فَإِنَّہٗ لَایَحِلُّ لَکَ ثُمَّ یَلْقَاہُ مِنَ الْغَدِ فَلَا یَمْنَعُہٗ ذٰلِکَ أَنْ یَّکُوْنَ أَکِیلَہٗ وَشَرِیْبَہٗ وَقَعِیدَہٗ فَلَمَّا فَعَلُوْا ذٰلِکَ ضَرَبَ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِہِمْ بِبَعْضٍ ثُمَّ قَالَ : (لُعِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ بَنِیْ اِسْرَاءِیْلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ )إِلٰی قَوْلِہٖ (فَاسِقُوْنَ ) ثُمَّ قَالَ کَلَّا وَاللّٰہِ لَتَأْمُرُنَّ بالْمَعْرُوْفِ وَلَتَنْہَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ لَتَأْخُذُنَّ عَلٰی یَدَیِ الظَّالِمِ ) [ رواہ أبو داؤد : کتاب الملاحم، باب الأمر والنھی ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل میں پہلا نقص یہ پیدا ہوا کہ کوئی آدمی کسی کو برا کام کرتے دیکھتا تو اسے اللہ کا خوف دلاتے ہوئے اس کام سے منع کر تاکہ ایسا کام نہیں کرنا چاہیے۔ اگلے دن اسے منع نہ کرتا بلکہ اس کے ساتھ مل کر کھاتا ‘ پیتا ‘ اٹھتا ‘ بیٹھتا ان کی جب یہ حالت ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل بھی ایک جیسے کردیے۔ پھر فرمایا بنی اسرائیل پر بزبان داوٗد اور عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) لعنت کی گئی۔ اس کے بعد فرمایا سنو ! اللہ کی قسم ! تمہیں ضرور بالضرور نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرتے ہوئے ظالم کا ہاتھ روکنا ہوگا۔ “ ایک اور موقع پر نبی ﷺ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے عمل کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کشتی میں سوار لوگوں کی مثال بیان فرمائی : (مَثَلُ الْقَاءِمِ عَلٰی حُدُوْدِ اللّٰہِ وَالْوَاقِعِ فِیْھَا کَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَھَمُّوْا عَلٰی سَفِیْنَۃٍ فَأَصَابَ بَعْضُھُمْ أَعْلَاھَا وَبَعْضُھُمْ أَسْفَلَھَا فَکَانَ الَّذِیْنَ فِيْ أَسْفَلِھَا إِذَا اسْتَقَوْا مِنَ الْمَاءِ مَرُّوْا عَلٰی مَنْ فَوْقَھُمْ فَقَالُوْا لَوْ أَنَّا خَرَقْنَا فِيْ نَصِیْبِنَا خَرْقًا وَلَمْ نُؤْذِ مَنْ فَوْقَنَا فَإِنْ یَتْرُکُوْھُمْ وَمَا أَرَادُوْاھَلَکُوْا جَمِیْعًآ وَإِنْ أَخَذُوْا عَلٰی أَیْدِیْھِمْ نَجَوْا وَنَجَوْا جَمِیْعًا) [ رواہ البخاری : کتاب الشرکۃ، ھل یقرع فی القسمۃ والإستھام فیہ ] ” اللہ تعالیٰ کی حدود پر قائم رہنے والے اور اس میں ملوث ہونے والوں کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جنہوں نے ایک بحری جہاز کے بارے میں قرعہ اندازی کی۔ بعض کو اوپر والے حصے میں اور کچھ کو نیچے والے حصے میں جگہ ملی۔ نیچے والوں کو جب پانی کی ضرورت پڑتی تو اوپر والوں کے پاس جاتے۔ نیچے والوں نے کہا کہ ہم اپنے حصے میں سوراخ کرلیتے ہیں اور اوپر والوں کو تکلیف نہیں دیتے۔ اگر اوپر والے انہیں اسی حالت پر چھوڑ دیں تو تمام ہلاک ہوجائیں گے اور اگر ان کے ہاتھوں کو روک لیں تو وہ سب بچ جائیں گے۔ “ مسائل 1۔ امت محمدیہ کا مقصد نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے روکنا ہے۔ 2۔ نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے ہی کامیاب ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن امّتِ محمدیہ کے اجتماعی فرائض : 1۔ اپنے آپ اور اعزاء و اقرباء کو جہنم کی آگ سے بچانا۔ (التحریم : 6) 2۔ تبلیغ کے لیے ایک جماعت کا ہونا ضروری ہے۔ (آل عمران : 104) 3۔ اجتماعی زندگی میں شریعت نافذ کرنا فرض ہے۔ (الحج : 41) 4۔ باہمی معاملات مشورہ سے طے کرنے چاہییں۔ (آل عمران : 159) 5۔ عہدہ اہل شخص کو دینا چاہیے۔ (النساء : 58)