2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 2:75

اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:75 in the Quran reader

تو کیا تم طمع رکھتے ہو کہ وہ تمہارے لیے ایمان لے آئیں گے، حالانکہ یقینا ان میں سے کچھ لوگ ہمیشہ ایسے چلے آئے ہیں جو اللہ کا کلام سنتے ہیں، پھر اسے بدل ڈالتے ہیں، اس کے بعد کہ اسے سمجھ چکے ہوتے ہیں اور وہ جانتے ہیں۔

یہ خطاب مسلمانوں سے ہے کہ یہود سے ایمان کی توقع بےسود ہے، ان کے پہلے بزرگ یہ ہیں کہ وہ دیدہ و دانستہ اللہ کے کلام یعنی تورات میں تحریف کر ڈالتے تھے۔ اس جگہ لفظ تحریف لفظی اور معنوی دونوں قسم کی تحریف کو شامل ہے۔ انھوں نے تورات کے الفاظ بھی بدل ڈالے تھے، مگر زیادہ تر غلط تاویلوں سے معانی تبدیل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ موجودہ یہود نے تورات کی ان آیات کو بدل ڈالا جن میں رسول اللہ ﷺ کے اوصاف کا ذکر تھا اور اپنے دل سے حرام کو حلال اور حلال کو حرام ٹھہرا لیا۔ (ابن کثیر۔ قرطبی) آج کل کے باطل پرست علماء بھی اپنے خود ساختہ مسائل کو درست ثابت کرنے کے لیے ہر قسم کے حوالہ جات قرآن و حدیث سے تراش رہے ہیں اور شریعت میں تحریف کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
Ayah 2:76

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالُوْۤا اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ لِیُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:76 in the Quran reader

اور جب وہ ان لوگوں سے ملتے ہیں جو ایمان لائے تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب ان میں سے بعض بعض کی طرف اکیلا ہوتا ہے تو کہتے ہیں کیا تم انھیں وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں، تاکہ وہ ان کے ساتھ تمہارے رب کے پاس تم سے جھگڑا کریں، تو کیا تم نہیں سمجھتے ؟

یہود کی اخلاقی پستی اور اللہ تعالیٰ سے بےخوفی کا یہ عالم تھا کہ ان میں سے بعض لوگ جب مسلمانوں سے ملتے تو اپنے ایمان کا دعویٰ کرتے اور ازراہ نفاق و خوشامد ان سے ان علامتوں اور پیشین گوئیوں کا تذکرہ بھی کرتے جو تورات اور ان کی دوسری کتابوں میں نبی آخر الزمان کے متعلق موجود تھیں، لیکن جب وہ آپس میں ملتے تو ایک دوسرے کو ملامت کرتے کہ تم ان مسلمانوں کو وہ باتیں کیوں بتاتے ہو جو اللہ نے صرف تمھی کو بتائی ہیں ؟ کیا تم نہیں سمجھتے کہ یہ مسلمان آخرت میں اللہ کے پاس تمہاری اپنی دی ہوئی معلومات کی بنا پر تم پر حجت قائم کریں گے اور جھگڑیں گے کہ تم نبی آخر الزمان کو جاننے اور پہچان لینے کے باوجود ان پر ایمان نہیں لائے۔
Ayahs 2:77–78

اَوَ لَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 2:77 in the Quran reader

اور کیا وہ نہیں جانتے کہ بیشک اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں ؟

وَ مِنْهُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 2:78 in the Quran reader

اور ان میں سے کچھ ان پڑھ ہیں، جو کتاب کا علم نہیں رکھتے سوائے چند آرزوؤں کے اور وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ گمان کرتے ہیں۔

3 بنی اسرائیل کے عناد اور سرکشی کو بیان کرنے کے بعد اب ان کے مختلف طبقوں کا بیان ہو رہا ہے، اس آیت میں عوام کی حالت بیان کی گئی ہے۔ (رازی) اُمیّ وہ ہے جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو اور ”امانی“ ”اُمْنِیَّۃٌ“ کی جمع ہے، جس کے معنی آرزؤوں یا من گھڑت روایات کے ہیں، یعنی یہود میں ایک طبقہ جو عوام کا ہے اور ان پڑھ ہے، انھیں ”الکتاب“ یعنی تورات کا تو کچھ علم نہیں، مگر وہ اپنے سینوں میں بعض بےبنیاد قسم کی آرزوئیں پالے ہوئے ہیں، مثلاً یہ کہ ان کے بزرگوں کی وجہ سے اللہ انھیں ضرور بخش دے گا، یا یہ کہ جنت میں یہود کے سوا کوئی نہیں جائے گا وغیرہ، مختلف قسم کی خرافات کا عقیدہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ ان کی غلط آرزوئیں ہیں یا من گھڑت قصے ہیں جو انھوں نے سن رکھے ہیں۔ (ترجمان) ”اُمْنِیَّۃٌ“ کا ایک معنی تلاوت بھی آتا ہے، فرمایا : (اِلَّآ اِذَا تَـمَنّىٰٓ اَلْقَى الشَّيْطٰنُ فِيْٓ اُمْنِيَّتِهٖ ۚ) [ الحج : 52 ] اس کا ایک ترجمہ تلاوت بھی کیا گیا ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ وہ خالی تلاوت کرسکتے ہیں مگر انھیں اس کے مطلب کی کچھ خبر نہیں، جیسا کہ آج کل اکثر مسلمان، خواہ حافظ قرآن ہوں، محض تلاوت کرسکتے ہیں، مگر مفہوم سے بالکل بےبہرہ ہیں۔ ایسا پڑھنا نہ پڑھنے ہی کے برابر ہے، اس لیے ان کے اُمّی ہونے کے خلاف نہیں۔
Ayah 2:79

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَیْدِیْهِمْ١ۗ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَ وَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 2:79 in the Quran reader

پس ان لوگوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں، پھر کہتے ہیں یہ اللہ کے پاس سے ہے، تاکہ اس کے ساتھ تھوڑی قیمت حاصل کریں، پس ان کے لیے بڑی ہلاکت اس کی وجہ سے ہے جو ان کے ہاتھوں نے لکھا اور ان کے لیے بڑی ہلاکت اس کی وجہ سے ہے جو وہ کماتے ہیں۔

یہ تعلیم یافتہ طبقے کی حالت ہے کہ وہ خود گمراہ ہیں اور دوسروں کو گمراہ کرنے کے لیے غلط فتوے دیتے رہتے ہیں۔ وہ محض دنیا کمانے کے لیے عوام کو ان کی خواہشات کے مطابق باتیں جوڑ کر لکھ دیتے ہیں اور انھیں بڑی جرأت اور ڈھٹائی سے اللہ اور رسول کی طرف منسوب کردیتے ہیں، ان سے کوئی مسئلہ پوچھا جائے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کا فرمان بتانے کے بجائے اپنا یا اپنے کسی بزرگ کا قول پیش کر کے باور یہ کرواتے ہیں کہ یہ عین شریعت ہے۔ افسوس اکثر مسلمانوں کا بھی یہی حال ہوگیا ہے کہ انھوں نے امیتوں کے اقوال کو شریعت قرار دے دیا اور قرآن و حدیث پر چلنے والوں کو لا مذہب قرار دے دیا۔ (وَيْلٌ) کا معنی ہلاکت اور تباہی ہے، اس پر تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ بڑی ہلاکت کیا گیا ہے۔ سنن ترمذی کی جس مرفوع روایت میں ہے : ”ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے، کافر ستر سال تک اس کی گہرائی میں چلا جائے گا مگر اس کی گہرائی تک نہ پہنچے گا“ یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ علامہ البانی ؓ نے ضعیف ترمذی (3164) میں اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ اس آیت پر ان حضرات کو خاص طور پر غور کرنا چاہیے جو قرآن کی تفسیر کرتے ہوئے صحیح احادیث کو چھوڑ کر تورات، انجیل اور تلمود کے ساتھ شوق فرماتے ہیں، جن میں تحریف کی اللہ تعالیٰ نے شہادت دی ہے اور جن میں انبیاء پر تہمتیں، بےسرو پا باتیں اور آیات کا باہمی تضاد، لفظی تحریف کا واضح ثبوت ہیں۔ ترجمان القرآن ابن عباس ؓ نے فرمایا : ”تم اہل کتاب سے کسی بھی خبر کے متعلق کیوں پوچھتے ہو، جب کہ تمہاری کتاب جو اللہ کے رسول ﷺ پر نازل کی گئی، سب سے نئی ہے ؟ تم اسے خالص اور ہر طرح کی ملاوٹ سے پاک پڑھتے ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بتایا ہے کہ اہل کتاب نے اپنی کتاب کو بدل دیا اور انھوں نے اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھ کر کہا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، تاکہ اس کے ذریعے سے دنیا کا تھوڑا سا مال کما لیں۔ کیا تمہارے پاس جو علم آیا ہے وہ تمہیں ان سے دریافت کرنے سے روکتا نہیں ؟ قسم ہے اللہ کی ! ہم نے ان میں سے کسی شخص کو نہیں دیکھا کہ وہ تم سے اس چیز کے بارے میں دریافت کرتا ہو جو تم پر نازل کی گئی۔“ [ بخاری، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب قول النبی ﷺ۔۔ : 7363 ] بعض لوگوں نے قرآن مجید کی فروخت کو ناجائز قرار دیا ہے، مگر اس آیت کا یہ مطلب نہیں، اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو دنیوی مفاد کے لیے اپنے پاس سے غلط باتیں لکھ کر اسے اللہ کا کلام باور کرواتے ہیں۔ دیکھیے سورة بقرہ (41)۔
Ayah 2:80

وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَةً١ؕ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:80 in the Quran reader

اور انھوں نے کہا ہمیں آگ ہرگز نہیں چھوئے گی مگر گنے ہوئے چند دن۔ کہہ دے کیا تم نے اللہ کے پاس کوئی عہد لے رکھا ہے تو اللہ کبھی اپنے عہد کے خلاف نہیں کرے گا، یا تم اللہ پر وہ بات کہتے ہو جو تم نہیں جانتے۔

اس آیت میں یہود کی ہمہ گیر گمراہی کا بیان ہے، جس میں عوام اور علماء سبھی مبتلا تھے، یعنی ہم اللہ کے محبوب اور پیارے ہیں، ہم چاہے کتنے بھی گناہ کریں جہنم میں نہیں ڈالے جائیں گے اور اگر ڈالے بھی گئے تو چند دن وہاں رکھ کر نکال لیے جائیں گے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے یہودیوں سے کئی سوال کیے، ان میں سے ایک یہ تھا : (مَنْ أَہْلُ النَّارِ ؟) ”آگ میں جانے والے کون لوگ ہیں ؟“ انھوں نے کہا : ”ہم اس میں تھوڑی دیر رہیں گے، پھر اس میں تم ہماری جگہ لے لو گے۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا : (إِخْسَءُوْا فِیْہَا، لاَ نَخْلُفُکُمْ فِیْہَا أَبَدًا)”تمھی اس میں دفع دوررہو ہم اس میں کبھی تمہاری جگہ نہیں لیں گے۔“ [ بخاری، الجزیۃ والموادعۃ، باب إذا غدر المشرکون۔۔ : 3169 ] ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو یہودی کہا کرتے تھے کہ دنیا کی مدت صرف سات ہزار سال ہے اور لوگوں کو دنیا کے ایک ہزار سال کے بدلے میں آخرت کے صرف ایک دن کا عذاب ہوگا، تو یہ صرف سات دن ہیں، پھر عذاب ختم ہوجائے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (وَقَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَةً) [ ابن أبی حاتم بسند حسن : 1؍210 ] کچھ یہ کہتے تھے کہ جتنے دن ہم نے بچھڑے کی عبادت کی بس اتنے دن جہنم میں رہیں گے۔ [ مصنف عبد الرزاق عن قتادہ ]
Ayah 2:81

بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓئَتُهٗ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:81 in the Quran reader

کیوں نہیں ! جس نے بڑی برائی کمائی اور اسے اس کے گناہ نے گھیر لیا تو وہی لوگ آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

سَيِّئَةً : تنوین تنکیر کے لیے نہیں، بلکہ تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی برائی“ کیا گیا ہے، مراد اس سے کفر و شرک ہے۔ اس سے ملتا جلتا وہ واقعہ ہے کہ جب یہ آیت اتری : (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ) [ الأنعام : 82 ] تو صحابہ کرام ؓ نے : (بِظُلْمٍ) کی تنوین کو تنکیر کے لیے سمجھ کر کہا : ”ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے ایمان میں کسی ظلم کی آمیزش نہیں کی ؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”آیت میں ظلم سے یہ مراد نہیں ہے، کیا تم نے لقمان کی وہ نصیحت نہیں سنی جو انھوں نے اپنے بیٹے کو کی تھی : (ڼ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) [ لقمان : 13 ] ”بیشک شرک یقیناً بہت بڑا ظلم ہے۔“ [ بخاری، التفسیر، باب (لا تشرک باللہ۔۔) : 4776 ] تفصیل سورة انعام (82) میں دیکھیں۔ اسی طرح یہاں بھی (سَيِّئَةً) سے مراد کفر و شرک ہے۔ ابن عباس ؓ نے بھی اس سے مراد ایسا کفر لیا ہے جو ہر نیکی کو ختم کر دے۔ [ ابن أبی حاتم بسند حسن : 1؍214، ح : 812 ] ان آیات میں یہود کے اس نظریہ کی تردید ہے کہ ہم ہر حال میں آخر کار جنت میں جائیں گے، خواہ نبی آخر الزمان پر ایمان نہ لائیں۔ چناچہ بتایا گیا کہ جس نے بڑی برائی کا ارتکاب کیا، یعنی رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے سے انکار کردیا اور اسے اس کے گناہوں نے گھیر لیا کہ اس کی کوئی نیکی باقی نہ رہی تو یہ ابدی جہنمی ہے۔ مراد اس سے یہود اور دوسرے کفار ہیں، کیوں کہ کفر ہی ایسا گناہ ہے جو تمام نیکیوں کو برباد کردیتا ہے۔ آیت : (وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاۗءً مَّنْثُوْرًا) [ الفرقان : 23 ] ”اور ہم اس کی طرف آئیں گے جو انھوں نے کوئی بھی عمل کیا ہوگا تو اسے بکھرا ہوا غبار بنادیں گے۔“ اس آیت سے گناہ گار مومن مراد نہیں۔ اہل السنہ و الجماعہ کا اتفاق ہے کہ آگ میں ہمیشہ کفار و مشرکین ہی رہیں گے، کیونکہ متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ گناہ گار کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، وہ چاہے گا تو اپنے فضل و کرم سے ان کے گناہ معاف فرما دے گا اور چاہے گا تو شفاعت سے یا اپنی خاص رحمت سے جہنم سے نکال دے گا۔ اس لیے اس آیت میں ”سَيِّئَةً“ اور ”خَطِيْۗــــَٔــتُهٗ“ سے مراد کفر و شرک ہی ہے۔ خصوصاً اس لیے بھی کہ یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا، آیت : (بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً) ”(یہود کو خطاب ہے) کہ جس نے تمہارے اعمال جیسے عمل کیے اور تمہاری طرح کفر کیا، حتیٰ کہ اس کے کفر نے اس کی تمام نیکیوں کو گھیر لیا۔ [ ابن أبی حاتم بسند حسن : 1؍213، ح : 821 ]
Ayah 2:82

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:82 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے وہی جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

(وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ) کفر پر وعید کے بعد ایمان اور عمل صالح پر بشارت ہے اور یہ قرآن کا عام اسلوب ہے کہ بشارت و نذارت دونوں اکٹھی ذکر ہوتی ہیں۔
Ayah 2:83

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ١۫ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْكُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 2:83 in the Quran reader

اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو گے اور ماں باپ اور قرابت والے اور یتیموں اور مسکینوں سے احسان کرو گے اور لوگوں سے اچھی بات کہو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو ، پھر تم پھرگئے مگر تم میں سے تھوڑے اور تم منہ پھیرنے والے تھے۔

گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کو وہ تاریخی احسانات یاد دلائے گئے ہیں جو ان کے بزرگوں پر کیے گئے اور انھوں نے شکر گزاری کے بجائے کفر کیا، جس کے نتیجہ میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کئی بار عتاب نازل ہوا۔ اب یہاں ان کو وہ عہد یاد دلایا جا رہا ہے جو بنیادی احکام (عبادات و معاملات) دیتے وقت ان سے لیا گیا تھا اور بتایا جا رہا ہے کہ بنی اسرائیل نے اس عہد کی پابندی نہ کی اور اس سے سراسر بےپروائی اختیار کی۔ اسی قسم کا حکم سورة نساء (36) میں امت مسلمہ کو بھی دیا گیا ہے۔ (ابن کثیر) لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ : عبادت کی چار قسمیں ہیں : 1 بدنی عبادت، جیسے طواف، رکوع، سجدہ وغیرہ۔ 2 مالی عبادت، جیسے صدقہ و خیرات کرنا اور نذر و نیاز ماننا۔ 3 لسانی عبادت (یعنی زبان سے) ، جیسے کسی کے نام کا وظیفہ جپنا، یا اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے کسی کا نام لینا۔ 4 قلبی عبادت (یعنی دل سے) ، جیسے کسی پر بھروسا رکھنا، کسی سے خوف کھانا یا امید رکھنا۔ یہ سب عبادتیں اللہ کے لیے ہیں، ان میں جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک بنایا وہ شرک کا مرتکب ہوگیا۔ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا) ماں باپ کے ساتھ نیکی سے پیش آنے کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے علاوہ متعدد دوسری آیات میں عبادت الٰہی کے ساتھ بیان فرمایا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حقوق العباد میں سب سے افضل عمل یہی ہے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا :”سب سے افضل عمل کون سا ہے۔“ فرمایا : (اَلصَّلاَۃُ عَلٰی وَقْتِہَا) ”نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا۔“ پوچھا : ”پھر کون سا ؟“ فرمایا : (بِرُّ الْوَالِدَیْنِ) ”ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔“ پوچھا : ”پھر کون سا ؟“ فرمایا : ”جہاد فی سبیل اللہ۔“ [ بخاری، مواقیت الصلاۃ، باب فضل الصلوۃ لوقتہا : 527 ] اس کی وجہ یہی ہے کہ انھوں نے اسے جنم دیا، پھر اس کی پرورش کی : (رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا) [ بنی إسرائیل : 24 ] وَالْيَتٰمٰى) یتیم وہ ہے جس کا والد بچپن میں فوت ہوجائے۔ علی بن ابو طالب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”بالغ ہونے کے بعد یتیمی نہیں۔“ [ أبو داوٗد، الوصایا، باب ما جاء متی ینقطع الیتم : 2573 و صححہ الألبانی ] (وَالْمَسٰكِيْنِ) اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورة توبہ (60) کا حاشیہ۔ (وَقُوْلُوْا للنَّاسِ حُسْـنًا) ابن کثیر ؓ نے فرمایا : ”قول حسن یہ ہے کہ نیکی کا حکم دے، برائی سے منع کرے، بردباری اور عفو و درگزر سے کام لے اور جیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ لوگوں سے اچھی بات کرے اور ہر وہ اچھی عادت ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے۔“ ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”کسی نیکی کو حقیر نہ سمجھو، اگر تم کچھ اور نہ کرسکو تو کم از کم اپنے بھائی سے کھلے چہرے کے ساتھ مل لو۔“ [ مسلم، البر والصلۃ، باب استحباب طلاقۃ۔۔ : 2626 ] بنی اسرائیل کو قول حسن (اچھی بات) کا حکم تھا، ہماری امت کو اس سے بڑھ کر ”احسن“ (سب سے اچھی بات) کا حکم ہے، چناچہ فرمایا : (وَقُلْ لِّعِبَادِيْ يَـقُوْلُوا الَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ) [ بنی إسرائیل : 53 ] ”اور میرے بندوں سے کہہ دے وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو۔“ (وَّاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ) اس سے مراد وہ نماز اور زکوٰۃ ہے جو بنی اسرائیل ادا کرتے تھے۔ (اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْكُمْ) اس سے مراد بنی اسرائیل کے وہ تھوڑے سے لوگ ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے اس عہد پر قائم رہے، یا آپ کے تشریف لانے کے بعد آپ پر ایمان لے آئے۔ باقی سب نے اس عہد و پیمان کو پس پشت پھینک دیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حد درجے کا انصاف ہے کہ ان کی عہد شکنی کا تذکرہ کرتے ہوئے بھی سب کو مجرم قرار نہیں دیا، بلکہ عہد پر قائم رہنے والوں کو، خواہ وہ تھوڑے تھے، عہد توڑنے والوں سے الگ ذکر فرمایا۔
Ayahs 2:84–86

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 2:84 in the Quran reader

اور جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا کہ تم اپنے خون نہیں بہاؤ گے اور نہ اپنے آپ کو اپنے گھروں سے نکالو گے، پھر تم نے اقرار کیا اور تم خود شہادت دیتے ہو۔

ثُمَّ اَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِیَارِهِمْ١٘ تَظٰهَرُوْنَ عَلَیْهِمْ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١ؕ وَ اِنْ یَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْهُمْ وَ هُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ١ؕ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ١ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُرَدُّوْنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الْعَذَابِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:85 in the Quran reader

پھر تم ہی وہ لوگ ہو کہ اپنے آپ کو قتل کرتے ہو اور اپنے میں سے ایک گروہ کو ان کے گھروں سے نکالتے ہو، ان کے خلاف ایک دوسرے کی مدد گناہ اور زیادتی کے ساتھ کرتے ہو، اور اگر وہ قیدی ہو کر تمہارے پاس آئیں تو ان کا فدیہ دیتے ہو، حالانکہ اصل یہ ہے کہ ان کا نکالنا تم پر حرام ہے، پھر کیا تم کتاب کے بعض پر ایمان لاتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو ؟ تو اس شخص کی جزا جو تم میں سے یہ کرے اس کے سوا کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں رسوائی ہو اور قیامت کے دن وہ سخت ترین عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے اور اللہ ہرگز اس سے غافل نہیں جو تم کرتے ہو۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١٘ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۠ Open ayah 2:86 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے خریدی، سو نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔

ایک دوسرے کا خون نہیں بہاؤ گے اور ایک دوسرے کو ان کے گھروں سے نہیں نکالو گے“ کے بجائے فرمایا کہ ”تم اپنے خون نہیں بہاؤ گے اور نہ اپنے آپ کو اپنے گھروں سے نکالو گے“ کیونکہ امت مسلمہ کے افراد ایک جسم کی طرح ہیں، کسی بھی مسلم کا خون بہانا اپنا خون بہانا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَثَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ فِیْ تَوَادِّہِمْ وَ تَرَاحُمِہِمْ وَ تَعَاطُفِہِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَکَی مِنْہٗ عُضْوٌ تَدَاعٰی لَہٗ سَاءِرُ الْجَسَدِ بالسَّہَرِ وَالْحُمّٰی) ”تمام مومن اپنی باہمی دوستی، ایک دوسرے پر رحم اور ایک دوسرے پر شفقت میں ایک جسم کی مانند ہیں، جب اس کا ایک عضو بیمار ہوتا ہے تو اس کی خاطر سارا جسم بیدار رہتا ہے اور بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔“ [ مسلم، البروالصلۃ، باب تراحم المؤمنین۔۔ : 2626، عن النعمان بن بشیر ؓ۔ بخاری : 6011 ] ”وَھُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ“ میں ”ہو“ ضمیر شان ہے جس کا ترجمہ ”اصل یہ ہے“ کیا گیا ہے۔ 3 دونوں آیتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ ان سے چار عہد لیے گئے تھے : 1 ایک دوسرے کا خون نہ بہانا۔ 2 ایک دوسرے کو گھروں سے نہ نکالنا۔ 3 ایک دوسرے کے خلاف مدد نہ کرنا۔ 4 قیدی کو فدیہ دے کر چھڑا لینا، مگر وہ صرف فدیہ پر عمل کرتے اور باقی تین کی مخالفت کرتے اور بلا جھجک ان کا ارتکاب کرتے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں یہود کے تین قبیلے تھے : بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ، یہ اہل کتاب تھے۔ مدینہ کے عرب قبائل اوس اور خزرج بت پرست مشرک تھے، انھیں کسی آسمانی دین سے سروکار نہ تھا، یہود کے ان قبائل سے حلیفانہ تعلقات تھے۔ بنو قینقاع اور بنونضیر خزرج کے حلیف تھے اور بنو قریظہ اوس کے حلیف تھے۔ اوس اور خزرج کی آپس میں جنگ رہا کرتی تھی اور یہودی قبائل اس میں اپنے اپنے حلیف کا ساتھ دیتے اور مقابلے میں آنے والے مشرک قبیلے کے آدمیوں کے علاوہ ان کا ساتھ دینے والے اپنے یہودی بھائیوں کو بھی قتل کرتے، ان کے گھر بھی لوٹ لیتے، پھر جب لڑائی ختم ہوتی اور کچھ یہودی قید ہو کر غالب قبیلے کے پاس آتے تو غالب قبیلے کے حلیف یہودی خود ہی ان کا فدیہ دے کر انھیں چھڑوا دیتے اور کہتے کہ ہمیں اللہ کی کتاب کا حکم ہے کہ اپنے قیدی بھائیوں کو چھڑواؤ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہیں فدیہ دے کر چھڑوانے کا حکم تو یاد رہا، مگر اپنے بھائیوں کے خلاف دوسرے کی مدد نہ کرنے، ان کا خون نہ بہانے اور انھیں گھروں سے نہ نکالنے کا حکم یاد نہ رہا، جس پر تم عمل کرتے تو فدیے کی نوبت ہی نہ آتی۔ گویا تم اللہ کی کتاب کے جس حکم کو اپنی مرضی کے مطابق پاتے ہو مان لیتے ہو اور جو اپنی مرضی کے مطابق نہ ہو اس کی پروا نہیں کرتے، اگر تم واقعی اللہ کی کتاب پر چلتے ہو تو چاروں حکم مانو۔ (اِلَّا خِزْيٌ) یہودیوں کو دنیا کی زندگی میں جلد ہی رسوائی دیکھنا پڑی کہ بنو نضیر اور بنو قینقاع جلا وطن ہوئے اور بنو قریظہ کے بالغ مرد قتل ہوئے، بچے اور عورتیں لونڈی و غلام بنے، پھر آخرت کے عذاب کا تو دنیاوی عذاب سے کچھ موازنہ ہی نہیں۔ 3 افسوس ! اس وقت اکثر مسلمانوں کا حال بعینہ وہی ہوگیا ہے جو اہل کتاب کا تھا کہ انھوں نے اسلام کے اپنی مرضی کے چند احکام پر عمل کیا اور باقی کو بھلا دیا، مثلاً مسلمان خنزیر کا گوشت کھانا تو درکنار اس کا نام لینے سے بھی اجتناب کرتے ہیں، جب کہ سود اور جوئے (انشورنس وغیرہ) سے انھیں کچھ پرہیز نہیں، بلکہ ان کے کاروبار کی بنیاد ہی ان کاموں پر ہے۔ وہ قبلے کی طرف منہ کرکے پیشاب نہیں کرتے، مگر انھیں نماز سے کچھ سروکار نہیں۔ وہ جھٹکے والی مرغی (جسے شرعی طریقے سے حلال نہ کیا گیا ہو) کھانے سے یورپ اور امریکہ میں جا کر بھی اجتناب کرتے ہیں، مگر شراب اور حرام شباب سے انھیں پرہیز نہیں۔ وہ اپنے آپ کو امت مسلمہ کا فرد کہتے ہیں، پھر کفار کے ساتھ مل کر اپنے ہی بھائیوں کو قتل اور ان کے گھروں اور شہروں کو تباہ و برباد کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ دنیا میں ذلت کی صورت میں تو صاف ظاہر ہے، رہا آخرت کا معاملہ تو کتاب کے بعض پر ایمان (یعنی اس پر عمل) اور بعض کے ساتھ کفر (یعنی اس کی مخالفت کرنا) اہل کتاب کو ”اَشَدِّ الْعَذَ ابِ“ سے نہیں بچا سکا تو موجودہ مسلمانوں کو اس سے کیسے بچائے گا ؟
Ayah 2:87

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ١٘ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ١ۚ فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ١٘ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ Open ayah 2:87 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کے بعد پے در پے بہت سے رسول بھیجے اور ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو واضح نشانیاں دیں اور اسے پاک روح کے ساتھ قوت بخشی۔ پھر کیا جب کبھی کوئی رسول تمہارے پاس وہ چیز لے کر آیا جسے تمہارے دل نہ چاہتے تھے، تم نے تکبر کیا تو ایک گروہ کو جھٹلا دیا اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے۔

یعنی موسیٰ ؑ کے بعد آنے والے جن انبیاء و رسل کا نام قرآن مجید میں آیا ہے وہ ہارون، ذوالکفل، الیاس، الیسع، داؤد، سلیمان، عزیر، یونس، زکریا، یحییٰ اور عیسیٰ ؑ ہیں، حدیث میں یوشع بن نون ؑ کا ذکر بھی آیا ہے۔ لقمان ؑ کے نبی ہونے میں اختلاف ہے۔ بہت سے رسولوں کا تذکرہ قرآن میں نہیں کیا گیا، دیکھیے سورة مؤمن (78)۔ (الْبَيِّنٰت) اس سے مراد معجزے ہیں، جو عیسیٰ ؑ کو دیے گئے، جیسے مردوں کو زندہ کرنا، مٹی سے پرندے کی شکل بنا کر اس میں روح پھونکنے سے پرندہ بن جانا، اندھے اور برص کے مریض کو تندرست کرنا وغیرہ، جن کا ذکر سورة آل عمران (49) اور مائدہ (110) میں آیا ہے۔ (بِرُوْحِ الْقُدُسِ ۭ) اس سے مراد جبریل ؑ ہیں۔ زمخشری ؓ نے فرمایا : ”بِالرُّوْحِ الْمُقَدَّسَۃِ کَمَا تَقُوْلُ حَاتِمُ الْجُوْدِ وَ رَجُلُ صِدْقٍ“ گویا ”روح“ موصوف ہے، جو اپنی صفت کی طرف مضاف ہے اور ”قدس“ مصدر ہے، جو اسم مفعول کے معنی میں ہے، یعنی پاک روح، جیسا کہ ”حاتم“ کو اس کی صفت ”اَلْجُوْدُ“ کی طرف مضاف کیا گیا، جبکہ مصدر بمعنی ”اَلْجَوَادُ“ ہے، یعنی سخی ”حاتم“ اور ”رَجُل“ کو اس کی صفت ”صدق“ کی طرف مضاف کیا گیا، جو ”صادق“ کے معنی میں ہے، یعنی سچا آدمی۔ (الکشاف) بعض اہل علم نے فرمایا : ”الْقُدُسِ ۭ“ اللہ تعالیٰ ہے، کیونکہ وہ سراسر پاک ہے، روح اس کی طرف مضاف ہے، گویا روح القدس کا معنی ہوا روح اللہ، اگرچہ تمام روحوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے، مگر جبریل ؑ کی خصوصی عزت افزائی کے لیے انھیں روح اللہ کہا گیا، جیسا کہ ”بیت اللہ“ اور ”ناقۃ اللہ“ کہا جاتا ہے کہ اگرچہ سب گھروں کا مالک اللہ ہی ہے اور سب اونٹنیاں اللہ ہی کی ہیں، مگر کعبہ کو اور صالح ؑ کی اونٹنی کو ان الفاظ کے ساتھ خاص شرف عطا ہوا۔ اس بات کی دلیل کہ روح القدس سے مراد جبریل ؑ ہی ہیں، یہ ہے کہ سورة شعراء (193) میں جبریل ؑ کو ”الروح الامین“ فرمایا گیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے حسان ؓ کے متعلق فرمایا : (اَللّٰھُمَّ أَیِّدْہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ) ”اے اللہ ! اس کو روح القدس کے ساتھ قوت بخش۔“ [ بخاری، الصلوۃ، باب الشعر فی المسجد : 453 ] ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے بنوقریظہ سے جنگ والے دن حسان ؓ سے فرمایا : (اُھْجُ الْمُشْرِکِیْنَ فَإِنَّ جِبْرِیْلَ مَعَکَ) ”مشرکین کی ہجو کر کیونکہ یقیناً جبریل تیرے ساتھ ہے۔“ [ بخاری، المغازی، باب مرجع النبی ﷺ من الأحزاب : 4124 ] معلوم ہوا کہ روح القدس جبریل ہی ہیں۔ اگرچہ تمام انبیاء کو بینات عطا ہوئے اور جبریل ؑ کے ذریعے سے وحی ہوئی، مگر عیسیٰ ؑ کے ساتھ معجزوں اور روح القدس کی تائید کا خاص طور پر اس لیے ذکر کیا گیا کہ یہود نے اتنے برگزیدہ پیغمبر کو بھی جھٹلا دیا، بلکہ انھیں اپنے خیال میں سولی پر چڑھا دیا، پھر اسے اپنا فخریہ کارنامہ قرار دیا : (وَّقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ ۭ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاع الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًۢا) [ النساء : 157 ] ”اور ان کے یہ کہنے کی وجہ سے (ہم نے ان پر لعنت کی) کہ بلاشبہ ہم نے ہی مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کیا، جو اللہ کا رسول تھا، حالانکہ نہ انھوں نے اسے قتل کیا اور نہ اسے سولی پر چڑھایا اور لیکن ان کے لیے اس (مسیح) کا شبیہ بنادیا گیا اور بیشک وہ لوگ جنھوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے، یقیناً اس کے متعلق بڑے شک میں ہیں، انھیں اس کے متعلق گمان کی پیروی کے سوا کچھ علم نہیں اور انھوں نے اسے یقیناً قتل نہیں کیا۔“ (وَفَرِيْقًا تَقْتُلُوْن) دیکھیے سورة بقرہ آیت (61) کی تفسیر۔
Ayah 2:88

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:88 in the Quran reader

اور انھوں نے کہا ہمارے دل غلاف میں (محفوظ) ہیں، بلکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کردی، پس وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں۔

غُلْفٌ ۭ یہ ”أَغْلَفُ“ کی جمع ہے، جیسے ”اَحْمَرُ“ کی جمع ”حُمْرٌ“ ہے، یعنی جو چیز غلاف (پردے) میں ہو، جیسے : ”رَجُلٌ اَغْلَفُ“ ”وہ آدمی جس کا ختنہ نہ ہوا ہو۔“ اور ”سَیْفٌ اَغْلَفُ“ وہ تلوار جو غلاف میں ہو۔ یہود کہا کرتے تھے کہ ہمارے دل غلاف میں محفوظ ہیں، ان پر تمہاری باتوں کا کچھ اثر نہیں ہوتا، فرمایا : (وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْٓ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ) [ حٰم السجدۃ : 5] ”اور انھوں نے کہا ہمارے دل اس بات سے پردوں میں ہیں جس کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے۔“ بعض علمائے تفسیر نے ”غُلْفٌ“ کے یہ معنی کیے ہیں کہ ہمارے دل علم و حکمت سے پر ہیں، کسی دوسرے علم کی ان میں گنجائش نہیں ہے۔ اس پر قرآن نے فرمایا کہ حق سے متاثر نہ ہونا فخر کی بات نہیں ہے، یہ تو اللہ کی لعنت کی نشانی ہے۔ (ابن کثیر) فَقَلِيْلًا مَّا يُؤْمِنُوْنَ ’ ما“ تاکید کے لیے ہے، اس لیے ”بہت کم“ ترجمہ کیا گیا۔ ”بہت کم ایمان لاتے ہیں“ کا ایک معنی یہ ہے کہ ان میں سے بہت کم لوگ ایمان لاتے ہیں، جیسے عبداللہ بن سلام ؓ وغیرہ۔ اس صورت میں یہ ”يُؤْمِنُوْنَ“ کی ضمیر سے حال ہے۔ دوسرا یہ کہ وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں پورا ایمان نہیں لاتے، بعض آیات اور بعض انبیاء پر ایمان لاتے ہیں اور بعض سے کفر کرتے ہیں، اس صورت میں یہ ایمان محذوف کی صفت ہے۔ ”قَلِیْلاً“ بعض اوقات عدم کے لیے بھی آتا ہے کہ وہ ایمان لاتے ہی نہیں۔
Ayah 2:89

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ١ۙ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ١٘ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:89 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس اللہ کے ہاں سے ایک کتاب آئی جو اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو ان کے پاس ہے، حالانکہ وہ اس سے پہلے ان لوگوں پر فتح طلب کیا کرتے تھے جنھوں نے کفر کیا، پھر جب ان کے پاس وہ چیز آگئی جسے انھوں نے پہچان لیا تو انھوں نے اس کے ساتھ کفر کیا، پس کافروں پر اللہ کی لعنت ہے۔

يَسْتَفْتِحُوْنَ) فتح و نصرت طلب کرتے تھے، یعنی نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے جب یہودی عرب کے مشرکین سے مغلوب ہوتے تو وہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! نبی آخر الزمان جلد ظاہر ہوں، تاکہ ہم ان کے ساتھ مل کر ان کافروں پر غلبہ حاصل کریں۔ (طبری) ”يَسْتَفْتِحُوْنَ“ کا دوسرا معنی ہے : ”یَفْتَحُوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا“ (فَتَحَ عَلَیْہِ) کا معنی ہے خبر دینا اور سین اور تاء مبالغہ کے لیے ہے، یعنی کافروں کو خوب کھول کر بتاتے تھے۔ (زمخشری) عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہود، رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے آپ کے ساتھ مل کر اوس اور خزرج پر فتح و غلبہ کی دعا کیا کرتے تھے، جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو عرب میں سے مبعوث فرمایا تو انھوں نے آپ کے ساتھ کفر کیا اور ان سب باتوں کا انکار کردیا جو وہ آپ کے بارے میں کہا کرتے تھے، تو معاذ بن جبل اور بشر بن معرور اور داؤد بن سلمہ ؓ نے ان سے کہا : ”اے یہود کی جماعت ! اللہ سے ڈرو اور مسلمان ہوجاؤ ! تم تو محمد ﷺ کے ساتھ مل کر ہم پر فتح و غلبہ کی دعا کیا کرتے تھے، جب ہم شرک میں گرفتار تھے اور تم ہمیں بتایا کرتے تھے کہ اللہ کے آخری نبی مبعوث ہونے والے ہیں اور آپ کی نشانیاں بیان کیا کرتے تھے۔“ تو سلام بن مشکم، جو بنو نضیر میں سے تھا، اس نے کہا : ”وہ ہمارے پاس کوئی چیز نہیں لائے جسے ہم پہچانتے ہوں اور یہ وہ نہیں جو ہم تمہیں بتایا کرتے تھے۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات پر یہ آیت نازل فرمائی : (وَلَمَّا جَاۗءَھُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ ۙ) [ طبری۔ ابن أبی حاتم بسند حسن : 1؍238، ح : 908 ] قرطبی نے ابن عباس ؓ سے ”يَسْتَفْتِحُوْنَ“ کے یہ معنی بھی نقل کیے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ظہور سے پہلے جب یہودیوں کا عرب کے مشرکین سے مقابلہ ہوتا تو وہ آپ ﷺ کے وسیلے سے دعا کرتے اور کہتے : (اَللّٰہُمَّ إِنَّا نَسْءَلُکَ بِحَقِّ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ وَعَدْتَّنَا أَنْ تُخْرِجَہٗ لَنَا فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ إِلاَّ نَصَرْتَنَا عَلَیْہِمْ) ”اے اللہ ! ہم تجھ سے بحق نبی امی سوال کرتے ہیں، جس کا تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ اسے ہمارے لیے آخر زمانے میں ظاہر کرے گا کہ ہمیں ان پر فتح عطا فرما۔“ چناچہ جب وہ دشمن سے ملتے یہ دعا کرتے تو انھیں شکست دیتے۔ (قرطبی) یہ روایت مستدرک حاکم (2؍263، ح : 3042) میں ہے، امام حاکم ؓ نے فرمایا، یہ روایت تفسیر کی مجبوری کی بنا پر لائی گئی ہے اور اس کی حدیث سے یہ غریب ہے۔ امام ذہبی ؒ نے اس کی تلخیص میں فرمایا کہ اس کی کوئی مجبوری نہیں، کیونکہ راوی عبد المالک متروک ہے، ہلاک ہونے والا ہے، اس کے علاوہ اس مفہوم کی روایات میں سے کوئی بھی صحیح نہیں۔
Ayah 2:90

بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ یَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ۚ فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 2:90 in the Quran reader

بری ہے وہ چیز جس کے بدلے انھوں نے اپنے آپ کو بیچ ڈالا کہ اس چیز کا انکار کردیں جو اللہ نے نازل فرمائی، اس ضد سے کہ اللہ اپنا کچھ فضل اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ پس وہ غضب پر غضب لے کر لوٹے اور کافروں کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔

یعنی انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو پہچان لینے کے باوجود کہ یہ وہی نجات دلانے والا ہے جس کے آنے کی وہ دعائیں کرتے تھے، آپ کا انکار کیا، تو اس کی وجہ صرف ان کی یہ ضد، نسلی تعصب اور حسد تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری نبی ان میں کیوں نہیں بھیجا اور اپنے فضل سے ایک ان پڑھ قوم عرب کو کیوں نوازا۔ یہ نہ سوچا کہ اللہ اپنے فضل کا خود مالک ہے، وہ جسے چاہے نواز دے۔ ان کے اس حسد کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ غضب پر غضب لے کر پلٹے۔ پہلے جرائم، جن کا گزشتہ آیات میں ذکر ہے، ان میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کے غضب کا باعث تھا، مثلاً بچھڑے کی عبادت، تورات میں تحریف، رسولوں کا قتل، عیسیٰ ؑ کی تکذیب وغیرہ، اب آخر الزمان نبی کو جھٹلایا تو مزید غضب کا نشانہ بنے، چناچہ ”فَبَاۗءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰي غَضَبٍ ۭ“ کا معنی پہلا اور دوسرا غضب نہیں، بلکہ بار بار اور بڑا غضب ہے، جس کی وجہ سے انھیں ”الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ“ فرمایا گیا ہے۔
Ayah 2:91

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ١ۗ وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ١ؕ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِیَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:91 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے اس پر ایمان لاؤ جو اللہ نے نازل فرمایا ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر نازل کیا گیا اور جو اس کے علاوہ ہے اسے وہ نہیں مانتے، حالانکہ وہی حق ہے، اس کی تصدیق کرنے والا ہے جو ان کے پاس ہے۔ کہہ دے پھر اس سے پہلے تم اللہ کے نبیوں کو کیوں قتل کیا کرتے تھے، اگر تم مومن تھے ؟

اس آیت میں یہود کا رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لانے کا ایک بہانہ اور اس کا رد ذکر فرمایا گیا ہے، وہ یہ کہ جب انھیں قرآن پر ایمان لانے کے لیے کہا جاتا تو وہ کہتے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں جو ہم پر نازل کیا گیا، یعنی ہم تورات کو مانتے ہیں اور اسی کے مکلف ہیں، اس کے سوا ہم کوئی چیز نہیں مانتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اول تو تمہارا قرآن کو نہ ماننا بےمعنی بات ہے، کیونکہ وہ تورات کی تصدیق کرنے والا ہے اور جیسا کہ پچھلی آیت میں ذکر ہے کہ تم پہچان بھی چکے ہو کہ یہ وہی رسول ہے جس کی آمد کا تم شدت سے انتظار کر رہے تھے، پھر اگر تمہارا یہی دعویٰ ہے کہ تم صرف تورات کو مانتے ہو تو تم پہلے انبیاء کو کیوں قتل کرتے تھے ؟ حالانکہ وہ سب انبیاء تمہیں تورات کی طرف دعوت دینے آئے تھے اور تورات میں تمہیں انبیاء کے قتل سے منع کیا گیا تھا۔ معلوم ہوا کہ تمہارا جھٹلانا محض حسد، بغض اور تکبر کی وجہ سے ہے۔
Ayah 2:92

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:92 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا موسیٰ تمہارے پاس واضح نشانیاں لے کر آیا، پھر تم نے اس کے بعد بچھڑے کو پکڑ لیا اور تم ظالم تھے۔

یہ ایک اور وجہ سے ان کے تورات پر ایمان کے دعوے کا رد ہے کہ تم نے موسیٰ ؑ سے کیا سلوک کیا جو اپنی نبوت کی واضح نشانیاں اور ناقابل تردید دلائل لے کر تمہارے پاس آئے، جیسے عصا، ید بیضاء، طوفان، ٹڈی، جوئیں، مینڈک، خون، سمندر کا پھٹنا، من وسلویٰ ، پتھر سے بارہ چشموں کا نکلنا، بادل کا سایہ وغیرہ، پھر ان نشانیوں کے آنے کے بعد تم نے بچھڑا بنا کر پوجنا شروع کردیا، تو کیا یہ تورات پر ایمان تھا ؟ (مِنْۢ بَعْدِهٖ) اس سے مراد موسیٰ ؑ کے ”طور“ پر جانے کے بعد بھی ہوسکتا ہے اور موسیٰ ؑ کے نشانیاں لانے کے بعد بھی۔
Ayah 2:93

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اسْمَعُوْا١ؕ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا١ۗ وَ اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ١ؕ قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِیْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:93 in the Quran reader

اور جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا اور تمہارے اوپر پہاڑ کو بلند کیا، پکڑو قوت کے ساتھ جو ہم نے تمہیں دیا ہے اور سنو۔ انھوں نے کہا ہم نے سنا اور نہیں مانا، اور ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں میں اس بچھڑے کی محبت پلادی گئی۔ کہہ بری ہے وہ چیز جس کا حکم تمہیں تمہارا ایمان دیتا ہے، اگر تم مومن ہو۔

(سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا ۤ) ہم نے سنا اور نہیں مانا۔“ یہ دونوں لفظ انھوں نے زبان سے کہہ دیے ہوں تو کچھ تعجب نہیں، جو قوم (فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ) کہہ سکتی ہے ان سے یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ رفع طور کے وقت ”سَمِعْنَا“ کہہ دیا ہو اور بعد میں صاف ”ہم نہیں مانتے“ کہہ دیا ہو۔ بعض اہل علم نے فرمایا کہ ان کے زبان سے اقرار کو ”سَمِعْنَا“ اور عمل نہ کرنے کو ”وَعَصَيْنَا“ سے بیان فرمایا ہے، گویا انھوں نے زبان حال سے یہ کہا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین سے کہا : (ائْتِيَا طَوْعًااَوْ كَرْهًا ۭ قَالَتَآ اَتَيْنَا طَاۗىِٕعِيْنَ) [ حٰآ السجدۃ : 11 ] ”تم دونوں آؤ خوشی سے یا ناخوشی سے، دونوں نے کہا ہم خوشی سے آگئے۔“ اس تفسیر کی بھی گنجائش ہے، مگر جب ان کا منہ میں موجود زبان سے کہنا ممکن ہے، بلکہ صاف ظاہر ہے تو زبان حال کہنے کی کیا ضرورت ہے۔ گزشتہ آیت : (ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ) [ البقرۃ : 64 ] میں بھی ان کا عہد و میثاق کے بعد اس سے پھرجانا گزر چکا ہے۔ وَاُشْرِبُوْا فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ) جس طرح پانی رگ رگ میں سرایت کرجاتا ہے اسی طرح اس بچھڑے کی محبت ان کے رگ و ریشہ میں سرایت کرگئی۔ ”الْعِجْلَ“ سے پہلے ”حُبٌّ“ کا لفظ مقدر ہے۔ ”الْعِجْلَ“ میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے ”اس بچھڑے“ ترجمہ کیا گیا۔ ”وَاُشْرِبُوْا“ کے الفاظ سے اشارہ ہے کہ اس بچھڑے کی محبت اس حد تک پہنچ گئی کہ اس میں ان کا کچھ اختیار نہ رہا، بلکہ یہ معاملہ ہوگیا جیسے کسی اور نے ان کے دلوں میں اس کی محبت انڈیل دی ہو۔ بِكُفْرِھِمْ ان کی بچھڑے سے اس حد تک محبت اور عبادت بھی کفر تھی، مگر اس کا باعث ان کا سابقہ کفر تھا جس کا ذکر شروع سورت سے آ رہا ہے۔ معلوم ہوا کہ کفر مزید کفر کا اور ایمان مزید ایمان کا باعث ہوتا ہے۔ (اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ) یہ ان کے اس دعویٰ پر مزید چوٹ ہے کہ ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر نازل کیا گیا، یعنی حقیقت میں تم تورات پر بھی ایمان نہیں رکھتے، ورنہ تورات پر ایمان تمہیں ”سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا“ کہنے کا اور بچھڑے کی عبادت جیسے صریح شرک کا حکم کیسے دے سکتا ہے اور اگر دیتا ہے تو تمہارا ایمان تمہیں بہت بری باتوں کا حکم دیتا ہے۔
Ayahs 2:94–95

قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:94 in the Quran reader

کہہ دے اگر آخرت کا گھر اللہ کے ہاں سب لوگوں کو چھوڑ کر خاص تمہارے ہی لیے ہے تو موت کی آرزو کرو، اگر تم سچے ہو۔

وَ لَنْ یَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:95 in the Quran reader

اور وہ ہرگز اس کی آرزو کبھی نہیں کریں گے، اس کی وجہ سے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ ظالموں کو خوب جاننے والا ہے۔

اس آیت سے ملتا جلتا مضمون سورة جمعہ (6 تا 8) میں بیان ہوا ہے، یہاں ”وَلَنْ يَّتَمَنَّوْهُ“ اور وہاں ”وَلَا يَتَمَنَّوْنَهٗٓ اَبَدًۢا“ ہے۔ اس میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہاں دعویٰ اللہ کی دوستی کا ہے، جس کی نفی صرف ”لا“ کے ساتھ کی گئی، یہاں دار آخرت کا یہودیوں کے لیے خاص ہونے کا ہے جو اس سے بڑا دعویٰ ہے، کیونکہ اللہ کی دوستی ذریعہ ہے اور جنت کا حصول نتیجہ ہے، اس لیے یہاں نفی صرف ”لن“ کے ساتھ کی گئی، جو تاکید کے لیے ہے۔ (رازی) واللہ اعلم ! اس آیت کی دو تفسیریں کی گئی ہیں، ایک یہ کہ اگر تم اس دعویٰ میں سچے ہو کہ جنت میں تمہارے سوا کوئی نہیں جائے گا تو موت کی تمنا کرو، کیونکہ جس شخص کو یقین ہو کہ وہ مرنے کے بعد جنت میں جائے گا وہ تو ضرور موت کی تمنا کرے گا، تاکہ جلد از جلد جنت میں پہنچ جائے۔ ابن جریر اور بعض دوسرے مفسرین نے یہی معنی کیے ہیں، مگر اس پر یہ سوال باقی رہتا ہے کہ یہود ہی موت کی تمنا کیوں کریں، مسلمانوں کو بھی موت کی تمنا کرنی چاہیے، جب کہ موت کی تمنا تو مسلمان بھی کم ہی کرتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہود نسلی تفاخر میں مبتلا تھے، وہ اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور محبوب ہونے کے دعوے دار تھے اور جنت کے واحد ٹھیکے دار بنے ہوئے تھے، جب کہ مسلمانوں کا ایمان خوف اور امید کے درمیان ہے، وہ اتنے بےخوف ہوتے ہی نہیں کہ اتنا بڑا دعویٰ کریں۔ (سورۂ مؤمنون : 57 تا 61) اس کے باوجود مسلمانوں میں شہادت کا شوق اور میدان جنگ میں موت کو موت کی جگہوں سے تلاش کرنا عام تھا، جب کہ یہودی اتنے بلند و بالا دعوؤں کے باوجود آخرت سے سراسر ناامید تھے۔ [ دیکھیے سورة ممتحنۃ : 13 ] اس لیے وہ کبھی مرنا نہیں چاہتے تھے اور بزدلی کی انتہا کو پہنچے ہوئے تھے۔ یہاں بھی فرمایا کہ وہ اپنے اعمال بد کی وجہ سے کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے۔ اس آیت میں یہود کے زبانی دعوے اور دل کی چوری کی حقیقت کھول کر بیان کی گئی ہے کہ وہ پیغمبر آخر الزمان ﷺ کو اتنے یقین سے پہچانتے تھے کہ آپ کے کہنے پر کبھی موت کی تمنا کرنے پر تیار نہ تھے۔ دوسری تفسیر ابن عباس ؓ نے فرمائی ہے کہ (فَتَمَنَّوُا الْمَوْت) کا معنی ہے کہ دونوں گروہوں (یہودیوں اور مسلمانوں) میں سے جو جھوٹا ہے اس کے لیے موت کی بد دعا کرو تو انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی اس بات کا انکار کردیا۔“ [ ابن أبی حاتم : 1؍247، ح : 937، بسند حسن ] یعنی اس آیت میں یہود کو دعوت مباہلہ دی گئی کہ اگر تم اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہو تو فریقین میں سے جو جھوٹا ہے اس کے لیے موت کی دعا کرو، مگر انھوں نے اس سے انکار کردیا۔ سورة جمعہ (6 تا 8) میں بھی یہی مضمون بیان ہوا ہے، ان میں بھی یہود کو مباہلہ کی دعوت دی گئی ہے، جیسا کہ سورة آل عمران (61) میں نجران کے نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی اور جس طرح نصرانی مباہلہ سے ڈر گئے تھے یہود بھی بددعا سے ڈر گئے اور جھوٹے گروہ کی موت کی تمنا نہ کی۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا، اگر یہودی اس دن جب آپ ﷺ نے ان سے یہ بات کہی، موت کی تمنا کرتے تو زمین پر جو یہودی بھی تھا مرجاتا۔ [ ابن ابی حاتم : 1؍247، ح : 938، بسند حسن ] حافظ ابن کثیر ؓ نے اسی معنی کو صحیح لکھا ہے، حافظ ابن قیم ؓ نے بھی مدارج السالکین میں اس معنی کو ترجیح دی ہے، اور ہمارے استاذ مولانا محمد عبدہ ؓ کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔ اس تفسیر پر یہ اعتراض آتا ہی نہیں کہ یہود ہی موت کی تمنا کیوں کریں، مسلمان کیوں نہ کریں، نہ اس کے جواب کی زحمت اٹھانا پڑتی ہے، کیونکہ جھوٹے کی موت کی تمنا اور بددعا صرف یہود نے نہیں بلکہ مسلمانوں اور یہود دونوں نے کرنی ہے۔ جس کے لیے مسلمان تو آج بھی اللہ کے فضل سے تیار ہیں، مگر یہود و نصاریٰ آج بھی اس کی جرأت نہیں کرتے اور نہ کبھی کرسکیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
Ayah 2:96

وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۛۚ یَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ١ۚ وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:96 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا تو انھیں سب لوگوں سے زیادہ زندہ رہنے پر حریص پائے گا اور ان سے بھی جنھوں نے شرک کیا۔ ان کا (ہر) ایک چاہتا ہے کاش ! اسے ہزار سال عمر دی جائے، حالانکہ یہ اسے عذاب سے بچانے والا نہیں کہ اسے لمبی عمر دی جائے اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں۔

(عَلٰي حَيٰوةٍ) اس پر تنوین تنکیر کی ہے، اس لیے ترجمہ ”کسی بھی طرح زندہ رہنے پر“ کیا گیا ہے، یعنی آپ یہود کو زندہ رہنے پر سب لوگوں سے زیادہ حریص پائیں گے، خواہ انھیں کسی بھی طرح زندہ رہنا پڑے، غلام بن کر یا عزت و آبرو کی بربادی کے ساتھ۔ مشرکین بھی زندہ رہنے کے بہت خواہش مند ہیں، کیونکہ ان کے سامنے صرف دنیا ہی کی لذتیں ہیں، آخرت پر ان کا یقین نہیں، آخرت سے متعلق انھیں نہ کچھ خوف ہے نہ امید، مگر یہودی زندہ رہنے پر ان سے بھی زیادہ حریص ہیں، کیونکہ مشرکین مرنے کے بعد زندہ ہونے کا عقیدہ ہی نہیں رکھتے، اس لیے وہ موت سے اتنا نہیں ڈرتے جتنا یہودی ڈرتے ہیں، جنھیں خوب علم ہے کہ نبی آخر الزمان کو جاننے پہچاننے کے باوجود ان کے ساتھ کفر کے نتیجے میں انھیں کیا رسوائی اٹھانا پڑے گی۔ اس لیے ان کا ہر شخص ہزار برس زندہ رہنے کی خواہش رکھتا ہے، خواہ کیسی ہی ذلیل زندگی ہو، کیونکہ آخرت کے عذاب سے تو بہرحال وہ بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے کسی شخص کو لمبی عمر مل بھی جائے تو وہ اسے عذاب سے بچانے والی ہرگز نہیں۔
Ayahs 2:97–98

قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:97 in the Quran reader

کہہ دے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو بیشک اس نے یہ کتاب تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتاری ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور مومنوں کے لیے سرا سر ہدایت اور خوشخبری ہے۔

مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:98 in the Quran reader

جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائل کا دشمن ہو تو بیشک اللہ کافروں کا دشمن ہے۔

یہودی رسول اللہ ﷺ کی عداوت میں یہاں تک چلے گئے کہ انھوں نے جبریل ؑ کو بھی اپنا دشمن قرار دے دیا، کیونکہ وہی آپ پر وحی لے کر آئے تھے۔ جب کہ ان کے خیال میں انھیں بنی اسرائیل کے کسی شخص پر وحی لے کر آنا چاہیے تھا۔ اس کے لیے انھوں نے ایک بہانا بنایا، چناچہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہودی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے : ”اے ابا القاسم ! ہم آپ سے چند سوال کرتے ہیں، اگر آپ نے ان کے جواب دے دیے تو ہم پہچان جائیں گے کہ آپ واقعی نبی ہیں اور آپ کے پیروکار بن جائیں گے۔“ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ آپ نے ان سے عہد لیا جیسا کہ اسرائیل ؑ نے اپنے بیٹوں سے لیا تھا، آپ ﷺ نے ان سے یہاں تک کہا کہ اللہ اس پر جو ہم کہہ رہے ہیں وکیل ہے۔ (سوالات کے صحیح صحیح جوابات پانے کے بعد) یہود کہنے لگے : ”اچھا یہ بتائیے کہ فرشتوں میں سے آپ کے پاس آنے والا کون ہے ؟ کیونکہ ہر نبی کے پاس کوئی نہ کوئی فرشتہ خبر لے کر آتا ہے۔ یہی آخری بات ہے، اگر آپ بتادیں گے تو ہم آپ کے پیروکار بن جائیں گے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا :”وہ جبریل ہے۔“ انھوں نے کہا : ”وہ تو لڑائی اور جنگ لے کر اترتا ہے، وہ ہمارا دشمن ہے۔ اگر تم میکائیل بتاتے تو ہم ایمان لے آتے، کیونکہ وہ نباتات، بارش اور رحمت لے کر آتا ہے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں : (قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ) [ تفسیر ابن ابی حاتم : 1؍252، ح : 953، بسند حسن ] اسی طرح صحیح بخاری میں ہے کہ عبداللہ بن سلام ؓ نے آپ سے تین سوال پوچھے، آپ نے فرمایا : ”مجھے ابھی ابھی جبریل ؑ نے ان کے جواب بتائے ہیں۔“ تو وہ کہنے لگے : ”وہ تو فرشتوں میں سے یہود کا دشمن ہے۔“ اس پر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی۔ [ بخاری، التفسیر، باب (من کان عدوا لجبریل) : 4480 ] اللہ تعالیٰ نے یہود کے اس بہانے کے کئی جواب دیے، پہلا یہ کہ جبریل ؑ کا اس میں کیا قصور ہے، اس نے تو اللہ کے حکم سے اسے آپ کے دل پر نازل کیا ہے، تمہاری عداوت تو پھر اللہ تعالیٰ سے ہوئی۔ دوسرا یہ کہ اگر جبریل نے تمہاری کتاب کے خلاف یا گمراہی اور عذاب والی کوئی بات کی ہوتی تو بیشک تم اس سے عداوت رکھتے، مگر جب اس کی لائی ہوئی وحی تمہاری کتاب کی تصدیق کر رہی ہے اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے تو پھر تمہیں دشمنی رکھنے کا کیا حق ہے ؟ تیسرا یہ کہ تمہارا کہنا کہ میکائیل سے تمہاری دوستی ہے، یہ کیسے درست ہوسکتا ہے، جب کہ تم جبریل سے دشمنی رکھتے ہو۔ دشمن کا دوست بھی دشمن ہوتا ہے۔ لہٰذا تمہاری دشمنی صرف جبریل سے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ سے، اس کے فرشتوں سے، اس کے رسولوں سے اور جبرئیل و میکائیل سبھی سے ہے، کیونکہ یہ سب جبریل کے دوست ہیں اور سن لو کہ جو ان سب کا دشمن ہے تو ایسے کافروں کا اللہ بھی دشمن ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَالَ مَنْ عَادَی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ آذَنْتُہٗ بالْحَرْبِ) [ بخاری، الرقاق، باب التواضع : 6502 ] ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس نے میرے کسی دوست سے دشمنی رکھی تو میں اس کے ساتھ جنگ کا اعلان کرتا ہوں۔“ 3 فرقہ غرابیہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جبریل ؑ علی ؓ پر وحی لے کر آئے تھے، مگر محمد ﷺ اور علی ؓ کی شکل آپس میں ملتی جلتی تھی، جبریل نے علی ؓ کے بجائے محمد ﷺ پر وحی نازل کردی۔ (تحفہ اثنا عشریہ) جبریل سے عداوت اور ان کی گستاخی میں یہ فرقہ بھی یہود سے ملتا جلتا ہے۔
Ayah 2:99

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۚ وَ مَا یَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 2:99 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے تیری طرف واضح آیات نازل کی ہیں اور ان سے کفر نہیں کرتے مگر جو فاسق ہیں۔

(اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ ۚ) یعنی کھلی نشانیاں، جن میں رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا واضح ثبوت موجود ہے، قرآن کریم کے علاوہ آپ ﷺ کے تمام معجزات اس کے تحت آسکتے ہیں۔ (ابن کثیر۔ رازی)
Ayah 2:100

اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:100 in the Quran reader

اور کیا جب کبھی انھوں نے کوئی عہد کیا تو اسے ان میں سے ایک گروہ نے پھینک دیا، بلکہ ان کے اکثر ایمان نہیں رکھتے۔

یہاں سے یہود کی ایک اور قبیح عادت کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ یہودیوں سے نبی آخر الزماں کی مدد کرنے اور اس پر ایمان لانے کا بھی عہد لیا گیا تھا، مگر وہ اس عہد سے پھرگئے اور کہنے لگے، ہم سے اس قسم کا کوئی عہد نہیں لیا گیا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ عہد شکنی تو ان لوگوں کا پرانا شیوہ ہے۔ جب بھی ان سے کوئی عہد لیا گیا ان میں سے ایک گروہ نے اسے پس پشت ڈال دیا، بلکہ ان میں سے بہت سے لوگ تو تورات پر سرے سے ایمان ہی نہیں رکھتے۔ ایسے لوگ اگر اب عہد شکنی کرتے ہیں تو تعجب کی کیا بات ہے۔ (رازی)
Ayah 2:101

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ١ۙۗ كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ٘ Open ayah 2:101 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول اس کی تصدیق کرنے والا آیا جو ان کے پاس ہے تو ان لوگوں میں سے ایک گروہ نے، جنھیں کتاب دی گئی تھی، اللہ کی کتاب کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا، جیسے وہ نہیں جانتے۔

3 یعنی رسول اللہ ﷺ میں وہ تمام اوصاف موجود تھے جو تورات اور دوسری آسمانی کتب ”لِّمَا مَعَھُمْ“ میں نبی آخر الزمان کے مذکور تھے۔ اس اعتبار سے آپ ﷺ تورات اور ان کے پاس موجود دوسری آسمانی کتب ”لِّمَا مَعَھُمْ“ کے پوری طرح مصداق تھے، مگر یہود کی بدنصیبی کہ جب آپ ان کے پاس آئے تو انھوں نے آپ ﷺ کو جھٹلا کر تورات کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا، گویا انھیں اپنی کتاب کا بھی پتا نہیں۔ (ابن کثیر)
Ayah 2:102

وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ مَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ١ۗ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ١ؕ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ١ؕ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ١ؕ وَ مَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ١ؕ۫ وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:102 in the Quran reader

اور وہ اس چیز کے پیچھے لگ گئے جو شیاطین سلیمان کے عہد حکومت میں پڑھتے تھے اور سلیمان نے کفر نہیں کیا اور لیکن شیطانوں نے کفر کیا کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور (وہ اس چیز کے پیچھے لگ گئے) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر اتاری گئی، حالانکہ وہ دونوں کسی ایک کو نہیں سکھاتے تھے، یہاں تک کہ کہتے ہم تو محض ایک آزمائش ہیں، سو تو کفر نہ کر۔ پھر وہ ان دونوں سے وہ چیز سیکھتے جس کے ساتھ وہ مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے اور وہ اس کے ساتھ ہرگز کسی کو نقصان پہنچانے والے نہ تھے مگر اللہ کے اذن کے ساتھ۔ اور وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو انھیں نقصان پہنچاتی اور انھیں فائدہ نہ دیتی تھی۔ حالانکہ بلاشبہ یقینا وہ جان چکے تھے کہ جس نے اسے خریدا آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں اور بیشک بری ہے وہ چیز جس کے بدلے انھوں نے اپنے آپ کو بیچ ڈالا۔ کاش ! وہ جانتے ہوتے۔

رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری پر یہودیوں نے جاننے پہچاننے کے باوجود حسد اور عناد کی بنا پر آپ کی پیروی سے انکار کردیا۔ میدان میں وہ آپ کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے، کیونکہ حق پر ہونے کا عقیدہ و عمل ہی قوت کی بنیاد ہوتا ہے، جس سے ان کے ہاتھ خالی تھے۔ چناچہ وہ ہر اس قوم کی طرح جو عقیدے اور عمل کی قوت سے خالی ہوتی ہے، جادو ٹونے اور عملیات کے پیچھے پڑگئے اور ایسی تدبیریں ڈھونڈنے لگے جن سے کسی مشقت اور جدو جہد کے بغیر سارے کام بن جایا کریں۔ جب اور بس نہ چلا تو انھوں نے رسول اللہ ﷺ پر جادو کردیا۔ یہ جادو کرنے والا لبید بن اعصم یہودی تھا، جس نے رسول اللہ ﷺ کی کنگھی اور اس سے نکلنے والے بالوں پر، جو اس نے ایک نر کھجور کے خوشے کے غلاف میں رکھے تھے، جادو کیا اور اسے ذی اروان نامی کنویں کی تہ میں ایک بڑے پتھر کے نیچے دبا دیا۔ اس کا اثر آپ پر یہ ہوا کہ آپ کو خیال ہوتا کہ آپ اپنے اہل کے پاس جاتے ہیں، مگر جا نہیں سکتے تھے۔ (گویا یہ ”مَا يُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهٖ“ کی ایک صورت تھی) آپ نے بار بار اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو وحی کے ذریعے سے مطلع فرمایا اور آپ نے وہ سب کچھ نکال کر ختم کروا دیا اور کنواں بھی دفن کردیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفا عطا فرما دی۔ [ بخاری، باب قول اللّٰہ تعالیٰ : (إن اللہ یأمر بالعدل۔۔) : 6063، 5763۔ مسلم، باب السحر : 2189، عن عائشہ ؓ ] افسوس مسلمان بھی شرک و بدعت میں مبتلا ہونے کی وجہ سے جب ذلت و پستی کے گڑھے میں گرے تو ان کی اکثریت بھی جادو ٹونے اور سفلی علوم کے پیچھے پڑگئی۔ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمٰنُ یہودیوں نے مشہور کر رکھا تھا کہ سلیمان ؑ (نعوذ باللہ) جادوگر تھے اور ان کی حکومت کا دار و مدار جادو پر تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی اور بتایا کہ جادو تو کفر ہے، سلیمان ؑ صاحب معجزہ پیغمبر تھے، انھوں نے کفر نہیں کیا، بلکہ شیاطین نے ان کے عہد میں کفر کا یہ کام کیا کہ وہ خود بھی جادو کرتے اور لوگوں کو بھی جادو سکھاتے۔ یہود ایک تو اس علم سحر کے پیچھے لگ گئے اور ایک اس علم کے پیچھے لگ گئے جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر اتارا گیا، جو سحر سے الگ ایک علم تھا اور جسے عمل میں لانا بعض اوقات کفر تھا۔ وہ فرشتے کسی کو بھی وہ علم نہیں سکھاتے تھے جب تک اسے اچھی طرح آگاہ نہ کردیتے کہ ہم تو محض ایک آزمائش ہیں، لہٰذا تم اس عمل کو کفر کے لیے استعمال نہ کرنا، مگر یہود کی اخلاقی پستی کا یہ حال تھا کہ وہ ان سے وہ علم ضرور سیکھتے اور اس میں سے بھی وہ باتیں سیکھتے جو سراسر نقصان پہچانے والی ہیں اور جنھیں عمل میں لانا کفر ہے اور جن پر شیطان سب سے زیادہ خوش ہوتا ہے، یعنی ایسے عملیات جن سے وہ میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے۔ فرشتوں کا آزمائش کے لیے بھیجا جانا کچھ تعجب کی بات نہیں۔ افسوس کہ مسلمان بھی جب پستی کا شکار ہوئے تو جادو کے پیچھے پڑگئے۔ اس کے علاوہ انھوں نے قرآن کی آیات مثلاً : (وَاَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗء) وغیرہ کو بھائیوں کے درمیان اور میاں بیوی کے درمیان عداوت ڈالنے کے لیے عمل میں لانا شروع کردیا، حالانکہ یہودی جانتے تھے اور یہ مسلمان بھی جانتے ہیں کہ یہ فعل کفر ہے اور ایسا کرنے والے کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ استاذ محمد عبدہ الفلاح لکھتے ہیں کہ اس مقام پر بعض مفسرین نے ہاروت و ماروت سے متعلق عجیب و غریب داستانیں نقل کردی ہیں، جن میں زہرہ نامی ایک عورت سے ان کا معاشقہ اور پھر زہرہ کے ستارہ بن جانے کا واقعہ بھی داخل ہے۔ علمائے محققین نے ان قصوں کو یہود کی افسانہ طرازی قرار دیا ہے۔ حافظ ابن کثیر ؓ کہتے ہیں کہ بعض صحابہ اور تابعین سے اس قسم کی روایات منقول ہیں، مگر زیادہ سے زیادہ ہم ان کو نو مسلم یہودی عالم کعب الاحبار کا قول قرار دے سکتے ہیں۔ (ابن کثیر۔ البدایہ) حافظ منذری (الترغیب و الترہیب : 2؍102) اور علامہ احمد شاکر مصری (تعلیق مسند احمد : 9؍35) نے بھی اسی کی تائید کی ہے کہ یہ کعب احبار کا قول ہے۔ احسن البیان میں ہے کہ بعض مفسرین نے ”ۤوَمَآ اُنْزِلَ“ میں ”ما“ نا فیہ مراد لیا ہے اور ہاروت و ماروت پر کسی چیز کے اترنے کی نفی کی ہے، لیکن قرآن مجید کا سیاق اس کی تائید نہیں کرتا، اسی لیے ابن جریر وغیرہ نے اس کی تردید کی ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 2:103

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَیْرٌ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:103 in the Quran reader

اور اگر واقعی وہ ایمان لاتے اور بچتے تو یقینا اللہ کے پاس سے تھوڑا ثواب بھی بہت بہتر تھا، کاش ! وہ جانتے ہوتے۔

لَمَثُوْبَةٌ) اس میں تنوین تقلیل کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”تھوڑا ثواب“ کیا گیا ہے۔ پچھلی آیت میں ہے : ”وَلَقَدْ عَلِمُوْا“ یعنی یہود جانتے تھے، یہاں فرمایا : (لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ)”کاش وہ جانتے ہوتے“ اس سے معلوم ہوا کہ علم پر عمل نہ کرنے والا درحقیقت عالم ہی نہیں۔
Ayah 2:104

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:104 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم رَاعِنَا (ہماری رعایت کر) مت کہو اور اُنْظُرْنَا (ہماری طرف دیکھ) کہو اور سنو۔ اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔

(رَاعِنَا) ”رَاعِ“ یہ باب مفاعلہ (مراعاۃ) سے فعل امر ہے، یعنی ہماری رعایت کیجیے۔ مسلمان رسول اللہ ﷺ کو متوجہ کرنے کے لیے یہ لفظ استعمال کرتے، یہودی بھی اس لفظ کے ساتھ آپ کو مخاطب کرتے، مگر زبان کو پیچ دے کر لفظ بدل دیتے، جیسا کہ سورة نساء (46) میں ہے، جس سے وہ لفظ گالی بن جاتا۔ مفسرین نے اس کی دو صورتیں بیان فرمائی ہیں، ایک تو یہ کہ وہ ”رَاعِنَا“ کی بجائے ”رَاعِیْنَا“ کہتے، جس کا معنی ”ہمارا چرواہا“ ہے۔ دوسری یہ کہ وہ اسے رعونت سے اسم فاعل قرار دے کر ”رَاعِنًا“ کہتے جس کا معنی احمق ہے اور منادیٰ غیر معین کو خطاب کی وجہ سے منصوب ہے، پھر آپس میں جا کر خوش ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آپ کے لیے یہ لفظ استعمال کرنے ہی سے منع فرما دیا اور ”انْظُرْنَا“ کہنے کا حکم دیا، ساتھ ہی فرمایا کہ غور سے سنو، تاکہ رسول اللہ ﷺ کو متوجہ کروانے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ اس سے یہودیوں کی دشمنی، ان کی طبیعت کی خست اور شرارت صاف واضح ہے۔ مسلمانوں کو ان کے اعمال کے علاوہ ان کے الفاظ و اقوال کی مشابہت سے بھی منع فرمایا گیا، جیسا کہ ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ)”جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انھی میں سے ہے۔“ [ أبوداوٗد، اللباس، باب فی لبس الشھرۃ : 4031 و حسنہ الألبانی ] اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایسے الفاظ جن میں بےادبی یا گستاخی کا شبہ بھی پیدا ہوتا ہو، وہ استعمال کرنا درست نہیں۔ یہودیوں کی اسی طرح کی ایک اور کمینگی کا ذکر حدیث میں آیا ہے کہ وہ ”السلام علیکم“ کے بجائے ”اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ“ کہتے، جس کا معنی ہے تم پر موت ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے جواب میں صرف ”عَلَیْکَ“ کہنے کا حکم دیا کہ وہ تمہیں پر ہو۔ [ مسلم، السلام، باب النہی عن ابتداء۔۔ : 2164