2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 2:197

اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ١ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ١ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؔؕ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 2:197 in the Quran reader

حج چند مہینے ہے، جو معلوم ہیں، پھر جو ان میں حج فرض کرلے تو حج کے دوران نہ کوئی شہوانی فعل ہو اور نہ کوئی نافرمانی اور نہ کوئی جھگڑا، اور تم نیکی میں سے جو بھی کرو گے اللہ اسے جان لے گا اور زاد راہ لے لو کہ بیشک زاد راہ کی سب سے بہتر خوبی (سوال سے) بچنا ہے اور مجھ سے ڈرو اے عقلوں والو !

(اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ ۚ) عمرہ سال میں کسی وقت بھی کیا جاسکتا ہے، مگر حج مقررہ وقت ہی میں کیا جاسکتا ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا : ”حج کے مہینے جو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمائے ہیں شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ ہیں۔“ [ بخاری، الحج، باب قول اللہ تعالیٰ : (ذلک لمن لم یکن أہلہ۔۔): 1572 ] اور ابن عمر ؓ نے فرمایا : ”اس سے مراد شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے پہلے دس دن ہیں۔“ [ بخاری، قبل ح : 1560۔ طبری : 2؍267، ح : 3522۔ مستدرک حاکم : 2؍303، ح : 3092 و صححہ ووافقہ الذھبی ] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کا احرام حج کے مہینوں کے سوا دوسرے مہینوں میں نہ باندھا جائے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : ”سنت یہ ہے کہ حج کا احرام حج کے مہینوں ہی میں باندھا جائے۔“ [ ابن خزیمۃ، باب النہی عن الإحرام۔۔ : 4؍162، ح : 2596 ] ابن کثیر نے اسے صحیح کہا ہے اور یہ مرفوع کے حکم میں ہے۔ (فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ) حج کو اپنے آپ پر فرض کرنا یہ ہے کہ حج کی نیت کے ساتھ احرام باندھ لے اور زبان سے ”لَبَّیْکَ بالْحَجِّ“ اور ”لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ۔۔“ مکمل تلبیہ کہے۔ (ابن کثیر) (فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ ۙوَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ ۭ) یعنی حج میں یہ سب باتیں حرام ہیں۔ ”رَفَثَ“ (شہوانی فعل) سے جماع اور تمام وہ چیزیں مراد ہیں جو جماع کی طرف مائل کرنے والی ہوں۔ ”فُسُوْقَ ۙ“ (نافرمانی) کا لفظ ہر گناہ کو شامل ہے اور ”جِدَالَ“ سے لڑائی جھگڑا مراد ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس نے اس گھر کا حج کیا اور (دوران حج میں) رفث و فسوق نہیں کیا وہ اس دن کی طرح (گناہوں سے پاک) لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔“ [ بخاری، المحصر و جزاء الصید، باب قول اللہ عزوجل : (فلا رفث) : 1819 ] ڼوَتَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَيْرَ الزَّاد التَّقْوٰى ۡ) تقویٰ کا لغوی معنی بچنا ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا : ”اہل یمن حج کرتے تو زاد راہ نہیں لاتے تھے اور کہتے تھے، ہم توکل والے ہیں، پھر جب مکہ میں آتے تو لوگوں سے مانگتے، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔“ [ بخاری، الحج، باب قول اللہ تعالیٰ : (و تزودوا فإن۔۔) : 1523 ] ایسا توکل اللہ پر نہیں بلکہ درحقیقت لوگوں کی جیبوں پر ہے۔ (تلبیس ابلیس) فرمایا زاد راہ لو، اس کا فائدہ یہ ہے کہ سوال سے بچ جاؤ گے۔ ظاہری زاد کے ساتھ دلی زاد بھی ضروری ہے، جس کی بہترین صورت تقویٰ یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنا ہے، آیت سے دونوں معنی لیے جاسکتے ہیں اور دونوں مراد ہیں۔
Ayah 2:198

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ١۪ وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ١ۚ وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 2:198 in the Quran reader

تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے رب کا کوئی فضل تلاش کرو، پھر جب تم عرفات سے واپس آؤ تو مشعر حرام کے پاس اللہ کو یاد کرو اور اس کو اس طرح یاد کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت دی ہے اور بلاشبہ اس سے پہلے تم یقینا گمراہوں سے تھے۔

ابن عباس ؓ نے فرمایا :”عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز جاہلیت میں بازار تھے، اب مسلمانوں نے حج کے دنوں میں وہاں تجارت کرنے کو گناہ سمجھا، تو اس پر یہ آیت اتری۔“ [ بخاری، التفسیر، باب : (لیس علیکم جناح۔۔) : 4519 ] یعنی حج کے دوران میں خریدو فروخت ممنوع نہیں، بلکہ یہ مال و دولت اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، اس لیے روزی کمانا منع نہیں ہے۔ کعبہ سے چلیں تو پہلے منیٰ ، پھر مزدلفہ، پھر عرفات آتا ہے۔ حاجی آٹھ ذوالحجہ (یوم ترویہ) کو منیٰ میں ظہر سے پہلے پہنچتے ہیں، ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر منیٰ میں ادا کرتے ہیں۔ احرام کے بعد حج یہاں سے شروع ہوتا ہے، نو ذوالحجہ کو عرفات جاتے ہیں۔ سورج ڈھلنے سے لے کر اس کے غروب ہونے تک عرفات میں وقوف (ٹھہرنا) حج کا سب سے بڑا رکن ہے۔ عبد الرحمن بن یعمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”حج عرفات (میں وقوف) ہی ہے، جس نے مزدلفہ والی رات میں عرفات (کا وقوف) فجر طلوع ہونے سے پہلے پا لیا تو اس نے حج کو پا لیا۔“ [ ترمذی : 2975۔ أبو داوٗد : 1950، و صححہ الألبانی ] مشعر حرام ایک پہاڑ ہے، اس کے پاس سے مراد مزدلفہ ہے اور حرم کے اندر ہونے کی وجہ سے اسے ”الْحَرَامِ“ کہہ دیا گیا ہے، عرفات سے واپس آ کر حاجی حضرات رات یہاں بسر کرتے ہیں اور صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھ کر سورج طلوع ہونے کے قریب تک ذکر الٰہی میں مشغول رہتے ہیں، پھر سورج طلوع ہونے سے پہلے منیٰ کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں۔ (وَاذْكُرُوْهُ كَمَا ھَدٰىكُمْ ۚ) یعنی مشرکین بھی اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے تھے، یہ بھی ”لَبَّیْکَ اَللَّھُمَّ لَبَّیْکَ ، لَبَّیْکَ لاَ شَرِیْکَ لَکَ“ یعنی تیرا کوئی شریک نہیں کہتے تھے، مگر پھر ساتھ شریک ملاتے تھے، کہتے تھے : (اِلاَّ شَرِیْکًا لَکَ تَمْلِکُہٗ وَمَا مَلَکَ) [ مسلم، الحج، باب التلبیۃ : 1185 ] ”ہاں ایک شریک جو تیرا ہے، جس کا تو مالک ہے، وہ خود مالک نہیں۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ”اس کو اس طرح یاد کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت دی ہے“ یعنی اس کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو، فرمایا : (فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ) [ الشعراء : 213۔ القصص : 88 ] ”اللہ کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو۔“ پھر کیا حال ہے ان مسلمانوں کا جو وہاں جا کر بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیر اللہ کو پکارتے ہیں۔
Ayah 2:199

ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:199 in the Quran reader

پھر اس جگہ سے واپس آؤ جہاں سے سب لوگ واپس آئیں اور اللہ سے بخشش مانگو، بیشک اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

عرفات کا میدان حرم کی حدود سے باہر ہے، دوران حج میں تمام لوگ وہاں جاتے، مگر قریش مزدلفہ سے آگے نہ جاتے کہ ہم حرم کے رہنے والے ہیں، اس آیت میں حکم ہوا کہ سب لوگوں کے ساتھ عرفات جانا اور ان کے ساتھ وہاں سے واپس لوٹنا ضروری ہے۔ (ابن کثیر)
Ayahs 2:200–202

فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا١ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ Open ayah 2:200 in the Quran reader

پھر جب تم اپنے حج کے احکام پورے کرلو تو اللہ کو یاد کرو، اپنے باپ دادا کو تمہارے یاد کرنے کی طرح، بلکہ اس سے بڑھ کر یاد کرنا، پھر لوگوں میں سے کوئی تو وہ ہے جو کہتا ہے اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں دے دے اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 2:201 in the Quran reader

اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو کہتا ہے اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 2:202 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہے جو انھوں نے کمایا اور اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔

اسلام سے پہلے عرب حج سے فارغ ہوتے تو منیٰ میں میلہ لگاتے اور اپنے آباء و اجداد کا خوب تذکرہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اسی طرح ذکر الٰہی کیا کرو، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ (فتح القدیر) ذکر الٰہی کا حکم دینے کے بعد دعا کی کیفیت بیان فرمائی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے والے دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو صرف دنیا کے طالب ہوتے ہیں ایسے لوگ آخرت کی نعمتوں سے یکسر محروم رہیں گے (دیکھیے الشوریٰ : 20) اور دوسرے وہ جو دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی طلب کرتے ہیں، اصل کامیابی انھی لوگوں کی ہے۔ (رازی، شوکانی) دنیا کی بھلائی (حسنہ) میں نیک بیوی، دنیا میں غلبہ، خلافت اسلامی کا قیام، وسعت رزق، دین و دنیا کا علم اور اللہ کے احکام کے مطابق چلنے کی توفیق، الغرض سب نیک اعمال شامل ہیں اور آخرت کی بھلائی میں دوزخ سے نجات، جنت، رضائے الٰہی کا حصول، حساب میں آسانی اور اللہ تعالیٰ کا دیدار وغیرہ شامل ہیں۔ انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی اکثر دعا یہ تھی : (اَللَّہُمَّ آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَ فِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَ قِنَا عَذَاب النَّارِ)”اے اللہ ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔“ [ بخاری، الدعوات، باب قول النبی ﷺ ربنا آتنا۔۔ : 6389۔ مسلم : 2690 ] صحیح مسلم میں ہے : ”انس ؓ جب بھی کوئی دعا کرنا چاہتے تو یہ (مذکورہ بالا) دعا کرتے اور جب کوئی اور دعا کرنا چاہتے تو اس میں یہ دعا بھی کرتے۔“ خلاصہ یہ کہ یہ ایک نہایت جامع دعا ہے، کئی ایک احادیث میں اس کی ترغیب آئی ہے۔ طواف کے وقت رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان بھی یہ دعا مسنون ہے۔ [ أبو داوٗد، المناسک، باب الدعاء فی الطواف، 1892 و قال الألبانی حسن ] اللہ تعالیٰ نے یہاں دو قسم کے لوگ ذکر فرمائے ہیں، صرف دنیا کی بھلائی طلب کرنے والے اور دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی طلب کرنے والے، تیسری قسم کے لوگ یعنی صرف آخرت کی بھلائی طلب کرنے والے، جو دنیا کی بھلائی نہ مانگتے ہوں، وہ ذکر نہیں فرمائے، کیونکہ اسلام ایسا دین ہے جو اپنے ماننے والوں کے لیے دنیا ترک کرنا پسند نہیں کرتا، نہ دنیا کی نعمتوں سے کنارہ کشی کی اجازت دیتا ہے۔ جب سے مسلمانوں میں ہندو سادھوؤں اور نصرانی راہبوں کی تقلید میں دنیا کے ترک کا رجحان پیدا ہوا تو انھوں نے جہاد چھوڑا، دنیاوی علوم سے کنارہ کش ہوئے اور ہر چیز میں غیروں کے غلام بن گئے۔ کفار کو ان کے تصوف کے سلسلوں سے کوئی تکلیف ہے، نہ تصور شیخ سے اور نہ خانقاہی نظام سے، کیونکہ اس سے غلامی کی خو مزید پختہ ہوتی ہے، بلکہ وہ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ انھیں اپنے ملکوں میں آمد و رفت کی ہر سہولت مہیا کرتے ہیں، مگر اسلام اور مسلمانوں کی عزت کے ضامن جہاد یا خلافت کا نام لینے والوں پر آخری حد تک دنیا تنگ کردینے میں کمی نہیں کرتے۔ پھر کیا حال ہوگا جب کہا جائے ؂ دنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبیٰ بھی چھوڑ دے ؟ اگر کہا جائے شاعر کی مراد فقط رضائے الٰہی کا حصول ہے تو اللہ کی رضا تو دنیا اور آخرت دونوں کی طلب اور ان کے لیے محنت ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ مسلمانوں کی ان دونوں کی طلب بلکہ ان کا ہر عمل ہی رضائے الٰہی کے حصول کے لیے ہوتا ہے۔ (وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ) یہ اس لیے فرمایا کہ آخرت میں بھلائی آگ کے کچھ عذاب کے بعد بھی ہوسکتی ہے، اس لیے اس سے بچنے کی الگ دعا مانگی۔ (ابن عاشور)
Ayah 2:203

وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۚ وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۙ لِمَنِ اتَّقٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 2:203 in the Quran reader

اور اللہ کو چند گنے ہوئے دنوں میں یاد کرو، پھر جو دو دنوں میں جلد چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تاخیر کرے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں، اس شخص کے لیے جو ڈرے اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ بیشک تم اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے۔

(وَاذْكُرُوا اللّٰهَ فِيْٓ اَ يَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ) عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا : ”ایام معدودات ایام تشریق (11، 12، 13 ذوالحجہ) ہیں۔“ [ بخاری، العیدین، باب فضل العمل۔۔ قبل، ح : 969 ] پھر امام بخاری ؓ نے باب باندھا ہے : ”منیٰ میں ٹھہرنے کے دنوں میں تکبیر کہنا اور جب عرفات کو جائے۔“ عمر ؓ منیٰ میں اپنے خیمے کے اندر تکبیر کہتے، مسجد والے اسے سنتے تو وہ بھی تکبیر کہتے اور بازاروں والے بھی تکبیر کہتے، یہاں تک کہ منیٰ تکبیرات سے گونج اٹھتا۔ اسی طرح ابن عمر ؓ بھی ان دنوں میں منیٰ میں تکبیر کہتے، نمازوں کے بعد تکبیر کہتے اور اپنے بستر پر، اپنے خیمے میں، اپنی مجلس میں اور چلتے پھرتے ان تمام دنوں میں تکبیر کہتے اور ام المومنین میمونہ ؓ قربانی کے دن تکبیر کہتیں اور عورتیں ابان بن عثمان اور عمر بن عبد العزیز کے پیچھے مسجد میں مردوں کے ساتھ تشریق کی راتوں میں تکبیر کہتیں۔ [ بخاری، العیدین، باب التکبیر أیام منیً۔۔ ، قبل ح : 970 ] معلوم ہوا ان ایام سے مراد عرفہ کی صبح سے لے کر 13 ذوالحجہ کے سورج غروب ہونے تک کا وقت ہے۔ قربانی کے دن اور ایام تشریق میں روزہ رکھنا منع ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”یہ کھانے پینے اور اللہ کے ذکر کے دن ہیں۔“ [ مسلم، الصیام، باب تحریم صوم أیام التشریق۔۔ : 1141 ] اللہ کے ذکر سے مراد وہ تمام تکبیرات ہیں جو جمرات کو کنکر مارتے وقت، جانور ذبح کرتے وقت یا دوسرے اوقات میں کہی جاتی ہیں اور تکبیر کے علاوہ کوئی بھی ذکر ہو، وہ بھی اس حکم میں شامل ہے۔ یعنی ان ایام میں ذکر الٰہی میں مصروف رہو۔ (لِمَنِ اتَّقٰى ۭ) یعنی گیارہ اور بارہ کو دو دن جمرات کو کنکر مار کر چلا آئے، تب بھی جائز ہے اور اگر کوئی تاخیر کرے یعنی پورے تین دن منیٰ میں ٹھہرا رہے تو بھی جائز ہے، بشرطیکہ دل میں تقویٰ ہو اور حج کے احکام خلوص سے ادا کرے۔ (ابن کثیر) (اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ) حج کے موقع پر لوگ حشر کی طرح جمع ہوتے ہیں، اس لیے حج کے ذکر کے ساتھ حشر کا دن یاد دلا کر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم دیا۔
Ayahs 2:204–206

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ Open ayah 2:204 in the Quran reader

اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جس کی بات دنیا کی زندگی کے بارے میں تجھے اچھی لگتی ہے اور وہ اللہ کو اس پر گواہ بناتا ہے جو اس کے دل میں ہے، حالانکہ وہ جھگڑے میں سخت جھگڑالو ہے۔

وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ Open ayah 2:205 in the Quran reader

اور جب واپس جاتا ہے تو زمین میں دوڑ دھوپ کرتا ہے، تاکہ اس میں فساد پھیلائے اور کھیتی اور نسل کو برباد کرے، اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 2:206 in the Quran reader

اور جب اس سے کہا جاتا ہے اللہ سے ڈر تو اس کی عزت اسے گناہ میں پکڑے رکھتی ہے، سو اسے جہنم ہی کافی ہے اور یقینا وہ برا ٹھکانا ہے۔

اوپر کی آیات میں ”وَمِنَ النَّاسِ“ سے لے کر یہاں تک دو قسم کے لوگ ذکر کیے، یعنی طالب دنیا اور طالب دنیا و آخرت۔ اب یہاں سے منافقین کے اوصاف کا بیان ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں چند ایسے چال باز لوگ تھے (اور ہمیشہ رہے ہیں) ، ان آیات میں ان کی صفات بیان فرما کر ان سے چوکس رہنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ (قرطبی، فتح القدیر) تفاسیر میں گو ان آیات کا سبب نزول اخنس بن شریق ثقفی کو بیان کیا گیا ہے، مگر الفاظ کے اعتبار سے یہ ہر اس شخص کو شامل ہیں جس میں یہ پانچوں صفات پائی جائیں۔ (کبیر) علاوہ ازیں وہ تمام روایات جن میں اس آیت کے اخنس کے بارے میں اترنے کا ذکر ہے، ضعیف ہیں۔ (دیکھیے الاستیعاب فی بیان الاسباب) اس لیے یہ آیت عام ہے۔ ایسے منافق کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ دنیا کی زندگی سے متعلق بہت سی معلومات رکھتا ہے، اس موضوع پر بات کرے تو آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ آخرت پر نہ وہ بات کرتا ہے نہ اسے اس کا علم ہے۔ (دیکھیے الروم : 6، 7) ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ ہر سخت دل متکبر، بخیل پیٹو سے بغض رکھتا ہے جو بازاروں میں شور کرنے والا ہے، رات کو مردار اور دن کو گدھا ہے، دنیا کے معاملات کا عالم ہے، آخرت کے معاملات سے جاہل ہے۔“ [ صحیح ابن حبان : 1957۔ السلسلۃ الصحیحۃ : 195 ] دوسری صفت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھا کھا کر اپنے ایمان و اخلاص کا یقین دلاتا ہے، کیونکہ وہ مسلمانوں کے ہاں اپنے بےاعتبار ہونے کو خوب سمجھتا ہے۔ (دیکھیے سورة منافقون کی ابتدائی آیات) تیسری صفت یہ ہے کہ وہ ”اَلَدُّ الْخِصَام“ ہے۔ ”اَلَدّ“ کا معنی سخت جھگڑالو ہے۔ ”الْخِصَامِ“ یا تو باب مفاعلہ کا مصدر ہے، اس صورت میں معنی ہوگا جھگڑے میں سخت جھگڑالو ہے، یا ”خَصْمٌ“ (جھگڑنے والا) کی جمع ہے، معنی ہوگا جھگڑنے والوں میں سے بہت سخت جھگڑالو ہے۔ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ کے ہاں سب آدمیوں سے زیادہ مبغوض ”اَلْاَلَدُّ الْخَصِمُ“ (سخت جھگڑا لو) ہے۔“ [ بخاری، التفسیر، باب : (وہو ألد الخصام) : 4523۔ مسلم : 2668 ] اور رسول اللہ ﷺ نے منافق کی چار نشانیوں میں سے ایک یہ بیان فرمائی : ”وہ جب جھگڑتا ہے تو بدزبانی کرتا ہے۔“ [ بخاری، الإیمان، باب علامۃ المنافق : 34۔ مسلم : 58 ] چوتھی صفت یہ ہے کہ جب وہ مسلمانوں کے پاس اپنے اخلاص کی قسمیں کھا کر واپس جاتا ہے تو تخریبی کاروائیوں کے ذریعے سے زمین میں فساد اور کھیتوں اور جان و مال کو برباد کرنے میں مشغول ہوجاتا ہے ”تَوَلّٰى“ کا ایک معنی ہے ”وہ واپس جاتا ہے“ اور دوسرا معنی ہے ”جب وہ والی یعنی حاکم یا صاحب اقتدار بنتا ہے۔“ پانچویں صفت یہ ہے کہ جب اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کے لیے کہا جائے تو اس کی (جھوٹی) عزت اور غرور نفس اسے گناہ میں پھنسائے رکھتا ہے۔
Ayah 2:207

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 2:207 in the Quran reader

اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو اللہ کی رضا مندی تلاش کرنے کے لیے اپنی جان بیچ دیتا ہے اور اللہ بندوں پر بےحد نرمی کرنے والا ہے۔

اوپر اس شخص کا بیان ہوا ہے جو طلب دنیا کی خاطر دین و ایمان کو بیچ ڈالتا ہے، اب اس آیت میں اس شخص کا بیان ہے جو اللہ کی رضا کے حصول کے لیے مال ہی نہیں جان تک قربان کردیتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ) [ التوبۃ : 111 ] ”بیشک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں۔“ اس آیت کے اولین مصداق مہاجر صحابہ ہیں، جنھوں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈالیں اور اپنی جائدادیں مکہ میں چھوڑ کر مدینہ چلے گئے اور انصار صحابہ، جنھوں نے اپنے جان و مال سے ان کی مدد کی۔ ”بِالْعِبَادِ“ میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے ”ان بندوں“ ترجمہ کیا گیا ہے۔ بعض روایات میں اس آیت کا سبب نزول صہیب ؓ کو قرار دیا گیا ہے، جو قریش کے روکنے پر سارا مال ان کے حوالے کر کے ہجرت کر گئے، مگر حقیقت یہ ہے کہ سب صحابہ کا یہی حال تھا۔
Ayah 2:208

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً١۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:208 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو، یقینا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

مخلص مومن کی مدح و ستائش کے بعد تمام مومنوں کو حکم ہوتا ہے کہ تم بھی پورے اسلام اور ساری شریعت پر چلو، یہ نہیں کہ اسلام کے کچھ احکام پر عمل کرلیا، باقی چھوڑ دیے۔ نماز روزہ کی پابندی کرلی اور عقیدے میں شرک، تجارت میں سود، عدالتوں میں غیر اللہ کا قانون، معاشرت میں ہندو، نصرانی، یہودی تہذیب اختیار کیے رکھی اور اسے زمانے کا تقاضا اور ترقی پسندی قرار دے لیا۔ یہود کی رسوائی کا باعث بھی یہی طرز عمل تھا، جیسا کہ فرمایا : (اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَتَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ۚ) [ البقرۃ : 85 ]”پھر کیا تم کتاب کے بعض پر ایمان لاتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو۔“ اس میں وہ مسلمان بھی شامل ہیں جو کسی دوسرے دین سے نکل کر اسلام میں آئے، مگر انھوں نے اپنے سابقہ دین کی رسوم کو باقی رکھا، جیسے غیر مسلموں کی شادی و مرگ کی رسمیں اور بدعات و رسوم جو سراسر اسلام کے منافی ہیں، یا مسلمان ہو کر بھی انھوں نے اپنے روزمرہ کے پہلے طور طریقوں کو نہ چھوڑا۔
Ayahs 2:209–210

فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:209 in the Quran reader

پھر اگر اس کے بعد پھسل جاؤ کہ تمہارے پاس واضح دلیلیں آچکیں تو جان لو کہ بیشک اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیَهُمُ اللّٰهُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 2:210 in the Quran reader

وہ اس کے سوا کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس اللہ بادل کے سائبانوں میں آجائے اور فرشتے بھی اور کام تمام کردیا جائے اور سب کام اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔

اسلام کا بنیادی عقیدہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا سچا رسول مانتے ہوئے ان کے بتائے ہوئے غیب یعنی بن دیکھی حقیقتوں پر ایمان ہے۔ حدیث جبریل ؑ میں اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی اور بری تقدیر پر ایمان رکھنے کو ایمان کہا گیا ہے۔ [ مسلم، الإیمان : 8 ] دنیا میں آزمائش اسی بات کی ہے کہ بغیر دیکھے کون ان پر ایمان لاتا ہے اور کسی جبر کے بغیر اللہ تعالیٰ کے فرمان پر عمل کرتا ہے۔ چناچہ فرمایا : (لِيَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ يَّخَافُهٗ بالْغَيْبِ) [ المائدۃ : 94 ] ”تاکہ اللہ جان لے کون اس سے بن دیکھے ڈرتا ہے۔“ مزید دیکھیے سورة انبیاء (49) ، فاطر (18) ، سورة یس (11) ، سورة ق (33) اور حدید (25)۔ کفار کا مطالبہ یہ تھا کہ یہ حقیقتیں ان کی آنکھوں کے سامنے آئیں گی تو وہ ایمان لائیں گے، ورنہ نہیں۔ کبھی وہ اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کے دیکھنے کا مطالبہ کرتے کہ ”ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے، یا ہم اپنے رب کو دیکھتے۔“ [ الفرقان : 21 ] کبھی ایمان لانے کی شرط یہ رکھتے کہ ”تو اللہ اور فرشتوں کو سامنے لے آئے۔“ [ بنی اسرائیل : 92 ] کبھی قیامت برپا کرنے کی فرمائش کرتے۔ بنی اسرائیل نے بھی یہی کام کیا، فرمایا : (وَاِذْ قُلْتُمْ يٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً) [ البقرۃ : 55 ] ”اور جب تم نے کہا، اے موسیٰ ! ہم ہرگز تیرا یقین نہ کریں گے، یہاں تک کہ ہم اللہ کو کھلم کھلا دیکھ لیں۔“ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعے سے اسلام کے حق ہونے کی دلیلیں پیش کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ اب اگر کوئی شخص حق واضح ہونے کے بعد اس پر ایمان نہیں لاتا، بس معجزات کا مطالبہ ہی کرتا چلا جاتا ہے تو اسے جان لینا چاہیے کہ غیبی حقیقتیں ظاہر ہونے کے بعد ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، کیونکہ پھر کسی کو ایمان لائے بغیر چارہ ہی نہیں ہوگا۔ چناچہ فرمایا : (هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ رَبُّكَ اَوْ يَاْتِيَ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ ۭ يَوْمَ يَاْتِيْ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا اِيْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ) [ الأنعام : 158 ] ”وہ اس کے سوا کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں، یا تیرا رب آئے یا تیرے رب کی کوئی نشانی آئے، جس دن تیرے رب کی کوئی نشانی آئے گی، کسی شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا تھا۔“ زیر تفسیر آیات میں یہی بات فرمائی کہ اتنے واضح دلائل کے بعد اب یہی باقی رہ جاتا ہے کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ خود بادل کے سائبانوں میں آجائے اور فرشتے بھی، مگر پھر تو کام تمام ہوچکا ہوگا اور دنیا میں تو بظاہر کچھ اور لوگوں کے پاس بھی معاملات لے جائے جاتے ہیں، اس وقت سارے معاملات اکیلے اللہ کے سامنے پیش ہوں گے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کے زمین پر اترنے کا ذکر قرآن میں کئی مقامات پر کیا گیا ہے، چناچہ فرمایا : (وَّجَاۗءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا) [ الفجر : 22 ]”اور تیرا رب آئے گا اور فرشتے جو صف در صف ہوں گے۔“ اور فرمایا : (هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ رَبُّكَ) [ الأنعام : 158 ] ”وہ اس کے سوا کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں، یا تیرا رب آئے۔“ تمام صحابہ اور تابعین اللہ تعالیٰ کے نزول پر ایمان رکھتے تھے اور یقین رکھتے تھے کہ جس طرح اللہ کی شان کے لائق ہے کہ وہ ہر رات آسمان دنیا پر اترتا ہے، قیامت کے دن بھی زمین پر اترے گا۔ دوسری تمام صفات پر بھی وہ ان کے ظاہر الفاظ کے مطابق ایمان رکھتے تھے، وہ نہ ان کا کچھ اور مطلب نکالتے (جسے تاویل کہتے ہیں) ، نہ یہ کہتے کہ کس طرح اترے گا ؟ یا وہ عرش پر کس طرح ہے ؟ (جسے تکییف کہتے ہیں) ، نہ وہ اس کے عرش پر ہونے کو یا اس کے اترنے کو اپنی طرح یا کسی مخلوق کی طرح قرار دیتے (جسے تشبیہ کہتے ہیں) ، نہ یہ کہتے کہ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ان الفاظ کا معنی کیا ہے، بس یہ اللہ ہی جانتا ہے (جسے تفویض کہتے ہیں) ، بعد میں آنے والے لوگوں نے غیر مسلموں سے متاثر ہو کر کسی نے سرے سے ان صفات کا انکار ہی کردیا، کسی نے تاویل کی، کسی نے اپنے پاس سے کیفیت متعین کی اور کسی نے مخلوق کے ساتھ مشابہ کردیا۔ یہ تمام صورتیں درحقیقت انکار ہی کی صورتیں ہیں۔ مزید دیکھیے سورة حاقہ (16 تا 18) اور سورة فجر (22) کے فوائد۔
Ayah 2:211

سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 2:211 in the Quran reader

بنی اسرائیل سے پوچھ ! ہم نے انھیں کتنی واضح نشانیاں دیں اور جو شخص اللہ کی نعمت کو بدل دے، اس کے بعد کہ اس کے پاس آ چکی ہو تو یقینا اللہ بہت سخت سزا والا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے پہلی امتوں کے مطالبے پر یا مطالبے کے بغیر انبیاء کو کئی معجزے عطا فرمائے، مگر جب وہ معجزے دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے تو ان پر مختلف عذاب آئے، جیسے قوم ثمود و قوم فرعون اور بنی اسرائیل، اب جب اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کے اترنے کا مطالبہ حد سے زیادہ ہونے لگا تو کفار عرب سے کہا جا رہا ہے کہ بنی اسرائیل سے پوچھ لو، ہم نے انھیں کتنے واضح معجزات دکھائے، یعنی عصائے موسیٰ ، ید بیضا، طوفان، ٹڈیاں، سمندر کا پھٹنا، صحرا میں بادل کا سایہ، بارہ چشموں کا پھوٹنا، من وسلویٰ کا نزول وغیرہ، تو انھوں نے ان نعمتوں سے کوئی فائدہ اٹھایا جو تم اٹھاؤ گے ؟ پھر نعمتوں کی ناشکری کا نتیجہ تو عذاب ہی ہے، فرمایا : (وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ) [ بنی إسرائیل : 59 ] ”اور ہمیں کسی چیز نے نہیں روکا کہ ہم نشانیاں دے کر بھیجیں مگر اس بات نے کہ پہلے لوگوں نے انھیں جھٹلا دیا۔“
Ayah 2:212

زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۘ وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 2:212 in the Quran reader

ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، دنیا کی زندگی خوشنما بنادی گئی ہے اور وہ ان لوگوں سے مذاق کرتے ہیں جو ایمان لے آئے، حالانکہ جو لوگ ڈر گئے وہ قیامت کے دن ان سے اوپر ہوں گے اور اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب دیتا ہے۔

یعنی کفار کے ایمان نہ لانے کا باعث ان کی نگاہ میں دنیا کا بہت مزین ہونا ہے۔ مومن جو آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں دنیا کی زیب و زینت کو کچھ نہیں سمجھتے، کفار کے خیال میں بھولے بھالے اور دیوانے ہیں، اس لیے انھوں نے ان کا مذاق اڑانے اور انھیں ذلیل کرنے کو اپنا مشغلہ بنا رکھا ہے، مگر قیامت کے دن اہل تقویٰ ہر اعتبار سے ان سے بلند درجہ ہوں گے، کیونکہ مومنوں کا نام علیین میں ہوگا اور کفار اسفل السافلین ہوں گے۔ یہاں ”بِغَيْرِ حِسَابٍ“ فرمایا، سورة نبا میں ”عَطَاۗءً حِسَابًا“ فرمایا، تطبیق کے لیے دیکھیے سورة نبا کی آیت (36) کے فوائد۔
Ayah 2:213

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً١۫ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١۪ وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ۚ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:213 in the Quran reader

لوگ ایک ہی امت تھے، پھر اللہ نے نبی بھیجے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے، اور ان کے ہمراہ حق کے ساتھ کتاب اتاری، تاکہ وہ لوگوں کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے جن میں انھوں نے اختلاف کیا تھا اور اس میں اختلاف انھی لوگوں نے کیا جنھیں وہ دی گئی تھی، اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح دلیلیں آچکیں، آپس کی ضد کی وجہ سے، پھر جو لوگ ایمان لائے اللہ نے انھیں اپنے حکم سے حق میں سے اس بات کی ہدایت دی جس میں انھوں نے اختلاف کیا تھا اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔

اس آیت میں اس تاریخی حقیقت کا انکشاف فرمایا ہے کہ انسانیت کی ابتدا کفر و شرک اور عظیم الشان مخلوقات، مثلاً سورج، چاند، آگ، ہوا، پانی، فرشتوں اور نیک انسانوں وغیرہ کی پرستش سے نہیں ہوئی، بلکہ خالص توحید سے ہوئی ہے۔ ابتدا میں تمام انسان ایک ہی دین توحید رکھتے تھے اور ان کی ایک ہی ملت تھی۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا : ”آدم اور نوح ؑ کے درمیان دس قرن (ایک ہزار سال) تھے۔ یہ سب شریعت حقہ (توحید) پر تھے، پھر (شیطان کے بہکانے سے ان میں شرک آیا اور) ان میں اختلافات پیدا ہوئے، تب اللہ تعالیٰ نے (نوح ؑ اور دوسرے) انبیاء بھیجے۔“ [ طبری و حاکم 2؍442، ح : 3654، بسند صحیح ] پھر مسلسل انبیاء آتے رہے اور ان پر کتابیں نازل ہوتی رہیں، تاکہ ان کو اختلافات سے نکال کر ہدایت الٰہی کی طرف لایا جائے۔ اس آیت میں ”فَبَعَثَ اللّٰهُ“ کا عطف محذوف پر ہے یعنی ”فَاخْتَلَفُوْا فَبَعَثَ اللّٰہُ“ ”پس انھوں نے اختلاف کیا تو اللہ نے نبی بھیجے۔“ (کبیر، ابن جریر) مزید دیکھیے سورة یونس (21)۔ (فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ) یعنی پہلی امتوں میں اختلافات لاعلمی کی وجہ سے نہیں، بلکہ باہمی حسد، ضد اور سرکشی کی وجہ سے پیدا ہوئے، جس سے وہ فرقوں میں بٹ گئیں اور اس وجہ سے گمراہ ہوگئیں۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری نبی بھیج کر اور اس پر اپنی آخری کتاب نازل فرما کر تمام اختلافات کا فیصلہ فرما دیا اور اپنی توفیق خاص ”بِاِذْنِهٖ“ سے مومنوں کو صراط مستقیم کی طرف ہدایت کردی ہے۔ (بیضاوی، فتح البیان) واضح رہے کہ امت محمدیہ ﷺ میں بھی شروع میں دین میں کوئی اختلاف نہیں تھا، سلف صالحین سب کے سب کسی شخص کی تقلید کے بجائے براہ راست قرآن و حدیث پر عمل کرتے تھے۔ ان میں نہ شیعہ سنی کی تفریق تھی، نہ ان میں کوئی حنفی تھا، نہ مالکی، نہ شافعی، نہ حنبلی، نہ نقشبندی، نہ قادری، نہ سہروردی، نہ چشتی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا :”تم ضرور ہی اپنے سے پہلے لوگوں کے پیچھے چل پڑو گے، جس طرح بالشت بالشت کے برابر اور ہاتھ ہاتھ کے برابر ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ کسی ضب (سانڈے) کے بل میں جا گھسے ہوں تو تم بھی ان کے پیچھے جاؤ گے۔“ پوچھا گیا : ”یا رسول اللہ ! اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں ؟“ فرمایا : ”پھر اور کون ہیں ؟“ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب ما ذکر عن بنی إسرائیل : 3456۔ مسلم : 2669 ] آپ کے اس فرمان کے مطابق جب اس امت میں بھی اہل کتاب کی طرح شخصی رائے کی تقلید اور اپنے دھڑے کی بےجا حمایت پر جمود پیدا ہوگیا، لوگوں نے قرآن و حدیث کے بجائے اقوال رجال کو دین سمجھنا شروع کردیا تو امت مختلف فرقوں میں بٹ کر تباہ ہوگئی۔ اس سے صرف وہ لوگ محفوظ رہے جو قرآن و سنت پر براہ راست کار بند رہے اور کسی نئے گروہ کا حصہ نہ بنے۔ [ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ ] رسول اللہ ﷺ جب رات کو اٹھتے تو اپنی رات کی نماز کا افتتاح اس دعا سے کرتے : (اَللّٰھُمَّ رَبَّ جِبْرَاءِیْلَ وَ مِیْکَاءِیْلَ وَ اِسْرَافِیْلَ ، فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ ، عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ أَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ، اہْدِنِیْ لِمَا اخْتُلِفَ فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِکَ اِنَّکَ تَہْدِیْ مَنْ تَشَاءُ إِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ) [ مسلم، صلٰوۃ المسافرین، باب صلوۃ النبی ﷺ ودعاءہ باللیل : 770 ]
Ayah 2:214

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ١ؕ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ Open ayah 2:214 in the Quran reader

یا تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے، حالانکہ ابھی تک تم پر ان لوگوں جیسی حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے، انھیں تنگدستی اور تکلیف پہنچی اور وہ سخت ہلائے گئے، یہاں تک کہ رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے تھے، کہہ اٹھے اللہ کی مدد کب ہوگی ؟ سن لو بیشک اللہ کی مدد قریب ہے۔

الْبَاْسَاۗءُ“ سے مراد فقر و فاقہ اور ”وَالضَّرَّاۗءُ“ سے مراد بیماری اور جسمانی تکالیف اور ”زُلْزِلُوْا“ کا مطلب ہے سخت ہلائے گئے۔ مدینہ میں ہجرت کے بعد مسلمانوں کو جب مشرکین، منافقین اور یہود سے سخت تکالیف پہنچیں تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اس میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی کہ دین کی راہ میں یہ مصیبتیں اور تکلیفیں صرف تم پر نہیں آ رہیں، بلکہ تم سے پہلے لوگ تو فقر و فاقہ، جانی و مالی نقصان اور سخت قسم کے خوف و ہراس میں مبتلا کیے گئے، یہاں تک کہ اس زمانے کا رسول اور اس کے ساتھ ایمان لانے والے ”اللہ کی مدد کب ہوگی“ پکار اٹھے۔ پھر جس طرح ان پر اللہ کی طرف سے مدد نازل ہوئی تمہاری بھی مدد کی جائے گی۔ چناچہ جب غزوۂ احزاب میں یہ مرحلہ پیش آیا، جس کا نقشہ اللہ تعالیٰ نے سورة احزاب (10، 12) میں کھینچا ہے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ یاد رہے کہ ان کا ”اللہ کی مدد کب ہوگی“ کہنا اعتراض اور شکوہ کے طور پر نہ تھا، بلکہ بےبسی کے عالم میں اپنی عاجزی اور زاری کی حالت کا اظہار تھا۔ (رازی، ابن کثیر) خباب بن ارت ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا : ”یا رسول اللہ ! آپ ہمارے لیے نصرت کی درخواست نہیں کرتے، آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا نہیں کرتے ؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”پہلے لوگوں میں سے ایک کے سر کی مانگ پر آرا رکھ دیا جاتا اور وہ اس کے قدموں تک پہنچ جاتا، مگر یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی اور لوہے کی کنگھیوں سے اس کے گوشت اور ہڈی کو الگ کردیا جاتا، یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی۔“ پھر آپ نے فرمایا : ”اللہ کی قسم ! یہ کام ضرور مکمل ہو کر رہے گا، یہاں تک کہ سوار صنعاء سے حضر موت تک چلے گا اور اسے اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہیں ہوگا یا اسے اپنی بکریوں سے متعلق بھیڑیے کا (خوف ہوگا) ، لیکن تم ایسے لوگ ہو کہ بہت جلدی کرتے ہو۔“ [ شعب الإیمان للبیہقی : 2؍240، ح : 1633۔ بخاری : 3612۔ ابن کثیر : 1؍251 ]
Ayah 2:215

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ Open ayah 2:215 in the Quran reader

وہ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا چیز خرچ کریں ؟ کہہ دے تم خیر میں سے جو بھی خرچ کرو سو وہ ماں باپ اور زیادہ قرابت والوں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر کے لیے ہے اور تم نیکی میں سے جو کچھ بھی کرو گے تو بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔

پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے لیے حیات دنیا کے مزین کیے جانے کا ذکر فرمایا، بنی اسرائیل کے باہمی اختلاف کا باعث بھی حسد، ضد اور سرکشی بیان فرمایا، جو عموماً مال سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس پر صحابہ کرام ؓ کے سوال کا ذکر فرمایا کہ وہ (اس فتنے سے بچنے کے لیے) کیا خرچ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب بھی دیا اور یہ بھی بتادیا کہ کہاں خرچ کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے، حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ خرچ کرنے کی جگہیں بھی بتائی جائیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ صفراء (گرمی) کا کوئی مریض کسی مہربان طبیب سے پوچھے کہ میں شہد پی لوں تو وہ جواب میں کہے، پی لو، مگر سرکہ ملا کر، کیونکہ سرکہ اس کی گرمی کو کم کر دے گا۔ ان کے سوال کا جواب یہ ہے کہ ”تم خیر میں سے جو بھی خرچ کرو“ یعنی جو چاہو خرچ کرو، مگر وہ مال حلال طریقے سے حاصل ہوا ہو، کیونکہ حرام کو خیر نہیں کہہ سکتے۔ (طنطاوی) خرچ کرنے کی جگہوں میں سے سب سے پہلے والدین کا ذکر کیا، تاکہ ان کے جنم دینے اور پرورش کرنے کا کچھ حق ادا ہوجائے، پھر زیادہ قرابت والے، تاکہ قرابت اور رشتہ داری کا حق ادا ہو، پھر یتامیٰ ، کیونکہ وہ مہربان باپ کے سائے سے محروم ہوچکے ہیں، پھر مساکین، ان کے فقر و احتیاج کی وجہ سے، پھر مسافر، کیونکہ وہ اپنے شہر سے دور ہونے کی وجہ سے ایک طرح سے محتاج ہیں۔ رازی نے فرمایا، خرچ کرنے کی جگہوں میں یہ ترتیب ہی صحیح ترتیب ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے تفصیل کے بعد خلاصہ بیان فرمایا کہ تم خیر میں سے جو عمل بھی کرو گے تو بیشک اللہ تعالیٰ اسے خوب جاننے والا ہے۔ اس میں وہ کام اور وہ جگہیں بھی آگئیں جن کا یہاں ذکر نہیں ہوا، مثلاً سائلین اور غارمین وغیرہ، بشرطیکہ وہ کام اور وہ جگہیں خیر ہوں، کیونکہ غلط جگہ خرچ کرنا فعل خیر نہیں۔ میمون بن مہران اس آیت کو پڑھ کر کہنے لگے کہ یہ ہیں مسلمان کے خرچ کرنے کی جگہیں، ان میں طبلہ، سارنگی، لکڑی کی تصویروں اور گھر کی آرائش کا ذکر نہیں ہے۔ (ابن کثیر) اس آیت میں زکوٰۃ کے علاوہ خرچ کا ذکر ہے جو نفل ہو، یا بعض اوقات فرض، کیونکہ ماں باپ کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ دیکھیے سورة توبہ (60)۔ ایک روایت میں یہ سوال کرنے والا عمرو بن جموح کو بتایا گیا ہے، مگر وہ روایت موضوع ہے، اس میں کلبی اور ابو صالح متہم بالکذب ہیں۔ (الاستیعاب فی بیان الاسباب)
Ayah 2:216

كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:216 in the Quran reader

تم پر لڑنا لکھ دیا گیا ہے، حالانکہ وہ تمہیں ناپسند ہے اور ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو اور ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

كُرْهٌ“ یہ مصدر بمعنی ”کَرَاہِیَۃٌ“ ہے۔ مصدر کو اسم مفعول ”مَکْرُوْہٌ“ کی جگہ مبالغہ کے لیے لایا گیا ہے، جیسا کہ ”زَیْدٌ عَدْلٌ“ ”زید سراپا عدل ہے۔“ تو یہاں ”كُرْهٌ“ کا معنی ہوگا ”سراسر ناپسند ہے۔“ ”كُتِب“ یہ وہی ”كُتِب“ ہے جو اس سے پہلے قصاص، وصیت اور صیام کے لیے آیا ہے۔ پچھلی آیت میں مال خرچ کرنے کی ترغیب کے بعد اب جان خرچ کرنے کی ترغیب ہے۔ ”الْقِتَالُ“ سے ہر لڑائی مراد نہیں، بلکہ عہد کا الف لام ہونے کی وجہ سے خاص یعنی اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے لڑائی ہے۔ ابن کثیر ؓ نے فرمایا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے کہ وہ جہاد کریں اور دشمنوں سے اسلام کا دفاع کریں۔ امام زہری نے فرمایا، جہاد ہر ایک پر واجب ہے، خواہ لڑائی میں نکلے یا بیٹھا رہے، بیٹھنے والوں پر لازم ہے کہ جب ان سے مدد طلب کی جائے تو وہ امداد کریں، جب ان سے فریاد کی جائے، فریاد کو پہنچیں، جب انھیں میدان میں بلایا جائے نکل کھڑے ہوں۔ (ابن کثیر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جو شخص اس حال میں مرجائے کہ اس نے نہ جنگ کی اور نہ اپنے نفس کے ساتھ جنگ کی بات کی، تو وہ نفاق کی ایک شاخ پر مرے گا۔“ [ مسلم، الإمارۃ، باب ذم من مات۔۔ : 1910، عن أبی ہریرۃ ؓ ] جہاد یعنی اللہ کا دین غالب کرنے کے لیے اپنی آخری کوشش کرتے رہنا تو ہر مسلمان پر فرض ہے، لیکن نفیر یعنی لڑائی کے لیے نکلنا ہر وقت ہر مسلمان پر فرض نہیں۔ (دیکھیے توبہ (122) البتہ تمام علمائے اسلام کا اتفاق ہے کہ تین مواقع پر قتال آدمی پر فرض عین ہوجاتا ہے : 1 جب امام کسی خاص شخص کو یا تمام مسلمانوں کو نکلنے کا حکم دے دے، الایہ کہ امام کسی کو مستثنیٰ کر دے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے تبوک میں سب کو نکلنے کا حکم دیا مگر علی ؓ کو پیچھے رہنے کا حکم دیا۔ (مسلم : 31؍2404) اس کی دلیل سورة توبہ کی آیات (38، 39) ہیں۔ 2 جب کفار مسلمانوں کی کسی آبادی پر حملہ کردیں تو اس کے رہنے والوں پر اس کا دفاع واجب ہے۔ (دیکھیے بقرہ : 191) اس حد تک کہ اگر ان کے پاس کافی اسلحہ نہ بھی ہو تو پتھروں، اینٹوں، لکڑیوں غرض جو کچھ بھی ملے اس کے ذریعے سے لڑنا فرض ہے۔ اگر دانتوں سے کاٹ کھانے کے سوا کچھ نہ ملے تو دانتوں سے کاٹ کر اپنا دفاع واجب ہے۔ اگر اس آبادی والے دفاع نہ کرسکیں یا سستی کریں تو قریب والی آبادی، پھر اس کے بعد والی پر، حتیٰ کہ تمام دنیا کے اہل اسلام پر لڑنا فرض ہوجاتا ہے، کیونکہ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ 3 جب دشمن سے مڈ بھیڑ ہو تو ثابت قدم رہنا واجب ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَ) [ الأنفال : 15 ] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب تم ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، ایک لشکر کی صورت میں ملو تو ان سے پیٹھیں نہ پھیرو۔“ حافظ ابن حجر نے فرمایا : ”جب کسی شخص پر لڑائی فرض عین ہوجائے تو ”فَلاَ إِِذْنَ“ یعنی اس وقت والدین یا کسی اور سے اجازت کی کوئی ضرورت نہیں۔“ [ فتح الباری، الجہاد والسیر، باب الجہاد بإذن الأبوین ] اس بات پر بھی علماء کا اتفاق ہے کہ اپنے دفاع کی خاطر لڑنے کے لیے کوئی بھی شرط لازم نہیں، نہ امیر کا حکم، نہ والدین کی اجازت اور نہ کوئی اور شرط، جیسا کہ ابو بصیر ؓ کا واقعہ اس کی واضح دلیل ہے۔ وَھُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ یعنی وہ تمہیں سراسر ناپسند ہے، کیونکہ اس میں زخمی ہونے، اعضاء کٹنے اور جان جانے کا سامنا ہوتا ہے، جب کہ ہر آدمی فطری طور پر زندہ رہنے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں اس میں مال کا خرچ، اہل و عیال اور وطن سے جدائی، سفری صعوبتیں، کھانے پینے اور نیند کی بےترتیبی، غرض بیشمار مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔ وَّھُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ) قرطبی ؓ نے فرمایا : ”معنی یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ تم جہاد میں جو مشقت ہے اسے ناپسند کرو، حالانکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے، اس لیے کہ تم غالب رہو گے، فتح یاب ہو گے، غنیمت حاصل کرو گے اور اجر پاؤ گے اور تم میں سے جو فوت ہوگا وہ شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ تم آرام طلبی اور لڑائی ترک کرنے کو پسند کرو، حالانکہ یہ چیز تمہارے لیے بہت بری ہے، کیونکہ تم مغلوب ہوجاؤ گے اور تمہاری حکومت ختم ہوجائے گی۔“ قرطبی ؓ مزید فرماتے ہیں : ”اللہ کا یہ فرمان بالکل صحیح ہے، اس میں کوئی شک و شبہ نہیں، جیسا کہ اندلس میں پیش آیا، انھوں نے جہاد ترک کیا، لڑائی سے بزدلی اختیار کی اور کثرت سے فرار اختیار کیا تو دشمن تمام شہروں پر قابض ہوگیا۔ شہر بھی کیسے کیسے اور کیا کیا اسیری ؟ قتل، بچوں اور عورتوں کی غلامی اور عزتوں کی بربادی۔ (إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ) یہ سب ہمارے اپنے ہاتھوں کا کیا کمایا ہے۔“ (قرطبی) قرطبی کے کئی سو سال پہلے لکھے ہوئے یہ الفاظ آج بھی حقیقت ہیں، جن سے دل درد و غم سے بھرجاتا ہے، اس وقت اندلس سے مسلمانوں کا نام و نشان مٹا دیا گیا تھا، اب مسلمانوں کی آرام طلبی اور ترک جہاد نے کفار کو عراق، افغانستان پر قبضے کا اور باقی تمام مسلمان ممالک میں اپنے احکام چلانے کا موقع دیا ہے اور ہند اور اندلس کی طرح مسلمانوں کا وجود ختم کرنے کے در پے ہیں۔ اب آرام طلبی اور ترک جہاد کا کون سا موقع ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ قتال کی کڑوی دوا کے سوا مسلمانوں کی شفا کی کوئی صورت نہیں۔
Ayah 2:217

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْهِ١ؕ قُلْ قِتَالٌ فِیْهِ كَبِیْرٌ١ؕ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ كُفْرٌۢ بِهٖ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۗ وَ اِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ الْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ١ؕ وَ لَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى یَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِیْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا١ؕ وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:217 in the Quran reader

وہ تجھ سے حرمت والے مہینے کے متعلق اس میں لڑنے کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے اس میں لڑنا بہت بڑا ہے اور اللہ کے راستے سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام سے (روکنا) اور اس کے رہنے والوں کو اس سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ بڑا ہے اور فتنہ قتل سے زیادہ بڑا ہے۔ اور وہ تم سے ہمیشہ لڑتے رہیں گے، یہاں تک کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں، اگر کرسکیں، اور تم میں سے جو اپنے دین سے پھر جائے، پھر اس حال میں مرے کہ وہ کافر ہو تو یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے اور یہی لوگ آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

قِتَالٌ فِيْهِ : یہ ”الشَّهْرِ الْحَرَامِ“ سے بدل اشتمال ہے۔ ”قِتَالٌ“ مبتدا اور ”كَبِيْرٌ“ خبر ہے۔ ”صَدٌّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ“ مبتدا ہے، ”وَكُفْرٌۢ بِهٖ“ اور ”اِخْرَاجُ اَھْلِهٖ“ کا اس پر عطف ہے اور ان سب کی خبر ”اَكْبَرُ عِنْدَ اللہ“ ہے اور ”وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ“ کا عطف ”سَبِيْلِ اللّٰهِ“ پر ہے اور ”وَكُفْرٌۢ بِهٖ“ میں ”بِهٖ“ کی ضمیر ”سَبِيْلِ اللّٰهِ“ میں مذکور لفظ ”اللّٰهِ“ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اور ”الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۤ“ کو پہلے لانے کے بجائے ”َكُفْرٌۢ بِه“ کو پہلے لانے میں یہ حکمت ہے کہ سبیل اللہ (اسلام) سے روکنے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر مسجد حرام سے روکنے سے بڑا جرم ہے، اس لیے اسے پہلے ذکر فرمایا۔ ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب یہ چار مہینے حرمت والے ہیں، عہد جاہلیت ہی سے ان میں لوٹ مار اور خون ریزی حرام سمجھی جاتی تھی۔ واقعہ یوں ہے کہ 2 ھ میں رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن جحش ؓ کی سرکردگی میں فوج کا ایک دستہ جہاد کے لیے روانہ کیا۔ انھوں نے کافروں کے ایک قافلے پر حملہ کیا، جس سے ان کا ایک آدمی مارا گیا اور بعض کو مال سمیت گرفتار کرکے مدینہ لے آئے۔ یہ واقعہ رجب 2 ھ میں پیش آیا۔ کفار نے مسلمانوں کو طعنہ دیا کہ تم نے رجب میں جنگ کرکے اس حرمت کو توڑا ہے، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ماہ حرام میں جنگ کرنا اگرچہ واقعی بہت بڑا ہے، مگر تم تو اس سے بھی بڑے گناہوں کا ارتکاب کر رہے ہو (جو یہ ہیں، اللہ کے راستے یعنی اسلام سے روکنا، اللہ کے ساتھ کفر کرنا، مسجد حرام سے روکنا، مسجد حرام یعنی حرم مکہ میں رہنے والے صحابہ اور رسول اللہ ﷺ کو اس سے نکالنا، اس کے علاوہ فتنہ یعنی کفر و شرک پر مسلمانوں کو مجبور کرنے کے لیے عذاب میں مبتلا کرنا قتل سے بھی بڑا جرم ہے)۔ لہٰذا اگر مسلمانوں نے تلورا اٹھالی ہے تو قابل مؤاخذہ نہیں۔ (ابن کثیر، شوکانی) حرمت والے مہینوں میں لڑائی کی حرمت اکثر فقہاء کے نزدیک سورة توبہ کی آیت : (فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ) [ التوبۃ : 5 ] کے ساتھ منسوخ ہوچکی ہے (الجصاص) مگر سورة توبہ ہی کی آیت : (اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا) [ التوبۃ : 36 ] اس آیت میں ہے : (مِنْهَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ)”ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔“ پھر فرمایا : (فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَاۗفَّةً كَمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَاۗفَّةً) [ التوبۃ : 36 ] ”سو ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو اور کافروں سے ہر حال میں لڑو، جیسے وہ ہر حال میں تم سے لڑتے ہیں۔“ اور (اَلشَّهْرُ الْحَرَام بالشَّهْرِ الْحَرَامِ) [ البقرۃ : 194 ] ”حرمت والا مہینا حرمت والے مہینے کے بدلے ہے“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حرمت والے مہینوں میں لڑنے کی اجازت کا سبب یہ ہے کہ کفار چونکہ ان مہینوں میں بھی مسلمانوں سے لڑنے کے لیے آمادہ رہتے ہیں، اس لیے مسلمانوں پر بھی ان مہینوں میں نہ لڑنے کی کوئی پابندی نہیں۔ اگر فی الواقع کفار ان مہینوں کی حرمت کی پاس داری کریں تو مسلمانوں کو بھی کرنی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے آخری حج کے خطبہ میں بھی ان مہینوں کی حرمت کا ذکر فرمایا۔ عطاء اور بہت سے اہل علم کا یہ قول ہے اور یہی درست معلوم ہوتا ہے۔ وَالْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے آیت : (وَالْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ) [ البقرۃ : 191 ] اِنِ اسْتَطَاعُوْا : یہ اس بات کی بشارت ہے کہ کفار بیشمار لڑائیوں کے باوجود کبھی اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے کہ تمام مسلمانوں کو دین سے مرتد کردیں۔ اسلام کو سربلند رکھنے والے کچھ لوگ ہمیشہ ان کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔ دیکھیے سورة فتح کی آخری آیات اور سورة صف کی آیت (8، 9) حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص (نعوذ باللہ) مرتد ہوجائے اور اسی حالت میں مرجائے تو اس کے تمام اعمال ضائع ہوجاتے ہیں، لیکن اگر پھر سچے دل سے تائب ہو کر اسلام قبول کرے تو مرتد ہونے سے پہلے کے اعمال ضائع نہیں جاتے بلکہ ان کا بھی ثواب مل جاتا ہے۔ (فتح البیان) اگر کوئی شخص مرتد ہوجائے اور توبہ نہ کرے تو اس کی سزا قتل ہے، جو (حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ) دنیا میں ان کے اعمال ضائع ہونے کا نتیجہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ بَدَّلَ دِیْنَہُ فَاقْتُلُوْہُ) [ بخاری، الجہاد، والسیر، باب لا یعذب بعذاب اللہ : 3017 ] ”جو اپنا دین (اسلام) بدل لے اسے قتل کر دو۔“ اسلام کی وجہ سے دنیا میں حاصل جان و مال اور عزت کی حرمت، مرنے کے بعد جنازہ اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن، مسلمان بیوی کی زوجیت، وراثت غرض مسلمانوں والے تمام حقوق ارتداد کی وجہ سے ختم ہوجائیں گے۔
Ayah 2:218

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:218 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا وہی اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

ھَاجَرُوْا : ”ھَجَرَ یَھْجُرُ (ن)“ کا معنی کسی سے دل یا زبان یا بدن کے ساتھ جدا ہوجانا ہے اور ”ھَاجَرُوْا“ اس میں سے باب مفاعلہ ہے، جس میں مبالغہ مقصود ہے، یعنی ”کسی سے قطع تعلق کرکے الگ ہوجانا“ مراد دار الکفر کو چھوڑ کر دار الاسلام میں آجانا ہے۔ (مفردات) وَجٰهَدُوْا :”جَھَدَ یَجْھَدُ (ف)“ کا مطلب ہے ”کسی کام میں کوشش کرنا۔“ ”جَاھَدَ مُجَاہَدَۃً وَجِہَادًا“ کا معنی ہے ”دشمن سے لڑنا۔“ (القاموس) ”جَھَدَ“ سے باب مفاعلہ کی وجہ سے اس کا معنی اپنی ساری کوشش صرف کرنا ہے۔ اس لیے اصحاب لغت نے اس کا معنی ”لڑنا“ کیا ہے کیونکہ کوشش کی انتہا یہی ہے۔ يَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ : یعنی ایمان، ہجرت اور جہاد ایسے اعمال ہیں جن کے نتیجے میں دل کے اندر اللہ کی رحمت کی امید پیدا ہوتی ہے۔ جن لوگوں کا دامن ان سے خالی ہے وہ لاکھ اللہ کی رحمت کی امید کا دعویٰ کریں، حقیقت میں ان کے دل کے اندر رحمت کی امید پیدا نہیں ہوتی ؂ جو میں سربسجدہ ہوا کبھی تو زمین سے آنے لگی صدا تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں اس میں ان مجاہدوں کے لیے بشارت ہے جن کا ذکر حرمت والے مہینوں میں حملہ کرنے کے ضمن میں آیا ہے۔
Ayah 2:219

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ١ؕ قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ١٘ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلِ الْعَفْوَ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ Open ayah 2:219 in the Quran reader

تجھ سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دے ان دونوں میں بہت بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے ہیں اور ان دونوں کا گناہ ان کے فائدے سے بڑا ہے۔ اور وہ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا چیز خرچ کریں، کہہ دے جو بہترین ہو۔ اس طرح اللہ تمہارے لیے کھول کر آیات بیان کرتا ہے، تاکہ تم غور و فکر کرو۔

الْخَــمْرِ : شراب، اس کی تفسیر خود رسول اللہ ﷺ نے فرمائی۔ عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (کُلُّ مُسْکِرٍ خَمْرٌ وَ کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ) [ مسلم، الأشربۃ، باب بیان أن کل مسکر۔۔ : 74؍2003 ] ”ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور حرام ہے۔“ بعض لوگوں نے صرف انگور کی شراب کو ”خمر“ قرار دے کر باقی سب کے دوسرے نام رکھ کر انھیں حلال کرلیا۔ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث کے عین مصداق ہیں کہ میری امت میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو عورتوں کی شرم گاہوں کو اور ریشم اور خمر (شراب) کو اور باجوں کو حلال کرلیں گے۔ [ بخاری، الأشربۃ، باب ما جاء فیمن یستحل الخمر۔۔ : 5590، عن أبی مالک الأشعری ] ابو مالک اشعری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”میری امت کے کچھ لوگ خمر (شراب) پییں گے اور اس کا نام کچھ اور رکھ لیں گے۔“ [ أبو داوٗد، الأشربۃ، باب فی الدّاذیّ : 3688 ] وَالْمَيْسِرِ : جوا، یہ ”یُسْرٌ“ بمعنی سہولت سے ہے، کیونکہ جوئے میں بغیر مشقت کے دوسرے کا مال آسانی سے ہاتھ لگ جاتا ہے۔ آج کل پانسے، لاٹری، بیمے اور سٹے وغیرہ کے نام سے جو کاروبار ہورہا ہے سب جوئے کی صورتیں ہیں، حتیٰ کہ اخروٹوں کے ساتھ کھیل میں شرط ہو تو وہ بھی جوا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے سورة مائدہ کی آیت (3) اور (90) کے فوائد دیکھ لیں۔ وَاِثْـمُهُمَآ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا : اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوئے کے کچھ فوائد بتلائے، مگر ساتھ ہی فرمایا کہ کچھ فوائد کے ساتھ ان میں بہت بڑا گناہ ہے، پھر مقابلہ نفع اور نقصان کا نہیں کیا کہ ان کے نقصانات ان کے فوائد سے زیادہ ہیں، بلکہ فرمایا ان کا گناہ ان کے فائدے سے زیادہ ہے۔ معلوم ہوا کہ کوئی چیز دنیا میں کتنی بھی نفع بخش کیوں نہ ہو، اگر اس میں گناہ ہے تو مومن کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اس آیت میں شراب اور جوئے کی حرمت کی طرف اشارہ موجود ہے، کیونکہ ان میں ”اِثْمٌ“ بتایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ”اِثْمٌ كَبِيْرٌ“ کو حرام قرار دیا ہے۔ (دیکھیے الاعراف : 33) اس سے فوٹو کے فوائد اور گناہ کا، گھر میں ٹیوی، وی سی آر وغیرہ رکھنے کے فوائد اور گناہ کا اور کفار کے ملکوں میں جا کر رہنے کے فوائد اور گناہ کا مقابلہ بھی کرلینا چاہیے۔ قُلِ الْعَفْوَ ”الْعَفْوَ“ کا معنی صاحب قاموس نے کیا ہے۔ ”خِیَار الشَّیْءِ وَ اَجْوَدُہٗ“ یعنی کسی چیز کا بہترین اور عمدہ ترین حصہ۔ طبری نے بھی کئی مفسرین سے یہ معنی نقل فرمایا ہے۔ اس صورت میں یہ آیت سورة آل عمران کی آیت (92) اور سورة بقرہ کی آیت (267) کی ہم معنی ہے، یعنی اپنی بہترین اور محبوب ترین چیز خرچ کرو۔ ترجمہ اسی معنی کے مطابق کیا گیا ہے۔ دوسرا معنی ہے ”زائد چیز“ اگرچہ زائد کا معنی بھی یہ ہوسکتا ہے کہ جو عمدگی میں بڑھیا ہو، مگر بہت سے علماء نے اس کا معنی اپنی اور گھر کی ضرورتوں سے زائد چیز کیا ہے۔ چناچہ ہمارے شیخ محمد عبدہ ؓ لکھتے ہیں ”الْعَفْوَ“ سے مراد وہ مال ہے جو اہل و عیال اور لازمی ضروریات پر خرچ کرنے کے بعد بچ رہے اور جس کے خرچ کرنے کے بعد انسان خود اتنا محتاج نہ ہوجائے کہ دوسروں سے سوال کرنے لگے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”بہتر صدقہ وہ ہے جو خوش حالی کے ساتھ ہو اور تم پہلے اپنے اہل و عیال پر خرچ کرو۔“ [ بخاری، الزکوٰۃ، باب لا صدقۃ۔۔ : 1426، عن أبی ہریرۃ ؓ ] یہ حکم زکوٰۃ کے علاوہ نفلی صدقے کا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق ہے۔ (اشرالحواشی) دونوں معنی مراد لینے میں بھی کوئی چیز مانع نہیں۔ بعض مسلمان کہلانے والے کمیونسٹوں نے اس آیت سے ضرورت سے زائد چیزوں کی ذاتی ملکیت کے انکار پر استدلال کیا ہے، حالانکہ اس کے معنی اوّل تو یہ ہیں کہ اپنی بہترین چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کرو، اس سے اشتراکی نظریے کی جڑ ہی کٹ جاتی ہے۔ اگر زائد خرچ کرنے کے معنی مراد لیے جائیں تو وہ بھی اگر لوگوں کی ملکیت میں کچھ ہوگا تو خرچ کریں گے اور یہ اختیار بھی ان کے پاس ہوگا کہ وہ کس چیز کو ضرورت سے زائد سمجھتے ہیں۔ اگر ملکیت ہی حکومت کی ہے تو لوگ کیا خرچ کریں گے۔ جبراً سب کچھ چھین لینے کو قرآن کا منشا قرار دینا، لوگوں کی طرح قرآن پر بھی جبر ہے۔
Ayah 2:220

فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰى١ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:220 in the Quran reader

دنیا اور آخرت کے بارے میں۔ اور وہ تجھ سے یتیموں کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دے ان کے لیے کچھ نہ کچھ سنوارتے رہنا بہتر ہے اور اگر تم انھیں ساتھ ملا لو تو تمہارے بھائی ہیں اور اللہ بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے جانتا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ضرور مشقت میں ڈال دیتا۔ بیشک اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ : اس کا تعلق اس سے پہلی آیت ”لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ“ کے ساتھ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے لیے شراب اور جوئے میں دنیا کے فائدے اور دنیا اور آخرت میں ان کے نقصانات اور ان کا کبیرہ گناہ ہونا اور شراب اور جوئے کے بجائے اللہ کے راستے میں اپنی بہترین چیزیں خرچ کرنا کھول کر بیان کر رہا ہے، تاکہ تم چند روزہ دنیا اور ہمیشہ رہنے والی آخرت دونوں میں خود ہی غور وفکر کرلو کہ عقل سے کام لے کر تم کس کو ترجیح دیتے ہو۔ الْيَتٰمٰي“ جس کا باپ فوت ہوگیا ہو وہ بالغ ہونے تک یتیم ہے۔ (لَاَعْنَتَكُمْ) ”عَنَتٌ“ کا معنی مشقت ہے، جیسے سورة توبہ (128) میں ہے : (عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ) ”اس پر بہت شاق ہے کہ تم مشقت میں پڑو۔“ ”اَعْنَتَ“ باب افعال سے ماضی معروف ہے اور ”اِعْنَاتٌ“ اس سے مصدر ہے، جس کے معنی ہیں، آدمی کو ایسی مشقت میں ڈالنا جس میں ہلاکت کا خطرہ ہو۔ (راغب) اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ ”اِصْلَاحٌ“ کی تنوین کی وجہ سے ”کچھ نہ کچھ سنوارتے رہنا“ ترجمہ کیا ہے، یعنی ان کے مال کی حفاظت کے ساتھ ان کی تعلیم، اخلاق، صحت اور تمام معاملات کی کچھ نہ کچھ اصلاح جو تمہارے بس میں ہو، کرتے رہنا، انھیں یتیم سمجھ کر باز پرس نہ کرنے سے بہت بہتر ہے۔ وَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ : ابن عباس ؓ نے فرمایا : ”جب یہ آیت اتری : (وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بالَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ) [ بنی إسرائیل : 34 ] ”اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اس طریقے سے جو سب سے اچھا ہے“ تو لوگوں نے یتیموں کے اموال الگ کردیے، چناچہ یتیموں کا کھانا خراب اور گوشت بدبودار ہونے لگا۔“ یہ بات نبی ﷺ سے ذکر کی گئی اور اس پر یہ آیت اتری تو لوگوں نے انھیں اپنے ساتھ ملا لیا۔ [ مسند أحمد : 1؍325، ح : 3004۔ مستدرک حاکم : 2؍306، ح : 3103، صححہ الحاکم و وافقہ الذھبی و حسنہ الألبانی ] وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ) مگر اللہ تعالیٰ نے تم پر مشقت نہیں ڈالی، بلکہ آسانی اور وسعت پیدا فرمائی۔ چناچہ اصلاح کی نیت سے انھیں اپنے ساتھ ملا سکتے ہو اور اگر محتاج ہو تو بقدر خدمت و ضرورت ان کے مال سے فائدہ بھی اٹھا سکتے ہو، جیسا کہ فرمایا : (وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۚ وَمَنْ كَانَ فَقِيْرًا فَلْيَاْكُلْ بالْمَعْرُوْفِ) [ النساء : 6 ] ”اور جو غنی ہو تو وہ بہت بچے اور جو محتاج ہو تو وہ جانے پہچانے طریقے سے کھالے۔“