2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 2:265

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:265 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی رضا چاہتے ہوئے اور اپنے دلوں کو ثابت رکھتے ہوئے خرچ کرتے ہیں، اس باغ کی مثال جیسی ہے جو کسی اونچی جگہ پر ہو، جس پر ایک زوردار بارش برسے تو وہ اپنا پھل دوگنا دے، پس اگر اس پر زور کی بارش نہ برسے تو کچھ شبنم۔ اور اللہ جو کچھ تم کر رہے ہو اسے خوب دیکھنے والا ہے۔

ابْتِغَاۗءَ مَرْضَات اللّٰهِ : یہ ریا کاروں کے مقابلے میں مخلص مومنوں کی مثال ہے، یعنی جو لوگ محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے خرچ کرتے ہیں اور دل کے اس اطمینان کے ساتھ خرچ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انھیں اس کا وافر اجر عطا فرمائے گا اور ان کا عمل ضائع نہیں ہوگا۔ دل کو ثابت رکھتے ہوئے خرچ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ نہ انھیں خرچ کرتے ہوئے کوئی تردد یا پریشانی ہوتی ہے نہ بعد میں کوئی پشیمانی۔ ان کے خرچ کرنے کی مثال اس باغ کی سی ہے جو کسی پر فضا اور بلند مقام پر ہو، اگر اس پر زور کی بارش ہو تو دوسرے باغوں سے دگنا پھل دے اور اگر زور کی بارش نہ بھی ہو تو ہلکی بارش ہی کافی رہے۔ یہی حالت مومن کے عمل کی ہے، وہ کسی صورت میں ضائع نہیں ہوگا، بلکہ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا دے گا۔ (ابن کثیر) شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”زور کے مینہ سے مراد زیادہ مال خرچ کرنا ہے اور ”طَلٌّ“ (کچھ شبنم) سے مراد تھوڑا مال۔ (”طَلٌّ“ پر تنوین تقلیل کی وجہ سے کچھ شبنم ترجمہ کیا ہے) سو اگر نیت درست ہے تو زیادہ خرچ کرنا زیادہ ثواب کا باعث ہے اور تھوڑا بھی کام آتا ہے، جیسے خالص زمین پر باغ ہے، جتنا مینہ برسے گا اس کا فائدہ ہے، بلکہ اوس بھی کافی ہے اور نیت درست نہیں تو جس قدر زیادہ خرچ کرے ضائع ہے، کیونکہ زیادہ مال دینے میں دکھاوا بھی زیادہ ہے، جیسے پتھر پر دانہ کہ جتنا زور کا مینہ برسے زیادہ نقصان پہنچائے کہ مٹی دھوئی جائے۔“ (موضح)
Ayah 2:266

اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ۙ وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ١۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:266 in the Quran reader

کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو، جس کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں، اس کے لیے اس میں ہر قسم کے کچھ نہ کچھ پھل ہوں اور اسے بڑھاپا آپہنچے اور اس کے کمزور بچے ہوں، پھر اسے ایک بگولا آپہنچے، جس میں ایک آگ ہو تو وہ بالکل جل جائے۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے کھول کر آیات بیان کرتا ہے، تاکہ تم سوچو۔

اَيَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ۔۔ : یعنی بڑھاپے میں باغ جلنے پر نہ خود اس میں اتنی طاقت ہے کہ باغ دوبارہ لگا سکے اور نہ اس کی اولاد اس قابل ہے کہ اس کی مدد کرسکے، اسی طرح منافق صدقہ و خیرات کرتا ہے مگر ریا کاری سے کام لیتا ہے تو قیامت کے دن، جو نہایت احتیاج کا وقت ہوگا، اس کا ثواب ضائع ہوجائے گا اور اس وقت ثواب حاصل کرنے کے لیے دوبارہ نیکی کا وقت بھی نہیں ہوگا۔ صحیح بخاری میں ابن عباس ؓ سے اس کی ایک دوسری تفسیر آئی ہے، جس کی تائید عمر ؓ نے کی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ یہ مثال اس شخص کی ہے جو عمر بھر نیک عمل کرتا رہتا ہے، لیکن آخر عمر میں اس کی سیرت بدل جاتی ہے اور نیک عمل کے بجائے برے عمل کرنے لگتا ہے۔ اس طرح وہ اپنی پہلی نیکیاں بھی برباد کرلیتا ہے اور قیامت کے دن، جو بہت تنگی کا وقت ہوگا، وہ نیکی اس کے کچھ کام نہ آئے گی اور اس نازک وقت میں اس کا عمل اس سے خیانت کرے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”بندہ لوگوں کی نگاہ میں جنتیوں کے سے عمل کرتا ہے، حالانکہ وہ دوزخی ہوتا ہے اور بعض دفعہ بندہ لوگوں کی نگاہ میں دوزخیوں کے سے عمل کرتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے اور اعمال کا دارومدار تو آخری وقت کے اعمال پر ہے۔“ [ بخاری، الرقاق، باب الأعمال بالخواتیم۔۔ : 6493، عن سہل بن سعد ؓ ] مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ ۙ : میں ”مِنْ“ تبعیضیہ اور ”كُلِّ الثَّمَرٰتِ ۙ“ کی وجہ سے ”ہر قسم کے کچھ نہ کچھ پھل“ ترجمہ کیا گیا ہے۔
Ayah 2:267

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ١۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 2:267 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ان پاکیزہ چیزوں میں سے خرچ کرو جو تم نے کمائی ہیں اور ان میں سے بھی جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالی ہیں اور اس میں سے گندی چیز کا ارادہ نہ کرو، جسے تم خرچ کرتے ہو، حالانکہ تم اسے کسی صورت لینے والے نہیں، مگر یہ کہ اس کے بارے میں آنکھیں بند کرلو اور جان لو کہ بیشک اللہ بڑا بےپروا، بےحد خوبیوں والا ہے۔

اَنْفِقُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ۔۔ : اوپر کی آیات میں بتایا ہے کہ صدقہ و خیرات اور انفاق فی سبیل اللہ کی قبولیت کے لیے شرط یہ ہے کہ اخلاص و ایمان ہو اور یہ بھی بتایا ہے کہ ریا کاری، احسان جتلانے اور تکلیف دینے سے صدقہ ضائع ہوجاتا ہے اور پھر مثالوں سے وضاحت کرکے سمجھایا ہے۔ اب اس آیت میں قبولیت صدقہ کے لیے ایک اور شرط بیان کی ہے کہ صدقہ میں دی جانے والی چیز کا عمدہ اور طیب ہونا ضروری ہے، اگر کوئی شخص ردی چیز دے گا تو وہ اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوگی۔ براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ہم انصار کے بارے میں اتری، ہم کھجوروں والے تھے تو ہر آدمی اپنے درختوں میں سے زیادہ یا کم درختوں کے مطابق لے کر آتا تھا، کوئی آدمی ایک خوشہ اور کوئی دو خوشے لا کر مسجد میں لٹکا دیتا۔ اہل صفہ کے پاس کھانے کو کچھ نہ ہوتا تھا تو ان میں سے جب کسی کو بھوک لگتی تو وہ خوشے کے پاس آ کر اپنے عصا سے ضرب لگاتا تو اس میں سے نیم پختہ اور پختہ کھجوریں گر پڑتیں اور وہ کھا لیتا۔ کچھ لوگ جنھیں نیکی میں رغبت نہ تھی، وہ نکمّے اور ردی خوشے لے آتے اور ایسے خوشے بھی جو ٹوٹے ہوئے ہوتے اور انھیں لٹکا دیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ۔۔) مطلب یہ کہ اگر تم میں سے کسی کو اس جیسا تحفہ دیا جائے جو اس نے دیا ہے تو وہ اسے کسی صورت نہ لے، مگر چشم پوشی اور حیا کی وجہ سے۔ براء ؓ فرماتے ہیں، اس کے بعد ہم میں سے ہر ایک اپنی سب سے عمدہ چیز لے کر آتا۔ [ ترمذی، التفسیر، باب ومن سورة البقرۃ : 2987 و صححہ الألبانی ] گو شان نزول میں نفل صدقے کا ذکر ہے مگر یہ حکم فرض زکوٰۃ اور نفل صدقے دونوں کو شامل ہے۔ سہل ؓ فرماتے ہیں : ”رسول اللہ ﷺ نے صدقے میں ”جُعُرُور“ اور ”لَون الحُبَیْق“ (دو ردی قسم کی کھجوریں) وصول کرنے سے منع فرمایا۔“ [ أبوداوٗد، الزکوٰۃ، باب ما لا یجوز من الثمرۃ۔۔ : 1607، و صححہ الألبانی ] وَلَسْتُمْ بِاٰخِذِيْهِ“ میں ”َلَسْتُمْ“ نفی کی تاکید ”بِاٰخِذِيْهِ“ کی باء کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”تم اسے کسی صورت لینے والے نہیں“ کیا گیا ہے۔ اَنْفِقُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ۔۔ : لفظ طیب جس طرح عمدہ مال کے معنی میں آتا ہے اسی طرح اس میں وہ مال بھی آجاتا ہے جو حلال طریقے سے کمایا ہوا ہو، پس معنی یہ ہوں گے کہ اللہ کی راہ میں پاکیزہ اور حلال طریقے سے کمایا ہوا مال خرچ کرو، خبیث یعنی حرام مال سے صدقہ قبول نہیں ہوتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”بیشک اللہ تعالیٰ پاک ہے، وہ قبول نہیں کرتا مگر پاک کو۔“ [ مسلم، الزکٰوۃ، باب قبول الصدقۃ۔۔ : 1015، عن أبی ہریرۃ ؓ ] مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّآ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ ۠: انسانی کمائی کے بڑے ذرائع چار ہیں، زراعت، صنعت، تجارت اور ملازمت۔ کمائی جس طریقے سے بھی ہو اگر نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر سال گزر جائے تو چالیسواں حصہ یعنی اڑھائی فیصد زکوٰۃ دینا پڑے گی۔ بعض لوگ کہتے ہیں مال تجارت میں زکوٰۃ نہیں، امام بخاری ؓ نے اس آیت سے استدلال کر کے ان کا رد فرمایا ہے۔ [ بخاری، الزکوٰۃ، باب صدقۃ الکسب والتجارۃ، قبل ح : 1445] البتہ زمین سے حاصل ہونے والی فصل کا عشر فصل اٹھاتے ہی ادا کرنا ہوگا، اگر نصاب کو پہنچ جائے، جو 600 کلو گرام ہے۔ اس آیت میں (وَمِمَّآ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ ۠) سے مراد فصل پر عشر یا نصف عشر ہے۔ اگر پانی زمین سے کھینچ کر لگایا جائے تو 5 فیصد، اگر بارانی یا نہری ہو تو 10 فیصد۔ تفصیل کے لیے دیکھیے میرا رسالہ ”احکام زکوٰۃ و عشر۔“ غَنِىٌّ حَمِيْدٌ : یعنی اللہ تعالیٰ کو تمہارے مال کی ضرورت نہیں، وہ تو سب سے زیادہ بےپروا اور ہر تعریف کے لائق ہے، یہ سب تمہارے ہی فائدے کے لیے حکم دیا جا رہا ہے۔
Ayah 2:268

اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖۙ Open ayah 2:268 in the Quran reader

شیطان تمہیں فقر کا ڈراوا دیتا ہے اور تمہیں شرمناک بخل کا حکم دیتا ہے اور اللہ تمہیں اپنی طرف سے بڑی بخشش اور فضل کا وعدہ دیتا ہے اور اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

بِالْفَحْشَاۗءِ ۚ : کوئی بھی قول یا فعل جس میں بہت بڑی قباحت ہو (راغب) مثلاً زنا، قوم لوط کا عمل وغیرہ، یہاں بہت قبیح درجے کا بخل مراد ہے۔ اوپر کی آیت میں عمدہ مال خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی تھی، اب یہاں شیطان کے وسوسے سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ (رازی) اَلشَّيْطٰنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ : یعنی انسان کے دل میں وہم اور وسوسے پیدا کرتا رہتا ہے کہ اگر نیک کاموں میں خرچ کرو گے تو فقیر ہوجاؤ گے اور ”فَحْشَاءُ“ یعنی شرمناک بخل کی ترغیب دیتا اور اس پر اکساتا رہتا ہے۔ ”فَحْشَاءُ“ سے بےحیائی اور بدکاری کے کام بھی مراد ہوسکتے ہیں کہ شیطان ان میں مال صرف کرنے کی ترغیب دیتا ہے، مگر اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ یہ ہے کہ صدقہ و خیرات تمہارے گناہوں کا کفارہ بھی ہوگا اور اس پر تمہیں کئی گنا زیادہ اجر بھی ملے گا اور مال میں برکت بھی ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”ہر روز جب بندے صبح کرتے ہیں تو دو فرشتے نازل ہوتے ہیں، ان میں سے ایک دعا کرتا ہے، اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو اس کی جگہ اور دے اور دوسرا بد دعا کرتا ہے کہ اے اللہ ! (ہاتھ) روکنے والے کے مال کو تلف کر دے۔“ [ بخاری، الزکاۃ، باب قول اللہ تعالیٰ : (فأما من أعطی۔۔) : 1442، عن أبی ہریرۃ ؓ ] اور آپ ﷺ نے فرمایا : (مَا نَقَصَتْ صَدَقَۃٌ مِنْ مَّالٍ) ”صدقہ مال کو کچھ بھی کم نہیں کرتا۔“ [ مسلم، البروالصلۃ، باب استحباب العفو والتواضع : 2588، عن أبی ہریرۃ ؓ ]
Ayah 2:269

یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 2:269 in the Quran reader

دانائی عطا کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور جسے دانائی عطا کی جائے تو بلاشبہ اسے بہت زیادہ بھلائی دے دی گئی اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر جو عقلوں والے ہیں۔

يُّؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚ: یہاں ”الْحِكْمَةَ“ سے مراد دین کا صحیح فہم اور علم وفقہ میں صحیح بصیرت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”رشک دو خوبیوں کے سوا کسی پر جائز نہیں، ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا، پھر اسے (راہ) حق میں خرچ کرنے کی مکمل قدرت (توفیق) دی اور ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا فرمائی، تو وہ اس کے مطابق فیصلے کرتا اور دوسروں کو اس کی تعلیم دیتا ہے۔“ [ بخاری، العلم، باب الاغتباط فی۔۔ : 73، عن ابن مسعود ؓ ] اُولُوا الْاَلْبَابِ :”اَلْبَابٌ“ جمع ہے ”لُبٌّ“ کی، جس کے معنی صاف ستھری اور پاکیزہ عقل کے ہیں، ہر عقل کو ”لُبٌّ“ نہیں کہتے۔ (راغب) ”اُولُوا الْاَلْبَابِ“ کا ترجمہ جمع ہونے کی وجہ سے ”جو عقلوں والے ہیں“ کیا گیا ہے۔ جبکہ عام تراجم میں ”عقل والے“ ترجمہ کیا گیا ہے۔
Ayah 2:270

وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 2:270 in the Quran reader

اور تم جو بھی خرچ کرو، کوئی خرچ، یا نذر مانو، کوئی نذر تو بیشک اللہ اسے جانتا ہے اور ظالموں کے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔

وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ۔۔ : نذر کا معنی ہے، اپنے آپ پر وہ چیز فرض کرلینا جو فرض نہیں تھی، مثلاً کوئی نفل نماز یا نفل روزہ یا صدقہ یا نفل حج وغیرہ۔ اس کی دو قسمیں ہیں : ایک نذر مطلق اور دوسری نذر معلق۔ نذر مطلق یہ ہے کہ کوئی شرط لگائے بغیر صرف اللہ کی رضا کے لیے اپنے آپ پر کوئی نیکی لازم کرلے، مثلاً یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لیے ہمیشہ یا اتنے دن تہجد پڑھوں گا، یا عمرہ کروں گا۔ یہ نذر اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے اور اسے پورا کرنا ضروری ہے۔ نذر معلق یہ ہے کہ کسی شرط کے ساتھ نذر مانے کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو میں فلاں نیکی کروں گا، مثلاً صدقہ یا نوافل وغیرہ۔ یہ نذر اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ آدمی کی شرط سے مستغنی ہے، وہ اس کی وجہ سے اس کی مراد بر نہیں لائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”نذر نہ مانا کرو، اس لیے کہ نذر تقدیر میں طے شدہ کاموں میں کچھ فائدہ نہیں دیتی، صرف اتنا ہوتا ہے کہ بخیل سے مال نکل آتا ہے۔“ [ مسلم، النذر، باب النھی عن النذر۔۔ : 1640، عن أبی ہریرۃ ؓ ] البتہ اگر وہ کام ہوجائے تو نذر پوری کرنا پڑے گی۔ گناہ کے کام کی نذر پوری کرنا جائز نہیں۔ اگر نذر پوری نہ کرسکے تو اس کا کفارہ دینا پڑے گا جو وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔ (دیکھیے سورة مائدہ (89)۔ فَاِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُهٗ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ ہر حال میں تمہاری نیت اور عمل سے واقف ہے۔ اس میں ایک طرف مخلصین کے لیے وعدہ ہے اور دوسری طرف ریا کار اور غیر اللہ کی نذریں ماننے والوں کے لیے وعید بھی ہے کہ ایسے لوگ ظالم ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کسی صورت رہائی نہیں ہو سکے گی۔
Ayah 2:271

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:271 in the Quran reader

اگر تم صدقے ظاہر کرو تو یہ اچھی بات ہے اور اگر انھیں چھپاؤ اور انھیں محتاجوں کو دے دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ اچھا ہے اور یہ تم سے تمہارے کچھ گناہ دور کرے گا اور اللہ اس سے جو تم کر رہے ہو، پوری طرح باخبر ہے۔

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ : ”صَدَقَۃٌ“ کا لفظ ”صِدْقٌ“ سے نکلا ہے، یعنی وہ مال جو آدمی صدق دل سے خرچ کرتا ہے، عموماً یہ فقط نفل صدقے پر بولا جاتا ہے لیکن بعض اوقات فرض صدقے پر بھی بولا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ۔۔) [ التوبۃ : 60 ] ”صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافروں میں (خرچ کرنے کے لیے ہیں)۔“ فَنِعِمَّا هِىَ ۚ: یہ اصل میں ”نِعْمَ مَا“ ہے جس میں ”مَا“ بمعنی ”شَیْءٌ“ ہے۔ اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”تو یہ اچھی بات ہے“ اس میں علانیہ صدقہ کی تعریف کی گئی ہے، بشرطیکہ خالص نیت سے ہو اور ریا سے خالی ہو، کیونکہ اس سے آدمی بخل اور حقوق ادا نہ کرنے کی تہمت سے بچتا ہے اور اس سے دوسرے اہل خیر کو صدقہ کرنے کی ترغیب ہوتی ہے، جیسا کہ جنگ تبوک کے موقع پر عمر ؓ نے اپنا آدھا مال اور ابوبکر ؓ نے اپنا سارا مال لا کر پیش کردیا، اسی طرح دوسرے صحابہ نے بڑھ چڑھ کر صدقہ کیا۔ وَاِنْ تُخْفُوْھَا : یعنی صدقہ علانیہ دینا بھی گو اچھا ہے مگر پوشیدہ طور پر دینا زیادہ فضیلت رکھتا ہے، کیونکہ یہ ریا سے بعید ہوتا ہے۔ جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے نفل صدقات مراد ہیں۔ (شوکانی) اس کے برعکس فرض زکوٰۃ کو پوشیدہ طور پر دینا جائز ہے، مگر اسے لوگوں کے سامنے دینا افضل ہے، ورنہ زکوٰۃ نہ دینے کی تہمت لگے گی، جب کہ نماز اور زکوٰۃ ایمان کے بنیادی ارکان ہیں۔ نیز طبری نے اس پر امت کا اجماع نقل کیا ہے۔ (فتح الباری : 6؍ 22) متعدد احادیث میں نفل صدقات کو پوشیدہ طور پر دینے کی فضیلت آئی ہے، رسول اللہ ﷺ نے ان سات آدمیوں میں، جن کو عرش کا سایہ نصیب ہوگا، ایک وہ شخص شمار کیا جس نے دائیں ہاتھ سے صدقہ کیا اور اسے چھپا کر کیا، حتیٰ کہ بائیں ہاتھ کو معلوم نہیں کہ دائیں نے کیا خرچ کیا۔ [ بخاری، الزکاۃ، باب الصدقۃ بالیمین : 1423، عن أبی ہریرۃ ؓ ] اس شخص کے واقعہ سے بھی خفیہ صدقے کی فضیلت اور برکت معلوم ہوتی ہے جس نے ایک رات خفیہ صدقہ ایک چور، ایک رات ایک زانیہ اور ایک رات ایک غنی کو دے دیا۔ [ بخاری، الزکوٰۃ، باب إذا تصدق علی۔۔ : 1421، عن أبی ہریرۃ ؓ ] وَتُؤْتُوْھَا الْفُقَرَاۗءَ : چھپا کر فقراء کو دینے میں ان کی پردہ پوشی ہوتی ہے اور ان کی عزت نفس مجروح نہیں ہوتی۔ مِّنْ سَيِّاٰتِكُمْ : ”مِّنْ“ تبعیض کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”کچھ گناہ“ کیا ہے، یعنی کم یا زیادہ جتنا مال خرچ کرے گا، اس کے لحاظ سے گناہ معاف ہوں گے۔ علاوہ ازیں کچھ گناہ ایسے ہیں جو مال خرچ کرنے سے معاف نہیں ہوتے، بلکہ ان کے لیے توبہ ضروری ہے۔
Ayah 2:272

لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:272 in the Quran reader

تیرے ذمے انھیں ہدایت دینا نہیں اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم خیر میں سے جو بھی خرچ کرو گے سو تمہارے اپنے ہی لیے ہے اور تم خرچ نہیں کرتے مگر اللہ کا چہرہ طلب کرنے کے لیے اور تم خیر میں سے جو بھی خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا ادا کیا جائے گا اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

لَيْسَ عَلَيْكَ ھُدٰىھُمْ۔۔ : اس آیت سے پہلے اور بعد میں صدقے کے مسائل و فضائل بیان ہو رہے ہیں، درمیان میں یہ کہنا کہ ”تیرے ذمے ان کی ہدایت نہیں“ کیا مناسبت رکھتا ہے ؟ اکثر مفسرین نے تو ”لَيْسَ عَلَيْكَ ھُدٰىھُم“ سے مراد کفار کی ہدایت لی ہے اور اس کی تفسیر یہ فرمائی کہ رشتے دار یا ضرورت مند اگر کافر ہے تو اس پر بھی صدقہ کرو، کافر ہونے کی وجہ سے صدقے سے ہاتھ نہ روکو، کیونکہ ان (کفار) کی ہدایت تمہارے ذمے نہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ صحابہ اپنے مشرک رشتہ داروں کو تھوڑی سی چیز دینا بھی ناپسند کرتے تھے، پھر انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے اجازت دے دی اور یہ آیت اتری : (لَيْسَ عَلَيْكَ ھُدٰىھُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ) [ السنن الکبرٰی للنسائی، التفسیر، باب قولہ : (لیس علیک ھداھم) : 10؍37، ح : 10986 ] صلح حدیبیہ کی مدت میں اسماء بنت ابی بکر ؓ کی والدہ، جو مشرکہ تھی، ان کے پاس آئی تو انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : ”میری والدہ آئی ہے، کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”ہاں، اپنی والدہ سے صلہ رحمی کرو۔“ [ بخاری، الأدب، باب صلۃ المرأۃ أمھا۔۔ : 5979 ] اسلام کی رحمت عام کو دیکھیے کہ مشرک پر خرچ کرنا بھی باعث ثواب ہے، بشرطیکہ وہ حالت جنگ میں نہ ہو، بلکہ کسی جانور پر خرچ کرنا بھی باعث ثواب ہے، جیسا کہ پیاسے کتے کو پانی پلانے والے شخص کی اس عمل کی وجہ سے بخشش ہوگئی۔ صحابہ نے پوچھا : ”کیا جانوروں کے بارے میں بھی ہمیں اجر ملتا ہے ؟“ فرمایا : ”جو بھی تر جگر والا (جاندار) ہے اس میں اجر ہے۔“ [ بخاری، الأدب، باب رحمۃ الناس و البہائم : 6009] لیکن یاد رہے کہ کفار پر صرف نفل صدقہ جائز ہے، فرض زکوٰۃ نہیں، اس پر امت کا اجماع ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”وہ مسلمانوں کے اغنیاء سے لی جاتی ہے اور انھی کے فقراء پر لوٹائی جاتی ہے۔“ [ بخاری، الزکوٰۃ، باب وجوب الزکٰوۃ : 1395 ] صدقہ فطر چونکہ فرض ہے، اس لیے اس کا بھی یہی حکم ہے۔ بعض مفسرین نے ”ھُدٰىھُمْ“ سے مراد وہ مسلمان لیے ہیں جن کی ہدایت میں خامی ہے اور جن کا تذکرہ پچھلی آیات میں آیا ہے، یعنی ریا سے صدقہ کرنے والے، صدقہ کرکے تکلیف دینے والے، یا احسان رکھنے والے، یا نکمّی چیز خرچ کرنے والے۔ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ان لوگوں کا رویہ دیکھ کر تنگ دل نہ ہوں، انھیں ہدایت دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ ۭ : یعنی مسلمانوں پر خرچ کرو یا کفار پر، جس مال یا وقت یا اثر و رسوخ یا علم سے کسی کو فائدہ پہنچاؤ اس کا فائدہ تمھی کو ہے، یعنی دنیا میں سعادت و برکت اور آخرت میں ثواب اور دخول جنت۔ وَمَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَاۗءَ وَجْهِ اللّٰهِ : عام طور پر اس کا ترجمہ اللہ تعالیٰ کی رضا کیا جاتا ہے، مگر جو لطف ”اللہ کا چہرہ طلب کرنے کے لیے“ میں ہے، وہ دوسرے لفظ میں کبھی نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ”وَجْهِ“ کا اصل معنی چہرہ ہے اور حقیقی معنی مراد لینے میں کوئی خرابی بھی نہیں، کیونکہ مومن کی سب سے بڑی طلب اور تمنا اللہ تعالیٰ کے چہرے کا دیدار ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی یہ نعمت عطا فرمائے۔ (آمین) یہاں لفظ اگرچہ نفی کے ہیں مگر مراد نہی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے چہرے کی طلب کے سوا خرچ مت کرو۔
Ayah 2:273

لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ١٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:273 in the Quran reader

(یہ صدقات) ان محتاجوں کے لیے ہیں جو اللہ کے راستے میں روکے گئے ہیں، زمین میں سفر نہیں کرسکتے، ناواقف انھیں سوال سے بچنے کی وجہ سے مال دار سمجھتا ہے، تو انھیں ان کی علامت سے پہچان لے گا، وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے، اور تم خیر میں سے جو خرچ کرو گے سو یقینا اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔

اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی ترغیب کے بعد اب خاص طور پر کچھ لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے، جو سب سے زیادہ مدد اور مالی تعاون کے حق دار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی چھ صفات بیان فرمائی ہیں اور یہ ساری صفات اصحاب صفہ میں پائی جاتی تھیں، اس لیے اس آیت کے سب سے پہلے مصداق وہی ہیں، پھر قیامت تک جو لوگ بھی ان صفات کے حامل ہوں گے وہ سب سے زیادہ مالی تعاون کے حق دار ہوں گے، اب آپ وہ صفات ملاحظہ فرمائیں : 1 ”لِلْفُقَرَاۗءِ“ یہاں ان کے فقر کا سبب بیان نہیں فرمایا، سورة حشر میں بیان فرمایا ہے : (لِلْفُقَرَاۗءِ الْمُهٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَاَمْوَالِهِمْ) [ الحشر : 8 ] ”(یہ مال) ان محتاج گھر بار چھوڑنے والوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکال باہر کیے گئے۔“ اب وہ خالی ہاتھ تھے، نہ ان کے پاس مال تھا نہ گھر۔ ان کے لیے مسجد نبوی میں ایک صفہ بنادیا گیا۔ ان کی تعداد چار سو تھی جو غزوات اور مہموں پر بھیجنے کی وجہ سے کم زیادہ ہوتی رہتی تھی۔ 2 ”الَّذِيْنَ اُحْصِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ“ احصار لغت میں یہ ہے کہ آدمی جو کام کرنا چاہتا ہے اس کے کرنے میں کوئی رکاوٹ پیش آجائے، مثلاً کوئی بیماری، بڑھاپا، خرچ نہ ہونا، یا کوئی دشمن وغیرہ۔ مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی راہ میں روکے گئے ہیں، یعنی جہاد اور طلب علم نے انھیں کمائی کرنے سے روک دیا ہے، وہ منتظر بیٹھے ہیں کہ کب حکم ہو اور وہ جہاد کے لیے نکلیں۔ یہ لوگ اللہ کی خاطر گھر سے نکلے، اللہ کی خاطر مال مویشی چھوڑ کر فقر اختیار کیا اور اب اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں وقف کرکے بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس وقت بھی جو مجاہد یا دین کے طالب علم کاروبار یا ملازمت کے بجائے اپنے آپ کو جہاد اور دینی علوم کے حصول کے لیے روکے ہوئے ہیں ان پر خرچ کرنا اولین فریضہ ہے۔ (3)”لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ ضَرْبًا فِي الْاَرْضِ ۡ“ یعنی جہاد اور طلب علم کی وجہ سے وہ سفر نہیں کرسکتے۔ 4 ”يَحْسَبُھُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَاۗءَ مِنَ التَّعَفُّفِ ۚ“ یعنی ان کی بےنیازی، عزت نفس اور سوال سے بچنے کی وجہ سے ناواقف آدمی سمجھتا ہے کہ وہ غنی ہیں۔ بندہ (عبد السلام) عرض کرتا ہے کہ میرے والد حافظ محمد ابوالقاسم ؓ نے مجھے اپنے طالب علمی کے زمانے کا واقعہ سنایا کہ وہ ان دنوں فیروز پور کے ایک گاؤں ”لکھوکی“ میں پڑھتے تھے، والد فوت ہوچکے تھے، گھر میں غربت تھی اور سردی کے موسم میں قمیص بھی نہیں تھی۔ فرماتے تھے کہ میں نے وہ چھ ماہ قمیص کے بغیر دوہر (دوہرا کھیس) لپیٹ کر گزار دیے، کسی کو پتا تک نہیں چلنے دیا کہ میرے پاس قمیص نہیں، پھر والدہ نے روئی وغیرہ کی چنائی سے حاصل ہونے والی کچھ رقم بھیجی تو انھوں نے قمیص بنائی۔ [ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَہُ وَارْفَعْ دَرَجَتَہُ فِی الْمَھْدِیِّیْنَ ] 5 ”تَعْرِفُھُمْ بِسِيْمٰھُمْ“ تو انھیں ان کی علامت سے پہچان لے گا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ مراد یہ ہے کہ بھوک کی وجہ سے کمزوری اور چہرے کی زردی سے تم ان کا فقر پہچان لو گے، مگر یہ معنی ہو تو یہ تو ناواقف بھی پہچان لیتا ہے، اس لیے اس کا مطلب چہرے کا نور اور وہ رونق ہے جو ایمان اور عمل صالح کی وجہ سے ان کے چہرے پر نمایاں تھی، جیسا کہ فرمایا : (سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ۭ) [ الفتح : 29 ] ”ان کی شناخت ان کے چہروں میں (موجود) ہے، سجدے کرنے کے اثر سے۔“ اصحاب رسول ﷺ اپنے چہرے کی ایک خاص رونق سے پہچانے جاتے تھے۔ دیکھیے سورة فتح کی آخری آیت کی تفسیر۔ 6 ”لَا يَسْــَٔـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا“ وہ لوگوں سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔ بظاہر اس کا معنی یہ ہے کہ وہ سوال تو کرتے ہیں مگر لوگوں سے لپٹ کر نہیں، مگر یہ معنی درست نہیں، کیونکہ اگر یہ معنی ہو تو پچھلے دونوں جملے بےمقصد ٹھہرتے ہیں، کیونکہ جب سوال کرلیا تو تعفف (سوال سے بچنا) کہاں رہا اور پھر پہچان کے لیے چہرے کی علامت پر غور کی کیا ضرورت ہے، فقر کا اظہار تو ان کے سوال ہی سے ہوگیا، اس لیے اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ نہ وہ لوگوں سے سوال کرتے ہیں نہ لپٹتے ہیں۔ یہاں ”لا“ صرف ”يَسْــَٔـلُوْنَ“ پر نہیں بلکہ ”اِلْحَافًا“ پر بھی ہے۔ دراصل یہ بھکاریوں کی عادت کی مذمت ہے کہ وہ ایسا کرتے ہیں، مگر ہمارے یہ فقراء ایسا نہیں کرتے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے کو کہے میرا باپ نامی گرامی چور نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ چور تو تھا مگر نامی گرامی نہیں، بلکہ وہ دوسرے آدمی کو تعریض کر رہا ہے کہ تمہارا باپ ایسا تھا۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَیْسَ الْمُؤْمِنُ بالطَّعَّانِ وَلا اللَّعَّانِ) ”مومن بہت طعن کرنے والا اور بہت لعنت کرنے والا نہیں ہوتا۔“ [ ترمذی، البروالصلۃ، باب ما جاء فی اللعنۃ : 1977، عن عبداللہ ؓ و صححہ الألبانی ] اس کا معنی یہ نہیں کہ وہ تھوڑا طعن اور تھوڑی لعنت کرلیتا ہے، نہیں بلکہ تعریض ہے کہ کافر ایسا ہوتا ہے مومن نہیں۔ اس کی دلیل ایک اور حدیث سے ملاحظہ فرمائیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مسکین وہ نہیں جو لوگوں پر چکر لگاتا رہتا ہے، اسے ایک لقمہ یا دو لقمے اور ایک کھجور یا دو کھجوریں دے دی جاتی ہیں تو آگے چل پڑتا ہے، لیکن مسکین وہ ہے جو نہ تو اتنا مال رکھتا ہے جو اسے غنی کر دے اور نہ اس کا پتا چلتا ہے کہ اس پر صدقہ کیا جائے اور نہ کھڑا ہو کر لوگوں سے سوال کرتا ہے۔“ [ بخاری، الزکاۃ، باب قول اللہ عزوجل : (للفقراء الذین احصروا۔۔) : 1479، عن أبی ہریرۃ ؓ ] گدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنے کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا رسول اللہ ﷺ نے سوال کی بہت مذمت فرمائی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”آدمی لوگوں سے مانگتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کی ایک بوٹی بھی نہ ہوگی۔“ [ بخاری، الزکوٰۃ، باب من سأل الناس تکثرًا : 1474، عن ابن عمر ] عوف بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض صحابہ سے خاص طور پر اس بات کی بیعت لی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے اور پانچ نمازیں پڑھیں گے اور اطاعت کریں گے اور ایک خفیہ بات چھپا کر کہی کہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال مت کرنا۔ عوف ؓ فرماتے ہیں : ”پھر میں نے ان آدمیوں میں سے بعض کو دیکھا کہ اس کا کوڑا گرپڑتا تو وہ کسی سے سوال نہ کرتا کہ اسے پکڑا دے۔“ [ مسلم، الزکٰوۃ، باب کراھۃ مسئلۃ الناس : 1043 ] البتہ مجبوری کی بات الگ ہے کہ مجبوری میں تو خنزیر کھانے کی بھی اجازت ہے۔ نبی ﷺ نے تین آدمیوں کے لیے سوال کی اجازت دی ہے، ایک وہ جس نے (کسی دیت کی ادائیگی یا کسی کا تاوان اٹھانے کی) کوئی ضمانت اٹھائی ہو، دوسرا وہ آدمی جسے فاقہ پہنچے اور اس کی قوم کے تین عقل مند آدمی اسے فاقہ پہنچنے کی شہادت دیں، تیسرا وہ آدمی جسے کوئی آفت پہنچے جو اس کا سارا مال برباد کر دے۔ ان تینوں کو ضرورت پوری ہونے تک سوال کی اجازت ہے، ضرورت پوری ہوجائے تو مانگنا چھوڑ دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اے قبیصہ ! ان کے سوا جو سوال بھی ہے حرام ہے، سوال کرنے والا حرام کھاتا ہے۔“ [ مسلم، الزکاۃ، باب من تحل لہ المسئلۃ : 1044، عن قبیصۃ بن مخارق ؓ ]
Ayah 2:274

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ Open ayah 2:274 in the Quran reader

وہ لوگ جو اپنے مال رات اور دن، چھپے اور کھلے خرچ کرتے ہیں، سو ان کے لیے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

یہاں تک چودہ آیات میں صدقے کا بیان تھا، اس کے بعد سود کو حرام قرار دیا۔ جب صدقے کی تاکید فرمائی تو قرض دینا تو بالاولیٰ ضروری ٹھہرا اور قرض پر سود کیوں لیا جائے۔ (موضح)
Ayah 2:275

اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا١ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا١ؕ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ١ؕ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:275 in the Quran reader

وہ لوگ جو سود کھاتے ہیں، کھڑے نہیں ہوں گے مگر جیسے وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھو کر خبطی بنادیا ہو۔ یہ اس لیے کہ انھوں نے کہا بیع تو سود ہی کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا، پھر جس کے پاس اس کے رب کی طرف سے کوئی نصیحت آئے پس وہ باز آجائے تو جو پہلے ہوچکا وہ اسی کا ہے اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اور جو دوبارہ ایسا کرے تو وہی آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

اَلَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا۔۔ : یعنی سود خور قیامت کے دن مخبوط الحواس اور پاگل ہو کر اٹھیں گے۔ دنیا میں بھی بےپناہ حرص کی وجہ سے ان کی یہی حالت ہوتی ہے۔ ”الرِّبٰوا“ کا لفظی معنی بڑھنا، زیادہ ہونا ہے، جیسے فرمایا : (فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاۗءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ) [ الحج : 5 ] ”پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تو وہ لہلہاتی ہے اور ابھرتی ہے۔“ شریعت کی اصطلاح میں قرض دے کر اصل مال سے جو زیادہ لیا جاتا ہے اسے ربا کہتے ہیں۔ (راغب) یعنی کسی قرض پر بغیر کسی مالی معاوضہ کے محض مہلت بڑھا دینے کی بنا پر زیادہ حاصل کیا جائے۔ (ابن العربی : 1؍290) موجودہ بینکنگ کا نظام بھی واضح سود پر مبنی ہے۔ سیونگ اکاؤنٹ اور پی ایل ایس تو واضح سود ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ میں اگرچہ سود نہیں دیا جاتا مگر بنک وہ رقم آگے سود پر چلاتا ہے، آج کل اسلامی بینکنگ کا بہت شور ہے مگر علماء نے، جن میں حنفی علماء بھی شامل ہیں، اسے سودی حیلہ پر مبنی قرار دیا ہے۔ بیمہ (انشورنس) بھی سود اور جوئے کا مرکب ہے۔ اسی طرح انعامی بانڈ بھی سود اور جوئے کا مرکب ہے۔ سود کی ایک صورت نقد اور ادھار کی قیمتوں کا فرق ہے، قسطوں کا کاروبار اسی طرح چل رہا ہے، حالانکہ یہ رقم سود ہے، مثلاً ایک شخص کہے کہ میں تمہیں ایک ہزار روپے ادھار قرض دیتا ہوں مگر میں تم سے گیارہ سو روپے لوں گا، اس کے سود ہونے میں کیا شبہ ہے۔ اسی طرح ایک چیز جس کی قیمت سب جانتے ہیں کہ ایک ہزار ہے، بیچنے والے اور لینے والے کو بھی علم ہے، پھر وہ اسے قسطوں پر گیارہ سو میں دیتا ہے، تو یہ کیوں سود نہیں ؟ سود خواہ کوئی ذاتی ضرورت کے لیے لے یا تجارت کے لیے جب اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا تو ہر طرح کا سود حرام ہے۔ اگر کوئی بچنا چاہے تو اسے واضح سود کے ساتھ سود کے حیلے اور سود کے شک والے معاملات سے بھی بچنا ہوگا۔ مزید دیکھیے آل عمران (130)۔ ذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ قَالُوْٓا اِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا : یعنی ان کی یہ حالت اس لیے ہوگی کہ انھوں نے بیع، یعنی فروخت کو بھی سود جیسا قرار دیا اور سود کو اتنا حلال قرار دیا کہ بیع کی حلت کا سبب بھی سود کے ساتھ مشابہت کو قرار دیا، بقول زمخشری : ”انھوں نے بیع کو سود کے مشابہ سود کی حلت میں مبالغہ کے لیے قرار دیا۔“ ان ظالموں کے نزدیک بیع اور سود میں کوئی فرق نہیں، کیونکہ دونوں میں نفع آتا ہے۔ آج کل کفار کی تہذیب سے متاثر نیا روشن خیال تاریک دل طبقہ بھی سود کو ایک کاروبار سمجھتا ہے، حالانکہ دونوں میں واضح کئی فرق ہیں جن میں سے بڑا اور بنیادی فرق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے، دونوں برابر کیسے ہوگئے ؟ علاوہ ازیں ایک فرق یہ ہے کہ تجارت میں نفع بھی ہوتا ہے نقصان بھی جب کہ سودی قرض لینے والے کو نفع ہو یا نقصان سود خور نے (خواہ ایک شخص ہو یا بنک) ہر حال میں پوری رقم مع سود وصول کرنی ہے جو آئندہ بڑھتی ہی جائے گی۔ اس لیے سود ظلم اور مفت خوری کی بدترین شکل ہے۔ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ : شیطان کا آدمی کو نقصان پہنچانا، خصوصاً اس کے دماغ پر حملہ آور ہونا کئی آیات و احادیث سے ثابت ہے، مثلاً چوکے مارنا اور غصہ دلانا، فرمایا : (َ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْن) [ المؤمنون : 97 ] ”شیطانوں کی اکساہٹوں سے۔“ بہکا کر حیران چھوڑ دینا، فرمایا : (كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيٰطِيْنُ فِي الْاَرْضِ حَيْرَانَ ۠) [ الأنعام : 71 ] ”اس شخص کی طرح جسے شیطانوں نے زمین میں بہکا دیا، اس حال میں کہ حیران ہے۔“ تکلیف یا بیماری میں مبتلا کردینا، فرمایا : (اَنِّىْ مَسَّنِيَ الشَّيْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ) [ ص : 41 ] ”بیشک شیطان نے مجھے بڑا دکھ اور تکلیف پہنچائی ہے۔“ بھلا دینا، فرمایا : (وَمَآ اَنْسٰنِيْهُ اِلَّا الشَّيْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ ۚ) [ الکہف : 63 ] ”اور مجھے وہ (بات) نہیں بھلائی مگر شیطان نے کہ میں اس کا ذکر کروں۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”شیطان انسان میں خون کی گردش کی طرح گردش کرتا ہے۔“ [ بخاری، الاعتکاف، باب زیارۃ المرأۃ۔۔ : 2038 ] الغرض ! شیطان کے انسان کو چھو کر خبطی بنا دینے سے انکار قرآن و حدیث سے انکار ہے۔ البتہ مجھے آج تک کوئی ایسی حدیث یا رسول اللہ ﷺ کے زمانے کا کوئی واقعہ نہیں ملا جس میں ذکر ہو کہ شیطان یا جن نے کسی آدمی کے جسم میں داخل ہو کر اس کی زبان پر گفتگو کی ہو، صرف مشاہدہ اس کی ناکافی دلیل ہے، کیونکہ ”اَلْجَنُوْنُ فُنُوْنٌ“ یعنی جنون کی بہت سی شکلیں ہوتی ہیں۔ واللہ اعلم ! فَلَهٗ مَا سَلَفَ ۭ وَاَمْرُهٗٓ اِلَى اللّٰهِ : یعنی سود کی حرمت کا حکم آنے کے بعد جو سود سے باز آجائے وہ پہلے جو سود لے چکا ہے اس کا مطالبہ اس سے نہیں کیا جائے گا، البتہ معاملہ اس کا اللہ کے سپرد ہے وہ اس کے آئندہ طرز عمل، ندامت، توبہ کو دیکھ کر فیصلہ فرمائے گا۔ یاد رہے یہ اس وقت کی بات ہے جب سود کی حرمت کا حکم نازل نہیں ہوا تھا، اب سود کی حرمت کو جانتے ہوئے کوئی شخص ساری عمر سود کھا کر آخر میں چھوڑ دے تو وہ مال اس کا نہیں ہوجائے گا بلکہ اسے حتی الامکان اس کے مالکوں کو لوٹانا ہوگا اور جو نہ لوٹا سکے اس پر توبہ اور استغفار کرنا ہوگا۔ وَمَنْ عَادَ فَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ: یہ سود خوروں کے لیے سخت وعید ہے۔ جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی سود کھانے والے پر، سود دینے والے پر، سود لکھنے والے پر اور سودی لین دین کے گواہوں پر اور آپ ﷺ نے فرمایا : ”وہ سب (گناہ میں) برابر ہیں۔“ [ مسلم، المساقاۃ، باب لعن أکل الربا و موکلہ : 1598 ] بعض نے ”وَمَنْ عَادَ“ کے یہ معنی کیے ہیں کہ حرام قرار دیے جانے کے بعد بھی اگر کوئی بیع اور سود کو برابر قرار دے گا اور سود کو حلال سمجھ کر کھائے گا تو ایسا شخص چونکہ کافر ہے، اس لیے اسے ہمیشہ کے لیے دوزخی قرار دیا ہے۔ (شوکانی)
Ayah 2:276

یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ Open ayah 2:276 in the Quran reader

اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ کسی ایسے شخص سے محبت نہیں رکھتا جو سخت ناشکرا، سخت گنہگار ہو۔

يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا : یعنی سود کا مال بظاہر جتنا بھی بڑھ جائے حقیقت میں نہیں بڑھتا، فرمایا : (وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِيْٓ اَمْوَال النَّاسِ فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ ۚ) [ الروم : 39 ] ”اور جو کوئی سودی قرض تم اس لیے دیتے ہو کہ لوگوں کے اموال میں بڑھ جائے تو وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”سود خواہ کتنا ہی بڑھ جائے انجام اس کا قلت ہی ہوگا۔“ [ أحمد : 1؍424، ح : 4025، عن ابن مسعود و صححہ محققہ و وافقہ الألبانی فی صحیح ابن ماجہ ] وجہ اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سودی مال میں خیر و برکت عطا نہیں فرماتا، چناچہ سود خور پر دنیا بھی لعنت بھیجتی ہے اور آخرت میں بھی اسے وہ سزا ملے گی جو کسی دوسرے مجرم کو نہیں ملے گی۔ اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ صدقات کو بڑھاتا ہے اور ان میں خیر و برکت ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جو شخص پاک کمائی میں سے ایک کھجور بھی صدقہ کرے اور اللہ تعالیٰ پاک مال ہی کو قبول کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے قبول فرماتا ہے، پھر اسے صدقہ کرنے والے کے لیے اس طرح پالتا پوستا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑی کے بچے کی پرورش کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ صدقہ (بڑھ کر) پہاڑ کی طرح ہوجاتا ہے۔“ [ بخاری، الزکاۃ، باب الصدقۃ من کسب طیب : 1410۔ مسلم : 1014، عن أبی ہریرۃ ؓ ] كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيْمٍ : یعنی مال دار ہو کر محتاج کو قرض بھی مفت نہ دے جب تک سود نہ رکھ لے، یہ نعمت کی سخت ناشکری ہے۔ (موضح)
Ayah 2:277

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:277 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی ان کے لیے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۔۔ : اللہ تعالیٰ کفر و ایمان دونوں کا ساتھ ساتھ ذکر فرماتا ہے، تاکہ دونوں پہلو سامنے رہیں۔ ربا کی آیتوں کے درمیان ایمان والوں کا ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایمان، عمل صالح، نماز اور زکوٰۃ سودی کاروبار سے بچنے کا اہم ذریعہ ہیں۔
Ayah 2:278

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:278 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ سے ڈرو اور سود میں سے جو باقی ہے چھوڑ دو ، اگر تم مومن ہو۔

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ۔۔ : اس آیت میں واضح حکم دیا گیا کہ اگر تم مومن ہو تو تمہارا جو سود لوگوں کے ذمے ہے چھوڑ دو۔ معلوم ہوا کہ سود اور ایمان دونوں جمع نہیں ہوسکتے۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے وہ تمام سود باطل قرار دے دیے جو قریش، ثقیف اور دوسرے عرب قبائل میں سے بعض تاجروں کے اپنے قرض داروں کے ذمے باقی تھے، حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے اعلان فرمایا : ”جاہلیت کے زمانے کے تمام سود میرے قدموں کے نیچے پامال کردیے گئے ہیں اور سب سے پہلا سود جو میں باطل قرار دیتا ہوں وہ ہمارے سودوں میں سے عباس بن عبد المطلب کا سود ہے، وہ پورے کا پورا چھوڑ دیا گیا ہے۔“ [ مسلم، الحج، باب حجۃ النبی ﷺ : 1218، عن جابر ؓ ]
Ayah 2:279

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:279 in the Quran reader

پھر اگر تم نے یہ نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بڑی جنگ کا اعلان سن لو اور اگر توبہ کرلو تو تمہارے لیے تمہارے اصل مال ہیں، نہ تم ظلم کرو گے اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۚ : ”بِحَرْبٍ“ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ”بڑی جنگ“ ترجمہ کیا ہے۔ ”أَذِنَ یَأْذَنُ (س)“ کا صلہ اگر لام ہو، مثلاً ”أَذِنَ لَہُ“ تو اس کا معنی ”اِسْتَمَعَ“ ہوتا ہے یعنی کان لگانا، سننا اور اگر ”أَذِنَ بِہِ“ ہو تو اس کا معنی ”عَلِمَ بِہِ“ ہوتا ہے یعنی جاننا، آگاہ ہونا۔ خبر دار ہونا۔ (قاموس) یعنی اگر تم نے سود نہ چھوڑا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سے آگاہ اور خبردار ہوجاؤ۔ اور یہ وہ وعید ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے دوسرے کسی جرم کے بارے میں اتنے واضح الفاظ میں نہیں دی گئی۔ ابن عباس ؓ ، ابن سیرین، حسن بصری اور بعض دیگر ائمہ ؓ کے نزدیک سود خور کو توبہ پر مجبور کیا جائے گا، اگر پھر بھی روش نہ بدلے تو اسے قتل کردیا جائے گا۔ (ابن کثیر) لَا تَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ : یعنی اصل مال سے زائد وصول کرو تو یہ تمہارا لوگوں پر ظلم ہوگا اور اگر تمہیں اصل مال بھی نہ ملے تو یہ لوگوں کا تم پر ظلم ہوگا اور یہ دونوں چیزیں ہی انصاف کے خلاف ہیں۔ (ابن کثیر)
Ayah 2:280

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:280 in the Quran reader

اور اگر کوئی تنگی والا ہو تو آسانی تک مہلت دینا لازم ہے اور یہ بات کہ صدقہ کردو تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔

وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ۔۔ : جاہلیت میں قرض ادا نہ کرنے کی صورت میں سود در سود سے اصل رقم میں اضافہ ہوتا جاتا، جس سے تھوڑی سی رقم ایک پہاڑ بن جاتی اور اس کی ادائیگی ناممکن ہوجاتی، آج کل بھی یہی حال ہے۔ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ کوئی تنگدست ہو تو (سود تو درکنار) آسانی تک اسے مہلت دو اور اگر قرض بالکل معاف کر دو تو زیادہ اچھا ہے۔ احادیث میں اس کی بہت فضیلت آئی ہے، بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ”جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی تو اسے ہر دن اس قرضے کے برابر ثواب ملے گا۔“ پھر میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا : ”جس نے کسی تنگدست شخص کو مہلت دی تو اسے ہر دن اس قرض سے دگنا صدقے کے برابر ثواب ملے گا۔“ میں نے عرض کیا : ”اے اللہ کے رسول ! میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی تو اسے ہر دن اس قرض کے برابر صدقے کا ثواب ملے گا اور پھر میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا کہ جس شخص نے کسی تنگدست کو مہلت دی تو اسے ہر دن اس قرض سے دگنا صدقے کے برابر ثواب ملے گا ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”قرض چکانے کی مدت تک اسے قرض کے برابر صدقے کا ثواب ملے گا اور اگر قرض چکانے کی مدت کے آنے پر مہلت دے تو اسے قرض سے دگنا صدقے کے برابر ثواب ملے گا۔“ [ مسند أحمد : 5؍360، ح : 23110۔ الصحیحۃ : 86 ] اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس نے اپنے قرض دار کو مہلت دی، یا قرض معاف کردیا تو اللہ تعالیٰ اسے (قیامت کے دن) اپنا سایہ عطا فرمائے گا۔“ [ مسلم، الزہد، باب حدیث جابر الطویل۔۔ : 3006، عن عبادۃ بن الصامت ؓ ]
Ayah 2:281

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:281 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر ہر شخص کو پورا دیا جائے گا جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دنیا کے زوال پذیر ہونے اور اس کے اموال وغیرہ کے فانی ہونے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے اور ہر عمل کے محاسبے اور اس کی جزا و سزا ہونے کے ساتھ نصیحت فرمائی ہے۔ (ابن کثیر) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : ”قرآن میں سب سے آخر میں جو آیت اتری وہ یہ ہے۔“ [ السنن الکبریٰ للنسائی : 10؍39، 40، ح : 10991، 10992، صحیح۔ ہدایۃ المستنیر : 870 ]
Ayah 2:282

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ١ؕ وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ١۪ وَ لَا یَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ یَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْیَكْتُبْ١ۚ وَ لْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْئًا١ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ سَفِیْهًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ هُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّهٗ بِالْعَدْلِ١ؕ وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى١ؕ وَ لَا یَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا١ؕ وَ لَا تَسْئَمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِیْرًا اَوْ كَبِیْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِیْرُوْنَهَا بَیْنَكُمْ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا١ؕ وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ١۪ وَ لَا یُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّ لَا شَهِیْدٌ١ؕ۬ وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ یُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 2:282 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب آپس میں ایک مقرر مدت تک قرض کا لین دین کرو تو اسے لکھ لو اور ایک لکھنے والا تمہارے درمیان انصاف کے ساتھ لکھے اور کوئی لکھنے والا اس سے انکار نہ کرے کہ لکھے جیسے اللہ نے اسے سکھایا ہے، سو اسے لازم ہے کہ لکھ دے اور وہ شخص لکھوائے جس کے ذمے حق (قرض) ہو، اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور اس میں سے کچھ بھی کم نہ کرے۔ پھر اگر وہ شخص جس کے ذمے حق (قرض) ہے، بےسمجھ یا کمزور ہے، یا وہ طاقت نہیں رکھتا کہ خود لکھوائے تو اس کا ولی انصاف کے ساتھ لکھوا دے۔ اور اپنے مردوں میں سے دو گواہوں کو گواہ بنا لو، پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ان لوگوں میں سے جنھیں تم گواہوں میں سے پسند کرتے ہو (اس لیے) کہ دونوں سے ایک بھول جائے تو ان میں سے ایک دوسری کو یاد دلا دے۔ اور گواہ جب بھی بلائے جائیں انکار نہ کریں۔ اور اس سے مت اکتاؤ وہ چھوٹا (معاملہ) ہو یا بڑا کہ اسے اس کی مدت تک لکھو۔ یہ کام اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف والا اور شہادت کو زیادہ درست رکھنے والا ہے اور زیادہ قریب ہے کہ تم شک میں نہ پڑو، مگر یہ کہ نقد سودا ہو، جسے تم آپس میں لیتے دیتے ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اسے نہ لکھو۔ اور جب آپس میں خریدو فروخت کرو تو گواہ بنا لو، اور نہ کسی لکھنے والے کو تکلیف دی جائے اور نہ کسی گواہ کو اور اگر ایسا کرو گے تو بلاشبہ یہ تم میں بڑی نافرمانی ہے اور اللہ سے ڈرو اور اللہ تمہیں سکھاتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ : اس آیت کو ”آیَۃُ الدَّیْنِ“ یا ”آیَۃُ الْمُدَایَنَۃِ“ کہا جاتا ہے۔ یہ قرآن کی سب سے لمبی آیت ہے، جب سود حرام کیا گیا تو قرض کا صحیح طریقہ بیان کرنا ضروری تھا، چناچہ وہ اس آیت میں بیان فرمایا ہے اور اصولی طور پر تین باتیں ضروری قرار دی ہیں، ایک اسے لکھ لینا، دوسری مدت مقرر کرلینا، تیسری گواہ بنا لینا۔ عموماً لوگ ادھار یا قرض کے معاملے میں تحریر کو معیوب اور باہمی بےاعتمادی کی علامت سمجھتے ہیں، آیت کے آخر میں اس کی حکمت بیان فرما دی گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ انصاف والی، گواہی کو زیادہ درست رکھنے والی اور ہر قسم کے شک و شبہ سے بچانے والی چیز ہے۔ اس بنا پر ایسے معاملات میں اس قسم کی احتیاط مناسب ہے، تاکہ آئندہ جھگڑا پیدا نہ ہو سکے۔ (ابن کثیر) اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى : اس سے ادھار کی ادائیگی کی مدت مقرر کرنا ضروری ثابت ہوا۔ عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا : ”اس آیت سے بیع سلم کا جواز ثابت ہوتا ہے اور اسی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہے۔“ (شوکانی) بیع سلم یا سلف یہ ہے کہ کسی چیز کی قیمت پیشگی ادا کردی جائے اور وہ چیز مقرر کردہ وقت پر بعد میں وصول کرلی جائے۔ اس بیع کی شرائط بھی آپ ﷺ نے بیان فرما دیں، چناچہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے تو دیکھا کہ اہل مدینہ دو سال یا تین سال کے لیے کھجور میں بیع سلف کرتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”جو شخص کسی چیز میں بیع سلف کرے وہ مقررہ ماپ تول میں اور مقررہ مدت تک کرے۔“ [ بخاری، المساقاۃ، باب السلم : 1604 ] نیز ابن عمر ؓ سے مقررہ قیمت کا بھی ذکر ہے۔ اس آیت کریمہ سے بظاہر قرض کا لکھنا واجب معلوم ہوتا ہے، مگر اس سے اگلی آیت میں (فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا) سے معلوم ہوا کہ یہ حکم واجب نہیں مستحب ہے۔ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاۗءِ : یعنی جو دیانت، امانت اور اخلاق کے اعتبار سے تم میں قابل اعتماد سمجھے جاتے ہوں، نیز وہ مسلمان ہوں، عاقل، بالغ، فرائض کے پابند اور کبیرہ گناہوں سے بچنے والے بھی ہوں، کیونکہ اہل اسلام کے ہاں یہی لوگ پسندیدہ ہیں۔ غیر مسلم کی شہادت قبول نہیں ہوگی۔ اِلَّآ اَنْ تَكُـوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً : یعنی اگر تجارت میں لین دین نقد ہو، ادھار نہ ہو تو گواہ بنا لینے ہی کافی ہیں، لکھنا ضروری نہیں، کیونکہ اس میں تکلیف ہے اور گواہ بنا لینا بھی واجب نہیں، مستحب ہے۔ (شوکانی) ۠وَلَا يُضَاۗرَّ كَاتِبٌ وَّلَا شَهِيْدٌ : ”اور نہ کسی لکھنے والے کو تکلیف دی جائے اور نہ کسی گواہ کو۔“ یہ ترجمہ ”وَلَا يُضَاۗرَّ“ فعل مجہول کی صورت میں ہے۔ یہ فعل معروف بھی ہوسکتا ہے اور اس صورت میں ترجمہ ہوگا ”نہ لکھنے والا نقصان پہنچائے اور نہ گواہ“ مثلاً لکھنے والا غلط بات لکھ دے، جس سے صاحب حق یا مقروض کو نقصان پہنچے، یا گواہ شہادت میں ہیر پھیر کرکے غلط گواہی دے اور کاتب اور گواہ کو نقصان پہنچایا جانا یہ ہے کہ انھیں ان کی مشغولیت کے وقت تنگ کرکے بلایا جائے یا غلط شہادت پر مجبور کرنے کے لیے خوف زدہ کیا جائے وغیرہ۔
Ayah 2:283

وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ١ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ١ؕ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ یَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:283 in the Quran reader

اور اگر تم کسی سفر پر ہو اور کوئی لکھنے والا نہ پاؤ تو ایسی گروی لازم ہے جو قبضے میں لے لی گئی ہو، پھر اگر تم میں سے کوئی کسی پر اعتبار کرے تو جس پر اعتبار کیا گیا ہے وہ اپنی امانت ادا کرے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور شہادت مت چھپاؤ اور جو اسے چھپائے تو بیشک وہ، اس کا دل گناہ گار ہے اور اللہ جو کچھ تم کر رہے ہو اسے خوب جاننے والا ہے۔

وَاِنْ كُنْتُمْ عَلٰي سَفَرٍ وَّلَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا۔۔ : یہ بیع اور قرض کی ایک دوسری شکل ہے، یعنی اگر تم سفر میں قرض کا معاملہ کرو اور تمہیں لکھنے والا نہ مل سکے، یا لکھنے کے لیے قلم دوات وغیرہ میسر نہ ہوں تو مقروض کو چاہیے کہ قرض دینے والے کے پاس کوئی چیز رہن (گروی) رکھ دے۔ سفر کا ذکر اس لیے کیا کہ یہ معاملہ زیادہ تر سفر میں پیش آتا ہے، ورنہ رہن (گروی) رکھنا حضر میں بھی جائز ہے۔ خود رسول اللہ ﷺ نے اپنی زرہ ایک یہودی کے پاس گروی رکھ کر عملاً اس کی وضاحت کردی۔ [ بخاری، البیوع، باب شراء الإمام الحوائج بنفسہ : 2096۔ مسلم : 1603 ] چناچہ سفر میں رہن نص قرآنی سے ثابت ہے اور حضر میں رسول اللہ ﷺ کے فعل سے۔ (شوکانی) جو چیز رہن رکھی جائے اگر دودھ والا جانور ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اسے چارا ڈالنے کے بدلے اس کا دودھ پینے کی اجازت دی، اسی طرح گھوڑے، اونٹ، گدھے یا خچر وغیرہ پر اس کے چارے کے بدلے سواری کی اجازت دی۔ [ بخاری، فی الرھن فی الحضر، باب الرھن مرکوب : 2511 عن أبی ہریرہ ؓ ] ان کے علاوہ گروی رکھی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھانا منع ہے، یہ سود کے زمرے میں آتا ہے، مثلاً قرض پر رقم لے کر زمین رہن رکھ دی جائے تو گروی لینے والا اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا بلکہ اگر کاشت کرے تو اس کا ٹھیکہ وغیرہ قرض میں وضع کرنا ہوگا۔ فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ : مطلب یہ کہ اگر کوئی شخص قرض لینے والے کا اعتبار کرے اور اس کی کوئی چیز رہن رکھے بغیر اسے قرض دے دے تو اسے بھی چاہیے کہ اللہ سے ڈرتے ہوئے اس کا قرض ادا کر دے۔ فَاِنَّهٗٓ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ : اس میں ”ٗٓ اٰثِمٌ“ (گناہ) کی نسبت دل کی طرف کی ہے، اس لیے کہ چھپانا دل کا فعل ہے اور سب سے پہلے اس کا خیال دل ہی میں پیدا ہوتا ہے۔ یہ وعید ہے کہ شہادت چھپانا اتنا سنگین گناہ ہے کہ اس سے دل گناہ گار ہوجاتا ہے۔ [ نَعُوْذُ باللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ ] رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَکْبَرُ الْکَبَاءِرِ ، اَلْاِشْرَاکَُ باللّٰہِ وَ قَتْلُ النَّفْسِ وَ عُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ وَ قَوْلُ الزُّوْرِ أَوْ قَالَ وَ شَہَادَۃُ الزُّوْرِ) ”کبیرہ گناہوں میں سے سب سے بڑے گناہ اللہ کے ساتھ شریک بنانا، کسی شخص کو قتل کرنا، والدین کی نافرمانی اور جھوٹی بات، یا فرمایا، جھوٹی گواہی ہیں۔“ [ بخاری، الدیات، باب : (و من أحیاھا) : 6871، عن أنس ] ابن عباس ؓ نے فرمایا : ”گواہی چھپانا بھی اکبر الکبائر میں سے ہے۔“ (طبری)
Ayahs 2:284–285

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ١ؕ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:284 in the Quran reader

اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے اور اگر تم اسے ظاہر کرو جو تمہارے دلوں میں ہے، یا اسے چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا، پھر جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ١۫ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ١۫ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ۗ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:285 in the Quran reader

رسول اس پر ایمان لایا جو اس کے رب کی جانب سے اس کی طرف نازل کیا گیا اور سب مومن بھی، ہر ایک اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا، ہم اس کے رسولوں میں سے کسی ایک کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ اور انھوں نے کہا ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی، تیری بخشش مانگتے ہیں اے ہمارے رب ! اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ: یہ پچھلی آیت میں موجود (ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ) کی علت ہے، یعنی جب آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک اللہ ہے تو خوب سمجھ لو کہ تم جو کچھ بھی کرتے ہو اسے اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے۔ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ : اس سے معلوم ہوا کہ دل کے فعل پر بھی محاسبہ ہوگا، مگر اس سے مراد دل کے وہ اعمال ہیں جن پر انسان کو اختیار ہو اور جن کا وہ پختہ ارادہ کرلے، مثلاً ایمان، کفر، کسی نیکی یا بدی کا عزم اور پختہ ارادہ، مثلاً ایک شخص دل میں کفر رکھتا ہے، یا چوری اور زنا کا عزم رکھتا ہے، مگر اسے کفر کے اظہار کا یا چوری اور زنا پر عمل کا موقع نہیں ملتا تو اس پر محاسبہ ضرور ہوگا۔ رہے وہ خیالات جو انسان کی طاقت اور اختیار سے باہر ہیں، خود بخود آتے جاتے رہتے ہیں، اگر آدمی ان کو اپنے دل میں جگہ نہ دے تو ان پر محاسبہ نہیں ہوگا، جیسا کہ اس سورت کی آخری آیت (لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا) میں ہے۔ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت (لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا۔۔) نازل ہوئی تو صحابہ پر گراں گزری، انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ہم نماز، روزہ وغیرہ اعمال تو بجا لا رہے ہیں، مگر اس آیت (دل کی باتوں پر محاسبہ) کے مطابق تو بڑی مشکل پڑے گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ”کیا تم بھی اہل کتاب کی طرح ”سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا“ کہنا چاہتے ہو، بلکہ تم یوں کہو : (سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا، غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَ اِلَیْکَ الْمَصِیْرُ) ”ہم نے سن لیا اور اطاعت کی، اے ہمارے رب ! ہم تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔“ جب صحابہ کرام ؓ نے اس کا اقرار کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت : (اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ) نازل فرمائی اور آیت (اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ) کو منسوخ کردیا اور جب اگلی آیت : (لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا) نازل فرمائی تو اس کے ہر دعائیہ جملہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (قَدْ فَعَلْتُ) ”میں نے ایسا کردیا۔“ [ مسند أحمد : 2؍413، ح : 9363۔ مسلم، الإیمان، باب بیان تجاوز اللہ۔۔ : 125 ] واضح رہے کہ یہاں دوسری آیت سے پہلی کے منسوخ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ پہلی آیت میں جو ابہام تھا اس کی وضاحت فرما دی۔ حافظ ابن قیم ؓ لکھتے ہیں : ”صحابہ کرام ؓ نسخ کا لفظ وضاحت کے معنی میں بھی استعمال کرتے تھے۔“ ابوہریرہ ؓ سے ایک دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”میرے لیے میری امت کے لوگوں کے وہ خیالات اور وساوس معاف کردیے گئے ہیں جو ان کے دلوں میں آئیں، تاوقتیکہ ان کو زبان پر نہ لائیں، یا ان پر عمل نہ کریں۔“ [ مسلم، الإیمان، باب تجاوز اللہ عن۔۔ : 127۔ بخاری : 5269 ] (ابن کثیر، شوکانی) لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ ۣ: یعنی ایسا نہیں کہ ہم بعض انبیاء کو مانتے ہوں اور بعض کا انکار کرتے ہوں، بلکہ ہم تمام انبیاء کو مانتے ہیں۔
Ayah 2:286

لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ؕ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْ١ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ١ۚ وَ اعْفُ عَنَّا١ٙ وَ اغْفِرْ لَنَا١ٙ وَ ارْحَمْنَا١ٙ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 2:286 in the Quran reader

اللہ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی گنجائش کے مطابق، اسی کے لیے ہے جو اس نے (نیکی) کمائی اور اسی پر ہے جو اس نے (گناہ) کمایا، اے ہمارے رب ! ہم سے مؤاخذہ نہ کر اگر ہم بھول جائیں یا خطا کر جائیں، اے ہمارے رب ! اور ہم پر کوئی بھاری بوجھ نہ ڈال، جیسے تو نے اسے ان لوگوں پر ڈالا جو ہم سے پہلے تھے، اے ہمارے رب ! اور ہم سے وہ چیز نہ اٹھوا جس (کے اٹھانے) کی ہم میں طاقت نہ ہو اور ہم سے در گزر کر اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر، تو ہی ہمارا مالک ہے، سو کافر لوگوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔

یہ اور اس سے پہلی آیت رسول اللہ ﷺ کو معراج کے موقع پر سدرۃ المنتہی کے پاس عطا فرمائی گئیں۔ [ مسلم، الإیمان، باب فی ذکر سدرۃ المنتہٰی : 173 ] ان آیات کی فضیلت میں کئی احادیث آئی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جو شخص رات کو سورة بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھ لے تو وہ اس کے لیے کافی ہوں گی۔“ [ بخاری، فضائل القرآن، باب فضل سورۃ البقرۃ : 5009، عن أبی مسعود ؓ ] ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن جبریل ؑ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انھوں نے اوپر سے ایک زور دار آواز سنی، انھوں نے سر اٹھایا، پھر فرمایا : ”یہ آسمان کا دروازہ ہے جو آج کھولا گیا ہے، آج سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا۔“ پھر اس دروازے سے ایک فرشتہ اترا۔ جبریل ؑ نے فرمایا : ”یہ ایک فرشتہ ہے جو آج زمین کی طرف نازل ہوا ہے اور آج سے پہلے کبھی نازل نہیں ہوا۔“ پھر اس فرشتے نے رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا اور کہا : ”دو نوروں کی خوش خبری سنیے، یہ دونوں صرف آپ کو عطا کیے گئے ہیں، آپ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کیے گئے۔ ایک نور سورة فاتحہ ہے اور دوسرا نور سورة بقرہ کی آخری آیات ہیں، آپ جب کبھی ان دونوں میں سے کوئی کلمہ تلاوت کریں گے تو آپ کو مانگی ہوئی چیز مل جائے گی۔“ [ مسلم، صلاۃ المسافرین، باب فضل الفاتحۃ و خواتیم سورة البقرۃ : 806 ] نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان پیدا کرنے سے دو ہزار سال پہلے ایک کتاب لکھی، اس میں سے اس نے دو آیتیں نازل فرمائیں جن کے ساتھ سورة بقرہ کا اختتام کیا، وہ کسی گھر میں تین راتیں نہیں پڑھی جائیں کہ پھر شیطان اس کے قریب آسکے۔“ [ ترمذی، فضائل القرآن، باب ما جاء فی آخر سورة البقرۃ، 2882 وصححہ الألبانی ]