Ayah 3:41قَالَ رَبِّ اجْعَلْ۔۔ : زکریا ؑ کا تعجب اس حد تک بڑھا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے اس کی نشانی کی درخواست کردی، فرمایا کہ تمہارے لیے نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک صحیح سالم ہونے کے باوجود (ہاتھ یا ابرو وغیرہ کے) اشارے کے سوا لوگوں سے بات چیت نہ کرسکو گے، لہٰذا اس دوران تم اپنا سارا وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر و شکر اور تسبیح میں صرف کرو۔
Ayah 3:42اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے مریم [ کو چننے کا ذکر دو مرتبہ آیا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ محض تاکید کے لیے ہو، یا پہلے چننے سے مراد بچپن میں مریم [ کو شرف قبولیت بخشنا ہو، جو آیت : (فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ) میں مذکور ہے اور دوسرے چننے سے مراد اللہ تعالیٰ کا انھیں عیسیٰ ؑ کی پیدائش کے لیے منتخب فرمانا اور خصوصی فضیلت عطا کرنا ہو۔
عَلٰي نِسَاۗءِ الْعٰلَمِيْنَ : سب جہانوں کی عورتوں سے مراد صرف اس زمانے کی عورتیں ہیں، کیونکہ احادیث میں مریم [ کی طرح خدیجہ، فاطمہ اور عائشہ کی فضیلت میں بھی اسی قسم کے الفاظ مذکور ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مردوں میں سے بہت سے لوگ کامل ہوئے ہیں لیکن عورتوں میں سے آسیہ زوجۂ فرعون اور مریم بنت عمران ہی کامل ہوئی ہیں اور عورتوں پر عائشہ ؓ کو اس طرح فضیلت حاصل ہے جس طرح ثرید کو باقی کھانوں پر فضیلت حاصل ہے۔“ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء،
باب قول اللہ تعالیٰ : (و ضرب اللہ مثلاً۔۔) : 3411، عن أبی موسیٰ الأشعری ؓ ]
انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تمام جہانوں کی عورتوں میں تمہارے لیے مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد اور آسیہ زوجۂ فرعون کافی ہیں۔“ [ ترمذی، المناقب، باب فضل خدیجۃ : 3878 ]
Ayah 3:43وَارْكَعِيْ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ : مریم [ چونکہ بیت المقدس کے ساتھ محراب میں رہتی تھیں اور بیت المقدس کی خادمہ تھیں، اس لیے انھیں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم ہوا۔
Ayah 3:44ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ ۭ۔۔ : اس آیت سے پانچ مسئلے واضح طور پر ثابت ہوئے، پہلا یہ کہ رسول اللہ ﷺ غیب نہیں جانتے تھے، ورنہ انھیں غیب کی یہ خبریں وحی کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ دوسرا یہ کہ رسول اللہ ﷺ ہر جگہ حاضر و ناظر نہیں ہیں، ورنہ اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتا کہ تو اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھا۔ تیسرا یہ کہ اولیاء اور دوسرے انبیاء بھی غیب دان نہیں، ورنہ بیت المقدس کے خدام اور وقت کے پیغمبر زکریا ؑ کو قرعہ ڈالنے کی ضرورت نہ تھی۔ چوتھا یہ کہ جب چیز ایک ہو اور اس کے حق دار کئی ہوں تو اس وقت قرعہ کے ذریعے سے فیصلہ شریعت کا فیصلہ ہے۔ امام بخاری ؓ نے ”کِتَاب الشَّہَادَاتِ“ میں باب باندھا ہے : ”بَابُ الْقُرْعَۃِ فِی الْمُشْکِلاَتِ“ ”مشکل معاملات میں قرعہ اندازی کا بیان“ اور اس میں کئی احادیث لائے ہیں۔ بعض لوگوں نے قرعہ کو جوا قرار دیا ہے، یہ ان کی غلطی ہے۔ ہاں، اگر اس مقصد کے لیے قرعہ ڈالا جائے کہ یہ کام کروں یا نہ کروں، تو یہ قرعہ نہیں بلکہ فال نکالنا ہے جو حرام ہے۔ دیکھیے سورة مائدہ : 90)۔
پانچواں یہ کہ رسول اللہ ﷺ جو اس واقعہ کے وقت نہ موجود تھے، نہ اسے جانتے تھے، آپ کا وحی الٰہی سے اس واقعہ کو بیان کرنا آپ کے رسول برحق ہونے کی دلیل ہے۔
اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ : اس قرعہ اندازی کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ مریم [ یہودیوں کے بہت بڑے عالم عمران کی بیٹی تھیں، جب ان کی والدہ نے انھیں اپنی عبادت گاہ کی نذر کیا تو عبادت گاہ کے خدام میں جھگڑا ہوا کہ ان کی سرپرستی اور نگرانی کا شرف کون حاصل کرے، آخر کار انھوں نے قرعہ اندازی کی اور قرعہ زکریا ؑ کے نام نکلا۔ (ابن کثیر، قرطبی)
Ayahs 3:45–46اِذْ قَالَتِ الْمَلٰۗىِٕكَةُ يٰمَرْيَمُ : اس آیت میں عیسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک کلمہ قرار دیا گیا ہے، اس کی وضاحت آیت (38) کے فوائد میں گزر چکی ہے۔ فرشتوں نے مریم [ سے بالمشافہہ یہ بات کی، جیسا کہ سورة مریم (17) میں ہے کہ جبریل ؑ انسانی شکل میں ان سے ہم کلام ہوئے۔
”الْمَسِيْحُ“ لفظ ”مَسَحَ“ سے مشتق ہے، جس کے معنی ہاتھ پھیرنے یا زمین کی مساحت کے ہیں۔ لہٰذا عیسیٰ ؑ کو مسیح یا تو اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ بیماروں اور کوڑھیوں پر ہاتھ پھیرتے تھے اور وہ تندرست ہوجاتے تھے، یا اس بنا پر کہ آپ ہر وقت زمین میں سفر کرتے رہتے تھے۔ (ابن کثیر)
یہاں مسیح ؑ کے چار اوصاف بیان ہوئے ہیں : 1 ”وَجِيْهًا“ یعنی بہت وجاہت والا ہوگا۔ چہرہ آدمی کی ذات کا آئینہ ہوتا ہے، اس لیے اونچے مرتبے کو وجاہت کہتے ہیں۔ 2 مقرب لوگوں میں سے ہوگا۔ 3 گہوارے اور ادھیڑ عمر میں یکساں حکیمانہ کلام کرے گا۔ گہوارے میں ان کا کلام سورة مریم (30 تا 33) میں نقل ہوا ہے اور ادھیڑ عمر میں کلام کرنے میں ان کے دوبارہ اترنے کی طربھی اشارہ ہے۔ 4 صالحین سے ہوگا۔ صالح وہ ہے جس کے سارے کام درست ہوں، اس لیے سلیمان ؑ جیسے جلیل القدر پیغمبر نے صالح بندوں میں داخل کیے جانے کی دعا کی۔ دیکھیے سورة یوسف (101) اور سورة نمل (19)
Ayah 3:47اَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ وَلَدٌ وَّلَمْ يَمْسَسْنِىْ بَشَرٌ ۭ: مریم [ کو جب لڑکے کی خوشخبری دی گئی تو انھوں نے تعجب کا اظہار کیا، تعجب کا اظہار اس کے ناممکن ہونے پر نہیں بلکہ کس طرح ہونے پر کیا، کیونکہ ظاہری اسباب موجود نہیں۔ کہنے لگیں، مجھے تو آج تک کسی بشر نے ہاتھ نہیں لگایا، پھر میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا ! ؟ فرمایا : ”اللہ اسی طرح جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔“ زکریا ؑ کے قصے میں ”يَفْعَلُ“ اور یہاں ”يَخْلُقُ“ فرمایا۔ پہلا لفظ عام ہے، کیونکہ وہاں میاں بیوی دونوں موجود تھے، گو بوڑھے تھے۔ ”يَخْلُقُ“ خاص ہے، کیونکہ مرد کے بغیر اسباب ہی مکمل نہیں۔ مزید دیکھیے سورة مریم (20، 21)۔
Ayah 3:48وَيُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ : عیسیٰ ؑ کو تورات اور ہر کتاب بغیر پڑھے آتی تھی اور یہ سب معجزے تھے۔ (موضح) بعض مفسرین نے ”الْكِتٰبَ“ کا معنی لکھنا کیا ہے۔
Ayah 3:49اَنِّىْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ : یعنی جب وہ رسول بن کر آئیں گے تو ان کی دعوت یہ ہوگی جو آگے بیان ہوئی ہے۔
اَنِّىْٓ اَخْلُقُ : یہاں ”خَلَقَ“ کا لفظ ظاہری شکل و صورت بنانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تصویر بنانے والوں سے فرمائے گا : (اَحْیُوْا مَا خَلَقْتُمْ) ”تم نے جو خلق کیا اسے زندہ کرو۔“ [ بخاری، البیوع، باب التجارۃ فیما یکرہ۔۔ 2105 ] پیدا کرنے اور زندگی دینے کے معنی میں خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
بِاِذْنِ اللّٰهِ ۚ: یہاں ”بِاِذْنِ اللّٰهِ ۚ“ کا لفظ بار بار لانے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہوتا تو عیسیٰ ؑ یہ معجزات نہ دکھا سکتے اور یہی ہر نبی کے معجزات کا حال ہے کہ وہ اللہ ہی کے اختیار میں ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے ہر نبی کو اس کے زمانے کے مناسب حال معجزات عطا فرمائے۔ موسیٰ ؑ کے زمانے میں جادو اور جادوگروں کا زور تھا، سو اللہ تعالیٰ نے انھیں وہ معجزات دے کر بھیجا جن سے تمام جادوگر دنگ رہ گئے اور ان کی عقل چکرا گئی، بالآخر وہ جادوگر از خود مسلمان ہوئے اور اسلام کی راہ میں سولی چڑھنے تک کے لیے تیار ہوگئے۔ عیسیٰ ؑ کے زمانے میں طب اور علوم طبعیہ (سائنس) کا چرچا تھا، سو اللہ تعالیٰ نے انھیں وہ معجزات عطا فرمائے جن کے سامنے تمام اطباء اور سائنسدان اپنے عاجز اور درماندہ ہونے کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکے۔ ہمارے رسول ﷺ کے زمانے میں فصاحت و بلاغت اور شعر و ادب کا ڈنکا بجتا تھا، سو اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ کتاب نازل فرمائی جس نے تمام فصحاء و بلغاء کی گردنیں خم کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں تین طرح کا چیلنج دیا، پہلے پورے قرآن کی مثل لانے کا (بنی اسرائیل : 88) پھر دس سورتیں اس جیسی لانے کا (ہود : 13) پھر اس جیسی کوئی ایک سورت لانے کا (یونس : 38) مگر وہ بار بار چیلنج سننے کے باوجود اس جیسی دس سورتیں تو کجا، اس جیسی ایک سورت بھی پیش نہ کرسکے۔ کیوں ؟ اس لیے کہ پروردگار کا کلام مخلوق کے کلام سے مماثلت نہیں رکھتا۔ (ابن کثیر، رازی)
Ayah 3:50وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ۔۔ : عیسیٰ ؑ کے وقت تورات میں سے کئی حکم جو مشکل تھے، موقوف ہوئے، باقی وہی تورات کا حکم تھا۔ (موضح) عیسیٰ ؑ اپنی کوئی الگ مستقل شریعت لے کر مبعوث نہیں ہوئے تھے، بلکہ موسوی شریعت کی تائید و تصدیق کرنے اور بنی اسرائیل کو تورات پر عمل کی دعوت دینے کے لیے آئے تھے، البتہ تورات میں بعض چیزیں جو بطور تشدید ان پر حرام کردی گئی تھیں، ان کو اللہ کے حکم سے حلال قرار دینا بھی ان کے مقصد بعثت میں شامل تھا، جیسے اونٹ کا گوشت اور حلال جانوروں کی چربی وغیرہ۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ عیسیٰ ؑ نے صرف ان چیزوں کو حلال قرار دیا جنھیں یہود نے آپس کے اختلافات اور موشگافیوں کی وجہ سے حرام قرار دے لیا تھا۔ لیکن زیادہ صحیح یہی ہے کہ انھوں نے بعض چیزوں کی حرمت کو منسوخ بھی کیا ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 3:51اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ۔۔ : عیسیٰ ؑ نے معجزات پیش کرنے کے ساتھ ضروری سمجھا کہ اصل دین کی تاکید فرما دیں کہ میرا اور تمہارا داتا (رب) اللہ ہے، سو اسی کی عبادت کرو۔ مگر افسوس کہ نصرانیوں نے مسیح ؑ کو اللہ یا اللہ کا بیٹا قرار دے کر رب اور نفع و نقصان کا مالک سمجھ لیا اور ان سے فریادیں کرنے لگے۔
Ayahs 3:52–53فَلَمَّآ اَحَسَّ عِيْسٰى مِنْھُمُ الْكُفْرَ۔۔ : یعنی صرف عقل سے نہیں سمجھا بلکہ حواس سے معلوم کرلیا، آنکھوں اور کانوں سے یہ حقیقت جان لی کہ یہود اور ان کے علماء اللہ کی دی ہوئی نشانیوں اور دلائل و معجزات کے سامنے بےبس ہوچکے ہیں، مگر ماننے کے لیے کسی صورت آمادہ نہیں، بلکہ ان کی زندگی کے درپے ہیں اور اس مقصد کے لیے سازشیں کر رہے ہیں تو انھیں اپنے دنیا سے رخصت ہونے میں کچھ شبہ نہ رہا۔ اب انھیں فکر تھی تو یہ کہ دین کی اشاعت و تبلیغ کا کام رکنا نہیں چاہیے، چناچہ انھوں نے اپنے پیروکاروں سے پوچھا کہ کون ہے جو اللہ کی طرف دعوت دینے اور اس کے راستے پر چلنے اور چلانے میں میرا مددگار ہو ؟ اللہ تعالیٰ نے چند لوگوں کو توفیق عطا فرمائی، وہ ایمان لائے اور پوری تن دہی کے ساتھ عیسیٰ ؑ کی مدد کرتے رہے اور یہی لوگ عیسیٰ ؑ کے حواری کہلائے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ عیسیٰ ؑ اپنے ساتھیوں سے مدد مانگ رہے ہیں، اگر وہ مختار کل ہوتے تو مدد مانگنے کی کیا ضرورت تھی۔ ہمارے دور کے قبرپرست بھی عجیب ہیں، اس آیت سے استدلال کرکے فوت شدہ بزرگوں سے وہ چیزیں مانگتے ہیں جو ان کے اختیار میں نہیں اور دلیل میں یہ آیت پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ اس میں بزرگوں نے چھوٹوں سے وہ مدد مانگی ہے جو ان کے اختیار میں تھی۔
عیسیٰ ؑ کا یہ قول ویسا ہی ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ ہجرت سے پہلے زمانۂ حج میں مختلف قبائل عرب سے فرمایا کرتے تھے کہ کون ہے جو مجھے پناہ دے تاکہ میں لوگوں تک اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں، اس لیے کہ قریش نے مجھے یہ پیغام پہنچانے سے روک رکھا ہے ؟ تاآنکہ آپ کو انصار مل گئے، جنھوں نے آپ کو پناہ دی اور اپنی جان و مال سے آپ کی مدد کی۔ مگر آپ کے حواری (خاص جاں نثار و مددگار) صرف انصار ہی نہ تھے، مہاجر بھی تھے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ خندق کے دوران میں تین دفعہ پوچھا : ”کون ہے جو بنوقریظہ کی خبر لائے گا ؟“ تینوں دفعہ زبیر ؓ نے اپنے آپ کو پیش کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں، میرا حواری زبیر ہے۔“ [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل طلحۃ۔۔ : 2415، عن جابر بن عبداللہ ]
Ayah 3:54وَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللّٰهُ۔۔ : شیخ شنقیطی نے فرمایا : ”یہاں نہ یہود کی خفیہ تدبیر کا ذکر فرمایا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر کا، مگر دوسری جگہ ان کی تدبیر کا ذکر کیا ہے کہ انھوں نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا تھا، جیسا کہ فرمایا : (وَّقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۚ) [ النساء : 157 ] ”اور ان کے یہ کہنے کی وجہ سے کہ بلاشبہ ہم نے ہی مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کیا، جو اللہ کا رسول تھا۔“ اور اللہ کی خفیہ تدبیر کا ذکر فرمایا ہے : (وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۭ) [ النساء : 157 ] ”اور لیکن ان کے لیے (کسی کو اس مسیح کا) کا شبیہ بنادیا گیا۔“ وہ عیسیٰ ؑ کی شبیہ کو سولی دے کر سمجھ بیٹھے کہ ہم نے مسیح کو قتل کردیا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نساء (157)۔
Ayahs 3:55–58مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَیکَ : ”وَفَی یَفِیْ“ کا معنی پورا ہونا یا پورا کرنا ہے۔ ”اِسْتَوْفَی“ اور ”تَوَفّٰی“ کا معنی پورا لے لینا ہے۔ ”اِسْتَوْفَیْتُ مِنْہُ وَ تَوَفَّیْتُ“ کا معنی ہے ”میں نے اس سے پورا حق لے لیا۔“ اس بنا پر ”مُتَوَفِّيْكَ“ کا معنی ہے ”میں تمہیں پورا لینے والا ہوں“ اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ عیسیٰ ؑ کو روح و بدن دونوں کے ساتھ اٹھا لیا جاتا۔ بعض نے اس کا معنی ”(وقت پر) فوت کرنے والا ہوں“ کیا ہے اور میں نے ترجمہ کیا ہے ”قبض کرنے والا ہوں۔“ اس میں دونوں معنی آجاتے ہیں۔ یوں تو قرآن میں ”تَوَفِّیْ“ کا معنی سلا دینا بھی آیا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ) [ الأنعام : 60 ]”اور وہی ہے جو تمہیں رات کو قبض کرلیتا (سلا دیتا) ہے“ اور فرمایا : (اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا ۚ) [ الزمر : 42 ] ”اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے اور ان کو بھی جو نہیں مریں ان کی نیند میں۔“
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؓ نے ”اَلْجَوَاب الصَّحِیْحُ“ میں لکھا ہے کہ لغت عرب میں ”تَوَفِّیْ“ کے معنی ”اِسْتِیْفَاءٌ“ اور قبض کے آئے ہیں اور یہ نیند کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے اور موت کی صورت میں بھی اور یہ ”تَوَفِّی الرُّوْحِ مَعَ الْبَدَنِ جَمِیْعًا“ (روح اور بدن دونوں کو لے لینے) کے معنی میں بھی آتا ہے اور اس آیت میں یہی معنی مراد ہیں۔ خلاصہ یہ کہ اس آیت میں (مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ) سے عیسیٰ ؑ کا مع جسم آسمان کی طرف اٹھایا جانا مراد ہے۔ جیسا کہ فرمایا : (وَرَافِعُكَ اِلَيَّ)”اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔“ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ؑ کے قتل اور سولی کی نفی فرمائی اور ”تَوَفِّیْ“ کا لفظ استعمال کیے بغیر فرمایا : (بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ) [ النساء : 158] ”بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔“
وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا : عیسیٰ ؑ کے اول تابع نصاریٰ تھے، ان کے بعد مسلمان ہیں، سو یہ ہمیشہ غالب رہے۔ (موضح) حافظ ابن کثیر ؓ لکھتے ہیں کہ ان سے مراد صرف نصاریٰ بھی ہوسکتے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ یہود جو مسیح ؑ کے منکر ہیں ان پر نصاریٰ ہمیشہ غالب رہیں گے۔ (ابن کثیر)
اس سے مراد یہ بھی ہے کہ قیامت کے قریب جب مسیح ؑ تشریف لائیں گے تو ان کے پیروکار مسلمان سب کفار پر غالب ہوں گے۔
Ayah 3:59اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى۔۔ : یہ سورت شروع سے لے کر یہاں تک (یعنی پہلی آیت سے 59 تک) وفد نجران کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس وفد نے رسول اللہ ﷺ سے بحث کے دوران عیسیٰ ؑ کی ”بُنُوَّۃ“ (اللہ کا بیٹا ہونے) پر اس سے استدلال کیا کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تردید فرمائی کہ اگر بغیر باپ کے پیدا ہونا اللہ کا بیٹا ہونے کی دلیل ہوسکتا ہے تو آدم ؑ جو ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے وہ بالاولیٰ اللہ کا بیٹا کہلانے کے حق دار ہیں، مگر یہ عقیدہ بالکل باطل ہے۔ اصل میں اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کی طرح مسیح ؑ کو بھی ”كُن“ سے پیدا کرکے اپنی قدرت کاملہ کو ظاہر فرمایا ہے۔ (ابن کثیر)
”مِنْ تُرَابٍ“ میں تنوین تقلیل یا تحقیر کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا ہے ”تھوڑی سی مٹی۔“
Ayah 3:60اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ۔۔ : یعنی عیسیٰ ؑ کے بارے میں تمہارے سامنے جو حق بیان ہوا ہے یہ تیرے رب کی طرف سے ہے۔ ”اَلْحَقُّ“ میں الف لام عہد کا ہے جس کا اشارہ گزشتہ بیان کی طرف ہے اس لیے ترجمہ ”یہ حق تیرے رب کی طرف سے ہے“ کیا گیا ہے۔ اور اس میں شک و شبہ کی ہرگز گنجائش نہیں ہے۔ (ابن کثیر) یہ خطاب بظاہر نبی ﷺ سے ہے مگر مقصود تمام مسلمانوں کو تنبیہ کرنا ہے۔ (رازی)
Ayahs 3:61–63فَمَنْ حَاۗجَّكَ فِيْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ : سورت کے شروع سے لے کر یہاں تک اللہ تعالیٰ کی توحید، مسیح ؑ کی ولادت کا بیان اور ان کا اللہ یا اللہ کا بیٹا نہ ہونا زبردست علمی دلائل کے ساتھ بیان ہوا۔ اب حکم ہوا کہ جو شخص اتنے واضح دلائل کے بعد بھی نہ مانے تو وہ عناد پر آمادہ ہے، اس سے بحث کا کوئی فائدہ نہیں، پھر انھیں مباہلہ کی دعوت دو۔
مباہلہ کی صورت یہ بیان فرمائی کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں اور تمہارے بیٹوں کو بلا لیں اور اپنی عورتوں اور تمہاری عورتوں کو بھی اور اپنے آپ کو اور تمہیں بھی، پھر گڑ گڑا کر دعا کریں، پس جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔
”بَھَلَ یَبْھَلُ (ف)“ کا معنی لعنت کرنا ہے اور ”بَاھَلَ مُبَاھَلَۃً“ اور ”اِبْتَھَلَ یَبْتَھِلُ“ کا معنی ایک دوسرے پر لعنت کی دعا کرنا ہے، چونکہ یہ دعا نہایت خلوص اور عاجزی سے ہوتی ہے، اس لیے ”اِبْتَھَلَ“ کا لفظ عاجزی سے دعا کرنے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : (فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَاۗءَنَا وَاَبْنَاۗءَكُمْ۔۔) تو رسول اللہ ﷺ نے علی، فاطمہ اور حسن و حسین ؓ کو بلایا، پھر فرمایا : (اَللّٰھُمَّ ھٰؤُلاَءِ اَھْلِیْ)”اے اللہ ! یہ میرے اہل ہیں۔“ [ مسلم،
فضائل الصحابۃ، باب من فضائل علی بن أبی طالب ؓ : 32؍2404 ]
مگر اہل نجران مباہلہ سے ڈر گئے اور انھوں نے جزیہ دینا منظور کرلیا، جیسا کہ حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ عاقب اور السید نجران والے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، وہ آپ سے مباہلہ کا ارادہ رکھتے تھے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : ”ایسا مت کرو، کیونکہ اللہ کی قسم ! اگر یہ نبی ہوئے اور ہم نے مباہلہ کرلیا تو نہ ہم کبھی فلاح پائیں گے اور نہ ہمارے بعد ہماری نسل۔“ تو دونوں نے کہا : ”آپ نے ہم سے جو مطالبہ کیا ہے ہم آپ کو دیں گے اور آپ ہمارے ساتھ کوئی امین آدمی بھیج دیں اور کسی اور کو نہیں صرف امانت دار کو بھیجیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”یقیناً میں تمہارے ساتھ ایک سچے پکے امانت دار کو بھیجوں گا۔“ تو اصحاب رسول ﷺ نے اس کے لیے گردنیں اٹھائیں (کہ کس پر آپ کی نظر پڑتی ہے) تو آپ نے فرمایا : ”اے ابوعبیدہ بن جراح ! اٹھو۔“ جب وہ کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”یہ اس امت کا امین ہے۔“ [ بخاری، المغازی،
باب قصۃ أہل نجران : 4380 ] ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : ”اگر وہ لوگ نبی ﷺ سے مباہلہ کرتے تو اس حال میں واپس جاتے کہ نہ اپنے اہل کو پاتے اور نہ مال کو۔“ (طبری بسند حسن)
اس آیت سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ ضد میں آ کر حق سے انکار کرنے والے سے مباہلہ ہوسکتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو لعان بھی مباہلہ کی ایک صورت ہے۔
وَنِسَاۗءَنَا وَنِسَاۗءَكُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَكُمْ ۣ : آیت مباہلہ میں اپنے بیٹوں اور اپنی عورتوں کو بلانے کا ذکر ہے۔ ”نِسَاۗءَ“ (عورتوں) کا لفظ بیویوں پر استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ سورة احزاب میں بار بار نبی ﷺ کی بیویوں کو ”يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ“ کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے اور انھیں اہل بیت کہہ کر خطاب کیا ہے۔ (دیکھیے احزاب : 30 تا 34) اولاد پر بیٹیوں کا لفظ آتا ہے نہ کہ عورتوں کا، ہاں، دوسری عورتوں کے ساتھ مل کر ان پر بھی یہ لفظ آسکتا ہے۔ یہاں بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ نے فاطمہ، علی اور حسن و حسین ؓ کو بلایا، آپ کے اہل بیت یہی تھے، بیویوں کو نہیں بلایا۔ حالانکہ کسی حدیث میں بیویوں کو نہ بلانے کا ذکر نہیں ہے اور یہ طے شدہ قاعدہ ہے کہ کسی چیز کا ذکر نہ ہونے سے اس کی نفی نہیں ہوتی، بلکہ احادیث میں تو دوسرے صحابہ کو بلانے کا یا ان کے آنے کا بھی ذکر نہیں، تو کیا وہاں اور کوئی بھی موجود نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے گھر والے تو آپ کی بیویاں ہی تھیں، بیٹا کوئی زندہ نہ تھا، اس لیے آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کرکے آل علی کو اپنے اہل میں شامل کروایا، دلیل اس کی لفظ ”اَللَّھُمَّ“ ہے اور یہ تو معروف ہے کہ بیٹی کی اولاد کی نسبت اس کے خاوند اور خاوند کے آباء و اجداد کی طرف ہوتی ہے، نہ کہ نانا کی طرف۔ ہاں، یہ علی، فاطمہ اور حسن و حسین ؓ کی خصوصیت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعا سے وہ بھی اہل بیت ہیں، مگر بیویوں کو جو اصل گھر والی ہیں، انھیں گھر والوں ہی سے نکال دینا محض تعصب ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ انھیں گھر والیاں فرما رہا ہے، فرمایا : (لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ) [ الأحزاب : 33 ] ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کر دے اے اہل بیت !“ اور جبریل ؑ ابراہیم ؑ کی بیوی سارہ[ کو (رَحْمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الْبَيْتِ) کے الفاظ سے مخاطب کر رہے ہیں، یعنی ”اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے اہل بیت !“ [ ہود : 73 ]
Ayah 3:64قُلْ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ۔۔ : اس آیت میں اہل کتاب کو تین مشترکہ باتوں کی دعوت دینے کا حکم دیا گیا ہے : 1 اللہ تعالیٰ کے سوا ہم کسی کی عبادت نہ کریں۔ 2 اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ 3 اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے۔ تورات و انجیل میں تحریف کے باوجود تورات تو اب بھی توحید سے اور شرک کی ممانعت سے لبریز ہے، انجیل میں بھی یہی تعلیم متفرق طور پر موجود ہے، جیسے : ”تو خداوند خدا کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کر۔“ [ متٰی : 4 : 10 ] بلکہ یہ بھی ہے : ”زمین پر اللہ کے احکام پر عمل ہونا چاہیے۔ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔“ [ متیٰ : 6 : 10 ]
اہل کتاب تینوں باتوں کی مخالفت کر رہے تھے، یہود نے عزیر کو اور نصاریٰ نے مسیح کو اللہ کا بیٹا قرار دے کر ان کی پرستش شروع کردی اور دونوں نے اپنے اپنے احبارو رہبان کی حلال کردہ چیزوں کو حلال اور حرام کردہ کو حرام ٹھہرا کر انھیں رب ہونے کا درجہ دے دیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة توبہ (30، 31) اور ان کے حواشی۔
رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اہل کتاب کو اس مشترکہ عقیدہ کی دعوت دی، جو قریب تھے انھیں براہ راست دعوت دی اور جو دور تھے انھیں خط لکھے، چناچہ شاہ روم ہرقل کو خط لکھا تو اسلام کی دعوت دینے کے ساتھ زیر تفسیر آیت بھی لکھی، جیسا کہ صحیح بخاری ”کتاب التفسیر (4553)“ میں مذکور ہے۔
فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ : یعنی اگر اہل کتاب اس عقیدہ کے ماننے سے انحراف کریں تو تم اپنی طرف سے اس عقیدہ پر قائم رہنے کا اعلان کر دو۔ اس میں متنبہ کیا ہے کہ اہل کتاب اس عقیدہ سے منحرف ہوچکے ہیں، کیونکہ انھوں نے عزیر اور عیسیٰ ؑ کو اللہ کے بیٹے قرار دے دیا تھا۔ علاوہ ازیں انھوں نے اپنے انبیاء اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا تھا۔
Ayah 3:65يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَاۗجُّوْنَ۔۔ : یہود ابراہیم ؑ کے یہودی ہونے کے دعوے دار تھے اور نصاریٰ ان کے نصرانی ہونے کے اور یہ بات ایسی تھی جو واضح طور پر غلط تھی۔ ابراہیم ؑ کا زمانہ موسیٰ ؑ سے ہزاروں برس پہلے کا ہے، یہ تورات و انجیل ان کے بہت بعد نازل ہوئیں تو وہ یہودی یا نصرانی کیسے ہوئے ؟ بھلا یہ کوئی ایسی بات ہے جس پر عقلمند لوگ باہمی جھگڑے میں مشغول ہوں۔ ہماری امت میں سے بھی اگر بعد میں بننے والا کوئی گروہ جو : (مَا اَنَا عَلَیْہِ وَ اَصْحَابِیْ) پر قائم نہ ہو اور دعویٰ کرے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے گروہ سے تھے تو اس سے یہی کہا جائے گا کہ تمہاری تو بنیاد ہی بعد میں رکھی گئی، جب کہ رسول اللہ ﷺ دنیا سے رخصت ہوچکے تھے تو آپ ﷺ تمہارے گروہ میں کیسے شامل ہوگئے ؟
Ayah 3:66لَيْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ ۭ: یعنی اس دین ابراہیمی سے متعلق۔ مراد یہ ہے کہ جب تم تورات و انجیل ہی کے مسائل میں بھٹکے اور کیسے بھٹکے، حالانکہ وہاں کچھ علم تمہیں حاصل تھا، تو اب دین ابراہیمی کے بارے میں کیوں کٹ حجتی پر تلے ہو، جس کے بارے میں تو تمہیں علم کا شائبہ بھی حاصل نہیں ؟ (ماجدی) اس آیت میں نہ صرف غلط طور پر جھگڑا کرنے سے منع کیا گیا ہے، بلکہ مطلقاً جھگڑے سے گریز کی نصیحت بھی کی ہے۔ (ابن کثیر، فتح القدیر)
Ayah 3:67مَا كَانَ اِبْرٰهِيْمُ يَهُوْدِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا۔۔ : اس آیت میں اشارہ ہے کہ یہود و نصاریٰ ابراہیم ؑ کو اپنے اپنے گروہ میں شمار کرتے ہیں، حالانکہ یہ مشرک ہیں، کیونکہ انھوں نے اپنے مشائخ اور علماء کو رب اور ان کے اقوال کو شریعت بنا رکھا ہے اور عزیر و عیسیٰ ؑ کو اللہ کا بیٹا اور نبیوں اور ولیوں کی قبروں کو مسجدیں بنائے ہوئے ہیں، جب کہ ابراہیم ؑ ایک اللہ کی پرستش کرنے والے مسلم تھے، وہ مشرکین میں سے نہیں تھے۔ کچھ ایسا ہی حال اس امت کا بھی ہے کہ ہر فرقے والے رسول اللہ ﷺ کو اپنے اپنے گروہ میں شامل کرتے ہیں، حالانکہ وہ سب گروہ بہت بعد میں بنے، اور انھوں نے اپنے اپنے سربراہوں کے اقوال کو شریعت قرار دے کر ان سربراہوں کو اللہ کا درجہ دے دیا۔ جب کہ رسول اللہ ﷺ صرف ”مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ“ (اللہ کے نازل کردہ دین) پر چلنے والے مسلم تھے اور ہرگز مشرک نہ تھے۔
Ayah 3:68اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِيْمَ۔۔ : مطلب یہ کہ اگر تم اس معنی میں ابراہیم ؑ کو یہودی یا نصرانی کہتے ہو کہ ان کی شریعت تمہاری شریعت سے ملتی جلتی ہے تو یہ بھی غلط ہے، کیونکہ ابراہیم ؑ کے پیروکاروں کے بعد ان کے سب سے زیادہ قریب یہ نبی محمد ﷺ اور ان پر ایمان لانے والے ہیں۔ اس اعتبار سے مسلمانوں کو یہ کہنے کا حق تم سے زیادہ پہنچتا ہے کہ ہم اس طریقہ پر ہیں جس پر ابراہیم ؑ تھے۔
عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ لِکُلِّ نَبِیٍّ وُلاَۃً مِنَ النَّبِیِّیْنَ وَ إِنَّ وَلِیِّیْ أَبِیْ وَ خَلِیْلُ رَبِّیْ)”ہر نبی کے لیے نبیوں میں سے کچھ دوست ہیں۔ جن سے اس کا خصوصی تعلق ہوتا ہے اور میرا (خاص تعلق والا) دوست میرا باپ اور میرے رب کا خلیل ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب و من سورة آل عمران : 2995۔ صحیح ]
Ayah 3:69وَدَّتْ طَّاۗىِٕفَةٌ۔۔ : اس گروہ کی سازشوں کا ذکر اسی سورت (72، 73) میں آ رہا ہے۔ فرمایا یہ لوگ مسلمانوں کو یہودی بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، مسلمان ان کے بہکاوے میں کیا آئیں گے، وہ تو ایمان میں پختہ ہیں، یہ خود ہی مارے جائیں گے، مگر انھیں اس کا شعور ہی نہیں۔
Ayah 3:70لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ۔۔ : اللہ کی آیات سے مراد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی وہ بشارتیں ہیں جو پہلے انبیاء سے منقول تھیں۔ یہود ان کو صحیح سمجھتے تھے مگر مانتے نہیں تھے۔ اللہ کی آیات سے رسول اللہ ﷺ کی بشارتوں پر مشتمل آیات کے ساتھ ساتھ عقائد و احکام وغیرہ پر مشتمل دوسری آیات بھی مراد ہوسکتی ہیں، یعنی وہ لوگ صرف آپ ﷺ سے متعلق ہی نہیں، بلکہ دوسری آیات کو بھی اللہ کا کلام سمجھنے کے باوجود ان پر ایمان نہیں لاتے تھے۔
Ayah 3:71لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بالْبَاطِلِ۔۔ : اہل کتاب کی مذہبی بدبختیوں کی طرف اشارہ ہے، اس سے پہلی آیت میں علمائے یہود کی یہ بدبختی بیان کی گئی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے سچا پیغمبر ہونے کے دلائل جان لینے کے باوجود کفر کر رہے ہیں، اب یہاں بتایا جا رہا ہے کہ حق کو باطل کے ساتھ ملانا اور حق کو چھپانا ان کا عام شیوہ بن چکا ہے۔ پہلی آیت میں ان کی اپنی گمراہی کا بیان تھا، اس آیت میں دوسروں کو گمراہ کرنے کا ذکر ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (42)۔ (رازی) یہ مقام عبرت ہے کہ ہمارے دور کے فرقہ پرست علماء اور تجدد زدہ حضرات بھی دنیوی اور مادی اغراض و مصالح کے پیش نظر قرآن مجید سے وہی سلوک کر رہے ہیں جو ان کے پیش رو تورات و انجیل کے ساتھ کرتے رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے بالکل صحیح فرمایا : (لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ) [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب ما ذکر عن بنی إسرائیل : 3456 ] ”تم لازماً پہلی امتوں کے نقش قدم پر چلو گے۔“
Ayah 3:72وَقَالَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ۔۔ : کمزور ایمان والے مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لیے یہود مختلف سازشیں کرتے رہتے تھے، یہ بھی اس سلسلہ کی ان کی ایک سازش کا بیان ہے کہ صبح کے وقت قرآن اور پیغمبر پر ایمان کا اظہار کرو اور شام کو کفر و انحراف کا اعلان کر دو ، ممکن ہے یہ طریقہ اختیار کرنے سے بعض مسلمان بھی سوچنے لگیں کہ یہ پڑھے لکھے لوگ مسلمان ہونے کے بعد اس تحریک سے الگ ہوگئے ہیں تو آخر انھوں نے کوئی خرابی یا کمزور پہلو ضرور دیکھا ہوگا۔ (ابن کثیر، شوکانی)
Ayahs 3:73–74وَلَا تُؤْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِيْنَكُمْ۔۔ : یہ بھی ان گروہوں کا کلام ہے جن کا ذکر چلا آ رہا ہے اور اس سے ان کا مذہبی تعصب اور حسد ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ اپنے متبعین کو تاکید کرتے رہتے ہیں : (وَلَا تُؤْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِيْنَكُمْ) امام طبری نے اس کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ اپنے ہم مشرب کے سوا کسی کی بات پر یقین نہ کرو، نہ یہ تسلیم کرو کہ تمہاری طرح کسی اور کو بھی نبوت دی جاسکتی ہے اور نہ یہ مانو کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے حضور جا کر تم پر کوئی حجت قائم کرسکیں گے۔ اس صورت میں (قُلْ اِنَّ الْهُدٰى ھُدَى اللّٰهِ) جملہ معترضہ ہوگا اور اس کا ربط (قُلْ اِنَّ الْهُدٰى ھُدَى اللّٰهِ) کے ساتھ ہوگا۔ (ابن کثیر، ابن جریر) یہاں تک ان کی دینی خیانت اور مذہبی تعصب کا بیان تھا، اب اگلی آیت میں ان کی مالی خیانت اور مسلمانوں سے بغض کا بیان ہے۔ (رازی)
Ayah 3:75اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ يُّؤَدِّهٖٓ اِلَيْكَ ۚ: اللہ تعالیٰ کا انصاف ملاحظہ فرمائیں کہ اہل کتاب کی مذمت کے دوران بھی اگر ان کے کچھ لوگوں میں کوئی خوبی تھی تو اس کا اعتراف فرمایا ہے، مذمت صرف ان کی فرمائی ہے جو اس کے حق دار تھے۔ ایک خزانہ امانت ادا کردینے والوں کی بہترین مثال صحیح بخاری میں مذکور وہ تفصیلی واقعہ ہے جس میں بنی اسرائیل کے ایک شخص نے دوسرے اسرائیلی سے ایک ہزار دینار قرض مانگا، پھر پہنچانے کے لیے کشتی نہ ملنے پر لکڑی میں ڈال کر سمندر کے حوالے کردیا، پھر بعد میں خود بھی لے کر حاضر ہوا۔ مگر دوسرے نے بھی امانت کا مظاہرہ کیا اور بتایا کہ مجھے تمہاری طرف سے لکڑی میں بھیجی ہوئی رقم مل گئی تھی۔ [ بخاری، الکفالۃ، باب الکفالۃ فی القرض۔۔ : 2291 ]
لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْاُمِّيّٖنَ سَبِيْلٌ ۚ: سر پر کھڑا رہنے کے بغیر ایک دینار بھی ادا نہ کرنے کی وجہ ان کے کہنے کے مطابق یہ ہے کہ اُمّی (عرب) لوگوں کا مال کھا جانے میں ہم پر کوئی گرفت نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھ رہے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کبھی امانت میں خیانت کا حکم نہیں دیا، خواہ وہ اسرائیلی ہو یا عرب، بلکہ اسلام نے تو کسی ذمی کے مال کو بھی بلا اجازت لینا جائز قرار نہیں دیا اور کسی حربی کافر کے مال کو بھی خیانت سے کھانے کی اجازت نہیں دی، چناچہ فرمایا : (اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَھْلِھَا ۙ) [ النساء : 58 ]”بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کو ادا کرو۔“ افسوس کہ یہود کی طرح بعض مسلمان بھی کفار کے ممالک میں سود کے لین دین کے لیے کہتے ہیں کہ دار الحرب میں سود جائز ہے اور دار الحرب بھی اپنی مرضی کا بنایا ہوا ہے، خواہ ان سے جنگ ہو رہی ہو یا نہ۔
ہمارے ایک تاجر دوست نے اس آیت سے استدلال کیا کہ کوئی شخص کتنا بھی قرض واپس نہ کرنے والا ہو، اگر آپ بار بار اس سے تقاضا کرتے رہیں گے تو آخر کار آپ کے پیسے نکل آئیں گے، بشرطیکہ آپ نہ اس سے لڑیں، نہ اسے لڑنے کا موقع دیں، کیونکہ پھر بار بار تقاضا ممکن نہیں رہتا۔ اس نے کہا یہ میرا تجربہ ہے۔
Ayah 3:76”بَلٰي“ (کیوں نہیں) یعنی اس بدعہدی اور خیانت پر ضرور مؤاخذہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ اور محبوب شخص تو وہی ہے جو اللہ تعالیٰ اور بندوں سے کیا ہوا عہد پورا کرتا ہے (اس میں رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کا عہد بھی داخل ہے) اور پھر ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اس شریعت کا اتباع کرتا ہے جو آپ ﷺ لے کر مبعوث ہوئے۔
Ayah 3:77اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ۔۔ : عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بازار میں کچھ سامان تجارت لا کر رکھا، پھر اس پر قسم کھا کر کہا کہ میں نے اس سامان کے اتنے روپے دیے، حالانکہ اس نے اتنے روپے نہیں دیے تھے (یا کہا کہ مجھے اس سامان کے اتنے روپے مل رہے تھے، حالانکہ اسے اتنے روپے نہیں مل رہے تھے) قسم کا مقصد یہ تھا کہ کسی مسلمان کو اس میں پھنسا لے تو اس پر یہ آیت اتری : (اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَاَيْمَانِهِمْ ثَــمَنًا قَلِيْلًا) [ بخاری، البیوع، باب ما یکرہ من الحلف فی البیع : 2088، 4551 ] یعنی جو لوگ بدعہدی، خیانت اور جھوٹی قسمیں کھا کر لوگوں کا مال کھاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر ایسا ناراض ہوگا کہ نہ آخرت میں ان کا کچھ حصہ ہوگا، نہ اللہ ان سے کلام کرے گا، نہ انھیں (نظر رحمت سے) دیکھے گا، نہ انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس شخص نے پکی قسم کھائی، تاکہ اس کے ساتھ کسی مسلمان کا مال ہڑپ کرلے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر سخت غصے ہوگا۔“ تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں (زیر تفسیر) یہ آیت اتاری۔ [ بخاری، التفسیر،
باب (إن الذین یشترون بعہد اللہ۔۔ : 4549 ]
ابو ذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ”تین شخص ایسے ہیں جن سے نہ تو اللہ تعالیٰ کلام کرے گا، نہ قیامت کے دن ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا۔ (وہ یہ ہیں) اپنے کپڑے کو لٹکانے والا، احسان کر کے جتلانے والا اور اپنے سودے کو جھوٹی قسم کے ساتھ بیچنے والا۔“ [ مسلم، الإیمان، باب بیان غلظ تحریم الإسبال۔۔ : 106، عن أبی ذر ؓ ]
Ayah 3:78وَاِنَّ مِنْھُمْ لَفَرِيْقًا يَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَھُمْ بالْكِتٰبِ۔۔ : اس کا عطف پہلی آیت پر ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اوپر کی آیت بھی یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے (اگرچہ لفظ عام ہونے کی وجہ سے ایسے تمام لوگ اس میں داخل ہیں)۔ (رازی) اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ وہ تورات و انجیل میں تحریف کرتے ہیں اور اس میں (خصوصاً ان آیات میں جن میں رسول اللہ ﷺ کی صفت مذکور ہے) کچھ چیزیں اپنی طرف سے بڑھا کر اس انداز اور لہجہ سے پڑھتے ہیں کہ سننے والا ان کو اللہ کی طرف سے نازل شدہ سمجھ لیتا ہے، حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نازل نہیں ہوئیں، پھر یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے ان کی بےخوفی اور ڈھٹائی کی حد یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کے اللہ کی طرف سے ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں، حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں اور جان بوجھ کر اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں۔ افسوس، امت محمد ﷺ میں بھی بہت سے لوگ اسی راہ پر چل رہے ہیں اور وہ اپنی دنیاوی اغراض یا مذہبی فرقہ پرستی کی وجہ سے قرآن کریم کے ساتھ یہ معاملہ کبھی لفظی اور کبھی معنوی تحریف کے ساتھ کرتے ہیں، عوام بےچارے اسے اللہ کا حکم سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ مولوی صاحب یا ان کے کسی پیشوا کی بات ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے سچ فرمایا : ”یقیناً تم اپنے سے پہلے لوگوں کے نقش قدم پر چل پڑو گے۔“ [ بخاری، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب قول النبی ﷺ : لتتبعن سنن۔۔ : 7320 ]
Ayah 3:79مَا كَانَ لِبَشَرٍ۔۔ : تورات و انجیل میں اہل کتاب کی تحریف بیان کرنے کے بعد اشارہ فرمایا ہے کہ انجیل میں عیسیٰ ؑ کی خدائی کے دعویٰ کی خاطر بھی تحریف کی گئی ہے، ورنہ نبی تو بشر ہوتے ہیں اور وحی و نبوت ایسی صفات سے مشرف ہونے کے بعد ان کی طرف سے اپنے الٰہ (خدا) ہونے کا دعویٰ محال ہے۔ (رازی)
پھر جب نبی کا یہ حق نہیں کہ لوگ اس کی عبادت کریں تو دوسرے مشائخ اور ائمہ اس مرتبے پر کیسے فائز ہوسکتے ہیں اور انھیں یہ حق کیسے حاصل ہوگیا کہ اپنے مریدوں کو چوبیس گھنٹے اپنی صورت آنکھوں اور ذہن کے سامنے رکھنے کا حکم دیں اور ان سے یہ عہد لیں کہ میری ہر بات تمہیں ماننا ہوگی، صحیح معلوم ہو یا غلط اور جب مصیبت پیش آئے تو ہمیں یاد کرو گے۔ بتائیے خدائی اور کیا ہوتی ہے ؟ نبی ہونے کی حیثیت سے انبیاء کی پیروی اور ان کا ہر حکم ماننا واجب ہوتا ہے، مشائخ اور ائمہ تو واجب الاتباع بھی نہیں ہوتے۔
كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ : اس سے معلوم ہوا کہ عبد المسیح یا عبد الرسول یا عبد المصطفی نام رکھنا جائز نہیں۔
”اَلرَّبَّانِیُّ“ لفظ ”رب“ پر الف نون بڑھا کر یاء نسبت کی لگا دی گئی ہے اور اس کے معنی عالم باعمل کے ہیں۔ مبرّد فرماتے ہیں کہ یہ ”رَبَّہُ یَرُبُّہُ فَہُوَ رَبَّانُ“ ہے، یعنی صیغہ صفت۔ ”رَبَّانُ“ کے ساتھ ”یاء“ ملائی گئی ہے۔ (فتح البیان) صحیح بخاری میں ہے کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا، آیت : (كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ) کا معنی ہے حکماء، فقہاء بنو اور کہا : ”کہا جاتا ہے ”الربانی“ وہ ہے جو علم کی بڑی باتوں سے پہلے اس کی چھوٹی باتوں کے ساتھ لوگوں کی تربیت کرے۔ [ بخاری، العلم، باب العلم قبل القول والعمل۔۔ ، بعد ح : 67]
بِمَا كُنْتُمْ : اس میں ”باء“ برائے سببیت ہے، چونکہ تم تعلیم و دراست کا مشغلہ رکھتے ہو، اس لیے تمہیں عالم باعمل اور اللہ کے عبادت گزار بندے بننا چاہیے۔ (بیضاوی)
كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ : شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”ہاں، تم کو (اے اہل کتاب !) یہ کہنا ہے کہ تم میں جو آگے دین داری تھی، یعنی کتاب کا پڑھنا اور سکھانا، وہ اب نہیں رہی۔ اب میری صحبت میں پھر وہی کمال حاصل کرو۔“ (موضح) اور یہ بات اب قرآن کریم کے پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے ہی سے حاصل ہوسکتی ہے۔
کسی شخص میں اگر علم اور کتب الٰہیہ کے پڑھنے پڑھانے سے اللہ تعالیٰ کی بندگی کی خصلت پیدا نہیں ہوتی تو یہ مشغلہ وقت ضائع کرنا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے ایسے علم سے پناہ مانگی ہے، آپ دعا کیا کرتے تھے : (اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ عِلْمٍ لَّا یَنْفَعُ) [ مسلم، الذکر والدعاء، باب فی الأدعیۃ : 2722 ] ”اے اللہ ! میں ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو نفع نہ دے۔“ (فتح البیان)
Ayah 3:80وَلَا يَاْمُرَكُمْ۔۔ : اور نہ نبی کا یہ حق ہے کہ تمہیں اس بات کا حکم دے کہ تم فرشتوں اور نبیوں کو رب بنا لو۔ یہ کام تو صریح کفر ہے، پھر ایک پیغمبر تمہارے مسلمان ہونے کے بعد تمہیں کفر کا حکم کیسے دے سکتا ہے ؟
3 اس آیت میں یہود و نصاریٰ کے طرز عمل پر چوٹ ہے، جنھوں نے انبیاء اور فرشتوں کی تعظیم میں اس قدر غلو کیا کہ ان کو رب تعالیٰ کے مقام پر کھڑا کردیا۔ انبیاء اور صالحین کی قبروں پر عمارتیں بنا کر ان میں ان کی تصویریں بنا ڈالیں۔ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ ؓ نے ایک کنیسہ (گرجے) کا ذکر کیا، جو انھوں نے حبشہ میں دیکھا تھا، جس میں تصویریں تھیں۔ انھوں نے نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : ”ان لوگوں کا حال یہ تھا کہ جب ان میں کوئی نیک آدمی ہوتا اور وہ فوت ہوجاتا تو وہ لوگ اس کی قبر پر مسجد بنا دیتے اور اس میں یہ تصویریں بنا دیتے، یہ لوگ قیامت کے دن اللہ کے ہاں ساری مخلوق سے بدتر ہوں گے۔“ [ بخاری، مناقب الأنصار، باب ھجرۃ الحبشۃ : 3873 ] اب آپ کو مسلمانوں کے ہر شہر اور تقریباً ہر محلے میں یہی نقشہ نظر آئے گا۔ جب کہ رسول اللہ ﷺ نے قبر کو چونا گچ کرنے، اس پر عمارت بنانے یا اس پر (مجاور بن کر) بیٹھنے سے منع فرمایا۔ [ مسلم، الجنائز، باب النھی عن تجصیص القبر والبناء علیہ : 970، عن جابر ؓ ] بلکہ آپ ﷺ نے علی ؓ کو حکم دیا کہ ہر تصویر کو مٹا دو اور ہر اونچی قبر کو برابر کر دو۔ [ مسلم، الجنائز، باب الأمر بتسویۃ القبر : 969 ]
استاذ محمد عبدہ ؓ لکھتے ہیں کہ اس آیت : (ۭ اَيَاْمُرُكُمْ بالْكُفْرِ) سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی نبی یا فرشتے کی پرستش صریح کفر ہے اور کوئی ایک تعلیم یا فلسفہ، جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی بندگی سکھائے یا اللہ کے کسی نبی یا بزرگ کو رب تعالیٰ کے مقام پر بٹھائے، وہ ہرگز اللہ تعالیٰ یا اس کے نبی کی تعلیم نہیں ہوسکتی۔ ”اَيَاْمُرُكُمْ“ میں استفہام انکاری ہے، یعنی یہ ممکن ہی نہیں، کیونکہ انبیاء تو لوگوں کو عبادتِ الٰہی کی تعلیم دینے اور مسلمان بنانے کے لیے مبعوث ہوتے ہیں نہ کہ الٹا کافر بنانے کے لیے۔ (قرطبی، ابن کثیر)