Ayah 2:144(فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ) یہ قبلہ بدلنے کا اصل حکم ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قرآن میں پہلا نسخ قبلے کا ہے۔ [ ابن أبی حاتم عن ابن أبی طلحۃ، عن ابن عباس ؓ ] براء ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے سولہ یا سترہ ماہ نماز پڑھی اور آپ کو پسند یہ تھا کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ ہو اور آپ نے پہلی نماز (بیت اللہ کی طرف) عصر کی نماز پڑھی۔ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ تعالیٰ : (سیقول السفہاء۔۔) : 4486 ]
آپ ﷺ کو بیت اللہ کا قبلہ ہونا اس قدر پسند تھا کہ قبلہ بدلنے کی امید میں بار بار آسمان کی طرف دیکھتے تھے۔ واضح رہے کہ بیت المقدس شام میں ہے اور یہ مدینہ سے شمال کی طرف ہے اور بیت اللہ اس کے بالکل مخالف جنوب کی طرف ہے۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ لوگ قبا میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ان کے پاس ایک صاحب آئے، انھوں نے کہا، آج رات نبی ﷺ پر قرآن اترا ہے اور آپ کو کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، لہٰذا تم بھی اس کی طرف منہ کرلو۔ ان کا رخ شام کی طرف تھا تو انھوں نے گھوم کر کعبہ کی طرف منہ کرلیا۔ [ بخاری، التفسیر، باب (ولئن أتیت الذین۔۔) : 4490 ] اس سے صحابہ کا حدیث رسول بلکہ قرآن کریم کے ثبوت کے لیے ایک معتبر آدمی کی خبر (یعنی خبر واحد) پر اعتماد اور اس پر فوری عمل ثابت ہوتا ہے۔ جو لوگ بعض احادیث کو خبر واحد کہہ کر رد کردیتے ہیں انھیں غور کرنا چاہیے۔
(فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ) سفر میں نفل نماز، کشتی میں نماز، حالت جنگ میں نماز یا جسے قبلہ معلوم نہ ہو سکے وہ اس سے مستثنیٰ ہیں، وہ جدھر منہ کر کے نماز پڑھ سکیں پڑھ سکتے ہیں، فرمایا : (فَاَيْنَـمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ) [ البقرۃ : 115 ] ”تو تم جس طرف رخ کرو، سو وہیں اللہ کا چہرہ ہے۔“ البتہ سفر میں اگر ممکن تو سواری کا رخ قبلہ کی طرف کر کے نفل نماز شروع کرلی جائے، اس کے بعد سواری کا رخ جدھر بھی ہو، مضائقہ نہیں۔ انس ؓ راوی ہیں کہ رسول ﷺ جب سفر کرتے اور نفل پڑھنے کا ارادہ کرتے تو اپنی اونٹنی کا رخ قبلہ کی طرف کر کے تکبیر کہتے پھر سواری آپ کا رخ جدھر کو بھی کرتی نماز پڑھتے رہتے۔
[ أبو داوٗد، صلاۃ السفر، باب التطوع علی الراحلۃ : 1225، و حسنہ الألبانی ]
(لَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَـقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ ۭ) یعنی یہود کو اپنی کتابوں کی پیشین گوئی کی بنا پر خوب علم ہے کہ نبی آخر الزماں کا قبلہ مسجد حرام ہوگا، مگر وہ کفر و عناد اور حسد کی بنا پر چھپا رہے ہیں۔ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”یہ لوگ (اہل کتاب) ہم پر کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا جمعہ کے دن پر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی ہدایت دی اور وہ اس سے گمراہ ہوگئے اور اس قبلہ پر جس کی اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت دی اور وہ اس سے گمراہ ہوگئے اور امام کے پیچھے ہمارے آمین کہنے پر۔“ [ أحمد : 6؍135، ح : 25082، إسنادہ صحیح ]
Ayah 2:145(مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ ۚ) یعنی وہ کعبہ کے قبلہ ہونے کو خوب جانتے ہیں، مگر ان کا عناد اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ آپ اس کی حقانیت پر خواہ دنیا بھر کے دلائل پیش کردیں وہ آپ کے قبلہ کو تسلیم نہیں کریں گے۔
(وَمَآ اَنْتَ بِتَابِــعٍ) اور آپ بھی وحئ الٰہی کے پابند ہونے کی وجہ سے ان کے قبلہ کو اختیار نہیں کرسکتے۔ ”بِتَابِــعٍ“ میں باء کے ساتھ نفی کی تاکید ہوگئی، اس لیے ترجمہ ”اور نہ تو کسی صورت۔۔“ کیا گیا ہے۔
(وَمَا بَعْضُهُمْ بِتَابِــعٍ) اور ان کے باہمی عناد کا حال یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے قبلہ کو پسند نہیں کرتے۔ یہود صخرۂ بیت المقدس کی طرف رخ کرتے ہیں اور نصاریٰ بیت المقدس کی مشرقی جانب۔ (قرطبی)
وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ ’ اَھْوَاءٌ“ کی واحد ”ہَوًی“ ہے جس کا معنی خواہش نفس ہے۔ قرآن وسنت کی پیروی تو (مَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْم) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے علم کی پیروی ہے، اس کے سوا دین میں جو بھی شامل کیا جائے وہ انسانی خواہش کی پیروی ہے، خواہ وہ یہود و نصاریٰ کی طرف سے آئے، یا ہندوؤں اور سکھوں کی طرف سے، یا مسلمان اپنے پاس سے ایجاد کرلیں، سب خواہش کی پیروی ہے۔ اس لیے علمائے اسلام اہل بدعت کو عام طور پر ”اہل اہواء“ کہتے ہیں۔ صاحب کشاف نے ذکر فرمایا ہے کہ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی سے منع کرنے کی تاکید کئی وجوہ کی بنا پر کی گئی ہے۔ صاحب کشاف نے دس وجوہ سے اس تاکید کی تفصیل بیان کی ہے۔ مزید دیکھیے تفسیر ابن عاشور۔
اس آیت میں اگرچہ خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے مگر مراد امت ہے، علماء اور عوام سب اس میں شامل ہیں، کیونکہ اگر رسول اللہ ﷺ ایسا کریں تو آپ سے کہا جائے : (اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ) تو امتی تو ایسا کرنے سے بالاولیٰ ظالموں میں سے ہوں گے۔ پھر کیا حال ہوگا ان عالموں کا جو منع کرنے کے بجائے تیجے، ساتے، چالیسویں، میلاد، تعزیے، عرس اور قوالی وغیرہ میں شرکت کرتے، خود ساختہ وظیفے کرتے، بعض وظیفوں میں قطب کی طرف رخ کرتے اور قبلے کی طرح اس کی تعظیم کرتے اور ان کاموں کو باعث ثواب قرار دیتے ہیں !
Ayah 2:146اوپر کی آیت میں بیان ہوچکا ہے کہ اہل کتاب کعبہ کے قبلہ برحق ہونے کو خوب جانتے تھے، مگر ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکار کرتے تھے۔ اب اس آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ قبلہ کی طرح اہل کتاب کو رسول اللہ ﷺ کے نبی آخر الزماں ہونے میں کچھ شبہ نہیں ہے، مگر پھر بھی ان میں سے اہل علم کا ایک گروہ حق کو چھپا رہا ہے۔ ایک گروہ اس لیے فرمایا کہ اہل کتاب میں سے بعض علماء جیسے (یہود میں سے) عبداللہ بن سلام (اور نصاریٰ میں سے) تمیم داری اور صہیب ؓ وغیرہ وہ بھی تھے جو آپ ﷺ کے نبی صادق ہونے کو پہچاننے کے بعد مسلمان ہوگئے تھے۔ (قرطبی، ابن کثیر)
Ayah 2:147(اَلْحَقُّ) میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ”یہ حق“ کیا گیا ہے، یعنی یہ حق جسے یہود و نصاریٰ چھپا رہے ہیں آپ کے رب کی طرف سے ہے، اس لیے آپ کسی شک و شبہ کا شکار نہ ہوں۔
الْمُمْتَرِيْنَ یہ ”اِمْتِرَاءٌ“ یعنی باب افتعال سے اسم فاعل کی جمع ہے، مصدر ”مِرْیَۃٌ“ (بمعنی شک) سے فعل مجرد نہیں آتا، بلکہ ہمیشہ باب افتعال سے آتا ہے۔ (ابن عاشور)
Ayah 2:148وِّجْهَةٌ وہ جگہ جس طرف منہ کیا جائے۔ اس کا وزن ”فِعْلَۃٌ“ ہے، جو اس ”فِعْلٌ“ کا مؤنث ہے جو بمعنی مفعول ہے، جیسے ”ذِبْحٌ“ بمعنی ”مَذْبُوْحٌ“ (ابن عاشور)
اس آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ ابراہیم ؑ کا قبلہ اگرچہ کعبہ تھا، مگر بعد میں ہر ایک نے اپنی اپنی مرضی سے کسی نہ کسی سمت کو اپنا قبلہ مقرر کرلیا۔ چناچہ یہود نے بیت المقدس کے صخرہ کو قبلہ قرار دے لیا اور نصاریٰ نے بیت المقدس کی مشرقی جانب کو۔ اب تمہارے لیے کعبہ کو قبلہ مقرر کردیا گیا ہے، اس لیے ان لوگوں سے اس بحث کا کوئی خاص فائدہ نہیں کہ کون سی سمت افضل ہے۔ اصل چیز نیکیوں میں سبقت ہے، اس کا اہتمام کرو، کیونکہ تم جہاں بھی ہو گے تمہیں اللہ کے حضور پیش ہونا پڑے گا، جیسا کہ فرمایا : ”نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیرو اور لیکن اصل نیکی اس کی ہے جو اللہ اور یوم آخرت اور فرشتوں اور کتاب اور نبیوں پر ایمان لائے اور مال دے اس کی محبت کے باوجود قرابت والوں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر اور مانگنے والوں کو اور گردنیں چھڑانے میں۔ اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جو اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں جب عہد کریں اور خصوصاً جو تنگ دستی اور تکلیف میں اور لڑائی کے وقت صبر کرنے والے ہیں، یہی لوگ ہیں جنھوں نے سچ کہا اور یہی بچنے والے ہیں۔“ [ البقرۃ : 177 ] نیکیوں میں سبقت میں نماز کو وقت پر ادا کرنا، پہلی صف میں پہلی تکبیر کے ساتھ شامل ہونا، اسی طرح جہاد کی اولین صفوں میں پہنچنا بھی شامل ہے۔
Ayah 2:149یعنی فرض نماز میں قبلہ کی طرف رخ کرنا ایسا حکم ہے کہ سفر میں بھی اس کا اہتمام ضروری ہے۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ سفر کی مشقت کی بنا پر یہاں تخفیف ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان : (ۭ وَاِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ) اس حکم کی تاکید کے لیے ہے اور (وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ) اس کی مخالفت سے ڈرانے کے لیے ہے، تاکہ اسے معمولی سمجھ کر کوئی نظر انداز نہ کرے۔ (ابن عاشور)
Ayah 2:150اس آیت میں پچھلا حکم دہرایا گیا ہے، پہلے جملے ”فَوَلِّ وَجْهَكَ“ میں مخاطب نبی کریم ﷺ ہیں اور دوسرے جملے ”فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَهٗ ۙ“ میں تمام مسلمان مخاطب ہیں، تاکہ یہ حکم نبی ﷺ کے ساتھ خاص نہ سمجھا جائے۔ دہرانے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہاں بیت اللہ کو قبلہ مقرر کرنے کی مزید حکمتیں بیان کرنا مقصود ہے۔ جن میں سے پہلی حکمت یہ ہے کہ لوگوں میں سے کسی کے پاس تمہارے خلاف کوئی دلیل باقی نہ رہے۔ اہل کتاب یہ نہ کہہ سکیں کہ پہلی کتابوں میں تو آخری نبی کا قبلہ مسجد حرام ہے، انھوں نے بیت المقدس کو قبلہ کیوں بنا رکھا ہے ؟ اور کفار عرب یہ نہ کہہ سکیں کہ ملت ابراہیم کا قبلہ تو بیت اللہ ہے، یہ اسے کیوں اختیار نہیں کر رہے ؟ دلیل تو ان میں سے کسی کے پاس نہیں رہے گی، البتہ ان میں سے بےانصاف لوگ خاموش نہیں ہوں گے، سو ان سے مت ڈرو، بس مجھی سے ڈرتے رہو۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ جس طرح اس آخری امت کے احکام قیامت تک مکمل اور غیر منسوخ کرکے تم پر اپنی نعمت تمام کی ہے، قبلہ کے بارے میں بھی یہ نعمت تمام ہو اور تیسری حکمت دوسرے احکام کی طرح قبلہ میں بھی تمہیں راہ حق کی ہدایت عطا کرنا ہے۔
شروع آیات سے یہاں تک نبی ﷺ کو کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم تین مرتبہ، مسلمانوں کو یہ حکم دو مرتبہ، اس کے حق ہونے کا ذکر تین مرتبہ اور ہر جگہ اس کی طرف رخ کرنے کا حکم تین مرتبہ آیا ہے، اس سے اس حکم کی تاکید اور اس کی شان واضح ہو رہی ہے۔ درمیان میں دوسرے جملے مثلاً اہل کتاب کا اس کے حق ہونے کو جاننا اور اللہ کا تمہارے عمل سے بیخبر نہ ہونا وغیرہ تاکید مزید کا کام دے رہے ہیں۔ (ابن عاشور)
Ayah 2:151كَمَآ یعنی کعبہ کو قبلہ قرار دے کر ہم نے ابراہیم ؑ کی دعا کو، جو انھوں نے کعبہ کے بارے میں کی تھی، اسی طرح قبول کیا ہے جیسے ہم نے ان کی اس دعا کو شرف قبولیت بخشا جو انھوں نے مکہ کے رہنے والوں کے لیے انھی میں سے ایک نبی مبعوث کرنے کے لیے کی تھی۔ (دیکھیے بقرہ : 129) قرآن میں (الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ) سے مراد کتاب و سنت اور (مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ) سے مراد وہ مسائل ہیں جو انسان اپنی عقل سے معلوم نہیں کرسکتا، مثلاً تخلیق کی ابتدا، حشر نشر، نبوت اور ملائکہ وغیرہ۔
Ayah 2:152(ړفَاذْكُرُوْنِيْٓ) اس میں ”فاء“ کا مطلب یہ ہے کہ میں نے اپنے رسول اور قرآن کے ذریعے سے نعمت پوری کرنے کا انعام تم پر کیا ہے، سو تم پر بھی لازم ہے کہ تم مجھے یاد کرو اور یاد رکھو۔ ذکر کا معنی زبان سے یاد کرنا بھی ہے اور دل اور عمل سے بھی۔ یہ نسیان (بھولنے) کی ضد ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۠ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ) [ آل عمران : 135 ] ”اور وہ لوگ کہ جب کوئی بےحیائی کرتے ہیں، یا اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں، تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پس اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں۔“ جب کوئی شخص اللہ کے کسی حکم پر عمل کرتا ہے، نیکی کا حکم دیتا ہے، برائی سے روکتا ہے تو وہ بھی اللہ کو یاد کرتا ہے، یاد کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ روزانہ لاکھ مرتبہ زبان سے ذکر کیا جائے اور اللہ کے احکام کو اور اس کی ڈالی ہوئی ذمہ داریوں کو بھلا ہی دیا جائے۔ کفار خواہ تمام بلاد اسلام پر قابض ہوجائیں ہمیں اپنی روزانہ کی ہزار رکعت پوری کرنے ہی سے فرصت نہ ہو۔ (اَذْكُرْكُمْ) ”میں تمہیں یاد کروں گا“ یہ اللہ کو یاد کرنے کی سب سے بڑی فضیلت ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو شخص مجھے اپنے نفس میں یاد کرے، میں اسے اپنے نفس میں یاد کرتا ہوں اور جو مجھے کسی جماعت میں یاد کرے، میں اس سے بہتر جماعت میں اس کا ذکر کرتا ہوں۔“ [ بخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ : (و یحذرکم اللہ۔۔) : 7405۔ مسلم، الذکر والدعاء والاستغفار، باب الحث علی ذکر اللہ تعالیٰ : 2675 ]
(وَاشْكُرُوْا لِيْ) شکر زبان سے بھی ہوتا ہے اور عمل سے بھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اِعْمَلُوْٓا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا ۭ) [ سبا : 13 ] ”اے داؤد کے گھر والو ! شکر ادا کرنے کے لیے عمل کرو۔“ عمل نعمت کے مطابق نہ ہو تو شکر بھی نہیں۔
(وَلَا تَكْفُرُوْنِ) اس میں ہر ناشکری اور کفر شامل ہے، وہ زبان سے ہو یا عمل سے۔ زبان سے تو الحمد للہ کہنا، لیکن بیٹوں کا نام پیراں دتہ رکھنا، غیر اللہ کو خدائی اختیارات کا مالک سمجھنا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان جنگ سن کر بھی سود کھائے جانا، گھر میں بےحیائی کو فروغ دیتے جانا، رشوت لے کر اسے فضل ربی قرار دینا، صدقے یا رسول اللہ کہنا اور ڈاڑھی منڈوا کر آپ ﷺ کی حسین صورت سے بےزاری کا اظہار شکر نہیں، بلکہ کفر اور ناشکری کی بدترین صورتیں ہیں۔
Ayah 2:153ذکر و شکر کے ساتھ صبر اور نماز کی تعلیم دی ہے۔ احکام شریعت پر عمل کرنے میں جو دشواریاں پیش آتی ہیں اور مصائب برداشت کرنا پڑتے ہیں صبر اور نماز پر ہمیشگی ان مشکلات کا مقابلہ کرنے میں معاون ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مومن کا معاملہ عجیب ہے، کیونکہ اس کا سارا کام ہی خیر ہے اور یہ چیز کسی اور کو حاصل نہیں۔ (خیر اس طرح کہ) اگر اسے کوئی خوشی پہنچے تو شکر کرتا ہے اور وہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے اور وہ بھی اس کے لیے خیر ہے۔“
[ مسلم، الزہد، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر : 2999، عن صہیب ؓ ]
اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے تذکرہ کے بعد (جن میں بیت اللہ کو قبلہ قرار دے کر اپنی نعمت تمام کرنا اور اپنے آخری رسول کو بھیجنا شامل ہے) اپنے ذکر و شکر کا حکم دیا اور اس آیت میں مصیبتوں کے آنے پر صبر اور نماز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کا حکم ہے۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (45) اگرچہ اس میں ایمان والوں پر آنے والی ہر مصیبت کا علاج بتایا گیا ہے، مگر آیات کی ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مسلمانوں کو جہاد کے لیے تیار کرنے کی تمہید ہے، کیونکہ قبلہ کی تبدیلی رجب یا شعبان 2 ہجری میں ہوئی اور غزوۂ بدر رمضان 2 ہجری میں ہوا۔ دونوں کے درمیان تقریباً دو ماہ کا وقفہ ہے۔
(اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ) اس سے معیت خاصہ (خصوصی ساتھ) مراد ہے اور جسے اللہ کا ساتھ مل جائے اسے کیا غم ہے ؟ جیسے نبی ﷺ نے ابوبکر ؓ سے فرمایا : (لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا ۚ) [ التوبۃ : 40 ] ”غم نہ کر، بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“ [ بخاری، المناقب، باب علامات النبوۃ فی الإسلام : 3615 ] مقصد یہ ہے کہ صبر کرو، تاکہ تمہیں اللہ تعالیٰ کا ساتھ نصیب ہوجائے۔
Ayah 2:154جہاد میں سب سے بڑی مصیبت جان کا جانا ہے، اس پر صبر کی تلقین اس طرح فرمائی کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونے والوں کو مت کہو کہ مردے ہیں، بلکہ وہ زندہ ہیں، مگر تم اس زندگی کو نہیں سمجھتے۔ آل عمران (169) میں شہداء کی اس زندگی کے عیش و آرام کا ذکر ہے۔ معلوم ہوا کہ وہ زندگی دنیاوی زندگی نہیں، نہ ہم اسے سمجھ سکتے ہیں۔ قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ مرنے کے بعد برزخ (قبر) میں ہر شخص کو زندگی حاصل ہے۔ (دیکھیے مومن : 11، 46۔ نوح : 25۔ ابراہیم : 27) مگر مومن کی روح راحت میں ہے اور کافر کی روح کو عذاب ہو رہا ہے۔ احادیث کے مطابق قبر ہی میں ان کے لیے جنت یا دوزخ کی طرف دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ یہ زندگی انبیاء کو سب سے بڑھ کر کامل حالت میں حاصل ہے، مگر شہداء کی عزت افزائی کے لیے قرآن نے انھیں خاص طور پر ”اَحْيَاۗءٌ“ کہا ہے، تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ فلاں قتل ہوگیا، اس سے زندگی کا عیش و آرام چھن گیا۔
اَمْوَاتٌ) اس پر رفع اس لیے آیا ہے کہ اس کا مبتدا ”ھُمْ“ محذوف ہے، اسی طرح ”اَحْيَاۗءٌ“ کا مبتدا بھی محذوف ہے۔ سورة آل عمران (169) میں ”اَمْوَاتًا“ پر ”وَلَا تَحْسَبَنَّ“ کا مفعول ہونے کی وجہ سے نصب آیا ہے۔
Ayahs 2:155–157مصیبت ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے انسان کو اذیت پہنچے، وہ خواہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو۔ (قرطبی، شوکانی) (اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ) یہ ایک ایسا کلمہ ہے کہ دل کی حاضری سے کہا جائے تو اس میں اس بات کا اظہار بھی ہے کہ ہم اللہ کی ملکیت اور اس کے بندے ہیں اور اس کا بھی کہ ہمیں ہر حال میں اس کے پاس واپس جانا ہے۔ وہ جب چاہے، جسے چاہے واپس بلائے، اس پر شکوہ و شکایت کا کیا موقع ہے ؟ اس سے انسان کو صبر کی توفیق ملتی ہے اور صبر کرنے والوں کو تین نعمتیں ملتی ہیں : 1 رب کی مہربانیاں۔ 2 اس کی بہت بڑی رحمت (َرَحْمَةٌ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے)۔ اور ہدایت یافتہ ہونے کی سند۔ قرآن مجید میں صبر کا ذکر ستر (70) دفعہ آیا ہے۔
الَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ اس میں لفظ ”اِذَآ“ میں اشارہ ہے کہ مصیبت پہنچتے ہی صبر کرنا اور ”اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ“ کہنا چاہیے، بعد میں رو دھو کر تو ہر شخص ہی صبر کرلیتا ہے۔ انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَۃِ الْأُوْلٰی) [ بخاری، الجنائز، باب زیارۃ القبور : 1283 ] ”صبر صرف وہ ہے جو پہلی چوٹ کے وقت ہو۔“
ام المومنین ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ”کوئی مسلمان جسے کوئی مصیبت پہنچے اور وہ وہی کلمہ کہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے (یعنی یہ دعا پڑھے) : (إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ، اَللّٰہُمَّ أْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَ أَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْہَا) (یقیناً ہم اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ ! مجھے میری مصیبت میں اجر عطا فرما اور مجھے اس کی جگہ اس سے بہتر عطا فرما) تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عطا فرماتا ہے۔“ ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ پھر جب (میرے خاوند) ابو سلمہ ؓ فوت ہوئے تو میں نے کہا مسلمانوں میں ابو سلمہ ؓ سے بہتر کون ہوگا ؟ پہلا گھرانہ جس نے رسول اللہ ﷺ کی طرف ہجرت کی۔ پھر میں نے یہ (مذکورہ بالا) کلمہ کہہ لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی جگہ مجھے رسول اللہ ﷺ عطا فرما دیے۔ [ مسلم، الجنائز، باب ما یقال عند المصیبۃ : 918 ]
Ayah 2:158(يَّطَّوَّفَ) یہ باب تفعل سے ہے، ”طَافَ یَطُوْفُ“ کا معنی طواف کرنا، چکر لگانا ہے، جب باب تفعل میں حروف زیادہ ہوئے تو اس کا معنی ”خوب طواف کرے“ ہوگیا۔ ”شَعَاۗىِٕرِ“ یہ ”شَعِیْرَۃٌ“ کی جمع ہے جس کا معنی نشانی ہے۔ بعض لوگوں نے صفا اور مروہ کو جاہلیت کے بتوں کی نشانی سمجھ کر ان کے طواف کو گناہ سمجھا، تو اس پر فرمایا کہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔
صفا اور مروہ کعبہ کے قریب دو چھوٹی پہاڑیوں کے نام ہیں۔ ان کے درمیان سعی کرنا (دوڑنا) ابراہیم ؑ کے زمانے سے حج اور عمرہ کے مناسک (یعنی احکام) میں شامل تھا، مگر زمانۂ جاہلیت میں مشرکین نے حج اور عمرہ کے مناسک میں کئی شرکیہ رسوم شامل کرلی تھیں، حتیٰ کہ انھوں نے صفا اور مروہ پر دو بت نصب کر رکھے تھے۔ ایک کا نام ”اساف“ اور دوسرے کا ”نائلہ“ تھا۔ ان مشرکین میں سے بعض وہ تھے جو جاہلیت میں ان کے درمیان سعی کرتے اور ان بتوں کا استلام بھی کرتے، یعنی انھیں بوسہ بھی دیتے۔ انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ ہم صفا ومروہ (کی سعی) کو جاہلیت کا کام سمجھتے تھے، جب اسلام آیا تو ہم ان کی سعی سے رک گئے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ تعالیٰ : (إن الصفا والمروۃ۔۔) : 4496 ] اور ان مشرکین میں سے بعض وہ تھے جو جاہلیت ہی میں صفا ومروہ کی سعی کے بجائے ”منات“ نامی بت کا طواف کرتے تھے اور مکہ پہنچ کر صفا ومروہ کے طواف کو گناہ سمجھتے تھے، ان کے رد میں بھی یہ آیت نازل ہوئی۔ سعی کے ضروری ہونے پر تو مسلمان متفق تھے، تاہم آیت کے ظاہری الفاظ سے بعض لوگوں کے دل میں یہ سوال پیدا ہوا کہ سعی نہ بھی کی جائے تو کوئی حرج نہیں، چناچہ عروہ بن زبیر ؓ نے اپنی خالہ عائشہ ؓ کے سامنے اس شبہ کا اظہار کیا، تو عائشہ ؓ نے فرمایا کہ اگر آیت کا مفہوم یہی ہوتا تو قرآن میں یوں ہوتا : ”اَنْ لاَّ یَطَّوَّفَ بِھِمَا“ یعنی طواف نہ کرے تو کوئی گناہ نہیں۔ پھر ام المومنین عائشہ ؓ نے مزید وضاحت کے لیے فرمایا کہ عرب کے بعض قبائل (ازد، غسان) ”مناۃ الطاغیۃ“ بت کی پوجا کرتے تھے۔ یہ بت انھوں نے مشلَّلپہاڑی پر نصب کر رکھا تھا۔ یہ لوگ حج کے لیے جاتے تو اس بت کا نام لے کر لبیک کہتے اور اس کا طواف کرتے۔ مکہ میں پہنچ کر صفا اور مروہ کے درمیان سعی کو گناہ سمجھتے، مسلمان ہونے کے بعد اس بارے میں انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [ بخاری، الحج، باب وجوب الصفا والمروۃ۔۔ : 1643۔ مسلم : 1277 ] یعنی ان لوگوں نے صفا اور مروہ کے درمیان طواف کو گناہ خیال کیا تھا، اس بنا پر قرآن نے (فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ) کے الفاظ استعمال کیے ہیں، ورنہ جہاں تک خود سعی کا تعلق ہے، تو اس کے متعلق عائشہ ؓ نے فرمایا کہ یہ سعی رسول اللہ ﷺ نے مقرر فرما دی ہے، اب کسی کو اس کے ترک کرنے کا اختیار نہیں، نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اِسْعَوْا اِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ عَلَیْکُمُ السَّعْیَ) [ أحمد : 6؍421، 422، ح : 27435 ]”سعی کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی فرض کردی ہے۔“ اور آپ ﷺ نے حجۃ الوداع میں فرمایا : (لِتَاْخُذُوْا مَنَاسِکَکُمْ) [ مسلم، الحج، باب استحباب رمی۔۔ : 1297 ] ”مجھ سے حج کے مناسک (یعنی احکام) سیکھ لو۔“ ان میں سعی بھی داخل ہے۔
Ayah 2:159”اَللَّعْنَۃُ“ کا اصل معنی ”اَلطَّرْدُ“ یعنی دور دفع کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی لعنت سے مراد ملعون شخص کو اپنے پاس سے اور اپنی رحمت سے دورکرنا ہے اور دوسرے تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت سے مراد اللہ تعالیٰ سے اسے دور کرنے کی دعا کرنا ہے۔ لعنت کرنے والوں سے مراد تمام مومن جن و انس اور فرشتے ہیں۔ (طبری)
الْكِتٰبِ سے مراد یہاں تورات ہے اور ”لِلنَّاسِ“ سے مراد خاص لوگ یعنی یہود کے علماء ہیں، یعنی علمائے یہود کے لیے تورات و انجیل میں رسول اللہ ﷺ کی واضح خوش خبری اور صفات بیان ہونے کے بعد ان میں سے جو لوگ اسے چھپاتے اور اس کا انکار کرتے ہیں ان پر لعنت ہے۔ اگرچہ یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی مگر آیت کے الفاظ عام ہیں، اس میں وہ مسلم علماء بھی شامل ہیں جو قرآن و حدیث کی بات جانتے ہوئے اسے چھپا جاتے ہیں اور اپنے فرقے کی بات کو دین ظاہر کرکے بیان کردیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَن سُءِلَ عَنْ عِلْمٍ عَلِمَہٗ ثُمَّ کَتَمَہُ اُلْجِمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِلِجَامٍ مِّنْ نَّارٍ) ”جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی گئی، جسے وہ جانتا ہے، پھر اس نے اسے چھپایا تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی۔“ [ ترمذی، العلم، باب ما جاء فی کتمان العلم : 2649۔ أحمد : 2؍263، ح : 7588۔
أبو داوٗد : 3658، عن أبی ہریرۃ ؓ و صححہ الألبانی ]
اگر کسی مسئلہ سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہو اور عوام میں فتنہ و فساد کا خوف ہو تو اسے عوام کے سامنے بیان نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہاں مقصود حق کا چھپانا نہیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوہریرہ ؓ کو ”لاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ“ پر جنت کی بشارت عام لوگوں کو بیان کرنے سے منع کردیا تھا۔ [ مسلم، الإیمان، باب الدلیل علی أن من۔۔ : 31 ] اور علی ؓ نے فرمایا : ”لوگوں سے وہ بات بیان کرو جسے وہ سمجھ سکیں، کیا تم پسند کرتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کو جھوٹا کہا جائے ؟“ [ بخاری، العلم، باب من خص بالعلم قومًا۔۔ ، قبل ح : 127 ] اور عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا : ”تم کسی قوم کو ایسی بات بیان کرو گے جس تک ان کی عقلیں نہ پہنچتی ہوں تو ضرور ان میں سے کسی کے لیے وہ فتنہ بنے گی۔“ [ مسلم، المقدمۃ، باب النہی عن الحدیث بکل ما سمع : 14؍5 ]
Ayahs 2:160–162اس دائرۂ لعنت سے نکلنے کی صرف ایک صورت ہے کہ یہ لوگ اپنی سابقہ کوتاہیوں سے تائب ہوں اور ندہ لوگوں کے سامنے حق کو صاف طور پر بیان کریں (جیسا کہ عبداللہ بن سلام اور صہیب ؓ نے کیا تھا) ، ورنہ جو لوگ اس حالت کفر میں مرگئے وہ ہمیشہ کے لیے لعنت میں گرفتار رہیں گے۔
اس آیت کی رو سے علماء کا اتفاق ہے کہ کفار پر نام لیے بغیر عام لعنت جائز ہے۔ اسی طرح جن کا کفر پر مرنا ثابت ہو ان پر بھی لعنت جائز ہے، البتہ کسی زندہ مسلم یا کافر پر نام لے کر لعنت کرنا جائز نہیں، کیونکہ کیا خبر اللہ تعالیٰ موت سے پہلے اسے توبہ کی توفیق دے دے، جیسا کہ ابوسفیان اور عکرمہ بن ابی جہل وغیرہ کو ایمان لانے کی توفیق عطا ہوگئی تھی۔
Ayah 2:163اوپر کی آیت میں حق چھپانے پر وعید فرمائی، اب اس آیت میں بیان فرمایا کہ سب سے پہلے جس چیز کا اظہار ضروری ہے وہ مسئلۂ توحید ہے۔ (قرطبی)
Ayah 2:164اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ کے الٰہ واحد (ایک معبود) ہونے کا بیان تھا، اس آیت میں اس کے ایک ہونے کے دلائل کا بیان ہے۔ قرآن نے ان آٹھ چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کے ایک ہونے کے ثبوت میں کئی جگہ الگ الگ ذکر فرمایا ہے، مگر یہاں ان سب کو جمع کردیا ہے۔ کائنات کی ان چیزوں کو خاص طور پر ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے متعلق خود مشرکین بھی مانتے تھے کہ ان کے پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی دوسرا شریک نہیں ہے۔ (کبیر)
مفسر قرآن امین شنقیطی ؓ نے فرمایا ہے کہ یہاں آسمان و زمین کی پیدائش میں توحید کی نشانی ہونے کی تفصیل بیان نہیں ہوئی، دوسرے مقامات پر تفصیل موجود ہے، مثلاً دیکھیے سورة ق (6 تا 8) سورة ملک (3 تا 5، 15) اور سورة لقمان (11، 12) اسی طرح دن رات کے بدلنے میں توحید کی نشانی ہونے کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة قصص (71 تا 73) اور اعراف (54) آسمان و زمین کے درمیان بادل کے مسخر ہونے کی کیفیت کے لیے دیکھیے سورة اعراف (57) اور سورة نور (43)۔
Ayah 2:165اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے دلائل بیان کرنے کے بعد اب اس آیت میں بتایا کہ اس قدر ظاہر اور واضح دلائل دیکھنے کے باوجود دنیا میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو اللہ کے ساتھ دوسروں کو انداد (برابر اور شریک) بناتے ہیں۔ کائنات کی حکمرانی، مخلوق کی حاجت روائی، مشکل کشائی، دعائیں سننا، تمام غائب و حاضر چیزوں سے واقف ہونا، جو اللہ کی خاص صفات ہیں، یہ لوگ یہ صفات ان بناوٹی معبودوں میں سمجھتے ہیں، بلکہ ان سے اتنی زیادہ محبت کرتے ہیں جو صرف اللہ سے ہونی چاہیے، جبکہ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان سے کہیں زیادہ محبت رکھتے ہیں۔ انداد سے مراد وہ فوت شدہ بزرگ ہیں جن کے بت بنا کر وہ انھیں پکارتے اور پوجتے تھے، جیسا کہ سورة نوح میں مذکور ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کے متعلق ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ ان کی قوم کے نیک لوگ تھے، جن کے فوت ہونے پر انھوں نے ان کے بت بنائے۔ بعد میں یہی بت عرب میں بھی بن گئے۔ [ بخاری، التفسیر، باب : (ودا ولا سواعا ولا یغوث و یعوق) : 4920 ] گویا بت پرستی بھی دراصل بزرگ پرستی ہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے حکم پر مکہ فتح ہونے کے بعد جب صحابہ کرام ؓ نے کعبہ سے بت نکالے تو ان میں ابراہیم اور اسماعیل ؑ کی صورتیں بھی تھیں جن کے ہاتھوں میں فال کے تیر تھے۔ [ بخاری، المغازی،
باب أین رکز النبی ﷺ۔۔ : 4288 ]
’ اَنْدَادًا“ میں ہر وہ چیز شامل ہے جو انسان کے دل پر مسلط ہو کر وہ مقام بنا لے جو اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ بت پرست ان ہستیوں کی مورتیاں بنا کر ان کی پوجا کرتے تھے۔ قبر پرست ان ہستیوں کی قبروں پر عمارتیں بنا کر ان کی پوجا کرتے ہیں، انھیں نفع و نقصان کا مالک سمجھتے ہیں، مصیبت کے وقت ان سے فریاد کرتے ہیں۔ خصوصاً یہود و نصاریٰ میں یہ چیز عام تھی، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے قبروں کو پختہ بنانے سے منع کردیا اور علی ؓ کو حکم دیا کہ وہ ہر اونچی قبر کو برابر کردیں۔ [ مسلم، الجنائز، باب الأمر بتسویۃ القبر : 969، 970 ] کچھ وہ ہیں جو تصور شیخ کے ذریعے سے دل میں ایک فانی انسان کا نقشہ جما کر اس سے وہ محبت کرتے ہیں جو محض اللہ کا حق ہے، پھر ان پر وہ محبت ایسی غالب ہوتی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے بجائے شیخ کے حکم کو اللہ کے حکم کا درجہ دیتے ہیں، جب کہ مخلوق کا یہ حق ہی نہیں کہ اسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ برابر کیا جائے۔ انداد کی مزید تشریح کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (22)۔
مسلمانوں میں کئی ایسے بدنصیب بھی ہیں جو اس آیت کا، جس میں اللہ کے سوا کسی دوسرے کے ساتھ اللہ تعالیٰ جیسی محبت کرنے سے منع کیا گیا ہے، اس مقصد کے لیے وظیفہ کرتے اور اس کا تعویذ لکھتے ہیں کہ کسی لڑکی یا لڑکے کو اپنی محبت کے دام میں گرفتار کریں۔ یہ وہی یہودیانہ خصلت ہے جس کا ذکر سورة بقرہ (78، 102) میں کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ شیطان انھیں اس راستے پر لگانے والا ہے اور قرآن جس بات سے منع کر رہا ہے اسی کے لیے قرآن کو پڑھا یا لکھا جائے تو لعنت کے سوا کیا حاصل ہوسکتا ہے۔
(وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ ۭ) یعنی ایمان والے اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی رضا کو دوسروں کی محبت اور رضا سے مقدم رکھتے ہیں۔ کسی کی محبت بھی ان کے دل میں یہ مقام حاصل نہیں کرسکتی کہ وہ اسے اللہ کی محبت اور رضا پر قربان نہ کرسکیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة توبہ (24)۔
(الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا) اس سے مراد شرک کرنے والے اور کافر لوگ ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) [ لقمان : 13 ] ”بیشک شرک یقیناً بہت بڑا ظلم ہے۔“ دلیل اس کی یہ ہے کہ وہ آگ سے کسی صورت نکلنے والے نہیں اور آگ سے کبھی نہ نکلنے والے یا مشرک ہیں یا کافر۔ دیکھیے سورة نساء (48، 116) اور سورة اعراف (50) جب کہ اہل السنہ کا اتفاق ہے کہ اہل ایمان آخر کار جہنم سے نکل آئیں گے۔
وَلَوْ يَرَى ”اس وقت کو دیکھ لیں“ یعنی دنیا میں وہ منظر دیکھ لیں۔
Ayahs 2:166–167(تَبَرَّاَ) یہ ”بَرِئَ“ سے باب تفعل ہے۔ حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”بالکل بےتعلق ہوجائیں گے“ کیا گیا ہے اور ”بِخٰرِجِيْنَ“ میں باء نفی کی تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”وہ کسی صورت آگ سے نکلنے والے نہیں“ کیا گیا ہے۔ ان آیات میں قیامت کے دن ان مشرکوں کی حالت زار کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ کاش ! وہ دنیا میں اللہ کی بات پر یقین کرکے اس انجام سے بچ جائیں۔ مزید دیکھیے سورة قصص (63، 64) اور سورة احقاف (5، 6) ان آیات سے قدیم اور جدید علماء کی جماعت نے حرمت تقلید پر استدلال کیا ہے کہ جس طرح اہل شرک جن کے پیچھے لگے، وہ اپنے پیچھے لگنے والوں سے بےزاری ظاہر کریں گے، اسی طرح ائمۂ مجتہدین بھی اپنے مقلدوں سے بےزار ہوں گے، اس لیے کہ چاروں امام ؒ اپنی تقلید اور غیر کی تقلید سے منع کر گئے ہیں۔ سو جس کام سے دنیا میں انھوں نے امت کو منع کیا تھا وہ اس کام پر آخرت میں ضرور ہی خفا ہوں گے۔ اس سرکشی اور حکم عدولی کو اپنے مقلدوں سے ہرگز پسند نہیں کریں گے۔ (ترجمان)
Ayah 2:168سورة بقرہ میں ”يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ“ کے ساتھ خطاب دوسری مرتبہ کیا گیا ہے۔ اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو ”انداد“ (شریک) بنانے کا برا انجام ذکر کیا گیا ہے۔ مشرکین ان ”انداد“ کی تعظیم و تکریم میں اتنی زیادتی کرتے کہ عبادت اور دعا میں بھی ان کو پکارتے اور ان کے نام پر بہت سے مویشی مثلاً بحیرہ، سائبہ، وصیلہ وغیرہ حرام قرار دے دیتے، ان پر نہ سواری کرتے اور نہ ان کا گوشت کھاتے اور ان کو اللہ کے قریب ہونے کا ذریعہ سمجھتے (دیکھیے انعام : 138، 139) اور دوسری طرف انھوں نے اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال ٹھہرایا تھا، مثلاً مردار، خون، خنزیر اور غیر اللہ کے لیے نذر و نیاز۔ چناچہ اس آیت میں اس طرح کے حرام ٹھہرا لینے سے منع فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ حلال اور طیب چیزیں کھانے کا حکم دیا، یعنی اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے بچو اور اس کی حلال کردہ طیب چیزوں کو حرام نہ ٹھہراؤ، کیونکہ اسلام تب معتبر ہوگا جب کوئی شخص مسلمانوں کی حلال اشیاء کو حرام نہیں ٹھہرائے گا، جیسا کہ انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس نے وہ نماز پڑھی جو ہم پڑھتے ہیں اور اس قبلے کی طرف رخ کیا جس کی طرف ہم رخ کرتے ہیں اور ہمارا ذبیحہ کھایا وہ مسلمان ہے۔“ [ بخاری، الصلٰوۃ، باب فضل استقبال القبلۃ : 391 ] چناچہ یہاں بھی فرمایا کہ شیطان کے پیچھے لگ کر ان کو حرام نہ ٹھہراؤ، اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی ہر نافرمانی اور دین میں شامل کی ہوئی ہر وہ بات جو اللہ اور اس کے رسول نے نہیں بتائی، یعنی ہر بدعت شیطان کے قدموں کی پیروی ہے۔
Ayah 2:169”اَلسُّوْءُ“ سے مراد کوئی بھی برائی ہے اور ”اَلْفَحْشَاءُ“ وہ برائی ہے جو حد سے بڑھی ہوئی ہوتی ہے، مثلاً حد سے بڑھا ہوا بخل (بقرہ : 268) ، زنا (نور : 19، 21) ، چوری، شراب اور قتل وغیرہ۔
یعنی شیاطین ایک طرف تو معاشرے میں اخلاقی خرابیوں ”اَلسُّوْءُ وَالْفَحْشَاءُ“ کو فروغ دیتے ہیں اور دوسری طرف دین میں بدعات پیدا کرکے لوگوں کے عقائد و اعمال خراب کرتے ہیں۔ بغیر علم کے اللہ کے ذمے کوئی بات لگانے میں ہر وہ بات شامل ہے جو کتاب و سنت سے ثابت نہ ہو۔ مزید دیکھیے اعراف (28، 33)۔ پچھلی آیات کے لحاظ سے یہاں ”وَاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ“ سے مراد اللہ کے لیے شریک بنانا، شیطان کے کہنے پر اللہ کے حلال کردہ کو حرام قرار دینا، مثلاً بحیرہ و سائبہ وغیرہ اور اس کے حرام کو حلال سمجھنا، مثلاً مردار، خون، خنزیر اور غیر اللہ کے لیے نذر و نیاز دینا، غرض اپنے پاس سے دین کی کوئی بھی بات بنا کر اللہ کے ذمے لگا دینا ہے۔
Ayah 2:170مشرکین اور یہود و نصاریٰ کے پاس اپنے شرکیہ افعال کے لیے نہ کوئی عقلی دلیل تھی اور نہ ہی اللہ کی طرف سے آنے والی کوئی نقلی دلیل، چناچہ اللہ تعالیٰ نے سورة احقاف (4) میں انھیں چیلنج فرمایا کہ اللہ کی کسی کتاب میں سے کوئی نقلی دلیل تمہارے پاس ہے تو پیش کرو۔ چناچہ جب انھیں کہا جاتا کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے تو جواب میں ان کے پاس ایک ہی دلیل تھی کہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا ہے، وہ ہم سے زیادہ عقل مند تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اگر کسی کے آباء و اجداد کو کسی بات کی عقل نہ ہو، مثلاً انھوں نے خسارے کی تجارت کی ہو، یا غلط راستے پر چلتے رہے ہوں تو کیا تم اندھے بن کر انھی کے پیچھے چلتے رہو گے ؟ نہیں ! بلکہ خود عقل سے کام لو اور سیدھے راستے پر چلو، جو صرف وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اتارا ہے۔
ان آیات میں روئے سخن اگرچہ مشرکین اور یہود و نصاریٰ کی طرف ہے، لیکن اگر مسلمان بھی یہی روش اختیار کریں کہ قرآن و حدیث کے مقابلے میں رسم و رواج پر عمل کرنے میں اپنے آباء و اجداد کی پیروی کریں، یا اپنے امام، پیشوا یا عالم دین کے قول، رائے یا فتویٰ پر عمل پیرا ہوں جس کی دلیل قرآن و حدیث میں موجود نہ ہو تو وہ بھی اس آیت میں بیان کردہ مذمت اور وعید کے زمرے میں آئیں گے اور اسی کا نام تقلید ہے، کیونکہ علماء کے نزدیک تقلید کی تعریف یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے بجائے کسی غیر (امام، پیشوا یا عالم دین) کا قول دلیل کے بغیر لے لینا تقلید ہے۔ ایسی باتوں پر عمل کرنا حرام ہے، خواہ ایسا عمل مشرکین اور یہود و نصاریٰ کریں یا مسلمان، لیکن اگر کسی امام، پیشوا یا عالم کی رائے قرآن و حدیث کی نصوص کے خلاف نہ ہو تو ایسی رائے یا فتویٰ پر عمل کرنا تقلید کے زمرے میں نہیں آتا اور نہ ہی اسے ناجائز کہا جائے گا۔
Ayah 2:171”نَعَقَ بِغَنَمِہٖ“ (ف، ض) اپنی بھیڑ بکریوں کو آواز دینا اور ڈانٹنا۔ (قاموس) کفار کی یہ مثال دو طرح سے ہے، ایک تو یہ کہ ان کفار کو سمجھانے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو ان جانوروں کو سمجھاتا ہے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہیں سنتے۔ یہ کفار کان، زبان اور آنکھیں رکھنے کے باوجود ضد اور عناد کی وجہ سے حق سننے، دیکھنے اور اس کا اقرار کرنے سے بہرے، گونگے اور اندھے ہیں۔ سورة اعراف (179) میں ایسے لوگوں کو جانوروں کی طرح، بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے اور سرے سے بیخبر قرار دیا ہے۔ مزید دیکھیے سورة زخرف (40) اور یونس (42، 43)۔
دوسری اس طرح کہ ان کی مثال ان بےعقل جانوروں کی سی ہے جن کے گلے (ریوڑ) اپنے اپنے چرواہوں کے پیچھے چلے جاتے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے ان کی آواز پر حرکت کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ لوگ اپنے اپنے پیشواؤں کے پیچھے بغیر سوچے سمجھے چلے جاتے ہیں، گویا یہ تقلید آباء کی تمثیل ہے۔ آیت میں دونوں مفہوم موجود ہیں۔
Ayah 2:172اس سے پہلے سب لوگوں کو حلال اور طیب چیزیں کھانے کا حکم دیا تھا، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اہل ایمان کو حلال اور پاکیزہ روزی کھانے اور کمانے کا حکم دیا ہے، کیونکہ اس کے بغیر کوئی دعا اور عبادت قبول نہیں ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اے لوگو ! بیشک اللہ طیب (پاک) ہے، طیب کے سوا کچھ قبول نہیں فرماتا، اس نے ایمان والوں کو اسی چیز کا حکم دیا جس کا اس نے اپنے رسولوں کو حکم دیا، چناچہ فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ۭ اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ) [ المؤمنون : 51 ] ”اے رسولو ! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو، یقیناً میں اسے جو تم کرتے ہو، خوب جاننے والا ہوں۔“ اور فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ) [ البقرۃ : 172 ] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا فرمائی ہیں۔“ پھر آپ ﷺ نے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو لمبا سفر کرتا ہے، بکھرے بالوں والا ہے، گرد و غبار سے اٹا ہوا ہے، آسمان کی طرف ہاتھ پھیلا کر کہتا ہے : ”اے میرے رب ! اے میرے رب !“ (اور صورت حال یہ ہے کہ) اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا لباس حرام اور اسے جو غذا دی گئی ہے وہ بھی حرام تو بھلا اس کی دعا کیسے قبول کی جائے گی ؟ [ مسلم، الزکوٰۃ، باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیب و تربیتہا :
1015، عن أبی ہریرۃ ؓ ]
Ayah 2:173(اِنَّمَا) کا لفظ حصر کے لیے آتا ہے، اس لیے آیت سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف یہ چار چیزیں حرام کی ہیں، ان کے سوا کچھ حرام نہیں اور دوسری آیت میں اس سے بھی صریح الفاظ میں یہ بات ذکر ہوئی ہے، فرمایا :
(قُلْ لَّآ اَجِدُ فِيْ مَآ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰي طَاعِمٍ يَّطْعَمُهٗٓ اِلَّآ اَنْ يَّكُوْنَ مَيْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِيْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ ۚ [ الأنعام : 145 ] ”کہہ دے میں اس وحی میں، جو میری طرف کی گئی ہے، کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا جسے وہ کھائے، سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو، یا بہایا ہوا خون ہو، یا خنزیر کا گوشت ہو کہ بیشک وہ گندگی ہے، یا نافرمانی (کا باعث) ہو، جس پر غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو۔“ یعنی آپ اعلان کردیں کہ میری وحی میں ان چیزوں کے علاوہ اور کوئی چیز حرام نہیں، مگر اس پر اشکال یہ ہے کہ دوسری آیات و احادیث سے ان کے علاوہ اور بھی بہت سی چیزوں کی حرمت ثابت ہے، مثلاً خمر یعنی ہر نشہ آور چیز اور درندے وغیرہ، تو یہاں صرف انھی چیزوں کو کیسے حرام کہا گیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں تمام حلال و حرام کا ذکر نہیں، بلکہ ان مخصوص جانوروں کی بات ہو رہی ہے جنھیں مشرکین مکہ نے حرام کر رکھا تھا، جب کہ آیت میں مذکور چاروں حرام چیزوں سے وہ اجتناب نہیں برتتے تھے، اس لیے ان کے اس فعل کے بالمقابل انھیں بتایا گیا کہ اللہ کے نزدیک فلاں فلاں چیزیں حرام ہیں جن سے تم اجتناب نہیں کرتے اور جو اللہ کے نزدیک حلال ہیں ان سے تم پرہیز کرتے ہو، گویا یہاں صرف ان مشرکین کی نسبت سے اور ان کے بالمقابل بات کی گئی ہے۔ اسے عربی میں حصر اضافی کہتے ہیں۔ یہ حصر مطلق یعنی عام قاعدہ نہیں۔
حرام و حلال سے متعلق قرآن و حدیث میں ان چار چیزوں کے علاوہ جو بنیادی احکام بیان ہوئے ہیں وہ یہ ہیں : 1 سمندر کا ہر جانور خواہ زندہ پکڑا جائے یا مردہ، نام اس کا کچھ بھی ہو، حلال ہے۔ دیکھیے حاشیہ سورة مائدہ (96) مراد اس سے پانی میں رہنے والے وہ جانور ہیں جو پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے، خواہ سمندر میں ہوں، یا دوسری جگہ پانی میں، یعنی دریا وغیرہ میں۔ 2 خشکی کے جانوروں میں سے ہر کچلی والا درندہ اور پنجے سے شکار کرنے والا پرندہ حرام ہے، ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : (اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہَی عَنْ کُلِّ ذِیْ نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَ عَنْ کُلِّ ذِیْ مِخْلَبٍ مِنَ الطَّیْرٍ) [ مسلم، الصید والذبائح، باب تحریم أکل کل ذی۔۔ : 1934 ] ”رسول اللہ ﷺ نے ہر کچلی والے جانور اور پنجوں سے شکار کرنے والے پرندوں (کے گوشت) کو حرام قرار دیا ہے۔“ اس کے علاوہ حدیث میں جن جانوروں کو نام لے کر حرام کہا گیا ہے، مثلاً گھریلو گدھا، یا وہ جانور جنھیں جہاں ملیں مار دینے کا حکم ہے، یعنی سانپ، بچھو، چھپکلی، کوا، چیل وغیرہ۔ قرآن و حدیث میں حرام کردہ چیزوں کے علاوہ باقی سب چیزیں حلال ہیں۔
آیت کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة مائدہ (3) اور انعام (145)۔
Ayahs 2:174–176یہ آیات گو علمائے یہود کے حق میں نازل ہوئی ہیں، جو دنیا کے جاہ و مال کے حصول کی خاطر تورات میں مذکور رسول اللہ ﷺ کے اوصاف کو چھپا رہے تھے۔ (دیکھیے بقرہ : 159) مگر اس میں ہر وہ شخص شامل ہے جو دنیا کے مفاد کی خاطر دین کو فروخت کرے۔
ثَـمَنًا قَلِيْلًا اس کا معنی یہ نہیں کہ زیادہ قیمت لے سکتے ہیں، بلکہ ساری دنیا بھی مل جائے تو وہ آخرت کے مقابلے میں قلیل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (قُلْ مَتَاع الدُّنْيَا قَلِيْلٌ ۚ) [ النساء : 77] ”کہہ دے دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے۔“
فَمَآ اَصْبَرَھُمْ عَلَي النَّارِ ”مَا“ بمعنی ”اَیُّ شَیْءٍ“ اسم تعجب مبتدا، ”اَصْبَرَھُمْ“ فعل ماضی مع فاعل، ”ھُمْ“ مفعول بہ، جملہ ”مَا“ مبتدا کی خبر۔
وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یعنی اللہ محبت و رحمت کے ساتھ ان سے بات نہیں کرے گا، ورنہ ناراضی اور ڈانٹ کے طور پر تو اللہ تعالیٰ ان سے خطاب فرمائے گا۔ دیکھیے سورة مومنون (108)۔
ذٰلِكَ اس میں یہود و نصاریٰ کا حق چھپانا، اس کے بدلے ثمن قلیل یعنی تھوڑی قیمت لینا، اس پر آگ کا عذاب، اللہ تعالیٰ کا ان سے کلام نہ کرنا، انھیں پاک نہ کرنا اور آگ پر یہود کی جرأت و صبر تمام چیزیں شامل ہیں۔ (بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ) اس میں اور (الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِي الْكِتٰبِ) دونوں جگہ الْكِتٰبِ سے تورات اور قرآن دونوں مراد ہوسکتے ہیں، اگر تورات مراد ہو تو مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو تورات حق کے ساتھ نازل کی تھی، مگر جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا، یعنی اس میں تحریف کی یا اس کے بعض کو مانا اور بعض کو نہ مانا، وہ حق سے بہت دور کی مخالفت میں جا پڑے۔ اگر قرآن مراد ہو تو مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب (یعنی قرآن) حق کے ساتھ نازل کی، مگر جن لوگوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا، کسی نے کہا یہ وہ نہیں جس کی تورات میں پیشین گوئی ہے، کسی نے کہا یہ صرف اُمّی (یعنی ان پڑھ عرب) لوگوں کے لیے ہے، جیسا کہ ابن صیاد نے نبی ﷺ سے کہا تھا۔ [ بخاری، الجنائز، باب إذا أسلم الصبی۔۔ : 1354 ] تو یہ سب لوگ بہت دور کی مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں، ان کا قرآن کو نہ ماننا صرف اس مخالفت کی وجہ سے ہے۔
Ayah 2:177مسلمانوں کو جب پہلے بیت المقدس اور پھر کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا تو یہ بعض اہل کتاب اور بعض مسلمانوں پر شاق گزرا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس کی حکمت بیان فرمائی کہ اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی اطاعت، اس کے احکام کی فرماں برداری، جدھر وہ کہے ادھر رخ کرنا اور جو حکم وہ دے اس پر عمل کرنا ہے۔ یہ ہے اصل نیکی، تقویٰ اور کامل ایمان۔ رہا مشرق یا مغرب میں سے کسی طرف رخ کرنے کی پابندی، تو اس میں کوئی نیکی نہیں، اگر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے نہ ہو۔ (ابن کثیر)
وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ اس میں ”اٰمَنَ ‘ سے پہلے ”بِرُّ“ محذوف ہے، یعنی اصل نیکی اس شخص کی نیکی ہے۔
یہ آیت نیکی کی تمام اقسام پر مشتمل ہے اور اس میں تمام بنیادی عقائد، اعمال اور اخلاق آگئے ہیں۔ امام بخاری ؓ نے اس آیت کو ”کِتَابُ الْاِیْمَانِ“ کے تحت ”بَابُ اُمُوْرِ الإِْیْمَانِ“ (قبل ح : 9)“ میں ذکر فرمایا ہے کہ ایمان صرف عقائد کا نام نہیں، بلکہ اعمال بھی ایمان کا جز ہیں۔
پہلے مال کی محبت کے باوجود اسے ذوی القربیٰ اور دوسرے مستحقین کو دینے کا ذکر فرمایا، بعد میں نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا ذکر فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان کے مال میں صرف زکوٰۃ ہی واجب نہیں کہ زکوٰۃ دینے کے بعد سارا سال بندہ فارغ ہوگیا، بلکہ ضرورت کے وقت مستحقین پر مال خرچ کرنا بھی واجب ہے، مثلاً ماں باپ اور دوسرے ضرورت مند رشتہ داروں کا نفقہ، مہمان پر خرچ، ضرورت مند ہمسائے، مجاہدین اور آیت میں مذکور دوسرے حضرات پر خرچ کرنا۔ ان کا ذکر زکوٰۃ سے پہلے اس لیے کیا کہ عام طور پر اس سے غفلت برتی جاتی ہے۔
یتیم وہ ہے جس کا والد فوت ہوجائے اور وہ ابھی بالغ نہ ہوا ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لاَ یُتْمَ بَعْدَ احْتِلاَمٍ) [ أبوداوٗد، الوصایا، باب ما جاء متی ینقطع الیتم : 2873، عن علی ؓ ] ”بلوغت کے بعد یتیمی نہیں۔“ باقی مستحقین کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة توبہ (60)۔
(وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ) یہ اور اس سے پہلے مذکور نیکی کرنے والوں سے متعلق سب صیغے ترکیب کی رو سے مرفوع ہیں، جب کہ ”ۚ وَالصّٰبِرِيْنَ“ کی حالت نصبی ہے، اس کی حکمت مفسرین نے یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ مدح اور اختصاص کی بنا پر منصوب ہے، یعنی یہ ”اَمْدَحُ“ یا ”اَخُصُّ“ کا مفعول ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور خصوصاً جو تنگی میں۔“ ”الْبَاْسَاۗءِ“ سے مراد فقر، بھوک، تنگ دستی، ”وَالضَّرَّاۗءِ“ سے مراد تکلیف، خصوصاً بیماری اور ”اَلْبَأْس“ سے مراد جنگ ہے۔ ان تینوں حالتوں میں صبر نہایت مشکل ہوتا ہے، اس لیے ان کا خاص طور پر ذکر فرمایا گیا ہے۔