ذِکر مدارج الانبیاء
یہاں یہ وضاحت ہو رہی ہے کہ رسولوں میں بھی مراتب ہیں، جیسا اور جگہ فرمایا ولقد فضلنا بعض النبیین علی بعض و اتینا داؤد زبورا ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت دی اور حضرت داؤد کو ہم نے زبور دی، یہاں بھی اسی کا ذکر کرکے فرماتا ہے ان میں سے بعض کو شرف ہم کلامی بھی نصیب ہوا جیسا حضرت موسیٰ اور حضرت محمد ﷺ اور حضرت آدم۔ صحیح ابن حبان میں حدیث ہے جس میں معراج کے بیان کے ساتھ یہ بھی وارد ہوا ہے کہ کسی نبی کو آپ نے الگ الگ کس آسمان میں پایا جو ان کے مرتبوں کے کم و بیش ہونے کی دلیل ہے، ہاں ایک حدیث میں ہے کہ ایک مسلمان اور یہودی کی کچھ بات چیت ہوگئی تو یہودیوں نے کہا قسم ہے اس اللہ کی…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 275
مطلب یہ ہے کہ رسولوں کے ذریعے سے علم حاصل ہوجانے کے بعد جو اختلاف لوگوں کے درمیان رونما ہوئے اور اختلافات سے بڑھ کر لڑائیوں تک جو نوبتیں پہنچیں، تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ معاذ اللہ خدا بےبس تھا اور اس کے پاس ان اختلافات اور لڑائیوں کو روکنے کا زور نہ تھا۔ نہیں، اگر وہ چاہتا، تو کسی کی مجال نہ تھی کہ انبیا کی دعوت سے سرتابی کرسکتا اور کفر و بغاوت کی راہ چل سکتا اور اس کی زمین میں فساد برپا کرسکتا۔ مگر اس کی مشیت یہ تھی ہی نہیں کہ انسانوں سے ارادہ و اختیار کی آزادی چھین لے اور انہیں ایک خاص روش پر چلنے کے لیے مجبور کر دے۔ اس نے امتحان کی غرض سے انہیں زمین پر پیدا کیا تھا،…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
بعض انبیاء (علیہم السلام) اور امتوں کے کچھ احوال
یہ حضرات مرسلین (جن کا ذکر ابھی اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ میں آیا ہے) ایسے ہیں کہ ہم نے ان میں سے بعضوں کو بعضوں پر فوقیت بخشی ہے (مثلا) بعضے ان میں سے وہ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ (بلاواسطہ فرشتہ کے) ہم کلام ہوئے ہیں (مراد موسیٰ ؑ اور بعضوں کو ان میں بہت سے درجوں میں (اعلیٰ مقام سے) سرفراز کیا اور ہم نے حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کو کھلے کھلے دلائل (یعنی معجزات) عطا فرمائے اور ہم نے ان کی تائید روح القدس (یعنی جبرئیل ؑ سے فرمائی (ہر وقت یہود سے انکی حفاظت کرنے کے لئے ساتھ رہتے تھے) اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو (امت کے) جو لوگ ان…
Read the full tafseer →تِلْكَ کا اشارہ ان رسولوں کی طرف ہے جن کا حوالہ اوپر اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ کے الفاظ سے دیا گیا ہے۔
رسولوں کے بارے میں صحیح روش : اس آیت میں اس صحیح رویے کی وضاحت ہے جو اللہ کے رسولوں کے بارے میں ان کی امتوں کو اختیار کرنا تھا۔ لیکن انہوں نے اس کو اختیار نہیں کیا بلکہ اس کی جگہ ایک بالکل غلط رویہ اختیار کرلیا جس کے سبب سے ان کے درمیان تعصبات کی دیواریں کھڑی ہوگئیں اور وہ ایک دوسرے کی دشمن اور مخالف ہو کر باہم جنگ و جدل میں مبتلا ہوگئیں۔ مقصود اس بیان سے یہاں نبی ﷺ پر یہ واضح کرنا ہے کہ آج تمہاری مخالفت میں بھی یہ اہل کتاب جو ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں اس کی بڑی وجہ ان کی یہی غلط روش…
Read the full tafseer →253۔ 1 قرآن نے ایک دوسرے مقام پر بھی اسے بیان کیا ہے (وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيّٖنَ عَلٰي بَعْضٍ) 17:55 " ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت عطا کی ہے اس لئے اس حقیقت میں تو کوئی شک نہیں۔ البتہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے (لا تخیرونی من بین الأنبیآء (صحیح بخاری کتاب التفسیر سورة الاعراف، باب 135۔ مسلم کتاب الفضائل موسی) تم مجھے انبیاء کے درمیان فضیلت مت دو تو اس سے ایک کی دوسرے پر فضیلت کا انکار لازم نہیں آتا بلکہ یہ امت کو انبیاء ؑ کی بابت ادب اور احترام سکھایا گیا ہے کہ تمہیں چونکہ تمام باتوں اور ان امتیازات کا جن کی بنا پر انہیں ایک دوسرے پر فضیلت حاصل ہے پوار علم نہیں ہے اس لیے تم میری…
Read the full tafseer →170: تلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا : مطلب یہ ہے کہ تھوڑی بہت فضیلت تو مختلف انبیاء کرام ؑ کو ایک دوسرے پر دی گئی ہے ؛ لیکن بعض انبیاء کرام ؑ کو دوسروں پر بدرجہا زیادہ فضیلت حاصل ہے اور یہ نبی کریم ﷺ کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے۔
171: یہ مضمون پیچھے آیت نمبر 87 میں آچکا ہے۔ تشریح کے لیے اس آیت کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔
172: قرآن کریم نے بہت سے مقامات پر یہ حقیقت بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں یہ تھا کہ وہ تمام انسانوں کو زبردستی ایمان لانے پر مجبور کردیتا اور اس صورت میں سب کا دین ایک ہی ہوجاتا اور کوئی اختلاف پیدا نہ ہوتا ؛ لیکن اس سے وہ سارا نظام تلپٹ ہوجاتا جس کے لئے یہ دنیا بنائی گئی ہے…
Read the full tafseer →پارہ سوم ایک نظر میں
(سورۃ البقرہ کا آخری حصہ)
یہ تیسرا پارہ دواجزاء پر مشتمل ہے۔ پہلا سورة بقرہ کے بقیہ پر مشتمل ہے (یاد رہے کہ پہلے دواجزاء سورة بقرہ ہی پر مشتمل رہے ہیں) اور دوسرا سورة آل عمران کے ابتدائی حصہ پر مشتمل ہے ۔
یہاں صرف بقرہ کے آخری حصہ کے بارے میں اجمالی بحث کریں گے ۔ اور آل عمران کے حصہ پر بحث اس وقت کریں گے جب سورة آل عمران پر بحث کا آغاز ہوگا۔
سورة بقرہ کے اس حصہ میں بھی اسی اساسی موضوع ہی کو لیا گیا ہے جس کے بارے میں ہم حصہ اول کے آغاز میں بتاچکے ہیں ۔ اور جس کا مطالعہ ہر اس سورت میں مسلسل کرتے رہتے ہیں ۔ وہ یہ کہ امت مسلمہ کو اس ہدف کے لئے تیار کرنا جس کی خاطر اسے برپا…
Read the full tafseer →1 یہ پیغمبر جن کا ذکر ہوا ان میں فضیلت دی ہم نے بعض کو بعض پر بعضے ان میں ایسے ہیں کہ ان سے بات کی خدا تعالیٰ نے جیسے آدم اور موسیٰ (علیہما السلام) اور بلند کیا بعضوں کا درجہ جیسے کوئی ایک قوم کا نبی کوئی ایک گاؤں کا کوئی ایک شہر کا کوئی تمام جہان کا جیسے محمد ﷺ اور عنایت ہوئے حضرت عیسیٰ کو کھلے معجزے جیسے احیائے موتیٰ اور ابراء اکمہ اور ابرص وغیرہ اور قوت دی ان کو روح پاک یعنی حضرت جبرائیل کو ان کی مدد کو بھیج کر۔
2 جو لوگ ان انبیاء پر ایمان لے آئے اور صاف حکم اور روشن نشانیاں ہمارے پیغمبر ﷺ کے نبی ہونے کی دیکھ سن چکے اگر خدا چاہتا تو یہ باہم نہ لڑتے اور مخالفت نہ کرتے اور کوئی ان میں مومن…
Read the full tafseer →آیت 253 تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ 7
یہ ایک بہت اہم اصول بیان ہو رہا ہے۔ یہ بات قبل ازیں بیان کی جا چکی ہے کہ تفریق بین الرسل کفر ہے ‘ جبکہ تفضیل قرآن سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں میں سے ہر ایک کو کسی نہ کسی پہلو سے فضیلت بخشی ہے اور اس اعتبار سے وہ دوسروں پر ممتاز ہے۔ چناچہ جزوی فضیلتیں مختلف رسولوں کی ہوسکتی ہیں ‘ البتہ کلیّ فضیلت تمام انبیاء و رسل علیہ السلام پر محمد رسول اللہ ﷺ کو حاصل ہے۔
مِنْہُمْ مَّنْ کَلَّمَ اللّٰہُ
یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فضیلت کا خاص پہلو ہے۔
وَرَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجٰتٍ ط وَاٰتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ…
Read the full tafseer →356 انبیاء و رسل کی سب سے بڑی فضیلت تو یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت و رسالت عطا فرمائی۔ اس لحاظ سے ان میں کوئی فرق نہیں اور یہی وہ چیز ہے جس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے کسی پیغمبر پر فضیلت نہ دو ۔ نیز فرمایا کہ کسی پیغمبر کو کسی دوسرے پر فضیلت نہ دو ۔ حتیٰ کہ یونس بن متی پر بھی (بخاری، کتاب التفسیر) رہی جزوی فضیلتیں تو اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے کسی رسول کو کسی ایک فضیلت سے نوازا اور دوسرے کو کسی دوسری فضیلت سے جیسا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کے فضائل خود ہی ذکر فرما دیئے اور یہاں فضائل سے مراد دراصل خصائص یا مخصوص معجزات ہیں جو دوسروں کو عطا نہیں ہوئے۔ مثلاً…
Read the full tafseer →،964 ۔ (مراتب قرب ومنزلت میں) فضل کے لفظی معنی بزرگی کے ہیں۔ یعنی ایسی صفت جس سے انسان دنیا میں مدح وثنا کا مستحق ہو اور آخرت میں اجر سے سرفراز۔ (آیت) ” فضلنا “ میں ضمیر متکلم کا لحاظ رہے۔ یہ تفضیل یا باہمی فضیلت وافضلیت جو کچھ ہے محض عند اللہ ہے۔ خلق کے ہاں درجات و مراتب قربت کے لحاظ سے ہے، خلق کے لیے بہ حیثیت مطاع سب یکساں ہیں، عام خلقت کے لیے رسول سب برابر ہیں۔ اطاعت وتعظیم سب کی یکساں واجب ہے۔ اور اسی معنی میں قرآن مجید کی دوسری آیت اسی سورت کے آخر میں اسی پارہ میں آرہی ہے (آیت) ” لا نفرق بین احد من رسلہ “۔ لیس مقام التفضیل الیکم انما ھو الی اللہ عزوجل وعلیکم الانقیاد والتسلیم لہ والایمان…
Read the full tafseer →آیت نمبر 253
ترجمہ : یہ حضرات مرسلین (کی جماعت) ایسی ہے کہ ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فوقیت بخشی۔ تِلْکَ موصوف، الُّرسلُ صفت، موصوف باصفت مبتداء، فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ علیٰ بَعْضٍ اس کی خبر، ان میں سے بعض کو ایسی منقبت کے ساتھ خاص کرکے کہ جو دوسروں کو حاصل نہیں تھی، ان میں بعض ایسے ہیں کہ اللہ (بلاواسطہ) ان سے ہم کلام ہوا جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان میں سے بعض یعنی محمد ﷺ کو بدر جہا دوسروں پر فوقیت بخشی (جن و انس کے لیے آپ کی) دعوت کے عام ہونے کی وجہ سے اور آپ پر (سلسلہ) نبوت کے ختم ہونے کی وجہ سے اور آپ کی امت کو دیگر تمام امتوں پر فضیلت دینے کی وجہ سے، اور معجزات کثیرہ کی وجہ سے…
Read the full tafseer →تِلْكَ الرُّسُلُ تِلْکَ سے مرسلین کی جماعت کی جانب اشارہ ہے آیت مندرجۂ بالا وَاِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ سے جماعت مرسلین کا علم ہوچکا ہے۔ الرسل میں لام استغراقی ہے ( یعنی تمام پیغمبر) تِلْکَ موصوف ہے الرسل اس کی صفت ہے دونوں کا مجموعہ مبتدا ہے اور فضلنا بعضھم علی بعض خبر ہے۔
فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ (ہم نے (مذکورۂ بالا) پیغمبروں کی جماعت میں سے ایک کو دوسرے پر برتری عطا فرمائی) ۔ (لغت میں) فضل کا معنی ہے کسی صفت میں زیادتی یعنی وصف مشترک میں ایک چیز کا دوسری چیز سے بڑھ جانا ہے لیکن عرف اور اصطلاح میں فضل ایسے کمال کی زیادتی کو کہتے ہیں جس پر دنیا میں ستائش اور آخرت میں ثواب مرتب…
Read the full tafseer →(253) ہم نے ان میں سے کچھ کو کچھ پر بزرگی عطا کی ہے، چناچہ حضرت موسیٰ ؑ اور ابراہیم ؑ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنا دوست بنایا اور ادریس ؑ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بلند درجات عطا فرمائے اور حضرت عیسیٰ ؑ ہیں کہ ان کو ہم نے اوامرو نواہی اور عجائبات عطا کیے اور جبرائیل امین ؑ سے ان کی تائید فرمائی ،
اور حضرت موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ کے بعد باوجود یہ کہ ان کی کتابوں میں رسول اکرم ﷺ کی تعریف و توصیف آچکی ہے، اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا یہ لوگ باہم اختلاف نہ کرتے مگر انہوں نے اختلاف کیا کچھ لوگ تو تمام کتابوں اور رسولوں پر ایمان لائے اور کچھ نے تمام کتابوں اور رسولوں کا انکار کردیا، اور اگر اللہ…
Read the full tafseer →تِلْكَ الرُّسُلُ۔۔ : اس سے وہ رسول مراد ہیں جن کا اس سورت میں ذکر آیا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ انبیاء درجات میں مختلف ہیں اور فضیلت میں ایک دوسرے سے زیادہ ہیں، چناچہ فرمایا : (وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيّٖنَ عَلٰي بَعْضٍ) [ بنی إسرائیل : 55 ] ”اور بلاشبہ یقیناً ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت بخشی۔“
مِنْھُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ جیسے موسیٰ ؑ کے بارے میں آتا ہے : (وَكَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِــيْمًا) [ النساء : 164 ] ”اور اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا، خود کلام کرنا۔“
وَرَفَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجٰتٍ : یہ بات اسی آیت میں پہلے بھی گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں میں سے بعض کو بعض پر فضیلت…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 253۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” تلک الرسل “۔ یہاں تلک فرمایا ہے۔ ذلک نہیں فرمایا تو یہ لفظ جمع کی تانیث کی رعایت کرتے ہوئے کہا ہے۔ اور یہ مبتدا ہونے کے سبب محل رفع میں ہے اور ” الرسل “ اس کی صفت ہے اور مبتدا کی خبر مابعد جملہ ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ الرسل عطف بیان ہے اور (آیت) ” فضلنا “۔ خبر ہے، یہ مشکل آیت ہے اور احادیث ثابت ہیں کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : لا تخیروا مابین الانبیائ (1) (مشکوۃ المصابیح، باب بدء الخلق ذکر الانبیاء جلد 1، صفحہ 1، 507) (تم انبیاء (علیہم السلام) کے درمیان کسی کو دوسرے پر ترجیح نہ دو ) اور مزید فرمایا : ” لا تفضلوا بین انبیاء اللہ (2) (صحیح بخاری، کتاب…
Read the full tafseer →(1) قتادہ سے لفظ آیت ” فضلنا بعضہم علی بعض “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا۔ موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا، عیسیٰ (علیہ السلام) کو آدم (علیہ السلام) کی طرح مٹی سے بنایا پھر فرمایا ہوجا بس وہ ہوگیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے بندے اس کا کلمہ اور اس کی روح ہیں داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا فرمائی۔ سلیمان (علیہ السلام) کو ایسی بادشاہی عطا فرمائی جو ان کے بعد کسی کے لئے ایسی بادشاہی مناسب نہیں۔ اور محمد ﷺ کی اگلی پچھلی سب لغزشوں کو معاف فرمادیا۔
(3) مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” منہم من کلمہ اللہ ورفع بعضہم درجت “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →[تِلْکَ الرُّسُلُ : یہ رسول ] [فَضَّلْنَا : ہم نے فضیلت دی ہے ] [بَعْضَہُمْ : ان کے بعض کو ] [عَلٰی بَعْضٍ : بعض پر ] [مِنْہُمْ مَّنْ : ان میں وہ بھی ہیں جن سے ] [کَلَّمَ : کلام کیا ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [وَرَفَعَ : اور اس نے بلند کیا ] [بَعْضَہُمْ : ان کے بعض کو ] [دَرَجٰتٍ : درجات ہوتے ہوئے ] [وَاٰتَیْنَا : اور ہم نے دیا ] [عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ : عیسیٰ ابن مریم کو
الْبَیِّنٰتِ : واضح (معجزے) ] [وَاَیَّدْنٰـہُ : اور ہم نے تقویت دی ان (علیہ السلام) کو ] [بِرُوْحِ الْقُدُسِ : پاک روح سے ] [وَلَوْ : اور اگر ] [شَآئَ : چاہتا ] [اللّٰہُ : اللہ ] [مَا اقْتَتَلَ : تو آپس میں نہ لڑتے ]…
Read the full tafseer →حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے درمیان فرق مراتب
لفظ تلک اسم اشارہ ہے اس کا مشار الیہ المرسلین ہے، یعنی یہ پیغمبر جن کا ذکر ابھی ابھی ہوا، ان کو ہم نے آپس میں ایک دوسرے پر فضیلت دی کہ بعض کو ایسی منقبت سے متصف فرما دیا جو بعض دوسروں میں نہیں تھی اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے تفصیل بالشرائع مراد ہے۔ ان میں سے بعض کو مستقل شریعت دی تھی اور بعض کو سابق نبی ہی کی شریعت کا مؤید و مبلغ بنایا، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں (ص 2 ج 2) ، پہلے قول کی تائید (مِنْھُمْ مَّنْ کَلَّمَ اللّٰہُ ) سے ہوتی ہے۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) میں سے بعض ایسے حضرات تھے جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا۔ حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →تیسرا پارہ
ذکرفضائل رسل وبیان حال امم۔
قال تعالی، تلک الرسل فضلنا۔۔۔ الی۔۔۔ مایرید۔
ربط) ۔ گذشتہ آیت میں (وانک لمن المرسلین) میں انبیاء کرام کا اور ان کی امتوں کے معاملات کا ذکر فرمایا اور کافروں سے ان کے جہاد اور قتال کے واقعے اور انکی بےمثال اور خارق عادت فتح ونصرت اور تائید غیبی کا ذکر کیا اسی طرح اب آئندہ آیات میں رسل کے فضائل ودرجات اور ان کے کمالات اور معجزات کے ساتھ ان کی امتوں کے احوال اور انبیاء ورسل کے ساتھ ان کے اختلاف کو بیان فرماتے ہیں کہ باوجود آیات بینات اور دلائل واضحات کے دیکھ لینے کے پھر بھی ایمان نہ لائے اور حق سے اختلاف کیا اور انبیاء ورسل کی مخالفت کی اور حق کی دعوت اور…
Read the full tafseer →495 امام رازی امام ابو مسلم سے ناقل ہیں کہ یہ آیت آنحضرت ﷺ کے تسلیہ کے لیے ہے۔ پہلے اللہ نے اسرائیلیوں اور عیسائیوں کی کجروی اور کج بحثی کا ذکر کیا۔ چناچہ یہودیوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا کہ ہم کو خدا کی ذات کا آنکھوں سے مشاہدہ کرادو اور بت پرستوں کی طرح ہمارے لیے بھی ایک معبود مقرر کردو (یہ مطالبہ سورة اعراف رکوع 16 میں جو پہلے نازل ہوچکی تھی مذکور ہے) اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات دیکھنے کے باوجود ان کی تکذیب کرنا حضرت شمویل سے امیر مقرر کرنے کا مطالبہ کرنے کے بعد طالوت کی امارت پر اعتراض کرنا وغیرہ۔ یہ تمام واقعات بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ تمام انبیاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 252–253
ربطہ آیات
بنی اسرائیل کے واقعات بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبین ﷺ کی نبوت کا بطور خاص اور پھر تمام انبیاء کی نبوت کا تذکرہ کیا ہے۔ اس سے پہلی آیت میں جہاد کی حکمت بیان فرمائی تھی۔ اور معترضین کے اعتراض کا ردّ تھا۔ اور واضح کیا تھا کہ اگر جہاد فرض نہ کیا جاتا تو مفسدین زمین میں فساد برپا کرکے اس کو خراب کردیتے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت فرمائی اور بد امنی کے خاتمے کے لیے جہاد کا حکم دیا تمام انبیاء اپنے اپنے دور میں جہاد کرتے آئے ہیں۔ اسی ضمن میں طالوت کا ذکر کیا جو کہ سموئیل نبی کے زمانے میں ہوا ہے۔ آپ کے نام پر بائیبل میں د و صحیفے بھی موجود ہیں۔ آپ خود بھی جہاد میں شریک…
Read the full tafseer →تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ 0 ۘ مِنْھُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللہُ وَرَفَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجٰتٍ 0 ۭ وَاٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِ وَاَيَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ 0 ۭ وَلَوْ شَاۗءَ اللہُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِيْنَ مِنْۢ بَعْدِھِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْھُمُ الْبَيِّنٰتُ وَلٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْھُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَمِنْھُمْ مَّنْ كَفَرَ 0 ۭ وَلَوْ شَاۗءَ اللہُ مَا اقْتَتَلُوْا 0 ۣ وَلٰكِنَّ اللہَ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ 253 ۧ
رسل
أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء،…
Read the full tafseer →ترکیب : تلک آیات اللّٰہ مبتداء نتلوھا علیک خبر اور نتلو حال ہے تلک مبتداء الرسل خبر اور ممکن ہے تلک الرسل مبتداء فضلنا خبر ہو۔ من کلم اللّٰہ بدل ہے محل فضلنا سے درجات حال ہے بعضہم سے اور ممکن ہے کہ فی مقدر ہو من بعد الخ بدل ہے من بعضہم سے مع اعادۃ حرف جر ولکن استدراک ہے مضمون ماقبل سے۔
تفسیر : اس سے پہلے خدا تعالیٰ نے طالوت و جالوت اور ان کے باہم مقابلہ اور ایمانداروں کے استقلال کا ذکر کرکے جہاد کے مشروع ہونے کی وجہ بیان فرمائی تھی کہ اس سے خدا مفسدوں کے شر کو دفع کرتا ہے، اگر یہ نہ ہو تو مفسد لوگ ملک کو ویران کردیا کریں اور یہ انبیائِ اولو العزم کا قدیم معمول ہے۔ پھر آپ پر اعتراض بےجا ہے کہ…
Read the full tafseer →تِلْـکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ م مِنْہُمْ مَّنْ کَلَّمَ اللّٰہُ وَ رَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجٰتٍ ط وَاٰتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَاَیَّدْنٰـہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ط وَلَوْشَآئَ اللّٰہُ مَا قْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْ م بَعْدِہِمْ مِّنْ م بَعْدِ مَا جَآئَ تْہُمُ الْبَیِّنٰتُ وَلٰـکِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْہُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَمِنْہُمْ مَّنْ کَفَرَط وَلَوْشَآئَ اللّٰہُ مَاقْتَتَلَوْا قف وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ ۔ ع
(یہ سب رسول ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی۔ ان میں سے کسی سے اللہ نے کلام فرمایا اور بعض کے درجے بلند کیے۔ اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جلیل القدر انبیاء کرام اور ان کے معجزات دیکھ لینے کے باوجود سب کے سب لوگوں کا ایمان نہ لانا اللہ تعالیٰ کے اختیار سے متجاوز نہیں یہ اس کی مشیّت کے عین مطابق ہے۔ جس طرح انبیاء کے مراتب اور ان کی جدوجہد کے نتائج میں فرق ہے اسی طرح حق کو قبول کرنے اور کفر سے اجتناب کرنے میں لوگوں میں فرق پایا جاتا ہے۔ اے رسول کریم ! آپ کو ان کے حالات کا موازنہ کرتے ہوئے یقین رکھنا چاہیے کہ آپ بالیقین مرسلین کے سرخیل ہیں۔
تمام انبیاء خاندان نبوت کے افراد اور گلدستۂ رسالت کے پھول ہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ انبیاء رشتہ نبوت کے اعتبار سے ایک دوسرے کے بھائی ہیں لیکن ان کی مائیں مختلف…
Read the full tafseer →آیت 253 :
تِلْکَ الرُّسُلُ (یہ رسل) تِلْکَ کا اشارہ رسولوں کی جماعت کی طرف ہے۔
جن کے واقعات اس سورت میں مذکور ہوچکے۔ آدم ( علیہ السلام) سے دائود ( علیہ السلام) تک۔
یا دوسرا قول : جن رسل کی جماعت کا علم رسول اللہ ﷺ کو ان آیات کے نزول سے قبل ہوچکا۔
طاعات میں تفاوت :
فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ (ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی) یعنی رسالت کے علاوہ خصوصیات کے ساتھ فضیلت دی۔ کیونکہ رسالت و نبوت میں تو تمام برابر ہیں۔ جیسا کہ مومن صفت ایمان میں تمام برابر ہیں اور ایمان کے بعد طاعات میں متفاوت ہیں۔ پھر اس ارشاد مِنْہُمْ مَّنْ کَلَّمَ اللّٰہُ (ان میں سے بعض وہ تھے جن سے اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →(تفسیر) 253۔:
(آیت)” منھم من کلم اللہ “۔ اس سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا، (بعضھم درجات) اس سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں ، امام بغوی (رح) فرماتے ہیں کہ آپ کو ان جیسے تمام معجزات دیئے گئے تھے جو دوسرے انبیاء کرام (علیہم السلام) کو دیئے گئے تھے ان معجزات کے علاوہ بھی آپ کو اور معجزات بھی دیئے گئے تھے جیسے انگلی کے اشارے سے چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا اور ستون حنانہ کا آپ کی جدائی سے رونا ، پتھروں اور درختوں کا آپ (علیہ السلام) کو سلام کرنا، جانوروں کا کلام کرنا اور آپ ﷺ کی رسالت کی گواہی دینا اور آپ ﷺ کی انگلیوں سے پانی کا جاری ہونا ، ان معجزات کے علاوہ اور بہت سارے…
Read the full tafseer →اوپر کی آیتوں میں ذکر تھا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے خاندان میں اللہ تعالیٰ نے بادشاہت اور نبوت دونوں کو جمع کردیا۔ حالانکہ ہمیشہ سے بنی اسرائیل میں یہ طریقہ تھا کہ نبوت ایک خاندان میں تھی اور بادشاہت دوسرے خاندان میں جس کا ذکر اوپر آچکا ہے اب ان آیتوں میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت کے موافق گروہ انبیاء میں کسی کو کسی طرح کی فضیلت دی ہے اور کسی کو کسی طرح کی جن انبیاء کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ہم کلامی کی فضیلت دی ہے۔ صحیح ابن حبان کی حضرت ابوذر ؓ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ خاتم الانبیاء یہ تین نبی ہیں 1۔ اور…
Read the full tafseer →ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض رسولوں کو دوسروں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ پہلے تو انہیں تمام لوگوں پر فضیلت عطا فرمائی کہاں کی طرف وحی نازل کر کے انہیں دوسروں کی طرف مبعوث فرمایا اور انہوں نے مخلوق کو اللہ کی طرف بلایا۔ پھر انہیں ایک دوسرے پر فضیلت دی کہ ان میں درست افعال اور لوگوں کو نفع پہنچانے جیسی خاص خوبیاں دیں۔ چناچہ موسیٰ کو ہم کلام ہونے کا خاص شرف عطا فرمایا اور ہمارے نبی ﷺ کو دوسرے انبیاء سے افضل بنایا اور آپ میں وہ تمام فضائل جمع فرما دیئے جو دوسرے رسولوں کو الگ الگ ملے تھے اور آپ کو ایسے مناقب بخشے جن کی وجہ سے آپ اولین اور آخرین سے اشرف قرار پائے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 250–256
قول باری ہے (لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی، (a) دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے صحیح بات غلط بات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے) ۔ ضحاک، سدی اور سلیمان بن موسیٰ سے مروی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے اور اس کی ناسخ یہ آیت ہے (یآیھا النبی جاھد الکفار والمنافقین، (a) اے نبی کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو) ۔
نیز یہ قول باری ہے (فاقتلوا المشرکین، (a) مشرکین کو قتل کرو) حسن بصری اور قتادہ سے مروی ہے کہ یہ آیت اہل کتاب کے ساتھ خاص ہے جنہوں نے جزیہ ادا کرنا قبول کرلیا تھا۔ مشرکین عرب کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ہے کیونکہ ان کے حق میں جزیہ قابل قبول نہیں ہے۔ ان کے لئے صرف ایک ہی راستہ…
Read the full tafseer →722 رسولوں کی بعض کی بعض پر فضیلت و فوقیت کا ذکر : یعنی ہر ایک کو کسی ایسی خاص فضیلت سے نوازا جو دوسروں کو نہیں دی گئی۔ تاکہ ہر ایک کا فضل و کمال الگ الگ نظر آئے۔ (معارف للکاندھلوی (رح) ) ۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں دوسرے مقام پر حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کا ارشاد ہے { وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیِّیْنَ عَلٰی بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاودَ زَبُوْْرًا } ( الاسرائ۔ 55) ۔ سو شرف نبوت و رسالت میں مشترک اور برابر ہونے کے بعد ان کے مراتب و درجات میں فرق و تفاوت رکھا گیا۔ سو اللہ کے رسولوں کے بارے میں یہ ہے صحیح رویہ جو ان کی امتوں کو اپنانا اور اختیار کرنا چاہیئے تھا، کہ اللہ کے رسول سب کے سب سچے اور سب…
Read the full tafseer →تیسرا پارہ سورة البقرہ کے آخری 8 رکوع اور سورة آل عمران کے ابتدائی 9 رکوع، اس طرح کل 17 رکوع اور 124 آیات پر مشتمل ہے۔ اس پارہ کے شروع میں رسولوں کے درجات کا بیان ہے، انفاق فی سبیل اللہ کی ہدایات، اللہ تعالیٰ کی توحید و عظمت، تین واقعات کا ذکر ہے۔ پھر انفاق فی سبیل اللہ، صدقہ، قرض، سود، تجارت، کا ذکر ہے پھر سورة آل عمران شروع ہوتی ہے اس کے بعد محکمات و متشابہات کا بیان پھر بنو نجران کا واقعہ پھر آیت 33 سے حضرت مریم ، آیت 64 اہل کتاب اور توحید کا بیان، انبیاء کے منصب اور آخر میں توحید کی دعوت اور دین اسلام کی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں۔
رسولوں کے درجات
تشریح : اس آیت میں کچھ رابطہ پچھلی آیت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 249–253
آیات 249- 253
اسرارو معارف
فلما فصل طالوت………………لمن المرسلین۔
اب جہاد کی تیاری شروع ہوئی اور حضرت طالوت لشکر کو لے کر چلے تو فرمایا اللہ نے تمہارا امتحان مقرر کیا ہے کہ راستے میں نہر پڑتی ہے لیکن اس سے پانی پینے کی اجازت نہیں ہاں اگر کوئی چلو بھر کر پی لے تو اجازت ہے۔
اب سفر اور گرمی کے مارے ہوئے لوگ صبر نہ کرسکے سوائے ایک محدود تعداد کے جن کے ایمان مضبوط تھے۔ جس نے پیٹ بھر کر پانی پیا وہ چلنے کے قابل ہی نہ رہا اور نہ اس کی پیاس ہی بجھ سکی۔ جنہوں نے چند گھونٹ لئے پیاس بھی بجھ گئی اور جہاد کی فضیلت بھی نصیب ہوئی۔ مگر جب جالوت کے لشکر کا سامنا ہوا تو یہ تعداد میں بہت کم تھے کچھ لوگ گھبراگئے کہ…
Read the full tafseer →ف 1 تلک الرسل سے وہ رسول ﷺ مراد ہیں جن کا اس سورت میں ذکر آیا ہے۔ یہ عقیدہ کہ انبیاء درجات میں مختلف ہیں اور ان میں جو تفاضل پایا جاتا ہے اور پھر یہ کہ آنحضرت ﷺ تمام انبیاء سے افضل ہیں اور بالکل صحیح اور امت کا اجماعی عقیدہ ہے۔ رازی نے انہیں دلائل سے ثابت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو جملہ انبیاء پر فضیلت حاصل ہے اور اس سلسلہ میں شبہات کے جوابات دیئے ہیں۔ (کبیر) لیکن صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ بھی روایت کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : لا تفضلونی علی الانبیاء (کہ مجھے انبیاء پر فضیلت نہ دو ) جو بظاہر اس آیت کے معارض ہے علماء نے اس کے متعدد جوابات دیئے ہیں، واضح ترین جواب یہ ہے کہ میری فضیلت ایسے انداز…
Read the full tafseer →(2:253) تلک۔ اسم اشارہ واحد مؤنث الرسل مشار الیہ۔ جمع مذکر۔ دونوں مل کر مبتدا فضلنا بعضھم علی بعض۔ خبر۔
ال۔ استغراق کا ہے یعنی تمام پیغمبر۔ یا ال عہد کا ہے اور اس سے وہ جماعت معلومہ ہے جس کا علم آیت سابقہ وانک لمن المرسلین سے ہوچکا ہے۔
فضلنا۔ ماضی جمع متکلم ۔ تفضیل (تفعیل) مصدر ہم نے فضیلت بخشی۔ ہم نے بزرگی عطا کی۔
بعضھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ دونوں مل کر مفعول فضلنا کا۔ علی بعض بعض پر ہم نے ان پیغمبروں میں سے بعض کو بعض پر برتری عطا کی۔
منھم۔ میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع تلک الرسل ہے من موصولہ کلم اللہ صلہ۔ یعنی ان میں سے کوئی تو وہ تھا جس سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا۔ من کلم اللہ بدل ہے محل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 252–254
لغات القرآن : آیت نمبر 252 تا 254
نتلوا (ہم تلاوت کرتے ہیں) ۔ المرسلین (بھیجے گئے ہیں (المرسل) ۔ تلک الرسل (یہ رسول) ۔ فضلنا (ہم نے بڑائی دی) ۔ کلم (کلام کیا) ۔ رفع (بلند کیا) ۔ ایدناہ (ہم نے اس کو قوت دی) ۔ انفقوا (خرچ کرو) ۔ ان یاتی (یہ کہ آئے) ۔ لا بیع (تجارت نہیں ہے) ۔ لا خلۃ (دوستی نہیں ہے) ۔ لا شفاعۃ (سفارش نہیں ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر 252 تا 254
جہاد کے بیان میں یہ چند آیتیں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمائی جا رہی ہیں۔ ارشاد ہے کہ بنی اسرائیل نے اپنی تاریخ کی ایک نہایت اہم سرگزشت کو بےمعنی اور بےمقصد بنا کر رکھ دیا تھا۔ اب ہم نے اس کو بالکل ٹھیک ٹھیک اس کے نتائج اور انجام کے ساتھ آپ…
Read the full tafseer →انبیاء کی فضیلت کا اور تقدیر کا ذکر
ان آیتوں میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت کے موافق گروہ انبیاء میں کسی کو کسی طرح کی فضیلت دی ہے اور کسی کو کسی طرح کی۔ جن انبیاء کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ہم کلامی کی فضیلت دی ہے وہ حضرت آدم علیہ السلام، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ خاتم الانبیاء یہ تین نبی ہیں۔ حضرت محمد ﷺ کے وہ کمالات جن میں آپ تمام انبیاء پر افضل ہیں جن کا کوئی شریک نہیں بیشمار ہیں۔ مختصر بیان یہ ہے کہ آپ کی رسالت عامہ ہے تمام کائنات آپ کی امت ہے۔ آپ پر نبوت ختم کی گئی اور باتوں میں بعضے نبیوں کا درجہ کچھ اور بعضے کچھ اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔ آخر پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 253–254
[171] یعنی اللہ کی مشیت یہ نہ تھی کہ ان کو جبرا ً اختلاف سے روکے۔ اس کی حکمت نے انسان کو اعتقاد و عمل کی آزادی دی ہے وہ چاہے تو ہدایت کو تسلیم کرے جو اللہ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے بھیجی ہے یا اس کا انکار کر دے۔
Read the full tafseer →انبیاء کے درجے :
(ف 1) نفس نبوت میں تو اللہ تعالیٰ کے تمام رسول (علیہ السلام) برابر کے شریک وسہیم ہیں ، مگر حالات و استعداد کے ماتحت سب ایک دوسرے سے مختلف اور الگ الگ ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) وصف خلت میں ممتاز ہیں ، (آیت) ” اتخذ اللہ ابراہیم خلیلا “۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو شرف مکاملہ سے سرفراز کیا گیا ، (آیت) ” وکلم اللہ موسیٰ تکلیما “۔ اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کو روح القدس کی تخصیص سے نوازا گیا اور بعض ایسے بھی ہیں جن کا ذکر نہیں کیا گیا ، مگر ان کے مراتب بھی اعلی بلند ہیں (آیت) ” ورفع بعضھم درجت “۔ مقصد یہ ہے کہ سب خدا ے فرستادہ ہیں ، سب اس کے پیارے ہیں سب کو درجہ محبوبیت پر…
Read the full tafseer →ف 1 یہ جتنے رسول ہیں ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فوقیت اور فضلیت عطا فرمائی ہے ان میں سے بعض وہ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا اور ان کو کسی فرشتے کے بغیر ہم کلامی کا شرف بخشا اور ان کے بعض کو درجات و مراتب میں بلند مقامات پر فائز کیا اور ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) بن مریم کو دلائل واصحہ اور معجزات ظاہرہ عطا فرمائے اور ہم نے روح القدس یعنی جبریل (علیہ السلام) سے ان کو قوت بخشی اور جبرئیل (علیہ السلام) کے ذریعہ ان کی تائید کی اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو جو لوگ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے بعد ہوتے رہے یعنی ان کی امت کے لوگ وہ ان صاف اور کھلے کھلے دلائل کے بعد جو ان کو پیغمبروں کی…
Read the full tafseer →ف 5۔ چونکہ اوپر کی آیت میں ضمنا پیغمبروں کا مجملا ذکر آگیا تھا اس لیے اس میں کسی قدر تفصیل ان میں سے بعض حضرات کے احوال و کمالات کی اور پھر ان کے ذکر کی مناسبت سے ان کے امم کی ایک حالت خاصہ اور اس حالت کے واقع فی الوجود ہونے کے متضمن حکمت و مصلحت الہیہ ہونے کی طرف اشارہ یہ سب مضامین مذکور ہیں۔
1۔ اس مضمون میں ایک گونہ تسلی دینا جناب رسول اللہ ﷺ کو اللہ نے یہ بات سنا دی کہ اور بھی پیغمبر مختلف درجوں کے گزرے ہیں لیکن ایمان عام کسی کی امت میں نہیں ہوا کسی نے موافقت اور اس میں بھی اللہ کی حکمتیں ہوتی ہیں گوہر شخص پر منکشف نہ ہوں مگر اجمالا اتنا عقیدہ ضروری ہے کہ کوئی حکمت ضرور ہے۔
Read the full tafseer →گروہ انبیاء کی ایک دوسرے پر فضیلت کا بیان :
422: رسولوں کی فضیلت کا ذکر اس جگہ کس تعلق سے شروع ہوگیا ؟ پچھلی آیت میں فرمایا تھا : ” لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ “ اے پیغمبر اسلام ! تم رسولوں میں سے ایک ہو اور یہاں فرمایا ان رسولوں کو ہم نے ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے۔ گویا فرمایا جا رہا ہے کہ تم رسولوں میں سے ایک رسول ہو اور سب پر فضیلت رکھتے ہو اور یہ کوئی بات ایسی نہیں جو خلاف واقعہ ہو اس لئے کہ رسولوں کو ایک دوسرے پر فضیلت ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا : وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا 0055 (الاسراء 15 : 55) اور یہ اشارہ…
Read the full tafseer →Commentary
1. In Verse 253, beginning with تِلْكَ الرُّسُلُ ('those are the Messenger’), the purpose is to give solace and comfort to the noble Prophet ﷺ since the deniers refused to recognize his prophethood, inspite of the fact that it was conclusively proved, as has been stated in the verse 252: وَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِي (And certainly you are among the Messengers.) as well. This situation caused him pain. Therefore, Allah Almighty made him aware of the coming of other prophets too, in varying degrees of station, but universal belief was not witnessed in any of their communities --…
Read the full tafseer →275. The main cause of the differences which arose after people had received true knowledge through the Prophets, and which were even aggravated into feuds and wars, is not that God was helpless, and lacked the power to put an end to the fighting. Had He willed so, no one would have had the power to defy the teachings of the Prophets, to take the course of disbelief and rebellion against Him, and to spread mischief and corruption in His world. But it was not His will to deprive human beings of their free-will and choice, and to compel them to follow a particular course. He has created human…
Read the full tafseer →