Ayah 2:1الۗمّ : کچھ سورتوں کے شروع میں جو حروف آئے ہیں انھیں مقطعات کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ الگ الگ کر کے پڑھے جاتے ہیں، ان کا معنی تو صاف ظاہر ہے کہ یہ حروف تہجی کے نام ہیں، اس لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ قرآن مجید میں ایسے الفاظ بھی ہیں جن کا کوئی معنی ہی نہیں، مگر یہ حروف سورتوں کے شروع میں کیوں لائے گئے ہیں، اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ سے صحیح سند کے ساتھ کوئی بات منقول نہیں۔ قرطبی ؓ نے خلفائے اربعہ اور عبداللہ بن مسعود ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ یہ حروف سر الٰہی ہیں جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، مگر اس کی سند نہ قرطبی نے ذکر کی ہے نہ کہیں اور مل سکی ہے۔ عبداللہ بن عباس اور بعض تابعین سے اس کی تاویل میں مختلف اقوال مروی ہیں، مگر صحت سند کے ساتھ ثابت نہیں۔ بعض علماء نے ان کی تفسیر میں اپنی طرف سے کچھ نکات بیان کیے ہیں، مگر وہ محض فنی کاوش ہیں، حقیقت سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
سب سے قریب بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان حروف کے ذکر سے تمام دنیا کو چیلنج کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید انھی حروف تہجی میں اتارا ہے، اگر تمہیں اس کے منزل من اللہ ہونے میں شک ہے تو حروف تہجی تمہارے بھی علم اور استعمال میں ہیں تم بھی اس جیسی کوئی سورت بنا کرلے آؤ۔ اس کا قرینہ یہ ہے کہ عموماً یہ حروف جہاں بھی آئے ہیں ان کے بعد قرآن مجید، کتاب یا وحی کا ذکر آیا ہے، ابن کثیر نے فراء، مبرد، زمخشری اور دوسرے علماء کے علاوہ ابن تیمیہ کا یہی قول ذکر کیا ہے، مگر یہ بات پھر بھی باقی رہ جاتی ہے کہ کسی سورت کے شروع میں جو حروف آئے ہیں اس کے ساتھ ان کا خاص تعلق ہے، مثلاً کچھ سورتوں کے شروع میں الۗمّ“ ہے تو دوسری سورتوں کے شروع میں ”الر“ یا ”طسٓ“ وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کی حکمت تک رسائی ہمارے بس سے باہر ہے اور یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ یہ ان متشابہات سے ہیں جن کی حقیقی مراد اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
Ayah 2:2لَا رَيْبَ ٻ فِيْهِ) یعنی یہ وہ کتاب ہے جس میں شک والی کوئی بات ہی نہیں، اس کی ہر بات یقینی ہے، انسان کا علم چونکہ ناقص ہے، اس لیے اس کی ہر بات یقینی نہیں ہوسکتی۔ علاوہ ازیں اس کتاب کے اللہ کی طرف سے نازل ہونے میں بھی کوئی شک نہیں، فرمایا : (تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ لَا رَيْبَ فِيْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ) [ السجدۃ : 2 ] ”اس کتاب کا نازل کرنا جس میں کوئی شک نہیں جہانوں کے رب کی طرف سے ہے۔“ اگر کسی کو اس کے اللہ کی طرف سے نازل ہونے میں شک ہو تو اس کا علاج اسی سورة بقرہ کی آیت (23) میں بیان فرمایا گیا ہے۔
ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ ہدایت کا ایک معنی راستہ دکھانا ہے، اس لحاظ سے تو قرآن تمام لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ (ھُدًى لِّلنَّاسِ) [ آل عمران : 4 ] ”تمام لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔“ دوسرا معنی منزل تک پہنچا دینا ہے۔ دیکھیے (القصص : 56)۔ اس لحاظ سے یہ صرف متقین کے لیے ہدایت ہے، کیونکہ منزل پر وہی پہنچتا ہے جو رہبر کے کہنے پر چلتا ہے، شفا اسی مریض کو ہوتی ہے جو نقصان دہ چیزوں سے پرہیز کرتا ہے۔ متقی کا لفظ ”وقایۃ“ سے مشتق ہے، جس کا معنی بچاؤ اور حفاظت ہے۔ شرع میں متقی وہ ہے جو ہر ایسی چیز سے اپنے آپ کو باز رکھے، جس کے کرنے یا چھوڑنے سے خطرہ ہو کہ وہ اللہ کے عذاب کا مستحق ہوسکتا ہے۔ (کشاف) متقین کی کچھ صفات آئندہ آیات میں آرہی ہیں، مزید دیکھیے اسی سورت کی آیت (177)
Ayah 2:3يُؤْمِنُوْنَ بالْغَيْبِ) ’ الغیب“ سے مراد وہ حقائق ہیں جو انسان کے حواس اور عقل کی رسائی سے باہر ہیں۔ حدیث جبریل، جس کے راوی امیر المومنین عمر ؓ ہیں، اس میں رسول اللہ ﷺ نے ایمان کی تعریف یہ بیان فرمائی کہ آدمی اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، یوم آخرت اور اچھی یا بری تقدیر پر ایمان لائے۔ [ مسلم : 8 ] یہ سب چیزیں غیب میں شامل ہیں، کیونکہ انھیں دیکھے بغیر ان پر ایمان رکھا جاتا ہے۔ قرآن کی ہدایت سے فیض یاب ہونے والے وہی متقی لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بیان پر اعتبار کرتے ہوئے غیب پر ایمان رکھتے ہیں، اپنے مشاہدے یا اپنی عقل سے معلوم ہونے کا مطالبہ نہیں کرتے، غیب کے منکروں کو قرآن سے کچھ حاصل نہیں، جیسے اندھے کو چراغ کا کوئی فائدہ نہیں۔
(وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ) قرآن مجید سے ہدایت حاصل کرنے کے لیے غیب پر ایمان کے ساتھ عملاً اطاعت بھی ضروری ہے، اس کی پہلی اور دائمی علامت بلاناغہ نماز ہے، پانچ وقت اذان سن کر نماز پڑھنے یا نہ پڑھنے سے اطاعت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ہوجاتا ہے، پھر جو شخص اطاعت پر تیار ہی نہ ہو اسے ہدایت کیسے ہو ؟ نماز قائم کرنے سے مراد رسول اللہ ﷺ کی نماز کی طرح نماز ادا کرنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”نماز اس طرح پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔“ [ بخاری،
الأذان، باب من قال لیؤذن فی السفر۔۔ : 628، عن مالک بن الحویرث ؓ ]
ارکان نماز کو اعتدال اور اطمینان کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اطمینان سے ارکان نماز ادا نہ کرنے والے آدمی سے فرمایا تھا : ”دوبارہ نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز پڑھی ہی نہیں۔“ [ بخاری، الأذان، باب وجوب القراءۃ۔۔ : 757، عن أبی ہریرۃ ؓ ]
جماعت کا اہتمام بھی نماز قائم کرنے میں شامل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”کوئی تین آدمی نہیں جو کسی بستی میں ہوں یا بادیہ میں، جن میں نماز قائم نہ کی جاتی ہو مگر شیطان ان پر غالب آچکا ہوتا ہے۔“ [ أبو داوٗد، کتاب الصلوۃ، باب
التشدید فی ترک الصلوۃ : 547، عن أبی الدرداء ؓ ]
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اپنی صفیں درست کرو، بلاشبہ صفیں درست کرنا بھی اقامت صلاۃ کا حصہ ہے۔“ [ بخاری، الأذان، باب إقامۃ الصف۔۔ : 723، عن أنس ] اس لیے صحابہ کرام ؓ نماز میں کندھے سے کندھا اور قدم سے قدم خوب اچھی طرح ملاتے تھے، انس ؓ فرماتے ہیں : ”جب نبی ﷺ ہمیں صفیں درست کرنے کا حکم دیتے تو ہم اس طرح کھڑے ہوتے تھے کہ ہر نمازی اپنا پاؤں اور کندھا ساتھ والے کے پاؤں اور کندھے کے ساتھ چپکا دیتا تھا۔“ [ بخاری،
الأذان، باب إلزاق المنکب۔۔ : 725 ]
وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ :”جو کچھ ہم نے انھیں دیا“ اس سے مراد ہر نعمت ہے، مثلاً مال و اولاد، علم و عقل، قوت و صحت، عزت و وقار وغیرہ۔”ہر نعمت میں سے کچھ نہ کچھ خرچ کرتے ہیں۔“ ساری نعمت خرچ کرنے کا مطالبہ ہی نہیں، دیکھیے سورة محمد (36 تا 38) اس میں ذاتی ملکیت کے منکروں (کمیونسٹوں) کا رد ہے، کیونکہ ملکیت نہ ہوگی تو خرچ کس سے کرے گا۔ خرچ میں فرض و نفل ہر قسم کا خرچ ہے اور جو شخص اللہ کے لیے اس کی عطا کردہ نعمت خرچ کرنے پر تیار ہی نہیں وہ قرآن سے رہنمائی حاصل نہیں کرسکتا۔
Ayah 2:4(بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ) خواہ قرآن ہو یا سنت، فرمایا : (وَاَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ) [ النساء : 113 ] ”اور اللہ نے تجھ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی۔“
وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ) یعنی وہ وحی الٰہی پر ایمان رکھتے ہیں، خواہ کسی پیغمبر پر اتری ہو۔ جو لوگ کسی پیغمبر پر وحی کا اترنا ہی نہیں مانتے ان کے لیے قرآن میں کوئی رہنمائی نہیں۔ البتہ اب عمل اسی پر ہوگا جو آخری نبی ﷺ لے کر آئے، کیونکہ اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔ [ الحجر : 9 ] جبکہ پہلی کتابیں اصل حالت میں موجود ہی نہیں۔
وَبِالْاٰخِرَةِ ھُمْ يُوْقِنُوْنَ : آخرت کا لفظ ”اول“ کے مقابلہ میں ”آخر“ کے ساتھ تاء لگانے سے بنا ہے۔ دنیا کی زندگی کے بعد والی زندگی، اس کا یقین ہی انسان کو نیک اعمال کرنے اور برے اعمال سے بچنے پر آمادہ کرسکتا ہے، اس لیے یہ ایمان کا بنیادی جز ہے۔ ”ہُمْ“ ضمیر کے ساتھ حصر پیدا ہوتا ہے، یعنی آخرت پر صحیح یقین رکھنے والے اہل اسلام ہی ہیں۔ دوسرے لوگوں کے عقائد درحقیقت اوہام و خرافات پر مبنی ہیں، مثلاً یہود و نصاریٰ کا دعویٰ کہ جنت میں ہم ہی جائیں گے اور آگ میں گئے بھی تو چند دن رہیں گے۔ اسی طرح ہندوؤں کا تناسخ کا عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد نیکوں کی روح کسی بہتر جان دار میں منتقل ہوتی ہے اور بروں کی روح کسی برے جانور، مثلاً کتے یا چوہے وغیرہ کی شکل میں منتقل ہوتی ہے۔
Ayah 2:5(ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ) الف لام کی وجہ سے ’ پورے کامیاب ‘ ترجمہ کیا گیا ہے، یعنی وہی متقی جن میں یہ اوصاف ہوں گے رب تعالیٰ کی طرف سے سیدھے راستے پر قائم رہیں گے اور وہی مکمل کامیابی سے سرفراز ہوں گے۔ ایمان اور عمل صالح کرنے والوں کے ساتھ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انھیں ہدایت دے گا اور جنت بھی۔ (دیکھیے یونس : 9)
Ayah 2:6(لَا يُؤْمِنُوْنَ) اس سے مراد تمام کفار تو ہو نہیں سکتے، کیونکہ بیشمار کافر دعوت کے نتیجے میں ایمان لائے اور لا رہے ہیں۔ اس لیے یہاں مراد وہ لوگ ہیں جو پچھلی آیات میں مذکور چھ چیزوں کا یا ان میں سے بعض کا انکار کردیتے ہیں اور ہٹ دھرمی کی اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ اگر یہ حق بھی ہو تو ہم اسے نہیں مانیں گے، جیسے بعض یہود مدینہ (بقرۃ : 146) اور ابو جہل اور اس کے ساتھی وغیرہ (انفال : 32)۔ جب کوئی طے کرلے کہ میں نے ماننا ہی نہیں تو اسے ایمان کیسے نصیب ہوسکتا ہے ؟ سوئے ہوئے کو جگایا جاتا ہے، جاگتے ہوئے مدہوش کو کون جگا سکتا ہے ؟ اس کے یہ معنی نہیں کہ ڈرانا بالکل فضول ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کا پیغام ہر شخص تک پہنچانا فرض ہے، کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ اللہ کے علم میں کون ایمان لانے والا ہے اور کس کی قسمت میں کفر پر اصرار ہے، ہمیں ہر حال میں ڈرانے پر ثواب ملے گا اور نہ ڈرانے پر باز پرس ہوگی۔ اس لیے فرمایا کہ ڈرانا نہ ڈرانا ان پر برابر ہے، یہ نہیں فرمایا کہ آپ پر برابر ہے، یہاں ہمزہ کا معنی ’ کیا ‘ نہیں ہوگا، بلکہ یہ برابری کا مفہوم ادا کر رہا ہے، اسے ’ ہمزہ تسویہ ‘ کہتے ہیں۔
Ayah 2:7ان کے کفر اور اعمال بد کے نتیجے میں ان کے ضمیر مردہ ہوچکے ہیں اور قبول حق کی استعداد جو فطرتاً ہر شخص میں رکھی گئی ہے، ان سے چھن چکی ہے۔ یہ مہر اگرچہ اللہ تعالیٰ نے لگائی ہے، مگر اس کا باعث ان کا عمل ہے، فرمایا : (بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا) [ النساء : 155 ] ”بلکہ اللہ نے ان پر ان کے کفر کی وجہ سے مہر کردی۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے، پھر جب وہ باز آجائے استغفار کرے اور توبہ کرے تو اس کا دل چمک جاتا ہے اور اگر دوبارہ گناہ کرے تو نکتہ بڑھا دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کے دل پر چھا جاتا ہے، یہی وہ زنگ ہے جو اللہ نے ذکر فرمایا ہے : (كَلَّا بَلْ ۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْن) [ المطففین : 14 ]”ہرگز نہیں، بلکہ زنگ بن کر چھا گیا ہے ان کے دلوں پر جو وہ کماتے ہیں۔“ [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب و من سورة ویل للمطففین۔۔ : 3334، عن أبی ہریرۃ ؓ و حسنہ الألبانی ] ”غشاوۃ“ پر تنوین تعظیم کی ہے، اس لیے ترجمہ ”بھاری پردہ“ کیا گیا ہے۔
Ayah 2:8اس سے پہلے پانچ آیات میں اہل ایمان اور دو آیات میں کھلے کافروں کے ذکر کے بعد منافقین کی خصلتوں کا ذکر تیرہ آیات میں فرمایا ہے، کیونکہ چھپا ہوا کفر زیادہ خطرناک اور اس کی پہچان بہت مشکل ہے۔
مَا نافیہ کی تاکید باء کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”ہرگز“ کے ساتھ کیا گیا ہے۔
Ayah 2:9يُخٰدِعُوْنَ باب مفاعلہ سے ہے جس میں مشارکت پائی جاتی ہے، اس لیے ترجمہ ”دھوکا بازی“ کیا گیا ہے، یعنی وہ دل میں کفر چھپاتے اور ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ اور ایمان والوں کو دھوکا دینے میں کامیاب ہیں، حالانکہ دھوکا ان کے ساتھ ہو رہا ہے کہ دنیا میں انھیں مسلمان قرار دیا گیا اور انھیں مسلمانوں والے حقوق اور فوائد حاصل رہے، مگر آخرت میں وہ آگ کے سب سے نچلے حصے میں ہوں گے، فرمایا : (اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ) [ النساء : 142 ] ”بیشک منافق لوگ اللہ سے دھوکا بازی کر رہے ہیں، حالانکہ وہ انھیں دھوکا دینے والا ہے۔“ اور انھیں اس خود فریبی کا شعور بھی نہیں۔
Ayah 2:10فِىْ قُلُوْبِهِمْ) خبر مقدم ہے، جس سے حصر پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے ترجمہ ”ان کے دلوں ہی میں“ کیا گیا ہے۔
یہ اس سوال کا جواب ہے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص اللہ کو دھوکا دے جو عالم الغیب ہے اور مومنوں کو دھوکا دے جن سے زیادہ فراست والا کوئی ہو نہیں سکتا اور سمجھے کہ میں دھوکا دینے میں کامیاب ہوں۔ فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دل ہی ایک ایسے مرض میں مبتلا ہیں، جس نے انھیں خود فریبی کی آخری حد تک پہنچا دیا ہے۔ وہ مرض نفاق ہے جو کفر کو چھپانے کی کوشش کا نام ہے۔ اس بیماری سے بیشمار نفسیاتی بیماریاں مزید پیدا ہوتی اور بڑھتی چلی جاتی ہیں، مثلاً جھوٹ، خیانت، وعدہ خلافی، بد عہدی، بد زبانی جنھیں رسول اللہ ﷺ نے منافق کی نشانیاں قرار دیا ہے۔ اسی طرح فساد، خود پسندی، بےوقوفی، دو رخی جن کا ذکر آئندہ آیات میں ہے اور بہت سی دیگر بیماریاں مثلاً بزدلی، طمع، بخل، جہاد سے فرار وغیرہ جن کا ذکر سورة توبہ اور دیگر سورتوں میں ہے۔
بِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ) منافقین باطن میں کافر ہونے کی وجہ سے عذاب عظیم کے مستحق تھے، اب اسلام کے جھوٹے دعوے کی وجہ سے عذاب الیم یعنی دوہرے عذاب کے حق دار ٹھہرے۔
Ayahs 2:11–12یہاں منافقین کے دو اوصاف بیان ہوئے ہیں، فساد یعنی زمین میں بگاڑ پیدا کرنا۔ اس میں اللہ کی ہر نافرمانی شامل ہے، کیونکہ اس سے زمین میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے، فرمایا : (ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ) [ الروم : 41 ] ”خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہوگیا، اس کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا۔“ دوسرا وصف بگاڑ پیدا کرنے کو عین اصلاح قرار دینا۔ یہ لوگ دل میں کفر رکھنے کی وجہ سے کفار سے دوستی رکھتے تھے، مسلمانوں کے راز انھیں بتاتے اور اسلام کے عقائد و احکام پر اعتراض کرتے تھے اور منع کرنے پر اپنے اس عمل بد کو اصلاح کا نام دیتے تھے۔
اب بھی مسلمانوں میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے ساتھ شرک کو اولیاء کا ادب، بدعات کو قرب الٰہی کا ذریعہ، کفار سے دوستی اور ان کے غلبے کے لیے کوشش کو حالات کا تقاضا قرار دیتے ہیں، مسلمانوں کی نسل کشی کو خاندانی منصوبہ بندی کہتے ہیں، بدکاری و بےحیائی پھیلاتے ہیں اور اسے عورتوں کے حقوق کا تحفظ قرار دیتے ہیں۔ ہر برے سے برا کام نام بدل کر خوش نما بنا لیتے ہیں، کچھ اور لوگوں نے زنا کو متعہ اور حلالہ کا، باجوں گاجوں اور موسیقی کو قوالی اور روح کی غذا کا اور نشہ آور مشروبات کو نبیذ وغیرہ کا نام دے کر حلال کر رکھا ہے۔ یہ سب نفاق کے مختلف مظاہر ہیں۔
(لَّا يَشْعُرُوْنَ) دل بیمار ہو تو اچھے برے کا شعور بھی ختم ہوجاتا ہے، پھر آدمی اچھے کو برا اور برے کو اچھا سمجھنے لگتا ہے، فرمایا : (اَفَمَنْ زُيِّنَ لَهٗ سُوْۗءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَـنًا) [ فاطر : 8 ] ”تو کیا وہ شخص جس کے لیے اس کا برا عمل مزین کردیا گیا تو اس نے اس کو اچھا سمجھا (اس شخص کی طرح ہے جو ایسا نہیں ؟)“
Ayah 2:13النَّاسُ“ سے مراد صحابہ کرام ؓ ہیں جو خلوص دل سے ایمان لائے اور ایک ہی طرف کے ہوگئے اور اپنے کسی دنیوی نقصان کی پروا نہ کی، منافقین نے انھیں بیوقوف کہا اور اپنے آپ کو عقل مند، کیونکہ اپنے خیال میں انھوں نے دونوں طرف سے فائدہ اٹھایا اور اپنی دنیا کا نقصان نہ ہونے دیا۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین ہی کو بیوقوف قرار دیا، کیونکہ ان کا نہ مسلمانوں کے ہاں کچھ اعتبار رہا نہ کفار کے ہاں اور وہ چند روزہ زندگی کے فائدے کے لیے ہمیشہ کی زندگی کا نقصان کر بیٹھے۔ فرمایا یہ ایسے بیوقوف ہیں جنھیں اپنی بےوقوفی کا بھی علم نہیں۔
اس آیت سے صحابہ کرام ؓ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ منافقین کو ان کے ایمان جیسا ایمان لانے کا حکم دیا گیا۔
Ayah 2:14شیاطین سے مراد کفر کے سردار ہیں، خواہ مشرکین و یہود سے ہوں یا خود ان منافقین سے۔ شیطان ہر سرکش اور فسادی شخص کو کہتے ہیں، شیاطین جنوں اور انسانوں دونوں سے ہوتے ہیں، فرمایا : (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا) [ الأنعام : 112 ] ”اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں کے شیطانوں کو دشمن بنادیا، ان کا بعض بعض کی طرف ملمع کی ہوئی بات دھوکا دینے کے لیے دل میں ڈالتا رہتا ہے۔“ لفظ شیطان شَطَنَ سے مشتق ہے جس کے معنی بعد کے ہیں، یعنی وہ جو ہر خیر سے دور ہو۔
وَاِذَا لَقُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا) اس سے ظاہر ہے کہ اہل ایمان سے ان کی ملاقات سرسری ہوتی ہے، کبھی کسی مجلس میں، کبھی سر راہ، مگر اپنے شیطانوں کے ساتھ اہتمام کے ساتھ خلوت ہوتی ہے۔ پھر اہل ایمان کو تاکید کے کسی لفظ کے بغیر صرف ”اٰمَنَّا“ کہتے ہیں اور اپنے شیاطین کو ”اِنَّا“ اور ”اِنَّمَا“ کی تاکید کے ساتھ اپنے کفر کی یقین دہانی کراتے ہیں کہ ہم عقیدے میں بلا شک و شبہ تمہارے ساتھی ہیں، رہا ہمارا ایمان کا اقرار و اظہار تو وہ محض مذاق ہے۔
Ayahs 2:15–163 منافقین دل میں کفر رکھنے اور کفار کا ساتھ دینے کے باوجود مسلمانوں سے ملتے تو ”اٰمَنَّا“ کہتے اور اسے اہل ایمان کے ساتھ مذاق قرار دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی جواباً ان کے ساتھ یہی معاملہ فرمایا کہ ان کے متعلق یہ طے کردیا کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے حصے میں ہوں گے، اس کے باوجود دنیا میں انھیں مسلمان قرار دیا اور ان کی رسی دراز کردی، تاکہ وہ سرکشی میں زیادہ سے زیادہ بڑھ جائیں، فرمایا : (اِنَّمَا نُمْلِيْ لَھُمْ لِيَزْدَادُوْٓا اِثْمًا) [ آل عمران : 178 ] ”ہم انھیں صرف اس لیے مہلت دے رہے ہیں کہ وہ گناہ میں بڑھ جائیں۔“ وہ ان کا مذاق تھا یہ اللہ تعالیٰ کا مذاق ہے۔ قرآن مجید میں ایسے الفاظ مقابلے میں استعمال ہوئے ہیں جو ابتداءً کم ہی استعمال ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے مذاق کرنے میں وہ معاملہ بھی شامل ہے جو قیامت میں منافقین کو پیش آئے گا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جاتے ہوئے ان کے نور سے راستہ دیکھتے ہوئے جا رہے ہوں گے کہ یکایک ایک دیوار کے ذریعے سے جہنم کی طرف دھکیل دیے جائیں گے۔ (دیکھیے حدید : 12 تا 15)
Ayah 2:17اسْـتَوْقَدَ نَارًا ”اَوْ قَدَ نَارًا“ کے معنی ہیں اس نے آگ جلائی۔ ”اسْـتَوْقَدَ“ میں سین اور تاء زیادہ ہونے سے معنی میں اضافہ ہوگیا، اس لیے اس کا ترجمہ ”خوب بھڑکائی“ کیا ہے۔
منافقین کی تشبیہ اس شخص سے کس طرح دی گئی جس نے ایک آگ خوب بھڑکائی، پھر اس کی آگ بجھ گئی اور اللہ ان کا نور لے گیا ؟ جواب یہ ہے کہ دو وجہ سے، پہلی یہ کہ یہ لوگ پہلے ایمان لائے تو نور ایمان سے ان کے لیے ہر چیز روشن ہوگئی، پھر نفاق میں مبتلا ہوگئے تو وہ نور بجھ گیا اور وہ کفر و نفاق اور شکوک و شبہات کے کئی اندھیروں میں بھٹکتے رہ گئے۔ اس معنی کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے : (ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ) [ المنافقون : 3 ] ”یہ اس لیے کہ بیشک وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔“
تشبیہ کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ایمان لانے کی وجہ سے دنیا میں انھیں مسلمانوں والی عزت حاصل ہوئی، مسلمانوں کے ساتھ ان کے رشتے ناتے رہے، وہ ایک دوسرے کے وارث بنتے رہے، مال غنیمت اور دوسرے بیشمار فوائد حاصل کرتے رہے، مگر جب فوت ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے وہ عزت چھین لی، جیسے اس آگ والے سے اس کی روشنی چھین لی اور انھیں بہت سے اندھیروں (یعنی قبر، یوم محشر اور جہنم کے عذاب) میں چھوڑ دیا۔ (طبری عن ابن عباس بسند حسن)
Ayah 2:18ۻ (بہرے) ”اَصَّمُ“ کی جمع ہے۔ بُكْمٌ (گونگے) ”اَبْکَمُ“ کی جمع ہے اور عُمْىٌ (اندھے) ”اَعْمَی“ کی جمع ہے۔ ان کے بہرے، گونگے اور اندھے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے کان، زبانیں یا آنکھیں ہیں ہی نہیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ انھوں نے یہ سب کچھ رکھنے کے باوجود ان سے فائدہ نہیں اٹھایا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْـــِٕدَةً ڮ فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَآ اَبْصَارُهُمْ وَلَآ اَفْــِٕدَتُهُمْ مِّنْ شَيْءٍ اِذْ كَانُوْا يَجْـحَدُوْنَ ۙبِاٰيٰتِ اللّٰه) [ الأحقاف : 26 ] ”اور ہم نے ان کے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تو نہ ان کے کان ان کے کسی کام آئے اور نہ ان کی آنکھیں اور نہ ان کے دل، کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے۔“
(فَھُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ) یعنی وہ اس گمراہی سے جو خرید بیٹھے اور اس ہدایت کی طرف جسے فروخت کر بیٹھے واپس نہیں لوٹتے۔ ان آیات میں ان منافقین کا ذکر ہے جو زبان سے مومن اور دل میں پکے کافر تھے۔
Ayahs 2:19–20یہ مثال اللہ تعالیٰ نے منافقین کے دوسرے گروہ کی بیان فرمائی ہے، یعنی وہ لوگ جو بظاہر مسلمان تو ہوگئے تھے مگر ضعف ایمان کی وجہ سے ہمیشہ شک اور تذبذب میں مبتلا رہتے تھے، راحت و آرام کی صورت میں مطمئن نظر آتے، جب تکالیف کا سامنا ہوتا تو شک و شبہ میں پڑجاتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰي حَرْفٍ ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَيْرُۨ اطْـمَاَنَّ بِهٖ ۚ وَاِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُۨ انْقَلَبَ عَلٰي وَجْهِهٖ ڗ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةَ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ) [ الحج : 11 ]”اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کی عبادت ایک کنارے پر کرتا ہے، پھر اگر اسے کوئی بھلائی پہنچ جائے تو اس کے ساتھ مطمئن ہوجاتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش آپہنچے تو اپنے منہ پر الٹا پھرجاتا ہے، اس نے دنیا اور آخرت کا نقصان اٹھایا، یہی تو صریح خسارہ ہے۔“ ان آیات میں ان کے اسی تذبذب کو بیان فرمایا ہے کہ جب کبھی ان کے لیے روشنی ہوتی ہے چل پڑتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو ٹھہر جاتے ہیں۔ (ابن کثیر)
بارش سے مراد اسلام ہے، اندھیروں اور گرج سے مراد وہ تکلیفیں اور مصیبتیں ہیں جو اسلام کی راہ میں پیش آتی ہیں، چمک سے مراد مسلمانوں کو حاصل ہونے والی کامیابیاں اور کڑکنے والی بجلیوں سے مراد جہاد کے احکام ہیں، جن میں منافقین کو موت دکھائی دیتی ہے۔
شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : دین اسلام میں آخر سب نعمت ہے، مگر اول کچھ محنت ہے، جیسے بارش کہ آخر اسی سے آبادی ہے اور اول کڑک ہے اور بجلی ہے۔ منافق لوگ اول سختی سے ڈر جاتے ہیں اور ان کو آفت سامنے نظر آتی ہے اور جیسے بادل کی چمک میں کچھ اجالا ہوتا ہے اور کبھی اندھیرا، اسی طرح منافق کے دل میں کبھی اقرار ہے کبھی انکار۔ (موضح)
وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ) اور اگر اللہ چاہتا تو پہلے گروہ کی طرح ان کی سماعت اور ان کی نگاہیں لے جاتا، مگر اللہ کا دستور ہے کہ جو شخص جس حد تک سننا دیکھنا چاہے وہ اسے سننے اور دیکھنے کا موقع دیتا ہے۔
(قَدِيْرٌ) مبالغے کا صیغہ ہے، اس لیے ”پوری طرح قادر“ ترجمہ کیا گیا ہے۔
Ayah 2:21اس سے پہلی آیت تک تو تمہید تھی کہ قرآن جو ہدایت کا اصلی سر چشمہ ہے اسے ماننے اور نہ ماننے کے اعتبار سے لوگ تین قسم کے ہیں، اب آگے براہ راست خطاب کے ساتھ تمام لوگوں کے سامنے وہ اصل بات پیش کی جا رہی ہے جو اس کتاب کی دعوت کا حقیقی مقصد ہے، جس کے لیے کتابیں اتاری گئیں اور انبیاء بھیجے گئے وہ ہے دعوت توحید یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا اور اس کی عبادت اور دعا میں کسی کو شریک نہ کرنا۔
طبری نے ابن عباس ؓ سے (اعْبُدُوْا) کا معنی بیان کیا ہے : ”اَیْ وَحِّدُوْا رَبَّکُمْ“ یعنی اپنے رب کو ایک مانو۔
3 توحید کے لیے پہلی دلیل یہ بیان فرمائی کہ میں تمہارا رب ہوں جو تمہاری پرورش کر رہا ہے اور تمہاری ہر ضرورت پوری کر رہا ہے۔ دوسری دلیل اس کی وہ نعمت ہے جو رب ہونے سے بھی پہلے کی ہے اور وہ ہے تمہیں پیدا کرنا۔ باقی تمام نعمتیں اس کے بعد ہیں، اگر یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں قرآن مجید اس دلیل پر بہت زور دیتا ہے اور اسے بار بار دہراتا ہے۔ اس لیے کہ کفار بھی مانتے تھے کہ خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے، فرمایا : (وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ) [ الزخرف : 87 ]”اور یقیناً اگر تو ان سے پوچھے کہ انھیں کس نے پیدا کیا تو بلاشبہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔“
”لَعَلَّ“ یہاں ”کَیْ“ یعنی ”تاکہ“ کے معنی میں ہے۔
(تَتَّقُوْنَ) بچ جاؤ یعنی اللہ کی گرفت سے اور جہنم سے بچ جاؤ۔
Ayah 2:22یعنی تمہیں اور تمہارے باپ دادا کو پیدا کرنے کے بعد تمہاری ضروریات کے لیے تمہیں کسی دوسری ہستی کے سپرد نہیں کردیا، بلکہ ہر چیز کا بندوبست خود فرمایا، زمین کو تمہارے لیے بچھونا بنایا، آسمان کو چھت بنایا، پھر آسمان سے پانی اتار کر تمہاری روزی کے لیے مختلف انواع کے پھل پیدا کیے۔ جب تم یہ سب کچھ جانتے ہو تو لازم ہے کہ اللہ کے لیے کسی قسم کے شریک نہ بناؤ، یا پھر اس کی زمین سے نکل جاؤ اور اپنے کسی داتا یا دستگیر کی بنائی ہوئی زمین کے اوپر اور اس کے بنائے ہوئے آسمان کے نیچے رہو اور اسی کا پیدا کیا ہوا رزق کھاؤ۔
مَاۗءً کا ترجمہ ”کچھ پانی“ تنوین کی وجہ سے اور (اَنْدَادًا) کا ترجمہ ”کسی قسم کے شریک“ جمع اور نکرہ کے مفہوم کو واضح کرنے کے لیے کیا گیا ہے، یعنی نہ ذات میں شریک بناؤ، نہ صفات میں اور نہ افعال میں۔
Ayah 2:23سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو (ُ لَا رَيْبَ) قرار دیا، اب فرمایا کہ (اس کتاب میں کوئی شک تو نہیں لیکن) اگر تم اس کے بارے میں کسی ادنیٰ سے شک میں بھی مبتلا ہو تو اس جیسی ایک سورت بنا کرلے آؤ۔ یہ چیلنج پہلے اس کتاب جیسی ایک کتاب لانے کا کیا گیا۔ [ بنی إسرائیل : 88 ] پھر اس جیسی دس سورتیں لانے کا۔ [ ہود : 13 ] پھر مکہ میں اس جیسی ایک سورت لانے کا چیلنج کیا گیا۔ [ یونس : 38 ] اب مدینہ میں یہ چیلنج دہرایا جا رہا ہے، کیونکہ سورة بقرہ مدنی ہے۔
پچھلی دو آیات میں شرک کی تردید اور توحید کی دعوت ہے۔ ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے کی دعوت ہے۔
عَبْدِنَا اگرچہ تمام بندے اللہ تعالیٰ ہی کے بندے ہیں مگر ”ہمارے بندے“ سے مراد ہمارا خاص بندہ ہے، جیسے : ”بیت اللہ“ اور ”ناقۃ اللہ“ اسے اضافت تشریفی کہتے ہیں۔
ہر زمانے میں جو چیز کمال کو پہنچی ہوئی تھی اس زمانے کے پیغمبر کو ایسا معجزہ دیا گیا جس کے سامنے انسانی کمال عاجز اور بےبس ہو، جیسے فرعون کے جادوگر اور عصائے موسیٰ ، اور عیسیٰ ؑ کے زمانے کے با کمال طبیب اور عیسیٰ ؑ کا مردوں کو زندہ کرنا۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اہل عرب کو اپنی فصاحت و بلاغت پر فخر تھا، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ایسا معجزہ عطا فرمایا جس کی چھوٹی سے چھوٹی سورت کی مثال سیکڑوں برس گزرنے کے باوجود نہ کوئی پیش کرسکا نہ کرسکے گا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة عنکبوت (47 تا 51)۔
Ayah 2:24عام آگ انسانی جسم اور پتھروں سے بجھ جاتی ہے یا مدہم ہوجاتی ہے، مگر جہنم کی آگ کی حرارت اس قدر ہے کہ انسان اور پتھر اس کا ایندھن بن کر اسے مزید بھڑکائیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تمہاری آگ جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔“ [ بخاری، بدء الخلق، باب صفۃ النار و أنہا مخلوقۃ : 3249، عن أبی ہریرۃ ؓ ] عبداللہ بن مسعود اور ابن عباس ؓ نے فرمایا : ”یہ پتھر گندھک کے ہوں گے۔“ (طبری) وہ بت بھی مراد ہیں جنھیں کفار پوجتے تھے۔ دیکھیے سورة انبیاء : (98)۔
(اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَ) اس سے معلوم ہوا کہ جہنم اصل میں کافروں کے لیے بنائی گئی ہے، کوئی مومن اس میں جائے گا تو کفر کے کسی کام کے ارتکاب کی وجہ ہی سے جائے گا، اگرچہ ہمیشہ اس میں نہیں رہے گا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جہنم اس وقت بھی موجود ہے، یہی تمام سلف کا عقیدہ ہے، اس کا انکار صریح آیات و احادیث کا انکار ہے۔
Ayah 2:25کفار کو آگ سے ڈرانے کے بعد اب ایمان لانے پر جنت کی بشارت دی جا رہی ہے۔ قرآن مجید میں عموماً یہ دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ ابن کثیر ؓ نے فرمایا : (كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ) [ الزمر : 23 ] میں صحیح ترین قول کے مطابق ”مَّثَانِی“ سے مراد یہ ہے کہ کسی چیز کے ساتھ اس کا مقابل بھی مذکور ہو، مثلاً ایمان کے ساتھ کفر، جنت کے ساتھ جہنم کا ذکر ہو۔
ایمان دل سے تصدیق، زبان سے اقرار اور اس کے مطابق عمل کا نام ہے، یہاں ایمان پر عمل صالح کے عطف کا یہ مطلب نہیں کہ یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، بلکہ ایمان کے بعد عمل صالح کا ذکر خاص طور پر اس لیے کیا گیا ہے کہ عموماً اس میں کوتاہی کی جاتی ہے، حالانکہ عمل سے خالی ایمان کافی نہیں۔ اگر عطف ہی کی وجہ سے دونوں کو ایک دوسرے سے الگ سمجھا جائے تو سورة عصر کی آیت : (اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بالْحَقِّ ڏ وَتَوَاصَوْا بالصَّبْرِ) میں مذکور چاروں چیزیں ایک دوسرے سے الگ ماننا پڑیں گی۔ تفصیل کے لیے سورة عصر کی تفسیر دیکھیں۔
عمل صالح کی پہلی شرط یہ ہے کہ خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو۔ دیکھیے سورة کہف کی آخری آیت اور سورة بینہ کی آیت (5)۔ دوسری یہ کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہو۔ آپ کا فرمان ہے : (مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَیْسَ عَلَیْہِ أَمْرُنَا فَہُوَ رَدٌّ)”جو شخص ایسا عمل کرے جس پر ہمارا امر نہ ہو تو وہ مردود ہے۔“ [ مسلم، الأقضیۃ، باب نقض الأحکام۔۔ : 18؍ 1718 ]
انسان کی لذت و آسائش کی بنیادی چیزیں رہائش، کھانا پینا اور نکاح ہیں۔ ایمان اور عمل صالح والوں کی رہائش کے لیے (جَنّٰتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ) ، کھانے پینے کے لیے (كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَـــرَةٍ رِّزْقًا) اور نکاح کے لیے (اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ) ہیں، پھر یہ نعمتیں حاصل ہونے کے ساتھ اگر ان کے زوال کا خوف ہو تو لذت مکدر ہوجاتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اس خوف کو یہ کہہ کر دور کردیا : (ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ) [ اللباب ]
جنت کی نہروں کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة محمد (15)۔
مُّطَهَّرَةٌ : باب تفعیل سے اسم مفعول ہے۔ ایک حرف کے اضافے کی وجہ سے ”نہایت پاک صاف“ ترجمہ کیا گیا ہے، یعنی وہ ہر قسم کی ظاہری آلائشوں، مثلاً پیشاب، پاخانہ، تھوک، حیض وغیرہ سے اور باطنی آلائشوں مثلاً جھوٹ، حسد، کینہ وغیرہ سے پاک ہوں گی۔
(مُتَشَابِهًا) یعنی دنیا کے پھلوں کے ہم صورت ہوں گے، یا آپس میں ہم شکل ہوں گے، مگر یہ مشابہت صرف نام یا شکل میں ہوگی، ورنہ جنت کی نعمتوں کو دنیا کی نعمتوں سے کوئی نسبت ہی نہیں۔ دیکھیے سورة سجدہ (17)۔
Ayah 2:263 اس سے پہلے منافقین کی دو مثالیں بیان ہوئی ہیں، اس کے علاوہ قرآن مجید میں مکھی [ حج : 73 ] مکڑے [ عنکبوت : 41 ] کتے [ اعراف : 176 ] اور گدھے [ جمعہ : 5 ] کو بطور مثال پیش کیا گیا ہے۔ کفار اور منافقین جب قرآن کے چیلنج کا جواب نہ دے سکے تو اعتراض جڑ دیا کہ اللہ تعالیٰ کو ایسی مثالوں کی کیا ضرورت تھی، فرمایا اللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کو بطور مثال بیان کرسکتا ہے، یہ کوئی عیب نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے حیا کرے، وہ مثال مچھر کی ہو یا پھر اس کی جو اس سے بھی بڑھ کر حقیر ہو، مثلاً مچھر کا پر یا ایک ذرہ۔ مچھر سے بڑھ کر ہونے سے مراد اس سے بڑی چیزیں مثلاً مکھی، مکڑا وغیرہ بھی ہوسکتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح بڑی سے بڑی مخلوق اللہ کی قدرت پر اور غیر اللہ کی بےبسی پر دلالت کرتی ہے، اسی طرح چھوٹی سے چھوٹی مخلوق بھی اللہ کی قدرت کا شاہکار ہے۔ پھر بات سمجھانے کے لیے اگر چھوٹی مخلوق کی مثال زیادہ موزوں ہو تو اس میں حیا کی کیا بات ہے ؟ ”اَنَّهُ الْحَقُّ“ میں ”اَنَّهُ“ کی خبر ”الْحَقُّ“ معرفہ آنے کی وجہ سے ترجمہ ”وہی“ کیا گیا ہے۔
Ayah 2:27اللہ کی کتاب سے ہدایت پانے کے بجائے گمراہ ہونے والے فاسقوں کی تین صفات ذکر کی گئی ہیں، اللہ کے عہد کو توڑنا، رشتہ داری اور دوسرے باہمی تعلقات قطع کرنا اور زمین میں فساد کرنا، جیسا کہ مشرکین نے اس عہد کو توڑا جو (اَلَسْتُ بِرَبِّكم) کے ساتھ ان سے لیا گیا تھا۔ [ الأعراف : 172 ] یہود و نصاریٰ نے وہ عہد توڑا جو ان سے نبی ﷺ پر ایمان لانے کے لیے لیا گیا تھا، کفار قریش نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے رشتہ داری کو قطع کیا اور منافقین نے زمین میں فساد پھیلایا اور یہ تینوں صفات کفار کے تمام گروہوں میں پائی جاتی ہیں۔
Ayah 2:28(يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا) کے ساتھ توحید کی جو بات شروع ہوئی تھی وہی بات آگے بڑھائی جا رہی ہے کہ اللہ کے ساتھ تمہارے کفر پر تعجب ہے، جس نے تمہیں اس وقت زندگی بخشی جب تم بےجان تھے، یعنی موجود ہی نہ تھے، پھر وہ تمہیں موت دے گا۔ زندگی اور موت کا یہ سلسلہ جو تمہارے سامنے ہے یہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور توحید کی بھی دلیل ہے اور تمہیں دوبارہ زندہ کر کے اپنے سامنے حاضر کرنے کی بھی۔
Ayah 2:29یہ انسان کے کفر پر تعجب کے لیے اللہ کے مزید احسانات کا ذکر ہے کہ زمین میں جو کچھ ہے سب اس اکیلے نے پیدا کیا اور تمہارے لیے پیدا کیا، پھر اس نے آسمانوں کو درست کر کے سات آسمان بنائے ایسے محسن سے تم کس طرح کفر کرتے ہو ؟ وہ تو ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے، تمہارا کفر بھی اس سے مخفی نہیں، اپنا انجام خود سوچ لو۔
3 اس آیت سے معلوم ہوا کہ زمین آسمان سے پہلے پیدا کی گئی، یہی بات سورة حم سجدہ کی آیات 9 تا 12 سے ثابت ہوتی ہے، مگر سورة نازعات میں : (وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا) بظاہر اس کے خلاف ہے، تطبیق کے لیے دیکھیے سورة نازعات (30)۔
3 ابن کثیر ؓ نے فرمایا : یہاں ”اسْتَوٰٓى“ کے ضمن میں ارادہ کرنے اور متوجہ ہونے کا معنی رکھا گیا ہے، کیونکہ اسے ”اِلَى“ کے ساتھ متعدی کیا گیا ہے۔
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ زمین میں جو کچھ ہے مجموعی طور پر انسان کے فائدے کے لیے ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ زمین کی ہر چیز ہر انسان کے لیے حلال ہے، بلکہ اسے یہ فائدہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کے تحت اٹھانا ہوگا۔
Ayah 2:30ان آیات سے معلوم ہوا کہ فرشتے ایک الگ مخلوق ہیں اور وہ انسان کی پیدائش سے پہلے موجود تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایمان کی تعریف میں اللہ پر ایمان کے بعد فرشتوں پر ایمان کا ذکر فرمایا۔ [ بخاری، الإیمان، باب سؤال جبریل النبی ﷺ۔۔ : 50 ] نیک انسانوں یا نیکی کی قوتوں کو فرشتے قرار دینا درحقیقت ان کے وجود سے انکار ہے، جو ایمان کے منافی ہے۔
خلیفہ وہ ہے جو کسی کی موت کے بعد یا اس کے غائب ہونے کی صورت میں اس کا جانشین بنے، یا تمام امور خود سر انجام نہ دے سکنے کی صورت میں بعض معاملات میں اس کا نائب ہو۔ یہاں خلیفہ سے اللہ کا خلیفہ مراد لینا درست نہیں، کیونکہ نہ اللہ تعالیٰ پر موت آئے گی نہ وہ غائب ہے اور نہ وہ اپنے کاموں میں کسی کا محتاج ہے، بلکہ بقول ابن کثیر ؓ ”قَوْمًا یَخْلُفُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا قَرْنًا بَعْدَ قَرْنٍ جِیْلاً بَعْدَ جِیْلٍ“ یعنی خلیفہ سے ایسے لوگ مراد ہیں جو نسلاً بعد نسل ایک دوسرے کے جانشین بنیں گے۔ اسی طرح خلیفہ سے مراد صرف آدم ؑ نہیں بلکہ پوری نوع انسان ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ زمین میں فساد اور خون بہانا آدم ؑ کا نہیں بلکہ اولاد آدم کا کام تھا۔ [ ابن کثیر ]
فرشتوں کو انسان کا زمین میں فساد کرنا کیسے معلوم ہوا ؟ جواب یہ ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے انھیں بتادیا تھا۔ دلیل ان کا یہ کہنا ہے کہ ”ہمیں کچھ علم نہیں مگر جو تو نے ہمیں سکھایا۔“ فرشتوں کا سوال اعتراض کے لیے نہیں بلکہ انسان کی پیدائش کی حکمت معلوم کرنے کے لیے تھا۔
Ayahs 2:31–33کسی ورکشاپ کی ذمہ داری سپرد کرتے وقت یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کے اوزاروں کا علم کون رکھتا ہے، ظاہر ہے کہ انھیں وہی استعمال کرسکتا ہے جو کم از کم ان کا نام جانتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کی اشیاء کے نام آدم ؑ کو سکھائے اور فرشتوں پر واضح کیا کہ زمین کی خلافت کے لیے صرف تسبیح و تقدیس کافی نہیں بلکہ علم اسماء بھی ضروری ہے جو آدم کو عطا کیا گیا ہے، فرشتوں کو نہیں۔ رہی یہ بات کہ فرشتوں کو یہ علم کیوں نہیں دیا گیا اور انھیں زمین کی خلافت کیوں نہیں سونپی گئی تو اس کی حکمت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے : (اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ) . بیشک میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
3 اس سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کا علم جزوی ہے اور وہ مقرب ہونے کے باوجود علم غیب نہیں رکھتے۔ غیب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ [ النمل : 65 ] عائشہ ؓ نے فرمایا : ”جو شخص تمہیں کہے کہ نبی ﷺ غیب جانتے تھے تو بلاشبہ اس نے جھوٹ کہا، اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ اس کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔“ [ بخاری، التوحید، باب (عالم الغیب فلا یظہر علی غیبہ أحدًا۔۔) :
7380 ]
Ayah 2:34آدم ؑ کی پہلی فضیلت علم ظاہر فرمائی، اب یہ دوسرا شرف ہے کہ فرشتوں کو ان کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ یہ صرف آداب بجا لانا یا تابع ہونا نہیں تھا، بلکہ زمین پر پیشانی رکھنا تھا، کیونکہ سجدے کا حقیقی معنی یہی ہے۔
یہ عبادت کا سجدہ نہیں تھا، کیونکہ غیر اللہ کی عبادت تو شرک ہے، جس کی اجازت کسی بھی امت میں نہیں تھی، پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں کو شرک کا حکم کیسے دے سکتا تھا، بلکہ یہ تعظیم کا سجدہ تھا، جو پہلی امتوں میں جائز تھا، ہماری امت میں حرام ہے، جیسا کہ بعض پہلی امتوں میں بہن سے نکاح جائز تھا، اب حرام ہے۔
عبد اللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں کہ معاذ ؓ جب شام سے واپس آئے تو انھوں نے نبی ﷺ کو سجدہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا : ”معاذ ! یہ کیا ہے ؟“ کہا، میں شام گیا تو میں نے انھیں دیکھا کہ وہ اپنے پادریوں اور افسروں کو سجدہ کرتے ہیں، میں نے دل میں چاہا کہ ہم آپ کے ساتھ اس طرح کریں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تم یہ کام نہ کرو، کیونکہ اگر میں کسی کو حکم دینے والا ہوتا کہ وہ غیر اللہ کو سجدہ کرے تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔“ [ ابن ماجہ، النکاح، باب حق الزوج علی المرأۃ : 1853] مگر افسوس کہ جاہل صوفی اور عوام جب پیروں کے پاس حاضری دیتے ہیں تو انھیں سجدہ کرتے ہیں اور وہ بھی اس پر خاموش رہ کر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
ابلیس فرشتہ نہیں تھا بلکہ جنوں سے تھا۔ [ الکہف : 50 ] یہاں فرشتوں کو سجدے کا حکم دینے کا یہ مطلب نہیں کہ ابلیس فرشتہ تھا، یا یہ کہ اسے حکم ہی نہ تھا، بلکہ یہاں بات مختصر بیان ہوئی ہے۔ سورة اعراف (12) میں تفصیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے علاوہ ابلیس کو خاص طور پر سجدے کا حکم دیا تھا : (مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ) [ الأعراف : 12 ] ”تجھے کس چیز نے روکا کہ تو سجدہ نہیں کرتا، جب میں نے تجھے حکم دیا ؟“
ابلیس کے انکار کا باعث اس کا کبر تھا۔ عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی کبر ہوگا۔“ [ مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ : 91 ]
Ayah 2:35اس آیت میں آدم ؑ کی تیسری فضیلت کا بیان ہے کہ فرشتوں سے سجدہ کروانے کے بعد انھیں جنت کی سکونت عطا فرمائی۔ آیت کا ظاہر یہ ہے کہ حوا [ اس وقت پیدا ہوچکی تھیں، ان کی پیدائش کے متعلق تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نساء (1) اور سورة اعراف (189)۔
یہ کون سا درخت تھا ؟ اللہ تعالیٰ نے بیان نہیں فرمایا، نہ نبی کریم ﷺ نے بتایا، اگر اس کی ضرورت ہوتی، یا اس سے کوئی فائدہ ہوتا تو ضرور بتادیا جاتا۔ بعض مفسرین نے گندم یا انگور یا انجیر وغیرہ کا نام لیا ہے، مگر یہ سب اقوال بلا دلیل ہیں۔
وَلَا تَـقْرَبَا اس درخت کے کھانے سے بچنے کے لیے اس کے قریب جانے سے بھی منع فرما دیا۔ اس سے شریعت کا قاعدہ سد ذرائع ثابت ہوتا ہے، یعنی جو چیز حرام کا ذریعہ بنتی ہے اس سے بچنا بھی ضروری ہے۔ مثلاً 1 زنا سے بچنے کے لیے اس کے قریب جانے سے بھی منع فرما دیا (وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى) [ بنی إسرائیل : 32 ] ”اور زنا کے قریب مت جاؤ۔“ حرام سے بچنے کے لیے مشتبہات یعنی شبہ والی چیزوں سے بچنے کا حکم دیا۔ نعمان بن بشیر ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، بیشک حلال بالکل ظاہر ہے اور بیشک حرام بالکل ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ (شبہ والی) چیزیں ہیں جنھیں بہت سے لوگ نہیں جانتے، تو جو شخص شبہات سے بچے گا وہ اپنے دین اور اپنی عزت کو پوری طرح بچا لے گا اور جو شبہات میں پڑجائے گا، وہ حرام میں پڑجائے گا، جیسے وہ چرواہا جو ممنوعہ چراگاہ میں جانور چراتا ہے، قریب ہے کہ اس کے اندر چرنے لگے۔ یاد رکھو ! اور ہر بادشاہ کی ممنوعہ چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ممنوعہ چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔
[ مسلم، المساقاۃ والمزارعۃ، باب أخذ الحلال و ترک الشبہات : 1599 ]
اللہ تعالیٰ کو گالی سے بچانے کے لیے معبودان باطل کو گالی دینے سے منع فرمایا : (وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍ) [ الأنعام : 108 ] ”اور انھیں گالی نہ دو جنھیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، پس وہ زیادتی کرتے ہوئے کچھ جانے بغیر اللہ کو گالی دیں گے۔“
Ayah 2:36شیطان کے اس پھسلانے کی تفصیل سورة اعراف (20) میں ہے۔
(بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۚ) یعنی آدم ؑ اور ابلیس اور ان کی اولاد ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ [ الکہف : 50، یٰسٓ : 60 ] یہ مطلب بھی درست ہے کہ اولاد آدم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہیں، جیسا کہ آدم ؑ کے دو بیٹوں کا قصہ ہے۔ [ المائدۃ : 27 ] فرشتوں نے بھی (وَيَسْفِكُ الدِّمَاۗءَ) میں اسی عداوت کا ذکر کیا تھا۔
(وَلَكُمْ فِى الْاَرْضِ مُسْـتَقَرٌّ) یہ الفاظ دلیل ہیں کہ آدم ؑ جس جنت میں رکھے گئے تھے وہ آسمان پر تھی، زمین پر جنت سے نکلنے کے بعد آئے۔ (اھْبِطُوْا) سے بھی یہی بات نکلتی ہے۔ یہ جمعہ کا دن تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”سب سے بہتر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم ؑ پیدا کیے گئے اسی میں جنت میں داخل کیے گئے اور اسی میں اس سے نکالے گئے۔“ [ مسلم، الجمعۃ، باب فضل یوم الجمعۃ : 854، عن أبی ہریرۃ ؓ ]
اِلٰى حِيْنٍ یعنی موت تک کے لیے، کیونکہ انسان کے لیے مرنے کے بعد زمین سے فائدہ اٹھانا ممکن نہیں۔ ”ایک وقت تک“ سے معلوم ہوا کہ زمین پر رہائش عارضی ہے، دائمی نہیں۔
Ayah 2:37کلمات یہ تھے : (رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا ۫وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ)[ الأعراف : 23 ]
مستدرک حاکم (2؍672، ح : 4228) میں ہے کہ آدم ؑ نے عرش پر ”لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ لکھا ہوا دیکھا اور محمد رسول اللہ ﷺ کے وسیلے سے دعا مانگی تو ان کی توبہ قبول ہوئی، مگر ذہبی نے اسے موضوع یعنی من گھڑت کہا ہے۔ اس روایت کے راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم کے متعلق خود امام حاکم نے ”المدخل إلی الصحیح“ میں فرمایا کہ وہ اپنے باپ سے موضوع روایات بیان کرتا ہے، جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کی گھڑی ہوئی ہیں، یہ روایت بھی اس نے اپنے باپ سے بیان کی ہے۔ قرآن و حدیث میں بہت سی دعائیں آئی ہیں، سب میں براہ راست اللہ تعالیٰ سے مانگنا سکھایا گیا ہے، کسی نبی یا ولی کا واسطہ و وسیلہ نہیں بتایا گیا۔ مزید دیکھیے سورة مائدہ (35) اور بنی اسرائیل (57)۔
(فَتَابَ عَلَيْهِ) خالص توبہ کے لیے تین چیزیں ضروری ہیں، اپنے گناہ کے نقصان کا احساس، اس پر ندامت اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم (فَتَابَ عَلَيْهِ) سے معلوم ہوا کہ گناہ کے اثرات لازمی اور طبعی نہیں کہ لا محالہ ان کے نتیجے میں سزا ہی مل کر رہے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، چاہے تو گناہ کی سزا دے اور چاہے تو معاف کر دے، انسان توبہ کرلے تو گناہ کا اثر ختم کردیا جاتا ہے۔
(التَّوَّاب الرَّحِيْمُ) اس سے بڑھ کر کیا مہربانی ہوگی کہ خود دعا سکھائی اور پھر قبول بھی فرمائی۔
Ayahs 2:38–39(قُلْنَا مِنْهَا جَمِيْعًا ۚ) توبہ کی قبولیت کے بعد پھر پہلا حکم دہرایا، مقصد یہ کہ گناہ کی معافی کے باوجود اب تمہیں اور تمہاری اولاد سب کو زمین ہی پر رہنا ہوگا، جس کی خلافت کے لیے تمہیں پیدا کیا گیا ہے۔ جنت میں واپسی کے لیے تمہیں اس ہدایت اور راستے پر چلنا ہوگا جو میری طرف سے تمہارے پاس آئے گی۔
(فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّـنِّىْ ھُدًى) مخاطب آدم ؑ اور ان کی بیوی ہیں، مگر مراد ان کی اولاد ہے، یعنی تمہارے پاس میری طرف سے انبیاء و رسل بذریعہ وحی ہدایت لے کر آتے رہیں گے۔ ہدایت کا یہ سلسلہ آدم ؑ سے شروع ہو کر محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگیا۔ آپ ﷺ آخری نبی ہیں، قرآن مجید اور حدیث نبوی آخری وحی الٰہی ہے، اس دوران میں کتنے نبی اور رسول آئے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ دیکھیے سورة نساء، حاشیہ آیت 164۔ آج ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ دو ہی چیزیں ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : ”میں نے تم میں دو چیزیں چھوڑی ہیں، جب تک تم انھیں مضبوطی سے پکڑے رکھو گے، کبھی گمراہ نہیں ہو گے، ایک اللہ کی کتاب اور دوسری اس کے نبی ﷺ کی سنت۔“ [ المؤطا، القدر، باب النہی عن القول بالقدر : 3۔
مستدرک حاکم : 1؍171، ح : 318۔ الصحیحۃ : 176 ]
(فَمَنْ تَبِعَ ھُدَاىَ) پہلے ”فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّـنِّىْ ھُدًى“ میں اپنی طرف سے ہدایت آنے کی بات کی پھر (فَمَنْ تَبِعَ ھُدَاىَ) میں ”ھُدَاىَ“ کو یائے متکلم کی طرف مضاف کیا، یعنی ”پھر جو میری ہدایت کی پیروی کرے۔“ معلوم ہوا ہدایت صرف وہ ہے جو اللہ کی طرف سے آئے۔ لوگوں کی رائے کبھی ہدایت قرار نہیں پاسکتی خواہ وہ کتنے ہی بڑے عالم ہوں۔
(فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ) خوف آنے والی کسی چیز سے ڈر کو اور حزن ہاتھ سے نکل جانے والی کسی چیز پر غم کو کہتے ہیں، مقصد یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی طرف سے آنے والی ہدایت کی پیروی کریں گے وہ آخرت میں نہ دنیا کی زندگی پر افسوس کریں گے، جیسا کہ کفار کو افسوس ہوگا۔ [ الأنعام : 27] اور نہ قیامت کے دن کی بڑی گھبراہٹ سے انھیں کوئی غم ہوگا۔ (دیکھیے الأنبیاء : 103) فرمایا : (وَهُمْ مِّنْ فَزَعٍ يَّوْمَىِٕذٍ اٰمِنُوْنَ) [ النمل : 89 ] ”اور وہ اس دن بڑی گھبراہٹ سے امن میں ہوں گے۔“