Ayah 3:1الۗـۗم۔ حروف مقطعات کی تشریح سورة بقرہ کی ابتدا میں گزر چکی ہے۔
Ayah 3:2اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۙ : یہ اس سورت کا دعویٰ ہے اور وفد نجران کو دعوت کی مناسبت سے اس کے اثبات پر زور دیا گیا ہے۔
الْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ : یہ اسمائے حسنیٰ اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔ حیات اور قیومیت اللہ تعالیٰ کی صفات ذاتیہ میں سے ہیں۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، اسے موت اور فنا نہیں۔ ”الْقَيُّوْمُ“ کا مطلب ہے ساری کائنات قائم رکھنے والا، محافظ اور نگران، ساری کائنات اس کی محتاج وہ کسی کا محتاج نہیں۔ عیسائی عیسیٰ ؑ کو اللہ یا اللہ کا بیٹا یا تین میں سے ایک مانتے تھے۔ گویا ان سے کہا جا رہا ہے کہ جب عیسیٰ ؑ اللہ کی مخلوق ہیں، وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے ہیں اور ان کی پیدائش کا زمانہ بھی کائنات کے پیدا ہونے سے بہت بعد کا ہے، پھر ان پر موت بھی آئے گی اور عیسائیوں کے بقول تو ان پر موت آچکی، تو جب نہ ان کی حیات ہمیشہ، نہ انھیں قیومیت حاصل تو وہ اللہ یا اللہ کا بیٹا کیسے بن گئے ؟
Ayahs 3:3–4یہاں ”الْكِتٰبَ“ سے مراد قرآن مجید ہے، گویا کتاب کامل یہی ہے۔ الف لام عہد کا ہونے کی مناسبت سے ”یہ کتاب“ ترجمہ کیا ہے۔ ”نَزَّلَ“ کا معنی آہستہ آہستہ اتارنا ہے۔ دوسری آسمانی کتابوں کے برعکس قرآن تیئیس (23) برس میں مکمل نازل ہوا۔ اس کی حکمتوں کے لیے دیکھیے سورة فرقان (32)۔ ”بِالْحَقِّ“ سے اس کا سچا اور اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہونا مراد ہے۔
مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ : اس کے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے کا مطلب یہ ہے کہ پہلی کتابوں میں جو خبریں اور بشارتیں مذکور ہیں اس میں بھی وہی خبریں اور بشارتیں ہیں، اگر یہ اللہ کی طرف سے نہ ہوتیں تو ان میں بہت اختلاف ہوتا۔ ایک خبر یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ محمد ﷺ کو آخری رسول بنا کر بھیجے گا اور بشارت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ ان پر قرآن نازل فرمائے گا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (157) سورة صف (6) تو جب تم ان کتابوں کو مانتے ہو جن کی تصدیق ہو رہی ہے تو تصدیق کرنے والی کتاب کو بھی مانو۔ (ابن کثیر، رازی)
وَاَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ : تورات سے مراد وہ کتاب ہے جو موسیٰ ؑ پر نازل کی گئی اور انجیل سے مراد وہ کتاب ہے جو عیسیٰ ؑ پر نازل کی گئی۔ اس وقت یہ دونوں کتابیں اصل شکل میں موجود نہیں ہیں۔ تورات بائبل کے عہد قدیم کی پہلی پانچ کتابوں کا نام ہے اور انجیل بائبل کے عہد جدید کی پہلی چار کتابوں میں متفرق طور پر درج ہے۔ یہود و نصاریٰ نے انھیں بڑی حد تک بدل ڈالا ہے اور ان میں اپنی طرف سے تشریحات ملا کر خلط ملط کردیا ہے۔ یہ کتابیں پہلے زمانے میں لوگوں کے لیے ہدایت کا کام کرتی تھیں، مگر جب ان کے اندر باطل شامل ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے صحیح اور غلط میں فرق کرنے والی کتاب قرآن مجید اتاری اور اسی لحاظ سے اس کا نام ”الفرقان“ رکھا۔ اب اسے سچا مانے بغیر ہدایت حاصل کرنے کا کوئی اور ذریعہ نہیں۔ اس میں نازل شدہ آیات کا انکار کرنے والوں کے لیے بہت سخت عذاب ہے اور اللہ پر یہ کچھ مشکل نہیں، وہ سب پر غالب بھی ہے اور انتقام لینے والا بھی ہے۔
Ayahs 3:5–6یہ دونوں آیات اللہ تعالیٰ کے (عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ) ہونے کے لیے بھی دلیل ہیں اور سورت کے دعویٰ (ۙاللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۙ الْـحَيُّ الْقَيُّوْم) کے لیے بھی۔ یہاں پہلے بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو آسمان و زمین کی ہر بڑی اور چھوٹی، ظاہر اور پوشیدہ چیز کا علم ہے، حالانکہ وہ عرش معلی پر ہے اور پھر اس طرف اشارہ کیا کہ عیسیٰ ؑ اللہ تعالیٰ کے ایک بندے ہیں۔ جس طرح دوسرے انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے ماں کے پیٹ میں پیدا کیا اسی طرح عیسیٰ ؑ کو ماں کے پیٹ میں جیسے چاہا پیدا کیا، پھر وہ خدا یا خدا کا بیٹا کیسے ہوسکتا ہے، جیسا کہ نصرانیوں کا غلط عقیدہ ہے۔
ھُوَ الَّذِيْ يُصَوِّرُكُمْ فِي الْاَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاۗءُ ۭ: یعنی مذکر و مؤنث، سرخ یا سیاہ، کامل یا ناقص اور خوش قسمت یا بدقسمت، حتیٰ کہ عمر اور رزق بھی اسی وقت لکھ دیا جاتا ہے، جیسا کہ متعدد احادیث میں مذکور ہے۔ [ دیکھیے بخاری، بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ : 3208] آخر میں پھر وہی دعویٰ ”لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ“ والا دہرا دیا اور اس کی مزید دلیلیں بھی دیں کہ کائنات کا یہ سارا سلسلہ اس اکیلے کے غلبہ و قوت اور حکمت و دانائی کے ساتھ چل رہا ہے، اس کے سوا کسی میں یہ صفات نہیں، سو عبادت بھی صرف اسی کا حق ہے، وہ نہ مسیح کا حق ہے، نہ ان کی والدہ کا اور نہ کسی اور کا۔
Ayah 3:7ایک جگہ قرآن مجید کی تمام آیات کو محکم کہا گیا ہے، چناچہ فرمایا : (الۗرٰ ۣ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ) [ ھود : 1 ] ’ الۗرٰ ، ایک کتاب ہے جس کی آیات محکم کی گئیں۔“ اور دوسری جگہ تمام آیات کو متشابہ، چناچہ فرمایا : (اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ ڰ) [ الزمر : 23 ] ”اللہ نے سب سے اچھی بات نازل فرمائی، ایسی کتاب جو آپس میں ملتی جلتی ہے۔“ اور یہاں بعض آیات کو متشابہ قرار دیا ہے، بعض کو محکم، مگر اس میں کوئی تعارض نہیں۔ تمام آیات کے محکم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پورے قرآن میں کوئی کمی یا خرابی نہیں، نہایت مضبوط اور محکم ہے اور متشابہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی تمام آیات فصاحت و بلاغت اور مضامین و معانی میں ایک دوسری سے ملتی جلتی ہیں۔ اس جگہ جو فرمایا کہ بعض محکم ہیں اور بعض متشابہ، تو محکمات سے مراد وہ آیات ہیں جن کا مفہوم بالکل واضح اور صریح ہے، ان میں کسی قسم کی تاویل کی گنجائش نہیں ان کو ”اُمُّ الْكِتٰبِ“ قرار دیا ہے، یعنی اصل اور بنیاد۔ انھی آیات میں لوگوں کو دین کی طرف دعوت دی گئی ہے اور انھی میں دین کے بنیادی عقائد، عبادات اور احکام بیان کیے گئے ہیں۔ قرآن مجید میں مذکور نصیحتیں اور عبرتیں بھی ان میں شامل ہیں، انسانی گمراہیوں کی نشاندہی بھی ان آیات میں کی گئی ہے۔ جبکہ متشابہات سے مراد وہ آیات ہیں جو ملتے جلتے کئی معانی کا احتمال رکھتی ہیں، اس لیے ان کا اصل مرادی معنی سمجھنے میں لوگوں کو اشتباہ ہوجاتا ہے، یا ان میں تاویل کی گنجائش نکل سکتی ہے، یا جن میں ایسے حقائق کا بیان ہے جن پر مجمل طور پر ایمان لانا تو ضروری ہے لیکن ان کی تفصیلات کو جاننا نہ انسان کے لیے ضروری ہے اور نہ عقلی استعداد کے ساتھ ممکن ہے۔ تفسیر وحیدی میں لکھا ہے : ”صفاتِ الٰہیہ کے منکرین تو اللہ تعالیٰ کے استواء (عرش پر ہونے کو) اور اس کے ید (ہاتھ) اور اس کے نزول (ہر رات آسمان دنیا پر اور قیامت کے دن زمین پر اترنے) کو متشابہات قرار دے کر ان کے معنی سمجھنے ہی کو ناممکن قرار دیتے ہیں، مگر اہل حدیث انھیں محکم مانتے ہیں، ان کے معانی کو واضح سمجھتے ہیں، البتہ کیفیت کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔“
اس آیت میں نصاریٰ کو بھی تنبیہ ہے کہ وہ عیسیٰ ؑ سے متعلق ”کلمتہ“ اور ”روح منہ“ وغیرہ آیات سے عیسیٰ ؑ کے الٰہ ہونے اور اللہ کا بیٹا ہونے پر تو استدلال کرتے ہیں مگر دوسری آیات : (اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَيْهِ) [ الزخرف : 59 ] ”نہیں ہے وہ مگر ایک بندہ جس پر ہم نے انعام کیا۔“ اور (اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ) [ آل عمران : 59 ] ”بیشک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی مثال کی طرح ہے“ ان پر اور ان جیسی دیگر آیات پر دھیان نہیں دیتے۔ (ابن کثیر)
فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ: یعنی وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے اور جن کا مشغلہ ہی محض فتنہ جوئی ہوتا ہے، وہ محکمات کو چھوڑ کر متشابہات کے پیچھے پڑتے ہیں اور چونکہ وہ کئی معانی کا احتمال رکھتی ہیں، اس لیے وہ ان سے وہ معنی نکالتے ہیں جو قرآن کی صریح اور محکم آیات کے خلاف ہوتے ہیں، فتنے کی تلاش کے لیے اور اپنے خیال میں اس کی اصل مراد تلاش کرنے کے لیے۔ ام المومنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کو ”اُولُوا الْاَلْبَابِ“ تک پڑھا اور پھر فرمایا : ”جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہات کے پیچھے پڑتے ہیں تو سمجھ لو کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے نام لیا ہے، سو تم ان سے بچو۔“ [ بخاری، التفسیر، باب : (منہ آیات محکمات) : 4547 ]
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔“ [ أبو داوٗد، السنۃ، باب النہی عن الجدال : 4603، عن أبی ہریرۃ ؓ ، صحیح ] پس ضروری ہے کہ قرآن کا جو حصہ محکم ہے اس پر عمل کیا جائے اور جو متشابہ ہے اس پر جوں کا توں ایمان رکھا جائے اور تفصیلات سے بحث نہ کی جائے۔ (فتح البیان، ابن کثیر)
وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗٓ اِلَّا اللّٰهُ : اکثر ائمہ لفظ ”اللہ“ پر وقف کر کے ”وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ“ سے نیا کلام شروع سمجھتے ہیں، یعنی متشابہات کی اصل مراد اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور راسخ فی العلم لوگ کہتے ہیں کہ محکم و متشابہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہیں، ہم متشابہات کی اصل مراد نہ جانتے ہوئے بھی ان کے من عند اللہ ہونے پر ایمان رکھتے ہیں۔
اور کچھ ائمہ کا کہنا ہے : ”وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ“ کا لفظ ”اللہ“ پر عطف ہے، یعنی اہل زیغ متشابہ آیات کا پیچھا فتنے کی تلاش کے لیے اور ان سے فاسد معنی مراد لینے کے لیے کرتے ہیں اور ایسے معنی نکالتے ہیں جو قرآن و حدیث کی نصوص کے خلاف ہوتے ہیں، حالانکہ ان کا اصل معنی اللہ تعالیٰ جانتا ہے، یا پختہ علم والے جو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے، اس لیے ان کا ایسا معنی مراد ہو ہی نہیں سکتا جو دوسری آیات و احادیث کے خلاف ہو۔
وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ ”لُبٌّ“ کی جمع ہے، جس کا معنی خالص عقل ہے۔ (راغب) جس عقل میں خواہش پرستی، بدعت یا شرک کی آمیزش ہو وہ ”لُبٌّ“ نہیں کہلاتی۔ مقصد یہ ہے کہ متشابہ کے اصل معنی تک رسائی کی توفیق اہل علم کو بھی ہوتی ہے مگر صرف ان اہل علم کو جن کی عقل ہر قسم کی خواہش پرستی، بدعت اور شرک سے پاک ہوتی ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابن عباس ؓ کے لیے دعا فرمائی : (اَللَّھُمَّ فَقِّہْہُ فِی الدِّیْنِ وَ عَلِّمْہُ التَّأْوِیْلَ)”اے اللہ ! اسے دین میں سمجھ عطا فرما اور اسے تاویل کا علم عطا فرما۔“ [ مستدرک حاکم : 3؍534، ح : 6280 مسند أحمد، 1/266، ح 2401، صحیح ] معلوم ہوا تاویل کا علم راسخ فی العلم لوگوں کو بھی ہوتا ہے۔
احسن البیان میں ہے، تاویل کے ایک معنی تو ہیں کسی چیز کی اصل حقیقت، اس معنی کے لحاظ سے ”اِلَّا اللّٰهُ“ پر وقف ضروری ہے، کیونکہ ہر چیز کی اصل حقیقت واضح طور پر اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ تاویل کے دوسرے معنی ہیں، کسی چیز کی تفسیر اور بیان و توضیح، اس اعتبار سے ”اِلَّا اللّٰهُ“ پر وقف کے بجائے ”وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ“ پر بھی وقف کیا جاسکتا ہے، کیونکہ مضبوط علم والے بھی صحیح تفسیر و توضیح کا علم رکھتے ہیں۔ تاویل کے یہ دونوں معنی قرآن کریم کے استعمال سے ثابت ہیں۔ (ملخص از ابن کثیر)
Ayahs 3:8–9یہ وہ دعا ہے جو راسخ فی العلم حضرات اللہ تعالیٰ کے حضور کرتے رہتے ہیں، ہدایت پر ثابت قدمی کی دعا کے ساتھ قیامت کے دن اللہ کے سامنے پیش ہونے کا یقین بھی ہر وقت ان کے پیش نگاہ رہتا ہے، ان کی اصل کوشش اور دعا دنیا کے لیے نہیں بلکہ آخرت کے لیے ہوتی ہے۔ ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : (یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ! ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ)”اے دلوں کو پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔“ [ ترمذی، الدعوات، باب دعاء یا مقلب القلوب !۔۔ : 3522، وصححہ الألبانی ]
Ayahs 3:10–11كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ ۙ اس کی ترکیب کے لیے دیکھیے سورة انفال (52، 54) یعنی جس طرح کا عذاب قوم فرعون اور پہلی امتوں کو رسولوں کو جھٹلانے کی وجہ سے دیا گیا، اسی طرح کا عذاب ان اموال و اولاد والے کفار کو دیا جائے گا۔ یہاں ان کفار سے مراد وفد نجران، یہود، مشرکین عرب اور دوسرے تمام کفار بھی ہوسکتے ہیں۔ (شوکانی)
Ayah 3:12قُلْ لِّـلَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔۔ : یہاں کافروں سے مراد یہودی ہیں، اس آیت کے نزول کے بعد بنو قریظہ کے قتل، بنو نضیر کے جلاوطن اور خیبر کے فتح ہوجانے سے قرآن کی یہ پیشین گوئی بحمد اللہ حرف بحرف سچ ثابت ہوئی۔ (شوکانی)
Ayah 3:13قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰيَةٌ۔۔ : یعنی اوپر جو پیشین گوئی (یہودی) کافروں کے مغلوب اور جہنم واصل ہونے کی ذکر ہوئی ہے اس کے سچ ہونے کے لیے معرکۂ بدر میں بہت بڑی آیت (دلیل) موجود تھی۔
يَّرَوْنَھُمْ مِّثْلَيْهِمْ : اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ مسلمان کفار کو اپنے سے صرف دو گنا دیکھ رہے تھے، حالانکہ وہ ان سے تین گنا تھے، تاکہ مسلمان ثابت قدم رہیں، چناچہ مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ دوسرا یہ کہ کفار مسلمانوں کو اپنے سے دو گنا دیکھ رہے تھے، حالانکہ ان کی تعداد ایک ہزار کے قریب تھی اور مسلمان کل 313 تھے، مگر مسلمان دو گنا اس لیے نظرآتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی نصرت کے لیے فرشتے بھیج دیے تھے اور اللہ اپنی نصرت کے ساتھ جسے چاہے قوت بخشتا ہے۔ اکثر مفسرین نے پہلے معنی کو ترجیح دی ہے اور بعض نے دوسرے کو۔ (ابن کثیر، شوکانی) واضح رہے کہ دو گنا دکھلانا لڑائی سے پہلے تھا ورنہ لڑائی کے وقت تو ہر گروہ دوسروں کو اپنے سے کم خیال کر رہا تھا۔ دیکھیے سورة انفال (43، 44)۔
Ayah 3:14الشَّهَوٰتِ ”یہ ”شَھْوَۃٌ“ کی جمع ہے جس کا معنی ہے ”کسی مرغوب چیز کی طرف نفس کا کھچ جانا“ یہاں ”الشَّهَوٰتِ“ سے مراد وہ چیزیں ہیں جو طبیعت کو مرغوب ہیں، یعنی مصدر بمعنی اسم مفعول ”مُشْتَھَیَاتٌ“ ہے اور ”مِنَ النِّسَاۗءِ“ میں ”مِنْ“ بیانیہ ہے، یعنی وہ چیزیں یہ ہیں۔ ”َالْقَنَاطِيْرِ“ کا واحد ”قِنْطَارٌ“ ہے، اس کی مقدار میں مختلف اقوال ہیں، مگر سب کا حاصل یہ ہے کہ مال کثیر کو ”قِنْطَارٌ“ کہا جاتا ہے۔ (ابن کثیر، شوکانی) ہماری زبان میں اس کا ترجمہ ”خزانے“ ہوسکتا ہے۔”مَتَاعُ“ اس سامان کو کہا جاتا ہے جس سے فائدہ حاصل کیا جائے۔ حاصل یہ کہ انسان ان چیزوں کی محبت میں پھنس کر اللہ اور اس کے دین سے غافل ہوجائے اور انھیں تفاخر و زینت کا ذریعہ سمجھے اور غرور و تکبر پر اتر آئے تو یہ تمام چیزیں مذموم ہیں، ورنہ اگر ان تمام چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمت خیال کرتے ہوئے ذریعۂ آخرت بنایا جائے اور شریعت کی حدود میں رہ کر ان سے فائدہ اٹھایا جائے تو یہ مذموم و مبغوض نہیں بلکہ نہایت مرغوب و محمود ہیں۔ اصل چیز نیت اور عمل ہے، اس لیے حدیث میں ایک طرف تو رسول اللہ ﷺ کا ارشاد یہ ہے : ”میرے بعد مردوں کے لیے کوئی فتنہ عورتوں سے بڑھ کر نقصان دہ نہیں۔“ [ بخاری، النکاح، باب ما یتقی من شؤم المرأۃ۔۔ : 5096، عن أسامۃ ؓ ] اور دوسری طرف آپ ﷺ نے یہ فرمایا : ”دنیا متاع (فائدہ اٹھانے کا سامان) ہے اور اس کی بہترین متاع نیک عورت ہے۔“ [ مسلم، النکاح، باب خیر متاع الدنیا۔۔ 1469، عن ابن عمرو ] اور یہ بھی فرمایا : ”دنیا میں سے عورت اور خوشبو میرے لیے پسندیدہ بنادی گئی ہیں۔“ [ نسائی، عشرۃ النساء، باب حب النساء : 3391، عن أنس قال الألبانی حسن صحیح ] آیت کے آخر میں ان کو دنیاوی زندگی کا سامان قرار دے کر دنیاوی زندگی سے بےرغبتی اور آخرت میں رغبت پر زور دیا ہے۔ (ابن کثیر، شوکانی)
”وَالْخَيْلِ“ یہ اسم جمع ہے، ”خُیَلاَءٌ“ سے مشتق ہے، جس کا معنی تکبر ہے۔ گھوڑے کی چال میں ایک طرح کا تکبر پایا جاتا ہے۔ ”الْمُسَوَّمَةِ“ یہ ”سِیْمَا“ یا ”سِیْمِیَاءُ“ سے مشتق ہو تو نشان لگائے ہوئے اور ”سَوْمٌ“ سے مشتق ہو تو چرنے کے لیے چھوڑے ہوئے گھوڑے۔”َالْاَنْعَامِ“ یہ ”نَعَمٌ“ کی جمع ہے، اونٹ، گائے، بکریاں وغیرہ اور اکثر اونٹوں پر بولا جاتا ہے۔
Ayah 3:15دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (25) کی تفسیر۔ اس آیت میں مذکور لفظ ’ رِضْوَانٌ“ ”رَضِیَ یَرْضَی (س)“ ناقص واوی سے مصدر ہے، اس کا مصدر ”رِضًا“ بھی آتا ہے، مگر ”َّرِضْوَانٌ“ میں حروف زیادہ ہونے اور تنوین برائے تعظیم ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”عظیم خوشنودی“ کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نعمت جنت کی تمام نعمتوں سے اعلیٰ ہے، اللہ نے فرمایا : (وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ) [ التوبۃ : 72 ] ”اور اللہ کی طرف سے تھوڑی سی خوشنودی سب سے بڑی ہے۔ ‘
Ayah 3:16اَلَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کے متقی بندے، جنھیں آخرت میں مذکورہ نعمتیں حاصل ہوں گی، وہ ہیں جو یہ دعا کرتے ہیں اور جن میں وہ صفات پائی جاتی ہیں جن کا اگلی آیت میں ذکر آ رہا ہے۔
اِنَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا : اس دعا میں اپنے ایمان لانے کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ سے دعا کی گئی ہے، اس سے دعا کے لیے عمل کا وسیلہ پیش کرنا ثابت ہوتا ہے، جیسا کہ (اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ) میں ہے۔
Ayah 3:17اَلصّٰبِرِيْنَ ”نیکی کرنے پر، گناہ سے بچنے پر، مصیبتیں آنے پر صبر کرنے والے۔ صبر کی یہ تین قسمیں ہیں۔ ”وَالصّٰدِقِيْنَ“ نیت، قول اور فعل میں سچے، حکم ماننے والے، اپنا مال و جان، اپنی اولاد اور اللہ کی دی ہوئی ہر نعمت خرچ کرنے والے اور یہ سب کچھ کرنے کے باوجود سحریوں (رات کی آخری گھڑیوں) میں اپنی عبادت پر مغرور ہونے کی بجائے اپنی کوتاہیوں کے لیے استغفار کرنے والے۔
اس آیت سے خاص طور پر سحر (پچھلی رات) کے وقت استغفار کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔ (دیکھیے ذاریات : 15 تا 18) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا پر اترتا ہے، جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، فرماتا ہے : ”کون ہے جو مجھ سے دعا کرے تو میں اس کی دعا قبول کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے تو میں اسے دوں ؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش مانگے تو میں اسے بخشوں ؟“ [ بخاری، التہجد، باب الدعاء۔۔ : 1145، عن أبی ہریرۃ ؓ ]
Ayah 3:18شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۙ) : اللہ تعالیٰ کے ہاں معتبر دین اسلام ہے، جیسا کہ آئندہ آیت میں آ رہا ہے اور اسلام کی بنیاد توحید الٰہی پر ہے۔ اس حقیقت سے وفد نجران اور تمام دنیا کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔ ”شَهِدَ“ کا معنی ”بَیَّنَ وَ اَعْلَمَ“ یعنی بیان کیا اور آگاہ کیا ہے۔ (فتح القدیر) شاہد وہ ہے جو اپنے یقینی علم کے ساتھ آگاہ کرے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق اور ساری کائنات میں موجود بیشمار دلائل اور نشانیوں کے ساتھ اور اپنے رسولوں کے ذریعے سے پیغام بھیج کر شہادت دی اور آگاہ کیا ہے کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس حال میں کہ وہ اپنی مخلوق کے تمام معاملات و احوال میں عدل پر قائم ہے اور اس سے بڑھ کر کس کی شہادت ہوسکتی ہے اور اس کے پاک فرشتوں اور اہل علم نے بھی یہ شہادت دی ہے۔ آیت کے آخر میں پھر وہی دعویٰ ”لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۙ“ دہرایا اور اس کی دو مزید دلیلیں پیش فرمائیں کہ وہ سب پر غالب اور کمال حکمت والا ہے، کوئی اس پر غالب نہیں اور کمال حکمت والا اس کے سوا کوئی نہیں۔ کوئی ہے تو لاؤ پیش کرو۔
قَاۗىِٕمًۢا بالْقِسْطِ ۭ: یہ لفظ ”اللہ“ سے حال ہے۔
Ayah 3:19اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے، یعنی اپنے آپ کو اللہ کے احکام کے تابع کردینا، جو اس کے رسول مختلف اوقات میں لے کر آتے رہے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کے آخر میں خاتم الانبیاء کو مبعوث فرمایا اور محمد ﷺ کے راستے کے سوا اپنے تک پہنچنے والے تمام راستوں کو بند کردیا۔ اب اگر آپ ﷺ کی شریعت کے سوا کوئی اور دین لے کر اللہ کے پاس جائے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، فرمایا : (وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ ۚ) [ آل عمران : 85 ] ”اور جو اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔“
اب جو شخص رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا قائل نہیں اور نہ آپ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اپنا عمل اور عقیدہ ہی درست کرتا ہے تو اس کا دین اللہ کے ہاں معتبر نہیں، خواہ وہ توحید کا قائل اور دوسرے ایمانیات کا اقرار کرتا ہو۔ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے جتنے انبیاء بھیجے ان سب کا دین یہی اسلام تھا۔ اہل کتاب نے یہ حقیقت جان لینے کے بعد کہ دین حق اسلام ہی ہے اور محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول اور آخری نبی ہیں، محض باہمی بغض و عناد کی بنا پر اسلام سے انحراف کیا ہے۔ آج بھی ان کے لیے صحیح روش یہی ہے کہ آپ ﷺ پر ایمان لے آئیں اور دین اسلام کو اختیار کریں۔
سَرِيْعُ الْحِسَابِ : یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جلد محاسبہ ہونے والا ہے اور آیات الٰہی سے کفر کی سزا مل کر رہے گی۔
Ayah 3:20(فَاِنْ حَاۗجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلّٰهِ): اسلام کی حقانیت اور رسول اللہ ﷺ کا صدق ثابت ہوجانے کے باوجود بھی اگر اہل کتاب کفر و عناد کی راہ اختیار کرتے ہیں تو آپ کہہ دیجیے کہ میں نے تو اپنا ظاہر و باطن اللہ کے سامنے جھکا دیا ہے اور یہی حال میرا اتباع کرنے والے مسلمانوں کا بھی ہے اور اہل کتاب یہود و نصاریٰ اور امی لوگوں، یعنی مشرکین عرب، سب سے کہہ دیجیے کہ اگر تم اسلام لے آؤ گے تو صراط مستقیم پر گامزن ہوجاؤ گے اور اگر روگردانی کرو گے تو میرا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور حساب تو تمہیں اللہ ہی کو دینا ہوگا۔
اس آیت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے عرب و عجم کے تمام ملوک و امراء کو دعوتی خطوط لکھے اور اپنی عمومی رسالت کا اعلان کیا۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے ! اس امت میں سے اگر کوئی بھی یہودی ہو یا نصرانی، وہ میرے بارے میں سنے اور اس پر ایمان نہ لائے جو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے تو وہ اصحاب النار میں سے ہوگا۔“ [ مسلم، الإیمان، باب وجوب الإیمان برسالۃ۔۔ : 153 ] اور آپ ﷺ نے فرمایا : ”مجھے سرخ و سیاہ (یعنی عرب و عجم) کی طرف بھیجا گیا ہے۔“ [ مسند أحمد : 5؍145، ح : 21357، عن أبی ذر ؓ ]
نیز آپ ﷺ نے فرمایا : ”ہر نبی کو خاص اس کی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور مجھے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہے۔“ [ بخاری، التیمم، باب : 335 ] آپ ﷺ کے قیامت تک اور تمام لوگوں کی طرف رسول ہونے پر کتاب و سنت میں بکثرت دلائل موجود ہیں۔ دیکھیے سورة اعراف (158) اور سبا (28) حتیٰ کہ جنوں کی طرف بھی۔ دیکھیے احقاف (31)۔
Ayahs 3:21–22اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ۔۔ : اس میں اہل کتاب کی مذمت ہے، جن کی پوری تاریخ شاہد ہے کہ انھوں نے نہ صرف احکام الٰہی پر عمل کرنے سے انکار کیا بلکہ انبیاء اور ان لوگوں کو قتل کرتے رہے جنھوں نے کبھی ان کے سامنے دعوت حق پیش کی اور یہ تکبر کی آخری حد ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس شخص کے دل میں ذرہ برابر کبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“ ایک آدمی نے عرض کیا : ”ایک آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا خوبصورت ہو اور اس کا جوتا اچھا ہو۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”بیشک اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر تو حق کے انکار اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔“ [ مسلم،
الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ : 91، عن ابن مسعود ؓ ]
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”قیامت کے دن سب سے سخت عذاب اس شخص کو ہوگا جسے کسی نبی نے قتل کیا، یا جس نے کسی نبی کو قتل کیا ہو۔“ [ مسند أحمد : 1؍407، ح : 3867، عن ابن مسعود ؓ : الصحیحۃ 281 ]
Ayah 3:23اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا۔۔ : اس آیت میں ”كِتٰبِ اللّٰهِ“ سے مراد تورات اور انجیل ہیں اور مطلب یہ ہے کہ جب انھیں خود ان کی کتابوں کی طرف دعوت دی جاتی ہے کہ چلو انھی کو حکم مان لو اور بتاؤ کہ ان میں رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے یا نہیں تو یہ اس سے بھی پہلو تہی کر جاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں جیسے انھیں کسی چیز کا علم ہی نہیں۔
Ayah 3:24ذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَــسَّنَا النَّارُ۔۔ : یعنی جس چیز نے انھیں حق سے کھلم کھلا انحراف اور بڑے سے بڑے گناہ کا بےشرمی سے ارتکاب کرلینے پر دلیر و جری بنادیا ہے، وہ یہ ہے کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور سزا کا کوئی ڈر نہیں ہے۔ ان کے آباء و اجداد انھیں طرح طرح کی خام خیالیوں اور جھوٹی تمناؤں میں مبتلا کر گئے ہیں، کبھی وہ اللہ کے بیٹے اور چہیتے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں (مائدہ : 18) کبھی کہتے ہیں کہ جنت بنی ہی ہمارے لیے ہے [ بقرہ : 111 ] اور کبھی کہتے ہیں کہ اگر ہمیں تھوڑی بہت سزا ہوئی بھی تو چند دن سے زیادہ نہیں ہوگی، ہمارے بزرگوں کا، جن کے ہم نام لیوا ہیں اور جن کا ہم دامن پکڑے ہوئے ہیں ان کا اللہ پر اتنا زور ہے کہ وہ چاہے بھی تو ہمیں سزا نہیں دے سکے گا۔ (مزید دیکھیے بقرہ : 78 تا 80) اور نصاریٰ نے تو مسئلۂ کفارہ گھڑ کے گناہوں پر سزا کا سارا معاملہ ہی ختم کردیا ہے۔ یعنی مسیح ؑ اپنی امت کے گناہوں کی پاداش میں صلیب پر چڑھ گئے جس سے امت کے تمام گناہ معاف ہوگئے۔ اب اتنا ہی کافی ہے کہ عیسائی ہوجاؤ پھر جو مرضی کرتے رہو، مسیح ؑ سب گناہوں کا کفارہ ادا کرچکے ہیں۔
یہی حال اب بہت سے مسلمانوں کا ہوگیا، کوئی شیخ جیلانی کو زبردستی موت کے فرشتے سے روحیں چھین لینے والا بنا بیٹھا ہے اور کوئی حسین ؓ کی شہادت کو اپنے نام لیواؤں کے گناہوں کا کفارہ سمجھ بیٹھا ہے۔ [ فَإِلَی اللّٰہِ الْمُشْتَکٰی ]
Ayah 3:25یعنی انھیں جان لینا چاہیے کہ قیامت کے روز جب ہمارے حضور جمع ہوں گے تو ان کا بہت برا حال ہوگا، ان کے یہ من گھڑت عقیدے ان کے کسی کام نہیں آسکیں گے اور نہ انھیں اپنے بزرگوں سے جھوٹی محبت اور دامن گیری اللہ کے عذاب سے بچا سکے گی۔ کوئی نبی یا ولی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر سفارش بھی نہیں کرسکے گا۔ (ترجمان)
Ayah 3:26قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْك : سیبویہ اور خلیل نے کہا ”اللّٰهُمَّ“ اصل میں ”یَااللّٰہُ“ تھا، شروع سے ”یا“ کو حذف کیا تو آخر میں میم مشدد لگا دی۔ ”مٰلِكَ الْمُلْكِ“ سے پہلے بھی ”یا“ پوشیدہ ہے، اس لیے لفظ ”مٰلِكَ“ منصوب ہے۔ (شوکانی) گویا اس دعا میں اللہ کے ذاتی اور صفاتی دونوں ناموں سے دعا کرنا سکھایا گیا ہے۔
یہودی غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ حکم و نبوت کا یہ سلسلہ ہمیشہ ان میں رہے گا، دوسری قوم اس کا حق نہیں رکھتی، مگر جب نبی آخر الزماں ﷺ ایک امی قوم بنی اسماعیل سے مبعوث ہوگئے تو ان کے غیظ و غضب اور حسد کی انتہا نہ رہی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی غلط فہمی دور کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی مرضی والا اور ساری بادشاہی کا مالک ہے۔ وہ جس قوم کو چاہتا ہے دنیا میں عزت و سلطنت سے نواز دیتا ہے۔ لہٰذا نبوت جو بہت بڑی عزت ہے، اس کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے جسے چاہا پسند فرما لیا۔ اللہ تعالیٰ پر کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے۔ یہاں دعا کے انداز میں مسلمانوں کو بشارت بھی دے دی کہ تمہیں اس دنیا میں غلبہ و اقتدار حاصل ہوگا اور خاتم النّبیین ﷺ کی بعثت اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے، لہٰذا تمہیں چاہیے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاؤ۔
”الْخَيْرُ“ میں الف لام استغراق کا ہے اور ”ۭبِيَدِكَ“ خبر پہلے آنے سے تخصیص پیدا ہوگئی ہے، اس لیے ترجمہ ”تیرے ہی ہاتھ میں ہر بھلائی ہے“ کیا گیا ہے۔
Ayah 3:27تُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ ۡ: اس سے موسموں کے اعتبار سے رات اور دن کے بڑھنے اور گھٹنے کی طرف اشارہ ہے، ایک ہی وقت کبھی رات کا حصہ بن جاتا ہے اور کبھی دن کا۔ اس طرح رات دن میں داخل ہوجاتی ہے اور دن رات میں۔
وَتُخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ۔۔ : مردہ سے زندہ، یعنی کافر سے مسلمان، جیسے آزر سے ابراہیم ؑ ، نطفہ سے حیوان، انڈے سے پرندہ اور زندہ سے مردہ جیسے نوح ؑ سے کنعان اور حیوان اور پرندے سے نطفہ اور انڈا۔
طبرانی کی ایک روایت میں اس آیت کے اندر اسم اعظم ہونے کا ذکر ہے۔ ”ہدایۃ المستنیر“ میں اس روایت کو ایک راوی محمد بن زکریا غلابی کی وجہ سے موضوع کہا گیا ہے اور ”الضعیفہ (2772)“ سے ”ضَعِیْفٌ جِدًّا“ کا حکم نقل کیا گیا ہے۔
Ayahs 3:28–30لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ۔۔ : جب اکیلا اللہ تعالیٰ ہی بادشاہی کا مالک، عزت و ذلت دینے والا اور ہر خیر والا ہے تو ایمان والوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اس کے دوستوں سے دوستی اور اس کے دشمنوں سے دشمنی رکھیں، کسی فائدے کی امید پر اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی نہ رکھیں اور جو شخص ایسا کرے گا اس کے لیے اللہ کی دوستی میں سے ذرہ برابر حصہ بھی نہیں ہوگا۔ ہاں، ان کے شر سے کسی طرح بچنے کے لیے ظاہری طور پر دوستی کا اظہار جائز ہے، جب کہ دل میں ان کے کفر کی وجہ سے نفرت ہو۔ اسی طرح جو کافر مسلمانوں کے خلاف نہ لڑتے ہوں اور نہ کسی لڑنے والے کی مدد کرتے ہوں تو ان سے حسن سلوک اور مدارات جائز ہے۔ دیکھیے سورة ممتحنہ (8، 9)۔
اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىةً ۭ لفظ ”تُقٰىةً ۭ“ ”وَقٰی یَقِیْ“ سے مصدر ہے، تنوین کی وجہ سے ”کسی طرح بچنا“ ترجمہ کیا ہے۔ ”تقیہ“ بھی اس کا ہم معنی ہے۔ طبری اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے حسن سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مومنوں کو منع کیا ہے کہ وہ کافروں سے دلی دوستی رکھیں، الا یہ کہ کافر ان پر غالب ہوں تو ان کے لیے نرمی کا اظہار کریں، مگر دین میں ان کی مخالفت کریں۔ مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورة مائدہ (51، 56) اور تقیہ کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نحل (106)۔
ان آیات سے کسی مسلمان کے لیے مسلمانوں کے ملک کو چھوڑ کر کفار کے ملک میں رہنے کی کراہت بھی ثابت ہوتی ہے، کیونکہ وہاں مسلمان کے لیے کفار سے دوستی کے عملی ثبوت کے بغیر رہنا اور اپنے اور اہل و عیال کے دین کو بچانا مشکل ہے، اس لیے اگر کوئی مسلمان کہیں مغلوب ہے تو اسے جان بچانے کے لیے دوستی کا اظہار تو جائز ہے، مگر وہاں سے ہجرت کرکے مسلمانوں کے علاقے میں آنا لازم ہے۔ ہاں، بےبس ہو تو اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے۔ یہ اور اس مفہوم کی دوسری آیات مسلم حکومتوں کی خارجہ پالیسی کی وضاحت کرتی ہیں اور انفرادی معاملات میں مدارات کی بھی، جیسا کہ ابو درداء ؓ نے فرمایا : ”ہم بعض لوگوں کے سامنے مسکراتے ہیں، جب کہ ہمارے دل ان پر لعنت کر رہے ہوتے ہیں۔“ [ بخاری، الأدب، باب المداراۃ مع الناس۔۔ ، قبل ح : 6131 ]
Ayah 3:31قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۔۔ : یہود و نصاریٰ اور مشرکین سبھی اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ رکھتے تھے، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ ان سے کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو اب اس دعویٰ کے سچا ہونے کی ایک ہی صورت ہے کہ مجھے نبی مان کر میری پیروی اختیار کرو، اس سے نہ صرف تمہاری اللہ سے محبت قبول ہوگی بلکہ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا، تم اللہ کے محبوب بن جاؤ گے اور وہ تمہارے گناہ بھی بخش دے گا۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”جو کوئی کسی کی محبت کا دعویٰ کرے تو اس طرح محبت کرے جس طرح محبوب چاہے، نہ کہ جس طرح اپنا جی چاہے اور اسی طرح چاہے تو محبوب اس کو چاہے۔“ (موضح) اس خطاب کا تعلق مسلمانوں سے بھی ہے کہ اگر تم کو اللہ کی محبت کا دعویٰ ہے تو اس کے لیے زبانی اظہار محبت کافی نہیں ہے، بلکہ اپنے تمام اقوال و افعال میں میری پیروی اختیار کرو۔ اپنے پاس سے گھڑے ہوئے طریقوں سے اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل نہیں ہوسکتی، اسی لیے حدیث میں بدعت کی شدید مذمت آئی ہے۔
Ayah 3:32قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ ۚ: پچھلی آیت میں رسول اللہ ﷺ کے اتباع کا حکم تھا جس کا معنی آپ کے نقش قدم پر چلنا، آپ کی پیروی کرنا ہے، اگرچہ اتباع میں حکم ماننا بھی آجاتا ہے مگر اس آیت میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا خاص طور پر الگ ذکر فرمایا، جس کا معنی حکم ماننا ہے۔ آگے فرمایا کہ اگر وہ منہ پھیر لیں تو اللہ ایسے کافروں سے محبت نہیں رکھتا۔ یہاں بات صاف سمجھ میں آرہی ہے کہ بات مختصر کردی گئی ہے، جو اس طرح تھی کہ اگر وہ منہ پھیر لیں تو وہ کافر ہیں اور اللہ ایسے کافروں سے محبت نہیں کرتا۔ ”ُ الْكٰفِرِيْنَ“ میں الف لام عہد کا ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”ایسے کافروں“ کیا گیا ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ ”َالرَّسُوْلَ“ یعنی محمد ﷺ کی اطاعت کا مستقل حیثیت سے حکم دیا گیا ہے اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد ”َالرَّسُوْلَ“ کی اطاعت سنت کی پیروی ہی سے ہوسکتی ہے۔ بعض لوگ غلط فہمی کی بنا پر کہہ دیتے ہیں کہ حدیث وہی حجت ہوگی جو قرآن کے مطابق ہو، حالانکہ قرآن نے متعدد مواقع پر حدیث کو مستقل دلیل اور شریعت کے ماخذ کی حیثیت دی ہے، لہٰذا قانون کا ماخذ قرآن و حدیث دونوں قرار پائیں گے۔ حدیث میں قرآن سے زائد حکم تو ہوسکتے ہیں مگر کوئی صحیح حدیث قرآن کے خلاف نہیں ہے، اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے تو یہ اس کی عقل و فہم کا قصور ہے، یا اس کی نیت کا فتور۔ مزید دیکھیے سورة نجم (4)۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”میں تم میں سے کسی کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے ہو اور اس کے پاس میرے حکم میں سے کوئی حکم آئے، ان چیزوں میں سے جن کا میں نے حکم دیا ہے، یا میں نے منع کیا تو وہ کہے، ہم نہیں جانتے، ہم اللہ کی کتاب میں جو پائیں گے اسی کی پیروی کریں گے۔“ [ أبو داوٗد، السنۃ، باب فی لزوم السنۃ : 4605، عن أبی الدرداء ]
Ayah 3:33اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰٓي۔۔ : اوپر کی آیات میں رسول اللہ ﷺ کی اتباع و اطاعت کا حکم دیا ہے، اب اس آیت میں آپ کی رسالت کے اثبات کے سلسلہ میں فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ کا تعلق بھی اس خاندان نبوت سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے (کیونکہ آپ آل ابراہیم سے ہیں)۔ (شوکانی) عمران نام کی دو شخصیتیں گزری ہیں، ایک موسیٰ و ہارون ؑ کے والد اور دوسرے مریم [ کے والد۔ اکثر مفسرین نے یہاں دوسرے عمران مراد لیے ہیں، کیونکہ انھی کی آل (مریم و عیسیٰ ؑ کا قصہ بیان کیا جا رہا ہے۔ (ابن کثیر، رازی) غالباً اس سورت کا نام بھی اسی قصہ کی بنا پر رکھا گیا ہے۔
Ayah 3:34ذُرِّيَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ ۭ: گویا سب انبیا آدم ؑ ، پھر نوح ؑ ، پھر ابراہیم ؑ کی اولاد میں سے تھے اور چونکہ عیسیٰ ؑ بھی ابراہیم ؑ اور پھر آل عمران سے تھے، لہٰذا وہ بھی انسان تھے، اللہ یا اللہ کے بیٹے نہیں تھے۔ یہاں سے اہل نجران اور دوسرے نصرانیوں کے عقیدے کے ابطال کے لیے عیسیٰ ؑ کی ولادت کا قصہ شروع ہوتا ہے۔
Ayah 3:35تفاسیر میں عمران کی بیوی کا نام ”حَنَّہ“ مذکور ہے اور یہ کہ دمشق کے بیرونی حصے میں ان کی قبر ہے، مگر ان دونوں باتوں کی کوئی پختہ دلیل نہیں۔ اس زمانے میں دستور تھا کہ بعض لڑکوں کو ماں باپ اپنے حق سے آزاد کرکے اللہ تعالیٰ کی نذر کردیتے اور عبادت خانے کے سپرد کردیتے۔ عمران کی بیوی حاملہ تھیں، انھوں نے بھی یہی نذر مانی۔ ”مُحَرَّرًا“ کے معنی ہیں کہ وہ صرف مسجد کی خدمت ہی کے لیے وقف رہے گا۔ (قرطبی)
Ayah 3:36وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى ۚ: بظاہر تو کہنا چاہیے تھا کہ لڑکی لڑکے جیسی نہیں، مگر الٹ فرمایا، یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ لڑکا جو عمران کی بیوی کے ذہن میں تھا، اس لڑکی جیسا نہیں ہوسکتا جو انھیں عطا کی گئی۔ ”الذَّكَرُ ‘ اور ”كَالْاُنْثٰى“ میں الف لام عہد ذہنی کا ہے۔
وَاِنِّىْ سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ : اس سے معلوم ہوا کہ پیدائش کے ساتھ ہی نام رکھا جاسکتا ہے، ساتویں دن کا انتظار ضروری نہیں، بلکہ ساتواں دن نام رکھنے کی آخری حد ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”آج رات میرے گھر بچہ پیدا ہوا ہے اور میں نے اپنے باپ (ابراہیم ؑ کے نام پر اس کا نام رکھا ہے۔“ [ مسلم، الفضائل، باب رحمتہ ﷺ الصبیان۔۔ : 2315، عن أنس ؓ ]
وَاِنِّىْٓ اُعِيْذُھَابِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ : چناچہ یہ دعا قبول ہوئی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”ہر بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو شیطان اسے چھوتا ہے، شیطان کے اسے چھونے کی وجہ سے وہ چیخ کر رونے لگتا ہے، مگر مریم اور اس کا بیٹا۔“ [ بخاری، التفسیر، باب قول اللہ تعالیٰ : (واذکر فی الکتاب مریم۔۔) : 3431، عن أبی ہریرۃ ؓ ]
Ayah 3:37وَّكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ڝ عام قول کے مطابق زکریا ؑ ان کے خالو تھے، مگر صحیح بات یہ ہے کہ وہ مریم ؑ کے بہنوئی تھے۔ اس کی دلیل حدیث معراج ہے جس میں دوسرے آسمان پر رسول اللہ ﷺ کی یحییٰ اور عیسیٰ ؑ سے ملاقات کا ذکر ہے اور صراحت ہے کہ وہ دونوں خالہ زاد بھائی تھے۔ [ بخاری، الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : (ذکر رحمۃ ربک۔۔) 3430 ]
الْمِحْرَابَ ۙ : اس سے مراد معروف محراب نہیں ہے جو مسجدوں میں امام کے لیے بنایا جاتا ہے، بلکہ اس کا معنی اس کمرہ کے ہیں جو تنہائی کے لیے بنایا جاتا ہے۔ (دیکھیے سبا : 13) یہودو نصاریٰ عبادت خانے سے الگ کچھ بلندی پر یہ محراب بناتے تھے، جس میں مسجد کے عبادت گزار رہتے تھے۔
وَجَدَ عِنْدَھَا رِزْقًا ۚ اسلوب کلام سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ رزق بطور کرامت مریم [ کے پاس پہنچ رہا تھا۔ اکثر تابعین سے منقول ہے کہ زکریا ؑ جب بھی مریم [ کے حجرے میں جاتے تو ان کے ہاں بےموسم کے تازہ پھل پاتے۔ (ابن جریر، ابن کثیر) تابعین کا یہ فرمان آیت کے الفاظ کی تشریح ہو جیسا کہ ظاہر ہے تو اس رزق کے بطور کرامت ملنے کی تائید ہے اور اگر اسرائیلی نقل ہو تو اسے سچایا جھوٹا کہنے کی اجازت نہیں مگر اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اسباب کے بغیر رزق عطا ہونا کچھ بعید نہیں اور امت محمد ﷺ کے اولیاء و شہداء کو یہ کرامت اور عزت افزائی ملنا صحیح سند سے ثابت ہے۔
صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے خبیب ؓ کی سولی کا واقعہ تفصیل سے مذکور ہے، مکہ کے جس گھر میں انھیں قید رکھا گیا، اس گھر والی بنت الحارث کا بیان ہے کہ اللہ کی قسم ! میں نے خبیب سے بہتر قیدی کبھی نہیں دیکھا، اللہ کی قسم ! میں نے ایک دن انھیں انگور کا گچھا کھاتے ہوئے دیکھا، جو ان کے ہاتھ میں تھا، جب کہ وہ لوہے کی زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے، حالانکہ مکہ میں کوئی پھل نہیں تھا۔ (بنت الحارث) کہتی تھیں کہ یقیناً وہ اللہ کی طرف سے رزق تھا جو اس نے خبیب کو دیا تھا۔ [ بخاری، الجہاد والسیر، باب ھل یستأسر الرجل۔۔ : 3045 ] مگر کرامت ولی کے اختیار میں نہیں ہوتی کہ وہ جو چاہے کرے، ورنہ خبیب زنجیریں توڑ کر آزاد ہوجاتے، حتیٰ کہ نبی بھی اپنی مرضی سے کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتے، فرمایا : (وَمَا كَانَ لَنَآ اَنْ نَّاْتِيَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ) [ إِبراہیم : 11 ]
Ayah 3:38ھُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهٗ ۚ۔۔ : زکریا ؑ بوڑھے ہوچکے تھے اور ابھی تک بےاولاد تھے، بیوی بانجھ تھی، بظاہر انھیں اولاد کی کوئی امید نہ تھی، لیکن یہ دیکھ کر کہ کس طرح مریم [ کو خرق عادت کے طور پر بےموسم کا رزق پہنچ رہا ہے، ان کے دل میں بھی خواہش پیدا ہوئی کہ بےموسم کا رزق پہنچانے والا مایوسی کے عالم میں اولاد بھی عطا فرما سکتا ہے، چناچہ اسی جگہ اور اسی وقت اللہ تعالیٰ کے حضور نیک اولاد کی دعا کی۔ بعض علماء نے مریم [ کو خرق عادت میوے پہنچنے کا انکار کیا اور کہا ہے کہ یہ محاورہ ہے کہ خدا رسیدہ لوگ ہر نعمت کو (من عند اللہ) اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیتے ہیں، مگر زکریا ؑ کا اس حالت کو دیکھ کر اظہار تعجب اور دعا کرنا بتارہا ہے کہ رزق خرق عادت (بطور کرامت) ہی مل رہا تھا۔ پچھلی آیت کے حاشیہ میں خبیب ؓ کا واقعہ ملاحظہ فرمائیں اور زکریا ؑ کا واقعہ سورة مریم کے شروع میں ملاحظہ کریں۔
Ayah 3:39فَنَادَتْهُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ۔۔ : عبادت خانے میں نماز پڑھنے کے دوران ہی فرشتوں نے انھیں یحییٰ نامی بیٹے کی خوش خبری دی۔ معلوم ہوا پیدائش سے پہلے بھی اولاد کا نام رکھا جاسکتا ہے۔
بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ : یہ عیسیٰ ؑ کا لقب ہے، اگرچہ ہر شخص ہی اللہ تعالیٰ کے کلمۂ کن سے پیدا ہوا ہے، مگر عیسیٰ ؑ کے بغیر باپ کے پیدا ہونے پر انھیں بطور شرف یہ لقب دیا گیا، جیسے بیت اللہ، ناقۃ اللہ، اگرچہ ہر مسجد اور ہر اونٹنی اللہ ہی کی ہے۔ یحییٰ ؑ عیسیٰ ؑ سے بڑے تھے، تبھی انھوں نے عیسیٰ ؑ کی تصدیق کی۔
”َّحَصُوْرًا“ سے مراد ایسا شخص ہے جسے اپنی جنسی خواہشوں پر پوری طرح قابو حاصل ہو۔ (فتح البیان) بعض لوگوں نے معنی کیا ہے جو عورت کے پاس نہ جاسکتا ہو، مگر یہ نہ کوئی خوبی ہے نہ یہاں مراد ہے۔
Ayah 3:40قَالَ رَبِّ اَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ۔۔ : دعا کی فوری قبولیت اور بظاہر ناممکن کام کی بشارت پر انھیں تعجب ہوا۔ عجیب بات یہ ہے کہ خود ہی دعا کر رہے ہیں اور پھر خود ہی انھیں اتنا تعجب ہو رہا ہے کہ یہ کیسے ہوگا ؟ جو اب ملا کہ اللہ تعالیٰ جو چاہے کرتا ہے۔