Ayah 2:105وَاللّٰهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ مشرکین عرب کے نزدیک رسول اللہ ﷺ ایک عام آدمی تھے اور وہ اپنے کسی عظیم سردار کے بجائے ایک عام آدمی پر وحی کا نزول ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ دیکھیے الزخرف (31) اور اہل کتاب اللہ کی اس رحمت کو اپنی نسل سے باہر نہیں دیکھ سکتے تھے۔ فرمایا کہ اللہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہے خاص کرے۔ یہاں رحمت سے مراد نبوت ہے، جو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہے، وہ نہ کسی کی عظمت کی بنیاد پر ملتی ہے، نہ نسل پر اور نہ کسی کے کسب، محنت اور چلہ کشی پر، جیسا کہ قادیانی دجال کا کہنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اَللّٰهُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ ۭ) [ الحج : 75 ] ”اللہ فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے چنتا ہے اور لوگوں میں سے بھی۔“
Ayahs 2:106–107نسخ کا معنی ہے بعد میں آنے والے حکم کے ساتھ پہلے کسی حکم کو ختم کردینا، جیسے پہلے بیت المقدس قبلہ مقرر ہوا، پھر بیت اللہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ہوا اور جیسے ہماری شریعت میں پہلی شریعتوں کے بہت سے احکام منسوخ کردیے گئے۔ یہودی نسخ کے منکر تھے، اسی لیے انھوں نے عیسیٰ ؑ کو جھٹلایا کہ انھوں نے تورات کے بعض احکام کیوں منسوخ کیے۔ قرآن پر بھی انھوں نے اعتراض کیا کہ جب پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا تھا اور درست تھا تو وہ منسوخ کیوں ہوا ؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے کئی جواب دیے، پہلے جواب کی تفصیل یہ ہے کہ پہلا حکم درحقیقت ہوتا ہی اتنی مدت کے لیے ہے، نسخ اس مدت کے ختم ہونے کا اعلان ہے۔ اس وقت تک وہ پہلا حکم عین حکمت تھا، بعد میں اس جیسے یا اس سے بہتر دوسرے حکم کی ضرورت تھی تو وہ جاری کردیا گیا۔ کائنات میں ہر وقت اس کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔ نطفہ سے علقہ، پھر مضغہ، پھر ہڈیاں، پھر جنین، پھر بچپن، جوانی، بڑھاپا، موت اور قیامت سب نسخ ہی کی صورتیں ہیں۔ مختلف موسم مثلاً سردی، پھر بہار، پھر گرمی، پھر برسات، اسی طرح رات دن کا چکر اس کی مثالیں ہیں۔ طبیب کا مریض کے لیے ایک نسخہ تجویز کرنا، پھر نئی صورت حال کے لیے دوسرا نسخہ تجویز کرنا بھی اس کی مثال ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ پہلا نسخہ غلط تھا۔ ایک جواب اس اعتراض کا یہ دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر اپنا حکم منسوخ نہ کرسکتا ہو تو وہ عاجز ٹھہرا، چناچہ فرمایا : ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ بیشک اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔“ مزید فرمایا : ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ ہی کے لیے ہے۔“ وہ بادشاہ ہی کیا ہوا جو پہلے حکم کی جگہ نیا حکم نافذ نہ کرسکے۔
قرآن کے ساتھ قرآن منسوخ ہوسکتا ہے اور سنت بھی، اسی طرح سنت کے ساتھ سنت منسوخ ہوسکتی ہے اور قرآن بھی، کیونکہ دونوں وحی الٰہی ہیں اور وحی الٰہی کے ساتھ وحی الٰہی منسوخ ہوسکتی ہے۔
قرآن سے قرآن کے نسخ کی مثال : سورة نساء (15) میں اللہ تعالیٰ نے زنا کرنے والی عورتوں کی سزا مقرر فرمائی کہ انھیں گھروں میں بند رکھو، یہاں تک کہ انھیں موت اٹھا لے جائے، یا اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی راستہ بنا دے، پھر سورة نور کے شروع میں زانی مرد اور زانیہ عورت کو سو سو کوڑے مارنے کا حکم دیا گیا۔ مزید دیکھیے سورة انفال (65، 66) اور مجادلہ (12، 13)
قرآن کے ساتھ سنت کے نسخ کی مثال : جیسے شروع شروع میں روزے کی حالت میں مغرب کے بعد سو جانے کے بعد کھانا پینا اور بیوی کے پاس جانا منع تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فَالْئٰنَ بَاشِرُوْھُنَّ وَابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ ۠وَكُلُوْا وَاشْرَبُوْا) [ البقرہ : 187 ] قبلہ کی تبدیلی بھی قرآن کے ساتھ سنت کے نسخ کی مثال ہے۔ سنت کے ساتھ سنت منسوخ ہونے کی مثال : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (نَہَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ فَزُوْرُوْہَا وَ نَہَیْتُکُمْ عَنْ لُحُوْمِ الْأَضَاحِیْ فَوْقَ ثَلاَثٍ ، فَأَمْسِکُوْا مَا بَدَا لَکُمْ)”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا سو ان کی زیارت کرو اور میں نے تمہیں تین راتوں سے زیادہ قربانیوں کے گوشت (ذخیرہ کرنے) سے منع کیا تھا، سو انھیں رکھ لو، جب تک تمہاری مرضی ہو۔“ [ مسلم، الأضاحی، باب بیان ما کان من النہی۔۔ : 1977، عن بریدۃ ؓ ]
سنت صحیحہ کے ساتھ قرآن کے نسخ کی مثال خواہ وہ متواتر نہ ہو : جیسا کہ سورة نساء میں اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کا ذکر فرمایا جن سے نکاح حرام ہے، ان میں دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا بھی حرام ہے، پھر فرمایا : (وَاُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَاۗءَ ذٰلِكُمْ) [ النساء : 24 ] ”ان کے سوا سب عورتوں سے نکاح تمہارے لیے حلال ہے۔“ اس آیت کی رو سے خالہ اور اس کی بھانجی، پھوپھی اور اس کی بھتیجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا جائز ہے، مگر رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا تو حرام ہوگیا اور اس پر امت متفق ہے۔ تنبیہ ! درحقیقت یہ سنت کے ساتھ کتاب اللہ سے زائد حکم کی مثال ہے، بعض لوگ کتاب اللہ پر زیادتی کو نسخ کہتے ہیں، ان کے قول کے مطابق یہ نسخ کی مثال ہے، ورنہ شیخ محمد بن صالح عثیمین ؒ نے فرمایا کہ سنت کے ساتھ قرآن کے نسخ کی کوئی قابل اطمینان مثال مجھے نہیں ملی۔
نسخ احکام میں ہوتا ہے خبر میں نہیں، ورنہ ہر جھوٹا شخص، جب اس کی پیشین گوئی یا گزشتہ یا موجود واقعے کی کوئی خبر غلط نکلے، کہہ دے گا وہ منسوخ ہوگئی، جیسے مرزا قادیانی کے مریدوں کا حال ہے۔
بعض آیات و احکام جنھیں باقی رکھنا مقصود نہ تھا، اللہ تعالیٰ نے بھلا دیے، جیسا کہ فرمایا : (سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰٓى، اِلَّا مَا شَاۗءَ اللّٰهُ) [ الأعلٰی : 6، 7 ] ”ہم ضرور تجھے پڑھائیں گے تو تو نہیں بھولے گا۔ مگر جو اللہ چاہے۔“
Ayah 2:108یہاں اگرچہ بیان نہیں ہوا کہ موسیٰ ؑ سے کیا سوال کیا گیا، مگر پیچھے گزر چکا ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا دیکھنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ [ البقرۃ : 55 ] اہل کتاب نے رسول اللہ ﷺ سے بھی ایسی ہی گستاخی کا رویہ اختیار کیا، چناچہ سورة نساء (153) میں ہے : ”اہل کتاب تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ان پر آسمان سے کوئی کتاب اتارے، سو وہ تو موسیٰ سے اس سے بڑی بات کا مطالبہ کرچکے ہیں، چناچہ انھوں نے کہا ہمیں اللہ کو کھلم کھلا دکھلا۔“ اللہ تعالیٰ نے گستاخی پر مشتمل سوالات کے علاوہ وحی اترنے کے زمانہ میں ایسی چیزوں کے متعلق سوال سے بھی منع فرما دیا جو اگر ظاہر کردی جائیں تو ناگوارہوں۔ دیکھیے سورة مائدہ (101) اور اس کا حاشیہ۔
گستاخانہ سوالات کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے بدلے کفر کو اختیار کرنا قرار دیا ہے۔
Ayahs 2:109–110(كَثِيْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰب) میں رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے اہل کتاب شامل ہیں اور بعد میں آنے والے تمام زمانوں کے یہود و نصاریٰ بھی، جیسا کہ ہمارے دور میں ان کی طرف سے علم و تحقیق کے نام پر اسلام کے عقائد و احکام کے خلاف پروپیگنڈا ہو رہا ہے اور ان کی پوری کوشش یہ ہے کہ مسلمان اگر یہودی یا نصرانی نہ بنیں تو کم از کم اپنے دین سے ضرور بدگمان ہوجائیں۔
(حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ) حق کو پہچاننے کے باوجود ان کی یہ خواہش محض حسد کی وجہ سے ہے اور حسد بھی کسی دینی جذبے کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کے دلوں کے بغض و عناد کی وجہ سے ہے۔ اس سے حسد کی قباحت ظاہر ہوئی کہ خود بھی ایمان سے محروم رہے اور دوسروں کے پاس یہ نعمت دیکھنا بھی برداشت نہیں۔ ابلیس کا سجدے سے انکار، قابیل کا اپنے بھائی کو قتل کرنا، برادران یوسف کا اپنے بھائی پر ظلم اور اہل کتاب کا رسول اللہ ﷺ کو پہچاننے کے باوجود انکار اور دشمنی کا باعث یہی حسد تھا۔
(فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا) یعنی جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے ساتھ لڑائی کا حکم نہ آجائے اس وقت تک عفو و درگزر سے کام لو، ان کے اوچھے حملوں اور حسد و بغض کی وجہ سے بےقابو نہ ہونا۔ پھر لڑائی کا حکم آنے پر بنو نضیر اور بنو قینقاع کو جلا وطن ہونا پڑا اور بنو قریظہ قتل ہوئے۔
Ayah 2:111آیت میں ایک لمبی بات مختصر کردی گئی ہے، یعنی یہودیوں نے کہا جنت میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے مگر جو یہودی ہوں گے اور نصاریٰ نے کہا کہ جنت میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے مگر جو نصاریٰ ہوں گے، کیونکہ ان میں سے کوئی فریق بھی دوسرے کے جنت میں جانے کا عقیدہ نہیں رکھتا تھا۔ فرمایا، یہ ان کی آرزوئیں ہی ہیں، حقیقت سے ان کا کچھ تعلق نہیں۔ اگر یہ سچے ہیں تو اپنی دلیل پیش کریں۔ رازی ؓ نے فرمایا، اس آیت سے ثابت ہوا کہ کوئی بھی دعویٰ کرنے والا، خواہ نفی کا دعویٰ کرے یا اثبات کا، اس پر دلیل اور برہان پیش کرنا لازم ہے اور یہ تقلیداً کہی ہوئی بات کے باطل ہونے کی سب سے سچی اور پکی دلیل ہے۔ (کیونکہ تقلید نام ہی کسی بات کو بلا دلیل قبول کرنے کا ہے)۔
(اَمَانِيُّھُمْ) خبر معرفہ ہونے کی وجہ سے ترجمے میں ”ہی“ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ آج کل مسلمان بھی محض آرزوؤں اور خوش فہمیوں میں مبتلا ہیں، حالانکہ نام کا اسلام نہ دنیا میں عزت کا ضامن ہے نہ آخرت میں۔
Ayah 2:112یعنی جنت میں جانے کے لیے کسی گروہ کا فرد ہونا کافی نہیں، بلکہ اس کے لیے دو شرطیں ہیں، ایک یہ کہ اپنا چہرہ اللہ کے تابع کر دے، چہرہ تابع ہوگیا تو پورا جسم تابع ہوگیا، پھر جو عمل کرے اسی کے لیے کرے، کسی دوسرے کا اس میں دخل نہ ہو۔ دوسری یہ کہ وہ عمل حسن (یعنی نیک) ہو، اس کی طرف اشارہ ”وَھُوَ مُحْسِنٌ“ کے ساتھ ہے۔ نیک عمل وہی ہے جو قرآن وسنت کے مطابق ہو۔ پہلی شرط نہ ہوگی تو منافقت اور ریا کاری ہے، دوسری نہ ہوگی تو بدعت اور گمراہی ہے۔
Ayah 2:113تورات میں مسیح ؑ کی نبوت کا ذکر موجود تھا اور یہودی اسے پڑھتے اور جانتے تھے، اسی طرح انجیل میں موسیٰ ؑ کی نبوت کا ذکر اور تورات پر عمل کا حکم موجود تھا اور نصاریٰ اسے پڑھتے اور جانتے تھے، مگر تعصب اور ضد میں آ کر ہر ایک نے دوسرے کے بارے میں کہا کہ وہ سرے سے کسی بھی چیز پر نہیں۔ افسوس ! مسلمان بھی جب فرقوں میں تقسیم ہوئے تو ہر ایک نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ دوسرے فرقے کی بات قرآن وسنت کے مطابق ہے، اسے غلط اور اپنے فرقے کی بات کو غلط جانتے ہوئے بھی درست قرار دیا۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
لَا يَعْلَمُوْنَ : علم سے مراد وحی کا علم ہے اور اس سے مراد مشرکین عرب ہیں جو وحی الٰہی کا کچھ علم نہیں رکھتے تھے، ان کے علاوہ وہ تمام لوگ جو آسمانی ہدایت سے بےبہرہ ہیں، اس میں شامل ہیں، مثلاً دہریے اور بت پرست وغیرہ، ان سب نے بھی یہود و نصاریٰ کی طرح اپنے سوا سب کو سرے ہی سے غلط قرار دیا۔ فرمایا، اب ان کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا۔
Ayah 2:114اپنے گروہ کو حق پر اور اپنے سوا سب کو غلط قرار دینے والے یہ سب لوگ غور کریں کہ ظلم کے ناجائز ہونے پر تو سب کا اتفاق ہے، پھر اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ کی مسجدوں سے منع کرے کہ ان میں اس کا نام لیا جائے اور انھیں ویران کرنے کی کوشش کرے۔ یہ کام مشرکین مکہ نے کیا کہ مسلمانوں کو پہلے مکہ سے نکالا، پھر ان کا مکہ میں داخلہ حتیٰ کہ حج و عمرہ کے لیے آنا بند کردیا۔ ان سے پہلے نصاریٰ کا ٹائٹس کے زمانے میں بیت المقدس پر قبضہ ہوا تو انھوں نے یہودیوں کا داخلہ بیت المقدس میں بند کردیا، یہ کیسی حق پرستی ہے ؟
(اِلَّا خَاۗىِٕفِيْنَ) یعنی ایسے ظالم لوگوں کا اللہ کی مساجد کا متولی ہونا تو درکنار، ان کا تو داخلہ بھی ڈرتے ہوئے ہونا چاہیے کہ انھوں نے کوئی شرارت کی تو سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔ ان کے لیے دنیا ہی میں ایک رسوائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سچ ثابت ہوا، یہودو نصاریٰ اور مشرکین تینوں نے اپنے کیے کی سزا پائی، کعبہ اور بیت المقدس کی تولیت مسلمانوں کے قبضے میں آگئی۔ چونکہ مسجدیں اللہ کی ہیں اور حق یہ ہے کہ ان میں صرف اللہ کا نام لیا جائے، اس لیے تمام مشرکین کو مسجد حرام کے قریب آنے سے روک دیا گیا، خواہ وہ بت پرست ہوں یا عزیر و مسیح پرست، کیونکہ وہ اکیلے اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ اب مسلمانوں میں وہی پہلی قوموں والے مشرکانہ عقائد و اعمال پھیل گئے اور وہ بدعمل ہو کر جہاد چھوڑ بیٹھے، تو بیت المقدس پھر ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو دوبارہ توحید و سنت اور جہاد فی سبیل اللہ پر گامزن فرمائے اور بیت المقدس کی تولیت کا شرف عطا فرمائے۔
Ayah 2:115اس آیت کا مطلب یہ نہیں کہ نماز میں قبلہ کی طرف رخ کرنا ضروری نہیں، بلکہ مراد خاص صورتوں میں قبلہ کی پابندی ختم کرنا ہے، کیونکہ اس سے پہلے ان ظالموں کا ذکر ہے جو اللہ کی مسجدوں سے روکتے ہیں، یعنی ان ظالموں کی اللہ کی مسجدوں سے روکنے اور انھیں ویران کرنے کی کوشش اللہ تعالیٰ کی عبادت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ مشرق و مغرب کا مالک اللہ ہی ہے، سو انسان کو قبلہ کی طرف رخ کرنے میں اگر کوئی دشواری ہو، دشمن کا خوف ہو یا قبلہ معلوم نہ ہو سکے تو جس طرف منہ کرکے نماز پڑ لے درست ہے۔ سنن ابی داؤد ”کِتَابُ صَلٰوۃِ السَّفَرِ : 1249“ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن انیس ؓ کو بھیجا کہ وہ خالد بن سفیان کو قتل کردیں، کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے کے لیے فوج جمع کر رہا تھا۔ وہ انھیں عرنہ یا عرفات میں نظر آگیا (جہاں عبداللہ بن انیس ؓ کا چہرہ کعبہ کی مخالف سمت تھا) ، ادھر عصر کا وقت ہوگیا تو انھوں نے نماز فوت ہونے کے خدشے کے پیش نظر دشمن کی طرف چلتے چلتے نماز پڑھ لی، پھر جا کر اسے قتل کردیا۔ انتہیٰ۔ سفر کی حالت میں نفل نماز کے متعلق اجازت ہے کہ وہ سواری پر پڑھ لی جائے، خواہ رخ کسی بھی جانب ہو۔ چناچہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ مکہ سے مدینہ کی طرف آتے ہوئے رسول اللہ ﷺ اپنی اونٹنی پر (نفل) نماز پڑھتے رہتے تھے، اس کا رخ جدھر بھی ہوتا۔ فرماتے ہیں، اسی کے بارے میں یہ آیت اتری : (فَاَيْنَـمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ) [ مسلم، صلوۃ المسافرین، باب جواز النافلۃ : 33؍700 ] (فَاَيْنَـمَا تُوَلُّوْا) کا ایک معنی ”حَیْثُمَا تُوَلُّوْا“ (جہاں بھی تم رخ کرلو) بھی کیا گیا ہے، یہ مجاہد کا قول ہے۔ (طبری) اس صورت میں بھی اس کا تعلق پہلی آیت سے ہے، یعنی اگر تمہیں اللہ کی مسجدوں سے روک دیا جائے تو تم جس جگہ بھی ہو نماز پڑھ لو۔ (التسہیل)
Ayah 2:116اللہ کی مسجدوں سے روکنے والوں کا یہ ایک اور ظلم بیان فرمایا کہ انھوں نے کہا، اللہ نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے۔ چناچہ یہود نے عزیر ؑ کو اور نصاریٰ نے مسیح ؑ کو اللہ کا بیٹا قراردیا، اسی طرح مشرکین عرب نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے کئی طرح سے اس کا رد فرمایا، پہلے ”سبحانہ“ کے ساتھ کہ اولاد تو محتاجی کی دلیل ہے اور اللہ اس سے پاک ہے۔ (دیکھیے سورة بنی اسرائیل : 111)۔ دوسرے یہ کہ اللہ آسمان و زمین کا مالک ہے، جس میں عزیر ؑ ، مسیح ؑ اور فرشتے سب شامل ہیں۔ مالک اور مملوک باپ بیٹا کیسے ہوسکتے ہیں ! بیٹا تو باپ کا مملوک بن بھی جائے تو خود بخود آزاد ہوجاتا ہے۔ تیسرا یہ کہ بیٹا سرکشی بھی کرسکتا ہے، جب کہ آسمان و زمین میں رہنے والے سب اللہ کے فرمان کے تابع ہیں، ان کا سانس بھی اس کے حکم کے بغیر نہیں چلتا۔
Ayah 2:117(بَدِيْعُ) بمعنی ”مُبْدِعٌ“ یعنی آسمان و زمین کو بغیر کسی مادے یا کسی نمونے کے پیدا کرنے والا، یہ چوتھی دلیل ہے، کیونکہ بیٹا باپ کا نمونہ ہوتا ہے، جب کہ اللہ نے ہر چیز کو نمونے کے بغیر پیدا کیا ہے۔ پانچویں دلیل کہ جس کے ”كُنْ“ کہنے سے سب کچھ ہوجاتا ہے اسے اولاد کی کیا محتاجی ہے ؟
تنبیہ : بعض لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو اور کچھ اور لوگوں کو اللہ کے نور کا ٹکڑا قرار دیا، یہ اولاد قرار دینے سے بھی بڑا ظلم ہے، دیکھیے سورة اخلاص۔
Ayah 2:118اس سے مراد کفار عرب ہیں، جنھوں نے اپنے سے پہلے لوگوں یعنی یہود و نصاریٰ کی طرح یہ مطالبہ کیا۔ مزید دیکھیے سورة بنی اسرائیل (90 تا 93) ، فرقان (21) اور سورة مدثر (52) (ۭ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُھُمْ) یعنی ان سب کی سوچ ایک جیسی ہے اور فرمایا کہ قرآن کریم سے رسول اللہ ﷺ کا صدق واضح ہے، اگر یہ لوگ اہل یقین ہوتے تو یہی دلائل کافی تھے۔ (المنار)
Ayah 2:119یعنی آپ کا کام حق پہنچاتے ہوئے خوش خبری دینا اور ڈرانا ہے، آپ سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ مسلمان کیوں نہیں ہوئے۔
Ayah 2:120اس آیت میں سخت وعید ہے کہ یہود و نصاریٰ کو خوش کرنے کے لیے بالفرض اگر رسول اللہ ﷺ بھی ان کی خواہش کے پیچھے لگ جائیں تو ان کے بچنے کی بھی کوئی صورت نہیں۔ اس آیت کے مخاطب اگرچہ رسول اللہ ﷺ ہیں، مگر سمجھا یا امت کو گیا ہے : ”أَھْوَاءٌ“ ”ھَوًی“ کی جمع ہے، یعنی خواہش۔ یعنی اصل ہدایت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے اور وہ قرآن و سنت ہے، ان لوگوں کے پاس اصل ہدایت نہیں، صرف حسب خواہش بنایا ہوا دین ہے۔ بدعت کو بھی ”ھَوٰی“ کہتے ہیں، کیونکہ وہ بھی دین میں اپنی خواہش کے مطابق بنا کر داخل کی جاتی ہے، جس طرح یہود و نصاریٰ کو خوش کرنے کے لیے ان کی اھواء و بدعات کی پیروی باعث ہلاکت ہے، اسی طرح کسی بھی بدعتی طبقے کو خوش کرنے کے لیے ان کی اھواء و بدعات کی پیروی بھی باعث ہلاکت ہے۔
Ayah 2:121اہل کتاب کے اعمالِ بد کا ذکر کرنے کے بعد اب ان میں سے نیک اور اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ وہ کتاب کو اس طرح پڑھتے ہیں جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ قرآن پر ایمان لاتے ہیں۔ اس کی ہم معنی آیت دیکھیے۔ سورة القصص (52 تا 54) میں۔ مراد اس سے عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی ہیں۔ معلوم ہوا کہ حق تلاوت یہ ہے کہ اس میں تحریف نہ کی جائے، اس کے احکام پر عمل کیا جائے۔ قرآن کی تلاوت کا حق بھی یہی ہے۔ بعض لوگ حق سے مراد حروف کو ان کے مخارج سے ادا کرنا لیتے ہیں، مگر یہ کافی نہیں۔
Ayahs 2:122–123بنی اسرائیل سے خطاب کی ابتدا اللہ کی نعمتیں یاد دلانے اور قیامت اور اس کی ہولناکیوں سے ڈرانے سے ہوئی۔ مسلسل چوراسی آیات میں ان پر اللہ کی نعمتوں کے ساتھ ساتھ ان کی نافرمانیوں کا ذکر بھی فرمایا گیا۔ آخر میں دوبارہ انھیں اللہ کی نعمتیں یاد دلائی گئیں اور آخرت کے دن سے ڈرایا گیا اور متنبہ کیا گیا کہ اوپر بیان کی ہوئی بدکرداریوں کی وجہ سے تم ظالم ٹھہرے، سو اب امامت و قیادت بنی اسرائیل سے بنی اسماعیل میں منتقل ہو رہی ہے، جن میں ایک پیغمبر مبعوث کرنے کی دعا ابراہیم ؑ نے کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے وقت کی تھی۔ ان آیات اور پچھلی تمام آیات کا مقصود اہل کتاب کو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے اور آپ کی پیروی کرنے پر ابھارنا ہے۔
Ayah 2:124بِكَلِمٰتٍ) بعض مفسرین نے ان باتوں سے مراد والد، قوم اور بادشاہ کو توحید کی دعوت، بت پرستی، ستارہ پرستی اور شاہ پرستی کی تردید، آگ میں پھینکے جانے پر صبر، پھر ہجرت، مصر کے جبار بادشاہ کی دست درازی کے باوجود استقامت، بیوی بچے کو وادی غیر ذی ذرع میں چھوڑنا اور اکلوتے بیٹے کو ذبح کرنے پر مکمل آمادگی کو لیا ہے۔ بعض نے آگے آنے والی آیات میں مذکور بیت اللہ کی تعمیر و تطہیر اور حج کے مناسک اور اللہ تعالیٰ کے فرمان : اَسلِم : (فرماں بردار ہوجا) پر فرماں بردار ہونے کے اقرار، پھر اس کے عملی ثبوت کو مراد لیا ہے۔ [ ابن أبی شیبۃ عن مجاہد ] تفسیر عبد الرزاق میں صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کی آزمائش طہارت کے احکام کے ساتھ کی، جن میں سے پانچ سر سے متعلق اور پانچ باقی جسم سے متعلق تھے۔ سر سے متعلق مونچھیں کترنا، کلی کرنا، ناک کی پانی سے صفائی کرنا، مسواک کرنا، سر کی مانگ نکالنا تھا اور جسم کے متعلق ناخن کاٹنا، زیر ناف بال مونڈنا، ختنہ کرنا، بغلوں کے بال اکھیڑنا اور پیشاب و پاخانے کے نشان کو پانی سے دھونا تھا۔ صحیح بخاری (5889) ، مسلم (257) اور ابوداؤد (4198) وغیرہ میں رسول اللہ ﷺ نے ان امور کو فطرت میں سے شمار فرمایا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم ؑ کی آزمائش میں یہ سب چیزیں شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انھیں جو بھی حکم دیا انھوں نے وہ پورا کر دکھایا، بڑھاپے میں بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تو پورا کردیا، اسّی (80) سال کی عمر میں اپنا ختنہ کرنے کا حکم ہوا تو وہ بھی کردیا۔[ بخاری، الإستئذان، باب الختان بعد الکبر۔۔ : 6297 ]
(قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِىْ ۭ) جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کو تمام لوگوں کا امام بنادیا تو انھوں نے اپنی بعض اولاد کے حق میں امامت کی دعا کی، سب کے حق میں نہیں کی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا، تو یہ دعا کیوں کی جائے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی، مگر اس کے ساتھ ہی انھیں بتادیا کہ تمہاری اولاد میں سے ظالم لوگ اس نعمت سے سرفراز نہیں ہوں گے۔ اس سے بنی اسرائیل کے گمراہ لوگوں اور بنی اسماعیل کے مشرکین کو تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ ان کے عقائد و اعمال خراب ہوچکے ہیں، محض ابراہیم ؑ کی اولاد ہونا کافی نہیں۔
Ayah 2:125(مَثَابَةً) یہ ثاب یَثُوْبُ (لوٹنا) سے ظرف ہے، یعنی ”لوٹ کر آنے کی جگہ“ لوگ بار بار اللہ کے گھر کی طرف لوٹ کر آتے ہیں، کبھی ان کا دل نہیں بھرتا۔ دیکھیے سورة حج (27) اور سورة ابراہیم (37) دوسری خصوصیت یہ کہ اسے سرا سر امن والی جگہ بنادیا، جاہلیت میں بھی آدمی اپنے دشمن کو دیکھتا مگر اسے کچھ نہ کہتا۔ اسلام نے اس احترام کو باقی رکھا، بلکہ اس میں تاکید اور اضافہ کیا۔
3 مقام ابراہیم ؑ کی تفسیر میں دو قول ہیں، ایک وہ پتھر جس پر کھڑے ہو کر ابراہیم ؑ نے کعبہ تعمیر کیا۔ صحیح مسلم میں حجۃ الوداع کے واقعہ میں جابر ؓ سے مذکور ہے کہ نبی ﷺ طواف سے فارغ ہوئے تو مقام ابراہیم کی طرف آئے اور یہ آیت پڑھی : (وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى) [ البقرۃ : 125 ] پھر مقام (ابراہیم) کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان کرکے دو رکعتیں پڑھیں۔ [ مسلم، الحج، باب حجۃ النبی ﷺ : 1218 ] جیسا کہ حاجی لوگ پڑھتے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھنے کا مشورہ عمر ؓ نے دیا تھا جس کی موافقت اللہ تعالیٰ نے فرمائی۔ [ بخاری، الصلوۃ، باب قولہ تعالیٰ : (واتخذوا من مقام۔۔ : 402 ] عمر ؓ کی موافقات کی تعداد اٹھارہ ہے۔
دوسرا قول تفسیر عبد الرزاق میں صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ کا ہے کہ مقام ابراہیم سے مراد مقام حج ہے یعنی حرم اور عرفات جہاں ابراہیم ؑ نے حج میں قیام کیا۔ چناچہ اہل علم فرماتے ہیں کہ طواف کی دو رکعتیں حرم میں جہاں بھی پڑھ لے درست ہے۔
(طَهِّرَا بَيْتِىَ) طہارت سے مراد کوڑا کرکٹ سے صفائی ہی نہیں، بلکہ بت پرستی اور شرک کی تمام نجاستوں سے بھی صفائی ہے، کیونکہ طواف، اعتکاف، رکوع اور سجدہ اللہ کے سوا کسی کا حق نہیں۔ مشرکین مکہ کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ تمہارے باپ کو کیا حکم دیا گیا تھا اور تم نے عین کعبہ میں بت لا کر کیسی فرماں برداری کی۔
Ayah 2:126اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کی یہ دعا بھی قبول فرمائی اور مکہ معظمہ کو امن والا شہر بنادیا۔ اب حرم کی حدود میں کسی کا خون بہانا، اس کے درختوں کو کاٹنا، شکار کو بھگانا وغیرہ جائز نہیں اور رزق کی وہ فراوانی فرمائی کہ مکہ میں کھیتی باڑی نہ ہونے کے باوجود وہاں سارا سال دنیا بھر کے تازہ پھل اور ہر قسم کا غلہ اتنی فراوانی سے ملتا ہے کہ ابراہیم ؑ کی دعا کی قبولیت آنکھوں سے نظر آتی ہے۔
اس سے پہلے ابراہیم ؑ نے اپنی اولاد کے لیے امامت کی دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا، اب ابراہیم ؑ نے رزق کی دعا ظالموں کو نکال کر صرف ایمان والوں کے لیے کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، میں دنیاوی رزق کفار کو بھی دوں گا، البتہ آخرت میں ان کے لیے عذاب ہے۔ معلوم ہوا دنیا میں کسی کے پاس رزق کی کثرت اس پر اللہ تعالیٰ کے خوش اور راضی ہونے کی دلیل نہیں۔
Ayahs 2:127–128الْقَوَاعِدَ بنیادیں، ابن عباس ؓ نے فرمایا، یعنی بیت اللہ کی وہ بنیادیں جو اس سے پہلے موجود تھیں۔ [ تفسیر عبد الرزاق بسند صحیح ] اس سے معلوم ہوا کہ بیت اللہ پہلے تعمیر ہوچکا تھا، اب از سر نو اس کی بنیادیں اٹھائی جا رہی تھیں۔ سورة حج (26) میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کے لیے بیت اللہ کی جگہ متعین فرمائی۔ مزید دیکھیے سورة آل عمران (96)۔ اس کے بعد بیت اللہ کئی دفعہ تعمیر ہوا۔ جاہلیت میں جب سیلاب سے کعبہ منہدم ہوگیا تو قریش نے دوبارہ اس کی تعمیر کی، مگر مال کی کمی کی وجہ سے اس کا کچھ حصہ باہر چھوڑ دیا، جسے حطیم کہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ بھی اس کے لیے پتھر اٹھا کر لاتے رہے۔ ابن اسحاق کے مطابق آپ کی عمر اس وقت 35 سال تھی، پھر آپ ہی نے قریش کے جھگڑے میں حجر اسود کا فیصلہ فرمایا اور اسے اس کے مقام پر اپنے دست مبارک سے رکھا۔ دور اسلام میں پہلی مرتبہ عبداللہ بن زبیر ؓ نے اسے ابراہیم ؑ والی بنیادوں پر تعمیر کیا، اس کے بعد عبد الملک کے دور خلافت میں حجاج بن یوسف نے اسے گرا کر دوبارہ اسی طرح بنادیا جس طرح جاہلیت میں بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد مختلف بادشاہ اسی عمارت کی مرمت و تزئین کرتے رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”کعبہ کو حبشیوں میں سے ایک پتلی پنڈلیوں والا برباد کرے گا۔“ [ بخاری، الحج، باب قول اللہ تعالیٰ : (جعل اللہ
الکعبۃ۔۔) : 1591۔ مسلم، الفتن، باب لا تقوم الساعۃ۔۔ : 7306 ]
Ayah 2:129یہ ابراہیم اور اسماعیل ؑ کی دعا کا خاتمہ ہے۔ ”رَسُوْلًا“ سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں، کیونکہ اسماعیل ؑ کی اولاد میں آپ ﷺ کے سوا کوئی دوسرا نبی نہیں ہوا۔ اصحاب رسول ﷺ نے آپ سے عرض کیا کہ آپ ہمیں اپنے متعلق بتائیں، تو آپ نے فرمایا : ”میں اپنے باپ ابراہیم ؑ کی دعا اور عیسیٰ ؑ کی بشارت ہوں اور میری والدہ کو جب میرا حمل ٹھہرا تو انھوں نے دیکھا کہ ان (کے بدن) سے ایک نور نکلا جس سے بصریٰ روشن ہوگیا اور بصریٰ شام کی سرزمین سے ہے۔“ (اسے امام حاکم نے روایت کیا، امام ذہبی نے صحیح کہنے میں ان کی موافقت کی۔ (مستدرک : 2؍601، ح : 4176) شیخ البانی نے اسے صحیح کہا۔ (سلسلہ الصحیحہ : 1545) شام کی تخصیص اس لیے ہے کہ آخر زمانہ میں شام ہی اسلام کا مرکز بنے گا۔ عیسیٰ ؑ کا نزول بھی شام میں ہوگا اور حدیث میں جس گروہ کے قیامت تک حق پر رہنے کی خبر دی گئی ہے وہ بھی شام میں ہوگا۔ ابن کثیر میں صحیح بخاری کے حوالے سے ہے : (وَھُمْ بالشَّامِ) ”وہ شام میں ہوں گے۔“ (حدیث : 3641، 7460) ”الْكِتٰبَ“ سے مراد قرآن مجید اور ”وَالْحِكْمَةَ“ سے مراد حدیث پاک ہے اور اسلام کے بنیادی اصول یہی دو ہیں۔ پاک کرنے سے مراد شرک اور گناہوں سے پاک کرے اور اطاعت و اخلاص کی تعلیم دے۔ ”اِنَّكَ اَنْتَ“ ضمیر مکرر لانے کے علاوہ ”الْعَزِيْز“ پر الف لام سے دوہرا حصر پیدا ہوگیا، اس لیے ”تو ہی“ ترجمہ کیا گیا۔
Ayah 2:130”رَغِبَ یَرْغَبُ“ کے بعد اگر ”فی“ آئے تو اس کا معنی کسی چیز میں رغبت رکھنا اور اگر ”عن“ آئے تو اس کا معنی بےرغبتی ہوتا ہے۔
(مِّلَّةِ اِبْرٰھٖمَ) کی وضاحت اگلی آیات میں آرہی ہے، یعنی ایک اللہ کی عبادت اور اپنے آپ کو مکمل طور پر اس کے تابع فرمان کردینا۔ اس آیت میں یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب کی تردید ہے کہ وہ تینوں ملت ابراہیم کے دعوے دار تھے، مگر عملاً اس سے بالکل بےرغبت، بلکہ شدید مخالف تھے، انھوں نے اس میں شرک و بدعت کو شامل کرکے اپنا اپنا الگ الگ طریقہ بنا لیا تھا۔ یہود نے عزیر ؑ کو اللہ کا بیٹا بنا رکھا تھا، نصرانی تین خدا مانتے تھے، صلیب کی پرستش اس پر مزید تھی۔ مشرکین عرب نے بت پرستی اختیار کرلی تھی، یہود و نصاریٰ کی کچھ بدعات و خرافات کا آئندہ آیات میں ذکر آ رہا ہے۔
(وَلَقَدِ اصْطَفَيْنٰهُ) بلاشبہ ابراہیم ؑ کی ملت میں سے جنھیں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں چن لیا اور جو آخرت میں صالحین میں شامل ہوں گے، اس سے وہی شخص بےرغبتی کرے گا جو عقل کو جواب دے کر اپنے آپ کو بیوقوف بنا لے۔
Ayah 2:131”اَسْلَمَ یُسْلِمُ“ کے معنی ہیں اپنے آپ کو کسی کے سپرد کردینا اور وہی کرنا جو وہ کہے۔ ابراہیم ؑ نے اللہ کے لیے اپنے مسلم ہونے کا اقرار کیا اور وجہ بھی ذکر فرمائی کہ رب العالمین ہونے کی وجہ سے یہ حق ہی اسی کا ہے۔
Ayah 2:132(الدِّيْنَ) سے مراد یہاں اسلام ہے، کیونکہ پچھلی آیت میں ابراہیم ؑ کے اسی دین کو اختیار کرنے کا ذکر ہے۔ مسلم ہونے کی حالت میں فوت ہونا اسی وقت ممکن ہے جب بندہ ہر وقت مسلم یعنی تابع فرمان رہے، کبھی کوتاہی ہو تو فوراً توبہ کرے، کیونکہ موت کسی بھی وقت آسکتی ہے۔ انبیاء ؑ کو اپنے اور اپنی اولاد سے متعلق آخری وقت مسلم ہونے کی بہت فکر رہتی تھی، کیونکہ اعمال کا دارو مدار خاتمہ پر ہے (إِنَّمَا الْأَعْمَال بالْخَوَاتِیْمِ) [ بخاری، القدر، باب العمل بالخواتیم : 6607 ] یوسف ؑ کی دعا ہے : (تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بالصّٰلِحِيْنَ) [ یوسف : 101] ”مجھے مسلم ہونے کی حالت میں فوت کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔“ اگرچہ آخر وقت مسلمان ہونا بندے کے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ جو آدمی دلی لگاؤ کے ساتھ نیک و بد جو بھی راستہ اختیار کرتا ہے تو اور اس پر کاربند رہنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے اسی کی توفیق دے دی جاتی ہے۔ دیکھیے، سورة لیل (5 تا 10)۔
Ayah 2:133ان آیات میں بھی یہود و نصاریٰ اور مشرکین مکہ کی تردید ہے جو اپنے آپ کو ابراہیم ؑ اور ان کی اولاد کی طرف منسوب کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ان کا دین بھی یہودیت، نصرانیت یا بت پرستی تھا۔ قرآن مجید نے بتایا کہ تم ان بزرگوں پر بہتان باندھ رہے ہو، ان کا دین بھی یہی اسلام تھا جس میں توحید اور اخلاص کی تعلیم دی گئی ہے۔
Ayah 2:134یہود کو تنبیہ ہے کہ وہ انبیاء اور صلحاء کی طرف اپنی نسبت پر مغرور نہ ہوں، یہ نسبت تمہارے کچھ کام نہ آسکے گی، بلکہ نجات کا دارو مدار انسان کے اپنے اعمال پر ہے ان کے اعمال ان کے ساتھ گئے اور تمہارے اعمال تمہارے ساتھ ہوں گے۔
Ayah 2:135اہل کتاب مسلمانوں کو یہودیت اور نصرانیت کی دعوت دیتے اور ہدایت کو اپنے دین میں منحصر مانتے تھے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن صوریا (یہودی) نے رسول اللہ ﷺ سے کہا، ہدایت صرف وہ ہے جس پر ہم ہیں، اس لیے آپ ہماری پیروی کریں تو ہدایت پاجائیں گے اور نصرانیوں نے بھی ایسے ہی کہا، اس پر یہ آیت اتری۔ (ابن کثیر، بسند حسن) یعنی آپ کہہ دیں ہم تو ابراہیم ؑ کی ملت کی پیروی کریں گے، جو حنیف اور مسلم تھے، یعنی تمام گروہوں اور آباء و اجداد کے طریقوں سے ہٹ کر ایک اللہ کی طرف ہو کر پوری طرح اس کے تابع فرمان تھے اور مشرک نہ تھے۔ ان کا دین حق پر ہونا تم بھی مانتے ہو۔ تمہارا حال یہ ہے کہ تم ایک طرف شرک میں گرفتار ہو کہ عزیر اور مسیح ؑ کو اللہ تعالیٰ کے بیٹے مانتے ہو، کبھی تین خدا مانتے ہو، کبھی صلیب کی پوجا کرتے ہو۔ دوسری طرف تم وحی الٰہی کی پیروی کے بجائے احبارو رہبان کی تقلید میں گرفتار ہو کر فرقوں میں بٹے ہوئے ہو۔ تم ہدایت پر ہونے کا دعویٰ کس منہ سے کرتے ہو ؟ افسوس ! اب مسلمانوں کی اکثریت کا بھی یہی حال ہے کہ جس طرح یہود و نصاریٰ اور مشرکین نے ملت حنیفی کو ترک کرکے چند رسوم و بدعات، خرافات اور شرکیہ اعمال کی پابندی کو دین ہدایت سمجھ رکھا تھا، اسی طرح انھوں نے بھی قرآن و سنت کو ترک کر کے رسول اللہ ﷺ سے مدتوں بعد آنے والے بزرگوں کی تقلید کو، جو نبی بھی نہیں تھے، واجب قرار دیا۔ اللہ کے بجائے غیر اللہ سے مانگنے کو حج کے بجائے بزرگوں کے مقبروں پر جانے کو اور نماز، روزہ، زکوٰۃ ترک کرکے خود ساختہ اوراد و وظائف اور چلہ کشی کو اللہ کے قرب کا ذریعہ قرار دیا، اگر کوئی توحید اور قرآن وسنت کی دعوت دے تو اسے بےدین اور گمراہ قرار دیا۔
اسلام دراصل عقائد اور اصول کے مجموعے کا نام ہے، یعنی توحید کا عقیدہ اور وحئ الٰہی کا اتباع۔ دین اور ملت سے بھی یہی مراد ہے۔ تمام انبیاء ایک ہی دین و ملت یعنی اسلام کے پیروکار تھے، اگر کچھ اختلاف ہے تو بعض احکام میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلْاَنْبِیَاءُ إِخْوَۃٌ لِعَلاَّتٍ ، اُمَّہَاتُہُمْ شَتَّی وَ دِیْنُہُمْ وَاحِدٌ) ”تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں، ان کی مائیں (یعنی شریعتیں) مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے۔“ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ۔۔ : 3443، عن أبی ہریرۃ ؓ ] اس لحاظ سے دین محمدی بھی ملت ابراہیم ہی ہے، یہودیت اور نصرانیت ملت ابراہیم سے خارج ہیں، کیونکہ وہ توحید الٰہی کے بجائے شرک میں اور وحئ الٰہی کی پیروی کے بجائے تقلید یعنی احبارو رہبان کی پیروی میں گرفتار ہوگئے اور تورات و انجیل پر عمل چھوڑ بیٹھے، اگر وہ واقعی مسلم ہوتے تو تورات اور انجیل میں نبی کریم ﷺ کی صفات موجود ہونے کی وجہ سے آپ پر ایمان لے آتے۔ مزید دیکھیے سورة آل عمران (64 تا 68)۔
Ayah 2:136(وَالْاَسْبَاطِ) یہ ”سِبْطٌ“ کی جمع ہے، جس کا معنی آسانی سے پھیلنا ہے۔ اولاد کی اولاد کو بھی اسی پھیلاؤ کی وجہ سے ”سِبْطٌ“ کہتے ہیں۔ (مفردات) یعقوب ؑ کے بارہ بیٹے تھے، ان کی اولاد کے بارہ قبائل ”الْاَسْبَاطِ“ کہلاتے ہیں۔ ”الْاَسْبَاطِ“ پر الف لام کی وجہ سے ”اس کی اولاد“ اور ”وَنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ“ میں ”لَهٗ“ پہلے آنے کی وجہ سے ”ہم اسی کے فرماں بردار ہیں“ ترجمہ کیا گیا ہے۔
اس آیت میں مسلمانوں کو اصل ہدایت اور ایمان کی تعلیم دی گئی ہے، یعنی قرآن پاک سے پہلے جتنی آسمانی کتابیں اور جتنے انبیاء و رسل آئے، جن میں سے بعض کے نام قرآن مجید میں آئے ہیں اور بعض کے نہیں آئے، سب پر مجملاً ایمان لایا جائے کہ وہ سب حق ہیں۔ ان کے درمیان فرق کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو مان لیا کسی کو نہ مانا، جیسے یہودیوں نے عیسیٰ ؑ اور محمد ﷺ کو اور نصرانیوں نے آخری پیغمبر ﷺ کو ماننے سے انکار کردیا۔ البتہ تفصیلی ایمان صرف قرآن پر ضروری ہے، یعنی اس کے ہر حکم کو ماننا اور اس پر عمل کرنا، کیونکہ 1 قرآن پاک آنے سے پہلی تمام کتابیں منسوخ ہوگئیں۔ 2 پہلے تمام پیغمبر خصوصاً اپنی قوم کی طرف آتے تھے، جب کہ رسول اللہ ﷺ قیامت تک کے تمام لوگوں کی طرف بھیجے گئے۔ دیکھیے سورة سبا (28)۔ 3 پھر پہلی کوئی آسمانی کتاب محفوظ نہیں رہی، بلکہ ان میں تحریف ہوگئی، جب کہ قرآن مجید ہر طرح سے محفوظ ہے۔ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب تورات عبرانی میں پڑھتے، پھر اہل اسلام کے لیے عربی میں اس کی تفسیر کرتے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اہل کتاب کو نہ سچا کہو اور نہ انھیں جھوٹا کہو، بلکہ یوں کہو : (اٰمَنَّا باللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا) [ البقرۃ : 136 ] [ بخاری، التفسیر، باب (قولوا اٰمنا باللہ۔۔) : 4485 ]
Ayah 2:137(شِقَاقٍ) یہ ”شِقٌّ“ میں سے باب مفاعلہ کا مصدر ہے، یعنی بعض کا ایک شق میں اور بعض کا دوسری شق میں ہو کر مقابلے میں آجانا۔
یعنی یہ لوگ ان چیزوں پر ایمان لائیں جن پر تم ایمان لائے ہو، جن کا ذکر اس سے پہلی آیت میں ہے، تو واقعی وہ ہدایت یافتہ ہوں گے اور اگر وہ منہ موڑیں تو محض مخالفت اور ضد کی وجہ سے ایسا کریں گے۔
اس وعدے کے مطابق واقعی اللہ تعالیٰ آپ کو ان سے کافی ہوگیا، بنو نضیر اور بنو قینقاع مدینہ سے نکالے گئے، بنو قریظہ قتل ہوئے اور بالآخر تمام یہود و نصاریٰ پورے جزیرۂ عرب سے جلا وطن کردیے گئے۔
Ayah 2:138(صِبْغَةَ اللّٰهِ ۚ) اس پر نصب فعل امر ”اِلْزَمُوْا“ کے ساتھ بھی ہوسکتی ہے، یعنی اللہ کا رنگ اختیار کرو اور مضارع ”نَلْتَزِمُ“ کے ساتھ بھی، یعنی ہم اللہ کا رنگ اختیار کرتے ہیں۔
اس آیت میں ”اللہ کے رنگ“ سے مراد دین اسلام یا وہ فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اس کو ”صِبْغَةَ اللّٰهِ ۚ“ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ نصاریٰ نے نصرانیت کے لیے ایک زرد رنگ کا پانی مقرر کر رکھا تھا، جب کوئی بچہ پیدا ہوتا یا کوئی شخص ان کے دین میں داخل ہوتا تو اس کو اس پانی سے غسل دیتے اور کہتے کہ یہ اب پاک اور صحیح معنوں میں نصرانی ہوا ہے۔ اس رسم کا نام ان کے ہاں معمودیہ یا بپتسما دینا ہے۔ چناچہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی اور فرمایا کہ سب سے بہتر رنگ ”اللہ کا رنگ“ یعنی دین اسلام ہے، جسے نوح ؑ سے لے کر تمام انبیاء ؑ لے کر مبعوث ہوئے ہیں، تمہیں چاہیے کہ اس کی پابندی کرو۔
Ayah 2:139یہود مسلمانوں سے جھگڑتے کہ تمام انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہوئے ہیں، پھر یہ آخری نبی عرب سے کیسے مبعوث ہوگئے ؟ ہمارا دین سب سے بہتر اور تمام انبیاء کا دین ہے، تو اس آیت میں ان کی تردید فرمائی گئی ہے کہ ہمارا تمہارا سب کا رب ایک ہے اور ہم عبادت میں مخلص بھی ہیں، پھر تمہارا یہ کہنا کہ ہم بہتر ہیں، یہ کیسے درست ہوسکتا ہے ؟
Ayah 2:140یہودیت اپنے موجودہ نظریات و عقائد کے مطابق موسیٰ ؑ کے بہت بعد اور نصرانیت اپنے مخصوص نظریات و عقائد کے مطابق عیسیٰ ؑ کے بہت بعد وجود میں آئی۔ یہود و نصاریٰ کے عالم لوگ اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب ؑ اور ان کی اولاد اس یہودیت و نصرانیت سے، بلکہ موسیٰ اور عیسیٰ ؑ سے بھی بہت پہلے ہو گزرے ہیں، مگر یہود و نصاریٰ کے ان علماء نے عوام کے ذہن میں یہ بات پختہ کردی تھی کہ یہ تمام انبیاء یہود کے قول کے مطابق یہودی تھے اور نصاریٰ کے قول کے مطابق نصرانی تھے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے علمائے یہود و نصاریٰ کی اس بددیانتی کو ظاہر فرمایا ہے اور شہادت چھپانے کے مجرم قرار دے کر سب سے بڑے ظالم قرار دیا ہے۔ یہود و نصاریٰ کے اس فعل کی مثال امت مسلمہ میں ایسے ہے جیسے کوئی مسلم عالم عوام کو یہ باور کروائے کہ رسول اللہ ﷺ فقہ حنفی یا فقہ شافعی کے مطابق فیصلے فرماتے تھے، حالانکہ اسے خوب معلوم ہے کہ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی ؒ رسول اللہ ﷺ سے بہت بعد پیدا ہوئے اور وہ نبی بھی نہیں تھے کہ ان کی بات حجت ہو۔
Ayah 2:141اس آیت میں دوبارہ تنبیہ فرمائی کہ نجات کا تعلق تو اپنی کمائی اور اپنے عمل پر ہے، اگر نجات چاہتے ہو تو ان انبیاء و صالحین کی طرح خود عمل کرو، ورنہ محض ان کی طرف نسبت اور ان کی کرامتیں بیان کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ أَبْطَأَ بِہِ عَمَلُہُ لَمْ یُسْرِعْ بِہٖ نَسَبُہُ) [ مسلم، الذکر والدعاء، باب فضل الاجتماع۔۔ : 2699، عن أبی ہریرۃ ؓ ]”جس کے عمل نے اسے پیچھے رکھا اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکے گا۔ ‘
Ayah 2:142براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے، پھر آپ کو بیت اللہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ہوا۔ [ بخاری، أخبار الأحاد،
باب ما جاء فی إجازۃ۔۔ : 7252 ]
اس پر یہود، منافقین اور مشرکین سبھی نے اعتراضات شروع کردیے کہ اگر وہ پہلا قبلہ درست تھا تو اسے بدلنے کی کیا ضرورت تھی ؟ اور اگر یہ درست ہے تو اتنی دیر بیت المقدس قبلہ کیوں رہا ؟ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ یہ لوگ بےوقوفی کی وجہ سے ایسی باتیں کہہ رہے ہیں، مشرق یا مغرب کی اپنی کچھ حیثیت نہیں کہ ان کی طرف منہ کرنا باعث ثواب ہو، بلکہ اصل چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کی فرماں برداری ہے، کیونکہ مشرق و مغرب دونوں کا مالک وہی ہے۔ وہ جب چاہے، جدھر چاہے منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم دے سکتا ہے۔ تمہارا کام حکم ماننا ہے، کیونکہ صراط مستقیم وہی ہے جس کا وہ حکم دے، مگر اس پر چلنے کی توفیق وہ جسے چاہے دیتا ہے، جو توفیق سے محروم ہیں وہ بےوقوفی سے بےکار باتیں بناتے رہتے ہیں، اس آیت : (لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ قِـبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ باللّٰهِ) [ البقرۃ : 177] میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے۔
Ayah 2:143وسط کا معنی درمیان ہے، افضل چیز کو بھی وسط کہہ لیتے ہیں، کیونکہ درمیانی چیز سب سے بہتر ہوتی ہے۔ یہاں مراد سب سے بہتر ہے، جیسا کہ فرمایا : (كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ) [ آل عمران : 110] ”تم سب سے بہتر امت چلے آئے ہو، جو لوگوں کے لیے نکالی گئی۔“ کیونکہ دو نقطوں کے درمیان سب سے مختصر اور صحیح خط مستقیم ہی ہوتا ہے۔ ابو سعید خدری ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا معنی یہاں ”عدل“ روایت کیا ہے۔ [ بخاری، التفسیر : 4487 ] عدل کا معنی ثقہ اور قابل اعتماد بھی ہے، اعتقاد و اخلاق اور اعمال میں معتدل اور پہلی امتوں کی افراط و تفریط سے پاک بھی۔ نہ یہاں یہود کی سختی ہے نہ نصاریٰ کی نرمی۔ (کبیر، قرطبی)
وَكَذٰلِكَ : یعنی جس طرح یہ دو باتیں تمہارے پاس پوری ہیں اور تمہارے مخالفوں کے پاس ناقص، ایک یہ کہ تم تمام انبیاء کو مانتے ہو اور یہود و نصاریٰ کسی کو مانتے ہیں کسی کو نہیں، دوسری یہ کہ تمہارا قبلہ کعبہ ہے، جو ابراہیم ؑ کے وقت سے مقرر ہے اور ابراہیم ؑ سب کے پیشوا ہیں، یہود و نصاریٰ اور ان کے قبلے بعد کی بات ہیں۔ اسی طرح ہم نے تمہیں ہر کام میں افضل امت بنادیا ہے۔ اس لیے اب تمہارا کام ہے کہ تم دوسروں کی راہنمائی کرو، ان کا کام نہیں کہ تمہاری راہنمائی کریں۔ (موضح)
لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ) اس سے تین طرح کی شہادت مراد ہے، پہلی یہ کہ رسول اللہ ﷺ شہادت دیں گے کہ انھوں نے صحابہ تک پیغام حق پہنچا دیا، صحابہ تابعین پر اور اسی طرح امت کا ہر طبقہ آنے والوں پر یہ شہادت دے گا۔ اس امت کے افضل ہونے کا سبب بھی یہی ہے کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں، جیسا کہ سورة آل عمران (110) میں فرمایا : (كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ) ، چناچہ ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا : ”اے لوگو ! تم اللہ کے سامنے ننگے پاؤں، ننگے جسم اور بغیر ختنہ کے اکٹھے کیے جانے والے ہو۔“ پھر فرمایا : ”اور میری امت کے کچھ لوگوں کو بائیں طرف لے جایا جائے گا تو میں کہوں گا، پروردگار ! یہ تو میرے ساتھی ہیں، تو کہا جائے گا، آپ نہیں جانتے انھوں نے آپ کے بعد کیا نیا کام کیا تھا۔ تو میں کہوں گا جیسے صالح بندے (عیسیٰ ؑ نے کہا تھا : (وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ ۭواَنْتَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ) [ المائدۃ : 117 ] ”اور میں ان پر گواہ تھا جب تک میں ان میں رہا، پھر جب تونے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔“
[ بخاری، التفسیر، باب : (و کنتعلیہمشہیدًا۔۔): 4625 ] یہی بات جب آپ ﷺ نے حجۃ الوداع میں صحابہ کرام ؓ سے پوچھی : ”کیا میں نے (اللہ تعالیٰ کا) پیغام (آپ لوگوں تک) پہنچا دیا ؟“ تو سب نے کہا : ”بیشک آپ نے پہنچا دیا۔“ [ بخاری، الحج، باب الخطبۃ أیام منٰی : 1741 ]
اب ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ یہ پیغام آنے والوں تک پہنچائے، تبھی وہ ان پر شہادت دے سکے گا اور تبھی وہ امت وسط کہلانے کا حق دار ہوگا اور جو امت مسلمہ کی تمام گمراہی دیکھ کر بھی خاموش رہے گا وہ نہ گواہی دے سکے گا اور نہ امت وسط کا مصداق ہوگا۔ دوسری وہ شہادت ہے جو امت مسلمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے خبر دینے کی بنا پر پہلی تمام امتوں پردے گی کہ ان کے انبیاء نے اللہ کے احکام ان تک پہنچا دیے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”نوح ؑ اور ان کی امت آئے گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا، تم نے پیغام پہنچا دیا تھا ؟ وہ عرض کریں گے، ہاں اے میرے رب ! پھر ان کی امت کو فرمائے گا، کیا انھوں نے تمہیں پیغام پہنچا دیا تھا ؟ تو وہ کہیں گے، نہیں ! ہمارے پاس تو کوئی نبی آیا ہی نہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نوح (ؑ) سے فرمائے گا، تمہاری شہادت کون دے گا ؟ وہ عرض کریں گے، محمد ﷺ اور ان کی امت، پھر ہم شہادت دیں گے کہ یقیناً انھوں نے پیغام پہنچا دیا تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ) [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ عزوجل : (ولقد أرسلنا۔۔) : 3339، 4487، عن أبی سعید الخدری ؓ ]
تیسری شہادت دنیا ہی میں مسلمانوں کی کسی کے حق میں نیک یا بد ہونے کی شہادت ہے، جس کی بنا پر نبی ﷺ نے ایک جنازے کے لیے جنت اور دوسرے کے لیے جہنم واجب ہونے کا اعلان فرمایا اور فرمایا : (أَنْتُمْ شُہَدَاء اللّٰہِ فِی الْاَرْضِ) ”تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔“ [ بخاری، الجنائز، باب ثناء الناس علی المیت : 1367 ]
(وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ) یہ تحویل قبلہ کی ایک حکمت بیان فرمائی ہے۔ قریش کو بطور قبلہ بیت اللہ عزیز تھا اور اہل کتاب کو بیت المقدس۔ پہلے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کرکے قریش اور ان کے ساتھیوں کی آزمائش ہوئی، پھر بیت اللہ کو مقرر کرکے اہل کتاب کی۔ اپنے محبوب قبلہ کو نبی ﷺ کی فرماں برداری میں ترک کرنا ہدایت یافتہ لوگوں کے سوا دوسروں کے لیے نہایت مشکل تھا، اس لیے جنھیں یہ ہدایت نصیب نہ تھی وہ ڈگمگا گئے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پہلے جس قبلے کی طرف آپ رخ کرتے تھے وہ بھی اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا تھا، اگرچہ قرآن مجید میں اس حکم کا ذکر نہیں ہے۔ یہ دلیل ہے کہ آپ ﷺ پر قرآن مجید کے علاوہ بھی احکام نازل ہوتے تھے، جنھیں وحی خفی یا حدیث کہا جاتا ہے اور انھیں ماننا بھی قرآن کی طرح فرض ہے۔
(وَمَا كَان اللّٰهُ لِـيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ ۭ) براء ؓ فرماتے ہیں کہ تحویل قبلہ سے قبل کئی آدمی پہلے قبلے کے زمانے میں قتل ہو کر فوت ہوچکے تھے، ہمیں معلوم نہ ہوسکا کہ ہم ان کے متعلق کیا کہیں تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا : (ۭ وَمَا كَان اللّٰهُ لِـيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ ۭ)”اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ تمہارا ایمان ضائع کر دے۔“ یعنی تمہاری پہلی نمازیں اللہ کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ [ بخاری،
الإیمان، باب الصلاۃ من الإیمان : 40 ] اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نماز کو ایمان قرار دیا۔ معلوم ہوا کہ جو لوگ صرف دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کو ایمان قرار دیتے ہیں ان کی بات درست نہیں، بلکہ اعمال بھی ایمان کا جز ہیں اور نماز اور زکوٰۃ تو ایسا جز ہیں جن کے بغیر بندہ اسلامی برادری (اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ) کا حصہ ہی نہیں بنتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ) [ التوبۃ : 11] ”پس اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں۔“ اور جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ بَیْنَ الرَّجُلِ وَ بَیْنَ الشِّرْکِ وَالْکُفْرِ تَرْکَ الصَّلاَۃِ) [ مسلم، الإیمان، باب بیان إطلاق اسم۔۔ : 82 ]”آدمی کے درمیان اور شرک و کفر کے درمیان (فرق) نماز کا چھوڑنا ہے۔“