2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 2:178

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰى١ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍ١ؕ ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:178 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم پر مقتولوں میں بدلہ لینا لکھ دیا گیا ہے، آزاد (قاتل) کے بدلے وہی آزاد (قاتل) اور غلام (قاتل) کے بدلے وہی غلام (قاتل) اور (قاتلہ) عورت کے بدلے وہی (قاتلہ) عورت (قتل) ہوگی، پھر جسے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ بھی معاف کردیا جائے تو معروف طریقے سے پیچھا کرنا اور اچھے طریقے سے اس کے پاس پہنچا دینا (لازم) ہے۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے ایک قسم کی آسانی اور ایک مہربانی ہے، پھر جو اس کے بعد زیادتی کرے تو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔

الْقَتْلٰي) یہ ”قَتِیْلٌ“ کی جمع ہے، جو بمعنی مقتول ہے۔ اس آیت سے بظاہر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مرد، مرد ہی کو قتل کرنے کی صورت میں قتل کیا جائے گا، عورت کو قتل کر دے تو قتل نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح عورت، عورت ہی کو قتل کرنے کی صورت میں قتل کی جائے گی، مرد کو قتل کرنے کی صورت میں نہیں، مگر یہ معنی مراد نہیں، بلکہ یہاں اہل جاہلیت کے ایک ظلم کا خاتمہ مقصود ہے کہ اگر ان کے کمزور قبیلے کی کوئی عورت کسی طاقت ور قبیلے کے کسی مرد کو قتل کردیتی تو وہ قتل کرنے والی عورت کے بجائے اس قبیلے کے کسی بےگناہ مرد یا متعدد مردوں کو قتل کردیتے۔ اسی طرح کسی کمزور قبیلے کا کوئی غلام کسی زور آور قبیلے کے کسی آزاد آدمی کو قتل کردیتا تو وہ اس قاتل غلام کی جگہ اس قبیلے کے کسی بےگناہ آزاد ہی کو قتل کرنے پر اصرار کرتے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قتل کرنے والے کے بدلے میں اسی قاتل ہی کو قتل کیا جائے، کسی دوسرے کو نہیں، قاتل خواہ آزاد ہے یا غلام، مرد ہے یا عورت۔ (خلاصہ از طبری) اگر کوئی مسلمان کسی کافر کو قتل کر دے تو قصاص میں مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا، بعض لوگوں نے کہا کہ کافر کو قتل کرنے کی صورت میں مسلمان کو قتل کردیا جائے گا، مگر یہ رسول اللہ ﷺ کے صریح فرمان کے خلاف ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : (وَ اَنْ لاَّ یُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِکَافِرٍ) ”اور یہ کہ کسی مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔“ [ بخاری، الدیات، باب لا یقتل المسلم بکافر : 6915 ] مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کو چوپاؤں کی مانند بلکہ ان سے بھی گمراہ تر قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورة اعراف (179)۔ مِنْ اَخِيْهِ یہاں مقتول کے وارث کو قاتل کا بھائی قرار دینے میں ایک طرح کی سفارش ہے کہ بیشک قاتل نے تمہارے آدمی کو قتل کیا ہے مگر مسلمان ہونے کے ناتے تم اس کے بھائی ہو، تمہیں اسے کچھ نہ کچھ معافی دینی چاہیے۔ معافی کی دو صورتیں ہیں، ایک تو یہ کہ صدقہ کرتے ہوئے دیت لیے بغیر معاف کردیں۔ دوسری یہ کہ دیت لے لیں، پھر خواہ پوری لے لیں یا اس میں سے کچھ معاف کردیں۔ اگر وہ معاف کرتے ہوئے قصاص کی جگہ دیت قبول کرلیں تو ان پر لازم ہے کہ دیت کا تقاضا اچھے طریقے سے کریں اور قاتل کے قبیلے والوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اچھے طریقے سے دیت ادا کردیں۔ استطاعت ہوتے ہوئے دیت ادا نہ کرنا ظلم ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَطْلُ الْغَنِیِّ ظُلْمٌ) ”غنی کا دیر کرنا ظلم ہے۔“ [ بخاری، الحوالات، باب الحوالۃ وہل یرجع فی الحوالۃ : 2287 ] (تَخْفِيْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ) ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں صرف قصاص تھا دیت نہیں تھی، اب اللہ تعالیٰ نے تخفیف فرما کر دیت لینے کی بھی اجازت دے دی ہے۔ [ بخاری، التفسیر، باب (یأیہا الذین آمنوا۔۔) : 4498 ] فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ دیت لے کر بھی کوئی آدمی اگر قاتل کو قتل کرے تو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
Ayah 2:179

وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:179 in the Quran reader

اور تمہارے لیے بدلہ لینے میں ایک طرح کی زندگی ہے اے عقلوں والو ! تاکہ تم بچ جاؤ۔

”قصاص میں زندگی“ کے معنی یہ ہیں کہ اس سزا کے خوف سے لوگ قتل کرنے سے رک جائیں گے اور کوئی شخص دوسرے کے قتل پر جرأت نہیں کرے گا۔ پس ”تَتَّقُوْنَ“ کے معنی یہ ہیں ”تاکہ تم دوسرے کو قتل کرنے سے بچ جاؤ“ مگر اس کے معنی عام لینا بہتر ہے ”تاکہ تم گناہ سے کنارہ کرکے آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جاؤ۔“ علماء نے لکھا ہے کہ یہ آیت اختصار اور جامعیت میں بےنظیر ہے۔ سعودی عرب میں بےمثال امن اسی آیت پر عمل کی برکت سے ہے۔
Ayah 2:180

كُتِبَ عَلَیْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَیْرَا١ۖۚ اِ۟لْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 2:180 in the Quran reader

تم پر لکھ دیا گیا ہے، جب تم میں سے کسی کو موت آپہنچے، اگر اس نے کوئی خیر چھوڑی ہو، اچھے طریقے کے ساتھ وصیت کرنا ماں باپ اور رشتہ داروں کے لیے، متقی لوگوں پر یہ لازم ہے۔

”لکھ دیا گیا ہے“ یعنی فرض کردیا گیا ہے۔ (راغب) ”کسی کو موت آپہنچے“ یعنی اس کے اسباب و قرائن آپہنچیں، کیونکہ موت آنے کے بعد وصیت تو کیا، کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ چونکہ موت کسی بھی وقت آسکتی ہے، اس لیے اگر وصیت نہ کرنے کی صورت میں کسی کی حق تلفی کا خطرہ ہو، مثلاً کسی کا قرض ادا کرنا ہو تو وصیت میں بالکل دیر نہیں کرنی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”کسی مسلمان آدمی کا حق نہیں جس کے پاس کوئی چیز ہو جس میں اسے وصیت کرنا ہو کہ وہ دو راتیں اس کے بغیر گزارے کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہو۔“ [ بخاری، الوصایا، باب الوصایا : 2738، عن ابن عمر ؓ ] ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان سننے کے بعد ایک رات بھی نہ گزری تھی کہ میں نے اپنی وصیت لکھ کر اپنے پاس رکھ لی۔ [ مسلم، الوصیۃ، باب وصیۃ الرجل مکتوبۃ عندہ : 4؍1627 ] اس بات پر امت کا اتفاق ہے کہ وارث کے حق میں وصیت نہیں، اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود وصیت کرتے ہوئے ان کا حصہ مقرر فرما دیا ہے، فرمایا : (يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْٓ اَوْلَادِكُمْ۔۔ وَلَهٗ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ) [ النساء : 11 تا 14 ] اب اللہ تعالیٰ کی وصیت کے بعد کسی اور کی وصیت کی کیا گنجائش ہے اور عمرو بن خارجہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَعْطٰی کُلَّ ذِیْ حَقٍّ حَقَّہٗ فَلاَ وَصِیَّۃَ لِوَارِثٍ) ”اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے چناچہ وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں۔“ [ نسائی، الوصایا، باب إبطال الوصیۃ للوارث : 3671۔ ترمذی : 2121۔ ابن ماجہ : 2713۔ وقال الترمذی حسن صحیح ] جب وارثوں کے حق میں وصیت جائز ہی نہیں تو اس آیت میں والدین اور اقربین یعنی قریبی رشتہ داروں کے حق میں وصیت کس طرح فرض کی گئی ؟ اس سوال کا جواب بعض علماء نے یہ دیا ہے کہ یہ آیت : (يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْٓ اَوْلَادِكُمْ) [ النساء : 11 ] کے ساتھ منسوخ ہے، چناچہ اب والدین اور اقربین کے حق میں وصیت فرض تو دور، جائز بھی نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بیشک والدین اور اقربین کے حصے کی خود اللہ تعالیٰ نے وصیت فرما دی ہے، لہٰذا ان کے حق میں وصیت نہیں ہے، مگر کچھ والدین اور قریبی رشتہ دار ایسے بھی ہیں جن کا حصہ اللہ تعالیٰ نے مقرر نہیں فرمایا، ان کے بارے میں وصیت کرنا فرض کردیا تاکہ وہ محروم نہ رہ جائیں، مثلاً وہ والدین جو کافر ہیں یا غلام ہیں، وہ مسلمان کے وارث نہیں ہوسکتے، ان کے حق میں وصیت فرض ہے۔ یا کسی شخص کے دادا، دادی یا نانا، نانی کا اگر کوئی پرسان حال نہیں تو والدین ہونے کے ناتے ان کے حق میں بھی وصیت لازم ہے، جب کہ قریبی والد کی موجودگی میں وہ وارث نہیں ہیں۔ اسی طرح کسی شخص کے بیٹوں کی موجودگی میں پوتے پوتیاں وارث نہیں ہوسکتے (اگرچہ پاکستان کے قانون میں اللہ کے حکم سے بغاوت کرتے ہوئے انھیں وارث بنایا گیا ہے) ، ایسے پوتوں کے حق میں وصیت فرض ہے، تاکہ وہ یتیمی کے داغ کے ساتھ ساتھ دادے کے ورثے سے بھی بالکل محروم نہ رہ جائیں۔ کل مال میں سے ایک تہائی سے زیادہ وصیت جائز نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے سعد بن ابی وقاص ؓ کو زیادہ سے زیادہ تہائی مال وصیت کی اجازت دی اور اسے بھی بہت قرار دیا۔ [ بخاری، الفرائض، باب میراث البنات : 6733 ]
Ayahs 2:181–182

فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌؕ Open ayah 2:181 in the Quran reader

پھر جو شخص اسے بدل دے، اس کے بعد کہ اسے سن چکا ہو تو اس کا گناہ انھی لوگوں پر ہے جو اسے بدلیں، یقینا اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 2:182 in the Quran reader

پھر جو شخص کسی وصیت کرنے والے سے کسی قسم کی طرف داری یا گناہ سے ڈرے، پس ان کے درمیان اصلاح کر دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، یقینا اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

وصیت کا بدلنا بڑا گناہ ہے، اس میں وصیت کا چھپانا بھی داخل ہے۔ ”جَنَفًا“ ”مائل ہونا“ یعنی اگر کسی کی طرف دلی میلان کی وجہ سے وصیت میں اس کی نامناسب طرف داری ہو۔ ”اَوْ اِثْمًـا“ یا ناجائز کام کی وصیت ہو، مثلاً شراب پلانے کی، ناچ کرانے کی، کسی قبر پر چراغاں کرنے یا میلہ اور عرس کرانے کی تو ایسی وصیت کو تبدیل کرنا ضروری ہے۔ ایک تفسیر یہ ہے کہ ”جَنَفًا“ سے مراد دلی میلان کی بنا پر غلطی یا بھول چوک سے طرف داری ہوجائے اور ”اِثْمًـا“ سے مراد جان بوجھ کر کسی کی حق تلفی ہو۔ ”فَاَصْلَحَ بَيْنَهُمْ“ یعنی وارثوں کو سمجھا بجھا کر ان میں صلح کرا دے۔
Ayahs 2:183–184

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:183 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم پر روزہ رکھنا لکھ دیا گیا ہے، جیسے ان لوگوں پر لکھا گیا جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم بچ جاؤ۔

اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:184 in the Quran reader

گنے ہوئے چند دنوں میں، پھر تم میں سے جو بیمار ہو، یا کسی سفر پر ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرنا ہے اور جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں ان پر فدیہ ایک مسکین کا کھانا ہے، پھر جو شخص خوشی سے کوئی نیکی کرے تو وہ اس کے لیے بہتر ہے اور یہ کہ تم روزہ رکھو تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ….) روزہ ان پانچ فرائض میں داخل ہے جن پر اسلام کی بنیاد ہے۔ [ بخاری، الإیمان، باب دعاؤکم إیمانکم : 8 ] الصِّيَامُ یہ مصدر ہے، یہ ”صَوْمٌ“ کی جمع نہیں، بلکہ ”صَوْمٌ“ بھی مصدر ہے، اصل میں یہ کسی بھی کام سے رک جانے کو کہتے ہیں، کھانا پینا ہو یا کلام ہو یا چلنا پھرنا، اسی لیے گھوڑا چلنے سے یا چارا کھانے سے رکا ہوا ہو تو اسے ”فَرَسٌ صَاءِمٌ“ کہتے ہیں، رکی ہوئی ہوا کو بھی ”صَوْمٌ“ کہتے ہیں۔ (راغب) شریعت میں روزہ کی نیت سے صبح صادق سے سورج غروب ہونے تک کھانے پینے اور جماع سے رکے رہنے کا نام صوم ہے۔ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ) یہ روزے کی حکمت بیان فرمائی ہے کہ اسلامی روزے کا مقصد نفس کو عذاب دینا نہیں بلکہ دل میں تقویٰ یعنی بچنے کی عادت پیدا کرنا ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے صبح سے شام تک ان حلال چیزوں سے بچے گا تو وہ ان چیزوں سے جو ہمیشہ کے لیے حرام ہیں، ان سے روزہ کی حالت میں بدرجۂ اولیٰ بچے گا۔ اس طرح روزہ گناہوں سے بچنے کا اور بچنے کی عادت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلصِّیَامُ جُنَّۃٌ) ”روزہ (گناہوں اور آگ سے) ڈھال ہے۔“ [ بخاری، الصیام، باب فضل الصوم : 1894 ] اور فرمایا : ”جو شخص جھوٹی بات اور اس پر عمل نہ چھوڑے اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔“ [ بخاری، الصیام، باب من لم یدع قول الزور : 1903، عن أبی ہریرۃ ؓ ] روزہ رکھ کر نماز نہ پڑھنے والے، جھوٹ بولنے والے، دھوکا دینے والے، سارا دن ٹیوی پر کان اور آنکھ کے زنا میں مصروف رہنے والے، غرض کسی بھی نافرمانی کا ارتکاب کرنے والے سوچ لیں کہ انھیں روزہ رکھنے سے کیا ملا ؟ پہلے لوگوں سے مراد یہود و نصاریٰ اور پہلی امتیں ہیں۔ روزے کی یہ فرضیت 2 ہجری میں نازل ہوئی اور روزے نے موجودہ شکل بتدریج اختیار کی۔ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ قریش (عاشورا) دس محرم کا روزہ رکھتے تھے اور نبی ﷺ بھی رکھتے تھے، جب مدینہ میں آئے تو اس دن کا روزہ رکھا اور اس کے رکھنے کا حکم دیا، پھر جب رمضان (کے روزوں کا حکم) نازل ہوا تو رمضان (کے روزے) فرض ہوگئے اور عاشورا ترک ہوگیا، پھر جو چاہتا اسے رکھتا اور جو چاہتا نہ رکھتا۔ [ بخاری، التفسیر، باب (یأیہا الذین آمنوا کتب۔۔) : 4504 ] (وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ) صحیح سند کے ساتھ اس کی دو تفسیریں آئی ہیں۔ سلمہ بن اکوع ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری : (وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ) تو جو چاہتا کہ روزہ نہ رکھے اور فدیہ دے دے تو ایسا کرلیتا، یہاں تک کہ وہ آیت اتری جو اس کے بعد ہے، تو اس آیت نے اسے منسوخ کردیا۔ [ بخاری، کتاب التفسیر، باب : (فمن شہد منکم الشہر) : 4507 ] ابن عمر ؓ نے بھی یہی فرمایا۔ [ بخاری، الصوم، باب : (و علی الذین یطیقونہ۔۔) : 1949 ] یعنی چونکہ شروع میں لوگوں کو روزے کی عادت نہ تھی، اس لیے انھیں یہ رعایت دی گئی کہ جو چاہے روزہ رکھ لے جو چاہے نہ رکھے اور فدیہ دے دے، بعد میں دوسری آیت سے یہ رعایت منسوخ ہوگئی۔ اکثر علماء نے یہی تفسیر کی ہے۔ دوسری تفسیر صحیح بخاری میں عبداللہ بن عباس ؓ سے آئی ہے، انھوں نے ”يُطِيْقُوْنَهٗ“ کی جگہ ”یُطَوَّقُوْنَہُ“ پڑھا، جس کا معنی ہے : ”یَتَجَشَّمُوْنَہٗ“ یعنی اس سے تکلیف اٹھاتے ہیں۔ (ابن عاشور ؓ نے ”التحریر والتنویر“ میں فرمایا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابن عباس ؓ نے ”یُطَوَّقُوْنَہٗ“ کو بطور قراءت نہیں بلکہ ”يُطِيْقُوْنَهٗ“ کی تفسیر کے طور پر پڑھا ہے) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں، یہ منسوخ نہیں بلکہ اس سے مراد وہ بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت ہیں جو روزہ نہیں رکھ سکتے، وہ ہر دن (یعنی ہر روزے) کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔ [ بخاری، التفسیر، باب : (أیامًا معدودات۔۔) : 4505 ] بخاری ہی میں مذکور ہے کہ انس ؓ نے بوڑھے ہونے کے بعد ایک یا دو سال ہر دن ایک مسکین کو گوشت کے ساتھ روٹی کھلا دی اور روزہ نہ رکھا۔ [ بخاری التفسیر، باب : (أیاما معدودات۔۔) ، قبل ح : 4505 ] يُطِيْقُوْنَهٗ اس کا معنی ”جو اس (روزے) کی طاقت رکھتے ہوں“ بھی ہوسکتا ہے اور ابن عباس ؓ نے جو معنی کیا ہے کہ ”طاقت نہ رکھتے ہوں“ وہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں باب افعال ازالۂ ماخذ کے لیے ہوگا، جیسے کہا جاتا ہے : ”شَکَا اِلَیَّ فَأَشْکَیْتُہُ“ اس نے میرے پاس شکایت کی تو میں نے اس کی شکایت دور کردی۔ دونوں کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ آیت روزے کی طاقت رکھنے والے کے حق میں منسوخ ہے اور طاقت نہ رکھنے والے بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کے حق میں منسوخ نہیں اور جس بیمار کے تندرست ہونے کی امید نہ ہو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ (فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا) یعنی ایک سے زیادہ مسکینوں کو کھلا دے۔ [ طبری عن ابن عباس ؓ بسند صحیح ] ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ہر دن کی جگہ نصف صاع فدیہ دے دے۔ [ ابن ابی حاتم بسند حسن، التفسیر الصحیح ] ایک روزے کی جگہ ایک کلو اناج فدیہ دے دے یا ایک مسکین کو بلا کر کھانا کھلا دے۔
Ayah 2:185

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:185 in the Quran reader

رمضان کا مہینا وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا، جو لوگوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ہدایت کی اور (حق و باطل میں) فرق کرنے کی واضح دلیلیں ہیں، تو تم میں سے جو اس مہینے میں حاضر ہو وہ اس کا روزہ رکھے اور جو بیمار ہو یا کسی سفر پر ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرنا ہے۔ اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اور تمہارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا اور تاکہ تم گنتی پوری کرو اور تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو، اس پر جو اس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر کرو۔

یعنی وہ ”اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ ۭ“ ماہ رمضان ہیں۔ (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ) یعنی اس ماہ لیلۃ القدر میں قرآن کا نزول شروع ہوا، پھر تیئیس برس میں تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا گیا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ ماہ رمضان کو قرآن مجید کے ساتھ خاص تعلق ہے، اس میں کثرت کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت اور قیام ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان میں ہر رات جبریل ؑ کے ساتھ قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے۔ [ بخاری، کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی : 6 ] صحابہ کرام اور دوسرے سلف صالحین کے عمل سے بھی رمضان میں قرآن سے خصوصی شغف ثابت ہے۔ بہت سی احادیث میں ماہ رمضان کی راتوں میں قیام کی فضیلت آئی ہے، ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس شخص نے ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ رمضان کا قیام کیا، اس کے پہلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔“ [ بخاری، الصوم، باب فضل من قام رمضان : 2009 ] ابوذر غفاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کی 23 ویں، 25 ویں اور 27 ویں رات جماعت کے ساتھ قیام کروایا۔ [ أبو داوٗد، تفریع أبواب شہر رمضان، باب فی قیام شہر رمضان : 1375، بسند صحیح ] ابو سلمہ ؓ نے عائشہ ؓ سے پوچھا کہ رمضان میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کس طرح تھی ؟ تو انھوں نے فرمایا کہ آپ رمضان ہو یا غیر رمضان گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ [ بخاری، صلاۃ التراویح، باب فضل من قام رمضان : 2013 ] عمر ؓ نے تمام لوگوں کو ایک امام پر جمع کردیا، چناچہ ابی بن کعب اور تمیم داری ؓ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو گیارہ رکعت قیام کروائیں۔ [ الموطأ، باب قیام شہر رمضان : 241 بسند صحیح ] بیس رکعت پڑھنا یا اس کا حکم دینا صحیح سند کے ساتھ نہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے نہ عمر ؓ سے۔ بعض روایات میں عمر ؓ کے زمانے میں بعض لوگوں سے بیس رکعت پڑھنے کا ذکر آیا ہے، موطا کی صحیح حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عمر ؓ نے ابی بن کعب اور تمیم داری ؓ کو خاص طور پر گیارہ رکعت کا حکم انھی لوگوں کے اس عمل کو ختم کرنے کے لیے دیا تھا۔ (ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ ۚ) یعنی قرآن لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور اس کے ساتھ اس میں ہدایت اور حق و باطل میں فرق کرنے والے دلائل بھی ہیں۔ ہدایت ایک عام ہوتی ہے اور ایک وہ ہدایت جس کے ساتھ دلیل بھی ہو، سو اس میں صرف ہدایت ہی نہیں بلکہ اس کے دلائل بھی ہیں۔ (التسہیل) (فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ) یعنی اس ماہ کا چاند طلوع ہونے کے بعد جو گھر میں موجود ہو وہ ضرور روزہ رکھے۔ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰي مَا ھَدٰىكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ) اس آیت سے علمائے کرام نے روزوں کی تکمیل پر اس کا شکر ادا کرنے کے لیے عید الفطر کا اہتمام اور اس کے لیے جاتے اور واپس آتے ہوئے تکبیرات کا اہتمام اخذ کیا ہے۔ جس کی عملی تفسیر احادیث رسول ﷺ سے ملتی ہے۔
Ayah 2:186

وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ١ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ Open ayah 2:186 in the Quran reader

اور جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو بیشک میں قریب ہوں، میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے، تو لازم ہے کہ وہ میری بات مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں، تاکہ وہ ہدایت پائیں۔

اس آیت سے پہلے اور بعد میں ماہ رمضان کا ذکر ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ماہ رمضان، خصوصاً روزے کی حالت دعا کی قبولیت کا خاص سبب ہے اور پھر افطار کا وقت قبولیت دعا کا وقت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”روزے دار کے لیے افطار کے وقت ایک قبول کی جانے والی دعا ہے (یعنی رد نہیں ہوتی)۔“ [ ابن ماجہ، الصیام، باب فی الصائم لا ترد دعوتہ : 1753 ] چناچہ حدیث کے راوی عبداللہ بن عمرو ؓ جب روزہ افطار کرتے تو اپنے اہل و اعیال کو بلاتے اور دعا کرتے۔ [ مسند أبی داوٗد الطیالسی : 2262 ] یہ حدیث حسن لغیرہ ہے۔ [ ہدایۃ المستنیر ] اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ”عِبَادِيْ“ کہہ کر اپنے بندوں پر اپنی خاص رحمت ظاہر کی ہے اور پھر اپنے قریب ہونے کا ذکر کر کے دعا کرنے کی ترغیب دی ہے، فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”کوئی مسلمان ایسا نہیں جو اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کرے جس میں نہ کوئی گناہ ہو اور نہ قطع رحمی، مگر اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اسے تین چیزوں میں سے ایک عطا فرما دیتا ہے، یا تو اس کی دعا جلد قبول کرلیتا ہے، یا آخرت میں اس کا ذخیرہ کرلیتا ہے، یا اس سے اتنی برائی ٹال دیتا ہے۔“ صحابہ نے کہا : ”پھر تو ہم بہت دعا کریں گے۔“ فرمایا : ”اللہ تعالیٰ کے پاس اس سے کہیں زیادہ ہے۔“ [ مسند أحمد : 3؍18، ح : 1139۔ صحیح ] (فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَلْيُؤْمِنُوْابِيْ) دعا کی قبولیت کے سلسلے میں دو حکم دیے، ایک تو یہ کہ ان پر بھی لازم ہے کہ وہ میری بات مانیں۔ اگر کوئی شخص اللہ کے احکام پر عمل نہیں کرتا تو خواہ وہ دعویٰ کرتا رہے مگر (توبہ کے بغیر) اس کے دل میں اللہ کی رحمت کی امید کا چراغ روشن نہیں ہوتا۔ (دیکھیے بقرہ : 218) ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کا ذکر فرمایا، جو طویل سفر کرتا ہے، بکھرے ہوئے بالوں والا ہے، غبار سے بھرا ہوا ہے، وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلاتا ہے (اور کہتا ہے) ”یا رب ! یا رب !“ حالانکہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا لباس حرام اور وہ حرام غذا کے ساتھ پلا بڑھا ہے تو اس کی دعا کیسے قبول کی جائے ؟ [ مسلم، الزکوٰۃ، باب قبول الصدقۃ۔۔ : 1015 ] دوسرا حکم یہ کہ مجھ پر ایمان لائیں اور یقین رکھیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول کی جاتی ہے، جب تک کہ کوئی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے، بشرطیکہ جلدی بھی نہ کرے۔“ پوچھا گیا : ”یا رسول اللہ ! وہ جلدی کیا ہے ؟“ فرمایا : ”یہ کہ کوئی کہے کہ میں نے دعا کی اور میں نے (دوبارہ) دعا کی تو میں نے نہیں دیکھا کہ وہ میری دعا قبول کرتا ہو، سو اس وقت وہ تھک ہار کر رہ جائے اور دعا کرنا چھوڑ دے۔“ [ مسلم، الذکر والدعاء، باب بیان أنہ یستجاب۔۔ : 92؍2735 ]
Ayah 2:187

اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 2:187 in the Quran reader

تمہارے لیے روزے کی رات اپنی عورتوں سے صحبت کرنا حلال کردیا گیا ہے، وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔ اللہ نے جان لیا کہ بیشک تم اپنی جانوں کی خیانت کرتے تھے تو اس نے تم پر مہربانی فرمائی اور تمہیں معاف کردیا، تو اب ان سے مباشرت کرو اور طلب کرو جو اللہ نے تمہارے لیے لکھا ہے اور کھاؤ اور پیو، یہاں تک کہ تمہارے لیے سیاہ دھاگے سے سفید دھاگا فجر کا خوب ظاہر ہوجائے، پھر روزے کو رات تک پورا کرو اور ان سے مباشرت مت کرو جب کہ تم مسجدوں میں معتکف ہو۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں، سو ان کے قریب نہ جاؤ۔ اسی طرح اللہ اپنی آیات لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ وہ بچ جائیں۔

ابن کثیر میں ہے کہ ابتدا میں جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو روزہ کھولنے سے لے کر صرف نماز عشاء تک کھانا پینا اور عورت سے صحبت جائز تھی، اگر کسی شخص نے عشاء کی نماز پڑھ لی، یا وہ اس سے پہلے سو گیا تو اس کا روزہ شروع ہوجاتا تھا، پھر اگلے روز افطار یعنی سورج غروب ہونے تک کھانا پینا اور جماع اس پر حرام ہوتا تھا، بعض لوگ ضبط نہ کرسکے اور رات کو بیویوں سے صحبت کر بیٹھے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے دور میں لوگ جب عشاء کی نماز پڑھ لیتے تو ان پر کھانا پینا اور بیویاں حرام ہوجاتی تھیں اور وہ اگلی شام تک کے لیے روزے دار ہوجاتے تھے۔۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ [ أبو داوٗد، الصیام، باب مبدأ فرض الصیام : 2313 ] ایک انصاری صحابی قیس بن صرمہ ؓ کے متعلق روایت ہے کہ وہ روزے کی حالت میں دن بھر کھیت میں کام کرتے رہے، افطار کے وقت گھر آئے اور بیوی سے پوچھا، کوئی چیز کھانے کے لیے ہے ؟ بیوی نے جواب دیا نہیں، آپ ٹھہرئیے، میں جا کر پڑوسیوں سے کچھ لاتی ہوں۔ بیوی کے چلے جانے کے بعد ان کی آنکھ لگ گئی اور وہ سو گئے۔ بیوی کو یہ دیکھ کر بڑا افسوس ہوا، پھر اگلے دن انھیں (بغیر کھائے پیے ہی) روزہ رکھنا پڑا۔ ابھی آدھا دن نہیں گزرا تھا کہ کمزوری کی وجہ سے غش کھا گئے۔ اس کا علم رسول اللہ ﷺ کو ہوا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ [ بخاری، الصوم، باب قول اللہ جل ذکرہ : (أحل لکم۔۔) : 1915۔ أبو داوٗد : 2314 ] ھُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ…... یعنی میاں بیوی ایک دوسرے سے لباس کی طرح مل جاتے ہیں، انھیں جدا رکھنا یقیناً ان پر شاق ہوگا، اس لیے انھیں رمضان کی راتوں میں مباشرت کی اجازت دے دی گئی۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ میاں بیوی کا آپس میں کوئی پردہ نہیں، بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ ”وہ ایک دوسرے کی شرم گاہ کو نہیں دیکھ سکتے“ ان کے ایک دوسرے کا لباس ہونے کے منافی ہے۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں : ”میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے غسل کرلیتے، جو میرے اور آپ کے درمیان ہوتا، جبکہ ہم دونوں جنبی ہوتے۔“ [ بخاری، الحیض، باب مباشرۃ الحائض : 299 ] عائشہ ؓ سے مروی روایت کہ میں نے کبھی رسول اللہ ﷺ کی شرم گاہ نہیں دیکھی، صحیح نہیں۔ [ دیکھیے ضعیف ابن ماجہ للألبانی : 668 ] وَابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ …. اس سے صحبت کی لذت کے ساتھ ساتھ پاک دامنی کا حصول اور اولاد کی طلب مراد ہے۔ کفار کی خواہش کے مطابق مسلمانوں کا اولاد کی کثرت سے اجتناب جائز نہیں۔ فجر کے سفید دھاگے سے مراد صبح صادق ہے۔ اس ”سفید دھاگے“ اور ”سیاہ دھاگے“ کے سمجھنے میں بعض صحابہ کو غلط فہمی ہوگئی۔ انھوں نے سرہانے کے ساتھ سفید دھاگا اور سیاہ دھاگا رکھ لیا اور اس کے واضح ہونے کا انتظار کرتے رہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اس سے مراد رات کی سیاہی سے صبح کی سفیدی واضح ہونا ہے۔“ [ بخاری، الصوم، باب قول اللہ تعالیٰ : (و کلوا واشربوا۔۔): 1916، عن عدی بن حاتم ؓ ] معلوم ہوا کہ قرآن سمجھنے کے لیے صرف عربی زبان سیکھ لینا کافی نہیں، بلکہ حدیث بھی ضروری ہے۔ فجر تک کھانے پینے اور جماع کی اجازت سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جنابت کی حالت میں روزہ رکھ سکتا ہے، غسل اذان کے بعد کرلے، رسول اللہ ﷺ سے بھی یہ ثابت ہے۔ [ بخاری، الصوم، باب الصائم یصبح جنبا : 1925، 1926، 1930 ] (اِلَى الَّيْلِ) یعنی سورج غروب ہونے تک۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”دین اس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے، کیونکہ یہود و نصاریٰ دیر سے افطار کرتے ہیں۔“ [ أبوداوٗد، الصیام، باب ما یستحب من تعجیل الفطر : 2353 ] (وَاَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ فِي الْمَسٰجِدِ ۭ) رمضان سے چونکہ اعتکاف کا خاص تعلق ہے، اس لیے یہاں اعتکاف کے احکام کی طرف اشارہ فرما دیا۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاء محدثین روزے کے عنوان کے بعد اعتکاف کا عنوان باندھتے ہیں۔ اعتکاف کا معنی اپنے آپ کو کسی کے ساتھ یا کسی جگہ روک کر رکھنا ہے۔ (راغب) اعتکاف میں بیوی سے مباشرت جائز نہیں، نہ مسجد سے نکلنا ہی جائز ہے، سوائے ایسی ضرورت کے جس کے بغیر چارہ نہ ہو۔ اگر مباشرت کرے گا یا مجبوری والی ضرورت کے بغیر نکلے گا تو اعتکاف باطل ہوجائے گا۔ ہاں مسجد میں جاکر عورت اپنے خاوند سے ملاقات کرسکتی ہے، جیسا کہ بعض ازواج مطہرات نے مسجد میں رسول اللہ ﷺ سے جا کر ملاقات کی اور بیوی خاوند کی خدمت بھی کرسکتی ہے۔ [ بخاری، الاعتکاف، باب ہل یخرج المعتکف۔۔ : 2035، 2030، 2031 ] فِي الْمَسٰجِدِ ۭ) اس لفظ سے معلوم ہوا کہ اعتکاف گھر میں نہیں ہوتا، مسجد میں ہوتا ہے، عورت ہو یا مرد۔ نبی ﷺ کی بیویاں مسجد میں اعتکاف کرتی تھیں۔ [ بخاری، الصوم، باب اعتکاف النساء : 2033، 2034 ] اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اعتکاف ہر مسجد میں ہوسکتا ہے۔ وہ روایت کہ ”تین مسجدوں کے سوا اعتکاف نہیں“ منکر ہے۔ صحیح بخاری میں امام بخاری ؓ نے اس کے غیر ثابت ہونے کی طرف اشارہ کرنے کے لیے باب قائم کیا ہے : ”اَلْاِعْتِکَافُ فِی الْمَسَاجِدِ کُلِّہَا“ ”تمام مسجدوں میں اعتکاف (کے جائز) ہونے کا بیان۔“ مسئلہ : احادیث میں سحری کے وقت کھانا کھا کر روزہ رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے، انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے۔“ [ بخاری، الصوم، باب برکۃ السحور من غیر إیجاب : 1923۔ مسلم : 1095 ] اور عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”ہمارے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان فرق سحری کھانے کا ہے۔“ [ مسلم، الصیام، باب فضل السحور۔۔ : 1096 ] لہٰذا سحری کے وقت کچھ کھا پی کر روزہ رکھنا چاہیے۔ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْھَا ۭ) یہ احکام یعنی صبح صادق تک مباشرت اور کھانے پینے کا جائز ہونا، فجر سے سورج غروب ہونے تک ان چیزوں کی ممانعت اور اعتکاف کی حالت میں عورتوں سے مباشرت کی ممانعت، یہ کام اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں، ان کی سختی سے پابندی کرو۔ (ابن کثیر)
Ayah 2:188

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:188 in the Quran reader

اور اپنے مال آپس میں باطل طریقے سے مت کھاؤ اور نہ انھیں حاکموں کی طرف لے جاؤ، تاکہ لوگوں کے مالوں میں سے ایک حصہ گناہ کے ساتھ کھا جاؤ، حالانکہ تم جانتے ہو۔

وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ۔۔ : روزے کی حالت میں اللہ کے حکم سے آدمی تین نہایت مرغوب اور حلال چیزیں ترک کردیتا ہے، اس مناسبت سے اب حرام سے بچنے کی تلقین فرمائی۔ جو مال بھی ناجائز طریقے سے حاصل کیا جائے، خواہ اس میں مالک کی رضا مندی بھی شامل ہو، وہ باطل (یعنی ناحق) طریقے سے کھانا ہے، مثلاً سود، زنا کی اجرت، نجومی کی فیس، شراب کی فروخت، لاٹری یا جوئے کے ذریعے سے کمائی یا گانے بجانے کی اجرت، الغرض تمام ناجائز وسائل باطل کے ساتھ کمانے میں آجاتے ہیں۔ (وَتُدْلُوْا) یہ باب افعال کے مصدر ”اِدْلاَءٌ“ سے جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے، جو ”دَلْوٌ“ سے بنا ہے، جس کا معنی ڈول ہے۔ ”اِدْلاَءٌ“ کا اصل معنی ڈول ڈالنا ہے، جیسا کہ سورة یوسف میں ہے : (فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ) [ یوسف : 19 ] ”تو اس نے اپنا ڈول ڈالا۔“ پھر کوئی چیز کسی کی طرف لے جانے یا بھیجنے کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا۔ حکام کی طرف لے جانے کے دو معنی ہیں اور دونوں یہاں مراد ہیں، ایک یہ کہ آدمی کو معلوم ہے کہ فلاں زمین یا مال فلاں شخص کا ہے، مگر اس کے پاس ثبوت نہیں، اگر میں مقدمہ کر دوں تو عدالت سے اپنے حق میں فیصلہ کروانے میں کامیاب ہوجاؤں گا، چناچہ وہ حاکم کے پاس مقدمہ لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا۔ (وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ) یعنی جانتے ہوئے ایسا کرنا تو نہایت برا ہے۔ ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”یاد رکھو ! میں ایک بشر ہی ہوں اور میرے پاس جھگڑنے والے آتے ہیں، تو شاید ان میں سے ایک اپنی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ زبان آور ہو تو میں اسے سچا سمجھتے ہوئے اس کے حق میں فیصلہ کر دوں، سو میں جس کے لیے کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ کر دوں تو وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے، خواہ وہ اسے لے لے یا اسے چھوڑ دے۔“ [ بخاری، المظالم، باب إثم من خاصم وہو بعلمہ : 2458 ] بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ قاضی جس کے حق میں کسی چیز کا فیصلہ کر دے وہ اس کے لیے حلال ہوجاتی ہے، لیکن اس آیت اور حدیث سے ان کی بات کا باطل ہونا ظاہر ہے۔ دوسرا معنی اس آیت کا یہ ہے کہ حکام کو بطور رشوت مال دے کر دوسرے کا حق باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔ ”رِشَاءٌ“ ڈول کی رسی کو کہتے ہیں، جس کے ذریعے سے پانی نکالا جاتا ہے، اسی طرح راشی رشوت کے ذریعے سے اپنا مطلب حاصل کرتا ہے۔ ”رَاشِیْ“ رشوت دینے والا اور ”مُرْتَشِیْ“ رشوت لینے والا۔ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی۔ [ ترمذی، الأحکام، باب ما جاء فی الراشی۔۔ : 1337، و صححہ الألبانی ] اگر اپنا حق لینے کے لیے تاوان دینا پڑے تو یہ رشوت نہیں، اگرچہ جہاں تک ہو سکے اس سے بھی بچنا لازم ہے، کیونکہ یہ گناہ میں اور بری عادت ڈالنے میں مدد ہے، ہاں کوئی بےبس ہوجائے تو الگ بات ہے۔
Ayah 2:189

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ١ؕ وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:189 in the Quran reader

وہ تجھ سے نئے چاندوں کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دے وہ لوگوں کے لیے اور حج کے لیے وقت معلوم کرنے کے ذریعے ہیں اور نیکی ہرگز یہ نہیں کہ گھروں میں ان کی پچھلی طرفوں سے آؤ، بلکہ نیکی اس کی ہے جو بچے۔ اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔

الْاَهِلَّةِ یہ ”ھِلاَلٌ“ کی جمع ہے۔ پہلی اور دوسری رات کے چاند کو ہلال کہا جاتا ہے، پھر اسے ”قمر“ کہا جاتا ہے۔ (راغب) لوگوں نے چاند کے گھٹنے بڑھنے کی حکمت دریافت کی تو اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ چاند ہر ماہ ہلال کی صورت میں نمودار ہوتا ہے، پھر وہ چودھویں کو پورا (بدر) ہوجاتا ہے۔ آخری رات بالکل غائب ہوجاتا ہے، پھر دوبارہ نئے چاند کی صورت میں نمودار ہوجاتا ہے، جس سے شہروں اور بستیوں کے علاوہ صحراؤں اور سمندروں میں رہنے والوں کو بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ نیا مہینا شروع ہوگیا ہے اور وہ اس کی مختلف حالتوں سے تاریخ بھی معلوم کرسکتے ہیں۔ جب کہ سورج ہمیشہ مکمل رہتا ہے، اس کے حساب سے وقت اور تاریخ معلوم کرنا دنیا کے ہر حصے میں رہنے والوں کے لیے ممکن نہ تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بدلنے والے چاندوں کو بطور کیلنڈر مقرر فرمایا، حج، کفارات اور معاملات، مثلاً طلاق اور وفات کی عدت چاند کے لحاظ ہی سے مقرر فرمائی۔ ہر ماہ طلوع ہونے والے چاندوں کے لحاظ سے ”الْاَهِلَّةِ“ جمع ذکر فرمایا۔ وَلَيْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِھَا۔۔ : حج کا ذکر آیا تو ایام حج میں جاہلیت کی ایک رسم کا رد فرمایا۔ براء ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی، انصار جب حج کرتے، پھر (واپس) آتے تو اپنے گھروں کے دروازوں سے داخل نہیں ہوتے تھے، اب انصار کا ایک آدمی (حج سے) آیا اور اپنے دروازے کی طرف سے داخل ہوگیا تو گویا اسے اس کی عار دلائی گئی تو یہ آیت اتری : (وَلَيْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِھَا وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى ۚ وَاْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا ۠) [ بخاری، العمرۃ، باب قول اللہ تعالیٰ : (و أتوا البیوت من أبوابہا) : 1803 ] دوسری روایت میں براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں کہ جاہلیت میں جب لوگ احرام باندھ لیتے تو گھروں کی پچھلی طرف سے گھر آتے، تو اس پر یہ آیت اتری۔ [ بخاری، التفسیر، بابٌ : (ولیس البر بأن تأتوا البیوت۔۔) : 4512 ] آیت میں دونوں کا رد ہے۔ وَلَيْسَ الْبِرُّ بِاَنْ“ اس میں ”وَلَيْسَ“ کی تاکید ”باء“ کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے ”نیکی ہرگز یہ نہیں۔“
Ayah 2:190

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 2:190 in the Quran reader

اور اللہ کے راستے میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی مت کرو، بیشک اللہ زیادتی کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔

مسلمان عمرہ کے لیے آئے تو کفار لڑائی پر آمادہ ہوگئے۔ حج کے بیان کے ساتھ لڑائی کے حکم کی مناسبت یہ ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس آیت میں صرف ان کفار سے لڑنے کا حکم ہے جو خود لڑنے میں پہل کریں ”وَلَا تَعْتَدُوْا ۭ“ (زیادتی نہ کرو) کا معنی انھوں نے یہ کیا کہ تم لڑائی میں پہل نہ کرو، پھر ان مفسرین نے اسے ان آیات کے ساتھ منسوخ قرار دیا جن میں تمام کفار سے لڑنے کا حکم ہے، وہ پہل کریں یا نہ کریں، مثلاً : (وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَاۗفَّةً) [ التوبۃ : 36 ] ”اور مشرکوں سے ہر حال میں لڑو۔“ اور فرمایا : (قَاتِلُوا الَّذِيْنَ يَلُوْنَكُمْ) [ التوبۃ : 133 ]”ان لوگوں سے لڑو جو کافروں میں سے تمہارے قریب ہیں۔“ اور فرمایا : (قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَلَا بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ) [ التوبۃ : 29 ] ”لڑو ان لوگوں سے جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ یوم آخر پر۔“ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ آیت نہ دوسری آیات کے خلاف ہے، نہ منسوخ ہے اور نہ ”وَلَا تَعْتَدُوْا“ کا معنی یہ ہے کہ لڑنے میں پہل نہ کرو، بلکہ اس میں مسلمانوں کو ابھارا گیا ہے کہ جب وہ لڑنے سے دریغ نہیں کرتے تو تم بھی ان سے لڑو اور جن جن جگہوں سے انھوں نے تمہیں نکالا ہے تم بھی انھیں وہاں سے نکالو۔ (ابن کثیر) اور ”وَلَا تَعْتَدُوْا“ کا معنی ابن عباس ؓ اور عمر بن عبد العزیز ؒ نے یہ بیان فرمایا کہ بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کرو، نہ بوڑھوں کو اور نہ اس کو جو صلح کی پیش کش کرتا ہے اور لڑنے سے ہاتھ روک لیتا ہے، اگر تم نے ایسا کیا تو زیادتی کرو گے۔ (ابن کثیر) بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی شخص کو کسی لشکر کا امیر مقرر فرماتے تو اسے اور باقی مومنوں کو نصیحت فرماتے : ”اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اللہ کے راستے میں جہاد کرو، جو اللہ کا منکر ہے اس سے لڑو۔ جنگ کرو، خیانت نہ کرو، نہ عہد شکنی کرو، نہ مثلہ کرو، نہ بچوں کو قتل کرو اور نہ درویشوں، راہبوں کو۔“ [ مسلم، الجہاد، باب تأمیر الإمام الأمراء علی البعوث۔۔ : 1731 ] امام طبری نے فرمایا : ”یہی معنی درست ہے، کیونکہ نسخ کا دعویٰ کرنے والوں کے پاس کوئی دلیل نہیں اور دلیل کے بغیر دعویٰ تو ہر شخص کرسکتا ہے۔“ ظاہر ہے کہ اس پیشکش کے بعد کہ ”مسلمان ہوجاؤ یا جزیہ دو یا لڑنے کے لیے تیار ہوجاؤ“ اگر کوئی شخص نہیں لڑتا، بلکہ مسلمان ہوجاتا ہے، یا جزیہ دینے پر آمادہ ہوجاتا ہے تو اس سے لڑنا زیادتی ہے اور اللہ تعالیٰ کو زیادتی کرنے والے پسند نہیں۔
Ayahs 2:191–192

وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ١ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِ١ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:191 in the Quran reader

اور انھیں قتل کرو جہاں انھیں پاؤ اور انھیں وہاں سے نکالو جہاں سے انھوں نے تمہیں نکالا ہے اور فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو، یہاں تک کہ وہ اس میں تم سے لڑیں، پھر اگر وہ تم سے لڑیں تو انھیں قتل کرو، ایسے ہی کافروں کی جزا ہے۔

فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:192 in the Quran reader

پھر اگر وہ باز آجائیں تو بیشک اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا اور 9 ہجری میں ابوبکر صدیق ؓ کو امیر حج بنا کر بھیجا اور انھیں سورة توبہ میں مذکور اعلان کرنے کا حکم دیا جس کے مطابق مشرکین کو چار ماہ تک مکہ میں اور سرزمین عرب میں چلنے پھرنے کی اجازت دی گئی، اس کے بعد مسلمان نہ ہونے کی صورت میں وہ جہاں ملیں انھیں قتل کرنے کا حکم دے کر جزیرۂ عرب سے نکال دیا گیا۔ دیکھیے سورة توبہ کی پہلی پانچ آیات۔ پھر یہود کو بھی پہلے مدینہ سے، پھر رسول اللہ ﷺ کی وصیت کے مطابق عمر ؓ کے زمانے میں سر زمین عرب سے نکال دیا گیا۔ یہ سب اسی ”اَخْرِجُوْھُمْ“ کے حکم کی تعمیل تھی۔ الْفِتْنَةُ اس کا اصل معنی آزمائش میں ڈالنا ہے، مفسرین سلف نے اس کا معنی شرک کیا ہے اور (وَالْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ) کی تفسیر دو طرح سے کی ہے، ایک تو یہ کہ بیشک مشرکین کو قتل کرنے کا حکم بڑی سخت بات ہے، مگر وہ جس طرح شرک پر اڑے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کر کے انھیں دوبارہ مشرک بنانے کے لیے ظلم و ستم کا نشانہ بنا رہے ہیں، ان کا یہ شرک کرنا اور مسلمانوں کو اس پر مجبور کرنا اس سے بھی سخت جرم ہے۔ لہٰذا اس جرم کی پاداش میں کسی اندیشے اور سوچ بچار کے بغیر انھیں بےدریغ قتل کرو، یہاں تک کہ اللہ کا دین اتنا غالب ہوجائے کہ کسی کو مسلمان ہونے والے شخص پر ظلم و ستم کرکے اسے دین سے برگشتہ کرنے کی جرأت باقی نہ رہے۔ دوسرا معنی امام طبری ؓ نے یہ کیا ہے کہ کسی مومن کو اسلام قبول کرنے پر آزمائش میں ڈالنا، یہاں تک کہ وہ اسلام سے برگشتہ ہو کر دوبارہ مشرک بن جائے، اس مومن کے لیے اس سے زیادہ تکلیف دہ اور نقصان دہ ہے کہ وہ اسلام پر قائم رہتا اور اسی پر قتل ہوجاتا (کیونکہ قتل تو ایک ہی دفعہ ہوجاتا ہے، جب کہ کفار کی طرف سے سزا اور عذاب کا سلسلہ جاری رہتا ہے)۔ (طبری) مجاہد ؒ کے الفاظ یہ ہیں کہ مومن کا بت پرستی کی طرف لوٹ جانا اس پر قتل ہونے سے بھی زیادہ سخت ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ بیشک ان کفار کو قتل کرنا بڑی سخت بات ہے، مگر جو معاملہ وہ مسلمانوں کے ساتھ کر رہے ہیں وہ ان کے لیے قتل ہوجانے سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے، تو مسلمانوں کو قتل ہوجانے سے بھی بڑی تکلیف اور آزمائش میں مبتلا کرنے کے مقابلے میں مسلمانوں کا انھیں قتل کرنا کم سخت ہے۔ (وَالْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ) کے الفاظ میں دونوں معنی موجود ہیں اور یہ قرآن مجید کا اعجاز ہے۔ (وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى يُقٰتِلُوْكُمْ فِيْهِ) یعنی سرزمین مکہ حرم ہے، اس میں قتل و قتال منع ہے، مگر کفار اس میں لڑنے کی ابتدا کریں تو تمہارے لیے بھی لڑنا جائز ہے، پھر اگر وہ لڑائی کریں تو پھر تم صرف قتال (لڑائی) ہی نہیں بلکہ انھیں قتل کرو، ایسے کافروں کی یہی جزا ہے۔ ”الْكٰفِرِيْنَ“ میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ”ایسے کافروں“ کیا گیا ہے۔
Ayah 2:193

وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:193 in the Quran reader

اور ان سے لڑو، یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہوجائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر کوئی زیادتی نہیں۔

یعنی ان سے اس وقت تک لڑتے رہو جب تک فتنہ (شرک اور اس پر مجبور کرنے کے لیے ظلم و ستم) کا ہر طرح سے قلع قمع نہیں ہوتا اور اللہ کا دین ہر طرح سے غالب نہیں آجاتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمام لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ وہ اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، پھر جب وہ یہ کام کرلیں تو انھوں نے اپنے خون اور اپنے اموال مجھ سے محفوظ کرلیے مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔“ [ بخاری، الإیمان، باب (فإن تابوا وأقاموا۔۔) : 25 ] اِلَّا عَلَي الظّٰلِمِيْنَ) یعنی اگر یہ شرک سے یا مسلمانوں کے ساتھ لڑائی سے باز آجائیں تو اس کے بعد جو شخص ان سے جنگ کرے گا وہ ظالم ہے اور اسے اس زیادتی کی سزا ملے گی۔ یہاں ”عُدْوَانَ“ کا لفظ ایسی ہی سزا کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ (ابن کثیر) دوسرا معنی یہ ہے کہ اگر وہ ظلم یعنی شرک سے باز آجائیں تو اب ان پر زیادتی جائز نہیں، کیونکہ اب وہ ظالم نہیں۔ عدوان سے مراد وہ زیادتی ہے جو مقابلے میں ہوتی ہے، جیسا کہ اگلی آیت میں ہے : (فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ ۠) [ البقرۃ : 194] ”پس جو تم پر زیادتی کرے سو تم اس پر زیادتی کرو، اس کی مثل جو اس نے تم پر زیادتی کی ہے۔“ (ابن کثیر)
Ayah 2:194

اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:194 in the Quran reader

حرمت والا مہینا حرمت والے مہینے کے بدلے ہے اور سب حرمتیں ایک دوسری کا بدلہ ہیں۔ پس جو تم پر زیادتی کرے سو تم اس پر زیادتی کرو، اس کی مثل جو اس نے تم پر زیادتی کی ہے اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ بیشک اللہ ڈرنے والوں کے ساتھ ہے۔

رسول اللہ ﷺ جب ذوالقعدہ 6 ھ میں عمرہ کے لیے تشریف لے گئے، تو کفار نے مزاحمت کی اور عمرہ سے روک دیا، مگر آخرکار صلح ہوگئی اور قرار پایا کہ مسلمان آئندہ سال عمرہ کرلیں۔ یہ معاہدہ صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے، پھر جب دوسرے سال 7 ھ میں مسلمان عمرہ کے لیے روانہ ہوئے تو انھیں اندیشہ ہوا کہ ماہ حرام اور حرم مکہ میں تو لڑائی منع ہے، لیکن اگر کفار نے بد عہدی کی اور ہمیں عمرہ سے روک دیا تو ہم کیا کریں گے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر) یعنی (حرمت والے مہینوں کی حرمت کی پاس داری کفار کی طرف سے ان کی حرمت کی پاس داری کے مقابلے میں ہے) اگر وہ حرام مہینوں کا لحاظ نہ کریں تو تم بھی نہ کرو اور اگر وہ بدعہدی کریں تو تم بھی حرم کا لحاظ مت کرو۔ (قرطبی، ابن کثیر) واضح رہے کہ حرمت والے مہینے چار ہیں، ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب۔ اگرچہ زیادتی کے جواب کو زیادتی نہیں کہا جاتا، بلکہ وہ عین حق ہے، مگر یہ صرف لفظ کی حد تک مشابہت ہے کہ ”فَمَنِ اعْتَدٰى“ کے مقابلے میں لفظ ”ْ فَاعْتَدُوْا“ آیا ہے، جیسے فرمایا : (وَجَزٰۗؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا ۚ) [ الشوریٰ : 40 ] ”اور کسی برائی کا بدلہ اس کی مثل ایک برائی ہے۔“
Ayah 2:195

وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَ اَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:195 in the Quran reader

اور اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت کی طرف مت ڈالو اور نیکی کرو، بیشک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

اس سے پہلی آیت میں قتال فی سبیل اللہ کا حکم ہے، یہ آیت بھی اسی حکم کی تکمیل ہے، یعنی جہاد میں اور اس کی تیاری میں خرچ کرتے رہو اور اس میں کوتاہی کر کے اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو، کیونکہ اس صورت میں کفار تم پر غالب آجائیں گے، جو سراسر ہلاکت ہے۔ اسلم تجیبی کہتے ہیں کہ ہم مدینۂ روم (قسطنطنیہ) میں تھے، انھوں نے ہمارے مقابلے کے لیے رومیوں کی ایک بہت بڑی جماعت نکالی، ان کے مقابلے میں اتنے ہی یا ان سے زیادہ مسلمان نکلے، اہل مصر پر عقبہ بن عامر ؓ اور جماعت پر فضالہ بن عبید ؓ (امیر) تھے۔ مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے رومیوں کی صف پر حملہ کردیا، یہاں تک کہ ان میں داخل ہوگیا، لوگ چیخ اٹھے اور کہنے لگے، سبحان اللہ ! یہ تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے، تو ابو ایوب انصاریٰ ؓ کھڑے ہوئے، انھوں نے فرمایا، تم آیت کا یہ مطلب سمجھتے ہو ؟ حالانکہ یہ تو ہم انصار کی جماعت کے بارے میں نازل ہوئی، جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت بخشی اور اس کے مددگار بہت ہوگئے تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے چھپا کر دوسروں سے کہا کہ ہمارے اموال (یعنی کھیت اور باغات وغیرہ) ضائع ہوگئے، اب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت بخشی ہے اور اس کے مدد گار بہت ہوگئے ہیں، چناچہ ہم اگر اپنے اموال میں ٹھہر جائیں اور جو ضائع ہوگئے ہیں انھیں درست کرلیں (تو بہت رہے) ، تو اللہ تعالیٰ نے ہماری بات کی تردید کرتے ہوئے یہ آیت اتار دی :”اور اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت کی طرف مت ڈالو۔“ [ البقرۃ : 195 ] تو ”ہلاکت“ ہمارا اپنے اموال میں ٹھہر جانا، انھیں درست کرنا اور جنگ کو چھوڑ دینا تھا۔ ابو ایوب ؓ اللہ کے راستے ہی میں نکلے رہے یہاں تک کہ روم کی سرزمین میں دفن ہوئے۔ [ ترمذی، التفسیر، باب و من سورة البقرۃ : 2972 و صححہ الألبانی ] حذیفہ بن یمان ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت نفقہ کے بارے میں تری۔ [ بخاری، قبل ح : 4516 ] ابو اسحاق سبیعی کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب ؓ سے پوچھا، اگر آدمی مشرکین پر حملہ کر دے تو کیا اس نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا ہوگا ؟ انھوں نے فرمایا، نہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ سے فرمایا : (فَقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ) [ النساء : 84 ] ”پس اللہ کے راستے میں جنگ کر، تجھے تیری ذات کے سوا کسی کی تکلیف نہیں دی جاتی۔“ [ أحمد : 4/281، ح : 18477، وھو حسن ] صحابہ کرام ؓ کی اس آیت کی تفسیر سے معلوم ہوا کہ جب کسی اکیلے فدائی مسلم کے حملے سے دشمن کو نقصان پہنچنے کی امید ہو، یا اہل اسلام کی شجاعت سے کفار کے حوصلے پست کرنا مقصود ہو، یا شہادت پیش کیے بغیر دشمن کو نقصان پہنچانا ممکن نہ ہو تو فدائی حملے بالکل درست ہیں۔ یہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا نہیں ہے، بلکہ جہاد چھوڑ کر کاروبار میں مصروف ہوجانا اصل ہلاکت ہے۔ تاریخ اسلام میں غزوۂ بدر میں ابوجہل کے قاتل معوذ اور معاذ، غزوۂ خیبر میں ابو رافع یہودی کے قاتل عبداللہ بن عتیک، مدینہ میں کعب بن اشرف کے قاتل محمد بن مسلمہ، خالد بن سفیان کے قاتل عبداللہ بن انیس ؓ کی کارروائیاں، حدیبیہ کے موقع پر صحابہ کرام کی موت پر بیعت، جنگ جسر میں ابو عبید ثقفی کی ہاتھی پر حملہ کرتے ہوئے شہادت، جنگ یمامہ میں براء بن مالک ؓ کا ساتھیوں سے کہنا کہ مجھے ڈھال پر بٹھا کر ڈھال کو نیزوں کے ساتھ بلند کر کے باغ کے اندر پھینک دو اور وہاں جا کر اسی (80) زخم کھا کر بھی دروازہ کھول کر مسلمانوں کو فتح سے ہم کنار کرنا، بیہقی : 18379) سلطان صلاح الدین ایوبی کے تیار کردہ فدائی جنھوں نے صلیبیوں کی کمر توڑ دی، الغرض ! بیشمار واقعات اس کے لیے شاہد ہیں۔ اس وقت مسلمانوں کی ہلاکت اور ذلت کا باعث یہی ہے کہ انھوں نے جہاد کی تیاری میں خرچ کرنے اور کفار سے لڑنے کے بجائے عیش و عشرت اور جان بچانے کو ترجیح دی تو کفار کے ہاتھوں نہ ان کی جانیں محفوظ رہیں نہ مال اور نہ عزتیں۔ اب بھی اگر اسلام کی آبرو کچھ باقی ہے تو جان قربان کرنے والے ان مجاہدین کے ذریعے سے، جن سے دنیائے کفر کے دل دہلتے ہیں۔
Ayah 2:196

وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ١ٙ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ١ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 2:196 in the Quran reader

اور حج اور عمرہ اللہ کے لیے پورا کرو، پھر اگر تم روک دیے جاؤ تو قربانی میں سے جو میسر ہو (کرو) اور اپنے سروں کو نہ مونڈو، یہاں تک کہ قربانی اپنے حلال ہونے کی جگہ پر پہنچ جائے، پھر تم میں سے جو بیمار ہو، یا اسے اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو روزے یا صدقے یا قربانی میں سے کوئی ایک فدیہ ہے۔ پھر جب تم امن میں ہوجاؤ تو تم میں سے جو عمرہ سے حج تک فائدہ اٹھائے تو قربانی میں سے جو میسر ہو (کرے) پھر جو نہ پائے تو تین دن کے روزے حج کے دوران اور سات دن کے اس وقت رکھے جب تم واپس جاؤ، یہ پورے دس ہیں۔ یہ اس کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے رہنے والے نہ ہوں اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ بیشک اللہ بہت سخت عذاب والا ہے۔

(وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ ۭ) طبری نے اپنی حسن سند کے ساتھ عبداللہ بن عباس ؓ سے بیان کیا ہے : ”جو شخص حج یا عمرے کا احرام باندھ لے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ اسے پورا کرنے سے پہلے حلال ہو۔ حج کا پورا کرنا یہ ہے کہ یوم النحر (دس ذوالحجہ) کو جمرہ عقبہ کو کنکر مارے اور طواف زیارت کرے، تو وہ اپنے احرام سے پوری طرح حلال ہوگیا اور عمرے کا پورا کرنا یہ ہے کہ بیت اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی کرلے تو حلال ہوگیا۔“ [ طبری : 2؍213، ح : 3194 ] یعنی حج یا عمرہ فرض ہو یا نفل، احرام باندھ لینے کے بعد پورا کرنا ضروری ہے۔ آیت کا دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ کی خاطر حج اور عمرہ کے تمام ارکان پوری طرح ادا کرو۔ الفاظ میں دونوں معنی موجود ہیں۔ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ۔۔ : یعنی کسی دشمن یا مرض کی وجہ سے کعبہ تک نہ پہنچ سکو تو جہاں رکاوٹ پیدا ہو وہیں بکری یا اونٹ اور گائے کا حصہ، جو بھی میسر ہو، قربانی کرکے احرام کھول دو ، جیسا کہ 6 ھ میں مشرکین مکہ نے آپ ﷺ کو عمرہ ادا کرنے سے روک دیا تو آپ ﷺ نے حدود حرم سے باہر حدیبیہ ہی میں قربانی کر کے احرام کھول دیا۔ وَلَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ۔۔ : اس کا عطف ”َاَتِمُّوا الْحَج“ پر ہے اور یہ حکم حالت امن کے ساتھ مخصوص ہے، یعنی حالت امن میں اس وقت تک سر نہ منڈواؤ (یعنی احرام نہ کھولو) جب تک کہ حج و عمرہ کے اعمال پوری طرح ادا نہ کرلو۔ بخاری (5089) اور مسلم (1207) میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب کے پاس گئے تو انھوں نے عرض کیا : ”یا رسول اللہ ! میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں اور میں بیمار ہوں !“ تو آپ نے فرمایا : ”حج کرو اور شرط کرلو کہ میرے حلال ہونے کی جگہ وہ ہوگی جہاں (اے اللہ !) تو مجھے روک لے گا۔“ معلوم ہوا کہ احرام کے وقت اگر شرط کرلے تو رکاوٹ کی صورت میں اسی جگہ احرام کھول دے اور اس پر کوئی قربانی وغیرہ لازم نہیں۔ فَمَنْ كَانَ مِنْكُم۔۔ : یعنی احرام باندھنے کے بعد تمہیں کسی بیماری یا عذر کی بنا پر سر منڈوانے کی ضرورت پیش آجائے تو سر منڈوا کر تین چیزوں میں سے ایک بطور فدیہ انجام دو۔ کعب بن عجرہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھے اٹھا کر رسول اللہ ﷺ کے پاس اس حال میں لایا گیا کہ جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”میں نہیں سمجھتا تھا کہ تمہیں اتنی زیادہ تکلیف ہوگئی ہے، کیا تمہارے پاس کوئی بکری (وغیرہ) ہے ؟“ میں نے کہا نہیں، تو آپ نے فرمایا : ”تو تم تین روزے رکھ لو، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو ، ہر مسکین کو نصف صاع (یعنی ایک کلو) اور سرمنڈوا دو۔“ [ بخاری، التفسیر، باب : (فمن کان منکم مریضًا۔۔) : 4517 ] علماء کا اتفاق ہے کہ تینوں چیزوں میں سے جو چاہے کرلے، قرآن کے الفاظ بھی یہی ہیں۔ فَمَنْ تَمَتَّعَ بالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ۔۔ : کوئی شخص صرف عمرہ ادا کرے یا صرف حج تو اس پر قربانی واجب نہیں، اگر قربانی کرے تو ثواب ہے۔ البتہ اگر حج کے مہینوں میں عمرہ اور حج دونوں کرنے کا فائدہ اٹھائے، خواہ میقات سے دونوں کا احرام اکٹھا باندھے جسے حج قرآن کہتے ہیں، یا پہلے صرف عمرے کا احرام باندھے اور عمرہ ادا کر کے احرام کھول دے، پھر آٹھ ذوالحجہ کو حج کا احرام باندھے، جسے حج تمتع کہتے ہیں، دونوں صورتوں میں قربانی واجب ہے، جو کم از کم ایک بکری ہے۔ اگر کسی کے پاس طاقت نہ ہو تو اسے دس روزے رکھنا ہوں گے، تین روزے ایام حج یعنی قربانی کے دن سے پہلے اور سات روزے جب اپنے گھر واپس جائے۔ اگر قربانی کے دن سے پہلے نہ رکھ سکے تو ایام تشریق (گیارہ، بارہ اور تیرہ ذوالحجہ) میں رکھ لے۔ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ۭ: یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب فرما دیا کہ تین روزے حج میں اور سات جب تم واپس جاؤ تو ظاہر ہے کہ یہ دس ہی ہوتے ہیں، پھر یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے کہ یہ پورے دس ہیں ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں ”واؤ“ سے مراد ”أَوْ“ بھی ہوسکتا تھا کہ حج کے ایام میں تین روزے رکھو، یا پھر واپس جا کر سات روزے رکھو۔ اس لیے وضاحت فرما دی کہ دونوں کام کرنے ہیں اور دس روزے پورے رکھنے ہیں، یہ قرآن کی بلاغت ہے کہ کوئی ابہام نہیں رہنے دیا۔ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ يَكُنْ اَھْلُهٗ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۭ: یعنی جو لوگ مسجد حرام کے رہنے والے نہیں، بلکہ دور سے آنے والے ہیں، چونکہ انھوں نے عمرہ اور حج کے لیے الگ الگ دو سفر کرنے کے بجائے ایک ہی سفر میں دونوں سرانجام دے دیے ہیں، لہٰذا یہ فائدہ اٹھانے پر انھیں قربانی دینا ہوگی، ورنہ دس روزے رکھیں۔ رہے مکہ کے لوگ تو انھیں حج کے مہینوں میں عمرہ و حج کرنے سے چونکہ ایسا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا، اس لیے وہ حج قرآن کریں یا حج تمتع، ان پر نہ قربانی ہے نہ روزے، وہ ان کے بغیر ہی دونوں عبادتیں سرانجام دے سکتے ہیں۔ امام مالک، امام شافعی ؒ اور جمہور کا یہی قول ہے، البتہ امام ابوحنیفہ ؓ کا قول یہ ہے کہ تمتع اور قرآن صرف باہر سے آنے والوں کے لیے ہے، اہل مکہ کے لیے جائز نہیں۔ (ابن عاشور) مسجد حرام کے رہنے والوں سے مراد مکہ میں رہنے والے اور مکہ سے اتنی مسافت کے اندر رہنے والے ہیں جس پر قصر ہوتا ہے (جو تقریباً اکیس کلو میٹر ہے)۔ بعض نے اس سے صرف حرم مکہ کے اندر رہنے والے مراد لیے ہیں۔ (ابن کثیر، ابن جریر)