Ayah 2:221وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى يُؤْمِنَّ : پہلے مسلمان اور کافر میں رشتہ ناتا جاری تھا، اس آیت سے حرام ٹھہرا۔ اگر مرد یا عورت نے شرک کیا، اس کا نکاح ٹوٹ گیا۔ شرک یہ کہ اللہ کی صفت کسی اور میں جانے، مثلاً کسی کو سمجھے کہ اس کو ہر بات معلوم ہے، یا وہ جو چاہے سو کرسکتا ہے، یا ہمارا بھلا یا برا کرنا اس کے اختیار میں ہے اور یہ کہ اللہ کی تعظیم کسی اور پر خرچ کرے، مثلاً کسی چیز کو سجدہ کرے اور اس کو مختار جان کر اس سے حاجت طلب کرے۔ باقی یہود و نصاریٰ کی عورتوں سے نکاح درست ہے، ان کو مشرک نہیں فرمایا۔ (موضح)
شاہ صاحب کے آخری جملہ میں کچھ تفصیل کی ضرورت ہے، وہ یہ کہ قرآن مجید میں کئی مقامات پر اہل کتاب کو مشرکین کے مقابلے میں ذکر فرمایا ہے، وہاں مشرکین سے مراد بت پرست ہیں، یہود و نصاریٰ نہیں، چناچہ فرمایا : (لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَالْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّيْنَ) [ البینۃ : 1 ] ”وہ لوگ جنھوں نے اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا، باز آنے والے نہ تھے۔“ یہ اور دوسری وہ آیات جن میں اہل کتاب اور مشرکین کو الگ الگ بیان کیا ہے، مثلاً سورة بقرہ (105) اور حج (17) اور بعض مقامات پر یہود و نصاریٰ کو بھی شرک کرنے والے قرار دیا ہے، جیسے فرمایا : (وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ عُزَيْرُۨ ابْنُ اللّٰهِ وَقَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِيْحُ ابْنُ اللّٰهِ ۭ۔۔ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ) [ التوبۃ : 30، 31 ] ”اور یہودیوں نے کہا، عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔۔ وہ اس سے پاک ہے جو وہ شریک بناتے ہیں۔“ (مزید دیکھیے مائدہ : 72) چناچہ بعض صحابہ اہل کتاب میں سے شرک کرنے والی عورتوں سے نکاح کو درست نہیں سمجھتے۔ چناچہ عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا : ”میں اس سے بڑا شرک نہیں جانتا کہ کوئی عورت کہتی ہو میرا رب عیسیٰ ہے، حالانکہ وہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہے۔“ [ بخاری، الطلاق، باب قولہ : (ولا تنکحوا المشرکات۔۔) : 5285 ] امام بخاری ؓ نے اس آیت کی تفسیر میں صرف یہی قول ذکر کیا ہے۔ اس کے مطابق اہل کتاب کی صرف موحد عورتوں سے نکاح درست ہوگا، مگر اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کا شرک خود ذکر کرنے کے باوجود ان کی عورتوں سے نکاح کی اجازت دی ہے، تو اس کے جائز ہونے میں کوئی شک نہیں۔ امیر المومنین عمر بن خطاب، عثمان بن عفان ؓ اور دوسرے کبار صحابہ کا یہی فتویٰ ہے، چناچہ فرمایا : (وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ) [ المائدۃ : 5 ] ”تم سے پہلے جنھیں کتاب دی گئی ان کی پاک دامن عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں۔“ خلاصہ یہ کہ مسلمان کے لیے کسی ہندو یا بت پرست، کمیونسٹ یا آتش پرست مشرکہ عورت سے نکاح کرنا حرام ہے، البتہ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح میں اگرچہ ایمان کا خطرہ ہے، اس لیے کراہت کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت دی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة مائدہ (5)۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ بت پرست، دہریے اور آتش پرست کسی آسمانی تعلیم کو نہ مانتے ہیں نہ اس کے پابند ہیں، جب کہ اہل کتاب عورتوں کو ان کی کتاب کے حوالے سے توحید و رسالت کی دعوت دی جاسکتی ہے، جیسا کہ فرمایا : (قُلْ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَاۗءٍۢ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ) [ آل عمران : 64 ] ”کہہ دے اے اہل کتاب ! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان برابر ہے۔“ اور مرد کے غالب ہونے کی وجہ سے ان کے توحید قبول کرنے کی بھی قوی امید ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب اہل کتاب کی عورتوں سے جو شرک کی مرتکب ہوں، نکاح جائز ہے تو مسلمان عورتیں، جو شرک کرتی ہوں، ان سے بھی نکاح جائز ہے۔ کیونکہ وہ قرآن و حدیث کو مانتی ہیں اور انھیں اس کے حوالے سے توحید و سنت کا قائل کیا جاسکتا ہے۔
وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَتّٰى يُؤْمِنُوْا : اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان عورت آزاد ہو یا غلام، اسے مشرک کے نکاح میں دینا جائز نہیں، پھر مشرک خواہ بت پرست ہو یا یہودی یا عیسائی یا مجوسی یا دہریہ، کسی بھی غیر مسلم سے مسلم عورت کا نکاح جائز نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مشرک عورتوں سے نکاح حرام کرنے کے بعد سورة مائدہ (5) میں اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کی اجازت دی، مگر مشرک مردوں کے نکاح میں اپنی عورتوں کو دینے سے منع کرنے کے بعد کسی غیر مسلم سے نکاح کی اجازت نہیں دی۔ قرطبی نے اس بات پر امت کا اجماع نقل فرمایا ہے کہ مسلمان عورت کا نکاح کسی بھی غیر مسلم سے نہیں ہوسکتا (کیونکہ یہ اسلام کی سربلندی کے خلاف ہے)۔
تنبیہ : جس طرح کسی بھی مشرک سے مسلمان عورت کا نکاح جائز نہیں، خواہ یہودی ہو یا عیسائی، اسی طرح اگر کوئی کلمہ گو مسلمان بھی شرک کا مرتکب ہو، جیسا کہ اس حاشیے کے شروع میں شاہ عبد القادر ؓ نے وضاحت فرمائی ہے تو اس سے کسی مسلمان موحدہ عورت کا نکاح جائز نہیں۔ کیونکہ مرد کے غالب ہونے کی وجہ سے اس موحدہ عورت کو شرک پر مجبور کیے جانے کا خطرہ ہے۔
وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ : یہ جملہ واضح دلیل ہے کہ عورت اپنا نکاح خود نہیں کرسکتی، بلکہ اس کا ولی اس کا نکاح کرکے دے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے واضح الفاظ میں ولی کی اجازت کے بغیر نکاح سے منع فرمایا، دیکھیے صحیح بخاری جس میں امام بخاری ؓ نے زیر تفسیر آیت اور دو مزید آیات اور احادیث سے یہ مسئلہ ثابت فرمایا ہے۔
Ayah 2:222الْمَحِيْضِ“ حَاضَ یَحِیْضُ (ض) سے اسم مصدر ہے، اس کا اصل معنی ”بہنا“ ہے۔ مراد عورت کا وہ خون ہے جو ہر ماہ عادت کے مطابق آتا ہے۔ عادت کے خلاف جو خون آئے وہ استحاضہ (بیماری) ہے۔
”اَذًى“ کا لفظ تکلیف، بیماری اور گندگی تینوں معنوں میں آتا ہے۔ نکرہ ہونے کی وجہ سے ”ایک طرح کی گندگی“ ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس کا گندگی ہونا تو ظاہر ہے، طبی حیثیت سے بھی عورت ان دنوں صحت کی نسبت بیماری کے زیادہ قریب ہوتی ہے اور اس حالت میں اس سے جماع خاوند اور بیوی دونوں کے لیے بیماری کا باعث ہوسکتا ہے۔ انس ؓ فرماتے ہیں کہ یہود میں جب کسی عورت کو حیض آتا تو وہ نہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے اور نہ گھر میں ان کے ساتھ اکٹھے رہتے، صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے (اس بارے میں) پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِيْضِ ۭ قُلْ ھُوَ اَذًى ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَاۗءَ فِي الْمَحِيْضِ) [ البقرۃ : 222 ] تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جماع کے علاوہ سب کچھ کرو۔“ [ مسلم، الحیض،
باب جواز غسل الحائض۔۔ : 302 ] احادیث میں صراحت کے ساتھ آیا ہے کہ اس حالت میں خاوند کے لیے عورت کا بوسہ لینا، اس سے چمٹنا، الغرض سب کچھ سوائے جماع کے جائز ہے۔ وہ اس حالت میں گھر میں رہ کر کھانا پکانا، بچے کو دودھ پلانا، غرض گھر کا ہر کام کرسکتی ہے، البتہ مسجد میں جانا اور نماز، روزہ اس کے لیے جائز نہیں۔
حَتّٰى يَـطْهُرْنَ : یہ باب ”نَصَرَ“ اور ”کَرُمَ“ سے ہے، بمعنی پاک ہوجائیں ”فَاْتُوْھُنَّ“ باب تفعل ہے، جس میں مبالغہ ہے، یعنی ”خوب پاک ہوجائیں“ غسل کرلیں۔ ”حَتّٰى يَـطْهُرْنَ“ سے معلوم ہوا کہ حیض سے پاک ہونے تک جماع منع ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے جماع کی اجازت ”تَطَهَّرْنَ“ (یعنی غسل کرنے) کے بعد دی ہے۔ اکثر اہل علم یہی فرماتے ہیں کہ غسل سے پہلے جماع جائز نہیں۔ طبری نے اس پر علماء کا اجماع ذکر کیا ہے، البتہ بعض علماء پاک ہونے کے بعد عورت کے شرم گاہ کو دھو لینے کے بعد جماع جائز سمجھتے ہیں، مگر پہلی بات میں زیادہ احتیاط ہے۔
فَاْتُوْھُنَّ مِنْ حَيْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ ”فَاْتُوْھُنَّ“ کا مطلب یہ نہیں کہ ضرور ہی ان سے صحبت کرو، بلکہ منع کرنے کے بعد امر آئے تو اجازت مراد ہوتی ہے، جیسے : (ۭوَاِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا) [ المائدۃ : 2 ] ”جب احرام کھول دو تو شکار کرو۔“ ”جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا ہے“ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس جگہ سے (یعنی شرم گاہ میں جماع سے) تمہیں منع کیا تھا، اب اس جگہ سے عورت کے پاس جانے کی اجازت ہے۔ دبر کی اجازت نہ پہلے تھی نہ اب ہے، یہ تو سراسر گندگی ہے اور ”الْمُتَطَهِّرِيْنَ“ (بہت پاک رہنے والوں) سے اس کی کوئی نسبت ہی نہیں۔ اسی طرح حیض کی حالت میں جانا بھی ”الْمُتَطَهِّرِيْنَ“ کے لائق نہیں۔ اگر کوئی اس حالت میں چلا گیا تو بہت توبہ کرنے سے اللہ کی محبت کا پھر حق دار بن سکتا ہے۔ ”التَّـوَّابِيْنَ“ اور ”الْمُتَطَهِّرِيْنَ“ کی یہ تفسیر آیت کی مناسبت سے ہے، ورنہ لفظ عام ہیں، جن میں ہر گناہ سے بہت توبہ اور ہر نجاست سے بہت اجتناب اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جو شخص حیض کی حالت میں بیوی کے پاس جائے وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرے۔“ [ أبو داوٗد، النکاح، باب فی کفارۃ من أتی حائضًا : 2168۔ نسائی : 290۔ ترمذی : 136۔ ابن ماجہ : 640 ] شیخ البانی ؓ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرنے کا اختیار ہے۔
Ayah 2:223فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ ۡ: جابر ؓ سے روایت ہے کہ یہود کہتے تھے کہ جب عورت سے اس کی پچھلی جانب سے ہو کر جماع کیا جائے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے، اس پر یہ آیت اتری۔ [ بخاری، التفسیر، باب (نساء کم حرث لکم) : 4528 ] عورتیں کھیتی ہیں، جماع کے لیے کوئی آسن مقرر نہیں، ہر آسن پر کرسکتے ہو، مگر اولاد پیدا کرنے کی جگہ میں ہو۔ دبر موضع حرث (کھیتی کی جگہ) نہیں، موضع فرث (پاخانے کی جگہ) ہے۔ احادیث میں دبر میں جانا حرام قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”وہ شخص ملعون ہے جو عورت کے پاس اس کی دبر میں جائے۔“ [ أبو داوٗد، النکاح، باب فی جامع النکاح : 2162،
عن أبی ہریرۃ ؓ و صححہ الألبانی ]
وَقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ : یعنی اپنے لیے نیک اعمال آگے بھیجو۔ نیک اولاد انسان کا بہترین سرمایہ ہے۔ بیوی سے صحبت کے وقت نیک اولاد کے حصول کی نیت بھی اس میں شامل ہے۔
وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ : میاں بیوی کے باہمی معاملات میں اگر کوئی زیادتی ہو تو نہ کوئی گواہ ہوتا ہے نہ دخیل، مگر اللہ سے ملاقات تو یقیناً ہونی ہے، اس لیے اس سے ڈرتے رہو۔
Ayah 2:224بعض لوگ غصے میں آکر کسی نیک کام کے نہ کرنے کی قسم کھالیتے اور پھر اس قسم کو نیکی سے باز رہنے کے لیے آڑ بنا لیتے۔ اس آیت میں اس قسم کے لوگوں کو ہدایت دی جا رہی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے نام کی قسمیں اس لیے نہ کھاؤ کہ نیکی، پرہیزگاری اور لوگوں میں صلح کرانے جیسے نیک کاموں سے باز رہنے کا بہانہ ہاتھ آجائے، کیونکہ غلط قسم پر اڑے رہنا گناہ ہے۔ دیکھیے سورة نور (22)۔
رسول اللہ ﷺ نے عبد الرحمان بن سمرہ ؓ سے فرمایا : ”جب تم کسی بات پر قسم کھالو، پھر دیکھو کہ دوسرا کام اس سے بہتر ہے تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہ کام کرو جو بہتر ہے۔“ [ بخاری، الأیمان والنذور، باب قول اللہ تعالیٰ : (لا یؤاخذکم اللہ۔۔) : 6622 ] قسم کے کفارے کے لیے دیکھیے سورة مائدہ (89)۔
Ayah 2:225لغو قسموں سے مراد وہ قسمیں ہیں جو نیت کے بغیر عادت کے طور پر یوں ہی زبان سے نکل جاتی ہیں۔ ایسی قسموں پر کسی قسم کا کفارہ یا سزا نہیں ہے، ہاں جو قسمیں دل کے ارادے کے ساتھ کھائی جائیں کہ اللہ کی قسم میں یہ کام ضرور کروں گا، یا نہیں کروں گا اور پھر ان کی خلاف ورزی کی جائے تو ان پر کفارہ ہے، مگر کوئی شخص جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائے کہ میں نے یا فلاں نے یہ کام کیا ہے یا نہیں کیا تو یہ کبیرہ گناہ ہے۔ اس کا کفارہ نہیں صرف ندامت، آئندہ ایسا نہ کرنے کا عہد اور استغفار ہی اس کا علاج ہے۔ اسے ”یمین غموس“ کہتے ہیں۔
Ayahs 2:226–227صیغہ جمع مذکر غائب، باب افعال، مہموز الفاء اور ناقص یائی، ”آلٰی یُؤْلِیْ اِیْلَاءٌ“”أل ی“ اس کا مادہ ہے۔ ان دو آیتوں میں ”ایلاء“ کے معنی یہ ہیں کہ مرد قسم کھالے کہ وہ اپنی بیوی سے جماع نہیں کرے گا، پھر اگر یہ قسم چار ماہ یا اس سے کم مدت کے لیے کھائی ہو تو اسے اپنی قسم پوری کرنے کا اختیار ہے، اگر وہ مدت پوری کرکے اپنی بیوی سے تعلق قائم کرلے تو اس پر کوئی کفارہ نہیں ہوگا اور اگر اس مدت سے پہلے ہی تعلق بحال کرلے تو قسم کا کفارہ دینا ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک دفعہ اپنی بیویوں سے ایک ماہ کے لیے قریب نہ جانے کی قسم کھائی تھی، مدت پوری ہونے پر آپ نے ان سے تعلق قائم فرما لیا۔ [ بخاری، النکاح، باب ھجرۃ النبی ﷺ نساء ہ۔۔ : 5202 ] اور آپ ﷺ نے کوئی کفارہ ادا نہیں کیا۔ (شوکانی) جاہلیت میں نکاح کرنے کے بعد بعض لوگ لمبی مدت تک بیوی کے پاس نہ جانے کی قسم اٹھا لیتے، یا مدت کی تعیین کیے بغیر ہمیشہ کے لیے قسم کھالیتے، وہ بیچاری لٹکی رہتی، نہ خاوند والی نہ بغیر خاوند کے کہ کہیں اور نکاح کرلے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اس ظلم کا خاتمہ فرمایا۔ اب اگر کوئی چار ماہ سے زائد مدت کے لیے، یا مدت مقرر کیے بغیر قسم کھالے تو ایسے شخص کے لیے اس آیت میں چار ماہ کی مدت مقرر کردی گئی ہے کہ یا تو اس مدت کے پورا ہوتے ہی اپنی بیوی سے تعلقات قائم کرے، یا پھر سیدھی طرح سے طلاق دے دے۔ پہلی صورت اختیار کرے گا تو اسے کفارہ دینا ہوگا اور اگر وہ دونوں میں سے کوئی صورت بھی اختیار نہ کرے تو حاکم وقت اسے مجبور کرے گا کہ دونوں میں سے ایک اختیار کرے۔ صرف چار ماہ گزرنے سے خود بخود طلاق واقع نہیں ہوگی۔ آیت کے الفاظ سے یہی ظاہر ہوتا ہے اور امام بخاری ؓ نے ”کِتَاب الطَّلاَقِ (5291)“ میں ابن عمر، عثمان، علی، ابو درداء، عائشہ ؓ اور ان کے علاوہ بارہ صحابہ سے یہ قول ذکر فرمایا ہے۔ اکثر ائمہ کا بھی یہی فتویٰ ہے۔
Ayah 2:228اگر خاوند اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو وہ فوراً اس سے جدا نہیں ہوتی، بلکہ اسے کچھ مدت انتظار میں گزارنا ہوگی جس کے اندر خاوند اس سے رجوع کرسکتا ہے اور اس مدت کے گزرنے کے بعد عورت آزاد ہے، جس سے چاہے نکاح کرلے۔ اس مدت کو عدت کہتے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی خاوند جماع کے بعد اپنی عورت کو طلاق دے اور اسے حیض نہ آتا ہو تو اس کے لیے عدت تین ماہ ہے اور اگر حاملہ ہے تو حمل سے فارغ ہونا۔ (دیکھیے طلاق : 4) اور اگر جماع سے پہلے ہی طلاق ہوجائے تو اس پر کوئی عدت نہیں۔ (دیکھیے احزاب : 49) پس اس آیت میں لفظ ”وَالْمُطَلَّقٰتُ“ (وہ عورتیں جنھیں طلاق دی جائے) سے ان عورتوں کی عدت بیان کرنا مقصود ہے جن سے خاوند صحبت کرچکے ہوں اور وہ حاملہ نہ ہوں، نہ ہی ایسی ہوں جنھیں حیض نہیں آتا، نہ لونڈیاں ہوں۔ تو ان کی عدت تین ”قروء“ ہے۔ ”قُرُوْۗءٍ ۭ“ کا لفظ جمع ہے اس کا واحد ”قُرْءٌ“ ہے اور یہ حیض کے ایام پر بھی بولا جاتا ہے اور طہر (یعنی حیض سے پاک ہونے) کے ایام پر بھی۔ بندہ کی تحقیق میں حیض والا معنی راجح ہے۔ مگر فتویٰ دونوں پر صحیح ہے۔ مزید مسائل کے لیے دیکھیے سورة طلاق کی ابتدائی آیات۔
اسماء بنت یزید انصاریہ ؓ کا بیان ہے کہ پہلے مطلقہ عورت کے لیے کوئی عدت نہیں تھی (خاوند جب چاہتا رجوع کرلیتا) تو جب مجھے طلاق ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر طلاق کی عدت کا حکم نازل فرمایا۔ [ أبو داوٗد، الطلاق، باب فی عدۃ المطلقۃ :
2281، وسندہ حسن ]
وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ يَّكْتُمْنَ۔۔ : یعنی عورتوں کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے رحم میں جو کچھ ہے یعنی حمل یا حیض یا طہر، اسے چھپائیں اور غلط بیانی کریں، کیونکہ عدت اس پر موقوف ہے۔ حمل چھپانے کی صورت میں کسی کا بچہ دوسرے کے نام لگ جائے گا اور حیض چھپانے کی صورت میں اصل عدت سے پہلے یا بعد فارغ ہوگی، اس میں حرام کے ارتکاب کا امکان ہے۔
وَبُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّھِنَّ فِيْ ذٰلِكَ : یعنی عدت کے اندر اگر خاوند رجوع کرنا چاہے تو عورت کو لازماً ماننا ہوگا۔ (ابن کثیر)
وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْهِنَّ بالْمَعْرُوْفِ ۠ : یعنی عورتوں کا بھی معروف طریقے کے مطابق مردوں پر ویسا ہی حق ہے جیسا کہ مردوں کا عورتوں پر ہے، جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تمہارا ان (عورتوں) پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستر پر اس کو نہ بیٹھنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو اور اگر وہ ایسا کریں تو انھیں مارو، ایسا مارنا جو شدید نہ ہو اور ان کا حق تم پر یہ ہے کہ انھیں دستور کے مطابق کھانا اور لباس دو۔“ [ مسلم، الحج، باب حجۃ النبی ﷺ : 1218 ]
وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ: یعنی مرتبہ میں، اطاعت کا حق رکھنے میں، خرچ کرنے میں، فطری قوتوں میں، میراث میں، خصوصاً ان آیات میں مذکور طلاق و رجوع کا حق رکھنے میں، الغرض دین و دنیا کے بہت سے شرف عورت پر ان کی برتری کا باعث ہیں۔ سورة نساء میں ہے : (اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاۗءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ ۭ) [ النساء : 34 ] ”مرد عورتوں پر نگران ہیں، اس وجہ سے کہ اللہ نے ان کے بعض کو بعض پر فضیلت عطا کی اور اس وجہ سے کہ انھوں نے اپنے مالوں سے خرچ کیا۔“
Ayah 2:229ام المومنین عائشہ ؓ اور دیگر صحابہ کی روایات کے مطابق ابتدائے ہجرت میں جاہلی دستور کے مطابق مرد عورت کو کئی کئی بار طلاق دیتے اور رجوع کرتے رہتے تھے، مقصد بیوی کو تنگ کرنا ہوتا تھا۔ اس صورت حال کو روکنے کے لیے یہ آیت نازل ہوئی۔
(اَلطَّلَاقُ)“ میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ”یہ طلاق“ کیا ہے، یعنی وہ طلاق جو اوپر کی آیت میں ذکر ہوئی ہے، جس کے بعد عدت میں خاوند رجوع کرسکتا ہے، وہ دو مرتبہ ہے۔
فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ) یعنی پہلی یا دوسری طلاق دینے کے بعد خاوند دوبارہ بسانے کا ارادہ رکھتا ہے تو عدت کے اندر رجوع کرے، یہ ”اچھے طریقے سے رکھ لینا“ ہے۔ اگر یہ ارادہ نہیں تو رجوع نہ کرے، بلکہ عدت گزرنے دے، بیوی خود بخود جدا ہوجائے گی، یہ ”نیکی کے ساتھ چھوڑ دینا“ ہے۔ فائدہ اس کا یہ ہوگا کہ عدت گزرنے کے بعد اگرچہ عورت آزاد ہے کہ جس مرد سے چاہے شادی کرلے، مگر اسے پہلے خاوند کے ساتھ شادی کا بھی اختیار ہے۔ البتہ تیسری طلاق کے بعد خاوند نہ عدت کے دوران رجوع کرسکتا ہے نہ عدت کے بعد نکاح، جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے۔
وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا۔۔ : خاوند کے لیے بیوی کو تنگ کر کے اس سے حق مہر واپس لینا جائز نہیں۔ (دیکھیے نساء : 20) مگر خلع کی صورت میں خاوند معاوضہ لے کر طلاق پر راضی ہوجائے تو یہ واپسی جائز ہے۔
فِـيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ اس میں خلع کا بیان ہے، یعنی عورت خاوند سے علیحدگی حاصل کرنا چاہے اور خاوند طلاق دینے پر تیار نہ ہو تو عورت جان چھڑانے کے لیے اپنا مہر یا خاوند اور بیوی کے درمیان جو بھی آپس میں یا حاکم کی عدالت میں طے پا جائے، وہ چیز بطور فدیہ دے کر اپنی جان چھڑا لے۔ پھر خواہ خاوند خود ہی فدیہ لے کر اسے چھوڑ دے، یا اگر وہ اس پر تیار نہ ہو تو حاکم اسے فدیہ لے کر چھوڑنے کا حکم دے، اگر وہ نہ مانے تو عدالت نکاح فسخ کر دے۔ چونکہ یہ درحقیقت طلاق نہیں بلکہ عورت کی طرف سے علیحدگی کا مطالبہ ہے، اس لیے اسے خلع کہتے ہیں، اس کی عدت ایک حیض ہے۔ [ ترمذی : 1185، عن الربیع بنت معوذ ؓ ] تاکہ معلوم ہوجائے کہ عورت کو حمل تو نہیں اور عدت کے دوران میں خاوند رجوع بھی نہیں کرسکتا۔
Ayah 2:230یعنی تیسری طلاق کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے اور وہ خاوند اس سے جماع نہ کرلے اور پھر وہ اسے از خود طلاق نہ دے، یا فوت نہ ہوجائے تو پہلے خاوند کے لیے اس سے نکاح حلال نہیں۔ اس کا معنی یہ نہیں کہ دوسرے خاوند سے اس غرض سے نکاح کرے کہ پہلے خاوند کے لیے حلال ہوجائے، کیونکہ ایسا نکاح کرنے اور کروانے والے پر تو احادیث میں لعنت آئی ہے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں : ”رسول اللہ ﷺ نے حلالہ کرنے والے اور حلالہ کروانے والے پر لعنت فرمائی۔“ [ نسائی، الطلاق، باب إحلال المطلقۃ۔۔ : 3445، و حسنہ الألبانی۔ ترمذی : 1119، مختصرًا ] بلکہ آپ ﷺ نے حلالہ کرنے والے کو ”اَلتَّیْسُ الْمُسْتَعَارُ“ (کرائے کا سانڈ) کہا ہے۔
[ ابن ماجہ، النکاح، باب المحلل والمحلل لہ : 1936، عن عقبۃ بن عامر و حسنہ الألبانی ]
ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دینا منع ہے، لیکن اگر کوئی دے دے تو ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ کے زمانے میں اور عمر ؓ کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار ہوتی تھیں، پھر لوگوں نے اس کام میں جلدی شروع کردی تو عمر ؓ نے فرمایا : ”لوگوں نے ایسے کام میں جلدی کرنا شروع کردی ہے جس میں ان کے لیے مہلت تھی، تو اب ہم ان پر کیوں نہ تینوں طلاقیں ہی نافذ کردیں۔“ چناچہ انھوں نے اسے نافذ کردیا۔ [ مسلم، الطلاق، باب الطلاق الثلاث : 1472 ] نیز دیکھیے فتاویٰ ابن تیمیہ (33 ؍13، 25، 85 تا 87)۔
Ayah 2:231فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ اس کا مطلب عدت ختم ہونا نہیں، بلکہ عدت ختم ہونے کے قریب ہونا ہے۔ اس کی دلیل پیچھے گزرا ہوا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : (ۭوَبُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّھِنَّ فِيْ ذٰلِكَ) [ البقرۃ : 228 ]”اور ان کے خاوند اس مدت میں انھیں واپس لینے کے زیادہ حق دار ہیں۔“
وَبُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّھِنَّ فِيْ ذٰلِكَ یعنی اگر تم اپنی بیویوں کو طلاق رجعی دو تو ان کی عدت پوری ہونے سے پہلے پہلے تمہیں رجوع کا حق پہنچتا ہے، مگر یہ رجوع محض انھیں ستانے اور نقصان پہنچانے کی غرض سے نہ ہو، کیونکہ ایسا کرنا ظلم و زیادتی اور احکام الٰہی سے مذاق کرنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تین چیزیں ایسی ہیں کہ جنھیں کوئی سنجیدگی سے کہے تو وہ سنجیدہ ہیں اور ہنسی مذاق میں کہے تب بھی وہ سنجیدہ ہیں، نکاح، طلاق اور رجوع۔“ [ أبو داوٗد، الطلاق، باب فی الطلاق علی الھزل : 2194۔ ابن ماجہ : 2039۔ ترمذی، ابن حجر، سیوطی اور البانی ؒ نے اسے حسن کہا ہے ]
مِّنَ الْكِتٰبِ وَالْحِكْمَةِ : یہاں ”وَالْحِكْمَةِ“ سے مراد سنت ہے، یعنی کتاب و سنت کی جو نعمت تم پر نازل کی ہے اسے مت بھولو۔ یہ دونوں وحی الٰہی ہیں اور دلیل ہونے میں دونوں برابر ہیں۔ لہٰذا منکر حدیث کا بھی وہی حکم ہے جو منکر قرآن کا ہے، مطلب یہ کہ ان آیات میں بیان کردہ گھریلو مسائل کو حدیث پاک کی روشنی میں زیر عمل لانا ضروری ہے۔
Ayah 2:232(اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ) معقل بن یسار ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی بہن کا نکاح ایک شخص سے کیا، اس نے اسے طلاق دے دی، جب عدت گزر گئی تو وہ (دوبارہ) نکاح کا پیغام لے کر آیا۔ میں نے اس سے کہا، میں نے تمہارا نکاح کیا، اسے تمہاری بیوی بنایا اور تمہاری عزت افزائی کی، مگر تم نے اسے طلاق دے دی، اب تم پھر اس سے نکاح کا پیغام لے کر آگئے ہو، اللہ کی قسم ! وہ تمہارے پاس کبھی نہیں آسکتی۔ اس شخص میں کوئی برائی نہیں تھی اور میری بہن بھی اس کے پاس جانا چاہتی تھی (لیکن میں مانع تھا) تو اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت نازل فرمائی : (فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ) ”تو انھیں اس سے نہ روکو کہ وہ اپنے خاوندوں سے نکاح کرلیں۔“ تو میں نے کہا، اے اللہ کے رسول ! اب میں نکاح کر دوں گا۔ الغرض ! انھوں نے اپنی بہن کا نکاح اس شخص سے کردیا۔ [ بخاری، النکاح، باب من قال لا نکاح إلا بولی۔۔ : 5130 ]
اس آیت سے معلوم ہوا کہ عورت خود بخود اپنا نکاح نہیں کرسکتی، بلکہ ولی کی اجازت ضروری ہے۔ امام بخاری نے بھی اس آیت سے یہ استدلال فرمایا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”کوئی عورت کسی عورت کا نکاح نہ کرے اور نہ کوئی عورت اپنا نکاح خود کرے، کیونکہ وہ عورت زانیہ ہے جو اپنا نکاح خود کرتی ہے۔“ [ ابن ماجہ، النکاح، باب لا نکاح إلا بولی : 1882، عن عائشۃ ؓ ، و صححہ الألبانی ] اگر عورت خود اپنا نکاح کرسکتی ہوتی تو عورت کے اولیاء کو قرآن مخاطب نہ کرتا کہ ”تم ان کو مت روکو۔“
اَزْوَاجَهُنَّ اس لفظ سے جس طرح وہ خاوند مراد ہیں جن سے پہلے نکاح ہوا تھا، اسی طرح عدت گزرنے کے بعد اگر وہ کسی اور شخص سے نکاح کرنا چاہیں تو اس ہونے والے خاوند سے نکاح کرنے سے روکنا بھی منع ہے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یہ حکم ہے عورتوں کے ولیوں کو کہ اس کے نکاح میں اس کی خوشی (کا خیال) رکھیں، جہاں وہ راضی ہوں وہاں کردیں، اگرچہ اپنی نظر میں اور جگہ بہتر معلوم ہو۔“ (موضح)
Ayah 2:233(حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ) نکاح و طلاق کے بعد اس آیت میں رضاعت (بچے کو دودھ پلانے کے مسائل) کا بیان ہے، کیونکہ ایسا ہوسکتا ہے کہ ایک عورت کو طلاق ہوجائے، یا اس کے شوہر کا انتقال ہوجائے اور اس کی گود میں دودھ پیتا بچہ ہو۔ اس سلسلے میں ماؤں کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ بچوں کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بچے کو دودھ پلانا ماں پر فرض ہے، خصوصاً جب بچہ اس کے علاوہ کسی دوسری عورت کا دودھ پینے کے لیے تیار نہ ہو۔ (دیکھیے سورة طلاق : 6) نیز اس سے دو باتیں اور بھی معلوم ہوئیں، ایک یہ کہ رضاعت کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہے، لہٰذا اس دو سال کی عمر کے بعد اگر کوئی بچہ کسی عورت کا دودھ پی لے تو حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوگی۔ ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”صرف اسی رضاعت سے حرمت ثابت ہوگی جو پستان سے پینے کے زمانے میں انتڑیوں کو پھاڑے اور دودھ چھڑانے کی مدت سے پہلے ہو۔“ [ ترمذی، الرضاع، باب ما جاء ما ذکر أن الرضاعۃ۔۔ : 1152، و قال حسن صحیح ] ام المومنین عائشہ ؓ سے بھی اس کی ہم معنی حدیث ثابت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : (فَاِنَّمَا الرَّضَاعَۃُ مِنَ الْمَجَاعَۃِ) [ بخاری، الشہادات، باب الشہادۃ علی الأنساب۔۔ : 2647 ] ”یقیناً رضاعت وہی معتبر ہے جو (کم سنی میں) بھوک کی بنا پر ہو۔“ بعض لوگ دودھ چھڑانے کی مدت اڑھائی سال بتاتے ہیں، مگر وہ اس آیت اور دوسری آیت : (وَّفِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ) [ لقمان : 14 ] (اور اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہے) کے صریح خلاف ہے۔ مزید دیکھیے سورة احقاف (15) کی تفسیر۔ رسول اللہ ﷺ نے ابو حذیفہ ؓ کے آزاد کردہ غلام سالم کو، جسے انھوں نے بیٹوں کی طرح پالا تھا، جوان ہونے پر ابوحذیفہ کی بیوی کا دودھ پی کر ان کا رضاعی بیٹا بننے کی اجازت دی تھی۔ [ مسلم : 27؍1453 ] اس لیے عائشہ ؓ رضاعت کبیر کی قائل تھیں، مگر دوسری امہات المومنین نے اسے ان سے خاص ہونے کے امکان کی وجہ سے تسلیم نہیں کیا۔ زیادہ سے زیادہ سالم ؓ کے واقعہ کی طرح شدید ضرورت میں اس کی اجازت ممکن ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ کہ دو سال کی مدت پوری کرنا ضروری نہیں، اس سے پہلے بھی بچے کا دودھ چھڑایا جاسکتا ہے۔
رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ اس سے معلوم ہوا کہ دودھ پلانے والی ماں کو، جب کہ اسے طلاق ہوچکی ہو، عام معروف طریقے کے مطابق کھانا اور لباس مہیا کرنا والد پر فرض ہے۔ عام حالات میں جب کہ طلاق نہ ہوئی ہو، بیوی کا کھانا اور لباس اس کے شوہر پر ویسے ہی فرض ہے۔ نیز دیکھیے سورة طلاق (6)۔
لَا تُضَاۗرَّ : یہ ”ضَرَرَ“ سے باب مفاعلہ کا واحد مؤنث نہی حاضر مجہول کا صیغہ ہے، ترجمہ اسی کے مطابق کیا گیا ہے۔ نہی حاضر معلوم بھی ہوسکتا ہے۔ ہمارے شیخ محمد عبدہ ؓ لکھتے ہیں : ”ماں کو تکلیف دینا یہ ہے کہ وہ مثلاً اپنے بچے کو اپنے پاس رکھنا چاہے مگر باپ زبردستی چھین لے، یا یہ کہ اسے دودھ پلانے پر مجبور کرے اور خرچہ نہ دے اور باپ کو تکلیف دینا یہ ہے کہ ماں بچے کا سارا بوجھ اس پر ڈال دے، یا دودھ پلانے سے انکار کر دے، یا بھاری اخراجات کا مطالبہ کرے جو باپ کی وسعت سے باہر ہوں۔“ آیت کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے : ”نہ ماں بچے کی وجہ سے ضرر پہنچا کر باپ کو تکلیف دے اور نہ باپ بچے کی وجہ سے ماں کو ضرر پہنچائے۔“ پہلی صورت میں ”لَا تُضَاۗرَّ“ صیغہ فعل مجہول کا ہوگا۔ دوسرے ترجمہ کے اعتبار سے صیغہ معروف، نتیجہ ایک ہی ہے۔
(وَعَلَي الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ ۚ) یعنی اگر باپ مرجائے تو جو بھی اس کا وارث ہو اس پر فرض ہے کہ وہ بچے کو دودھ پلانے والی ماں کے یہ حقوق ادا کرے۔
یعنی اگر تم بچے کو اس کی ماں کے سوا کسی دوسری عورت سے دودھ پلوانا چاہو، اس لیے کہ ماں کے ساتھ سمجھوتہ نہ ہو سکے، جیسا کہ فرمایا : (ۚ وَاِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗٓ اُخْرٰى) [ الطلاق : 6 ] ”اور اگر تم آپس میں تنگی کرو تو اسے کوئی اور عورت دودھ پلا دے گی“ تو اس میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ جو معاوضہ تم دینا چاہتے ہو وہ معروف طریقے سے پورا پورا ادا کر دو۔
Ayah 2:234خاوند کی وفات کی یہ عدت تمام عورتوں کے لیے یکساں ہے۔ شوہر نے اس سے صحبت کی ہو، یا اس سے پہلے ہی فوت ہوگیا ہو، اسی طرح خواہ وہ جوان ہوں یا بوڑھی، جیسا کہ آیت کے الفاظ میں سب بیویاں شامل ہیں۔ بروع بنت واشق ؓ کے خاوند صحبت سے پہلے ہی فوت ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ اسے پورا مہر ملے گا، اسے عدت گزارنا ہوگی اور اسے میراث میں سے بھی حصہ ملے گا۔ [ ترمذی، النکاح، باب ما جاء فی الرجل۔۔ : 1145۔ أبو داوٗد : 2114 ]
اس عدت میں ایک حکمت یہ ہے کہ معلوم ہوجائے کہ عورت کو حمل تو نہیں، اگر حمل ہو تو اس کی عدت حمل سے فارغ ہونا ہے، خواہ تھوڑی دیر میں فارغ ہوجائے، خواہ آٹھ نو ماہ بعد، کیونکہ حکم ہے : (وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ) [ الطلاق : 4 ]”اور جو حمل والیاں ہیں ان کی عدت (طلاق سے ہو یا خاوند فوت ہونے سے) یہ ہے کہ وہ اپنا حمل وضع کردیں۔“
اس عدت کے دوران عورت کے لیے نکاح کرنا ہی حرام نہیں، بلکہ سوگ منانا بھی ضروری ہے، یعنی ہر قسم کی زینت سے پرہیز کرنا بھی ضروری ہے، مثلاً شوخ کپڑے پہننا، خوشبو لگانا، حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسی ہی ایک عورت کو آنکھ میں تکلیف کے باوجود سرمہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ [ بخاری الطلاق، باب الکحل للحادّۃ : 5338 ] عدت کے دوران اسے خاوند والے مکان سے دوسری جگہ منتقل ہونے کی بھی اجازت نہیں۔ [ أبو داوٗد، الطلاق، باب فی المتوفٰی عنہا تنتقل : 2300۔
ترمذی : 1204، و صححہ الألبانی ]
(فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ) یعنی عدت گزرنے کے بعد وہ زیب و زینت اختیار کریں، یا اولیاء کی اجازت سے دوسرا نکاح کریں، تو اس پر کوئی حرج نہیں۔ ہندوؤں کے اثرات سے بیوہ کے لیے دوسرے نکاح کو جو برا سمجھا جاتا ہے اور اس میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے، یہ شریعت اسلام کے سراسر خلاف ہے۔
Ayah 2:235وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ۔۔ : یعنی عدت کے دوران میں عورت کو صاف الفاظ کے ساتھ پیغام نکاح دینا جائز نہیں، البتہ مناسب طریقے سے یعنی اشارہ کنایہ سے کوئی بات کہہ دینے میں کوئی حرج نہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : (فِـيْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ) اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ میرا شادی کرنے کا پروگرام ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے کوئی نیک بیوی عطا فرمائے۔“ [ بخاری، النکاح، باب قول اللہ عزوجل : (ولا جناح علیکم فیما۔۔) : 5124 ] لیکن یہ حکم اس عورت کا ہے جس کا شوہر فوت ہوگیا ہو یا اسے تینوں طلاقیں ہوچکی ہوں، جیسا کہ فاطمہ بنت قیس ؓ کو تینوں طلاقیں ہوگئیں تو رسول اللہ ﷺ نے انھیں فرمایا : ”جب تمہاری عدت گزر جائے تو مجھے اطلاع دینا۔“ جب انھوں نے عدت گزرنے کی اطلاع دی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”اسامہ بن زید سے نکاح کرلو۔“ [ مسلم، الطلاق، باب المطلقۃ البائن لانفقۃ لہا : 1480 ] مگر وہ عورت جسے رجعی طلاق دی گئی ہو تو اس سے دوران عدت میں کسی شخص کا نکاح کے لیے اشارہ کنایہ سے بات کرنا بھی جائز نہیں، کیونکہ ابھی تک اس پر اس کے شوہر کا حق ہے۔
یعنی جب تک عدت پوری نہ ہوجائے نکاح کی گرہ مت باندھو۔ اس پر تمام ائمہ کا اجماع ہے کہ عدت کے اندر نکاح صحیح نہیں۔ (ابن کثیر، شوکانی)
(وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِىْٓ اَنْفُسِكُم) اس میں نکاح کے سلسلے میں شرعی احکام کے خلاف حیلے نکالنے پر وعید اور توبہ کی ترغیب ہے۔
Ayah 2:236یعنی جس عورت کا عقد نکاح کے وقت کوئی مہر مقرر نہ ہوا ہو، اگر شوہر اسے ہاتھ لگانے (یعنی جماع یا خلوت صحیحہ) سے پہلے طلاق دے دے تو شوہر پر مہر وغیرہ کی صورت میں کسی قسم کا مالی تاوان نہیں۔ آیت میں ’ لَاجُنَاحَ ’‘ فرما کر اسی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ شوہر اپنی مالی حالت کے مطابق اسے کچھ دے کر رخصت کرے، اس اعانت کو ”متعۂ طلاق“ کہا جاتا ہے، سورة احزاب (49) میں مزید بتایا کہ ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق کی صورت میں عورت پر عدت بھی نہیں، بلکہ وہ شوہر سے رخصت ہو کر فوراً نکاح کرسکتی ہے۔
Ayah 2:237یہ دوسری صورت ہے کہ مہر مقرر کیا جا چکا ہو اور شوہر نے ہاتھ لگانے (جماع یا خلوت صحیحہ) سے پہلے طلاق دے دی تو اس صورت میں عورت نصف مہر کی حق دار ہوگی۔ ہاں اگر وہ عورت خود معاف کر دے تو دوسری بات ہے، یا خاوند جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے، معاف کر دے، یعنی وہ پورا مہر دے چکا ہے تو نصف واپس نہ لے، یا اپنی خوشی سے پورا مہر دے دے۔ پھر (وَاَنْ تَعْفُوْٓا اَقْرَبُ للتَّقْوٰى ۭ‘) فرما کر شوہر کو ترغیب دی ہے کہ پورا مہر دے دینا ہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے، کیونکہ اس میں مخاطب مرد ہیں۔
مسئلہ : اگر شوہر ہاتھ لگانے سے قبل وفات پا جائے تو بیوی پورے مہر کی حق دار ہوگی، اسے ورثہ بھی ملے گا اور اس پر عدت بھی واجب ہوگی، جیسا کہ بروع بنت واشق کی حدیث میں اوپر گزر چکا ہے۔ واضح رہے کہ مطلقہ عورت کی دو قسمیں ہیں : 1 مہر مقرر ہوچکا تھا اور خاوند نے صحبت کے بعد طلاق دے دی۔ (دیکھیے بقرہ : 229) 2 عقد کے وقت مہر مقرر نہ تھا، مگر صحبت کے بعد طلاق دے دی۔ اس صورت میں عورت مہر مثل کی حق دار ہوگی، یعنی جتنا مہر عموماً اس کے خاندان کی عورتوں کا مقرر ہوتا ہے، اس کے مطابق اسے مہر دلوایا جائے گا، جیسا کہ سورة نساء کی آیت (24) میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ (شوکانی)
Ayah 2:238(حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى): شاہ عبدالقادر ؓ فرماتے ہیں : ”درمیانی نماز عصر ہے کہ دن اور رات کے درمیان میں ہے اور اس کی پابندی پر زیادہ زور دیا اور طلاق کے حکموں میں نماز کا ذکر فرما دیا کہ دنیا کے معاملات میں غرق ہو کر عبادت کو نہ بھول جاؤ۔ عصر کی پابندی کا حکم اس لیے زیادہ ہے کہ اس وقت دنیا کا شغل زیادہ ہوتا ہے۔“ (موضح)
حفاظت سے مراد وقت کا خیال رکھنا ہے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : ”تمام اعمال میں سے اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل محبوب ہے ؟“ آپ نے فرمایا : ”نماز اپنے وقت پر ادا کرنا۔“ [ بخاری، الصلاۃ، باب
فضل الصلوۃ لوقتہا : 527 ]
وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطی : اس کے متعلق گو اختلاف ہے مگر جمہور علماء کے نزدیک اس سے عصر کی نماز مراد ہے۔ یہی صحیح اور راجح ہے، متعدد احادیث سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ بخاری، مسلم اور سنن کی کتابوں میں متعدد صحابہ سے یہ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ احزاب کے موقع پر فرمایا : (شَغَلُوْنَا عَنِ الصَّلاَۃِ الْوُسْطٰی صَلاَۃِ الْعَصْرِ مَلَأَ اللّٰہُ بُیُوْتَہُمْ وَ قُبُوْرَہُمْ نَارًا)[ مسلم، المساجد، باب الدلیل لمن۔۔ : 205؍627۔ بخاری : 6396 ] ”انھوں نے ہمیں صلاۃ الوسطی یعنی عصر کی نماز سے روک دیا، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھرے۔“ بہت سے صحابہ کے آثار سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس کی عصر کی نماز فوت ہوگئی گویا اس کا اہل و عیال اور مال لوٹ لیا گیا۔“ [ بخاری، مواقیت الصلوۃ، باب إثم من فاتتہ العصر : 552۔ مسلم : 626 ]
قٰنِتِيْنَ : فرماں بردار ہو کر کھڑے رہو، یعنی نماز میں کوئی ایسی حرکت نہ کرو جس سے معلوم ہو کہ آدمی نماز کی حالت میں نہیں ہے، جیسے کھانا پینا اور کسی سے بات کرنا۔ عربی زبان میں قنوت کے کئی معانی آتے ہیں، مگر یہاں مراد سکوت (خاموشی) ہے۔ زید بن ارقم ؓ فرماتے ہیں : ”ہم نماز میں ایک دوسرے سے بات کرلیا کرتے تھے، کوئی بھی شخص اپنے دوسرے بھائی سے (جو نماز میں ہوتا) اپنی کسی ضرورت کے لیے بات کرلیا کرتا تھا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی : حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى ۤ وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ) تو ہمیں (نماز میں) خاموش رہنے کا حکم دے دیا گیا اور باتیں کرنے سے منع کردیا گیا۔“ [ بخاری، التفسیر، باب (و قوموا للہ۔۔) : 4534۔ مسلم، المساجد، باب تحریم الکلام۔۔ : 539 ]
Ayah 2:239اس آیت میں نماز کی حفاظت کی مزید تاکید ہے کہ خوف اور ہنگامی حالت میں بھی نماز معاف نہیں ہے، بلکہ پیدل یا سوار، جس حالت میں بھی ممکن ہو، خوف کے وقت نماز ادا کرلو۔ ہاں خوف ختم ہونے کے بعد نماز کو ان پورے شرائط و ارکان اور آداب کے ساتھ ادا کرو جن کی تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کے ذریعے سے تعلیم دی ہے۔ صلاۃ خوف کے احکام کے لیے دیکھیے سورة نساء (102) کی تفسیر۔
Ayah 2:240وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا۔۔ : بہت سے علماء نے اس آیت کو اس آیت سے منسوخ قرار دیا ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے، جس میں فوت شدہ خاوند کی بیوی کی عدت چار مہینے دس دن بیان کی گئی ہے۔ اس صورت میں یہ آیت تلاوت کی ترتیب کے لحاظ سے بعد میں آنے کے باوجود ترتیب میں پہلے آنے والی آیت کے ساتھ منسوخ ٹھہرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زیر تفسیر آیت کی رو سے پہلے اس عورت کی عدت ایک سال تھی، پھر اسی سورت کی آیت (234) سے چار ماہ دس دن قرار دی گئی۔ چناچہ عدت ایک سال ہونا منسوخ ہوگیا اور چار ماہ دس دن کے بعد رہائش اور کھانے وغیرہ کا خرچہ آیت میراث (نساء : 11، 12) کے ساتھ منسوخ ہوگیا، کیونکہ اس میں تمام وارثوں کے حصے مقرر کردیے گئے۔ اب وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں۔ حالانکہ دونوں آیات کے الفاظ پر غور کریں تو پہلی آیت میں واضح حکم ہے کہ ایسی عورت چار ماہ دس دن نکاح نہیں کرسکتی، بلکہ اپنے آپ کو انتظار میں رکھے گی۔ اسے عدت کہتے ہیں، جب کہ دوسری آیت میں ایک سال اپنے آپ کو انتظار میں رکھنے اور نکاح نہ کرنے کا ذکر ہی نہیں، تو اس آیت کی رو سے عدت ایک سال کیسے بن گئی ؟ اس لیے صحیح بات یہی ہے کہ یہ پہلی آیت سے منسوخ نہیں، نہ ہی ترتیب تلاوت میں کوئی خلل ہے۔
رہ گیا نان و نفقہ اور رہائش کا منسوخ ہونا تو جو علماء منسوخ بتاتے ہیں وہ سورة نساء کی آیت میراث سے منسوخ بتاتے ہیں، جو سورة بقرہ کے بعد اتری ہے۔ اس لیے زیر تفسیر آیت کسی طرح بھی پہلی آیت کے ساتھ منسوخ نہیں۔ اگر اس کا کچھ حصہ منسوخ ہے بھی تو سورة نساء کے ساتھ منسوخ ہے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت محکم ہے منسوخ نہیں، اس میں عدت بیان ہی نہیں ہوئی، بلکہ میت کے اولیاء کو وصیت کا ذکر ہے کہ وہ عورت کی دل جوئی کی خاطر اور مرنے والے سے اظہار محبت و اخلاص کے طور پر چار ماہ دس دن کے بعد مزید سات ماہ بیس دن اسے اپنے شوہر کے گھر میں رہنے دیں۔ ہاں اگر عورت چار ماہ دس دن یا وضع حمل کے بعد اپنی مرضی سے اس گھر سے منتقل ہونا چاہے تو اس کی مرضی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ آیت میراث کے باوجود چار ماہ دس دن اس گھر میں رہنے کا لازمی حکم دے سکتا ہے تو سال کے باقی ماندہ دن اختیاری طور پر وہاں رہنے کی اجازت کا حکم بھی دے سکتا ہے اور یہ آیت میراث کے خلاف نہیں۔ یہ رائے امام مجاہد بن جبر، شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؓ اور دوسرے کئی اہل علم کی ہے۔ حافظ ابن کثیر ؓ نے بھی اسے قوی قرار دیا ہے اور اس سے قرآن کی آیات کی ترتیب کا حسن بھی باقی رہتا ہے۔
Ayah 2:241سورة بقرہ کی آیت (236) میں ان مطلقہ عورتوں کو سامان دینے کا حکم تھا جنھیں نہ خاوند نے ہاتھ لگایا ہو اور نہ مہر مقرر ہوا ہو، جبکہ اس آیت میں تمام مطلقہ عورتوں کو اچھے طریقے سے کچھ سامان، کپڑوں کا جوڑا وغیرہ دے کر رخصت کرنے کا حکم ہے، تاکہ عورت کی کچھ دل جوئی ہوجائے۔ یہ احسان کا تقاضا ہے۔
Ayah 2:242یہاں نکاح و طلاق کے مسائل ختم ہوئے اب جہاد کا ذکر شروع ہوتا ہے۔
Ayah 2:243یہ واقعہ سابقہ کسی امت کا ہے، جس کی تفصیل کسی صحیح حدیث میں بیان نہیں کی گئی۔ یہ لوگ دشمن کے حملے کے وقت قتل ہونے کے خوف سے ہزاروں کی تعداد میں ہونے کے باوجود مقابلہ کرنے کے بجائے شہر چھوڑ کر بھاگ پڑے، یا وبا واقع ہونے پر تقدیر پر صابر رہنے کے بجائے موت سے بچنے کے لیے گھر بار چھوڑ کر نکل گئے، لیکن وہ بھاگ کر موت سے نہ بچ سکے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان سب پر موت طاری کردی، پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر کرم فرمایا اور انھیں زندہ کردیا۔ اس سے اگلی آیت (244) میں اللہ کی راہ میں قتال یعنی لڑنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ اس حکم سے پہلے اس واقعہ کے بیان میں یہی حکمت ہے کہ جہاد سے جی مت چراؤ، موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، جسے تم جہاد سے گریز اور فرار اختیار کرکے ٹال نہیں سکتے، نہ تقدیر سے بچ کر کہیں جاسکتے ہو۔
یہ قصہ قیامت کے دن جسموں کے دوبارہ زندہ ہونے کی قطعی دلیل ہے۔
اَلَمْ تَرَ : اس کا لفظی معنی ہے ”کیا تو نے نہیں دیکھا“ مگر مجاہد ؒ نے اس کا معنی کیا ہے : ”اَلَمْ تَعْلَمْ“ ”کیا تجھے معلوم نہیں“ [ بخاری، التفسیر، سورة (ألم تر) ، قبل ح : 4964 ] مزید دیکھیے سورة فیل کے حواشی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت اترنے کے وقت ان لوگوں کا قصہ عام طور پر معروف و مشہور تھا۔ بعض اوقات کسی بات کو سننے کا شوق دلانے کے لیے بھی ”اَلَمْ تَرَ“ سے بات شروع کی جاتی ہے۔
عبدا لرحمان بن عوف ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ”جب تم سنو کہ کسی زمین میں وبا پھیلی ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی زمین میں وبا پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو اس سے فرار اختیار کرکے وہاں سے مت نکلو۔“ [ بخاری، الطب، باب ما یذکر فی الطاعون : 5729 ]
Ayah 2:244وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰه : حافظ ابن کثیر ؓ نے فرمایا، جس طرح جان بچانا تقدیر سے نہیں بچاتا، اسی طرح جہاد سے فرار اور اجتناب سے نہ موت قریب ہوتی ہے نہ دور، بلکہ اجل اور رزق کا فیصلہ ہوچکا ہے، اس میں کمی یا زیادتی نہیں ہوسکتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اَلَّذِيْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِھِمْ۔۔) [ آل عمران : 168 ] اور فرمایا : (اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ)“ [ النساء : 78 ] ”تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمہیں پالے گی، خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہو۔“
Ayah 2:245(مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا) اس سے پہلی آیت میں اللہ کے راستے میں لڑنے کا حکم تھا، اب جہاد میں مال خرچ کرنے کی ترغیب ہے۔ قرض حسن سے مراد یہ ہے کہ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کے لیے مال خرچ کرے اور اس میں ریاکاری یا کسی کو ستانے اور اس پر احسان رکھنے کی نیت نہ ہو۔ اللہ کا کرم دیکھیے کہ خود ہی سب کچھ عطا کرکے بندوں سے مانگ رہا ہے اور اسے اپنے ذمے قرض قرار دے رہا ہے۔ سورة توبہ میں مال کے ساتھ جان کا بھی ذکر ہے، فرمایا : (اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ) [ التوبۃ : 111 ] ”بیشک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں، اس کے بدلے کہ یقیناً ان کے لیے جنت ہے۔“ سورة بقرہ (261) ہی میں ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قرض حسن کو کئی گنا بڑھا کر واپس کریں گے۔
Ayah 2:246الْمَلَاِ : یہ ”مَلَأَ یَمْلَأُ (ف)“ یعنی ”پُر کرنا، بھرنا“ سے ہے۔ قوم کے سردار بھی اپنی ہیبت اور رعب سے آنکھیں بھر دیتے ہیں، اس لیے ان کو ”مَلَأٌ“ کہا جاتا ہے۔
اَلَمْ تَرَ“ سے ابتدا کر کے موسیٰ ؑ کے بعد بنی اسرائیل کا ایک عجیب قصہ ذکر کرنا مقصود ہے کہ جب ان کی بزدلی اور ترک جہاد کی وجہ سے انھیں ان کے وطن سے نکال دیا گیا، ان کے بچوں اور عورتوں کو لونڈیاں اور غلام بنا لیا گیا تو ان کے سرداروں نے وقت کے نبی سے درخواست کی کہ آپ ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کردیں، تاکہ ہم اللہ کی راہ میں لڑیں۔ نبی کو ان کے مزاج اور عادات کا اندازہ تھا، انھوں نے کہا، اچھی طرح دیکھ لو ! جب تم پر قتال فرض ہوگیا تو تم نہیں لڑو گے۔ انھوں نے کہا، ہم اللہ کی راہ میں کیوں نہیں لڑیں گے، جب کہ ہمیں ہمارے گھروں اور بیٹوں سے نکال دیا گیا۔ آخر نبی کا اندازہ درست نکلا، لڑنے کے لیے چند لوگ ہی رہ گئے، مگر اللہ تعالیٰ نے جہاد میں استقامت کی بدولت ان کو بھی فتح عطا فرما دی۔ اس سے ترک جہاد کا نقصان یعنی وطن اور سلطنت سے محرومی اور اہل و عیال کا دشمن کی غلامی میں چلا جانا بیان کرنا مقصود ہے اور اس کا علاج بھی کہ یہ کھوئی ہوئی عزت جہاد کے بغیر کسی صورت دوبارہ حاصل نہیں ہوسکتی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمان اگر اپنا وطن حاصل کرنے کے لیے لڑیں تو یہ بھی جہاد فی سبیل اللہ ہے، کیونکہ زمین پر کفار کے قبضے سے اللہ کا کلمہ نیچا اور مسلمانوں کے قبضے سے اللہ کا کلمہ بلند ہوتا ہے۔ کچھ نادان بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں لڑائی کو وطن کے لیے لڑائی قرار دے کر اس کے فی سبیل اللہ قتال ہونے سے انکار کرتے ہیں، انھیں ان آیات پر غور کرنا چاہیے۔
جب ان پر قتال فرض ہوا تو نبی کے اندیشے کے مطابق اکثر لوگ لڑائی سے پیچھے ہٹ گئے، یہ ان کا اپنی جانوں پر ظلم تھا۔ ”بِالظّٰلِمِيْنَ“ میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ”ان ظالموں کو“ کیا گیا ہے۔