3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsفہم القرآن

Ayahs 3:158–159

وَ لَئِنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاۡاِلَى اللّٰهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 3:158 in the Quran reader

اگر تم مرجاؤ یا قتل کردیے جاؤ تو تم نے ضرور اللہ تعالیٰ کی طرف ہی جمع ہونا ہے

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ١ۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ١۪ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ١ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ Open ayah 3:159 in the Quran reader

آپ اللہ کی رحمت سے ان کے لیے نرم مزاج ثابت ہوئے اگر آپ ترش رو اور سخت دل ہوتے تو یہ آپ کے پاس سے منتشر ہوجاتے۔ سو آپ ان سے درگزر فرمائیں اور ان کے لیے استغفار کریں اور کام میں ان کے ساتھ مشورہ کیا کریں۔ جب آپ کا ارادہ پختہ ہوجائے تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : احد میں درّہ والوں کی کوتاہی اور صحابہ کے منتشر ہونے کی وجہ سے نقصان ہوا۔ جس پر نبی کریم ﷺ نے صبر و حوصلہ کا مظاہرہ فرمایا۔ اس پر آپ ﷺ کے اخلاق عالیہ کی تعریف کی گئی اور خطا کرنے والوں کو معاف کردینے اور اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی بخشش کی دعا کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ اُحد میں تین سو منافقوں کا واپس لوٹنا، درّے والوں کا درّہ خالی کرنا ‘ گھمسان کے رن میں صحابہ کی اکثریت کا آپ کو تنہا چھوڑ جانا ‘ اس قدر ذاتی اور جماعتی نقصان کا اٹھانا۔ ان میں کوئی ایک معاملہ بھی نبی کریم ﷺ کو مشتعل کرنے کے لیے کافی تھا۔ ایسے موقعہ پر بڑے سے بڑا بہادر اور حوصلہ مند انسان کا پِتّہ پانی ہوجایا کرتا ہے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے کسی اشتعال ‘ خفگی اور ترش کلامی کا مظاہرہ نہیں فرمایا۔ بلکہ نہایت حوصلہ اور اعلیٰ اخلاق کے ساتھ حالات پر کنٹرول کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو خراج تحسین سے نوازتے ہوئے فرمایا کہ میرے محبوب ! یہ صرف تیرے رب کے فضل و کرم کا نتیجہ ہے کہ آپ بردبار ‘ رحمدل ‘ نرم خو اور اعلیٰ اخلاق کے پیکر ہیں۔ اگر آپ سخت خو ‘ جذباتی اور ترش کلام ہوتے تو یہ لوگ نفرت کھا کر آپ سے دور بھاگ جاتے۔ لہٰذا انہیں دل سے معاف فرما دیجیے اور اپنے رب کے حضور ان کی معافی کی درخواست کیجیے۔ یہ نہیں کہ پہلے مشورہ کرنے سے نقصان ہوا ہے اور آئندہ مشورہ کرنے سے آپ احتراز کریں بلکہ مشاورت جاری رہنی چاہیے۔ مشاورت کے بعد آپ کو فرمایا گیا ہے کہ مکمل تیاری اور باہمی مشورہ کے بعد اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجئے وہی عزت وذلت اور فتح وشکست کا مالک ہے۔ کام کرنے کے لیے جو وسائل اور مشاورت درکار ہوں اس کے لیے بھرپور کوشش کریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے عزم بالجزم کے ساتھ کام کا آغاز کردینا چاہیے۔ مشاورت کی اہمیت اور غرض وغایت قرآن پاک نے قائد کو مشاورت کا حکم دیا ہے تاکہ مسلمان اجتماعی مسائل کو جماعتی انداز میں حل کرنے کی کوشش کریں۔ اس طرز عمل کے بیک وقت کئی فوائد ہیں ایک طرف اراکین جماعت کی دلجوئی ہے اور دوسری جانب ان کی صلاحیتوں سے اجتماعی فائدہ اٹھانا اور ان کی انفرادی فکر کو اجتماعی نظم میں لانا ہے۔ یہ خیرو برکت سے بھرپور عمل ہے جس سے نبی اکرم ﷺ کی ذات والا صفات کو بھی مستثنیٰ قرار نہیں دیا گیا۔ حالانکہ آپ مسلسل اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور ہدایات میں زندگی گزارتے ہوئے لوگوں کی راہنمائی فرما رہے تھے۔ نبی اکرم ﷺ ان احکامات کے نزول سے قبل بھی صحابہ ؓ سے مشورہ کرتے تھے لیکن نزول حکم کے بعد یہ حالت ہوگئی کہ آپ ہر کام میں صحابہ سے مشورہ فرماتے تھے۔ آپ کی ذات گرامی کو مزید حکم ہوا : ( وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ إِنَّ اللّٰہَ ےُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِےْنَ ) [ آل عمران : 159] ” اور معاملات میں ان کو شریک مشورہ رکھا کرو، پھر جب آپ کا عزم کسی رائے پر پختہ ہوجائے تو اللہ پر بھروسہ کرو، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں “۔ اس کار خیر کی اہمیت و افادیت کو اجاگر اور ممتاز رکھنے کے لیے پانچ رکوع پر مشتمل ایک سورة کا نام ہی الشورٰی رکھ دیا گیا تاکہ رہتی دنیا تک مسلمان مشاورت کے اصولوں کو اپناتے ہوئے اجتماعی زندگی بسر کرتے رہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مشورہ کن امور میں کرنا چاہیے ؟ مشاورت کا حدود اربعہ کیا ہے ؟ جہاد کے سلسلے میں بدر، احد، خندق غرضیکہ ہر اہم معاملہ میں آپ ﷺ صحابہ کرام ؓ سے مشورہ فرماتے۔ جنگ سے پہلے شورٰی کے اجلاس کا مقصد یہ نہیں تھا کہ جہاد کرنا چاہیے یا نہیں۔ واضح احکامات کے بعد ان پر عمل کرنے کے بارے میں مشورہ کرنا تو درکنار ان کے بارے میں سوچنا بھی کبیرہ گناہ ہے۔ مشاورت تو اس بات پر کرنا ہے کہ دشمن پر حملہ کرنے کا وقت اور طریقہ کار اور میدان جنگ کا انتخاب وغیرہ۔ ان امور کو اللہ تعالیٰ نے امت کے ذمہ داران پر چھوڑ دیا ہے۔ بعض لوگوں نے لفظی موشگافیوں میں پڑ کر مشاورت کے حکم کو بازیچۂ اطفال بنانے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جماعت کا امیر اربابِ حل و عقد سے ان کی دلجوئی کی خاطر مشورہ کرے گا لیکن اس پر عمل کرنے کا پابند نہیں۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ امیر جس سے چاہے مشورہ کرے وہ باضابطہ شور یٰ کو تشکیل دینے اور اس کا پابند نہیں ہونا چاہیے۔ رسول کریم ﷺ کی صحابہ کرام ؓ سے مشاورت بدر کے قیدیوں کے بارے میں مشورہ : رسول اللہ ﷺ نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے تجویز پیش کی کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دینا چاہیے جبکہ حضرت عمر ؓ کا خیال تھا کہ انہیں قتل کردینا چاہیے۔ نبی محترم ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کی رائے کو ترجیح دی اور بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر رہا کردیا۔ حنین کے قیدیوں کے بارے میں رائے طلب کرنا : غزوۂ حنین کے موقعہ پر بیشمار قیدی اور مال غنیمت ہاتھ آیا۔ حنین کے نمائندہ لوگوں نے جب آپ سے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تو آپ نے اس بارے میں صحابہ سے رائے طلب کی آراء میں اختلاف دیکھا تو حکم دیا کہ اپنے خیموں میں جا کر باہمی مشاورت کے بعد اپنے نمائندوں کو میرے ہاں بھیجو تاکہ مجھے فیصلہ کرنے میں آسانی ہوجائے۔ [ رواہ البخاری : کتاب الایمان ] اُحد میں دفاع کے متعلق مشاورت : احد سے پہلے مشاورت کی کہ شہر میں رہ کر دفاع کرنا چاہیے یا مدینہ سے باہر نکل کر ؟ لوگوں کی اکثریت نے باہر نکل کر لڑنے کا مشورہ دیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی رائے کا احترام کرتے ہوئے احد کے دامن کا انتخاب فرمایا حالانکہ آپ کی رائے مدینہ میں رہ کر دفاع کرنے کے بارے میں تھی۔ (ابن کثیر) گورنر کی تقرری کے لیے مشاورت حضرت معاذبن جبل ؓ کو یمن کا گورنر بناتے وقت شورٰی بلائی گئی۔ ارکان شوریٰ نے اپنی اپنی رائے پیش کی اور کافی غوروخوض کے بعد معاذبن جبل ؓ کی تقرری کا اعلان ہوا۔ [ کنزالعمال ] حضرت ابوبکر ؓ کی مشاورت اور فیصلوں کی بنیاد جمہوریت کی مخالفت میں بعض لوگ حضرت ابوبکر ؓ کے فیصلوں کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے صحابہ سے مشورہ کیا لیکن اکثریت کی رائے کو درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ لہٰذا خلیفہ اکثریت کی رائے کا پابند نہیں۔ حالانکہ ان واقعات سے ایسے استدلال کی گنجائش نہیں نکلتی کیونکہ حضرت ابوبکر ؓ نے صحابہ کی رائے کے مقابلے میں رسول محترم ﷺ کی سنت اور فرمان پیش کیے تھے جو آپ کی وفات کے صدمہ اور پے درپے مشکلات کی وجہ سے صحابہ کے ذہن سے اوجھل ہوچکے تھے۔ جوں ہی خلیفۃ المسلمین نے ان کا حوالہ دیا تو صحابہ کرام ؓ اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئے۔ خلیفۂ اول کا پہلا اقدام : حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی وفات کے بعد عرب قبائل مرتد ہونے لگے اور کچھ قبائل نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا۔ ادھر لشکر اسامہ کی روانگی کا مسئلہ بھی تھا جسے خود نبی اکرم ﷺ نے اپنی حیات مبارکہ میں روانہ کیا تھا۔ اس صورت حال کے پیش نظر حضرت ابوبکر ؓ نے پہلے جیش اسامہ کی روانگی کے متعلق مشورہ کیا تو نازک حالات میں شوریٰ فوری طور پر لشکر کی روانگی کے خلاف تھی لیکن حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا : (وَالَّذِیْ نَفْسُ اَبِیْ بَکْرٍ بِےَدِہٖ لَوْ ظَنَنْتُ اَنَّ السِّبَاعَ تَخْطَفِیْ لَاَنْفَذْتُ بَعْثَ اُسَامَۃَ کَمَا اَمَرَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَلَوْ لَا ےَبْقَ فِی الْقُرٰی غَےْرُہُ لَاَنْفَذْتُہُ ) [ طبری : ج 2، ص 522] ” اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں ابوبکر کی جان ہے اگر مجھے یہ یقین ہو کہ وحشی جانور مجھے نوچ لیں گے اور ان آبادیوں میں میرے سوا کوئی بھی شخص باقی نہ رہے۔ تو بھی میں لشکر اسامہ روانہ کروں گا کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے اس کو روانگی کا حکم دیا ہے۔ “ مانعین زکوٰۃ اور حضرت ابوبکر ؓ کا فیصلہ مانعین زکوٰۃ کے متعلق حضرت ابوبکر ؓ نے مہاجرین وانصار کو جمع کر کے فرمایا آپ کو معلوم ہے کہ بعض عربوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا ہے مشورہ دیں کہ اس صورت حال میں مجھے کیا کرنا چاہیے ؟ کیونکہ میں بھی تم میں سے ایک انسان ہوں البتہ تمہاری نسبت مجھ پر بوجھ زیادہ ہے۔ حضرت عمر ؓ نے کہا اے خلیفۂ رسول ! میری رائے تو یہ ہے کہ آپ اس وقت لوگوں کی نماز ادائیگی کو ہی غنیمت سمجھیں اور زکوٰۃ چھوڑنے پر گرفت نہ فرمائیں۔ یہ لوگ ابھی ابھی اسلام میں داخل ہوئے ہیں آہستہ آہستہ یہ تمام اسلامی فرائض و احکام کو تسلیم کرنے کے بعد سچے مسلمان بن جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اسلام کو مزید قوت دے گا تو ہم منکرین زکوٰۃ کے مقابلہ میں اٹھ کھڑے ہوں گے لیکن اس وقت ہم میں عرب وعجم کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔ حضرت عمر ؓ کی رائے سننے کے بعد حضرت ابوبکر ؓ ، حضرت عثمان ؓ کی طرف متوجہ ہوئے انہوں نے بھی حضرت عمر ؓ کی تائید کی۔ پھر حضرت علی ؓ نے بھی اس کی تائید کی۔ ان کے بعد تمام انصار و مہاجرین اسی رائے کی تائید میں یک زبان ہوگئے۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر ؓ منبر پر چڑھے اور فرمایا : اسی موقع پر انہوں نے حضرت عمر فاروق ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ تم کفر میں بڑے تندو تیز اور بہادر تھے، کیا اسلام میں آکر بزدل ہوگئے ہو ؟ میں ضرور ان لوگوں کے خلاف جہاد کروں گا جو نماز ادا کرتے ہیں مگر زکوٰۃ دینے سے انکاری ہیں۔ (وَاللّٰہِ لَا اَبْرَحُ اَقُومُ بِاَمْرِاللّٰہِ وَاُجَاھِدُ فِیْ سَبِےْلِ اللّٰہِ حَتّٰی ےَنْجِزَاللّٰہُ تَعَالٰی وَےَفِیَ لَنَا عَھْدَہُ ) ” اللہ کی قسم ! میں اس موقف پر ڈٹ جاؤں گا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتا رہوں گا۔ جب تک اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا نہ فرمادے۔ “ دور فاروقی میں کمانڈر ‘ مفتوحہ علاقوں اور طاعون کے بارے میں مشاورت عراق میں پیش قدمی کے سلسلہ میں اسلامی فوج کی کمان کا مسئلہ پیش آیا۔ یاد رہے اس وقت عراق، فارس (ایران) کے ماتحت تھا خلیفہ ثانی فاروق اعظم ؓ کا خیال تھا کہ اس فوج کی کمان مجھے خود کرنا چاہیے لیکن حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ اور دوسرے جلیل القدر صحابہ ؓ کی رائے یہ تھی کہ آپ مدینہ طیبہ میں رہ کر ہدایات جاری فرماتے رہیں۔ خدانخواستہ اگر فوج کو ہزیمت اٹھانی پڑی یا آپ کو کچھ ہوگیا تو اس نقصان کی تلافی مشکل ہوجائے گی۔ اس صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے امیر المؤمنین نے فرمایا کہ میں تو عراق جانے کے لیے ہی مدینہ سے نکلا تھا مگر اصحاب رسول کی رائے اس کے برعکس ہے۔ اب بتائیں کہ اس فوج کی کمان کس کے سپرد کی جائے ؟ لوگوں کی اکثریت نے حضرت سعدبن ابی وقاص ؓ کا نام پیش کیا کیونکہ ابو عبیدہ ؓ اور حضرت خالد ؓ شام کے محاذ پر بر سر پیکار تھے۔ (سیرت الفاروق) مفتوحہ علاقے حضرت عمر فاروق ؓ خلیفۂ اول اور نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ کی اتباع کرتے ہوئے ہر معاملہ میں اہل الرائے سے مشورہ لیتے یہاں تک کہ مفتوحہ علاقوں کی زمین کے لیے بھی انہوں نے کئی دن تک مجلس مشاورت کے اجلاس منعقد کئے۔ حضرت بلال ؓ ، عبدالرحمن بن عوف ؓ اور کئی صحابہ کی رائے یہ تھی کہ یہ زمینیں مجاہدین میں تقسیم ہونا چاہییں۔ حضرت عمر ؓ اور ان کے ہم خیال حضرات کی رائے یہ تھی کہ زمینیں حکومت کی ملکیت ہونا چاہییں تاکہ آنے والے حضرات بھی اس سے مستفید ہوتے رہیں۔ اس ضمن میں دونوں طرف سے کوئی واضح شرعی دلیل نہ تھی۔ بالآخر حضرت عمر فاروق ؓ نے قرآن پاک کی آیت تلاوت کی : (وَالَّذِیْنَ جَاءُ وْا مِنْم بَعْدِھِمْ ۔۔ ) پڑھ کر فرمایا : (فَکَانَتْ ھٰذِہٖ عَامَۃُ ٗ مَنْ جَآءَ مِنْ بَعْدِھِمْ فَقَدْصَادَ ھٰذَا اَلْفَیْ بَیْنَ ھٰؤُلآءِ جَمِیْعاً فَکَیْفَ تَقْسِمُہٗ لِھٰؤُلَآءِ وَنَدَعُ مَنْ تَخَلَّفَ بَعْدَھُمْ ) [ الفاروق ] ” یہ آئندہ آنے والے تمام لوگوں کے لیے ہے پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں موجودہ لوگوں کو تقسیم کردوں۔ ان لوگوں کو محروم کردوں جو ان کے بعد آنے والے ہیں۔ “ طاعون اور مجلس شوریٰ ” عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ ملک شام کے دورے کے لیے نکلے جب آپ سرغ کے مقام پر پہنچے تو وہاں شام کے کمانڈر ابو عبیدہ بن جراح ؓ اور دوسرے اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا اور وہاں کے حالات بیان کرتے ہوئے عرض کرنے لگے کہ شام میں طاعون کا مرض پھیلا ہوا ہے۔ اس لیے مسئلہ پیدا ہوا کہ آگے جانا چاہیے یا واپس پلٹ جائیں۔ عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ مجھے امیر المؤمنین نے حکم دیا کہ مہاجرین کو بلاؤ۔ جب وہ آئے تو ان سے اس صورت حال پر مشورہ طلب کیا گیا۔ ان کی آراء میں اختلاف تھا۔ کچھ نے کہا کہ آپ دینی کام کے لیے نکلے ہیں آپ کو واپس نہیں جانا چاہیے جبکہ دوسرے اصحاب کہتے تھے آپ کے ساتھ بہت سے اصحاب رسول ہیں خواہ مخواہ موت کو دعوت نہیں دینا چاہیے۔ پھر حضرت عمر ؓ نے فرمایا انصار کو بلایا جائے انہوں نے بھی مہاجرین کی طرح مختلف تجاویز پیش کیں۔ فاروق اعظم ؓ نے فرمایا کہ آپ یہاں سے چلے جائیں۔ پھر حکم دیا قریش کے ان سرداروں کو بلایا جائے جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے ہجرت کی تھی۔ یہ سب بالاتفاق کہنے لگے کہ آپ کو آگے جانے کی بجائے واپس پلٹ جانا چاہیے۔۔ تب امیر المؤمنین ؓ نے اعلان فرمایا کہ ہم صبح مدینہ واپس جارہے ہیں، یہ سنتے ہی ابو عبیدہ بن جراح ؓ آگے بڑھ کر کہنے لگے کہ آپ اللہ کی تقدیر سے بھاگتے ہیں۔ حضرت عمر ؓ فرمانے لگے کاش یہ بات ابو عبیدہ کے سوا کوئی اور کہتا ! کیونکہ یہ بات ابو عبیدہ ؓ کی دانشمندی کے خلاف تھی۔ آپ نے جواب دیا کہ ہاں میں اللہ کی تقدیر سے اللہ ہی کی تقدیر کی طرف جار ہا ہوں۔ عبدالرحمن بن عوف ؓ جو کسی مصروفیت کی وجہ سے غیر حاضر تھے تشریف لائے اور کہنے لگے ایسی صورت حال کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کا فیصلہ کن ارشاد موجود ہے۔ (سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ إِذَا سَمِعْتُمْ بِہٖ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوْا عَلَیْہِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِھَا فَلَاتَخْرُجُوْا فِرَارًا مِّنْہُ قَالَ فَحَمِدَ اللّٰہَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثُمَّ انْصَرَفَ ) [ رواہ مسلم : کتاب السلام، باب الطاعون والطیرۃ والکھانۃ ونحوھا ] ” میں نے نبی محترم ﷺ سے سنا ہے کہ جب کسی علاقے میں طاعون پھیلا ہوا ہو تو وہاں داخل نہیں ہونا چاہیے اور جس زمین میں طاعون واقع ہوجائے وہاں سے بھاگنا نہیں چاہیے۔ یہ سن کر امیر المومنین ؓ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور مدینہ واپس تشریف لے گئے۔ “ فیصلہ کا طریقہ کار اور ” فَاِذَا عَزَمْتَ “ کا مفہوم آدمی جب اپنے ذہن میں ایک بات بٹھا اور جما لیتا ہے تو پھر ہر بات کو اسی زاویہ نگاہ سے دیکھتا اور پرکھتا ہے۔ یہی حالت ان دوستوں کی ہے جو علمی دنیا میں تنہا پرواز کے قائل اور انتہا پسندی کی روش کو اختیار کیے رکھتے ہیں۔ پہلے ان کی سر توڑ کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح ثابت کیا جائے کہ اکثریت کی کوئی حیثیت نہیں۔ انہیں لفظ اکثریت سے اس حد تک چڑ ہوتی ہے کہ وہ اہل حق کی اکثریت کو بدنام زمانہ جمہوریت سے مماثل قرار دے کر حقائق کو رد کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتے ہیں اور جذباتی لوگوں کو یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا ہم کسی کے مقلد ہیں ؟ حالانکہ قرآن وسنت کے بعد خاص کر تنظیمی اور اجتماعی معاملات میں اجتماعیت کو قابل قدر حیثیت دینا ضروری ہے۔ کیونکہ اجتماعی زندگی کا نظام چلانے کے لیے یہ آخری اصول ہے۔ اس کے بغیر امت کو متحد رکھنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ اس کے باوجود کچھ حضرات کا کہنا ہے کہ امیر صرف لوگوں کی دلجوئی کی خاطر پیش آمدہ مسئلہ میں شوریٰ کی تجاویز سے فائدہ اٹھانا چاہے تو اس کی ذرہ نوازی ہے ورنہ کوئی اصول امیر کو پابند نہیں کرسکتا۔ پھر ان کا یہ بھی فرمان ہے کہ اس طرح تو امیر مامور اور ربڑ کی مہر بن جاتا ہے۔ بقول ان کے قرآن پاک نے ” فَاِذَا عَزَمْتَ “ کے الفاظ استعمال کر کے امیر کو اجتماعی معاملات میں مختار کل بنا دیا ہے۔ کاش یہ حضرات طبیعت کے بےلگام گھوڑے کو قابو رکھتے ہوئے اس بات پر غور کرتے کہ ارکان شوریٰ مشورہ دینے کے لیے تشریف لائے ہیں نہ کہ مشورہ لینے کے لیے۔ صاحب امر کو تو مشورہ لینے کا حکم ہو رہا ہے لہٰذا یہاں صیغہ بھی واحد حاضر کا استعمال کیا جارہا ہے۔ اگر اراکین شوریٰ کو ایک دوسرے سے مشورہ لینے کے لیے اکٹھا کیا جاتا تو پھر ” شَاوِرْ ھُمْ فیْ الْاَمْرِ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ “ کے بجائے یہ ہونا چاہیے تھا ” تَشَاوَرُوْا فِی الْاَمْرِ فَاِذَا عَزَمْتُمْ فَتَوَکَّلُوْا عَلَی اللّٰہِ ےَتَشَاوَرُوْنَ فِی الْاَمْرِ فَاِذَاعَزَمُوْا “ اس لیے صحیح نقطہ نگاہ یہ ہے کہ عزم کا معنٰی وہ نہیں جو کچھ علماء نے سمجھا ہے۔ ایسے ہی آزاد استدلال کی وجہ سے مسلمانوں کے حکمران آمر، ڈکٹیٹر، ظالم اور سفاک ثابت ہوئے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اللہ کے علاوہ ہم سے پوچھنے کا کسی کو اختیار نہیں اور نہ ہی ہم کسی کے پابند ہیں۔ مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں قابل عمل نقطۂ نگاہ یہی ہے کہ امیر قرآن وسنت، واضح شواہد وقرائن اور شوریٰ کی اکثریت کا پابند ہونا چاہیے۔ اس طرز عمل میں نہ صرف ملک وملت کی بہتری ہے بلکہ امیر کے لیے بھی عافیت کا راستہ ہے کیونکہ وہ اکیلا ذمہ دار ہونے کی بجائے پوری جماعت ذمہ دار ہوگی اور قرآن وسنت اور صحابہ کا عمل بھی اس بات کی مکمل رہنمائی کر رہا ہے۔ اب ” فَاِذَا عَزَمْتَ “ کا معنٰی نبی اکرم ﷺ کی ذات گرامی اور صحابہ کرام ؓ کے طرز حیات سے سمجھنے کی کوشش فرمائیں۔ (عَنْ عَلِیٍّ قَالَ سُءِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنِ الْعَزْمِ فَقَالَ مُشَاوَرَۃُ اَھْلِ الرَّاْیِ ثُمَّ اتِّبَاعُھُمْ ) [ ابن کثیر ] ” حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ سے عزم کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے عزم کا مفہوم بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ عزم کے معنٰی ہیں اہل رائے سے مشورہ لینا اور پھر اس کا اتباع کرنا۔ “ اس آیت کی روشنی میں امام ابوبکر جصاص (رح) لکھتے ہیں : (وَغَےْرُ جَاءِزٍ اَنْ یَّکُوْنَ الْاَمْرُ بالْمُشَاوَرَۃِ عَلٰی جِھَۃٍ تَطِےْبُ نَفُوْسُھُمْ وَرَفْعِ اَقْدَارِھِمْ وَلِتَقْتَدِی الْاُمَّۃُ بِہٖ فِی مِثْلِہٖ لِاَنَّہُ لَوْ کَانَ مَعْلُوْمًا عِنْدَھُمْ إِنَّھُمْ إِذَا اسْتَغْرَغُوْا مَجْھُوْدُھُمْ فِی اِسْتِنْبَاطِ مَاشُوْرٍ وَافِےْۃٌ وَصَوَابُ الَّذِیْ فِےْمَا سَلُوْا عَنْہُ ثُمَّ لَمْ ےَکُنْ ذَالِکَ مَعْمُوْلًا عَلَےْہِ وَلَا مُلْتَقِیْ مِنْہُ بالْقَبُوْلِ بِوَجْہٍ لَمْ ےَکُنْ فِی ذٰلِکَ تَطِےْبُ نَفُوْسُھُمْ وَلَا رَفْعُ لِاَقْدَارِ ھِمْ بَلْ فِےْہِ اِےْحَاشُھُمْ وَاَعْلَامُھُمْ بِاَنَّ آرَاءَ ھُمْ غَےْرَ مَقْبُوْلَۃٍ وَلَا مَعْمُوْلَ عَلَےْھَا فَھَذَا تَاوِےْلٌ سَاقِطٌ مَعْنًی لَہُ ) [ احکام القرآن ] ” نبی اکرم ﷺ کو مشورہ لینے کا جو حکم دیا گیا وہ صرف صحابہ کی دلجوئی اور عزت افزائی کے لیے نہیں تھا۔ اگر صحابہ کرام ؓ کو یہ معلوم ہوتا کہ کسی خاص معاملے میں مشورہ طلب کیا جارہا ہے اور وہ مکمل غوروخوض کے ساتھ پیش آمدہ مسئلے میں ٹھیک ٹھیک مشورہ اور رائے کا اظہار کریں گے تو بھی اسے قبول نہیں کیا جائے گا اس طرح تو ان کی دلجوئی اور عزت افزائی کی صورت نہیں نکلتی بلکہ اس میں ان کی حوصلہ شکنی کا پہلو نکلتا ہے۔ “ اگر تعصب کی عینک اتار کر اور جذبات کے پردے ہٹا کر نبی اکرم ﷺ اور خلفائے راشدین ؓ کے مبارک دور میں ہونے والی مجالس شوریٰ کے فیصلوں پر غور کیا جائے تو روز روشن کی طرح یہ حقیقت چمکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے لشکر اسامہ ؓ کی روانگی کا فیصلہ کرتے ہوئے اگر اکثریت کی رائے کو مسترد کیا تو اس کے پیچھے نص قطعی یعنی نبی اکرم ﷺ کا حکم موجود تھا۔ مانعین زکوٰۃ کے بارے میں بھی قرآن پاک کی نص قطعی موجود تھی جو حالات کی بحرانی کیفیت کی وجہ سے صحابہ ﷺ کے ذہن سے اوجھل ہوچکی تھی۔ جب خلیفۂ وقت نے توجہ دلائی تو صحابہ کے دل و دماغ روشن ہوگئے۔ قرآن وسنت کی روشنی میں صحیح فیصلہ : 1۔ قرآن وسنت کی موجودگی میں کثرت وقلت اور عقل وفکر کی کوئی حیثیت نہیں۔ 2۔ ٹھوس فکری، نظری، دلائل اور واضح قرائن کے بعد جمہوریت کوئی معنیٰ نہیں رکھتی۔ 3۔ دونوں طرف دلائل برابر ہوں تو اجتماعی زندگی میں اہل حق کی اکثریت کی اتباع امیر اور سب کے لیے لازم ہے۔ مسائل 1۔ نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بڑے نرم خو اور خلیق تھے۔ 2۔ سر براہ بد اخلاق ہو تو لوگ اس سے دور بھاگتے ہیں۔ 3۔ سربراہ کو قومی کاموں میں لوگوں سے مشورہ کرنا چاہیے۔ 4۔ مشورہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا لازم ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن داعی اور قائد کے اوصاف : 1۔ داعی اور قائد کو ہمدرد ہونا چاہیے۔ (التوبۃ : 128) 2۔ داعی کو لوگوں سے مشورہ کا خواہش مند ہونا چاہیے۔ (یوسف : 103) 3۔ لوگوں کی خیر خواہی کے لیے جان قربان کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے۔ (الکہف : 6) 4۔ قائد کو مشورہ لینا چاہیے۔ (آل عمران : 159) 5۔ قائد میں عفو و درگزر کا جذبہ ہونا چاہیے۔ (المائدۃ : 13) 6۔ قائد اور مومنین کو اللہ پر توکل کرنا چاہیے۔ (الزمر : 38‘ التوبۃ : 51) نوٹ : مزید ’ ’ البقرہ 247“ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 3:160

اِنْ یَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:160 in the Quran reader

اگر اللہ تمہاری مدد فرمائے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے گا ؟ ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ رکھنا چاہیے

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ ‘ اس میں منافقوں کے پروپیگنڈہ کا جواب دیتے ہوئے بنیادی عقیدہ سمجھایا گیا ہے کہ عزت وذلت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور مومنوں کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ رسول محترم ﷺ ہر کام کرنے سے پہلے اس پر غور و خوض اور پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اس کو عملی جامہ پہناتے تھے۔ احد میں بھی ایسا ہی کیا گیا لیکن چند ساتھیوں کی کمزوری کی وجہ سے آپ اور مسلمانوں کو مالی ‘ جانی نقصان اٹھانا پڑا جس پر کمزور مسلمانوں نے غیر محتاط انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا اور منافقوں نے اسے ایک دوسرے انداز میں اچھالا۔ اس موقعہ پر یہ بنیادی اصول بیان فرمایا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرنے کا فیصلہ صادر فرمائے تو ساری دنیا جمع ہو کر بھی تم پر غالب نہیں آسکتی۔ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں رسوا کرنا چاہے تو تمہیں کوئی بھی عزت نہیں دے سکتا لہٰذا مسلمانوں کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ اللہ پر توکل کا یہ معنیٰ نہیں کہ آدمی حاصل شدہ وسائل کو استعمال کرنا چھوڑ دے بلکہ توکل کا معنی ہے ہر قسم کی استعداد حاصل کرنے کی کوشش کرے اور پھر وسائل پر بھروسہ کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی ذات پر اعتماد اور یقین رکھے۔ انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ایک آدمی نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! (أَعْقِلُھَا وَأَتَوَکَّلُ أَوْ أُطْلِقُھَا وَأَتَوَکَّلُ قَالَ اعْقِلْھَا وَتَوَکَّلْ ) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق ] ” میں اونٹ کو باندھ کر توکل کروں یا اسے کھلا چھوڑ دوں اور توکل کروں آپ ﷺ نے فرمایا : اونٹ کو باندھو اور توکل کرو۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہو تو آدمی کو کوئی مغلوب نہیں کرسکتا۔ 2۔ جسے اللہ تعالیٰ ذلیل کرے اس کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ 3۔ اللہ ہی پر مومنوں کو ہمیشہ بھروسہ کرنا چاہیے۔ (التوبہ : 129)
Ayah 3:161

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:161 in the Quran reader

یہ زیب نہیں دیتا کہ نبی خیانت کا ارتکاب کرے۔ ہر خیانت کرنے والا خیانت کو لیے قیامت کے دن حاضر ہوگا۔ پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے

فہم القرآن ربط کلام : جیسا کہ پہلے بھی بیان ہوا ہے کہ منافقین رسول محترم ﷺ کو پریشان اور مسلمانوں کو رسوا کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ بدر کے موقع پر ایک قیمتی چادر سامان میں آگے پیچھے ہوگئی تو منافقوں نے یہ کہہ کر بدگمانی پیدا کرنے کی کوشش کی کہ آپ نے اس کو اپنے لیے رکھ لیا ہوگا۔ بظاہر یہ چھوٹی سی بات ہے لیکن یہ بدگمانی آپ کی ذات اطہر کے بارے میں تھی اس لیے سخت اور دو ٹوک الفاظ میں اس کی وضاحت کی گئی۔ اگر اس موقعہ پر یا وہ گوئی کرنے والوں کی زبانیں بند نہ کی جاتیں تو آئندہ چل کر کسی بڑی خیانت کا الزام بھی آپ کی ذات پر چسپاں کیا جاسکتا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا اور کہ مستقبل میں مسلمانوں کو کتنے قیمتی غنائم حاصل ہونے والے تھے اس لیے فرمایا کہ کسی نبی کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے بلکہ نبی کے بارے میں ایسا سوچنا بھی عظیم گناہ ہے۔ جو بھی خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن اس خیانت کے ساتھ پیش کیا جائے گا پھر وہاں ہر کسی کو اس کے عمل کے مطابق جزا یا سزا ملے گی اور کسی پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَامَ فِیْنَا النَّبِیُّ ﷺ فَذَکَرَ الْغُلُوْلَ فَعَظَّمَہٗ وَعَظَّمَ أَمْرَہٗ قَالَ لَا أُلْفِیَنَّ أَحَدَکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رَقَبَتِہٖ شَاۃٌ لَھَا ثُغَاءٌ عَلٰی رَقَبَتِہٖ فَرَسٌ لَہٗ حَمْحَمَۃٌ یَقُوْلُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَغِثْنِیْ فَأَقُوْلُ لَا أَمْلِکُ لَکَ شَیْءًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ ۔۔ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر، باب الغلول وقول اللہ تعالیٰ ومن یغلل ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر خیانت کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے بہت سنگین گردانتے ہوئے فرمایا : میں تم میں سے کسی کو روز قیامت اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کے کندھے پر بکری ممیارہی ہو اور کسی کے کندھے پر گھوڑا ہنہنا رہا ہو اور وہ کہے کہ اے اللہ کے رسول ! میری مدد کیجیے تو میں کہوں کہ میں تو کچھ نہیں کرسکتا میں نے تجھے پہلے ہی باخبر کردیا تھا۔ “ مفسّرین نے ” غَلَّ “ کے دو معنٰی کیے ہیں کہ ” کسی کے بارے میں اپنے دل میں غصہ رکھنا “ اُحد میں درّے والوں نے درّہ خالی کرکے غلطی کی اور بعض صحابہ ؓ نے میدان سے بھاگ کر غلطی کی تھی اس پر فرمایا جارہا ہے کہ اے پیغمبر ! آپ کو معاف کردینے کے بعد دل میں غصہ نہیں رکھنا چاہیے۔ دوسراغَلَّ کا معنی ہے کہ ” مسلمانوں کے اجتماعی مال میں خیانت کرنا “ جس کا گناہ عام چوری سے زیادہ ہے۔ ” حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ جب خیبر فتح ہوا تو مال غنیمت میں ہمیں سونا اور چاندی نہیں ملا تھا بلکہ گائے ‘ اونٹ ‘ سامان اور باغات ملے تھے پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ وادی القریٰ کی طرف لوٹے۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک مدعم نامی غلام تھا جو بنی ضباب کے ایک صحابی نے آپ کو ہدیہ دیا تھا وہ رسول اللہ ﷺ کی سواری سے کجاوہ اتار رہا تھا کہ کسی نامعلوم سمت سے ایک تیر آکر اس کو لگالوگوں نے کہا اسے شہادت مبارک ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو چادر اس نے خیبر میں تقسیم سے پہلے مال غنیمت میں سے چرائی تھی وہ اس پر آگ کا شعلہ بن کر بھڑک رہی ہے۔ یہ سن کر ایک صحابی ایک یا دو تسمے لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یہ میں نے اٹھا لیے تھے آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ جہنم کے تسمے ہیں۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب غزوۃ خیبر ] (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ أَرْبَعٌ مَّنْ کُنَّ فِیْہِ کَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ کَانَتْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِّنْھُنَّ کَانَتْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِّنَ النِّفَاقِ حَتّٰی یَدَعَھَا إِذَا اءْتُمِنَ خَانَ وَإِذَاحَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا عَاھَدَ غَدَرَ وَإِذَاخَاصَمَ فَجَرَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الإیمان، باب علامۃ المنافق ] ” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : چار خصلتیں جس میں ہوں وہ پکّا منافق ہوگا اور ان میں سے جس میں ایک علامت ہو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہوگی جب تک کہ اسے چھوڑتا نہیں۔ (1) جب امانت رکھی جائے تو خیانت کرے (2) بات کرے تو جھوٹ بولے (3) جب وہ عہد کرے تو غداری کرے (4) اور معمولی تکرار پر گالی گلوچ پر اتر آئے۔ “ مسائل 1۔ کوئی نبی بھی خائن نہیں ہوا۔ 2۔ قیامت کے دن خائن خیانت کے ساتھ پیش ہوگا۔ 3۔ ہر کسی کو اس کے عمل کے مطابق جزا وسزا ملے گی کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ تفسیر بالقرآن نبی خائن نہیں ہوتا : 1۔ نبی اللہ کی وحی میں خیانت نہیں کرتا۔ (التکویر : 24) 2۔ نبی وحی کو نہیں چھپاتا۔ (المائدۃ : 67) 3۔ نبی مال میں خیانت نہیں کرتا۔ (آل عمران : 161) 4۔ نبی خائن کی حمایت نہیں کرتا۔ (النساء : 105)
Ayah 3:162

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:162 in the Quran reader

کیا وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا متلاشی ہے اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی لے کر لوٹتا ہے اور جس کی جگہ جہنم ہے جو بدترین جگہ ہے ؟

فہم القرآن ربط کلام : امانت ودیانت میں اللہ تعالیٰ کی رضا ہے، خیانت و بددیانتی پر اللہ کی ناراضگی اور غضب ہوتا ہے ایک اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب اور دوسرا اس کے غضب کا سزا وار ہے کیا دونوں کردار کے حامل انسان برابر ہوسکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ اب دو قسم کے کرداروں کا موازنہ کیا جارہا ہے کہ کیا ایسے کردار کے حامل انسان انجام اور اعمال کے حوالہ سے برابر ہوسکتے ہیں ؟ ان میں ایک وہ ہے جو سراپا سمع و اطاعت ہے اور اس کے ہر کام کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی رضا کار فرما ہوتی ہے۔ دوسرا وہ جو کفر اور نافرمانی میں آگے ہی بڑھتا چلا جا رہا ہے یہاں تک کہ آخر دم تک اللہ تعالیٰ کی بغاوت میں ہی سرگرم عمل رہا۔ اس کا ٹھکانا جہنم ہے جو لوٹنے کی بدترین جگہ ہے۔ پہلے کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہترین درجات ‘ اعلیٰ مقامات اور ہمیشہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے۔ دوسرے کے لیے جہنم ہے۔ یاد رکھو کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے سامنے ہے اور وہ انسان کے تمام اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنے والا اور اللہ کی ناراضگی مول لینے والا برابر نہیں ہوسکتے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنے والوں کے لیے بڑے درجات ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والا جہنم میں جائے گا۔ تفسیر بالقرآن مومن اور نافرمان برابر نہیں ہیں : 1۔ مومن اور فاسق برابر نہیں ہیں۔ (السجدۃ : 18) 2۔ جنتی اور جہنمی برابر نہیں ہوسکتے۔ (الحشر : 20) 3۔ سیدھا اور الٹا چلنے والا برابر نہیں ہوسکتا۔ (الملک : 22) 4۔ اندھا اور بینا برابر نہیں ہوسکتا۔ (الانعام : 50) 5۔ روشنی اور اندھیرا برابر نہیں ہوسکتے۔ (فاطر : 20)
Ayahs 3:163–164

هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:163 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کے پاس ان کے الگ الگ درجے ہیں اور ان کے تمام اعمال کو اللہ دیکھ رہا ہے

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 3:164 in the Quran reader

بیشک مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ انہی میں سے ایک رسول ان میں بھیجا جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے۔ یقیناً یہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے

فہم القرآن ربط کلام : اکثریت کی رائے کا احترام کرنا، ساتھیوں کی غلطیوں کو معاف کردینا۔ انسان کو شرف انسانیت سے سرفراز فرمانا ‘ توحید کی دولت سے مالا مال کرنا اور بھٹکتے ہوئے انسان کو کامیابی کے راستے پر گامزن کرنا رسول معظم ﷺ ہی کی ذات اور قیادت کا کمال ہے جسے اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر بطور احسان ذکر فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان پر اس قدر احسانات فرمائے ہیں کہ وہ ان کا شمار کرنا چاہے تو جدید مشینری کے ذریعے بھی انہیں شمار نہیں کرسکتا۔ تمام احسانات و انعامات میں سب سے بڑا احسان اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رہنمائی ہے۔ دنیا میں ہدایت کا مؤثر ‘ مدلل ‘ قابل اعتماد اور براہ راست ذریعہ انبیاء کی شخصیات ہوا کرتی تھیں۔ ان شخصیات میں سب سے ممتاز شخصیت رسول محترم ﷺ کی ذات گرامی ہے جنہوں نے انسانیت کی اصلاح اور فلاح کے لیے سب سے بڑھ کر کوششیں اور تکلیفیں اٹھائیں ہیں۔ اس لیے مومنوں کو یہ احسان جتلایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ خاص احسان ہے کہ اس نے تم ہی سے یعنی انسانوں میں سے ایک ایسا رسول مبعوث فرمایا ہے جو تمہارے اپنے آپ سے بھی تم پر زیادہ مہربان اور درگزر کرنے والا ہے۔ اس کی شب و روز کی محنتیں، صبح و شام کی دعائیں اور ہر وقت یہ تمنا اور خواہش ہوتی ہے کہ وہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سنائے، گناہوں اور جرائم سے پاک کرے اور تمہیں کتاب و حکمت کے ذریعے دنیا و آخرت کی ترقیوں سے سرفراز کرے۔ نبی آخرالزماں ﷺ کی تشریف آوری اور آپ کی تعلیمات سے پہلے تم سراسر گمراہی اور جہالت کی تاریکیوں میں بھٹک رہے تھے۔ آپ کی کوششوں اور محبت و اخلاص کا نتیجہ ہے کہ آج انسانیت نے اپنا مقام پایا، غلاموں کو آزادی نصیب ہوئی ‘ عورتوں کو حقوق ملے اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا طریقہ اور دنیا میں رہنے سہنے کا سلیقہ آیا۔ یہ دنیا کی مسلمہ حقیقت ہے کہ رسول معظم ﷺ کی بعثت سے پہلے انسانیت ہر قسم کی جہالت اور تاریکی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹک رہی تھی۔ خصوصاً عرب اور مکہ کی حالت یہ تھی کہ یہاں کے دانشور اس سوچ میں غلطاں تھے کہ ہم تاریکیوں سے کس طرح نجات پائیں۔ اسی کے نتیجے میں حلف الفضول کا معاہدہ طے پایا جس میں اہل دانش نے بیٹھ کر یہ فیصلہ کیا کہ معاشرے میں پیدا ہونے والی بیماریوں کا تدارک اس انداز میں کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ (ابن ہشام) اسی سلسلہ کی دوسری کڑی یہ تھی کہ ایک موقع پر ورقہ بن نوفل ‘ زید بن عمرو اور چند دوسرے لوگ حرم میں یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ تمام مروجہ مذاہب کا جائزہ لے کر طے کیا جائے کہ کونسا مذہب سچا ہے ؟ اس کے لیے یہ بزرگ اٹھ کھڑے ہوئے جس کے نتیجے میں ورقہ بن نوفل عیسائیت کے قریب ہوئے اور کچھ نے یہودیت کو مناسب سمجھا۔ لیکن حضرت زید بن عمرو نے سب سے براءت کا اعلان کیا۔ چناچہ وہ بیت اللہ میں سجدہ ریز ہو کر زاروقطار روتے ہوئے دعا کیا کرتے تھے کہ اے کعبہ کے رب ! اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ تیری عبادت اس طرح کرنی ہے تو میں اس طرح کرنے کو تیار ہوں لیکن آسمانی ہدایت مفقود ہوجانے کی وجہ سے وہ دین کی روشنی سے محروم رہے تاہم ایک سوال کے جواب میں رسول معظم ﷺ نے اس کے بارے میں فرمایا تھا (نَعَمْ إِنَّہٗ یُبْعَثُ أُمَّۃً وَّاحِدَۃً ) کیوں نہیں ! وہ ایک امت کی حیثیت سے اٹھایا جائے گا۔ (ابن ہشام) آپ ﷺ کی آمد سے قبل کی جہالت اور تاریکی کی نشاندہی کرتے ہوئے حضرت علی ؓ کے برادر مکرم حضرت جعفر ؓ بن ابی طالب نے حبشہ کے حکمران نجاشی کے سامنے اس کا یوں اعتراف کیا تھا کہ ہم گمراہ تھے، ہمارے اندر ہر قسم کے گناہ اور جرائم پائے جاتے تھے ہم ایک دوسرے پر ظلم کرنے والے تھے پس اللہ نے ہم میں ایک شخص کو نبی بنایا جس کو ہم ہر لحاظ سے جانتے ہیں اس نے ہماری اصلاح اور تربیت کی جس کے نتیجے میں ہم مسلمان ہوئے۔ (ابن ہشام) اسی کے بارے میں قرآن حکیم نے (وَإِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ ) کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے آپ کی بعثت کو احسان عظیم قرار دیا ہے۔ مسائل 1۔ رسول محترم ﷺ کو مبعوث فرماکر اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر بڑا احسان فرمایا ہے۔ 2۔ رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا مقصد لوگوں کو قرآن سنانا، ان کی تربیت کرنا اور ان کو کتاب و دانشمندی سکھانا ہے۔ 3۔ رسول کریم ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے لوگ واضح گمراہی میں تھے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے احسانات : 1۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور احسان ان گنت ہیں۔ (ابراہیم : 34) 2۔ ایمان نصیب ہونا اللہ کے احسان کا نتیجہ ہے۔ (الحجرات : 16) 3۔ رسالت مآب ﷺ کی بعثت اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہے۔ (آل عمران : 164) 4۔ کمزوروں کو خلافت دینا اللہ کا احسان ہے۔ (القصص : 5) 5۔ اللہ جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے۔ (ابراہیم : 11)
Ayah 3:165

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:165 in the Quran reader

کیا جب تمہیں پہنچی ایک ایسی تکلیف جو تم ان کو اس سے دوگنی پہنچا چکے ہو تو تم کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آگئی ؟ آپ کہہ دیجیے یہ خود تمہاری طرف سے ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے

فہم القرآن ربط کلام : احد کی شکست اور اس کے عوامل پر تبصرہ جاری ہے اس میں مسلمانوں کی انتظامی اور اخلاقی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کی اصلاح کی جا رہی ہے۔ اُحد کی شکست کے اسباب میں دو سبب بڑے نمایاں تھے۔ منافقوں کا کردار اور مسلمانوں کا نبی ﷺ کے حکم پر پوری طرح عمل کرنے کی بجائے درہ چھوڑنا۔ لہٰذا مختلف انداز اور الفاظ میں منافقوں کے کردار کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ یہ ناقابل اعتماد اور آستین کے سانپ ہیں۔ ان سے ہر وقت بچنے کی ضرورت ہے۔ دوسرے سبب پر تبصرہ کرتے ہوئے بتلایا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ تم مسلمان ہو اور اللہ کا رسول تم میں موجود ہے لیکن تم نے رسول کے حکم کی نافرمانی کی۔ پہلے درّہ خالی کیا اور بعد میں میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے اور اب تم یہ کہتے ہو کہ یہ شکست کیونکر ہوئی ؟ اگر تم اپنے کیے پر توجہ کرو تو اس کا جواب تمہیں اپنے آپ سے مل جائے گا کہ یہ شکست تمہاری اپنی کمزوریوں کا نتیجہ ہے۔ یہاں ایک اور اصول بیان کیا ہے کہ انسان کو جو بھی مصائب اور پریشانیاں آتی ہیں حقیقتاً وہ اس کے اپنے ہی کیے دھرے کا نتیجہ ہوا کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ تمہارے اعمال کی سزا دنیا میں دے یا اسے آخرت کے لیے مؤخر کر دے۔ ذرا ماضی کے آئینہ میں جھانک کر دیکھو کہ تم اس سے دوگنا نقصان انہیں پہنچا چکے ہو۔ بدر میں ان کے ستر سر کردہ آدمی واصل جہنم ہوئے جن کی وہ لاشیں بھی نہ اٹھا سکے۔ ستر قیدی ہوئے جو فدیہ دے کر چھوٹے اور ان کا کافی سامان تمہارے ہاتھ آیا۔ ان کے مقابلے میں تمہارا نقصان احد میں کئی گنا کم ہوا اور وہ بھی تمہاری کوتاہی کی وجہ سے۔ مسائل 1۔ انسان کو پہنچنے والے مصائب اس کی اپنی وجہ سے ہوتے ہیں۔ 2۔ جنگ میں اپنے اور کفار کے نقصان کا تجزیہ کرنا ضروری ہے۔ 3۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Ayah 3:166

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 3:166 in the Quran reader

اور جو کچھ تمہیں تکلیف پہنچی جس دن دو جماعتیں باہم ٹکرائیں وہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے تھا تاکہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو جان لے

فہم القرآن ربط کلام : احد کے واقعات پر تبصرہ رواں ہے تاکہ امت آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کی کوشش کرے۔ ساتھ ہی منافقین کا ردّ عمل اور کردار بتلایا گیا ہے۔ اُحد کے دن کفار کے ساتھ ٹکراؤ میں مسلمانوں کو جو کچھ پیش آیا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق تھا۔ اس ارشاد کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے مقدّر میں اسی طرح لکھا تھا اور دوسرا معنٰی یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر کفار کے خلاف برسر پیکار ہوئے جس کے نتیجے میں تمہیں زخم اور پریشانی اٹھانا پڑی۔ اس کے پیچھے یہ فلسفہ کار فرما تھا کہ مومنوں اور منافقوں کے درمیان حد فاصل قائم ہوجائے۔ جب مخلص مسلمان منافقوں کو سمجھا رہے تھے کہ آؤ اللہ کے راستے میں قتال کرو اگر تم لڑنے پر آمادہ نہیں ہو تو کم از کم ہمارے ساتھ شامل ہو کر دفاع کو مضبوط بناؤ۔ لیکن منافق تو یہی کہے جا رہے تھے کہ اگر ہم اسے قتال فی سبیل اللہ سمجھتے تو ضرور تمہارے ساتھ شامل ہوتے کیونکہ اتنے بڑے لشکر کے ساتھ لڑنا سرا سر خود کشی کرنے کے مترادف ہے۔ ایسی صورت میں ہم تمہارے ساتھ کس طرح کھڑے رہ سکتے ہیں ؟ بہر حال منافقین نے واپسی کا فیصلہ کیا تو اس نازک ترین موقعہ پر حضرت جابر ؓ کے والد عبداللہ بن عمرو ؓ نے انہیں ان کا فرض یاد دلانا چاہا کہ واپس آؤ۔ اللہ کی راہ میں لڑو یا دفاع کرو مگر انہوں نے جواب میں کہا کہ اگر ہم جانتے کہ واقعی جہاد ہے تو ہم ضرور تمہارے ساتھ شامل ہوتے یہ جواب سن کر حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ یہ کہتے ہوئے واپس آئے کہ اللہ کے دشمنو ! تم پر اللہ کی مار ہو۔ یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تم سے بےنیاز کر دے گا۔ [ الرحیق المختوم : عبداللہ بن أبی اور اس کے ساتھیوں کی سرکشی ] درحقیقت منافق یہ بہانہ بنا کر مسلمانوں کو کمزور اور کفار پر اپنی ہمدردیاں ظاہر کرنا چاہتے تھے کیونکہ حقیقت میں منافق مسلمانوں کے بجائے کفار کے قریب ہوا کرتے ہیں اور اس دن بھی ایسا ہی تھا۔ منافق مسلمانوں کو مطمئن کرنے کے لیے وہ کچھ اپنی زبان سے ظاہر کرتے ہیں جو ان کے دل کی آواز نہیں تھی۔ وہ مسلمانوں سے اپنا خبث باطن چھپاسکتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت میں وہ کچھ نہیں چھپا سکتے۔ مسائل 1۔ احد کے دن پہنچنے والی مصیبت میں مومنوں کا امتحان تھا۔ 2۔ منافق ایمان کے بجائے کفر کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ 3۔ منافق کا دعو ٰی فریب پر مبنی ہوتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ آزمائش کے ذریعے مومن اور منافق کے درمیان امتیاز پیدا کرتا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے جو لوگ چھپاتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن منافق کی نشانیاں : 1۔ منافق کو مسلمان کی بھلائی اچھی نہیں لگتی۔ (آل عمران : 120) 2۔ منافق صرف زبان سے حق کی شہادت دیتا ہے۔ (المنافقون : 1) 3۔ منافق کفار سے دوستی رکھتا ہے۔ (البقرۃ : 14) 4۔ منافق دنیا کے فائدے کے لیے اسلام قبول کرتا ہے۔ ( البقرۃ : 20) 5۔ منافق اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ سنجیدہ نہیں ہوتا۔ (البقرہ : 14) 6۔ منافق مسلمانوں کو حقیر سمجھتا ہے۔ (المنافقون : 8) 7۔ منافق کفر کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ (آل عمران : 167) 8۔ منافق ریا کار ہوتا ہے۔ (النساء : 142) 9۔ منافق جھوٹا ہوتا ہے۔ (البقرہ : 10)
Ayahs 3:167–168

وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 3:167 in the Quran reader

اور منافقوں کو بھی معلوم کرلے جن سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں جہاد کرو یا کافروں کو روکو ‘ تو وہ کہنے لگے اگر ہم لڑائی کرنا جانتے ہوتے تو ضرور ساتھ دیتے۔ اس دن وہ ایمان کی نسبت کفر کے زیادہ قریب تھے۔ وہ اپنے منہ سے ایسی باتیں کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جسے وہ چھپاتے ہیں

اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:168 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو خود بھی بیٹھے رہے اور اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا کہ اگر وہ ہماری بات مان لیتے تو قتل نہ کئے جاتے۔ آپ فرما دیجئے اگر تم سچے ہو تو اپنے آپ سے موت ہٹا کر دکھاؤ

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ بدر میں مسلمانوں کے ساتھ منافق شامل نہیں تھے اس لیے مسلمان پوری یکسوئی کے ساتھ جان توڑ کر لڑے۔ احد کا معاملہ نہایت ہی مختلف تھا کہ پہلے دن کی مشاورت سے لے کر دونوں جماعتوں کے مد مقابل آنے تک منافقوں کی بھاری تعداد مسلمانوں کے ساتھ شامل رہی۔ منافق ایک سوچی سمجھی گہری سازش کے تحت اس وقت مسلمانوں کو چھوڑ کر الگ ہوئے جب اہل مکہ یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ منافقین نے جان بوجھ کر مسلمانوں میں ہر قسم کی غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی تاکہ مسلمان بددل ہو کر کفار کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔ اس طرح ایک تیر سے دو شکار ہوجائیں۔ ایک طرف مسلمان ذلیل ہوں اور دوسری طرف منافقت کا پردہ چاک نہ ہونے پائے۔ اسی سازش کا تسلسل تھا کہ وہ آخر تک مسلمانوں کو بزدل بنانے کی کوشش کرتے رہے۔ میدان جنگ میں منافق جب ٹولیوں کی صورت میں کفار کو دکھا دکھا کر نکل رہے تھے تو بعض صحابہ جن میں سر فہرست جابر کے والد جناب عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری ؓ تھے انہوں نے سر توڑ کوشش کی کہ کسی طریقے سے منافق مسلمانوں سے الگ ہونے سے باز آجائیں لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ اُحد میں مسلمان شہید ہوئے تو منافقین نے ان کے لواحقین کو بداعتقادی کا شکار کرنے اور ان کی پریشانی میں اضافہ کرنے کے لیے کہا کہ اگر وہ ہماری بات مان لیتے تو اس طرح قتل نہ کیے جاتے ‘ خواہ مخواہ اور بےمقصد ان لوگوں نے اپنی جانوں کو ضائع کیا ہے۔ خاص طور پر حضرت جابر ؓ کے والد عبداللہ بن عمرو ؓ کے بارے میں انہوں نے یہ پروپیگنڈہ کیا کہ یہ تو جانور کی موت مرا کیونکہ افرا تفری کے عالم میں حضرت عبداللہ ؓ کو اپنے ہی کسی ساتھی کی تلوار کا وار لگا اور وہ شہید ہوگئے۔ اس پر منافقین کا تعاقب کرتے ہوئے انہیں چیلنج دیا گیا کہ جب تمہیں موت آئے گی تو اسے اپنے سے دھکیل کر اپنے آپ کو بچا کردکھانا اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو ؟ مسائل 1۔ موت سے کوئی بھی چھٹکارا نہیں پاسکتا۔ 2۔ منافق مسلمانوں کے ساتھ مخلص نہیں ہوتا۔
Ayah 3:169

وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ Open ayah 3:169 in the Quran reader

جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو۔ وہ تو زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس رزق دیے جاتے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : شہداء کا مرتبہ اور منافقوں کی ہرزہ سرائی کا جواب۔ منافقوں نے احد کے شہداء کے بارے میں بھی ہرزہ سرائی کی کہ یہ بےوجہ اور فضول موت مرے ہیں۔ اس لیے شہداء کے بارے میں فرمایا ہے کہ انہیں مردہ نہ کہو۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے خون کا آخری قطرہ بہا کر آنے والی نسلوں کے لیے یہ ثابت کردیا کہ اللہ کے دین کا پرچم سربلند رکھنے کے لیے ہر چیز قربان کردینا چاہیے کیونکہ شہید اللہ تعالیٰ کا دین اور کام سربلند رکھتا ہے اس لیے اس کا صلہ یہ ہے کہ اس کا نام بھی رہتی دنیا تک سربلند رکھا جائے۔ اس بنا پر حکم دیا کہ انہیں مردہ سمجھنا اور کہنا جائز نہیں۔ یہ گراں مایہ لوگ اللہ کے ہاں زندہ اور انہیں ہر قسم کی نعمتوں سے نوازا جا رہا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی عنایات پر اتنے خوش ہیں کہ اپنے سے پیچھے رہ جانے والوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ شہادت کے میدان میں آگے بڑھو اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں کٹ مرو۔ کیونکہ اس کے بعدنہ کوئی خوف ہے اور نہ کوئی حزن و ملال۔ شہداء اپنے سے پیچھے رہنے والے مومنوں کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے فضل و کرم کا پیغام دیتے ہوئے یقین دہانی کرواتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اجر میں ذرّہ برابر کمی نہیں کرے گا کیونکہ وہ کسی کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ رسول محترم ﷺ نے شہداء کا مقام و مرتبہ بیان کرتے ہوئے خاص کر حضرت جابر ؓ کے والد گرامی کا ذکر فرمایا۔ واقعہ یوں ہے کہ حضرت عبداللہ ؓ کا ایک بیٹا جابر ؓ اور سات یا نو بیٹیاں تھیں۔ حضرت جابر نو عمر تھے ان کے والد نے خاصہ قرض چھوڑا۔ باپ کی شہادت ‘ قرض اور جوان بہنوں کی وجہ سے حضرت جابر ؓ مغموم رہا کرتے تھے ایک دن آپ نے جابر کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ کو اپنے حضور بلا کر پوچھا کہ تم مزید کیا چاہتے ہو ؟ اس نے عرض کی کہ الٰہی ! مجھے دنیا میں واپس بھیجا جائے تاکہ تیرے راستے میں دوبارہ شہادت کا مرتبہ پاؤں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا تو پھر میرا پیغام لوگوں تک پہنچا دیا جائے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب المقدمۃ، باب فیما انکرت الجھمیۃ ] جہاں تک قرض کا معاملہ تھا اس کے متعلق حدیث میں آتا ہے : (عَنْ جَابِر ؓ قَالَ تُوُفِّيَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ ؓ وَعَلَیْہِ دَیْنٌ فَاسْتَعَنْتُ النَّبِيَّ ﷺ عَلٰی غُرَمَاءِہٖ أَنْ یَّضَعُوْا مِنْ دَیْنِہٖ فَطَلَبَ النَّبِيُّ ﷺ إِلَیْھِمْ فَلَمْ یَفْعَلُوْا فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ ﷺ اذْھَبْ فَصَنِّفْ تَمْرَکَ أَصْنَافًا الْعَجْوَۃَ عَلٰی حِدَۃٍ وَعَذْقَ زَیْدٍ عَلٰی حِدَۃٍثُمَّ أَرْسِلْ إِلَيَّ فَفَعَلْتُ ثُمَّ أَرْسَلْتُ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَجَاءَ فَجَلَسَ عَلٰی أَعْلَاہُ أَوْ فِيْ وَسَطِہٖ ثُمَّ قَالَ کِلْ لِلْقَوْمِ فَکِلْتُھُمْ حَتّٰی أَوْفَیْتُھُمُ الَّذِيْ لَھُمْ وَبَقِيَ تَمْرِيْ کَأَنَّہٗ لَمْ یَنْقُصْ مِنْہُ شَيْءٌ) [ رواہ البخاری : کتاب البیوع، باب الکیل علی البائع والمعطی ] ” حضرت جابر ؓ نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن عمروبن حرام ؓ (میرے باپ) شہید ہوگئے تو ان کے ذمہ لوگوں کا قرض باقی تھا۔ میں نے نبی کریم ﷺ کے ذریعے کوشش کی کہ قرض خواہ اپنے قرض میں کچھ معاف کردیں۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا لیکن وہ نہ مانے۔ آپ نے مجھے فرمایا کہ جاؤ اپنی تمام کھجور کی قسموں کو الگ الگ کرلو۔ عجوہ ایک خاص قسم کی کھجور کو الگ رکھو اور عذق زید کھجور کی قسم کو الگ کرکے مجھے بلا لینا۔ میں نے ایسا ہی کیا اور نبی کریم ﷺ کو کہلا بھیجا۔ آپ تشریف لائے اور کھجوروں کے ڈھیر کے درمیان بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اب ان قرض خواہوں کو ناپ کردیتے رہو۔ میں نے ناپنا شروع کیا جتنا قرض لوگوں کا تھا میں نے سب ادا کردیا پھر بھی کھجوریں جوں کی توں تھی۔ اس میں سے ایک دانہ برابر کی بھی کمی نہیں ہوئی۔ “ مسائل 1۔ اللہ کی راہ میں شہید ہونے والے مردہ نہیں ہوتے۔ 2۔ شہید اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور رزق پاتے ہیں۔ 3۔ شہید اللہ کے فضل کے ساتھ خوش اور اپنے سے پیچھے لوگوں کو خوشخبری کا پیغام دیتے ہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ 5۔ شہداء کا مرتبہ ومقام البقرۃ آیت 154 کے تحت دیکھیں۔
Ayahs 3:170–172

فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ Open ayah 3:170 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے جو اپنا فضل انہیں دے رکھا ہے اس سے خوش ہیں اور خوش خبری دیتے ہیں ان لوگوں کو جو ان سے نہیں ملے اور ابھی ان کے پیچھے ہیں انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ٤ۚۛ۠ Open ayah 3:171 in the Quran reader

وہ اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ خوش ہیں اور بیشک اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ١ۛؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ Open ayah 3:172 in the Quran reader

جن لوگوں نے زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور رسول کے حکم کو قبول کیا ان میں سے جس نے نیکی کی اور پرہیزگاری اختیار کی ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے

فہم القرآن ربط کلام : احد کی ہزیمت کے بعد کفار کی دھمکی کا مسلمانوں کی طرف سے ردّ عمل جس میں ان کے ایمان کی تعریف کی گئی ہے۔ منافقوں کے کردار اور ان کی ہرزہ سرائی کے ذکر کے بعد اللہ کے راستے میں کٹ مرنے والوں کی حیات جاوداں اور دنیا و آخرت میں ان کے مقام و انعام کا ذکر کرتے ہوئے ان کے احترام کا لحاظ رکھنے کی تلقین کرنے کے بعد غازیوں اور مجاہدوں کا ایک دفعہ پھر تذکرہ ضروری سمجھا گیا جنہیں احد کی شکست کے فوراً بعد کفار کے لشکر کے کمانڈر ابو سفیان نے یہ چیلنج دیا تھا کہ میں تم پر دوبارہ حملہ آور ہو رہا ہوں۔ جس کی تفصیل اس طرح ہے کہ احد کے میدان میں مسلمانوں کو بھاری نقصان پہنچانے کے باوجود کفار کو مزید ٹھہرنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ کچھ دور جا کر انہوں نے سوچ و بچار کے بعد اس طرح بےمراد لوٹنے پر افسوس کا اظہار کیا۔ بالآخر یہ طے کیا کہ ہمیں مدینے پر حملہ کر کے مسلمانوں کی رہی سہی طاقت کو تہس نہس کردینا چاہیے۔ اس کے لیے اعصابی حربہ استعمال کرتے ہوئے انہوں نے نعیم بن مسعود اشجعی کو انعام کا لالچ دے کر اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ مدینہ جا کر مسلمانوں کو اس طرح مرعوب کرے کہ وہ ہمارے مدِّ مقابل آنے کی تاب نہ لا کر ہمارے سامنے ہتھیار پھینک دیں۔ اس نے ایسا ہی کیا لیکن مسلمانوں کا ردّ عمل اس قدر شدید اور ایمان افروز تھا کہ انہوں نے بیک زبان ہو کر کہا ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ‘ ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے جو بہترین کارساز ہے۔ البتہ ابو سفیان کے اعصابی حملے کا جواب دیتے ہوئے رسول کریم ﷺ نے معبد بن ابی معبد الخزاعی کو بھیجا یہ شخص کافر ہونے کے باوجود مسلمانوں سے ہمدردی رکھتا تھا جس کی وجہ سے یہ احد کی شکست کے بعد مدینہ آیا اور اس نے آپ سے عرض کی کہ ان حالات میں آپ کی کیا خدمت کرسکتا ہوں ؟ تب آپ ﷺ نے اسے ذمہ داری سونپی کہ وہ ابوسفیان کے پاس جا کر اس طرح کی گفتگو کرے کہ کفار کے چھکے چھوٹ جائیں۔ چناچہ اس نے یہ فریضہ انجام دیتے ہوئے ابو سفیان کے سامنے مسلمانوں کی طرف سے حالات کا ایسا نقشہ پیش کیا کہ اس کے اعصاب ٹوٹ گئے اور اس نے مکہ کی راہ اختیار کرنے میں اپنے لیے عافیت سمجھی۔ اس نازک موقعہ پر صحابہ ؓ کے غیر معمولی کردار کو خراج تحسین سے نوازتے ہوئے فرمایا کہ جن لوگوں کو گہرے زخم آئے تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اللہ اور رسول کی آواز پر لبیک کہا اور کفار سے ڈرنے کے بجائے ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ وہ کفّار کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے یہ قدم اٹھایا تھا جس کے بدلے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمن کو مرعوب اور پسپا کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے وہاں دس دن قیام فرمایا یہ مقام تجارتی قافلوں کی گزر گاہ کے قریب تھا۔ بعض صحابہ نے خوب تجارت کی اس طرح مسلمان کاروباری فوائد کے ساتھ بڑی شان و شوکت کے ساتھ مدینہ واپس آئے۔ (الرحیق المختوم) اس آیت میں صحابہ کی تجارت ‘ ایمان سے لبریز ولولہ اور کفار کے مقابلہ میں کامیابی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ مسائل 1۔ تقو ٰی اختیار کرنے، اللہ اور اس کے رسول کی بات ماننے والوں کے لیے اجر عظیم ہے۔ 2۔ مسلمان کفار سے ڈرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کو اپنا کار ساز سمجھیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرنے اور اس کی رضا چاہنے والوں پر اللہ کا فضل عظیم ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے : 1۔ رسول کریم ﷺ کو اللہ پر توکل کرنے کی ہدایت۔ (النمل : 79) 2۔ مومنوں کو اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کا حکم۔ (المجادلۃ : 10) 3۔ انبیاء اور نیک لوگ اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ (یوسف : 67) 4۔ جو اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ اسے کافی ہوجاتا ہے۔ (الطلاق : 3) 5۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ (التوبۃ : 129)
Ayahs 3:173–175

اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ Open ayah 3:173 in the Quran reader

وہ ایسے لوگ ہیں جب ان کو لوگوں نے کہا کہ کافروں نے تمہارے مقابلے میں لشکر جمع کرلیے ہیں تم ان سے ڈر جاؤ تو اس خبر نے انہیں ایمان میں بڑھا دیا اور وہ پکار اٹھے کہ ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وہ اچھا کار ساز ہے

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ١ۙ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ Open ayah 3:174 in the Quran reader

پھر وہ اللہ کی نعمت و فضل کے ساتھ لوٹے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی طلب کرنے والے ہوئے اور اللہ بڑے فضل والا ہے

اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:175 in the Quran reader

یہ صرف شیطان ہے جو تمہیں اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ہی ڈرو اگر تم مومن ہو

فہم القرآن ربط کلام : احد میں مقابلہ یا اس کے بعد کفار کی دھمکیاں دراصل شیطانی ہتھکنڈے ہیں جن سے ڈرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ اس واقعہ کے بعد مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے سمجھا دیا گیا کہ کبھی اور کسی حال میں بھی شیطان اور اس کے چیلوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کے مکرو فریب بظاہر بڑے مضبوط اور خوفناک نظر آتے ہیں لیکن اگر تم اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور کامل ایمان کے ساتھ قائم رہو گے تو کفار کی سازشیں اور شرارتیں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ شیطان اور غیروں کے خوف کی بجائے اللہ تعالیٰ کا خوف اپنے سینوں میں جاگزیں کرو۔ جس کا خاصہ یہ ہے کہ آدمی بڑی سے بڑی طاقت اور سازش سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ ایک وقت میں دل میں ایک ہی کا خوف سما سکتا ہے۔ کامیابی کے لیے یہی بنیادی اصول ہے کہ مسلمان غیر سے ڈرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنے اور اپنی زندگی ایمان کے سانچے میں ڈھال لینے والے کبھی ناکام اور نامراد نہیں ہوا کرتے۔ مسائل 1۔ شیطان اپنے دوستوں سے مسلمانوں کو ڈراتا ہے۔ 2۔ ان سے ڈرنے کے بجائے اللہ سے ڈرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ کا خوف : 1۔ مومنوں کو اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ (البقرۃ : 150) 2۔ اللہ کے بندے صرف اللہ سے ہی ڈرتے ہیں۔ (المائدۃ : 28) 3۔ نبی صرف اللہ سے ڈرتا ہے۔ (یونس : 15، الزمر : 3) 4۔ اللہ سے ڈرنے والے ہی کامیاب ہوا کرتے ہیں۔ (النور : 52) 5۔ مومنوں کی استقامت دیکھ کر شیطان خود ڈر جاتا ہے۔ (الانفال : 48) 6۔ کفار اور منافق اللہ تعالیٰ کے بجائے لوگوں سے ڈرتے ہیں۔ (النساء : 77)