آج کے صدقات قیامت کے دن شریک غم ہوں گے
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم کرتا ہے کہ وہ بھلائی کی راہ میں اپنا مال خرچ کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کے پاس ان کا ثواب جمع رہے، اور پھر فرماتا ہے کہ اپنی زندگی میں ہی خیرات و صدقات کرلو، قیامت کے دن نہ تو خریدو فروخت ہوگی نہ زمین بھر کر سونا دینے سے جان چھوٹ سکتی ہے، نہ کسی کا نسب اور دوستی و محبت کچھ کام آسکتی ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ) 23۔ المؤمنون :101) یعنی جب صور پھونکا جائے گا اس دن نہ تو نسب رہے گا نہ کوئی کسی کا پرسان حال ہوگا، اور اس دن سفارشیوں کی سفارش بھی…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 276
مراد راہ خدا میں خرچ کرنا ہے۔ ارشاد یہ ہو رہا ہے کہ جن لوگوں نے ایمان کی راہ اختیار کی ہے، انہیں اس مقصد کے لیے، جس پر وہ ایمان لائے ہیں، مالی قربانیاں برداشت کرنی چاہییں۔
سورة الْبَقَرَة 277
یہاں کفر کی روش اختیار کرنے والوں سے مراد یا تو وہ لوگ ہیں جو خدا کے حکم کی اطاعت سے انکار کریں اور اپنے مال کو اس کی خوشنودی سے عزیز تر رکھیں۔ یا وہ لوگ جو اس دن پر اعتقاد نہ رکھتے ہوں جس کے آنے کا خوف دلایا گیا ہے۔ یا پھر وہ لوگ جو اس خیال خام میں مبتلا ہوں کہ آخرت میں انہیں کسی نہ کسی طرح نجات خرید لینے کا اور دوستی و سفارش سے کام نکال لے جانے کا موقع حاصل ہو ہی جائے گا۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
انفاق فی سبیل اللہ میں تعجیل کرنا
اے ایمان والو خرچ کرلو ان چیزوں سے جو ہم نے تم کو دی ہیں قبل اس کے کہ وہ دن آجاوے (یعنی قیامت کا دن) جس میں (کوئی چیز اعمال خیر کا بدل نہ ہوسکے گی کیونکہ اس میں) نہ تو خریدو فروخت ہوگی (کہ کوئی چیز دے کر اعمال خیر کی خرید کرلو) اور نہ (ایسی) دوستی ہوگی (کہ کوئی تم کو اپنے اعمال خیر دیدے) اور نہ (بلا اذن الہیٰ کسی کی) کوئی سفارش ہوگی (جس سے اعمال خیر کی تم کو حاجت نہ رہے) اور کافر ہی لوگ ظلم کرتے ہیں (کہ اعمال اور مال کو بےموقع استعمال کرتے ہیں اس طرح کہ طاعات بدنیہ ومالیہ کو ترک اور معصیت مالیہ وبدنیہ کو اختیار کرتے ہیں تم تو ایسے نہ بنو)
معارف و…
Read the full tafseer →انفاق کی دلیل اور اس کی تسہیل : اوپر آیت 245 میں انفاق کی جو دعوت گزری ہے، یہ اس کی مزید تفصیل ہے۔ مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ میں جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں۔ انفاق کی دلیل بھی ہے اور اس کی تسہیل بھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تم سے انفاق کا جو مطالبہ کر رہا ہے تو یہ تم پر گراں نہ گزرے۔ وہ تم سے کوئی تہاری چیز نہیں مانگ رہا ہے بلکہ اپنی ہی بخشی ہوئی چیز مانگ رہا ہے۔ پھر یہ نہیں ہے کہ جو کچھ اس نے بخشا ہے اس سارے کے لیے اس کا مطالبہ ہے بلکہ وہ اس میں سے صرف ایک حصہ کے انفاق کا مطالبہ کر رہا ہے۔
پھر فرمایا کہ اس دنیا کے مال و متاع کا کوئی ابدی و دائمی نفع ہے تو صرف اسی صورت میں ہے جب آج اس کو خدا…
Read the full tafseer →254۔ 1 یہود و نصاریٰ اور کفار مشرکین اپنے اپنے پیشواؤں، نبیوں، ولیوں، بزرگوں اور مرشدوں کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ پر ان کا اتنا اثر ہے کہ وہ اپنی شخصیت کے دباؤ سے اپنے پیروکاروں کے بارے میں جو بات چاہیں اللہ سے منوا سکتے ہیں اور منوا لیتے ہیں اسی کو وہ شفاعت کہتے ہیں یعنی ان کا عقیدہ تقریباً وہی تھا جو آجکل کے جاہلوں کا ہے کہ ہمارے بزرگ اللہ کے پاس آ کر بیٹھ جائیں گے اور بخشوا کر اٹھیں گے اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے یہاں ایسی کسی شفاعت کا کوئی وجود نہیں پھر اس کے بعد آیت الکرسی میں اور دوسری متعدد آیات و احادیث میں بتایا گیا کہ اللہ کے یہاں ایک دوسری قسم کی شفاعت بیشک ہوگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 254–257
173: اس سے مراد قیامت کا دن ہے
Read the full tafseer →اہل ایمان کے دلوں سے یہ ایک محبت بھری اپیل ہے ۔ یہ اپیل اہل ایمان اور اپیل کنندہ کے درمیان ایک روحانی رابطہ ہے کیونکہ وہ ذات باری پر ایمان لائے ہوئے ہیں ۔” اے ایمان لانے والو ! “
اپیل یہ ہے کہ جو ہم نے تمہیں عطا کیا ہے اس کا ایک حصہ ہمیں دے دد۔ آخر ہم ہی دینے والے ہیں اور داتا ہیں اور ہم ہی اپنے دئیے سے کچھ مانگ رہے ہیں۔ أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ........ ” اور جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے ، اس میں سے خرچ کرو۔ “
دیکھو ایسے مواقع بار بار نہیں آتے ۔ اگر تم نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا تو پھر یہ مواقع نصیب نہ ہوں گے ۔ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لا بَيْعٌ فِيهِ وَلا خُلَّةٌ وَلا…
Read the full tafseer →3 اس سورت میں عبادات و معاملات کے متعلق احکام کثیرہ بیان فرمائے جن سب کی تعمیل نفس کو ناگوار اور بھاری ہے اور تمام اعمال میں زیادہ دشوار انسان کو جان اور مال کا خرچ کرنا ہوتا ہے اور احکام الہٰی اکثر جو دیکھے جاتے ہیں یا جان کے متعلق ہیں یا مال کے اور گناہ میں بندہ کو جان یا مال کی محبت اور رعایت ہی اکثر مبتلا کرتی ہے گویا ان دونوں کی محبت گناہوں کی جڑ اور اس سے نجات جملہ طاعات کی سہولت کا منشاء ہے اس لئے ان احکامات کو بیان فرما کر قتال اور انفاق کو بیان فرمانا مناسب ہوا (وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ) 2 ۔ البقرۃ :244) اول کا بیان تھا تو (مَنْ…
Read the full tafseer →تقریباً دو رکوعوں پر مشتمل طالوت اور جالوت کی جنگ کے واقعات ہم پڑھ چکے ہیں اور اب گویا غزوۂ بدر کے لیے ذہنی اور نفسیاتی تیاری ہو رہی ہے۔ غزوات کے لیے جہاں سرفروشی کی ضرورت ہے وہاں انفاق مال بھی ناگزیر ہے۔ چناچہ اب یہاں بڑے زور دار انداز میں انفاق مال کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔ جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے ‘ سورة البقرۃ کے نصف آخر میں چار مضامین تکرار کے ساتھ آئے ہیں۔ یعنی انفاق مال ‘ قتال ‘ عبادات اور معاملات۔ یہ گویا چار ڈوریاں ہیں جو ان بائیس رکوعوں کے اندر تانے بانے کی طرح گتھی ہوئی ہیں۔
آیت 254 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ…
Read the full tafseer →259 یہاں انفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ مال سے محبت انسان کی فطرت میں داخل ہے اور اگر اس میں سے خرچ نہ کیا جائے تو یہ بات انسان کے لیے فتنہ اور اس کی ہلاکت کا سبب بن جاتی ہے۔ علاوہ ازیں اے مسلمانو ! جس دین پر تم ایمان لائے ہو اس کی راہیں ہموار کرنے اور اس کے قیام کے لیے مال کی ضرورت ہوتی ہے اور معاشرہ میں ناتواں اور محتاج افراد کی مدد کرنے کے لیے بھی اور ایسے ہی صدقات آخرت میں انسان کی نجات کا سبب بنیں گے لہذا اس طرف خصوصی توجہ دلائی گئی۔ ایک دفعہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کونسا صدقہ اجر کے لحاظ سے بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جو تندرستی کی حالت میں کرے، حرص رکھتا ہو، فقر سے…
Read the full tafseer →،975 ۔ اللہ کی راہ میں مصارف خیر میں) (آیت) ” رزقنکم “ ضمیر متکلم لا کر اور رزق کو اپنی جانب منسوب کرکے صاف بتایادیا کہ مالی دولت جو کچھ بھی بندوں کے پاس ہے خود بخود سے نہیں خدا ہی کا بخشا ہوا عطیہ ہے، اسی کی دین ہے اور اسی کو حق حاصل ہے کہ جن کاموں میں چاہے ان کے صرف کرنے کا حکم دے دے۔
،976 ۔ یعنی روز قیامت۔ مطلب یہ ہے کہ مصارف خیر میں صرف کرنے اور نیکیاں جمع کرنے کا موقع جو کچھ ہے اسی دنیا میں ہے، وقت کی قدر کرو، فرصت عمر کو نعمت سمجھو۔
،977 ۔ (اپنے حق میں) ” ظلم “۔ کے اصلی معنی وضع الشیء فی غیر محلہ (کسی شے کو اس کے صحیح مقام پر نہ رکھنے) کے ہیں۔ اللہ یا اس کے قانون کو نہ ماننے سے بڑھ کر…
Read the full tafseer →آیت نمبر 254 تا 257
ترجمہ : اے ایمان والو ! جو کچھ ہم نے تمہیں بخشا ہے اس میں سے خرچ کرو (یعنی) اس کی زکوٰۃ ادا کرو، قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی، اور نہ نفع بخش دوستی اور نہ اس کی اجازت کے بغیر شفاعت، اور وہ قیامت کا دن ہے، اور ایک قراءت میں تینوں یعنی بَیْعٌ، خُلَّۃٌ، شَفاعۃٌ، کے رفع کے ساتھ ہے اور اللہ کے منکر یا ان (احکام) کے منکر جو ان پر فرض کئے ہیں، ہی تو ظالم ہیں ان کے اللہ کے حکم کو غیر محل میں رکھنے کی وجہ سے اللہ وہ زندہ جاوید ہستی ہے کہ اس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں جو (تمام کائنات) کو سنبھالے ہوئے ہے، قیوم وہ ذات ہے جو اپنی مخلوق کے قیام کی تدبیر میں…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ (اے اہل ایمان ہم نے اپنے عطا کردہ رزق میں سے جس چیز کو خرچ کرنا تم پر واجب کردیا ہے اس کو خرچ کرو۔
مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ (اس دن کے آنے سے پہلے جس میں تم اپنے قصور کی تلافی اور عذاب خداوندی سے بچاؤ نہیں کرسکو گے۔
لَّا بَيْعٌ (کیونکہ اس روز خریدو فروخت نہ ہوگی کہ مال حاصل کرکے راہ خدا میں خرچ کرسکو یا عذاب سے اپنی جانوں کو بچانے کے لیے بطور عوض مال دے سکو۔
فِيْهِ وَلَا خُلَّةٌ (اور نہ دوستی ہوگی کہ دوست تمہاری مدد کرسکیں یا دوستی کی وجہ سے چشم پوشی کرسکیں۔
وَّلَا شَفَاعَةٌ (اور نہ بغیر اذن خدا سفارش ہوگی) ابو عمرو…
Read the full tafseer →(254) اب اللہ تعالیٰ صدقہ و خیرات کی ترغیب دیتے ہیں کہ جو مال ہم نے تمہیں دیے ہیں قیامت کے آنے سے پہلے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو، جس دن نہ فدیہ ہوگا اور نہ دوستی اور نہ کافروں کے لیے کسی قسم کی شفاعت ہوگی اور کافر تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے والے ہیں۔
Read the full tafseer →انسان پر سب سے زیادہ مشکل جان و مال کی قربانی ہے اور عموماً شریعت کے احکام کا تعلق ان دونوں سے ہے۔ اس سورت میں پہلے (وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ) [ البقرۃ : 246 ] فرما کر جہاد کا حکم دیا اور آیت : (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ۔۔) [ البقرۃ : 245 ] سے جہاد کے لیے مال خرچ کرنے کی ترغیب دی، اس کے بعد طالوت کے قصے کے ساتھ پہلے حکم کی تاکید کی اور اس آیت کے ساتھ دوسرے حکم کی تاکید کے لیے دوبارہ مال خرچ کرنے کا حکم دیا۔ (رازی)
مقصد یہ کہ انسان دنیاوی اسباب و وسائل کو چھوڑ کر اکیلا ہی اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوگا۔ لہٰذا آخرت میں نجات کے لیے صدقہ و خیرات اور اس جیسے نیک اعمال کو وسیلہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 254
حسن نے کہا ہے : یہ فرض زکوۃ کا ذکر ہے۔ اور ابن جریج اور سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علہیم نے کہا ہے : یہ آیت فرض زکوۃ اور نفلی صدقات وغیرہ کو جامع ہے۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ صحیح ہے لیکن سابقہ آیات قتال کے ذکر میں ہیں۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ مومنین کے ساتھ اس کو روکتا ہے جو کافروں کے سینوں میں ہے اور اس سے یہ موقف ترجیح پاتا ہے کہ اس سے مراد ندبا اور مستحبا اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنا ہے۔ اور آیت کے آخر میں یہ قول اسے مزید تقویت دیتا ہے۔ (آیت) ” والکفرون ھم الظلمون “۔ یعنی تم ان سے اپنی جانوں کے ساتھ لڑتے ہوئے اور اموال خرچ کرتے ہوئے مقابلہ کرو۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 1،…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر ابن المنذر ابن جریج سے روایت کیا ہے کہ اس (آیت میں) لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا انفقوا مما رزقنکم “ میں زکوٰۃ اور نفل صدقہ میں (خرچ کرنا) مراد ہے۔
(2) ابن المنذر نے حضرت سفیان ؓ سے روایت کیا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ زکوٰۃ کے حکم نے قرآن مجید میں موجود ہر صدقہ کو منسوخ کردیا اور رمضان کے مہینہ نے ہر روزہ کو منسوخ کردیا۔
(3) عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ جان لیا کہ لوگ ایک دوسرے سے دوستی رکھتے دنیا میں اور بعض بعض کی سفارش کرتے ہیں لیکن قیامت کے دن کوئی دوستی کام نہیں آئے گی مگر متقین لوگوں کی دوستی کام آئے گی۔
(4)…
Read the full tafseer →[ یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو ! جو ] [اٰمَنُوْآ : ایمان لائے ] [اَنْفِقُوْا : تم لوگ خرچ کرو ] [مِمَّا : اس میں سے جو ] [رَزَقْنٰـکُمْ : ہم نے دیا تم کو ] [مِّنْ قَـبْلِ : اس سے پہلے ] [اَنْ : کہ ] [یَّـاْتِیَ : آئے ] [یَوْمٌ : وہ دن ] [لاَّ بَیْعٌ : کوئی سودا نہیں ہے
فِیْہِ : جس میں ] [وَلاَ خُلَّـۃٌ : اور نہ کوئی دوستی ہے ] [وَّلاَ شَفَاعَۃٌ : اور نہ ہی کوئی شفاعت ہے ] [وَالْکٰفِرُوْنَ : اور انکار کرنے والے ] [ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ : ہی ظالم ہیں ]
ب ی ع
بَاعَ (ض) بَیْعًا : فروخت کرنا ‘ سودا کرنا۔
بَیْع ٌ (اسم ذات) : سودا ‘ آیت زیر مطالعہ۔
بِیَعٌ (اسم ذات) : عبادت خانہ ‘ معبد۔ {…
Read the full tafseer →روز قیامت آنے سے پہلے پہلے اللہ کے لیے خرچ کرلو
اس آیت شریفہ میں مال خرچ کرنے کا حکم فرمایا ہے اور لفظ رَزَقْنَاکُمْ میں یہ بتادیا کہ یہ مال ہمارا ہی دیا ہوا ہے جس نے مال دیا اس کو پورا پورا حق ہے کہ مال خرچ کرنے کا حکم فرمائے نیک کاموں میں فرائض واجبات کے مصارف بھی ہیں اور مستحب و نفلی صدقات بھی اور جس طرح بدنی عبادات (نماز روزہ) آخرت کے عذاب سے بچانے کا ذریعہ ہیں۔ اسی طرح مالی عبادات بھی اس کا سبب ہیں۔
صحیح بخاری ص 191 ج 1 میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا (اِتَّقُوا النَّار وَلَوْ بَشَقِّ تَمْرَۃٍ ) (دوزخ سے بچو اگرچہ آدھی ہی کھجور کا صدقہ کر دو ) قیامت کا دن بہت سخت ہوگا نفسا نفسی کا…
Read the full tafseer →ترغیبات وترہیبات دربارہ صدقات ونفقات
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا انفقوا۔۔۔ الی۔۔۔ الظالمون۔
ربط) ۔ دورکوع پیشتر اللہ جل شانہ نے دو حکم دیے ایک جہاد اور دوسرا اللہ تعالیٰ کو قرض دینے کا پہلے حکم کی تائید اور تقویت کے لیے طالوت اور جالوت کا قصہ ذکر فرمایا اب دوسرے حکم کی تائید اور تقویت کے لیے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیبات اور ترہیبات کو بیان فرمایا یہ بیان دور تک چلا گیا ہے۔ نیز گزشتہ آیت فمنھم من امن ومنھم من کفر۔ آیت۔ میں مکلفین کو دو قسموں پر منقسم فرمایا مومن اور کافر، اب اس آیت میں اہل ایمان کو اپنے خطاب سے عزت دی اور ان کو اہل ایمان کے لقب سے مخاطب فرمایا اے ایمان والو اس رزق…
Read the full tafseer →499 یعنی نیکی کمانے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا موقع اس دنیا ہی میں ہے۔ دنیا میں کی ہوئی نیکی اور دنیا میں دی ہوئی خیرات ہی آخرت میں کام آئے گی۔ آخرت میں نہ تو تجارتی کاروبار ہوگا کہ عذاب سے بچنے کے لیے فدیہ کی رقم کما لے نہ وہاں دوست کام آئیں گے اور نہ ہی کسی کی سفارش کام آسکے گی یہاں اس شفاعت کے نافع ہونے کی نفی ہے۔ جس کے مشرکین قائل تھے یعنی شفاعت قہری۔ وَالْكٰفِرُوْنَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ یہاں واؤ تعلیلیہ ہے۔ مطلب یہ کہ جہاد میں خرچ کرو۔ کیونکہ یہ کافر مشرک ہیں۔ اور شرک کو دنیا سے مٹانا ہے۔ اللہ کے مقرر کیے ہوئے اصول عقائد اور آئین حیات کو نہ ماننے والے ہی اصل ظالم ہیں۔ جو خدا کی…
Read the full tafseer →گذشتہ درس میں نبوت اور رسالت کا ذکر تھا۔ اس سے پہلے جہاد کا تذکرہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جہاد کی حکمت بھی واضح فرمائی ہے۔ اس آیت میں اتفاق فی سبیل اللہ کا بیان ہے اس کا تعلق اس آیت کے ساتھ ہے۔ جس میں بنی اسرائیل کا ذکر ہے کہ ان کا ایک گروہ موت کے ڈر سے بھاگ کھڑا ہوا۔ پھر اللہ نے انہیں راستہ میں موت دیدی پھر اپنے خاص فضل سے انہیں دوبارہ زندگی عطا کی۔ وہاں پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا قاتلوا فی سبیل اللہ اللہ کے راستے میں دشمنانِ خدا اور دشمنان دین ہے ٹکراجائو۔ اور پھر درمیان میں یہ بھی فرمایا ” من ذالذی یقرض اللہ قرضاً حسناً “ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنا دے۔ اور اللہ اسے بڑھا چڑھا کر عطا کریگا یہ مال…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْہِ وَلَا خُلَّۃٌ وَّلَا شَفَاعَۃٌ 0 ۭ وَالْكٰفِرُوْنَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ 254
نفق
نَفَقَ الشَّيْءُ : مَضَى ونَفِدَ ، يَنْفُقُ ، إِمَّا بالبیع نحو : نَفَقَ البَيْعُ نَفَاقاً ، ومنه : نَفَاقُ الأَيِّم، ونَفَقَ القَوْمُ : إذا نَفَقَ سُوقُهُمْ ، وإمّا بالمَوْتِ نحو : نَفَقَتِ الدَّابَّةُ نُفُوقاً ، وإمّا بالفَنَاءِ نحو : نَفِقَتِ الدَّرَاهِمُ تُنْفَقُ وأَنْفَقْتُهَا . والإِنْفَاقُ قد يكون في المَالِ ، وفي غَيْرِهِ ، وقد يكون واجباً وتطوُّعاً ، قال تعالی: وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ…
Read the full tafseer →ترکیب : انفقوا۔ اس کا مفعول شیاء محذوف ہے ‘ مما میں مابعنی الذی اور عائد محذوف ہے ای رزقنا کموہ۔ لابیع فیہ جملہ صفت یوم ولاخلۃ ولا شفاعۃ معطوف ہے بیع پر اللّٰہ مبتداء لا الہ الا ہو جملہ خبر الحی القیوم خبر ثانی لا تاخذہ الخ جملہ مستانفہ اور ممکن ہے کہ خبر ہو حی کی سنۃ اصل میں وسنۃ مثل وعدیعدعدۃ۔
تفسیر : پہلے خدا تعالیٰ نے جہاد کا حکم دیا تھا اور قاتلوا فی سبیل اللّٰہ فرمایا تھا جس طرح اس کی تائید اور فوائد ظاہر کرنے کے لیے طالوت کا قصہ سنایا تاکہ ترقی دارین دل پر جم جاوے۔ اس کے بعد اللہ کی راہ میں صرف کرنے کی تاکید کی تھی کہ من ذالذی یقرض اللّٰہ قرضاً حسناً اسی طرح اس حکم کی تائید کے لیے پھر…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِِمَّا رَزَقْنٰـکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْہِ وَلَاخُلَّـۃٌ وَّلَا شَفَاعَۃٌ ط وَالْـکٰفِرُوْنَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔
(اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ! خرچ کرو اس سے جو کچھ ہم نے تمہیں بخشا ہے اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ خریدوفروخت ہوگی اور نہ دوستی کام آئے گی اور نہ کسی کی سفارش نفع پہنچائے گی۔ اور جو لوگ کافر ہیں وہی اپنے اوپر ظلم ڈھانے والے ہیں) (254)
گزشتہ دو رکوع سے مختلف اسالیب بدل بدل کر جہاد اور انفاق کا مضمون بیان کیا جا رہا تھا کہ درمیان میں دو آیتیں جملہ معترضہ کے طور پر آگئیں۔ اس کا سبب یہ معلوم ہوتا ہے کہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : انبیاء (علیہ السلام) کے مراتب ‘ ان کے ادوار اور جدوجہد کے انداز کا فرق بیان کرنے کے بعد انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیا جو دنیا میں کامیابی کا اہم عنصر اور آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنی عدالت عظمیٰ کے اصول بتلاتے ہیں کہ جس دن تمہیں اس کے حضور پیش ہونا ہے اس دن کوئی لین دین نہیں ہوگا۔ آج وہ تمہیں بار بارحکم دیتا ہے کہ آؤ میرے راستے میں خرچ کرو۔ یہ میرے ساتھ تمہارا لین دین ہے۔ تمہارا خرچ کرنا رائیگاں نہیں جائے گا بلکہ تمہیں اس کے بدلے کئی گنا زیادہ عطا ہوگا۔ مگر یہ لین دین صرف دنیا کی زندگی میں ہے۔ اس کے بعدآخرت میں اپنی نجات کے بدلے تم سب کچھ دینے کے لیے تیار…
Read the full tafseer →آیت 254:
یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰکُمْ (اے ایمان والو ! تم خرچ کرو اس میں سے جو ہم نے تمہیں دیا) یعنی جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کرو۔
یا دوسرا قول : (اس سے مراد ہر صدقہ واجبہ زکوٰۃ وغیرہ ہے)
عدم تدارک کا دن :
مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لاَّبَیْعٌ فِیْہِ (اس سے پہلے کہ ایسا دن آئے کہ جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی) یعنی اس سے پہلے کہ ایسا دن آئے کہ جس میں تم اس انفاق کا تدارک نہ کرسکو گے جو رہ جائے کیونکہ اس دن میں نہ خریدو فروخت ہوگی کہ اس میں تم خریدلو جو تم نے خرچ کرنا ہو۔
وَّلاَ خُلَّۃٌ(اور نہ دوستی ہوگی) کہ دو دوست دوستی کا لحاظ کر کے چشم پوشی…
Read the full tafseer →(تفسیر) 254۔:
(آیت)” (یایھا الذین ۔۔۔۔۔ رزقناکم) امام سدی (رح) فرماتے ہیں کہ انفاق سے مراد زکوۃ ادا کرنا ہے ان کے علاوہ بعض حضرات نے کہا کہ انفاق سے مراد نفلی صدقہ اور نیک کاموں میں خرچ کرنا ہے ۔ (من قبل ۔۔۔۔۔۔۔۔ بیع فیہ) یعنی نہ کوئی فدیہ دے کر اپنی جان چھڑا سکتا ہے اس کو یہاں بیع کا نام دیا گیا کیونکہ فدیہ بھی اپنی جان کے بدلے میں ہی ہوتا ہے (ولاخلۃ) خلۃ سے مراد دوستی ہے کہ نہ وہاں کسی کی دوستی کام آئے گی (ولا شفاعۃ) مگر اس کی اجازت کے بغیر ، ابن کثیررحمۃ اللہ علیہ اور اہل بصرہ کے قراء نے یہاں نصب کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی طرح سورة ابراہیم میں ” لا بیع ولا خلال “۔ اور سورة طور میں ” لغو ولا…
Read the full tafseer →بعض مفسروں کا یہ قول ہے کہ یہ آیت زکوٰۃ اور نفلی صدقہ دونوں کے باب میں نازل ہوئی ہے آخر آیت میں آیت کے حکم کے موافق جو لگ مال نہ خرچ کریں ان کو کافر ظالم جو فرمایا ہے اس سے اس قول کی تائید بھی ہوتی ہے کیونکہ اس طرح کا سخت وعید زکوٰۃ کے منکر کے حق میں ہی صادق آسکتا ہے نفلی صدقہ سے ہاتھ کھینچنے والے شخص کے حق میں کافر و ظالم کا وعید نہیں صادق آسکتا۔ لیکن یہ تفسیر انہی مفسرین کے نزدیک صحیح ہوسکتی ہے جو رمضان کے روزہ کو رکن دوم اور زکوٰۃ کو رکن سوم کہتے ہیں اور رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد زکوٰۃ کی فرضیت کے قائل ہیں اور جو مفسرین اس بات کے قائل ہیں کہ زکوٰۃ تو مکہ میں فرض ہوئی ہے لیکن اس کے…
Read the full tafseer →اللہ کا اپنے بندوں پر یہ بھی احسان ہے کہ اس نے حکم دیا ہے کہ اسی کے دیے ہوئے رزق میں سے تھوڑا سا واجب اور مستحب صدقہ پیش کریں تاکہ ان کے لئے ثواب کا ذریعہ ہوجائے اور انہیں اس دن زیادہ ہو کر ملے جس دن ایک ذرہ برابر نیکی کی ضرورت ہوگی تو مل نہیں سکے گی۔ اگر انسان زمین بھر سونا فدیہ کر دے تاکہ اس دن کے عذاب سے بچ جائے، تو اس کی یہ پیش کش قبول نہیں کی جائے گی۔ نہ کوئی دوست اس کے کام آسکے گا وجاہت کے ذریعے سے، نہ شفاعت کے ذریعے سے۔ اس دن اہل باطل خسارے میں ہوں گے اور ظالم رسوا ہوں گے۔ ظالم وہ ہیں جو ایک چیز کو اس کے محل سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھ دیتے ہیں۔ پس انہوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 250–256
قول باری ہے (لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی، (a) دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے صحیح بات غلط بات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے) ۔ ضحاک، سدی اور سلیمان بن موسیٰ سے مروی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے اور اس کی ناسخ یہ آیت ہے (یآیھا النبی جاھد الکفار والمنافقین، (a) اے نبی کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو) ۔
نیز یہ قول باری ہے (فاقتلوا المشرکین، (a) مشرکین کو قتل کرو) حسن بصری اور قتادہ سے مروی ہے کہ یہ آیت اہل کتاب کے ساتھ خاص ہے جنہوں نے جزیہ ادا کرنا قبول کرلیا تھا۔ مشرکین عرب کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ہے کیونکہ ان کے حق میں جزیہ قابل قبول نہیں ہے۔ ان کے لئے صرف ایک ہی راستہ…
Read the full tafseer →728 اِنفاق فی سبیل اللہ کا حکم و ارشاد : سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ خرچ کرو [ ہماری رضا و خوشنودی کے لیے ] اس مال و متاع میں سے جو ہم ہی نے تم لوگوں کو دیا بخشا ہے قبل اس سے کہ اس کی فرصت و مہلت تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور تم لوگوں کو ہمیشہ کے لیے بچھتانا پڑے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا عقل و نقل کا تقاضا اور دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ و وسیلہ ہے، یعنی جب دیا ہوا سب کچھ ہمارا ہی ہے، تو اس کو بلکہ اس میں سے بھی " بعض " اور " کچھ "، کو ہما ری راہ میں خرچ کرنا تم لوگوں کو گراں کیونکر ہو۔ اور خاص کر جبکہ اس خرچ کا فائدہ بھی خود تم ہی کو واپس…
Read the full tafseer →اللہ کی راہ میں خرچ
تشریح : اس آیت میں ایک تو اللہ کی قدرت کا ذکر ہے کہ انسان کو مال و دولت اور صحت و تندرستی غرض ہر چیز اسی کی ہی دی ہوئی ہیں۔ اس لئے انسان کو حکم دیا گیا ہے کہ تم تو صرف اس دنیا میں کچھ عرصہ کے لئے بھیجے گئے ہو تو اس دنیا سے جانے سے پہلے پہلے اللہ کی دی ہوئی ہر نعمت اللہ کی راہ میں خوشی سے خوب خرچ کرو۔ کیونکہ یہ خرچ کیا ہوا تمہارے بہت کام آئے گا، جو مال تم برے کاموں کے لئے خرچ کرو گے وہ مرنے کے بعد تمہارے کام اس طرح آئے گا کہ تمہیں عذاب ملے گا۔ لیکن اللہ کی راہ میں یعنی نیک کاموں کے لئے جو بھی تم خرچ کرو گے اس سے کئی گنا زیادہ تمہیں ثواب کی صورت میں دے دیا جائے گا۔ اگر انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 254–257
آیات 254- 257
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا انفقوا………………والکفرون ھم الظلمون۔
اصلاح احوال کی بنیاد :
اصلاح احوال کی بنیاد معاشیات پر ہے اگر دیکھا جائے تو تمام مذاہب باطلہ کا ماحصل دنیاوی خواہشات کی تکمیل کی آرزو ہے انسان مختلف امور میں ساری محنت حصول زر پہ کرتا ہے کہ تکمیل خواہشات کا بہت بڑا ذریعہ دولت ہی ہے اور یہیں سے اختلافات اور فسادات کی ابتداء ہوتی ہے لیکن اگر دولت کے خرچ کو محدود کردیا جائے تو ناجائز ذرائع سے حصول دولت کی ضرورت رہتی ہے نہ فائدہ۔
دنیا کی معاشی نظام صرف حصول زر کے قواعد سے بحث کرتے ہیں ، مگر اسلام رزق کو اللہ کی طرف سے تسلیم کرتا ہے کہ انسان صرف محنت کرنے کا مکلف ہے رزق…
Read the full tafseer →ف 6 انسان پر سب سے زیادہ مشکل جان ومال کی قربانی ہے اور عموما شریعت کے احکام کا تعلق ان دونوں سے ہے۔ اس سورت میں پہلے قاتلو افی سبیل اللہ فرماکر جہاد کا حکم دیا اور آیت من ذالذی یقرض اللہ " سے جہاد کے لیے مال خرچ کرنے کی ترغیب دی اس کے بعد قصہ طالوت سے پہلے حکم کی تاکید کی اور اس آیت میں دوسرے ام کو مؤکد کرنے کے لیے دوبارہ صرف مال کا حکم دیا۔ (کبیر) مقصد یہ کہ انسان دنیاوی اسباب و وسائل کو چھوڑ کر اکیلا ہی اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوگا لہذا آخرت میں نجات کے لیے صدقہ و خیرات ایسے نیک اعمال کو وسیلہ بناؤ۔ قیامت کے دن دنیاوی مودت نسبی تعلق، شفاعت وغیرہ یہ چیزیں کام نہیں آئیں گی۔ (ابن کثیر) اس…
Read the full tafseer →(2:254) انفقوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ انفاق (افعال) مصدر ۔ تم (راہ خدا میں ) خرچ کرو۔ اس کا مفعول شیئا محذوف ہے۔ ای انفقوا شیئا مما رزقناکم۔ مما مرکب ہے من اور ما سے ما یعنی الذی اور کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ یعنی ہم نے جو تمہیں دیا ہے اس میں سے (اللہ کی راہ میں ) خرچ کرو۔
خلۃ۔ دوستی۔ آشنائی۔ خلل مادہ ۔ خلیل۔ درست۔
بیع۔ خریدوفروخت۔ لین دین۔ بیچنا۔ خریدنا۔ مصدر ہے۔ سودا لے کر قیمت لینے کا نام ” بیع “ ہے اور قیمت دے کر سودا لینے کا نام ” شرائ “ ہے کبھی شراء کے معنی میں بیع اور بیع کے معنی میں شراء کا استعمال ہوتا ہے۔
والکفرون ھم الظلمون۔ یہ جملہ محذوف کا معطوف ہے۔ ای فالمؤمنون ھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 252–254
لغات القرآن : آیت نمبر 252 تا 254
نتلوا (ہم تلاوت کرتے ہیں) ۔ المرسلین (بھیجے گئے ہیں (المرسل) ۔ تلک الرسل (یہ رسول) ۔ فضلنا (ہم نے بڑائی دی) ۔ کلم (کلام کیا) ۔ رفع (بلند کیا) ۔ ایدناہ (ہم نے اس کو قوت دی) ۔ انفقوا (خرچ کرو) ۔ ان یاتی (یہ کہ آئے) ۔ لا بیع (تجارت نہیں ہے) ۔ لا خلۃ (دوستی نہیں ہے) ۔ لا شفاعۃ (سفارش نہیں ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر 252 تا 254
جہاد کے بیان میں یہ چند آیتیں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمائی جا رہی ہیں۔ ارشاد ہے کہ بنی اسرائیل نے اپنی تاریخ کی ایک نہایت اہم سرگزشت کو بےمعنی اور بےمقصد بنا کر رکھ دیا تھا۔ اب ہم نے اس کو بالکل ٹھیک ٹھیک اس کے نتائج اور انجام کے ساتھ آپ…
Read the full tafseer →فوائدالقرآن : یعنی جو نیک عمل کرنا ہے دنیا میں کرلو۔ کیونکہ عمل کی جگہ یہی ہے، آخرت میں نہ کوئی سفارش کام آوے گی اور نہ کسی کی دوستی۔ صرف اپنے اعمال کام آویں گے آخرت دار الجزاء کا مقام ہے۔ خواص آیۃ الکرسی
نسائی و طبرانی وغیرہ میں معتبر سند سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص ہر نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھے گا۔ (1) اس کے جنت کے جانے میں اتنی ہی دیر ہے کہ اس کی آنکھ بند ہو اور وہ دنیا سے اٹھے۔ (2) اور اس کی برکت سے انشاء اللہ تعالیٰ اس کے پاس شیطان نہ آوے گا، اور اس کے مکر و فریب سے محفوظ رہے گا۔ (3) اور اس کے پڑھنے سے فقیر سے غنی ہوجائے گا۔ (4) اور رات کو سوتے وقت ایک بار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 253–254
[171] یعنی اللہ کی مشیت یہ نہ تھی کہ ان کو جبرا ً اختلاف سے روکے۔ اس کی حکمت نے انسان کو اعتقاد و عمل کی آزادی دی ہے وہ چاہے تو ہدایت کو تسلیم کرے جو اللہ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے بھیجی ہے یا اس کا انکار کر دے۔
Read the full tafseer →(ف 1) انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب قرآن حکیم کی متعدد آیات میں مزکور ہے جس کے دو معنی ہیں ، ایک تو یہ کہ مسلمان دنیا میں دولت وسرمایہ کے لحاظ سے مستعفی ہو ، اس کی حیثیت دینے والے کی نہ ہو ۔ العید العلیا خیر من ید التغلی ۔ دوسرے یہ کہ جو کچھ بھی اس کے پاس ہو وہ اللہ کی راہ میں خرچ ہو سکے ۔
وہ لوگ جو قومی طور پر فیاض نہیں ہوتے اور قومی ضروریات کو محسوس نہیں کرتے قطعی طور پر زندہ رہنے کی اہلیت اور استعداد نہیں رکھتے ،
قیامت کے دن پورا پورا محاسبہ ہوگا نہ تو سرمایہ کام آسکے گا اور نہ کوئی دوستی ہی ، اور وہ لوگ جنہوں نے یہاں بخل وکفر سے کام لیا ہے ‘ وہاں بھی کسی بخشش اور رحمت کے متوقع نہ رہیں ، اس…
Read the full tafseer →ف 2 اے ایمان والو ! جو کچھ ہم نے تم کو عطا کیا ہے اور جو چیزیں ہم نے تم کو دے رکھی ہیں اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے پہلے کچھ خرچ کرتے رہا کرو جس دن نہ تو کوئی خریدو فروخت ہو سکے گی اور نہ آپس کی دوستی اور یاری چلے گی اور نہ سفارش ہوگی اور جو لوگ دین حق کا انکار کرنے والے ہیں وہی اپنی جان پر ظلم کررہے ہیں۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ قیامت کے آنے سے پہلے خدا کی راہ میں خرچ کرو کیونکہ قیامت سے پہلے جو نیک کام کرلو گے وہی قیامت میں مفید ہوں گے باقی قیامت کے دن اگر چاہو کہ نیک عمل کہیں سے خرید کرلے آئو یا کسی دوست سے نیکیاں حاصل کرلو یا کسی شخص کی سفارش سے نیک اعمال کا مطالعہ ترک کرا دو اور نیک…
Read the full tafseer →ف 2 مطلب یہ ہے کہ جو عمل خیر دنیا میں فوت ہوجائے گا پھر وہاں اس کا کچھ تدارک قدرت سے خارج ہوجائے گا چناچہ تدارک کے طریقوں تو خود نہ ہوں گے جیسے دوستی، بعض اختیاری نہ ہوں گے جیسے شفاعت۔ اور مقصود اس سے قیامت کے دن ثمرات اعمال کٰر کے اکتساب پر قادر نہ ہونے کا یاد دلانا ہے۔
Read the full tafseer →قومی حیات حکومت سے وابستہ ہے اور حکومت کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے :
430: ” رَزَقْنٰكُمْ “ میں ضمیر متکلم لا کر اور رزق کو اپنی طرف منسوب کر کے صاف بتا دیا کہ مال و دولت جو کچھ بھی بندوں کے پاس ہے خودبخود سے نہیں بلکہ اللہ ہی کا بخشا ہوا عطیہ ہے اس لئے اس کو حق حاصل ہے کہ جن کاموں میں چاہے ان میں صرف کرنے کا حکم دے دے۔ فرمایا قومی حیات وابستہ ہے حکومت و خلافت کے ساتھ جس کی بقاء استحکام کے لئے ہر وقت روپیہ کی ضرورت ہے۔ اس لئے زمین میں گاڑنے اور بینکوں میں جمع کرنے کی بجائے اپنی دولت خلافت کی نذر کر دو جو سب سے زیادہ روپیہ صرف کرے گا اس کی اللہ کے ہاں بھی قدر ہوگی اور اس زندگی میں بھی وہ اچھا ہی…
Read the full tafseer →Commentary
Many injunctions relating to acts of worship and dealings with human beings have been taken up in this Surah, especially all those a person dislikes to obey finding them burdensome. Then, the most difficult act is to 'spend' one's life and possessions; and when you look at Divine injunctions relating to most situations they either relate to a man's life or his possessions. And when a man falls into the trap of sin, it is either caused by his love of life or expediency of possessions in most cases. As such, the love for these two is the root of sins, and the defence against and the…
Read the full tafseer →276. This means spending in the way of God. The instruction given here is that those who have adopted the cause of the true faith should undertake financial sacrifices for its sake.
277. Here the expression 'they who disbelieve' signifies either those who refused to obey God and held their property to be clearer than God's good pleasure, or those who did not believe in the Day of which they had been warned, or those who cherished the false i11usion that in the Hereafter they would somehow be able to secure their salvation and that their association with men devoted to God would stand them in…
Read the full tafseer →