2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 2:247

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:247 in the Quran reader

اور ان سے ان کے نبی نے کہا بیشک اللہ نے تمہارے لیے طالوت کو بادشاہ مقرر کیا ہے۔ انھوں نے کہا اس کی حکومت ہم پر کیسے ہو سکتی ہے، جبکہ ہم حکومت کے اس سے زیادہ حق دار ہیں اور اسے مال کی کوئی وسعت بھی نہیں دی گئی ؟ فرمایا بیشک اللہ نے اسے تم پر چن لیا ہے اور اسے علم اور جسم میں زیادہ فراخی عطا فرمائی ہے اور اللہ اپنی حکومت جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا ۭ: ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے۔ یہاں غور کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں طالوت کا نام بتادیا، آگے چل کر داؤد ؑ کا نام اور دشمنوں کے سردار جالوت کا نام بھی بتادیا، مگر اس نبی کا نام نہیں بتایا۔ یقیناً اس میں کوئی حکمت ہے، جو بظاہر یہ ہے کہ نبی کوئی بھی ہو واجب الاطاعت ہوتا ہے، اس کا نام مشہور ہو یا نہ ہو۔ اس لیے سلامتی اسی میں ہے کہ ہم اس نبی کے نام کی تعیین کا تکلف نہ کریں۔ قَالُوْٓا اَنّٰى يَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا : طالوت کو بادشاہ مقرر کرنے پر سرداروں نے دو اعتراض کیے، ایک تو یہ کہ بادشاہ بننے کا حق ہم اس سے زیادہ رکھتے ہیں، کیونکہ خاندانی طور پر سرداری ہم میں چلی آرہی ہے۔ دوسرا یہ کہ طالوت کوئی سرمایہ دار شخص نہیں۔ اگر دیکھا جائے تو اب بھی دنیا میں سربراہ بننے کے لیے یہی دو پیمانے جاری ہیں، یا تو وہ کسی سربراہ خاندان سے ہو، یا سرمایہ دار ہو۔ نبی نے دونوں چیزوں کی نفی کرکے انھیں بتایا کہ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ طالوت کو اللہ تعالیٰ نے تم پر برتری عطا فرما کر چن لیا ہے، اب اللہ کے انتخاب پر اعتراض کا تمہیں کوئی حق نہیں۔ دوسری یہ کہ حکومت کے لیے خاندان یا سرمایہ کے بجائے علم اور جسمانی قوت کا ہونا ضروری ہے اور یہ دونوں چیزیں طالوت میں تم سب سے زیادہ ہیں۔ تیسری یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی کو بادشاہت عطا کرنے میں کسی کی مرضی کا پابند نہیں، وہ جسے چاہتا ہے سلطنت عطا کردیتا ہے۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ملوکیت فی نفسہٖ کوئی بری چیز نہیں، اگر کوئی بادشاہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر چلے تو صرف بادشاہ ہونے کی بنا پر قابل رد نہیں۔ آپ اسے خلیفہ بھی کہہ سکتے ہیں، جیسا کہ داؤد ؑ کے متعلق خلیفہ کا لفظ بھی آیا ہے، فرمایا : (اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ) [ ص : 26 ] ”بیشک ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے۔“ اور یہ بھی کہ (وَاٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ) [ البقرۃ : 251 ] ”اور اللہ نے اسے بادشاہی عطا کی۔“ اس لحاظ سے وہ طالوت کے بعد مَلِک (بادشاہ) بھی تھے۔
Ayah 2:248

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 2:248 in the Quran reader

اور ان کے نبی نے ان سے کہا بیشک اس کے بادشاہ ہونے کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے ایک تسلی ہے اور اس میں سے چند باقی ماندہ چیزیں ہیں جو موسیٰ کی آل اور ہارون کی آل نے چھوڑا تھا، فرشتے اسے اٹھائے ہوئے ہوں گے، بیشک اس میں تمہارے لیے یقینا ایک نشانی ہے، اگر تم مومن ہو۔

اَنْ يَّاْتِيَكُمُ التَّابُوْتُ۔۔ : بنی اسرائیل کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اور طالوت کی بادشاہت پر یقین میں اضافے کے لیے نبی نے طالوت کے بادشاہ مقرر ہونے کی ایک نشانی بیان فرمائی کہ وہ تابوت (جو دشمن تم سے چھین کرلے گیا تھا) جس کے ہوتے ہوئے تمہیں (دشمن کے مقابلے کے وقت) سکون و اطمینان حاصل رہتا تھا اور جس میں آل موسیٰ اور آل ہارون کی چند باقی ماندہ چیزیں تھیں، وہ تابوت تمہارے پاس آجائے گا، جسے فرشتے اٹھا لائیں گے۔ چناچہ اس تابوت (صندوق) کے آجانے سے بنی اسرائیل کے حوصلے بلند ہوگئے اور وہ لڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔
Ayah 2:249

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader

پھر جب طالوت لشکروں کو لے کر جدا ہوا تو کہا بیشک اللہ ایک نہر کے ساتھ تمہاری آزمائش کرنے والا ہے، پس جس نے اس میں سے پیا تو وہ مجھ سے نہیں اور جس نے اسے نہ چکھا تو بیشک وہ مجھ سے ہے، مگر جو اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر پانی لے لے۔ تو ان میں سے تھوڑے لوگوں کے سوا سب نے اس سے پی لیا۔ تو جب وہ اور اس کے ساتھ وہ لوگ نہر سے پار ہوگئے جو ایمان لائے تھے، تو انھوں نے کہا آج ہمارے پاس جالوت اور اس کے لشکروں سے مقابلے کی کوئی طاقت نہیں۔ جو لوگ سمجھتے تھے کہ یقینا وہ اللہ سے ملنے والے ہیں انھوں نے کہا کتنی ہی تھوڑی جماعتیں زیادہ جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غالب آگئیں اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بالْجُنُوْدِ ”بِالْجُنُوْدِ“ (لشکروں) کے لفظ سے ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل کی بہت بڑی تعداد لڑنے کے لیے نکلی تھی۔ طالوت نے ان کی اطاعت، جفاکشی، بھوک پیاس اور میدان جنگ میں صبر کا امتحان لینا ضروری سمجھا، تاکہ صرف وہ شخص ساتھ جائے جس میں یہ صفات موجود ہوں، مگر اس امتحان میں تھوڑے سے لوگ کامیاب ہوئے، باقی نا کام ہوگئے۔ کامیاب ہونے والے نہر سے پار ہوئے تو دشمن کی تعداد دیکھ کر ان میں سے کچھ کمزور ایمان والے کہہ اٹھے کہ ہم میں آج جالوت اور اس کے لشکروں کے مقابلے کی طاقت نہیں، مگر پختہ ایمان والوں نے، جنھیں اللہ سے ملاقات کا یقین تھا، ان کی ہمت بندھائی کہ لڑائی میں قلت و کثرت فیصلہ کن نہیں ہوتی، اللہ کا حکم فیصلہ کن ہوتا ہے۔ بہت دفعہ ایسا ہوا ہے کہ جب اللہ کا حکم ہوتا ہے تو تھوڑی جماعتیں صبر و استقامت کی وجہ سے بڑی جماعتوں پر غالب آجاتی ہیں، کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ امت محمدیہ ﷺ میں اس قسم کے بیشمار واقعات موجود ہیں۔ بدر، احد، خندق کو دیکھ لیجیے۔ جنگ موتہ میں مسلمان تین ہزار اور دشمن دو لاکھ تھا۔ (الرحیق المختوم، معرکہ موتہ) براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں، مجھے اصحاب محمد ﷺ نے بتایا، جو بدر میں شریک تھے کہ ان کی تعداد طالوت کے ساتھیوں کے برابر تھی جو نہر سے پار ہوئے تھے، تین سو دس سے کچھ زیادہ۔ براء کہتے ہیں، اللہ کی قسم ! اس کے ساتھ کسی مومن کے سوا کوئی پار نہیں ہوا۔ [ بخاری، المغازی، باب عدۃ أصحاب بدر : 3957 ]
Ayah 2:250

وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader

اور جب وہ جالوت اور اس کے لشکروں کے سامنے ہوئے تو کہنے لگے اے ہمارے رب ! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمارے قدم ثابت رکھ اور ان کافر لوگوں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

اَفْرِغْ عَلَيْنَا : یہ باب افعال سے امر کا صیغہ ہے، جس کا معنی برتن انڈیل کر خالی کرنا ہے، یعنی انھوں نے دعا کی کہ اے ہمارے رب ! ہم پر پورا صبر انڈیل دے اور ہمارے قدم ثابت رکھ اور کافروں پر ہماری مدد فرما۔ یہ بڑی جامع اور حسن ترتیب سے آراستہ دعا ہے، کیونکہ صبر آتا ہے تو ثابت قدمی ملتی ہے ثابت قدمی ہو تو نصرت الٰہی ملتی ہے۔ معلوم ہوا مومن کے لیے میدان جنگ میں بھی تیاری کے باوجود سب سے بڑا ہتھیار اللہ پر اعتماد اور اس سے دعا ہے۔
Ayah 2:251

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader

تو انھوں نے اللہ کے حکم سے انھیں شکست دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ نے اسے بادشاہی اور دانائی عطا کی اور جتنا کچھ چاہتا تھا سکھادیا۔ اور اگر اللہ کا لوگوں کو ان کے بعض کو بعض کے ساتھ ہٹانا نہ ہوتا تو یقینا زمین برباد ہوجاتی اور لیکن اللہ جہانوں پر بڑے فضل والا ہے۔

فَهَزَمُوْھُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ : چناچہ ان تھوڑے سے مسلمانوں نے جالوت کے لشکروں کو اللہ کے حکم سے شکست دی اور داؤد ؑ نے، جو اس وقت ایک سپاہی تھے، کفار کے بادشاہ جالوت کو قتل کردیا، جس کے نتیجے میں طالوت کے بعد اللہ تعالیٰ نے انھیں سلطنت اور حکمت یعنی نبوت عطا فرمائی اور جو چاہا سکھایا، ان کو سکھائے گئے علوم میں سے قرآن مجید میں ان کے اسلحہ سازی کے علم، پرندوں کی بولی کے علم اور حکم یعنی قوت فیصلہ کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ ان کی خوش الحانی اور پرندوں اور پہاڑوں کے ان کے ساتھ تسبیح کرنے کا بھی ذکر ہے۔ نادان لوگ کہتے ہیں کہ لڑائی کرنا نبیوں کا کام نہیں، اس قصہ سے معلوم ہوا کہ جہاد ہمیشہ سے رہا ہے اور اگر جہاد نہ ہو تو مفسد لوگ شہروں کو ویران کر ڈالیں۔ (موضح) وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ ۙ۔۔ : اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب کوئی گروہ قوت و اقتدار کے نشے میں بدمست ہو کر انسانی حد سے آگے بڑھنا چاہتا ہے تو اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کسی دوسرے گروہ کو اٹھا کر اس کی سرکوبی کروا دیتا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو زمین میں امن قائم نہ ہوسکتا۔ مزید دیکھیے سورة حج (40)۔
Ayah 2:252

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader

یہ اللہ کی آیات ہیں، ہم انھیں حق کے ساتھ تجھ پر پڑھتے ہیں اور بلاشبہ تو یقینا رسولوں میں سے ہے۔

یعنی پچھلی امتوں کے یہ واقعات جو ہم آپ کو سنا رہے ہیں، یہ آپ کے نبی صادق ہونے کی واضح دلیل ہیں، کیونکہ آپ نے انھیں نہ کسی کتاب میں پڑھا اور نہ کسی سے سنا، پھر بھی انھیں اس طرح ٹھیک ٹھیک بیان کر رہے ہیں کہ بنی اسرائیل بھی ان کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہ کافروں کی طرف سے آپ کی رسالت کے انکار پر انتہائی تاکیدی الفاظ ”اِنَّ“ اور ”لام تاکید“ کے ساتھ آپ کی رسالت کا اثبات ہے۔ کافر آپ کی رسالت کے انکاری تھے، جیسا کہ فرمایا : (وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا)[ الرعد : 43 ] ”اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کہتے ہیں، تو کسی طرح رسول نہیں ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کے انکار کا رد کرتے ہوئے فرمایا : (وَاِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ ”بلاشبہ تو یقیناً رسولوں میں سے ہے۔“
Ayah 2:253

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader

یہ رسول، ہم نے ان کے بعض کو بعض پر فضیلت دی، ان میں سے کچھ وہ ہیں جن سے اللہ نے کلام کیا اور ان کے بعض کو اس نے درجوں میں بلند کیا اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو واضح نشانیاں دیں اور اسے پاک روح کے ساتھ قوت بخشی۔ اور اگر اللہ چاہتا تو جو لوگ ان کے بعد تھے آپس میں نہ لڑتے، اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح نشانیاں آچکیں اور لیکن انھوں نے اختلاف کیا تو ان میں سے کوئی تو وہ تھا جو ایمان لایا اور ان سے کوئی وہ تھا جس نے کفر کیا اور اگر اللہ چاہتا تو وہ آپس میں نہ لڑتے اور لیکن اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔

تِلْكَ الرُّسُلُ۔۔ : اس سے وہ رسول مراد ہیں جن کا اس سورت میں ذکر آیا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ انبیاء درجات میں مختلف ہیں اور فضیلت میں ایک دوسرے سے زیادہ ہیں، چناچہ فرمایا : (وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيّٖنَ عَلٰي بَعْضٍ) [ بنی إسرائیل : 55 ] ”اور بلاشبہ یقیناً ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت بخشی۔“ مِنْھُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ جیسے موسیٰ ؑ کے بارے میں آتا ہے : (وَكَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِــيْمًا) [ النساء : 164 ] ”اور اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا، خود کلام کرنا۔“ وَرَفَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجٰتٍ : یہ بات اسی آیت میں پہلے بھی گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں میں سے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی، اب پھر فرمایا : ”ان میں سے بعض کو درجات میں بلند کیا“ اس سے ایک خاص شخصیت کی فضیلت بیان کرنا مقصود ہے، جسے سب جانتے ہیں، اس لیے نام لینے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی، جیسا کہ یہ آیت ہے : (سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ) [ بنی إسرائیل : 1 ] اس میں بھی اس بندے کا نام بتانے کی ضرورت نہیں پڑی اور وہ ہمارے نبی کریم ﷺ ہیں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ فضیلت دو طرح کی ہے، ایک مجموعی اور کلی فضیلت اور دوسری جزوی فضیلت، یعنی کسی ایک چیز میں دوسروں سے بڑھ کر ہونا، مثلاً یوسف ؑ کہ وہ خود، ان کے والد، دادا اور پردادا نبی تھے، یہ فضیلت کسی اور رسول کو حاصل نہیں، چناچہ اس لحاظ سے رسول اللہ ﷺ نے انھیں ”أَکْرَمُ النَّاسِ“ یعنی سب لوگوں سے زیادہ معزز فرمایا۔ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : (واتخذ اللہ۔۔) : 3353 ] آدم ؑ کو اللہ تعالیٰ نے ساٹھ (60) ہاتھ قد عطا کیا اور انھیں اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا، یہ آدم ؑ کی جزوی فضیلت ہے، کلی اور مجموعی طور پر ہمارے رسول ﷺ تمام انبیاء سے افضل ہیں، یہی صحیح عقیدہ ہے اور اس پر امت کا اجماع ہے۔ خود آپ ﷺ نے فرمایا : (أَنَا سَیِّدُ وُلْدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلاَ فَخْرَ)”میں آدم ؑ کی اولاد کا قیامت کے دن سردار ہوں گا اور کوئی فخر نہیں۔“ [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورة بنی إسرائیل : 3148، و صححہ الألبانی ] آپ ﷺ کی افضلیت کے لیے قرآن مجید ہی کافی ہے۔ دوسرے تمام انبیاء کے معجزات ان کے ساتھ ہی ختم ہوگئے جبکہ قرآن قیامت تک باقی ہے۔ مفسرین بالخصوص رازی نے آپ ﷺ کی افضلیت کو دلائل سے ثابت کیا ہے اور اس سلسلہ میں شبہات کے جواب دیے ہیں، لیکن ابوہریرہ ؓ سے مروی رسول اللہ ﷺ کا فرمان بظاہر اس کے خلاف ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ”مجھے موسیٰ (ؑ) سے بہتر نہ کہو۔“ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب وفاۃ موسٰی۔۔ : 3408 ] اور ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (لاَ تُفَضِّلُوْا بَیْنَ أَنْبِیَاء اللّٰہِ)”اللہ کے انبیاء کو ایک دوسرے پر فضیلت مت دو۔“ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ۔۔ : 3414 ] علماء نے اس کے متعدد جواب دیے ہیں، جن میں سے واضح ترین جواب دو ہیں، ایک یہ کہ آپ ﷺ کی مراد ہے کہ میری فضیلت ایسے انداز سے بیان نہ کرو جس سے دوسرے انبیاء کی کسر شان کا پہلو نکلتا ہو، کیونکہ آپ ﷺ نے یہ الفاظ مسلمان اور یہودی کے جھگڑے کے موقع پر فرمائے تھے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ کسی نبی کو ایک ایک چیز میں دوسرے انبیاء سے افضل نہ بتاؤ، کیونکہ جزوی فضیلت کسی بھی نبی کی ہوسکتی ہے۔ امام شوکانی ؓ لکھتے ہیں : ”اس آیت سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت حاصل ہے، لیکن حدیث میں فضیلت دینے سے جو منع فرمایا ہے اس سے مراد مقابلہ کی صورت میں ہے، یا جزوی فضیلت مراد ہے، لہٰذا کتاب و سنت میں کوئی تعارض نہیں۔“ (ابن کثیر، فتح القدیر) وَاٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِ۔۔ : یہاں ”الْبَيِّنٰتِ“ سے مراد واضح دلائل اور معجزات ہیں، دیکھیے سورة آل عمران (49) اور روح القدس سے جبریل ؑ مراد ہیں۔ دیکھیے سورة بقرہ (87)۔ یعنی انبیاء کے متبعین میں یہ سب دلائل دیکھنے کے بعد ضد و عناد کی وجہ سے اختلاف اور پھر اس اختلاف کی بنا پر آپس کی لڑائی اللہ تعالیٰ کی حکمت و مشیت سے ہے۔ یہاں ”ایسا کیوں ہوا“ نہیں کہا سکتا کیونکہ اس کا جواب ہمارے فہم سے بالا ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حد تک اختیار دیا ہے، پھر اسے بھی اپنے اختیار کے تحت رکھا ہے، اس کی حکمت وہی جانتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ تقدیر اللہ تعالیٰ کا ایک بھید ہے جو ہم سے مخفی رکھا گیا ہے، لہٰذا اسے معلوم کرنے کی کوشش کا کچھ فائدہ نہیں، بلکہ مان لینا چاہیے کہ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ دیکھیے سورة انبیاء (23)۔ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ کفر و ایمان میں لوگوں کا اختلاف تو پہلے ہی سے چلا آ رہا ہے، کوئی نبی ایسا نہیں کہ جس کی ساری امت ایمان لے آئی ہو، لہٰذا آپ ان کے انکار سے رنجیدہ نہ ہوں۔
Ayah 2:254

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اس میں سے خرچ کرو جو ہم نے تمہیں دیا ہے، اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس میں نہ کوئی خریدو فروخت ہوگی اور نہ کوئی دوستی اور نہ کوئی سفارش اور کافر لوگ ہی ظالم ہیں۔

انسان پر سب سے زیادہ مشکل جان و مال کی قربانی ہے اور عموماً شریعت کے احکام کا تعلق ان دونوں سے ہے۔ اس سورت میں پہلے (وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ) [ البقرۃ : 246 ] فرما کر جہاد کا حکم دیا اور آیت : (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ۔۔) [ البقرۃ : 245 ] سے جہاد کے لیے مال خرچ کرنے کی ترغیب دی، اس کے بعد طالوت کے قصے کے ساتھ پہلے حکم کی تاکید کی اور اس آیت کے ساتھ دوسرے حکم کی تاکید کے لیے دوبارہ مال خرچ کرنے کا حکم دیا۔ (رازی) مقصد یہ کہ انسان دنیاوی اسباب و وسائل کو چھوڑ کر اکیلا ہی اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوگا۔ لہٰذا آخرت میں نجات کے لیے صدقہ و خیرات اور اس جیسے نیک اعمال کو وسیلہ بناؤ۔ قیامت کے دن دنیاوی دوستی، رشتہ داری کا تعلق اور سفارش وغیرہ کوئی چیز کام نہیں آئے گی۔ (ابن کثیر) اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ زکوٰۃ کا منکر کافر ہے، چناچہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ابوبکر صدیق ؓ نے منکرین زکوٰۃ سے جہاد کیا، جیسا کہ کفار سے کیا جاتا ہے۔ (قرطبی)
Ayah 2:255

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 2:255 in the Quran reader

اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے، ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے، نہ اسے کچھ اونگھ پکڑتی ہے اور نہ کوئی نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے، کون ہے وہ جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے، جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو سمائے ہوئے ہے اور اسے ان دونوں کی حفاظت نہیں تھکاتی اور وہی سب سے بلند، سب سے بڑا ہے۔

یہ آیت الکرسی ہے جو قرآن مجید کی تمام آیات سے عظیم آیت ہے۔ ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اے ابو منذر ! کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے پاس اللہ کی کتاب میں سے کون سی آیت سب سے بڑی ہے ؟“ فرماتے ہیں، میں نے کہا، اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اے ابو منذر ! کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے پاس اللہ کی کتاب میں سے کون سی آیت سب سے بڑی ہے ؟“ کہتے ہیں، میں نے عرض کیا : (اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ) (ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا : ”اللہ کی قسم ! (تم نے درست کہا) اے ابو منذر ! تمہیں یہ علم مبارک ہو۔“ [ مسلم، صلوٰۃ المسافرین، باب فضل سورة الکہف و آیۃ الکرسی : 810 ] ابوہریرہ ؓ سے مروی ایک لمبی حدیث ہے، اس میں ان کا زکوٰۃ الفطر کی حفاظت پر مامور ہونا اور ایک شخص کا تین دن آ کر چوری کی کوشش کرنا، روزانہ گرفتار ہو کر منتیں کرکے چھوٹنا اور تیسری دفعہ گرفتار ہونے پر انھیں یہ بتانا مذکور ہے کہ جب تم بستر پر آؤ تو آیت الکرسی پڑھ لیا کرو، تو لازماً اللہ کی طرف سے تم پر ایک حفاظت کرنے والا مقرر ہوگا اور تمہارے صبح کرنے تک کوئی شیطان تمہارے قریب نہیں آئے گا۔ ابوہریرہ ؓ نے اس مرتبہ بھی اسے چھوڑ دیا، صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا : ”تمہارے قیدی کا کیا بنا ؟“ میں نے سارا قصہ سنایا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”یاد رکھو ! اس نے تمہیں سچ بتایا، حالانکہ وہ بہت جھوٹا تھا۔“ پھر آپ ﷺ نے بتایا :”وہ شیطان تھا۔“ [ بخاری، الوکالۃ، باب إذا وکل رجلا فترک ۔۔ : 2311۔ 5010 ] اس حدیث سے آیت الکرسی کی فضیلت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کا نام آیت الکرسی ہونے کی تصدیق بھی معلوم ہوئی۔ ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جو شخص ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھے اسے جنت میں داخلے سے سوائے موت کے کوئی اور چیز نہیں روکے گی۔“ [ الیوم واللیلۃ للنسائی، ص : 183۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 972۔ ابن کثیر اور البانی ؓ نے اسے صحیح کہا ہے ] قرآن مجید کی سب سے لمبی آیت : (اِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ) [ البقرۃ : 282 ] ہے، مگر سب سے زیادہ عظمت والی آیت، آیت الکرسی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس آیت کا موضوع توحید ہے، جو اس میں کئی دلیلوں سے ثابت کیا گیا ہے۔ موضوع اور دلیلوں کی وجہ سے یہ سب سے بڑی آیت ہے۔ سورة اخلاص چھوٹی سی سورت ہونے کے باوجود قرآن کے ثلث (تہائی حصے) کے برابر ہے۔ [ بخاری، فضائل القرآن، باب فضل : (قل ھو اللہ أحد) : 5013 ] اس کی وجہ بھی موضوع توحید کی عظمت ہے۔ نکتہ : آیت الکرسی میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اس کے اسماء اور ضمائر کی صورت میں انیس دفعہ آیا ہے۔ ”يَعْلَمُ“ اور ”شَاۗءَ“ میں بھی ضمیریں موجود ہیں۔ آیت الکرسی ایک دعویٰ اور اس کی گیارہ دلیلوں پر مشتمل آیت ہے۔ دعویٰ یہ ہے : (اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ) یعنی اللہ وہ ہے جس کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں۔ پہلی دلیل : وہ ”اَلْـحَيُّ“ ہے، یعنی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، نہ اس کی ابتدا ہے نہ انتہا۔ عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (کَان اللّٰہُ وَلَمْ یَکُنْ شَیْءٌ قَبْلَہُ)”اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے تھا اور اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی۔“ [ بخاری، التوحید، باب (و کان عرشہ علی الماء) : 7418 ] اس کے سوا کسی ہستی میں یہ خوبی نہیں۔ چناچہ فرمایا : (هُوَ الْـحَيُّ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ) [ المؤمن : 65 ] ”وہی زندہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ اس کے سوا جس چیز کی عبادت بھی کی جاتی ہے وہ نہ ہمیشہ سے ہے نہ ہمیشہ رہے گی، ہر چیز موت کی آغوش سے نکلی ہے اور اسی کی آغوش میں جانے والی ہے، فرمایا : (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا) [ البقرۃ : 28 ] ”تم کیسے اللہ کے ساتھ کفر کرتے ہو، حالانکہ تم بےجان تھے۔“ اور فرمایا : (وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْـــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ۔ اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ ۚ) [ النحل : 20، 21 ]”اور وہ لوگ جنھیں وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، وہ کچھ بھی پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔ مردے ہیں، زندہ نہیں ہیں۔“ وہی ایک ہے جس کو دائم بقا ہے جہاں کی وراثت اسی کو سزا ہے سوا اس کے انجام سب کا فنا ہے نہ کوئی رہے گا نہ کوئی رہا ہے مسافر یہاں ہیں فقیر اور غنی سب غلام اور آزاد ہیں رفتنی سب دوسری دلیل : ”الْقَيُّوْمُ“ یہ ”قَامَ یَقُوْمُ“ سے ”فَیْعُوْلٌ“ کے وزن پر ہے، اصل میں ”قَیْوُوْمٌ“ تھا، پہلی واؤ کو یاء سے بدل دیا، پھر پہلی یاء کو دوسری میں ادغام کردیا، یاء کے اضافے سے مزید مبالغہ پیدا ہوگیا، یعنی وہ کسی سہارے کے بغیر خود قائم ہے اور دوسروں کو قائم رکھنے والا، تھامنے والا ہے۔ انسان جو ”انا ربک الاعلی“ کا دعویٰ کر بیٹھتا ہے، ایک لمحہ بھی اللہ تعالیٰ کے تھامنے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ خود اس کے دل کی دھڑکن، سانس کی آمدورفت، پیشاب و پاخانے کا نظام، خون کی گردش، نیند اور بیداری حتیٰ کہ زندگی اور موت کچھ بھی اس کے ہاتھ میں نہیں، تو دوسروں کو، کیا تھامے گا۔ ہمارے رسول ﷺ کی زندگی، آپ پر آنے والی تکلیفیں، یعنی آپ کا زخمی ہونا، گھوڑے سے گر کر موچ آنا، بیمار ہونا، بھوک، پیاس، غرض پوری زندگی اس کی شاہد ہے، پھر اتنی وسیع کائنات اور لاتعداد مخلوقات کو اللہ کے سوا کون ہے جو تھامے ہوئے ہے کہ اسے مشکل کشا، داتا یا دستگیر یا جھولی بھرنے والا سمجھا جائے۔ آسمان و زمین سے متعلق فرمایا : (اِنَّ اللّٰهَ يُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا) [ فاطر : 41 ] ”بیشک اللہ ہی آسمانوں کو اور زمین کو تھامے رکھتا ہے، اس سے کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹیں۔“ اڑتے پرندوں کے متعلق فرمایا : (مَا يُمْسِكُـهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ ۭ) [ الملک : 19 ] ”رحمٰن کے سوا انھیں کوئی تھام نہیں رہا ہوتا۔“ تیسری دلیل : ”لَا تَاْخُذُهٗ سِـنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ“ ”نَوْمٌ“ اصل میں ”وَسَنٌ“ تھا، جیسے : ”وَعْدٌ“ سے ”عِدَۃٌ“ ہے، شروع سے ”واؤ“ حذف کرکے آخر میں ”تاء“ لے آئے۔ معنی ہے نیند سے پہلے آنے والی اونگھ، جب آدمی سونے اور جاگنے کے درمیان ہوتا ہے۔ ”سِـنَةٌ“ اور ”نَوْمٌ“ کی تنوین کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے : ”اسے نہ کچھ اونگھ پکڑتی ہے نہ کوئی نیند“ یعنی اللہ تعالیٰ کو ذرا برابر اونگھ یا نیند اپنی گرفت میں نہیں لے سکتی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اونگھ اور نیند اتنی زبردست چیزیں ہیں کہ جس پر آتی ہیں اسے پکڑ لیتی ہیں، انسان ان کے سامنے بےبس ہوجاتا ہے۔ ہمارے رسول ﷺ ایک دفعہ صبح کی نماز کے لیے طلوع آفتاب کے بعد بیدار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ اونگھ اور نیند دونوں سے پاک ہے، کیونکہ اگر اسے اونگھ یا نیند آجائے تو کائنات آپس میں ٹکرا کر فنا ہوجائے، اگر تجربہ کرنا ہو تو ہوشیار سے ہوشیار شخص کے دونوں ہاتھوں میں شیشے کا ایک ایک گلاس دے کر اسے ایک دو راتیں جگا کر تجربہ کرلیں۔ چوتھی دلیل : ”لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ“ یعنی جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اسی کا ہے۔ (مزید دیکھیے مریم : 93 تا 95) جب مالک وہ ہے تو عبادت بھی اسی کا حق ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”یحییٰ ؑ نے اللہ کے حکم سے بنی اسرائیل کو یہ بات سمجھائی کہ صرف اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ شریک نہ بناؤ۔ اس کی مثال اس طرح ہے کہ ایک شخص نے اپنے خالص مال سونے یا چاندی کے ساتھ ایک غلام خریدا اور غلام سے کہا کہ یہ میرا گھر ہے اور یہ میرا کام ہے، اس میں کام کرو اور اس کی آمدنی مجھے دیا کرو۔ غلام سارا دن کام کرتا اور شام کو آمدنی مالک کے سوا کسی اور کو دے دیتا، تو تم میں سے کون ہے جو ایسے غلام کو پسند کرے ؟“ [ ترمذی، الأدب، باب ما جاء فی مثل الصلوٰۃ۔۔ : 2863، و صححہ الألبانی ] پانچویں دلیل : ”مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ“ یعنی کون ہے وہ جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے۔ آیت الکرسی سے پہلی آیت میں قیامت کے دن کسی بھی قسم کی سفارش کی نفی فرمائی ہے اور یہاں اللہ تعالیٰ کی اجازت کے ساتھ سفارش ممکن بتائی ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی انسان یا جن یا فرشتہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کی جرأت کرے۔ ہمارے نبی ﷺ بھی جب سفارش کے لیے جائیں گے تو عرش کے نیچے سجدے میں گر کر اللہ تعالیٰ کی تعریفیں کریں گے، جو اللہ تعالیٰ اس وقت آپ کو سکھائے گا، پھر اللہ تعالیٰ سر اٹھانے کا حکم دے گا اور ایک حد مقرر کرکے فرمائے گا کہ ان لوگوں کو جہنم سے نکال لو۔ [ بخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ : (لما خلقت بیدی) : 7410 ] قیامت کے دن سفارش تو کجا اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بات کرنے کی جرأت بھی نہیں کرے گا، جیسا کہ فرمایا : (يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ صَفًّا ٷ لَّا يَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا) [ النبا : 38 ] ”جس دن روح اور فرشتے صف بنا کر کھڑے ہوں گے، وہ کلام نہیں کریں گے، مگر وہی جسے رحمٰن اجازت دے گا اور وہ درست بات کہے گا۔“ یہ عقیدہ کہ کوئی زبردستی اللہ تعالیٰ سے بات منوا سکتا ہے، یا اللہ تعالیٰ کسی کی محبت کے ہاتھوں اس کی سفارش ماننے پر مجبور ہوگا، خالص جاہلانہ عقیدہ ہے اور مکہ کے مشرکوں کا بھی یہی عقیدہ تھا، اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة زمر (3) اور سورة یونس (18) وہاں عجز و نیاز کے سوا اور خود اس کی مہربانی سے اجازت کے بغیر کسی کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ شفاعت کا مضمون اچھی طرح سمجھنے کے لیے شاہ اسماعیل دہلوی ؓ کی کتاب ”تقویۃ الایمان“ کی تیسری فصل کا مطالعہ کریں۔ چھٹی دلیل : ”يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ ۚ“ یعنی وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے اور جو ان کے پیچھے ہے۔ سامنے سے مراد حاضر چیزیں اور پیچھے سے مراد غائب چیزیں ہیں۔ اس میں ماضی، حال اور استقبال سب کا علم آگیا۔ اس کے سوا کسی ہستی میں یہ صفت موجود نہیں، فرمایا : (قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ ۭ وَمَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ) [ النمل : 65 ] ”کہہ دے اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے غیب نہیں جانتا اور وہ شعور نہیں رکھتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔“ جب اللہ تعالیٰ ہمارے اور پوری کائنات کے تمام گزشتہ، موجودہ اور آئندہ حالات سے واقف ہے تو عبادت بھی اسی کا حق ہے۔ ساتویں دلیل : ”وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ“ یعنی کوئی شخص اللہ کے علم یعنی معلومات میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتا مگر جتنا وہ چاہے، جیسا کہ فرمایا : (عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰي غَيْبِهٖٓ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ) [ الجن : 26، 27 ] ”(وہ) غیب کو جاننے والا ہے، پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ مگر کوئی رسول، جسے وہ پسند کرلے تو بیشک وہ اس کے آگے اور اس کے پیچھے پہرا لگا دیتا ہے۔“ حافظ ابن کثیر ؓ نے ایک اور معنی کا احتمال بھی ذکر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا جو بھی ہے وہ اللہ کی ذات وصفات کے علم میں سے کسی بات پر مطلع نہیں ہوسکتا مگر جتنا وہ خود چاہے اور بتادے، گویا یہ اس آیت کی ہم معنی ہے : (وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا) [ طٰہٰ : 110 ] ”اور وہ علم سے اس کا احاطہ نہیں کرسکتے۔“ موسیٰ اور خضر ؑ کے واقعہ میں مذکور ہے کہ ایک چڑیا نے سمندر میں ایک یا دو ٹھونگے مارے تو خضر ؑ نے موسیٰ ؑ سے کہا : ”میرے اور آپ کے علم نے اللہ کے علم سے کم نہیں کیا مگر جتنا اس چڑیا کے ٹھونگے نے سمندر سے کم کیا ہے۔“ [ بخاری، العلم، باب ما یستحب للعالم۔۔ : 122 ] اب خود سوچ لو کہ عبادت کے لائق اللہ تعالیٰ ہے یا یہ بےبس مخلوق۔ آٹھویں دلیل : ”وَسِعَ كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ“ کرسی کا معنی سب لوگوں کے ہاں معروف ہے، یعنی وہ چیز جس پر بیٹھا جاتا ہے۔ سلف صالحین کے نزدیک اس کا معنی کرسی ہی ہے۔ ان کے مطابق اللہ تعالیٰ کی کرسی موجود ہے اور ہمارا اس کے وجود پر ایمان ہے، اگرچہ ہم نہیں جانتے کہ وہ کیسی ہے، کیونکہ یہ انسان کے بس کی بات نہیں، البتہ قرآن مجید میں جو آیا ہے اس کے مطابق اس کی کرسی آسمانوں اور زمین سے زیادہ وسیع ہے، اس پر ہمارا ایمان ہے۔ بعد میں آنے والے مفسرین میں سے بعض نے سلف کا مسلک ہی اختیار کیا ہے، البتہ بعض نے کہا کہ کرسی سے مراد اللہ تعالیٰ کی سلطنت ہے اور بعض نے کہا، اس سے مراد علم ہے۔ عموماً یہ وہ لوگ ہیں جو عرش کے بھی منکر ہیں، چناچہ وہ صاف کہہ دیتے ہیں کہ نہ کوئی عرش ہے نہ کرسی، بلکہ مراد اللہ تعالیٰ کی سلطنت اور حکومت ہے۔ مگر کرسی کا یہ معنی حقیقی نہیں مجازی ہے، جو اس وقت کیا جاتا ہے جب حقیقت ناممکن ہو، حالانکہ اللہ کے عرش اور کرسی کو حقیقی معنوں میں لینے سے کچھ خرابی لازم نہیں آتی۔ رہا یہ خیال کہ پھر تو اللہ تعالیٰ آدمیوں کے مشابہ ہوگیا جبکہ اس کی مثل کوئی چیز نہیں تو سلف کے فرمان کے مطابق ہم یہ کہتے ہی نہیں کہ وہ کرسی ہماری کرسیوں جیسی ہے، نہیں بلکہ وہ اس طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق ہے۔ انسان علیم ہے جیسا کہ فرمایا : (وَبَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ) [ الذاریات : 28 ] ”اور انھوں نے اسے ایک بہت علیم بیٹے کی خوش خبری دی“ اور اللہ تعالیٰ بھی علیم ہے، تو کیا ہم اللہ تعالیٰ کے علیم ہونے کا انکار کردیں کہ اس سے مشابہت لازم آتی ہے، نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ علیم ہے اپنی شان کے مطابق۔ اس سے بھی بڑھ کر مثال لے لیں، انسان موجود ہے تو کیا ہم اللہ تعالیٰ کے موجود ہونے کا انکار کردیں گے کہ اس سے انسان کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے۔ نہیں، ہرگز نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی صفات جس طرح آئی ہیں اسی طرح ماننا پڑیں گی۔ ہاں، وہ صفات مخلوق کی صفات کے مشابہ نہیں۔ آیت میں یہ جملہ بھی توحید کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کرسی کی وسعت اس کے ایک معبود ہونے کی دلیل ہے۔ نویں دلیل : ”وَلَا يَـــــُٔـــوْدُهٗ حِفْظُهُمَا ۚ“ ”آدَ یَؤُوْدُ“ کا معنی کسی چیز کا بھاری بوجھ بننا، مشقت میں ڈال دینا ہے۔ مخلوق کتنی بھی بڑی ہو خود اپنی حفاظت نہیں کرسکتی جب کہ اللہ تعالیٰ کے لیے زمین و آسمان کی حفاظت کچھ بوجھ نہیں۔ دسویں اور گیا رھویں دلیل : ”وَھُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ“ بلندی اور عظمت اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں، مخلوق اللہ تعالیٰ کی بلندی اور عظمت کے مقابلے میں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی، اس لیے عبادت کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔ آخر میں اس آیت میں موجود ایک اور نکتہ کی طرف اشارہ کرنا بھی ضروری ہے کہ یہ آیت باری تعالیٰ کے نام ”اللہ“ سے شروع ہوئی ہے، یہ نام تمام صفات کا جامع ہے، مخلوق میں سے کسی پر یہ نام نہیں بولا جاسکتا ہے۔ تمام مذاہب میں مذکور خداؤں کی تثنیہ و جمع بن سکتی ہے، مثلاً دیویوں، دیوتاؤں اور Gods وغیرہ مگر لفظ ”اللہ“ واحد ہی رہے گا، اس کی نہ جمع بن سکتی ہے نہ تثنیہ۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی توحید کی زبردست دلیل ہے، اگر اس نکتہ کو بھی شامل کرلیں تو آیت میں توحید کی بارہ دلیلیں موجود ہیں۔
Ayah 2:256

لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:256 in the Quran reader

دین میں کوئی زبردستی نہیں، بلاشبہ ہدایت گمراہی سے صاف واضح ہوچکی، پھر جو کوئی باطل معبود کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے تو یقینا اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا، جسے کسی صورت ٹوٹنا نہیں اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ : ابن عباس ؓ نے فرمایا : ”(جاہلیت میں) اگر کسی عورت کے بچے زندہ نہ رہتے تو وہ یہ نذر مان لیتی تھی کہ اگر بچہ زندہ رہا تو وہ اسے یہودی بنا دے گی، پھر جب بنونضیر کو جلاوطن کیا گیا تو ان میں انصار کے کئی لڑکے تھے، انصار نے کہا : ”ہم انھیں نہیں چھوڑیں گے“ تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔“ [ أبوداوٗد، الجہاد، باب فی الأسیر یکرہ علی الإسلام : 2682، وصححہ الألبانی ] یعنی زبردستی کسی کو مسلمان بنانا جائز نہیں، جو مسلمان ہونا چاہے سوچ سمجھ کر مسلمان ہو۔ زبردستی ہوگی تو دل میں ایمان نہیں آئے گا، اس کا کیا فائدہ ؟ البتہ اسلام مسلمانوں کو کفر کا محکوم بننے کے بجائے جہاد کے ذریعے سے تمام کفار کو اسلام کا محکوم بنانے کا حکم دیتا ہے، جس میں کفار پر مسلمان ہونے کے لیے زبردستی نہیں کی جاتی، وہ امن و سلامتی کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں مگر غلبۂ اسلام کی علامت کے طور پر ان سے معمولی رقم بطورجزیہ لی جاتی ہے۔ اگر زبردستی مسلمان بنانا جائز ہوتا تو آج ہندوستان میں غیر مسلموں کا نام و نشان بھی نہ ہوتا، جیسا کہ اندلس میں نصرانیوں نے مسلمانوں پر زبردستی کرکے مسلمانوں کا نام و نشان تک مٹا ڈالا۔ بِالطَّاغُوْتِ : یہ ”طَغٰی یَطْغٰی طُغْیَانًا“ سے صیغہ مبالغہ ”فَعَلُوْتٌ“ کے وزن پر ہے، جیسے جبروت اور ملکوت ہے۔ ”فَعَلُوْتٌ“ کے وزن پر ”طَغَیُوْتٌ“ تھا، پھر تخفیف کے لیے اس میں قلب کیا گیا، یاء کو پہلے اور غین کو بعد میں کردیا گیا ”طَیَغُوْتٌ“ ہوگیا، پھر یائے متحرکہ کا ماقبل مفتوح ہونے کی وجہ سے یاء کو الف سے بدل دیا گیا تو ”طَاغُوْتٌ“ بن گیا، جس کا وزن ”فَلْعُوْتٌ“ ہے۔ مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، جس کا معنی ہے کسی چیز کا اپنی حد سے آگے بڑھ جانا۔ طاغوت میں ”واؤ“ اور ”تاء“ مبالغہ کے لیے ہیں، یعنی جو اپنی حد سے بہت زیادہ آگے بڑھ جائے۔ تمام باطل معبود طاغوت ہیں، کیونکہ انھیں حد سے بڑھا کر اللہ تعالیٰ کے برابر کردیا گیا ہے۔ شیطان کو بھی اسی لیے طاغوت کہتے ہیں۔ جو شخص لوگوں سے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اپنی بندگی اور اطاعت کرواتا ہے وہ بھی طاغوت ہے۔
Ayah 2:257

اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُ١ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:257 in the Quran reader

اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے، وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان کے دوست باطل معبود ہیں، وہ انھیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لاتے ہیں۔ یہ لوگ آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

قرآن پاک میں جہاں بھی ”الظُّلُمٰتِ“ اور ”النُّوْرِ“ کے الفاظ آئے ہیں ان سے مراد کفر و ایمان ہی ہے، ما سوائے سورة انعام (1) (وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ ڛ) کہ وہاں رات اور دن مراد ہیں۔ (رازی) اس آیت میں ”النُّوْرِ“ کا لفظ بصیغہ واحد اور ”الظُّلُمٰتِ“ کا لفظ بصیغہ جمع استعمال ہوا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ حق ہمیشہ اور ہر جگہ ایک ہی ہے اور کفر و شرک اور جہالت کی قسموں کا شمار نہیں، وہ سب باطل ہیں۔ (ابن کثیر) آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان پہلے کافر ہوتا ہے اور ایمان لانے کے بعد کفر کی تاریکی سے نکل کر ایمان کی روشنی میں داخل ہوتا ہے، مگر یہ معنی مراد نہیں بلکہ جو شخص ابتدا ہی سے مسلمان ہے اس کے حق میں بھی توفیق و رحمت کے اعتبار سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کفر کی تاریکی سے نکال کر ایمان کی روشنی میں لے لیا ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے : (لَمَّآ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْھُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا) [ یونس : 98 ] ”جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے ان سے ذلت کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹا دیا۔“ حالانکہ ان پر تاحال عذاب نازل نہیں ہوا تھا۔ اسی طرح فرمایا : (ڐوَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰٓى اَرْذَلِ الْعُمُرِ) [ النحل : 70 ] ”اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو سب سے نکمّی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔“ حالانکہ وہ پہلے کبھی نکمّی عمر میں نہ تھے جس کی طرف دوبارہ لوٹائے گئے ہوں۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے سنا کہ اس نے کہا : ”أَشْھَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ“ تو آپ ﷺ نے فرمایا : (خَرَجَ مِنَ النَّارِ) ”یہ شخص آگ سے نکل آیا۔“ [ مجمع الزوائد : 1/334 ] حالانکہ وہ پہلے آگ میں نہیں تھا۔ یوسف ؑ نے کہا : (اِنِّىْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ) [ یوسف : 37 ] ”میں نے ان لوگوں کی ملت چھوڑ دی جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے“ حالانکہ یوسف ؑ کبھی ان کی ملت میں داخل نہیں تھے۔ الغرض ! قرآن و حدیث میں اس قسم کے محاورات بکثرت مذکور ہیں، خوب سمجھ لو۔ (رازی) اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ : یعنی یہ کافر اور ان کے باطل معبود سب جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ دیکھیے سورة بقرہ (24) اور سورة انبیاء (98)۔
Ayah 2:258

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 2:258 in the Quran reader

کیا تو نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا، اس لیے کہ اللہ نے اسے حکومت دی تھی، جب ابراہیم نے کہا میرا رب وہ ہے جو زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے، اس نے کہا میں زندگی بخشتا اور موت دیتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا پھر اللہ تو سورج کو مشرق سے لاتا ہے، پس تو اسے مغرب سے لے آ، تو وہ جس نے کفر کیا تھا حیرت زدہ رہ گیا اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ : یعنی اس بادشاہ کے رب تعالیٰ کے متعلق ابراہیم ؑ سے جھگڑے کی وجہ یہ ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حکومت عطا فرمائی، اس کا شکر اس نے یہ ادا کیا کہ خود رب بن بیٹھا اور جس نے اسے حکومت عطا فرمائی تھی اس کا انکار کردیا۔ اگر اللہ تعالیٰ اسے فقیر بنا دیتا تو کبھی یہ جسارت نہ کرتا۔ ابراہیم ؑ عراق کے رہنے والے تھے، ان کے زمانے میں عراق کے اندر شرک تقریباً اپنی ساری صورتوں کے ساتھ موجود تھا، بتوں کو وہ پوجتے تھے، سورج، چاند اور ستاروں کی پرستش وہ کرتے تھے اور ان کے ساتھ ساتھ بادشاہ وقت کو بھی رب مانتے تھے۔ ابراہیم ؑ کے ذمے ان سب صورتوں کی تردید کرکے لوگوں کو اکیلے رب کی عبادت کی دعوت دینا تھا۔ چناچہ انھوں نے اپنے والد اور قوم کو بت پرستی چھوڑ کر ایک رب کی عبادت کی دعوت دی، نتیجے میں گھر سے نکلنا پڑا، پھر نہایت حکیمانہ طریقے سے سورج، چاند اور ستاروں کا رب نہ ہونا ایسا واضح کیا کہ قوم لاجواب ہوگئی۔ (دیکھیے انعام : 76 تا 82) نتیجے میں قوم کے جھگڑے اور سورج، چاند اور ستاروں کے غضب کا نشانہ بننے کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جب ابراہیم ؑ نے سمجھا کہ محض نصیحت سے بتوں کی بےبسی ماننے پر یہ لوگ تیار نہیں تو میلے والے دن ان کے بڑے بت کو چھوڑ کر باقی سارے بت توڑ دیے۔ تفتیش ہوئی، ابراہیم ؑ مجرم قرار پائے، اس موقع پر ساری قوم کے سامنے بتوں کی بےبسی ایسی واضح فرمائی کہ وہ اپنے دلوں میں مان گئے کہ ظالم وہ خود ہی ہیں، ابراہیم ؑ کا کچھ قصور نہیں۔ اب حق کو قبول کرنے کے بجائے الٹاکہنے لگے کہ اسے جلا دو اور اپنے خداؤں کی مدد کرو۔ (دیکھیے انبیاء : 51 تا 70) اب ظاہر ہے کہ عوام جتنے بھی ہوں کسی کو سزا دینا تو حکومت کا کام ہے، اس لیے انھیں وقت کے بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا، وہ اپنی سلطنت میں بت پرستی، ستارہ پرستی کو برداشت کرتا تھا، بلکہ اس کی پشت پناہی کرتا تھا، کیونکہ وہ خود بھی مشرک تھا اور اپنے رب ہونے کا بھی دعویدار تھا۔ اس موقع پر بادشاہ کے ساتھ یہ مناظرہ ہوا، جس میں لاجواب ہو کر اس نے ابراہیم ؑ کو آگ میں پھنکوا دیا۔ یہ واقعہ اور بعد والے دونوں واقعات اس بات کی مثال اور دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو کس طرح اندھیرے سے روشنی کی طرف لاتا ہے اور طاغوت اپنے دوستوں کو کس طرح روشنی سے اندھیرے کی طرف لے جاتے ہیں۔ ابراہیم ؑ نے جب اس بادشاہ کے رب ہونے سے انکار کیا تو اس نے پوچھا : ”تمہارا رب کون ہے ؟“ آپ نے فرمایا : ”میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔“ اس نے کہا : ”میں زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں۔“ بعض تابعین سے منقول ہے کہ اس نے دو قیدی منگوائے، ایک کو قتل کردیا، ایک کو چھوڑ دیا اور کہا : ”دیکھو ! انھیں زندہ رکھنا یا مارنا میرے ہاتھ میں ہے۔“ تابعین کی بات اسرائیلی روایت ہی ہوسکتی ہے کیونکہ وہ خود تو اس وقت موجود نہیں تھے اور اس کی ضرورت اس وقت ہے جب وہ بادشاہ متقی اور ہمیشہ سچ بولنے والا ہو۔ ایک جھوٹا شخص کوئی غلط بات کہے تو اسے تاویل کے ساتھ صحیح ثابت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ جو شخص یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ میں رب ہوں، اسے یہ دعویٰ کرنے میں کیا چیز مانع ہے کہ میں ہی سب کو زندہ کرتا ہوں اور میں ہی مارتا ہوں۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ جب ابراہیم ؑ نے دیکھا کہ یہ کج بحثی پر اترا ہوا ہے تو پہلی دلیل چھوڑ کر دوسری دلیل سورج والی دی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم ؑ نے پہلی دلیل چھوڑی نہیں، بلکہ اس کے ذریعے سے اس کے منہ سے اس دعویٰ کا اقرار کروا لیا کہ میں زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں۔ اب اس دعویٰ پر دوسری دلیل کی بنیاد رکھی کہ جب تم میں اتنی قوت ہے کہ تمھی سب کو پیدا کرتے ہو اور تمھی مارتے ہو تو اس کے مقابلے میں ایک معمولی سا کام کرکے دکھاؤ، یہ کہ اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق سے طلوع کرتا ہے، جب سارا اختیار تمہارے پاس ہے تو سورج کو مغرب سے طلوع کرکے دکھا دو ، اس پر وہ بےایمان حیرت زدہ ہو کر بالکل لاجواب ہوگیا اور ایسے ظالموں کو اللہ تعالیٰ بھی راہ راست پر آنے کی توفیق نہیں دیتا۔ نمرود کی ناک میں مچھر کے گھسنے اور چار سو سال تک ہتھوڑوں سے اپنے آپ کو پٹوانے کے واقعات نہ رسول اللہ ﷺ سے منقول ہیں نہ کسی صحابی سے۔
Ayah 2:259

اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:259 in the Quran reader

یا اس شخص کی طرح جو ایک بستی پر گزرا اور وہ اپنی چھتوں پر گری ہوئی تھی، اس نے کہا اللہ اس کو اس کے مرنے کے بعد کیسے زندہ کرے گا ؟ تو اللہ نے اسے سو سال تک موت دے دی، پھر اسے زندہ کیا، فرمایا تو کتنی دیر رہا ہے ؟ اس نے کہا میں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہا ہوں۔ فرمایا بلکہ تو سو سال رہا ہے، سو اپنے کھانے اور اپنے پینے کی چیزیں دیکھ کہ بگڑی نہیں اور اپنے گدھے کو دیکھ اور تاکہ ہم تجھے لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور ہڈیوں کو دیکھ ہم انھیں کیسے اٹھا کر جوڑتے ہیں، پھر ان کو گوشت پہناتے ہیں۔ پھر جب اس کے لیے خوب واضح ہوگیا تو اس نے کہا میں جانتا ہوں کہ بیشک اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

اَوْ كَالَّذِيْ مَرَّ عَلٰي قَرْيَةٍ : اس ”اَوْ“ کا عطف اس سے پہلی آیت (اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْ) میں مذکور ”الَّذِيْ“ پر ہے، یعنی کیا تو نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے۔۔ ، یا کیا تو نے اس جیسے شخص کو نہیں دیکھا۔۔ ”اَلَمْ تَر“ کا معنی ”اَلَمْ تَعْلَمْ“ ہوتا ہے۔ (دیکھیے سورة فیل کے حواشی) اور ”اَلَمْ تَرَ“ سے مقصود کوئی عجیب واقعہ بیان کرنے سے پہلے اس کے سننے کا شوق دلانا ہوتا ہے۔ خَاوِيَةٌ : یہ باب ”ضَرَبَ“ سے اسم فاعل ہے، مادہ ”خ و ی“ ہے، جس کا معنی کھوکھلا ہونا ہے۔ چونکہ کھوکھلا ہونے کا نتیجہ گرپڑنا ہے، اس لیے اس کا معنی گرپڑنا بھی آتا ہے، عموماً پہلے چھت گرتی ہے پھر دیواریں اس پر گر پڑتی ہیں، اس لیے فرمایا : ”چھتوں پر گری ہوئی تھی۔“ لَمْ يَتَسَـنَّهْ ۚ: اس لفظ کا مادہ یا تو ”س ن ن“ ہے، جس کا معنی بدبو دار ہونا ہے، جیسے فرمایا : (مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ) [ الحجر : 26 ] ”جو بدبودار، سیاہ کیچڑ سے تھی۔“ باب تفعل میں ”لَمْ یَتَسَنَّنْ“ ہوگیا، پھر آخری نون کو ”ہاء“ سے بدل دیا، جیسے : ”لَمْ یَتَقَضَّضِ الْبَازِیْ“ (باز تیزی سے نہیں جھپٹا) کو ”لَمْ یَتَقَضَّہْ“ کردیتے ہیں۔ یا پھر اس کا مادہ ”سن ن ہ“ ہے، اس سے باب تفعل ”تَسَنَّہَ“ کا معنی روٹی کا بدبودار ہونا ہے، اس صورت میں ”ہاء“ اصل ہے، تو ”لَمْ يَتَسَـنَّهْ ۚ“ کا معنی ہے، بدبودار نہیں ہوا۔ پہلے قصے سے کائنات کو بنانے والے کا ایک ہونا (یعنی توحید) بیان کرنا مقصود تھا، جبکہ اس قصے اور اس کے بعد والے قصے سے حشر و نشر ثابت کرنا مقصود ہے۔ اس آیت میں مذکور شخص سے متعلق رسول اللہ ﷺ یا صحابہ کرام ؓ سے صحیح سند کے ساتھ کوئی ذکر نہیں ملتا کہ وہ کون تھا۔ بعض تابعین نے اس کا نام عزیر ؑ بتایا ہے اور بعض نے ارمیا اور ظاہر ہے کہ اس کا ماخذ وہ اسرائیلی روایات ہیں جنھیں نہ سچا کہا جاسکتا ہے نہ ہی جھوٹا۔ واللہ اعلم ! البتہ یہ بات یقینی ہے کہ وہ اللہ کے نبی تھے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ان سے پوچھنا اور پھر اصل مدت بتانا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ اللہ کے نبی تھے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کا اس بستی کو دوبارہ زندہ کرنا بعید کیوں سمجھا ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ انھوں نے بعید سمجھ کر یہ سوال نہیں کیا تھا اور نہ انھیں قیامت اور دوبارہ زندہ ہونے میں کوئی شک تھا، بلکہ اس سے اطمینان حاصل کرنا مقصود تھا اور وہ دوبارہ زندہ ہونے کا مشاہدہ کرنا چاہتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ انبیاء کو بعض حقیقتوں کا آنکھوں سے مشاہدہ کروا دیتا ہے۔ ان دونوں واقعات سے یہ بتانا مقصود ہے کہ جس شخص کا دوست اور کار ساز اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اسے کس طرح اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آتا ہے۔ (رازی) معلوم ہوتا ہے کہ جب اس نبی نے وفات پائی تھی تو اس وقت کچھ دن چڑھا ہوا تھا اور جب دوبارہ زندہ ہوئے تو سورج غروب ہونے کو تھا، اس لیے انھوں نے سو سال گزرنے کے باوجود یہ سمجھا کہ ایک دن یا اس کا کچھ حصہ گزرا ہے۔
Ayah 2:260

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:260 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے کہا اے میرے رب ! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا ؟ فرمایا اور کیا تو نے یقین نہیں کیا ؟ کہا کیوں نہیں اور لیکن اس لیے کہ میرا دل پوری تسلی حاصل کرلے۔ فرمایا پھر چار پرندے پکڑ اور انھیں اپنے ساتھ مانوس کرلے، پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک حصہ رکھ دے، پھر انھیں بلا، دوڑتے ہوئے تیرے پاس آجائیں گے اور جان لے کہ بیشک اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

ابراہیم ؑ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے، اللہ تعالیٰ کے فرشتے اور احکام ان کے پاس آتے رہتے تھے، ان کو مردوں کے جی اٹھنے میں کوئی شک نہ تھا مگر انھوں نے آنکھوں سے دیکھ لینا چاہا، انسانی عادت ہے کہ وہ علم کے بعد آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہے، چناچہ ابراہیم ؑ نے علم الیقین کے بعد عین الیقین کا مرتبہ حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ (ابن کثیر) فَصُرْھُنَّ : یہ ”صَارَ یَصُوْرُ“ یا ”یَصِیْرُ“ (اجوف واوی یا یائی) سے ہے۔ اس لفظ کے معنی عموماً ”اَمِلْھُنَّ“ کیے گئے ہیں، یعنی ”ان کو ہلالے۔“ شاہ عبد القادر ؓ اپنے فائدے میں لکھتے ہیں : ”ابراہیم ؑ کو ہلانے کو اس لیے فرمایا گیا تاکہ وہ زندہ ہونے کے بعد خوب پہچانے جاسکیں کہ واقعی وہی ہیں جو ذبح کرکے پہاڑ پر رکھے گئے ہیں اور کوئی شبہ نہ رہے۔ اس صورت میں ”ثُمَّ اجْعَلْ“ سے پہلے ”ثُمَّ قَطِّعْھُنَّ“ محذوف ماننا پڑے گا اور کہا جائے گا کہ بعد کا جملہ چونکہ اس پر دلالت کر رہا ہے، اس لیے اسے حذف کردیا گیا۔ (بیضاوی) صحابہ و تابعین اور اہل لغت کی ایک جماعت نے ”فَصُرْھُنَّ“ کے معنی ”قَطِّعْھُنَّ“ بھی بتائے ہیں، یعنی ”ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔“ چناچہ ابن جریر اور طبری نے اس معنی پر بہت سے شواہد پیش کیے ہیں۔ اصل میں یہ لفظ ”صَارَ یَصُوْرُ“ یا ”یَصِیْرُ“ سے امر کا صیغہ ہے، جس کے معنی قطع کرنا بھی آئے ہیں اور مائل کرنا بھی اور اس میں قراءت کے اختلاف نے اور زیادہ اشتباہ اور وسعت پیدا کردی اور علمائے لغت نے اسے اضداد میں ذکر کیا ہے۔ (اُضداد ابی الطیب، مجاز ابی عبیدۃ) ہمارے استاذ شیخ محمد عبدہ ؓ فرماتے ہیں : ”اس جگہ سوال و جواب کے انداز اور سیاق کلام سے ”قطع“ کے معنی راجح معلوم ہوتے ہیں اور اس پر سلف مفسرین بھی تقریباً متفق نظر آتے ہیں۔“ (واللہ اعلم) بندۂ عاجز نے ترجمہ ”اَمِلْہُنَّ“ کیا ہے، یعنی ان کو اپنی طرف ہلا لے، مانوس کرلے۔ اس کی وجہ ایک تو استاذ مرحوم کا فائدے کے شروع میں فرمانا ہے کہ عموماً اس کا معنی یہی کیا جاتا ہے، چناچہ شاہ ولی اللہ اور ان کے دونوں فرزندان ارجمند اور بہت سے علماء نے یہی ترجمہ کیا ہے۔ دوسری وجہ یہ کہ ”فَصُرْھُنَّ“ کے بعد ”اِلَيْكَ“ (اپنی طرف) سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ البتہ ذبح کرکے ان کے ٹکڑے پہاڑوں پر رکھنے میں کوئی شک نہیں۔ ان چار جانوروں کی تعیین میں علمائے تفسیر کا اختلاف ہے، بعض نے مرغ، مور، کوا اور کبوتر بتائے ہیں اور بعض نے دوسرے نام ذکر کیے ہیں اور پھر چار پہاڑوں پر ان کو الگ الگ رکھنے اور ان کے درمیان کھڑے ہو کر ہر ایک کا نام لے کر پکارنے کی کیفیت بھی بعض تابعین سے منقول ہے، مگر حافظ ابن کثیر ؓ لکھتے ہیں کہ جانوروں کی یہ تعیین بےفائدہ ہے، اس کی کچھ اہمیت ہوتی تو قرآن خاموش نہ رہتا۔ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ: آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی صفات پر مشتمل الفاظ ساری آیت کا خلاصہ ہوتے ہیں، یہ قرآنی اعجاز ہے۔ اس آیت میں مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہے مردوں کو زندہ کرنے پر اسے کامل غلبہ و قدرت حاصل ہے ”حَكِيْمٌ“ کمال حکمت والا ہے، جس کے مطابق اس نے زندوں کی موت کے لیے اور مردوں کو زندہ کرنے کے لیے ایک وقت مقرر رکھا ہے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں کہ یہ تین قصے بیان فرمائے ہیں اس پر کہ اللہ خود ہدایت کرنے والا ہے جس کو چاہے، اگر شبہ پڑے تو ساتھ ہی جواب سمجھا دیتا ہے۔ اب آگے پھر جہاد کا ذکر ہے اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کا۔ (موضح)
Ayah 2:261

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:261 in the Quran reader

ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، ایک دانے کی مثال کی طرح ہے جس نے سات خوشے اگائے، ہر خوشے میں سو دانے ہیں اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے بڑھا دیتا ہے اور اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : قرآن مجید میں ”ْ سَبِيْلِ اللّٰهِ“ کا لفظ عام یعنی اسلام کے معنی میں بھی آیا ہے، جیسے فرمایا : (اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَاْكُلُوْنَ اَمْوَال النَّاس بالْبَاطِلِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ) [ التوبۃ : 34 ] ”بیشک بہت سے عالم اور درویش یقیناً لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں اور اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔“ اس صورت میں اسلام کے ہر کام میں خرچ کرنا فی سبیل اللہ خرچ کرنا ہے اور خاص معنوں میں بھی آیا ہے، جیسا کہ سورة توبہ (60) میں صدقات خرچ کرنے کی جگہوں میں ایک ”فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ“ ہے۔ وہاں ”فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ“ سے خاص جہاد مراد ہے، نیز صحیح بخاری میں حج کو بھی اس میں شمار کیا ہے۔ یہاں اگرچہ عام معنی بھی مراد لیا جاسکتا ہے مگر جیسا کہ شاہ عبد القادر ؓ نے فرمایا : ”جہاد مراد لینا گزشتہ اور آئندہ آیات کے لحاظ سے زیادہ مناسب ہے۔“
Ayah 2:262

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:262 in the Quran reader

جو لوگ اپنے مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، پھر انھوں نے جو خرچ کیا اس کے پیچھے نہ کسی طرح کا احسان جتلانا لگاتے ہیں اور نہ کوئی تکلیف پہنچانا، ان کے لیے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، اور ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ۔۔ : یعنی یہ ثواب صرف ان لوگوں کو حاصل ہوگا جو رضائے الٰہی کے لیے خرچ کرتے ہیں اور خرچ کرنے کے بعد نہ کسی پر احسان جتلاتے ہیں اور نہ زبان و عمل سے کوئی تکلیف دیتے ہیں، کسی کو کچھ دے کر احسان جتلانا کبیرہ گناہ ہے۔ ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”تین آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے قیامت کے دن نہ کلام کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے عذاب الیم ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے تین دفعہ یہ فرمایا۔ ابوذر ؓ نے عرض کیا : ”وہ تو ناکام و نامراد ہوگئے، یا رسول اللہ ! وہ کون ہیں ؟“ آپ نے فرمایا : ”کپڑا لٹکانے والا، احسان جتلانے والا اور جھوٹی قسم کے ساتھ اپنا مال فروخت کرنے والا۔“ [ مسلم، الإیمان، باب بیان غلظ تحریم إسبال۔۔ : 106 ]
Ayah 2:263

قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًى١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ Open ayah 2:263 in the Quran reader

اچھی بات اور معاف کردینا اس صدقے سے بہتر ہے جس کے پیچھے کسی طرح کا تکلیف پہنچانا ہو اور اللہ بہت بےپروا، بےحد بردبار ہے۔

قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ۔۔ : یعنی اگر کوئی صدقہ نہیں کرسکتا تو اچھے الفاظ کے ساتھ معذرت کرلے اور سائل کے اصرار اور بدتمیزی پر غصے ہونے کے بجائے مغفرت یعنی معافی اور درگزر سے کام لے اور سوچ لے کہ اللہ تعالیٰ کتنا غنی ہے، پھر بھی کتنا بردبار ہے جو ہماری خطاؤں کے باوجود حلم سے کام لیتا ہے۔ ہمیں بھی اس طرح حلم سے کام لینا چاہیے۔ جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”ہر نیکی صدقہ ہے اور نیکی میں سے یہ بھی ہے کہ تو اپنے بھائی کو کھلے چہرے کے ساتھ ملے اور یہ کہ اپنے ڈول میں سے اس کے ڈول میں (پانی) انڈیل دے۔“ [ ترمذی، البر والصلۃ، باب ما جاء فی طلاقۃ۔۔ : 1970، و صححہ الألبانی ]
Ayah 2:264

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى١ۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:264 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنے صدقے احسان رکھنے اور تکلیف پہنچانے سے برباد مت کرو، اس شخص کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، تو اس کی مثال ایک صاف چٹان کی مثال جیسی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی ہو، پھر اس پر ایک زوردار بارش برسے، پس اسے ایک سخت چٹان کی صورت چھوڑ جائے۔ وہ اس میں سے کسی چیز پر دسترس نہیں پائیں گے جو انھوں نے کمایا اور اللہ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بالْمَنِّ وَالْاَذٰى ۙ۔۔ : یعنی کسی کو صدقہ دینے کے بعد اس پر احسان جتلا کر یا اسے تکلیف دے کر اس منافق کی طرح اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو جو صرف ریا کاری کے جذبہ کے تحت اپنا مال خرچ کرتا ہے اور اس کا اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں ہے۔ (ابن کثیر) كَمَثَلِ صَفْوَانٍ : یعنی یہ ریا کار بظاہر اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں اس کی مثال اس صاف چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی جمی ہوئی ہو (”تُرَابٌ“ کی تنوین تقلیل کے لیے ہے) اور دیکھنے والا اسے قابل کاشت زمین خیال کرے، لیکن جونہی بارش ہو اس کی تمام مٹی دھل جائے اور وہ صاف چٹان کی چٹان رہ جائے، اسی طرح ریا کاروں کے عمل ان کے صحیفۂ اعمال سے مٹ جائیں گے اور وہ ان سے نہ کوئی فائدہ اٹھا سکیں گے اور نہ انھیں ان کا کوئی اجر ملے گا۔ اوپر کی آیت میں مثال تھی مخلص مومن کے صدقہ و خیرات کی، جو محض رضائے الٰہی کے لیے خرچ کرتا ہے اور یہ مثال ہے ریا کار کے خرچ کرنے کی، جس کا اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان نہیں ہے۔ (ابن کثیر)