Ayahs 3:159–160فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ : یہاں جار مجرور ”بِرَحْمَۃٍ“ پہلے آنے سے ہی تاکید پیدا ہوگئی تھی، پھر ”مَا“ لا کر ”فَبِمَا رَحْمَةٍ“ میں تاکید مزید ہوگئی۔ ’ رَحْمَةٍ“ پر تنوین تعظیم کی ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی رحمت“ کیا ہے۔
2 وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ) احد کے دن مسلمانوں نے خوف ناک غلطی کی اور میدان چھوڑ کر فرار اختیار کیا، پھر جب رسول اللہ ﷺ کی دعوت سے دوبارہ جمع ہوئے تو آپ نے ان کو کسی قسم کی سرزنش نہیں کی، بلکہ حسن اخلاق سے پیش آئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”آپ کا یہ حسن خلق اور طبیعت کی نرمی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و احسان اور رحمت کا نتیجہ ہے، ورنہ مسلمانوں کا جمع ہونا ممکن نہ تھا۔ (قرطبی) معلوم ہوا دعوت دین کے لیے نرمی اور حسن اخلاق نہایت ضروری چیزیں ہیں، بدخلقی، درشتی اور سخت دلی سے لوگ کبھی قریب نہیں آسکتے۔
3 فَاعْفُ عَنْھُمْ۔۔ : یعنی جنگ میں ان سے جو غلطیاں ہوئیں وہ انھیں معاف کردیں، اللہ سے بھی ان کے لیے استغفار کریں اور مشورے سے محروم نہ کریں بلکہ برابر مشورہ کرتے رہیں۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”شاید رسول اللہ ﷺ کا دل مسلمانوں سے خفا ہوا ہوگا اور چاہا ہوگا کہ اب ان سے مشورہ نہ پوچھیے، سو حق تعالیٰ نے تلقین فرمائی کہ اول مشورہ کرلینا بہتر ہے، جب ایک بات طے ہوجائے پھر پس و پیش نہ کرے۔“ (موضح) اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ جب کبھی جنگ یا انتظامی قسم کا کوئی ایسا معاملہ در پیش ہو، جس میں ہماری طرف سے بذریعہ وحی کوئی متعین حکم نہ دیا جائے تو اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرلیا کرو، تاکہ ان کی دل جوئی ہو اور انھیں بعد میں باہمی مشورہ سے مل کر کام کرنے کی تربیت بھی حاصل ہو۔ چناچہ آپ ﷺ نے اکثر اہم امور میں صحابہ کرام ؓ سے مشورے فرمائے اور ان پر عمل بھی ہوا۔ (دیکھیے ابن کثیر زیر بحث آیت) اس کے بعد خلفائے راشدین بھی اس سنت پر پوری طرح کار بند رہے۔ پھر اگر مشورے کے بعد کسی چیز کا فیصلہ کرلیا جائے تو اسے پوری دل جمعی سے کر گزرنے اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینے کا نام توکل ہے۔ چناچہ مذکور ہے کہ جنگ احد کے موقع پر کھلے میدان میں لڑائی کرنے کے فیصلے کے بعد جب آپ مسلح ہو کر تشریف لے آئے اور صحابہ کرام ؓ نے اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے آپ کی رائے کے مطابق شہر ہی میں رہ کر مقابلہ کرنے پر رضا مندی ظاہر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا : (لَا یَنْبَغِیْ لِنَبِیٍّ إِذَا لَبِسَ سَلاَحَہٗ اَنْ یَضَعَہَا حَتّٰی یُقَاتِلَ) ”کسی نبی کے لائق نہیں کہ جب اپنا اسلحہ نہیں لے کر لڑنے سے پہلے اسے اتار دے۔“ (قرطبی، تفسیر ثعالبی) یہ آیت اور آیت : (وَاَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ ۠) [ الشوریٰ : 38 ] اسلامی طرز حکومت کے لیے بنیادی حیثیت کی حامل ہیں۔ چناچہ نبی ﷺ اپنی زندگی میں صحابہ کرام ؓ سے بہت سے معاملات میں مشورہ کرتے تھے۔ انس ؓ بیان کرتے ہیں : ”(جنگ بدر کے موقع پر) نبی ﷺ کو جب ابو سفیان کے آنے کی خبر ملی تو آپ نے مشورہ کیا۔ ابوبکر و عمر ؓ نے بات کی تو آپ نے ان سے اعراض کیا۔ سعد بن عبادہ ؓ نے کھڑے ہو کر کہا : ”شاید آپ ہم (انصار) سے پوچھنا چاہتے ہیں، اے اللہ کے رسول ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر آپ ہمیں حکم دیں کہ ہم گھوڑوں کو سمندر میں ڈال دیں تو ہم ضرور ڈال دیں گے اور اگر آپ حکم دیں کہ گھوڑوں کو برک الغماد (مدینہ سے بہت دور ایک جگہ) تک لے جائیں تو ہم ضرور لے جائیں گے۔“ [ مسلم، الجہاد والسیر، باب غزوۃ بدر : 1779 ] امام بخاری ؓ فرماتے ہیں : ”رسول اللہ ﷺ کے بعد خلفاء برابر دیانت دار اہل علم سے مشورہ لیتے رہے۔“ (قرطبی)
آج کل بہت سے لوگ مشورے اور ووٹ کو ایک چیز سمجھتے ہیں اور جمہوریت کو اسلامی شوریٰ قرار دیتے ہیں حالانکہ موجودہ جمہوریت اور اسلامی شوریٰ الگ الگ چیزیں ہیں، بلکہ جمہوریت ایک مستقل دین ہے۔ اس میں : 1 ہر اہل اور نااہل کا ووٹ برابر ہے۔ 2 اس میں عوام کی اکثریت فیصلہ کن ہے، فیصلوں میں انہی کو اللہ اور رسول کا مقام حاصل ہے، خواہ وہ سود کو حلال کردیں، یا زنا اور قوم لوط کے عمل کو۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی کوئی شرط نہیں، اگر کہیں ہے بھی تو دھوکا دینے کے لیے۔ 3 اس میں فیصلہ اکثریت کے نمائندوں کی اکثریت کا ہوتا ہے، صدر اس فیصلے کا پابند ہے، خواہ اسے غلط سمجھتا ہو یا صحیح۔ 4 ان کے ہاں مشورے کا معنی اکثریت ہے۔ جب کہ اسلام میں 1 امیر مشورہ لینے کا پابند ہے، مگر صرف ان امور میں جو قرآن و سنت میں مذکور نہ ہوں، بلکہ تدبیری اور انتظامی قسم کے ہوں۔ 2 امیر مشورہ ان لوگوں سے لے گا جو اس معاملے میں رائے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ امام شوکانی ؓ لکھتے ہیں : ”حکمرانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ علماء سے ایسے معاملات میں مشورہ کریں جن کا انھیں علم نہیں ہے، یا ان کے بارے میں انھیں اشکال ہے، فوج کے سربراہوں سے فوجی معاملات میں، سربرآوردہ لوگوں سے عوام کے مصالح کے بارے میں اور ماتحت حکام و والیان سے ان کے علاقوں کی ضروریات و ترجیحات کے متعلق مشورہ کریں۔“ 3 مشورے کے بعد آخری فیصلہ امیر کا ہوگا، فرمایا : (فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ) [ آل عمران : 159 ] اگر وہ مناسب سمجھے تو اکثریت کے فیصلے پر عمل کرے اور اگر کم لوگوں میں زیادہ اہلیت والے لوگ ہونے کی وجہ سے ان کی رائے کو بہتر سمجھے تو اس پر فیصلہ کرے، کیونکہ فیصلوں کے نتائج کا آخری ذمہ دار امیر ہوگا، اکثریت نہیں اور وہ بھی اللہ پر توکل کرتے ہوئے فیصلے پر عمل کرے گا، نہ کہ مشورہ دینے والوں کی یا اپنی عقل و فہم پر۔ اگلی آیت میں پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کی تاکید ہے۔
Ayahs 3:161–163وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّغُلَّ ۭ۔۔ : اوپر کی آیات میں جہاد کی ترغیب ہے اور اس آیت میں جہاد کے احکام کا بیان ہے۔
2 جنگ احد کے دوران میں جو لوگ مورچہ چھوڑ کر مال غنیمت سمیٹنے دوڑ پڑے تھے ان کا خیال تھا کہ اگر ہم نہ پہنچے تو سارا مال غنیمت دوسرے لوگ سمیٹ کرلے جائیں گے، اس پر تنبیہ کی جا رہی ہے کہ آخر تم نے یہ تصور کیسے کرلیا کہ اس مال میں سے تمہارا حصہ تمہیں نہیں دیا جائے گا۔ کیا تمہیں نبی ﷺ کی امانت پر اطمینان نہیں ! یاد رکھو ! ایک پیغمبر سے کسی قسم کی خیانت کا صدور ممکن ہی نہیں ہے، کیونکہ خیانت نبوت کے منافی ہے۔ معلوم ہوا غلول (خیانت) کے معنی ”تقسیم میں ناانصافی“ کے بھی آتے ہیں اور یہ بھی غلول ہے کہ تقسیم سے پہلے مال غنیمت سے کوئی چیز بلا اجازت اٹھا لی جائے۔
شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”طمع کے کام تو ادنیٰ نبیوں سے بھی سرزد نہیں ہوسکتے، (چہ جائیکہ سید الانبیاء سے)“ (موضح)
Ayah 3:164لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ۔۔ : اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ کے بشر ہونے اور انسانوں ہی میں سے ہونے کو ایک احسان کے طور پر بیان کر رہا ہے اور فی الواقع یہ احسان عظیم ہے کہ اس طرح ایک تو وہ اپنی قوم کی زبان اور لہجے ہی میں اللہ کا پیغام پہنچائے گا، جسے سمجھنا ہر شخص کے لیے آسان ہوگا، دوسرے لوگ ہم جنس ہونے کی وجہ سے اس سے مانوس اور اس سے قریب ہوں گے اور تیسرے انسان کے لیے انسان، یعنی بشر کی پیروی تو ممکن ہے، لیکن فرشتوں کی پیروی اس کے بس کی بات نہیں، نہ فرشتوں میں وہ کمزوریاں اور ضرورتیں پائی جاتی ہیں جو انسان میں ہیں اور نہ فرشتہ انسان کے وجدان و شعور کی گہرائیوں اور باریکیوں کا ادراک کرسکتا ہے۔ اس لیے اگر پیغمبر فرشتوں میں سے ہوتے تو وہ ان ساری ضروریات سے محروم ہوتے جو تبلیغ و دعوت کے لیے لازمی ہیں، اس لیے جتنے انبیاء بھی آئے سب کے سب بشر ہی تھے۔ قرآن مجید نے ان کی بشریت کو خوب کھول کر بیان کیا ہے، مثلاً دیکھیے سورة یوسف (109) ، سورة فرقان (20) سورة حم السجدہ (6) اور سورة کہف کی آخری آیت۔
2 اوپر کی آیت میں جب یہ بیان فرما دیا کہ غلول اور خیانت ایک نبی کی شان سے بعید ہے اور نبوت و خیانت جمع نہیں ہوسکتے، تو اب اس آیت میں اسی کی مزید تاکید فرمائی کہ آپ ﷺ کو ایک پاکیزہ اور اعلیٰ نصب العین دے کر مبعوث کیا گیا ہے، جو یہ ہے کہ تم پر اس کی آیات پڑھے، تمہیں کتاب و حکمت (سنت) کی تعلیم دے اور رذائل سے پاک کرے، پھر ایسی پاکیزہ ہستی کی طرف، جو اتنے عظیم مقصد کے حصول کی خاطر مبعوث ہوئی ہو، کوئی عقل مند آدمی غلول کی نسبت کیسے کرسکتا ہے، یا کسی کے دل میں یہ خیال کیسے آسکتا ہے کہ آپ خیانت جیسے کبیرہ اور مذموم فعل کا ارتکاب کرسکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے بہت سی احادیث میں اس گناہ کو کبیرہ قرار دیا ہے، حتیٰ کہ ابن التبیہ والی حدیث میں حکام کے ہدیوں (تحائف) کو بھی غلول شمار کیا۔ [ بخاری، الحیل، باب احتیال العامل۔۔ : 6979 ] ”وَاِنْ كَانُوْا“ یہ اصل میں ”وَ اِنَّہُمْ کَانُوْا“ تھا۔ دلیل اس کی ”لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ“ پر لام تاکید کا آنا ہے۔
Ayah 3:165اَوَلَمَّآ اَصَابَتْكُمْ : یعنی احد میں تمہارے ستر آدمی شہید ہوگئے تو بدر میں تم نے ان کے ستر آدمی قتل اور ستر قید کیے تھے اور قیدی بھی مقتول کے حکم میں ہوتا ہے کہ جب گرفتار کرنے والے کی مرضی ہو اسے قتل کر ڈالے۔
2 ھُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ ۭ : یعنی تمہارے گناہوں کی وجہ سے، یا خود تمہارے پسند کرنے کی وجہ سے۔ (فتح القدیر) پہلی صورت سے مراد یہ ہے کہ تمہاری اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی وجہ سے، جس کا ارتکاب تیر اندازوں نے اپنی جگہ چھوڑ کر کیا۔ (قرطبی) دوسری صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تمہارے فدیہ کو اختیار کرنے کی وجہ سے۔ قرآن نے یہاں (ھو من عند انفسکم) کے الفاظ سے اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ [ ابن کثیر۔ طبری۔ أحمد : 1؍30، 31، ح : 209 ]
Ayah 3:166وَمَآ اَصَابَكُمْ۔۔ : یعنی جنگ احد میں تمہیں جس نقصان کا سامنا کرنا پڑا وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مشیت سے تھا اور اس میں حکمت یہ تھی کہ اہل ایمان اور اہل نفاق کے درمیان تمیز ہوجائے۔
Ayah 3:167اَوِ ادْفَعُوْا ۭ : نبی کریم ﷺ جنگ احد میں ایک ہزار کی جمعیت لے کر احد کی طرف چلے، مقام شوط پر پہنچے تو عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں سمیت وہاں سے لوٹ آیا۔ لوگوں نے ان سے کہا کہ اگر اللہ کی راہ میں جہاد نہیں کرسکتے تو کم از کم مسلمانوں کے ساتھ رہو، تاکہ کثرت تعداد کا دشمنوں پر اثر پڑے اور وہ آگے بڑھنے کی جرأت نہ کریں۔ اکثر مفسرین نے (اَوِ ادْفَعُوْا ۭ) کے یہی معنی کیے ہیں، مگر بعض نے یہ معنی بھی کیے ہیں کہ حمیت قومی اور حفاظت وطن کی خاطر ہی لڑائی میں شامل رہو۔ (یہ معنی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے، الغرض ! لوگوں نے ہر طرح انھیں واپس لانے کی کوشش کی مگر وہ تیار نہ ہوئے اور وہ جواب دیا جو آگے آ رہا ہے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)
2 قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا۔۔ : وہ کہنے لگے، کوئی لڑائی وڑائی نہیں ہوگی، اگر ہمیں واقعی لڑائی کی توقع ہوتی تو ہم ضرور تمہارا ساتھ دیتے، یا مطلب یہ ہے کہ کوئی ڈھب کی جنگ ہوتی اور فریقین میں کچھ تناسب ہوتا تو ہم ضرور شرکت کرتے، مگر ادھر تین ہزار کا مسلح لشکر ہے اور ادھر ایک ہزار بےسروسامان آدمی ہیں، یہ کوئی جنگ ہے ! ؟ یہ تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے، اس بنا پر ہم ساتھ نہیں دے سکتے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یہ کلمہ انھوں نے طعن کے طور پر کہا تھا اور مطلب یہ تھا کہ مسلمان فنون حرب سے بالکل نا آشنا ہیں، ورنہ ہماری رائے مان لی جاتی تو مدینہ کے اندر رہ کر مدافعت کی جاتی۔“ (موضح)
3 ھُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَىِٕذٍ اَقْرَبُ مِنْھُمْ لِلْاِيْمَانِ ۚ: یعنی اس سے قبل تو وہ بظاہر مسلمانوں کے ساتھ شامل تھے، گو ان کے باطن میں کفر تھا، مگر اعلانیہ اس کا اظہار نہیں کرتے تھے، لیکن اس روز انھوں نے ایمان کو چھوڑ کر علانیہ کفر اختیار کرلیا، یا مطلب یہ ہے کہ اس دن انھیں ایمان کی بہ نسبت کفر کا مفاد زیادہ عزیز تھا اور انھوں نے واپس ہو کر مسلمانوں کو کمزور کیا اور کفر کو تقویت بخشی۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یہ کلمہ انھوں نے طعن کے طور پر کہا تھا، پس اس لفظ کی وجہ سے وہ کفر کے قریب اور ایمان سے دور ہوگئے۔“ (موضح)
4 يَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِھِمْ۔۔ : یعنی بظاہر یہ کلمہ کہہ کر عذر لنگ اور بہانہ بناتے ہیں، مگر جو جذبات ان کے دلوں میں چھپے ہوئے ہیں ان کا صاف طور پر اظہار نہیں کرتے، دراصل یہ مسلمانوں کی ہلاکت کے متمنی ہیں، لیکن انھیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دل کی باتوں سے خوب واقف ہے۔
Ayah 3:168جو مسلمان جنگ احد میں شہید ہوئے ان کے بارے میں منافقین نے اس قسم کا اظہار کیا، تاکہ لوگوں کو جہاد میں شمولیت سے متنفر کیا جاسکے۔ قرآن نے ان کے اس شبہ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر واقعی گھروں میں بیٹھے رہنا تمہیں موت سے بچا سکتا ہے تو ذرا اپنے اوپر واقع ہونے والی موت کو ٹال کر دکھاؤ۔
Ayah 3:169اس آیت میں منافقین کے اس شبہ کی کہ ”جہاد میں شامل ہونا خواہ مخواہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے“ ایک دوسرے طریقے سے تردید کی ہے۔ فرمایا، نہیں بلکہ اس سے دائمی زندگی حاصل ہوتی ہے، شہداء کو اللہ کے ہاں بلند درجے ملتے ہیں، پروردگار کے ہاں انھیں ہر قسم کی نعمت اور لذت حاصل ہوتی ہے، یہ زندگی حقیقی زندگی ہے مگر دنیا والی زندگی نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، جو ہماری نگاہ سے اوجھل ہے، جسے ”برزخ“ کہتے ہیں اور جو ہماری سمجھ میں نہیں آسکتی، فرمایا : (ٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ) [ البقرۃ : 154 ] ”اور لیکن تم (اس زندگی کو) نہیں سمجھتے۔“
عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کریمہ (وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ۭ) سے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”ان (شہداء) کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں ہوتی ہیں اور ان کے لیے عرش الٰہی کے ساتھ قندیلیں معلق ہوتی ہیں، وہ جنت میں جہاں سے چاہتی ہیں کھاتی پیتی ہیں، پھر عرش کے نیچے لٹکی ہوئی انہی قندیلوں میں آکر رہتی ہیں۔“ [ مسلم، الأمارۃ، باب بیان أن أرواح الشھداء فی الجنۃ۔۔ : 1887 ]
Ayahs 3:170–171يَسْتَبْشِرُوْنَ۔۔ : یعنی اپنے جن مسلمان بھائیوں کو جہاد فی سبیل اللہ میں مشغول چھوڑ آئے ہیں ان کا تصور کر کے خوش ہوتے ہیں کہ ان کو بھی ہماری طرح پر لطف اور بےخوف و خطر زندگی حاصل ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب تمہارے بھائی احد میں شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحوں کو سبز رنگ کے پر وندں کے قالبوں میں ڈال دیا، جو جنت کی نہروں پر آتی ہیں، جنت کے پھل کھاتی ہیں اور عرش کے سائے میں سونے کی قندیلوں کے پاس ٹھہر جاتی ہیں، جب انھوں نے اپنے پاکیزہ کھانے اور پینے کو دیکھا اور اپنے حسن انجام کو ملاحظہ کیا تو کہنے لگے : ”اے کاش ! ہمارے بھائیوں کو بھی یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ کیا اچھا سلوک فرمایا ہے، تاکہ وہ جہاد سے غافل ہو کر جنگ سے منہ نہ موڑیں۔“ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ”تمہارا یہ پیغام میں پہنچا دیتا ہوں۔“ تو یہ آیات نازل فرمائیں : (وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ) [ أحمد، ط الرسالۃ ح : 2388، عن عبداللہ بن عباس ؓ وحسنہ الارنوؤط ]
(يَسْتَبْشِرُوْنَ) میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”بہت خوش ہوتے ہیں“ کیا ہے۔
Ayah 3:172یہ حمراء الاسد، یعنی جنگ احد سے اگلے روز کا واقعہ ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ احد سے پلٹ کر جب مشرکین چند منزل دور چلے گئے تو آپس میں کہنے لگے کہ ہم نے یہ کیا حماقت کی کہ مسلمانوں کا پوری طرح خاتمہ کیے بغیر واپس چلے آئے۔ چناچہ وہ مدینے پر دوبارہ حملہ کرنے کا منصوبہ بنانے لگے، ادھر جب رسول اللہ ﷺ کو اطلاع ملی تو آپ نے مسلمانوں کو مشرکین کے تعاقب میں نکلنے کا حکم دیا، تاکہ وہ واقعی پلٹ کر مدینہ پر حملہ نہ کردیں۔ اس وقت اگرچہ شرکائے احد میں سے اکثر لوگ سخت زخمی اور تھکے تھے لیکن اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کی تعمیل میں فوراً نکل کھڑے ہوئے۔ جب مدینہ سے تقریباً آٹھ میل کے فاصلے پر حمراء الاسد (نامی جگہ) پہنچے تو مشرکین کو ان کے آنے کی اطلاع مل گئی اور انھوں نے آپس میں کہا کہ اس مرتبہ تو واپس چلتے ہیں، اگلے سال پھر آئیں گے۔ اس صورت حال کے پیش نظر نبی ﷺ بھی مدینہ واپس تشریف لے آئے۔ چناچہ آیت میں اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے اور مسلمانوں کو بشارت ہے۔ (ابن کثیر)
عائشہ ؓ نے اپنے بھانجے عروہ سے کہا : ”اے میرے بھانجے ! تیرے دونوں باپ زبیر (والد) اور ابوبکر (نانا) بھی ان میں شامل تھے، جب رسول اللہ ﷺ کو احد میں وہ تکالیف پہنچیں جو پہنچیں اور مشرکین واپس چلے گئے تو آپ نے خوف محسوس کیا کہ وہ پلٹ نہ آئیں تو فرمایا : ”ان کے پیچھے کون جائے گا ؟“ تو ان میں سے ستر آدمیوں نے لبیک کہا، ان میں ابوبکر اور زبیر بھی تھے۔“ [ بخاری، المغازی، باب (الذین استجابوا للہ والرسول) : 4077، عن عائشۃ ؓ ]
Ayah 3:173اَلَّذِيْنَ قَالَ لَھُمُ النَّاسُ۔۔ : یہ آیت بھی واقعہ حمراء الاسد ہی سے متعلق ہے اور وہ اس طرح کہ جب ابوسفیان کو، جو اس وقت مشرکین کی قیادت کر رہا تھا، مسلمانوں کے تعاقب کی اطلاع ملی تو اس نے ایک تجارتی قافلے کے ذریعے سے رسول اللہ ﷺ کو یہ چیلنج بھیجا کہ میں نے بڑا لاؤ لشکر جمع کرلیا ہے اور میں مدینہ پر پھر سے حملہ کرنے والا ہوں، یہ سن کر مسلمانوں میں خوف اور کمزوری کے بجائے مزید ایمانی قوت پیدا ہوئی اور آپ ﷺ اور صحابہ نے کہا : (حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ) ”ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے۔“ (ابن کثیر)
2 عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ (حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ) کا کلمہ ابراہیم ؑ نے اس وقت کہا تھا جب انھیں آگ میں ڈالا گیا اور محمد ﷺ نے اس وقت کہا، جب لوگوں نے کہا : (اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ۔۔ الخ) ”بیشک لوگوں نے تمہارے لیے (فوج) جمع کرلی ہے، سو ان سے ڈرو، تو اس بات نے انھیں ایمان میں زیادہ کردیا“ اور انھوں نے کہا : (حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ) ”ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے۔“ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ : (الذین قال لہم الناس۔۔) : 4563 ]
3 فَزَادَھُمْ اِيْمَانًا : اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کا ایمان مشرکین کے چیلنج کرنے سے بڑھ گیا، ظاہر ہے وہ پہلے نسبتاً کم تھا، تب ہی بڑھا۔ اس سے ایمان کی کمی بیشی ثابت ہوتی ہے اور ان لوگوں کی تردید ہوگئی جو کہتے ہیں کہ ہمارا ایمان جبریل ؑ اور ابوبکر ؓ کے ایمان جیسا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمان جس قدر بڑھتا ہے جذبۂ جہاد بھی بڑھتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس نے نہ جنگ کی نہ اپنے دل سے جنگ کی بات کی، وہ نفاق کی ایک شاخ پر مرے گا۔“ [ أبو داوٗد، الجہاد، باب کراھیۃ ترک الغزو : 2502، عن أبی ہریرہ ؓ۔ نسائی : 3099 ]
Ayah 3:174اس آیت سے اور ابن عباس ؓ کی حدیث سے کلمہ (وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ) کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ کس طرح ابراہیم ؑ ، نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ ہر قسم کی برائی سے محفوظ رہ کر اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ واپس پلٹے اور انھوں نے اللہ کی رضا کی پیروی کی۔ اس لیے ہر مصیبت کے وقت اس وظیفہ کے معنی کا خیال کرتے ہوئے دل اور زبان کو ایک کر کے اسے کثرت سے پڑھنا چاہیے۔
Ayah 3:175وہ شخص جو یہ افواہیں پھیلا رہا تھا اسے شیطان فرمایا اور بتایا کہ یہ اپنے منافق دوستوں سے ڈرا رہا ہے، مسلمانوں کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا ڈر دل میں نہ لائیں۔ حقیقی شیطان بھی اپنے انسانی دوست شیطانوں کے دلوں میں مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے کے نئے سے نئے طریقے ڈالتا رہتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة انعام (112)۔ آج کل اخبار، ریڈیو، ٹیوی اور انٹرنیٹ جھوٹ پھیلانے اور خوف زدہ کرنے کے لیے شیطان کے آلات ہیں۔ مومن کو ان کی خبروں سے ڈرنے کے بجائے اللہ پر بھروسا کرنا چاہیے اور ”اَلْحَرْبُ خُدْعَۃٌ“ کے تحت ان کا علاج بھی کرنا چاہیے۔
Ayah 3:176کافر اور منافق مختلف طریقوں سے رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرتے رہتے، جس سے آپ طبعی طور پر رنجیدہ خاطر بھی ہوجاتے، خصوصاً غزوۂ احد کے واقعہ کو منافقین نے بہت ہوا دی اور مسلمانوں کو اللہ کی نصرت سے مایوس کرنے کی کوشش کی تو اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور آپ ﷺ کو تسلی دی گئی کہ اس قسم کی مخالفتوں سے کفار اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، بلکہ اس قسم کا رویہ اختیار کر کے خود ہی آخرت کے حصے سے محروم ہو رہے ہیں۔
Ayah 3:177یعنی یہ لوگ ایمان کے بجائے کفر اختیارکر کے خود اپنا برا کر رہے ہیں، اس کے نتیجہ میں دردناک عذاب سے دو چار ہوں گے۔
Ayah 3:178فرمایا، ہم جو کافروں کی عمریں لمبی کرتے چلے جا رہے ہیں اور انھیں ان کے حال پر چھوٹ دے رہے ہیں، مال، اولاد اور دنیا کی نعمتیں وافر دے رہے ہیں، تو کیا یہ سب کچھ ان کے لیے بہتر ہے ؟ نہیں، بلکہ یہ ان کے لیے بہت برا ہے، کیونکہ اس سے ان کے گناہوں میں اضافہ ہوگا، ان کے خلاف حجت مضبوط ہوگی، بلکہ دنیا میں بھی یہ سب کچھ ان کے لیے عذاب کا باعث بنے گا، دیکھیے سورة مومنون (55، 56) ، سورة قلم (44) اور سورة توبہ (55)۔
Ayah 3:179مَا كَان اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ چناچہ جنگ احد میں کفر و نفاق اور ایمان و اخلاص الگ ہو کر سامنے آگئے۔ رازی لکھتے ہیں : ”اس آیت کا تعلق بھی قصۂ احد سے ہے۔ چناچہ اس حادثہ میں قتل و ہزیمت اور پھر اس کے بعد ابو سفیان کے چیلنج کے جواب میں مسلمانوں کا نکلنا وغیرہ، سب ایسے واقعات تھے جن سے کفر ونفاق اور ایمان و اخلاص الگ الگ ہو کر سامنے آگئے اور مومن اور منافق میں امتیاز ہوگیا۔ چونکہ منافقین کا مومنوں کے ساتھ ملا جلا رہنا حکمت الٰہی کے خلاف تھا، اس لیے یہ تمام واقعات پیش آئے۔
2ۭ وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَي الْغَيْب : یعنی اگر اللہ تعالیٰ اس طرح آزمائش کے ذریعے سے مخلص مومنوں اور منافقین کے لیے حالات اور ان کے ظاہر و باطن کو نمایاں نہ کرے تو تمہارے پاس کوئی غیب کا علم تو ہے نہیں کہ جس سے تم پر یہ چیزیں ظاہر ہوجائیں اور تم جان سکو کہ کون مومن ہے اور کون منافق اور نہ تم میں سے ہر ایک کو غیب کی بات پر اطلاع دی جاسکتی ہے۔ نہ کسی کو بھی پورے غیب کی اطلاع دی جاسکتی ہے۔
3 وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَجْتَبِىْ : ہاں، البتہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے غیب کی جتنی بات چاہتا ہے اس کی اطلاع دے دیتا ہے، جو نہیں چاہتا نہیں بتاتا۔ اب منافقین میں سے بعض کا بتادیا اور بعض کا نہیں بتایا۔ چناچہ فرمایا : (وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ ړ وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِيْنَةِ ڀ مَرَدُوْا عَلَي النِّفَاقِ ۣ لَا تَعْلَمُھُمْ) ”اور ان لوگوں میں سے جو تمہارے ارد گرد بدویوں میں سے ہیں، کچھ منافق ہیں اور کچھ اہل مدینہ میں سے بھی جو نفاق پر اڑ گئے ہیں، تو انھیں نہیں جانتا، ہم ہی انھیں جانتے ہیں۔“ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے چنے ہوئے رسولوں کو غیب کی کچھ باتوں کی اطلاع دیتا ہے، جن کی انھیں نبوت کی دلیل کے طور پر ضرورت ہوتی ہے، مگر وہ اس سے عالم الغیب نہیں بنتے، عالم الغیب ایک اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔ مزید دیکھیے سورة انعام (59) سورة نمل (165)۔ اور سورة جن (26 تا 28)
4 ۠ فَاٰمِنُوْا باللّٰهِ وَرُسُلِھٖ ۚ : مسلمانوں کا یہ کام نہیں کہ رسول سے اپنی مرضی کی غیب کی باتیں بتانے کا مطالبہ کریں۔ ان کا کام اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانا ہے اور اگر وہ ایمان لا کر تقویٰ اختیار کریں گے تو ان کے لیے اجر عظیم ہے۔
Ayah 3:180وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ : اوپر ترغیب جہاد کے سلسلے میں جانی قربانی پر زور دیا ہے اور جو جان بچانے کی خاطر اس سے فرار اختیار کرتے ہیں ان کے حق میں وعید سنائی ہے۔ اب یہاں جہاد میں مالی قربانی پر زور دیا جا رہا ہے اور بخل کرنے والوں کی مذمت کی جا رہی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح ان منافقین کو اپنی جان پیاری ہے اسی طرح ان کو اپنا مال بھی پیارا ہے اور جو لوگ مال کے حقوق ادا کرنے سے پہلوتہی کرتے ہیں، قیامت کے دن یہی مال ان کے لیے وبال جان بن جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کچھ مال دیا ہے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کے مال کو ایک گنجے سانپ کی شکل دے دی جائے گی اور وہ طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔ وہ اسے اپنے دونوں جبڑوں سے پکڑے گا اور اس سے کہے گا : ”میں ہوں تمہارا مال، میں ہوں تمہارا خزانہ۔“ پھر نبی ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ [ بخاری، التفسیر، باب (وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ۔۔) : 4565، عن أبی ہریرہ ؓ ]
2 بخل ان حقوق کو ادا نہ کرنے کا نام ہے جو انسان پر واجب ہوں، مثلاً گھر والوں کا نان و نفقہ، مہمان نوازی، جہاد کی تیاری، زکوٰۃ و عشر وغیرہ۔ ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا : (وَ اَیُّ دَاءٍ اَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ) ”بخل سے بڑی بیماری کیا ہوسکتی ہے ؟“ [ بخاری، المغازی، باب قصۃ عمان والبحرین : 4383 ]
3 وَلِلّٰهِ مِيْرَاث الخ : یعنی جب زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی میراث اور ملکیت ہے تو جس مال کے بظاہر تم وارث بنائے گئے ہو، اس میں بخل کیوں کرتے ہو ؟ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”اللہ وارث ہے، آخر تم مرجاؤ گے اور مال اسی کا ہو رہے گا، تم اپنے ہاتھ سے دو تو ثواب پاؤ۔“ (موضح)
Ayah 3:181لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ : اوپر کی آیات میں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے پر زور دیا، اب ان آیات میں یہود کے اعتراضات کا بیان اور ان کا جواب دینا مقصود ہے۔ دراصل یہود یہ اعتراضات نبوت پر طعن کی غرض سے کرتے تھے۔ کتب تفسیر میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا) [ البقرۃ : 245 ] ”کون ہے جو اللہ کو قرض دے، اچھا قرض“ نازل ہوئی تو بعض یہود نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا : ”لو جی، اللہ میاں بھی فقیر ہوگئے ہیں اور بندوں سے قرض مانگنے پر اتر آئے ہیں۔“ تو ان کے جواب میں یہ آیت اتری۔ (ابن کثیر) دراصل اس قسم کے اعتراضات وہ عوام کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے متنفر کرنے کی غرض سے کرتے تھے، ورنہ وہ بھی خوب جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسے الفاظ کہنا کتنی بڑی گستاخی اور کفر ہے۔ (قرطبی)
2 ۘسَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا : یعنی ان کی اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ گستاخی اور رسولوں کو ناحق قتل کرنا، سب ان کے نامۂ اعمال میں درج کیا جا رہا ہے۔ قیامت کے دن ایسے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا اور وہ عذاب حریق کی سزا میں گرفتار ہوں گے۔
Ayah 3:182وَاَنَّ اللّٰهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ : اس پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ”ظَلاَّمٌ“ مبالغے کا صیغہ ہے، جس کا معنی بہت ظلم کرنے والا ہے۔ بظاہر معنی یہ ہوا کہ ”اللہ بندوں پر بہت ظلم کرنے والا نہیں“ گویا کم ظلم کرسکتا ہے۔ اس کا ایک جواب استاد مرحوم مولانا محمد عبدہ ؓ نے دیا ہے : ”اس مبالغے کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ظلم کی نفی کے یہ معنی ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعوذ باللہ رتی برابر بھی ظلم صادر ہو تو وہ ”ظَلاَّمٌ“ ٹھہرے گا اور اللہ تعالیٰ کی ذات ظلم سے منزہ ہے۔“ یہ جواب بھی اچھا ہے، مگر اس سے قوی جواب یہ ہے کہ بعض اوقات مبالغے کے صیغے پر نفی آئے تو اس سے مراد مبالغہ کی نفی نہیں ہوتی، بلکہ نفی میں مبالغہ ہوتا ہے۔ اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے کہ ”اللہ بندوں پر کچھ بھی ظلم کرنے والا نہیں۔“ جیسا کہ طرفہ نے کہا ہے۔۔
وَلَسْتُ بِحَلَّال التَّلَاعِ مَخَافَۃً وَلٰکِنْ مَتٰی یَسْتَرْفِدِ الْقَوْمُ أَرْفِدِ
ظاہر الفاظ کے مطابق ترجمہ یہ ہوگا ”اور میں خوف کی وجہ سے ٹیلوں پر بہت زیادہ چڑھنے والا نہیں، بلکہ قوم جب مجھ سے عطیہ مانگے تو میں عطیہ دیتا ہوں۔“
مگر یہاں یہ معنی نہیں کہ میں بہت زیادہ چڑھنے والا نہیں، بلکہ معنی ہے کہ میں بالکل ٹیلوں پر نہیں چڑھتا۔ دلیل یہ ہے کہ میں عطیہ مانگنے پر دیتا ہوں۔ دیکھیے ”البحر المحیط“ اور ”اللباب“ وغیرہ۔
Ayah 3:183اَلَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَيْنَآ : یہ ان کا دوسرا اعتراض ہے جو انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر ایمان نہ لانے کے سلسلے میں پیش کیا کہ بنی اسرائیل سے اللہ تعالیٰ نے یہ عہد لیا ہے کہ اگر کوئی نبی یہ معجزہ پیش نہ کرے تو اس پر ایمان نہ لائیں۔ (رازی) حالانکہ ان کی کسی کتاب میں یہ حکم نہیں اور ان کے تمام انبیاء کو یہ معجزہ عطا بھی نہیں ہوا تھا، جیسا کہ اسی آیت میں اشارہ ہے : (قُلْ قَدْ جَاۗءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِيْ) یہاں ”رسل“ نکرہ ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے تمام انبیاء کو نہیں، بلکہ بعض کو یہ معجزہ عطا ہوا کہ جب کوئی سوختنی (جلائی جانے والی) قربانی (نذر) پیش کی جاتی تو وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے، اس قربانی (نذر) کی قبولیت کی علامت کے طور پر آسمان سے آگ اترتی، جو اسے جلا ڈالتی۔ جیسا کہ ایلیاء اور سلیمان ؑ کے متعلق مذکور ہے۔ (ابن کثیر)
2 قُلْ قَدْ جَاۗءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِيْ : یہ ان کے اس اعتراض کا جواب ہے، جو اوپر ذکر ہوا کہ اگر واقعی تم اس دعویٰ میں سچے ہو تو پھر تمہارے آباء و اجداد نے ان بہت سے انبیاء کو قتل کیوں کر ڈالا، جو اپنی نبوت کے صدق پر دوسری واضح دلیلوں کے ساتھ یہ معجزہ بھی لے کر آئے جس کا تم مطالبہ کر رہے ہو ؟
Ayah 3:184یہود کے تمسخر اور اعتراضات کا جواب دینے کے بعد آپ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ اس قسم کے شبہات پیدا کر کے اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو یہ غم کی بات نہیں، کیونکہ آپ سے پہلے بہت سے انبیاء کے ساتھ وہ یہ سلوک کرچکے ہیں۔ ”البینات“ سے دلائل عقلیہ اور معجزات دونوں مراد ہیں۔ ”الزبر“ یہ زبور کی جمع ہے۔ اس سے وہ چھوٹے چھوٹے صحیفے مراد ہیں جن میں نیکی کی نصیحت، برائی سے روکنے اور حکمت و دانائی کی باتیں ہوتی تھیں۔ داؤد ؑ کو جو کتاب دی گئی تھی، قرآن نے اسے بھی ”زبور“ کہا ہے، کیونکہ اس میں بھی انہی چیزوں کا پہلو نمایاں ہے اور قرآن کی اصطلاح میں ”الکتاب“ سے مراد وہ بڑی کتاب ہے جس میں مسائل و احکام اور دوسری سب چیزیں ہوں، مگر ان کتابوں میں قرآن مجید کے سوا کسی کتاب کو اعجازی حیثیت حاصل نہیں ہوئی (کہ اس کی کسی سورت کے مقابلے میں اس جیسی ایک سورت لانے کا چیلنج ہو)۔
Ayah 3:185بخیلوں کا حال اور ان کا کفر بیان کرنے کے بعد یہاں بتایا کہ دنیا کے جس مال و متاع کے جمع کرنے کے لیے انسان بخل کرتا ہے، یہ سب کچھ فانی ہے اور باقی نہ رہنے والا ہے اور آخرت کی زندگی ہی باقی اور ابدی ہے۔ لہٰذا انسان کو چاہیے کہ آخرت کی فکر کرے اور اس میں کامیابی کی کوشش کرتا رہے۔ اور یہ جو فرمایا : ”تمہیں تمہارے اجر قیامت کے دن ہی پورے دیے جائیں گے“ تو اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان کو دنیا یا برزخ میں بھی کچھ نہ کچھ اعمال کا بدلہ ملتا ہے، مگر پورا بدلہ یعنی پورا ثواب و عقاب قیامت کے دن ہی ملے گا، اس سے پہلے ممکن نہیں۔ اور دنیا کی زندگی محض ”َمَتَاعُ الْغُرُوْر ‘ (دھوکے کا سامان) ہے، اس کی ظاہری زیب و زینت سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے، اصل کامیابی تو آخرت کی کامیابی ہے۔ (لاَ عَیْشَ الاَّ عَیْشَ الْآخِرَہْ)
Ayah 3:186یہ خطاب نبی ﷺ اور عام مسلمانوں سے ہے کہ آئندہ بھی جان و مال میں تمہاری آزمائش ہوگی اور تمہیں ہر قسم کی قربانیاں پیش کرنا ہوں گی، جیسے اموال کا تلف ہوجانا اور بیمار پڑجانا وغیرہ۔ اہل کتاب اور مشرکین کی زبانوں سے تمہیں انتہائی دل آزار اور جگر خراش طعن و تشنیع، بےہودہ گفتگو اور جھوٹے الزامات سننا پڑیں گے، جیسا کہ منافقین نے ہر طرح ستایا۔ سورة منافقون اور سورة توبہ میں تفصیل دیکھ لیں، نیز کعب بن اشرف یہودی نے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی ہجو کی اور اپنے قصائد میں مسلمان خواتین کا نام لے کر تشبیب کہی۔ مگر ان کا علاج یہ ہے کہ تم صبر، یعنی ثابت قدمی اور استقلال سے کام لو اور اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اپنے دلوں میں رکھو۔ اگر صبر اور تقویٰ سے ان آزمائشوں کا مقابلہ کرو گے تو یہ نہایت ہمت، حوصلہ اور اولو العزمی کا کام ہے۔ چناچہ آپ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ ہمیشہ صبر اور تقویٰ سے کام لیتے رہے، حتیٰ کہ حالت جنگ میں بھی نہ ان کی طرح بد زبانی سے کام لیا اور نہ عملاً اس طرح زیادتی کی جس طرح انھوں نے کی تھی۔
Ayah 3:187یعنی اہل کتاب سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ ان کی کتابوں میں جو احکام دیے گئے ہیں اور نبی آخر الزمان ﷺ سے متعلق جو بشارتیں اور علامتیں بیان کی گئی ہیں، ان کا اعلانیہ اظہار کریں گے اور ان کو چھپانے کے جرم کا ارتکاب نہیں کریں گے، مگر انھوں نے دنیا طلبی میں پڑ کر اس عہد کی کوئی پروا نہ کی اور ان احکام کی بھی لفظی اور معنوی تحریف کی اور ان بشارتوں اور علامتوں کو چھپایا، (فبئس ما یشترون) ”سو برا ہے جو وہ خرید رہے ہیں۔“ اس آیت میں ضمناً عام مسلمان علماء کو بھی یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حق بات کو جانتے بوجھتے ہوئے چھپانے کے جرم کا ارتکاب نہ کریں۔ حدیث میں متعدد سندوں سے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد مروی ہے : (مَنْ سُءِلَ عَنْ عِلْمٍ فَکَتَمَہُ اُلْجِمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِلِجَامٍ مِّنْ نَارٍ) [ ترمذی، العلم، باب ما جاء فی کتمان العلم : 2649، عن أبی ہریرہ ؓ ] ”جس سے علم کی کوئی بات پوچھی گئی اور اس نے اسے چھپایا تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔“
Ayah 3:188یعنی جو کام انھوں نے کیے ہیں ان پر اتراتے چلے جاتے ہیں اور جو کام انھوں نے نہیں کیے ان کے متعلق بھی چاہتے ہیں کہ انھیں ان کے کارناموں میں شمار کیا جائے، ایسے لوگوں کے بارے میں ہرگز یہ خیال نہ کرو کہ وہ اللہ کی پکڑ اور اس کے عذاب سے چھوٹ جائیں گے۔ یہ آیت دراصل یہود اور منافقین کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ چناچہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے یہود سے کوئی بات دریافت کی تو انھوں نے اس کا غلط جواب دیا، پھر خوش ہوئے کہ ہم نے آپ ﷺ کو مطمئن کردیا، اب انھیں ہماری تعریف کرنی چاہیے۔ [ بخاری، التفسیر، باب : (لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا) : 4568 ]
ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب کبھی رسول اللہ ﷺ جنگ کے لیے تشریف لے جاتے تو بعض منافقین آپ کے ساتھ نہ جاتے اور آپ کے جانے کے بعد (اپنے گھروں میں) بیٹھے رہنے سے بہت خوش ہوا کرتے، پھر جب رسول اللہ ﷺ واپس تشریف لاتے تو عذر اور بہانے پیش کرتے اور (ان عذر بہانوں پر) قسم کھاتے اور چاہتے کہ اس کام پر ان کی تعریف کی جائے جو انھوں نے نہیں کیا، چناچہ اس سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی : (لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا وَّيُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا) [ بخاری، التفسیر، باب : (لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا : 4567 ] مگر یہ حکم اہل کتاب اور مسلمانوں کے لیے عام ہے جو بھی خوشامد پسند ہوگا اور اس قسم کا ذہن رکھے گا، کہ اس کے ناکردہ کارناموں پر اس کی تعریف کی جائے۔ اس کے لیے وہ وعید ہے جو اس آیت میں مذکور ہے۔ (شوکانی)
Ayah 3:189وَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ۔۔ : جب حقیقت یہ ہے کہ آسمان و زمین کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے تو یہ حقیقت اگر تم ہر وقت اپنے سامنے رکھو تو شاید ایک نافرمانی کی جرأت بھی نہ کرسکو۔
Ayah 3:190(اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ) اس آیت سے آخر سورت تک آیات کی بڑی فضیلت ہے۔ رسول اللہ ﷺ رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تو ان آیات کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ [ بخاری، التفسیر، باب : (ربنا إنک من تدخل النار) : 4570، 4571، عن ابن عباس ؓ ]
2 لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ : ”الْاَلْبَابِ“ یہ ”لُبٌّ“ کی جمع ہے، جس کا معنی خالص عقل ہے، اس لیے ترجمہ ”عقلوں والوں“ کیا ہے۔ یعنی جو لوگ زمین و آسمان کی تخلیق اور کائنات کے دیگر اسرار و رموز پر غور کرتے ہیں، انھیں کائنات کے خالق اور اس کے اصل فرماں روا کی پہچان ہوجاتی ہے اور وہ سمجھ جاتے ہیں کہ اتنی طویل و عریض کائنات کا یہ لگا بندھا نظام، جس میں ذرا خلل واقع نہیں ہوتا، یقیناً اس کے پیچھے ایک ذات ہے جو اسے چلا رہی ہے اور وہ ہے اللہ کی ذات۔ اس میں عقلوں والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اکیلے مالک ہونے کی، اللہ تعالیٰ کی حکمت اور کاریگری کی اور اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حاکمیت کی بہت سی نشانیاں ہیں۔
نظام فلکی اور اس کی تفصیلات، چاند سورج، ستاروں کی تعداد، ان کے درمیانی فاصلے، ان کے باہمی تعلقات و تاثرات، ان کی گردشوں کی پیمائش، گرہن کے اسباب و اوقات، ان کے طلوع و غروب اور نور و حرارت وغیرہ کے قاعدے و ضابطے، غرض اس قسم کی تفصیلات سے علم ہیئت کی کتابوں کے دفتر کے دفتر بھرے پڑے ہیں۔ رہی زمین تو اس کی شکل و صورت، اس کی پیمائش، اس کے پہاڑ اور سمندر، اس کی معدنیات، اس کی کشش، اس کی ہواؤں اور موسموں کے تغیرات وغیرہ کے لیے تو کوئی ایک فن بھی پوری طرح کافی نہ ہوا، بلکہ جغرافیہ، جغرافیہ طبعی، جیالوجی، فنریالوجی، میٹرالوجی اور آرکیالوجی، اللہ جانے کتنے فنون پر فنون نکلتے چلے آ رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی کاریگری کے اندازے اور تخمینے ختم ہونے میں نہیں آ رہے۔ اب ”لِّاُولِي الْاَلْبَابِ“ کے بجائے غیر مسلم قومیں ان چیزوں پر غور میں مصروف ہیں اور چونکہ ان کا ہدف ہی دنیا ہے، اس لیے دنیا کے بیشمار فائدے حاصل کر رہے ہیں، بلکہ انہی فنون کے ذریعے سے انھوں نے مسلمانوں کو مغلوب کر رکھا ہے، ہدف کی غلطی کی وجہ سے انھیں ذات باری تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ کاش ! مسلمان ان فنون میں پوری طرح حصہ لیتے تو یہ سارے علوم دین کی سربلندی اور توحید کی دعوت کا زبردست ذریعہ بنتے اور دنیا پر غلبے کے کام آتے، کیونکہ مسلمان تو (رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ حَسَـنَةً وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ) کا ہدف سامنے رکھتا ہے۔
Ayahs 3:191–192الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ : پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کے ہر چیز کے خالق اور رب ہونے کا ذکر تھا، اب اس اکیلے کی عبادت کا ذکر ہے، یعنی وہ ”اولوالالباب“ دل، زبان اور دوسرے سب اعضاء سے کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے ہر حالت میں اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ روزی کماتے وقت اللہ کے حکم کا خیال رکھنا بھی اس کی یاد ہے، عدالت کی کرسی پر بیٹھ کر اسے نہ بھولنا بھی یاد ہے، نظر کو بےلگام نہ ہونے دینا بھی اس کا ذکر ہے، اسلام کی سر بلندی کے لیے جہاد کی تیاری میں مصروف ہونا بھی اس کی یاد ہے۔ افسوس کہ مسلمانوں نے صرف نماز اور تسبیح و تحمید کو ذکر سمجھ لیا اور اللہ کی جس یاد اور ملاقات کے شوق سے صحابہ و تابعین کے سینے روشن تھے اور وہ موت کو موت کی جگہوں میں ڈھونڈتے پھرتے تھے، اس کو اپنے شب و روز سے نکال دیا، حالانکہ یہ ذکر اسلام کے بنیادی ارکان کے بعد تمام اذکار سے کہیں افضل ہے۔ فرمایا : (اَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاۗجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰهَدَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰه ِ) [ التوبۃ : 19 ] ”کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد کرنا اس جیسا بنادیا جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا اور اس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا، یہ اللہ کے ہاں برابر نہیں ہیں۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَوْقِفُ سَاعَۃٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ خَیْرٌ مِّنْ قِیَامِ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ عِنْدَ الْحَجَرِ الْاَسْوَدِ) ”ایک گھڑی اللہ کے راستے (جہاد) میں رہنا حجر اسود کے پاس لیلۃ القدر کے قیام سے افضل ہے۔“ [ ابن حبان : 4603 ]
وَيَتَفَكَّرُوْنَ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ : یعنی زمین و آسمان کو پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ نے جو حکمت رکھی ہے وہ اس پر غور و فکر کرتے ہیں۔ علوم ہیئت فلکیات اور ریاضی کو اگر دینی نقطۂ نظر سے پڑھا جائے تو فی الجملہ عبادت میں داخل ہے۔
رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا ۚ : بےمقصد نہیں بنایا، بلکہ اس عالم کی انتہا دوسرے عالم میں ہو رہی ہے، جس میں حساب کتاب ہوگا۔ (موضح) اس میں مادہ پرستوں اور دہریوں کا رد ہے جو کائنات کو محض اتفاق کا نتیجہ سمجھتے ہیں، یعنی غور و فکر سے ان پر یہ حقیقت کھلتی ہے کہ کائنات کا یہ سارا نظام یونہی پیدا نہیں کیا، بلکہ اس کے پیچھے یہ مقصد کارفرما ہے کہ انسان دنیا میں اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق زندگی بسر کرے تو اجر و ثواب پائے اور نافرمانی کرے تو آخرت میں عذاب بھگتے، اس لیے وہ آگ سے محفوظ رہنے کی دعا کرتے رہتے ہیں۔
Ayah 3:193رَبَّنَآ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا۔۔ : اس سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں یا قرآن یا پھر ہر وہ شخص مراد ہوسکتا ہے جو دعوت حق پیش کرے۔
رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا : اس میں اپنے ایمان لانے کے عمل کے وسیلے سے گناہوں کی مغفرت کی دعا ہے اور یہ مسنون ہے۔
Ayah 3:194رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا : یعنی تو نے ہم سے اپنے رسولوں کے ذریعے سے ان کی تصدیق اور اتباع کرنے پر دنیا اور آخرت میں جس نصرت اور اجر و ثواب کا وعدہ فرمایا ہے، وہ ہمیں عطا فرما۔
2ۭاِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ : یعنی ہمیں یہ ڈر تو نہیں کہ تو وعدہ خلافی کرے گا، بلکہ ہمیں ڈر اپنے ہی اعمال سے ہے کہ یہ اچھے نہیں ہیں، کہیں ہماری رسوائی کا باعث نہ بنیں، اگر تو اپنی رحیمی و کریمی اور غفاری سے ہماری کوتاہیوں کو معاف فرما دے اور ہمیں رسوائی سے بچا لے تو ہماری عین سرفرازی اور تیری بندۂ نوازی ہے۔ پس کلمہ (ۭاِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ) سے مقصد عاجزی، خشوع اور بندگی کا اظہار ہے نہ کہ اس کا مطالبہ، کیونکہ اللہ تعالیٰ سے وعدہ خلافی تو محال ہے، پھر مومن کوئی تصور کیسے کرسکتے ہیں۔ (رازی) دعا اور اس کی قبولیت کا یہ وعدہ ایمان اور عمل صالح پر ہے، دعا میں اس کا وسیلہ بھی پیش کرسکتے ہیں، جیسا کہ غار، میں پھنس جانے والے تین آدمیوں نے کیا تھا، البتہ دعا کی قبولیت کے لیے کسی نیک ہستی کو وسیلہ بنانا کہ یا اللہ ! فلاں کے طفیل میری یہ مشکل حل فرما دے، قرآن و حدیث میں مذکور دعاؤں کے خلاف ہے۔ ہاں، کسی زندہ آدمی سے دعا کروائی جاسکتی ہے اور یہ سنت سے ثابت ہے۔
Ayah 3:195فَاسْتَجَابَ لَھُمْ رَبُّھُمْ۔۔ : یعنی انھوں نے اس طرح دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی۔ پھر ان کی دعا کی قبولیت کی صورت اور کیفیت کا بھی ذکر فرما دیا کہ باری تعالیٰ کسی عامل کے عمل کو ضائع نہیں کرتا۔ اس میں مرد و عورت کا بھی کوئی فرق نہیں، کیونکہ ان کا بعض بعض سے ہے، وہ کوئی الگ الگ مخلوق نہیں ہیں۔ اخروی نجات اور اللہ کے ہاں درجات حاصل کرنے میں مرد و عورت دونوں برابر ہیں، ہاں، مرد و عورت کی جداگانہ ذمہ داریوں کے اعتبار سے فطرتاً ان کی صلاحیتوں میں فرق ہے۔ [ دیکھیے النساء : 32، 34 ]
2 فَالَّذِيْنَ ھَاجَرُوْا۔۔ : یعنی جنھوں نے دین کی خاطر اپنی خوشی سے ہجرت کی، اپنے وطن اور مال و منال کو خیر باد کہہ کر مرکز اسلامی میں پہنچ گئے اور وہ لوگ جن پر کفار نے ظلم و ستم ڈھائے، انھیں سخت اذیتیں دے کر گھر بار چھوڑنے پر مجبور کردیا، انھیں کسی طرح چین سے نہ بیٹھنے دیا اور انھیں محض اس لیے تکالیف کا نشانہ بنایا کہ انھوں نے دین اسلام کی راہ اختیار کی، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : (يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا باللّٰهِ رَبِّكُمْ) [ الممتحنۃ : 1 ] ”یہ کافر پیغمبر ﷺ کو اور تمہیں گھروں سے محض اس جرم کی پاداش میں نکالتے ہیں کہ تم اپنے رب پر ایمان رکھتے ہو۔“ نیز فرمایا : (وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْد) [ البروج : 8 ] ”اور انھوں نے ان سے اس کے سوا کسی چیز کا بدلہ نہیں لیا وہ اس اللہ پر ایمان رکھتے ہیں جو سب پر غالب ہے ہر تعریف کے لائق ہے۔“
Ayahs 3:196–198لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِي الْبِلَادِ۔۔ : اوپر کی آیات میں مومنوں کے گناہ بخشنے اور ثواب عظیم کا وعدہ فرمایا، حالانکہ وہ فقر و فاقہ کی حالت میں زندگی بسر کر رہے تھے۔ ان کے بالمقابل کفار نہایت عیش و نعمت میں تھے، انھیں دیکھ کر بعض اوقات مسلمان غلط فہمیوں کا شکار ہوجاتے اور مختلف خیالات کی دنیا میں چلے جاتے، لہٰذا ان آیات میں مسلمانوں کا ذہن صاف کرنے کے لیے کفار کا انجام بیان فرمایا اور مسلمانوں کو تسلی دی ہے۔ انس بن مالک ؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نیکی کے معاملہ میں مومن کے ساتھ ناانصافی نہیں کرتا، اسے اس نیکی کا بدلہ دنیا میں بھی دیتا ہے اور آخرت میں بھی اور کافر جو نیکیاں اللہ کے لیے کرتا ہے اس کا بدلہ اسے دنیا ہی میں پورا دے دیا جاتا ہے، پھر جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کی کوئی نیکی باقی نہیں ہوگی کہ اس کا بدلہ اسے دیا جائے۔“ [ مسلم، صفات المنافقین، باب جزاء المؤمنین۔۔ : 2808 ] مقصد یہ ہے کہ شہروں میں کفار کے تجارتی کاروبار، ان کی خوش حالی اور مال و دولت کی فراوانی کو دیکھ کر مسلمانوں کے دلوں میں کسی قسم کا حزن و غم نہیں آنا چاہیے، نہ ان کو نا امیدی کا شکار ہونا چاہیے، نہ منافقین کا سا طرز عمل اختیار کرنچا چاہیے۔ جو سختی اور خوف کے وقت پکار اٹھتے ہیں : (مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اِلَّا غُرُوْرًا) [ الأحزاب : 12 ] ”پیغمبر نے تو ہم سے محض فریب اور دھوکے کا وعدہ کیا ہے۔“ کفار کی دنیوی خوشحالی سے کفر کے حق ہونے پر استدلال کرنا چاہیے، یہ چند روزہ زندگی کا قلیل سا سامان اور عارضی بہار ہے، مرنے کے بعد ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ نہایت برا ٹھکانا ہے۔ اس کے مخاطب بظاہر تو رسول اللہ ﷺ ہیں مگر مراد امت ہے۔ اس کے بعد اگلی آیت میں مومنین کی جزا کا ذکر فرمایا، تاکہ مزید تشفی حاصل ہو اور یہ چونکہ کفار کے مقابلے میں بیان کی جا رہی ہے، اس لیے ”لکن“ کا لفظ بطور استدارک ذکر فرمایا۔ (المنار)