Ayah 3:121وَاِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَھْلِكَ۔۔ : یہاں سے غزوۂ احد کا بیان ہے۔ غزوۂ بدر میں ذلت آمیز شکست، ستر آدمی قتل اور ستر قید ہونے کے بعد مشرکین نے جوش انتقام میں مدینہ پر حملہ آور ہونے کا منصوبہ بنایا اور ارد گرد سے مختلف قبائل کو جمع کر کے تین ہزار کا مسلح لشکر لیا اور جبل احد کے قریب آکر ٹھہر گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ ؓ سے مشورہ کیا۔ بعض نے مدینہ میں رہ کر لڑنے کا مشورہ دیا، جب کہ بعض پرجوش نوجوانوں نے، جو بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے، میدان میں نکل کر لڑنے پر اصرار کیا۔ آپ ان کی رائے کے مطابق ایک ہزار کی جمعیت لے کر باہر نکلے۔ مقام ”شوط“ پر عبداللہ بن ابی نے مسلمانوں کو دھوکا دیا اور اپنے تین سو ساتھیوں کے ساتھ لوٹ آیا۔ اس سے بعض مسلمانوں کے حوصلے بھی پست ہوگئے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی بخشی۔ رسول اللہ ﷺ سات سو صحابہ ؓ کی یہ جمعیت لے کر آگے بڑھے اور احد کے قریب وادی میں فوج کو آراستہ کیا، جس کی طرف قرآن نے (تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِيْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ) میں اشارہ کیا ہے۔ اسلامی فوج کی پشت پر جبل احد تھا اور ایک جانب ٹیلے پر عبداللہ بن جبیر ؓ کی سرکردگی میں پچاس تیر اندازوں کا دستہ متعین تھا، نیز آپ ﷺ نے انھیں حکم دیا تھا کہ اگر تم دیکھو کہ پرندے ہمارے جسموں کو نوچ رہے ہیں، تو پھر بھی اس جگہ کو نہ چھوڑنا، یہاں تک کہ میں تمہیں پیغام بھیجوں اور اگر تم دیکھو کہ ہم نے کفار کو شکست دے دی ہے اور انھیں پامال کردیا ہے، پھر بھی اس جگہ کو نہ چھوڑنا، یہاں تک کہ میں پیغام بھیجوں۔ مگر ان میں سے اکثر لوگ کفار کو پسپا ہوتے دیکھ کر نیچے اتر آئے اور اس گھاٹی کو چھوڑ دیا جس سے مشرکین کو عقب سے حملہ کرنے کا موقع مل گیا۔ اس اچانک حملے سے مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے۔ رسول اللہ ﷺ اور چند صحابہ کرام ؓ آپ کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ کا دانت مبارک شہید ہوگیا، سر اور پیشانی مبارک بھی زخمی ہوگئے۔ آخر کار صحابہ آپ ﷺ کے گرد دوبارہ جمع ہوئے، جس سے میدان جنگ کا نقشہ بدل گیا اور دشمن کو ناکام ہو کر لوٹ جانا پڑا۔ یہ شوال 3 ھ کا واقعہ ہے۔ ان آیات میں جنگ کے بعض واقعات کی طرف اشارے آ رہے ہیں۔ (ابن کثیر)
Ayahs 3:122–123اِذْ ھَمَّتْ طَّاۗىِٕفَتٰنِ۔۔ : ان دو جماعتوں سے مراد انصار کے دو قبیلے بنو سلمہ اور بنو حارثہ ہیں (جو عبداللہ بن ابی کی واپسی دیکھ کر دل شکستہ ہوگئے اور انھوں نے واپس آنے کا ارادہ کرلیا تھا۔) [ بخاری، التفسیر، باب (إذ ھمت الطائفتان۔۔) : 4558 ]
آیت 123 : وانتم اذلۃ : اس لفظ سے مسلمانوں کی قلت تعداد اور ضعف حال کی طرف اشارہ ہے۔ مقام بدر مدینہ سے قریباً بیس میل جنوب مغرب کی طرف واقع ہے۔ غزوۂ بدر بروز جمعہ 27 رمضان المبارک 2 ھ (13 مارچ 624 ء) کو پیش آیا۔ اس آیت میں جنگ احد میں شکست کے اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے معرکۂ بدر کے واقعات پر غور و فکر کی دعوت اور آئندہ ثابت قدم رہنے کے لیے تقویٰ کی تعلیم دی ہے۔ جنگ بدر کی تفصیل کے لیے سورة انفال (41) ملاحظہ کیجیے۔ (شوکانی۔ ابن کثیر)
Ayahs 3:124–127اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ : اس کا تعلق یا تو جنگ بدر سے ہے یا جنگ احد سے۔ امام طبری نے پہلی بات کو ترجیح دی ہے، یعنی جب کفار کی تیاری اور کثرت تعداد کو دیکھ کر مسلمانوں کے دلوں میں تشویش پیدا ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرشتوں کی مدد کا ذکر کر کے انھیں تسلی دی۔ چناچہ بدر میں فرشتے نازل ہوئے۔ بدر میں فرشتوں کے نزول کی کیفیت کے لیے دیکھیے سورة انفال (9) (ابن کثیر۔ شوکانی) بدر کے دن فرشتوں کی تعداد سورة انفال میں ایک ہزار ذکر ہوئی ہے، جبکہ یہاں تین ہزار اور پانچ ہزار کا ذکر ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ پہلے ایک ہزار کا وعدہ ہوا، پھر تین ہزار اور پھر پانچ ہزار کی بشارت ہوئی، ان میں آپس میں کوئی تعارض نہیں۔ (ابن کثیر)
بعض کے نزدیک اس وعدے کا تعلق جنگ احد سے ہے اور انھوں نے کہا ہے، چونکہ مسلمانوں نے جنگ احد میں توکل اور صبر سے کام نہ لیا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے مدد کو روک لیا، ورنہ ظاہر ہے کہ اگر فرشتے نازل ہوتے تو مسلمان شکست نہ کھاتے۔ (ابن جریر)
Ayahs 3:128–129لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ۔۔ : اس آیت میں پیغمبر ﷺ سے فرمایا کہ بندے کو اختیار نہیں، ہر قسم کے اختیارات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ (موضح)
بئرِ معونہ پر جن قبائل نے آپ ﷺ کے ستر صحابہ کو دھوکے سے قتل کیا تھا، ان کے خلاف اور جنگ احد میں مشرکین کی طرف سے جو لوگ پیش پیش تھے، ان کے خلاف رسول اللہ ﷺ نے نام لے لے کر دعائے قنوت شروع کی۔ بئر معونہ والا واقعہ بخاری میں موجود ہے۔ [ بخاری، المغازی، باب غزوۃ الرجیع۔۔
الخ : 4086 ]
عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز فجر کی دوسری رکعت میں رکوع کے بعد سر اٹھاتے تو ”سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ رَبَّنَا وَ لَکَ الْحَمْدُ“ کے بعد یہ دعا کیا کرتے : ”اے اللہ ! فلاں، فلاں اور فلاں پر لعنت فرما۔“ چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ) ”تیرے اختیار میں اس معاملے سے کچھ بھی نہیں۔“ [ بخاری، التفسیر، باب لیس لک من الامر شئ : 4069 ]
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو جن کا نام لے کر آپ لعنت فرماتے تھے، توبہ کی توفیق عطا فرمائی اور وہ مسلمان ہوگئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مختار کل اور عالم الغیب ذات صرف اللہ وحدہٗ لا شریک لہ ہی ہے، ورنہ آپ اپنے عزیز چچا کو ضرور مسلمان کرلیتے اور احد اور بئر معونہ میں ظلم کرنے والوں کو ضرور ملعون کروا لیتے۔
2 ان آیات اور ان احادیث سے معلوم ہوا کہ قنوت نازلہ میں کسی کافر کا نام لے کر لعنت کرنا جائز نہیں، کیا خبر اللہ تعالیٰ اسے توبہ کی توفیق بخش دے۔ ہاں، عام کفار پر لعنت درست ہے اور یہ رسول اللہ ﷺ سے بھی ثابت ہے۔
Ayah 3:130يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْ كُلُوا الرِّبٰٓوا : شاید سود کا ذکر یہاں (جنگ احد کے تذکرے میں) اس لیے فرمایا کہ اوپر (آیت 122 میں) مذکور ہوا جہاد میں نامردی کا اور سود کھانے سے نامردی آتی ہے دو سبب سے، ایک یہ کہ مال حرام کھانے سے توفیق اطاعت کم ہوتی ہے اور بڑی اطاعت جہاد ہے اور دوسرے یہ کہ سود لینا کمال بخل ہے۔ چاہیے تھا کہ اپنا مال جتنا دیا تھا لے لیتا، بیچ میں کسی کا کام نکل جاتا، یہ بھی مفت نہ چھوڑے، اس کا جدا بدلہ چاہے، تو جس کو مال پر اتنا بخل ہو وہ جان کب دینا چاہے گا۔ (موضح)
پھر انصار کے یہود کے ساتھ سودی لین دین کے تعلقات تھے اور احد میں منافقین یہود کی وجہ سے نقصان پہنچا تھا، گویا اس کو حرام قرار دے کر ان تعلقات کو ختم کردیا۔
2 اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً ۠: اس سے بعض لوگوں نے سود مرکب کو حرام اور سود مفرد کو حلال ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ یہاں اس زمانے کے سود خوروں کی سنگ دلی بیان ہو رہی ہے، جو آج بھی موجود ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں بہت سے لوگ دوسروں کو سودی قرضے دیا کرتے، جب قرضے کی میعاد ختم ہوجاتی تو مقروض سے کہتے، قرض ادا کرو ورنہ سود میں اضافہ کرو۔ قرض ادا نہ کرنے کی صورت میں میعاد میں توسیع کردی جاتی اور سود کی مقدار میں اضافہ کردیا جاتا۔ اس طرح کچھ عرصے کے بعد سود کی مقدار اصل زر سے بھی کئی گنا زیادہ ہوجاتی اور یہ سود تجارتی اور غیر تجارتی دونوں طرح کا ہوتا تھا، جیسا کہ اس آیت کی تفسیر کے تحت تابعین نے تصریح کی ہے۔ سودی کاروبار کی اس بھیانک صورت کی طرف قرآن نے (اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً ۠) کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے، ورنہ یہ مطلب نہیں کہ مرکب سود حرام اور سادہ جائز ہے۔ اسلام میں ہر قسم کا سود حرام ہے، صرف قرض کی ایک صورت جائز ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ) [ البقرۃ : 279 ] ”اور اگر تم توبہ کرلو تو تمہیں اپنے اصل مال لینے کی اجازت ہے، نہ تم ظلم کرو گے اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔“
Ayah 3:131وَاتَّقُوا النَّارَ۔۔ : اس آیت میں سود خوروں کو اس آگ سے ڈرایا گیا ہے جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا سود لینا اور دینا مسلمان کا کام نہیں۔ جو شخص یہ کام کرتا ہے اور باز نہیں آتا اسے اس آگ کے لیے تیار رہنا چاہیے جو کفار کے لیے تیار کی گئی ہے۔ سورة بقرہ میں ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنگ کا اعلان کان کھول کر سننے کا حکم ہے۔ (قرطبی)
Ayah 3:132وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امید وار تو وہ شخص ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا فرماں بردار ہو۔ سود کھانا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید رکھنا دو متضاد چیزیں ہیں۔ آیت کے الفاظ عام ہونے کی وجہ سے اس میں ہر نافرمان کے لیے بھی عتاب موجود ہے۔ (رازی)
Ayah 3:133وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ : اہل ایمان کو ان اعمال صالحہ کی طرف جلدی کرنی چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا سبب بنتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”نیک اعمال سر انجام دینے میں جلدی کرلو، ایسے فتنوں کے آنے سے پہلے پہلے جو اندھیری رات کے مختلف ٹکڑوں کی طرح (یکے بعد دیگرے) رونما ہوں گے۔ صبح کو آدمی مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوگا اور شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر، وہ اپنے دین کو دنیا کے معمولی سامان کے عوض بیچ دے گا۔“ [ مسلم،
الإیمان، باب الحث علی المبادرۃ۔۔ : 118، عن أبی ہریرۃ ؓ ]
2 وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ۔۔ : یعنی جس طرح سود خور کافر کے لیے دوزخ تیار کی گئی ہے، اسی طرح فرماں بردار متقی کے لیے جنت تیار کی گئی ہے اور پھر جنت کے متعلق (عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ۙ) فرما کر اس کی وسعت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا : ”اے محمد ! یہ بتائیں کہ جنت کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے تو آگ کہاں ہے ؟“ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ”یہ بتاؤ کہ پہلے رات تھی، پھر نہیں رہی تو کہاں چلی گئی ؟“ اس نے کہا کہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ [ صحیح ابن حبان : 103۔ مستدرک حاکم : 1؍92، ح : 103 و
صححہ و وافقہ الذہبی ]
حقیقت یہ ہے کہ جنت اور جہنم کے جو اوصاف قرآن و حدیث میں جس طرح مذکور ہیں اسی طرح ان پر ایمان رکھنا ضروری ہے، خواہ ہماری عقل و ذہن کی رسائی ان تک نہ ہو، اور یہی نہیں، آخرت کے تمام معاملات کا یہی حال ہے۔
Ayah 3:134الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ۔۔ : ان آیات میں اہل جنت کی صفات کا ذکر ہے، چناچہ ان کی پہلی صفت یہ ہے کہ خوش حالی اور تنگ دستی ہر حالت میں وہ اپنی استطاعت کے مطابق خرچ کرتے رہتے ہیں اور نیک کاموں اور رضائے الٰہی کے لیے مال صرف کرنے سے انھیں کوئی چیز غافل نہیں کرتی۔ (ابن کثیر)
وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظ۔۔ : ان کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ غصہ سے مغلوب ہونے کے بجائے اس پر قابو پالیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”پہلوان وہ نہیں جو پچھاڑ دینے والا ہو، بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔“ [ بخاری، الأدب، باب الحذر من الغضب : 6114،
عن أبی ہریرۃ ؓ ]
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے آپ ﷺ سے عرض کی : ”مجھے وصیت فرمائیے۔“ آپ نے فرمایا : (لاَ تَغْضَبْ) ”غصہ مت کر۔“ اس نے کئی دفعہ درخواست دہرائی، آپ نے یہی فرمایا : (لاَ تَغْضَبْ) ”غصہ مت کر۔“ [ بخاری، الأدب، باب الحذر من الغضب : 6116۔ ترمذی : 020 ]
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ اجر والا گھونٹ، غصے کا گھونٹ ہے، جو آدمی اللہ کے چہرے کی طلب میں پی لیتا ہے۔“ [ احمد : 2؍128، ح : 6119۔ ابن ماجہ، الزھد، باب الزھد : 4189 ]
3 َ وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ ۭ : یہ دراصل غصہ پی جانے کا لازمی تقاضا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تین چیزوں پر میں قسم کھاتا ہوں، صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ معاف کردینے سے بندے کی عزت میں اضافہ ہی کرتا ہے اور جو اللہ کے لیے نیچا ہوتا ہے اللہ اسے اونچا کردیتا ہے۔“ [ مسلم، البر والصلۃ، باب
استحباب العفو : 2588۔ عن أبی ہریرۃ ؓ ] اور یہ احسان کا مقام ہے اور اللہ محسنین سے محبت رکھتا ہے۔
Ayah 3:135وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً : یعنی اگر بشری تقاضے کے تحت ان سے کسی گناہ کا ارتکاب ہوجاتا ہے تو وہ فوراً اللہ تعالیٰ کو یاد کر کے توبہ و استغفار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے معافی چاہتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ”ایک آدمی نے گناہ کیا تو کہا : ”اے میرے رب ! میں نے ایک گناہ کیا ہے، تو مجھے وہ بخش دے۔“ تو اللہ عزوجل نے فرمایا : ”میرے بندے نے ایک گناہ کیا تو اس نے جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور اس پر پکڑتا ہے، سو میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔“ پھر اس نے ایک اور گناہ کیا اور کہا : ”اے میرے رب ! میں نے ایک اور گناہ کیا ہے، تو اسے بخش دے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ”میرے بندے نے جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور اس پر پکڑتا ہے، (فرشتو ! گواہ رہو کہ) میں نے اپنے بندے کو بخش دیا، پھر بندہ رکا رہا جتنا اللہ نے چاہا پھر اس نے ایک اور گناہ کیا تو کہا اے میرے رب ! میں نے ایک اور گناہ کیا ہے، تو اسے بخش دے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے بندے نے جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور اس پر پکڑتا ہے (فرشتوں گواہ رہو کہ) میں نے اپنے بندے کو بخش دیا سو وہ جو چاہے کرے۔“ [ بخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ : (یریدون أن یبدلوا کلام اللہ) : 7507۔ مسلم، التوبۃ، باب قبول التوبۃ۔۔ : 2758 ]
2 وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلٰي مَا فَعَلُوْا : اصرار کے معنی ہیں اڑ جانا اور بےپروائی سے گناہ کرتے جانا۔ نہ ان پر ندامت کا اظہار کرنا اور نہ توبہ کرنا۔ ورنہ اگر کسی شخص سے سچے دل سے توبہ کرنے کے بعد گناہ سرزد بھی ہوجاتا ہے تو اسے اصرار نہیں کہتے، جیسا کہ پچھلے فائدے میں گزرا ہے۔ ”وہم یعلمون“ یعنی کسی کام کے گناہ ہونے کا علم ہونے پر اس پر اصرار نہیں کرتے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نساء : (17، 18)
Ayah 3:136اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (25)
Ayah 3:137قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ۔۔ : اوپر کی آیات میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر اور ان کی نافرمانی سے توبہ پر بخشش اور جنت کا وعدہ فرمایا، اب یہاں اطاعت اور توبہ کی ترغیب کے لیے پہلی امتوں کی تاریخ پر غور و فکر کا حکم دیا ہے، تاکہ ان میں سے مطیع اور نافرمان کے احوال پر غور کر کے انسان اپنے لیے سامان عبرت حاصل کرے۔ سُنَنٌ کا مفرد ”سُنَّۃٌ“ ہے اس کے معنی طریق مستقیم اور اس نمونے کے ہیں جس کی اتباع کی جاتی ہے۔ یہ ”فُعْلَۃٌ“ بمعنی ”مَفْعُوْلَۃٌ“ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فعل چونکہ مسلمان کے لیے نمونہ اور طریق مستقیم ہوتا ہے، اس لیے اسے سنت کہتے ہیں۔
جنگ احد میں جب ستر مسلمان شہید اور کچھ زخمی ہوئے تو اس شکست سے مسلمانوں کو قدرتی طور پر بہت تکلیف ہوئی۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے تسلی دی کہ اس شکست سے افسردہ خاطر نہیں ہونا چاہیے کہ یہ بات تو پہلی امتوں اور انبیاء کے متبعین میں بھی ہوتی چلی آئی ہے کہ ابتدا میں ان کو تکا لیف سے دو چار ہونا پڑا اور بالآخر جھٹلانے والے ذلیل و خوار ہوئے۔ (ابن کثیر)
Ayah 3:138ھٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ۔۔ : یعنی قرآن میں اس کا واضح ثبوت موجود ہے کہ پہلی امتوں کا ان کے دشمنوں کے ساتھ مقابلے میں کیا حال ہوا۔ چناچہ قرآن نے جا بجا متقین کے نیک انجام اور جھٹلانے والوں کی ہلاکت کا تذکرہ فرمایا ہے۔
Ayah 3:139وَلَا تَهِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا۔۔ : اوپر کی آیت ”ۭقَدْ خَلَتْ“ اس بشارت کی تمہید تھی اور ”وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ“ کے لیے ایک طرح کی دلیل کہ پہلی امتوں کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ اہل باطل کو اگرچہ غلبہ حاصل ہوا مگر عارضی، آخر کار وہ تباہ و برباد ہوگئے۔ یہی حال تمہارا ہے، اس لیے کسی قسم کے ”وَھْنٌ“ (کمزوری) سے کام نہ لو، غم نہ کرو، اگر تم مومن ہو تو تمھی غالب رہو گے۔ چناچہ اس کے بعد ہر لڑائی میں مسلمان غالب ہوتے رہے۔
Ayahs 3:140–141اِنْ يَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ یعنی اگر ”احد“ کے دن تمہیں مشرکین کے ہاتھوں نقصان پہنچا ہے تو تم بھی بدر کے دن انھیں اسی قسم کا نقصان پہنچا چکے ہو اس لیے یہ زیادہ پریشانی کی بات نہیں۔ ”اَلْحَرْبُ سِجَالٌ“ (لڑائی میں باریاں ہوتی ہیں) جب بھی دو گروہوں میں جنگ ہوئی ہے تو کبھی ایک کا پلڑا بھاری رہا ہے، کبھی دوسرے کا۔
وَتِلْكَ الْاَيَّامُ : جنگ احد میں مسلمانوں کو سخت جانی نقصان پہنچا۔ یہود اور منافقین کے طعنے مزید دل دکھانے کا باعث بنے۔ منافق کہتے تھے کہ اگر آپ ﷺ سچے نبی ہوتے تو مسلمان یہ نقصان اور ہزیمت کی ذلت کیوں اٹھاتے وغیرہ۔ ان آیات میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ فتح و شکست تو ادلتی بدلتی چیز ہے، یہ حق اور ناحق کا معیار نہیں، آج اگر تم نے زخم کھایا ہے تو کل وہ جنگ بدر میں تمہارے ہاتھوں اسی قسم کا زخم کھاچکے ہیں اور خود اس جنگ کے شروع میں ان کے بہت سے آدمی مارے جا چکے ہیں، جیسا کہ اس آیت (اِذْ تَحُسُّوْنَھُمْ بِاِذْنِھٖ ۚ) [ آل عمران : 152 ] ”جب تم انھیں اس کے حکم سے کاٹ رہے تھے“ سے معلوم ہوتا ہے۔ تمہاری اس شکست میں بھی کئی حکمتیں پوشیدہ ہیں، ایک یہ کہ ایمان و اخلاص اور کفر و نفاق میں تمیز ہوگئی، مومن اور منافق الگ الگ ہوگئے، اگر ہمیشہ مسلمانوں کو فتح ہوتی تو منافقین کا نفاق ظاہر نہ ہوتا۔ دوسری مومنوں کو شہادت نصیب ہوئی، فرمایا (وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاۗءَ) جو اللہ کے ہاں بہت بڑا شرف ہے، کفار کی اس عارضی فتح کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ ظالموں اور مشرکوں کو پسند کرتا ہے، فرمایا : (ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ) ”اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔“ تیسری یہ کہ مومنوں کو خالص کرے، اگر ان میں کچھ کمی ہے تو دور کر دے، فرمایا : (وَلِيُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا)”اور تاکہ اللہ ان لوگوں کو خالص کر دے جو ایمان لائے“ اور چوتھی یہ کہ کفار کی طاقت کو ختم کرنا مقصود ہے، (وَيَمْحَقَ الْكٰفِرِيْنَ) اس طرح کہ وہ اپنی عارضی فتح پر مغرور ہو کر پھر لڑنے آئیں گے اور اس وقت ان کی وہ سرکوبی ہوگی کہ دوبارہ اس طرف رخ کرنے کا نام نہیں لیں گے۔ چناچہ غزوۂ احزاب کے موقع پر ایسا ہی ہوا کہ اس کے بعد کفار نے دفاعی جنگیں تو لڑیں مگر خود حملے کی جرأت نہ کرسکے۔ (رازی۔ شوکانی)
Ayah 3:142وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا۔۔ : بعض سلف نے اس کا معنی کیا ہے ابھی تک اللہ نے ظاہر نہیں کیا“ ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تو ماضی، حال اور مستقبل ہر بات کا علم ہے، اس لیے یہ ترجمہ کہ ”ابھی تک اللہ نے نہیں جانا۔“ درست نہیں، مگر ”عَلِمَ یَعْلَمُ“ کا معنی تو جاننا ہی ہوتا ہے، ظاہر کرنے کے لیے تو ”لَمَّا یُظْہِرِ اللّٰہُ“ یا اس سے ملتے جلتے الفاظ ہونے چاہییں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات ازلی بھی ہیں اور کچھ حادث بھی ہیں، مثلاً پیدا کرنا، سننا اور جاننا وغیرہ، جیسا کہ فرمایا : (كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ) [ الرحمن : 29 ] ”ہر دن وہ ایک نئی شان میں ہے۔“ خالق تو وہ ازل سے ہے، مگر جب وہ کوئی چیز پیدا کرے گا تو اس چیز کی خلق اس وقت وجود میں آئے گی۔ اسی طرح آیت : (قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا) [ المجادلۃ : 1 ] ”یقیناً اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑ رہی تھی“ اس عورت کے جھگڑے کے بعد ہی واقعاتی سماع وجود میں آیا، اسی طرح جہاد کرنے کا واقعاتی علم تو جہاد کے واقع ہونے کے بعد ہی ہوگا۔ مقصد یہ کہ ابھی تک اللہ تعالیٰ نے اس چیز کا وقوع میں آنا نہیں جانا کہ تم میں سے کس نے جہاد کیا ہے۔ ”وَيَعْلَمَ الصّٰبِرِيْن“ میں میم ”لام کے“ کی وجہ سے منصوب ہے، جو یہاں محذوف ہے اس لیے ترجمہ کیا ہے ”اور“ تاکہ وہ صبر کرنے والوں کو جان لے۔“ خلاصہ یہ ہے کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ ایسی آزمائش کے بغیر ہی تم کو جنت میں اعلیٰ مراتب مل جائیں گے ؟ مطلب یہ کہ جب تک اس قسم کی آزمائشوں میں پورے نہیں اترو گے جنت میں اعلیٰ مراتب حاصل نہیں ہوسکتے۔
Ayah 3:143وَلَقَدْ كُنْتُمْ تَـمَنَّوْنَ الْمَوْتَ : یہاں موت کا معنی جنگ یا شہادت ہے۔ (بغوی) جن لوگوں کو جنگ بدر میں حاضری کا موقع نہیں ملا تھا وہ تمنا کیا کرتے تھے کہ دشمن سے مقابلے کا موقع ملے تو ہم بھی شہداء بدر کا درجہ حاصل کرلیں، مگر جب جنگ احد میں موقع ملا تو دشمن کے اچانک حملے کی وجہ سے ثابت قدم نہ رہ سکے اور بعض بھاگ نکلے۔ اس آیت میں صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تمہاری تمنا کے مطابق اب یہ موقع آیا تو تمہیں چاہیے تھا کہ پوری جواں مردی سے دشمن کا مقابلہ کرتے اور پامردی کا ثبوت دیتے۔ عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کیا کرو، بلکہ اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگتے رہا کرو، ہاں، اگر دشمن سے مقابلہ ہوجائے تو پھر صبر کرو اور خوب جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔“ [ بخاری،
الجہاد والسیر، باب لا تمنوا لقاء العدو : 3025 ]
Ayah 3:144وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ : جنگ احد میں بعض صحابہ نے تو مرتبۂ شہادت حاصل کرلیا اور بعض میدان چھوڑ کر فرار ہونے لگے، رسول اللہ ﷺ بھی زخمی ہوگئے اور کسی شیطان نے آپ کی شہادت کی افواہ پھیلا دی، صحابہ کرام ؓ کے دل اس افواہ سے ٹوٹ گئے اور وہ ہمت ہار بیٹھے اور منافقین نے طعن و تشنیع کے نشتر چبھونے شروع کردیے کہ اگر محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ہوتے تو قتل کیوں ہوتے ؟ ! اس پر یہ آیات اتریں : (وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ) ”نہیں ہے محمد مگر ایک رسول۔“ اس میں حصر قلب ہے کہ محمد ﷺ کے متعلق تم نے جو سمجھا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہیں، یا اللہ تعالیٰ کے اختیارات کے مالک ہیں، ایسا نہیں، وہ محض اللہ کا پیغام پہنچانے والے ہیں۔ وہ قتل بھی ہوسکتے ہیں، فوت بھی ہوسکتے ہیں اور ان سے پہلے کئی رسول گزر چکے ہیں۔ کیا محمد رسول اللہ ﷺ کے قتل ہونے یا طبعی موت مرجانے سے تم اللہ کا دین چھوڑ بیٹھو گے ؟ تمہیں چاہیے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہو۔ (ابن کثیر۔ قرطبی)
شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”اور اشارتاً یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آپ ﷺ کی وفات پر بعض لوگ پھرجائیں گے۔ اسی طرح ہوا کہ بہت سے لوگ آپ ﷺ کے بعد مرتد ہوئے تو ابوبکر صدیق ؓ نے ان کو پھر مسلمان کیا اور بعضوں کو مارا۔“ (موضح)
2 عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ (جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو) ابوبکر صدیق ؓ اپنے گھر سے، جو ”اَلسُّنْح“ میں تھا، گھوڑے پر تشریف لائے، وہ گھوڑے سے اتر کر مسجد میں آگئے، لوگوں سے انھوں نے کوئی بات نہ کی، بلکہ سیدھے عائشہ (r) کے ہاں چلے گئے اور رسول اللہ ﷺ کا قصد کیا، اس وقت آپ یمنی دھاری دار چادر سے ڈھانپے ہوئے تھے۔ انھوں نے آپ ﷺ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا، پھر آپ پر جھک کر آپ کو بوسہ دیا، پھر رو پڑے اور کہنے لگے : ”میرے ماں باپ آپ پر قربان ! اے اللہ کے نبی ! اللہ آپ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا، جو موت آپ پر لکھی گئی تھی، وہ آپ فوت ہوچکے۔“ (بخاری) ابو سلمہ کہتے ہیں، مجھے ابن عباس ؓ نے بتایا کہ ابوبکر ؓ نکلے، عمر ؓ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے، تو فرمایا : ”بیٹھ جاؤ۔“ انھوں نے نہ مانا، پھر فرمایا : ”بیٹھ جاؤ۔“ وہ پھر بھی نہ مانے تو ابوبکر ؓ نے خطبہ پڑھا، اب لوگ ان کی طرف متوجہ ہوگئے اور عمر ؓ کو چھوڑ دیا۔ ابوبکر ؓ نے فرمایا : ”اما بعد ! تم میں سے جو محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو بیشک محمد ﷺ فوت ہوگئے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا تو بیشک اللہ زندہ ہے، کبھی فوت نہیں ہوگا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۭ) یہ مکمل آیت تلاوت کی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : ”اللہ کی قسم ! ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ لوگ جانتے ہی نہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے، یہاں تک کہ ابوبکر صدیق ؓ نے یہ آیت پڑھی تو لوگوں نے اسے ان سے لے لیا تو جسے سنو یہی آیت پڑھ رہا تھا۔“ سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ عمر ؓ نے فرمایا : ”اللہ کی قسم ! میں نے ابوبکر ؓ سے جب اس آیت کی تلاوت سنی تو میں کھڑے کا کھڑا رہ گیا، میرے پاؤں مجھے اٹھا نہیں رہے تھے، یہاں تک کہ میں گرگیا۔“ [ بخاری، المغازی، باب مرض النبی ﷺ ووفاتہ : 4452، 4453، 4454 ]
Ayah 3:145وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ : اس سے مقصود مسلمانوں کو جہاد پر ابھارنا اور ان کے ذہن میں یہ بات بٹھانا ہے کہ موت سے فرار کی راہ اختیار کرنے سے انسان موت کے پنجے سے نجات نہیں پاسکتا، اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی موت کا ایک وقت مقرر فرمایا ہے، جو آگے پیچھے نہیں ہوسکتا۔ (اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ) میں ”اِذْنٌ“ بمعنی علم ہے، یعنی ہر شخص کی موت کا وقت اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”اِذْنٌ“ بمعنی قضا و قدر ہو۔ الغرض ! تمہیں چاہیے کہ موت سے بھاگنے کی فکر چھوڑ کر بےجگری سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو اور اس جہاد سے تمہارا مقصود آخرت کا ثواب ہونا چاہیے، ورنہ اگر تم صرف دنیا کا ثواب، شہرت اور مال غنیمت وغیرہ ہی چاہو گے تو تمہیں صرف وہی ملے گا اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت پر اور آخرت سے محروم رہو گے۔ یہاں (كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا ۭ) سے مراد وہ کتاب ہے جو ”آجَالٌ“ (مقررہ اوقات) پر مشتمل ہے۔ بعض نے اس سے مراد لوح محفوظ لیا ہے۔ احادیث میں ہے : ”اللہ تعالیٰ نے قلم سے فرمایا : (اُکْتُبْ فَکَتَبَ مَا ھُوَ کَاءِنٌ) ”لکھ دے، تو قلم نے جو کچھ ہونے والا تھا، سب لکھ دیا۔“ [ أحمد : 5؍373، ح : 22791 ]
اس آیت میں اشارہ ہے کہ جنگ احد میں حاضر ہونے والے اپنی نیتوں کے اعتبار سے دو قسم کے تھے، بعض غنیمت کے طالب تھے اور بعض آخرت کے۔ یہ آیت گو خاص جہاد کے بارے میں نازل ہوئی ہے مگر حکم کے اعتبار سے عام ہے اور تمام اعمال کا مدار انسان کے ارادے اور نیت پر ہے۔ معلوم ہوا مقتول بھی موت کے مقررہ وقت پر مرتا ہے اور مقررہ وقت میں تبدیلی ناممکن ہے۔
Ayahs 3:146–148آیت 146 تا 148 : ربیون : یہ ”رِبِّیٌّ“ کی جمع ہے، جو ”رَبَّانِیٌّ“ کا ہم معنی ہے۔ (کشاف) ایک معنی اور بھی اہل علم نے کیا ہے کہ یہ ”رِبَّۃٌ“ کی طرف منسوب ہے، جس کا معنی کثیر جماعت ہے، یعنی ان کے ہمراہ بہت سی جماعتیں تھیں۔ (قرطبی)
”وَھْنٌ، ضُعْفٌ اور اِسْتِکَانَۃٌ“ یہ تینوں لفظ قریب المعنی ہیں، کمزوری کے معنی میں یہ بالترتیب واقع ہوتے ہیں۔ ”وَہْنٌ“ دل سے ہمت ہارنا، ”ضُعْفٌ“ عام کمزوری اور ”اِسْتِکَانَۃٌ“ دشمن کے سامنے عاجزی کا اظہار۔ ان تینوں آیتوں سے مقصود ان لوگوں پر عتاب اور تنبیہ ہے جو احد کے دن شکست کے آثار دیکھ کر ہمت ہار بیٹھے اور رسول اللہ ﷺ کی شہادت کی افواہ سن کر بالکل ہی پست ہوگئے، پس فرمایا کہ تم سے پہلے انبیاء کے متبعین گزر چکے ہیں، ان کی اتباع کرو اور اس قسم کی کمزوری نہ دکھاؤ۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)
یعنی ان لوگوں میں سے بہت سے ”رِبِّیُّوْنَ“ اپنے انبیاء کے ساتھ مل کر جہاد کرتے رہے، لیکن انھوں نے اپنی تعداد کی قلت اور بےسروسامانی کے باوجود کبھی ہمت نہیں ہاری اور نہ کبھی اپنے انبیاء کے وفات پا جانے یا شہید ہوجانے کی صورت میں وسوسوں میں مبتلا ہوئے، بلکہ ہمیشہ اور ہر حال میں صبر و استقلال سے کام لیتے رہے اور اللہ تعالیٰ سے اپنی کوتاہیوں پر عفو و درگزر کی درخواست کرتے رہے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیا و آخرت دونوں کے ثواب سے نواز دیا، بلکہ آخرت کے حسن ثواب سے اور احسان کا مرتبہ پالینے کی وجہ سے اپنی محبت بھی عطا فرمائی۔ (وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِـنِيْنَ)
Ayah 3:149يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تُطِيْعُوا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : احد کی عارضی سی شکست کے بعد کفار نے، جن میں منافقین، یہود و نصاریٰ اور مشرکین سبھی شامل تھے، مسلمانوں کے دلوں میں مختلف قسم کے شکوک و شبہات پیدا کر کے انھیں اسلام سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی، اس پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ کفار کے فریب میں مت آنا، ورنہ تم خسارے میں پڑجاؤ گے۔ یہ آیت بھی پچھلی آیت کے مضمون کو مکمل کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ دنیا میں سب سے بڑا خسارا یہ ہے کہ کوئی انسان اپنے دشمن کے سامنے ہتھیار ڈال دے اور آخرت کا خسارا ثواب سے محرومی اور عذاب میں گرفتاری ہے۔ پس خسارہ عام ہے۔
Ayah 3:150بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ ۚ : مولیٰ کا معنی مالک، مدد گار اور دوست وغیرہ ہے۔ یعنی تم کفار کی اطاعت تو اس لیے کرو گے کہ وہ تمہاری کچھ مدد کریں، مگر یہ سراسر جہالت ہے۔ تمہارا مالک، حامی و ناصر تو اللہ تعالیٰ ہے، اس پر بھروسا رکھو گے تو دنیا کی کوئی طاقت تمہارا بال بیکا نہیں کرسکتی۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے ”خَيْرُ النّٰصِرِيْنَ“ محاورۂ کلام کے اعتبار سے ہے، ورنہ یہ معنی نہیں ہیں کہ کچھ اور ناصرین بھی ہیں جن میں سے اللہ تعالیٰ سب سے بہتر ہے۔ (کبیر)
Ayah 3:151سَـنُلْقِيْ۔۔ : یہ آیت اپنے سیاق کے اعتبار سے اوپر کے بیان کو مکمل کر رہی ہے، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مختلف وجوہ سے جہاد کی ترغیب دی ہے اور کفار کے خوف کو دلوں سے نکالا ہے۔ یہاں فرمایا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھو گے اور اسی سے مدد مانگو گے تو اللہ تعالیٰ کفار کے دلوں میں تمہارا خوف ڈال دے گا، اس طرح تمہیں ان پر غلبہ حاصل ہوجائے گا، کیونکہ وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں، لہٰذا ”بِمَآ اَشْرَكُوْا“ میں باء برائے سببیت ہے۔ (قرطبی)
2 شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”مشرک اللہ تعالیٰ کے چور ہیں اور چور کے دل میں ڈر ہوتا ہے۔“ (موضح) چناچہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ سچا ہوا اور کافر احد میں باوجود غالب ہونے کے چپکے سے میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔ سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے کہ واپسی کے وقت راستے میں انھوں نے دوبارہ مدینہ پر حملے کا ارادہ کیا مگر مرعوب ہوگئے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”پانچ چیزوں میں مجھے پہلے انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایک ماہ کی مسافت پر دشمن کے دل میں میرا رعب ڈال کر میری مدد کی گئی ہے۔“ [ بخاری، التیمم، بابٌ : 3335۔ مسلم : 521، عن جابر بن عبد اللہ ؓ ] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کفار کے دل میں رعب ڈالنے کا وعدہ احد کے ساتھ خاص نہیں بلکہ عام ہے۔
3 اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کے ساتھ آپ کی امت، یعنی مسلمانوں کا رعب بھی مشرکوں پر ڈال دیا گیا ہے اور اس کی وجہ ان کا شرک ہے، گویا شرک کرنے والوں کا دل دوسروں کی ہیبت سے ڈرتا اور لرزتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مسلمانوں کی بڑی تعداد مشرکانہ عقائد و اعمال میں گرفتار ہوئی، تقریباً ہر شہر اور محلہ میں پختہ قبریں اور غیر اللہ کے آستانے بن گئے اور غیر اللہ سے استغاثہ اور مدد مانگنا شروع ہوگئے۔ تو وہی رعب جو شرک کی وجہ سے کفار کے دل میں تھا، ڈیڑھ ارب کے قریب تعداد ہونے کے باوجود مسلمانوں کے دلوں میں پڑگیا۔ ہاں، توحید والے اس رعب سے محفوظ ہیں اور قیامت تک کفار سے جہاد جاری رکھیں گے اور ان کا رعب کفار کے دلوں میں کفار کے مشرکانہ عقائد و اعمال کی وجہ سے رہے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَنْ یَّبْرَحَ ھٰذَا الدِّیْنُ قَاءِمًا یُقَاتِلُ عَلَیْہِ عِصَابَۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ) [ مسلم، الأمارۃ، باب قولہ ؓ : لا تزال من أمتی۔۔ : 1922، عن جابر بن سمرۃ ؓ ] ”یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا، مسلمانوں کی ایک جماعت اس پر لڑتی رہے گی، حتیٰ کہ قیامت قائم ہو۔“
Ayah 3:152وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗٓ۔۔ : جنگ احد میں پہلے پہل اللہ تعالیٰ کی مدد مسلمانوں کے شامل حال رہی اور وہ مشرکین کو اللہ کے حکم سے خوب کاٹتے رہے، حتیٰ کہ جب فتح کے آثار نظر آنے لگے اور مشرکین اور ان کی عورتوں نے بھاگنا شروع کردیا تو پچاس تیر انداز، جنھیں آپ ﷺ نے عبداللہ بن جبیر ؓ کی سرکردگی میں ایک پہاڑی پر متعین کیا تھا، تاکہ ادھر سے مشرک حملہ آور نہ ہوں، انھوں نے مال غنیمت دیکھ کر باہم جھگڑنا شروع کردیا۔ پچاس آدمیوں میں سے اکثر آپ ﷺ کے حکم کی نافرمانی کر کے اپنی جگہ چھوڑ کر مال غنیمت کی طرف دوڑ پڑے، اس سبب سے مشرکین کو عقب سے حملہ کرنے کا موقع مل گیا اور مسلمانوں کو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ اس آیت میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ (ابن کثیر)
جنگ کے بعد جب آپ ﷺ مدینہ واپس آئے تو بعض لوگ کہنے لگے کہ یہ مصیبت ہم پر کیسے آگئی، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے نصرت کا وعدہ فرمایا تھا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے تو اپنا وعدہ پورا کردیا تھا، پھر جو کچھ ہوا یہ تمہارے ہمت ہارنے اور آپس میں جھگڑنے اور تمہاری نافرمانی کا نتیجہ تھا۔ (قرطبی)
2 ثُمَّ صَرَفَكُمْ۔۔ : یعنی غلبہ کے بعد ان کے مقابلہ میں تمہیں پسپائی دلائی، تاکہ تمہاری آزمائش ہو کہ کون سچا مسلمان ہے اور کون کمزور ایمان والا اور جھوٹا۔ (قرطبی)
3 وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ ۭ : یعنی گو تم نے رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی اور جنگ سے فرار کی راہ اختیار کر کے نہایت سنگین جرم کا ارتکاب کیا تھا، جس کی تمہیں سخت سزا دی جاسکتی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارا سارا قصور معاف فرما دیا۔ اس میں صحابہ کرام ؓ کے اس شرف کا اظہار ہے جو ان کی کوتاہیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان پر فرمایا، یعنی ان کی غلطیوں کی وضاحت کر کے، تاکہ آئندہ ان کا اعادہ نہ کریں۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے معافی کا عام اعلان فرما دیا تو اب کسی کے لیے ان پر طعن و تشنیع کی کیا گنجائش رہ گئی۔ صحیح بخاری میں مذکور ہے کہ ایک شخص نے ابن عمر ؓ کے پاس عثمان ؓ پر بعض اعتراضات کیے، ایک ان میں سے یہ تھا کہ وہ احد کے دن فرار ہوگئے تھے، تو ابن عمر ؓ نے فرمایا : ”میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف فرما دیا۔“ [ بخاری، المغازی،
باب قول اللہ تعالیٰ (إن الذین تولوا منکم۔۔) : 4066 ]
Ayah 3:153اِذْ تُصْعِدُوْنَ۔۔ : یہ بھاگتے ہوئے مسلمانوں کی کیفیت کا ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ تمہاری پچھلی جماعت میں، جو ثابت قدم رہی تھی، تمہیں پکار رہے تھے کہ (اے اللہ کے بندو ! میری طرف آؤ، میں یہاں ہوں، مگر تم دور دوڑے جا رہے تھے اور کسی کو نہ مڑ کر دیکھتے تھے، نہ کسی کی سنتے تھے۔
فَاَثَابَكُمْ غَمًّـۢا بِغَمٍّ : یعنی تمہاری کوتاہی کے بدلے میں تمہیں غم پر غم پہنچایا، ایک شکست کا غم اور دوسرا رسول اللہ ﷺ کی شہادت کی افواہ کا صدمہ، جو پہلے غم سے زیادہ سخت تھا، پس ”بغم“ کے معنی ”عَلٰی غَمٍّ“ ہیں اور بعض نے باء کو سببیت کے لیے مانا ہے، یعنی آپ ﷺ کو مغموم کرنے کی وجہ سے تمہیں غم پہنچایا، مگر پہلا معنی زیادہ صحیح ہے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی)
لِّكَيْلَا تَحْزَنُوْا یعنی تمہیں دوہرے غم میں مبتلا کردیا، تاکہ نہ تو تمہیں مال غنیمت کے ہاتھ سے نکل جانے کا غم ہو اور نہ زخمی و شہید ہونے اور شکست کا غم ہو، کیونکہ متواتر غم خصوصاً بڑے غم کے آنے کے ساتھ پہلے غم ہلکے ہوجاتے ہیں اور انسان سختیاں برداشت کرنے کا عادی ہوجاتا ہے۔
Ayah 3:154ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ۔۔ : ان پے درپے صدموں کے بعد اللہ تعالیٰ نے میدان جنگ میں موجود مسلمانوں پر اپنا خاص فضل فرمایا کہ ان پر اونگھ مسلط کردی، جس سے انھیں امن و اطمینان حاصل ہوگیا۔ ابو طلحہ ؓ بیان کرتے ہیں : ”ہم پر اونگھ چھا گئی، جب کہ ہم احد کے دن اپنی صفوں میں کھڑے تھے، حالت یہ تھی کہ میری تلوار میرے ہاتھ سے گری جاتی تھی، میں اسے اٹھا لیتا تھا، وہ پھر گرجاتی تھی اور میں اسے پھر اٹھا لیتا تھا۔“ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ (أمنۃ نعاسًا) : 4562 ] ابو طلحہ ؓ ہی بیان فرماتے ہیں : ”میں نے احد کے دن اپنا سر بلند کیا اور لوگوں کو دیکھنے لگا تو (کیا دیکھتا ہوں کہ) ہر شخص اونگھ کی وجہ سے اپنے سر کو ڈھال کے نیچے جھکائے ہوئے ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کے اس قول کا مطلب ہے : (ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا) [ ترمذی، أبواب التفسیر، باب ومن سورة آل عمران : 3007 ]
2 ۙ وَطَاۗىِٕفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ : اس سے مراد منافقین اور ضعیف ایمان والے مسلمان ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں انھیں تو اپنی جانوں ہی کی فکر تھی۔ ابو طلحہ ؓ بیان فرماتے ہیں : ”دوسرا گروہ منافقین کا تھا، انھیں اپنی جانوں کے سوا اور کوئی دوسری فکر نہ تھی، وہ قوم میں سے سب سے زیادہ بزدل، سب سے زیادہ مرعوب اور حق کی حمایت سے سب سے زیادہ گریز کرنے والے تھے۔“ [ ترمذی، أبواب التفسیر، ، باب و من سورة آل عمران : 3008 ]
3 يَظُنُّوْنَ باللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ ۭ۔۔ : ”ِ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ ۭ“ یہ ”غیر الحق“ سے بدل ہے، یعنی وہ یہ گمان کر رہے تھے کہ دین اسلام اور اس کے حاملین بس اب ہلاک ہوگئے، مسلمانوں کی کبھی مدد نہیں ہوگی اور یہ دعوت حق پروان نہیں چڑھے گی۔
4 يَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَيْءٍ : یہ جملہ ”يَظُنُّوْنَ“ سے بدل ہے اور ”من الامر“ سے مراد فتح و نصرت ہے، یعنی بالکل مایوسی کا اظہار کرنے لگے اور یہ کہنا شروع کردیا کہ ہمیں کبھی فتح بھی نصیب ہوگی اور کچھ ملے گا بھی ؟ یا ”من الامر“ سے مراد معاملے کا فیصلہ ہے کہ اس معاملے میں ہماری بات تو مانی ہی نہیں گئی، ہمیں مجبوراً ساتھ دینا پڑا، ورنہ ہم تو شہر سے باہر نکل کر لڑنے کے حق میں نہیں تھے۔ بعض نے یہ معنی کیے ہیں کہ ہم تو مجبور محض ہیں، ہمارا تو کچھ بھی اختیار نہیں۔ (فتح القدیر)
5 مَّا قُتِلْنَا ھٰهُنَا۔۔ : مطلب یہ کہ اگر ہماری بات مان لی جاتی کہ شہر کے اندر رہ کر ہی جنگ لڑی جائے تو آج ہمارا یہ جانی نقصان نہ ہوتا، مگر ہماری کسی نے نہ سنی۔ یہ بات یا تو ان منافقین نے کہی جو جنگ میں شریک تھے، جیسا کہ زبیر ؓ فرماتے ہیں : ”اللہ کی قسم ! میں معتب بن بشیر، جو بنو عمرو بن عوف سے تھا، اس کی بات سن رہا تھا، جب کہ اونگھ مجھے ڈھانپ رہی تھی، میں خواب کی طرح اس کی بات سن رہا تھا، جب وہ کہہ رہا تھا، اگر اس معاملے میں ہمارا کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ کیے جاتے۔“ [ المختارۃ، ح : 864، 865 ] اسے ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں بھی حسن سند کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ بات ان منافقین نے کہی ہو جو عبداللہ بن ابی کے ساتھ مدینہ لوٹ آئے تھے، اس صورت میں ”ھٰھُنَا“ (یہاں) کا اشارہ مدینہ کے قریب احد کی طرف ہوگا۔ (قرطبی، شوکانی)
6 قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِيْ بُيُوْتِكُمْ۔۔ : اس سے ان کے خیال کی تردید مقصود ہے، یعنی اگر تم اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے تب بھی جن لوگوں کی قسمت میں قتل ہونا لکھا جا چکا تھا وہ ضرور اپنے گھروں سے نکلتے اور جہاں اب مارے گئے ہیں، وہیں مارے جاتے، کیونکہ اللہ کی تقدیر سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
7 وَلِيَبْتَلِيَ اللّٰهُ مَا فِيْ صُدُوْرِكُمْ۔۔ : یہ جملہ محذوف کی علت ہے، یعنی جنگ احد میں جو کچھ ہوا اور جن حالات سے مسلمان دوچار ہوئے، اس سے کئی اور حکمتوں کے ساتھ مقصود یہ بھی تھا کہ تمہارے دلوں کی حالت ظاہر ہوجائے اور تمہارے دل وساوس سے پاک ہوجائیں، یا یہ کہ منافقین کے دلوں کا نفاق باہر نکل آئے، چناچہ ایسا ہی ہوا اور احد کی لڑائی بگڑنے سے سارا بھانڈا پھوٹ گیا۔
Ayah 3:155اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَلَّوْا۔۔ : یعنی احد کے دن جو مسلمان میدان جنگ سے ہٹ گئے، وہ شیطان کے پھسلانے کے سبب ہٹے، مگر شیطان کو انھیں پھسلانے کا موقع انہی کے کچھ گزشتہ گناہوں کی وجہ سے ملا۔ جن میں سے بعض کا ایک گناہ یہ بھی تھا کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کی مخالفت کی تھی۔ سلف سے مروی ہے کہ ایک نیک کام کرنے سے دوسرے نیک کام کی توفیق ملتی ہے اور ایک گناہ دوسرے گناہ کے ارتکاب کا سبب بنتا ہے۔ (ابن کثیر) مقصد یہ کہ بعض مخلص مسلمان جو اس دن بھاگ کھڑے ہوئے وہ اس وجہ سے نہیں بھاگے کہ وہ اسلام سے پھرگئے تھے، یا منافق تھے، بلکہ شامت نفس اور سیئات اعمال کی وجہ سے شیطان کو انھیں بہکانے کا موقع ملا۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ اپنے خطبہ میں فرمایا کرتے تھے : (وَ نَعُوْذُ باللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَ مِنْ سَیِّءَاتِ أَعْمَالِنَا) ”ہم اپنے نفس کے شر اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔“ [ ابن ماجہ، النکاح، باب خطبۃ النکاح : 1892 وصححہ الألبانی ] یہ بھی معلوم ہوا کہ نفس کا شر ہو یا اعمال کی شامت، ان کے ساتھ شیطان کا گمراہ کرنا بھی شامل ہوتا ہے۔
2 وَلَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْھُمْ ۭ : اس سے تین آیات پہلے بھی (وَلَقَدْ عَفَا عَنکُم) کہہ کر ان کی معافی کی نوید سنائی گئی ہے۔ اب پھر مزید اطمینان اور تسلی کے لیے دوبارہ خوش خبری سنائی جا رہی ہے کہ بلاشبہ یقیناً اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کردیا ہے، یعنی جو واقعی دل میں اخلاص رکھتے تھے ان کی توبہ اور معذرت کے سبب اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کردیا، اب نہ ان پر کوئی گناہ ہے اور نہ کسی کو طعن کا حق ہے۔ مزید تفصیل دیکھیے آل عمران (152) کے فوائد۔
Ayah 3:156يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا۔۔ : غُزًّى : یہ ”غَازٍ“ کی جمع ہے، جو ”غَزَا یَغْزُ“ سے اسم فاعل ہے، بمعنی لڑنے والے، جیسے ”رَاکِعٌ“ کی جمع ”رُکَّعٌ“ آتی ہے۔ مسلمانوں کو تاکید فرمائی گئی ہے کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اپنے نفاق کی وجہ سے کافر ہیں اور یہ گندہ عقیدہ صرف دل ہی میں نہیں رکھتے بلکہ برملا اس کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ ہمارے جو بھائی جہاد کے سفر میں فوت ہوگئے یا لڑتے ہوئے مارے گئے، اگر ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے، نہ قتل ہوتے۔ ان کا یہ عقیدہ اور قول اللہ تعالیٰ ہمیشہ کے لیے ان کے دلوں میں حسرت و افسوس کا باعث بنائے رکھے گا۔ مسلمانوں کو اس عقیدہ سے اس لیے روکا کہ غلط ہونے کے ساتھ ساتھ یہ بزدلی کا باعث بنتا ہے، جب کہ موت و حیات تو اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اس کا وقت مقرر ہے۔ یہی عقیدہ مسلمان کی قوت کا باعث ہے، اس لیے حکم دیا کہ دل مضبوط رکھو، موت اپنے وقت سے ایک لمحہ بھی پہلے نہیں آسکتی۔ اگر مگر کے الفاظ شیطان کو دخل اندازی کا موقع دیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”قوی مومن اللہ تعالیٰ کے نزدیک ضعیف سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے اور ہر ایک میں کوئی نہ کوئی بھلائی ہے، اس چیز کی حرص کرو جو تمہیں نفع دے اور اللہ سے مدد مانگو اور عاجز مت ہوجاؤ اور اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو یہ مت کہو، اگر میں ایسا اور ایسا کرتا (تو مجھے یہ مصیبت نہ پہنچتی) بلکہ یوں کہو کہ اللہ نے جو مقدر کیا اور جو چاہا کردیا، اس لیے کہ ”لَوْ“ (اگر کا لفظ) شیطان کے کام (کا راستہ) کھول دیتا ہے۔“ [ مسلم، القدر، باب الإیمان بالقدر والاذعان لہ : 2664، عن أبی ہریرۃ ؓ ]
Ayah 3:157یعنی اگر تمہارا مرنا یا قتل ہونا اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہے تو یہ یقیناً تمہارے لیے مغفرت اور رحمت کا سبب بنے گا اور یہ مغفرت و رحمت اس مال و متاع سے بہتر ہے جس کے جمع کرنے کی فکر میں یہ کفار اور منافقین ہر آن لگے رہتے ہیں، یہ ان کے شبہ کا دوسرا جواب ہے۔
Ayah 3:158وَلَىِٕنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ۔۔ الخ : اوپر کی آیت میں خاص قسم کے قتل اور موت، یعنی فی سبیل اللہ کا ذکر تھا، جس پر رحمت و مغفرت کی خوش خبری تھی، اب یہاں عمومی موت اور قتل کا ذکر ہے (جس طرح بھی واقع ہو) مطلب یہ کہ تمہیں مر کر بہر حال ہمارے پاس آنا اور اپنے اعمال کا اچھا یا برا بدلہ پانا ہے، اگر تمہاری زندگی اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کی خاطر ہو اور اسی کی راہ میں موت ہو تو تم اپنے اعمال کا خوش کن بدلہ پاؤ گے۔